2017 September 22
روالپنڈی : 2013 سانحہ عاشورہ پر مسجد تعلیم قرآن پر حملہ اسی مسجد کے دہشتگردوں نے کیا،آئی ایس پی آر
مندرجات: ٩٥٥ تاریخ اشاعت: ٢٢ August ٢٠١٧ - ١٠:٠٣ مشاہدات: 37
خبریں » پبلک
روالپنڈی : 2013 سانحہ عاشورہ پر مسجد تعلیم قرآن پر حملہ اسی مسجد کے دہشتگردوں نے کیا،آئی ایس پی آر

شیعیت نیوز: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجرجنرل آصف غفور کے مطابق 15 جولائی سے شروع ہونے والا آپریشن خیبر 4 مکمل ہوگیا۔

پریس کانفرنس کے دوران آصف غفور نے بتایا کہ جن علاقوں میں آپریشن خیبر 4 کیا گیا وہ ایک دشوار گزار علاقہ تھا۔

آپریشن خیبر فور کی تفصیلات بتاتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ اس آپریشن کے دوران 52 دہشت گرد ہلاک جبکہ 31 دہشت گرد زخمی اور چار نے ہتھیار ڈال دیے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بھی بتایا کہ آپریشن خیبر فور میں پاک فوج کے 2 سپاہی شہید اور 6 زخمی ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے برآمد کیے جانے والے سامان میں بارودی سرنگ بنانے والا سامان ملا ہے جس پر ’میڈ ان انڈیا‘ لکھا ہوا تھا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس موقع پر آپریشن ردالفساد کے حوالے سے ایک ڈاکیومنٹری دکھائی اور اس حوالے سے تفصیلات بتائیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 'بلوچستان میں ایف سی نے 12 اگست کو آپریشن کیا اور بھاری مقدار میں اسلحہ وبارود برآمد کرلیا جو 14 اگست کو یوم آزادی کی تقریبات کے دوران پر استعمال ہونا تھا '۔

سندھ میں آپریشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 'پاکستان رینجرز نے سندھ اور بالخصوص کراچی میں آپریشن کیے اور 2013 سے 2017 کے جرائم کے واقعات میں واضح حد تک کمی ہوئی اور 2017 میں دہشت گردی کا ایک واقعہ ہوا تاہم سماجی جرائم خالصتاً پولیس کی حد میں آتے ہیں جس میں اتنی کمی نہیں ہوئی جتنی ہونی چاہیے کیونکہ اس کا تعلق پولیس کی صلاحیت پر ہے پولیس مضبوط ہوگی تو اسٹریٹ کرائم بھی وقت کے ساتھ کم ہوں گے '۔

ان کا کہنا تھا کہ 'پنجاب میں رینجرز نے 1728 آپریشن کئے گئے اور اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے، خیبر پختونخوا میں بارڈر منیجمنٹ مضبوط کرلی ہے اور دہشت گرد افغانستان سے آکر حملہ کرتے تھے لیکن اب وہاں ہماری موجودگی مضبوط ہوئی ہے اس لیے ان کے حملوں کو ناکام بنا دیے جاتے ہیں '۔

انھوں نے کہا کہ 'افغانستان سے سرحد پار کرنے کی کوشش ضرور ہوتی ہے اور اب بھی ہوتی ہے لیکن کامیاب نہیں ہوتے اور 2017 میں اب تک 250 سرحد پار حملے ہوئے ان میں سے کسی میں بھی وہ کامیاب نہیں ہوئے اور 13 اور 14 اگست کی درمیانی شب 8 سرحد پار حملے کئے گئے '۔

قبائلی علاقوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 'آپریشن ہم مکمل کرچکے ہیں اور اب ترقیاتی کام ہورہے '۔

لاہور میں ارفع کریم ٹاوردھماکے میں دہشت گرد وزیراعلیٰ پنجاب کونشانہ بنانا چاہتےتھے،۔

فرقہ وارانہ فسادات کا رابطہ نیٹ ورک کلبھوشن، این ڈی ایس، را سے ہے

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ 2013 میں راولپنڈی میں سنی مسجد پرحملہ کیا گیا تھا جس کی ذمہ داری شیعہ تنظیم نے قبول کیا تھالیکن آئی ایس آئی نے اس پر بہت کام کیا اور نیٹ ورک کو بے نقاب کیا اوردہشت گرد کو گرفتار کیا اور یہ دہشت گرد بھی اسی مسلک سے تعلق رکھتے تھے جس مسلک کی یہ مسجد تھی۔

ڈی ڈجی آئی ایس پی آر نے گرفتار دہشت گرد کی ویڈیو بھی دکھائی جس میں وہ اعتراف کررہا ہے کہ انھوں نے محرم کے دوران کالے کپڑے پہن کر وہاں پر کارروائی کریں۔

انھوں نے کہا کہ 'فرقہ وارانہ فسادات کروانے کی کوشش کی گئی جس کا رابطہ این ڈی ایس را اور کلبھوشن یادیو کے نیٹ ورک سے ملتا ہے '۔

ان کا کہنا تھا کہ 'شیعہ سنی فساد وہاں سے شروع نہیں ہوا جہاں سے یہ پاکستان کے بدخوا اور دشمن شروع کرنا چاہتے تھے '۔

وزیراعلیٰ پنجاب کو نشانہ بنایا جانا تھا

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ لاہور میں 'ارفع کریم ٹاور کا واقعے کی خفیہ خبر تھی اس پر کام ہورہا تھا اور اس دن وزیراعلیٰ کا دورہ بھی طے تھا اور نشانہ بھی وزیراعلیٰ پنجاب تھے لیکن عین وقت پر ان کا منصوبہ تبدیل ہوا اور انھیں پولیس کو نشانہ بنانے کا حکم ملا تھا '۔

انھوں نے کہا کہ ' اس نیٹ ورک پر مزید کام کیا گیا تو اور بھی خودکش بمبار تھے جنھوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کو نشانہ بنانا تھا لیکن ان کے حوالے سے تفصیلات اس لیے نہیں بتائیں گے کیونکہ ہمیں ان سے تفتیش جاری ہے '۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ پاکستان پوری قوم کا ہے، 59غیرمسلم پاکستانیوں نے دفاع وطن کی خاطرقربانیاں دیں، ہم سب پاکستانی ہیں اورمل کرملک کادفاع کریں گے۔

گرفتار دہشت گردوں کے حوالے سے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں میں کیس وفاقی حکومت بھیجتی ہے اس لیے دہشت گردوں کے کیسزفوجی عدالتوں میں بھیجنےکافیصلہ حکومت نےکرنا ہے۔

سابق صدر پرویزمشرف کے حوالے سے انھوں ںے کہا کہ اس وقت ان کا فوج سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ جو بیان دیتے ہیں بطورسیاسی رہنما کے دے رہے ہیں جو ان کا ذاتی نقطہ نظر ہے۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی