2017 November 22
تکفیری دیوبندی پاکستان کو برما بنانے کے لئےسرگرم
مندرجات: ٩٩٢ تاریخ اشاعت: ٠٦ September ٢٠١٧ - ١٢:٤٥ مشاہدات: 60
خبریں » پبلک
تکفیری دیوبندی پاکستان کو برما بنانے کے لئےسرگرم

شیعیت نیوز: نفرت پھیلانےوالے دیوبندی سوشل میدیا پیجز نے پاکستان کو برما بنانے کے لئے مہم کا آغاز شروع کردیا اور پاکستان میں موجود بدھ مت اقلیت کے خلاف عوام کو اکسانے کے لئے نفرت پر مبنی پوسٹ ڈالی جارہی ہے ہیں جس سے پاکستان میں بھی برما کی طرح فسادات کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

 واضح رہے کہ مشعل سمیت دیگر دیوبندی تکفیری سوشل میڈیا پیجز کو جماعت اسلامی میڈیا سیل سے وابسطہ شمس امجد نامی شخص آپریٹ کررہا ہے ، ان پیجز سے فرقہ واریت اور نسلی تعصابات پر مبنی پوسٹ جاری کی جاتی ہے ہیں ، جبکہ کچھ دنوں قبل ہی ان پیجز کا بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سوشل میڈیا ونگ سے روابط کا بھی انکشاف کیا گیاتھا۔

را فنڈڈ بھارتی میڈیا اور پاکستانی دیوبندی میڈیا پاک فوج کے خلاف متحرک

دیوبندی ایک شدت پسند فرقہ ہے، پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی میں دیوبندی اور وہابی فرقہ کے افراد ہی ملوث ہیں طالبان، القائدہ، سپاہ صحابہ ،لشکر جھنگوی سمیت دیگرعسکریت پسند گروہوں اسی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر موجود ان شدت پسند پیجز کا مقصد پاکستان میں ناامنی پیدا کرنا ہے ، پہلے انہوں نے فرقہ واریت پھیلانے کی کوشیش کی اور اب یہ اقلیتی گروہوں کے خلاف برما کے مسلمانوں کو بنیاد بناکر پاکستان میں نسلی تعصابات کی جنگ کو بھڑکانہ چاہتے ہیں ، جبکہ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ  دیوبندی فرقہ سے ہی تعلق رکھنے والے طالبان کی جانب سے افغانستان میں بدھ مت مذہب کے پیروکاروں کے خلاف کاروائی اور انکے رہنما کا مجسمہ گرانے کے بعد سے ہی برما میں مسلمانوں کے خلاف نفرت میں شدت سے اضافہ ہوا تھا ، اب ہی صورتحال پاکستان میں پیدا کرکے یہ دہشتگرد برما کے مسلمانوں کے مسائل کو دوگنا کرنا چاہتے ہیں، دراصل انکا ہدف برما کے مسلمانوں کی داد رسی کرنا نہیں بلکہ وہاں نفرت کو مزید بھڑکانا ہے، کیونکہ تکفیری دیوبندی اور برما کے بدھ مت استعمار کی ایک ہی تھالی کے بیگن ہیں ۔

لہذاپاکستانی سیکورٹی ادارے اس جانب متوجہ ہوں اور ان دہشتگرد سوشل میڈیا پیجز اور انکے سہولت کاروں کے خلاف فوری کاروائی کریں جو عوام میں گمراہ کن پروپگنڈا کرکے پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، کیونکہ پاکستان اس وقت کسی بھی قسم کے نسلی و فرقہ وارانہ تعصابات کا متحمل نہیں ہوسکتا۔



 




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی