2021 June 19
شیعہ کس قرآن کو شب قدر کی راتوں میں سر پر رکھتے ہیں ۔؟ کیا کبھی سوچا ہے ؟؟
مندرجات: ١٩٣٧ تاریخ اشاعت: ٠٤ May ٢٠٢١ - ٠٠:٤٤ مشاہدات: 409
یاداشتیں » پبلک
شیعہ کس قرآن کو شب قدر کی راتوں میں سر پر رکھتے ہیں ۔؟ کیا کبھی سوچا ہے ؟؟

 


شیعہ  ہر سال  رمضان مبارک کی ۱۹۔ ۲۱ ۔ ۳۲ کی راتوں  میں قرآن سر پر رکھتے ہیں اور  قرآن کو واسطہ قرار دیے کر اللہ سے دعا کرتے ہیں …. 

عجیب بات ہے شیعوں پر قرآن کے منکر کا الزام لگانے والوں کو یہ بھی علم نہیں ہے کہ شیعہ سینکڑوں سال سے اسی موجودہ رائج قرآن کو ہی سر پر رکھ کر اللہ سے دعا کرتے ہیں۔۔

  یہ ایسا عمل ہے جسے ان راتوں میں سارے شیعہ انجام دیتے ہیں اور یہ رسم کوئی نئی رسم  نہیں ہے بلکہ یہ انہوں نے اپنے آباء و اجداد  اور  ائمہ اہل بیت کی تعلیمات سے حاصل کی ہے اس عمل میں شیعہ قرآن کو سر پر رکھ کر اس طرح خدا سے مخاطب ہوتے ہیں، اللٰھم بحق ’’ھذا القرآناے اللہ  اس قرآن کا واسطہ۔

اسی طرح ہر جگہ شیعہ رمضان مبارک میں پانچ وقت کی نماز کے بعد جو دعا پڑھتے ہیں اس میں یہ جملہ موجود ہے.

’’ وَ هُوَ شَهْرُ رَمَضانَ، الَّذي انْزَلْتَ فيهِ الْقُرْآنَ، هُدىً لِلنّاسِ وَ بَيِّناتٍ مِنَ الْهُدى‏ وَ الْفُرْقانِ ۔۔

 لہذا شیعہ جس قرآن کو سر پر  رکھ کر خدا سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ’’ خدایا تجھے اس قرآن کا واسطہ‘‘، تو کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ شیعہ قرآن  کے  منکر ہیں ؟  

 کیا کوئی شیعہ تاریخ کے کسی موڑ پر بھی یہ دکھائے  کہ شیعہ جس قرآن کو سر پر رکھ کر اس پر اپنے ایمان کا اظہار اور اس کو اللہ کی درگاہ میں واسطہ قرار دیتے ہیں وہ یہی رائج قرآن کے علاوہ کوئی اور قرآن ہو ؟

 دیکھیں ان راتوں کے اعمال ۔۔۔۔ میں سے ہے ..

 

 قرآن مجیدکو کھولےاور اپنے سامنے رکھ کر یه دعا پڑھے

  :اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِكِتَابِكَ الْمُنْزَلِ‏ وَ مَا فِيهِ وَ فِيهِ اسْمُكَ الْأَكْبَرُ وَ أَسْمَاؤُكَ الْحُسْنَى وَ مَا يُخَافُ وَ يُرْجَى أَنْ تَجْعَلَنِي مِنْ عُتَقَائِكَ مِنَ النَّارِ،

 اے اللہ ! میں تجھ سے درخواست کرتاہوں تیری نازل شده کتاب کے ذریعه اور جو کچھ اس میں ہے اس میں ہے اوراس میں تیرا عظیم نام ہے اور تیرےنیک نام ہیں اورجس سے خوف کیا جاتا ہے اور امید لگائی جاتی ہے که تو مجھ کو جهنم سے آزاد کردے
اس کے بعد جوبھی حاجت چاہے طلب کرے.

 - قرآن کو اپنے سر پر رکھے اور کہے :

اللَّهُمَّ بِحَقِّ هَذَا الْقُرْآنِ ‏وَ بِحَقِّ مَنْ أَرْسَلْتَهُ بِهِ وَ بِحَقِّ كُلِّ مُؤْمِنٍ مَدَحْتَهُ فِيهِ وَ بِحَقِّكَ عَلَيْهِمْ،فَلا أَحَدَ أَعْرَفُ بِحَقِّكَ مِنْكَ.

اے اللہ اس قرآن کے حق کےواسطه سے اور اس شخص کے حق کے واسطه سے جن کو تونے بھیجا ہے اس کے ساتھ اور هر مؤمن کے حق کے واسطه سے جس کی تونے اس میں مدح کی ہے اور تیرے حق کے واسطه سے ان کے اوپر کوئی تجھ سے زیاده تیرے حق کا پهچاننے والا نہیں ہے.۔۔

سوچنے کی بات ۔۔۔۔۔ یہ جو شیعہ کہتے پیں کہ 

 اللَّهُمَّ بِحَقِّ هَذَا الْقُرْآنِ‏وَ بِحَقِّ۔۔۔۔۔۔ اے اللہ ! اس قرآن کے حق کےواسطه سے۔۔۔۔

 اب شیعہ دشمنی میں شیعوں کو قرآن کا منکر کہنے والوں کو سوچنا چاہئے کہ کیوں اس واضح حقیقت کا انکار کرتے ہیں اور شیعوں کو ہی منکر قرآن کہنے پر تلے ہوئے ہیں ۔۔۔

 https://iqna.ir/ur/news/3509231........ نجف اشرف عراق

 https://www.aparat.com/v/zQagjمشھد ایران  میں قرآن سر پر رکھنے کے عمل کا خوبصورت منظر۔۔۔

 

۔مندرجہ بالا احادیث کے کچھ نمونے :  

الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الطُّوسِيُّ فِي الْأَمَالِي عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْفَحَّامِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْهَاشِمِيِّ عَنْ سَهْلِ بْنِ يَعْقُوبَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطَهَّرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الدَّيْلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى سَيِّدِنَا الصَّادِقِ ع- فَقَالَ لَهُ يَا سَيِّدِي أَشْكُو إِلَيْكَ دَيْناً رَكِبَنِي وَ سُلْطَاناً غَشَمَنِي فَقَالَ إِذَا جَنَّكَ اللَّيْلُ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ اقْرَأْ فِي الْأُولَى مِنْهُمَا الْحَمْدَ وَ آيَةَ الْكُرْسِيِّ- وَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ الْحَمْدَ وَ آخِرَ الْحَشْرِ لَوْ أَنْزَلْنا هذَا الْقُرْآنَ عَلى‏ جَبَلٍ‏ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ ثُمَّ خُذِ الْمُصْحَفَ فَدَعْهُ عَلَى رَأْسِكَ وَ قُلْ (بِحَقِ‏ هَذَا) الْقُرْآنِ‏ وَ بِحَقِّ مَنْ أَرْسَلَهُ وَ بِحَقِّ كُلِّ مُؤْمِنٍ فِيهِ وَ بِحَقِّكَ عَلَيْهِمْ فَلَا أَحَدَ أَعْرَفُ بِحَقِّكَ مِنْكَ بِكَ يَا اللَّهُ عَشْرَ مَرَّاتٍ ثُمَ‏  تَقُولُ يَا مُحَمَّدُ عَشْرَ مَرَّاتٍ يَا عَلِيُّ عَشْرَ مَرَّاتٍ يَا فَاطِمَةُ عَشْرَ مَرَّاتٍ يَا حَسَنُ عَشْرَ مَرَّاتٍ يَا حُسَيْنُ عَشْرَ مَرَّاتٍ يَا عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ عَشْرَ مَرَّاتٍ يَا مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ عَشْرَ مَرَّاتٍ يَا جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَشْرَ مَرَّاتٍ يَا مُوسَى بْنَ جَعْفَرٍ عَشْرَ مَرَّاتٍ يَا عَلِيَّ بْنَ مُوسَى عَشْرَ مَرَّاتٍ يَا مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ عَشْرَ مَرَّاتٍ يَا عَلِيَّ بْنَ مُحَمَّدٍ عَشْرَ مَرَّاتٍ يَا حَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَشْراً يَا الْحُجَّةُ عَشْراً ثُمَّ تَسْأَلُ اللَّهَ حَاجَتَكَ قَالَ فَمَضَى الرَّجُلُ وَ عَادَ إِلَيْهِ بَعْدَ مُدَّةٍ وَ قَدْ قُضِيَ دَيْنُهُ وَ صَلَحَ لَهُ سُلْطَانُهُ وَ عَظُمَ يَسَارُهُ ۔۔۔

سید ابن طاوس نے امام صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے : ‏ خُذِ الْمُصْحَفَ فَدَعْهُ عَلَى رَأْسِكَ وَ قُلْ اللَّهُمَ‏ بِحَقِ‏ هَذَا الْقُرْآنِ‏ وَ بِحَقِّ مَنْ أَرْسَلْتَهُ بِهِ وَ بِحَقِّ كُلِّ مُؤْمِنٍ مَدَحْتَهُ فِيهِ وَ بِحَقِّكَ عَلَيْهِمْ فَلَا أَحَدَ أَعْرَفُ بِحَقِّكَ مِنْكَ بِكَ يَا اللَّهُ عَشْرَ مَرَّاتٍ ثُمَّ تَقُولُ بِمُحَمَّدٍ عَشْرَ مَرَّاتٍ بِعَلِيٍّ عَشْرَ مَرَّاتٍ بِفَاطِمَةَ عَشْرَ مَرَّاتٍ بِالْحَسَنِ عَشْرَ مَرَّاتٍ بِالْحُسَيْنِ عَشْرَ مَرَّاتٍ بِعَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَشْرَ مَرَّاتٍ بِمُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَشْرَ مَرَّاتٍ بِجَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَشْرَ مَرَّاتٍ بِمُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ عَشْرَ مَرَّاتٍ بِعَلِيِّ بْنِ مُوسَى عَشْرَ مَرَّاتٍ بِمُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَشْرَ مَرَّاتٍ بِعَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ عَشْرَ مَرَّاتٍ بِالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَشْرَ مَرَّاتٍ بِالْحُجَّةِ عَشْرَ مَرَّاتٍ وَ تَسْأَلُ حَاجَتَكَ وَ ذَكَرَ فِي حَدِيثِهِ إِجَابَةَ الدَّاعِي وَ قَضَاءَ حَوَائِجِهِ‏

زاد المعاد میں محمد تقی مجلسی نے امام محمد باقر اور امام صادق علیہما السلام سے نقل کیا ہے  :

وَ يُرْوَى عَنِ الْإِمَامِ الْبَاقِرِ وَ الْإِمَامِ الصَّادِقِ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ: أَنْ تَنْشُرَ الْمُصْحَفَ بَعْدَ ذَلِكَ عَلَى رَأْسِكَ وَ تَقُولَ: اللَّهُمَ‏ بِحَقِ‏ هَذَا الْقُرْآنِ‏ وَ بِحَقِّ مَنْ أَرْسَلْتَهُ بِهِ وَ بِحَقِّ كُلِّ مُؤْمِنٍ مَدَحْتَهُ فِيهِ وَ بِحَقِّكَ عَلَيْهِمْ فَلَا أَحَدَ أَعْرَفُ بِحَقِّكَ مِنْكَ.

ثُمَّ قُلْ عَشْرَ مَرَّاتٍ: بِكَ يَا اللَّهُ وَ عَشْراً بِمُحَمَّدٍ وَ عَشْراً بِعَلِيٍّ وَ عَشْراً بِفَاطِمَةَ وَ عَشْراً بِالْحَسَنِ وَ عَشْراً بِالْحُسَيْنِ وَ عَشْراً بِعَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ وَ عَشْراً بِمُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ وَ عَشْراً بِجَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَ عَشْراً بِمُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ وَ عَشْراً بِعَلِيِّ بْنِ مُوسَى وَ عَشْراً بِمُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ وَ عَشْراً بِعَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ وَ عَشْراً بِالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ وَ عَشْراً بِالْحُجَّةِ الْقَائِمِ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ. ثُمَّ تَطْلُبُ مَا شِئْتَ. ۔

مجلسى، محمد باقر بن محمد تقى، زاد المعاد - مفتاح الجنان ، ، ص126 1جلد، موسسة الأعلمي للمطبوعات - بيروت، چاپ: اول، 1423 ق.

إقبال الأعمال {سید ابن طاوس متوفی: 664 ق‏}ج‏1 / 187 / ذكر دعاء آخر للمصحف الشريف ..... ص : 187۔

شيخ حر عاملى، محمد بن حسن، تفصيل وسائل الشيعة إلى تحصيل مسائل الشريعة،} ج ۸ ص ۱۲۵ ۔۔ 30جلد، مؤسسة آل البيت عليهم السلام - قم، چاپ: اول، 1409 ق.



 

 شیعہ حافظ قرآن کیوں نہیں ہوتا ؟

آج کے دور میں زندگی گزارنے والے جدید موبائل اور ٹیکنالوجی کی سہولیات سے فائدہ اٹھانے والے بہت سے شیعہ مخالفین کہتے ہیں کہ شیعوں میں حافظ قرآن کیوں نہیں ؟

یہ ایسے عجیب و غیر سوالوں میں سے ہے جنہیں سن کر شیعہ اپنے مخالفین کی شیعوں کے بارے میں اس حد جھالت  پر تعجب کرتے ہیں ۔۔۔

جبکہ خاص کر آج کے دور میں شیعہ حافظان قرآن کا وجود قابل انکار نہیں، جیساکہ پاکستان کے ہونہار شیعہ حافظان اور حافظات پاکستانی ٹی  وی چیلنوں پر بھی اپنی مہارت کے لوہا منوا چکے ہیں۔ لیکن پھر بھی بعض تعصب اور جہالت کا شکار ہوکر سب چیزوں کا انکار کرتے ہیں ۔  جیساکہ حافظ ریاض اور حافظ بشیر نجفی جیسے شیعہ نامور عالم اور حافظ قرآن آج ۸۰ سال سے زیادہ عمر کے ساتھ اس کا زندہ گواہ ہیں۔

حافظ محمد تقی خان اور دوسرے بہت سے شیعہ حافظان قرآن آج بھی پاکستان میں موجود ہیں ۔۔۔ دسوں شیعہ حفظ قرآن کے مدرسے پاکستان کے کونے کونے میں موجود ہیں ۔

سچ ہے تعصب کا کوئی علاج نہیں ۔ ذیل میں ہم کچھ لینگ اس سلسلے میں شیئر کرتے ہیں ۔۔۔۔۔

https://bit.ly/3b1xJEE

 https://bit.ly/3xM6QOU

https://bit.ly/3eUxnAF

 https://bit.ly/3xM6QOU

 
قرآن سر پر رکھنے اور اللہ سے راز و نیاز کرنے کی کچھ تصویریں :
 
دیکھیں اور خود سے سوال کریں کہ کیا یہ کسی منکر قرآن کا عمل ہے یا قرآن پر ایمان رکھنے والے کا ؟ کیا یہ سب شیعہ کسی کو دھوکہ دینے اور تقیہ کر کے انجام دیتے ہیں ؟ 
 
کیا اس کام کو قرآن کے منکر کا کام اور تقیہ سے تفسیر سے تفسیر کرنے والے سے بڑا بیوقوف ، جاہل اور متعصب کوئی ہوسکتا ہے ؟  
 
 فاین تذھبون ۔۔۔۔۔۔ 

















Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی