2021 May 6
شام کے صحراوں میں داعش کی تشکیل نو کی امریکی کوشش
مندرجات: ١٨٣٧ تاریخ اشاعت: ٠٩ January ٢٠٢١ - ١٥:٤٠ مشاہدات: 441
خبریں » پبلک
شام کے صحراوں میں داعش کی تشکیل نو کی امریکی کوشش

یہ دہشت گردانہ اقدامات امریکی فوجیوں کی براہ راست سرپرستی اور نظارت میں انجام پاتے ہیں جن کا مقصد شام حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کے محاصرے میں آئے عوام کیلئے امدادی کاروائیوں کو روکنا ہے۔ داعش سے وابستہ یہ دہشت گرد عناصر امریکی فوجیوں نے کرد علاقوں اور حلب کے شمال میں واقع علاقوں سے یہاں منتقل کئے ہیں۔ ان میں سے بعض صوبہ ادلب سے فرار کر کے یہاں پہنچے ہیں۔ ان تکفیری دہشت گردوں نے اپنی دہشت گردانہ کاروائیوں کا مرکز رقہ، حلب اور ادلب کے درمیان والے علاقوں کو بنا رکھا ہے۔ ان علاقوں میں موجود ہائی ویز اور سڑکوں کو دہشت گردانہ کاروائیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ شام کے صحرائی علاقوں میں داعش کو دوبارہ سرگرم کرنے سے امریکہ کا مقصد اردگرد کے صوبوں میں اپنا اثرورسوخ بڑھانا ہے۔

شام کے صحرائی علاقوں میں ایک انتہائی گھناونی سازش انجام دی جا رہی ہے۔ یہ علاقے عراق کی سرحد پر واقع ہیں اور وہاں امریکہ نے اپنے فوجی اڈے قائم کر رکھے ہیں۔ اس علاقے میں تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کی تشکیل نو کی سازش انجام پا رہی ہے اور اسے براہ راست امریکی سرپرستی حاصل ہے۔ یہ سازش امریکہ کا حقیقی چہرہ آشکار کرنے کیلئے کافی ہے۔ امریکہ ایک طرف خود کو تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف جنگ کا علمبردار کے طور پر ظاہر کرتا ہے جبکہ دوسری طرف خفیہ طور پر اس گروہ کے بچے کھچے عناصر کو منظم کر کے انہیں دوبارہ سرگرم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکہ کی سرپرستی میں بڑی تعداد میں داعش سے وابستہ دہشت گرد عناصر عراق سے شام کے صحرائی علاقوں میں منتقل کئے گئے ہیں۔
 
شام کا صحرائی علاقہ عراق کی سرحد تک جاری ہے۔ شام آرمی اور اس کی اتحادی فورسز نے ان صحرائی علاقوں کو داعش کے وجود سے پاک کر دیا تھا لیکن کچھ عرصے سے یہ علاقہ ایک بار پھر داعش کی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے۔ اس علاقے میں داعش کی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہونے میں امریکی فوجیوں کا کردار بہت اہم ہے۔ ماضی میں شام آرمی نے دیر الزور کی آزادی کے دوران یہ علاقہ کلیئر کر دیا تھا۔ یہاں منتقل ہونے والے دہشت گرد عناصر مارچ 2019ء میں الباغوز معرکے میں زندہ بچ جانے والے دہشت گردوں اور ترکی کے زیر قبضہ شام کے علاقوں سے آنے والے دہشت گرد عناصر پر مشتمل ہیں۔ یاد رہے عراق، اردن اور شام کی مشترکہ سرحد کے قریب علاقے التنف میں امریکہ نے بہت بڑا فوجی اڈہ قائم کر رکھا ہے۔
 
شام کے صحرائی علاقوں میں داعش سے وابستہ دہشت گرد عناصر کے چھوٹے چھوٹے جتھے بکھرے ہوئے ہیں۔ تدمر کے شمال مشرقی علاقے جبل ابو رجمین سے لے کر دیر الزور صحرا اور اس کے مغربی حصے تک کا وسیع علاقہ ان جتھوں کی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ ان میں سے بعض دہشت گرد عناصر نے صوبہ سویدا کی شمالی سرحدوں پر واقع السخنہ صحرا میں ٹھکانے بنا رکھے ہیں۔ ان دہشت گرد عناصر نے خود کو شام آرمی سے جنگ کی فرنٹ لائن سے بہت دور کر رکھا ہے اور گاہے بگاہے مختلف علاقوں میں شام کی مسلح افواج کے خلاف چھاپہ مار کاروائیاں کرتے رہتے ہیں۔ ان دہشت گردانہ کاروائیوں کی ایک مثال دیر الزور کے علاقے بلجب یا صوبہ حماہ کے قریب وادی العذیب پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے ہیں۔
 
یہ دہشت گردانہ کاروائیاں بہت کم تعداد پر مشتمل گروہوں کی جانب سے ایک انتہائی وسیع علاقے میں انجام پاتی ہیں۔ یہ علاقہ التنف میں 55 مربع کلومیٹر کے رقبے پر مشتمل ہے۔ اس علاقے میں موجود امریکی فوجی اڈے نے تکفیری دہشت گرد عناصر کی دوبارہ تشکیل سازی میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ امریکی فوجیوں نے ان گروہوں کو ایسے تشکیل دیا ہے کہ وہ آسانی سے کنٹرل کئے جا سکتے ہیں۔ ان دہشت گرد گروہوں نے صحرائی علاقوں کے اردگرد واقع غاروں اور دروں میں ٹھکانے قائم کر رکھے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے ان گروہوں کی تشکیل کا مقصد شام حکومت پر زیادہ سے زیادہ دباو ڈالنا ہے۔ یہ دہشت گرد گروہ علاقے میں موجود ہائی ویز پر دہشت گردانہ کاروائیاں کر کے ایندھن اور دیگر بنیادی ضرورت کی اشیاء کی آمد و رفت میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔
 
یہ دہشت گردانہ اقدامات امریکی فوجیوں کی براہ راست سرپرستی اور نظارت میں انجام پاتے ہیں جن کا مقصد شام حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کے محاصرے میں آئے عوام کیلئے امدادی کاروائیوں کو روکنا ہے۔ داعش سے وابستہ یہ دہشت گرد عناصر امریکی فوجیوں نے کرد علاقوں اور حلب کے شمال میں واقع علاقوں سے یہاں منتقل کئے ہیں۔ ان میں سے بعض صوبہ ادلب سے فرار کر کے یہاں پہنچے ہیں۔ ان تکفیری دہشت گردوں نے اپنی دہشت گردانہ کاروائیوں کا مرکز رقہ، حلب اور ادلب کے درمیان والے علاقوں کو بنا رکھا ہے۔ ان علاقوں میں موجود ہائی ویز اور سڑکوں کو دہشت گردانہ کاروائیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ شام کے صحرائی علاقوں میں داعش کو دوبارہ سرگرم کرنے سے امریکہ کا مقصد اردگرد کے صوبوں میں اپنا اثرورسوخ بڑھانا ہے۔
 
یہ صحرائی علاقہ شام کے صوبہ حماہ اور حمص سے لے کر دیر الزور اور رقہ اور جنوب سے لے کر دمشق اور السویدا تک پھیلا ہوا ہے۔ اسی طرح یہ علاقہ قدرتی ذخائر، تیل اور گیس کے ذخائر اور فاسفیٹس سے سرشار ہے۔ داعش سے وابستہ دہشت گرد عناصر اس علاقے میں امریکہ کی پراکسی کے طور پر کاروائیاں انجام دے رہے ہیں۔ اس علاقے میں سرگرم دہشت گرد عناصر کو چھاپہ مار کاروائیوں کی خاص ٹریننگ دی گئی ہے۔ ان صحرائی علاقوں میں شام آرمی اور اس کی اتحادی فورسز کو سخت جنگ کا سامنا ہے اور اس علاقے سے داعش کے خاتمے کے بعد شام اور عراق کی مشترکہ سرحد کے اردگرد کا پورا علاقہ کلیئر ہو جائے گا۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی