2019 August 19
ہمارے بارے میں
زندگينامه دکتر حسيني قزويني

استاد ڈاکٹر سيد محمد حسينى قزوينى ولد سید سلیمان سن 1953 میں شہر قزوین میں پیدا ہوئے۔ کالج کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد سن 1967 میں پہلے شہر قزوین کے ایک دینی مدرسے ابراہیمیہ میں اور پھر اسکے بعد مدرسہ سرداران میں داخل ہوئے۔ دو سال اس دینی مدرسے میں ابتدائی دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد سن 1969 میں اعلی دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے بین الاقوامی شہرت یافتہ شیعہ علمی مرکز حوزہ علمیہ قم میں آ گئے۔ اس علمی مرکز میں سن 1978 میں تمام ابتدائی دروس مکمل کرنے کے بعد درس خارج کے مرحلے تک پہنچ گئے۔

آپ نے درس خارج کو مندرجہ ذیل فقہاء :

 حضرت آيت الله العظمی گلپايگانى  
 
حضرت آيت الله العظمی اراكى 
 
حضرت آيت الله العظمی وحيد خراسانى 
 
حضرت آيت الله العظمی شبيرى زنجانى 
 
حضرت آيت الله العظمی سبحانى 
کی خدمت میں پڑھا اور سن 1990 میں خود بھی اجتہاد کے بلند و رفیع مرتبے پر فائز ہو گئے۔

. (تصویر مربوطه) 

مركز مديريت حوزه علميہ قم کی طرف سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

 (تصویر مربوطه)
اور اسی طرح علوم حدیث میں ہالنیڈ کی اسلامی یونیورسٹی الحرّہ سے بھی ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

. (تصویر مربوطه) (سایت دانشگاه الحرة هلند)
اسی طرح جامعة الحضارة الإسلامية المفتوحۃسے پروفیسر کی ڈگری لینے میں کامیاب ہوئے۔

. (تصویر مربوطه)

سن 2011 میں حوزہ علمیہ کے کامیاب ترین استاد کی حیثیت سے آپکا انتخاب:

 (تصویر مربوطه)

سن 2014 میں شہر قزوین کی باقی رہنے والی شخصیت کے عنوان سے آپکا انتخاب:

 (تصویر مربوطه)

 امام رضا (ع) کے علمی و دینی سیمینار سے اعلی شخصیت  کے عنوان سے آپکا انتخاب:(تصویر مربوطه)

حوزہ علمیہ قم میں کرسی استاد پر جلوہ افروز ہو کر تدریس کے مقدس فریضے کو انجام دینا: 
 
تدريس حاشیہ ملا عبدالله، معالم الاصول و لمعتین
 
تدريس دروس سطح عالي حوزه شامل 5 دوره كفايۃ الاصول و ایک دوره رسائل اور مكاسب
 
تدريس 20 سال رجال و درايہ 
 
تدريس درس خارج فقہ (فقہ مقارن) کہ جو سال2009 سے اب تک حوزہ علمیہ میں جاری ہے۔

اس کے علاوہ بین الاقوامی مرکز علوم اسلامی، مجمع جہانی اہل البيت (ع) مركز تخصصي قضاء اور مركز تخصصي مذاہب مركز تخصی كلام میں شیعہ شناسی کے کئی دورے تدریس کرنے کی بھی سعادت حاصل فرمائی ہے۔ اسکے علاوہ ایران کی مختلف یونیورسٹیوں میں بھی تدریس کے فرائض انجام دئیے ہیں۔
شعیہ مذہب پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات، مناظرے اور علماء سے ملاقاتیں:

وہابیوں کی طرف سے ہونے جدید ترین شبہات اور اعتراضات کے جواب سال 2002 سے لے کر آج تک شہر قم کے مدرسہ فیضیہ میں،

اسی طرح وہابیوں کی طرف سے ہونے والے شبہات اور اعتراضات ہر جمعرات والے دن دانشگاہ فردوسی اور حوزہ علمیہ مشہد میں،

ایران کے مختلف سنی شہروں میں جیسے: بوشہر، سیستان و بلوچستان، خوزستان، خراسان جنوبی و رضوی، تہران و .... میں اساتذہ اور علماء کے لیے امامت اور ولایت کے موضوع پر شہبات کے جواب دینے کے لیے علمی محافل برپا کرنا۔
علماء اہل سنت، سعودی عرب کی یونیورسٹیوں کے اساتذہ جیسے: شيخ محمد بن جميل بن زينو از مفتيان و علمائے بزرگ مكہ مکرمہ ، ڈاکٹر حمدان از اساتيد بزرگ دانشگاه ام‏القرى ، شيخ عبد العزيز بن عبد اللّه آل شيخ مفتى اعظم سعودى عرب  کے ساتھ تقریبا 200 علمی مباحثے و مناظرے کرنا۔

علماء اہل سنت کے ساتھ سلام ٹی وی میں حوزہ علمیہ زاہدان کے علماء ملا زادہ اور مولوی عبد المجید مراد زہی کے ساتھ مناظرہ۔

علماء بزرگ وہابی کے ساتھ حضرت زہرا (س) کی شہادت کے موضوع پر المستقلہ ٹی وی پر مناظرہ کرنا،
سٹلائیٹ، ٹی وی اور ریڈیو پر پروگرام کرنا:

حضرت استاد نے ایران کے بہت سے ٹی وی چینلز پر جیسے: چینل ایک ، دو ، تین ، چار ، تہران کا چینل، بین الاقوامی چینل جام جم ، قم سے نشر ہونے والے ریڈیو معارف وغیرہ پر شبہات کے بارے میں بہت سے پروگرام بھی کیے ہیں  

بین الاقوامی ولایت ٹی وی پر پوری دنیا سے بہت سے پروگرام دیکھنے والوں کے آئن لائن سوالات کے جوابات دینا کہ جو سال 2002 سے لے کر آج تک جاری ہے۔
تأليفات:

ابھی تک حضرت استاد کی 62 سے زیادہ تالیفات زیور طبع سے آراستہ ہو کر علم و معارف کے پیاسوں کے ہاتھوں تک پہنچ چکی ہیں اور مزید بھی کتب طبع ہونے کے نزدیک ہیں۔ انشاء اللہ.....
ابھی تک زیور طبع سے آراستہ ہونے والی تالیفات کی لسٹ:


موسوعة الإمام الجواد (ع) 2 جلد (كتاب برگزيده سال حوزه علميه قم)
موسوعة الإمام الہادي (ع) 4 جلد
موسوعة الإمام العسكري (ع) 6 جلد 
موسوعة‌الإمام الرضا (ع) 8 جلد
نقد كتاب أصول مذہب الشيعة دكتر قفاري 3 جلد
تحقيق الفضائل شاذان بن جبرئيل 1 جلد
قصة الحوار الہادی 3 جلد، رسالہ پرفسوری دانشگاه بین المللی تمدن (لندن) جامعة الحضارة العالمیة المفتوحة 
المدخل إلي علم الرجال والدراية 1 جلد 
حديث الغدير وشبهہ شكوي جيش اليمن(توسط سازمان حج چاپ شده) 1 جلد 
دراسات في أسانيد الكتب الروائية (بررسي تصيحفات و اشكالات سندی كتب اربعہ) 2 جلد
در حريم طوس 1 جلد
ويژگيهاي امام حسين (ع) (تحقيق و ترجمہ الخصائص الحسينيہ شيخ جعفر شوشتری) 1 جلد
امام مہدی از ولادت تا ظہور (تحقيق و ترجمہ الامام المہدی (ع) من الولادة الی الظہور سيد كاظم قزويني توسط نشر الہادی چاپ شده) 1 جلد
وہابيت از منظر عقل و شرع (جلد اول) 1 جلد
چہل سؤال پيرامون خلافت و امامت 1 جلد.

  ترجمه نقد كتاب أصول مذہب الشيعة 3 جلد
واقعہ غدير خم دراسة توثيقية ، شبهات وردود 1 جلد رسالہ دکترای، دانشگاه الحرة ہلند)
 
تحقيق الجامع في الرجال 12 جلد
 
حوارت مع قناة المستقلة حول شہادة فاطمة (س) - 1 جلد 
موسوعة الإمام الكاظم (ع) 8 جلد

امامت و ولایت روح دیانت 1 جلد

وہ کتب کہ جو طبع ہونے کے نزدیک ہیں:


پاسخ بہ شبہات غدير- 1 جلد.
پاسخ بہ شبہات شہادت حضرت زہرا (س) فارسی - 2جلد.
پاسخ بہ شبہات شہادت حضرت زہرا (س) عربی - 1جلد .
پاسخ بہ شبہات عزاداری - 1 جلد.
پاسخ بہ شبہات مهدويت - 1 جلد.
رجال علامہ حلي با تحقيق كامل و مفصل - 1 جلد .
وفيات الروات (سال وفات روات شيعہ) - 1 جلد .
ضبط اسماء الروات والقابهم - 1 جلد .
لعن وسب از منظر قرآن و سنت - 1 جلد .
نگاہي گذرا بہ عدالت صحابہ ازمنظر قرآن وسنت و گذر تاريخ - 1 جلد.
موسوعة الامام المہدی (ع) - حدود 10 جلد .
ترجمه قصة الحوار الہادی (داستان گفتگوي آرام) - 6 جلد.
پاسخ بہ شبہات وہابيت در شبكہ جهانی سلام - 4 جلد.
پاسخ بہ شبہات وہابيت در حوزه علميہ مشہد مقدس- 1 جلد.
پاسخ بہ شبہات وہابيت در دانشگاه فردوسی مشہد مقدس- 1 جلد.
دراسات في اسانيد الكتب الروائية (بررسي تصيحفات سندی كتب اربعہ) - 4 جلد.
امام علي عليہ السلام وبيعت با خلفا - 1 جلد.
پاسخ بہ شبہاتي پيرامون نهج البلاغہ - 1 جلد.
الافتراء علي الشيعة فی تحريف القرآن - 1 جلد.
ملاحظات عابرة علی تفسير الأثری - 1 جلد.
سخنی با واعظ زاده خراسانی - 1 جلد

حضرت استاد کا اپنا ذاتی کتابخانہ:

حضرت استاد کو حوزہ علمیہ میں آنے کے بعد کتابیں خریدنے سے ایک خاص محبت تھی اور آپکی یہ نظر تھی کہ علمی اور تحقیقی کام اصل کتاب کے بغیر ممکن نہیں ہے، اسی وجہ سے انکے گھر اپنے ذاتی کتابخانے میں 30 ہزار سے زیادہ شیعہ، سنی اور دوسرے مذاہب اور ادیان کی کتب موجود ہیں۔
حضرت استاد کی مختلف مقامات پر ذمہ داریاں:

 مؤسس ومدير مؤسسہ تحقيقاتی حضرت ولی عصر عليہ السلام سال 1995 سے لیکر اب تک،

 کی سایٹ کی مدیریت، valiasr-aj.com
مسئول دروس عمومى حوزه علميہ قم بہ مدت 14 سال
عضو هيأت امنای بنياد بين المللی غدير
عضو هيئت علمی دانشگاه بين الملی آل البيت (جامعة آل البيت العالمية) و رئيس شعبہ حديث،
 
عضو شورای علمی مركز تخصصی مذاہب اسلامي
بيش از 150 مورد استاد راهنما و مشاور و استاد داور در رسالہ ہای علمي سطح كارشناسی ارشد و دكترا
 
عضو شورای علمی مرکز تخصصی مذاہب اسلامی
 
مدیر مسئول شبکہ جهانی ولایت