2017 September 23
خدا کرے حضرت علیؓ کی تلوار آجائے، کرپٹ لوگوں کے سر بلاامتیاز کاٹے جائیں،جسٹس دوست محمد
مندرجات: ٩٨٠ تاریخ اشاعت: ٠٢ September ٢٠١٧ - ١٢:٤١ مشاہدات: 26
خبریں » پبلک
خدا کرے حضرت علیؓ کی تلوار آجائے، کرپٹ لوگوں کے سر بلاامتیاز کاٹے جائیں،جسٹس دوست محمد

 شیعیت نیوز:  سپریم کورٹ میں دوران سماعت جسٹس دوست محمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاہے کہ خدا کرے حضرت علیؓ کی تلوار ہمارے ملک میں آ جائے اور کرپٹ لوگوں کے بلاامتیاز سر کاٹے جائیں،سپریم کورٹ نے آمدن سے زائد کروڑوں روپے کے اثاثے بنانے والے ملزم محمد اخلاق کی درخواست ضمانت مسترد کر دی۔ درخواست مسترد ہونے کے بعد ملزم کو احاطہ عدالت سے گرفتار کر کے تھانہ سیکرٹریٹ منتقل کر دیا گیا۔ جسٹس دوست محمد خان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے نجی تعمیراتی کمپنی میپل کنسٹرکشن کے مالک محمد اخلاق کی درخواست ضمانت کی سماعت کی۔

ملزم پر کراچی کے علاقہ 3 تلوار میں اربوں روپے کا پلاٹ 60 کروڑ روپے میں خریدنے کا الزام تھا اور اس 60 کروڑ رقم میں سے اس نے صرف 4 کروڑ 80 لاکھ جمع کروا کر پلاٹ اپنے نام کروا لیا۔ بقایا رقم ادا نہیں کی جس پر نیب نے ملزم کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا ریفرنس دائر کر رکھا تھا اور ملزم مفرور تھا۔ دوران سماعت جسٹس دوست محمد خان نے کہا کہ یہ کراچی میں 3 تلوار کیا عوام کے لئے کاٹنے کے لئے بنائی گئی۔ ملزم کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ نہیں یہ حضرت علیؓ کی تلوار ہے جس پر جسٹس دوست محمد نے کہا کہ خدا کرے حضرت علیؓ کی تلوار ہمارے ملک میں آ جائے اور کرپٹ لوگوں کے بلاامتیاز سر کاٹے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی غریب آدمی ہوتا تو کیا عدالتیں اس کو دو سال کی عبوری ضمانت دیتیں؟ یہ بااثر تھا اسی لئے اسے دو سال تک عبوری ضمانتوں پر رکھا گیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس معاملے میں ملزم کی ایک فیصد بھی نیک نیتی نظر نہیں آتی۔ دوسری جانب نیب کے دانت اور کاٹنے والی چھری کند ہو چکی ہے اگر عدالت نے اس کو عبوری ریلیف بھی دیا تو یہ شاید اگلی عید تک بھی پیش نہ ہو۔ اس ملک کے وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ اور پتہ نہیں کتنے بڑے لوگ جیل جا چکے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ درخواست گزار میرٹ پر ضمانت حاصل کرنے کا حقدار نہیں ہے اور سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے میں کوئی سقم موجود نہیں ہے۔

اس لئے ملزم کی درخواست ضمانت مسترد کی جاتی ہے۔ بعدازاں ملزم کے وکیل اسے اپنے ساتھ بار ایسوسی ایشن کے روم میں لے گئے اور پولیس سے تقاضا کرتے رہے کہ وہ گرفتاری کے وارنٹ لے کر آئیں تو اسی صورت ملزم کو اپنے ساتھ لے کر جا سکتے ہیں۔ ملزم سپریم کورٹ کے مرکزی دروازے سے باہر آیا تو اسلام آباد پولیس ملزم کو پولیس موبائل کی فرنٹ سیٹ پر بٹھا کر تھانہ سیکرٹریٹ لے گئی۔




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی