2017 September 22
میانماری فوج کا روہنگیا مسلمانوں کے قتلِ عام کا نیا سلسلہ ،104افراد شہید
مندرجات: ٩٧٤ تاریخ اشاعت: ٢٩ August ٢٠١٧ - ١٣:٤١ مشاہدات: 25
خبریں » پبلک
میانماری فوج کا روہنگیا مسلمانوں کے قتلِ عام کا نیا سلسلہ ،104افراد شہید

عالمی میڈیا کے مطابق میانمار میں تقریبا ایک ہفتے سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں اب تک کم از کم 104 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔تفصیلات کے مطابق میانمار میں بدھ مت کے پیروکار اکثریت میں ہیں لیکن وہاں کی شمالی ریاست راکھین میں تقریبا 10 لاکھ آبادی روہنگیا مسلمانوں کی بھی ہے۔

میانمار ی حکومت ان لوگوں کو اقلیت کی حیثیت دینے کیلیے تیار نہیں اور نہ ہی وہ قانونی طور پر میانمار کے شہری تصور کیے جاتے ہیں۔ اسی لیے میانمار حکومت کی جانب سے راکھین میں آئے دن مسلمانوں کے قتلِ عام اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ اقوامِ متحدہ سمیت ساری دنیا کا ردِعمل زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں بڑھ پاتا۔

 اطلاعات کے مطابق میانمار میں خانہ جنگی کا یہ نیا سلسلہ جمعہ 25 اگست سے شروع ہوا ہے۔ میانمار حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کے مغربی حصے میں بنگلا دیشی سرحد کے قریب فوجی چوکیوں پر روہنگیا عسکریت پسندوں نے دھاوا بول دیا تھا لیکن میانمار کی فوج نے ان میں سے بیشتر حملہ آوروں کو ہلاک کردیا تھا۔

 میانمار میں روہنگیا حقوق کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ میانمار کی حکومت نے شہریوں کو قتل کیا ہے اور ان کے گھر بھی نذرِ آتش کیے ہیں۔ اقوام متحدہ نے بھی روہنگیا کے خلاف میانمار کی فوجی کارروائیوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی تحقیقات کے مطابق روہنگیا آبادی کے خلاف سرکاری فوج کی کارروائیوں کو نسل کشی قرار دیا جاسکتا ہے۔

 خبر رساں ادارے روئٹرز نے میانمار حکومتی ذرائع کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق صرف دو روز میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 104 بتائی ہے۔واضح رہے کہ 2016 میں میانمار کی ریاست راکھین میں شروع ہونے والے پر تشدد واقعات اور روہنگیا کے خلاف اقدامات کے بعد سے اب تک 87 ہزار سے زائد روہنگیا مسلمان اپنی جانیں بچا کر بنگلا دیش میں پناہ لے





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی