حضرت ولی عصر تحقیقاتی مرکز :ہفتہ 16 اگست کی دوپہر 2 بج کر 30 منٹ پر شہر کے "آلتاپول لین" میں واقع "انجمنِ پنجتنی امام بارگاہ" میں خُلنہ ڈویژن کی مرکزی چہلم تقریب منعقد ہوئی۔ دن بھر جاری رہنے والے اس پروگرام میں تعزیتی اجلاس، مجالسِ عزا اور ماتمی جلوس شامل تھے۔ اس موقع پر خُلنہ ڈویژن کے مختلف اضلاع اور تحصیلوں سے ہزاروں مؤمنین اور مؤمنات نے شرکت کی۔
اجلاس میں مہمانِ خصوصی کے طور پر اسلامی تعلیمی مرکز کے پرنسپل حجۃ الاسلام سید ابراہیم خلیل رضوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا:
"شہیدِ کربلا امام حسینؑ کے ساتھ مسلمانوں کی دلی محبت کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔ خود رسولِ اکرم ﷺ نے اس کی پیشین گوئی فرمائی تھی۔ انسانی تاریخ میں امام حسینؑ کی شہادت جیسا کوئی غمناک اور منفرد واقعہ نہیں۔ ان کی قربانی وقت کی قید سے ماورا ہو کر ابدی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔"
انہوں نے مزید کہا: "امام حسینؑ کی شہادت کو یاد کرنا محض جذباتی وابستگی نہیں، بلکہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے اور عدل قائم کرنے کے لیے ہر مسلمان کی اخلاقی و دینی ذمہ داری ہے۔"
خصوصی خطاب میں ڈھاکا میں قائم ایران کلچرل سنٹر کے کلچرل کونسلر سید رضا میر محمدی نے کہا:
"رسول خدا ﷺ نے فرمایا: بے شک حسین چراغِ ہدایت اور کشتیٔ نجات ہیں۔ نبی اکرم ﷺ اپنے محبوب نواسوں حسنؑ و حسینؑ کو اپنی اولاد قرار دیتے تھے اور فرمایا: ’یقیناً حسن و حسین جنتی جوانوں کے سردار ہیں‘۔" (جامع ترمذی، حدیث نمبر 3720)
تقریب میں خُلنہ "تعلیم الملّت رحمتیہ مدرسہ" کے پرنسپل مولانا اے ایف ایم نجم السعید، "جامعہ محبینِ اہل بیتؑ، بنگلہ دیش" کے امیر مولانا ابراہیم فیض اللہ سمیت متعدد علما نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ امام حسینؑ کی شہادت صرف مسلمانوں ہی کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک تعلیمی و انقلابی درس ہے۔
تقریب میں موجود دیگر جید علما میں حجۃ الاسلام سید علی رضا زیدی، مولانا عبد القدوس بادشاہ، مولانا اشرف العالَم، مولانا میزان الرحمن، مولانا نور عالم، مولانا محمد عبد اللطیف، مولانا سید سجاد حسین، مولانا عبد القیوم، مولانا علی اکبر، مولانا ہاشم عباس، مولانا سید فیروز علی عابدی، مولانا شمیم حسین، مولانا شریف الاسلام، مولانا معراج منشی، مولانا مصطفیق، مولانا ساجد الاسلام، مولانا شہید الحق، مولانا انیس الرحمن، مولانا مظفر، مولانا ابو سعید، مولانا ماجد الاسلام، مولانا ابو ذر حسین، مولانا شفیق الاسلام، ایڈووکیٹ روح الامین، اور ممتاز بزنس مین زاہد الرحمن سمیت تقریباً پچاس علما شامل تھے۔
اجلاس کے بعد جلوسِ عزاداری و ماتم برآمد ہوا جو "اللہ اکبر" اور "یا حسینؑ" کی صداؤں سے شہر کے مختلف علاقوں میں گونجتا رہا۔ اس جلوس میں خُلنہ ڈویژن کے دور دراز اضلاع سے آئے ہوئے ہزاروں عزادار شریک ہوئے۔
قابلِ ذکر ہے کہ ہر سال اسلامی دنیا میں 20 صفر کو امام حسینؑ کے یومِ شہادت کا چہلم منایا جاتا ہے۔ 61 ہجری کے دسویں محرم کو کربلا کے میدان میں یزیدی فوج نے امام حسینؑ، ان کے اہلِ بیتؑ اور اصحاب کو بے دردی سے شہید کیا تھا۔ اسی دن سے یہ دن نہ صرف سوگ بلکہ ظلم کے خلاف احتجاج اور انسانی اقدار کی حفاظت کے عہد کی علامت بن گیا ہے۔



















