2021 September 23
کیا شیعہ عورت کے لئے زمین سے وراثت کے قائل ہیں ؟
مندرجات: ٢٠١٤ تاریخ اشاعت: ١٤ July ٢٠٢١ - ٢٠:٢٥ مشاہدات: 391
یاداشتیں » پبلک
کیا شیعہ عورت کے لئے زمین سے وراثت کے قائل ہیں ؟

شیعہ فدک کی بات کیوں کرتے ہیں؟ جبکہ شیعہ فقہ میں عورت کو غیر منقولہ جائید سے ارث ہی نہیں ؟

   کیا شیعہ عورت کے لئے زمین سے وراثت کے قائل ہیں ؟

 

شبھہ  اہل تشیع کے ہاں عورت کو غیرمنقولہ ملکیت بطور وراثت نہیں ملتی۔ غیر منقولہ سے مراد ایسی ملکیت جو منتقل نہ کی جاسکے یعنی زمین, باغ, گھر وغیرہ۔ اصول کافی جو اہل تشیع کی اول درجہ کی کتاب ہے اس میں باقائدہ ایک مستقل باب ہے۔    { بَابُ أَنَّ النِّسَاءَ لَا يَرِثْنَ مِنَ الْعَقَارِ شَيْئا } اس باب میں ۱۱ احادیث اسی موضوع کے بارے میں موجود ہیں ۔ مذکورہ روایات میں سے بعض کی علامہ مجلسی نے مرآت العقول میں توثیق کی ہے۔

نتیجہ : شیعوں کے ہاں جب عورت کے لئے غیر منقولہ جائیداد کی وراثت ہی نہیں تو پھر شیعہ جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کے حق فدک کی بات نہیں کرسکتے کیونکہ جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا بھی تو ایک عورت ہیں۔

وضاحت طلب  مطالب ۔۔ اگر اس باب میں نساء سے مراد بیوی ہی ہو تو 

1  :   اس باب میں عورت سے مراد صرف بیوی ہونے اور اس کی تخصیص کسی شیعہ عالم سے ثابت کریں۔

2  دوسری بات وہ قرائن پیش کریں کہ اس باب کی تمام روایات میں عورت سے مراد بیوی ہے۔

3  شیخ کلینی کی عبارت پیش کریں کہ یہ باب بیوی کو غیر منقولہ ملکیت سے محروم کرنے کے لئے لکھا ہے۔

 اصول کافی میں اس باب کے اوپر یا نیچے کی فہرست میں کونسا باب زوجہ کے متعلق ہے؟ مزید یہ کہ اگر ایسا کوئی باب موجود بھی ہو تو یہ اس بات کی دلیل کیسے ہے کہ دوسرا باب بھی زوج کے متعلق ہی ہے؟

عورت عام ہے تو اس سے آپ نے صرف زوجہ کس دلیل سے لیا ہے? کسی شیعہ عالم کا قول ہی دکھادیں کہ یہ باب صرف زوجہ کے لئے ہے ۔

 اہل تشیع کتب اور ان کے علماء کا معیار کیا ہے! جو باتیں آج ایک بچہ بھی جانتا ہے ، ان بنیادی باتوں سے شیعہ مجتہدین یا تو لاعلم تھے یا جان بوجھ کر قرآن کے خلاف روایات کی توثیق کرتے رہے جبکہ خود نبی کریم اور اہل بیت سے بھی مروی ہے کہ قرآن کے خلاف روایت مسترد کردو ، لیکن شیعہ مجتہدین اور محدثین نے اس قول امام معصوم پر بھی عمل نہیں کیا اور ایسی بیشمار صحیح روایات شیعہ کتب میں بھری پڑی ہیں جو قرآن کے خلاف ہیں! اس کا مطلب یہ ہوا کہ اہل تشیع کی ضعیف روایات ہوں یا صحیح روایات، خود اہل تشیع بھی انہیں تسلیم نہیں کرتے! انا لللہ وانا الیہ راجعون۔

شیعہ اصول اربعہ کی اول نمبر کی کتاب اصول کافی کے مذکورہ باب سے چار روایات کی توثیق ہوئی ہے لہذا اہل تشیع کے ہاں عورت زمین کی وارث نہیں ہوتی۔اگر متفق نہیں ہیں تو مندرجہ ذیل نکات کلیئر کریں۔

1 کیا یہ چاروں روایات قرآن کے خلاف نہیں ہیں؟ اگر ہاں تو علامہ مجلسی کے علم و عقل پر روشنی ڈالیں۔ اگر خلاف قرآن نہیں ہیں تو وضاحت کریں کہ کس طرح نہیں ہیں۔

2 کیا اس باب کا نام أن النساء لا يرثن من العقار شيئاً نہیں ہے۔ بالفرض یہ باب صرف بیوی کے متعلق ہوتا تو پھر بھی اس میں دوسری روایات کا ہونا ممکن ہے لیکن یہاں تو یہ باب بیوی کے متعلق ہی نہیں ہے۔

  کلینی کی فہم فراست یہ ہے کہ بیوی کے متعلق تمام روایات شامل کر کے باب کا نام أن النساء لا يرثن من العقار شيئاً رکھ دیا۔ کمال کا نام رکھا ہے۔ صریح قرآن کے خلاف! کیا کلینی بھی میراث پر آیات قرآنی سے نابلد تھا۔

    علامہ مجلسی کی توثیق شدہ روایات خلاف قرآن ہیں! ۔۔ یہ اختلافی روایات ہرگز نہیں ہیں۔۔۔۔

سنی و شیعہ کے ہاں اختلافی روایات کے ہونے کا انکار نہیں ہے لیکن یہ روایات اس وقت اختلافی ہوں گی جب

1  کسی امام کا صحیح قول ہو کہ عورت غیر منقولہ جائیداد کی وارث ہے۔

2  کسی جیّد شیعہ عالم کی تصریح کہ یہ قول امام فلاں فلاں قرائن سے قبول نہیں اور عورت غیر منقولہ جائیداد کی وارث  ہے۔

 

اھل سنت کے شبھے کا علمی جواب :

مختصر جواب :

   یہ پورا باب بیوی (زوجہ) سے متعلق ہے ، یہاں  نساء سے مراد بیوی ہے ۔

 شیعوں کے ہاں غیر منقولہ جائیداد کی وراثت کا مسئلہ صرف زوجہ کی  ارث کے مسئلے میں مورد بحث  ہے، باقی ماں ،بہن اور بیٹی وغیرہ  کی ارث کے مسئلے میں یہ بحث  نہیں ہے  ۔لہذا  شیعہ فقہ اور روایات کے مطابق بیوی کو غیر منقولہ جائیداد سے ارث ملے یا نہ ملے لیکن بیٹی  کو  ضرور  غیر منقولہ جائیداد سے ارث ملے گی اور یہ تمام شیعہ فقہاء کا متفقہ مسئلہ ہے اور  یہ ائمہ اہل بیت  علیہم السلام کی  احادیث  کے مطابق بھی ہے ۔ اور حق حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے موضوع میں بحث ازواج کی وراثت اور حقوق میں نہیں ہے بلکہ  نبی کی بیٹی کی وراثت اور حقوق  میں ہے لہذا اس کو الزامی  سوال جواب کہنا ہی غیر علمی طریقہ ہے ۔ہر سوال کو الزامی سوال نہیں کہا جاسکتا ۔

تفصیلی جواب :

نساء اور  امراۃ کا معنی اردو  میں عورت کرتے ہیں ۔ یہ دونوں لغت کے اعتبار سے رجل  یعنی مرد کے مقابلے میں  عورت کے لئے استعمال ہوتے ہیں ۔ لیکن  قرآن میں یہ دونوں قرینے کے ساتھ بیوی کے لئے بھی استعمال ہوا ہے ۔

جیسے  :  { يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ مَنْ يَأْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ ۔۔۔۔۔۔۔} [الأحزاب: 30]

ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلاً لِّلَّذِينَ كَفَرُوا اِمْرَأَةَ نُوحٍ وَاِمْرَأَةَ لُوطٍ [سورہ تحریم ]

جیساکہ احادیث میں بھی خاص کر نساء  ، بیوی کے لئے استعمال ہوا ہے یہاں تک کہ بخاری نے باب کا عنوان ہی اس طرح رکھا ہے

صحيح البخارى ،کتاب فرض الخمس، باب نَفَقَةِ نِسَاءِ النَّبِىِّ - صلى الله عليه وسلم - بَعْدَ وَفَاتِهِ

لہذا لفظ " نساء"  اور "  اِمْرَأَة" کا بیوی  کے لئے استعمال ہونا،  قرآن ، احادیث اور فقہی کتابوں میں رائج استعمالات میں سے ہے۔ جیساکہ اصول کافی کی اسی مذکورہ باب میں  اور اس قسم کی دوسرے موضوعات میں نساء اور اِمْرَأَة  کا بیوی کے بھی استعمال ہونا  قابل انکار نہیں  ، خاص کر شیعہ فقہ اور احادیث کی کتابوں سے آگاہی رکھنے والے سے یہ بات پوشیدہ نہیں  یہ  شیعہ فقہ اور شیعہ احادیث کی وہ حقیقت کا جسکا انکار  وہی کرسکتا ہے کہ جو ان کتابوں سے نا آشنا ہو اور کسی اور کی باتوں کی تقلید میں کچھ شبھات رٹا ہوا ہو۔

لہذا مندرجہ بالا باب میں بھی  نساء سے مراد بیوی ہونا شیعہ فقہ کے مسلمات میں سے ہے شیعہ فقہ کے الف  ب سے ناواقف ہی کہہ سکتا ہے کہ شیعہ روایات کے مطابق  عورت کو جائداد کی وراثت نہیں  ہے  ،کسی بھی شیعہ عالم اور مجتہد نے اس کو بنیاد بنا کر بیٹی سمیت تمام عورتوں کو وراثت میں غیر منقولہ جائیدار نہ ملنے کا فتوا دینا تو دور کی بات ہے، کسی نے اس قسم کی بحث بھی نہیں چھیڑی ہے۔ لہذا یہ خود بہترین شاہد ، دلیل اور قرینہ ہے کہ شیعہ علماء نے مذکورہ باب اور اس میں موجود احادیث میں نساء اور امراۃ  سے مراد زوجہ ہی لیا ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو کم از کم  بیٹی ،ماں  وغیرہ کی وراثت کے مسئلے میں اس کو زیر بحث  لاتے  ۔

   حقیقت یہی ہے کہ جو چیز  شیعوں میں رائج ہے اور جس فقہ کے ساتھ شیعہ زندگی گزارتے ہیں اس کے مطابق جب کوئی مرتا ہے اور  وراث اگر بیٹے اور بیٹیاں ہوں تو اس کی وراثت    لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَيَيْنِ کےقرآنی  دستور کے مطابق تقسیم ہوتی ہے، چاہئے منقولہ جائیداد ہو یا غیر منقولہ جائیداد، شیعہ اسی  فقہ کے ساتھ زندگی گزارتے آئے ہیں۔  اگر کسی شیعہ بچے سے بھی پوچھے تو وہ یہی جواب دئے  گا ۔لہذا شیعہ تاریخ میں گزشتہ دور سے آج تک ایسا ایک نمونہ بھی نہیں دکھا سکتا کہ شیعوں کے ہاں بیٹی کو وراثت میں زمین اور غیر منقولہ جائیداد نہ دی ہو ۔

  یہ ہمارا چیلینچ ہے  :

 کسی ایک شیعہ عالم کا فتوا دکھا دئے جہاں کسی  شیعہ عالم   نے زوجہ کے علاوہ ، مثلا بیٹی ، ماں  نانی ،بہن ۔۔۔۔ وغیر  کی ارث میں  غیر منقولہ جائیدار سے ارث نہ ملنے کی بات  کی ہو ۔ شیعہ علماء کی ساری  فقہی کتابیں چک کریں اور یہ دکھائے  کہ کسی  ایک نے بھی غیر منقولہ جائیداد میں نساء سے   زوجہ  اور باقی عورتیں مراد لیا ہو ۔جبکہ ہم دیکھا سکتے ہیں کہ سب نے غیر منقولہ  جائیدار میں وراثت کے مسئلے کو  صرف بیوی کی وراثت کے موضوع میں بیان کیا ہے، بیٹی ، ماں ،بہن  وغیرہ  میں اس موضوع کو چھیڑا ہی نہیں  اور سارے شیعہ بیٹی وغیرہ کو پوری جائیداد سے ارث دینے کے قائل ہیں اور دیتے بھی ہیں ۔

اب ہم شیعہ علماء کی کتابوں سے ایک نمونہ پیش کرتے ہیں ؛

لمعۃ الدمشقیہ :{ شہید اول کی کتاب  اور  شہید ثانی کی  اس پر شرح کے ساتھ } یہ کتاب قدیم زمانے سے  سارے شیعہ مدارس  میں  فقہ کے موضوع پر جامع ترین اور رائج ترین کتاب ہے، سارے شیعہ علماء مقدمات کلیر کرنے کے بعد اس کتاب کو پڑھتے ہیں  ۔

لمعۃ الدمشقیہ کتاب میراث   میں صرف  زوجہ کی میراث میں انہوں  نے  غیر منقولہ جائیداد کی بحث کو بیان کیا ہے ۔اس  کے  علاوہ بیٹی ، ماں ۔، بہن ۔۔۔ وغیر کی بحث میں اس کو نہیں لایا ہے  ۔ایک مثال ؛

 ( وَلَهُمَا ) أَيْ الْأَبَوَيْنِ ( مَعَ الْبِنْتِ الْوَاحِدَةِ السُّدُسَانِ وَلَهَا النِّصْفُ وَالْبَاقِي ) وَهُوَ السُّدُسُ ( يُرَدُّ ) عَلَى الْأَبَوَيْنِ وَالْبِنْتِ ( أَخْمَاسًا ) عَلَى نِسْبَةِ الْفَرِيضَةِ / فَيَكُونُ جَمِيعُ التَّرِكَةِ بَيْنَهُمْ أَخْمَاسًا لِلْبِنْتِ ثَلَاثَةُ أَخْمَاسٍ. الروضة البهية - إمامية (5/ 21):

اگر وارث  والدین اور ایک بیٹی ہو تو  تمام ترکہ ان کے درمیان ہر ایک کے  شرعی مقدار میں معین حق کے حساب سے تقسیم ہوگا ۔یہاں منقولہ اور غیر منقولہ کی بحث ہی نہیں۔

  شہید  اپنی اسی کتاب میں  زوج اور زوجہ کی  میراث کے موضوع  میں  منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد  کی بحث کو بیان کرتے ہیں :

 ( الْقَوْلُ فِي مِيرَاثِ الْأَزْوَاجِ ) ( وَ ) الزَّوْجَانِ ( يَتَوَارَثَانِ ) وَيُصَاحِبَانِ جَمِيعَ الْوَرَثَةِ مَعَ خُلُوِّهِمَا / مِنْ الْمَوَانِعِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ( وَتُمْنَعُ الزَّوْجَةُ غَيْرُ ذَاتِ الْوَلَدِ مِنْ الْأَرْضِ ) مُطْلَقًا ( عَيْنًا وَقِيمَةً ) وَتُمْنَعُ ( مِنْ الْآلَاتِ ) أَيْ آلَاتِ الْبِنَاءِ مِنْ الْأَخْشَابِ وَالْأَبْوَابِ ( وَالْأَبْنِيَةِ ) مِنْ الْأَحْجَارِ وَالطُّوبِ وَغَيْرِهَا ( عَيْنًا لَا قِيمَةً ) فَيُقَوَّمُ الْبِنَاءُ وَالدُّورُ / فِي أَرْضِ الْمُتَوَفَّى خَالِيَةً عَنْ الْأَرْضِ بَاقِيَةً فِيهَا إلَى أَنْ تَفْنَى بِغَيْرِ عِوَضٍ عَلَى الْأَظْهَرِ ، وَتُعْطَى مِنْ الْقِيمَةِ الرُّبْعَ ، أَوْ الثُّمُنَ             . الروضة البهية - إمامية (5/ 63):

لہذا یہ شیعہ فقہاء کے درمیان کلیر بات ہے کہ  غیر منقولہ جائیدار میں وراثت  نہ ہونے کی بات صرف زوجہ سے متعلق  ہے ،عورتوں کے باقی اصناف سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔

شیعہ علماء کے فتوے  اس سلسلے کی روایات کے مطابق ہے ۔کیونکہ اس سلسلے کی ساری روایات سے  یہی زوجہ ہی  مراد  ہے ۔ایسا نہیں ہے کہ شیعہ محدثین نے ان روایت کے عام  موضوع کو  زوجہ سے ساتھ خاص کیا ہو ۔

 

  اصول کافی کی کتاب میراث  میں دقت کرئے 

اس باب سے پہلے میراث الولد  ۔۔  کی ایک روایت

13375/ 8. عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أُذَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحْرِزٍ:عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: رَجُلٌ تَرَكَ ابْنَتَهُ وَ أُخْتَهُ لِأَبِيهِ وَ أُمِّهِ.قَالَ‏  «الْمَالُ كُلُّهُ للِابْنَةِ ، وَ لَيْسَ لِلْأُخْتِ مِنَ الْأَبِ وَ الْأُمِّ شَيْ‏ءٌ».۔       الكافي (ط - دارالحديث) ؛ ج‏13 ؛ ص545- بَابُ مِيرَاثِ الْوَلَد ۔۔۔

دقت کریں  : یہاں بیٹی کی وراثت کے بارے میں اس حدیث میں وارث ایک بیٹی اور ایک بہن ہوں تو ساری جائیداد بیٹی کو ملنے کا  کہا  ہے  ۔ " الْمَالُ كُلُّهُ للِابْنَةِ" سے مراد اس کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد سب کا وارث بیٹی ہی ہونا مراد ہے  اور جیساکہ اس روایت میں جو حکم موجود ہے اسی کے مطابق سارے شیعہ علماء کا  فتوا نے بھی دیا ہے ۔

{ بَابُ أَنَّ النِّسَاءَ لَا يَرِثْنَ مِنَ الْعَقَارِ شَيْئا }

اصول  کافی کی انہیں روایات میں سے ایک دو  روایات  ملاحظہ کریں۔

 اسی باب کی دوسری روایت ۔۔۔

عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ سَهْلِ بْنِ زِيَادٍ وَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ وَ حُمَيْدُ بْنُ زِيَادٍ عَنِ ابْنِ سَمَاعَةَ جَمِيعاً عَنِ ابْنِ مَحْبُوبٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رِئَابٍ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع‏ أَنَّ الْمَرْأَةَ لَا تَرِثُ مِمَّا تَرَكَ‏ زَوْجُهَا مِنَ الْقُرَى وَ الدُّورِ وَ السِّلَاحِ وَ الدَّوَابِّ شَيْئاً-وَ تَرِثُ مِنَ الْمَالِ وَ الْفُرُشِ وَ الثِّيَابِ وَ مَتَاعِ الْبَيْتِ مِمَّا تَرَكَ وَ يُقَوَّمُ النِّقْضُ‏ وَ الْأَبْوَابُ وَ الْجُذُوعُ وَ الْقَصَبُ فَتُعْطَى حَقَّهَا مِنْهُ‏۔

 اصول کافی کتاب المواریث  بَابُ أَنَّ النِّسَاءَ لَا يَرِثْنَ مِنَ الْعَقَارِ شَيْئا۔۔

جیساکہ اسی مذکورہ حدیث کے بعد والی حدیث بھی اس  جیسی ہے ۔ صاف ظاہر ہے یہاں المرأة سے  مطلق عورت مراد نہیں ہے بلکہ صرف زوجہ ہی مراد ہے ۔  لہذا  یہاں " المرأة" کو بہانہ بنا کر یہ کہنا کہ یہاں ساری عورتیں مراد ہے صرف زوجہ اور بیوی مراد نہیں ہے ، یہ کٹ حجتی اور جہالت ہی ہے ۔

دقت کریں :  سوال ہی  بیوی کی وراثت کے بارے میں ہے "  أن المرأة لا ترث مما ترك زوجها من القرى والدور والسلاح۔۔۔

یہاں لفظ المرأة سے مراد بیوی ہی ہے ۔ عورت یعنی بیوی اپنے زوجہ کے ماترک سے { غیر منقولہ ۔۔۔۔چیزوں سے وراثت نہیں پائے گی۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ  شیعہ کتب اربعہ میں سے دو کے مصنف شیخ طوسی نے الإستبصار میں اسی قسم کے احادیث  کے  عنوان میں نساء کی جگہ الْمَرْأَةَ  کا لفظ لے کر آیا ہے ۔  94 بَابُ أَنَ‏ الْمَرْأَةَ لَا تَرِثُ‏ مِنَ الْعَقَارِ وَ الدُّورِ وَ الْأَرَضِينَ شَيْئاً مِنْ تُرْبَةِ الْأَرْضِ وَ لَهَا نَصِيبُهَا مِنْ قِيمَةِ الطُّوبِ وَ الْخَشَبِ وَ الْبُنْيَان‏  ۔۔الإستبصار فيما اختلف من الأخبار ؛ ج‏4 ؛ ص151۔۔

   کتب اربعہ  میں شامل کتاب من لا یحضرہ الفقیہ میں شیخ صدوق نے نقل کیا  ہے۔

 [  5748 وروى علي بن الحكم ، عن أبان الأحمر، عن ميسر عن أبي عبد الله عليه السلام قال: " سألته عن النساء مالهن من الميراث؟ فقال: لهن قيمة الطوب والبناء والخشب والقصب فأما الأرض والعقارات فلا ميراث لهن فيه، قال: قلت: فالثياب؟ قال: الثياب لهن: قال: قلت: كيف صار ذا ولهن الثمن والربع  مسمى؟ قال: لأن المرأة ليس لها نسب ترث به إنما هي دخيل عليهم، وإنما صار هذا هكذالئلا تتزوج المرأة فيجئ زوجها وولد قوم آخرين فيزاحم قوما في عقارهم “. (من لا یحضرہ الفقیہ جلد 4 ص 255)

اصول کافی کے اسی مذکورہ باب کی حدیث :

عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ زُرَارَةَ [أَ] و مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: لَا تَرِثُ النِّسَاءُ مِنْ عَقَارِ الدُّورِ شَيْئاً وَ لَكِنْ يُقَوَّمُ الْبِنَاءُ وَ الطُّوبُ وَ تُعْطَى ثُمُنَهَا أَوْ رُبُعَهَا قَالَ وَ إِنَّمَا ذَاكَ لِئَلَّا يَتَزَوَّجْنَ النِّسَاءُ فَيُفْسِدْنَ عَلَى أَهْلِ الْمَوَارِيثِ مَوَارِيثَهُمْ۔۔۔۔۔

 کافی  کے  مذکورہ باب کی آخری حدیث :

عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ سَهْلِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ أَبَانٍ الْأَحْمَرِ قَالَ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ مُيَسِّرٍ بَيَّاعِ الزُّطِّيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنِ النِّسَاءِ مَا لَهُنَّ مِنَ الْمِيرَاثِ قَالَ لَهُنَّ قِيمَةُ الطُّوبِ وَ الْبِنَاءِ وَ الْخَشَبِ وَ الْقَصَبِ وَ أَمَّا الْأَرْضُ وَ الْعَقَارَاتُ فَلَا مِيرَاثَ لَهُنَّ فِيهَا قَالَ قُلْتُ فَالثِّيَابُ قَالَ الثِّيَابُ لَهُنَّ نَصِيبُهُنَّ قَالَ قُلْتُ كَيْفَ صَارَ ذَا وَ لِهَذِهِ الثُّمُنُ وَ لِهَذِهِ الرُّبُعُ مُسَمًّى قَالَ لِأَنَّ الْمَرْأَةَ لَيْسَ لَهَا نَسَبٌ تَرِثُ بِهِ وَ إِنَّمَا هِيَ دَخِيلٌ عَلَيْهِمْ وَ إِنَّمَا صَارَ هَذَا كَذَا كَيْلَا تَتَزَوَّجَ الْمَرْأَةُ فَيَجِي‏ءَ زَوْجُهَا أَوْ وَلَدُهَا مِنْ قَوْمٍ آخَرِينَ فَيُزَاحِمَ قَوْماً فِي عَقَارِهِمْ.     الكافي (ط - الإسلامية) ؛ ج‏7 ؛ ص130

دقت کریں :

اب مذکورہ احادیث میں دقت کریں یہاں  نساء کے لفظ کے ساتھ سوال کا آغاز  ہوا ہے ۔جواب میں زوجہ کی ارث کے مذکورہ احکام بیان ہوا ہے۔ الثُّمُنُ وَ لِهَذِهِ الرُّبُعُ اور ساتھ ہی زوجہ کو غیر منقولہ جائیداد سے ارث نہ ملنے کی علت بھی بیاں ہوئی ہے کیونکہ وہ ان سے ارث لے کر دوسری شادی کرئے گی تو دوسری قوم سے اس کا دوسرا شوہر اور اس شوہر سے اس کے بچے، پہلے والے مرحوم شوہر کی جائیداد میں اس کے بچوں کے ساتھ شریک ہوکر مزاحمت کا باعث بن سکتا ہے   ۔۔

لہذا یہاں اس مذکورہ باب میں نساء اور المرأة سے مراد بیوی ہی ہے ۔ اگر ایک دو روایت میں نساء مطلق ذکر ہوا ہو تو بھی اس سے مطلق عورتیں مراد نہیں ہے ۔

ایک قابل توجہ بات : اس مذکورہ باب کی گیارہ احادیث میں دقت کرئے تو صاف واضح ہے کہ ان میں زوجہ  کا لفظ اور زوجہ  مراد ہونے پر قرینہ تو موجود ہے لیکن اخوۃ ،بنت ،ام ،جدہ وغیرہ کا لفظ استعمال  بھی نہیں ہوا ہے اور یہ چیزیں  مراد ہونے پر کوئی قرینہ بھی  نہیں ہے ۔

لہذا صاف ظاہر ہے انہی وجوہات اور قرائن کی بنیاد پر کسی شیعہ عالم ، فقیہ اور مجتہد نے غیر منقولہ جائیداد کی بحث کو زوجہ کے علاوہ کسی اور باب میں ذکر نہیں کیا ہے ۔

مندرجہ بالا  بیانات کی رواشنی میں یہاں یہ سوال ہی غلط ہے کہ شیعہ علماء نے کیوں اماموں کی احادیث کے خلاف فتوا دیا اور  نساء اور المرأة سے مراد مطلق عورت لے کر تمام عورتوں کے بارے میں غیر منقولہ جائیداد میں ارث نہ ہونے کا فتوا  نہیں دیا ؟ 

 اس قسم کے سوالات حقیقت میں شیعہ فقہ سے جہالت اور شیعہ  احادیث کی مزاج سے ناآشنائی اور  شیعہ منطق کے آگے  بے بسی کی دلیل ہے۔

  جی ہاں جن کی معتبر کتابوں میں ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی احادیث آٹے میں نمک کے برابر بھی نہ ہو وہ بلا کیا ان احادیث کی مزاج کو سمجھ سکے گا ؟

احادیث میں اختلاف ،آراء میں اختلاف کا سبب ہے

 جیساکہ گزشتہ بیانات کی روشنی یہ بات واضح ہوگی کہ اس باب کو الگ سے یہاں چھیڑنے کی وجہ یہ ہے کہ بیوی کے مسئلے میں روایات مختلف ہیں اور فقہاء کی آراء بھی اسی حساب سے مختلف ہیں ۔ان روایات کو ایک الگ باب میں  ذکر کرنا  ان کے فھم و فراست کی دلیل ہے۔۔

جیساکہ بعض روایات میں منقولہ اور غیر  منقولہ جائیداد کی تقسیم کے بغیر  " ماترک" جو بھی  ہو  سب  بیوی  کو بھی ملنے کا ذکر موجو ہے ۔ 

دیکھیں اسی اصول کافی کتاب میراث کی ایک اور باب :

الكافي كِتَابُ الْمَوَارِيث‏  بَابُ الرَّجُلِ يَمُوتُ وَ لَا يَتْرُكُ إِلَّا امْرَأَتَه ۔۔۔۔{مرد مر جائے  اور اس کا وارث صرف اس کی زوجہ ہو ۔}

اس باب   کے شروع کے  دو حدیث  ۔۔۔

1- حُمَيْدُ بْنُ زِيَادٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَمَاعَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ زِيَادٍ الْعَطَّارِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ نُعَيْمٍ الصَّحَّافِ قَالَ: مَاتَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَيْرٍ بَيَّاعُ السَّابِرِيِّ وَ أَوْصَى إِلَيَّ وَ تَرَكَ امْرَأَةً لَهُ وَ لَمْ يَتْرُكْ وَارِثاً غَيْرَهَا فَكَتَبْتُ إِلَى الْعَبْدِ الصَّالِحِ ع فَكَتَبَ إِلَيَّ أَعْطِ الْمَرْأَةَ الرُّبُعَ وَ احْمِلِ الْبَاقِيَ إِلَيْنَا.

2- عَنْهُ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ رِبَاطٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُكَيْنٍ وَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ مُشْمَعِلٍّ وَ عَنِ ابْنِ رِبَاطٍ عَنْ مُشْمَعِلٍّ كُلِّهِمْ عَنْ أَبِي بَصِيرٍ قَالَ: قَرَأَ عَلَيَّ أَبُو جَعْفَرٍ ع فِي الْفَرَائِضِ امْرَأَةٌ تُوُفِّيَتْ وَ تَرَكَتْ زَوْجَهَا قَالَ الْمَالُ كُلُّهُ لِلزَّوْجِ وَ رَجُلٌ تُوُفِّيَ وَ تَرَكَ امْرَأَتَهُ قَالَ لِلْمَرْأَةِ الرُّبُعُ‏ وَ مَا بَقِيَ‏ فَلِلْإِمَامِ‏.

دقت کریں:  ان دو روایات میں صرف زوجہ وارث ہونے کی صورت میں مکمل ربع انہیں دینے کا حکم ہے یہاں بھی منقولہ اور غیر منقولہ کی کوئی قید ذکر نہیں ہے ۔۔۔ لہذا  اس قسم کی روایات کے مطابق  زوجہ کو غیر منقولہ سے بھی ارث ملے گی ۔

وسائل الشيعة  سے  دو روایتیں ۔

32829- 6-  مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بِإِسْنَادِهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ أَبَانِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أَبِي بَصِيرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع‏ فِي امْرَأَةٍ مَاتَتْ وَ تَرَكَتْ زَوْجَهَا قَالَ الْمَالُ كُلُّهُ لَهُ قُلْتُ فَالرَّجُلُ يَمُوتُ وَ يَتْرُكُ امْرَأَتَهُ قَالَ الْمَالُ لَهَا۔

 وسائل الشيعة ؛ ج‏26 ؛ ص203

32853- 1-  مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بِإِسْنَادِهِ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ فَضَالَةَ عَنْ أَبَانٍ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ (وَ ابْنِ أَبِي يَعْفُورٍ)  عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنِ الرَّجُلِ هَلْ يَرِثُ مِنْ دَارِ امْرَأَتِهِ أَوْ أَرْضِهَا  مِنَ التُّرْبَةِ شَيْئاً أَوْ يَكُونُ (فِي)  ذَلِكَ بِمَنْزِلَةِ الْمَرْأَةِ فَلَا يَرِثُ مِنْ ذَلِكَ شَيْئاً فَقَالَ يَرِثُهَا وَ تَرِثُهُ (مِنْ) كُلِّ شَيْ‏ءٍ تَرَكَ وَ تَرَكَتْ.

وسائل الشيعة ؛ ج‏26 ؛ ص212

اب دقت کریں ۔ ان دو روایتوں میں صرف عورت  {زوجہ}  وارث ہونے کی صورت میں اسی کو   مکمل مال  کے وارث قرار دینے کا حکم موجود ہے ۔اس قسم کی احادیث  میں بھی  منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کی بحث موجود  نہیں ہے ۔لہذا اس قسم کی احادیث کے مطابق زوجہ غیر منقولہ جائیداد سے بھی ارث لے سکتی ہے ۔

لہذا روایات میں موجود اس اختلاف کی وجہ سے شیعہ علماء کے آراء میں بھی اختلاف موجود ہے ،جیساکہ شیعہ فقہی کتابوں  کی طرف رجوع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ  کم از کم  پانچ  آراء اس سلسلے میں  موجود ہیں ، ان میں سے خاص کر ابن جنید کا نظریہ اسی بعد والی روایات کے مطابق ہے اور  وہ بیوی  کو مکمل جائیداد سے ارث ملنے کے قائل ہیں ۔۔۔۔۔

کیا  احادیث اور آراء میں اختلاف طعن کا باعث ہے ؟

بعض اختلافی روایت ذکر ہونے کی وجہ سے مکتب تشیع پر اور ان کے علماء پر اعتراض ہوسکتا ہے تو  اہل سنت  کے ہاں کونسا  فقہی باب ایسا ہے جہاں مختلف اور متضاد  روایتیں  نہ ہوں ؟  وضو سے لے کر....  متعہ.... تقیہ.. قرآن میں تحریف... اصحاب کی ایک جماعت کا مرتد اور جہنمی ہونا۔۔ کیا اس وجہ سے ہم یہ کہے سکتے ہیں کہ اہل سنت والے قرآن  اور سنت قطعیہ کے خلاف احادیث کو مانتے ہیں اور فتوا دیتے ہیں اور ان کے علماء قرآنی حکم کے خلاف  حکم والی کسی حدیث کو صحیح سند  قرار دیتے ہیں ؟ 

یہ  ایک سادہ علمی مسئلہ ہے ؛ ممکن ہے راوی ثقہ ہونے کی وجہ سے روایت کی سند کو صحیح کہلایے لیکن قرآنی حکم سے ٹکراو کی وجہ  سے اس کے مضمون  کو قبول نہ کرے ۔اب  سند صحیح کہنے سے مجلسی ہو یا بخاری ... گناہ گار تو نہیں ہوگا۔  لہذا خطابت اور لفاظی کے ذریعے  ایک سادہ علمی مسئلے سے ناآشنائی کا عملی ثبوت دینے سے اپنا ہی موقف کمزور ہوگا۔

زوجہ کو غیر منقولہ جائیداد سے محروم کرنا قرآنی حکم کے خلاف ؟

اگر اس قسم کی احادیث کا شیعہ کتب میں ہونے سے شیعوں پر اعتراض ہوتا ہے تو شیعہ بھی تو اسی " نحن لا نورث۔۔۔} والی حدیث کو قرآن کے خلاف مانتے ہیں۔ قرآن می بیٹی کی وراثت کا حکم موجود ہے اور یہ روایت اس قرآنی حکم کے خلاف ہے،  قرآن نے انبیاء کی وراثت کا واضح حکم دیا ہے اورابن عباس اور  اہل سنت کے بڑے بڑے مفسرین نے قرآن میں انبیاء کی مالی وراثت کے حکم کا اعتراف کیا ہے ۔ اب یہ حدیث اس واضح قرآنی حکم کے خلاف ہے ۔ جیساکہ بہت سی تاریخی شواہد کے مطابق جناب فاطمہ اور امیر المومنین علیہما السلام کا بھی یہی موقف تھا  اور آپ دونوں یہ یہی کہتے تھے کہ قرآن میں واضح طور پر بیٹی کو  بھی وراثت ملنے کا حکم ہے اور نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی قرآنی حکم کے خلاف بات نہیں کرسکتے۔

اسی طرح اہل سنت کے ہاں بہت سی ایسی روایتیں ہیں کہ جو واضح قرآنی حکم کے خلاف ہیں اور اہل سنت کے علماء نے ان کی سند کو بھی صحیح قرار دیا ہے، تو کیا اس سے ہم وہی سوال اور اعتراض اھل سنت سے کرنے کا حق رکھتے ہیں ؟؟

 جیساکہ بیان ہوا  کہ شیعوں کے ہاں اس سلسلے میں قرآنی اطلاق کے خلاف بعض روایات موجود ہیں کہ جو زوجہ کو زمین وغیرہ کی وراثت سے منع کرتی ہیں اور شیعہ فقہاء کے درمیان بھی یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے ۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کی بیٹی کو بھی زمین کی وراثت نہ ملنے کا شیعوں کے ہاں کوئی نظریہ ہو ، ہر گز ایسا نہیں ہے ۔

ہم حق زہرا سلام اللہ علیہا کی بحث میں ہم بیٹی کی وراثت اور حقوق کی بات کرتے ہیں اور جناب عائشہ اور جناب حفصہ کی وراثت کی بات نہیں کرتے ہیں ،انہیں تو سب کچھ مل گیا تھا ،جس کو قسم کھانے اور  اقرار کے باوجود کچھ بھی نہیں دیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سب سے پیاری بیٹی ، جنت کی عورتوں کی سردار ،جناب سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا  کی ذات گرامی ہی تھی۔ {فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ مِنْهَا شَيْئًا ۔۔یعنی جناب ابوبکر نے  حضرت  فاطمہ سلام علیہا کو کچھ بھی نہیں دیا  ۔   صحيح البخاري (13/ 135):  کتاب المغازی ۔۔ بَاب غَزْوَةِ خَيْبَرَ۔۔۔۔۔ صحیح مسلم ۔ كتاب الجهاد والسير  - باب قول النبي ص ( لا نورث ما تركنا فهو صدقة ) مسند أبي بكر الصديق لأحمد بن علي المروزي (ص: 87): شرح مشكل الآثار(1/ 137)أبو جعفر أحمد بن محمد بن سلامة الطحاوي ،سنة الوفاة 321هـ

نتیجہ : مذکورہ وضاحت کے باوجود یہ کہنا کہ  " شیعہ فقہ میں عورت کے لئے غیر منقولہ جائیداد مثلا زمین وغیرہ کی وراثت نہیں ہے لہذا شیعوں کا فدک کو حق حضرت زہرا سلام اللہ کے طور پر بیان کرنا اپنے ہی فقہ سے نا آشنائی کی دلیل ہے " یہ سب باتیں حقیقت میں اہل سنت کے مناظرین کی علمی کمزوری اور شیعہ فقہ کے الف ، ب سے جاہل ہونے کی دلیل ہے ۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی