2021 June 23
کیا تقیہ نفاق ہے ؟
مندرجات: ١٨٤٤ تاریخ اشاعت: ٣١ January ٢٠٢١ - ١٠:٢٥ مشاہدات: 741
یاداشتیں » پبلک
تقیہ یا نفاق
کیا تقیہ نفاق ہے ؟

  اعتراض: شیعہ اپنے واقعی چہرہ کو پوشیدہ رکھتے ہیں اور تقیہ سے استفادہ کرتے ہیں جو کہ ایک طرح کا نفاق ہے۔

شیعوں کے منابع میں ذکر ہے کہ ان کے ائمہ بھی تقیہ کرتے تھے  اگر ایسا ہے تو  پھیر وہ کیسے معصوم ہیں؟
پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  سخت حالات میں گرفتار ہوجاتے تھے لیکن کبھی تقیہ نہیں کرتے تھے۔تو پھر شیعہ کیوں تقیہ کرتے ہیں؟ اور اپنے اماموں کے سلسلہ میں بھی ان کا کہنا ہے کہ وہ بھی تقیہ کرتے تھے۔ اس لئے شیعوں کی کسی  بات پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہ ہر جگہ تقیہ سے استفادہ کرتے ہیں۔

وہابی حضرات اسی بہانہ سے ہر جھوٹ کی نسبت شیعوں کی طرف دیتے ہیں۔ اور اگر شیعہ انکار کرتے ہیں تو  کہتے ہیں کہ تم حقیقت بیان نہیں کررہے بلکہ تقیہ کررہے ہو مثلا ان کا کہنا ہے کہ شیعہ ایک دوسرے قرآن پر عقیدہ رکھتے ہیں۔ اب اگر شیعہ کتنا بھی شور مچاکر کہیں کہ ہم اس قرآن کے علاوہ کسی دوسرے قرآن پر عقیدہ نہیں رکھتے تو  وہ اس بات کو نہیں مانتے۔ کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ شیعوں کے پاس دوسرا قرآن ہے لیکن وہ تقیہ کرتے ہیں اور اسے سامنے نہیں لاتے۔

یا کہتے ہیں کہ شیعہ چاہے کتنی بار بھی کہیں کہ ہم قرآن میں تحریف کے قائل نہیں ہیں  جھوٹ ہےوہ تحریف کے قائل ہیں  لیکن تقیہ کرتے ہیں اور حقیقت کو چھپاتے ہیں۔

تجزیہ اور تحلیل:

 

اس اعتراض کے جواب میں چند نکتے قابل غور ہیں:

پہلا نکتہ:

لغت میں "تقیہ"  "وقی"، "یقی" سے لیا گیا ہے اور اس کے معنی نفس کو خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔ اور اصطلاح میں اس کے معنی: مخالفین کی طرف سے ہونے والے خطرات کے مقابلہ میں اپنے صحیح عقیدہ کو پوشیدہ رکھنا  ۔ تقیہ کے یہ معنی  ارتداد، شکست یا کمزوری اور عقیدہ سے پیچھے ہٹنا نہیں ہے ۔ بلکہ  یہ ایک طرح سےعلمی تکنیک اور   اپنے عقیدہ کو چھپاکر افکار، قوتوں اور پروگراموں کو  تحفظ فراہم کرنا ہے

تقیہ اسلام کے ثانوی احکام میں سے ہےجو دو مصلحت کے درمیان تزاحم کی صورت میں اہم کو مقدم کرکے نافذ کیا جاتا ہے۔ اور جب تک اہم مصلحت نہ ہو اس وقت تک جاری نہیں ہوتا۔

اسی لئے مصلحت کے قول اور ضعیف ہونے کے مطابق تقیہ کا حکم بھی تبدیل ہوجاتا ہے۔

کبھی تقیہ واجب ہوتا ہے اور کبھی حرام بطور  مثال جہاں تقیہ دین میں فساد کا باعث ہو وہاں حرام ہے ۔

امام صادق علیہ فرماتے ہیں : تقیہ اس وقت تک جائز ہے جب تک دین میں فساد کا باعث نہ ہورہا ہو۔[1]

دوسرا نکتہ:

 تقیہ کی مشروعیت کے لئے دلیل نقلی کی ضرورت نہیں ہے۔بلکہ اس کی مشروعیت عقل اور فطرت کے حکم کی بنیاد پر ہے۔ کوئی بھی عقل اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ کوئی بھی انسان اپنے عقیدہ کا اظہار اپنے دشمن کے سامنے کرے اور اس کام کے ذریعہ اپنی جان و مال اور ناموس کو خطرہ میں ڈال دے۔ تقیہ جان و مال کی حفاظت کے لئے ایک سپر ہے تمام عقلاء  اپنی جان بچانے کے لئے تقیہ سے استفادہ کرتے ہیں۔اور کوئی بھی اس کام کی وجہ سے ان کی سرزنش نہیں کرتا۔ اس بنا پر تقیہ ایک عقلی حکم ہے اور فقط شیعوں سے مخصوص نہیں ہےاور سیرہ عقلاء  بھی اس پر دلالت کرتی ہے۔

تیسرا نکتہ:

تقیہ کی مشروعیت کے لئے اگرچہ نقلی دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن شارع مقدس نے  کچھ آیات میں  حکم عقل کی تائید کی ہے۔ من جملہ:

1۔جناب عمار اور ان کے والدین کی داستان میں جب وہ مشرکین کے چنگل میں پنس گئے اور انھوں نے رسول اسلام سے برائت کا حکم دیا تو جناب عمار کے والدین نے ایسا کرنے سے منع کردیا جس کے نتیجہ میں ان کو شکنجہ اور اذیتیں دی گئی جس کی وجہ سے ان کی شہادت ہوگئی لیکن جناب عمار نے تقیہ کے مطابق مشرکین کی باتوں پر عمل کیا اور اس کے بعد روتے ہوئے پیغمبر ص کی خدمت میں گئے تو یہ آیت نازل ہوئی: " مَن كَفَرَ بِاللّهِ مِن بَعْدِ إيمَانِهِ إِلاَّ مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالإِيمَانِ؛ جو شخص بھی ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کرلے .... علاوہ اس کے کہ جو کفر پر مجبور کردیا جائے اور اس کا دل ایمان کی طرف سے مطمئن ہو۔

آیت میں "اکراہ" کی تعبیر سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ضرورت اور مجبوری کے وقت حکم اولی حکم ثانوی میں تبدیل ہوجاتا ہےاور جان کی حفاظت کے لئے تقیہ کو تجویز کیا جاتا ہے۔

2۔ قرآن مومن آل فرعون  کے ایمان کو چھپانے کی داستان کو بھی بیان کرتا ہے اور فرماتا ہے: " وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيمَانَهُ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَن يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءكُم بِالْبَيِّنَاتِ" اور فرعون والوں میں سے ایک مرد مومن نے جو اپنے ایمان کو حُھپائے ہوئے تھا یہ کہا کہ کیا تم لوگ کسی شخص کو صرف اس بات پر قتل کررہے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے اور وہ تمہارے رب کی طرف سے کھلی ہوئی دلیلیں بھی لے کر آیا ہے۔[2]

3۔ قرآن نے دشمنوں کے ساتھ دوستی کو کہ جسے منع کیا گیا ہے، تقیہ کی صورت میں جائز قرار دیا ہے۔ اور اس سلسلہ میں فرمایا ہے: " لاَّ يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاء مِن دُوْنِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّهِ فِي شَيْءٍ إِلاَّ أَن تَتَّقُواْ مِنْهُمْ تُقَاةً؛ خبردار صاحبانِ ایمان .مومنین کو چھوڑ کر کفار کو اپنا و لی اور سرپرست نہ بنائیں کہ جو بھی ایسا کرے گا اس کا خدا سے کوئی تعلق نہ ہوگا مگر یہ کہ تمہیں کفار سے خوف ہو تو کوئی حرج بھی نہیں ہے۔[3]

قرطبی نے اس آیت کے ذیل میں ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ اگر کوئی مجبور ہوجائے ایسی بات پر جو کہ معصیت خدا ہے اور جان کے ڈر کی وجہ سے اسے زبان پر جاری کرلے لیکن قلبی طور پر ایمان رکھتا ہو تو اس کا یہ عمل اس کے دین کو کوئی نقصان نہیں پہونچائے گا۔[4]

اس کے علاوہ  اصحاب کہف کی داستان بھی  کہ جنھوں نے حکومت کے خوف سے اپنے ایمان کو مخفی رکھا ، تقیہ کے موضوع پر قرآنی نمونوں میں سے ایک نمونہ ہے۔[5]

اب جبکہ تقیہ عقلی اعتبار اور قرآنی شواہد کے مطابق ثابت ہے تو پھر کیوں اس پر عمل کرنے کی صورت میں شیعوں پر اعتراض کیا  جاتا ہے؟

چوتھا نکتہ:

 اگر تقیہ نفاق کی نشانی ہے تو پھر جناب عمار یاسر، مومن آل فرعون اور اصحاب کہف کا تقیہ بھی نفاق کی علامت ہوگا۔ جبکہ پروردگار نے ان کے عمل کی تعریف کی ہے۔

اگر دیکھا جائے تو نفاق تقیہ کے مقابل میں ہے کیونکہ منافق وہ ہے جو باطنی لحاظ سے کافر ہے لیکن مسلمانوں کے درمیان  میں اسلام کا اظہار کرتا ہےاور تقیہ میں انسان باطنی طور پر اعتقادی اعتبار سے صحیح ہے لیکن ظاہری طور پر مصلحت( مال اور جان کی حفاظت کے لئے) کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کو چھپاتا ہے۔ اور اپنے عقیدہ کے برخلاف اپنی زبان پر کلمات کو جاری کرتا ہے۔دوسرے الفاظ میں یوں کہا  جائے: تقیہ دل میں ایمان کو چھپاکر کفر کا اظہار کرنا ہے اور نفاق اس کے برعکس کفر کو دل میں پوشیدہ رکھ کر ایمان کو ظاہر  کرنا ہے۔

ان سب باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے وہابی حضرات کس طرح سے تقیہ کی تفسیر نفاق سے کرتے ہیں یہ سمجھ سے پرے ہے؟

پانچواں نکتہ:

 فخر رازی اس آیت " إِلاَّ أَن تَتَّقُواْ مِنْهُمْ تُقَاةً؛[6]کی تفسیر میں کہتے ہیں۔ آیت کے ظاہر سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ تقیہ کافروں سے مربوط ہے۔ لیکن شافعی کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان بھی جان کی حفاظت کے لئے تقیہ جائز ہے اس کے علاوہ انھوں نے مال کی حفاظت کے لئے بھی تقیہ کو ترجیح دی ہے اور دلیل کے طور پر پیغمبر ص کی یہ حدیث بیان فرمائی ہے جس میں آپ نے فرمایا:

"حرمت مال المسلم کحرمۃ دمہ؛ مسلمان کے مال کا احترام اس کے خون کے احترام کی طرح ہے۔ [7]

جو بات آیات قرآن سے استفادہ ہوتی ہے وہ تقیہ کا معیار ہے اور وہ مخالفین کے خطرہ سے جان کو بچانا ہے اور اس معیار میں کافر اور مسلمان سے تقیہ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ بلکہ جہاں بھی یہ معیار ہوگا وہاں تقیہ ہوگا۔

اسی طرح تفسیر فخر رازی اور نظام الدین نیشاپوری میں ذکر ہے: ان الشافعی جوز التقیۃ بین المسلمین کما جوزھا بین الکافرین محاماۃ علی النفس، شافعی کا کہنا ہے کہ جان کو بچانے کے لئے تقیہ مسلمانوں کے درمیان جائز ہے جیسا کے کفار کے درمیان جائز ہے۔[8]

مورخین جیسے طبری اور ابن سعد کی نقل کے مطابق مامون عباسی کے دور میں مسالہ خلق قرآن کی وجہ سے اہل سنت کے بہت سے محدثین اور علماء نے حکومت کے ڈر سے تقیہ کے راستہ کو اختیار کیا انھوں نے خلق قرآن کے سلسلہ میں مامون کے حکم کو نافذ ہونے کے بعد خوف کی وجہ سے اپنے عقیدہ کو پوشیدہ رکھا۔[9]

قرطبی (اہل سنت مفسر) بعض مشہور لوگوں کے تقیہ کا ذکر کیا ہے۔[10]

خطیب بغدادی نے بھی خلق قرآن کے مسالہ میں ابوحنیفہ کے تقیہ ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابوحنیفہ نے ظالم حکومت کے مقابلہ میں تقیہ کو اختیار کرتے ہوئے اپنے قول کو پوشیدہ رکھا اور دوسروں کے اعتراض کے جواب میں کہا:"خفت ان یقدم علی فاعطیتہ التقیہ؛میں ڈر گیا کہ کہیں میرے پاس زور و زبردستی کے ساتھ آئیں اس لئے میں نے تقیہ کو اختیار کیا؛[11]

یعقوبی اور دوسرے مورخین نے نقل کیا ہے کہ جب بسر بن ارطاۃ نے مدینہ پر حملہ کیا تو جابر بن عبد اللہ انصاری کو بلایا جابر نے ام سلمہ سے کہا: اس کی بیعت کرنا گمراہی ہے اور اگر بیعت نہیں کروں گا تو وہ مجھے قتل کردے گا۔ جناب ام سلمہ پیغمبر ص کی زوجہ نے کہا: اس کی بیعت کرو کیونکہ اصحاب کہف تقیہ کرتے ہوئے اپنی قوم کے مخصوص مراسم میں شریک ہوتے تھےاور انھیں کی طرح مخصوص کپڑے بھی پہنتے تھے۔[12]

چھٹا نکتہ:

اہل سنت کے منابع میں بہت سی ایسی روایات ہیں جو صحابہ اور تابعین کے تقیہ پر عمل کی حکایت کرتی ہیں۔ جناب عمار کی داستان میں پیغمبر ص ان سے فرماتے ہیں: ان عادوا لک فعد لھم بما قلت؛ اگر دوبارہ تمہارے ساتھ ایسا کیا (مجبور ہوگئے)تو تم بھی ایسا ہی کرو(یعنی تقیہ کرو)[13]

اس کے علاوہ خود پیغمبر ص نے اپنی رسالت کی ابتدا کے تین سال مکہ میں تقیہ کی حالت میں گزارے اور اس قدر  مخفیانہ طور پر تبلیغ کو جاری رکھا کہ یہ آیت فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ؛ [14] نازل ہوگئی۔

بخاری نے اپنی کتاب(صحیح بخاری) کتاب اکراہ کے عنوان سے ایک مستقل کتاب لکھی ہے جس میں آیات تقیہ کے ضمن میں تقیہ کو جائز قرار دیا ہے۔[15]

بخاری نے ابوہریرہ سے نقل کیا ہے: "حفظت عن رسول اللہ  (ص)و عائین فاما احدھما فبثثتہ و اما الآخر فلو بثثتہ قطع ھٰذا البلعوم؛ میں نے پیغمبر ص سے دو طرح کی تعلیم حاصل کی ہے بعض کو لوگوں کے درمیان نشر کردیا اور بعض کو نشر نہیں کیا ہے کیونکہ اگر ان کو بھی بیان کردیتا تو مار دیا جاتا۔[16]

دلچسپ بات یہ ہے کہ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہےکہ علماء نے حدیث کی دوسری قسم کو   ظالم حاکموں پر حمل کیا ہے۔ جیسا کہ ابوہریرہ  کنایہ کے ساتھ ان کا ذکر کرتا تھا  جیسے یزید بن معاویہ کے بارے میں کنایہ کرتے ہوئے کہا: اعوذ باللہ من راس الستین و امارۃ الصبیان؛ سن 60 ہجری اور بچوں کی حکومت سے خدا کی پناہ چاہتا ہو۔ کیونکہ یزید سن 60 میں حکومت پر قابض ہوا تھا۔[17]

طحاوی (اہل سنت عالم) عطا سے نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے ابن عباس سے سوال کیا "ہل لک فی معاویۃاوتر بواحدۃ؟ کیا آپ اس بات کی تائید کریں گے کہ معاویہ نماز وتر کو ایک رکعت پڑھتا تھا؟ ابن عباس نے جواب میں کہا  معاویہ اپنے کام کو صحیح انجام دیتا تھا۔

اس کے بعد طحاوی لکھتے ہیں، ابن عباس نے یہ بات اس وقت کہی جب وہ معاویہ کی نماز کو صحیح نہیں مانتے تھے۔ کیونکہ عکرمہ سے منقول ہے کہ ہم ابن عباس کے ساتھ معاویہ سے بات کررہے تھےیہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی اس وقت معاویہ اٹھا اور اس نے ایک رکعت نماز پڑھی اس وقت ابن عباس نے مجھ سے کہا " من این ترمی اخذھا ھٰذا الحمار؟تمہاری نظر میں اس گدھے نے اس نماز کو کہاں سے لیا ہے اس کے بعد طحاوی کہتے ہیں: و قد یجوز ان یکون قول ابن عباس (اصحاب معاویہ)علی التقیہ لہ؛  ممکن ہے معاویہ کی نماز وتر کے بارے میں ابن عباس کا یہ قول تقیہ کی بنا پر ہو ۔ اس کے بعد وہ ابن عباس سے ایک روایت نقل کرتے ہیں کہ نماز وتر تین رکعت ہے۔[18]

ایک روایت میں حارث بن سوید کہتے ہیں کہ میں نے ابن مسعود سے سنا ہے آپ نے فرمایا: ما من ذی سلطان یرید ان یکلفنی کلاما یدرا عنی سوطا او سوطین الا کنت متکلما بہ؛ کوئی بھی صاحب قدرت مجھے ایک یا دو کوڑے مارکر کچھ بھی کہنے ر مجبور نہیں کرسکتا مگر یہ کے میں اس بات کو کہہ دونگا[19]

ابن حزم اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ صحابہ میں کسی نے بھی اس کی مخالفت نہیں کی ہے۔[20]

بخاری نے اپنی کتاب میں ابی الدرداء سے نقل کیا ہے کہ بعض اوقات ہم لوگوں سے خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آتے ہیں جبکہ ہم اپنے دل میں ان پر لعنت کرتے ہیں۔[21]

ابو عبیدہ قاسم بن سلام نے حسان بن ابی یحییٰ سے روایت کی ہے میں نے سعید بن جبیر سے زکات کے بارے میں سوال کیا انھوں نے جواب دیا "ادفعھا الی ولاۃ الامر؛ زکات کو صاحبان قدرت کے حوالہ کردو۔ جب سعید وہاں سے اٹھ کر جانے لگے تو میں ان کے پیچھے گیا اور ان سے کہا آپ کہتے ہیں کہ زکات ان حاکموں کو دیدوں جبکہ یہ غلط کاموں کو انجام دیتے ہیں؟ سعید نے جواد دیا "ضعھا حیث امرک اللہ، سالتنی علی رووس الناس فلم اکن لاخبرک؛ زکات اس کو دو جسے دینے کا خدا نے حکم دیا ہے تم نے لوگوں کے سامنے مجھ سے سوال کیا میں وہاں پر تم سے حقیقت بیان نہیں کرسکتا تھا۔[22]

تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں پر وہابیوں کے قابل اعتماد بزرگوں نے تقیہ کیا ہے انھیں میں سے ایک جگہ جہاں پر صحابہ اور تابعین نے تقیہ سے کام لیا ہے وہ  امیر المومنین علی علیہ السلام کے فضائل کو نقل کرنا ہے۔

ابن اثیر سے نقل ہے کہ زہری نے کہا: خدا کی قسم امیرالمومنین علی علیہ السلام کے فضائل کے سلسلہ میں ، میں ایسی احادیث جانتا ہوں کہ اگر ان کو بیان کردوں تو مجھے قتل کردیا جائے گا۔[23]

حاکم نیشاپوری نے مالک بن دینار سے نقل کیا ہے کہ میں نے سعید بن جبیر سے پیغمبر ص کی جنگوں کے سپہ سالار کے بارے میں سوال کیا ۔ اس نے جواب دیا تم بہت عجیب اور بے فکر انسان ہو میں اس کی یہ بات سن کر بہت ناراض ہوا  میں نے اس کی شکایت اس کے بھائیوں سے کی انھوں نے جواب دیا وہ حجاج سے ڈرتا ہے اور اسی لئے خانہ نشین ہوگیا ہے تم جاؤ اور اسی سوال کو اس سے گھر جاکر پوچھو جب میں نے گھر جاکر سوال کیا تو انھوں نے جواب دیا پیغمبر ص کے سپہ سالار علی علیہ السلام تھے۔[24]

ان مثالوں کے علاوہ حسن بصری  کی مثال ہے، معاویہ کی حکومت کو محکم کرنے میں جس کا اہم کردار تھا لیکن اس کے باوجود علی علیہ السلام کی احادیث نقل کرنے سے ڈرتا تھا اور تقیہ سے کام لیتا تھا۔

راوی کہتا ہے  کہ میں نے حسن بصری سے پوچھا ای ابوسعید تم نے تو پیغمبر ص کو نہیں دیکھا ہے پھر کس طرح سے ان سے روایت نقل کرتے ہو؟ اس نے جواب دیا تم نے آج مجھ سے ایسا سوال کیا ہے جو آج تک کسی نے نہیں کیا۔اور اگر تم میرے قابل اعتماد نہ ہوتے تو میں جواب نہ دیتا ۔ ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جن میں حقائق کو بیان نہیں کیا جاسکتا دیکھو جب بھی میں کہوں پیغمبر  ص نے فرمایا تو سمجھ لینا میری مراد علی علیہ السلام ہیں لیکن تم جانتے ہو ہم اس دور میں علی کا نام زبان پر جاری نہیں کرسکتے۔[25]

دلچسپ بات یہ ہے کہ بنی امیہ کے جاسوس تک اس سلسلہ میں ایک دوسرے سے ڈرتے تھے۔ مغیرہ بن سعید (جاسوس بنی امیہ) نے جناب صعصعہ بن صوہان سے کہا  علی علیہ السلام کی جو بھی فضیلت تم بیان کرتے ہو ہم اسے جانتے ہیں لیکن ظالم حاکم کے ڈر سے ہم اسے بیان نہیں کرسکتےہم حکومت کی طرف سے مامور ہیں کہ علی کی برائی کریں اور عثمان کی فضیلت میں ایسی باتیں کریں جو اصل میں پائی ہی نہیں جاتی تاکہ اس کے ذریعہ ہم اپنی جان کی حفاظت کرسکیں۔[26]

ساتواں نکتہ:

شیعہ ہمیشہ اقلیت میں تھےاموی اور عباسی حکومتیں ائمہ معصومین علیہم السلام کے اطراف میں ان کے اجتماع سے ہمیشہ خوف کھاتی تھیں معاویہ اور حجاج کے زمانہ میں شیعوں کو سرکوب کردیا جاتا تھا  شیعوں کی اہم شخصیات جیسے میثم اور حجر بن عدی کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا اس لئے دین کے راہنماؤں نے اصل مکتب اور جان کی حفاظت کے لئے تقیہ کو سرلوح قرار دیا  اگر اہل سنت بھی ان شرائط میں گرفتار ہوتے تو یقینا وہ بھی تقیہ کرنے پر مجبور ہوجاتے۔

ظالم حاکموں کے علاوہ متعصب اور شیعہ مخالف درباری علماء کا بھی شیعوں کے قتل و کشتار میں اہم کردار رہا ہے وہ شیعوں کے خلاف غلط پروپگنڈے کرکر حاکموں کو شیعوں کے خلاف  ہمیشہ اکساتے تھے۔

شیخ طوسی ؒ (460ق)کے زمانہ میں طغرل بیگ بغداد پر قبضہ کرتا ہے اور شیعوں کو قتل اور ان کے مال کو لوٹتا ہے اور شیخ کے اس کتابخانہ کو بھی جلا دیتا ہے جو کہ کتابی شکل میں عالم اسلام کی عظیم میراث تھا [27]


 

لیکن ان مظالم سے زیادہ افسوسناک وہ ادبیات ہے جسے ان واقعات کو تاریخ میں درج کرتے وقت وہابیوں نے استعمال کیا ہے۔

ابن کثیر انھیں وہابی علماء میں سے یہ جو اس عظیم کتاب خانہ کو نظر آتش کرنے کے بعد خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے لکھتا ہے:و کبست دار ابی جعفر متکلم الشیعۃ  و احرقت کتبہ و ماثرہ و دفاترہ التی کا یستعملھا فی ضلالتہ و بدعتہ و یدعوا علیھا اہل ملتہ و نحلتہ و للہ الحمد؛ اس حادثہ میں ابوجعفر طوسی (شیعہ متکلم)کا گھر ویران ہوگیا اور ان کی کتابیں کاپیاں اور علمی آثار جنھیں وہ اپنی اور اپنے ماننے والوں کی گمراہی کے لئے استعمال کرتے تھے، شکر خدا کے سب جل کر راکھ ہوگئے۔[xxviii]

جب ابن کثیر جیسا صاحب تفسیر  ایک شیعہ عالم کی علمی تحقیقات اور دینی کتاب خانہ کے جلنے پر شکر کا اظہار کرتا ہے تو پھر دوسروں سے کیا توقع کرسکتے ہیں۔

صلاح الدین ایوبی تاریخ کا ایک دوسرا متعصب ہے جسنے سن 579 ھ ق میں حلب اور مصر پر حملہ کیا اور بہت سے شیعوں کو شہید کردیا اور جو بچے  تھے ان کو مذہب اہل سنت اور اشاعرہ عقیدہ  کو قبول کرنے پر مجبور کیا ۔ وہ مذاہب اربع کے علاوہ کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کو درس و تدریس کی اجازت نہیں دیتا تھا۔[xxix]

اب یہاں پر سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا اس دور میں شیعہ کے پاس اپنے عقائد کو  بچانے کے لئے تقیہ کے علاوہ کوئی اور راستہ تھا؟ اور کیا اگر کوئی ایسے حالات میں دفاع کے طور پر دشمن کے سامنے اس سپر سے استفادہ کرے تو کیا وہ منافق ہے؟ اگر ایسا ہے تو آپ پیغمبر اکرم ص کی تین سالہ مخفی تبلیغ کو جس میں آپ نے اس تکنیک سے استفادہ کیا  ، کیا کہیں گے؟

اس لئے شیعوں کو تقیہ پر عمل ظالموں کے ظلم اور تاریخ کے بکے ہوئے اہل قلم کے فتووں کی وجہ سے تھا۔ اور آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ بعض جاہل مفتی بہشت جاوداں تک پہونچنے کا راستہ شیعوں کے قتل کو بتاتے ہیں۔

آٹھواں نکتہ:

 ائمہ  معصومین علیہم کا تقیہ خوف اور ضعف نفس کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ اس وقت کے حالات کے تقاضوں کی وجہ سے تھا  جن کی طرف ہم مختصر طور پر اشارہ کررہے ہیں:

1۔ اموی اور عباسی حکومتیں ائمہ علیہم السلام کی طاقت اور ان کے چاہنے والوں کے اجتماع سے بہت زیادہ خوف کھاتے تھے اس لئے اگر زرہ برابر بھی شک ہوجاتا تھا تو  ان کو آزار و اذیت دیتے تھےائمہ علیہم السلام بھی شیعوں کی جان کی حفاظت اور دین کی خاطر ان کو بچانے کے لئے تقیہ کو سپر کے طور پر استعمال کرنے کے لئے مجبور تھے۔ جو ائمہ علیہم السلام کی زندگی کی تاریخ سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ انھوں نے کبھی بھی اپنے شخصی منافع کے لئے تقیہ نہیں کیا بلکہ ان کا تقیہ شیعوں کی جان کو بچانے کے لئے تھا۔

2۔ اگر ائمہ علیہم السلام ان حالات میں تقیہ نہ کرتے تو اپنے وظائف پر عمل نہیں کرسکتے تھے کبھی زمانہ کے حالات  ایسے تھے کہ ائمہ علیہم السلام جیسے امام سجاد فقط دعاؤں اور عبادت  کے ذریعہ شمع حقیقت کو روشن رکھ سکیں۔

3۔ حکومت کی مخالفت اور تقیہ سے فرار  ہمیشہ مفید نہیں ہے بلکہ کبھی معاشرے کے انتشار  اور سماجی فتنوں کا باعث بنتا ہے۔ اس لئے ائمہ علیہم السلام نےبعض اوقات  تقیہ کے ذریعہ سماج  کی وحدت و یکجہتی کا تحفظ کیا ہے۔جیسے امیرالمومنینؑ نے 25 سال کی خاموشی کے دوران اسی سیرت پر عمل کیا۔ 

نتیجہ:

تقیہ بے رحم اور متعصب دشمن کے مقابل اپنے پروگراموں ،عقائد اور قوتوں کے تحفظ کے لئے ایک دفاعی سپر ہے۔اس کے جائز ہونے کی دلیل یہ ہے کہ یہ عقل سے موافق ہے۔اگرچہ  قرآنی آیات،پیغمبر اور اہلبیتؑ کی احادیث بھی اس کی تائید اور حمایت کرتی ہیں۔

مزید مطالعہ کے لئے کتابیں:

تقیہ، سپری برای مبارزہ عمیق تر؛ آیت اللہ مکارم شیرازی؛

التقیہ بین الاعلام؛ سید عامل علوی؛

التقیہ عند اہل البیت؛ مصطفی قصیر عاملی؛

شیعہ  جواب دیتے ہیں ؛ آیت اللہ مکارم شیرازی؛

 

محرر : استاد رستمی نژاد ۔۔

مترجم : اعجاز حیدر ۔ سید میثم


[1] ۔الکافی، ج 2، ص 168؛ وسائل الشیعہ، ج 16 ص 216۔

[2] ۔ سورہ غافر/28

[3] ۔ سورہ آل عمران/ 28

[4] ۔ الجامع لاحکام القرآن، ج 4؛ ص 57۔

[5] ۔ رجوع کریں، سورہ کہف آیت 14/15

[6] ۔ آل عمران/28

[7] ۔ التفسیر الکبیر ج 8 ص 194۔

[8] ۔ التفسیر الکبیر ج 8 ص 194۔ تفسیر غرائب القرآن و رغائب القرآن، ج 2، ص 140۔

[9] ۔تاریخ الامم و الملوک، ج 8، ص 634۔

[10] ۔ الجامع الاحکام القرآن، ج 4، ص 58۔

[11] ۔تاریخ بغداد، ج 13، ص273۔ 274

[12] ۔ تاریخ یعقوبی، ج 2، ص 198۔۔

[13] ۔ اسباب نزول قرآن، س 289، التفسیر الکبیر ج 20، ص 274۔

[14] ۔ حجر/ 94۔

[15] ۔ صحیح بخاری، ج 8، ص 55۔

[16] ۔ صحیح بخاری، ج 1، ص 38۔

[17] ۔ مسند اب راھویہ، ج 1، ص 44؛ فتح الباری، ج 1 س 193۔

[18] ۔ شرح معانی الاثار، ج 1، ص 389۔ باب الوتر۔

[19] ۔ المحلی، ج 8 ص 336۔

[20] ۔ صحیح البخاری، ج 8، ص 37۔

[21] ۔ صحیح البخاری، ج 8، ص 37۔

[22] ۔ مکارم الاخلاق و معالیھا، ج1 ص 165۔

[23] ۔ اسد الغایۃ، ج 1۔ ص 308۔

[24] ۔ المستدرک علی الصحیحین، ج 3، ص 137۔

[25] ۔ تھذیب الکمال، ج 6 س 124۔

[26] ۔ تاریخ طبری، ج 4، ص 144۔

[27] ۔ تاریخ ابن خلدون، ج 3 ص 567۔

[xxviii] ۔ البدایہ والنھایہ، ج 12، ص 71۔

[xxix] ۔ غنیۃ النزوع، ص 10۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی