2022 January 21
امامت کا نظام انسانی حقوق کا ضامن ہے
مندرجات: ٩٨ تاریخ اشاعت: ٠٦ August ٢٠١٦ - ١٥:١٤ مشاہدات: 1139
خبریں » پبلک
آیت اللہ فاضل لنکرانی:
امامت کا نظام انسانی حقوق کا ضامن ہے

خبررساں ایجنسی شبستان:آیت اللہ فاضل لنکرانی نےنظام امامت کو انسانی حقوق کا ضامن قراردیتے ہوئے کہا ہےکہ اس وقت اگربشراپنے حقوق تک پہنچنا چاہتا ہے تو اس کی واحد ضمانت نظام امامت ہے اورعصرظہورمیں نظام ولایت فقیہ ہے۔

خبررساں ایجنسی شبستان شعبہ قم کی رپورٹ کےمطابق ائمہ اطہار﴿ع﴾ فقہی مرکز کے سربراہ آیت اللہ محمد جواد فاضل لنکرانی نے۲اگست کو اسلامی انسانی حقوق کے بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئےکہا ہے کہ اسلام کی نظرمیں حق اورذمہ داری کا جائزہ لینا اسلامی انسانی حقوق کا ایک موضوع ہے۔اسی طرح اسلامی عدالتوں کےفیصلے کیا تمام ملتوں اورحکومتوں کے لیے معتبرہیں یا نہیں ؟ کا مسئلہ بھی عالم اسلام کا ایک اہم مسئلہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہےکہ آج انسانی حقوق کے چارٹرکا عالمانہ جائزہ لینا چاہیے مختلف ادیان کے مفکرین اوراسلامی محققین اورنامورفقہاء کو اس چارٹر کا علمی جائزہ لینا چاہیے اورسیاسی مسائل سے دوررکھنا چاہیے۔

انہوں نےکہا ہےکہ اگرانسانی حقوق کے چارٹرکا صحیح جائزہ لیا جائے تویہ درحقیقت انسانی حقوق کی نفی کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا چارٹر ہےکہ جو انسانی نسل کے لیے خطرہ ہے کیونکہ اس میں انسان کوایسی آزادی دی گئی ہےکہ جو انسان کی ہمجنس بازی کا جواز فراہم کرتی ہے جبکہ یہ مطلب انسانی حقوق اورشریعت کےمخالف ہے۔

ائمہ اطہار﴿ع﴾ فقہی مرکز کے سربراہ نے مزید کہا ہےکہ اس وقت مختلف معاشروں میں یہ بحث  موجود ہےکہ کون سی چیزحق ہے اورکون سی ذمہ داری ہے۔ وہ  یہ  بحث چھیڑ کر اپنے اہداف کے درپے ہیں۔ اس مسئلہ میں کوئی شک وشبہ نہیں ہےکہ کچھ امورحق اورکچھ امورذمہ داریوں کے عنوان سے موجود ہیں اورہمیں حق کےمصادیق کو ذمہ داری کےمصادیق سے مشخص کرنا چاہیے۔

آیت اللہ فاضل لنکرانی نےکہا ہےکہ بعض افراد اس طرح گفتگو کرتے ہیں کہ بشر ایک ذاتی کرامت رکھتا ہے اوریہ کرامت اس کو ذمہ داری سونپنے میں رکاوٹ ہے ۔انہوں نے ذمہ داری کو تحمل کے ساتھ ملا دیا ہے جبکہ ذمہ داری زبردستی کے معنی میں نہیں ہے اوریہ انسانی فطرت کے ساتھ متضاد نہیں ہے۔

انہوں نےمزید کہا ہےکہ دوسروں کے حقوق کو ضائع کرنا جائز نہیں ہے اوریہ ایک ذمہ داری اور فریضہ ہےکہ سب کو اس کی مراعات کرنی چاہیے۔

انہوں نےکہا ہے کہ اس بحث میں ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ حق کا سرچشمہ کہاں ہے؟ ہم سب کا عقیدہ ہے کہ تمام انسانوں کے حقوق ہیں،لیکن اس حق کا سرچشمہ کہاں ہے؟ یہ بحث ایک خاص اہمیت رکھتی ہے۔

ائمہ اطہار﴿ع﴾ فقہی مرکز کے سربراہ نے مزید کہا ہےکہ انسانی حقوق کے چارٹرکی ایک کڑی گم ہے اوروہ یہ ہےکہ انسانی حقوق کے اجراء کی کیا ضمانت ہے اورکیا  انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے اس چارٹر کو صحیح طورپرنافذ کرنے میں کامیاب ہوسکے ہیں؟

انہوں نےکہا ہے کہ اسلامی انسانی حقوق کا ایک امتیاز یہ ہےکہ ہمارے دین نے انسان کے تمام پہلووں کے حقوق کو بیان کیا ہے اوراس کے اجراء کی ضمانت کو بھی بیان کیا ہے۔اسلام کا نظام امامت انسانی حقوق،اللہ کے انسان پرحقوق،حکمرانوں کے رعیت پرحقوق اورانسانوں کے حکمرانوں پرحقوق کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔

انہوں  نےمزید کہا ہے کہ نظام امامت،انسانی حقوق کا ضامن ہے،جس طرح کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنے معروف خطبے میں فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے امامت کو امت کا نظام قراردیا ہے؛ آج اگربشراپنے حقوق تک پہنچنا چاہتا ہے تو اس کا واحد راستہ نظام امامت ہے اورعصرامامت میں ولایت فقیہ کا نمایاں کردار بھی اسی وجہ سے ہے۔

آیت اللہ فاضل لنکرانی نےاس بات پرزوردے کرکہا ہےکہ ولایت فقیہ وہ واحد راستہ ہےکہ لوگ جس کے سائے میں سعادت کی منزل پرفائزہوسکتے ہیں۔ بعض مغربی دانشوروں کے بقول اس وقت ایک اہم ترین حکومت،ولایت فقیہ کی حکومت ہے کیونکہ یہ انسانی حقوق کی ضامن ہے۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی