2019 June 20
رسول خدا (ص) اور حضرت خدیجہ (س) کی مبارک شادی کا نکاح کا خطبہ کس نے پڑھا تھا ؟
مندرجات: ١٨٠٥ تاریخ اشاعت: ٢٣ May ٢٠١٩ - ١٣:٤٢ مشاہدات: 34
سوال و جواب » نبوت
جدید
رسول خدا (ص) اور حضرت خدیجہ (س) کی مبارک شادی کا نکاح کا خطبہ کس نے پڑھا تھا ؟

سوال:

رسول خدا (ص) اور حضرت خدیجہ (س) کی مبارک شادی کا نکاح کا خطبہ کس نے پڑھا تھا ؟

جواب:

شیعہ اور اہل سنت کی روایات کے مطابق، حضرت ابو طالب (ع) رسول خدا کے لیے جناب خدیجہ کا رشتہ مانگنے کے لیے گئے تھے اور انھوں نے ہی ان دونوں کے نکاح کا خطبہ بھی پڑھا تھا۔ اس تحریر میں ہم اس بارے میں چند شیعہ اور اہل سنت کی روایات کو ذکر کرتے ہیں:

کتب شیعہ:

مرحوم شيخ صدوق نے اپنی كتاب من لا يحضره الفقيہ میں لکھا ہے:

وَ خَطَبَ أَبُو طَالِبٍ رَحِمَهُ اللَّهُ لَمَّا تَزَوَّجَ النَّبِيُّ (صلي الله عليه وآله وسلم) خَدِيجَةَ بِنْتَ خُوَيْلِدٍ رَحِمَهَا اللَّهُ بَعْدَ أَنْ خَطَبَهَا إِلَي أَبِيهَا وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ إِلَي عَمِّهَا فَأَخَذَ بِعِضَادَتَيِ الْبَابِ وَ مَنْ شَاهَدَهُ مِنْ قُرَيْشٍ حُضُورٌ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَنَا مِنْ زَرْعِ إِبْرَاهِيمَ وَ ذُرِّيَّةِ إِسْمَاعِيلَ وَ جَعَلَ لَنَا بَيْتاً مَحْجُوجاً وَ حَرَماً آمِناً يُجْبي إِلَيْهِ ثَمَراتُ كُلِّ شَيْ ءٍ وَ جَعَلَنَا الْحُكَّامَ عَلَي النَّاسِ فِي بَلَدِنَا الَّذِي نَحْنُ فِيهِ ثُمَّ إِنَ ابْنَ أَخِي مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا يُوزَنُ بِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَّا رَجَحَ وَ لَا يُقَاسُ بِأَحَدٍ مِنْهُمْ إِلَّا عَظُمَ عَنْهُ وَ إِنْ كَانَ فِي الْمَالِ قَلَّ فَإِنَّ الْمَالَ رِزْقٌ حَائِلٌ وَ ظِلٌّ زَائِلٌ وَ لَهُ فِي خَدِيجَةَ رَغْبَةٌ وَ لَهَا فِيهِ رَغْبَةٌ وَ الصَّدَاقُ مَا سَأَلْتُمْ عَاجِلُهُ وَ آجِلُهُ مِنْ مَالِي وَ لَهُ خَطَرٌ عَظِيمٌ وَ شَأْنٌ رَفِيعٌ وَ لِسَانٌ شَافِعٌ جَسِيمٌ فَزَوَّجَهُ وَ دَخَلَ بِهَا مِنَ الْغَدِ فَأَوَّلُ مَا حَمَلَتْ وَلَدَتْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدٍ (صلي الله عليه وآله وسلم) .

جب رسول خدا خدیجہ بنت خویلد کے رشتے کی بات انکے والد یا چچا سے کر رہے تھے تو جناب ابو طالب قریش کے سامنے حاضر ہوئے اور کمرے کے دروازے کے دونوں حصوں کو پکڑ کر نکاح کے خطبے کا ایسے آغاز کیا:

تمام تعریف اس خدا کے لیے ہے کہ جس نے ہمیں نسل ابراہیم اور اسماعیل کی اولاد سے قرار دیا ہے اور ہمارے لیے ایسے گھر (خانہ کعبہ) کو قرار دیا ہے کہ جس کے گرد لوگ طواف کرتے ہیں اور وہ پر امن حرم قرار دیا ہے کہ تمام دنیا سے نعمتیں اسکی طرف لائی جاتی ہیں اور ہمیں اپنے دیار میں لوگوں پر حاکم قرار دیا ہے، پھر کہا: یہ میرا بھتیجا محمّد ابن عبد اللَّه ابن عبد المطّلب ہے، اسکا قریش میں جس کسی سے بھی موازنہ کیا جائے گا تو یہ اس سے برتر و بالا تر ہو گا اور اسکو کسی سے بھی قیاس نہیں کیا جا سکتا، اگرچہ مال کے لحاظ سے اسکا ہاتھ خالی ہے (لیکن یہ کوئی عیب نہیں ہے) کیونکہ مال و ثروت ایک نا پائیدار چیز اور جلدی سے گزر جانے والا سایہ ہے اور اب وہ خدیجہ کو اور خدیجہ اسکو چاہتی ہے اور حق مہر جو بھی ہو گا، وہ میرے ذمہ پر ہو گا، چاہے وہ مہر نقد ہو یا ذمہ پر ہو، وہ بلند مقام اور اسکی شخصیت عظیم اور اسکی زبان نرم اور تاثیر گزار ہے۔

جناب ابو طالب نے خدیجہ کو اسکے نکاح میں قرار دے دیا اور رسول خدا نے دوسرے دن اس سے شادی کی اور جناب خدیجہ پہلے بیٹے عبد اللہ ابن محمد سے حاملہ ہو گئیں۔

من لا يحضره الفقيه، ج 3، ص: 398 .

یہی روایت دوسری شیعہ کتب میں بھی ذکر ہوئی ہے، جیسے:

الاصول الكافي ، شيخ الكليني ، ج 5 ، ص 374 - 375

رسالة في المهر ، شيخ المفيد ، ص 29

عوالي اللئالي ، ابن أبي جمهور ، ج 3 ، ص113 و ...

کتب اہل سنت:

اہل سنت کے بہت سے علماء نے بھی جناب ابو طالب کے خطبہ پڑھنے کی روایت کو نقل کیا ہے، جیسے آلوسی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے:

وقد صح أن أبا طالب يوم نكاح النبي صلي الله عليه وسلم خطب بمحضر رؤساء مضر . وقريش فقال : الحمد لله الذي جعلنا من ذرية إبراهيم وزرع اسماعيل وضئضيء معد وعنصر مضر وجعلنا حضننة بيته وسواس حرمه وجعل لنا بيتا محجوجا وحرما آمنا وجعلنا الحكام علي الناس ثم أن ابن أخي هذا محمد بن عبد الله لا يوزن برجل إلا رجح به فإن كان في المال قل فإن المال ظل زائل وأمر حائل ومحمد من قد عرفتم قرابته وقد خطب خديجة بنت خويلد وبدل لها من الصداق ما آجله وعاجله من مالي كذا وهو والله بعد هذا له نبأ عظيم وخطر جليل .

یہ بات صحیح ہے کہ ابو طالب نے رسول خدا کے نکاح والے دن قبیلہ قریش اور قبیلہ مضر کے بزرگان کے سامنے اس خطبہ کو پڑھا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تفسير الآلوسي ، الآلوسي ، ج 18 ، ص 51 .

اور اہل سنت کے مشہور مفسر اور ادیب زمخشری نے لکھا ہے:

حضر أبو طالب نكاح رسول الله صلي الله عليه وسلم خديجة رضي الله عنها، ومعه بنو هاشم ورؤساء مضر، فقال الحمد لله الذي جعلنا من ذرية إبراهيم وزرع إسماعيل، وضئضئي معد وعنصر مضر، ...

ابو طالب رسول خدا اور حضرت خدیجہ کے نکاح کے وقت وہاں پر موجود تھے اور انکے ساتھ بنی ہاشم اور مکہ کے بزرگان بھی تھے، ابو طالب نے کہا: تمام تعریف اس خدا کے لیے ہے کہ جس نے ہمیں نسل ابراہیم اور اسماعیل کی اولاد سے قرار دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ربيع الأبرار ، ج1 ، ص467

الكشاف عن حقائق التنزيل وعيون الأقاويل ، ج 1 ، شرح ص 477

مبرّد کتاب الكامل میں لکھا ہے:

خطبة لأبي طالب :

وخطب أبو طالب بن عبد المطلب لرسول الله صلي الله عليه وسلم في تزوجه خديجة بنت خويلد رحمة الله عليها، فقال؛ الحمد لله الذي جعلنا من ذرية إبراهيم وزرع إسماعيل ، ...

اور آخر میں کہتا ہے:

وهذه الخطبة من أقصد خطب الجاهلية .

 

الكامل في اللغة والادب ، المبرد ، ج1 ، ص302 .

بہت سے علمائے اہل سنت نے اس خطبے کو نقل کیا ہے جیسے:

تاريخ ابن خلدون ، ج2 ، ص407 ،

باب المولد الكريم وبدء الوحي و إعجاز القرآن ، الباقلاني ، ص 153

تفسير البحر المحيط ، أبي حيان الأندلسي ، ج 3 ، ص 110

تاريخ اليعقوبي ، اليعقوبي ، ج 2 ، ص 20

إمتاع الأسماع ، المقريزي ، ج 6 ، ص 29

سبل الهدي والرشاد ، الصالحي الشامي ، ج 2 ، ص 165

السيرة الحلبية ، الحلبي ، ج 1 ، ص 226

تاج العروس ، الزبيدي ، ج 1 ، ص 194

جمهرة خطب العرب في عصور العربية الزاهرة ، أحمد زكي صفوت ، ج1 ، ص77

المستطرف في كل فن مستظرف ، شهاب الدين محمد بن أحمد أبي الفتح الأبشيهي ، ج2 ، ص497

نثر الدر ، الآبي ، ج1 ، ص85 و ... .

حضرت خدیجہ (ع) رشتے میں پیغمبر اکرم (ص) کی چچا زاد بہن لگتی تھیں اور دونوں کا شجرہ نسب جناب قصی ابن کلاب سے جا ملتا تھا، حضرت خدیجہ (ع) کی ولادت و پرورش اس خاندان میں ہوئی تھی جو دانا نسب کے اعتبار سے اصیل، ایثار پسند اور خانہ کعبہ کا حامی و پاسدار تھا اور خود حضرت خدیجہ (ع) اپنی عفت و پاکدامنی میں ایسی مشہور تھیں کہ دور جاہلیت میں بھی انہیں ' ' طاہرہ ' ' اور ' ' سیدہ قریش ' ' کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا ، ان کیلئے بہت سے رشتے آئے اگرچہ شادی کے خواہشمند مہر ادا کرنے کے لیے کثیر رقم دینے کیلئے تیار تھے مگر وہ کسی سے بھی شادی کرنے کیلئے آمادہ نہ ہوئیں۔

مثال کے طور پر جب یمن کے بادشاہ تبع نے حجر اسود کو مکہ سے یمن لے جانے کا عزم کیا تو حضرت خدیجہ (س) کے والد خویلد نے اپنی سعی و کوشش سے تبع کو اس ارادے سے باز رکھا۔

السیرة الحلبیہ ج 1 ص138

جب رسول خدا (ص) ملک شام کے تجارتی سفر سے واپس مکہ تشریف لائے تو حضرت خدیجہ (ع) نے پیغمبر اکرم (ص) کی خدمت میں قاصد بھیجا اور آپ (ص) سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا۔

تاریخ کی بعض کتب میں آیا ہے کہ حضرت خدیجہ (س) نے براہ راست پیغمبر اکرم (ص) کو شادی کا پیغام بھیجا تھا۔

سیرہ ابن اسحاق ص 60

رسول خدا (ص) نے اس مسئلے کو حضرت ابو طالب علیہ السلام اور دیگر چچائوں کے درمیان رکھا اور جب سب نے اس رشتے سے اتفاق کیا تو آپ (ص) نے حضرت خدیجہ (س) کے قاصد کو مثبت جواب دیا ، رشتے کی منظوری کے بعد حضرت ابو طالب علیہ السلام اور دوسرے چچا حضرت حمزہ نیز حصرت خدیجہ (س) کے قرابت داروں کی موجودگی میں حضرت خدیجہ (س) کے گھر پر نکاح کی شایان شان تقریب منعقد ہوئی اور نکاح کا خطبہ دولہا اور دلہن کے چچائوں حضرت ابو طالب (ع) اور عمرو ابن اسد نے پڑھا۔

حضرت خدیجہ (س) سے شادی کے محرکات:

ہر چیز کو مادی نظر سے دیکھنے والے بعض لوگوں نے اس شادی کو بھی مادی پہلو سے ہی دیکھتے ہوئے یہ کہنا چاہا ہے :

چونکہ حضرت خدیجہ (س) کو تجارتی امور کیلئے کسی مشہور و معروف اور معتبر شخص کی ضرورت تھی اسی لیے انہوں نے پیغمبر اکرم (ص) کو شادی کا پیغام بھیجا، دوسری طرف پیغمبر اکرم (ص) یتیم و نادار تھے اور حضرت خدیجہ (س) کی شرافتمندانہ زندگی سے واقف تھے اسی لیے ان کی دولت حاصل کرنے کی غرض سے یہ رشتہ منظور کر لیا گیا حالانکہ سن کے اعتبار سے دونوں کی عمروں میں کافی فرق تھا۔

جبکہ اس کے برعکس اگر تاریخ کے اوراق کا مطالعہ کیا جائے تو اس شادی کے محرکات میں بہت سے معنوی پہلو نظر آتے ہیں اس سلسلے میں ہم یہاں پہلے پیغمبر خدا (ص) کی جانب سے اور بعد میں حضرت خدیجہ (س) کی جانب سے شادی کے اسباب اور محرکات کے بیان میں ذیل میں چند نکات بیان کریں گے:

1- ہمیں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ساری زندگی زہد و تقوی و معنوی اقدار سے پر نظر آتی ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ آنحضرت (ص) کی نظر میں دنیاوی مال و دولت اور جاہ و حشم کی کوئی قدر و قیمت نہ تھی ، آپ (ص) نے حضرت خدیجہ (ع) کی دولت کو کبھی بھی اپنے ذاتی آرام و آسائش کی خاطر استعمال نہیں کیا۔

2- اس شادی کی پیشکش حضرت خدیجہ (س) کی جانب سے کی گئی تھی نہ کہ رسول خدا (ص) کی طرف سے۔

اب ہم یہاں حضرت خدیجہ (س) کی جانب سے اس شادی کے محرکات بیان کرتے ہیں :

1- چونکہ کہ وہ بذات خود عفیف و پاکدامن خاتون تھیں اس لیے انہیں ایسے شوہر کی تلاش تھی جو متقی اور پرہیزگار ہو۔

2- ملک شام سے واپس آنے کے بعد جب میسرہ غلام نے سفر کے واقعات حضرت خدیجہ (س) کو بتائے تو ان کے دل میں امین قریش کیلئے جذبہ محبت و الفت بڑھ گیا، البتہ اس محبت کا سرچشمہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ذاتی کمالات اور اخلاقی فضائل تھے اور حضرت خدیجہ (س) کو ان ہی کمالات سے تعلق اور واسطہ تھا۔

3- پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے شادی کرنے کے بعد حضرت خدیجہ (س) نے آپ (ص) کو کبھی سفر تجارت پر جانے کی ترغیب نہیں دلائی، اگر انہوں نے یہ شادی اپنے مال و دولت میں اضافہ کرنے کی غرض سے کی ہوتی تو وہ رسول اکرم (ص) کو ضرور کئی مرتبہ سفر پر روانہ کرتیں تا کہ بہت زیادہ مال و دولت جمع ہو سکے، بلکہ اس کے برعکس حضرت خدیجہ (س) نے اپنی دولت آنحضرت (ص) کے حوالے کر دی تھی تا کہ اسے آپ (ص) ضرورت مند لوگوں پر خرچ کریں۔

حضرت خدیجہ (ع) نے رسول خدا (ص) سے گفتگو کرتے ہوئے شادی کی درخواست کے اصل محرک کو اس طرح بیان کیا ہے: اے میرے چچا زاد بھائی چونکہ میں نے تمہیں ایک شریف، دیانتدار ، خوش خلق اور راست گو انسان پایا اسی وجہ سے میں تمہاری جانب مائل ہوئی ہوں اور شادی کے لیے پیغام بھیجا۔

السیرة الحلبیہ ج 1 ص 271

وفات:

مصادر و ذرائع میں منقول ہے کہ سیدہ خدیجہ، سن 10 بعد از بعثت (یعنی 3 سال قبل از ہجرت مدینہ) ہے۔

مسعودی، مروج‏ الذہب، ج2، ص 282

ابن سید الناس، عیون الاثر، ج1، ص 151

ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج4، ص1817

طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج11، ص 493

ابن سعد، الطبقات الکبری، ج8 ، ص 14

زیادہ تر کتب میں ہے کہ وفات کے وقت آپ کی عمر 65 برس تھی۔

طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج11، ص493:

«و توفيت قبل الہجرۃ بثلاث سنين، و ہي يومئذ ابنۃ خمس و ستين سنہ»۔

ابن عبد البر، کا کہنا ہے کہ خدیجہ کی عمر بوقت وفات 64 سال چھ ماہ، تھی۔

ابن عبد البر، الاستیعاب، ج4، ص 1818

بعض مصادر میں ہے کہ حضرت خدیجہ کا سال وفات ابو طالب کا سال وفات ہی ہے۔

طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج11، ص 493

ابن سید الناس، عیون الاثر، ج1، ص 151

ابن سعد کا کہنا ہے کہ حضرت خدیجہ جناب ابو طالب کی رحلت کے 35 دن بعد رحلت کر گئی ہیں۔

ابن سعد، الطبقات‏ الكبرى، ج‏1، ص96

وہ اور بعض دوسرے مؤرخین نے کہا ہے کہ آپ کی وفات کی صحیح تاریخ رمضان سن 10 بعد از بعثت ہے اور رسول خدا نے آپ کو اپنی ردا اور پھر جنتی ردا میں کفن دیا اور مکہ کے بالائی حصے میں واقع پہاڑی (کوہ حجون) کے دامن میں، مقبرہ معلی (یا جنت المعلی) میں سپرد خاک کیا۔

ابن سعد، الطبقات‏ الكبرى، ج 8 ، ص14

ابو الحسن بکری، الانوار الساطعہ من الغرّاء الطاہرۃ، ص735

حضرت خدیجہ (س) جب تک زندہ رہیں رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے اطمینان و سکون کا سبب بنی رہیں، دن بھر کی تبلیغ کے بعد جب آپ بجھے ہوئے دل اور پژمردہ چہرے کے ساتھ گھر میں قدم رکھتے تو بی بی خدیجہ کی ایک محبت آمیز مسکراہٹ آپ کے مرجھائے ہوئے چہرے کو پھر سے ماہ تمام بنا دیا کرتی تھی۔

حضرت خدیجہ (س) کی محبتوں کے زیر سایہ عالمین کیلئے رحمت بن کر دنیا کی ایذا رسانیوں کو بھلا کر ایک نئے جوش و جذبے اور ولولے کے ساتھ ڈوبتے ہوئے ستاروں کا الوداعی سلام اور مشرق سے سر ابھارتے ہوئے سورج سے خراج لیتے ہوئے ایک بار پھر خانہ عصمت و طہارت سے باہر آتے اور باطل کو لرزہ بر اندام کرنے والی لا الہ الا الله کی بلند بانگ صداؤں سے مکہ کے در و دیوار ہل کر رہ جاتے، کفار جمع ہوتے رسول پر اذیتوں کی یلغار کر دیتے لیکن انسانیت کی نجات اور انسانوں کی اصلاح کا خواب دل میں سجائے رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم خوش آیند مستقبل کے تصور میں ہر مصیبت کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کرتے رہے اور آپ کے اسی صبر و تحمل اور آپ کی پاکدامن زوجہ کے تعاون اور جانثاری سے آج ہم مسلمانان جہان پرچم توحید کے علمبردار رسول کے اس خواب اصلاح کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے آپ کے اس آخری جانشین کے انتظار میں سرگرداں ہیں جو زمین کو عدل و انصاف سے پر کر دیگا۔ (انشاء اللہ)

التماس دعا۔۔۔۔۔

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی