2024 July 13
ملک اسحاق نے داعش کی بیعت کی تھی، اسکےساتھیوں پر گہرا تنگ کیا جائے
مندرجات: ٦٣٦ تاریخ اشاعت: ٢٢ February ٢٠١٧ - ١٢:٥٢ مشاہدات: 2098
خبریں » پبلک
ملک اسحاق نے داعش کی بیعت کی تھی، اسکےساتھیوں پر گہرا تنگ کیا جائے

شیعیت نیوز: گذشتہ روز مختلف میڈیا پر سی ٹی ڈی کے ایک اعلیٰ افسر راجہ عمر خطاب کی اہم پریس کانفرنس شائع ہوئی جس میں انہوںنے پاکستان میں داعش کے جھنڈے تلے کالعدم جماعتوں کے حوالے سے راز فاش کیا جس میں خاص پر لشکر جھنگوی کا نام سہرفرست تھا۔

سی ٹی ڈی کےذرائع کا کہنا ہے کہ لشکر جھنگوی نے داعش کی حمایت اسکے شیعہ مخالف نظریات ہونے کی بناء پر کی ہے، ۱۰۰ سے زائد قتل میں ملوث لشکر جھنگوی کے سرغنہ ملک اسحاق نے مرنے سے قبل داعش سے اپنی بیعت کا اعلان کردیا تھا، وہ بعد میں 2015 میں ایک پولیس مقابلے میں مارا گیا، اس کے قتل کے بعد آصف چھوٹو نےملک اسحاق کے مشن کو آگے بڑھایا اور وہ بھی داعش کے ساتھ روابطہ میں تھا تاہم حال ہی میں پنجاب پولیس کے ہاتھوں مارا گیا ہے، ذرائع نے بتایا کہ ملک اسحاق اور آصف چھوٹو کے مرنے کے بعد ناصر ف لشکر جھنگوی کو نقصان پہنچا بلکہ پاکستان کے حوالے سے داعشی منصوبوں کو بھی شدید جھٹکا لگا ہے، سی ٹی ڈی کے ایک سینیئر ذمہ دار کے مطابق کالعدم لشکر جھنگوی کی قیادت کے خاتمہ کے بعد داعش نے دہشتگردوں پر ہاتھ رکھا ہے جو انہیں شیعہ مخالف کارائیوں کے لئے استعمال کررہے ہیں، اسی ذرائع نے کہا کہ لشکر جھنگوی کا سرغنہ دہشتگرد آصف چھوٹو اور اسکا گروپ کراچی میں کئی شیعہ نامور شخصیات اور پروفیشنلز کے قتل کا ذمہ دار ہے۔

یہ بھی پرھیں::سندھ داعش کے لئے زرخیز خطہ ثابت ہوسکتا ہے، سی ٹی ڈی کا انتباء 

لہذا اس بات جو واضح نظر آرہی ہے وہ یہ ہے کہ کالعدم لشکر جھنگوی کا سیٹ اپ داعش میں تبدیل ہورہا ہے، مرکزی قیادت کے ان کاونٹر کے بعد نچلی سطح کی قیادت داعش کے سائبان میں اپنی کاروائیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں، اسی سبب سیکورٹی پوائنٹ آف ویو سے ہمیں پاکستان میں لشکر جھنگوی کے سیٹ اپ کو جاننا بہت ضروری ہے تاکہ ملک پاکستان اور داعش جیسی عالمی دہشتگرد تنظیم جسکی پشت پر عالمی قوتوں پس پردہ ہیں سے بچایا جاسکے۔

 لشکر جھنگوی کالعدم اہلسنت و الجماعت کی ایک شاخ ہے، اس تنظیم کا سرغنہ ملک اسحاق ابتداء میں کالعدم سپاہ صحابہ (اہلسنت و الجماعت ) کا کارکن تھا، ۱۹۹۶ میں اختلافات کی بناپر اس نے اپنی نئی تنظیم لشکر جھنگوی کے نام سے تشکیل دی، لیکن سیکورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تنظیموں کے درمیان اختلاف ایک بہانہ تھا، چونکہ کالعدم اہلسنت و الجماعت سیاسی میدان میں وارد ہورہی تھی لہذا اس اپنی شدت پسندانہ کاروائیوں کے لئے نئے سائبان کی ضرورت تھی جو انہیں ملک اسحاق کی قیادت میں لشکر جھنگوی کی صورت میں مل گئی۔

کالعدم تنظیموں پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق اب کارکناں کے پاس دو راستہ موجود ہیں جو شدت پسندی اور نام نہاد جہاد کا جذبہ رکھتے وہ لشکر جھنگوی میں چلے جاتے اور باقی سیاسی میدان میں شامل ہو کر ان دہشتگردوں کی سہولت کاری کرتے، اس طرح یہ کہنا حق بجانب ہوگا کہ کالعدم سپاہ صحابہ لشکر جھنگوی کی مدر آرگنائزیشن کا کردار ادا کررہی ہے۔

لشکرِ جھنگوی العالمی ہے کیا ؟ پڑھیں بی بی سی کی رپورٹ

اب جبکہ یہ بات سامنے آرہی ہے کہ لشکر جھنگوی داعش کی زمنیہ سازی میں کردار ادا کررہی ہے تو ملکی سیکورٹی اداروں کواِن دہشتگردوں کی جڑوں پر بھی گرفت کو مضبوط کرنا ہوگاجہاں سے یہ دہشتگرد لشکر جھنگوی کا حصہ بنتے ہیں اور اب داعش کا حصہ بن رہے ہیں، ایک اعلیٰ سی ٹی ڈی کے اہلکار کے ہی مطابق لشکر جھنگو ی کالعدم اہلسنت و لجماعت سے دہشتگردوں کو بھرتی کرتی ہے، تو بنیادی طور پر داعش کو ختم کرنے کے لئے سپاہ صحابہ کے سلیپر سیلز، مدارس اور ٹرینگ سینٹر ز کو بھی ختم کرنا ہوگاجہاں سے لشکر جھنگوی اور اب ممکنہ داعش کے لئے دہشتگرد تیار ہوتے ہیں۔

 دوسری جانب سہولت کاروں پر بھی نظر رکھنا ضروری ہے، مختلف رپورٹس سے ثابت ہوچکا ہے کہ لشکر جھنگوی ملکی سلامتی کے لئے خطرہ ہے، اس تنظیم کا بانی ملک اسحاق داعش سے بیعت کرچکا تھا لہذا اُن سہولت کاروں اور ملک اسحاق کے قریبی ساتھیوں کو بھی زیر عتاب لانا بہت ضروری ہے تاکہ کس طور پر بھی ملکی سلامتی کوذرہ برابر بھی یہ دہشتگرد اور انکے سہولت کار نقصان نا پہنچا سکیں۔

اگر ماضی میں چھان بین کی جائے تو نظر آئے گا کہ مسلم لیگ ن کی قیادت ملک اسحاق کو ماہانہ وظیفہ ادا کرتی رہی ہے ، اس بارے میں تحقیقات ہونی چائیں کہ کون وزیر اس میں ملوث ہیں اور کس بات پر ایک دہشتگرد کو وظیفہ دیا جارہا تھا، دوسری جانب اُن افراد کو بھی گرفت میں لایا جائے جو خوش گوار موڈ میں ملک اسحاق جیسے دہشتگرد جو عالمی دہشتگرد تنظیم کو پاکستان میں متحرک کررہا تھا کے ساتھ کھڑے تصویر بنواتے جن میں طاہر اشرفی اور مولوی لدھیانوی جیسے دہشتگرد بھی شامل ہیں جنہوںنے بظاہر امن کا لبادہ اُڑھ لیا ہے جبکہ اند ر سے یہ بھی ملک اسحاق ہیں۔

سیکورٹی اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ پاکستان کی سلامتی و بقا کی خاطر مفادات کی قربانی دیں اور ان دہشتگردوں کو جنکو ہمیں نے کئی عرصہ پالا اب انکے اصل مقام جہنم پہنچانا ہوگا ،کیونکہ یہ اس سانپ کی مانند ہیں جسکو جتنا دودھ پلائیں لیکن وہ آپکو نتیجہ میں ز ہر ہی دیگا ۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی