2019 October 16
ہمارے بارے میں
علم رجال

الف) راوى کی شخصیت: ( ھويۃ الراوى )

اس حصے میں شیعہ کی معروف و مشہور کتب اربعہ، کتاب وسائل الشیعہ اور کتاب مستدرک الوسائل کی روایات کی سند میں ذکر ہونے ہر ایک راوی کے بارے میں مندرجہ ذیل تحقیقات کی گئی ہیں:

الف: راوى کی شخصیت کہ اس میں راوی کے نام، کنیت، لقب، نسبت، جائے زندگی، ولادت، وفات، طبقہ اور مذہب کے بارے میں تحقیق کی گئی ہے۔

ب: "مترادفات الراوی" کہ اس میں وہ تمام عناوین موجود ہیں کہ جس کے ساتھ راوی تمام روایات کی سند میں موجود ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ ایک راوی 20 سے زیادہ عنوانات کے ساتھ مختلف روایات کی سند اور علم رجال کی کتب میں ذکر ہوا ہو۔
ج: "مكانة الراوی" کہ اس میں ایک راوی کے معتبر ہونے اور معتبر نہ ہونے کے بارے میں علمائے علم رجال کے اقوال کے خلاصے کے بارے میں بحث ہوتی ہے۔
د: "صحبة الراوى" کہ اس میں بحث کی جاتی ہے کہ ایک راوی نے کس امام معصوم کے زمانے کو درک کیا ہے اور اس سے روایت کو بھی نقل کیا ہے۔
ه : "مصادر الترجمة" کہ اس میں علم رجال اور روایات کی کتب کے ایڈریس اور عناوین شامل ہیں کہ ایک راوی جہاں ذکر ہوا ہے اور اسکے حالات زندگی کے بارے بحث کی گئی ہے۔
ب ) تصحيفات:

اس حصے میں شیعہ کی کتب اربعہ میں موجود تصحیفات کے بارے میں بحث کی جاتی ہے۔
سب سے پہلے تمام مطالب کو کہ بزرگ فقہاء جیسے: صاحب معالم نے منتقى الجمان میں، كاظمى نے کتاب مشتركات، مجلسى اوّل نے کتاب روضة المتقين میں، بروجردى نے کتاب الموسوعة الرجاليّة اور خوئى نے کتاب معجم رجال الحديث میں ذکر کیے ہیں، کو جمع کیا گیا ہے، اور تحقیق کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر کی مدد سے گذشتہ علماء کی نظروں سے پوشیدہ رہنے والے مطالب کو بھی ذکر کیا ہے۔

اور یہ حصہ ایک خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ مطالب فقہاء کے فتاوی میں بھی بہت زیادہ کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے کہ کبھی کبھی تصحیف اور تحریف باعث بنتی ہے کہ ایک فقیہ ایک روایت کو صحیح صحیح قرار دے، حالانکہ در اصل وہ روایت ضعیف ہوتی ہے یا اسکے بر عکس۔
بعنوان مثال: عبد اللہ ابن سنان کرّ پانی کی مقدار والی حدیث "ثلاثۃ أشبار فى ثلاثۃ اشبار" میں ذکر ہوا ہے کہ جس میں تصحیف ہوئی ہے اور در اصل محمد ابن سنان درست ہے کہ عبد اللہ ثقہ ہے اور محمد ضعیف ہے، اس روایت کو شیخ طوسی کے زمانے سے لیکر مقدس اردبیلی کے زمانے تک صحیح کہا جاتا رہا تھا، لیکن صاحب معالم کے کتاب منتقی الجمعان میں اس روایت پر اشکال کی وجہ سے فقہاء کی رائے اس روایت کے بارے میں تبدیل ہو گئی اور اب اس روایت کو ضعیف کہا جاتا ہے۔

اور جیسے حسن ابن محبوب کی روایت کہ جو اس ن ابو حمزہ ثمالی سے نقل کی ہے کہ کتب اربعہ میں تقریبا 38 جگہ پر ذکر ہوئی ہے کہ آیت اللہ بروجردی نے فرمایا ہے کہ: حسن ابن محبوب کی ابو حمزہ سے نقل کی گئی روایت یقینا مرسل ہے، کیونکہ حسن بن محبوب سن 148 ہجری میں دنیا میں آیا تھا اور ابو حمزہ سن 150 ہجری میں دنیا سے چلا گیا تھا اور وہ ابو حمزہ سے بغیر واسطے کے حدیث نہیں نقل کر سکتا۔

حضرت آیت اللہ مؤمن نے جب اس تحقیقی مؤسسے کا دورہ کیا تو فرمایا کہ: اگر یہ علمی تحقیقات حوزہ علمیہ قم میں ظاہر ہو جائیں تو ایک علمی انقلاب برپا ہو جائے گا۔

ج ) ضبط اسماء الرواة :

اس حصے میں راویوں کے ناموں اور القاب کے تلفظ و اعراب، وہ نام کہ جو روایات کی سند یا علم رجال کی کتب میں ذکر ہوئے ہیں، جیسے: درّاج کہ کیا اسکو حرف دال پر زبر یا پیش کے ساتھ پڑہنا ہے ؟ اور جیسے: حریز کہ کیا اسکو حرف حاء پر زبر یا پیش کے ساتھ پڑہنا ہے ؟ اس مہم بات کو جاننے کا فائدہ یہ ہے کہ اس سے وہ راوی کہ جن کے نام مشترک ہیں، انکے بارے میں علم ہو جاتا ہے۔

مثال کے طور پر نام "اسید" کہ جو کتب اربعہ، کتاب وسائل الشیعہ اور مستدرک الوسائل میں ذکر ہوا ہے، کیا اسکو "اَسيد" پڑہیں یا "اُسيد"؟ اسماء کی کتب میں رجوع کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ ابن حجر نے کتاب تبصیر المنتبة میں 33 راویوں کو ذکر کیا ہے کہ خود اسکا نام یا اسکے والد کا نام" اُسيد" پیش کے ساتھ ذکر ہوا ہے، اور ابن ناصر الدین نے کتاب توضیح المشتبہ میں 20 راویوں کے نام کو ذکر کیا ہے کہ خود اس کا نام یا اس کے والد کا نام "اَسيد" زبر کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔

اس حصے میں کوشش کی گئی ہے کہ پہلے شیعہ کی علم رجال کی کتب جیسے:

رجال ابن داود ، ايضاح الاشتباه علامہ حلّى ، توضيح الاشتباه" ساروى " ، نضد الايضاح" علم الهدی" ، تنقيح المقال" مامقانى " اور ضبط الاسماء" طريحى" وغیرہ سے استفادہ کیا جائے اور بعض موارد میں اہل سنت کی علم رجال کی بعض کتب جیسے:

"توضيح المشتبہ" ابن ‏ناصرالدين ، "الانساب""سمعانى" المؤتلف ، المختلف" دار قطنى" ، الاكمال" ابن ماكولا اور "تكملۃالاكمال" ابن نقطہ وغیرہ سے بھی بعض مطالب کا اضافہ کیا گیا ہے۔

اسکے علاوہ حضرت آیت اللہ خزعلی، آقا عزیز طباطبائی، شیخ محمد رضا جعفری وغیرہ جیسے بزرگان کے علمی مطالب سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔


د)مشتركات:

اس حصے میں راویوں کے نام روایات کی سند میں بصورت مطلق ذکر ہوئے ہیں اور وہ نام چند راویوں کے درمیان مشترک ہے، جیسے:

ابان ، احمد اور محمد، کے بارے میں بحث کی گئی ہے اور اس بحث کا فائدہ یہ ہے کہ اس سے استاد اور شاگرد (راوی و مروی عنہ) کہ جو روایات کی سند میں ذکر ہوئے ہیں، واضح اور معیّن ہو جاتے ہیں۔