2017 September 23
سعودیہ میانمار میں کیا کر رہا ہے؟
مندرجات: ٩٩٩ تاریخ اشاعت: ١٠ September ٢٠١٧ - ١٦:١٧ مشاہدات: 19
خبریں » پبلک
سعودیہ میانمار میں کیا کر رہا ہے؟

تہران میں ترک چینل اولوسال کے نمائندے یعقوب اصلان نے لکھا ہے کہ: ایک ہفتے کے دوران میانمار کے مسلمانوں کے درد کو اسلامی میڈیا کے چینلز دیکھا رہا ہیں، اور ترک میڈیا نے بھی اس خبر کو وسیع پیمانے پر نشر کیا ہے، اس کے بعد سوشل میڈیا پر کہا گیا کہ یہ تصویریں آراکان کی ہیں۔

اس طرح کی تصویریں شام کے حوالے سے بھی شائع کی گئی تھی، یہ تصویریں کسی اور زمانے اور تاریخ کی تھی اس لیے ان کے بارے میں تحقیقات کی ضرورت ہے۔

یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ آراکان میں انسانوں کو قتل اور بے گھر کیا جا رہا ہے، لیکن کس وجہ سے اس مسئلے کو اتنی آب و تاب سے بیان کیا گیا اور ایک نقلی کمپین چلائی گئی

 اس سلسلے میں کچھ حقائق سامنے آئے ہیں:

 آراکان میں سالوں سے لڑائی جاری تھی یہ مسئلہ خلیجی ممالک کی مداخلت کی وجہ سے عید سے پہلے بڑھ گیا، مسلمانون کا قتل عام، روہنگیا کی آزادی فورس ARSA کے پولیس اسٹیشن پر حملے کے بعد شروع ہوا، جس کا مقصد یہ تھا کہ خلیجی ممالک اس علاقے کے تیل کے ذخائر سے فائدہ اٹھا سکیں۔

 اور اس طرح ارسا ARSA کی وجہ سے میانمار کے مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا۔

 اس گروہ کی سربراہی «عطااللہ ابو عمار جونونی» کر رہے ہیں جو پاکستان میں پیدا ہوئے اور ایک روہنگیایی ہیں، وہ مکہ میں بڑے ہوئے ہیں اور سعودی نیشنل بھی ہیں، ریاض اس شخص کو استعمال کر کے اس علاقے کے ذخائر کو حاصل کرنا چاہتا ہے۔
محمد بن سلمان کی 2030 کی سعودی ترقی کے منصوبے میں سعودیہ 8 سال روہنگیا میں سرمایہ کاری کرے گا، سعودی درباره سے فاش شدہ اسناد سے پتہ چلتا ہے کہ ARSA نے 25 پولیس اسٹیشنوں پر حملے سعودیہ کے حکم پر کیے ہیں، سعودیہ 2009 سے روہنگیایی مہاجرین کی امداد کر رہا تھا تاکہ ان کے ذریعے اپنے منافع حاصل کرپائے۔

اسناد کے مطابق اس علاقے کے تمام چینلز کو سعودیہ کی طرف سے اس سلسلے میں ہدایات دی گئی ہیں۔

 محمد بن سلمان چاہتے ہیں کہ یہ علاقہ انسانوان سے خالی ہو جائے۔

۔MEE سائٹ کے مطابق سعودی کمپنی ارامکو صرف بنگال کے خلیج تک محدود نہیں رہے گی، سعودی کمپنی آرامکو میانمار کے انرجی کے بازار پر بھی حاکم ہو گیا ہے۔

محمد بن سلمان نے اپنے اتحادی امارات کو میانمار میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے، اور روہنگیا کی اہم زمینیں بھی خرید لی ہیں، امارات نے بھی سڑک اور ہوٹل بنانے کے معاہدے کر لیے ہیں۔

امریکی عالمی تجارت کے عضو «آنه گیلمان» نے کہا ہے کہ سعودیہ چاہتا ہے کہ روہنگیا کو اپنے ملک کا حصہ بنا لے، اور اس جگہ کو سعودیہ کی غذائی ضروریات کے لیے استعمال کرے، اور سعودیہ اپنے معاشی بحران کو آراکان کی زمینوں پر قبضہ کر کے جبران کرے۔

اگر میانمار کے مسئلے کو اس طرح دیکھا جائے تو اس بحران کی وجہ سمجھ آنا زیادہ مشکل نہیں۔




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی