2024 May 21
زمانہ غیبت میں، لوگ اپنے امام وقت سے کیسے فائدہ اٹھاتے سکتے ہیں؟
مندرجات: ٢٢٩٦ تاریخ اشاعت: ٢٢ February ٢٠٢٤ - ١٤:١٤ مشاہدات: 572
مضامین و مقالات » پبلک
جدید
زمانہ غیبت میں، لوگ اپنے امام وقت سے کیسے فائدہ اٹھاتے سکتے ہیں؟

 

زمانہ غیبت میں، لوگ اپنے امام وقت سے کیسے فائدہ اٹھاتے سکتے ہیں؟

 

جواب:

غيبت کا مطلب عدم وجود و فقدان کا نہیں ہے؛ بلکہ امام غائب صلوات الله علیه لوگوں کے درمیان ہیں؛ لیکن کوئی ان کو نہیں جانتے ہیں؛ گویا یہ کہ مندرجہ ذیل روایت میں ایا ہے:

قال أبو عبد الله عليه السلام إن في صاحب هذا الامر سنن من الأنبياء عليهم السلام... وأما سنة من يوسف فالستر يجعل الله بينه وبين الخلق حجابا يرونه ولا يعرفونه

كمال الدين وتمام النعمة - الشيخ الصدوق - ص 350 و 351

امام صادق عليه السلام نےفرمایا: اس کا مالک  پيامبروں کی سنت‌ ہیں…اوروہ سنت جو یوسف سے ہے وہ ان کا مستور ہونا ہے، یعنی خدا نے ان کے اور لوگوں کے ما بین پردہ ڈال دیا ہے؛ اس طرح سے کہ وہ ان کو دیکھتے ہیں لیکن پہچانتے نہیں ہے۔

حضرت غیبت کے ساتھ ساتھ حالات حاضر سے بھی اگاہ ہیں اور وہ تمام امور میں مکمل کنڑول رکھتےہیں اور جب تک یہ فلسفہ غيبت سے منافات نہیں رکھتا، خدا کی اجازت سے  وہ معاملات کو چلاتا ہے اور یہ اس کی امامت سے کویی منافات بھی نہیں رکھتا؛ مزید یہ کہ بہت سے انبیاء کو بھی یہ غیبت حاصل تھی جب کہ ان کو نبوت کا مقام بھی حاصل تھا:

1.    حضرت موسیٰ علیه السلام جب پہاڑ پر گئے تھے اس وقت وہ اپنے قوم کے درمیان نہیں تھے۔

2.    حضرت یونس علیه السلام جب وہ مچھلی کے پیٹ میں تھے۔

3.    حضرت خضرنبی جو کئی سالوں سے زندہ ہے اور غیبت میں ہے۔

4.    حضرت ادریس نبی بھی غیبت میں ہے۔

ایسے امام کے فوائد کے بارے میں احادیث میں کچھ باتیں ہیں جنہیں ہم ذیل میں بیان کریں گے:

امام زمانہ علیہ السلام کی مثال بادل کے پیچھے سورج کی طرح:

بعض احادیث میں امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کے حوالے سے بہت ہی دقیق اور خوبصورت مثال موجود ہے اگر آپ اس تشبیہ میں احتیاط برتیں تو آپ غائب امام کے بہت سے فائدے حاصل کر سکتے ہیں۔

کمال الدین شیخ صدوق کی کتاب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ لوگ غائب امام سے کیسے فائدہ اٹھاتے ہیں:

قال جابر فقلت له يا رسول الله فهل يقع لشيعته الانتفاع به في غيبته؟ فقال عليه السلام أي والذي بعثني بالنبوة إنهم يستضيئون بنوره وينتفعون بولايته في غيبته كانتفاع الناس بالشمس وإن تجللها سحاب

كمال الدين وتمام النعمة - الشيخ الصدوق - ص 253

جابر کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا: غیبت کے زمانے میں امام زمانہ علیہ السلام کی وجود کا کیا فائدہ؟ حضرت نے فرمایا: وہ خدا جس نے مجھے نبی بنا کر بھیجا ہے، لوگ اس غائب امام کی وجود سے استفادہ کرتے ہیں اور اس کی غیبت میں اس کے ولایت کے نور سے مستفید ہوتے ہیں۔

اسی کتاب کے ایک اور مقام پر ایا ہے:

قال سليمان فقلت للصادق عليه السلام فكيف ينتفع الناس بالحجة الغائب المستور؟ قال كما ينتفعون بالشمس إذا سترها السحاب

كمال الدين وتمام النعمة - الشيخ الصدوق - ص 207

سلیمان کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: لوگوں کو حجت غائب سے کیسے فائدہ ہوتا ہے؟ حضرت نے فرمایا: جس طرح وہ بادل سے ڈھکے ہوئے سورج سے فائدہ اٹھاتے ہیں اسی طرح حجت غائب سے بھی فائدہ اٹھاتے ہیں۔

ایک اور روایت میں خود حضرت ولی عصرعلیہ السلام فرماتے ہیں:

وأما وجه الانتفاع بي في غيبتي فكالانتفاع بالشمس إذا غيبتها عن الابصار السحاب

كمال الدين وتمام النعمة - الشيخ الصدوق - ص 253

جیسے لوگ بادلوں کے پیچھے سورج سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اسی طرح جب میں غائب ہوں تو وہ مجھ سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

جب سورج بادل کے پیچھے ہوتا ہے تو اس کی اپنی روشنی ہوتی ہے اور پودے اتنی ہی روشنی سے بڑھ سکتے ہیں اور لوگ اس کے ذریعے اپنا راستہ تلاش کر سکتے ہیں؛ رات کی تاریکی کے مقابلے میں اگر روشنی نہ ہو تو راستہ بھٹکنے اور گمراہی کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے، اس لیے ائمہ اطہار علیہم السلام لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں اور انہیں روحانی طور پر پروان چڑھاتے اور لوگوں کو ہدایت و گمراہی کا راستہ بتا تے ہیں۔

غیبت کے زمانے میں امام زمانہ علیہ السلام کے وجود کا انکار کرنا بادلوں کے پیچھے سورج کا انکار کرنے کے مترادف ہے۔

امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف اہل زمین کیلیے امان ہیں:

امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے وجود میں بے شمار برکات ہیں اور اگر امام زمین پر نہ ہوتے تو نسل انسانی معدوم ہو چکی ہوتی؛ کمال الدین شیخ صدوق کی کتاب میں امام صادق علیہ السلام نے اپنے والد اور امام سجاد علیہ السلام سے نقل کرتے ہوئےفرمایا ہے:

ونحن أمان لأهل الأرض كما أن النجوم أمان لأهل السماء ونحن الذين بنا يمسك الله السماء أن تقع على الأرض إلا بإذنه وبنا يمسك الأرض أن تميد بأهلها... ولولا ما في الأرض منا لساخت بأهلها

كمال الدين وتمام النعمة - الشيخ الصدوق - ص 207

ہم اھل زمین کےلیے امان ہیں؛ جس طرح ستارے اھل آسمان کیلیے امان ہیں اور ہم وہ ہیں جن کے ذریعے خدا آسمان کو تھامے ہوئے ہے تاکہ وہ زمین پر نہ گرے؛ اللہ کی اجازت کے بغیر اور ہمارے ذریعے سے زمین اپنے لوگوں کو نہیں نگلتی... اور اگر ہم میں سے کوئی ایک امام زمین پر نہ ہو تو زمین اپنے تمام لوگوں کو نگل لے گی۔

خود حضرت ولی عصرعلیہ السلام سے ایک اور روایت میں ہے کہ:

وإني لأمان لأهل الأرض كما أن النجوم أمان لأهل السماء

كمال الدين وتمام النعمة - الشيخ الصدوق - ص 485

بے شک، میں زمین پر لوگوں کے امن اور سلامتی کا سبب ہوں؛ جب کہ ستارے اھل آسمان کیلیے امان ہے۔

ان احادیث کے مطابق ائمہ معصومین علیہم السلام اپنے نقش تشريعى کے علاوہ ایک نقش تكوينى بھی رکھتے ہیں اور غیبت کی صورت میں یہ فرض کرتے ہوئے کہ ان کی غیبت کے پیچھے ان کا شرعی کردار ہے، وہ اپنے نقش تكوينى پر عمل کرتے ہیں اور ان کی وجود زندگی جاری رکھنے کے لئے سبب بنتی ہے۔

فیض میں  وساطت:

امام خدائی فضل کا ثالث ہے اور وہ مادی دنیا اور الہی دنیا کے درمیان ربطہ ہے۔

امام صادق علیہ السلام امام سجاد علیہ السلام کی ایک روایت نقل کرتے ہو ئے فرماتے ہیں:

وبنا ينزل الغيث وتنشر الرحمة وتخرج بركات الأرض

كمال الدين وتمام النعمة - الشيخ الصدوق - ص 207

ہمارے ذریعے بارش نازل ہوتی ہے، رحمتیں پھیلتی ہیں اور اس سے زمین کی برکتیں نکلتی ہیں۔

حضرت کی طرف سے جاری کردہ معزز اعلامیہ میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے:

إنا غير مهملين لمراعاتكم ولا ناسين لذكركم ولولا ذلك لنزل بكم اللاواء واصطلمكم الأعداء

المزار - الشيخ المفيد - ص 8

درحقیقت ہم آپ کی حالت سے غفلت نہیں برتیں گے اور آپ کو فراموش نہیں کریں گے، ورنہ آپ پر سختیاں اور مصیبتیں آئیں گی اور آپ کے دشمن آپ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔

جامعہ کبیرہ کی زیارت میں بھی اس کا ذکر ہے جو کہ صحیح سند کے ساتھ مروی ہے:

بكم فتح الله وبكم يختم وبكم ينزل الغيث... وبكم ينفس الهم ويكشف الضر

من لا يحضره الفقيه - الشيخ الصدوق - ج 2 ص 615

ہر چیز (خلقت) کی ابتدا اور انتہا تیرے ذریعے سے ہوتی ہے اور تیرے ذریعے سے بارش ہوتی ہے اور تیرے ذریعے ہی ہمارے غم اور پریشانیاں دور ہوتی ہیں۔

امام کے ذریعے خدا کی عبادت کرنا:

خدا کی صحیح معرفت امام زمانہ علیہ السلام کی معرفت ہے، اور اگر وہ نہ ہوں تو خدا کو پوری طرح پہچانا نہیں جائے گا اور نتیجتاً عبادت نہیں ہوگی، اور مادی دنیا اور اس کے درمیان تعلق تخلیق کا نظام منقطع ہو جائے گا؛ جیسا کہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

ولم تخل الأرض منذ خلق الله آدم من حجة الله فيها ظاهر مشهور أو غائب مستور ولا تخلوا إلى أن تقوم الساعة من حجة الله فيها ولولا ذلك لم يعبد الله

كمال الدين وتمام النعمة - الشيخ الصدوق - ص 207

جب سے اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کیا ہے زمین خدا کے حجت سے خالی نہیں رہی، کہ یہ حجت الٰہی ظاہر اور مشھور ہے غائب یا پوشیدہ  زمین قیامت تک خدا کی حجت سے خالی نہیں ہو گی، اور اگر یہ حجت خدا نہ ہو خدا کی عبادت نہیں کی جائے گی.

کتاب کافی کی ایک دوسری روایت میں ہے:

عن بريد العجلي قال : سمعت أبا جعفر عليه السلام يقول : بنا عبد الله ، وبنا عرف الله ، وبنا وحد الله تبارك وتعالى ...

برید عجلی کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: خدا کی عبادت ہمارے ذریعے ہوتی ہے، خدا کی پہچان ہم سے ہوتی ہے اور خدا کی وحدانیت ہم سے ثابت ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔

الكافي - الشيخ الكليني - ج 1 ص 145

امام غائب کے ذریعے مخلوقات پرخدا کا احتجاج:

ائمہ معصومین علیہم السلام خواہ ظاہر ہوں یا غایب، وہ زمین پر خدا کی حجتیں اور خدا کی واضح دلیلیں ہیں۔ امام کے فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ خدا اپنے امام اور خلیفہ کے ذریعہ زمین پر لوگوں کیلیے احتجاج کرتا ہے؛ امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں:

اللهم لا تخلو الأرض من قائم لله بحجة إما ظاهرا مشهورا أو خائفا مغمورا لئلا تبطل حجج الله وبيناته

نهج البلاغة - خطب الإمام علي ( ع ) - ج 4 ص 37

اے رب، زمین تیری حجتوں سے خالی نہیں ہوگی، ایسے حجتیں جو کبھی ظاہر اور اشکار ہوتے ہیں اور کبھی لوگوں کے خوف سے پوشیدہ ہیں، تاکہ خدا کے اسباب اور نظارے باطل اور فنا نہ ہوں۔

اگر امام کے نہ ہونے کی وجہ سے کچھ فائدے ہیں جن سے لوگ محروم رہ جاتے ہیں؛ لوگ خود قصور وار ہیں اور انہیں چاہیے کہ وہ امام کے ظہور کے لیے ضروری شرائط مهيّا کریں؛  اس لیے خواجہ ناصر الدین طوسی اپنی کتاب میں فرماتے ہیں:

ووجوده لطف وتصرفه آخر وعدمه منا

كشف المراد في شرح تجريد الاعتقاد ( قسم الإلهيات ) ( تحقيق السبحاني ) - العلامة الحلي - ص 184

امام زمانہ علیہ السلام کا وجود  ایک لطف ہے اور دنیا میں اپ کا تصرف کرنا ایک اور لطف ہے اور امام زمان علیہ السلام کی غیبت لوگوں کی وجہ سے ہے۔

قاعدہ  لطف کے مطابق ہر زمانے میں امام علیہ السلام کا وجود لازمی اور ضروری ہے؛ البتہ امام علیہ السلام کا وجود انسانی معاشرے کے حالات پر منحصر ہے؛ اگر امام کے وجود کے لیے لازمی شرائط مهيّا ہوجائیں تو امام کا معاشرے میں حاضر ہونا واضح ہوجائے گی؛ لیکن اگر ایسی شرائط مهيّا نہ ہوں تو امام علیہ السلام غیبت اختیار کریں گے۔

خدا نے حضرت صاحب الزمان کو خلیفة الله بنا کر اپنا لطف و احسان انجام دیا ہے اور امام زمان علیہ السلام نے اس ذمہ داری کو قبول کرکے ہم پر ایک اور احسان کیا ہے؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ غائب ہیں لوگوں کی وجہ سے۔

 

سلامت رہیں

شبھات کا جواب دینے والا گروپ

حضرت ولی عصر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ

عجل الله تعالی فرجه الشریف

 

 

 

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی