موبائل کا نسخہ
www.valiasr-aj .com
کیا امام زمان (ع) کا حجت ہونا، قرآن کریم کی آیت « رسلا مبشرين و منذرين لئلا يكون للنّاس علي الله حجّة بعْد الرسلِ » کے خلاف نہیں ہے ؟
مندرجات: 1810 تاریخ اشاعت: 19 شهريور 2019 - 12:30 مشاہدات: 146
سوال و جواب » Mahdism
کیا امام زمان (ع) کا حجت ہونا، قرآن کریم کی آیت « رسلا مبشرين و منذرين لئلا يكون للنّاس علي الله حجّة بعْد الرسلِ » کے خلاف نہیں ہے ؟

شبہ:

کیا امام زمان (ع) کا حجت ہونا، قرآن کریم کی آیت « رسلا مبشرين و منذرين لئلا يكون للنّاس علي الله حجّة بعْد الرسلِ » کے خلاف نہیں ہے ؟

بيان شبہ:

شيعيان کا اعتقاد ہے کہ امام زمان کہ جو ہزار سال سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا ہے غائب ہیں، وہ خداوند کی طرف سے حجت (اتمام حجت) ہیں۔ یہ عقیدہ قرآن کے مخالف ہے کیونکہ قرآن نے انبیاء کو خداوند کی آخری حجت قرار دیا ہے:

«رُسُلاً مُبَشِّرينَ وَ مُنْذِرينَ لِئَلاَّ يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَي اللهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ». 

انبیاء کہ جو بشارت دینے والے اور انذار کرنے والے ہیں تا کہ ان انبیاء کے بعد لوگوں کے لیے خداوند کی طرف سے کوئی حجت باقی نہ رہے ( اور سب پر اتمام حجت ہو جائے)۔

سورہ نساء آیت 165

شبہے کا تاریخی پس منظر:

اس شبہے کو سب سے پہلے نالائق وہابیوں کے نالائق باپ ابن تیمیہ نے بیان کیا تھا۔ اس نے اپنی کتاب منہاج السنۃ میں ایسے لکھا ہے کہ:

حجة الله علي عباده قامت بالرسل فقط. كما قال تعالي: { لِئَلاَّ يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَي اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ } [النساء: 165]. ولم يقل: بعد الرسل والأئمة أو الأوصياء أو غير ذلك».

خدا کی حجت اپنے بندوں پر انبیاء کے بھیجنے کے ساتھ تمام ہو گئی ہے، اسی لیے خداوند نے فرمایا ہے: تا کہ انسانوں کے لیے انبیاء بھیجنے کے بعد خدا کے ذمہ پر کوئی حجت باقی نہ رہے اور خدا نے نہیں فرمایا انبیاء، آئمہ، اوصیاء وغیرہ کے بھیجنے کے بعد ۔

ابن تيميه الحراني الحنبلي، ابو العباس أحمد عبد الحليم (متوفي 728 هـ)، منهاج السنة النبوية، ج 5 ص76، تحقيق: د. محمد رشاد سالم، ناشر: مؤسسة قرطبة، الطبعة: الأولي، 1406هـ.

اس کلام کے مطابق انبیاء کو بھیجنے کے بعد، کوئی حجت آئمہ اور اوصیاء کی شکل میں نہیں آئے گی، پس شیعہ کیوں اپنے آئمہ کو خداوند کی طرف سے حجت قرار دیتے ہیں ؟

ابن تيميہ نے یہ بھی لکھا ہے:

فصل: في الإكتفاء بالرسالة والإستغناء بالنبي عن إتباع ما سواه إتباعا عاما وأقام الله الحجة علي خلقه برسله فقال تعالي (انا أوحينا إليك كما أوحينا إلي نوح والنبيين من بعده) إلي قوله (لئلا يكون للناس علي الله حجة بعد الرسل)

فدلت هذه الآية علي أنه لا حجة لهم بعد الرسل بحال وأنه قد يكون لهم حجة قبل الرسل

ف (الأول) يبطل قول من أحوج الخلق إلي غير الرسل حاجة عامة كالأئمة.

و (الثاني) يبطل قول من أقام الحجة عليهم قبل الرسل من المتفلسفة والمتكلمة.

فصل: یہ فصل انبیاء کی رسالت پر اکتفاء ، انبیاء کے علاوہ کسی دوسرے کی اتباع نہ کرنے اور خداوند کا اپنی تمام مخلوقات پر اپنی حجت قائم کرنے کے بارے میں ہے، خداوند کا فرمان ہے:

«انا أوحينا إليك كما أوحينا... لئلا يكون للناس علي الله حجة بعد الرسل».

یہ آیت دلالت کر رہی ہے کہ انبیاء کے بھیجنے کے بعد لوگوں کے لیے خداوند کے پاس کوئی حجت نہیں ہے اور یہ کہ لوگ انبیاء کو بھجیے جانے سے پہلے خداوند پر حق حجت رکھتے ہیں۔

پس اول : وہ جو لوگوں کو انبیاء کے علاوہ مخلوق خداوند مثلا آئمہ کا محتاج جانتے ہیں، انکا کلام باطل ہو جاتا ہے۔

اور دوم: فلاسفہ اور متکلمین کا کلام بھی، کہ جو انبیاء کے بھیجے جانے سے پہلے بھی لوگوں پر اتمام حجت ہونے کو ثابت کرتے ہیں، باطل ہو جاتا ہے۔

ابن تيميه الحراني الحنبلي، ابو العباس أحمد عبد الحليم (متوفي 728 هـ)، كتب ورسائل وفتاوي شيخ الإسلام ابن تيمية، ج19، ص66، تحقيق: عبد الرحمن بن محمد بن قاسم العاصمي النجدي، ناشر: مكتبة ابن تيمية، الطبعة: الثانية.

جیسا کہ معلوم ہوا کہ ابن تیمیہ سورہ نساء کی آیت کے مطابق، انبیاء کے علاوہ ہر طرح کی حجت کی نفی کر رہا ہے اور اس بارے میں واضح طور پر آئمہ کا نام ذکر کر رہا ہے۔

اب یہ دیکھنا ہے کہ ابن تیمیہ نے سورہ نساء کی اس آیت سے جو مطلب سمجھا ہے، وہ صحیح ہے یا نہیں ؟ اور یہ بھی دیکھنا ہے کہ اس آیت سے یہی مطلب سمجھا جاتا ہے یا کوئی دوسرا مطلب ؟

پہلا جواب:

آیت کا معنی انبیاء کے بعد حجت الہی کی نفی کرنا نہیں ہے:

اس شبہے کا پہلا جواب یہ ہے کہ ابن تیمیہ وغیرہ نے آیت کا معنی کرنے میں مغالطے سے کام لیا ہے اور صحیح معنی نہیں کیا کیونکہ یہ آیت انبیاء کے بعد حجت خدا کی نفی نہیں کر رہی، اگر آیت کا یہ معنی ہو تو رسول خدا کی شہادت کے بعد قرآن کریم کہ ان حضرت کا ابدی معجزہ ہے، اسکو امت اسلامی میں حجت کے طور لوگوں کے درمیان موجود نہیں ہونا چاہیے، حالانکہ روایات اور اہل سنت کے مفسرین کے مطابق قرآن لوگوں پر خداوند کی حجت ہے۔

آیت کا صحیح معنی یہ ہے کہ خداوند نے اپنے انبیاء کو بھیجا تا کہ لوگوں پر اتمام حجت کرے، اس طرح سے کہ انبیاء کے باوجود اگر لوگ صراط مسقیم سے گمراہ ہو جائیں تو وہ کسی قسم کا خدا پر اعتراض نہ کر سکیں۔

جیسا کہ قرآن میں ذکر ہوا ہے کہ خداوند اتمام حجت کیے بغیر اپنے بندوں کو عذاب نہیں کرتا:

وَما كُنَّا مُعَذِّبينَ حَتَّي نَبْعَثَ رَسُولاً. 

اور ہم رسول کو بھیجے بغیر کسی قوم کو ہرگز عذاب نہیں کرتے۔

سورہ اسراء آیت 15

لہذا آیت کا معنی انبیاء کو بھیجنے کے بعد ہر قسم کی حجت کی نفی کرنا نہیں ہے کہ جس معنی کو ابن تیمیہ نے اس آیت سے سمجھا ہے بلکہ آیت کا معنی لوگوں کا خداوند پر حق اعتراض و حجت کی نفی کرنا ہے۔

آیت کے الفاظ کے بارے میں بحث و تحقیق:

اس جواب واضح بیان کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے اس آیت کے الفاظ و مفردات پر بحث کریں اور پھر اسی آیت کے معنی کے بارے میں علمائے اہل سنت کے اقوال کو بیان کیا جائے گا:

الف: معنی لغوی حجت:

كتب لغت میں لفظ «حجة» کا معنی دلیل و برہان ہے کہ جسکے ذریعے سے علمی مخالف پر غالب آیا جاتا ہے۔

كتاب «معجم الوسيط» میں آیا ہے:

«الحجة: الدليل والبرهان».

حجت يعنی دليل و برہان.

إبراهيم مصطفي ـ أحمد الزيات ـ حامد عبد القادر ـ محمد النجا، المعجم الوسيط، ج1، ص157، موافق للمطبوع. دار النشر : دار الدعوة تحقيق : مجمع اللغة العربية.عدد الأجزاء : 2

زين الدين رازی نے كتاب «مختار الصحاح» میں لکھا ہے:

«الْحُجَّةُ، الْبُرْهَانُ».

حجت يعنی برہان.

الحنفي الرازي زين الدين أبو عبد الله محمد بن أبي بكر بن عبد القادر (متوفي: 666هـ). مختار الصحاح، ص67، المحقق: يوسف الشيخ محمد. الناشر: المكتبة العصرية - الدار النموذجية، بيروت - صيدا. الطبعة: الخامسة، 1420هـ / 1999م. عدد الأجزاء: 1.

معروف لغت شناس فيومی نے بھی لکھا ہے:

«الحُجَّةُ، الدليل والبرهان والجمع حُجَجٌ».

حجت يعنی دليل و برہان اور اسکی جمع حجج ہے۔

الفيومي، أحمد بن محمد بن علي المقري (متوفي770هـ)، المصباح المنير في غريب الشرح الكبير للرافعي، ج1 ص67 ناشر: المكتبة العلمية – بيروت

بعض نے ایسے معنی کیا ہے:

«والحُجّةُ: ما دوفعَ به الخَصمُ».

حجت ایسی چیز ہے کہ جسکے ذریعے سے علمی مخالف کو مغلوب کیا جاتا ہے۔

المرسي، ابوالحسن علي بن إسماعيل بن سيده (متوفي458هـ)، المحكم والمحيط الأعظم، ج2، ص482، تحقيق: عبد الحميد هنداوي، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 2000م.

طريحی نے کہا ہے:

«والحجة بضم الحاء الاسم من الإحتجاج ، قال تعالي «لئلا يكون للناس علي الله حجة بعد الرسل» [ 165 / 4 ] وقال «ولله الحجة البالغة» [ 149 / 6 ] بأوامره ونواهيه ولا حجة لهم عليه . وفي الحديث في تفسير الآية : قال إن الله يقول لعبد يوم القيامة عبدي كنت عالما ؟ فإن قال نعم قال له : أفلا عملت، وإن قال كنت جاهلا قال: أفلا تعلمت حتي تعمل ، فيخصمه فتلك الحجة البالغة».

حجت (حاء پر پیش) مادہ احتجاج کا اسم مصدر ہے، خداوند نے فرمایا ہے: لئلا يكون للناس علي الله حجة بعد الرسل،

اور اسی طرح فرمایا ہے: ولله الحجة البالغة، يعنی صرف خداوند کے لیے اپنے واجبات و محرمات کے ساتھ بالغ و مکمل حجت و دلیل ہے اور لوگ خداوند پر کوئی حجت و حق اعتراض نہیں رکھتے۔

اس آیت کی تفسیر میں حدیث ذکر ہوئی ہے کہ: خداوند روز قیامت اپنے بندے سے فرمائے گا: کیا تم عالم تھے ؟ اگر اس نے کہا ہاں، خداوند پھر اس سے فرمائے گا: پھر تم نے عمل کیوں نہیں کیا ؟ اور اگر کہے کہ میں عالم نہیں ہوں تو خداوند اس سے فرمائے گا: تم نے علم حاصل کیوں نہیں کیا تا کہ اس پر عمل کر سکو، خداوند اسکے خلاف ہو جائے گا اور یہی حجت بالغہ کا معنی ہے۔ (یعنی خداوند اس بندے پر حق اعتراض رکھتا ہے نہ کہ یہ بندہ خداوند پر)۔

الطريحي، فخرالدين (متوفي 1085هـ)، مجمع البحرين، ج1، ص 441، تحقيق: السيد أحمد الحسيني، ناشر: مكتب النشر الثقافة الإسلامية، الطبعة الثانية 1408 - 1367 ش

بعض مفسیرین نے اس آیت کے ذیل میں کہا ہے:

«أنبا عبد الرحمن قال ثنا إبراهيم قال ثنا آدم قال نا ورقاء عن ابن أبي نجيح عن مجاهد «قد جاءكم برهانٌ من ربكم» يعني حجةً».

مجاہد نے آیت کے ذیل میں کہا ہے: اس آیت میں برہان سے مراد، حجت ہے۔

لمخزومي، أبو الحجاج مجاهد بن جبر ا التابعي (متوفي104). تفسير مجاهد، ج 1، ص181، تحقيق: عبدالرحمن الطاهر محمد السورتي، دار النشر: المنشورات العلمية - بيروت.

ب: «لِلنَّاسِ عَلَي اللهِ» میں لام اور عَلَی کا معنی:

عربی گرامر میں حرف جرّ « لام » جب «علی» کے مقابلے میں ذکر ہوتا ہے تو نفع و فائدہ کا معنی دیتا ہے اور «علی» کا معنی ضرر و نقصان ہے۔

ان معانی کو ذہن میں رکھتے ہوئے آیت کا معنی ایسے ہو گا:

انبیاء کو بھیجنے کے بعد لوگ خداوند پر کسی قسم کا حق اعتراض نہیں رکھتے، نہ یہ کہ انبیاء کو بھیجنے کے بعد خداوند نے کسی کو بھی لوگوں کے لیے حجت قرار نہیں دیا۔

جیسے مندرجہ ذیل آیت میں یہی مطلب ذکر ہوا ہے:

وَلِلّهِ عَلَي النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً،

بیت اللہ کے مقام پر حج کرنا، حق اللہ انکے ذمہ کہ جو مالی لحاظ سے قدرت و استطاعت رکھتے ہوں۔

سورہ آل عمران آیت 97

يعنی اگر مستطیع افراد حج انجام نہ دیں تو خداوند ان پر حجت و دلیل رکھتے ہیں اور اسی وجہ سے خدا انکو عذاب بھی کر سکتے ہیں اور یہ معنی آیت میں حرف لام اور حرف عَلَی سے سمجھ میں آتا ہے۔

اسی معنی کی تائید کے طور پر كلام ابو البقاء ہے کہ اس نے لکھا ہے:

«وقد يعبر عن نفي المعذرة بنفي الحجة كما فيقوله تعالي «لئلا يكون للناس علي الله حجة بعد الرسل» ففيه تنبيه علي أن المعذرة في القبول عنده تعالي بمقتضي كرمه بمنزلة الحجة القاطعة التي لا مرد لها».

کبھی نفی معذرت کو نفی حجت کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے، جیسے کلام خداوند «لئلا يكون للناس علي الله حجة بعد الرسل»

اس آیت میں اشارہ ہے کہ خداوند کے کرم و بخشش کی وجہ سے جو عذر و معذرت اسکی بارگاہ میں قبول ہوتے ہیں، وہ ایسی یقینی و غالب دلیل کی مانند ہے کہ جسکو ردّ نہیں کیا جا سکتا۔ 

الكفومي أبو البقاء، أيوب بن موسي الحسيني. (متوفي 1094هـ) كتاب الكليات، ج1، ص 406، تحقيق : عدنان درويش - محمد المصري. عدد الأجزاء / 1، دار النشر : مؤسسة الرسالة - بيروت - 1419هـ - 1998م،

عالم اہل سنت شوكانی نے کتاب فتح القدير میں کہا ہے:

« قوله { لئلا يكون للناس علي الله حجة بعد الرسل } أي معذرة يعتذرون بها كما في قول تعالي { ولو أنا أهلكناهم بعذاب من قبله لقالوا ربنا لولا أرسلت إلينا رسولا فنتبع آياتك } وسميت المعذرة حجة مع انه لم يكن لأحد من العباد علي الله حجة تنبيها علي أن هذه المعذرة مقبولة لديه تفضلا منه رحمة».

اس آیت میں «حجة» سے مراد وہ معذرت ہے کہ جسکے سبب کو خداوند سے طلب کیا جاتا ہے، جیسے اس آیت کی طرح « ولو أنا أهلكناهم بعذاب من.....»

اور اس آیت میں معذرت کی جگہ، اسکے باوجود کہ کوئی بندہ بھی خداوند پر حجت و حق اعتراض نہیں رکھتا، لفظ حجت ذکر کیا گیا ہے، کیونکہ یہ معذرت خداوند کے فضل و رحمت کی وجہ سے قبول کی گئی ہے۔

الشوكاني، محمد بن علي بن محمد (متوفي1255هـ)، فتح القدير الجامع بين فني الرواية والدراية من علم التفسير، ج1، ص538، ناشر: دار الفكر - بيروت.

فخر رازی نے بھی کہا ہے:

إنَّ المقصود من بعثة الرسل وإنزال الكتب هو الإعذار والإنذار.

بعثت انبياء اور كتب کے نازل کرنے سے مراد وہی اعذار (نفی حجت) اور انذار و آگاہ کرنا ہے۔

الرازي الشافعي، فخر الدين محمد بن عمر التميمي (متوفي604هـ)، التفسير الكبير أو مفاتيح الغيب، ج11، ص87 ، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1421هـ - 2000م.

علمائے اہل سنت اور تفسیر آیت:

اہل سنت کے مفسرین نے بھی آیت کے صحیح معنی کی طرف اشارہ کیا ہے اور انھوں نے ابن تیمیہ اور اسکے بعض پیروکاروں کی بالکل پیروی نہیں کی۔

اہل سنت کے معروف مفسر طبری نے تفسير «جامع البيان عن تأويل آي القرآن » میں لکھا ہے:

لئلا يكون للناس علي الله حجة بعد الرسل يقول أرسلت رسلي إلي عبادي مبشرين ومنذرين لئلا يحتج من كفر بي وعبد الأنداد من دوني أو ضل عن سبيلي بأن يقول إن أردت عقابه لولا أرسلت إلينا رسولا فنتبع آياتك من قبل أن نذل ونخزي فقطع حجة كل مبطل ألحد في توحيده وخالف أمره بجميع معاني الحجج القاطعة عذره إعذارا منه بذلك إليهم لتكون لله الحجة البالغة عليهم وعلي جميع خلقه. و بنحو الذي قلنا في ذلك قال أهل التأويل.

خداوند نے آيت «لئلا يكون للناس علي الله حجة بعد الرسل» میں فرمایا ہے: میں نے اپنے انبیاء کو بشارت دینے اور انذار کرنے کے لیے اپنے بندوں کی طرف بھیجا ہے تا کہ وہ افراد جو کفر اختیار کرتے ہیں اور میرے علاوہ بتوں کی عبادت کرتے ہیں اور میرے راستے سے گمراہ ہو جاتے ہیں، انکے پاس میرے خلاف کوئی حجت و بہانہ نہ ہو اور وہ نہ کہیں کہ: اس سے پہلے کہ ہم ذلیل و ضرر دیکھیں آپ نے ہمارے لیے پیغمبروں کو کیوں نہیں بھیجا تا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے، پس خداوند نے انبیاء کو بھیج کر ملحدین کی ہر طرح کی حجت و دلیل کو ختم کر دیا ہے تا کہ خداوند کے پاس حجت بالغ و کامل باقی رہے، اہل تاویل نے بھی ہماری طرح ہی اس آیت کی تاویل کی ہے۔

الطبري، أبو جعفر محمد بن جرير بن يزيد بن كثير بن غالب (متوفي310)، جامع البيان عن تأويل آي القرآن، ج6، ص30، ناشر: دار الفكر، بيروت - 1405هـ

بغوی نے بھی اپنی تفسیر میں اس آیت کو ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے:

وفيه دليل علي أن الله تعالي لا يعذب الخلق قبل بعثة الرسول قال الله تعالي (وما كنا معذبين حتي نبعث رسولا)

یہ آیت اس بات پر دلیل ہے کہ خداوند انبیاء کے بھیجنے سے پہلے اپنی مخلوق کو عذاب نہیں کرتا، جیسا کہ خداوند نے فرمایا ہے: ہم پیغمبر کو بھیجنے سے پہلے کسی قوم کو بھی عذاب نہیں کرتے۔

البغوي، الحسين بن مسعود (متوفي516هـ)، تفسير البغوي، ج1، ص500، تحقيق: خالد عبد الرحمن العك، ناشر: دار المعرفة - بيروت.

ابن كثير دمشقی نے کہا ہے:

«ألم تكن آياتي تتلي عليكم فكنتم بها تكذبون» أي قد أرسلت إليكم الرسل وأنزلت إليكم الكتب وأزلت شبهكم ولم يبق لكم حجة كما قال تعالي «لئلا يكون للناس علي الله حجة بعد الرسل»

کیا میری آیات تمہارے لیے پڑھی نہیں گئیں پس تم نے ہمیشہ انکو جھٹلایا ہے، یعنی تمہارے پاس انبیاء بھیجے گئے، آسمانی کتب کو نازل کیا گیا اور تمہارے شبہات ختم ہو گئے اور تمہارے لیے کوئی حجت و بہانہ باقی نہیں رہا، جیسا کہ خداوند نے فرمایا ہے تا کہ انبیاء کو بھیجنے کے بعد لوگوں کے لیے خداوند کے خلاف کوئی حجت باقی نہ رہے۔ 

ابن كثير الدمشقي إسماعيل بن عمر أبو الفداء القرشي (متوفي 774هـ)، تفسير القرآن العظيم، ج2، ص258، دار النشر : دار الفكر - بيروت - 1401.

سليمان خثعمی نے كتاب «كشف الأوهام والإلتباس عن تشبيه بعض الأغبياء من الناس» میں لکھا ہے:

إن الله تعالي أرسل الرسل مبشرين ومنذرين لئلا يكون للناس علي الله حجة بعد الرسل فكل من بلغه القرآن ودعوة الرسول صلي الله عليه وسلم فقد قامت عليه الحجة.

بے شک خداوند متعال نے اپنے رسولوں کو بشارت دینے اور انذار کرنے والا بنا کر بھیجا ہے تا کہ لوگوں کے پاس خداوند کے خلاف کوئی حجت و دلیل باقی نہ رہے، پس جنکے پاس قرآن اور دعوت رسول خدا پہنچی ہے، ان سب پر اتمام حجت ہو چکی ہے۔

الفزعي الخثعمي، سليمان بن سحمان (متوفي 1349هـ)، كشف الأوهام والإلتباس عن تشبيه بعض الأغبياء من الناس، ج 1، ص110، تحقيق : عبد العزيز بن عبد الله الزير آل حمد ، دار النشر : دار العاصمة - السعودية ، الطبعة : الأولي ، 1415هـ

بيضاوی نے اپنی تفسير میں اس آیت «لئلايكون للناس علي الله حجة بعد الرسل» اور اس  آيت «فيقولوا لولا أرسلت إلينا رسولا» کے بعد کہا ہے:

فينبهنا و يعلمنا ما لم نكن نعلم.

تا کہ ہم جس چیز کو نہیں جانتے تھے اسکے بارے میں آگاہ کریں اور تعلیم دیں۔

البيضاوي، ناصر الدين ابوالخير عبدالله بن عمر بن محمد (متوفي685هـ)، أنوار التنزيل وأسرار التأويل (تفسير البيضاوي)، ج1 ص281. ناشر: دار الفكر - بيروت. عدد الأجزاء : 5

سيوطی نے بھی اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے:

«لِئَلاَّ يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَي الله حُجَّةٌ» تقال «بَعْدَ» إرسال «الرسل» إليهم «فيقولوا رَبَّنَا لَوْلا أَرْسَلْتَ إِلَيْنَا رَسُولاً فَنَتّبِعَ ءاياتك وَنَكُونَ مِنَ المؤمنين».

تا کہ لوگوں کے پاس خداوند کے خلاف کوئی حجت و دلیل باقی نہ رہے، اور انبیاء کے آنے کے بعد نہ کہیں کہ خدایا آپ نے ہمارے لیے انبیاء کو کیوں نہیں بھیجا تا کہ ہم آپکی آیات کی پیروی کر کے مؤمنین میں سے ہو جاتے۔

محمد بن أحمد المحلي الشافعي + عبدالرحمن بن أبي بكر السيوطي (متوفي911 هـ)، تفسير الجلالين، ج1، ص131، ناشر: دار الحديث، الطبعة: الأولي، القاهرة.

شنقيطی نے کہا ہے:

«الأمر بالمعروف له ثلاث حكم :

الأولي: إقامة حجة الله علي خلقه كما قال تعالي «رسلا مبشرين ومنذرين لئلا يكون للناس علي الله حجة بعد الرسل».

امر بہ معروف کے لیے تین حكم ہیں: اول: خداوند کا اپنی مخلوق پر حجت قائم کرنا، جیسا کہ خداوند نے فرمایا ہے: تا کہ انبیاء کو بھیجنے کے بعد لوگوں کے پاس خداوند کے خلاف کوئی حجت و دلیل باقی نہ رہے۔

الجكني الشنقيطي، محمد الأمين بن محمد بن المختار (متوفي 1393هـ.)، أضواء البيان في إيضاح القرآن بالقرآن، ج1 ص 465.تحقيق: مكتب البحوث والدراسات، ناشر: دار الفكر للطباعة والنشر. - بيروت. - 1415هـ - 1995م

سيوطی نے کتاب الدر المنثور میں کہا ہے:

«وأخرج ابن جرير عن السدي في قوله «لئلا يكون للناس علي الله حجة بعد الرسل» فيقولوا: ما أرسلت إلينا رسولا».

ابن جرير (طبری) نے سدی سے اس آیت کے معنی کے بارے میں روایت کی ہے: یعنی لوگوں کے پاس خداوند کے خلاف کوئی حجت و دلیل نہیں ہے کہ کہیں کہ آپ نے ہمارے لیے انبیاء کو نہیں بھیجا۔  

السيوطي،جلال الدين أبو الفضل عبد الرحمن بن أبي بكر (متوفي911هـ)، الدرالمنثور، ج15 ص42 ناشر: دار الفكر - بيروت - 1993.

آلوسی نے بھی کہا ہے:

وقوله تعالي: «لئلا يكون للناس علي الله حجة بعد الرسل» علي معني لئلا يكون لهم احتجاج بزعمهم بأن يقولوا «لولا أرسلت إلينا رسولا».

اس آیت کا یہ معنی ہے کہ لوگوں خداوند کے خلاف اعتراض نہیں کر سکتے کہ کہیں: آپ نے ہمارے لیے انبیاء کو کیوں نہیں بھیجا۔

الآلوسي البغدادي الحنفي، أبو الفضل شهاب الدين السيد محمود بن عبد الله (متوفي1270هـ)، روح المعاني في تفسير القرآن العظيم والسبع المثاني بيروت، ج15 ص42 ، ناشر: دار إحياء التراث العربي.

ان اقوال کی روشنی میں اہل سنت کے کسی مفسر نے نہیں کہا کہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ خداوند انبیاء کو بھیجنے کے بعد لوگوں کے لیے کوئی حجت نہیں بھیجے گا۔

کیا اہل سنت کے ان تمام بزرگ مفسرین کے اقوال غلط ہیں اور ایک ابن تیمیہ کی بات صحیح ہے کہ جو آج کے ناصبی وہابی بیان کرتے رہتے ہیں۔

(للناس علي الله حجة) اور (لله علي الناس حجة) کے درمیان فرق:

حرف لام اور عَلَی کے فرق کو جاننے کے بعد جاننا چاہیے کہ (للناس علي الله حجة) اور (لله علي الناس حجة) کے الفاظ میں بھی فرق ہے، لہذا جو معنی وہابی بیان کرتے ہیں، اسکے مطابق خداوند کو اس آیت میں کہنا چاہیے تھا:

«لئلا يكون لله علي الناس حجةٌ بعدَ الرسُل».

تا کہ انبیاء کو بھیجنے کے بعد خداوند کے لیے لوگوں پر حجت نہ ہو۔

حالانکہ آیت کریمہ میں ایسے ذکر ہوا ہے:

لِئَلاَّ يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَي اللهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ».

مذکورہ مطالب کی روشنی میں ابن تیمیہ کے مغالطے کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ جو اس نے کہا ہے:

« حجة الله علي عباده قامت بالرسل فقط. كما قال تعالي: { لِئَلاَّ يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَي اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ } [النساء: 165]. ولم يقل: بعد الرسل والأئمة أو الأوصياء أو غير ذلك».

خدا کی حجت اپنے بندوں پر انبیاء کے بھیجنے کے ساتھ تمام ہو گئی ہے، اسی لیے خداوند نے فرمایا ہے: تا کہ انسانوں کے لیے انبیاء بھیجنے کے بعد خدا کے ذمہ پر کوئی حجت باقی نہ رہے اور خدا نے نہیں فرمایا انبیاء، آئمہ، اوصیاء وغیرہ کے بھیجنے کے بعد ۔

ابن تيميه الحراني الحنبلي، ابو العباس أحمد عبد الحليم (متوفي 728 هـ)، منهاج السنة النبوية، ج5، ص76، تحقيق: د. محمد رشاد سالم، ناشر: مؤسسة قرطبة، الطبعة: الأولي، 1406هـ.

ابن تیمیہ نے ابتداء میں کہا ہے: «حجة الله علي عباده» لوگوں پر حجت خدا صرف انبیاء کے ساتھ ہی تمام و مکمل ہوتی ہے، پھر آیت سے ایسا استدلال کرتا ہے کہ جو اسکے اپنے پہلے دعوا کے بالکل برعکس ہے کیونکہ آیت فرما رہی ہے:

 انبیاء کے بھیجنے کے ساتھ لوگوں کے پاس خداوند کے خلاف کوئی حجت نہیں ہے، لیکن یہ آیت لوگوں کے لیے خداوند کی باقی دوسری حجتوں کی نفی نہیں کر رہی۔

پہلے جواب کا خلاصہ:

انبیاء کے بعد اتمام حجت ہونے کا معنی کسی دوسری حجت ہونے کی نفی کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ معنی ہے کہ لوگ کسی پیغمبر کے آنے کے بعد، خداوند پر اعتراض نہیں کر سکتے کہ ہمارے لیے اتمام حجت نہیں ہوئی ہے۔

لہذا یہ جو ہم شیعہ کہتے ہیں کہ آئمہ (ع) لوگوں پر حجت خداوند ہیں تو اسکا یہ معنی ہے کہ خداوند کے لیے لوگوں پر حجت ہے، یعنی «لله علي الناس حجة» لہذا مثلا جب کہا جاتا ہے:

«أشهد أنَّ عليا حجة الله»،

يعنی علی (ع) لوگوں پر حجت خدا ہیں۔

اس وجہ سے انبیاء کے بعد لوگوں پر خدا کی حجت موجود ہے لیکن لوگ خداوند پر حجت و حق اعتراض نہیں رکھتے، لہذا شیعہ دعاؤں اور زیارات میں «حجة الله علي خلقه» کی عبارت بہت زیادہ پائی جاتی ہے۔

«يا حُجَّةَ اللهِ عَلي خَلْقِهِ»

دعائے توسل

«أُشهِدُكَ يا مولايَ أنَّ عليّاً أميرالمؤمنين حُجَّتهُ».

زيارت آل ياسین

اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا حُجَّةَ اللهِ في اَرْضِه،

مفاتيح الجنان: اعمال روز جمعه.

دوسرا جواب: روایات کے مطابق رسول خدا (ص) اور حضرت علی (ع) بندوں پر حجت خداوند ہیں۔

اہل سنت کی روایات کے مطابق رسول خدا (ص) اور امیر المؤمنین علی (ع) مخلوق خدا پر خداوند کی طرف سے حجت ہیں۔

یہ روایت دو مختلف عبارات کے ساتھ نقل ہوئی ہے:

متن اول:

 پيغمبر (ص) اور امير المؤمنین علی (ع) روز قیامت حجت خدا بر امت:

خطيب بغدادی نے كتاب تاريخ بغداد میں روايت کو اس سند کے ساتھ نقل کیا ہے:

قال نبأنا الحسين بن محمد بن مصعب السنجي قال نبأنا علي بن المثني الطهوي قال نبأنا عبيد الله بن موسي قال حدثني مطر بن أبي مطر عن أنس بن مالك قال كنت عند النبي صلي الله عليه وسلم فرأي عليا مقبلا فقال انا وهذا حجة علي امتي يوم القيامة.

مطر ابن ابی مطر نے انس ابن مالک سے روايت نقل کرتے ہوئے کہا ہے: میں رسول خدا (ص) کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اسی وقت علی (ع) بھی وہاں آ گئے، رسول خدا نے فرمایا:

 میں اور یہ (علی ع) روز قیامت اس امت پر حجت ہوں گے۔

البغدادي، ابو بكر أحمد بن علي بن ثابت الخطيب (متوفي463هـ)، تاريخ بغداد، ج 2، ص 88، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت.

اس روايت کو ابن عساكر نے بھی اسی سند کے ساتھ نقل کیا ہے:

ابن عساكر الدمشقي الشافعي، أبي القاسم علي بن الحسن إبن هبة الله بن عبد الله (متوفاي571هـ)، تاريخ مدينة دمشق وذكر فضلها وتسمية من حلها من الأماثل، ج42، ص 309،

متن دوم:

 پيغمبر (ص) اور امير المؤمنین علی (ع) مخلوقات پر حجت خدا:

ابن عساكر نے اس روايت کو اس سند کے ساتھ نقل کیا ہے:

أخبرنا أبو بكر محمد بن القاسم بن المظفر بن الشهرزودي بدمشق أنا أبو الحسن علي بن أحمد بن محمد المؤذب المديني بنيسابور أنا أبو عبد الرحمن محمد بن الحسين بن موسي السلمي أنا القاضي أبو الحسن عيسي بن حامد الرخجي ناجدي محمد بن الحسن نا علي بن محمد القطان نا عبيد الله بن موسي العبسي نامطر الإسكاف قال سمعت أنس بن مالك يقول نظر رسول الله صلي الله عليه وسلم إلي علي بن أبي طالب رضي الله عنه فقال أنا وهذا حجة الله علي خلقه.

انس ابن مالک کہتا ہے: رسول خدا (ص) نے علی ابن ابی طالب (ع) کی طرف دیکھ کے فرمایا: میں اور یہ خلق خدا پر حجت خدا ہیں۔

تاريخ مدينة دمشق، ج 42، ص 309

اور یہ روایت اس عبارت کے ساتھ بھی ذکر ہوئی ہے:

أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن عبد الملك أنا أبو طاهر بن محمود أنا أبو بكر بن المقريء أنا أحمد بن عمرو بن جابر الرملي نا أحمد بن خيثم نا عبيد الله بن موسي عن عطاء بن ميمون عن أنس قال قال النبي صلي الله عليه وسلم أنا وعلي حجة الله علي عباده.

انس سے روايت ہوئی ہے کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا:

 میں اور علی (ع) مخلوق خدا پر حجت خدا ہیں۔

تاريخ مدينة دمشق، ج 42، ص 309

اللآليء المصنوعة في الأحاديث الموضوعة ، اسم المؤلف: جلال الدين عبد الرحمن بن أبي بكر السيوطي الوفاة: 911 هـ ، دار النشر : دار الكتب العلمية – بيروت،

نتيجہ:

اس روایت کے مطابق رسول خدا (ص) اور امير المؤمنین علی (ع) قیامت تک اس امت پر خداوند کی طرف سے حجت ہیں، لہذا ابن تیمیہ کا یہ کہنا کہ رسول خدا (ص) کے بعد کوئی حجت خدا نہیں ہو گی، یہ بات اس آیت اور روایات کے ساتھ تضاد رکھتی ہے۔

جواب نقضی:

گذشتہ جوابات حلّی کے علاوہ وہابیوں کے اس اشکال کے چند نقضی جواب بھی ہیں:

جواب اول: قرآن حجت خداوند ہے:

تمام مسلمین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ رسول خدا (ص) کے بعد اس امت میں قرآن کریم لوگوں پر حجت خدا ہے۔

کتاب صحيح مسلم میں یہ روايت ذکر ہوئی ہے کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا ہے کہ:

«وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ».

قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے ضرر میں حجت ہے۔

النيسابوري القشيري ، ابو الحسين مسلم بن الحجاج (متوفي261هـ)، صحيح مسلم، ج1، ص203، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.

اہل سنت کے مفسر ابن عجيبہ اس آیت کی تفسير میں کہا ہے:

«قال تعالي لهم: «فقد جاءكم بينة من ربكم» وهو القرآن؛ حجة واضحة تعرفونها».

بیّنہ سے مراد، قرآن ہے، وہ ایسی واضح حجت ہے کہ جسکو تم پہچانتے ہو۔

الشاذلي الفاسي أحمد بن محمد بن المهدي بن عجيبة الحسني الإدريسي أبو العباس. البحر المديد، ج 2، ص 223، دار النشر، دار الكتب العلمية ـ بيروت.

ابن كثير نے بھی اپنی تفسیر میں کہا ہے: قرآن كريم ایسی واضح حجت ہے کہ جو قيامت تک باقی رہے گی۔

«فإنه ليس ثَمَّ حجةٌ ولا معجزةٌ أبلغَ ولا أنجعَ في النفوس والعقول من هذا القرآن، الذي لو أنزله الله علي جبل لرأيته خاشعا متصدعا من خشية الله. وثبت في الصحيح أن رسول الله صلي الله عليه وسلم قال: "ما من نبي إلا وقد أوتي ما آمن علي مثله البشر، وإنما كان الذي أوتيته وحيا أوحاه الله إلي، فأرجو أن أكون أكثرهم تابعا يوم القيامة" معناه: أن معجزة كل نبي انقرضت بموته، وهذا القرآن حجة باقية علي الآباد».

قرآن کے علاوہ دلوں اور عقول پر اثر کرنے والی کوئی دوسری حجت اور معجزہ نہیں ہے، وہ قرآن کہ اگر خداوند اسکو پہاڑ پر نازل فرماتا تو وہ پہاڑ خاشع و خاضع ہو جاتا۔ صحیح و معتبر روایات میں رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: کوئی پیغمبر ایسا نہیں ہے مگر یہ کہ اسکے ساتھ ایسی چیز ہوتی ہے کہ لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں، جو کچھ مجھے دیا گیا ہے وہ وحی ہے کہ خداوند مجھ پر وحی نازل کرتا ہے، مجھے امید ہے کہ روز قیامت میرے پیروکار گذشتہ انبیاء سے زیادہ ہوں گے۔

اس روایت کا یہ معنی ہے کہ ہر نبی کا معجزہ اسکی وفات کے ساتھ ختم ہو جاتا تھا لیکن یہ قرآن قیامت تک حجت باقی رہے گا۔

ابن كثير الدمشقي أبوالفداء إسماعيل بن عمرالقرشي (متوفي 774هـ)، تفسير القرآن العظيم، ج2، ص627، المحقق : محمود حسن، الناشر : دار الفكر.

طبری نے اپنی تفسير میں کہا ہے:

«والقرآن من حجج الله علي الذين خوطبوا بهاتين الآيتين».

قرآن ان پر خداوند کی حجت ہے کہ جو ان دو آیات کے مخاطب ہیں۔

الطبري، أبو جعفر محمد بن جرير بن يزيد بن كثير بن غالب (متوفي310)، جامع البيان عن تأويل آي القرآن، ج 2، ص 444، ناشر: دار الفكر، بيروت - 1405هـ

محمد ابن عبد الوہاب وہابیوں کے باپ نے بھی کہا ہے:

«فإن حجة الله هو القرآن فمن بلغه القرآن فقد بلغته الحجة».

بے شک حجت خداوند، قرآن ہے۔ جس تک قرآن پہنچا ہے گویا اس تک حجت پہنچ چکی ہے۔

التميمي النجدي، محمد بن عبد الوهاب بن سليمان (متوفي: 1206هـ)، الرسائل الشخصية ج6، ص244، المحقق: صالح بن فوزان بن عبدالله الفوزان، محمد بن صالح العيلقي الناشر: جامعة الإمام محمد بن سعود، الرياض، المملكة العربية السعودية الطبعة:

سمرقندی نے اپنی کتاب تفسیر میں لکھا ہے: خداوند نے قرآن کو اپنی تمام مخلوقات پر حجت قرار دیا ہے:

ولأن الله تعالي أنزل القرآن هدي للناس وجعله حجة علي جميع الخلق لقوله تعالي «وأوحي إلي هذا القرءان لأنذركم به ومن بلغ».

السمرقندي، نصر بن محمد بن أحمد ابوالليث (متوفي367 هـ)، تفسير السمرقندي المسمي بحر العلوم، ج1، ص35، تحقيق: د. محمود مطرجي، ناشر: دار الفكر - بيروت.

اب سوال یہ ہے کہ اگر انبیاء کو بھیجنے کے بعد اگر کوئی دوسری حجت نہ ہو تو رسول خدا (ص) کی نبوت کیسے ثابت ہو گی ؟ کیونکہ قرآن سے رسول خدا (ص) کی نبوت پر دلیل لائی جاتی ہے، خود یہ دلیل ہے کہ قرآن حجت ہے، پس انبیاء کے بعد بھی خداوند کی حجت موجود ہو سکتی ہے۔

اسی وجہ سے فخر رازی نے کہا ہے:

«المسألة الثالثة : دلت الآية علي أن القرآن معلوم المعني خلاف ما يقوله من يذهب إلي أنه لا يعلم معناه إلا النبي والامام المعصوم ، لأنه لو كان كذلك لما تهيأ للمنافقين معرفة ذلك بالتدبر ، ولما جاز أن يأمرهم الله تعالي به وأن يجعل القرآن حجة في صحة نبوته».

مسئلہ سوم: یہ آیت دلالت کر رہی ہے کہ قرآن کا معنی واضح و معلوم ہے اور یہ بات ان لوگوں کی رائے کے خلاف ہے کہ جو کہتے ہیں کہ قرآن کا معنی صرف نبی اور معصوم جانتے ہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو منافقین قرآن میں غور کر اسکی معرفت حاصل نہیں کر سکتے تھے اور اس صورت میں خداوند کا انکو قرآن میں غور کرنے کا حکم کرنا بھی جائز نہ ہوتا اور قرآن کا رسول خدا کی نبوت کے صحیح ہونے کے لیے حجت ہونا بھی جائز نہیں تھا۔

الرازي الشافعي، فخر الدين محمد بن عمر التميمي (متوفي604هـ)، التفسير الكبير أو مفاتيح الغيب، ج1 ص1506، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1421هـ - 2000م

ملطی شافعی نے بھی لکھا ہے:

«و أيضا فإن القرآن فيه الحلال والحرام والدين والشريعة وهو حجة الله في الأرض إلي أن تقوم الساعة ».

ایک دوسری دلیل یہ کہ قرآن میں حلال ، حرام ، دین اور شریعت کا ذکر ہوا ہے اور قرآن زمین پر قیامت تک حجت خدا ہے۔

أبو الحسن محمد بن أحمد بن عبد الرحمن الملطي الشافعي (متوفي 377هـ )، التنبيه والرد علي أهل الأهواء والبدع، ج 1،ص 30، تحقيق: محمد زاهد بن الحسن الكوثري، دار النشر: المكتبة الأزهرية للتراث – مصر،

لہذا رسول خدا کے بعد قرآن کہ جو ان حضرت کا دائمی معجزہ ہے، حجت کے طور پر قیامت تک باقی رہے گا۔

جواب دوم: عقل حجت ہے۔

شیعیان اور اہل سنت کے اکثر فرقے عقل کو شریعت کے ساتھ حجت قرار دیتے ہیں۔

ابو حامد غزالی نے اس بارے میں لکھا ہے:

«الأدلة الثلاثة علي كون الإجماع حجة أعني الكتاب والسنة والعقل لا تفرق بين عصر وعصر».

تین دلائل یعنی قرآن ، سنت اور عقل کے حجت ہونے پر دلالت کرتے ہیں اور اس میں سارے زمانے برابر ہیں۔

الغزالي، ابوحامد محمد بن محمد (متوفي505هـ)، المستصفي في علم الأصول، ج1، ص 149، تحقيق : محمد عبد السلام عبد الشافي، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1413هـ.

علاء الدين بخاری کہتا ہے:

... العقل حجة من حجج الله تعالي ولا تناقض في حججه فيستحيل أن يرد الشرع بخلاف العقل .

عقل خداوند کی حجتوں میں سے ایک حجت ہے اور خداوند کی حجتوں کا آپس میں کوئی تضاد نہیں ہے۔۔۔۔۔

البخاري، علاء الدين عبد العزيز بن أحمد (متوفي 730هـ)،كشف الأسرار عن أصول فخر الإسلام البزدوي، ج 1 ص 201 ، تحقيق: عبد الله محمود محمد عمر، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت - 1418هـ - 1997م.

جواب سوم: إجماع حجت ہے۔

اہل سنت کے پاس احکام شرعی کو استنباط کرنے کے لیے، ایک دلیل اجماع ہے اور اسے حجت قرار دیتے ہیں۔ ہم اس بارے میں انکے علماء کے اقوال کو ذکر کرتے ہیں:

اہل سنت کے مفسر قرآن سمرقندی نے کہا ہے:

«ويتبع غيرَ سبيل المؤمنين» يعني يتبع دينا غير دين المؤمنين ... وفي الآية دليل أن الإجماع حجة لأن من خالف الإجماع فقد خالف سبيل المؤمنين».

اس آيت سے مراد «ويتبع غيرسبيل المؤمنين» یہ ہے کہ وہ مؤمنین کے دین کے علاوہ کسی دوسرے دین کی پیروی کرتے ہیں، اس آیت میں اجماع کے حجت ہونے پر دلیل موجود ہے کیونکہ جو اجماع کی مخالفت کرتا ہے اس نے مؤمنین کے طریقے کی مخالفت کی ہے۔

السمرقندي، نصر بن محمد بن أحمد ابو الليث (متوفي367 هـ)، تفسير السمرقندي المسمي بحر العلوم، ج1، ص363، تحقيق: د. محمود مطرجي، ناشر: دار الفكر - بيروت.

اہل سنت کے علم اصول کے عالم بزودی حنفی نے کہا ہے کہ جو اجماع کے حجت ہونے کے قا‏ئل نہیں ہیں وہ اہل ہوا ہیں، اس نے کہا ہے:

«ومن أهل الهوي من لم يجعل الإجماع حجة قاطعة».

جو اجماع کو حجت قاطع قرار نہیں دیتے وہ اہل ہوا و اہل باطل ہیں۔

البزدوي الحنفيي علي بن محمد (متوفي 382هـ)، أصول البزدوي- كنز الوصول الي معرفة الأصول، ج1، ص245، دار النشر: مطبعة جاويد بريس - كراتشي.

مفسر اہل سنت سمعانی نے اجماع کی حجيت کے بارے میں کہا ہے:

«ومن يشاقق الرسول من بعد ما تبين له الهدي ويتبع غير سبيل المؤمنين» ... استدل أهل العلم بهذه الآية علي أن الإجماع حجة».

جو راہ ہدایت کے واضح ہونے کے بعد رسول خدا (ص) سے دشمنی کرتے ہیں اور وہ مؤمنین کی راہ کے علاوہ دوسرے راستے کی اتباع کرتے ہیں، اہل علم نے اس آیت سے اجماع کے حجت ہونے پر استدلال کیا ہے۔

السمعاني أبو المظفر منصور بن محمد بن عبد الجبار (متوفي 489هـ)، تفسيرالقرآن، ج1، ص479، تحقيق: ياسر بن إبراهيم و غنيم بن عباس بن غنيم، دار النشر: دار الوطن - الرياض - السعودية،

سرخسی حنفی نے اپنی علم اصول کی کتاب میں اجماع کو اصول دین کے لیے محور و مدار قرار دیا ہے اور لکھا ہے:

«ومن أنكر كون الإجماع حجة موجبة للعلم فقد أبطل أصل الدين فإن مدار أصول الدين ومرجع المسلمين إلي إجماعهم».

جو ایسے اجماع کے حجت ہونے کا انکار کرے کہ جو یقین آور ہوتا ہے، اس نے اصل دین کو باطل کر دیا ہے کیونکہ اصول دین ہونے اور مسلمین کے رجوع کرنے کا معیار، مسلمین کا اجماع ہے۔

السرخسي محمدبن أحمدبن أبي سهل أبو بكر (متوفي490هـ)، أصول السرخسي، ج1، ص296، دارالنشر: دار المعرفة - بيروت.

زمخشری نے اجماع کی مخالفت کرنے کو جائز قرار نہیں دیا جیسا کہ قرآن کی مخالفت کرنا جائز نہیں ہے:

«ويتبع غير سبيل المؤمنين» وهو السبيل الذي هم عليه من الدين الحنيفي القيم وهو دليل علي إن الإجماع حجة لا تجوز مخالفتها كما لا تجوز مخالفة الكتاب».

اس سے مراد وہ راہ ہے کہ مؤمنین جس راہ پر ہیں کہ وہ وہی دین حنیف و صحیح دین ہے، یہ اجماع کے حجت ہونے پر دلیل ہے اور اسکی مخالفت کرنا جائز نہیں ہے جسطرح کہ قرآن کی مخالفت کرنا جائز نہیں ہے۔

الزمخشري الخوارزمي، ابوالقاسم محمود بن عمرو بن أحمد جار الله (متوفي538هـ)، الكشاف عن حقائق التنزيل وعيون الأقاويل في وجوه التأويل، ج1، ص 598، تحقيق: عبد الرزاق المهدي، بيروت، ناشر: دار إحياء التراث العربي.

ابن تيميہ حرانی نے مورد بحث آیت سے استنباط کرتے ہوئے کہ رسول خدا (ص) کے بعد لوگوں درمیان کوئی دوسری حجت نہیں ہے، کہا ہے: میں اجماع کے حجت ہونے کو مفصل دلائل سے ثابت کرتا ہوں:

«وأيضا فنحن نشير إلي ما يدل علي أن الإجماع حجة بالدلالة المبسوطة».

ہم مبسوط و مفصل دلائل کے ساتھ اجماع کے حجت ہونے پر اشارہ کرتے ہیں۔

ابن تيميه الحراني الحنبلي، ابو العباس أحمد عبد الحليم (متوفي 728 هـ)، منهاج السنة النبوية، تحقيق: د. محمد رشاد سالم، ج 8، ص344، ناشر: مؤسسة قرطبة، الطبعة: الأولي، 1406هـ.

اہل سنت کا بزرگ مفسر فخر رازی کہتا ہے:

«روي أن الشافعي رضي الله عنه سئل عن آية في كتاب الله تعالي تدل علي أن الإجماع حجة ، فقرأ القرآن ثلثمائة مرة حتي وجد هذه الآية».

روایت نقل ہوئی ہے کہ شافعی سے سوال ہوا: کیا کوئی آیت اجماع کے حجت ہونے پر دلالت کرتی ہے ؟ شافعی نے قرآن کو 300 مرتبہ پڑھنے کے بعد اس آیت کو ڈھونڈا تھا۔

الرازي الشافعي، فخر الدين محمدبن عمر التميمي (متوفي604هـ)،التفسيرالكبير أومفاتيح الغيب، ج11، ص 35، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1421هـ - 2000م.

آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ اہل سنت کے بزرگان نے حتی خود ابن تیمیہ نے بھی اجماع کو حجت قرار دیا ہے۔

جواب چہارم: قياس حجت ہے۔

اہل سنت قیاس کو بھی حجت قرار دیتے ہیں، اگرچہ قیاس اور اہل قیاس کی رسول خدا نے مذمت کی ہے لیکن پھر بھی اہل سنت قیاس کو احکام شرعی کے ثابت کرنے کے لیے ایک دلیل کے طور پر حجت قرار دیتے ہیں۔ اسی بارے میں بعض علمائے اہل سنت کے اقوال:

بزودی حنفی نے اپنی كتاب اصول میں کہا ہے:

«القياس حجة بإجماع السلف».

گذشتہ علماء کا اجماع و اتفاق ہے کہ قیاس حجت ہے۔

البزدوي الحنفيي علي بن محمد. أصول البزدوي (متوفي 382هـ)، كنز الوصول الي معرفة الأصول، ج1، ص159، دار النشر : مطبعة جاويد بريس - كراتشي.

فخر رازی کہتا ہے:

«والذي نذهب إليه وهو قول الجمهور من علماء الصحابة والتابعين أن القياس حجة في الشرع. لنا الكتاب والسنة والإجماع والمعقول».

جو ہمارا اعتقاد ہے، وہی اکثر صحابہ اور تابعین کی رائے بھی ہے کہ دین میں قیاس حجت ہے، اس کی دلیل كتاب خدا ، سنت ، اجماع اور عقل ہیں۔

الرازي الشافعي، فخر الدين محمد بن عمر التميمي (متوفي604هـ)، المحصول في علم الأصول، ج 5، ص36، تحقيق: طه جابر فياض العلواني، ناشر: جامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية - الرياض، الطبعة : الأولي،1400هـ.

مالک ابن انس سے نقل کرتے ہیں کہ وہ قیاس کو خبر واحد پر مقدم جانتا تھا۔ شہاب الدين قرافی نے کہا ہے:

«قال الإمام القرافي رحمه الله تعالي في شرح التنقيح ما نصه: "وهو -أي القياس- مقدم علي خبر الواحد عند مالك رحمه الله»..

قرافی نے كتاب شرح تنقيح میں کہا ہے: مالک ابن انس کے نزدیک قياس، خبر واحد پر مقدم ہے۔

الحَطَّاب الإمَامِ العَلامَةِ الفَقِيهِ الأصُولِيِّ مُحَمَّد بن مُحَمَّد الرُّعَيْنِيّ المَالِكِيّ الشهير بالحَطَّاب رحمه الله تعالي (متوفي -954 هـ)، قرة العين لشرح ورقات إمام الحرمين، ص54.

اہل قیاس کے منحرف ہونے پر روایات:

روايت اول:

حاكم نيشاپوری نے كتاب «المستدرك علي الصحيحن» میں اس روايت کو ذكر کیا ہے:

أخبرنا محمد بن المؤمل بن الحسن ثنا الفضل بن محمد بن المسيب ثنا نعيم بن حماد ثنا عيسي بن يونس عن جرير بن عثمان عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير عن أبيه عن عوف بن مالك رضي الله عنه قال قال رسول الله صلي الله عليه وسلم ستفترق أمتي علي بضع وسبعين فرقة أعظمها فرقة قوم يقيسون الأمور برأيهم فيحرمون الحلال ويحللون الحرام هذا حديث صحيح علي شرط الشيخين ولم يخرجاه.

رسول خدا (ص) نے فرمایا ہے: میرے امت 70 فرقوں میں تقسیم ہو گی، ان فرقوں میں سے سب سے بڑا فرقہ وہ ہے کہ جو اپنے امور کے بارے میں قیاس کرتے ہیں، پس حلال کو حرام اور حرام کو حلال جانتے ہیں۔

الحاكم النيسابوري، ابو عبد الله محمد بن عبد الله (متوفي 405 هـ)، المستدرك علي الصحيحين ج4، ص477، تحقيق: مصطفي عبد القادر عطا، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت الطبعة: الأولي، 1411هـ - 1990م.

اہل سنت کے رجال شناس ہيثمی نے كتاب «مجمع الزوائد» میں اس روایت کی سند صحیح ہونے پر تصریح کی ہے:

«عن عوف بن مالك عن النبي صلي الله عليه وسلم قال تفترق أمتي علي بضع وسبعين فرقة أعظمها فتنة علي أمتي قوم يقيسون الأمور برأيهم فيحلون الحرام ويحرمون الحلال. ..... رواه الطبراني في الكبير والبزار ورجاله رجال الصحيح».

رسول خدا (ص) نے فرمایا ہے: میرے امت 70 فرقوں میں تقسیم ہو گی، ان فرقوں میں سے سب سے بڑا فرقہ وہ ہے کہ جو اپنے امور کے بارے میں قیاس کرتے ہیں، پس حلال کو حرام اور حرام کو حلال جانتے ہیں۔

طبرانی نے کتاب معجم كبير اور بزار نے اس روايت کو نقل کیا ہے اور اس روایت کے تمام راوی صحیح و معتبر ہیں۔

الهيثمي، ابوالحسن نور الدين علي بن أبي بكر (متوفي 807 هـ)، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد،ج1، ص430، ناشر: دار الفكر بيروت - 1407هـ.،

ابن حزم اندلسی نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد کہا ہے:

فهذا أصح ما في هذا الباب وأنقاها سنداً،

یہ روايت سند کے لحاظ سے اس باب کی صحیح ترین اور صاف ترین روایت ہے۔

الأندلسي، أبو محمد علي بن أحمد بن سعيد بن حزم (متوفي456 هـ)، رسالة في الإمامة، ج3، ص213، تحقيق: د . إحسان عباس، دار النشر: المؤسسة العربية للدراسات والنشر - بيروت / لبنان، الطبعة الثانية، 1987 م

صالح العمری نے بھی لکھا ہے:

«قلت وأخرجه البيهقي بسنده إلي نعيم بن حماد قال ابن القيم بعد إخراجه بهذه الأسانيد وهؤلاء كلهم أئمة ثقات حفاظ إلا حريز بن عثمان فإنه كان منحرفا عن علي رضي الله عنه ومع هذا احتج به البخاري في صحيحه»

میں کہتا ہوں بيہقی نے اپنی سند کے ساتھ اس روايت کو نعيم ابن حماد سے نقل کیا ہے۔ ابن قيم نے اس سند کو ذکر کرنے کے بعد کہا ہے: یہ تمام بزرگان اور ثقہ ہیں، غیر از حريز ابن عثمان كہ یہ دشمن علی (ع) تھا لیکن پھر بھی بخاری نے اس سے روایت کو نقل کیا ہے۔

صالح بن محمد بن نوح العمري (متوفي: 1218). إيقاظ همم أولي الأبصار ج1،ص 10، دار النشر : دار المعرفة - بيروت - 1398

اس روايت کو اہل سنت کے بہت سے علماء نے نقل کیا ہے۔

روايت دوم:

ایک دوسری روايت میں عبد الله ابن مسعود نے قیاس کرنے والے فرقے کے وجود میں آنے کے بارے میں خبر دی ہے:

أخبرنا صَالِحُ بن سُهَيْلٍ مولي يحيي بن أبي زَائِدَةَ ثنا يحيي عن مُجَالِدٍ عن الشَّعْبِيِّ عن مَسْرُوقٍ عن عبد اللَّهِ قال لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ عَامٌ الا وهو شَرٌّ من الذي كان قَبْلَهُ أَمَا اني لَسْتُ أَعْنِي عَامًا أَخْصَبَ من عَامٍ ولا أَمِيرًا خَيْرًا من أَمِيرٍ وَلَكِنْ علماءكم وَخِيَارُكُمْ وفقهاءكم يَذْهَبُونَ ثُمَّ لَا تَجِدُونَ منهم خَلَفًا وَيَجِيءُ قَوْمٌ يَقِيسُونَ الأمر بِرَأْيِهِمْ .

عبد الله ابن مسعود کہتا ہے تم پر جو بھی سال آتا ہے وہ گذشتہ سال سے بدتر ہوتا ہے، آگاہ ہو کہ میری مراد یہ نہیں ہے کہ موجودہ سال گذشتہ سال سے بابرکت تر یا یہ والا حاکم گذشتہ حاکم سے بہتر ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ بہترین علماء اور فقہاء جا رہے ہیں اور انکا کوئی جانشین باقی نہین ہے اور پھر ایسی قوم آئے گی کہ جو اپنے امور کے بارے میں قیاس سے کام لیں گے۔

الدارمي، أبو محمد عبدالله بن عبدالرحمن (متوفي255هـ)، سنن الدارمي، ج1، ص76، تحقيق: فواز أحمد زمرلي, خالد السبع العلمي، ناشر: دار الكتاب العربي - بيروت ، الطبعة: الأولي1407هـ

طبرانی نے كتاب «المعجم الكبير» میں عبد الله ابن مسعود سے روایت نقل کی ہے کہ یہ گروہ اپنے قیاس سے اسلام کو ختم کر دے گا:

حدثنا محمد بن عَلِيٍّ الصَّائِغُ ثنا سَعِيدُ بن مَنْصُورٍ ثنا سُفْيَانُ عن مُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عن مَسْرُوقٍ قال قال عبد اللَّهِ ليس عَامٌ إِلا الذي بَعْدَهُ شَرٌّ منه وَلا عَامٌ خَيْرٌ من عَامٍ وَلا أُمَّةٌ خَيْرٌ من أُمَّةٍ وَلَكِنْ ذَهَابُ خِيَارِكُمْ وَعُلَمَائِكُمْ وَيُحَدِّثُ قَوْمٌ يَقِيسُونَ الأُمُورَ بِرَأْيِهِمْ فَيَنْهَدِمُ الإِسْلامُ وَيَنْثَلِمُ.

عبد الله ابن مسعود تم پر جو بھی سال آتا ہے وہ گذشتہ سال سے بدتر ہوتا ہے اور کوئی سال دوسرے سال سے بہتر نہیں ہے اور کوئی امت دوسری امت سے بہتر نہیں ہے لیکن تمہارے بہترین علماء دنیا سے چلیں جائیں گے پھر ایسی قوم وجود میں آئے گی کہ وہ اپنے کاموں کے بارے میں قیاس کریں گے پس یہ لوگ اسلام منہدم اور کمزور کر دیں گے۔

الطبراني، ابوالقاسم سليمان بن أحمد بن أيوب (متوفي360هـ)، المعجم الكبير، ج9، ص 105، تحقيق: حمدي بن عبدالمجيد السلفي، ناشر: مكتبة الزهراء - الموصل، الطبعة: الثانية، 1404هـ - 1983م.

صالح العمری نے اس روایت کی سند کے بارے میں لکھا ہے:

قلت وأخرجه البيهقي أيضا بسند رجاله ثقات عن ابن مسعود.

العمري، صالح بن محمد بن نوح (متوفي 1218هـ)، إيقاظ همم أولي الأبصار، ج1، ص13، دار النشر : دار المعرفة - بيروت - 1398

شوكانی نے بھی اس روایت کو ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے:

فيهدم الإسلام وينثلم وأخرجه البيهقي بإسناد رجاله ثقات.

الشوكاني، محمد بن علي بن محمد (متوفي 1255هـ)، القول المفيد في أدلة الاجتهاد والتقليد ، ج1، ص75، تحقيق : عبد الرحمن عبد الخالق، دار النشر : دار القلم - الكويت ، الطبعة : الأولي 1396

ان روایات کی روشنی میں اہل سنت کے اس گروہ نے جس چیز کو خداوند نے حجت قرار دیا ہے، اس چیز کو حجت کے طور پر قبول نہیں کیا اور جس چیز کو خداوند نے حجت قرار نہیں دیا اور چیز کو حجت قرار دیا ہے !

جواب پنجم: قول اور عمل صحابی، حجت ہے۔

اہل سنت قائل ہیں كہ قول و عمل صحابہ، حجت ہے کیونکہ وہ تمام صحابہ کو عادل مانتے ہیں اور انکو ہر طرح کے نقص و عیب سے محفوظ مانتے ہیں۔

مروزی نے اپنی كتاب السنہ میں روایت کو نقل کرنے کے بعد کہا ہے کہ خداوند نے بھی قرآن میں صحابہ کی تعریف کی ہے، پھر لکھتا ہے:

... وَقَالَ: (لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ)، الآيَةَ، فَهُمْ حُجَّةُ اللَّهِ عَلَي خَلْقِهِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ (ص) ... .

خداوند نے فرمایا ہے: بے شک خداوند ان مؤمنین سے کہ جہنوں نے درخت کے نیچے آپکی بیعت کی تھی، راضی ہوا ہے، پس رسول خدا کے بعد انکے صحابہ مخلوق خدا پر حجت ہیں۔۔۔۔۔

المروزي ، أبو عبد الله محمد بن نصر بن الحجاج (متوفي294هـ)، السنة ، ج 1 ص14ـ 15، تحقيق : سالم أحمد السلفي ، ناشر : مؤسسة الكتب الثقافية - بيروت ، الطبعة : الأولي ، 1408هـ .

ابن قيم جوزيہ نے شافعی کے قول سے نقل کیا ہے کہ اس نے کہا ہے:

وقد صَرَّحَ الشَّافِعِيُّ في الْجَدِيدِ من رِوَايَةِ الرَّبِيعِ عنه بِأَنَّ قَوْلَ الصَّحَابَةِ حُجَّةٌ يَجِبُ الْمَصِيرُ إلَيْهِ»

شافعی نے اپنے جدید نظرئیے میں کہ جو ربیع نے اس سے نقل کیا ہے، تصریح کی ہے کہ:

صحابہ کا قول حجت ہے اور اس پر عمل بھی ہونا چاہیے۔

الزرعي الدمشقي الحنبلي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أبي بكر أيوب (مشهور به ابن القيم الجوزية ) (متوفي751هـ)، إعلام الموقعين عن رب العالمين، ج4، ص121، تحقيق: طه عبد الرؤوف سعد، ناشر: دار الجيل - بيروت - 1973.

سعودی وہابی علماء نے ایک رسالہ «مجمع الفقه الاسلامي» تأليف کیا ہے کہ جس میں ذکر ہوا ہے کہ عمر ابن خطاب کے اجتہادات پر عمل کرنا، حجت ہے:

«لئن اختلفوا في حجية عمل الصحابة , فإنا نشعر بأن عمل عمر لا يجوز الاختلاف في حجيته ؛ لأن الصحابة كانوا يستقبلونه باعتباره تصرفًا بمقتضي الإمامة , وأغلبه لم ينكره أحد منهم والقليل الذي كان لبعضهم موقف منه مثل عدول عمر عن توزيع أراضي السواد علي المسلمين إلي وقفها ليستمر ريعها إلي الأجيال المقبلة منهم وموقف أنس وبعض الصحابة من ذلك , سانده الجمهور مساندة استمرت في عهد عثمان وعلي. دون أن تستمر المعارضة له , فصار بذلك كغيره مما لم يعارضه أحد من عمله غيرَ مرتكز علي اجتهاد عمر فحسب , وهو وحده حجة حاسمة عندنا».

صحابہ کے عمل کے حجت ہونے کے بارے میں اختلاف رائے ہے، ہم جانتے ہیں کہ عمر کے عمل کے حجت ہونے کے بارے میں اختلاف کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ صحابہ اسکی امامت کیوجہ سے اسکے اعمال پر توجہ کرتے ہوئے عمل کرتے تھے۔ کوئی بھی صحابی عمر کے عمل کا انکار نہیں کرتا تھا اور اگر کبھی انکار بھی کرتا تھا تو جیسے کہ عمر نے سواد کی زمینوں کو مسلمانوں میں تقسیم کرنے کی بجائے انکو وقف کر دیا تا کہ انکا منافع بعد میں آنے والی نسلوں تک بھی پہنچتا رہے۔۔۔۔۔۔ لہذا یہ معارضہ نہ کرنا، عمر کے بہت سے کاموں کی طرح، یہ عدم مخالفت عمر کے اجتہاد کی وجہ سے نہیں تھی، حالانکہ صرف عمر کا اجتہاد ہمارے لیے قاطع حجت ہے۔

منظمة المؤتمر الاسلامي بجدة، مجلة مجمع الفقه الاسلامي التابع لمنظمة المؤتمر الاسلامي بجدة، ج 4، ص 1326، وقد صدرت في 13 عددا ، وكل عدد يتكون من مجموعة من المجلدات ، كما يلي. العدد 1 : مجلد واحد .العدد 2 : مجلدان .أعدها للشاملة : أسامة بن الزهراء عضو في ملتقي أهل الحديث-

اسی رسالے میں اس پر بھی تصریح ہوئی ہے کہ عمل صحابہ حجت ہے:

لكن هنا لم يتساو الدليلان بل علي العكس. هناك مرجِّح وهو عمل الصحابة، وهذا كما ذكر العلماء من قبيل الإجماع السكوتي ، وهو حجة عند الحنفية وحجة أيضا عند الحنابلة.

اس مقام پر دو دلیلیں آپس میں مساوی نہیں ہیں بلکہ اسکے بر عکس ہے کیونکہ یہاں پر مرجح موجود ہے اور وہ صحابہ کا عمل ہے اور جیسے علماء نے ذکر کیا ہے یہ اجماع سکوتی ہے اور یہ اجماع حنفیوں اور حنبلیوں کے نزدیک حجت ہے۔

منظمة المؤتمر الاسلامي ، مجلة مجمع الفقه الاسلامي التابع لمنظمة المؤتمر الاسلامي بجدة، ج 8 / ص 529 وقد صدرت في 13 عددا ، وكل عدد يتكون من مجموعة من المجلدات ، كما يلي. العدد 1 : مجلد واحد .العدد 2 : مجلدان .أعدها للشاملة : أسامة بن الزهراء عضو في ملتقي أهل الحديث.

محمد ابن إبراہيم آل الشيخ ، مفتی اعظم سابق سعودی عرب کہتا ہے:

وعلي كل فعمل الخيزران ليس بحجة، وانما الحجة في عمل الصحابة رضي الله عنهم»

بہرحال عمل خيز ران حجت نہیں بلكہ عمل صحابہ حجت ہے۔

آل الشيخ محمَّد بن إبراهيم بن عَبداللطِيف، فتاوي ورسائل الشيخ محمد بن إبراهيم آل الشيخ، المحقق : محمد بن عبدالرحمن بن قاسم، ج 1، ص 137 الناشر : مطبعة الحكومة بمكة المكرمة، الطبعة : الطبعة الأولي ـ مكة المكرمة، 1399 هـ

ابن مفلح حنبلی نے بھی کہا ہے:

«.... لقوله: كيف تكلم أجسادا لا أرواح فيها وجوابه بأن تكليمه لهم كانت من معجزاته عليه السلام فإنه قال ما أنتم بأسمع لما أقول منهم. ولم يثبت هذا لغيره مع أنَّ قول الصحابة له حجة لنا».

اسکے قول کیوجہ سے کہ: جن اجساد میں روح نہیں تم ان سے کیسے کلام کرتے ہو ؟ اسکا جواب یہ ہے کہ: مردوں سے کلام کرنا یہ رسول خدا کے معجزات میں سے تھا کیونکہ ان حضرت نے فرمایا کہ تم ان (مردوں) کی نسبت زیادہ سننے والے نہیں ہو، یہ بات صحابہ کے علاوہ کسی دوسرے کے لیے ثابت نہیں ہوئی، حالانکہ  رسول خدا کے صحابہ کا قول  ہمارے لیے حجت ہے۔

الحنبلي ، أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن عبد الله بن مفلح (متوفي: 884 )،المبدع في شرح المقنع، ج 7، ص 356، دار النشر : المكتب الإسلامي - بيروت - 1400

احمد ابن حمدان حرانی نے بھی كتاب «صفة الفتوي والمفتي والمستفتي» میں لکھا ہے:

أن قول الصحابه عندنا حجة في أصح الروايتين.

النمري الحراني، أحمد بن حمدان أبو عبد الله (متوفي 695هـ)، صفة الفتوي و المفتي و المستفتي، ج1، ص73، تحقيق: محمد ناصر الدين الألباني، دار النشر : المكتب الإسلامي - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1397

جواب ششم: بزرگان اہل سنت، حجت خدا ہیں:

اہل سنت اپنے صحابہ اور بعض علماء کو مخلوق خدا پر «حجة الله» کہتے ہیں۔ اسی بارے میں چند اقوال ذکر کیے جا رہے ہیں:

1. بیعت شجرہ میں موجود مؤمنین حجت خدا ہیں۔

مروزی نے كتاب «السنۃ» میں صحابہ کے بارے میں اس آیت «(لقد رضي الله عن المؤمنين إذ يبايعونك تحت الشجرة) (فتح/18) کو ذکر کرنے کے بعد کہا ہے:

«فهم حجة الله علي خلقه بعد رسوله صلي الله عليه وسلم».

وہ (يعنی صحابہ) رسول خدا (ص) کے بعد اسکی مخلوق پر حجت خداوند تھے۔

المروزي محمد بن نصر بن الحجاج أبو عبد الله ( متوفي 294)، السنة، ج 1، ص 15، تحقيق : سالم أحمد السلفي ، دار النشر : مؤسسة الكتب الثقافية - بيروت - 1408 ، الطبعة : الأولي ،

ابن عبد البر نے كتاب «الاستيعاب» کے مقدمہ میں سنت پيغمبر کو قرآن کریم کو واضح بیان کرنے والا قرار دیا ہے اور تصریح کی ہے کہ ایسے صحابہ کی شناخت ضروری ہے کہ جہنوں نے رسول خدا (ص) کی سنت کو نقل کر کے لوگوں تک پہنچایا ہے اور آخر میں صحابہ کو «حجة الله» کہتے ہوئے لکھا ہے:

«وهم صحابته الحواريّون الذين وعوها وأدوها ناصحين محسنين حتي كمل بما نقلوه الدّين ، وثبتت بهم حجّة الله تعالي علي المسلمين».

صحابہ، رسول خدا (ص) کے حواری ہیں کہ جو رسول خدا کی سنت کے لیے ظرف اور اسکو لوگوں تک پہنچانے والے تھے، حالانکہ وہ تمام صحابہ دلسوز اور نیک تھے، انکے نقل کرنے کی وجہ سے دین مکمل ہوا ہے اور انہی کی وجہ سے خدا کی حجت مسلمین پر کامل ہوئی ہے۔

ابن عبد البر النمري القرطبي المالكي، ابو عمر يوسف بن عبد الله بن عبد البر (متوفي 463هـ)، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، ج1، ص1، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولي، 1412هـ.

2. ابوبكر و عمر حجت خداوند ہیں:

  بعض صرف ابوبكر و عمر کو مخلوق پر حجت خداوند کہتے ہیں،

ابن عساكر دمشقی نے کتاب «تاريخ مدينة دمشق» میں ، ابن اثير نے کتاب «اسد الغابة» میں اور طبری نے كتاب «رياض النضرة» میں امير المؤمنین علی ابن ابی طالب (ع) سے روايت نقل کی ہے کہ: خداوند نے ابوبکر و عمر کو انکے بعد والے والیوں پر حجت قرار دیا ہے۔

متن روايت:

أخبرنا أبو بكر الأنصاري قال قرئ علي أبي الحسن علي بن إبراهيم بن عيسي المقرئ وأنا حاضر نا أبو بكر محمد بن إسماعيل بن العباس الوراق إملاء نا محمد بن عبيد الله بن محمد الكاتب العسكري حدثني عمي أحمد بن محمد بن العلاء نا عمر بن إبراهيم المعروف بكردي نا زائدة بن قدامة عن إسماعيل بن عبد الرحمن عن عبد خير صاحب راية علي بن أبي طالب قال سمعت عليا يقول اِنَّ اللَّهَ جَعَلَ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ حُجَّةٌ عَلَي مَنْ بَعْدَهُمَا مِنَ الْوُلاةِ إِلَي يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَسَبَقَا وَاللَّهِ سَبْقًا بَعِيدًا، وَأَتْعَبَا وَاللَّهِ مَنْ بَعْدَهُمَا إِتْعَابًا شَدِيدًا، فَذِكْرُهُمَا حُزْنٌ لِلأُمَّةِ، وَطَعْنٌ عَلَي الأَئِمَّةِ ".

علی کے پرچم دار عبد خیر نے کہا ہے: میں نے ان حضرت سے سنا تھا کہ بے شک خداوند نے ابوبکر و عمر کو انکے بعد آنے والے والیوں پر حجت قرار دیا ہے۔

ابن عساكر الدمشقي الشافعي، أبي القاسم علي بن الحسن إبن هبة الله بن عبد الله، (متوفي571هـ)، تاريخ مدينة دمشق وذكر فضلها و تسمية من حلها من الأماثل، ج30، ص382، تحقيق: محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمري، ناشر: دار الفكر - بيروت - 1995.

ابن أثير الجزري، عز الدين بن الأثير أبي الحسن علي بن محمد (متوفي630هـ)، أسد الغابة في معرفة الصحابة، ج4، ص 179، تحقيق: عادل أحمد الرفاعي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولي، 1417 هـ - 1996 م.

الطبري، ابوجعفر محب الدين أحمد بن عبد الله بن محمد (متوفي694هـ)، الرياض النضرة في مناقب العشرة، ج1، ص 379، تحقيق: عيسي عبد الله محمد مانع الحميري، ناشر: دار الغرب الإسلامي - بيروت، الطبعة: الأولي، 1996م.

الهندي، علاء الدين علي المتقي بن حسام الدين (متوفي975هـ)، كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال، ج13، ص13، تحقيق: محمود عمر الدمياطي، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1419هـ - 1998م.

ابن عساكر نے كتاب «تاريخ مدينة دمشق» میں عطاء سے بھی نقل کیا ہے کہ وہ ابوبکر و عمر کی جانشینی کو لوگوں پر خداوند کی حجت شمار کیا ہے:

«أخبرنا أبو بكر محمد بن عبدالباقي أنا الحسن بن علي أنا علي بن محمد بن أحمد بن لؤلؤ أنا عمر بن أيوب نا عثمان بن أبي شيبة أنا سفيان عن رجل عن عطاء قال: من حجة الله علي الناس استخلاف أبي بكر وعمر أن يقول قائل من يستطيع أن يعمل بعمل رسول الله صلي الله عليه وسلم».

ایک شخص نے عطاء سے نقل کیا ہے کہ اس نے کہا: لوگوں پر خداوند حجتوں میں سے ایک حجت خلافت ابوبكر و عمر ہے، تا کہ کوئی نہ کہے کہ کوئی بھی رسول خدا (ص) کی طرح عمل نہیں کر سکتا۔

الشافعي، أبو القاسم علي بن الحسن بن هبة الله بن عبد الله (متوفي571) تاريخ مدينة دمشق، ج44، ص، 259 تحقيق : محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمري، دار النشر : دار الفكر - بيروت - 1995

عبد الرؤوف مناوی نے كتاب «فيض القدير» میں نقل کیا ہے کہ ابن فورک نے غیب سے آواز سنی کہ ابوبکر حجت خدا ہے:

«(وحكي) أن الأستاذ ابن فورك قصد الانفراد للتعبد، فبينما هو في بعض الجبال سمع صوتا ينادي : يا أبا بكر إذ قد صرت من حجج الله علي خلقه».

حكايت ہوئی ہے کہ ابن فورک نے خلوت میں عبادت کرنے کا ارادہ کیا اور وہ جب ایک پہاڑ پر گیا تو اس نے ایک آواز سنی کہ اے ابوبکر تم مخلوق پر خدا کی حجت بن گئے ہو۔

المناوي، محمد عبد الرؤوف بن علي بن زين العابدين (متوفي1031هـ)، فيض القدير شرح الجامع الصغير، ج1، ص515، ناشر: المكتبة التجارية الكبري - مصر، الطبعة: الأولي، 1356هـ.

3 . احمد ابن حنبل لوگوں پر حجت خدا ہے۔

بعض احمد ابن حنبل کو حجت خدا کہتے ہیں:

ابوبكر بغدادی نے كتاب «التقييد لمعرفة رواة السنن و المسانيد» میں نقل کیا ہے کہ علی ابن مدينی، احمد بن حنبل کو حجت خدا بر مخلوق کہتا تھا:

أخبرنا زاهر بن أحمد الثقفي وإدريس بن محمد بأصبهان قالا أنبأ أبو بكر محمد بن علي بن أبي ذر الصالحاني قال ثنا أبو طاهر محمد بن أحمد بن عبد الرحيم قال أنبا أبو بكر عبد الله بن محمد بن محمد بن فورك القباب قال ثنا محمد بن إبراهيم بن أبان الحبراني قال سمعت علي بن المديني يقول أحمد بن حنبل أبو عبد الله اليوم حجة اللهعلي خلقه».

محمد ابن إبراہيم ابن أبان حبرانی کہتا ہے میں نے علی ابن مدينی سے سنا کہ وہ کہتا تھا کہ: آج احمد ابن حنبل لوگوں پر حجت خدا ہے۔

البغدادي محمد بن عبد الغني أبو بكر (متوفي 629). التقييد لمعرفة رواة السنن والمسانيد، ج1، ص 159، تحقيق : كمال يوسف الحوت، دار النشر : دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة : الأولي 1408

ذہبی نے كتاب «سير اعلام النبلاء» میں لکھا ہے:

الحسين بن الحسن أبو معين الرازي سمعت ابن المديني يقول ليس في اصحابنا احفظ من أحمد وبلغني انه لا يحدث الا من كتاب ولنا فيه اسوة وعنه قال أحمد اليوم حجة الله علي خلقه.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج احمد ابن حنبل لوگوں پر حجت خدا ہے۔

الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفي748 هـ)، سير أعلام النبلاء، ج11، ص200، تحقيق: شعيب الأرنؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ.

ان روایات میں « اليوم حجة الله » کا جملہ واضح بتاتا ہے کہ اہل سنت ہر زمانے میں حجت کے موجود ہونے کے قائل ہیں، اسی لیے تو اس زمانے کی حجت احمد ابن حنبل کو کہہ رہے تھے۔

جیسا کہ شعرانی اور بعض علماء نے ہيثم ابن جميل سے احمد ابن حنبل کے بارے میں نقل کیا ہے:

«وقال الهيثم رضي الله عنه كان أحمد رضي الله عنه حجة الله علي أهل زمانه».

ہيثم کہتا ہے احمد اپنے زمانے کے لوگوں پر حجت خداوند تھا۔

الشعراني أبو المواهب عبدالوهاب بن أحمد بن علي المعروف بالشعراني (متوفي: 973هـ)، الطبقات الكبري المسماة بلواقح الأنوار في طبقات الأخيار، ج 1، ص 82، تحقيق : خليل المنصور، دار النشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة : الأولي 1418هـ-1997م

4. مالک ابن انس لوگوں پر حجت خدا ہے:

زين الدين عراقی نے شافعی سے نقل کیا ہے کہ مالک مخلوق پر حجت خدا ہے۔

« وَقَالَ الشَّافِعِيُّ: إذَا جَاءَ الأَثَرُ فَمَالِكٌ النَّجْمُ، وَقَالَ أَيْضًا: مَالِكٌ حُجَّةُ اللَّهِ عَلَي خَلْقِهِ ».

شافعی نے کہا ہے: اگر روايت آئے تو مالک اسکا ستارہ ہے، اسی طرح کہا ہے مالک مخلوق خدا پر حجت خدا ہے۔

العراقي زين الدين أبوالفضل عبدالرحيم بن الحسيني ( متوفي: 806هـ) طرح التثريب في شرح التقريب، ج1 ص81 ، تحقيق : عبد القادر محمد علي ، دار النشر : دار الكتب العلمية ، الطبعة : الأولي، بيروت - 2000م ،

كتاب «المدونة الكبري» میں يحيی ابن سعيد اور يحيی ابن معين سے نقل ہوا ہے کہ ان دونوں نے بھی مالک کو مخلوق پر حجت خدا قرار دیا ہے:

«وقال يحيي ابن سعيد القطان ويحيي بن معين، مالك أمير المؤمنين في الحديث زاد ابن معين كان مالك من حجج الله علي خلقه»

يحيی ابن سعيد قطان اور يحيی ابن معين نے کہا ہے: مالک حدیث میں امير المومنين ہے،

ابن معين نے مزید کہا ہے:

مالک مخلوق پر حجت خدا ہے۔

مالك بن أنس ابو عبد الله الإصبحي (متوفي179هـ)، المدونة الكبري، ج 6، ص 465، ناشر: دار صادر - بيروت.

جلال الدين سيوطی نے ابن معين کے قول کو اپنی کتاب میں نقل کیا ہے:

«وقال ابن معين: كان مالك من حجج الله علي خلقه»

ابن معين نے کہا ہے، مالک مخلوق پر حجت خدا ہے۔

السيوطي، جلال الدين أبو الفضل عبد الرحمن بن أبي بكر (متوفي911هـ)، تنوير الحوالك شرح موطأ مالك، ص 4، ناشر: المكتبة التجارية الكبري ـ مصر ، 1389هـ ـ 1969م

مناوی نے كتاب «فيض القدير» میں ابن عساكر سے اس قول کو نقل کیا ہے:

«وكذا ابن عساكر (في) كتاب (غرائب) الإمام المشهور صدر الصدورحجة الله علي خلقه ( مالك ) بن أنس الأصبحي».

ابن عساكر نے كتاب غرائب میں کہا ہے:

مالک ابن انس امام مشہور اور لوگوں پر حجت خداوند ہے۔

المناوي، محمد عبد الرؤوف بن علي بن زين العابدين (متوفي1031هـ)، فيض القدير شرح الجامع الصغير، ج 1، ص 46، ناشر: المكتبة التجارية الكبري - مصر، الطبعة: الأولي، 1356هـ.

5. ابن تيميہ حجت خدا بر بندگان خدا:

اب تک ابن تیمیہ قرآن کی تفسیر کرتے ہوئے کہتا تھا کہ انبیاء کے بعد خدا کی کوئی حجت نہیں ہے، لیکن اسکو کیا پتا تھا کہ ایک دن اسی کے پیروکار عملی طور پر اسکی بات کو ردّ کر دیں گے اور خود ابن تیمیہ کو رسول خدا کے بعد لوگوں پر حجت خدا قرار دے دیں گے:

كرمی حنبلی نے ابن تيميہ کی مدح کرتے ہوئے کہا ہے:

«... الشيخ الإمام العالم العلامة الأوحد البارع الحافظ الزاهد الورع القدوة الكامل العارف تقي الدين شيخ الإسلام سيد العلماء قدوة الأئمة الفضلاء ناصر السنة وقامع البدعة حجة الله علي العباد».

شيخ، امام، عالم علامہ، ماہر، حافظ، زاہد، پرہيزگار، اسوه كامل، عارف، تقی الدين شيخ الاسلام، سيد علماء، اسوه ائمہ و فضلاء، ناصر سنت، دشمن بدعت اور حجت خدا بر بندگان.

الكرمي الحنبلي مرعي بن يوسف ( متوفي 1033)، الشهادة الزكية في ثناء الأئمة علي ابن تيمية، ج 1، ص 37، تحقيق : نجم عبد الرحمن خلف، دار النشر : دار الفرقان , مؤسسة الرسالة - بيروت ، الطبعة : الأولي 1404

ابن حجر عسقلانی نے اہل سنت کے بعض علماء سے ابن تیمیہ کے بارے میں نقل کیا ہے:

«.... تقي الدين إمام المسلمين حجة الله علي العالمين اللاحق بالصالحين..... ذو الفنون البديعة أبو العباس ابن تيمية».

تقی الدين، امام مسلمين،حجت خدا بر عالمين كہ جو صالحين سے جا ملا، صاحب فنون جديد، ابو العباس ابن تيميہ۔

ابن حجر العسقلاني الحافظ شهاب الدين أبي الفضل أحمد بن علي بن محمد ( متوفي 852 هـ/ 1449م)، الدرر الكامنة في أعيان المائة الثامنة، ج 1، ص 186، تحقيق : مراقبة / محمد عبد المعيد ضان، دار النشر: مجلس دائرة المعارف العثمانية - صيدر اباد/ الهند ، الطبعة : الثانية ، 1392هـ/ 1972م

6 . سفيان ثوری حجت خدا بر خلق خدا:

ملا علی قاری نے كتاب «مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح» میں سفيان ثوری کو مخلوقات پر حجت خدا کہا ہے:

(وعن سفيان الثوري) أي الكوفي إمام المسلمين وحجة الله علي خلقه أجمعين ، ...

سفيان ثوری كوفی امام مسلمين اور تمام مخلوق پر حجت خداوند ہے۔

ملا علي القاري، نور الدين أبو الحسن علي بن سلطان محمد الهروي (متوفي1014هـ)، مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، ج 9، ص 463، تحقيق: جمال عيتاني، ناشر: دار الكتب العلمية - لبنان/ بيروت، الطبعة: الأولي، 1422هـ - 2001م .

7. امام نووی ابو زكريا آنے والے لوگوں پر حجت خدا ہے۔

سبكی نے كتاب «طبقات الشافعية الكبري» میں اسکے بارے میں ایسے کہا ہے:

يحيي بن شرف بن مري بن حسن بن حسين بن حزام ابن محمد بن جمعة النووي الشيخ الإمام العلامة محيي الدين أبو زكريا شيخ الإسلام أستاذ المتأخرين وحجة الله علي اللاحقين والداعي إلي سبيل السالفين.

يحيی ابن شرف ... نووي استاد، امام، علامہ، محيی الدين ابو زكريا شيخ الاسلام، استاد متأخرين اور آنے والوں پر حجت خدا اور گذشتہ علماء کی راہ پر دعوت دینے والا ہے۔

السبكي الشافعي، ابونصر تاج الدين عبد الوهاب بن علي بن عبد الكافي (متوفي 771هـ)، طبقات الشافعية الكبري، ج8، ص395، تحقيق: د. محمود محمد الطناحي د.عبد الفتاح محمد الحلو، ناشر: هجر للطباعة والنشر والتوزيع، الطبعة: الثانية، 1413هـ.

السخاوي، شمس الدين أبو الخير محمد بن عبد الرحمن (متوفي902هـ) المنهل العذب الروي، ج1، ص42، دار النشر : طبق برنامه الجامع الكبير.

8. ابو علی ثقفي حجت خدا بر خلق خدا۔

اہل سنت کے صوفی عالم نیشاپوری ابو علی ثقفی کو اہل سنت کے بزرگان نے حجت خدا کہا ہے:

ابراہيم شيرازی نے كتاب «طبقات الفقهاء» میں ابو العباس زاہد سے ایسے نقل کیا ہے:

أبو علي محمد بن عبد الوهاب بن عبد الرحمن الثقفي النيسابوري ...

قال الحاكم سمعت الصبغ يقول ما عرفنا الجد والنظر حتي ورد أبو علي من العراق

وسمعت أبا العباس الزاهد يقول كأن الثقفي في عصره حجة الله علي خلقه ولد سنة أربع وأربعين ومائتين وتوفي في جمادي الأولي سنة ثمان وعشرين وثلاثمائة.

.... حاكم کہتا ہے: میں نے ابو العباس زاہد سے سنا کہ ابو علی ثقفی اپنے زمانے میں لوگوں پر خدا کی حجت تھا۔۔۔۔۔

الشيرازي الشافعي، ابوإسحاق إبراهيم بن علي بن يوسف (متوفي 476هـ)، طبقات الفقهاء ، ج1، ص201، تحقيق : خليل الميس ، ناشر : دار القلم - بيروت .

ذہبی نے اپنی دو کتب میں ابو علی ثقفی کے بارے میں حاکم سے سننے کے بعد لکھا ہے:

وسمعت أبا العباس الزاهد يقول كان أبو علي في عصره حجة الله علي خلقه،

ابو علی ثقفی اپنے زمانے میں لوگوں پر خدا کی حجت تھا۔

الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفي748 هـ)، سير أعلام النبلاء، ج15، ص 282، تحقيق: شعيب الأرنؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ.

الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفي748 هـ)، تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام، ج24، ص 239، تحقيق: د. عمر عبد السلام تدمري، ناشر: دار الكتاب العربي - لبنان/ بيروت، الطبعة: الأولي، 1407هـ - 1987م.

9. ابو حامد تبريزی حجت خدا بر خلق خدا:

اربلی نے کتاب تاريخ اربل میں لکھا ہے:

الْإِمَامُ الصَّالِحُ أَبُو حَامِدٍ التِّبْرِيزِيُّ [...بَعْدَ سَنَةِ 588 هـ [ هُوَ أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ رَمَضَانَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ مَهْمَتٍ التِّبْرِيزِيُّ وَيُعْرَفُ بِالْمَهْمَتِيِّ، وَيُكْنَي أَيْضًا أَبَا بَكْرٍ، الْفَقِيهُ الزَّاهِدُ، الصَّالِحُ، الْوَرِعُ، إِمَامُ أَئِمَّةِ الزُّهْدِ.وَرَدَ إِرْبِلَ فِي رَبِيعٍ الْأَوَّلِ سَنَةَ ثَمَانٍ وَثَمَانِينَ وَخَمْسِمِائَةٍ، أَثْنَي عَلَيْهِ الْعَجَمُ فَغَالَوْا فِيهِ.

وَنَقَلْتُ مِنْ خَطِّ أَبِي طَاهِرٍ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْبُخَارِيِّ جَدِّ الْأُرْمَوِيِّ هُوَ، وَأَبُوه، كَذَا بِخَطِّهِ، قَالَ: هُوَ الْإِمَامُ الْعَالِمُ، إِمَامُ الْأَئِمَّةِ، بِحْرُ الْحِكْمَةِ، مُبَيِّنُ الشَّرِيعَةِ، وَمُظْهِرُ الطَّرِيقَةِ وَالْحَقِيقَةِ، الْفَقِيهُ الزَّاهِدُ، حُجَّةُ اللَّهِ عَلَي عِبَادِهِ فِي وَقْتِهِ، وَرَدَ إِرْبِلَ، وَانْعَكَفَ النَّاسُ لِصَلَاحِهِ، وَسُمِعَ عَلَيْهِ.

۔۔۔۔۔۔۔ ابو حامد تبریزی اپنے زمانے میں لوگوں پر حجت خدا تھا۔۔۔۔

الأربلي ، شرف الدين بن أبي البركان المبارك بن أحمد (متوفي937هـ) ، تاريخ اربل ، ج 1 ص 136، تحقيق : سامي بن سيد خماعد الصقار ، ناشر : وزارة الثقافة والإعلام - العراق ، 1980م .

10. علماء مخلوقات پر حجت خداوند ہیں:

ابن قيم الجوزيہ شاگرد ابن تيميہ نے كتاب «إعلام الموقعين عن رب العالمين» میں فتوا دینے والوں کی چار اقسام کو ذکر کرتے ہوئے کہا ہے: پہلی قسم ان علماء کی ہے کہ جو کتاب خدا اور سنت رسول خدا سے آگاہ ہیں، ایسے علماء زمین پر حجت خدا ہیں:

الْفَائِدَةُ التَّاسِعَةُ وَالْعِشْرُونَ الْمَفْتُونَ الَّذِينَ نَصَّبُوا أَنْفُسَهُمْ لِلْفَتْوَي أَرْبَعَةُ أَقْسَامٍ

النوع الاول من أنواع المفتين

أَحَدُهُمْ الْعَالِمُ بِكِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ وَأَقْوَالِ الصَّحَابَةِ فَهُوَ الْمُجْتَهِدُ في أَحْكَامِ النَّوَازِلِ يَقْصِدُ فيها موافقه الادلة الشَّرْعِيَّةِ حَيْثُ كانت ..

وَهُمْ الَّذِينَ قال فِيهِمْ عَلِيُّ بن أبي طَالِبٍ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ لَنْ تَخْلُو الأرض من قَائِمٍ لِلَّهِ بِحُجَّتِهِ.

فائده 29: ایسے مفتی کہ جہنوں نے اپنے آپکو فتوا دینے کے لیے قرار دیا ہوا ہے، انکی چار اقسام ہیں:

پہلی قسم: وہ مفتی ہیں کہ جنکو قرآن کریم، سنت رسول خدا اور صحابہ کے اقوال کا علم ہے، ایسا شخص جدید شرعی احکام میں مجتہد شمار ہوتا ہے۔۔۔۔۔

یہ وہ لوگ ہیں کہ جنکے بارے میں علی ابن ابی طالب (ع) نے فرمایا ہے:

زمین کبھی بھی خدا کے لیے قیام کرنے والی حجت خدا سے خالی نہیں ہو گی۔

الزرعي الدمشقي الحنبلي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أبي بكر أيوب (مشهور به ابن القيم الجوزية) (متوفي751هـ)، إعلام الموقعين عن رب العالمين، ج4، ص212، تحقيق: طه عبد الرؤوف سعد، ناشر: دار الجيل - بيروت - 1973.

قابل توجہ چند اہم نکات:

نكتہ اول: کلام امير المؤمنین علی (ع) اور روايت كميل ابن زياد نخعی:

خطيب بغدادی نے امير المؤمنین علی (ع) کے کلام کو اس سند کے ساتھ نقل کیا ہے:

أنا محمد بن الحسين بن الأزرق المتوثي أنا أبو سهل أحمد بن محمد ابن عبد الله بن زياد القطان نا أبو بكر موسي بن إسحاق الأنصاري .

( وأنا ) أبو القاسم عبد الرحمن بن عبيد الله بن عبد الله بن محمد بن الحسين الحربي وأبو نعيم الحافظ قالا : نا حبيب بن الحسين بن داود القزاز نا موسي بن إسحاق نا أبو نعيم ضرار بن صرد نا عاصم بن حميد الحناط عن أبي حمزة الثمالي عن عبد الرحمن بن جندب الفزاري عن كميل بن زياد النخعي قال : أخذ علي بن أبي طالب بيدي فأخرجني إلي ناحية الجبانة فلما أصحرنا جلس ثم تنفس ثم قال : يا كميل بن زياد إحفظ ما أقول لك ، القلوب أوعية خيرها أوعاها الناس ثلاثة فعالم رباني ، ومتعلم علي سبيل نجاة ، وهمج رعاع ..

اللهم بلي لن نخلو الأرض من قائم لله بحججه لكي لا تبطل حجج الله وبيناته.

عبد الرحمن ابن جندب نے كميل ابن زياد سے ایک حصے کو نقل کیا ہے کہ علی ابن ابی طالب نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ایک طرف لے گئے اور ایک گہری آہ بھر کر مجھ سے فرمایا: اے کمیل ابن زیاد جو کچھ میں کہتا ہوں اسے یاد کر لو۔ دل ایک ظرف کی مانند ہے، بہترین ظرف وہ ہے کہ جس میں گنجائش زیادہ ہو۔۔۔۔۔۔

پھر فرمایا:

ہاں زمین کبھی بھی خداوند کی حجت سے خالی نہیں رہتی تا کہ دین نشانیاں ختم نہ ہوں جائیں۔

پھر مصنف کہتا ہے:

هذا الحديث من أحسن الأحاديث معني وأشرفها لفظاً.

یہ روایت معنی و الفاظ کے لحاظ سے بہترین اور شریف ترین رویات میں سے ہے۔

الخطيب البغدادي، أبو بكر أحمد بن علي بن ثابت (متوفي 462هـ)، الفقيه و المتفقه، ج1، ص182، تحقيق: أبو عبد الرحمن عادل بن يوسف الغرازي، دار النشر: دار ابن الجوزي - السعودية، الطبعة: الثانية، 1421هـ

اسی روایت کو ان علماء نے بھی ذکر کیا ہے:

إبن أبي الحديد المدائني المعتزلي، ابوحامد عز الدين بن هبة الله بن محمد بن محمد (متوفي655 هـ)، شرح نهج البلاغة، ج18، ص160، تحقيق: محمد عبد الكريم النمري، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولي، 1418هـ - 1998م.

الطرطوشي المالكي ،أبو بكر محمد بن محمد ابن الوليد الفهري (متوفي520هـ) سراج الملوك ، ج1، ص 52، طبق برنامه الجامع الكبير.

ابن عساكر الدمشقي الشافعي، أبي القاسم علي بن الحسن إبن هبة الله بن عبد الله،(متوفي571هـ)، تاريخ مدينة دمشق وذكر فضلها وتسمية من حلها من الأماثل، ج14، ص 18، تحقيق: محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمري، ناشر: دار الفكر - بيروت - 1995.

ابن حمدون، محمد بن الحسن بن محمد بن علي (متوفي 608هـ)، التذكرة الحمدونية، ج1، ص 68، تحقيق: إحسان عباس، بكر عباس، ناشر:دار صادر - بيروت،، الطبعة: الأولي، 1996م.

المزي، ابوالحجاج يوسف بن الزكي عبدالرحمن (متوفي742هـ)، تهذيب الكمال، ج24، ص 221، تحقيق: د. بشار عواد معروف، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: الأولي، 1400هـ - 1980م.

زرعی نے بھی اس روایت کو ذکر کرنے کے بعد اسکی سند کو حسن (معتبر) کہا ہے:

ذكره أبو نعيم في الحلية وغيره قال أبو بكر الخطيب هذا حديث حسن من احسن الاحاديث معني واشرفها لفظا.

۔۔۔۔ یہ روایت معنی و الفاظ کے لحاظ سے بہترین اور شریف ترین رویات میں سے ہے۔

الزرعي ، محمد بن أبي بكر أيوب أبو عبد الله (متوفي751هـ)، مفتاح دار السعادة ومنشور ولاية العلم والإرادة، ج1، ص 123، دار النشر : دار الكتب العلمية - بيروت

ابوبكر زرعی کی كتاب «مفتاح دار السعادة» میں نقل کے مطابق روايت کا یہ حصہ «اللهم بلي لن تخلو الأرض من مجتهد قائم لله بحجج الله» كہ جو امير المؤمنین علی (ع) سے نقل کیا گیا ہے، یہی قول عمر ابن خطاب سے بھی نقل کیا گیا ہے:

وقد تقدم قول عمر رضي الله عنه موت الف عابد اهون من موت عالم بصير بحلال الله وحرامه وقوله اللهم بلي لن تخلو الأرض من مجتهد قائم لله بحجج الله.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زمین ہرگز خداوند کی حجتوں سے خالی نہیں رہتی۔

الزرعي ، محمد بن أبي بكر أيوب أبو عبد الله (متوفي751هـ)، مفتاح دار السعادة ومنشور ولاية العلم والإرادة ، ج1، ص143، دار النشر : دار الكتب العلمية – بيروت

لہذا اہل سنت کے خلیفہ عمر کی نگاہ میں بھی زمین حجت خدا سے خالی نہیں ہوتی اور حیرت کا مقام ہے کہ ابن تیمیہ کیوں اپنے خلیفہ کے بر خلاف انبیاء کے بعد حجت کی نفی کرتا ہے ؟!

نكتہ دوم: علماء نزاع و اختلاف میں بھی حجت خدا ہیں:

کلام علماء کا حجت ہونا، کہ جو آیات و روایات کے مطابق کلام کرتے ہیں، یہ شیعہ اور اہل سنت کے نزدیک یقینی و قطعی ہے۔

مناوی نے كتاب «فيض القدير» میں اس بارے میں لکھا ہے:

طالب العلم أفضل عند الله من المجاهد في سبيل الله لأن المجاهد يقاتل قوما مخصوصين في قطر مخصوص والعالم حجة الله علي المنازع والمعارض في سائر الأقطار وبيده سلاح العلم يقاتل به كل معارض ويدفع به كل محارب وذلك هو الجهاد الأكبر. ...

طالب علم راہ خدا میں جہاد کرنے والے مجاہدین سے افضل ہیں کیونکہ مجاہدین ایک خاص قوم کے مقابلے میں ایک خاص جگہ پر دشمن سے جنگ کرتے ہیں، لیکن عالم کہ جو حجت خدا ہے وہ پوری سلطنت اسلامی میں اختلاف کرنے والے دشمن سے جنگ کرتا ہے اور اسکا اسلحہ علم ہے کہ جس سے وہ دشمن کے ہر حملے کو دور کرتا ہے اور یہ سب سے بڑا جہاد ہے۔

المناوي، محمد عبد الرؤوف بن علي بن زين العابدين (متوفي1031هـ)، فيض القدير شرح الجامع الصغير، ج4، ص348، ناشر: المكتبة التجارية الكبري - مصر، الطبعة: الأولي، 1356هـ

نكتہ سوم: حنابلہ کے نزدیک کوئی زمانہ بھی حجت خدا سے خالی نہیں ہوتا:

بدر الدين زركشی نے كتاب «البحر المحيط في اصول الفقه» میں حنابلہ اور فقہائے اہل سنت کا نظریہ بیان کیا ہے کہ کوئی زمانہ بھی حجت خدا سے خالی نہیں ہوتا اور یہ حجت دینی علماء اور مجتہدین بھی ہوتے ہیں:

وَقَالَتْ الْحَنَابِلَةُ لَا يَجُوزُ خُلُوُّ الْعَصْرِ عن مُجْتَهِدٍ وَبِهِ جَزَمَ الْأُسْتَاذُ أبو إِسْحَاقَ وَالزُّبَيْرِيُّ في الْمُسْكِتِ فقال الْأُسْتَاذُ وَتَحْتَ قَوْلِ الْفُقَهَاءِ لَا يُخْلِي اللَّهُ زَمَانًا من قَائِمٍ بِالْحُجَّةِ أَمْرٌ عَظِيمٌ وَكَأَنَّ اللَّهَ تَعَالَي أَلْهَمَهُمْ ذلك وَمَعْنَاهُ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَي لو خَلَّي زَمَانًا من قَائِمٍ بِحُجَّةٍ زَالَ التَّكْلِيفُ إذْ التَّكْلِيفُ لَا يَثْبُتُ إلَّا بِالْحُجَّةِ الظَّاهِرَةِ وإذا زَالَ التَّكْلِيفُ بَطَلَتْ الشَّرِيعَةُ وقال الزُّبَيْرِيُّ لَنْ تَخْلُوَ الْأَرْضُ من قَائِمٍ لِلَّهِ بِالْحُجَّةِ في كل وَقْتٍ وَدَهْرٍ وَزَمَانٍ وَلَكِنَّ ذلك قَلِيلٌ في كَثِيرٍ.

حنابلہ نے کہا ہے: کوئی زمانہ بھی مجتہد کے وجود سے خالی نہیں ہوتا اور اسی بات پر استاد ابو اسحاق و زبيری کو يقين و اطمینان بھی ہے۔

استاد ابو اسحاق نے کلام فقہاء، خداوند کسی زمانے کو ایسے فرد کہ جو حجت خدا کو قائم کرتا اور خداوند سے الہام لیتا ہے، کے ذیل میں کہا ہے: اس کلام کا یہ معنی ہے کہ خداوند اگر کسی زمانے کو اس حجت کے وجود سے خالی کرے تو لوگ مکلف نہیں رہیں گے کیونکہ شرعی وظیفہ صرف حجت خدا کیوجہ سے ثابت ہوتا ہے اور جب شرعی وظیفہ نہ ہو تو شریعت بھی باطل و ختم ہو جاتی ہے۔

زبيری نے کہا ہے: کبھی بھی زمین ایسی حجت کے وجود سے کہ جو خدا کے لیے قیام کرے، خالی نہیں ہوتی، لیکن ایسی حجتیں بہت کم ہوتی ہیں۔

الزركشي، بدر الدين محمد بن بهادر بن عبد الله (متوفي794هـ)، البحر المحيط في أصول الفقه، ج4، ص 497، تحقيق: ضبط نصوصه وخرج أحاديثه وعلق عليه: د. محمد محمد تامر، دار النشر: دار الكتب العلمية - لبنان/ بيروت، الطبعة : الأولي،1421هـ - 2000م

نكتہ چہارم: علماء دین خدا کو قائم کرتے ہیں، اس لیے حجت خدا ہیں:

اہل سنت کی معتبر کتب میں روایت نقل ہوئی ہے کہ اسلام میں ہمیشہ ایک ایسا گروہ ہوتا ہے کہ جو دین خدا کو قائم و باقی رکھتا ہے۔

 ابن ماجہ نے اس روایت کو ایسے نقل کیا ہے:

حدثنا أبو عَبْد اللَّهِ قال ثنا هِشَامُ بن عَمَّارٍ قال حدثنا يحيي بن حَمْزَةَ قال ثنا أبو عَلْقَمَةَ نَصْرُ بن عَلْقَمَةَ عن عُمَيْرِ بن الْأَسْوَدِ وَكَثِيرِ بن مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ عن أبي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلي الله عليه وسلم قال لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ من أُمَّتِي قَوَّامَةً علي أَمْرِ اللَّهِ لَا يَضُرُّهَا من خَالَفَهَا.

رسول خدا (ص) نے فرمایا ہے: ہمیشہ میری امت میں سے ایک گروہ احکام الہی کے برپا کرنے کے لیے قیام کرے گا، مخالفت کرنے والوں کی مخالفت انکو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔

القزويني، ابوعبدالله محمد بن يزيد (متوفي275هـ)، سنن ابن ماجه، ج1، ص 493، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، ناشر: دار الفكر - بيروت.

بخاری نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں اس روایت کو ذکر کیا ہے:

حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بن مُوسَي عن إِسْمَاعِيلَ عن قَيْسٍ عن الْمُغِيرَةِ بن شُعْبَةَ عن النبي صلي الله عليه وسلم قال لَا تزال طَائِفَةٌ من أُمَّتِي ظَاهِرِينَ حتي يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ ظَاهِرُونَ.

البخاري الجعفي، ابو عبد الله محمد بن إسماعيل (متوفي256هـ)، صحيح البخاري، ج6، ص2667، تحقيق: د. مصطفي ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987.

علمائے اہل سنت نے اس گروہ کا مصداق اہل حدیث اور علمائے دین کو قرار دیا ہے:

مناوی نے بخاری کے اس روایت کو ذکر کرنے کی وجہ سے اس گروہ کا مصداق دینی علماء کو بیان کیا ہے:

لا تزال طائفة من أمتي قال البخاري في الصحيح وهم أهل العلم قوامة علي أمر الله أي علي الدين الحق لتأمن بهم القرون وتتجلي بهم ظلم البدع والفتون لا يضرها من خالفها لئلا تخلو الأرض من قائم لله بالحجة.

بخاری نے کتاب صحيح میں اس روايت کو ذکر کیا ہے اور ان سے مراد اہل علم ہیں، «قوامة علي امر الله» کا معنی یہ ہے کہ وہ دین خدا کو برپا کرتے ہیں تا کہ لوگ سالہا سال محفوظ رہیں اور اہل بدعت کا ظلم اور فتنے ظاہر ہو جائیں اور انکی مخالفت انکو کوئی ضرر نہیں دیتی، وہ یہ کام انجام دیتے ہیں تا کہ زمین خداوند کی حجت سے خالی نہ رہے۔

المناوي، محمد عبد الرؤوف بن علي بن زين العابدين (متوفي1031هـ)، فيض القدير شرح الجامع الصغير، ج6، ص 396، ناشر: المكتبة التجارية - مصر، الطبعة: الأولي، 1356هـ.

ملا علی قاری نے بھی کہا ہے:

نعم ، هذه الأحاديث شاملة للعلماء أيضاً حتي قيل : المراد بهم علماء الحديث والله أعلم۔

یہ روایات علماء کو بھی شامل ہوتی ہیں، حتی کہا گیا ہے کہ ان سے مراد علمائے حدیث ہیں، اللہ بہتر جاننے والا ہے۔

ملا علي القاري، نور الدين أبو الحسن علي بن سلطان محمد الهروي (متوفي1014هـ)، مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، ج7، ص 335، تحقيق: جمال عيتاني، ناشر: دار الكتب العلمية - لبنان/ بيروت، الطبعة: الأولي، 1422هـ - 2001م .

مناوی نے كتاب «التيسير بشرح الجامع الصغير» میں روایت کی شرح کے بعد اس روایت کی سند کو صحیح (معتبر) کہا ہے:

لا تزال طائفة من أمتي قوامة علي أمر الله) لتنجلي به ظلم أهل البدع (لا يضرها من خالفها) لئلا تخلوا الأرض من قائم لله بالحجة (ه عن أبي هريرة ) واسناده صحيح.

المناوي، محمد عبد الرؤوف بن علي بن زين العابدين (متوفي 1031هـ)، التيسير بشرح الجامع الصغير، ج2، ص492، ناشر: مكتبة الإمام الشافعي - الرياض، الطبعة: الثالثة، 1408هـ ـ 1988م.

شيخ محمد ابن درويش شافعی نے كتاب «أسني المطالب في أحاديث مختلفة المراتب» میں بھی ابن ماجہ کی روایت کے موثق ہونے پر تصریح کی ہے:

خبر : لا تزال طائفة من أمتي قوامة علي أمر الله لا يضرها من خالفها. رواه ابن ماجة ورجاله موثقون.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس روایت کو ابن ماجہ نے بھی نقل کیا ہے اور اسکے تمام راوی ثقہ ہیں۔

البيروتي الشافعي، الإمام الشيخ محمد بن درويش بن محمد الحوت (متوفي1277هـ)، أسني المطالب في أحاديث مختلفة المراتب، ج1، ص 317، تحقيق: مصطفي عبد القادر عطا، دار النشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي 1418 هـ -1997م

نكتہ پنجم: علماء زمین پر خداوند کے لگائے ہوئے پودے ہیں:

ایک دوسری روایت میں آیا ہے کہ خدا ہمشیہ اس دین میں درخت لگاتا ہے کہ جو خدا کی اطاعت کی راہ میں استعمال ہوتے ہیں، البتہ ان درختوں سے مراد وہ افراد ہیں کہ جنکی زندگی دین کی تبلیغ کرنے کی راہ میں گزرتی ہے۔

ابن ماجہ نے اس روایت کو اس عبارت کے ساتھ نقل کیا ہے:

حدثنا أبو عَبْد اللَّهِ قال ثنا هِشَامُ بن عَمَّارٍ ثنا الْجَرَّاحُ بن مَلِيحٍ ثنا بَكْرُ بن زُرْعَةَ قال سمعت أَبَا عِنَبَةَ الْخَوْلَانِيَّ وكان قد صلي الْقِبْلَتَيْنِ مع رسول اللَّهِ صلي الله عليه وسلم قال سمعت رَسُولَ اللَّهِ صلي الله عليه وسلم يقول لَا يَزَالُ الله يَغْرِسُ في هذا الدِّينِ غَرْسًا يَسْتَعْمِلُهُمْ في طَاعَتِهِ.

بكر ابن زرعہ کہتا ہے ابو عنبہ خولانی کہ جس نے رسول خدا کے ساتھ دو قبلہ کی طرف نماز پڑھی ہے، روایت نقل ہوئی ہے کہ رسول خدا نے فرمایا: خداوند ہمیشہ اس دین میں درخت لگاتا ہے کہ جو راہ خدا میں استعمال ہوتے ہیں۔

القزويني، ابوعبدالله محمد بن يزيد (متوفي275هـ)، سنن ابن ماجه، ج1، ص5، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، ناشر: دار الفكر - بيروت.

اہل سنت کے علماء نے ان درختوں اور «غرس الهي» کے مصداق کو حدیث کے راویوں اور علماء کو قرار دیا ہے:

وقال ابن مفلح في الآداب الشرعية نقل نعيم بن طريف عن الإمام أحمد أنه قال في حديث لا يزال الله يغرس إلي آخره هم أصحاب الحديث ونص أحمد علي أن لله أبدالا في الأرض.

ابن مفلح نے كتاب آداب الشريعہ میں کہا ہے: نعيم ابن طريف نے امام احمد سے نقل کیا ہے کہ اس نے روايت «لا يزال الله يغرس... کے بارے میں کہا ہے اس سے مراد اصحاب حدیث ہیں اور احمد نے تصریح کی ہے کہ زمین پر خداوند کے لیے ابدال موجود ہیں۔

الدمشقي، عبد القادر بن بدران (متوفي1346هـ)، المدخل إلي مذهب الإمام أحمد بن حنبل ، ج1، ص493، تحقيق : د. عبد الله بن عبد المحسن التركي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت ، الطبعة: الثانية ، 1401هـ

ابوبكر زرعی نے بھی كتاب «مفتاح دار السعادة ومنشور ولاية العلم والإرادة» میں «غرس الله» کے مصداق کو اہل علم قرار دیتے ہوئے لکھا ہے:

وفي صحيح أبي حاتم من حديث الخولاني قال قال رسول الله لا يزال الله يغرس في هذا الدين غرسا يستعملهم في طاعته وغرس الله هم اهل العلم والعمل فلو خلت الأرض من عالم خلت من غرس الله ولهذا القول حجج كثيرة لها موضع آخر .

ابی حاتم سے صحیح روايت خولانی میں نقل ہوا ہے کہ ان درختوں سے مراد کہ جنکو خداوند نے لگایا ہے، اہل علم و عمل افراد ہیں، پس اگر زمین عالم کے وجود سے خالی ہو جائے تو زمین خداوند کے لگائے ہوئے درختوں سے خالی ہو جائے گی اور اس بات کے لیے بہت سے دلائل ہیں کہ جنکو ذکر کرنے کی جگہ یہاں نہیں ہے۔

الزرعي، محمد بن أبي بكر أيوب أبو عبد الله (متوفي751هـ)، مفتاح دار السعادة ومنشور ولاية العلم والإرادة، ج1، ص 144، دار النشر: دار الكتب العلمية – بيروت

روایت مذکور کی سند اہل سنت کے علماء کی نظر میں بھی صحیح (معتبر) ہے۔

احمد كنانی نے كتاب «مصباح الزجاجه» میں روايت کو نقل کرنے کے بعد روایت کے موثق ہونے پر تصریح کی ہے:

حدثنا هشام بن عمار حدثنا الجراح بن مليح حدثنا بكر بن زرعة قال سمعت أبا عنبة الخولاني وكان قد صلي القبلتين مع رسول الله صلي الله عليه وسلم قال سمعت رسول الله صلي الله عليه وسلم يقول لا يزال الله يغرس في هذا الدين غرسا يستعملهم في طاعته،

هذا إسناد صحيح رجاله كلهم ثقات۔

الكناني، أحمد بن أبي بكر بن إسماعيل (متوفي840هـ)، مصباح الزجاجة في زوائد ابن ماجه، ج1، ص 5، تحقيق: محمد المنتقي الكشناوي، دار النشر: دار العربية - بيروت، الطبعة: الثانية 1403

شمس الدين ذہبی نے كتاب «معجم محدثي الذهبي» میں روایت کی سند کے بارے میں لکھا ہے:

لا يزال الله يغرس في هذا الدين غرسا يستعملهم في طاعته،

اسناده صالح.

الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان (متوفي748هـ)، معجم الذهبي، ج1، ص96، تحقيق: د روحية عبد الرحمن السويفي، دار النشر: دار الكتب العلمية - بيروت - لبنان، الطبعة: الأولي 1413هـ - 1993م

11. حکماء، بادشاہ اور وزراء زمین پر حجت خداوند ہیں:

یہاں تک صحابہ، علماء اور اہل زہد کے بارے میں ذکر تھا کہ بزرگان اہل سنت نے انکو «حجت الله» قرار دیا تھا، لیکن اب سے بھی بالا تر حکماء، بادشاہ اور وزراء بھی زمین پر حجت خدا شمار ہوتے ہیں:

فخر رازی نے كتاب «تفسير كبير» میں آيت «وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَي بِآيَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُّبِينٍ» کے ذیل میں کہا ہے:

سلطان وہی حجت خدا ہے اور پھر لکھتا ہے کہ:

واختلفوا في أن الحجة لم سميت بالسلطان. فقال بعض المحققين: لأن صاحب الحجة يقهر من لا حجة معه عند النظر كما يقهر السلطان غيره ، فلهذا توصف الحجة بأنها سلطان، وقال الزجاج: السلطان هو الحجة والسلطان سمي سلطاناً لأنه حجة الله في أرضه.

سلطان کو حجت خدا کہنے کے بارے میں اختلاف ہے، بعض محققین نے کہا ہے: اس لحاظ سے کہ صاحب حجت مغلوب کرتا ہے اسکو کہ جسکے پاس کوئی حجت نہ ہو، جیسے بادشاہ اور حاکم اپنے غیر کو مقہور و مغلوب کرتا ہے، اسی وجہ سے سلطان کو حجت کہا گیا ہے۔

زجاج کہتا ہے: سلطان حجت ہے اور سلطان کو اس لیے سلطان کہتے ہیں کہ وہ زمین پر حجت خدا ہے۔

الرازي الشافعي، فخر الدين محمد بن عمر التميمي (متوفي604هـ)، التفسير الكبير أو مفاتيح الغيب، ج18، ص43، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1421هـ - 2000م

مفسر اہل سنت ابو جعفر نحاس نے مذکورہ بالا آیت کے ذیل میں کہا ہے:

السلطان الحجة ومن هذا قيل للوالي سلطان لأنه حجة الله جل وعز في الأرض.

سلطان حجت است، اسی وجہ سے والی کو سلطان کہا جاتا ہے کیونکہ والی زمین پر حجت خدا ہے۔

النحاس المرادي المصري، أبو جعفر أحمد بن محمد بن إسماعيل (متوفي338هـ)، معاني القرآن الكريم ، ج3، ص 378، تحقيق: محمد علي الصابوني، ناشر: جامعة أم القري - مكة المرمة، الطبعة: الأولي ، 1409هـ.

ماوردی نے بھی تفسير «النكت والعيون» میں لکھا ہے:

وفي معني السلطان وجهان : أحدهما : الحجة , ومنه سمي الوالي سلطاناً لأنه حجة الله تعالي في الأرض .

سلطان حجت است، اسی وجہ سے والی کو سلطان کہا جاتا ہے کیونکہ والی زمین پر حجت خدا ہے۔

الماوردي البصري الشافعي، علي بن محمد بن حبيب (متوفي450هـ)، النكت والعيون، ج3، ص213، تحقيق: السيد ابن عبد المقصود بن عبد الرحيم، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت / لبنان.

ابن جوزی نے بھی اپنی تفسير میں لکھا ہے:

والسلطان الحجة الظاهرة وإنما قيل للأمير سلطان لأنه حجة الله في أرضه.

سلطان ظاہری حجت است، اسی وجہ سے حاکم کو سلطان کہا جاتا ہے کیونکہ وہ زمین پر حجت خدا ہے۔

ابن الجوزي الحنبلي، جمال الدين ابوالفرج عبد الرحمن بن علي بن محمد (متوفي 597 هـ)، زاد المسير في علم التفسير، ج2، ص233، ناشر: المكتب الإسلامي - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1404هـ.

جواب ہفتم: «ابدال» اگر زمين پر نہ ہوں تو زمین نابود ہو جاتی ہے:

اہل سنت کی صحیح و معتبر روایات میں آیا ہے کہ ہمشہ خداوند کے نیک بندے یعنی ابدال زمین پر موجود ہوتے ہیں اور اگر وہ نہ ہوں تو زمین نابود ہو جاتی ہے اور زمین کی مخلوقات کی ہلاکت یقینی ہو جاتی ہے۔

ان روايات کو جلال الدين سيوطی نے كتاب «الحاوي للفتاوي في الفقه » اور تفسير «الدر المنثور» ذکر کیا ہے اور انکی سند کو صحیح قرار دیتے ہوئے ایسے نقل کیا ہے:

وأخرج الإمام أحمد بن حنبل في الزهد، والخلال في كرامات الأولياء بسند صحيح علي شرط الشيخين عن ابن عباس قال : ما خلت الأرض من بعد نوح من سبعة يدفع الله بهم عن أهل الأرض ...

وأخرج الأزرقي في تاريخ مكة عن زهير بن محمد قال : لم يزل علي وجه الأرض سبعة مسلمون فصاعداً لولا ذلك لأهلكت الأرض ومن عليها .

وأخرج الجندي في فضائل مكة عن مجاهد قال : لم يزل علي الأرض سبعة مسلمون فصاعداً لولا ذلك هلكت الأرض ومن عليها .

وأخرج الخلال في كرامات الأولياء عن زاذان قال : ما خلت الأرض بعد نوح من اثني عشر فصاعداً يدفع الله بهم عن أهل الأرض .

احمد ابن حنبل نے كتاب الزهد اور خلال نے كتاب كرامات الاولياء میں سند صحيح کے ساتھ ابن عباس سے روايت کی ہے کہ طوفان حضرت نوح کے بعد زمین 7 ایسے افراد کے وجود سے خالی نہیں رہی کہ جنکے وجود کی برکت سے خدا اہل زمین سے بلا کو دفع دور کرتا ہے،

ازرقی نے کتاب تاريخ مكہ میں زہير ابن محمد سے نقل کیا ہے کہ زمین پر 7 مسلمان افراد رہتے ہیں کہ اگر وہ نہ ہوں تو زمین اور اس پر تمام موجودات نابود ہو جائیں گی

اور جندی نے كتاب فضائل مكہ میں مجاہد سے روايت کی ہے کہ

زمین پر 7 یا اس سے زیادہ مسلمان افراد رہتے ہیں کہ اگر وہ نہ ہوتے تو زمین اور اس پر تمام موجودات نابود ہو جاتیں۔

خلال نے کتاب كرامات الاولياء میں زاذان سے نقل کیا ہے کہ حضرت نوح کے بعد زمین 12 افراد کے وجود سے خالی نہیں رہی کہ خداوند انکے سبب سے زمین سے بلا و مصیبت کو دفع دور کرتا ہے۔

السيوطي، جلال الدين أبو الفضل عبد الرحمن بن أبي بكر (متوفي911هـ)، الحاوي للفتاوي في الفقه وعلوم التفسير والحديث والاصول والنحو والاعراب وسائر الفنون، ج2، ص 201 ، تحقيق: عبد اللطيف حسن عبد الرحمن، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1421هـ - 2000م.

السيوطي، جلال الدين أبو الفضل عبد الرحمن بن أبي بكر (متوفي911هـ)، الدر المنثور، ج1، ص 766، ناشر: دار الفكر - بيروت - 1993.

صالحی شامی نے رسول خدا کے اجداد گرامی کے مسلمان و موحد ہونے کو ثابت کرنے کے لیے دلائل کو ذکر کیا ہے کہ ایک دلیل یہ ہے:

الثانية : أنه قد ثبت أن الأرض لم تخل من سبعة مسلمين فصاعدا يدفع الله تعالي بهم عن أهل الأرض . فروي عبد الرزاق في المصنف وابن المنذر في التفسير بسند صحيح علي شرط الشيخين عن علي بن أبي طالب رضي الله تعالي عنه قال : لم يزل علي وجه الدهر في الأرض سبعة مسلمون فصاعدا فلولا ذلك هلكت الأرض ومن عليها . وروي الإمام أحمد في الزهد والخلال في كرامات الأولياء بسند صحيح علي شرطهما ، عن ابن عباس رضي الله تعالي عنهما قال :

ما خلت الأرض من بعد نوح من سبعة يدفع الله تعالي بهم عن أهل الأرض .

حضرت نوح کے بعد زمین 7 ایسے افراد کے وجود سے خالی نہیں رہی کہ جنکے وجود کی برکت سے خدا اہل زمین سے بلا کو دفع دور کرتا ہے۔

الصالحي الشامي، محمد بن يوسف (متوفاي942هـ)، سبل الهدي والرشاد في سيرة خير العباد، ج1، ص 256، تحقيق: عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1414هـ.

سيوطی اور صالحی شامی نے ان روایات میں ان افراد کی تعداد

 7 و 12 ذکر کی ہے،

لیکن سيوطی نے ایک دوسری روايت میں انکی تعداد 40 افراد ذکر کی ہے:

وأخرج الطبراني في الأوسط بسند حسن عن أنس قال : قال رسول الله صلي الله عليه وسلم لن تخلو الأرض من أربعين رجلا مثل خليل الرحمن فبهم تسقون وبهم تنصرون ما مات منهم أحد إلا أبدل الله مكانه آخر.

انس نے رسول خدا سے نقل کیا ہے کہ زمین ہرگز 40 افراد جیسے ابراہيم خليل الرحمن کے وجود سے خالی نہیں ہے، پس انکی وجہ سے لوگ بارش سے فائدہ لیتے ہیں اور انہی کی وجہ سے انکی مدد ہوتی ہے، ان میں سے کوئی بھی نہیں مرتا مگر یہ کہ خداوند اسکی جگہ پر کسی دوسرے کو لاتا ہے۔

الدر المنثور، ج 1، ص 765

ہيثمی اور مناوی نے بھی اس روايت کو ذکر کیا ہے اور اسکے معتبر ہونے پر تصریح بھی کی ہے:

وعن أنس قال قال رسول الله صلي الله عليه وسلم لن تخلوا الأرض من أربعين رجلا مثل خليل الرحمن فبهم تسقون وبهم تنصرون ...

رواه الطبراني في الأوسط و إسناده حسن.

الهيثمي، ابوالحسن علي بن أبي بكر (متوفي807 هـ)، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، ج10، ص63، ناشر: دار الريان للتراث/ دار الكتاب العربي - القاهرة، بيروت - 1407هـ.

لن تخلوا الأرض من أربعين رجلا مثل خليل الرحمن .. 

واسناده حسن.

المناوي، محمد عبد الرؤوف بن علي بن زين العابدين (متوفي 1031هـ)، التيسير بشرح الجامع الصغير، ج2، ص 302، ناشر: مكتبة الإمام الشافعي - الرياض، الطبعة: الثالثة، 1408هـ ـ 1988م.

ابن عساكر دمشقی نے اسی روایت کو دوسرے الفاظ کے ساتھ ذکر کیا ہے:

أخبرنا أبو القاسم علي بن إبراهيم بن العباس الحسيني أنا أبو الحسن رشأ بن نظيف بن ما شاء الله المقرئ أنا الحسن بن إسماعيل بن محمد نا أحمد بن مروان المالكي نا الحسن بن عبد المجيب نا عمران بن محمد أبو حفص الخيزراني نا عبد الوهاب بن عطاء نا سعيد بن أبي عروبة عن قتادة قال لن تخلو الأرض من أربعين بهم يغاث الناس وبهم تنصرون وبهم ترزقون كلما مات منهم أحد أبدل مكانه رجلا.

زمین ہرگز ان کے وجود سے خالی نہیں ہوتی، انہی کی وجہ سے انکی مدد ہوتی ہے، اور انہی کی وجہ سے انکو رزق ملتا ہے، ان میں سے کوئی بھی نہیں مرتا مگر یہ کہ خداوند اسکی جگہ پر کسی دوسرے کو لاتا ہے۔

ابن عساكر الدمشقي الشافعي، أبي القاسم علي بن الحسن إبن هبة الله بن عبد الله،(متوفي571هـ)، تاريخ مدينة دمشق وذكر فضلها وتسمية من حلها من الأماثل، ج1، ص 298، تحقيق: محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمري، ناشر: دار الفكر - بيروت - 1995.

محمد ابن علی شوكانی نے بھی ان روایات کو صحیح قرار دیا ہے:

وقد ورد ذكره الأبدال من حديث علي رضي الله عنه وسنده حسن 

ومن حديث عبادة بن الصامت وسنده حسن

ومن حديث ….وعن ابن عباس موقوفا أخرجه أحمد في الزهد قال الفتني في موضوعاته قلت هو صحيح وإن شئت قلت هو متواتر.

الشوكاني، محمد بن علي بن محمد (متوفي1255هـ)، الفوائد المجموعة في الأحاديث الموضوعة ، ج 1، ص 249، تحقيق : عبد الرحمن يحيي المعلمي ، ناشر : المكتب الإسلامي - بيروت، الطبعة : الثالثة، - 1407هـ .

جلال الدين سيوطی نے لکھا ہے:

وأخرج الإمام أحمد بن حنبل في الزهد ، والخلال في كرامات الأولياء بسند صحيح علي شرط الشيخين عن ابن عباس قال : ما خلت الأرض من بعد نوح من سبعة يدفع الله بهم عن أهل الأرض هذا أيضاً له حكم الرفع وأخرج الأزرقي في تاريخ مكة عن زهير بن محمد قال : لم يزل علي وجه الأرض سبعة مسلمون فصاعداً لولا ذلك لأهلكت الأرض ومن عليها . وأخرج الجندي في فضائل مكة عن مجاهد قال : لم يزل علي الأرض سبعة مسلمون فصاعداً لولا ذلك هلكت الأرض ومن عليها،

اور مزید لکھا ہے:

قال عبد الرزاق في المصنف عن معمر عن ابن جريج قال : قال ابن المسيب : قال علي بن أبي طالب : لم يزل علي وجه الدهر في الأرض سبعة مسلمون فصاعداً فلولا ذلك هلكت الأرض ومن عليها هذا إسناد صحيح علي شرط الشيخين ومثله لا يقال من قبل الرأي فله حكم الرفع ، وقد أخرجه ابن المنذر في تفسيره عن الدبري عن عبد الرزاق .

السيوطي، جلال الدين أبو الفضل عبد الرحمن بن أبي بكر (متوفي911هـ)، الحاوي للفتاوي في الفقه وعلوم التفسير والحديث والاصول والنحو والاعراب وسائر الفنون، ج2ص 201، تحقيق: عبد اللطيف حسن عبد الرحمن، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1421هـ - 2000م.

ان روایات میں قابل توجہ نکات:

نكتہ اول: ايسے بندگان فيض الہی کا واسطہ ہیں:

اس روایت میں عبارت «فبهم تسقون وبهم تنصرون» و «بهم ترزقون» کے معانی بہت اعلی ہیں اور وہ یہ کہ ایسے افراد قیامت تک زمین پر زندہ رہیں گے کہ جو خداوند سے فیض لینے کا واسطہ و ذریعہ ہیں۔

نكتہ دوم: ایسے افراد سے توسل کیا جاتا ہے:

ان نیک افراد کے ذریعے سے لوگوں کی مشکلات حل ہوتی ہیں:

«بهم يغاث الناس».

نكتہ سوم: ایسے افراد کی بقاء میں زمین کی بقاء ہے:

ان روایات میں ذکر ہوا ہے کہ زمین اور موجودات کی بقاء، ان افراد کی بقاء سے وابستہ ہے کہ اگر ایک لحظہ یہ افراد زمین پر موجود نہ ہوں تو زمین اپنے اہل کے ساتھ نابود ہو جائے گی: «لأهلكت الأرض ومن عليها».

اسی وجہ سے ان روایات میں آیا ہے کہ جب بھی ان افراد میں سے کوئی مرتا ہے تو خداوند اسکی جگہ پر دوسرے کو لے آتا ہے اور یہ بالکل وہی مطلب ہے کہ جو شیعہ روایات میں 12 آئمہ کے بارے میں ذکر کیا جاتا ہے۔

نتیجہ کلی:

اولا:

سورہ نساء کی مورد بحث آیت کا یہ معنی ہے کہ خداوند نے انبیاء کو بھیجا ہے تا کہ لوگ نہ کہیں کہ خدایا آپ نے ہمارے حجت کو قرار نہیں دیا، نہ یہ کہ انبیاء کے بعد کوئی حجت نہیں آئے گی۔

ثانيا:

جو دعوا کرتے ہیں کہ انبیاء کے بعد کوئی حجت نہیں ہے، خود انھوں نے قرآن ، اجماع ، عقل اور قياس کو حجت قرار دیا ہے، يعنی جہاں اجماع ہو، یا عقل کوئی حکم کرے یا قیاس موجود ہو یا قرآن کی کوئی آیت ہو، وہاں پر حجت خدا تمام ہو جاتی ہے اور لوگوں کو اس حجت کی مخالفت کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

ثالثا:

اگر وہ کہیں کہ یہ قرآن ، إجماع ، عقل اور قياس وغیرہ .... کو رسول خدا نے لایا ہے اور انکو حجت قرار دیا ہے تو ہم کہیں گے: امام کو بھی رسول خدا نے حجت قرار دیا ہے اور نقل کردہ روایات کے مطابق رےول خدا نے فرمایا ہے: میں اور علی (ع) حجت خداوند ہیں۔

رابعا:

اہل سنت کے بہت سے علماء نے اپنے بزرگان کو «حجت الله» قرار دیا ہے، اب سوال یہ ہے کہ کیا ان بزرگان کو معلوم نہیں تھا کہ انبیاء کے بعد کوئی حجت نہیں ہو گی، جیسا کہ ابن تیمیہ ناصبی اور اسکے پیروکاروں کا خیال ہے۔ ان ناصبیوں نے آیت کا غلط معنی کیا ہے اور مکمل بے شرمی اور بے حیائی کے ساتھ اس غلط معنی کا دفاع بھی کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی مجبور کرتے ہیں کہ ہمارے غلط معنی کو قبول کریں !

خامسا:

اگر اہل سنت کے یہ علماء عمر و ابوبکر وغیرہ کو حجت خدا کہتے ہیں تو پھر امیر المؤمنین علی (ع) اور آئمہ اہل بیت (ع) تو ہر لحاظ سے ان دونوں سے بالا تر و کامل تر ہیں تو پھر یہ معصوم ہستیاں بطریق اولی «حجة الله البالغۃ»ہوں گی۔

التماس دعا۔۔۔۔۔

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ: