2024 May 19
کیا شیعہ مذہب میں امیر المومنین (ع) کو نعوذ با اللہ گالی دینا جائز ہے ؟
مندرجات: ٢١٩٣ تاریخ اشاعت: ١٦ January ٢٠٢٢ - ١٦:٥٩ مشاہدات: 2121
وھابی فتنہ » پبلک
کیا شیعہ مذہب میں امیر المومنین (ع) کو نعوذ با اللہ گالی دینا جائز ہے ؟

 

شیعہ مذھب میں نعوذ باللہ حضرت علی(ع) کو گالی دینا جائز ہے کیا ..؟

وہابی سلفی ، اصول کافی کی ایک حدیث نقل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مولا علی علیہ السلام کو گالی دینا شیعہ فقہ میں جائز ہے {نعوذ باللہ} .

 

حدیث  کا مفھوم  اور مضمون یہ ہے :میرے بعد تم لوگوں کو مجھے برا بلا کہنے پر مجبور کیا جایے گا لہذا جان بچانے کے کیے ایسا کہناپڑے تو کہہ دینا ..لیکن مجھ سے اظہار برائت نہ کرنا

 

 پہلا جواب :

بلکل ایسی حدیث امیر المومنین علیہ السلام  سے اہل سنت کی کتابوں میں بھی ہے۔۔۔ 
جیساکہ آپ کی یہ پیشنگوئی سچ ثابت ہوئی۔

اور معاویہ کے دور حکومت میں ایسا ہی ہوا..

ملاحظہ کریں ۔۔۔۔(www.valiasr-aj.com/urdu/mobile_shownews.php


اب جاھل سلفی اموی مولوی کہتے ہیں کہ شیعہ مذھب میں مولا کو گالی دینا جائز ہے نعوذ باللہ۔


یہ بلکل ایسا ہے جیسے جان بچانے کے لیے حرام اور مردار کھانا پڑے تو سب اس کو جائز سمجھتے ہیں لیکن  یہاں کوئی جاھل ہی کہہ سکتا ہے کہ اسلام میں حرام اور مردار کھانا جائز ہے ...

دیکھیں :

مصنف ابن أبي شيبة     كِتَابُ الْفِتَنِ… مَنْ كَرِهَ الْخُرُوجَ فِي الْفِتْنَةِ وَتَعَوَّذَ عَنْهَا…..

37254 - عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُخَارِقِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: «إِنِّي لَا أَرَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ إِلَّا ظَاهِرِينَ عَلَيْكُمْ لِتُفَرِّقَكُمْ عَنْ حَقِّكُمْ وَاجْتِمَاعُهُمْ عَلَى بَاطِلِهِمْ , وَإِنَّ الْإِمَامَ لَيْسَ يُشَاقُّ سَفَرُهُ , وَإِنَّهُ يُخْطِئُ وَيُصِيبُ , فَإِذَا كَانَ عَلَيْكُمْ إِمَامٌ يَعْدِلُ فِي الرَّعِيَّةِ وَيَقْسِمُ بِالسَّوِيَّةِ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا , وَإِنَّ النَّاسَ لَا يُصْلِحُهُمْ إِلَّا إِمَامٌ بَرٌّ أَوْ فَاجِرٌ , فَإِنْ كَانَ بَرًّا فَلِلرَّاعِي وَلِلرَّعِيَّةِ , وَإِنْ كَانَ فَاجِرًا عَبَدَ فِيهِ الْمُؤْمِنُ رَبَّهُ وَعَمِلَ فِيهِ الْفَاجِرُ إِلَى أَجَلِهِ , وَإِنَّكُمْ سَتُعْرَضُونَ عَلَى سَبِّي , وَعَلَى الْبَرَاءَةِ مِنِّي , فَمَنْ سَبَّنِي فَهُوَ فِي حِلٍّ مِنْ سَبِّي , وَلَا تَبْرَءُوا مِنْ دِينِي فَإِنِّي عَلَى الْإِسْلَامِ»…………

  أبو بكر بن أبي شيبة، عبد الله بن محمد بن إبراهيم بن عثمان بن خواستي العبسي (المتوفى: 235هـ)  المصنف في الأحاديث والآثار (7/ 463):، المحقق: كمال يوسف الحوت  الناشر: مكتبة الرشد – الرياض الطبعة: الأولى، 1409..عدد الأجزاء: 7

 امام حاکم نے بھی المستدرک میں اس کو نقل کیا ہے ۔

امام حاکم اور امام ذھبی کے نذدیک یہ صحیح السند ہے ۔


 3365 - أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق أنبأ محمد بن أحمد بن النضر الأزدي ثنا معاوية بن عمرو ثنا أبو إسحاق الفزاري عن سفيان عن سلمة بن كهيل عن أبي صادق قال : قال علي رضي الله عنه : إنكم ستعرضون على سبي فسبوني فإن عرضت عليكم البراءة مني فلا تبرأوا مني فإني على الإسلام فليمدد أحدكم عنقه ثكلته أمه فإنه لا دنيا له و لا آخرة بعد الإسلام ثم تلا : { إلا من أكره و قلبه مطمئن بالإيمان ۔۔۔


 
صحيح الإسناد و لم يخرجاه 

تعليق الذهبي قي التلخيص : صحيح

 المستدرك على الصحيحين للحاكم مع تعليقات الذهبي في التلخيص (2/ 390):

سوال :

 اب اصول کافی کی اس روایت کو بہانا بنا کر شیعوں پر الزام تراشی جائز ہے تو  یہی حدیث اہل سنت  کی کتابوں  میں بھی صحیح سند موجود ہے.  .. اب دیکھنا سلفی اموی مولوی کیا منہ بناتے ہیں اور کیا  کہتے ہیں ؟

دوسرا جواب

ناصبی جھوٹ – کیا  شیعہ مذہب میں مولا علی ع کو بطور تقیہ گالی دینا جائز ہے 

نواصب کتاب ( الکافی , ص 134 ) سے ایک روایت لاتے ہیں کہ مولا علی علیہ السلام فرماتے ہیں تمہیں کہا جائے گا کہ مجھے گالی دو تو گالی دے دینا مگر برآئت نہ کرنا

اولا تو شیعہ کے عقائد کے مطابق کسی بھی امام معصوم کو گالی دینا حرام اور اس کی سزا قتل ہے اور اگر بغض کی وجہ سے ہو تو اس سے کافر بھی ہو جاتا ہے اور جو روایت پیش کی ہے یہ ضعیف السند ہے چونکہ مسعدۃ بن صدقۃ بتری عامی ہے اور اس میں ہے کہ کہا گیا ہے جبکہ کہنے والا کون ہے معلوم نہیں ہے ۔ تو جو شیعہ مذہب کے اتفاقی مسئلہ کو چھوڑ کر ایسی ضعیف حدیث کے پیچھے جاتا وہ اندھے تعصب کا مریض ہی ہو سکتا ہے

 

ثانیا : یہ حدیث تقیہ کی صورت میں گالی کو جائز قرار دے رہی ہے اور تقیہ قرآن اور رسول اللہ ص کا حکم ہے جسے فریقین بھی مانتے ہیں ۔ جیسا کہ سورۃ آل عمران کی آیت 28 کی تفسیر  میں رازی نے اور دوسرے اھل سنت علماء نے بھی لکھا ہے کہ تفسیر میں لکھا ہے کہ تقیہ جائز ہے اور عمار نے تقیہ کی وجہ سے رسول اللہ کو برا بھلا کہا تو جب خدمت رسول میں آیا تو آپ نے فرمایا کہ اگر کافر دوبارہ تجھے مجبور کریں تو دوبارہ ایسا کرنا

جب رسول اللہ ص عمار رض سے کہتے ہیں کہ آئندہ بھی کبھی کافر تجھے مجبور کریں تو اسی طرح ہر وہ کلمہ کہتے رہنا جس پر وہ مجبور کریں  تو امام علی ع بھی اپنے شیعوں سے کہیں کہ اگر مجھ سے برائت نہ کرنے پر تمہیں قتل کی دھمکی مل جائے تو تم برائت کر لینا تو یہ کونسا قرآن اور سنت کے خلاف ہے ؟ کیا معترض کو حکم قرآن اور حکم رسول ص پر اعتراض ہے ؟

تقیہ کا حکم اہل سنت کی احادیث میں بھی کثرت سے آیا ہے ملاحظہ کریں  صحیح بخاری ج 23 ص 46، ج 9 ص 19 ، مصنف ابن ابی شیبہ ج 12 ص 359 وغیرہ ۔

ثالثا- اعتراض تو ان حکام پر بنتا ہے جو منبروں سے بھی علی اور آل علی علیھم السلام کو گالیاں دلواتے تھے  اور نہ کرنے والوں کو قتل کیا جاتا تھا ۔۔ جبکہ وہاں تو ان کی زبانیں بندھ ہوجاتی ہیں اور ان کو تقدس کا لبادہ پہناتے ہیں ؟

تعجب ہے بغض علی ع میں گالیاں دینے اور گالیاں دلوانے والوں کو خال المؤمنین یا خلفاء رسول کہتے ہیں جبکہ اپنی جان کی حفاظت کرنے کے لئے تقیہ میں گالی دینے والوں پر اعتراض کرتے ہیں ؟

 جیسا کہ کتاب الدعاء للطبرانی ج 1 ص 238 ، سنن الترمذی ج 13 ص 331 ، السنن الکبری للبیہقی ج 2 ص 625 ، جامع الاحادیث للسیوطی ج 31 ص 221  وغیرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ  بنی امیہ کے حکمران علی ع کو منبروں سے گالیاں دلواتے تھے ، تو مسلمانوں کو چاہئے کہ ان سے برائت کریں نہ کہ تقیہ کرنے والوں پر اعتراض کریں ۔۔ فما لکم کیف تحکمون ؟ يونس ٣٥

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات