2019 June 16
کیا امام زمان (عج) کے غائب ہونے کے بارے میں صحیح (معتبر) شیعہ روایات میں کوئی پیشن گوئی کی گئی ہے ؟
مندرجات: ١٧٩٦ تاریخ اشاعت: ٢٢ April ٢٠١٩ - ١٩:٠١ مشاہدات: 66
سوال و جواب » Mahdism
کیا امام زمان (عج) کے غائب ہونے کے بارے میں صحیح (معتبر) شیعہ روایات میں کوئی پیشن گوئی کی گئی ہے ؟

 

سوال:

کیا امام زمان (عج) کے غائب ہونے کے بارے میں صحیح (معتبر) شیعہ روایات میں کوئی پیشن گوئی کی گئی ہے ؟

توضيح سؤال:

وہ روایات جو حضرت مہدی (عج) کی غیبت کے بارے میں ہیں، ان روایات میں حضرت کے لیے دو غیبت (صغری و کبری) بیان کی گئی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ غیبت کے بارے میں یہ روایات صحیح (معتبر) ہیں یا صحیح نہیں ہیں ؟

جواب:

علمی تحقیق کے مطابق امام زمان (عج) کی غیبت کے بارے میں روایات دو اقسام کی ہیں:

پہلی قسم میں ایک کے بعد دوسری، دو غیبت صغری و کبری ذکر کی گئی ہیں۔

دوسری قسم میں طولانی غیبت کو ذکر کیا گیا ہے کہ یہ وہی غیبت کبری ہے۔

قابل ذکر اور قابل توجہ ہے کہ ان دونوں اقسام میں غیبت کے بارے میں صحیح روایات موجود ہیں کہ جو علم حدیث کی رو سے حد استفاضہ تک پہنچی ہوئی ہیں کہ یہاں پر سند کے بارے میں بحث کی بھی ضرورت نہیں ہوتی لیکن کیونکہ سوال کے مطابق صحیح روایات کو ذکر کیا جائے گا تو اس لیے انکی سند کے بارے میں بھی علمی تحقیق کو ذکر کیا جائے گا۔

ان روایات کو ذکر کرنے سے پہلے، ان روایات کے صحیح (معتبر) ہونے کے بارے میں شیعہ علماء کے اقوال کو ذکر کرتے ہیں:

اقوال علمائے شیعہ:

شیعہ علماء نے امام زمان (عج) کی غیبت کے بارے میں روایات کو اپنی کتب میں ذکر کرنے کے بعد ان روایات کی سند کے صحیح ہونے اور روایات کے متواتر ہونے کے بارے میں بھی وضاحت کی ہے:

1. محمد ابن ابراہيم نعمانی (متوفي360 ہجری)

ان جلیل القدر عالم نے غیبت کے بارے میں روایات کو اپنی کتاب «الغيبة» میں ذكر کرنے کے بعد لکھا ہے:

هذه الأحاديث التي يذكر فيها أن للقائم (عليه السلام) غيبتين أحاديث قد صحت عندنا بحمد الله، وأوضح الله قول الأئمة (عليهم السلام) وأظهر برهان صدقهم فيها،

یہ روایات کہ جو بیان کرتی ہیں کہ حضرت قائم (ع) کے لیے دو غیبتیں ہیں، الحمد للہ ان روایات کا صحیح ہونا ہمارے نزدیک ثابت ہو چکا ہے، خداوند نے غیبت کے بارے میں آئمہ کے اقوال کو واضح اور انکے دلائل کو ظاہر فرمایا ہے۔

النعماني، أبي عبد الله محمد بن ابن إبراهيم بن جعفر الكاتب المعروف ب ابن أبي زينب النعماني (متوفي360ه ـ)، الغيبة، ص 179، تحقيق: فارس حسون كريم،

2. شيخ صدوق (متوفي 381ہجری)

شيخ صدوق نے بھی لکھا ہے کہ:

وأنه قد غاب كما جاءت الاخبار في الغيبة فإنها جاءت مشهورة متواترة وكانت الشيعة تتوقعها وتترجاها كما ترجون بعد هذا من قيام القائم عليه السلام بالحق وإظهار العدل . ونسأل الله عز وجل توفيقا وصبرا جميلا برحمته.

امام زمان (ع) غائب ہوئے ہیں، جیسا کہ غیبت کے بارے میں روایات میں بھی ذکر ہوا ہے، یہ روایات مشہور اور متواتر ہیں، شیعہ کو اس غیبت کی توقع ہے اور اس غیبت سے امید لگائے بیٹھے ہیں کیونکہ شیعہ کو مکمل امید ہے کہ قائم اس غیبت کے بعد قیام کریں گے اور عدل و انصاف کو ظاہر کریں گے، ہم خداوند کی رحمت سے توفیق اور صبر جمیل کی درخواست کرتے ہیں۔

 

الصدوق، ابوجعفر محمد بن علي بن الحسين (متوفي381هـ)، كمال الدين و تمام النعمة، ص94،

3. شيخ مفيد (متوفي 413 ہجری)

شيخ مفيد نے كتاب «الارشاد» میں لکھا ہے حضرت مہدی (ع) کے دنیا میں آنے سے پہلے انکی غیبت اور ظہور کے بارے میں روایات میں خبر دی گئی ہے اور یہ روایات مستفیض ہیں:

وَكَانَ الْخَبَرُ بِغَيْبَتِهِ ثَابِتاً قَبْلَ وُجُودِهِ وَبِدَوْلَتِهِ مُسْتَفِيضاً قَبْلَ غَيْبَتِهِ وَهُوَ صَاحِبُ السَّيْفِ مِنْ أَئِمَّةِ الْهُدَي عليه السلام وَالْقَائِمُ بِالْحَقِّ الْمُنْتَظَرُ لِدَوْلَةِ الْإِيمَانِ وَلَهُ قَبْلَ قِيَامِهِ غَيْبَتَانِ إِحْدَاهُمَا أَطْوَلُ مِنَ الْأُخْرَي كَمَا جَاءَتْ بِذَلِكَ الْأَخْبَارُ فَأَمَّا الْقُصْرَي مِنْهُمَا فَمُنْذُ وَقْتِ مَوْلِدِهِ إِلَي انْقِطَاعِ السِّفَارَةِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ شِيعَتِهِ وَعَدَمِ السُّفَرَاءِ بِالْوَفَاةِ وَأَمَّا الطُّولَي فَهِيَ بَعْدَ الْأُولَي وَفِي آخِرِهَا يَقُومُ بِالسَّيْفِ.

ان حضرت کی غیبت اور انکی حکومت کے ظاہر ہونے کے بارے میں روایات، ان حضرت کے دنیا میں آنے سے بھی پہلے کی موجود ہیں کہ جو استفاضہ کی حد تک پہنچی ہیں، اور آئمہ کے درمیان وہی ہیں کہ جو صاحب شمشیر اور حق کے ساتھ قیام کرنے والے ہیں اور سب انکی ایمانی حکومت کے انتظار میں ہیں۔

اور قیام سے پہلے ان حضرت کی دو غیبت ہیں، ایک غیبت دوسری سے طولانی تر ہو گی جیسا کہ روایات نے بھی بیان کیا ہے، غیبت صغری کہ جو انکے دنیا میں آنے کے وقت سے شروع ہو کر ان حضرت اور شیعیان کے درمیان سفارت و وساطت کے منقطع ہونے تک ختم ہو جاتی ہے۔ ان حضرت کے سفیر و نمائندے فوت ہونے کے ساتھ ختم ہو گئے ہیں، (یعنی اب ان حضرت کا کوئی نائب خاص نہیں ہے)، اور غیبت کبری و طولانی یہ پہلی غیبت کے بعد والی غیبت ہے، اور اس غیبت کے ختم ہونے کے بعد وہ حضرت شمشیر کے ساتھ قیام کریں گے۔

البغدادي، الشيخ المفيد محمد بن محمد بن النعمان، العكبري ، (متوفي 413هـ)، الإرشاد في معرفة حجج الله علي العباد، ج2، ص340، تحقيق : مؤسسة آل البيت عليهم السلام لتحقيق التراث،

4. ابو الحسن الإربلی (متوفي693 ہجری)

اربلی بھی شيخ مفيد کی طرح روايات غيبت امام زمان (ع) کو مستفيض کہتے ہیں:

وكان الخبر بغيبته ثابتا قبل وجوده ، وبدولته مستفيضا قبل غيبته، وهو صاحب السيف من أئمة الهدي عليهم السلام ، والقائم بالحق والمنتظر لدولة الايمان وله قبل غيبتان ، أحدهما أطوال من الأخري ، كما جاءت بذلك الاخبار

الإربلي، أبي الحسن علي بن عيسي بن أبي الفتح (متوفي693هـ)، كشف الغمة في معرفة الأئمة، ج3، ص 244،

5. علامہ حلی (متوفي726 ہجری)

علامہ حلی نے بھی لکھا ہے کہ:

وكان الخبر بغيبته ثابتا قبل وجوده وبدولته مستفيضا قبل غيبته وهو صاحب السيف من أئمة الهدي عليهم السلام والقائم بالحق المنتظر لدولة الايمان وله قبل قيامه غيبتان : إحديهما أطول من الأخري كما جاءت بذلك الاخبار...

الحلي، حسن بن المطهر (متوفي726هـ)، المستجاد من كتاب الارشاد، ص 232، ناشر: مكتب آية الله العظمي المرعشي النجفي،

پس امام زمان (عج) کی غیبت والی روایات شیعہ علماء کے نزدیک مستفیض اور صحیح (معتبر) ہیں اور ان میں کسی قسم کا ابہام و اجمال موجود نہیں ہے۔

آئمہ معصومین (ع) سے امام زمان (عج) کی غیبت کے بارے میں روایات کا صادر ہونا:

قابل توجہ ہے کہ امام زمان (عج) کے دنیا میں آنے کے بعد پردہ غیبت میں غائب ہونے کے بارے میں روایات رسول خدا (ص) سے لے کر امام حسن عسکری (ع) تک ہر معصوم سے نقل ہوئی ہیں اور شیعہ علماء نے ان تمام روایات کو اپنی اپنی کتب میں ذکر کیا ہے۔

مرحوم قطب رواندی نے اس بارے میں لکھا ہے:

وقد أخبر بغيبته رسول الله صلي الله عليه وآله ثم أمير المؤمنين عليه السلام ثم الحسن ثم الحسين ثم علي بن الحسين ، ثم محمد بن علي ، ثم جعفر بن محمد ، ثم موسي بن جعفر ، ثم علي بن موسي ، ثم محمد بن علي ، ثم علي بن محمد ، ثم الحسن ابن علي صلوات الله عليهم أجمعين .

حضرت مہدی کے غائب ہونے کے بارے میں رسول خدا، امیر المؤمنین، امام حسن، امام حسين، علی ابن الحسين ...... حسن ابن علی عسكری نے خبر دی ہے۔

الراوندي، قطب الدين (متوفي573هـ)، الخرائج والجرائح، ج2، ص953، تحقيق ونشر: مؤسسة الإمام المهدي عليه السلام ـ قم،

اگر ہر معصوم نے امام زمان کی غیبت کے بارے میں صرف ایک ایک روایت بھی بیان فرمائی ہو تو 12 روایات بنتی ہیں حالانکہ ہر معصوم سے اس موضوع کے بارے میں کئی کئی روایات نقل ہوئی ہیں۔

پہلی قسم: امام زمان (عج) کے لیے دو غیبت:

بعض روایات نے وضاحت سے بیان کیا ہے کہ ان حضرت کے لیے دو غیبت ہیں، ایک غیبت صغری، دوسری غیبت کبری۔

1. روايت امام صادق (ع): ( با سند صحيح)

مرحوم كلينی نے سند صحيح کے ساتھ امام صادق (ع) سے نقل کیا ہے کہ حضرت مہدی (ع) کے لیے دو غیبت ہوں گی، غیبت مختصر اور غیبت طولانی:

مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنِ ابْنِ مَحْبُوبٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَمَّارٍ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام لِلْقَائِمِ غَيْبَتَانِ إِحْدَاهُمَا قَصِيرَةٌ وَ الْأُخْرَي طَوِيلَةٌ الْغَيْبَةُ الْأُولَي لَا يَعْلَمُ بِمَكَانِهِ فِيهَا إِلَّا خَاصَّةُ شِيعَتِهِ وَ الْأُخْرَي لَا يَعْلَمُ بِمَكَانِهِ فِيهَا إِلَّا خَاصَّةُ مَوَالِيهِ.

قائم کے لیے دو غیبتیں ہیں، ایک مختصر اور دوسری طولانی ہو گی، پہلی غیبت میں کوئی بھی انکی جگہ کے بارے میں نہیں جانتا کہ کہاں ہے، مگر ان حضرت کے خاص و خالص شیعہ اور دوسری غیبت میں کوئی بھی انکی جگہ کے بارے میں نہیں جانتا کہ کہاں ہے، مگر ان حضرت کے خاص خادمین۔

الكليني الرازي، أبو جعفر محمد بن يعقوب بن إسحاق (متوفي328 هـ)، الأصول من الكافي، ج 1، ص340، 

 بحث سندی:

الف: محمد ابن يحيی العطار:

نجاشی کہتا ہے: وہ اپنے زمانے میں شیعوں کی بزرگ شخصیت تھی، وہ قابل اعتماد و اطمینان ہے اور بہت سی روایات اس سے نقل ہوئی ہیں:

شيخ أصحابنا في زمانه، ثقة، عين، كثير الحديث...

النجاشي الأسدي الكوفي، ابوالعباس أحمد بن علي بن أحمد بن العباس (متوفي450هـ)، فهرست أسماء مصنفي الشيعة المشتهر ب رجال النجاشي، ص353، تحقيق: السيد موسي الشبيري الزنجاني،

ب: محمد ابن الحسين أبی الخطاب:

نجاشی نے کہا ہے: وہ شیعہ علماء میں بہت عظیم مقام کا حامل تھا۔ اس نے بہت سی روایات نقل کی ہیں، وہ قابل اعتماد عالم ہے، اس نے بہت سی کتب تالیف کیں ہیں اور انکی روایات قابل اطمینان اور قابل استناد ہیں:

جليل من أصحابنا، عظيم القدر، كثير الرواية، ثقة، عين، حسن التصانيف، مسكون إلي روايته...

رجال النجاشي، ص334.

اور شيخ طوسی نے اسے «كوفي ثقه» کے عنوان سے یاد کیا ہے:

كوفي، ثقة.

الطوسي، الشيخ ابوجعفر، محمد بن الحسن بن علي بن الحسن (متوفي460هـ)، رجال الطوسي، ص379، تحقيق: جواد القيومي الأصفهاني، 

 ج: حسن ابن محبوب:

شيخ طوسی نے کہا ہے وہ اہل کوفہ اور مورد اعتماد ہے، وہ بہت جلیل القدر اور اپنے زمانے کے چار ارکان میں سے ایک تھا:

كوفي، ثقة. وكان جليل القدر، يعد في الأركان الأربعة في عصره.

الطوسي، الشيخ ابوجعفر، محمد بن الحسن بن علي بن الحسن (متوفي460هـ)، الفهرست، ص96، تحقيق: الشيخ جواد القيومي،

د: إسحاق ابن عمار ابن حيان الساباطی الصيرفی:

شيخ طوسی نے اسے ثقہ قرار دیا ہے:

إسحاق بن عمار، ثقة، له كتاب.

رجال الطوسي، ص331

نتيجہ:

یہ روايت صحيح اور معتبر ہے۔

2. روايت امام سجاد (ع):

اس روایت نے امام زمان (عج) کے لیے دو غیبت کو بیان کیا ہے، امام سجاد (ع) سے ایسے نقل ہوا ہے:

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِصَامٍ الْكُلَيْنِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْكُلَيْنِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْعَلَاءِ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيٍّ الْقَزْوِينِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ الْحَنَّاطِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ ثَابِتٍ الثُّمَالِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ علي السلام أَنَّهُ قَالَ فِينَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَ أُولُوا الْأَرْحامِ بَعْضُهُمْ أَوْلي بِبَعْضٍ فِي كِتابِ اللَّهِ وَ فِينَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَ جَعَلَها كَلِمَةً باقِيَةً فِي عَقِبِهِ وَ الْإِمَامَةُ فِي عَقِبِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عليه السلام إِلَي يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَ أَنَّ لِلْقَائِمِ مِنَّا غَيْبَتَيْنِ إِحْدَاهُمَا أَطْوَلُ مِنَ الْأُخْرَي أَمَّا الْأُولَي فَسِتَّةُ أَيَّامٍ أَوْ سِتَّةُ أَشْهُرٍ أَوْ سِتُّ سِنِينَ وَ أَمَّا الْأُخْرَي فَيَطُولُ أَمَدُهَا حَتَّي يَرْجِعَ عَنْ هَذَا الْأَمْرِ أَكْثَرُ مَنْ يَقُولُ بِهِ فَلَا يَثْبُتُ عَلَيْهِ إِلَّا مَنْ قَوِيَ يَقِينُهُ وَ صَحَّتْ مَعْرِفَتُهُ وَ لَمْ يَجِدْ فِي نَفْسِهِ حَرَجاً مِمَّا قَضَيْنَا وَ سَلَّمَ لَنَا أَهْلَ الْبَيْت.

ثابت ثمالی نے امام سجاد سے روایت کی ہے کہ آیہ: وَ أُولُوا الْأَرْحامِ ... ہمارے بارے میں نازل ہوئی ہے اور یہ آیہ: وَ جَعَلَها كَلِمَةً باقِيَةً فِي عَقِبِهِ، بھی ہمارے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ قیامت تک امامت امام حسین کی نسل میں سے ہو گی، اور بے شک ہمارے قائم کے لیے دو غیبت ہیں، ایک دوسری سے طولانی تر ہو گی، پہلی غیبت 6 دن، یا 6 مہینے یا 6 سال کی ہو گی، اور دوسری غیبت اتنی طولانی ہو گی یہاں تک کہ ان حضرت کی امامت کے قائل بھی امام سے دوری اختیار کر لیں گے، مگر وہ لوگ کہ جنکا یقین پختہ اور معرفت کامل ہو گی اور جس چیز کا ہم حکم دیتے ہیں، اس میں اہل بیت کے سامنے تسلیم ہو گا۔

الصدوق، ابوجعفر محمد بن علي بن الحسين (متوفي381هـ)، كمال الدين و تمام النعمة، ج 1، ص324،

3. روايت امام باقر (ع):

نعمانی صاحب كتاب «الغيبة» نے اس بارے میں متعدد روایات کو نقل کیا ہے، جیسے امام باقر سے نقل کیا ہے کہ ان حضرت کے لیے دو غیبت ہیں:

حدثنا أحمد بن محمد بن سعيد، قال: حدثنا علي بن الحسن، قال: حدثنا عبد الرحمن بن أبي نجران، عن علي بن مهزيار، عن حماد بن عيسي، عن إبراهيم بن عمر اليماني، قال: سمعت أبا جعفر (عليه السلام) يقول:إِنَّ لِصَاحِبِ هَذَا الْأَمْرِ غَيْبَتَيْنِ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ لَا يَقُومُ الْقَائِمُ وَلِأَحَدٍ فِي عُنُقِهِ بَيْعَة.

ابراہيم ابن عمر يمانی کہتا ہے کہ میں نے امام باقر کو فرماتے ہو‏ئے سنا کہ: بے شک اس امر کے صاحب کے لیے دو غیبت ہیں، اور یہ بھی سنا کہ:

قائم اس حال میں قیام کریں گے کہ انکی گردن پر کسی کی بیعت نہیں ہو گی۔

كتاب الغيبة - محمد بن إبراهيم النعماني ، ص 176، ح3

4. روايت امام صادق (ع):

امام صادق (ع) نے بھی ان حضرت کے موضوع غيبت کے بارے میں صراحت سے فرمایا ہے:

وَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ حَازِمٍ مِنْ كِتَابِهِ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْسُ بْنُ هِشَامٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبَلَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُسْتَنِيرِ عَنِ الْمُفَضَّلِ بْنِ عُمَرَ الْجُعْفِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الصَّادِقِ عليه السلام قَالَ إِنَّ لِصَاحِبِ هَذَا الْأَمْرِ غَيْبَتَيْنِ إِحْدَاهُمَا تَطُولُ حَتَّي يَقُولَ بَعْضُهُمْ مَاتَ وَ بَعْضُهُمْ يَقُولُ قُتِلَ وَ بَعْضُهُمْ يَقُولُ ذَهَبَ فَلَا يَبْقَي عَلَي أَمْرِهِ مِنْ أَصْحَابِهِ إِلَّا نَفَرٌ يَسِيرٌ لَا يَطَّلِعُ عَلَي مَوْضِعِهِ أَحَدٌ مِنْ وَلِيٍّ وَ لَا غَيْرِهِ إِلَّا الْمَوْلَي الَّذِي يَلِي أَمْرَ.

اور اس نے امام صادق سے نقل کیا ہے کہ: اس امر کے صاحب کے لیے دو غیبتیں ہیں کہ ان میں سے ایک اس قدر طولانی ہو گی کہ بعض کہیں گے وہ مر گیا ہے اور بعض کہیں گے قتل ہو گیا ہے اور بعض کہیں گے بس چلا گیا ہے، پس ان حضرت کے اصحاب میں سے بہت ہی کم انکے امر پر باقی رہیں گے اور انکی جگہ کے بارے میں دوست و دشمن کسی کو پتا نہیں ہے مگر وہ خادم کہ جو انکے کاموں کو انجام دیتا ہے۔

مصنف نے کتاب کے آخر میں لکھا ہے:

ولو لم يكن يروي في الغيبة إلا هذا الحديث لكان فيه كفاية لمن تأمله.

اور اگر غیبت کے بارے میں فقط یہی ایک حدیث نقل ہوئی ہوتی تو غور و فکر کرنے والے کے لیے کافی تھا۔

كتاب الغيبة - محمد بن إبراهيم النعماني، ص176، ح 5

5. روايت امام صادق (ع):

مرحوم كلينی نے کتاب اصول كافی میں امام صادق (ع) سے  ایک دوسوی روايت کو بھی ذکر کیا ہے:

مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَي وَ أَحْمَدُ بْنُ إِدْرِيسَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الْكُوفِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حَسَّانَ عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ مُفَضَّلِ بْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام يَقُولُ لِصَاحِبِ هَذَا الْأَمْرِ غَيْبَتَانِ إِحْدَاهُمَا يَرْجِعُ مِنْهَا إِلَي أَهْلِهِ وَ الْأُخْرَي يُقَالُ هَلَكَ فِي أَيِّ وَادٍ سَلَكَ قُلْتُ كَيْفَ نَصْنَعُ إِذَا كَانَ كَذَلِكَ قَالَ إِذَا ادَّعَاهَا مُدَّعٍ فَاسْأَلُوهُ عَنْ أَشْيَاءَ يُجِيبُ فِيهَا مِثْلَه.

مفضل ابن عمر کہتا ہے میں نے امام صادق کو فرماتے ہوئے سنا کہ: اس امر (قیام) کے صاحب کے لیے دو غیبت ہیں، پہلی غیبت میں شیعیان انکے گھر والوں کی طرف رجوع کرتے ہیں اور دوسری غیبت میں لوگ کہیں گے: ہلاک ہو گیا ہے اور کونسی وادی میں چلا گیا ہے، میں (مفضل) نے عرض کیا: اگر ایسا ہو جا‏ئے تو پھر ہم کیا کریں ؟ امام نے فرمایا: جب بھی کوئی امامت کا دعوی کرے تو اس سے ایسے سوال پوچھنا کہ جو امام کی طرح جواب دے، (یعنی اگر جواب صحیح نہ دے تو سمجھ لینا کہ وہ امام نہیں ہے)

الكليني الرازي، أبو جعفر محمد بن يعقوب بن إسحاق (متوفي328 هـ)، الأصول من الكافي، ج 1، ص341، 

 دوسری قسم: امام زمان (عج) کی غیبت کبری کے بارے میں خبر دینا:

بعض روایات میں کلی طور پر ان حضرت کے لیے ایک ہی غیبت کو بیان کیا گیا ہے اور اس غیبت سے مراد وہی غیبت کبری یعنی طولانی غیبت ہے۔

اس بارے میں بھی بہت سی روایات موجود ہیں، پہلے ایک روایت کو سند کی بحث کے ساتھ ذکر کرتے ہیں اور بقیہ روایات اسکے بعد ذکر کی جائیں گی:

1. روايت رسول خدا (ص) تَكُونُ لَهُ غَيْبَةٌ وَ حَيْرَةٌ ( با سند صحيح):

اس صحیح روایت میں رسول خدا (ص) نے اپنے بیٹے حضرت مہدی (ع) کے غائب ہونے کے بارے میں خبر دی ہے اور واضح طور پر کہا ہے کہ انکی غیبت ایسے ہو گی کہ لوگ حیران و پریشان ہو جائیں گے:

حَدَّثَنَا أَبِي وَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ وَ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَي الْمُتَوَكِّلُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالُوا حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْحِمْيَرِيُّ وَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَي الْعَطَّارُ جَمِيعاً قَالُوا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَي وَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ وَأَحْمَدُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْبَرْقِيُّ وَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْخَطَّابِ جَمِيعاً قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ مَحْبُوبٍ السَّرَّادُ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ أَبِي بَصِيرٍ عَنِ الصَّادِقِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ آبَائِهِ عليهم السلام قَالَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلي الله عليه وآله وسلم:

الْمَهْدِيُّ مِنْ وُلْدِي اسْمُهُ اسْمِي وَكُنْيَتُهُ كُنْيَتِي أَشْبَهُ النَّاسِ بِي خَلْقاً وَ خُلْقاً تَكُونُ لَهُ غَيْبَةٌ وَ حَيْرَةٌ حَتَّي تَضِلَّ الْخَلْقُ عَنْ أَدْيَانِهِمْ فَعِنْدَ ذَلِكَ يُقْبِلُ كَالشِّهَابِ الثَّاقِبِ فَيَمْلَؤُهَا قِسْطاً وَ عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ ظُلْماً وَ جَوْراً.

رسول خدا (ص) نے فرمایا: مہدی میرے بیٹوں میں سے ہے، وہ میرا ہمنام اور ہم کنیت ہے، وہ صورت و سیرت کے لحاظ سے سب سے زیادہ میرے مشابہ ہے، اسکے لیے ایسی غیبت کہ لوگ حیران و پریشان ہو کر اپنے دین سے منہ موڑ لیں گے، پھر اسی وقت وہ اثر کرنے والے ستارے کی مانند آئے گے اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، جیسا کہ زمین ظلم و ستم سے بھر چکی ہو گی۔

الصدوق، ابوجعفر محمد بن علي بن الحسين (متوفي381هـ)، كمال الدين و تمام النعمة، ج 1، ص287، ح4،

یہ روایات چند مطالب کو ثابت کرتی ہے:

1. حضرت مہدی (عج) رسول خدا (ص) کی نسل سے ہیں۔

2. ان حضرت کی طولانی غیبت ہو گی کہ اس عرصے میں بعض لوگ رسول خدا (ص) کے فرامین پر کامل ایمان نہ ہونے کی وجہ سے اپنے دین سے منہ موڑ کر گمراہ ہو جائیں گے۔

3. حضرت مہدی (ع) ان جیسے حالات میں ظہور فرمائیں گے۔

4. وہ حضرت اخلاق و سيرت کے لحاظ سے رسول خدا (ص) کے شبیہ ترین ہیں۔ یہی بات وہابیت کے شبہے کا جواب بھی ہو سکتا ہے کہ جو دن رات کہتے رہتے ہیں کہ وہ حضرت ظہور کے بعد قتل و خونریزی کریں گے !

بحث سندی:

ا) علی ابن الحسين ابن بابويہ:

یہ شہر مقدس قم کے فقہاء میں سے ہیں، نجاشی نے انکے بارے میں کہا ہے:

شيخ القميين في عصره ومتقدمهم، وفقيههم، وثقتهم...

وہ اپنے زمانے میں شہر قم کے بزرگان میں سے تھے۔۔۔۔۔

النجاشي، أحمد بن علي، رجال النجاشي، ص261، مؤسسة النشر الاسلامي ـ قم.

اور شيخ طوسی نے انھیں بزرگ شیعہ فقیہ اور ثقہ قرار دیا ہے:

كان فقيها، جليلا، ثقة.

وہ فقیہ، جلیل القدر، ثقہ تھے۔

الطوسي، محمد بن الحسن، الفهرست، ص157، مؤسسة نشر الفقاهة؛ الخوئي، السيد أبو القاسم، معجم رجال الحديث، ج12، ص397ـ 398.

ب) محمد ابن الحسن ابن فروخ الصفار:

نجاشی نے کہا ہے: قم کے شیعہ علماء میں صاحب قدر و منزلت، مورد اعتماد، دوسرے علماء سے بہتر تھے اور انکی روایات میں سے بہت ہی کم الفاظ غائب ہوتے تھے۔

كان وجها في أصحابنا القميين، ثقة، عظيم القدر، راجحا، قليل السقط في الرواية.

رجال النجاشي، ص354

ج) سعد ابن عبد الله الأشعری:

نجاشی نے انکو بزرگ عالم، فقیہ اور مشہور شیعہ کہا ہے:

شيخ هذه الطائفة وفقيهها ووجهها....

رجال النجاشي، ص177

شيخ طوسی نے بھی اسے گرانقدر اور قابل اعتماد کہا ہے۔

جليل القدر، ثقة.

الفهرست، ص135

د) محمد ابن الحسين ابی الخطاب:

نجاشی نے کہا ہے: یہ شیعہ علماء میں بہت با عظمت اور جلیل القدر ہیں، اس عالم نے بہت سی روایات نقل کی ہیں اور قابل اعتماد ہیں، انکی تالیفات بھی اچھی ہیں:

جليل من أصحابنا، عظيم القدر، كثير الرواية، ثقة، عين، حسن التصانيف، مسكون إلي روايته...

رجال النجاشي، ص334.

اور شيخ طوسی نے انکو «كوفي ثقه» کے عنوان سے یاد کیا ہے:

كوفي، ثقة.

رجال الطوسي، ص379

هـ) حسن ابن محبوب:

شيخ طوسی نے کہا ہے وہ اہل کوفہ اور مورد اعتماد ہے، وہ بہت جلیل القدر اور اپنے زمانے کے چار ارکان میں سے ایک تھا:

كوفي، ثقة. وكان جليل القدر، يعد في الأركان الأربعة في عصره.

الفهرست، ص96

و) داود ابن الحصين:

داود بن حصين الأسدي: مولاهم، كوفي، ثقة.

رجال النجاشي ، ص 159

ز) ابو بصير اسدی:

یہ اصحاب اجماع میں سے ہے کہ شیعہ علماء کا اتفاق ہے کہ جس روایت کی بھی سند اس عالم تک پہنچتی ہو، وہ روایت صحیح ہوتی ہے۔

نجاشی نے اسکے بارے میں لکھا ہے:

يحيي بن القاسم، أبو بصير الأسدي، وقيل أبو محمد: ثقة، وجيه...

يحيی ابن قاسم، ابو بصير اسدی اور ابو محمد نے کہا ہے:

وہ مورد اعتماد، اپنی قوم کا بزرگ اور صاحب قدر و منزلت تھا۔

رجال النجاشي، ص441

نتيجہ:

اس روايت کی سند صحيح (معتبر) ہے۔

مذکورہ بالا روايت جابر ابن عبد الله انصاری کے ذریعے سے بھی نقل ہوئی ہے:

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْرُورٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَامِرٍ عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ الْمُفَضَّلِ بْنِ صَالِحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ الْجُعْفِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلي الله عليه وآله الْمَهْدِيُّ مِنْ وُلْدِي اسْمُهُ اسْمِي وَ كُنْيَتُهُ كُنْيَتِي أَشْبَهُ النَّاسِ بِي خَلْقاً وَ خُلْقاً تَكُونُ بِهِ غَيْبَةٌ وَ حَيْرَةٌ تَضِلُّ فِيهَا الْأُمَمُ ثُمَّ يُقْبِلُ كَالشِّهَابِ الثَّاقِبِ يَمْلَؤُهَا عَدْلًا وَ قِسْطاً كَمَا مُلِئَتْ جَوْراً وَ ظُلْماً.

جابر ابن عبد اللَّه انصاری نے رسول خدا (ص) سے روايت نقل کی ہے کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا: مہدی میرے بیٹوں میں سے ہے، وہ میرا ہمنام اور ہم کنیت ہے، وہ صورت و سیرت کے لحاظ سے سب سے زیادہ میرے مشابہ ہے، اسکے لیے ایسی غیبت کہ لوگ حیران و پریشان ہو کر اپنے دین سے منہ موڑ لیں گے، پھر اسی وقت وہ اثر کرنے والے ستارے کی مانند آئے گے اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، جیسا کہ زمین ظلم و ستم سے بھر چکی ہو گی۔

كمال الدين و تمام النعمة، ج 1، ص286، ح1

2. روايت رسول خدا (ص): يَا رَسُولَ اللَّهِ وَ لِلْقَائِمِ مِنْ وُلْدِكَ غَيْبَةٌ قَالَ إِي وَ رَبِّي،

ایک دوسری روایت میں بھی رسول خدا (ص) نے امام زمان (عج) کی غیبت کے بارے میں خبر دی ہے اور اس بات کو مؤمنین کے لیے ایک آزمائش اور ان حضرت کے غائب ہونے کو اسرار الہی میں سے شمار کیا ہے:

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَي بْنِ الْمُتَوَكِّلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْكُوفِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبَرْمَكِيُّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْفُرَاتِ عَنْ ثَابِتِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص إِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ع إِمَامُ أُمَّتِي وَ خَلِيفَتِي عَلَيْهَا مِنْ بَعْدِي وَ مِنْ وُلْدِهِ الْقَائِمُ الْمُنْتَظَرُ الَّذِي يَمْلَأُ اللَّهُ بِهِ الْأَرْضَ عَدْلًا وَ قِسْطاً كَمَا مُلِئَتْ جَوْراً وَ ظُلْماً وَ الَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ بَشِيراً إِنَّ الثَّابِتِينَ عَلَي الْقَوْلِ بِهِ فِي زَمَانِ غَيْبَتِهِ لَأَعَزُّ مِنَ الْكِبْرِيتِ الْأَحْمَرِ فَقَامَ إِلَيْهِ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَ لِلْقَائِمِ مِنْ وُلْدِكَ غَيْبَةٌ قَالَ إِي وَ رَبِّي وَ لِيُمَحِّصَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَ يَمْحَقَ الْكافِرِينَ يَا جَابِرُ إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ أَمْرٌ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ وَ سِرٌّ مِنْ سِرِّ اللَّهِ مَطْوِيٌّ عَنْ عِبَادِ اللَّهِ فَإِيَّاكَ وَ الشَّكَّ فِيهِ فَإِنَّ الشَّكَّ فِي أَمْرِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ كُفْرٌ

ابن عبّاس نے رسول خدا (ص) سے روايت نقل کی ہے کہ فرمایا: علی ابن ابی طالب میرے بعد اس امت کے امام اور خلیفہ ہیں، اور وہ قائم منتظر ہیں کہ جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے جیسا کہ وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہو گی، اور خدا کی قسم جو لوگ اسکی غیبت کے زمانے میں اس پر اپنے ایمان میں ثابت قدم رہیں تو ایسے لوگ بہت ہی کمیاب چیز کی مانند ہیں، پھر جابر انصاری اٹھ کر آگے آئے اور رسول خدا سے کہا: کیا آپکے بیٹے قائم کے لیے غیبت بھی ہو گی ؟ فرمایا: خدا کی قسم ہاں ایسا ہی ہے تا کہ اس غیبت میں مؤمنین کی آزمائش ہو اور کافرین نابود ہو جائیں، اے جابر ! یہ امور الہی میں سے ایک امر اور اسرار الہی میں سے ایک سرّ ہے کہ جو بندگان سے مخفی ہے، خبر دار اس امر میں شک نہ کرنا کہ جو بھی امر خداوندی میں شک کرتا ہے، وہ کافر ہو جاتا ہے۔

كمال الدين و تمام النعمة، ج 1، ص: 288، ح7

3. روايت امير المؤمنین (ع): لِلْقَائِمِ مِنَّا غَيْبَةٌ أَمَدُهَا طَوِيلٌ:

امير المؤمنین علی (ع) نے بھی واضح کہا ہے کہ حضرت مہدی (ع) کی غیبت طولانی ہو گی، شیخ صدوق نے ان حضرت سے روایت اس متن کے ساتھ نقل کی ہے:

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الشَّيْبَانِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْكُوفِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ زِيَادٍ الْآدَمِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَظِيمِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَسَنِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ مُوسَي بْنِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عليه السلام عَنْ أَبِيهِ عَنْ آبَائِهِ عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام قَالَ لِلْقَائِمِ مِنَّا غَيْبَةٌ أَمَدُهَا طَوِيلٌ كَأَنِّي بِالشِّيعَةِ يَجُولُونَ جَوَلَانَ النَّعَمِ فِي غَيْبَتِهِ يَطْلُبُونَ الْمَرْعَي فَلَا يَجِدُونَهُ أَلَا فَمَنْ ثَبَتَ مِنْهُمْ عَلَي دِينِهِ وَ لَمْ يَقْسُ قَلْبُهُ لِطُولِ أَمَدِ غَيْبَةِ إِمَامِهِ فَهُوَ مَعِي فِي دَرَجَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُمَّ قَالَ عليه السلام إِنَّ الْقَائِمَ مِنَّا إِذَا قَامَ لَمْ يَكُنْ لِأَحَدٍ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ فَلِذَلِكَ تَخْفَي وِلَادَتُهُ وَ يَغِيبُ شَخْصُه.

عبد العظيم ابن عبد اللَّه حسنی نے امام جواد سے روايت نقل کی ہے کہ امیر المؤمنین علی نے فرمایا ہے کہ: ہمارے قائم کے لیے طولانی غیبت ہو گی، گویا میں شیعیان کو دیکھ رہا ہوں کہ اسکی غیبت کے دوران حیوانات کی طرح سرگردان چراگاہ کی تلاش میں ہوں گے لیکن چراگاہ کو تلاش نہیں کر سکیں گے، آگاہ ہو جاؤ جو بھی اس دوران اپنے دین پر ثابت قدم رہے گا اور اپنے امام کی غیبت کے طولانی ہونے پر اسکا دل مایوس نہیں ہو گا تو ایسا شخص روز قیامت میرے ساتھ میرے درجے پر فائز ہو گا، پھر فرمایا: بے شک ہمارے قائم جب قیام کریں گے تو انکی گردن میں کسی کی کوئی بیعت نہیں ہو گی، اسی وجہ سے انکی ولادت مخفی ہوئی ہے اور وہ نظروں سے بھی غائب ہیں۔

كمال الدين و تمام النعمة، ج 1، ص 303، ح14

4. روايت امام حسين (ع) : لَهُ غَيْبَةٌ يَرْتَدُّ فِيهَا أَقْوَامٌ وَ يَثْبُتُ فِيهَا عَلَي الدِّينِ آخَرُونَ:

امام حسين (ع) سے بھی امیر المؤمنین علی (ع) سے حضرت مہدی (ع) کی غیبت کے بارے میں، ملتی جلتی روایت نقل ہوئی ہے کہ جس غیبت میں بعض شک و تردید کا شکار ہو جائیں گے اور بعض اپنے ایمان پر ثابت قدم رہیں گے:

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ جَعْفَرٍ الْهَمَدَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ هَاشِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ صَالِحٍ الْهَرَوِيِّ قَالَ أَخْبَرَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَلِيطٍ قَالَ قَالَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عليه السلام مِنَّا اثْنَا عَشَرَ مَهْدِيّاً أَوَّلُهُمْ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَ آخِرُهُمُ التَّاسِعُ مِنْ وُلْدِي وَ هُوَ الْإِمَامُ الْقَائِمُ بِالْحَقِّ يُحْيِي اللَّهُ بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها وَ يُظْهِرُ بِهِ دِيْنَ الْحَقِّ عَلَي الدِّينِ كُلِّهِ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ لَهُ غَيْبَةٌ يَرْتَدُّ فِيهَا أَقْوَامٌ وَ يَثْبُتُ فِيهَا عَلَي الدِّينِ آخَرُونَ فَيُؤْذَوْنَ وَ يُقَالُ لَهُمْ مَتي هذَا الْوَعْدُ إِنْ كُنْتُمْ صادِقِينَ أَمَا إِنَّ الصَّابِرَ فِي غَيْبَتِهِ عَلَي الْأَذَي وَ التَّكْذِيبِ بِمَنْزِلَةِ الْمُجَاهِدِ بِالسَّيْفِ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ.

عبد الرحمن ابن سليط کہتا ہے کہ حسين ابن علی ابن ابی طالب عليهما السّلام نے فرمایا: ہمارے 12 مہدی ہیں، ان میں سے پہلے امير المؤمنين علی ابن ابی طالب ہیں اور آخری میرا بیٹا ہے، وہی امام ہے جو حق کے ساتھ قیام کرے گا کہ خداوند اسکے وسیلے سے مردہ زمین کو دوبارہ زندہ کرے گا اور دین کو ظاہر کر کے تمام ادیان پر غالب کر دے گا اگرچہ مشرکین کو یہ بات اچھی نہیں لگتی۔ اسکے لیے طولانی غیبت ہو گی کہ بعض اس وجہ سے اپنے دین سے خارج ہو جائیں گے اور بعض اپنے دین پر ثابت قدم رہیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ وعدہ کب پورا ہو گا، آگاہ ہو جاؤ کہ ان حضرت کی غیبت میں اذیت و آزار پر صبر کرنے والے اس مجاہد کی مانند ہو گا کہ جو رسول خدا کے لشکر میں جہاد کرنے والوں میں سے ہو گا۔

كمال الدين و تمام النعمة، ج 1، ص 317، ح3

5. روايت امام سجاد (ع) : فِي الْقَائِمِ مِنَّا سُنَنٌ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ:

امام سجاد (ع) فرماتے ہیں کہ حضرت مہدی (ع) میں انبیاء کی سنتیں پائی جاتی ہیں، سنت حضرت موسی (ع)، غیبت و خوف ہے کہ جو حضرت مہدی (ع) میں بھی پایا جاتا ہے:

حَدَّثَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُوسَي بْنِ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَي بْنِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عليه السلام قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ هَمَّامٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّوْفَلِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ هِلَالٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عِيسَي الْكِلَابِيِّ عَنْ خَالِدِ بْنِ نَجِيحٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ حُمْرَانَ عَنْ أَبِيهِ حُمْرَانَ بْنِ أَعْيَنَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ سَيِّدَ الْعَابِدِينَ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ عليه السلام يَقُولُ فِي الْقَائِمِ مِنَّا سُنَنٌ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ سُنَّةٌ مِنْ أَبِينَا آدَمَ عليه السلام وَ سُنَّةٌ مِنْ نُوحٍ وَ سُنَّةٌ مِنْ إِبْرَاهِيمَ وَ سُنَّةٌ مِنْ مُوسَي وَ سُنَّةٌ مِنْ عِيسَي وَ سُنَّةٌ مِنْ أَيُّوبَ وَ سُنَّةٌ مِنْ مُحَمَّدٍ صلي الله عليه وآله فَأَمَّا مِنْ آدَمَ وَ نُوحٍ فَطُولُ الْعُمُرِ وَ أَمَّا مِنْ إِبْرَاهِيمَ فَخَفَاءُ الْوِلَادَةِ وَ اعْتِزَالُ النَّاسِ وَ أَمَّا مِنْ مُوسَي فَالْخَوْفُ وَ الْغَيْبَةُ وَ أَمَّا مِنْ عِيسَي فَاخْتِلَافُ النَّاسِ فِيهِ وَ أَمَّا مِنْ أَيُّوبَ فَالْفَرَجُ بَعْدَ الْبَلْوَي وَ أَمَّا مِنْ مُحَمَّدٍ صلي الله عليه وآله فَالْخُرُوجُ بِالسَّيْف.

سعيد ابن جبير کہتا ہے کہ میں نے امام سجاد کو فرماتے ہوئے سنا کہ قائم میں سات انبیاء کی سنتیں پائی جاتی ہیں، سنت حضرت آدم، سنت حضرت موسی، سنت حضرت نوح، سنت حضرت ابراہیم، سنت حضرت عیسی، سنت حضرت ایوب اور سنت حضرت محمد (ص)، سنت آدم و نوح طول عمر ہے، سنت ابراہیم ولادت کا مخفی ہونا اور لوگوں سے دوری اختیار کرنا ہے، سنت موسی خوف و غیبت ہے، سنت عیسی لوگوں کا انکے بارے میں اختلاف رائے ہونا ہے، سنت ایوب مشکل کے بعد آسانی کا میسر آنا ہے اور سنت حضرت محمد (ص) شمشیر کے ساتھ قیام کرنا ہے۔

كمال الدين و تمام النعمة، ج 1، ص 322، ح3

6. روايت امام باقر (ع) : وَ أَمَّا شَبَهُهُ مِنْ مُوسَي (ع) فَدَوَامُ خَوْفِهِ وَ طُولُ غَيْبَتِهِ:

امام باقر (ع) نے بھی انبیائے الہی کی شباہت کا ذکر کیا ہے، جیسے حضرت مہدی (ع) کی شباہت، حضرت موسی (ع) کے ساتھ انکی غیبت کا طولانی ہونا ہے۔ شیخ صدوق کی نقل کردہ روایت کا متن ایسے ہے:

وَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِصَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْكُلَيْنِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْعَلَاءِ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيٍّ الْقَزْوِينِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ الْحَنَّاطِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الثَّقَفِيِّ الطَّحَّانِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَي أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْبَاقِرِ عليه السلام وَ أَنَا أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَهُ عَنِ الْقَائِمِ مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ صلي الله عليه وآله فَقَالَ لِي مُبْتَدِئاً يَا مُحَمَّدَ بْنَ مُسْلِمٍ إِنَّ فِي الْقَائِمِ مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ صلي الله عليه وآله شَبَهاً مِنْ خَمْسَةٍ مِنَ الرُّسُلِ يُونُسَ بْنِ مَتَّي وَ يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ وَ مُوسَي وَ عِيسَي وَ مُحَمَّدٍ صلي الله عليه وآله فَأَمَّا شَبَهُهُ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّي فَرُجُوعُهُ مِنْ غَيْبَتِهِ وَ هُوَ شَابٌّ بَعْدَ كِبَرِ السِّنِّ وَ أَمَّا شَبَهُهُ مِنْ يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ عليه السلام فَالْغَيْبَةُ مِنْ خَاصَّتِهِ وَ عَامَّتِهِ وَ اخْتِفَاؤُهُ مِنْ إِخْوَتِهِ وَ إِشْكَالُ أَمْرِهِ عَلَي أَبِيهِ يَعْقُوبَ عليه السلام مَعَ قُرْبِ الْمَسَافَةِ بَيْنَهُ وَ بَيْنَ أَبِيهِ وَ أَهْلِهِ وَ شِيعَتِهِ وَ أَمَّا شَبَهُهُ مِنْ مُوسَي عليه السلام فَدَوَامُ خَوْفِهِ وَ طُولُ غَيْبَتِهِ وَ خَفَاءُ وِلَادَتِهِ وَ تَعَبُ شِيعَتِهِ مِنْ بَعْدِهِ مِمَّا لَقُوا مِنَ الْأَذَي وَ الْهَوَانِ إِلَي أَنْ أَذِنَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ فِي ظُهُورِهِ وَ نَصْرِهِ وَ أَيَّدَهُ عَلَي عَدُوِّهِ ...

محمد ابن مسلم ثقفی طحان کہتا ہے کہ میں امام باقر کی خدمت میں حاضر ہوا، میرا قصد تھا کہ ان سے قائم آل محمد کے بارے میں سوال کروں، میرے سوال کرنے سے پہلے ہی امام نے مجھ سے فرمایا: اے محمد ابن مسلم بے شک قائم آل محمد میں پانچ انبیاء کی روش و طریقہ پایا جاتا ہے، يونس ابن متی، يوسف ابن يعقوب ، موسی ، عيسی اور حضرت محمد صلوات اللَّه عليہم، یونس ابن متی کی روش یہ ہے کہ جب وہ اپنی غیبت کے بعد واپس پلٹے تو وہ زیادہ عمر گزرنے کے باوجود بھی جوان تھے، یوسف ابن یعقوب کی روش یہ ہے کہ وہ خاص و عام سے غائب ہیں اور اپنے بھائیوں سے مخفی ہیں اور اسکا امر اسکے والد یعقوب سے پوشیدہ ہے حالانکہ اسکے اور اسکے والد، خاندان اور پیروکاروں کا فاصلہ آپس میں بہت ہی کم تھا، موسی کی روش ہمیشہ خوف، طولانی غیبت، ولادت کا مخفی ہونا اور انکے بعد انکے تابعین کا اذیت و آزار کی حالت میں رہنا ہے، یہاں تک کہ خداوند انکو ظہور کی اجازت دیں اور انکی مدد کر کے دشمنوں پر غالب کریں۔۔۔۔۔۔۔

كمال الدين و تمام النعمة، ج 1، ص: 328، ح7

7. روايت امام صادق (ع) : أَمَا وَ اللَّهِ لَيَغِيبَنَّ إِمَامُكُمْ سِنِيناً مِنْ دَهْرِكُمْ:

امام صادق (ع) نے ایک روایت میں ان حضرت کی طولانی غیبت کی خبر دی ہے اور اس غیبت کو آخر الزمان کے لوگوں کے لیے امتحان و آزمائش قرار دیا ہے:

حَدَّثَنَا أَبِي وَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالا حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْحِمْيَرِيُّ وَ أَحْمَدُ بْنُ إِدْرِيسَ جَمِيعاً قَالُوا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَي وَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْخَطَّابِ وَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ وَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ الْأَشْعَرِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نَجْرَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَاوِرِ عَنِ الْمُفَضَّلِ بْنِ عُمَرَ الْجُعْفِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِيَّاكُمْ وَ التَّنْوِيهَ أَمَا وَ اللَّهِ لَيَغِيبَنَّ إِمَامُكُمْ سِنِيناً مِنْ دَهْرِكُمْ وَ لَتُمَحَّصُنَّحَتَّي يُقَالَ مَاتَ أَوْ هَلَكَ بِأَيِّ وَادٍ سَلَكَ وَ لَتَدْمَعَنَّ عَلَيْهِ عُيُونُ الْمُؤْمِنِينَ وَ لَتُكْفَؤُنَّ كَمَا تُكْفَأُ السُّفُنُ فِي أَمْوَاجِ الْبَحْرِ وَ لَا يَنْجُو إِلَّا مَنْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَهُ وَ كَتَبَ فِي قَلْبِهِ الْإِيمَانَ وَ أَيَّدَهُ بِرُوحٍ مِنْهُ وَ لَتُرْفَعَنَّ اثْنَتَا عَشْرَةَ رَايَةً مُشْتَبِهَةً لَا يُدْرَي أَيٌّ مِنْ أَيٍّ قَالَ فَبَكَيْتُ فَقَالَ لِي مَا يُبْكِيكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ فَقُلْتُ وَ كَيْفَ لَا أَبْكِي وَ أَنْتَ تَقُولُ اثْنَتَا عَشْرَةَ رَايَةً مُشْتَبِهَةً لَا يُدْرَي أَيٌّ مِنْ أَيٍّ فَكَيْفَ نَصْنَعُ قَالَ فَنَظَرَ إِلَي شَمْسٍ دَاخِلَةٍ فِي الصُّفَّةِ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ تَرَي هَذِهِ الشَّمْسَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ وَ اللَّهِ لَأَمْرُنَا أَبْيَنُ مِنْ هَذِهِ الشَّمْس.

مفضل ابن عمر جعفی کہتا ہے میں نے امام صادق کو فرماتے ہوئے سنا کہ ثنویہ ( قائلین یزدان و اھریمن) سے بچ کر رہنا، خدا کی قسم تمہارے امام اپنی زندگی کا کچھ حصہ تم سے غائب ہوں گے تا کہ تمہاری آزمائش ہو سکے، یہاں تک کہ لوگ کہیں گے کہ وہ امام مر گیا ہے یا نابود ہو گیا ہے، مؤمنین کی آنکھیں ان پر بہت اشک بہائیں گی اور دریا کی موجوں کی طرح تم بھی درہم برہم ہو گے، اس حالت میں کوئی بھی نجات نہیں پائے گا مگر وہ لوگ کہ جن سے خداوند نے ولایت کا امتحان لیا ہو گا، انکے دل میں ایمان کو راسخ کیا ہو گا اور روح کے ذریعے سے انکی تائید کی ہے۔ 12 پرچم غلط فہمی میں مبتلا کرنے والے بلند ہوں اور یہ بھی معلوم نہیں ہو گا کہ کس کا کونسا پرچم ہے ؟ مفضل کہتا ہے میں نے یہ سن کر گریہ کرنا شروع کیا تو امام صادق نے مجھ سے فرمایا کیوں رو رہے ہو ؟ میں نے عرض کی میں کیوں نہ گریہ کروں حالانکہ آپ نے فرمایا ہے کہ 12 پرچم غلط فہمی میں مبتلا کرنے والے بلند ہوں اور یہ بھی معلوم نہیں ہو گا کہ کس کا کونسا پرچم ہے ؟ اس صورتحال میں ہم کیا کریں ؟ یہ سن کر امام نے سورج کی طرف دیکھا اور فرمایا: اے مفضل اس سورج کو دیکھ رہے ہو ؟ میں نے کہا: ہاں، فرمایا: ہماری امامت و ولایت اس سورج سے بھی زیادہ نورانی اور واضح تر ہے۔

كمال الدين و تمام النعمة، ج 2، ص 347، ح35

8. روايت امام كاظم (ع): يَغِيبُ عَنْ أَبْصَارِ النَّاسِ شَخْصُهُ وَلَا يَغِيبُ عَنْ قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ (با سند صحيح):

امام موسی ابن جعفر (ع) نے «نعمت باطني» کو آيہ «وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظاهِرَةً وَباطِنَةً» میں، امام زمان (عج) کہا ہے کہ جو نظروں سے غائب ہے نہ مؤمنین کے دلوں سے، مرحوم شيخ صدوق نے اس روايت کو سند صحيح کے ساتھ ایسے نقل کیا ہے:

- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ جَعْفَرٍ الْهَمَدَانِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ هَاشِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي أَحْمَدَ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْأَزْدِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ سَيِّدِي مُوسَي بْنَ جَعْفَرٍ عليه السلام عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَ «وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظاهِرَةً وَباطِنَةً» (لقمان/20) فَقَالَ عليه السلام:

النِّعْمَةُ الظَّاهِرَةُ الْإِمَامُ الظَّاهِرُ وَالْبَاطِنَةُ الْإِمَامُ الْغَائِبُ فَقُلْتُ لَهُ وَيَكُونُ فِي الْأَئِمَّةِ مَنْ يَغِيبُ قَالَ نَعَمْ يَغِيبُ عَنْ أَبْصَارِ النَّاسِ شَخْصُهُ وَلَا يَغِيبُ عَنْ قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ ذِكْرُهُ وَهُوَ الثَّانِي عَشَرَ مِنَّا يُسَهِّلُ اللَّهُ لَهُ كُلَّ عَسِيرٍ وَيُذَلِّلُ لَهُ كُلَّ صَعْبٍ وَيُظْهِرُ لَهُ كُنُوزَ الْأَرْضِ وَيُقَرِّبُ لَهُ كُلَّ بَعِيدٍ وَيُبِيرُ بِهِ كُلَّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ وَيُهْلِكُ عَلَي يَدِهِ كُلَّ شَيْطَانٍ مَرِيدٍ ذَلِكَ ابْنُ سَيِّدَةِ الْإِمَاءِ الَّذِي تَخْفَي عَلَي النَّاسِ وِلَادَتُهُ وَلَا يَحِلُّ لَهُمْ تَسْمِيَتُهُ حَتَّي يُظْهِرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيَمْلَأَ الْأَرْضَ قِسْطاً وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْراً وَظُلْماً.

محمّد ابن زياد أزديّ کہتا ہے میں نے اپنے سید و سردار حضرت موسی ابن جعفر سے اس آیت کی تفسیر کا پوچھا: خداوند نے اپنی فراوان ظاہری و پنہانی نعمتوں کو تم پر نازل کیا ہے، فرمایا: ظاہری نعمت، ظاہری امام اور باطنی نعمت، غائب امام ہے، محمد ابن زیاد نے کہا: کیا آئمہ میں سے کوئی ایسا ہے کہ غائب ہو ؟ فرمایا: ہاں، اسکا ظاہری جسم لوگوں کی آنکھوں سے غائب ہے، لیکن انکی یاد مؤمنین کے دلوں میں ہمیشہ زندہ ہے اور وہ ہمارے بارویں امام ہیں۔ خداوند اسکے لیے ہر مشکل کو آسان اور ہر دشواری کو ملائم کر دے گا، اور زمین کے خزانوں کو اسکے لیے ظاہر کرے گا اور ہر دور کو اسکے لیے نزدیک کرے گا اور اسکے ذریعے سے ہر جابر ظالم کو نابود کرے گا اور سرکش منہ توڑ شیطان کو ہلاک کرے گا۔ وہ کنیزوں کی سردار کا بیٹا ہے کہ اسکی ولادت لوگوں سے مخفی اور اسکا نام لینا ان پر جائز نہیں ہے، یہاں تک کہ خداوند اسکو ظاہر کرے گا اور زمین کو ایسے عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے کہ وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہو گی۔

كمال الدين وتمام النعمة، ص368 

9. روايت امام رضا (ع): ذَاكَ الرَّابِعُ مِنْ وُلْدِي يُغَيِّبُهُ اللَّهُ فِي سِتْرِهِ (با سند صحيح):

امام رضا (ع) نے ريان ابن صلت سے فرمایا: صاحب الامر میرے بیٹوں میں سے چوتھا ہے کہ خداوند نے اسے پردہ غیبت میں قرار دیا ہوا ہے:

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ جَعْفَرٍ الْهَمَدَانِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الرَّيَّانِ بْنِ الصَّلْتِ قَالَ: قُلْتُ لِلرِّضَا عليه السلام: أَنْتَ صَاحِبُ هَذَا الْأَمْرِ؟

فَقَالَ أَنَا صَاحِبُ هَذَا الْأَمْرِ وَ لَكِنِّي لَسْتُ بِالَّذِي أَمْلَؤُهَا عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْراً وَكَيْفَ أَكُونُ ذَلِكَ عَلَي مَا تَرَي مِنْ ضَعْفِ بَدَنِي وَإِنَّ الْقَائِمَ هُوَ الَّذِي إِذَا خَرَجَ كَانَ فِي سِنِّ الشُّيُوخِ وَمَنْظَرِ الشُّبَّانِ قَوِيّاً فِي بَدَنِهِ حَتَّي لَوْ مَدَّ يَدَهُ إِلَي أَعْظَمِ شَجَرَةٍ عَلَي وَجْهِ الْأَرْضِ لَقَلَعَهَا وَلَوْ صَاحَ بَيْنَ الْجِبَالِ لَتَدَكْدَكَتْ صُخُورُهَا يَكُونُ مَعَهُ عَصَا مُوسَي وَخَاتَمُ سُلَيْمَانَ عليه السلام ذَاكَ الرَّابِعُ مِنْ وُلْدِي يُغَيِّبُهُ اللَّهُ فِي سِتْرِهِ مَا شَاءَ ثُمَّ يُظْهِرُهُ فَيَمْلَأُ بِهِ الْأَرْضَ قِسْطاً وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْراً وَظُلْماً.

ريان ابن صلت کہتا ہے کہ میں نے امام رضا (ع) سے عرض کیا کیا آپ صاحب الامر ہیں ؟ امام نے فرمایا: میں بھی صاحب الامر ہوں لیکن وہ صاحب الامر نہیں ہوں کہ جو زمین کو عدل سے بھر دے گا جیسا کہ ظلم سے بھری ہو گی اور میں کیسے وہ ہو سکتا ہوں حالانکہ تم دیکھ رہے ہو کہ میرا بدن ضعیف ہو چکا ہے جبکہ قائم وہ ہے کہ جب ظہور فرمائے گا تو عمر زیادہ لیکن جوان ہو گا کہ جو طاقتور بھی ہو گا اسطرح کہ اگر زمین کے سب سے بڑے درخت کو بھی ہاتھ لگائے گا تو اسکو جڑ سے اکھاڑ دے گا اور اگر پہاڑوں کے درمیان کھڑا ہو کر نعرہ لگائے تو پہاڑوں سے پتھر ٹوٹ جائیں گے، اسکے پاس موسی کی عصا اور سلیمان کی انگوٹھی ہو گی، وہ میرا چھوتھا بیٹا ہے، خداوند نے اسے اپنے پردے کے پیچھے قرار دیا ہوا ہے، جب چاہے گا اسے ظاہر کرے گا تا کہ وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے جیسا کہ وہ ظلم و ستم سے بھر چکی ہو گی۔

الصدوق، ابوجعفر محمد بن علي بن الحسين (متوفي381هـ)، كمال الدين و تمام النعمة، ص 376، تحقيق: علي اكبر الغفاري، 10. روايت امام عسكري (ع) : أَمَا إِنَّ لِوَلَدِي غَيْبَةً يَرْتَابُ فِيهَا النَّاسُ إِلَّا مَنْ عَصَمَهُ اللَّه:

امام عسكری (ع) نے بھی اپنے بیٹے امام زمان (عج) کے موجود ہونے اور اسکی طولانی غیبت کے بارے میں خبر دی ہے:

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَي الْعَطَّارُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَي بْنُ جَعْفَرِ بْنِ وَهْبٍ الْبَغْدَادِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مُحَمَّدٍ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عليه السلام يَقُولُ كَأَنِّي بِكُمْ وَ قَدِ اخْتَلَفْتُمْ بَعْدِي فِي الْخَلَفِ مِنِّي أَمَا إِنَّ الْمُقِرَّ بِالْأَئِمَّةِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ ص الْمُنْكِرَ لِوَلَدِي كَمَنْ أَقَرَّ بِجَمِيعِ أَنْبِيَاءِ اللَّهِ وَ رُسُلِهِ ثُمَّ أَنْكَرَ نُبُوَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صلي الله عليه وآله وَ الْمُنْكِرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلي الله عليه وآله كَمَنْ أَنْكَرَ جَمِيعَ أَنْبِيَاءِ اللَّهِ لِأَنَّ طَاعَةَ آخِرِنَا كَطَاعَةِ أَوَّلِنَا وَ الْمُنْكِرَ لِآخِرِنَا كَالْمُنْكِرِ لِأَوَّلِنَا أَمَا إِنَّ لِوَلَدِي غَيْبَةً يَرْتَابُ فِيهَا النَّاسُ إِلَّا مَنْ عَصَمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَل.

موسی ابن جعفر ابن وهب بغدادی کہتا ہے کہ میں نے امام حسن عسكری (ع) سے سنا کہ: گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ میرے بعد میرے جانشین کے بارے میں اختلاف کرو گے۔ آگاہ ہو جاؤ کہ جو بھی رسول خدا کے بعد آئمہ کا اقرار و اعتراف کرے اور میرے بیٹے کی امامت کا انکار کرے تو وہ ایسے ہی ہو گا کہ جس نے تمام انبیاء و رسولوں کا اعتراف کیا ہے لیکن رسول خدا کی نبوت کا منکر ہو گیا ہے اور منکر رسول خدا مانند منکر تمام انبیاء ہے،کیونکہ ہمارے آخری کی اطاعت ہمارے پہلے کی طرح لازم و ضروری ہے، جان لو کہ میرے بیٹے کے لیے ایسی غیبت ہو گی کہ جس میں لوگ شک و تردید میں پڑ جائیں گے مگر وہ لوگ کہ جنکو خود خداوند اس شک سے بچائے گا۔

كمال الدين و تمام النعمة، ج 2، ص 409

نتيجہ:

پہلی اور دوسری قسم میں مذکورہ صحیح و معتبر روایات کے مطابق تمام آئمہ (ع) نے امام زمان (عج) کے لیے غیبت صغری و کبری کے واقع ہونے کی خبر دی ہے اور قابل ذکر و قابل توجہ یہ نکتہ ہے کہ آئمہ (ع) نے اپنے شیعیان کو ان حضرت کی غیبت کے زمانے میں اپنے عقیدے پر ثابت قدم رہنے کی تاکید کی ہے اور حکم دیا ہے کہ اس دن کے انتظار میں رہیں کہ جب وہ اپنے نورانی جمال سے پردہ غیبت کو ہٹائیں گے اور یہ ظلمانی دنیا انکی برکت سے نورانی ہو جائے گی اور انکے حکم سے عدل و انصاف تمام زمین پر حاکم ہو جائے گا۔

التماس دعا۔۔۔۔۔

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی