2017 September 23
برما کے مسلمانوں کے خلاف پرتشدد کاروائیاں جاری، مسلمانوں کی حالت انتہائی بدتر
مندرجات: ٩٧٥ تاریخ اشاعت: ٢٩ August ٢٠١٧ - ١٣:٤٣ مشاہدات: 39
خبریں » پبلک
برما کے مسلمانوں کے خلاف پرتشدد کاروائیاں جاری، مسلمانوں کی حالت انتہائی بدتر

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق تنظیم کا کہنا ہے کہ میانماری مسلمانوں کے خلاف سنگین جرائم اور پر تشدد کارروائیاں بدستور جاری ہیں جس کی وجہ سے ان کی حالت روز بروز بدتر ہورہی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق تنظیم کا کہنا ہے کہ میانماری مسلمانوں کے خلاف سنگین جرائم اور پر تشدد کارروائیاں بدستور جاری ہیں جس کی وجہ سے ان کی حالت روز بروز بدتر ہورہی ہے۔

اسپونٹک کے مطابق، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی تنظیموں نے میانمار کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں کی حالت نہایت خراب ہوچکی ہے۔

واضح رہے کہ میانمار کی حکومت اس ملک کے مسلمانوں کو حتی اقلیت کے طور پربھی تسلیم کرنے سے گریزاں نظر آرہی ہے۔

میانمار کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ مسلمان، بنگلادیش سے میانمار میں داخل ہوئے ہیں اب انہیں اپنا ملک واپس جانا چاہئے جبکہ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ حکومتی بیانات بد نیتی پر مبنی ہیں میانمار میں رہنے والے مسلمانوں کا تعلق میانمار سے ہی ہے، اس بات کے بہت سے ثبوت و شواہد موجود ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ روہنگیا مسلمانوں کی جڑیں میانمار میں ہی ہیں۔

اقوام متحدہ نے گذشتہ دو برسوں میں ہمیشہ میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کی ابتر حالت کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

واضح رہے کہ میانمار میں اسلام دشمن پالیسیوں کی وجہ سے اس ملک کے 87 ہزار مسلمان بنگلادیش کا رخ کرچکے ہیں جبکہ ڈھاکہ کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں 1.1 میلین میانماری تارکین وطن موجود ہیں جن کو شہریت دینا ممکن نہیں ہے۔

دوسری طرف میانماری تارکین وطن نے بنگلادیش کی حکومت سے اپیل کی ہے اب ان کے لئے میانمار قابل سکونت نہیں رہا ہے لہذا انہیں باقاعدہ طور پر بنگلادشی شہریت دی جائے۔

میانماری مسلمانوں نے امت مسلمہ اور دنیا کے تمام حریت پسندوں سے بھی اپیل کی ہے کہ میانماری مسلمانوں کی مظلومت پر آواز اٹھائیں۔

 واضح رہے کہ میانمار کے مسلمان اپنی زندگی بچانے اور نسل کشی سے بچنے کے لیے بنگلہ دیش کی طرف فرار کررہے ہیں لیکن میانمار کے ان مجبور و بے بس پناه گزینوں کو محفوظ پناه گاہوں تک پہچنے کے لیے سخت ترین راستوں سے گزرنا اور اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنا پڑتا ہے۔

روہنگیا کے مسلمان اقلیت کو کافی عرصے سے امتیازی رویوں کا سامنا ہے یہ افراد میانمار میں تیسرے درجے کے شہری سمجھے جاتے ہیں بلکہ اب تو ان کو باقاعده شہری بھی تسلیم نہیں کیا جاتا ہے۔

 دوسری طرف اگر وه بنگلہ دیش فرار کر جائیں تو انہیں وہاں غیر قانونی مہاجر قرار دیا جاتا ہے۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی