2018 July 23
معاویہ ابن ابی سفیان کی زندگی اور اسکے کردار پر ایک نظر
مندرجات: ١٦٤٤ تاریخ اشاعت: ٠٤ July ٢٠١٨ - ١٢:٥٣ مشاہدات: 325
مضامین و مقالات » پبلک
جدید
معاویہ ابن ابی سفیان کی زندگی اور اسکے کردار پر ایک نظر

معاویہ ابن ابی سفیان:

مکمل نام معاویہ ابن ابی سفیان (مشہور قول کے مطابق) صخر ابن حرب ابن امیہ ابن عبد شمس ابن عبد مناف ابن قصی قریشی اموی تھا۔

معاویہ ابن ابی سفیان پہلا مکار اور غاصب اموی خلیفہ ہے جو صلح امام حسن (ع) کے بعد سن 60 ہجری تک تقریبا 20 سال تک حاکم رہا۔ اس کے دور حکومت میں دمشق دار الحکومت تھا۔ وہ اور اسکا باپ فتح مکہ کے موقع پر اسلام اور مسلمین کی قدرت سے خوفزدہ اور مجبور ہو کر اسلام لائے اور وہ طلقاء میں سے شمار ہوتا تھا۔

ابوبکر کے زمانے میں سرزمین شام کے موقع پر وہاں حاضر تھا اور عمر ابن خطاب کے زمانے میں اردن کا گورنر بنا اور پھر پورے شام کا حاکم رہا۔ عثمان ابن عفان کے خلاف شورش میں عثمان کی اس سے مدد چاہنے کے باوجود اس نے جان بوجھ کر عثمان کی مدد نہیں کی۔

امام علی (ع) کی خلافت میں خون خواہی عثمان کے جھوٹے بہانے سے اس منحوس نے جنگ صفین بپا کی۔ شہادت امام علی (ع) کے بعد امام حسن (ع) سے صلح کر کے مکر و حیلے سے مکمل طور پر مسلمانوں کی خلافت اپنے ہاتھ میں لے لی اور شہر دمشق کو اپنا پایہ تخت قرار دیا۔

اس کے دور خلافت میں اکثر فتوحات غربی اور شمال افریقہ میں ہوئیں۔ شرقی سر زمینوں کی فتوحات کا زیادہ خواہان تھا۔ معاویہ نے خلافت کو سلطنت میں تبدیل کر دیا اور اپنے شرابی و زانی بیٹے یزید کی بیعت کیلئے اس نے بہت زیادہ کوشیش کیں۔ ملکی امور چلانے کیلئے جدید دیوان بنائے۔ خوارج کے فتنوں اور شیعوں کی شورشوں کو اس نے سر کوب کیا۔

زندگی:

ابو عبد الرحمان معاویہ ابن ابی سفیان اموی بعثت سے 5 سال قبل پیدا ہوا۔ بعض نے سات سال اور تیرہ سال بعثت سے قبل اسکی پیدائش ذکر کی ہے۔

موسوعہ حیاۃ الصحابہ من کتب التراث، ج 5 ، 6 ، ص 3478

اسکی ماں ہند بنت عتبہ ابن ربیعہ ابن عبد شمس ابن عبد مناف ہے۔

شکل و صورت کے لحاظ سے اسے خوبصورت اور سفید رنگ کا بیان کیا گیا ہے۔ منقول ہے کہ وہ اپنی ڈاڑھی کو سونے کی مانند سرخی مائل پیلے رنگ سے خضاب کیا کرتا تھا۔

تاریخ دمشق، ج 1 ص 349

مشہور قول کی بناء پر اس کے اسلام قبول کرنے کا زمانہ فتح مکہ ہے اور وہ طلقاء میں سے ہے۔

ابن عبد البر، الاستیعاب، ج 1، ص 401

بعض نے یوم القضاء اسکے اسلام لانے کا دن ذکر  کیا ہے ۔دوسری نقل کی بناء پر وہ اپنے اسلام کو چھپاتا تھا۔ بعض نے اسے کاتبان وحی سے شمار کیا ہے۔ پیغمبر خدا (ص) نے اسے نفرین کی کہ وہ کبھی سیر نہ ہو، یعنی کبھی اسکا پیٹ نہ بھرے۔ معاویہ کی تعظیم و تکریم میں بہت زیادہ جعلی اور جھوٹی روایات جعل ہوئی ہیں۔

ابن اثیر، اسد الغابہ، ج 4، ص 433

ذہبی، شمس الدین، سیر اعلام النبلاء، ج 3 ، ص 122

أنساب الاشراف، ج 4، ص 125

شوکانی، الفواید المجموعہ فی الاحادیث الموضوعہ، ص 403

ازواج پیغمبر کے بھائیوں میں سے صرف معاویہ کو خال المؤمنین کہا گیا ہے۔ کیونکہ رسول خدا کی زوجہ ام حبیبہ معاویہ کی بہن تھی، اس لحاظ سے اسے خال المومنین کہا گیا۔

اسکافی، المعیار و الموازنہ، ص 21

تفسیر ابن کثیر، ج 3، ص 477

ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج  59، ص 103

معاویہ نے ابوبکر، عمر، عثمان اور اپنی بہن ام حبیبہ سے حدیث نقل کی ہے۔ صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت نے اس سے روایت نقل کی ہے۔

عسقلانی، ابن حجر، فتح الباری فی شرح صحیح البخاری، ج 8، ص 105

معاویہ نے جنگ یمامہ میں شرکت کی اور پھر اسکے بعد اپنے بھائی یزید کے ساتھ سپاه ابو بکر میں شام چلا گیا۔ ساحلی شہر صیدا، عرقہ، جبیل، بیروت، عکا اور صور میں موجود تھا۔

بلاذری، ابو العباس احمد بن یحیی بن جابر، فتوح البلدان، ص 173

معاویہ نے عمر ابن خطاب کا بھرپور اعتماد حاصل کیا لہذا عمر نے اردن کے گورنر معاویہ کے بھائی یزید کو ساتھ شام کی گورنری بھی دے دی۔ طاعون کی بیماری میں اسکے بھائی کی وفات کے بعد شام کا تمام علاقہ اس کے حوالے کر دیا گیا۔

عثمان ابن عفان نے  اپنی خلافت ملنے کے بعد تمام سرزمین کی گورنری معاویہ کے حوالے کر دی۔ عثمان کے قتل کے بعد حضرت امام علی (ع) کی بیعت سے انکاری ہوا، خون عثمان کی خون خواہی کے بہانے امام کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔ شام کے لوگوں نے عثمان کی خونخواہی اور علی (ع) سے جنگ پر لوگوں سے بیعت لی۔

یعقوبی، احمد بن ابی یعقوب، تاریخ یعقوبی، ج 2، ص 86

طبری، تاریخ الرسل و الملوک، ج 4، ص 444

حکومت امام علی (ع) کے آخر تک یہ اختلاف جاری رہا۔ شہادت امام علی (ع) کے بعد معاویہ اور امام حسن (ع) کے درمیان صلح قائم ہوئی، جس کے نتیجے میں امام حسن (ع) مجبوری کی وجہ سے معاویہ کے حق میں حکومت سے کنارہ کر گئے۔ صلح امام حسن (ع) کے بعد آخر عمر تک معاویہ خلیفہ رہا۔

ابن کثیر، البدایہ و النہایہ، ج 8، ص 16

وفات اور ہلاکت:

معاویہ کے بستر مرگ اور ہلاکت پر ہونے کے موقع پر یزید دمشق میں نہ تھا۔ اس نے ضحاک ابن قیس اور مسلم ابن عتبہ کو بلایا اور اپنی وصیت انکے حوالے کی اور اسکی موت کے متعلق رجب ،ابتدائے رجب یا رجب کی 4،15،26 ،22  تاریخ کے اقوال ملتے ہیں۔

ابن کثیر،البدايہ والنہايہ، ج 8 ص 152

تاريخ بغداد، ج 1 ص 224

وہ امام حسین (ع)، عبد الله ابن زبیر، عبد الله ابن عمر اور عبد الرحمان ابن ابی بکر جیسے مخالفین سے شدید پریشان رہتا تھا۔

دینوری، ابوحنیفہ، الاخبار الطوال، ص 172

اسے شام میں دفن کیا گیا۔ عباسیوں کے شام پر غلبے کے بعد جب اس کی نعش نکالنے کیلئے قبر کھودی گئی تو اس میں مٹی کے علاوہ کچھ نہ تھا۔

ابن اثیر،الکامل فی التاریخ، ج ھ ص 78

ابن طقطقی، الفخری فی الآداب السلطانیہ، ص 9

نہایۃ الأرب فی فنون الأدب، ج 22 ص 33

مقدسی، البدء والتاریخ، ج 6، ص 71

نوٹ:

آج کل دمشق میں معاویہ کی قبر پر دمشق کے لوگ ہر روز کوڑا کرکٹ پھینکتے ہیں اور حیوانات بھی اسکی قبر کو اپنی نجاسات سے ہر روز نوازتے رہتے ہیں۔

یزید ابن ابی سفیان شامات کی فتح کے موقع پر سپہ سالار تھا۔ ابو بکر نے معاویہ کو اس کے بھائی کے ساتھ حکومت دے دی۔

رسائل جاحظ، الرسائل السیاسیہ، ص 344

اس کی وفات کے بعد عمر کے زمانے میں شام کی ولایت پر منصوب ہوا۔ بعض مؤرخین نے عمر کی جانب سے معاویہ کی نسبت بے توجہی پر حیرانگی کا اظہار کیا ہے۔

مختصر تاریخ دمشق، ج  25، ص 24

حسن بصری کہتا ہے: معاویہ نے عمر کے زمانے سے ہی اپنے آپ کو خلافت کیلئے تیار کر لیا تھا۔

تثبیت دلائل النبوه، ص 593

عمر نے تمام شامات کے علاقوں کو معاویہ کے حوالے کر دیا تھا۔

مختصر تاریخ دمشق، ج 25، ص 17 تا 20

رسائل الجاحظ، الرسائل السیاسیہ، ص 344

معاویہ کہا کرتا تھا: خدا کی قسم ! وہ صرف عمر کے نزدیک ایسا مقام رکھتا تھا کہ جسکی سے اس نے لوگوں پر تسلط حاصل کر لیا تھا۔

العقد الفرید، ج 1، ص 15 و ، ج 5 ، ص 114

مختصر تاریخ دمشق، ج  25، ص 18

عثمان کے سامنے جب معاویہ کی نسبت اعتراضات ہوتے تھے تو وہ کہتا تھا کہ کس طرح اسے معزول کروں، اسے تو عمر نے اس مقام پر منصوب کیا ہے۔

انساب الاشراف، ج  4، ص 550

عثمان کے دور میں شام کا علاقہ پر امن علاقہ شمار ہوتا تھا۔ اس نے وزرائے کوفہ اور ابوذر کو اسی جگہ جلا وطن کیا تھا، گرچہ معاویہ نے اپنی شخصیت و حیثیت کی حفاظت کی خاطر اور لوگوں پر ان کے اثرات روکنے کیلیے انہیں شام سے نکال دیا۔

طبقات الکبری، ج 4، ص 229

الغدیر، ج 6، ص 304 و ج 9 ، ص 373

شام معاویہ کا تربیت شده علاقہ تھا۔ یہ ایک ایسا امر ہے کہ جسکی حقیقت بنی امیہ کی حکومت کے دوران وہاں کے لوگوں کی اس سے وفاداری مکمل طور پر آشکار ہوئی۔ کہتے ہیں کہ بنی امیہ کے بزرگوں نے سفاح کے نزدیک گواہی دی کہ وہ بنی امیہ کے علاوہ کسی کو پیغمبر (ص) کی اقوام سے نہیں سمجھتے ہیں۔

مروج الذہب، ج 3، ص 33

النزاع و التخاصم، ص 28

معاویہ سے منقول ہوا کہ اس نے کہا:

نحن شجرة رسول الله،

مختصر تاریخ دمشق، ج 11، ص 87

اسی طرح اس نے کاتب وحی اور خال المومنین کے القابات بھی لینے کی کوشش کی ہے تا کہ اس کی شخصیت میں استحکام پیدا ہو۔ وہ ان لوگوں کی تشویق کیا کرتا تھا جو اسکی شان میں روایات جعل کرتے تھے اور جو لوگ ان جعلی اور جھوٹی روایات کی عوام میں ترویج کیا کرتے تھے۔

مختصر تاریخ دمشق، ج 25 ، ص 5 ، 16

جس کا نمونہ یہ ہے کہ رسول اللہ بعض نے نقل ہے کہ:

الامناء عند الله ثلاثه: جبرائیل و أنا و معاویہ،

رسول خدا نے فرمایا: خداوند کے نزدیک تین شخص امین  ہیں، جبرائیل، میں اور معاویہ۔

ابن عساکر نے اس طرح کی جعلی اور جھوٹی روایات کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔

عثمان کے خلاف شورش کا آغاز:

معاویہ عثمان کے خلاف شروع ہونے والی شورش کی ابتدا سے ہی اس سے فائدہ اٹھانے کے در پے تھا۔ اس نے ایک وقت عثمان سے تقاضا کیا کہ وہ اس کے پاس شام آ جائے تا کہ مخالفین کے ہاتھوں سے امان میں رہے، لیکن اس نے یہ تجویز قبول نہیں کی۔

ابن کثیر، الکامل فی التاریخ، ج 3، ص 157

جب شورش میں سختی اور شدت پیدا ہوئی تو معاویہ نے صرف اسی میں اپنا فائدہ دیکھا کہ عثمان قتل ہو جائے۔ اسی وجہ سے اس نے عثمان کی کسی قسم کی مدد نہیں کی۔ یہاں تک کہ عثمان سخت ترین حالات میں خود اس بات کی طرف متوجہ ہوا اور اس نے ایک عتاب آمیز خط معاویہ کو لکھا۔

ذہبی، شمس الدین، تاریخ الاسلام، عہد الخلفاء الراشدین، ص 450

بلاذری، انساب الاشراف، ج 4، ص 19

عثمان کے بعد معاویہ نے امویوں کو اس کا وارث سمجھا اور اسی کی خونخواہی کے غلط بہانے سے حضرت علی (ع) کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ عثمان کے قتل کے بعد اس کی بیوی کے شام فرار ہونے کے بعد معاویہ نے اس سے شادی کی خواہش کی لیکن اس نے اسے قبول نہیں کیا۔

نثر الدر، ج 4، ص 62

بلاغات النساء، ص 139

العقد الفرید، ج 6، ص 90

معاویہ نے حضرت علی (ع) کو لکھنے والے خطوط میں اس بات کا سہارا لیا کہ:

ہمارا خلیفہ عثمان مظلوم قتل ہوا اور خدا اسکے متعلق فرماتا ہے کہ:

جو کوئی مظلوم مارا جائے ہم اس کے ولی کیلئے قدرت فراہم کرتے ہیں۔

پس ہم عثمان اور اس کے بیٹوں کی نسبت اس خونخواہی کیلئے زیادہ سزاوار ہیں۔ معاویہ اپنے بہت زیادہ پروپیگنڈے میں فقط خلافت پر قبضہ کرنے کے لیے، اپنے آپ کو عثمان کا وارث کہتا تھا۔

کتاب الغارات، ص 70

امام علی (ع) کا عہد خلافت اور معاویہ کی برطرفی کی کوشش:

امام علی (ع) نے خلافت کے آغاز میں ہی معاویہ کے نمائندے سے کہا:

معاویہ سے کہو کہ میں اس کی شام پر امیری سے خوش نہیں ہوں اور لوگ کبھی اس کی خلافت کے متعلق رضایت نہیں دینگے۔

رسائل جاحظ، الرسائل السیاسیہ، ص 345

معاویہ نے جنگ جمل سے پہلے زبیر کو لکھا:

اس نے شام کے لوگوں سے اسکے لیے بیعت لی ہے ، اگر عراق انکی ہمنوائی کرے تو شام کی طرف سے کوئی مشکل نہیں ہو گی۔ زبیر معاویہ کے اس خط سے بہت خوش ہوا۔

اعیان الشیعہ، ج 3 ، ص 12

معاویہ اس بات پر تھا کہ قریش کی سیاسی شخصیات میں سے خاص طور پر ایسی شخصیات کو چاہتا تھا کہ جو اس شورا میں موجود ہوں اور وہ انہیں اپنی جانب جذب کرے تا کہ ان سے سیاسی فائدہ حاصل کر سکے۔ امام علی (ع) نے اسی نکتے کی طرف اشارہ کیا اور کہا شام میں موجود قرشیوں میں سے کوئی ایک بھی شورا میں قبول نہیں ہوئے ہیں اور خلافت ان کے لیے روا نہیں ہے۔

وقعۃ صفین، ص 58

نیز معاویہ نے امام علی کو لکھے جانے والے خط میں شورا کا مسئلہ بھی بیان کیا تھا۔

الامامۃ و السیاسۃ، ج 1، ص 121

امام علی (ع) نے عبد الله ابن عباس کو حکومت شام میں بھیجنا چاہا تو معاویہ کو خط لکھا۔ اس نے جواب میں امام کو ایک سفید کاغذ بھیجا۔ معاویہ کے نمائندے نے امام سے کہا:

میں ایسے لوگوں کی جانب سے آیا ہوں جو تمہارے متعلق یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ تم نے عثمان کو قتل کیا ہے اور وہ تمہارے قتل کے سوا راضی نہیں ہیں۔

انساب الاشراف، ج 2، ص 211

معاویہ جنگ جمل اور طلحہ، زبیر اور عائشہ کے علی (ع) کے مقابلے میں آنے سے فائدہ حاصل کرتے ہوئے، امام علی (ع) کی قتل عثمان میں مداخلت کو زیادہ تبلیغ کیا کرتا تھا۔

رسول جعفریان، تاریخ خلفا، ج 2، ص 278

جنگ جمل کے بعد امام علی (ع) کوفہ میں مستقر ہوئے۔ سپاہ شام سے درگیری کے پیش نظر لوگوں سے بیعت لینا شروع کی، شام کے علاوہ تمام علاقوں نے امام کی بیعت کی۔ امام نے اپنے خطوط کے ذریعے معاویہ کو قانع اور اپنا مطیع کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ عمر کی طرف سے منصوب ہونے کے استناد کی بناء پر امام کی اطاعت سے سر پیچی کرتا رہا۔

الفتوح، ج 2، ص 380

معاویہ نے امام سے چاہا کہ شام اور مصر اس کے حوالے کرے نیز اسکے بعد بیعت کیلئے امام کسی اور کو مقرر نہ کریں بلکہ وہ خود امام کے سامنے بیعت کرے گا۔ امام نے اس کے جواب میں کہا:

لم یکن الله لیرانی اتخذ المضلین عضدا،

وقعة صفین، ص 52

الفتوح، ج 2، ص 392

معاویہ نے شام میں ایک گفتگو کے دوران کہا:

 علی مجھ سے کیسے خلافت میں برتر ہے ؟ اگر حجاز کے لوگوں نے اسکی بیعت کی ہے تو شام کے لوگوں نے میری بیعت کی ہے۔ حجاز اور شام برابر ہے۔ اس نے یہی کلمات امام کو ایک خط میں لکھے: جب تک حجاز کے لوگ حق کی رعایت کرتے رہے اس وقت تک وہ شام پر حاکم تھے، لیکن اب انہوں نے حق کو چھوڑ دیا ہے اب یہ حق شامیوں کا ہے۔

الفتوح، ج 2، ص 429

امام نے جواب میں لکھا :

تیری یہ بات اہل شام اہل حجاز پر حاکم ہیں، قرشیوں میں سے کوئی ایسا شخص بتاؤ جسے شورا میں قبول کیا جائے یا اسکے لیے خلافت روا ہو۔ اگر تم ایسا دعوی کرو گے تو مہاجر و انصار تمہیں جھٹلائیں گے ... میری بیعت سب نے کی ہے اور کسی کی اس میں مخالفت موجود نہیں ہے اور تجدید بیعت کی کوئی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی۔

وقعۃ صفین، ص 58

الفتوح، ج 2، ص 432

جنگ صفین:

پس جب خط و کتابت اور معاویہ کو ہٹانے کی کوششیں ناکام ہو گئیں تو امام نے اس سے جہاد کا قطعی فیصلہ کر لیا۔ امام نے مہاجر و انصار میں سے اپنے بزرگ صحابہ کو اپنے پاس بلایا۔ خطبہ پڑھا اور اسکے بعد انہیں جہاد کی دعوت دی۔ بالآخر سن 37 ہجری کے صفر کے مہینے میں صفین نامی جگہ پر جنگ ہوئی۔ شکست جب معاویہ کی فوج کے روبرو تھی تو انہوں نے قرآن نیزوں پر بلند کیے۔ یہ صورتحال دیکھ کر امام علی (ع) کے بعض سپاہیوں نے جنگ سے ہاتھ کھینچ لیے۔ نتیجے میں حَکَمیت کیلئے دونوں طائفوں کے درمیان حَکَم مقرر ہوئے اور جنگ کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئی۔

وقعۃ صفین، ص 110

الفتوح، ج 2، ص 477 و 480

یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ج 2، ص 188

جنگ صفین کے بعد:

امام نے نہروان کے بعد دوبارہ کوشش کی کہ عراقیوں کو شام سے جنگ کیلئے تیار کریں۔ اس کام کیلئے تیار ہونے والے افراد کی تعداد کم تھی۔ امام نے لوگوں کی سستی کے بارے میں خطبہ دیا اور کہا: میں ایسے لوگوں میں گرفتار ہوا ہوں کہ جب حکم دیتا ہوں وہ عمل نہیں کرتے جب بلاتا ہوں تو جواب نہیں دیتے ہیں۔ معاویہ عراقیوں کی اس سستی سے آگاہ تھا ۔لہذا اس نے ان حالات میں امام علی کی حکومت کی تضعیف اور عراق میں اپنا راستہ ہموار کرنے کے لیے امام کے زیر تسلط علاقوں جزیرۃ العرب اور عراق کے کچھ علاقوں میں شب خون مارنے کا ارادہ کیا۔ معاویہ کہتا تھا :

یہ قتل و غارت اور تاراجی عراقیوں کو خوفزدہ کرتی ہے اور جو امام کے مخالفین میں سے ہیں یا جو امام سے جدائی کا ارادہ رکھتے ہیں انہیں اس کام کی ہمت دیتی ہے۔ جو اس دگرگونی سے بیمناک ہیں انہیں ہمارے پاس لاؤ۔ این تہاجمات اور شب خون غارات کے نام سے معروف‌ ہیں۔ ابو اسحاق ثقفی نے کتاب الغارات نے ان غارات کی فہرست میں کتاب تالیف کی ہے۔

نہج البلاغه، خطبہ  39، 131، 180

 نہج البلاغہ، خطبہ 39

 رسول جعفریان، تاریخ خلفا، ج 2، ص 323

 الغارات، ص 176

سپاه شام کے ناجائز اقدامات:

ابو اسحاق ابراہیم ثقفی نے کتاب الغارات میں سپاه معاویہ کے دوسرے علاقوں پر حملوں کو اکٹھا کیا ہے۔

مصر پر حملہ:

مصر وہ پہلا علاقہ ہے کہ جہاں شام کی فوج نے تجاوز کرتے ہوئے حملہ کیا۔ مصر کے والی قیس ابن سعد نے جنگ صفین میں امام کی ہمراہی کی۔ جنگ صفین کے بعد محمد ابن ابی بکر حاکم مصر تھا۔ امام نے مصر کے حالات کی بناء پر امام نے مالک کو مصر بھیجا۔ معاویہ نے اسکی اطلاع پاتے ہوئے مالک ابن اشتر کے قتل کا منصوبہ تیار کیا اور مالک قلزم نامی جگہ شہید ہو گئے۔

معاویہ نے مصر کی حکومت کا وعدہ عمرو ابن عاص کو دیا تھا۔ عمرو ایک عظیم لشکر کے ساتھ مصر روانہ ہوا۔ کنانہ ابن بشر دو ہزار افراد کے ساتھ شہر سے باہر آیا اس نے جنگ کی قتل ہوا اور فوج نے شکست کھائی۔ محمد ابن ابی بکر کے اطراف سے لوگ پراکندہ ہو گئے۔ شامی فوج کے ہراول دستے کے سربراہ معاویہ ابن خدیج نے محمد کو ایک ویرانے میں پا کر اس کی گردن اڑا دی اور اسکی لاش کو ایک مردار کے پیٹ میں رکھ کر اسے آگ لگا دی۔

 اس طرح مصر امام کی دسترس سے نکل گیا اور عمرو ابن عاص سن 43 ہجری تک مصر کے لوگوں پر حاکم رہا۔

الغارات، ج 1، ص 276 ، 279

بصرہ پر حملہ:

معاویہ نے عمرو ابن عاص سے مشورے کے ساتھ عبد الله ابن عامر حضرمی کو بصره روانہ کیا تا کہ وہ وہاں کے لوگوں کے درمیان خون عثمان کی خونخواہی کے ذریعے اپنے حامیوں کو اکٹھا کرے اور وہ اس شہر میں تصرف کرے۔ ابن عامر نے قبیلۂ بنی تمیم کو اکٹھا کیا۔ ضحاک ابن عبد الله ہلالی نے امام علی (ع) کی حمایت میں اس پر اعتراض کیا لیکن اکثر تمیمیوں نے ابن عامر کی حمایت کی اور اٹھ کھڑے ہوئے۔

معاویہ نے ابن عامر سے چاہا تھا کہ وہ مضریوں پر اعتماد کرے، یہی بات ازدیوں کی رنجش کا سبب بنی۔ بصرے کے نائب زیاد ابن عبید نے عبد الله بن عباس کو خط لکھا جو اس وقت کوفہ میں تھا اور بصرہ کا والی تھا۔ زیاد نے ازدیوں کی حمایت سے نماز جمعہ قائم کی اور لوگوں سے تقاضا کیا کہ وہ بنی تمیم کے مقابلے میں کھڑے ہوں۔ امام نے زیاد ابن ضبیعہ تمیمی کو بصرہ میں بھیجا تا کہ وہ بنی تمیم کو ابن عامر کی حمایت سے روکے۔ بہت زیادہ کوششوں سے بنی تمیم ابن عامر کی حمایت سے دستبردار ہوئے۔ ان حالات میں وہ خوارج کے ہاتھوں قتل ہو گیا۔ امام نے جاریۃ ابن قدامہ کی سرکردگی میں بنی تمیم کے پچاس افراد کو بصره بھیجا۔ اس نے شیعوں کیلئے امام کا خط پڑھا۔ جنگ ہوئی تو بنی تمیم شکست سے دوچار ہوئے۔

الغارات، ج 2، ص 373 ، 412

عراق پر حملہ:

معاویہ نے ضحاک ابن قیس کو عراق بھیجا اور کہا کہ جہاں جاؤ وہاں قتل و غارت اور تباہی پھیلا دو ، علی (ع) کے دوستوں کو قتل کر دو اور جلدی سے اس جگہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ چلے جاؤ۔ ضحاک کوفہ آیا لوگوں کے اموال برباد کیے اور حجاج کے کاروان پر حملہ آور ہوا۔

امام (ع) نے حجر ابن عدی کو 4000 افراد دے کر ضحاک کے پیچھے روانہ کیا۔ حجر نے اسے تدمر میں جا لیا اور وہاں جنگ ہوئی شامیوں کے 19 افراد مارے گئے۔ حجر کے ساتھیوں میں سے 2 شہید ہوئے۔ ضحاک رات کی تاریکی کا سہارا لیتے ہوئے، فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

نعمان ابن بشیر کی سرکردگی میں فرات کے اطراف عین التمر پر حملہ، معاویہ کا ایک اور ناجائز اقدام تھا، لیکن یہ حملہ معمولی سی جنگ اور نعمان کے فرار سے تمام ہو گیا۔ ان حملوں کے بعد عدی ابن حاتم نے 2000 افراد کے ساتھ شام کے نچلے علاقوں کی زمینوں میں حملے کیے۔

الغارات، ج 2، ص 445 ، 459

حجاز پر حملہ:

سن 39 ہجری کے ایام حج میں معاویہ نے یزید ابن شجره رہاوی کو مکہ بھیجا تا کہ وہ لوگوں کو معاویہ کی طرف دعوت دے۔ امام علی (ع) نے اس سپاہ کے مقابلے میں معقل ابن قیس ریاحی کو مکہ بھیجا۔ سپاه شام کسی درگیری کے بغیر مناسک حج کے بعد شام واپس چلے گئے۔ معقل نے وادی القری تک ان کا تعاقب کیا۔ چند تن اسیر ہوئے جنکا بعد میں عراق کے قیدیوں سے تبادلہ کیا گیا۔

الغارات، ج 2، ص 504 ، 516

معاویہ کی طرف سے بُسر ابن ارطاة کی سربراہی میں حجاز اور یمن پر حملہ سخت ترین غارت گری تھی۔ معاویہ نے بسر سے چاہا کہ جہاں بھی علی کے شیعوں کو پائے انہیں قتل کر دے۔ یمن میں عثمان کے حامیوں نے عراق میں اختلافات کو دیکھتے ہوئے یمن کے حاکم عبید الله ابن عباس کے خلاف بغاوت کر دی اور اسکے لیے انہوں نے معاویہ سے مدد مانگی۔

بسر پہلے مدینہ گیا، جہاں ابو ایوب انصاری قوت و قدرت نہ ہونے کی وجہ سے وہاں سے فرار کر گیا۔ بسر نے اسکا گھر جلا دیا اور لوگوں کو معاویہ کی بیعت پر اکسایا اور ابوہریره کو شہر کا حاکم بنا دیا۔ پھر وہ مکہ اور طائف گیا۔ تبالہ میں شیعوں کی ایک جماعت کو قتل کیا۔ مکہ کے لوگوں نے خوف سے فرار اختیار کیا۔ بسر نے عبید الله ابن عباس کی بیوی بچوں کو اسیر کیا اور بیٹوں کے سر اڑا دئیے، پھر نجران گیا اور عبید اللہ کے سسر عبد الله ابن عبد المدان کو قتل کیا۔ کچھ شیعوں نے دفاع کیا اور بہت سے قتل ہوئے، پھر 100 ایرانی شیعوں کو قتل کیا۔

یہ سب کچھ کرنے کے بعد اس نے حضرموت کا رخ کیا جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہاں شیعوں کی کثیر تعداد ساکن تھی۔ بسر کے حملوں کی خبر پا کر امام نے جاریۃ ابن قدامہ کو سپاہیوں کے ساتھ بسر کے تعاقب میں روانہ کیا۔ وہ جب مکہ پہنچا تو وہ وہاں سے جا چکا تھا۔ کہا گیا ہے کہ جاریہ کے کوفہ واپس پہنچنے سے پہلے امام شہید ہو چکے تھے اور لوگ امام حسن کی بیعت کر چکے تھے۔

رسول جعفریان، تاریخ خلفاء، ص 332

اموی خلافت کی تشکیل اور خلافت بنی امیہ:

امام علی (ع) کی شہادت کے بعد بیت المقدس میں شام کے لوگوں نے معاویہ کی خلیفہ کی حیثیت سے بیعت کی اور اسے خلیفۃ المسلمین کے لقب سے یاد کرنے لگے۔

ابن قتیبہ، الامامۃ و السیاسۃ، ج 1، ص 163

طبری، تاریخ الرسل و الملوک، ج 5، ص 161

معاویہ پھر عراق کی طرف متوجہ ہوا۔ امام حسن (ع) عبد اللہ ابن عباس سمیت 12000 افراد کے لشکر کے ہمراہ مدائن کی طرف روانہ ہوئے۔ جب لشکر ساباط پہنچا تو انہوں نے اپنے اصحاب کے متعلق خاص طو پر معاویہ کی جانب سے انہیں رشوت دینے اور عبید اللہ ابن عباس کی دلجوئی کی کوشش کی وجہ سے تردید کا شکار ہوئے۔ پس امام حسن نے جنگ سے ہاتھ کھینچ لیا۔

معاویہ اور امام کے درمیان صلح کی بات چلی، امام حسن نے حکومت معاویہ کے حوالے کر دی۔ امام نے صلح میں شرط لگائی کہ معاویہ کے بعد حکومت انہیں واپس ملے گی۔ معاویہ صلح کے بعد کوفہ آیا اور لوگوں کے اس اجتماع کی وجہ سے اس سال کا نام عام الجماعۃ رکھا گیا کیونکہ امت میں سے خوارج کے علاوہ سب نے ایک شخص کی بیعت کی تھی۔

یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، ج 2، ص 123

ابن کثیر، البدایہ و النہایہ، ج 8، ص 16

تاریخ خلیفہ بن خیاط، ج 1، ص 187

طبری، تاریخ الرسل و الملوک، ج 5، ص 163

ابوالفداء، اسماعیل بن علی عماد الدین، المختصر فی اخبار البشر، ج1، ص 184

جاحظ اس سال معاویہ کے بادشاہ بننے، اعضائے شورا اور مہاجرین و انصار کی نسبت اسکی استبدادیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ :

معاویہ نے اگرچہ اس سال کا نام عام الجماعۃ رکھا حالانکہ یہ سال عام الفرقہ و قہر و جبر و غلبہ کا سال تھا۔ یہ وہ سال تھا کہ جس میں امامت، ملوکیت میں اور نظام نبوی، نظام کسرائی میں تبدیل ہوا اور خلافت، مغصوب اور قیصری واقع ہوئی۔

جاحظ، رسالہ الجاحظ فی بنی امیہ، ص  124، رسالہ النزاع و التخاصم کے ساتھ چھپا ہے،

حکومت معاویہ اگرچہ پہلا حاکمیت کا تجربہ تھا کہ جس میں دینی و سیاسی ، قبیلائی اور علاقائی اختلافات میں زور گوئی کے ذریعے اور سیاسی حیلوں کے توسط سے قدرت حاصل کی گئی تھی۔

محمدسہیل طقوش، دولت امویان،با اضافات رسول جعفریان، ترجمہ حجت الله جودکی، ص 19

معاویہ واضح طور پر کہا کرتا تھا کہ اس نے یہ خلافت کو لوگوں کی محبت ، دوستی اور انکی رضایت سے نہیں بلکہ تلوار کے زور سے حاصل کی ہے۔

ابن عبدربہ، العقد الفرید، ج 4، ص 81

بہرحال اس طرح مکر و حیلے اور ڈرا دھمکا کر اموی حکومت بن گئی اور معاویہ اس کا خلیفہ بنا۔ بنی امیہ کی حکومت کا سلسلہ 91 سال تک چلتا رہا۔ اس میں 14 خلفاء نے حکومت کی۔ پہلا معاویہ ابن ابی سفیان اور آخری مروان ابن محمد جعدی تھا۔

محمد بن علي بن محمد المعروف بابن العمراني، الإنباء في تاريخ الخلفاء، ص 53

 صَّلاَّبي، عَلي محمد محمد، الدولَۃ الأمويَّہ عَواملُ الازدہارِ وَتَداعيات الانہيار، ج 1 ص 297

ابن کثیر، البدایہ والنہايہ، ج 8 ص 288

خلافت سے پہلے معاویہ کی کوششیں اور اقدامات:

معاویہ نے اگرچہ ظاہری طور پر اعلان کیا تھا کہ اسکی علی (ع) سے مخالفت خلافت کیلئے نہیں ہے۔ اس نے جنگ جمل سے پہلے زبیر ابن عوام کو خط لکھا کہ:

اس نے شام کے لوگوں سے اسکے لیے بیعت لے لی ہے، اگر عراق انکا ساتھ دے تو شام کی طرف سے کوئی مشکل نہیں ہے۔ زبیر اس خط سے بہت خوش ہوا۔

امین، احمد، اعیان الشیعہ، ج 3، ص 12

معاویہ نے لوگوں کے درمیان خلیفہ کے انتخاب کے لیے شورا کا نظریہ پیش کیا۔ معاویہ اس در پے تھا کہ قریش کی سیاسی شخصیات خاص طور پر شورا کے موجود افراد کو اپنی طرف جذب کرے اور اس سے سیاسی مقاصد حاصل کرے۔ معاویہ نے یہ مسئلہ ایک خط میں امام علی (ع) کے سامنے بھی پیش کیا تھا۔

ابن قتیبہ، الامامہ و السیاسہ، ج 1، ص 121

دیگر تاریخی منابع کے مطابق اس نے امیر المؤمنین کے نام سے نہیں، بلکہ امیر کے نام سے بیعت کی لیکن امام علی (ع) کی شہادت کے بعد خلافت کا ادعا کیا اور لوگوں نے امیر المؤمنین کے نام سے اسکی بیعت کی۔

بلاذری، انساب الاشراف، ج 5، ص 161

ابن منظور، مختصر تاریخ دمشق، ج 25، ص 27

معاویہ نے حمص کے حاکم کو خط لکھا اور کہا لوگ جس نام سے بھی اسکی بیعت کریں، انکو اختیار حاصل ہے۔ حمص کے اشراف معاویہ کی امیر کے عنوان سے بیعت پر راضی نہیں ہوئے کیونکہ خلیفہ کے بغیر عثمان کی خوانخواہی کیلئے نکلیں گے۔ پس اس لحاظ سے حمص کے وہ پہلے لوگ ہیں جنہوں نے معاویہ کی خلیفہ کے عنوان سے بیعت کی تھی۔ اس کے بعد شام کے لوگوں نے بھی خلیفہ کے عنوان سے اسکی بیعت کی۔

ابن قتیبہ، الامامہ و السیاسہ، ج 1، ص 100

معاویہ کے طلقاء میں سے ہونے کی وجہ سے خلافت کا مسئلہ اس کیلئے دشواری پیدا کرتا تھا۔ معاویہ نے شام میں اپنے آپ کو « خال المؤمنین » اور « کاتب وحی » کے عنوانات سے پہچنوایا تھا اور اس لحاظ سے اپنی طلقاء میں سے ہونے کی مشکل کو حل کرنے کی کوشش کی تھی۔

محمد سہیل طقوش، دولت امویان، ص 22

معاویہ کی سیاست کرنے کا انداز اور طریقہ:

معاویہ کی امام حسن (ع) کے ساتھ صلح کے ساتھ اس کی خلافت کا پہلا دور اختتام ہوا اور اموی دور حکومت کا آغاز ہوا۔ معاویہ کی حکومت کا پایہ تخت دمشق تھا۔ اس نے اپنے اہداف کے تحت اپنی حکومت کی بنیادیں فراہم کیں۔ اسکی اہم کوششیں عبارت ہیں:

نظام سیاسی میں تبدیلی ،

فوج کے کردار کو اساسی محور قرار دینا ،

قبائل کا موازنہ اور چلانا ،

ولیعہدی کا ایجاد ،

مخالفین کی سرکوبی ،

خوش روئی کا مظاہرہ کرنا اور بزرگ شخصیات اسلامی کو بخشش و ہدایا جات دینا ،

جابر اور قدرتمند والیوں کے ذریعے امنیت ایجاد کرنا ،

حکومتی کاموں کا انتظام کرنا اور توسع طلبانہ سیاستیں ،

محمد سہیل طقوش، دولت امویان، ص 18

معاویہ کا خلافت کے استحکام کیلئے ظاہری طور پر دینی اصولوں کا استعمال کرنا:

معاویہ اپنی خلافت کے استحکام کیلئے ظاہری طور دکھاوئے کے لیے، بعض دینی اصول بھی بروئے کار لاتا تھا۔ قدرت حاصل کرنے کیلئے اپنے آپکو خدا کی طرف سے (نمائندہ) سمجھتا تھا، کیونکہ تمام کام اسی کی طرف سے ہیں۔

ایک زمانے میں معاویہ نے کہا:

میری یہ خلافت خداوند کا امر اور اس کی قضاؤں میں سے قضائے الہی ہے۔ معاویہ نے یزید کی ولی عہدی کے متعلق عائشہ کی مخالفت کے وقت کہا: یہ قضائے الہی ہے اور قضائے الہی میں کسی کو کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔

 بعض نے نقل کیا ہے کہ اسی نے عائشہ کو قتل کروایا تھا۔

بصرے اور کوفہ میں معاویہ کے حاکم زیاد ابن ابیہ نے اپنے معروف خطبے کے ضمن میں کہا :

اے لوگوں ! ہم سیاست کرنے والے ہیں اور آپ کے مدافع ہیں اور ہم تمہیں اس حکومت کی طرف سیاست کرتے ہیں کہ جو خدا نے ہمیں دی ہے۔

یزید نے بھی اپنے پہلے خطبے میں کہا تھا:

 اسکا باپ بندگان خدا میں تھا ، خدا نے اس پر اکرام کیا اور اسے خلافت بخشی .... اور اب خدا نے وہ خلافت مجھے عطا کی ہے۔ معاویہ کے سامنے عثمان کے بیٹے نے یزید کی ولایتعہدی پر اعتراض کیا اور کہا کہ تم لوگ میرے باپ کی وجہ سے تخت نشین ہوئے ہو تو اس نے جواب میں کہا:

 یہ وہ حکومت ہے جسے خدا نے ہمارے اختیار میں دیا ہے۔

معاویہ اپنے بارے میں لفظ مُلک کے استعمال سے خوش ہوتا تھا۔ معاویہ کہتا تھا:

انا اول الملوک،

میں پہلا بادشاہ ہوں،

وہ شاہی نظام کو صرف ایک سیاسی نظام سمجھتا اور توضیح دیتا تھا کہ: لوگوں کی دینداری کے ساتھ اس کا کوئی کام نہیں ہے۔

اس سے منقول ہے کہ:

 خدا کی قسم ! میری جنگ اقامۂ نماز، زکات دینے اور حج کرنے کیلئے نہ تھی یہ کام تو تم انجام دیتے تھے، بلکہ میں نے تم پر حکومت کرنے کیلئے جنگ کی اور خدا نے مجھے وہ دی حالانکہ تم اس پر ناخوش ہو۔

کاندہلوی، حیاة الصحابہ، ج 3، ص 63

ابن منظور، مختصر تاریخ دمشق، ج 9، ص 85: هذه الخلافة امر من امرالله و قضاء من قضاء الله،

ابن قتیبہ، الامامہ و السیاسہ، ج 1، ص 205

 الصراط المستقیم، ج 3، ص 48

ابن اعثم کوفی، الفتوح، ج 4، ص 180

جاحظ، ابو عثمان عمرو، البیان و التبیین، ج 2، ص 49

طبری، تاریخ الرسل و الملوک، ج 5، ص 220

ابن قتیبہ، الامامہ و السیاسہ، ج 1 ، ص  225؛ دینوری،

ابو حنیفہ، الاخبار الطوال، ص 226

بلاذری، انساب الاشراف، ج 4، ص 299

ابن قتیبہ، الامامہ و السیاسہ، ج 1، ص 214

یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، ج 2، ص 232

ابن ابی شیبہ، المصنف، ج 11، ص 147

ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج 16، ص 46

ابن منظور، مختصر تاریخ دمشق، ج 25، ص 43

معاویہ کا جھوٹی احادیث کو جعل کرنا اور گھڑنا:

معاویہ کے دور حکومت میں جعل حدیث کا سلسلہ شروع ہوا، یہاں تک کہ جو افراد اہل بیت کی مذمت میں احادیث جعل کرتے تھے، تو معاویہ سرکاری طور پر انکی کی پشت پناہی کرتا اور انکو مال و اکرام سے نوازتا تھا۔

ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج 4، ص 63

معاویہ کی مدح میں اس قدر احادیث جعل ہوئیں کہ ابن تیمیہ بھی اس کا اقرار کرتا ہے۔ وہ حدیث طیر کے رد میں لکھتا ہے کہ:

معاویہ کے فضائل میں بہت زیادہ احادیث جعل کی گئیں اور مستقل کتابیں لکھی گئیں۔ حدیث کے اہل دانش نہ انہیں درست سمجھتے ہیں اور نہ اسے صحیح سمجھتے ہیں۔

ابن تیمیہ منہاج السنہ النبویہ، ج 7، ص 371

معاویہ کا حکومتی سسٹم اور نظام:

معاویہ نے اپنی توانائی کے تحت حکومتی استفادے کیلئے سودمند اداری طریقے، دیوانوں کی ایجاد اور مفید وسائل بروئے کار لا کر ان سے خوب فائدہ حاصل کیا۔ معاویہ کے دور حکومت میں دیوانوں کا تحول قابل مشاہدہ تھا۔ روم اور ایران کے ساتھ ارتباط میں یہ امر مؤثر تھا۔ اموی دفتری سسٹم میں اسے تکامل بخشے بغیر عمر ابن خطاب کی پیروی کرتے تھے۔ معاویہ نے اپنے پاس موجود رومی حکومت میں کام کرنے والے عیسائیوں جیسے سرجون ابن منصور رومی اور اسکے بیٹے منصور ابن سرجون سے دیوان منظم کرنے میں مدد لی تھی۔

صَّلاَّبي،عَلي محمد محمد ، الدولَۃ الأمويَّہ عَواملُ الازدہارِ وَتَداعيات الانہيار، ج 1 ص 356

معاویہ نے دیوان خاتم اور دیوان برید کے نام سے دو دیوان (ادارے) تاسیس کیے تا کہ خطوط مہر کے بغیر نہ رہیں اور خلیفہ کے علاوہ کوئی اور شخص ان کے اسرار سے آگاہ نہ ہو نیز خطوط جعل اور دگرگونی کا شکار نہ ہوں۔

دیوان البرید میں خطوط کی ارسال و ترسیل کا کام کیا جاتا۔ دیوان خاتم کے لوگ ان خبروں کو حاصل کرتے جو صوبوں کے گورنر خلیفہ کی طرف بھجواتے تھے۔ دیوان برید خلیفہ اور اسکے عاملوں وغیرہ کے درمیان ارتباط کو سرعت بخشنے کیلئے قائم کیا گیا۔ ان دو دیوانوں (اداروں) کے ملازمین خطوط کے ارسال و ترسیل کے علاوہ خلیفہ کے جاسوس بھی تھے جو گورنروں کی حرکات و سکنات کو زیر نظر رکھتے تھے اور اپنی معلومات خلیفہ کو پہنچاتے تھے۔ معاویہ نے ان اداروں کیلئے خطیر رقم خرچ کی تھی۔

اہم واقعات:

خوارج:

معاویہ کے دور حکومت میں خوارج کی نسبت گورنروں کے شدت عمل اور سختی کے باوجود وہ مسلسل ان کی جانب سے نا آرام رہے۔ معاویہ، امام علی (ع) کی نسبت خوارج سے زیادہ نفرت کرتا تھا اور خوارج معاویہ کو اسلام سے منحرف سمجھتے تھے۔ انکے اعمال نے اموی خلیفہ کو پریشان کیا اور وہ مسالمت آمیز راستوں کے مخالف تھے، اسی وجہ سے معاویہ نے انہیں خشونت سے جواب دیا۔

مرکز خلافت کے کوفہ سے دمشق منتقل ہونے کے ہمزمان خوارج نے معتدل تر اور سازگار تر راستہ اختیار کیا کہ جو حروریہ کی سرگرمیوں کا مرکز کوفہ سے بصرہ کی طرف منتقل ، ان کی تحریک میں اندرونی گروہ بندی اور سستی اور ایک عقیدتی گروہ کی صورت میں ظاہر ہوا۔

عقیدے کے لحاظ سے خوارج کی مختلف مشابہ گروہ بندی انکی فوجی طاقت پر منفی انداز میں مؤثر ہوئی، اس سے اموی حکومت کو ان پر غلبہ حاصل کرنے کا موقع ملا۔

جنگ نہروان خوارج کی پہلی اور آخری جنگ تھی جس میں وہ ایک دشمن کے مقابلے میں ایک سربراہ کی سرکردگی میں اکٹھے ہوئے تھے، اس کے بعد وہ پراکندہ ہو گئے۔ کوفہ کے خوارج نے فروة ابن نوفل اشجعی کی سربراہی میں امام حسن (ع) اور معاویہ کی صلح کی مخالفت کی اور ابھی معاویہ کوفہ میں ہی تھا کہ انہوں نے اس پر شورش بپا کرتے ہوئے نخیلہ میں لشکر کشی کی جس کے نتیجہ میں معاویہ کی سپاہ اور انکے درمیان جنگ ہوئی۔

ابن الأثير ، الکامل فی التاریخ، ج 3 ص 9

سن 43 ہجری میں مستورد ابن علقمہ کی سرکردگی میں معاویہ کے خلاف سب سے بڑی بغاوت ہوئی۔ کوفہ کے حاکم مغیره ابن شعبہ نے مذار نامی جگہ پر انہیں سرکوب کیا۔

خوارج کے قبائل کی پراکندگی، اہل کوفہ، عراق میں معاویہ کی مرکزی حکومت کا انکے مقابلے میں سخت مؤقف اور کوفیوں کے شیعیان آل علی کی جانب میلان نے بھی خوارج کی سرکوبی میں مغیرہ کی مدد کی۔ اگرچہ خوارج نے کوفیوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کافی کوششیں کیں لیکن کوفیوں نے سیاسی منافع کی وجہ سے انکے ساتھ جنگ کرنے کو ترجیح دی۔ کوفہ کے خوارج چند سال آرام کے ساتھ رہے یہانتک کہ سال 58 ہجری میں حیان ابن ظبیان سلمی نے شورش برپا کی۔ ایک سال بعد باقیاء میں ہونے والی جنگ میں تمام خوارج قتل ہو گئے اور اس طرح یہ بغاوت دم توڑ گئی۔

ابن الأثير ، الکامل فی التاریخ، ج 3 ص 108

بصرہ کے خوارج نیز کوفہ کے خوارج کی مانند کبھی کبھی شورشیں بپا کرتے تھے۔ وہاں سال 41 ہجری میں سہم ابن غالب اور خطیم باہلی کی قیادت میں قیام کیا۔ اموی حکمران ابن عامر نے انہیں سرکوب کیا۔ ابن عامر کو خوارج کے ساتھ نرم برتاؤ کرنے کی وجہ سے معاویہ کی جانب سے برطرف ہونا پڑا۔ سال 45 ہجری میں زیاد ابن ابیہ بصرہ کا حکمران بنا۔ اس نے خوارج کے مقابلے میں سخت گیرانہ سیاست اختیار کی۔ سال 53 ہجری میں زیاد کے مرنے کے بعد خوارج کی سرگرمیاں پھر نئے سرے سے شروع ہوئیں لیکن سال 55 ہجری میں عبید اللہ ابن زیاد کے حاکم بننے کے بعد اس نے ان کا تعاقب کیا اور انہیں زندانی اور قتل کیا۔

عراق سے باہر کے سیاسی حالات:

عراق سے باہر کے سیاسی حالات نے معاویہ کیلئے کوئی خاص مشکلات پیدا نہیں کیں۔ والیان کسی اعتراض کے روبرو ہوئے بغیر اپنی حکومتیں کرتے رہے۔ عمرو ابن عاص نے مصر میں دو سال حکومت کی اور سال 63 ہجری میں مر گیا پھر اس کا بیٹا عبد الله دو سال تک اس کا جانشین رہا، پھر معاویہ کا بھائی عتبہ ابن ابی سفیان اور پھر معاویہ ابن جدیج ترتیب کے ساتھ مصر کے حاکم رہے۔

حجاز میں امام حسن (ع)، امام حسین (ع)، عبد الله ابن زبیر و... جیسی قد آور اسلامی شخصیات تھیں۔ اس وجہ سے اس علاقے کو معاویہ مستقیم زیر نظر رکھتا تھا اور یہاں کے لوگوں کیلئے اموی خاندان کا والی بناتا تا کہ وہ اسکی سیاست کا اجرا کرے۔ مدینہ کے امور مروان ابن حکم اور سعید ابن عاص کے ذریعے چلائے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ غیر سیاسی مختلف سرگرمیوں جیسے مشاعرہ، موسیقی اور علوم دینی کی طرف لوگوں کو تشویق کرتا تھا۔ اس مسئلے نے مکہ اور مدینہ کو معاشرتی اور اجتماعی لحاظ سے اہم ترین مراکز میں تبدیل کر دیا تھا۔

شیعہ:

کسی شک و شبہ کے بغیر  معاویہ شیعوں کو اپنے   دشمنوں میں سے شمار کرتا تھا۔ معاویہ اور اسکے عاملین اور والی مختلف شکلوں میں شیعوں کے روبرو ہوتے تھے۔

امام علی (ع) سے بیزاری پیدا کرنا:

شیعوں کا مقابلہ کرنے کیلئے معاویہ کی اہم ترین روشوں میں سے ایک روش لوگوں کے درمیان امام علی (ع) سے نفرت و بیزاری کو پیدا کرنا تھا۔ معاویہ اور اسکے بعد کے دیگر اموی حاکمان معاشرے سے علی (ع) کے چہرے کو حذف کرنے کی خاطر ان کا ایک جنگجو اور خونریز شخص کے طور پر تعارف کرانے کیلئے سرگرم رہے۔

محمد سہیل طقوش، دولت امویان، ص 28

محفلوں میں ان سے نفرت کا اظہار کرتے اور ان پر لعن کرتے۔ ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں معاویہ کی طرف سے علی (ع) کی مذمت میں جعلی اور من گھڑت احادیث کی طرف اشارہ کیا ہے۔

ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج 4، ص 63 باب فصل في ذكر الأحاديث الموضوعة في ذم علي

معاویہ اور اسکے بعد امیوں کے دور حکومت میں علی (ع) پر لعن اور دشنام درازی ایک متداول اور رائج رسم تھی یہانتک کہ عمر ابن عبد العزیز کے دور میں اس کا خاتمہ ہوا۔

سیوطی، تاریخ الخلفاء، ص 243

چنانچہ جب مروان ابن حکم سے سوال کیا گیا کہ منبروں پر علی کو ناسزا کہا جاتا ہے ؟ اس نے جواب دیا:

بنی امیہ کی حکومت علی کو گالیاں دیئے بغیر  باقی نہیں رہ سکتی ۔

عَن عمر بن عَلی قَالَ: قَالَ مروان لعلی بن الْحُسَین: ما کانَ أحد أکف عَن صاحبنا من صاحبکم. قَالَ: فلم تشتمونه عَلَی المنابر؟!! قَالَ: لا یستقیم لنا هذا إلا بهذا،

۔۔۔۔۔ یہ حکومت علی کو سبّ و شتم کیے بغیر قائم نہیں رہ سکتی۔

بلاذری، انساب الاشراف، ج 2، ص 184

معاویہ کہتا تھا:

علی پر لعن و سبّ اس طرح پھیل جانا چاہیے کہ بچے اسی عادت کے ساتھ بڑے ہوں اور جوان اسی کے ساتھ بوڑھے ہوں۔ کوئی شخص اسکی ایک بھی فضیلت نقل نہ کرے۔

ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج 4، ص 57

العمانی، النصایح الکافیہ، ص 72

معاویہ نے سمرة ابن جندب کو چار لاکھ دینار دیئے کہ وہ کہے:

و هو الد الخصام،

سورہ بقرہ آیت 204

علی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج 4، ص 361

اس نے صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت بنائی کہ جو علی (ع) کی مذمت میں جھوٹی روایات جعل کرتے تھے۔ ان میں سے ابو ہریره، عمرو ابن عاص، مغیره ابن شعبہ اور عروه ابن زبیر وغیرہ شامل تھے۔

وہ خطبے کے آخر میں علی (ع) پر لعن کرتا اور اگر اسکے والی ایسا نہ کرتے تو انہیں عزل کر دیتا۔ اس نے معاشرے میں اس قدر خوف و ہراس پیدا کر دیا تھا کہ لوگ اپنے بیٹوں کے نام، علی نہیں رکھتے تھے۔

حجر ابن عدی اور اسکے اصحاب کی شہادت:

جب مغیره اور دوسرے لوگ کوفہ میں منبر پر علی (ع) کو لعن کیا کرتے تھے تو ایسے حالات میں بھی حجر ابن عدی کندی اور عمرو ابن حمق خزاعی اور انکے ساتھی کھڑے ہو جاتے اور انکی لعن کو انکی طرف نسبت دیتے اور اس کے متعلق بات کرتے تھے۔ مغیره کے بعد زیاد ابن ابیہ حاکم کوفہ بنا۔ وہ انکی گرفتاری کے در پے ہوا۔ عمرو ابن حمق خزاعی اور اسکے ساتھ چند افراد موصل فرار کر گئے جبکہ حجر ابن عدی 13 افراد کے ساتھ اسیر ہو گیا اور انہیں معاویہ کی طرف روانہ کر دیا گیا۔ زیاد نے معاویہ کو خط میں لکھا کہ:

ابو تراب علی کی کنیت پر لعن کرنے والے مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ مخالفت کرتے ہیں اور والیوں پر دروغ باندھتے ہیں، اس وجہ سے یہ اطاعت سے خارج ہو گئے ہیں۔ جب یہ اسیر مرج عذراء پہنچے کہ یہاں سے دمشق چند میل دور رہ گیا تھا تو معاویہ نے حکم دیا کہ انکی گردنیں اڑا دی جائیں۔ 6 افراد کسی کی سفارش اور وساطت سے بچ گئے اور باقی 7 افراد : حجر ابن عدی کندی، شریک ابن شداد حضرمی، صیفی ابن فسیل شیبانی، قبیصہ ابن ضبیعہ عبسی، محرز ابن شہاب تمیمی، کدام ابن حیان عنزی کی گردنیں اڑا دی گئیں۔

یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ج 2، ص 162

اگرچہ یعقوبی نے افراد کی تعداد سات بیان کی ہے اور نام چھ افراد کے ذکر کیے ہے۔

عبد الرحمان ابن حسان عنزی.

الطبری، تاریخ الطبری، ج 4، ص 207

طبری نے 7 افراد کے نام ذکر کیے ہیں، محرز ابن شہاب کو تمیمی کی بجائے « سعدی منقری » کے ساتھ ذکر کیا ہے۔

حجر ابن عدی اور اسکے ساتھیوں کی شہادت کی خبر امام حسین (ع) کیلئے نہایت گراں گزری لہذا آپ نے معاویہ کو ایک خط میں اس خشن آمیز رفتار اور اسکے قتل پر بہت سخت رد عمل کا اظہار کیا۔

الامامۃ والسیاسۃ، دینوری، ص 223

تاریخ طبری، ج 5، ص 279

رجال کشی، ص 99

عائشہ نے بھی اس کام پر سخت نکتہ چینی کی تو معاویہ نے اس کی توجیہ کرتے ہوئے کہا کہ اس میں امت کی اصلاح تھی۔ عائشہ نے اسے جواب دیتے ہوئے کہا:

سمعت رسول الله (صلی الله علیه و آله) یقول سیقتل بعذراء اناس یغضب الله لهم و اهل السماء،

میں نے رسول خدا سے سنا تھا کہ عنقریب لوگ عذراء میں قتل ہونگے اور اہل آسمان اور خدا انکے قتل کی وجہ سے خشم آور ہونگے۔

سیوطی، الجامع الصغیر، ج 2، ص 61

ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ج 12، ص 226

الصفدی، الوافی بالوفیات، ج 11، ص 248

مجلسی، بحار الانوار، ج 18، ص 124

حسن بصری نے کہا ہے کہ:

معاویہ میں ایسی چار خصلتیں ہیں کہ ان میں ہر ایک معاویہ کی ہلاکت کیلئے کافی ہے :

پہلی: کسی سے مشورے کے بغیر تلوار کے زور پر مسلمانوں کی گردنوں پر سوار ہو جانا جبکہ اس سے با فضیلت صحابہ موجود تھے۔

دوسری: اپنے دائم الخمر بیٹے کو جانشین بنانا کہ جو ہمیشہ ریشم پہنتا اور تنبور میں مشغول رہتا تھا۔

تیسری: زیاد کو اپنا بھائی کہنا جبکہ رسول خدا (ص) نے فرمایا تھا :

الولد للفراش و للعاہر الحجر،

بیٹا صاحب بستر کا ہے اور زنا کار کیلئے صرف پتھر ہیں۔

چوتھی: حجر کا قتل،

اس وقت دو مرتبہ کہا : ہائے افسوس حجر اور اس کے ساتھیوں پر۔

ابن الاثیر، الکامل فی التاریخ، ج 3، ص 487

الطبری، تاریخ الطبری، ج 4، ص 208

شیعوں پر سختی اور دباؤ:

شام کے مقابلے میں معاویہ کی سیاست عراق کے شیعوں کی نسبت کارساز نہیں ہو سکی تھی۔ اس لیے اس نے قتل اور شکنجے دینے کے راستے کو اپنایا۔ امویوں نے اپنے دور میں شیعوں کیلئے ترابیہ کی اصطلاح رائج کی ہوئی تھی۔

عبید اللہ ابن زیاد نے معاویہ کو خط لکھتے ہوئے حکومت بنی امیہ کے مخالفین جو حجر ابن عدی اور اصحاب امام علی (ع) تھے، کے متعلق ترابیہ کا لفظ استعمال کیا۔

طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج 3 ص 228

امام علی (ع) کی حکومت کے دور حکومت سے ہی شیعیان علی کا قتل و غارت شروع ہو گیا تھا۔

معاویہ نے بسر ابن ارطاة، سفیان ابن عوف غامدی اور ضحاک ابن قیس کو عراق اور حجاز بھیجا اور ان سے تقاضا کیا کہ جہاں بھی اور جس حالت میں بھی شیعوں کو پاؤ، انہیں قتل کر دو۔

مغیره سن 41 ہجری سے 49 یا 50 ہجری تک کوفہ کا والی رہا اور وہ شیعوں کی نسبت درگزر اور نرمی سے کام لیتا تھا۔ اس طرح کوفہ کے سیاسی فضا میں آرام اور سکون تھا۔ مغیره کی وفات کے بعد معاویہ نے بصرہ کے والی زیاد ابن ابیہ کو کوفہ کی امارت بھی دے دی۔ اس نے آتے ہی ان 80 افراد کے ہاتھ کاٹ دیئے جنہوں نے اسکی بیعت نہیں کی تھی۔

 مسلم ابن زیمر اور عبد الله ابن نجی ان شیعوں میں سے ہیں جو اس کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ امام حسین (ع) نے حجر ابن عدی کی شہادت کے بعد معاویہ کو خط لکھا جس میں امام نے اسکی مظلومانہ شہادت کا تذکرہ بھی کیا تھا۔

محمد بن حبيب أبو جعفر البغدادي، المحبر، اسماء المصلبین الاشراف، ص 479،

کوفہ سمیت پورے عراق کے شیعوں کی سرکوبی کا حکم زیاد کو دیا گیا تھا۔ ابن اعثم کہتا ہے کہ:

وہ مسلسل شیعوں کے تعقب میں رہتا تھا، جہاں بھی وہ ملتے انہیں قتل کر دیتا تھا، اس طرح بہت سے شیعہ اس کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ لوگوں کے ہاتھ و پاؤں کاٹ دیتا اور آنکھیں نکال دیتا۔ البتہ معاویہ نے بھی شیعوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو قتل کیا تھا۔

منقول ہوا ہے کہ معاویہ نے خود حکم دیا کہ شیعوں کی ایک جماعت کو سولی پر لٹکا دیا جائے ۔ زیاد شیعوں کو مسجد میں جمع کرتا اور انہیں کہا جاتا کہ علی (ع) سے بیزاری کا اعلان کریں۔ امام حسن (ع) نے شیعوں کے ساتھ زیاد کے اس رویے کی شکایت کی لیکن معاویہ نے اسی طرح اپنے عمّال کو لکھا:

تمہارے درمیان جو بھی علی سے دوستی کا متہم ہے، اسے اپنے درمیان سے ہٹا دو حتی کہ اگر پتھروں کے نیچے سے تم کو اس کام کے لیے گواہ کی ضرورت ہی پڑے تو اسے ڈھونڈ کر اس سے گواہی لے کر اس شیعہ کو قتل کر دو۔

بیعتِ یزید:

خلافت یزید کیلئے بیعت لینا دیگر مسائل کی نسبت اس بات کا باعث بنا کہ لوگ معاویہ کے مقابل کھڑے ہوں یا اس پر تنقید کریں۔ وہ اپنی خلافت کی جانشینی میں ابوبکر کی روش سے باہر نکل گیا تھا۔

عبد الطیف، عبد الشافی، العالم الاسلامی فی العصر الاموی، ص 121

جس سسٹم کی اس نے بنیاد ڈالی تھی اس میں ضروری تھا کہ حکومت وراثتی ہونی چاہیے۔ ایک طرف ایسے کام کو عملی جامہ پہنانا، آسان کام نہ تھا، کیونکہ عرب اس سے پہلے موروثی نظام سے آشنا نہیں تھے تو دوسری طرف وہ اس بات سے ڈرتا تھا کہ اموی حکومت کے قیام میں 30 سال کی کوششوں کا ثمرہ ضائع نہ ہو جائے۔

معاویہ چاہتا تھا کہ انتخاب خلیفہ کا اختیار بنی امیہ میں باقی رہے۔ اسی منظور اور مقصود کے پیش نظر اس نے یزید کا انتخاب کیا۔ دوسری طرف اس بات کا بھی قائل تھا  کہ حکومت کا دار الحکومت شام میں ہی رہے کیونکہ شامیوں کا رجحان بنی امیہ کی جانب تھا۔

محمد سہیل طقوش، دولت امویان، ص 33

مشہور روایت کے مطابق مغیرة ابن شعبہ نے معاویہ کے ذہن میں سب سے پہلے یزید کی جانشینی والی بات ڈالی تھی۔

طبری، تاریخ الرسل و الملوک، ج  5، ص 301 ، 307

البتہ معاویہ بھی یہی چاہتا تھا لیکن مغیره نے کھلم کھلا لوگوں کے درمیان اس موضوع کو بیان کیا۔

محمد سہیل طقوش، دولت امویان، ص 39

زیاد ابن ابیہ کا مؤقف ان سے مختلف تھا۔ زیاد کی رائے میں یزید ایک سست آدمی تھا، وہ خلافت کی نسبت شکار کرنے کو زیادہ پسند  کرتا تھا، اس لیے وہ خلیفہ بننے کیلئے بالکل مناسب نہیں تھا، نیز اسکے مخالفین زیادہ طاقتور تھے۔

طبری، تاریخ الرسل و الملوک، ج 5، ص 302

معاویہ نے زیادہ کی تجاویز کو اہمیت دیتے ہوئے امام حسن (ع) اور انکی اولاد اور اصحاب کے قیام کو روکنے کی خاطر یزید کی ولایت عہدی کے مسئلے کو کسی مناسب موقع کے انتظار میں مؤخر کر دیا۔ اسی دوران اس نے یزید کی ولی عہدی میں بننے والی رکاوٹ بزرگ شخصیات کو آرام آرام سے راستے سے ہٹا دیا۔ ابو الفرج اصفہانی مقاتل الطالبیین مں لکھتا ہے کہ:

جب معاویہ نے یزید کو خلافت کے لیے چنا اور لوگوں سے بیعت لینے کا ارادہ کیا تو مخفیانہ طور پر امام حسن (ع) اور سعد ابن ابی وقاص کیلئے مخفیانہ زہر بھیجا لہذا وہ چند روز نہیں گزرے تھے کہ وہ دونوں اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

مقاتل الطالبین، ج 1 ص 13

یہاں تک کہ بعض اقوال کی بناء پر معاویہ نے اسی وجہ سے عائشہ کو بھی قتل کروا دیا تھا۔

الطرائف فی معرفۃ مذاہب الطوائف، ج 2، ص 503

الصراط المستقیم، ج 3، ص 48

معاویہ کے یزید کی ولی عہدی کے بارے میں اقدامات اور رکاوٹیں:

یزید کی ولی عہدی میں درج ذیل اہم رکاوٹیں موجود تھیں:

حجاز کی معروف شخصیات کو قائل کرنا خاص طور پر امام حسین (ع)، عبد الله ابن زبیر، عبد الله ابن عمر اور عبد الرحمان ابن ابی بکر حتی بعض اموی شخصیات مروان ابن حکم اور سعید ابن عاص۔

معاویہ نے ان شخصیات کو قائل کرنے کے لیے مروان ابن حکم کو خط میں لکھا:

یزید کا نام لیے بغیر لوگوں سے انکی رائے لو۔ جب مثبت جواب حاصل کیا تو مروان کو خط لکھا کہ یزید کی جانشینی کی اطلاع لوگوں کو دے دو۔ اسی طرح دوسرے عاملوں کو خط لکھا کہ شہروں سے یزید کی بیعت کیلئے وفد بھیجیں اور یزید کی مدح و سرائی کریں۔ اسکے نتیجے میں عراق سمیت شام کے دوسرے بڑے شہروں سے اسکی بیعت کیلئے وفد دمشق آئے۔ جلد ہی واضح ہو گیا کہ دوسرے اسلامی شہروں کی نسبت مدینہ یزید کی بیعت کا زیادہ مخالف ہے۔

امام حسین (ع) ، عبد الله ابن زبیر اور عبد الله ابن عمر نے یزید کی خلافت کیلئے حالات فراہم کرنے کی سب سے زیادہ اور شدید مخالفت کی۔ مروان نے اس بات کی معاویہ کو اطلاع دی۔ یہ چار افراد موافق ہیں کہ اگر خلافت موروثی ہے تو وہ اس کام کیلئے یزید سے زیادہ وہ خود موزوں ہیں۔ اگر برتر افراد کو خلیفہ ہونا چاہیے تو معاویہ کو چاہیے کہ وہ خود اہل حجاز کی بیعت کرے۔

 شروع میں ظاہری طور پر معاویہ نے نرمی اختیار کی اور لوگوں کو انعام و کرام دے کر اپنی طرف توجہ مبذول کرنے کی کوشش کی۔ عقیبہ اسدی اور عبد الله ابن ہمام سلولی جیسے یزید سے نفرت رکھنے والے وہ شاعر ہیں کہ جنہوں نے پیسوں کے بدلے میں اپنا مؤقف تبدیل کر لیا۔

معاویہ نے سال 56 ہجری میں قانونی طور پر یزید کی بیعت کا اعلان کیا اور دمشق میں اس کا جشن منایا گیا۔ معاویہ نے اہل حجاز کی نافرمانی روکنے کی خاطر مدینہ کا سفر کیا اور مخالفین یزید سے بیعت لے کر اس کام کو محکم کرنا چاہا لیکن معاویہ کے مدینے کے نزدیک پہنچنے کے وقت مخالفین مکہ چلے گئے۔ اس بات پر معاویہ نہایت خشمگین ہوا اور اس نے خود مکہ جانے کا ارادہ کیا۔ مسجد الحرام میں ان سے سخت لہجے میں بات چیت ہوئی۔ مخالفین کے نمائندے کے طور پر ابن زبیر نے مخالفت کا اعلان کیا اور یوں معاویہ کو اسکے ساتھ گفتگو کرنے میں ناکامی ہوئی۔ اسکے بعد معاویہ نے امام حسین (ع) و عبد الله ابن زبیر کے علاوہ دوسروں کو ڈرانے دھمکانے کے ذریعے بیعت پر راضی کرنا شروع کیا۔

ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج 3، ص 250

خلیفہ بن خیاط، تاریخ خلیفہ بن خیاط، ج 1، ص 199

ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج 3، ص 249

ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج 3، ص 251

ابن قتیبہ، الامامہ و السیاسہ، ج 1، ص 182

یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، ج 2، ص 229

جانشینی کے لیے شرابی اور زانی یزید کو تیار کرنا:

اس کام کیلئے اسے روم کی طرف بھیجے گئے لشکر میں شامل کیا گیا تا کہ وہ فوج کی مدد کرے۔ ابن عباس، ابن عمر، ابن زبیر اور ابو ایوب انصاری جیسی بڑی شخصیات بھی اس کے ہمراہ بھیجی گئیں۔ ان سے مقصد یزید کو امت اسلامی میں ایک مجاہد بنا کر پیش کرنا تھا۔

طبری، تاریخ الرسل و الملوک، ج 5، ص 232

معاویہ کی خارجہ پالیسی:

مأمون عباسی اور مدح معاویہ پر سزا:

بنی عباس میں سے شیعیت کی طرف رجحان رکھنے والا ساتواں خلیفہ مأمون سن 211 ہجری میں ہر اس شخص سے برات کا اعلان کرتا تھا کہ جو معاویہ کی مدح کرتا اور ایسا کرنے والے شخص کیلئے ایک سزا بھی مقرر کی گئی تھی۔

سیوطی، تاریخ الخلفاء، ص 364

علامہ عسکری، نقش ائمہ در احیای دین، ج 2، ص 410

ہم معاویہ کے بارے میں بحث کو مکمل طور پر صحابہ کی بحث سے الگ شمار کرتے ہیں، اس لیے کہ امیر المؤمنین علی (ع) نے کتاب نہج البلاغہ میں خط نمبر 16 میں قسم کھا کر ذکر فرمایا ہے کہ:

فَوَ الَّذِی فَلَقَ الْحَبَّةَ وَ بَرَأَ النَّسَمَةَ مَا أَسْلَمُوا وَ لَکنِ اسْتَسْلَمُوا وَ أَسَرُّوا الْکفْرَ فَلَمَّا وَجَدُوا أَعْوَاناً رَجَعُوا إِلَی عَدَوَاتِهِمْ،

خدا کی قسم معاویہ اور اسکے ساتھی بالکل اسلام نہیں لائے تھے، وہ ظاہری طور پر اسلام کا نام لیتے تھے اور اپنے کفر کو مخفی طور پر چھپاتے تھے اور آج جنگ صفین میں جب اس نے اپنے مددگاروں کو پا لیا ہے تو انھوں نے اپنے باطنی کفر کو اسلام کے خلاف ظاہر کر دیا ہے۔

نهج البلاغة، نویسنده: شریف الرضی، محمد بن حسین، محقق / مصحح: صالح، صبحی، ص 374،  16

بالکل یہی الفاظ کتاب مجمع الزوائد میں عار یاسر سے بھی معاویہ کے بارے میں نقل ہوئے ہیں:

والله ما أسلموا ولکن استسلموا وأسروا الکفر فلما رأو علیه أعوانا أظهروه،

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، اسم المؤلف: علی بن أبی بکر الهیثمی، دار النشر: دار الریان للتراث/دار الکتاب العربی - القاهرة, بیروت – 1407، ج 1، ص 113، باب منه فی المنافقین

جناب ڈاکٹر علی سامی النشار نے اپنی کتاب نشأة الفکر الفلسفی فی الإسلام، میں معاویہ کے بارے میں روایت کو ذکر کیا ہے، اس سنی شافعی مذہب عالم نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ:

فان الرجل لم یؤمن ابداً بالاسلام،

معاویہ نے بالکل اسلام کو قبول نہیں کیا تھا۔

نشأة الفكر الفلسفي في الإسلام؛ ج 2، ص 18 ط السابعة، دار المعارف سنة 1977 م

کتاب مسائل امام احمد بن حنبل میں اسحاق ابن ابراہیم نیشاپوری سے روایت نقل ہوئی ہے کہ:

سمعت علی بن جعد یقول مات والله معاویة علی غیر الاسلام،

میں نے علی ابن جعد کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ: خدا کی قسم معاویہ کی موت دین اسلام پر واقع نہیں ہوئی، یعنی وہ مسلمان دنیا سے رخصت نہیں ہوا۔

اسی طرح کتاب انساب الاشراف بلاذری میں یہ روایت ذکر ہوئی ہے اور اسی روایت کو 50 سے زیادہ اہل سنت کے علماء نے نقل کیا ہے:

کنْتُ عِنْدَ النَّبِی صَلَّی اللَّهُ عَلَیهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: یطْلُعُ عَلَیکمْ مِنْ هَذَا الْفَجِّ رَجُلٌ یمُوتُ عَلَی غَیرِ مِلَّتِی،

صحابہ کہتے ہیں کہ ہم رسول خدا کے پاس تھے کہ انھوں نے فرمایا: ابھی اس دروازے سے ایک مرد داخل ہو گا کہ جو میرے مذہب پر نہیں مرے گا۔

قَالَ: وَکنْتُ تَرَکتُ أَبِی قَدْ وُضِعَ لَهُ وَضُوءٌ، فَکنْتُ کحَابِسِ الْبَوْلِ مَخَافَةَ أَنْ یجِیءَ،

راوی کہتا ہے کہ: میرے والد وضو کرنے کے لیے چلے گئے، مجھے خود بھی بیت الخلاء جانے کی اشد ضرورت تھی، لیکن پھر بھی اس شخص کو دیکھنے کے لیے میں نے خود کو کنڑول کر کے رکھا۔

قَالَ: فَطَلَعَ مُعَاوِیةُ فَقَالَ النَّبِی صَلَّی اللَّهُ عَلَیهِ وَسَلَّمَ: هُوَ هَذَا،

راوی کہتا ہے کہ اتنے میں ہم نے دیکھا کہ اس دروازے سے معاویہ داخل ہوا ہے، اسکو دیکھتے ہی رسول خدا نے فرمایا کہ: جس شخص کے بارے میں، میں نے کہا تھا کہ وہ مسلمان دنیا سے نہیں مرے گا، وہ یہی شخص ہے۔ (یعنی معاویہ مسلمان نہیں بلکہ کافر دنیا سے جائے گا)

جمل من أنساب الأشراف، المؤلف: أحمد بن یحیی بن جابر بن داود البَلَاذُری، تحقیق: سهیل زکار وریاض الزرکلی، ج 5، ص 126، ح 362

شمس الدین ذہبی کی کتاب سیر اعلام النبلاء میں ذکر ہوا ہے کہ عبد الرزاق صنعانی بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں وہاں پر ایک شخص نے معاویہ کے نام کو ذکر کیا، تو عبد الرزاق نے غصے سے اس شخص سے کہا:

لا تقذر مجلسنا بذکر ولد أبی سفیان،

ہماری اس محفل کو ابو سفیان کے بیٹے (معاویہ) کے ذکر سے نجس نہ کرو۔

سير أعلام النبلاء ، اسم المؤلف: محمد بن أحمد بن عثمان بن قايماز الذهبي ،تحقيق: شعيب الأرناؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ج 9، ص 570

معاویہ ثانی کا یزید اور معاویہ ابن ابو سفیان پر اعتراض کرنا:

اسی طرح کتاب النجوم الزاهرة فی ملوک المصر و القاهرة میں عالم اہل سنت اتابکی نے «ذکر خلافۃ معاویۃ بن یزید بن معاویۃ» کے عنوان سے نقل کیا ہے کہ معاویہ ابن یزید ابن معاویہ کہ جو یزید کا بیٹا اور معاویہ کا پوتا ہے، اس نے یزید کے واصل جہنم ہونے کے بعد، بعنوان حاکم اموی منبر پر بیٹھ کر کہا:

أیها الناس، إن جدی معاویة نازع الأمر أهله ومن هو أحق به منه لقرابته من رسول الله صلی الله علیه وسلم وهو علی بن أبی طالب،

اے لوگو ! میرے جدّ معاویہ نے خلافت کے لیے علی ابن ابی طالب سے اختلاف کیا، حالانکہ رسول خدا سے قرابت کیوجہ سے علی، حق پر تھے۔

ورکب بکم ما تعلمون، «حتی أتته منیته، فصار فی قبره رهیناً بذنوبه وأسیراً بخطایاه» «ثم قلد أبی الأمر فکان غیر أهل لذلک، ورکب هواه وأخلفه الأمل، وقصر عنه الأجل. وصار فی قبره رهیناً بذنوبه، وأسیراً بجرمه» «ثم بکی حتی جرت دموعه علی خدیه» «ثم قال: إن من أعظم الأمور علینا علمنا بسوء مصرعه وبئس منقلبه» «وقد قتل عترة رسول الله صلی الله علیه وسلم وأباح الحرم وخرب الکعبة»

اس (معاویہ) نے خود کو کسطرح تم لوگوں کی گردنوں پر سوار (مسلط) کیا کہ تم سب بہتر جانتے ہو، یہاں تک کہ وہ موت پا کر قبر میں چلا گیا ہے، اس حالت میں کہ قبر اپنے گناہوں اور خطاؤوں کے ہاتھوں اسیر ہے،

اس (معاویہ) کے بعد میرا باپ یزید بھی خلافت کا اہل نہیں تھا، وہ بھی اپنی ہوا و ہوس پر سوار ہو کر قبر میں چلا گیا ہے اور وہ بھی اپنے گناہوں اور جرم کے ہاتھوں اسیر ہے۔

پھر اس (معاویہ ابن یزید) نے بہت گریہ کیا اور کہا: میں جانتا ہوں کہ میرا باپ بد ترین جگہ پر بد ترین عذاب میں مبتلا ہے اور وہ بد ترین ٹھکانے میں ہے، اسلیے کہ اس نے رسول خدا کی عترت کو شہید کیا ہے، اور اس نے خانہ کعبہ کی حرمت کو پامال کیا ہے اور خانہ کعبہ کو منہدم کیا تھا۔

النجوم الزاهرة فی ملوک مصر والقاهرة، المؤلف: یوسف بن تغری بردی بن عبد الله الظاهری الحنفی، ج1، ص 164

معاویہ کا جہنم میں آگ کے تابوت میں ہونا:

یہ روایت متعدد کتب میں ذکر ہوئی ہے، کتاب أنساب الاشراف میں بلاذری نے خلف ابن ہشام سے اور اس نے ابو عوانہ سے اور اس نے اعمش سے اور اس نے سالم ابن ابی جعد سے نقل کیا ہے کہ:

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَیهِ وَسَلَّمَ: مُعَاوِیةُ فِی تَابُوتٍ مُقْفَلٍ عَلَیهِ فِی جَهَنَّمَ،

رسول خدا (ص) نے فرمایا ہے کہ: معاویہ جہنم میں تالا شدہ تابوت میں بند ہے۔

جمل من أنساب الأشراف، المؤلف: أحمد بن یحیی بن جابر بن داود البَلَاذُری (المتوفی: 279 هـ)، ج 5، ص 128، ح 370

متعدد روایات میں ذکر ہوا ہے کہ معاویہ جہنم کے سب سے نیچے والے درجے پر ہے اور وہ فقط ایک درجہ فرعون سے اوپر ہے، اسلیے کہ فرعون نے خدا ہونے کا دعوی کیا تھا اور معاویہ نے باقی تمام دعوے کیے تھے لیکن خدا ہونے کا دعوی نہیں کیا تھا۔

اہل سنت کے بزرگ مؤرخ طبری نے بھی لکھا ہے کہ:

إن معاویة فی تابوت من نار فی أسفل درک،

معاویہ آگ کے تابوت میں جہنم کے سب سے نیچے والے درجے میں ہے۔

تاریخ الطبری، اسم المؤلف: لأبی جعفر محمد بن جریر الطبری، ج 5، ص 622، باب ذکر الخبر عما کان فی‌ها من الأحداث الجلیلة

علی ابن جعد کہ جو ثقہ ہے، اس نے لکھا ہے کہ:

ما ضرنی أن یعذب الله معاویة ،

مجھے کسی قسم کا کوئی ضرر نہیں ہے کہ میں قائل ہوں کہ خداوند معاویہ کو عذاب کرنے والا ہے۔

سؤالات أبی عبید الآجری أبا داود السجستانی، سلیمان بن الأشعث أبو داود السجستانی، مکان النشر المدینة المنورة، ج 1، ص 254، ش 338

امیر المؤمنین علی (ع) سے معاویہ کا عجیب بغض و کینہ:

کتاب المفید بالمعجم رجال الحدیث میں جواہری نے لکھا ہے کہ:

عبد الله بن عباس من اصحاب رسول الله و علی و الحسن و الحسین روی فی تفسیر القمی عن رسول الله جلیل القدر مدافع عن أمیر المؤمنین و الحسنین و الروایاة الدالة علی مدحه مستفیضة روایاة ذامة انما وضعت لانه موالی لأمیر المؤمنین حتی أن معاویة لعنه الله کان یلعنه بعد الصلاة مع لعنه علیا و الحسنین و قیس و الأشتر،

۔۔۔۔۔ معاویہ نماز کے بعد امام علی، امام حسن اور امام حسین کو لعنت کیا کرتا تھا۔

بالکل یہی عبارت ابن اثیر کی کتاب میں بھی ذکر ہوئے ہیں:

الکامل فی التاریخ، المؤلف: أبو الحسن علی بن أبی الکرم، عز الدین ابن الأثیر ج 2، ص 684، باب ذکر تتمة أمر صفین

کتاب صحیح مسلم میں ذکر ہوا ہے کہ معاویہ واضح طور پر سعد ابن ابی وقاص سے کہتا تھا کہ تم ابو تراب کو لعنت کیوں نہیں کرتے ؟!

ما مَنَعَكَ ان تَسُبَّ أَبَا التُّرَابِ ،

کیا چیز تم کو ابو تراب پر لعنت کرنے سے منع کرتی ہے۔۔۔۔۔

صحيح مسلم، اسم المؤلف: مسلم بن الحجاج أبو الحسين القشيري النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي؛ ج4، ص 1871 ح2404

اسی طرح کتاب معجم البلدان میں حموی نے اس بارے میں سخت الفاظ لکھے ہیں کہ:

لُعِن علی بن أبی طالب رضی الله عنه علی منابر الشرق والغرب ولم یعلن علی منبرها إلا مرة ، وهو یُلعَن علی مَنابر الحرمین مکة والمدینة،

علی ابن ابی طالب پر مشرق و مغرب کے منبروں پر لعنت کی جاتی تھی، حتی مکہ اور مدینہ کے منبروں پر بھی ان پر لعنت کی جاتی تھی۔

معجم البلدان، اسم المؤلف: یاقوت بن عبد الله الحموی أبو عبد الله، ج 3، ص 191، باب السین والجیم وما یلیهما

حالانکہ رسول خدا نے فرمایا ہے کہ:

مَنْ سَبَّ عَلِیاً فَقَدْ سَبَّنِی،

جو علی کو گالی دے گا، اس نے مجھے گالی دی ہے۔

مسند الإمام أحمد بن حنبل، اسم المؤلف: أحمد بن حنبل أبو عبدالله الشيباني،– مصر؛ ج6، ص 323، ح 26791

المستدرك على الصحيحين، اسم المؤلف: محمد بن عبدالله أبو عبدالله الحاكم النيسابوري، تحقيق: مصطفى عبد القادر عطا؛ ج3، ص 130، ح4615

رسول خدا (ص) کا سخت الفاظ میں معاویہ پر لعنت کرنا:

طبری نے اپنی کتاب تاریخ طبری میں نقل کیا ہے:

وقد رآه مقبلا علی حمار ومعاویة یقود به ویزید ابنه یسوق به،

ابو سفیان گدھے پر سوار تھا، معاویہ نے اسکی لگام پکڑی ہوئی تھی اور ابو سفیان کا بیٹا یزید گدھے کو پیچھے سے ہانک رہا تھا۔

طبری نے اس مطلب کو نقل کرنے کے بعد رسول خدا کے قول کو نقل کیا ہے کہ:

لعن الله القائد والراکب والسائق،

خداوند اسکو کہ جو گدھے پر سوار ہے، اور اسکو کہ جو گدھے کے آگے ہے اور اسکو کہ جو گدھے کے پیچھے ہے، لعنت کرے، یعنی رسول خدا نے تینوں پر لعنت کی ہے۔

تاریخ الطبری، اسم المؤلف: لأبی جعفر محمد بن جریر الطبری، ج 5، ص 622، باب ذکر الخبر عما کان فی‌ها من الأحداث الجلیلة

اسی طرح اہل سنت کی معتبر کتاب المختصر فی أخبار البشر میں  ابو الفداء نے اسی روایت کو ذکر کیا ہے:

أبا سفیان مقبلاً ومعاویة یقوده، ویزید أخو معاویة یسوق به، فقال: " لعن الله القائد والراکب والسائق "

المختصر فی أخبار البشر، المؤلف: أبو الفداء عماد الدین إسماعیل بن علی ج 2، ص 57، باب خلافة أبی العباس

اسی طرح کتاب مجمع الزوائد میں ہیثمی نے تحریف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:

فمر رجل علی بعیر،

ہیثمی نے بنی امیہ کے ساتھ وفا داری نبھاتے ہوئے، روایت سے ابو سفیان، معاویہ اور یزید کے نام کو حذف کر کے لفظ " رجل " کو ذکر کیا ہے۔

کان جالسا فمر رجل علی بعیر وبین یدیه قائد وخلفه سائق فقال لعن الله القائد والسائق والراکب،

ہیثمی نے روایت کو نقل کرنے کے بعد کہا ہے کہ:

رواه البزار ورجاله ثقات،

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، اسم المؤلف: علی بن أبی بکر الهیثمی، 1407، ج 1، ص 113، باب منه فی المنافقین

اسی طرح طبرانی نے کتاب معجم الکبیر میں بھی انہی الفاظ کو ذکر کیا ہے:

أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللَّهُ علیه وسلم قال لَعَنَ اللَّهُ السَّائِقَ وَالرَّاکبَ أَحَدُهُمَا فُلانٌ قَالا اللَّهُمَّ نعم،

المعجم الکبیر، اسم المؤلف: سلیمان بن أحمد بن أیوب أبو القاسم الطبرانی، دار النشر: مکتبة الزهراء - الموصل - 1404 - 1983، الطبعة: الثانیة، تحقیق: حمدی بن عبدالمجید السلفی، ج 3، ص 71، ح 2698

اسی طرح کتاب أنساب الأشراف میں بلاذری نے بھی ذکر کیا ہے کہ:

فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی عَلَیهِ وَسَلَّمَ: لَعَنَ اللَّهُ الْحَامِلُ وَالْمَحْمُولُ وَالْقَائدُ وَالسَّائِقُ،

جمل من أنساب الأشراف، المؤلف: أحمد بن یحیی بن جابر بن داود البَلَاذُری ، ج 5، ص 129، ح 372

ابو بکر احمد ابن ہارون خلال متوفی 311 ہجری کہ جو عالم بزرگ اہل سنت ہے، اس نے اپنی کتاب السنۃ میں عبید الله ابن موسی سے روایت کو نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:

ہم راستے پر چلتے ہوئے جا رہے تھے کہ:

فحدث فی الطریق فمر حدیث لمعاویة فلعن معاویه ولعن من لا یلعنه،

ہم راستے پر جا رہے تھے کہ معاویہ کا ذکر ہوا، ہم نے معاویہ پر لعنت کی اور جو اس پر لعنت نہیں کرتا، ہم نے اس پر بھی لعنت کی۔

پھر لکھا ہے کہ:

أنه کان معه فی طریق مکة فحدث بحدیث لعن فیه معاویة،

مکہ کے راستے میں حدیث کو ذکر کیا گیا کہ رسول خدا نے معاویہ پر لعنت کی ہے،

فقال نعم لعنه الله ولعن من لا یلعنه،

راوی کہتا ہے، ہاں خدا نے بھی اس پر لعنت کی ہے اور جو اس (معاویہ) پر لعنت نہیں کرتا، اس پر بھی خدا کی لعنت ہو۔

إسناده حسن،

اس روایت کی سند حسن (معتبر) ہے۔

السنة، المؤلف: أحمد بن محمد بن هارون بن یزید الخلال أبو بکر، ج 3، ص 505، ح 808

معاویہ شیطان ہے:

زیاد حلال زادہ نہیں تھا، اسلیے کہ اسکے باپ کا ہی نہیں پتا تھا کہ کون ہے۔ اسلامی لحاظ سے بالکل غلط لیکن سیاسی مقاصد کے لیے جب معاویہ نے زیاد کو ابو سفیان کا بیٹا ظاہر کرنا چاہا تو علی (ع) نے زیاد کو خط لکھا:

كتب علي رضي الله عنه إلى زياد بن ابيه وأراد معاوية أن يخدعه باستلحاقه؛ وقد عرفت أن معاوية يستزل لبك ويستغل غربك فاحذره، فإنما هو الشيطانيأتي المؤمن من يديه ومن خلفه، وعن يمينه وعن شماله، ليقتحم غفلته، ويستلب غرته....

حضرت علی (ع) نے زياد ابن ابيہ کو خط لکھا اور فرمایا: مجھے خبر ملی ہے کہ معاویہ نے تمہاری عقل کو دھوکہ دینے کے لیے تمہیں خط لکھا ہے، زیاد تم اس سے ہوشیار رہنا، بے شک معاویہ شیطان ہے کہ جو مؤمن کے آگے پیچھے، دائیں بائیں سے اس پر حملہ کرتا ہے تا کہ اسکو غافل کر کے اسکی عقل و شعور کو اس سے چھین لے۔

زمخشري، ربيع الأبرار، ج 4، ص 281

اہل سنت سے سوال:

تم لوگ کیسے معاویہ کو عادل مانتے ہو حالانکہ تمہارے چوتھے خلیفہ نے فرمایا ہے کہ وہ یقینی طور پر شیطان ہے ؟

شخصیت معاویہ:

معاویہ کی فضیلت و مدح میں کوئی صحیح روایت بھی موجود نہیں ہے، اسی وجہ سے بخاری جیسے بندے نے کہ جو بنی امیہ کے ساتھ بہت ہی وفاداری کرنے والا ہے اور وہ ہر طرح سے ممکن کوشش کرتا تھا کہ کوئی نہ کوئی حدیث بنی امیہ کی فضیلت میں مل جائے تو اسے فوری طور پر اپنی کتاب صحیح میں ذکر کر دے، لیکن اسکے باوجود جب یہی بخاری اپنی کتاب صحیح بخاری میں معاویہ کے بارے میں بات کو شروع کرتا ہے تو باب کو ذكر معاويۃ کے عنوان سے ذکر کرتا ہےـ

صحيح البخاري، ج4، ص 219

ابن حجر نے کتاب فتح الباري شرح صحيح البخاري میں لکھا ہے کہ:

بخاری نے اپنی کتاب میں ہر جگہ ذکر کیا ہے: فضائل علی و عمر و عمار وغيره، لیکن جب معاویہ کے بارے میں بات آتی ہے تو لفظ فضائل کی بجائے، لفظ ذکر کو لاتا ہے:

فأشار بهذا إلي ما إختلقوه لمعاوية من الفضائل مما لا أصل له و قد ورد في فضائل معاوية أحاديث كثيرة لكن ليس فيها ما يصح من طريق الإسناد.

وہ (بخاری) اس بات سے اسطرف اشارہ کرنا چاہتا ہے کہ بنی امیہ نے جو فضائل معاویہ کے لیے گھڑے ہیں، وہ سارے جڑ سے ہی جھوٹے اور جعلی ہیں اور ان جعلی روایات میں سے کسی کی بھی سند صحیح و معتبر نہیں ہے۔

فتح الباري شرح صحيح البخاري لإبن حجر العسقلاني، ج7، ص81

کتب اہل سنت میں معاویہ کی مذمت میں روایات:

کیا رسول خدا (ص) سے معاویہ کی مذمت میں کوئی حدیث نقل ہوئی ہے یا نہیں ؟

روايت اول:

معاویہ اور اسکے ظاہری باپ ابو سفیان کے بارے میں براء ابن عازب سے نقل ہوا ہے کہ:

أقبل أبو سفيان و معه معاوية، فقال رسول الله صلي الله عليه و سلم: أللهم العن التابع و المتبوع! أللهم عليك بالأقيعس! فقال إبن البراء لأبيه: من الأقيعس؟ قال: معاوية.

ابو سفیان اور معاویہ اکٹھے چلتے ہوئے آ رہے تھے، رسول خدا نے انکو دیکھ کر فرمایا: خدایا ان دونوں پر لعنت فرما۔۔۔۔۔۔

وقعة صفين لإبن مزاحم المنقري، تحقيق و شرح عبد السلام محمد هارون، ص217

روايت دوم:

طبری نے نقل کیا ہے کہ:

قول الرسول عليه السلام و قد رآه مقبلا علي حمار و معاوية يقود به و يزيد إبنه يسوق به لعن الله القائد و الراكب و السائق.

اس کا ترجمہ پہلے گزر چکا ہے۔۔۔۔۔

تاريخ الطبري، ج8، ص185 ـ شرح نهج البلاغه لإبن أبي الحديد، ج15، ص175

روايت سوم:

کتاب انساب الأشراف میں بلاذری نے عبد الله ابن عمر سے نقل کیا ہے کہ: ہم رسول خدا کے پاس موجود تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رسول خدا نے فرمایا:

يموت علي غير ملتي، فطلع معاويه و قال النبي هو هذا.

یہاں سے ایک ایسا شخص ابھی آئے گا کہ اسکو میرے دین پر موت نہیں آئے گی، اتنے میں وہاں سے معاویہ آ گیا تو رسول خدا نے فرمایا: وہ یہی شخص ہے۔

أنساب الأشراف لبلاذري، ج5، ص134، چاپ دار الفكر بيروت ـ تاريخ الطبري، ج8، ص186

وقعة صفين لإبن مزاحم المنقري، تحقيق و شرح عبد السلام محمد هارون، ص220

روايت چہارم:

یہ حدیث اصل میں رسول خدا (ص) کی طرف سے معاویہ اور اسکے دوست عمرو ابن عاص کے لیے نفرین اور بد دعا ہے۔

بات ایسے ہے کہ یہ دونوں شہدائے احد کے بارے میں اشعار و ترانہ پڑھ رہے تھے کہ جس میں یہ دونوں شہداء کے بارے میں غلط باتیں کرتے ہوئے مذاق اڑا رہے تھے، ابو برزہ کہتا ہے کہ:

میں رسول خدا کے ساتھ تھا، جب ترانے کی آواز آئی تو حضرت نے مجھ سے کہا: جاؤ جا کر دیکھو یہ کن کی آواز ہے ؟ ابو برزہ کہتا ہے میں گیا تو میں نے دیکھا کہ معاویہ اور عمرو ابن عاص اشعار پڑھ رہے تھے، میں نے انکے بارے میں آ کر رسول خدا کو بتایا تو انھوں نے فرمایا:

أللهم اركسهما في الفتنة ركسا و دعهما إلي النار دعّا.

خدايا ! ان دونوں کے سروں کو فتنے میں قرار دے اور شدت کے ساتھ ان دونوں کو جہنم کی آگ میں داخل فرما۔

المعجم الكبير للطبراني، ج11، ص32

مسند أبي يعلي، ج13، ص429

كتاب المجروحين لإبن حبان، ج3، ص101

وقعة صفين لإبن مزاحم المنقري، تحقيق و شرح عبد السلام محمد هارون، ص219

سير أعلام النبلاء للذهبي، ج3، ص132 و ج6، ص131

المصنف لإبن أبي شيبة الكوفي، ج8، ص695

مسند احمد بن حنبل، ج4، ص421

مجمع الزوائد للهيثمي، ج8، ص121

مسند بزار، ج9، ص303 و 310

المعجم الأوسط للطبراني، ج7، ص133

القول المسدد في مسند أحمد لأبن حجر العسقلاني، ص97 ميزان الإعتدال للذهبي، ج4، ص424

النصائح الكافية لمحمد بن عقيل، ص125

بعض خیانت کار دین و ایمان فروش لکھنے والوں نے صحابہ کے احترام کو مدنظر رکھتے ہوئے، اس روایت سے معاویہ اور عمرو ابن عاص کے نام کو تحریف کرتے ہوئے، انکی جگہ پر لفظ فلان فلان ذکر کر دیا ہے۔

یہ لعنت نہیں ہے بلکہ رسول خدا کی طرف سے ان دونوں پر نفرین و بد دعا ہے کہ بے شک پیغمبر اکرم (ص) کی نفرین عملی طور پر ثابت ہو کر رہے گی۔

كتاب القول المسدد میں سيوطی سے اس روایت کو نقل کیا گیا ہے اور کہا ہے کہ:

بعض علماء نے کوشش کی ہے کہ کہیں کہ یہ روایت ضعیف ہے، نہ ایسا نہیں ہے، بلکہ یہ روایت صحیح ہے اور اسی بات پر کتاب معجم کبیر میں ابن عباس سے روایات کی صورت میں دلائل بھی موجود ہیں۔

القول المسدد في مسند أحمد لأبن حجر العسقلاني، ص96

واقعا تعجب اور حیرت کی بات ہے کہ انسان اتنی زیادہ معتبر روایات کا انکار کر دے، یا ان صحیح روایات کی طرح طرح کی غلط تاویلات کرے اور ان صحیح روایات کے مقابلے پر معاویہ کے بارے میں سراسر غلط، جھوٹی اور جعلی روایات کو اپنی کتب میں ذکر کرے۔

معاویہ نے امیر المؤمنین علی (ع) کو ایک خط لکھا کہ جس خط میں معاویہ نے لکھا کہ:

میں کاتب وحی اور رسول خدا کے اصحاب میں سے ہوں۔۔۔

امير المؤمنين علی (ع) نے کتاب نہج البلاغہ میں اس خط کے جواب میں معاویہ کو لکھا کہ:

اگر تم ایسے ہو تو جان لو کہ:

و لكن ليس أمية كهاشم و لا حرب كعبد المطلب و لا أبو سفيان كأبي طالب و لا المهاجر كالطليق و لا الصريح كاللصيق و لا المحق كالمبطل و لا المؤمن كالمدغل و لبئس الخلف خلف يتبع سلفا هوي في نار جهنم . . .

تمہارا جد امیہ میرے جد ہاشم کی مانند نہیں ہے، تمہارا جد حرب میرے جد مُطلب کی مانند نہیں ہے، تمہارا باپ ابو سفیان میرے والد ابو طالب کی مانند نہیں ہے، میں تمہاری مانند نہیں ہوں، اس لیے کہ میں مہاجرین میں سے ہوں اور تم روز فتح مکہ کے طلقاء میں سے ہو، حالانکہ اس دن تم قتل کر دئیے جانے کے قابل تھے اور رسول خدا نے تم لوگوں پر احسان کر کے تم لوگوں کو آزاد کر دیا، میرا نسب واضح و خالص ہے، میرا نسب تمہاری طرح نہیں ہے کہ تم لصیق اور حرام زادے اور اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسرے باپ سے منسوب ہو۔۔۔۔۔

الإمامة و السياسة لإبن قتيبة الدينوري، ج1، ص104

ربيع الأبرار للزمخشري، ج3، ص470

مروج الذهب للمسعودي، ج2، ص61

وقعة صفين لإبن مزاحم المنقري، ص471

كتاب الفتوح لأحمد بن أعثم الكوفي، ج3، ص155

المناقب للموفق الخوارزمي، ص256

شرح نهج البلاغة لإبن أبي الحديد المعتزلي، ج15، ص117

منهاج البراعة للخوئي، ج18، ص239

اہل سنت مصنف ڈاکٹر صبحی صالح نے نہج البلاغہ میں لکھا ہے کہ:

اللصيق: الدعي الملصق بغير أبيه.

یعنی حرامزادہ اور جو کہ جو اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسرے کے باپ سے منسوب ہوتا ہے۔

البتہ معاویہ کے بارے میں بالکل یہی تعبير امام حسن (ع) کی زبان سے بھی نقل ہوئی ہے کہ جسے سبط إبن الجوزی نے کتاب  تذكرة الخواص میں امام حسن کے قول سے نقل کیا ہے کہ:

و قد علمت الفراش الذي ولدت فيه.

اور بے شک تم اس بستر کو جانتے ہو کہ جس پر تم دنیا میں آئے تھے، (یعنی تم ایک نجس بستر پر زنا کی وجہ سے دنیا میں آئے تھے)

سبط ابن جوزی نے مزید لکھا ہے کہ:

إن معاوية كان يقال إنه من أربعة من قريش: عمارة بن الوليد بن المغيرة المخزومي، مسافر بن أبي عمرو، أبي سفيان، العباس بن عبد المطلب.

بے شک کہا جاتا تھا کہ معاویہ قریش کے چار مردوں کا بیٹا ہے، عمارہ ابن ولید، مسافر ابن ابی عمرو، ابو سفیان اور عباس ابن عبد المطلب۔

سبط إبن الجوزی  تذكرة الخواص، ص116

معاویہ کی ماں نے قریش کے چار افراد کے ساتھ زنا کیا تھا کہ جنکے نتیجے میں معاویہ حرامی دنیا میں آیا تھا:

عمارة بن وليد بن مغيرة مخزومي، مسافر بن أبي عمرو، أبو سفيان و عباس بن عبد المطلب.

اہل سنت کے بزرگ عالم زمخشری نے کہا ہے کہ:

و كان معاوية يعزي إلي أربعة إلي مسافر بن أبي عمرو و إلي عمارة بن الوليد و إلي العباس بن عبد المطلب و إلي الصباح مغني أسود كان لعمارة.

معاویہ کی نسبت چار افراد کی طرف دی جاتی تھی:

مسافر بن أبي عمرو، عمارة بن وليد، عباس بن عبد المطلب و صباح ،

ربيع الأبرار للزمخشري (موسسه أعلمي بيروت)، ج4، ص276، باب66، شماره 7

بلاذری نے معاویہ اور زیاد ابن عقیل کے درمیان ہونے والے مناظرے میں انہی مطالب کو ذکر کیا ہے، اسی طرح ابن ابی الحدید نے بھی نقل کیا ہے کہ:

معاویہ نے زیاد ابن ابیہ کی ماں کے بارے میں کوئی بات کی تو زیاد ابن ابیہ نے معاویہ سے کہا:

و أما تعييرك لي بسمية، فإن كنت إبن سمية فأنت إبن جماعة.

۔۔۔۔۔ اگر میں سمیہ کا بیٹا ہوں تو تم بھی تو ایک پورے ایک گروہ کے بیٹے ہو ! (یعنی اے معاویہ تم زنا زادے ہو،)

شرح نهج البلاغه لإبن أبي الحديد، ج16، ص183

علمائے بزرگ اہل سنت اور معاویہ:

علامہ امينی نے کتاب الغدير میں معاویہ کے بارے میں اہل سنت کے علماء کے اقوال کو ذکر کیا ہے۔

عبد الله ابن احمد ابن حنبل کہتا ہے کہ میں نے اپنے والد سے سوال کیا کہ:

سألت أبي عن علي و معاوية؟ فقال: إعلم أن عليا كان كثير الأعداء، ففتش له أعداؤه عيبا فلم يجدوا، فجاؤوا إلي رجل قد حاربه و قاتله، فأطروه كيدا منهم لعلي.

آپکی علی اور معاویہ کے بارے میں کیا رائے ہے ؟ تو انھوں نے جواب دیا: علی کے بہت زیادہ دشمن تھے اور انھوں نے بہت کوشش کی کہ علی کی ذات میں کوئی عیب تلاش کر سکیں، لیکن نہ کر سکے، پھر علی کے سب دشمن معاویہ کے پاس آئے کہ جس نے علی کے ساتھ جنگ کی تھی، وہ سارے اکٹھے ہوئے اور علی کے بارے میں اپنے بغض کو ظاہر و ثابت کرنے کے لیے انھوں نے معاویہ کے بارے میں جھوٹے اور جعلی فضائل گھڑنا شروع کر دئیے۔

المنتظم لإبن الجوزي، ج، ص372

تاريخ الخلفاء للسيوطي، ص207

الصوائق المحرقة لإبن حجر الهيثمي، ص127

تحفة الأحوذي للمباركفوري، ج10، ص231

النصائح الكافية لمحمد بن عقيل، ص199

ابن حجر عسقلانی نے اسی روايت کو ذکر کیا ہے اور اسکے ذیل میں کہا ہے کہ:

فأشار بهذا إلي ما اختلقوه لمعاوية من الفضائل مما لا أصل له و قد ورد في فضائل معاوية أحاديث كثيرة، لكن ليس فيها ما يصح من طريق الإسناد.

یہ روایت بتاتی ہے کہ وہ بہت سے فضائل کہ جو معاویہ کے بارے میں گھڑے گئے ہیں، انکی کوئی بنیاد و جڑ نہیں ہے اور ان میں سے کسی کی بھی سند صحیح و معتبر نہیں ہے۔

فتح الباري لإبن حجر العسقلاني، ج7، ص81

مناوی نے کہا ہے کہ:

أجمع فقهاء الحجاز و العراق من فريقي الحديث و الرأي منهم مالك و الشافعي و أبو حنيفة و الأوزاعي و الجمهور الأعظم من المتكلمين و المسلمين أن عليا مصيب في قتاله لأهل صفين، كما هو مصيب في أهل الجمل و أن الذين قاتلوه بغاة ظالمون.

حجاز (مکہ، مدینہ)، عراق کے اہل حدیث اور اہل رائے، مالک، شافعی، ابو حنیفہ، اوزاعی اور بہت سے متکلمین اور مسلمین کا یہ عقیدہ ہے کہ معاویہ نے جو جنگ جمل و جنگ صفین، علی سے کی تھی، ان میں علی حق پر تھے اور جہنوں نے علی کے ساتھ جنگ کی تھی، وہ سب اہل بغاوت اور ظالم تھے۔

فيض القدير شرح الجامع الصغير للمناوي، ج6، ص474

النصائح الكافية لمحمد بن عقيل، ص47

تفسير القرطبي، ج16، ص318

سير أعلام النبلاء للذهبي، ج1، حاشيه ص420

اگر معاویہ کے جہنمی اور باطل پر ہونے پر کوئی بھی دلیل موجود نہ ہو تو، پھر بھی رسول خدا سے عمار کے بارے میں نقل ہونے والی ایک ہی حدیث کافی ہے کہ جو بہت واضح طور پر ثابت کرتی ہے کہ معاویہ اور اسکا لشکر باغی اور جہنمی ہیں:

إن عمار مع الحق و الحق مع عمار، يدور عمار مع الحق أينما دار.

عمار حق کے ساتھ ہے اور حق عمار کے ساتھ ہے، اور جہاں پر بھی حق ہو گا، عمار اسکے گرد گھومے گا، یعنی عمار بھی وہاں موجود ہو گا۔

الطبقات الكبري لمحمد بن سعد، ج3، ص262

تاريخ مدينة دمشق لإبن عساكر، ج43، ص476

كنز العمال للمتقي الهندي، ج13، ص539

قابل توجہ ہے کہ کتاب صحيح بخاری اور صحیح مسلم میں آیا ہے کہ:

تقتله الفئة الباغية، عمار يدعوهم إلي الله و يدعونه إلي النار،

رسول خدا سے نقل ہوا ہے کہ عمار کو ایک باغی و ظالم گروہ قتل کرے گا، عمار انکو خدا کی طرف آنے کی دعوت دیتا ہے اور باغی گروہ عمار کو جہنم کی طرف آنے کی دعوت دیتا ہے۔

صحيح البخاري، ج3، ص207، كتاب الجهاد و السير، باب مسح الغبار عن الناس في السبيل

صحيح مسلم، ج8، ص186، كتاب الفتن و أشراط الساعة، باب لا تقوم الساعة حتي يمر الرجل بقبر الرجل

اس روایت میں باغی گروہ اور جماعت کا ذکر ہوا ہے نہ ایک باغی شخص کا، اور وہ سارا گروہ اہل جہنم ہے، نہ وہ صرف ایک شخص کہ جس نے عمار کو قتل کیا ہے۔

حاكم نيشاپوری نے بھی کہا ہے کہ:

إن قاتل عمار و سالبه في النار، فإنه صحيح علي شرط الشيخين و لم يخرجاه.

عمار کو قتل کرنے والا اور اسکے لباس کو سلب کرنے والا، جہنمی ہیں۔ (یعنی شہید کرنے کے بعد اسکے بدن سے لباس کو اتارنے والا شخص)۔

یہ روایت بخاری اور مسلم کے نزدیک بھی صحیح ہے، لیکن پھر ان دونوں نے اس روایت کو اپنی اپنی کتاب میں ذکر نہیں کیا۔

المستدرك علي الصحيحين الحاكم النيشابوري، ج3، ص387

قابل توجہ یہ ہے کہ:

لما قتل عمار بن ياسر، دخل عمرو بن حزم علي عمرو بن العاص، فقال: قتل عمار و قد قال رسول الله صلي الله عليه و سلم: تقتله الفئة الباغية ! فقام عمرو بن العاص فزعا يرجع حتي دخل علي معاوية، فقال له معاوية: ما شأنك؟ قال: قتل عمار ! فقال معاوية: قد قتل عمار، فماذا ؟! قال عمرو: سمعت رسول الله صلي الله عليه و سلم يقول: تقتله الفئة الباغية ! فقال له معاوية: دحضت في بولك ! أو نحن قتلناه ؟! إنما قتله علي و أصحابه جاؤوا به حتي ألقوه بين رماحنا أو قال بين سيوفنا.

جب عمار قتل ہو گیا تو عمرو ابن عاص معاویہ کے پاس گیا اور اس سے کہا: کیا عمار قتل ہو گیا ہے ؟! معاویہ نے کہا: قتل ہو گیا ہے تو پھر کیا ہوا ہے ؟ عمرو ابن عاص نے کہا: کیا تم نے رسول خدا کی اس حدیث کو نہیں سنا کہ: عمار کو ایک باغی اور ستمگر گروہ قتل کرے گا ؟! یہ سن کر معاویہ نے کہا: تم ہمیشہ اپنے ہی خیالوں کی نجاست میں غرق رہتے ہو ! مگر ہم نے عمار کو قتل کیا ہے ؟! بلکہ عمار کو علی اور اسکے اصحاب نے قتل کیا ہے کہ وہی لوگ اسکو گھر سے لے کر ہماری تلواروں کے سامنے لے کر آئے تھے۔

مسند أحمد بن حنبل، ج4، ص199

المستدرك علي الصحيحين الحاكم النيشابوري، ج2، ص156

السنن الكبري للبيهقي، ج8، ص189

مجمع الزوائد للهيثمي، ج7، ص242

مسند أبي يعلي، ج13، ص124

تاريخ مدينة دمشق لإبن عساكر، ج43، ص431

سير أعلام النبلاء للذهبي، ج1، ص420

تاريخ الإسلام للذهبي، ج3، ص579

السيرة الحلبية، ج2، ص264

البداية و النهاية لإبن كثير، ج6، ص240

الإمامة و السياسة لإبن قتيبة الدينوري، تحقيق الزيني، ج1، ص110

قابل توجہ ہے کہ جب معاویہ کی یہ غلط بات حضرت علی (ع) نے سنی تو آپ نے فرمایا:

لو كنت أنا قتلت عماراً لأني أخرجته، لكان رسول الله قتل حمزة و جميع من قتل في حربه، لأنه هو المخرج لهم.

اگر میں نے عمار کو قتل کیا ہے اور اسے گھر سے نکال کر لایا ہوں تو پس حمزہ کو اور ان تمام کو کہ جو جنگ (احد) میں قتل ہوئے تھے، کو رسول خدا نے قتل کیا ہے کیونکہ رسول خدا ہی ان لوگوں کو انکے گھروں سے نکال کر لائے تھے۔

المعيار و الموازنة لأبو جعفر الإسكافي، ص97

مناوی نے بھی بالکل یہی بات لکھی ہے کہ:

و هذا الحديث من أثبت الأحاديث و أصحها و لما لم يقدر معاوية علي إنكاره قال: إنما قتله من أخرجه، فأجابه علي بأن رسول الله صلي الله عليه و سلم إذن قتل حمزة حين أخرجه.

فيض القدير شرح الجامع الصغير للمناوي، ج6، ص474

معاویہ کے جرائم کی فہرست:

محمود أبو ريّہ کہ جو اہل سنت کے بزرگان میں سے ہے، اس نے كتاب شيخ المضيرة ابو ہريرة میں ان موارد کو جمع کیا ہے:

اولاً:

کتاب مسند احمد میں ذکر ہوا ہے کہ معاویہ شراب پیتا تھا:

عبد الله بن بريدة قال: دخلت أنا و أبي علي معاوية، فأجلسنا علي الفرش، ثم أتينا بالطعام فأكلنا، ثم أتينا بالشراب، فشرب معاوية، ثم ناول أبي . . .

معاویہ  نے کھانے کے ساتھ شراب پی۔۔۔۔۔۔

مسند احمد بن حنبل، ج5، ص347

مجمع الزوائد للهيثمي، ج5، ص42

تاريخ مدينة دمشق لإبن عساكر، ج27، ص127

ثانياً:

معاويہ سونے کے دھاگے سے سلے اور ریشمی لباس پہنتا تھا:

سنن أبي داود، ج2، ص276

ثالثاً:

جب امير المؤمنين (ع) دنیا سے گئے تو معاویہ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

الحمد لله الذي أمات عليا.

معاویہ نے علی کی موت پر خدا کا شکر ادا کیا۔۔۔۔۔

البداية و النهاية لإبن كثير، ج8، ص331

تاريخ مدينة دمشق لإبن عساكر، ج29، ص287

رابعا:

معاویہ ملعون نے امام حسن (ع) کے لیے زہر بھیجا اور رسول خدا کے نواسے کو زہر دلوا کر شہید کروا دیا:

الإستيعاب لإبن عبد البر، ج1، ص390

تاريخ مدينة دمشق لإبن عساكر، ج13، ص283

تهذيب الكمال للمزي، ج6، ص252

سير أعلام النبلاء للذهبي، ج3، ص274

البداية و النهاية لإبن كثير، ج8، ص47

خامساً:

جب معاویہ کو امام حسن (ع) کی شہادت کی خبر ملی تو وہ خوشی سے سجدہ شکر بجا لایا:

و لما بلغ معاوية موت الحسن خرّ ساجدا لله.

اور جب حسن کی موت کی خبر معاویہ کو ملی تو اس نے خدا کے لیے سجدہ کیا۔

العقد الفريد، ج2، ص298

وفيات الأعيان و أنباء أبناء الزمان لإبن خلكان، ج2، ص66

سادساً:

معاویہ نے رسول خدا (ص) کے بہت سے بزرگ صحابہ جیسے عمرو ابن حَمِق خزاعی ، حجر ابن عدی اور مالک اشتر وغیرہ کو شہید کیا:

تاريخ الطبري، ج4، ص72 و 187

الكامل في التاريخ لإبن الأثير، ج3، ص353 و 482

تاريخ اليعقوبي، ج2، ص230

سابعا:

امیر المؤمنین علی (ع) کے سچے جانثار محمد ابن ابو بكر کو معاویہ کے حکم پر گدھے کی کھال میں ڈال کر آگ لگا کر شہید کیا گیا۔

فلما بلغ ذلك عائشة جزعت عليه جزعاً شديداً و قنتت عليه في دبر الصلاة تدعو علي معاوية و عمرو.

جب یہ خبر عائشہ کو ملی تو اس نے بہت زیادہ غم و غصے کا اظہار کیا اور اسکے بعد وہ اپنی ہر نماز کے قنوت میں معاویہ اور عمرو ابن عاص پر لعنت کیا کرتی تھی۔

تاريخ الطبري، ج4، ص79

الكامل في التاريخ لإبن الأثير، ج3، ص357

البداية و النهاية لإبن كثير، ج7، ص349

ثامنا:

معاویہ ملعون کے جرائم میں سے ایک سنگین جرم، امام حسن (ع) کے ساتھ صلح کو ختم کرنا تھا، اسلیے کہ اس صلح کی ایک شرط یہ تھی کہ معاویہ اپنے بعد کسی کو خلیفہ و جانشین کے طور پر معیّن نہیں کرے گا، لیکن اسکے باوجود بھی معاویہ نے اپنے شراب خوار، زانی، بے دین بیٹے یزید کو مسلمانوں کا خلیفہ معیّن کر دیا۔

معاویہ کون ؟

حضرت علی (ع) کے طرز زندگی کے بعد ہمیں اس بات کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے کہ ہم ان کے حریفوں کے کردار کا تذکرہ کریں کیونکہ " تعرف الاشیاء باضدادھا " چیزوں کی پہچان ان کے مد مقابل متضاد چیزوں سے ہوتی ہے۔

اسی قاعدہ کے پیش نظر ہم امیر المؤمنین علی (ع) کے بد ترین مخالف کے کردار کی تھوڑی جھلکیاں پیش کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ اگر شب تاریک کی ہولناکی نہ ہو تو روز روشن کی عظمت واضح نہیں ہو سکتی،

اسی طرح سے جس کو ابو جہل کی خباثت کا علم نہ ہو تو اسے محمد مصطفی (ص) رافت کا صحیح علم نہ ہو سکے گا اور جب تک کردار معاویہ پیش نظر نہ ہو اس وقت تک اسے علی (ع) کی عدالت اجتماعی کی قدر و منزلت کا اندازہ نہیں ہو سکے گا۔

مختصر یہ کہ حضرت علی (ع) کی زندگی جس قدر عدل اجتماعی و فدا کاری کے لیے وقف تھی، ویسے ہی معاویہ کی پوری زندگی بے اصولی اور لوٹ مار اور بے گناہوں کے قتل عام کے لیے وقف تھی۔

حضرت علی (ع) جیسے رسول خدا (ص) کے کمالات و صفات محمدی صحیح و برحق جانشین تھے، اسی طرح سے معاویہ اپنے باپ ابو سفیان کے مکروہ کردار اور جنایات سفیانی کا صحیح جانشین تھا۔

حضرت علی (ع) حضرت فاطمہ بنت اسد اور حضرت خدیجہ کی صفات جمیلہ کے وارث تھے، جبکہ معاویہ اپنی ظالم ماں ہند جگر خوار کی خوانخوار عادات کا وارث تھا۔

معاویہ نے قبائلی و جاہلی تعصب کو از سر نو زندہ کیا اور مجرمانہ ذہنیت کو جلا بخشی جس کے شعلوں کی تپش آج بھی امت اسلامیہ اپنے بدن میں محسوس کر رہی ہے۔

جناب حجر ابن عدی کا المیہ:

مؤرخ ابن اثیر نے کتاب تاریخ کامل میں لکھا ہے کہ:

سن 51 ہجری میں حجر ابن عدی اور ان کے اصحاب کو قتل کیا گیا اور اس کا سبب یہ تھا کہ معاویہ نے سن 41 ہجری میں مغیرہ ابن شعبہ کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا اور اسے ہدایت کی کہ:

میں تجھے بہت سی نصیحتیں کرنا چاہتا تھا لیکن تیری فہم و فراست پر اعتماد کرتے ہوئے میں زیادہ نصحیتیں نہیں کروں گا لیکن ایک چیز کی خصوصی طور پر تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ علی کی مذمت اور سبّ و شتم سے کبھی باز نہ آنا اور عثمان کے لیے دعائے خیر کو کبھی ترک نہ کرنا اور علی کے دوستوں پر ہمیشہ تشدد کرنا اور عثمان کے دوستوں کو اپنا مقرب بنانا اور انہیں عطیات سے نوازتے رہنا۔

مغیرہ نے معاویہ کے حکم پر پورا پورا عمل کیا، وہ ہمیشہ حضرت علی (ع) پر سب و شتم کرتا تھا اور حضرت حجر ابن عدی اسے برملا ٹوک کر کہتے تھے کہ لعنت اور مذمت کا حق دار تو اور تیرا امیر ہے اور جس کی تم مذمت کر رہے ہو، وہ فضل و شرف کا مالک ہے۔ مغیرہ نے حجر ابن عدی اور اس کے دوستوں کے وظائف بند کر دئیے، حضرت حجر کہا کرتے تھے کہ بندہ خدا ! تم نے ہمارے عطیات ناحق روک دئیے ہیں، تمہیں ایسا کرنے کا کوئی حق نہیں ہے، ہمارے عطیات بحال کرو۔

مغیرہ مر گیا اور اس کی جگہ زیاد ابن ابیہ کوفہ کا گورنر مقرر ہوا۔ زیاد نے بھی معاویہ اور مغیرہ کی سنت پر مکمل عمل کیا اور وہ بد بخت امیر المومنین علی (ع) پر سبّ و شتم کرتا تھا۔ حجر ابن عدی ہمیشہ حق کا دفاع کرتے تھے۔ زیاد نے حجر ابن عدی اور ان کے 12 ساتھیوں کو گرفتار کر کے زندان بھیج دیا اور ان کے خلاف ان کے جرائم کی تفصیل لکھی اور چار گواہوں کے دستخط لیے اور حضرت حجر ابن عدی کی مخالفت میں جن افراد نے دستخط کیے تھے، ان میں طلحہ ابن عبید اللہ کے دو بیٹے اسحاق و موسی اور زبیر کا بیٹا منذر عماد ابن عقبہ ابن ابی معیط سر فہرست تھے، پھر زیادہ نے قیدیوں کو وائل ابن حجر الحضرمی اور کثیر ابن شہاب کے حوالے کر کے انہیں شام بھیجا۔

زیاد نے جن محبان علی (ع) کو گرفتار کیا تھا، ان کے نام درج ذیل ہیں:

حجر ابن عدی کندی،

ارقم ابن عبد اللہ کندی،

شریک ابن شداد حضرمی،

صیفی ابن فسیل شیبانی،

قبیصہ ابن صنیع عبسی،

کریم ابن عفیف خثمی،

عاصم ابن عوف بجلی،

ورقا ابن سمی بجلی،

کدام ابن حسان عنزی،

عبد الرحمن ابن حسان غزی،

محرر ابن شہاب تمیمی،

 عبد اللہ ابن حویہ سعدی،

بالا درج 12 افراد کو پہلے گرفتار کیا گیا تھا، اس کے بعد دو افراد عتبہ ابن اخمس سعد ابن بکر اور سعد ابن نمران ہمدانی کو گرفتار کر کے شام بھیجا گیا تو اس طرح سے ان مظلوموں کی تعداد 14 ہو گئی۔

جناب حجر ابن عدی کے واقعہ کو اہل سنت مؤرخ طبری نے یوں نقل کیا ہے کہ :

قیس ابن عباد شیبانی زیاد کے پاس آیا اور کہا ہماری قوم بنی ہمام میں ایک شخص بنام صیفی ابن فسیل اصحاب حجر کا سر کردہ ہے اور آپ کا شدید ترین دشمن ہے۔ زیاد نے اسے بلایا۔ جب وہ آیا تو زیاد نے اس سے کہا کہ اے دشمن خدا، تو ابو تراب کے متعلق کیا کہتا ہے ؟

اس نے کہا کہ میں ابو تراب نام کے کسی شخص کو نہیں پہنچاتا۔

زیاد نے کہا ! کیا تو علی ابن ابی طالب کو بھی نہیں پہچانتا ؟

صیفی نے کہا: جی ہاں میں انہیں پہچانتا ہوں۔ زیاد نے کہا ! وہی ابو تراب ہے۔

صیفی نے کہا ! ہرگز نہیں، بلکہ وہ حسن اور حسین کے والد ہیں۔

لشکر کے سالار نے کہا کہ امیر اسے ابو تراب کہتا ہے اور تو اسے والد حسنین کہتا ہے ؟

صیفی نے کہا کہ تیرا کیا خیال ہے اگر امیر جھوٹ بولے تو میں بھی اسی کی طرح جھوٹ بولنا شروع کر دوں ؟

زیاد نے کہا ! تم جرم پر جرم کر رہے ہو، میرا عصا لایا جائے۔

جب عصا لایا گیا تو زیاد نے ان سے کہا کہ اب بتاؤ ابو تراب کے متعلق کیا نظریہ رکھتے ہو ؟

صیفی نے دوبارہ کہا ! میں ان کے متعلق یہی کہوں گا کہ وہ اللہ کے صالح ترین بندوں میں سے تھے۔

یہ سن کر زیاد نے انہیں بے تحاشہ مارا اور انہیں بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا اور جب زیاد ظلم کر کے تھک گیا تو پھر صیفی سے پوچھا کہ تم اب علی کے متعلق کیا کہتے ہو ؟

انہوں نے کہا ! اگر میرے وجود کے ٹکڑے ٹکڑے بھی کر دئیے جائیں تو بھی میں ان کے متعلق وہی کہوں گا، جو اس سے پہلے کہہ چکا ہوں۔

زیاد نے کہا تم باز آ جاؤ ورنہ میں تمہیں قتل کر دوں گا۔

صیفی نے کہا کہ اس ذریعہ سے مجھے درجہ شہادت نصیب ہو گا اور ہمیشہ کی بد بختی تیرے نامہ اعمال میں لکھ دی جائے گی۔

زیاد نے انہیں قید کرنے کا حکم کر دیا۔ چنانچہ انہیں زنجیر پہنا کر زندان بھیج دیا گیا۔ بعد ازاں زیاد نے حضرت حجر ابن عدی اور ان کے دوستوں کے خلاف فرد جرم کی تیار کی اور ان مظلوم بے گناہ افراد کے خلاف حضرت علی علیہ السلام کے بدترین دشمنوں کے اپنے دستخط ثبت کیے۔

ابو موسی کے بیٹے ابو بردہ نے اپنی گواہی میں تحریر کیا کہ: میں رب العالمین کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ حجر ابن عدی اور اس کے ساتھیوں نے جماعت سے علیحدگی اختیار کر لی اور امیر کی اطاعت سے انحراف کیا ہے اور لوگوں کو امیر المومنین معاویہ کی بیعت توڑنے کی دعوت دیتے ہیں اور انہوں نے لوگوں کو ابو تراب کی محبت کی دعوت دی ہے۔

زیاد نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ باقی افراد بھی اسی طرح کی گواہی تحریر کریں۔ میری کوشش ہے کہ اس خائن احمق کی زندگی کا چراغ بجھا دوں۔

عناق ابن شرجیل ابن ابی دہم التمیمی نے کہا کہ میری گواہی بھی ثبت کرو۔ مگر زیاد نے کہا ! نہیں ہم گواہی کے لیے قریش کے خاندان سے ابتدا کریں گے اور اس کے ساتھ ان معززین کی گواہی درج کریں گے جنہیں معاویہ پہچانتا ہو۔

چنانچہ زیاد کے کہنے پر اسحاق ابن طلحہ ابن عبید اللہ اور موسی ابن طلحہ اور اسماعیل ابن طلحہ اور منذر ابن زبیر اور عمارہ ابن عقبہ ابن ابی معیط ، عبد الرحمن ابن ہناد ، عمر ابن سعد ابن ابی وقاص ، عامر ابن سعود ابن امیہ ، محرز ابن ربیعہ ابن عبد العزی ابن عبد الشمس ، عبید اللہ ابن مسلم حضرمی ، عناق ابن وقاص حارثی نے دستخط کیے۔

ان کے علاوہ زیاد نے شریح قاضی اور شریح ابن ہانی حارثی کی گواہی بھی لکھی۔ قاضی شریح کہتا ہے تھا کہ زیاد نے مجھ سے حجر کے متعلق پوچھا تو میں نے کہا تھا کہ وہ قائم اللیل اور صائم النہار ہے۔

شریح ابن ہانی حارثی کو جب علم ہوا کہ محضر نامہ میں میری بھی گواہی شامل ہے تو وہ زیاد کے پاس آیا اور اسے ملامت کی اور کہا کہ تو نے میری اجازت اور علم کے بغیر میری گواہی تحریر کر دی ہے، میں دنیا و آخرت میں اس گواہی سے بری ہوں، پھر وہ قیدیوں کے تعاقب میں آیا اور وائل ابن حجر کو خط لکھ دیا کہ میرا یہ خط معاویہ تک ضرور پہچانا۔ اس نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ زیاد نے حجر ابن عدی کے خلاف میری گواہی بھی درج کی ہے تو معلوم ہو کہ حجر کے متعلق میری گواہی یہ کہ وہ نماز پڑھتا ہے ، زکات دیتا ہے ، حج و عمرہ بجا لاتا ہے ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا ہے ، اس کی جان و مال انتہائی محترم ہے۔

قیدیوں کو دمشق کے قریب مرج عذرا میں ٹھہرایا گیا اور معاویہ کے حکم سے ان میں سے چھ افراد کو قتل کر دیا گیا۔ ان شہیدان راہ حق کے نام یہ ہیں:

حجر ابن عدی،

شریک ابن شداد حضرمی،

صیفی ابن فسیل شیبانی،

قبیصہ ابن ضبیعہ عبسی،

محرز ابن شہاب السعدی،

کدام ابن حیان الغزی رضی اللہ عنھم اجمعین۔

اس کے علاوہ عبد الرحمن ابن حسان عنزی کو دوبارہ زیاد کے پاس بھیجا گیا اور معاویہ نے زیاد کو لکھا کہ اسے بد ترین موت سے ہمکنار کرو۔ زیاد نے انہیں زندہ دفن کرا دیا۔

تاریخ طبری ۔ج 6 ص 155

غدر معاویہ کے دیگر نمونے:

معاویہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے انسانی قدروں کو پامال کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا تھا، اور یہ اسکا خاندانی شیوہ تھا۔

اس نے جب مالک اشتر کے متعلق سنا کہ حضرت علی (ع) نے انہیں محمد ابن ابی بکر کی جگہ مصر کا گورنر مقرر کیا ہے تو اس نے ایک زمین دار سے سازش کی کہ اگر تو نے مصر پہنچنے سے پہلے مالک کو قتل کر دیا تو تیری زمین کا خراج (ٹیکس) نہیں لیا جائے گا۔

چنانچہ جب جناب مالک اس علاقے سے گزرے تو اس نے انہیں طعام کی دعوت دی اور شہد میں زہر ملا کر انہیں پیش کیا۔ جس کی وجہ سے مالک اشتر وہیں شہید ہو گئے۔

اس واقعہ کے بعد معاویہ اور عمرو ابن العاص کہا کرتے تھے کہ شہد بھی اللہ کا لشکر ہے، یعنی اسکی مدد سے بھی اپنے دشمن کو راستے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔

امام حسن مجتبی علیہ السلام سے معاہدہ کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی اور حضرت حسن علیہ السلام کی زوجہ جعدہ بنت اشعث سے ساز باز کی کہ اگر وہ انہیں زہر دے کر شہید کر دے تو اسے گراں قدر انعام دیا جائے گا اور اس کی شادی یزید سے کر دی جائے گی۔

امام حسن علیہ السلام کی بیوی نے معاویہ کے ورغلانے پر انہیں زہر دیا، جس کی وجہ سے وہ شہید ہوئے۔

الفتنتہ الکبری، ص 243

مورخ مسعودی لکھتے ہیں کہ:

ابن عباس کسی کام سے شام گئے ہوئے تھے اور مسجد میں بیٹھے تھے کہ معاویہ کے قصر خضراء سے تکبیر کی آواز بلند ہوئی۔ آواز سن کر معاویہ سے فاختہ بنت قرظہ نے پوچھا کہ آپ کو کونسی خوشی نصیب ہوئی ہے کہ جس کی وجہ سے تم نے تکبیر کہی ہے ؟ تو معاویہ نے کہا ! حسن کی موت کی اطلاع ملی ہے۔ اسی لیے میں نے با آواز بلند تکبیر کہی ہے۔

مروج الذہب ومعادن الجوہر، ج 2 ص 307

زیاد ابن ابیہ (ولد الزنا) کا الحاق:

زیاد ایک ذہین اور ہوشیار شخص تھا۔ حضرت علی (ع) کے دور خلافت میں ان کا عامل تھا۔ معاویہ اپنی شیطانی سیاست کے لیے زیاد کو اپنے ساتھ ملانا چاہتا تھا اور اس نے زیاد کو خط لکھا کہ تم حضرت علی (ع) کو چھوڑ کر میرے پاس آ جاؤ کیونکہ تم میرے باپ ابو سفیان کے نطفہ سے پیدا ہوئے ہو۔

زیاد کے نسب نامہ میں اس کی ولدیت کا خانہ خالی تھا۔ اسی لیے لوگ اسے زیاد بن ابیہ۔ یعنی زیاد جو اپنے باپ کا بیٹا ہے ، کہہ کر پکارا کرتے تھے۔

حضرت علی (ع) کو جب معاویہ کی اس مکاری کا علم ہوا تو انہوں نے زیاد کو ایک خط تحریر کیا تھا جس میں انہوں نے لکھا:

مجھے معلوم ہوا ہے کہ معاویہ تمہاری طرف خط لکھ کر تمہاری عقل کو پھسلانا اور تمہاری دھار کو کند کرنا چاہتا ہے۔ تم اس سے ہوشیار رہو کیونکہ وہ ایسا شیطان ہے کہ جو مومن کے آگے پیچھے اور داہنی بائیں جانب سے آتا ہے تا کہ اسے غافل پا کر اس پر ٹوٹ پڑے اور اس کی عقل پر چھاپہ مارے۔

واقعہ یہ ہے کہ عمر ابن خطاب کے زمانے میں ابو سفیان کے منہ سے بے سوچے سمجھے ایک بات نکل گئی تھی جو شیطانی وسوسوں میں سے ایک وسوسہ تھی۔ جس سے نہ نسب ثابت ہوتا ہے اور نہ وارث ہونے کا حق پہنچتا ہے۔ جو شخص اس بات کا سہارا لے کر بیٹھے وہ ایسا ہے جیسے بزم شراب نوشی میں مبتلا بن بلائے آنے والا کہ اسے دھکے دے کر باہر کیا جاتا ہے یا زین فرس میں لٹکے ہوئے اس پیالے کی مانند جو ادھر سے ادھر تھرکتا رہتا ہے۔

نہج البلاغہ، مکتوب 44

مسعودی ذکر کرتے ہیں کہ:

سن 40 ہجری میں معاویہ نے زیاد کو اپنا بھائی بنا لیا اور گواہی کے لیے زیاد ابن اسماء مالک ابن ربیعہ اور منذر ابن عوام نے معاویہ کے دربار میں زیاد کے سامنے گواہی دی کہ ہم نے ابو سفیان کی زبانی سنا تھا کہ زیاد نے میرے نطفہ سے جنم لیا ہے اور ان کے بعد ابو مریم سلولی نے درج ذیل گواہی دی کہ زیاد کی ماں حرث بنت کلدہ کی کنیز تھی اور عبید نامی ایک شخص کے نکاح میں تھی، طائف کے محلہ حارۃ البغایا میں بدنام زندگی گزارتی تھی اور اخلاق باختہ لوگ وہاں آیا جایا کرتے تھے اور ایک دفعہ ابو سفیان ہماری سرائے میں آ کر ٹھہرا اور میں اس دور میں مے خانہ کا ساقی تھا۔ ابو سفیان نے مجھ سے فرمائش کی کہ میرے لیے کوئی عورت تلاش کر کے لے آؤ۔

میں نے بہت ڈھونڈھا مگر حارث کی کنیز سمیہ کے علاوہ مجھے کوئی عورت دستیاب نہ ہوئی، تو میں نے ابو سفارن کو بتایا کہ ایک کالی بھجنگ عورت کے علاوہ مجھے کوئی دوسری عورت نہیں ملی تو ابو سفیان نے کہا ٹھیک ہے وہی عورت ہی لے آؤ۔

چنانچہ میں اس رات سمیہ کو لے کر ابو سفیان کے پاس گیا ور اسی رات کے نطفہ سے زیاد کی پیدائش ہوئی۔ اسی لیے میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ زیاد معاویہ کا بھائی ہے۔ اس وقت سمیہ کی مالکہ صفیہ کے بھائی یونس ابن عبید نے کھڑے ہو کر کہا:

معاویہ ! اللہ اور رسول کا فیصلہ ہے کہ بچہ اسی کا ہے جس کے گھر پیدا ہو اور زانی کے لیے پتھر (سنگسار) ہیں اور تو فیصلہ کر رہا ہے کہ بیٹا زانی کا ہے۔ یہ صریحا کتاب خدا کی مخالفت ہے۔

ابن ابی الحدید نے اپنے شیخ ابو عثمان کی زبانی ایک خوبصورت واقعہ لکھا ہے :

جب زیاد معاویہ کی طرف سے بصرہ کا گورنر تھا اور تازہ تازہ ابو سفیان کا بیٹا بنا تھا تو اس دور میں زیاد کا گزر ایک محفل سے ہوا جس میں ایک فصیح و بلیغ نابینا ابو العریان العددی بیٹھا تھا۔ ابو العریان نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون گزرا ہے ؟

تو لوگوں نے اسے بتایا کہ زیاد ابن ابی سفیان اپنے ساتھیوں کے ساتھ گزرا ہے، تو اس نے کہا ! اللہ کی قسم ابو سفیان نے تو یزید ، معاویہ ، عتبہ ، عنبہ ، حنظلہ اور محمد چھوڑے ہیں۔ یہ زیاد کہاں سے آ گیا ہے ؟

اس کی یہی بات زیاد تک پہنچی تو زیاد ناراض ہوا۔ کسی مصاحب نے اسے مشورہ دیا کہ تم اسے سزا نہ دو بلکہ اس کا منہ دولت سے بند کر دو۔

زیاد نے 200 دینار اس کے پاس روانہ کیے۔ دوسرے دن زیاد اپنے مصاحبین سمیت وہاں سے گزرا اور اہل محفل کو سلام کیا۔

نابینا ابو العریان سلام کی آواز سن کر رونے لگا۔ لوگوں نے رونے کا سبب پوچھا تو اس نے کہا ! زیاد کی آواز بالکل ابو سفیان جیسی ہے۔

شرح نہج البلاغہ، ج 4 ص 68

حسن بصری کہا کرتے تھے کہ معاویہ میں چار صفات ایسی تھیں کہ اگر ان میں سے اس میں ایک بھی ہوتی تو بھی تباہی کے لیے کافی تھی:

1- امت کے دنیا طلب جہّال کو ساتھ ملا کر اقتدار پر قبضہ کیا جبکہ اس وقت صاحب علم و فضل صحابہ موجود تھے۔

2- اپنے شرابی بیٹے یزید کو ولی عہد بنایا جو کہ ریشم پہنتا تھا اور طنبور بجاتا تھا۔

3- زیاد کو اپنا بھائی بنایا جبکہ رسول خدا (ص) کا فرمان ہے کہ بچہ اس کا ہے کہ جسکے بستر پر پیدا ہو اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔

4- حجر ابن عدی اور ان کے ساتھیوں کو ناحق قتل کرنا۔

الفتنتہ الکبری، علی وبنوہ ص 248

الکامل فی التاریخ ج 3 ص 259-260

معاویہ کی ایجاد کردہ بدعتیں:

معاویہ نے اپنے اہداف کو آگے بڑھانے اور اپنے مقام کو مستحکم کرنے کے لیے اسلامی احکام میں بھی دست درازی کی اور دین میں بدعتیں جاری کر دیں، جن میں سب سے زیادہ اہم مسئلہ یعنی خلافت اسلامی کو صحیح راستے سے منحرف کر کے ایک استبدادی اور مورثی بادشاہت میں تبدیل کرنا تھا، خصوصا اپنے ناصالح، شرابی اور زانی بیٹے کو ولایت عہدی کے لیے منصوب کرنا تھا۔

یہ خطرہ اس قدر بزرگ اور اہم تھا کہ امام حسین (ع) نے منی کے میدان میں بہت سے صحابہ، انصار اور ان کی اولاد کو جمع کر کے جبکہ معاویہ کے جاسوس ہر جگہ موجود تھے ، اسکے متعلق فرمایا:

فانّی اخاف ان یندرس ھذا الحق و یذھب۔

میں ڈرتا ہوں کہ کہیں (معاویہ کے اعمال کی وجہ سے) دین اسلام فرسودہ نہ ہو جائے اور بطور کامل اسلام کو جڑ سے اکھاڑ نہ پھینکے۔

احتجاج طبرسى، ج 2، ص 87

الغدير، ج 11، ص 28

معاویہ خود کہتا تھا کہ اس نے خلافت کو لوگوں کی محبت و دوستی اور نہ ان کی مرضی بلکہ تلوار کے زور پر حاصل کی تھی۔

عقد الفريد، ج 4، ص 81-82

جس سال معاویہ نے تمام اسلامی شہروں پر اپنا تسلط قائم کیا اس سال کا نام " عام الجماعه " رکھا ، جبکہ وہ سال " فرقوں کے عام ہونے اور زور سے زبردستی حکومت حاصل کرنے " کا سال ہونا چاہیے تھا ، اس سال امامت اسلامی، سلطنت اور بادشاہت میں تبدیل ہوئی، پیغمبر اکرم (ص) کی خلافت غصب ہوئی۔

رسالة الجاحظ فى بنى اميّة، ص 124

تاريخ سياسى اسلام، ج 2، ص  396 سےمنقول.

پيام امام اميرالمؤمنين(ع)، ج 3، ص 250

الغدير، ج 10، ص 227

معاویہ نے اپنے آپ کو پہلا بادشاہ کہلوایا۔

تاريخ يعقوبى، ج 2، ص 232

تاريخ الخلفاء، ص 223

سعید ابن مسیب کہتا ہے: معاویہ پہلا شخص ہے جس نے خلافت کو بادشاہت میں تبدیل کیا تھا۔

تاريخ يعقوبى، ج 2، ص 232

ابو الاعلی مودودی نے اپنی کتاب خلافت و ملوکیت میں معاویہ کی بادشاہت اور اس سے پہلے کی خلافت کے کچھ فرق شمار کیے ہیں:

اول: خلیفہ کو معین کرنے کے طریقے کو بدل دیا، پہلے خلفاء خلافت کو حاصل کرنے کیلئے قیام نہیں کرتے تھے، لیکن معاویہ نے مسند خلافت پر بیٹھنے کے لیے ہر طرح کا کام انجام دیا۔

دوم: خلفاء کی زندگی کے طریقے کو بدلا اور روم و ایران کے بادشاہوں کے طریقہ زندگی اور حکومت سے استفادہ کیا اور اسی کے مطابق زندگی گزاری اور حکومت کی۔

سوم: بیت المال کے استعمال کا طریقہ بدلا، کیونکہ معاویہ کے زمانے میں بیت المال اس کا اور اس کے خاندان کا مخصوص خزانہ ہو گیا تھا اور کوئی نہیں تھا جو اس سے بیت المال کے حساب و کتاب کے بارے میں سوال کرے۔

چہارم: عقیدہ کے اظہار کی آزادی اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو ختم کرنا اور یہ طریقہ معاویہ کے زمانے میں حجر ابن عدی کو قتل کرنے سے شروع ہوا تھا۔

پنجم: نظام قضائی اسلامی کی تعطیل۔

ششم: شورائی (کمیٹی) حکومت کو ختم کرنا۔

ہفتم: قومی اور نژادی تعصبات کا ظہور۔

ہشتم: ذاتی مفاد کے لیے قانون کی برتری کو ختم کرنا۔

خلافت و ملوكيّت، ص 188-207

تاريخ سياسى اسلام، ج 2، ص 407- 408. سے منقول

پيام امام امير المؤمنين (ع)، ج 3، ص 250-251

ابن ابی الحدید نے معاویہ کی بدعتوں اور غلط کاموں کو بیان کرنے کے بعد کہا ہے کہ :

معاویہ نے کے تمام مندرجہ ذیل غلط کام اس کے کفر و الحاد پر دلالت کرتے ہیں، وہ کفر و الحاد کہ جو زمانہ جاہلیت سے اسکے باطن میں مخفی تھا۔

جیسے : حریر (ریشم) کا لباس پہننا،

سونے اور چاندی کے برتن استعمال کرنا ،

اپنے لیے غنائم کو جمع کرنا ،

اپنے ساتھیوں اور دوستوں پر اسلام کے قوانین اور حدود الہی کو جاری نہ کرنا ،

زیاد کو اپنے آپ سے ملحق کر کے اپنا بھائی قرار دینا، جبکہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا ہے کہ :

الولد للفراش و للعاھر الحجر،

بچہ اپنے باپ سے ملحق ہوتا ہے اور زنا کار پتھر کھانے کا مستحق ہے۔

حجر ابن عدی اور ان کے ساتھیوں کو قتل کرنا ،

حضرت ابو ذر کی توہین کرنا اور ان کو برہنہ اونٹ پر سوار کر کے مدینہ روانہ کرنا،

منبروں سے امیر المومنین علی (ع) ،امام حسن (ع) اور ابن عباس کو ناسزا کہنا ،

شراب خوار اور جوا کھیلنے والے یزید کو ولی عہد قرار دینا وغیرہ۔

شرح نهج البلاغه ابن ابى الحديد، ج 5، ص 130-131

معاویہ بدعتوں کو قائم کرنے میں کسی بھی قانون کا پابند نہیں تھا اور کسی چیز کو کوئی اہمیت نہیں دیتا تھا۔

ابو درداء کہتا ہے کہ:

میں نے معاویہ سے کہا کہ میں نے پیغمبر سے سنا ہے کہ جو کوئی سونے یا چاندی کے برتن میں کھانا کھائیگا، وہ جہنم کی آگ کو اپنے اندر جگہ دے گا۔ یہ سن کر معاویہ نے کہا:

اما انا فلا اری بذلک باسا،

لیکن میں اس میں کوئی قباحت نہیں دیکھتا !

ابو درداء نے جواب دیا: وا عجبا ! میں پیغمبر سے نقل کر رہا ہوں اور تم اپنی ذاتی رائے میرے سامنے پیش کر رہے ہو ! اب میں وہاں پر زندگی بسر نہیں کروں گا، جہاں تو زندگی گزا ررہا ہے۔

شرح نهج البلاغه ابن ابى الحديد، ج 5، ص 130

پيام امام، ج 3، ص 20 و 21

علامہ امینی اپنی کتاب الغدیر میں اسناد و مدارک کے ساتھ معاویہ کی بدعتوں اور اس کے غلط کاموں کو بیان کرتے ہیں، یہاں پر اس کی ایک فہرست پڑھنے والوں کے لیے بیان کریں گے اور اس کی مزید وضاحت کے لیے کتاب الغدیر کی جلد 11 کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے۔

علامہ امینی نے لکھا ہے کہ :

سب سے پہلا شخص جس نے کھلے عام شراب پی اور اس کو خریدا وہ معاویہ تھا۔

سب سے پہلا شخص جس نے اسلامی میدان میں فحاشی کو عام کیا ، وہ معاویہ تھا۔

سب سے پہلا شخص جس نے سود کو حلال کیا ، وہ معاویہ تھا۔

سب سے پہلا شخص جس نے دو بہنوں کی ایک وقت میں ایک شوہر کے ساتھ شادی کی اجازت دی ، وہ معاویہ تھا۔

سب سے پہلا شخص جس نے حدود و دیات کے باب میں پیغمبر اکرم (ص) کی سنت کو تبدیل کیا، وہ معاویہ تھا۔

سب سے پہلا شخص جس نے (حج کے ایام میں) لبیک کہنے کو ترک کیا ، وہ معاویہ تھا۔

سب سے پہلا شخص جس نے حدود الہی کو جاری کرنے سے منع کیا ، وہ معاویہ تھا۔

سب سے پہلا شخص جس نے جعل حدیث کے لیے مال کو مخصوص کیا، وہ معاویہ تھا۔

سب سے پہلا شخص جس نے بیعت لیتے وقت علی (ع) سے بیزاری کی شرط رکھی، وہ معاویہ ملعون تھا۔

سب سے پہلا شخص جس نے پیغمبر اکرم (ص) کے ایک صحابی (عمرو ابن حمق) کے سر کو تن سے جدا کر کے ایک شہر سے دوسرے شہرمیں گھمایا، وہ معاویہ تھا۔

سب سے پہلا شخص جس نے پیغمبر اکرم (ص) کی خلافت کو بادشاہت میں تبدیل کیا، وہ معاویہ تھا۔

سب سے پہلا شخص جس نے دین خدا کی توہین کی اور اپنے فاجر و فاسق بیٹے کو خلافت کے لیے منتخب کیا، وہ معاویہ تھا۔

سب سے پہلا شخص جس نے حکم دیا کہ پیغمبر اسلام کے شہر مدینہ کو غارت کریں، وہ معاویہ تھا۔

سب سے پہلا شخص جس نے حضرت علی (ع) کو ناسزا و سبّ شتم کرنے کو رواج دیا، وہ معاویہ لعین تھا۔

سب سے پہلا شخص جس نے عید کے خطبہ کو (پیغمبر کے حکم کے خلاف) نماز سے پہلے مقدم کیا تا کہ لوگوں کے متفرق ہونے سے پہلے خطبہ میں حضرت علی (ع) پر لعنت کرے، وہ لعین معاویہ تھا۔

الغدير، ج 11، ص 71

یہ تمام بحث معاویہ کے درد ناک واقعات، احکام الہی کو تبدیل کرنے ، سنت پیغمبر (ص) کو نقض کرنے اور خداوند کے احکام کو پیروں کے نیچے کچلنے سے متعلق تھی اور اگر کوئی اس کی سوانح حیات اور بنی امیہ کی تاریخ کی تحقیق کرے تو اس سے بھی زیادہ واقعات ملیں گے۔

 واقعا اگر اس ظالم کی حکومت باقی رہتی تو یقینا اسلام بالکل ختم ہو جاتا اور دلیل و اسناد کے ساتھ اس بات میں کسی طرح کے شک و تردید کی گنجائش نہیں ہے اور ہم تعجب کرتے ہیں کہ بعض لوگ کیوں اصرار کرتے ہیں کہ معاویہ کے درد ناک واقعات پر چشم پوشی کر کے اس کی تعریف کریں واقعا تعجب کی بات ہے ! انصاف کہاں ہے ؟!

پيام امام امير المؤمنين (ع)، ج 4، ص 329-330

آیت الله مکارم شیرازی کے زیر نظر کتاب، عاشورا ریشه ها، انگیزه ها، رویدادها، پیامدها سے ماخوذ، ص200.

یزید کی ولی عہدی کے لیے معاویہ کے اقدامات:

ابن عبد ربہ کے بقول معاویہ نے 7 سال تک یزید کی بیعت کے لینے کے لیے عام لوگوں کے ذہنوں کو ہموار و تیار کرنے کی کوشش کی اور اس مقصد تک پہنچنے کے لیے ہر طرح کے وسائل ، فریب اور دھوکے سے کام لیا اور وہ ہر وقت اسی فکر میں لگا رہتا تھا۔

عقد الفريد، ج 4، ص 368

كامل ابن اثير، ج 3، ص 46

معاویہ سب سے زیادہ بہتر جانتا تھا کہ لوگ اس کے بعد کسی بھی قیمت پر یزید جیسے (شرابی و زانی) انسان کی بیعت نہیں کریں گے، لہذا وہ اس کوشش میں لگا ہوا تھا کہ اپنے سامنے جو کچھ کر سکتا ہے، وہ کر لے اور یہی وجہ تھی کہ اس نے مکر و فریب کے ذریعے آئندہ خلیفہ بننے والے مدعیوں جیسے امام حسن مجتبی (ع)، سعد ابن ابی وقاص اور دوسرے لوگوں کو ایک ایک کر کے قتل کر دیا تھا۔

مقاتل الطالبيين، ص 7

یہاں تک کہ اس نے عبد الرحمن (خالید ابن ولید کے بیٹے) کو بھی نہیں چھوڑا ، جب اس نے شامیوں سے سنا کہ وہ آئندہ خلافت کے لیے اسے زیادہ مستحق سمجھتے ہیں تو معاویہ نے اس کو اپنے مخصوص طبیب کے ذریعے سے زہر دلوا کر قتل کرا دیا۔

الغدير، ج 10، ص 233

الاستيعاب، شرح حال عبد الرّحمن

تاريخ طبرى، ج 4، ص 171

بہت سے مؤرخین جیسے یعقوبی اور ابن اثیر کا عقیدہ ہے کہ پہلی مرتبہ یزید کی ولایت عہدی کا علنی طور پر مغیره ابن شعبہ کے ذریعے سے اعلان ہوا ، معاویہ چاہتا تھا کہ مغیره کو کوفہ کی حکومت سے معزول کرے اور سعید ابن عاص کو اس کی جگہ منصوب کرے، لیکن مغیره اس کے اس ارادہ سے آگاہ ہوتے ہی بہت جلد شام پہنچ گیا اور اپنی ولایت کو ثابت اور باقی رکھنے کے لیے اس نے معاویہ کو یزید کی ولی عہدی کا مشورہ دیا اور اس سے کہا کہ اس کام کے لیے میں کوفہ کے لوگوں کو راضی کر لوں گا۔

كامل ابن اثير، ج 3، ص 503، حوادث سال 56

معاویہ، مغیره کے اصلی مقصد کو سمجھ گیا لہذا اس سے کہا کہ کوفہ جاؤ اور جا کر اس کام کو انجام دو !

اس کے بعد معاویہ نے ایک خط میں بصرہ کے حاکم زیاد کو لکھا:

مغیره نے کوفہ کے لوگوں کو یزید کی بیعت کے لیے دعوت دی ہے اور تیرے لیے بہتر ہے کہ تو بھی اپنے بھتیجے کے لیے یہ کام انجام دے ! جیسے ہی یہ خط تجھے ملے فورا بصرہ کے لوگوں کو جمع کر کے ان سے یزید کے لیے بیعت لے لے !

جب یہ خط زیاد کو ملا تو اس کو بہت تعجب ہوا اور اس نے معاویہ کو اس طرح خط لکھا:

یزید ایسا انسان ہے کہ جو کتوں اور بندروں سے کھیلتا رہتا ہے اور رنگ برنگے کپڑے پہنتا ہے ، ہمیشہ شراب پیتا ہے اور رات کو ناچ اور گانے میں بسر کرتا ہے ، اگر میں لوگوں کو اس کی بیعت کے لیے دعوت دوں تو وہ ہمیں کیا کہیں گے ؟ جب کہ ابھی حسین ابن علی علیہما السلام، عبد اللہ ابن عباس، عبد اللہ ابن عمر اور عبد اللہ ابن زبیر لوگوں کے درمیان میں موجود ہیں، یزید کو مجبور کر کہ ایک دو سال تک ان کے اخلاق میں گھل مل جائے ! شاید اس صورت میں لوگوں کو اس کی بیعت کے لیے راضی کیا جا سکتا ہے !!!

معاویہ یہ پیغام سننے کے بعد غمگین ہوا اور کہا:

وائے ہو عبید کے بیٹے پر ! میں نے سنا ہے کہ اس کے کان میں کسی نے کہا ہے کہ وہ میرے بعد امیر ہے، خدا کی قسم ! اس کو اس کی ماں سمیہ اور باب عبید کے پاس واپس پلٹا دوں گا۔

تاريخ يعقوبى، ج 2، ص 220

تاريخ طبرى، ج 6، ص 170

ابن اثير،  الكامل ج 3، ص 503-505

فطری سی بات ہے کہ زیاد کو اپنے جعلی حسب و نسب کو چھپانے کے لیے معاویہ کے سامنے تسلیم ہونے کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔

اس طرح معاویہ اور اس کے کارندے ، مشکل کام میں داخل ہو چکے تھے، معاویہ نے تمام تر زحمات کے ساتھ اپنی مملکت کے گوشہ و کنار سے قبیلوں کے بزرگ اور سرداروں کو دعوت دے رکھی تھی اور ان کو ڈرا دھمکا کر یا بہت زیادہ مال و ثروت دے کر یا پھر ان کے عہدوں کے امتیازات جیسے فرمانروائی یا حکمرانی کی لالچ وغیرہ دے کر یزید کی بیعت کے لیے مجبور کیا تھا۔

( مکہ اور مدینہ کے علاوہ ) تمام اسلامی شہروں کو یزید کی بیعت قبول کرنے میں کئی سال لگ گئے، فقط ان دو شہروں خاص طور پر مدینہ نے بالکل بیعت نہیں کی تھی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ امام حسین (ع) جیسے اثر و رسوخ رکھنے والے افراد نے یہ کام نہیں ہونے دیا تھا۔

كامل ابن اثير، ج 3، ص 506

آخر کار امام حسین (ع) کے شدید اعتراض نے مروان کو اس ماموریت کے انجام سے ناکام بنا دیا۔

معاویہ خود ان دو مقدس شہروں کا سفر کرنے پر مجبور ہو گیا تا کہ وہاں کے لوگوں کو یزید کی بیعت کرنے پر مجبور کرے اور اسی وجہ سے اس نے بہت سارے فوجی اور مخصوص گارڈوں کے ساتھ حجاز کا سفر کیا تھا۔

ابن قتیبہ نے اپنی کتاب الامامۃ والسیاسۃ میں اس سفر اور معاویہ کے عتاب آمیز گفتگو کو مدینہ میں امام حسین ابن علی (ع) اور دوسرے مشہور لوگوں کے ساتھ تفصیل سے بیان کیا ہے۔

وہ لکھتا ہے کہ:

معاویہ نے حکم دیا کہ سب لوگوں کو مسجد میں بلایا جائے اور جب لوگ جمع ہو گئے تو کھڑا ہوا اور یزید کی شائستگی اور لیاقت کے بارے میں گفتگو کرنے لگا اور کہنے لگا:

تمہارے علاوہ تمام بلاد اسلامی کے لوگوں نے یزید کی بیعت کر لی ہے، میں نے اس شہر کی اہمیت کی وجہ سے یہاں پر دیر کی اور اگر امت اسلامی میں کسی کو یزید سے بہتر سمجھتا تو خدا کی قسم اس کی بیعت لیتا !

اس وقت امام حسین (ع) کھڑے ہو گئے اور اس کی بات کو قطع کر کے فرمایا:

خدا کی قسم ! جس کے والد ، یزید کے باپ سے بہتر اور جس کی ماں، یزید کی ماں سے بہتر، اور وہ خود یزید سے بہتر ہے، اس کو تم نے الگ کر دیا ہے اور یزید کے لیے بیعت لے رہے ہو !

معاویہ نے کہا: گویا کہ تم اپنے بارے میں کہہ رہے ہو ؟

امام نے فرمایا: جی ہاں۔

اس نے کہا: تمہاری یہ بات کہ تمہاری ماں یزید کی ماں سے بہتر ہے یہ بات بالکل صحیح ہے، اس لیے کہ فاطمہ پیغمبر اکرم (ص) کی بیٹی ہیں اور دین و اسلام میں کوئی بھی ان کے مقابلے تک نہیں پہنچ سکتا، لیکن تم جو یہ کہتے ہو کہ تمہارے والد، یزید کے والد سے بہتر ہیں تو خدا نے یزید کے باپ کو تمہارے باپ پر کامیاب کیا ہے !

امام نے فرمایا: یہ تیری بہت زیادہ جہالت اور نادانی ہے کہ تو نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دے رکھی ہے۔

معاویہ نے کہا: لیکن یہ جو تم کہتے ہو کہ یزید سے بہتر ہو تو خدا کی قسم ! یزید امت محمد (ص) کے لیے تم سے بہت زیادہ لائق اور بہتر ہے !!!!!!

امام نے فرمایا: یہ دروغ اور بہتان کے علاوہ کچھ نہیں ہے، کیا شراب خور اور عیش و عشرت میں زندگی بسر کرنے والا یزید، مجھ سے بہتر ہے ؟!

الامامة و السياسة، ج 1، ص 211-212

الغدير، ج 10، ص 250

ابن اثیر کے بقول معاویہ کچھ دنوں تک مدینہ میں رہا اور آخر کار لوگوں کو دھمکانے اور زہر آلود تلواروں سے ان کا گھیراؤ کر کے ( ان چار لوگوں کے علاوہ ) سب لوگوں سے بیعت لے کر شام واپس چلا گیا۔

كامل ابن اثير، ج 3، ص 511

عقد الفريد، ج 4، ص 371-372

ان تمام باتوں کے باوجود معاویہ نے حسب ظاہر تمام شہروں کے لوگوں سے یزید کی بیعت لی اور اس کو جانشین کے عنوان سے منتخب کیا، لیکن تاریخ میں اس کا یہ عمل اس کے سب سے زیادہ برے کاموں میں شمار کیا گیا ہے اور شمار کیا جاتا رہے گا۔

اس انتخاب کی برائی اس حد تک تھی کہ زیاد کو بھی اس کا اعتقاد نہیں تھا اور اسی وجہ سے اس نے معاویہ سے کہا، کس طرح لوگوں سے ایک شراب خوار اور بندروں سے کھیلنے والے کے لیے بیعت لوں ؟

ابن اثیر نے حسن بصری سے نقل کیا ہے کہ :

معاویہ نے چار ایسے برے کام انجام دئیے جن میں سے ہر ایک کام اس کی تباہی و بربادی کے لیے کافی ہے اور پھر ان میں سے ایک کام کے بارے میں اس طرح کہا:

و استخلافہ بعدہ ابنہ سکیرا خمیرا یلبس الحریر و یضرب بالطنابیر۔

اس نے اپنے ایسے بیٹے کو جانشین بنایا جو بہت زیادہ شراب پی کر مست رہتا تھا اور حریر کا لباس پہنتا اور ناچ گانے میں مصروف رہتا تھا۔

کامل ابن اثیر ، ج 3  ، ص 487

الغدیر ، ج 10 ، ص 225

معاویہ خود اچھی طرح جانتا تھا کہ یزید خلافت کے لیے مناسب نہیں ہے ،لیکن بیٹے کی محبت اور اس خاندان میں خلافت کے باقی رہنے کی آرزو نے اس کو ہمیشہ کی طرح، حق کی پیروی کرنے سے منع کر دیا تھا ، معاویہ سے نقل ہوا ہے کہ اس نے کہا :

لولا ھوای فی یزید لا بصرت رشدی،

اگر یزید کی محبت نہ ہوتی تو میں صحیح راستہ کو تشخیص دے سکتا تھا۔

تذکرة الخواص، ص 257

مختصر تاریخ دمشق ، ج 28 ، ص 18

مشہور مورخ یعقوبی کے بقول جس وقت عبد اللہ ابن عمر کو یزید کی بیعت کرنے کا مشورہ دیا گیا تو اس نے کہا:

جو شخص بندروں اور کتوں سے کھیلتا ہو، شراب پیتا ہو اور کھلے عام فسق و فجور انجام دیتا ہو، میں اس کی بیعت کیسے کر سکتا ہوں اور بیعت کی صورت میں خداوند کو کیا جواب دوں گا ؟

تاریخ یعقوبی ،ج 2، ص 220

بہرحال معاویہ نے اپنے بیٹے یزید کی محبت اور خلافت کو اموی خاندان میں باقی رکھنے کے لیے لوگوں کے گلے میں اس کی بیعت کا طوق ڈال دیا اور اس طرح اسلامی معاشرہ اور شریعت نبوی کو اس نے نقصان پہنچایا۔

مصر کے مشہور عالم اور مصنف سید قطب لکھتے ہیں کہ:

معاویہ نے یزید کو خلافت کے لیے نصب کر کے قلب اسلام، اسلامی نظام اور اسلام کے اہداف و مقاصد کو دوبارہ نقصان پہنچایا۔

العدالة الاجتماعیة، صفحہ 181

آیت الله مکارم شیرازی کے زیر نظر کتاب،عاشورا ریشه ها، انگیزه ها، رویدادها، پیامدها سے ماخوذ، ص204.

معاویہ کے اقوال میں بنی ہاشم سے انتقام لینے اور بغض و حسد کے نمایاں آثار:

اگرچہ اسلامی ممالک پر معاویہ کے تسلط کے زمانے میں معاویہ کے اعمال و کردار سے اسلام، قرآن اور رسول اللہ (ص) کے ساتھ دشمنی کو اچھی طرح سے سمجھا اور دیکھا جا سکتا ہے ، لیکن تاریخ نے اس کی بہت سی ایسی باتوں کو اپنے دامن میں محفوظ کر لیا ہے کہ جس میں اس نے رسول خدا (ص) کے ساتھ دشمنی اور ان کے نام کو مٹانے کی واضح وضاحت کی ہے:

مشہور مورخ مسعودی لکھتا ہے کہ:

مطرف ابن مغیره نے مغیرہ ابن شعبہ کے بیٹے سے نقل کیا ہے کہ میں اپنے باپ مغیرہ کے ساتھ شام آیا اور میرا باپ روزانہ معاویہ کے پاس جاتا تھا اور اس سے باتیں کر کے واپس آ جاتا تھا اور اس کی عقل و ہوش کی تعریف کیا کرتا تھا، لیکن ایک دن جب معاویہ کے پاس واپس آیا تو بہت غمگین اور غصے کی حالت میں تھا یعنی اتنے غصے میں تھا کہ اس نے شام کا کھانا بھی نہیں کھایا، میں نے سوچا کہ شاید ہمارے خاندان کو کچھ پریشانی لاحق ہو گئی ہے، میں نے پوچھا کہ آج اتنا کیوں ناراض ہیں ؟

تو اس نے کہا کہ میں آج خبیث ترین انسان کے پاس سے واپس آ رہا ہوں، میں نے پوچھا کہ کیوں ؟ تو اس نے کہا کہ میں معاویہ کے پاس اکیلا بیٹھا ہوا تھا تو میں نے اس سے کہا کہ تمہارا مقام بہت بلند و بالا ہے، اگر تم عدالت سے کام لو اور نیک کام کرو تو بہت بہتر ہے، خصوصا اپنے خاندان میں بنی ہاشم کے ساتھ نیکی کر اور صلہ رحم اختیار کر، آج ان کی طرف سے تجھے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

اچانک وہ بدل گیا اور غصہ ہو کر کہنے لگا:

ابوبکر خلیفہ ہوا اور اس نے جو کرنا چاہا کیا، مگر جب وہ اس دنیا سے چلا گیا تو اس کا نام بھی ختم ہو گیا، اب کبھی کبھی اسکا ذکر کیا جاتا ہے کہ ابوبکر! پھر عمر خلیفہ ہوا اور اس نے دس سال زحمت کی ! وہ بھی جب دنیا سے چلا گیا تو اس کا بھی نام ختم ہو گیا، اب کبھی کبھی کہا جاتا ہے کہ عمر ! ان کے بعد ہمارا بھائی عثمان خلیفہ ہوا، اس نے بہت زیادہ کام انجام دئیے لیکن جب وہ دنیا سے گیا تو اس کا نام بھی ختم ہو گیا، لیکن ہاشم کے بھائی (رسول اکرم کی طرف اشارہ ہے ) کا نام روزانہ پانچ مرتبہ (گلدستہ اذان سے) فریاد کرتا ہے اور کہتا ہے:

اشھد انّ محمّدا رسول اللہ،

ان حالات کو دیکھتے ہوئے ہمارا کونسا عمل اور کونسا نام باقی رہے گا ! پھر کہنے لگا:

واللہ الا دفنا دفنا،

خدا کی قسم ! اس نام کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔

مروج الذهب، ج 3، ص 454

شرح نهج البلاغه ابن ابى الحديد، ج 5، ص 129

اس واقعہ سے بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ معاویہ کے پروگرام اور اسلام و رسول خدا (ص) سے اس کی حسادت و کینہ پروری واضح ہو جاتی ہے، اسی وجہ سے اس نے کبھی بھی خاندان رسول خدا اور اہل بیت سے دشمنی کرنے سے ہاتھ نہیں اٹھایا تھا اور ان کے حق میں بہت سی جنایات کا مرتکب ہوا تھا، جن میں سے سب سے زیادہ مشہور و واضح حضرت علی (ع) پر لعن اور گالیوں کو رواج دیا اور امام حسن (ع)، حجر ابن عدی اور حجر کے دوسرے دوستوں کو شہید کیا۔

کتاب عاشورا ریشه ها، انگیزه ها، رویدادها، پیامدها، زیر نظر آیت الله مکارم شیرازی، ص108

ظہور اسلام کے بعد بنی امیہ اور بنی ہاشم کے اختلافات کا شدید ہونا:

جب پیغمبر اسلام (ص) نے اپنی دعوت کا مکہ میں آغاز کیا اس وقت شہر مکہ کی سیاسی اور اقتصادی طاقت اتفاقی طور پر بنی امیہ کے خاندان میں تھی۔

اس خاندان کے بزرگوں نے تجارت اور ربا خواری کے ذریعے سے بہت زیادہ مال جمع کر رکھا تھا اور اس کے علاوہ خانہ کعبہ کی نگہبانی اور زائرین کی خدمت کرنے کے ذریعے کو ایک طرح کا دینی تسلط حاصل کر رکھا تھا، اسی وجہ سے حج کے زمانے میں جب حاجی عرفہ سے حرکت کرتے تھے تو قریش مزدلفہ سے چل دیتے تھے کیونکہ ان کا اعتقاد تھا کہ کعبہ کا طواف پاک کپڑوں میں کرنا چاہیے اور کپڑوں کو اس وقت پاک سمجھتے تھے جب کپڑا قریش سے لیا جائے اور اگر وہ کسی کو کپڑے نہیں دیتے تھے تو وہ ننگا ہو کر طواف کرنے پر مجبور ہوتا تھا !

سیرة ابن ہشام ، ج 1 ،ص 125

یہی وجہ تھی کہ ایک دفعہ ان کا دیرینہ بغض و حسد بھرک اٹھا ، خاص طور سے جب انہوں نے اپنے ناجائز فائدے اور اپنی اجتماعی حالت کو ختم ہوتے ہوئے دیکھا ، لہذا وہ اپنی تمام تر طاقت کے ساتھ اس نئے آئین سے مقابلہ کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے، لیکن اس بات کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ اس پوری جنگ میں ، پیغمبر اکرم اور مسلمانوں کے خلاف تمام فتنوں اور جنگوں کی سرپرستی (بنی امیہ کے سردار ) ابو سفیان کے ہاتھ میں تھی۔

ابو سفیان اور اس کے قبیلہ والوں نے جن کی عزت و آبرو دوسرے قبیلوں سے زیادہ خاک میں مل گئی تھی ، اس وقت اسلام قبول کیا کہ جس وقت اس کے علاوہ کوئی چارہ باقی نہیں رہ گیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے تصور کیا کہ ان کے لیے ایک نیا دروازہ کھل گیا ہے کہ اگر اس پر سوار ہو گئے تو اپنے مقصد تک پہنچ جائیں گے ، لہذا انہوں نے اپنے فائدہ کو دیکھتے ہوئے اسلام قبول کیا۔

حضرت علی (ع) نے اس گروہ کے اسلام قبول کرنے کے متعلق فرمایا ہے:

وما اسلموا ولکن استسلموا و اسروا الکفر فلما وجدوا اعوانا علیہ اظھروہ،

یہ لوگ اسلام نہیں لائے ہیں بلکہ حالات کے سامنے مجبور اور بے بس ہو گئے ہیں اور اپنے کفر کو چھپائے ہوئے ہیں اور جیسے ہی مددگار مل گئے تو ویسے ہی انھوں نے اپنے باطنی کفر کا اظہار کر دیا ہے۔

نہج البلاغہ ، مکتوب (خط نمبر) 16

لیکن چونکہ جاہلیت کے زمانے کے تمام امتیازات ختم ہو گئے تھے اور " طُلقا " (فتح مکہ کے روز قید و بند کی زندگی سے آزاد ہونے والوں) کے عنوان کو قبول کر کے ذلت و خواری کو برداشت کر رہے تھے لہذا پیغمبر اکرم (ص) اور بنی ہاشم سے ان کو بہت زیادہ بغض و حسد ہو گیا تھا ، یہی وجہ تھی کہ اسلام قبول کرنے کے بعد بھی اپنے ظاہری اور پوشیدہ فتنوں سے دست بردار نہیں ہوئے تھے۔

اس بناء پر ہم تعجب نہیں کرتے جب یہ دیکھتے ہیں کہ حتی کربلا کا خونین واقعہ بھی اسی گروہ کے ہاتھوں سے واقع ہوا اور یزید نے کربلا کے واقعہ کے بعد بہت ہی صراحت کے ساتھ بنی ہاشم سے انتقام لینے کی بات کہی تھی۔

کتاب عاشورا ریشه ها، انگیزه ها، رویدادها، پیامدها، زیر نظر آیت الله مکارم شیرازی، ص101

اصحاب رسول خدا (ص) سے دشمنی اور ان کی توہین کا آغاز خود معاویہ ابن ابو سفیان نے کیا:

اولین تاریخ اسلام میں ایک ایسا کردار ملتا ہے جس کے کارناموں کے بارے میں عام لوگ اسی طرح ہی بے خبر ہیں کہ جس طرح ان کو محمود غزنوی، مجدد الف ثانی اور احمد لدھیانوی دیوبندی وغیرہ کی حقیقت معلوم نہیں، اس کردار کا نام ہے ابو یزید معاویہ ابن ابو سفیان ، لخت جگر ہندہ جگر خوار۔

سپاہ صحابہ کے تکفیری دیوبندی اور دوسرے ناصبی افراد شیعہ مسلمانوں کو اس لیے قتل کرتے ہیں اور کافر قرار دیتے ہیں کیونکہ بقول ان کے شیعہ صحابہ کو گالیاں دیتے ہیں۔

اگر کفر کا معیار واقعی کسی صحابی پر تنقید کرنا ہی ہے تو پھر سب سے بڑے کافر بنی امیہ ہوئے کہ جو عرصہ دراز تک بزرگ صحابی علی ابن ابی طالب (ع) اور اہلبیت پر گالیوں کی بوچھاڑ کرتے رہے۔ مگر منافقانہ روش دیکھیں کہ بجائے بنی امیہ پر کفر کے فتوے لگانے کے انہوں نے بنی امیہ کو رضی اللہ عنہ اور امیر المومنین بنا رکھا ہے۔

حالانکہ خود اہل سنت کی معتبر کتب میں حضرت ام سلمہ نے رسول خدا (ص) سے نقل کیا ہے کہ:

میں نے رسول اکرم  (ص) کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے علی (ع) کو گالی دی اس نے مجھے گالی دی اور جس نے مجھے گالی دی، اس نے ﷲ کو گالی دی۔

مسند أحمد بن حنبل  ج18 ص 314 الحديث 26627

الحاکم في المستدرک، ج 3 ص 121، الحديث 4616

الهيثمي في مجمع الزوائد، ج 9 ص 130 : رجاله رجال الصحيح،

ابن عساکر في تاريخه، ج 42 ص 266، 267. 268، 533

مروان ابن حکم اور معاویہ کافر کیوں نہیں بنے جبکہ وہ افضل ترین صحابہ حضرت علی ابن ابی طالب (ع)، امام حسن (ع) اور امام حسین ع) کو سر عام گالیاں دیتے تھے ؟

عالم اہل سنت ذہبی نے کتاب تاریخ الاسلام میں لکھا ہے کہ:

مروان ابن حکم ہر جمعے کے خطبے کے بعد حضرت علی ابن ابی طالب پر سبّ (گالی) کیا کرتا تھا۔

ذہبی، کتاب تاریخ الاسلام، ج 2، ص 288

دیوبند کے امام محمد انور شاہ کشمیری نے کتاب صحیح بخاری کی شرح فیض الباری شرح صحیح بخاری میں لکھا ہے کہ:

ثم إن من السُّنة تقديمَ الصلاةِ على الخُطبة. وإنما قَدَّمها مراونُ على الصلاةِ لأنه كان يَسُبُّ عليًا رضي الله عنه ،

سنت نبوی یہ ہے کہ نماز کو خطبے سے پہلے ادا کیا جائے، لیکن مروان ابن حکم نے خطبے کو نماز پر پہلے جاری کر دیا کیونکہ وہ خطبے میں علی (رض) کو برا بھلا کہتا تھا۔

فیض الباری شرح صحیح بخاری، جلد 1، صفھہ 722، روایت: 954، کتاب العیدین،

اہل سنت کی احادیث کی چھ معتبر ترین کتابوں میں سے ایک یعنی سنن ابن ماجہ میں ذکر ہوا ہے کہ:

حج پر جاتے ہوئے سعد ابن ابی وقاص کی ملاقات معاویہ سے ہوئی اور جب کچھ لوگوں نے علی کا ذکر کیا تو اس پر معاویہ نے علی کی بدگوئی کی۔ اس پر سعد ابن ابی وقاص غضب ناک ہو گیا اور کہا کہ تم علی کے متعلق ایسی بات کیوں کہتے ہو۔

میں نے رسول اللہ (ص) کو کہتے سنا ہے کہ جس جس کا میں مولا ہوں، اُس اُس کا یہ علی مولا،

اور یہ کہ اے علی آپکو مجھ سے وہی نسبت ہے جو کہ ہارون (ع) کو موسی (ع) سے تھی، سوائے ایک چیز کہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا،

اور میں نے رسول اللہ (ص) سے یہ بھی سنا ہے کہ کل میں علم ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اسکے رسول سے محبت کرتا ہے۔

یہ بالکل صحیح الاسناد روایت ہے۔

وہابیوں کے امام ناصر الدین البانی نے اسے کتاب سلسلۃ الاحاديث الصحيحہ میں ذکر کیا ہے اور صحیح قرار دیا ہے۔

سلسلۃ الاحاديث الصحيحۃ ، ج 1 ص 26

صحیح مسلم کی روایت ہے کہ أبدا اور ابی یعلی نے سعد سے ایک ایسے حوالے (سند) سے نقل کیا ہے کہ جس میں کوئی نقص نہیں کہ سعد نے معاویہ ابن ابی سفیان سے کہا:

اگر تم میری گردن پر آرے (لکڑی یا لوہا کاٹنے والا آرا) بھی رکھ دو کہ میں علی ابن ابی طالب پر سبّ و شتم کروں (گالیاں دینا، برا بھلا کہنا) تو تب بھی میں کبھی علی پر سبّ نہیں کروں گا۔

صحیح مسلم، ج 7 ، کتاب فضائل الصحابة،باب فضائل علی کرم اللہ وجہہ، حدیث 2404، 2405، 2406، 2407

فتح الباری شرح صحیح البخاری، ج 7 ،ص 74

اب یہ بتائیں کہ کیا حضرت علی ابن ابی طالب (ع) صحابی نہ تھے ؟ کیا امام حسن (ع) و امام حسین (ع) صحابی رسول نہ تھے ؟ کہ یہ مروان اور معاویہ اس طرح سے انھیں گالیاں دیں ؟

عائشہ کا معاویہ کو فرعون سے تشبیہ دینا:

اسود ابن یزید کا بیان ہے کہ میں نے عائشہ سے کہا: تمہارے لیے تعجب کی بات نہیں ہے کہ فتح مکہ کا ایک آزاد شدہ آدمی خلافت کے بارے میں اصحاب رسول خدا (ص) کی مخالفت کر رہا ہے؟

 اس پر عائشہ نے جواب دیا اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے ! یہ اللہ کی قدرت حاکمہ ہے جسے وہ نیک و بد سبھی کو عطا کرتا ہے، اور تاریخ میں اس طرح کے اتفاقات پیش آئے ہیں، جیسے فرعون نے چار سو سال تک مصر کے لوگوں پر حکومت کی، اور اسی طرح فرعون کے علاوہ دوسرے کافروں نے بھی اور یہی معاویہ ابن ابوسفیان کی مثال ہے۔

البدایۃ و النھایۃ ابن کثیر ج 8 ص 131

صحابی رسول خدا (ص) حضرت ابن عباس کی نظر میں معاویہ:

صحابی رسول خدا (ص) ابن عباس جنگ صفین کے بارے میں اپنے ایک بیان میں اس طرح فرماتے ہیں کہ:

جگر خوار عورت کے بیٹے (معاویہ) نے علی ابن ابی طالب (رض) کے مقابل جنگ میں بعض کمینوں اور شام کے پست افراد کو اپنا مددگار بنایا۔ رسول اللہ کے چچا زاد بھائی اور داماد جس نے سب سے پہلے رسول اللہ کے ساتھ نماز ادا کی اور اہل بدر (بدری) میں سےتھے، جو کہ تمام جنگوں میں صاحبان فخر اور فضیلت تھے اور ہمیشہ رسول اللہ (ص) کے ساتھ ساتھ رہتے تھے، جبکہ معاویہ اور ابو سفیان دونوں اس وقت مشرک اور بت پرست تھے۔ یاد رکھو اس خدا کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں تمام ہستی ہے، اور اس کو ظہور میں لانے والا ہے، اور ہر ہستی وجود پر حکومت اور سلطنت کے لیے سزاوار ہے، علی ابن ابی طالب رسول اللہ کے ہم رکاب جنگ کرتے تھے، اور علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں:

خدا اور اس کا رسول جو بھی کہتے ہیں سچ کہتے ہیں،

لیکن اس کے مقابل معاویہ اور ابوسفیان کہتے تھے:

خدا اور اس کا رسول جھوٹا ہے،

 لیکن اس کے باوجود معاویہ جس موقعیت کا آج حامل ہے ماضی کی موقعیت سے ہرگز بہتر، یا زیادہ پرہیزگار ، اور ہدایت یافتہ نہیں ہے۔

کتاب صفین، ص 360

شرح ابن ابی الحدید ج 1 ص 504

صحابی حضرت عمار یاسر (رض) کی نگاہ میں معاویہ:

یہ بات صحیح ہے کہ حضرت عمار یاسر نے جنگ صفین کے دوران فرمایا:

اے مسلمانو ! کیا تم ایسے شخص کو دیکھنا چاہتے ہو کہ جس نے خدا اور اس کے رسول کے ساتھ دشمنی کی، رسول کی مخالفت میں جدوجہد کی، مسلمانوں پر مسلح ہو کر تجاوز کیا، مشرکوں کی حمایت کی، اور جب خدا نے چاہا کہ وہ اپنے دین کی حمایت کرے اور اس کو نمایاں کرے اور اپنے رسول کی مدد کرے، تو وہ شخص پیغمبر کے پاس آتا ہے اور مسلمان ہو جانے کا اظہار کرتا ہے۔ جبکہ خدا کی قسم ! اس نے اسلام کو ہرگز دل سے قبول نہیں کیا، بلکہ ڈر اور خوف کے سبب اس نے اظہار اسلام کیا، جب پیغمبر دنیا سے گئے تو خدا کی قسم ہم جانتے تھے کہ وہ مسلمانوں کا دشمن اور تباہ کاروں کا دوست ہے ؟ ہاں ! وہ شخص معاویہ ہی ہے، لہذا تم اس پر لعنت بھیجو، اور اس کے ساتھ جنگ کرو، اس لیے کہ یہ وہ شخص ہے جو دین کی مشعل کو خاموش اور خدا کے دشمنوں کی مدد کر رہا ہے۔

تاریخ طبری ج 6 ص 7

کتاب صفین ص 240

الکامل لابن الاثیر ج 3 ص 136

کتاب صحیح مسلم میں معاویہ کے بارے میں جس میں رسول خدا (ص) نے معاویہ کو اس وقت بد دعا دی جب معاویہ نے رسول خدا کے حکم کی نافرمانی کی۔

اسی حدیث کی تشریح میں امام نووی نے اہلسنت کے امام نسائی کا قول بھی نقل کیا ہے کہ:

معاویہ کے بارے میں کوئی بھی حدیث صحیح نہیں ہے، سوائے اس ایک بد دعا والی حدیث کے۔

 

معاویہ اپنے پوتے کی نظر میں:

کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ جب معاویہ ابن یزید ابن معاویہ (یعنی معاویہ کا پوتا) تخت حکومت تک پہنچا تو منبر پر جانے کے بعد اس نے ایسے کہا:

یہ خلافت اللہ کی ایک رسی ہے (اللہ سے رابطہ ہے) اور میرے جدّ معاویہ نے اس کو اس شخص سے جو اس کا اہل تھا اور خلافت کے لیے موزوں تھا، چھین لیا (یعنی علی ابن ابی طالب سے) اور تم کو وہ کام کرنے پر مجبور کیا جنہیں تم اچھی طرح جانتے ہو، یہاں تک کہ اس کا وقت آ گیا، اور قبر میں اس کے گناہوں کے بند کھل گئے ہیں،

اس وقت میرے باپ (یزید) نے حکومت کو اپنے قبضے میں لے لیا جبکہ وہ بھی اس کا اہل نہیں تھا، اور پیغمبر کی بیٹی کے فرزند کی مخالفت اور دشمنی پر اتر آیا، اسی وجہ سے وہ جوانی میں ہلاک ہو گیا، اور ابتر اور لا وارث مر گیا، اور اپنی قبر میں گناہوں کے سبب گرفتار ہو گیا۔

صواعق محرقہ ابن حجر ص 134

معاویہ کی حضرت محمد رسول خدا (ص) کے ساتھ جنگ کا ثبوت:

پیغمبر اسلام (ص) نے متعدد بار فرمایا: جو علی سے جنگ کرے تو اس نے مجھ سے جنگ کی ہے۔

کیا وہ لوگ پیغمبر (ص) کے ساتھ جنگ کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے ؟ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے جس نے بھی جنگ کی، اس نے رسول اللہ سے جنگ کی، اس لیے کہ امیر المومنین خلیفہ حق حضرت علی کے مقابلے میں اعلان جنگ کیا اور لشکر کشی کی ہے ؟

کیا رسول اللہ (ص) سے جنگ کرنے والے کو آپ صحابی مانتے ہیں ؟ پھر یہود و نصارا کے عقیدے میں اور بنی امیہ کے اسلام کے عقیدے میں کیا فرق ہے ؟

امیر المومنین علی ابن ابی طالب کے ساتھ جنگ در حقیقت رسول اللہ کے ساتھ جنگ ہے۔

المستدرک الحاکم النیشاپوری ج 3 ص 149

مسند احمد الإمام احمد بن حنبل ج 2 ص 442

المعجم الکبیر الطبرانی ج 3 ص 40

کنز العمال المتقی الهندی ج 12 ص 97، ح 34164

متن حدیث اسناد حسن (معتبر):

( أخبرنا ) أحمد بن جعفر القطیعی ثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثنی أبی ثنا تلید بن سلیمان ثنا أبو الجحاف عن أبی حازم عن أبی هریرة رضی الله عنه قال نظر النبی صلى الله علیه وآله إلى علی وفاطمة والحسن والحسین فقال انا حرب لمن حاربکم وسلم لمن سالمکم *

هذا حدیث حسن من حدیث أبی عبد الله أحمد بن حنبل عن تلید بن سلیمان فانى لم أجد له روایة غیرها *

۔۔۔۔۔۔ رسول خدا (ص) نے فرمایا: جس نے میرے اہل بیت سے جنگ کی تو میں بھی اس سے جنگ کروں گا۔   

المعجم الأوسط، الطبرانی ج 3 ص 179

المعجم الصغیر، الطبرانی ج 2 ص 3

أسد الغابة ابن الأثیر ج 3 ص 11

حدثنا إبراهیم قال حدثنا محمد بن الاستثناء قال حدثنی حسین بن الحسن الأشقر عن عبید الله بن موسى عن أبی مضاء وکان رجل صدق عن إبراهیم بن عبد الرحمن بن صبیح مولى أم سلمة عن جده ( 161 أ ) صبیح قال ( کنت بباب رسول الله صلى الله علیه وسلم فجاء علی وفاطمة والحسن والحسین فجلسوا ناحیة فخرج رسول الله صلى الله علیه وسلم إلینا فقال إنکم على خیر خیر وعلیه کساء خیبری فجللهم به وقال أنا حرب لمن حاربکم سلم لمن سالمکم،

  ۔۔۔۔۔۔ رسول خدا (ص) نے فرمایا: جس نے میرے اہل بیت سے جنگ کی تو میں بھی اس سے جنگ کروں گا۔    

تاریخ مدینة دمشق، ابن عساکر ج 14 ص 157

وأخبرنا أبو محمد بن طاوس أنا أبو الغنائم بن أبی عثمان أنا عبد الله بن عبید الله بن یحیى قالا أنا أبو عبد الله المحاملی نا عبد الأعلى بن واصل نا الحسین بن الحسن الأنصاری یعرف بالقری نا علی بن هاشم عن أبیه عن أبی الجحاف عن مسلم بن صبیح عن زید بن أرقم قال حنا رسول الله ( صلى الله علیه وسلم ) فی مرضه الذی قبض فیه على علی وفاطمة وحسن وحسین فقال’’ أنا حرب لمن حاربکم وسلم لمن سالمکم،

۔۔۔۔۔۔ رسول خدا (ص) نے فرمایا: جس نے میرے اہل بیت سے جنگ کی تو میں بھی اس سے جنگ کروں گا۔    

امام حسن (ع) کا معاویہ کے نام ایک تاریخی خط:

21 رمضان سن 40 ہجری کو امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی شہادت واقع ہوئی۔ اس کے بعد تمام امت مسلمہ نے متحد ہو کر سبطِ اکبر، فرزندِ علی مرتضیٰ حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی بیعت کر لی۔ حجاز، عراق، یمن، ایران تمام علاقوں کے مسلمانوں نے خاندانِ رسالت کی امامت کو قبول کر لیا، مگر دشمن اسلام خاندان بنی امیہ کو یہ امن و امان کا ماحول پسند نہیں آیا۔

عمر ابن خطاب نے ابو سفیان کے بیٹے معاویہ ابن ابو سفیان کو شام کا گورنر بنایا پھر عثمان کے دور خلافت میں بھی بدستور وہ شام کا گورنر بنا رہا۔ جب لوگوں نے مولا علی علیہ السلام کو اپنا چوتھا خلیفہ چن لیا تو اس موقع پر معاویہ نے حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کے خلاف آواز اٹھائی، بغاوت کی اور عثمان کے قتل کو بہانہ بنا کر ان سے نبرد آزما ہوا، جس کے نتیجے میں جنگ صفین واقع ہوئی، پھر ان کی شہادت کے بعد اس نے اپنا مقصد آشکار کر دیا اور امام حسنؑ کے خلاف بھی علم بغاوت بلند کر دیا۔

وہ یہ چاہ رہا تھا کہ مسلمانوں کی حکومت کو کسی بھی طریقے سے ہتھیا لے۔ اس نے اہلبیتؑ پر یہ الزام لگایا کہ اہلبیتؑ ہمیشہ مسلمانوں کے خلفاء کے خلاف رہے ہیں۔ اس نے امام حسن علیہ السلام کو خط لکھ کر اس الزام کو دہرایا اور اپنی خلافت کا بھی دعوی پیش کر دیا۔ جس کا جواب امام حسن علیہ السلام نے یوں تحریر فرمایا:

ہم (اہلبیتؑ) کو اس بات سے بے حد افسوس ہوا کہ کس طرح سے ہمارے حق کو ان لوگوں نے غصب کر لیا جو لوگ مسلمانوں میں صاحبِ فضل اور باکمال مانے جاتے تھے، جن کا مسلمانوں میں ایک مقام تھا اور جو اسلام میں سبقت رکھتے تھے۔

مگر اس سے بھی زیادہ عجیب اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اے معاویہ ! تم اس بات کا دعویٰ کر رہے ہو کہ جس کے تم بالکل اہل نہیں ہو۔ تمہارے پاس نہ کبھی دین کی کو‏ئی فضیلت رہی ہے اور نہ کبھی تمہارے اندر دین کا کوئی اثر دیکھا گیا ہے کہ جسکی تعریف کی جا سکے۔

بلکہ اس کے برعکس تم قریش میں رسول خدا (ص) کے سب سے بڑے دشمن کے بیٹے ہو، جو اپنی ساری زندگی اسلام کے خلاف لشکر کشی کرتا رہا ہے…. اس لیے اپنی باطل فکر سے باہر نکلو اور ہٹ دھرمی سے باز آ کر میری بیعت کر لو کہ جس طرح تمام لوگوں نے میری بیعت کر لی ہے۔

تم اس بات سے بخوبی واقف ہو کہ خداوند کے نزدیک دیگر افراد سے اور تم سے بھی کہیں زیادہ اس خلافت کا میں حقدار ہوں۔ (اس لیے) خدا سے ڈرو اور مسلمانوں کا خون بہانے سے بچو۔ یاد رکھو کہ مسلمانوں کا ناحق خون بہانے کا جرم لے کر خدا سے ملاقات کرنا تمہارے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہو گا۔

مقاتل ابن اعثم ج 4 ص 151

شرح نھج البلاغہ ج 16 ص 23

اس جواب میں امام حسن علیہ السلام نے یہ واضح فرمایا ہے کہ خلافتِ رسول خدا (ص) مِنجانب الله، اہلبیتؑ کا حق ہے۔ امت نے اہلبیتِ پیغمبرؐ کے ساتھ بے وفائی کی اور سب نے مل کر ان کو اس مقام سے محروم کر دیا۔ آپ نے اس بات پر اظہارِ افسوس اور اظہار تعجّب کیا ہے کہ کس طرح ان لوگوں نے مسلمانوں میں اپنے مقام کا غلط فائدہ اٹھا کر اہلبیتؑ کے حق کو غصب کر لیا ہے اور خلافت کو آپس میں تقسیم کر لیا ہے۔ (آپ کی مراد پہلے تین خلفاء ہیں۔)

معاویہ اور اس کے خاندان کا اسلام سے کیا لینا دینا، اس کا خاندان تو نسل در نسل شروع سے ہی دشمن اسلام اور مخالف اسلام رہا ہے۔ اس نے روز اول سے پیغمبر اسلام کی مخالفت کی ہے اور آج اسی رسول اسلام کی خلافت پر قابض ہونا چاہتا ہے۔

امام حسن (ع) نے پھر خود معاویہ کو اس کی بے دینی یاد دلاتے ہوئے فرمایا ہے کہ اس میں نہ تو کوئی کمال تھا نہ اس نے اسلام کے لیے کوئی قربانی دی تھی کہ اس کو خلافت کے لیے امیدوار سمجھا جائے۔ بلکہ اس کے برعکس اس نے اور اس کے خاندان نے بالخصوص اس کے باپ ابوسفیان نے ہمیشہ اسلام اور رسول اسلام سے دشمنی رکھی تھی اور حتی اسی دشمنی کی حالت میں واصل جہنم ہو گئے تھے۔

آخر میں امام حسن (ع) نے معاویہ کو اپنی بیعت کرنے کی نصیحت فرمائی اور خدا کا خوف دلاتے ہوئے اپنے ذاتی مفاد کے لیے مسلمانوں کا ناحق خون بہانے سے پرہیز کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔

ابو بکر کی پہلی خلافت نے اسلام کا سب سے بڑا نقصان یہ کیا کہ معاویہ جیسے نا اہل، بے دین اور دشمن اسلام افراد کے لیے خلافت حاصل کرنے کا دروازہ کھول دیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ امام حسن علیہ السلام کے بعد مسلمانوں میں جتنے بھی عام خلفاء ہوئے وہ سب بے دین اور بدکار تھے۔

اللھم اللعن اوّل ظالم ظلم حق محمد وآل محمد وآخر تابع لہ علیٰ ذالک، اللھم اللعنھم جمیعا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،

التماس دعا۔۔۔۔۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی