2021 May 7
اذان میں شہادت ثالثہ ۔۔۔۔۔۔ کیا علی ولی اللہ کہنے سے کوئی کافر ہوگا ؟
مندرجات: ١٩٠٧ تاریخ اشاعت: ٢١ March ٢٠٢١ - ٢٣:٥٠ مشاہدات: 389
یاداشتیں » پبلک
اذان میں شہادت ثالثہ ۔۔۔۔۔۔ کیا علی ولی اللہ کہنے سے کوئی کافر ہوگا ؟

 

اذان میں شہادت ثالثہ

اعتراض: دوسرے اسلامی مذاہب کے برخلاف شیعہ کیوں اذان و اقامت میں جملہ "اشھد ان امیرالمومنین علیا ولی اللہ" کو اضافہ کرتے ہیں اور اسے اذان و اقامت کا جزء سمجھتے ہیں؟ جو چیز پیغمبر صلی اللہ علیہ  واٰلہ وسلم کے زمانہ میں نہیں تھی اس کو دین میں داخل کرنا بدعت ہے۔

   تحلیل اور جائزہ

اس اعتراض کے جواب میں چند نکتے قابل توجہ ہیں:

پہلا نکتہ: اگر شیعوں کا اذان کے اذکار میں اضافہ کرنا مناسب نہیں ہے تو اس جملہ "الصلاۃ خیر من النوم"کا اضافہ کرنا بھی، جس کہ بارے میں تمام مورخین متفق ہیں کہ یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں اذان میں نہیں تھا بلکہ خلیفہ دوم کے زمانہ میں اضافہ ہوا ہے، مناسب نہیں ہے۔[1]

پھر کیوں وہابی حضرات اس بات پر یقین رکھنے ہوئے کہ یہ جملہ  "الصلاۃ خیر من النوم"پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں شریعت میں نہیں تھا، اذان صبح میں پڑھتے ہیں؟

دوسرا نکتہ: وہابی اذان کے متن میں کم اور زیادہ ہونے کے بارے میں شیعوں پر اعتراض کرتے ہیں۔لیکن کیوں معاویہ پرکہ جو اذان سے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام ہٹانا چاہتا تھا کوئی اعتراض نہیں کرتے؟

تاریخی اسناد میں مطرف بن مغیرہ نے نقل کیا ہے کہ ایک رات میرے والد معاویہ کے پاس سے واپس آئے میں نے دیکھا وہ بہت غصہ ہیں جب میں نے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو انھوں نے کہا: "جئت عند اکفر الناس و اخبثھم" میں اس وقت سب سے بڑے کافر اور خبیث انسان کے پاس سے آرہا ہوں۔میں نے کہا کیا ہوا؟  انھوں نے جواب دیا میں نے آج معاویہ سے تنہائی میں کہا اب تم بوڑھے ہوگئے ہو تمھاری حکومت کی بنیادیں مضبوط ہوگئی ہیں اب بنی ہاشم کے ساتھ نیکی سے پیش آو اب ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے جس سے تمہیں کوئی خوف ہو۔

جیسے ہی معاویہ نے یہ سنا غصہ سے بھڑک گیا اور بولا بالکل نہیں، بالکل نہیں، دیکھو پہلا خلیفہ آیا اس نے عدالت سے کام کیا لیکن اس کی موت کے ساتھ اس کا نام بھی مٹ گیا۔ دوسرا خلیفہ آیا اس نے بھی کئی سال تک زحمت کی عدالت سے کام کیا لیکن اس کا نام بھی اس کی موت کے ساتھ ختم ہوگیا۔ اس کے بعد معاویہ نے کہا "و ان ابن ابی کبشۃ لیصاحبہ کل یوم خمس مرات: "اشھد ان محمدا رسول اللہ"فای عمل یبقی و ای ذکر یدوم بعد ھٰذا، لا ابا لک ' لا واللہ الا دفنا دفنا؛ لیکن ابی کبشہ کے بیٹے (پیغمبر ص)کا نام پانچ بار مناروں سے اشھد ان محمدا رسول اللہ" کی شھادت کے ساتھ بلند ہوتا ہے۔ خدا کی قسم جب تک اس نام کو دفن نہیں کردوں گا سکون سے نہیں بیٹھوں گا۔[2] کیا وہابی کہ جو شیعوں پر اس طرح سے اعتراض کرتے ہیں حاضر ہیں معاویہ پر بھی اعتراض کریں کہ جو اذان سے پیغمبر ص کا نام ہٹاکر اسے دفن کرنا چاہتا تھا؟

تیسرا نکتہ: شیعوں کا نظریہ یہ ہے کہ اذان دوسرے احکام کی طرح جبرئیل کے ذریعہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تعلیم دی گئی۔ اہل بیت علیہم السلام کی روایات کے مطابق پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شب معراج اذان و اقامت کو جبرئیل سے دریافت کیا۔

اس نظریہ کے مطابق اذان و اقامت پروردگار کی جانب سے ہے اور اس میں کمی و زیادتی نہیں کی جاسکتی۔ اور اسی طرح اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کے مطابق ایسا نہیں ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اذان و اقامت کو مسلمانوں کی مشورہ سے رکھا ہو یا عبد اللہ بن زید سے سیکھا ہوجیسا کہ وہابیوں کے قابل اعتماد منابع میں آیا ہے۔

ابوداود سجستانی کے نقل کیا ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  لوگوں کو نماز کے لئے دعوت دینے کے طریقہ کے سلسلہ میں پریشان تھے لوگوں نے مختلف مشورہ دیے جیسے نماز کے وقت پرچم لہرایا جائے، یا یہودیوں کی طرح ڈھول پیٹا جائے یا چرچ  طرح گھنٹی بجائی جائے۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی کے بھی مشورہ کو قبول نہیں کیا یہاں تک کہ عبداللہ ابن  زید نے اذان کی عبارت کہ جو انھوں نے خواب میں کسی سے سیکھی تھی پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پیش کی رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے قبول کرلیا اسی وقت حضرت عمر نے بھی عرض کی بیس دن پہلے میں نے بھی اسی طرح کا خواب دیھا تھا لیکن مجھے اسے بیان کرنے میں شرم آئی۔[3]   

اسی مضمون سے مشابہ آحادیث وہابیوں کے دوسرے معتبر منابع میں بھی آئی ہیں؛[4] ترمذی اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: عبداللہ ابن زید کی حدیث حسن اور صحیح ہے۔[5]

لیکن ایک دوسری روایت میں امام صادق علیہ السلام نے ان لوگوں پر ملامت کی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اذان کو عبداللہ ابن زید سے لیا ہے۔[6]

یہاں پر وہابیوں سے یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ اگر اذان کا متن بعض صحابہ کے خواب سے ماخؤذ ہے تو پھر اس کی کیا اہمیت بچی ہے جو اس کے کم اور زیادہ کرنے پر اعتراض کیا جائے؟

تعجب کی بات یہ ہے کہ وہابی حضرات نہ صرف یہ کہ اذان کے وحیانی ہونے کہ قائل نہیں بلکہ اس کے مقابل میں جو روایات اذان کے وحی ہونے کو ثابت کرتی ہیں ان کی بھی مخالفت کرتے ہیں۔ ابن کثیر(وہابیوں کے قابل اعتماد عالم) مسند بزاز سے روایت نقل کرتے ہیں جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اذان کی تشریع شب معراج ہوئی۔ اس کے بعد لکھتے ہیں:یہ روایت جس کو سہیلی نے صحیح تصور کیا ہے اس روایت کو فقط ابوجارود(جارودیہ فرقہ کے رئیس)نے نقل کیا ہے۔ اگر واقعا پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شب معراج اذان کو سنا تھا تو ہجرت کے بعد لوگوں کو اس کا حکم دینا چاہیے تھا لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا۔[7]

اس بنیاد پر اگر وہابی اذان کے وحیانی ہونے کو نہیں مانتے تو پھر کس حق سے اس کے کم اور زیادہ ہونے پر اعتراض کرتے ہیں؟

اگرچہ وہابیوں کے معتبر منابع میں بات فقط عبداللہ بن زید کے خواب پر ختم نہیں ہوتی۔ کیونکہ عبداللہ بن زید اذان کے تشریع ہونے سے ایک سال کچھ ماہ پہلے جنگ احد میں شہید ہوگئے تھے اس لئے دوسری روایات میں اذان کی تشریع کا مصدر عمر بن خطاب کو معرفی کیا گیا ہے وہ بھی بیداری کی حالت میں۔[8] تعجب کی بات ہے ہے کہ بعض روایات میں حضرت عمر کے بارے میں بہت زیادہ مبالغہ ہوا ہے اور کہا گیا ہے کہ حضرت عمر نے مستقیم طور پر اذان کو جبرئیل سے سنا ہے اور سیکھا ہے اور اس کے بعد رسول اسلام ص کو اس کی خبر دی ہے۔ [9]۔

چوتھا نکتہ: شیعہ منابع کی بنیاد پر، شیخ صدوق کی نقل کے مطابق پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں اذان کے لئے جو متن پڑھا جاتا تھا وہ اس طرح سے ہے۔

اللہ اکبر، اللہ اکبر،اللہ اکبر،اللہ اکبر

اشھد ان لا الہ الا اللہ، اشھد ان لا الہ الا اللہ

اشھد ان محمد رسول اللہ، اشھد ان محمد رسول اللہ

حی علی الصلاۃ، حی علی الصلاۃ

حی علی الفلاح، حی علی الفلاح

حی علی خیر العمل، حی علی خیر العمل

اللہ اکبر، اللہ اکبر

لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ۔[10]

جیسا کہ ملاحظہ ہوتا ہے اس روایت میں" اشھد ان علیا ولی اللہ؛ کا ذکر نہیں ہے۔

اگرچہ بعض غیر معتبر روایات میں ولایت امیرالمومنین کی گواہی کو اذان کا جزء قرار دیا گیا ہے۔ لیکن یہ روایات شیعہ فقھاء کے نزدیک معتبر نہیں ہیں۔

شیخ طوسی رہ اس سلسلہ میں لکھتے ہیں: بعض نا معتبر روایات ولایت امیرالمومنین علیہ السلام کی گواہی کو اذان کا جزء قرار دیتی ہیں کہ جن پر عمل نہیں کیا جاسکتا۔[11]

علامہ حلی بھی منتھیٰ میں لکھتے ہیں: وہ بعض روایات جن میں جملہ "اشھد ان علیا ولی اللہ" کو اذان و اقامت کا جزء مانا گیا ہے، غیر معتبر ہیں۔[12]

موجودہ فقھاء میں امام خمینی رہ کے فتوے پر اکتفاء کرتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں: اذان 18 جملوں پر مشتمل ہے اور جملہ  "اشھد ان علیا ولی اللہ" اذان و اقامت کا جزء نہیں ہے۔

اس بنیاد پر شیعہ فقھاء میں سے کسی نے بھی شھادت ثالثہ کو اذان و اقامت کا جزء نہیں مانا ہے بلکہ انھوں نے فتویٰ دیا ہے کہ اگر کوئی اس جملہ کو اذان و اقامت کا جزء مانتے ہوئے کہے تو یہ اذان و اقامت میں خلل کا باعث ہوگا[13]

پانچواں نکتہ: شیعہ فقھاء شھادت ثالثہ کو اذان و اقامت کا جزء نا ماننے کے باوجود اسے اذان و اقامت کا جزء نہ مانتے ہوئے کہنے کا جائز مانتے ہیں اور اس کو اذان میں موالات کا مخالف نہیں مانتے۔

صاحب جواھر اس سلسلہ میں لکھتے ہیں:اگر جملہ "اشھد ان علیا ولی اللہ" کا ذکر اذان کا جزء مانتے ہوئے نہ ہو تو کو مشکل نہیں ہے اور اس سے اذان کے موالات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ وہسے ہی جیسے جملہ "صلی اللہ علیہ و الہ وسلم" جملہ اشھد ان محمد رسول اللہ کے بعد موالات پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔[14]

آیۃ اللہ حکیم بھی اس طرح سے لکھتے ہیں: اگر کوئی جملہ "اشھد ان علیا ولی اللہ" کو استحباب کی نیت سے کہے تو کوئی مشکل نہیں ہے[15] کیوں کہ حدیث میں منقول ہے کہ جب بھی کوئی لا الہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ کہے اسے "علی امیرالمومنین ولی اللہ بھی کہنا چاہیے۔[16]

اس کے علاوہ ہم اس حدیث "ذکر علی عبادہ، علی کا ذکر عبادت ہے" کہ جو اہل سنت کے معتبر منابع میں بھی نقل ہے، پر عمل کرتے ہوئے بھی عام طور پر یہاں تک کہ  اذان و اقامت میں بھی اس جملہ "اشھد ان علیا ولی اللہ" کوکہہ سکتے ہیں۔

چھٹا نکتہ: ولایت امیرالمومنین علیہ السلام آیات قرآن سے ثابت ہے یعنی جس طرح سورہ مائدہ آیت 55کے مطابق پیغمبر ص ولایت رکھتے ہیں ویسے ہی مولی علی علیہ السام بھی ولی ہیں قرآن اس سلسلہ میں فرماتا ہے: " إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُواْ الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ۔ ایمان والو بس تمہارا ولی اللہ ہے اور اس کا رسول اور وہ صاحبانِ ایمان جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوِٰ دیتے ہیں۔[17]"

روایات کے مطابق ٓیہ آیت امیرالمومنین علی علیہ السلام کے بارے میں اس وقت نازل ہوئی جب آپ نے اپنی انگوٹھی رکوع کی حالت میں فقیر کو عطا کی اس بنا پر اگر کوئی کہےکہ جو علی ولی اللہ کی گواہی دیتا ہے وہ قرآن کے مطابق ہے لیکن وہابی قرآن کے خلاف حضرت علی کو عدو اللہ سمجھتے ہیں۔ اس لئے اس طرح کی گواہی سے اکھڑ جاتے ہیں۔

ساتواں نکتہ: بعض روایات کی بنیاد پر خود پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں بعض شیعیان علی علیہ السلام جیسے ابوذر جن کو اسی زمانہ میں علی علیہ السلام کا شیعہ کہا جاتا تھا علی علیہ السلام کی شھادت کی گواہی دیتے تھے اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی نہ صرف یہ کہ ان کو منع نہیں کیا بلکہ ان کی تائید کی۔"شیخ عبداللہ مراغی"عالم اہل سنت نے کتاب "السلافۃ فی امر الخلافۃ" میں اس سلسلہ میں دو روایات ابوذر غفاری اور سلمان فارسی سے اس طرح سے نقل کی ہیں۔ روایت کے مطابق ایک شخص پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کی یا رسول اللہ ان اباذر یذکر فی الاذان بعد الشھادۃ بالرسالۃ الشھادۃ بالولایۃ لعلی؛ یا رسول اللہ ابوذر اذان میں آپ کی شھادت کے بعد علی علیہ السلام کی ولایت کی گواہی دیتے ہیں ۔ آپ نے جواب میں فرمایا:کذالک، او نسیتم قولی فی غدیر خم: "من کنت مولاہ فعلی مولاہ" ایسا ہی ہے کیا تم غدیر خم میں میرا کہا بھول گئے میں نے کہا تھا ہر وہ شخص جس پر میں ولایت رکھتا ہوں علی بھی اس پر ولایت رکھتے ہیں۔"[18]

وہ دوسری روایت میں لکھتے ہیں: ایک شخص پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا: یا رسول اللہ انی سمعت امرا لم اسمع قبل ذالک میں نے ایسی بات سنی ہے جو ابھی تک نہیں سنی تھی۔ پیغمبر ص نے پوچھا کیا سنا ہے؟اس شخص نے جواب دیا "سلمان یشھد فی اذانہ بعد الشہادۃ بالرسالۃالشھادۃ بالولایۃ لعلی؛اس نے کہا میں نے سنا ہے کہ سلمان اذان میں رسالت کی گواہی کے بعد علی کی ولایت کی گواہی دیتے ہیں۔"

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب دیا: سمعت خیرا، تم نے بہت اچھی بات سنی ہے۔[19]

نتیجہ:

اذان و اقامت میں شیعوں کا مولا علی علیہ السلام کی ولایت کی گواہی دینا پہلی بات :  تو یہ شیعہ فقھاء کے فتویٰ کے مطابق اذان و اقامت کو جزء نہیں ہے۔

دوسری بات :  بعض روایات کے مطابق اگر یہ اس جملہ کو اذان و اقامت کا جزء قصد کئے بغیر کہا جائے تو اذان میں موالات کے خلاف نہیں ہے بلکہ ذکر کے لحاظ سے مستحب ہے۔

تیسری بات:  اگر شیعوں کا اس جملہ کو اذان میں کہنا صحیح نہیں ہے تو "الصلاۃ خیر من النوم" بھی اذان میں کہنا صحیح نہیں ہے۔

 

 


[1] ۔ الموطا، ج1؛ ص 72۔ " ان الموذن جاء الی عمر بن الخطاب یوذنہ لصلاۃ الصبح فوجدہ نائما فقال: الصلاۃ خیر من النوم، فامرہ عمر ان یجعلھا فی نداء الصبح" یہ روایت تحلیل و جائزہ کے ساتھ اسی کتاب میں دوسری جگہ آئے گی۔

[2] ۔ شرح نہج البلاغہ ج5، ص129؛الموفقیات، زبیر بن بکار، ص577؛ مروج الذھب، ج3،ص454۔

[3] ۔ سنن ابی داود، ج1، ص120، حدیث498، باب بدء الاذان۔

[4] ۔ السنن الکبری،ج1،ص390؛

[5] ۔سنن ترمذی، ج1،ص122، حدیث189۔

[6] ۔ الکافی، ج3، ص302۔ "قال علیہ السلام: ینزل الوحی علی نبیکم فتزعمون انہ اخذ الاذان من عبداللہ بن زید؟"

[7] ۔ البدایۃ و النھایۃ، ج3 ص285۔ " فھذا الحدیث لیس کما زعم سھیلی انہ صحیح بل ھو منکر تفرد بہ زیاد بن المنذرابوالجارود الذی تنسب الیہ الفرقۃ الجارودیۃ۔ ثم لو کان ھذا قد سمعہ رسول اللہ ص لیلہۃ الاسراء لاشک ان یامر بہ بعد الھجرۃ"

[8] ۔ المستدرک علی صحیحین، ج4، ص348

[9] ۔ صحیح بخاری، ض1، ص150، باب بدء الاذان۔

[10] ۔ من لا یحضرہ الفقیہ، ج1، ص 289۔

[11] ۔ النھایۃ، ص69،

[12] ۔ منتھی المطلب، ج4، ص481۔

[13] ۔ توضیح المسائل امام، مسالہ 919۔

[14] ۔جواھر الکلام، ج 9، ص 86۔

[15] ۔ مستمسک العروہ، ج5، ص 544۔

[16] ۔ یہ امام صادق علیہ السلام کی اس حدیث کی طرف اشارہ ہے: فاذا قال احدکم : " لا الہ الا اللہ، محمد رسول اللہ، فلیقل علی امیرالمومنین ولی اللہ" الاحتجاج، ج 1، ص 231۔

[17] ۔ سورہ مائدہ/55

[18] ۔ السلافۃ فی امر الخلافۃ، ص32۔

[19] ۔ السلافۃ فی امر الخلافۃ، ص32۔  





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی