2017 November 24
شہادت ابن الرضا، جوادالآئمہ، امام محمد تقی(ع)
مندرجات: ٩٥٣ تاریخ اشاعت: ٢٢ August ٢٠١٧ - ٠٩:٤٠ مشاہدات: 192
یاداشتیں » پبلک
جدید
شہادت ابن الرضا، جوادالآئمہ، امام محمد تقی(ع)

 

علماء کا بیان ہے کہ امام المتقین حضرت امام محمد تقی علیہ السلام بتاریخ 10 رجب المرجب 195 ہجری یوم جمعہ بمقام مدینہ منورہ متولد ہوئے۔

روضة الصفا جلد 3 ص 16

شواہدالنبوت ص 204

انور النعمانیہ ص 127

جناب شیخ مفید فرماتے ہیں کہ:

چونکہ حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے کوئی اولاد آپ کی ولادت سے قبل نہ تھی، اس لیے لوگ طعنہ زنی کرتے ہوئے کہتے تھے کہ شیعوں کے امام منقطع النسل ہیں۔ یہ سن کر حضرت امام رضا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ اولاد کا ہونا خدا کی عنایت سے متعلق ہے، اس نے مجھے صاحب اولاد کیا ہے اور عنقریب میرے یہاں مسند امامت کا وارث پیدا ہو گا، چنانچہ آپ کی ولادت باسعادت ہوئی۔

الارشاد ص 473

علامہ طبرسی لکھتے ہیں کہ: حضرت امام رضا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ: میرے یہاں جو بچہ عنقریب پیدا ہو گا، وہ عظیم برکتوں کا حامل ہو گا۔

اعلام الوری ص 200

واقعہ ولادت کے متعلق لکھا ہے کہ امام رضا علیہ السلام کی بہن جناب حکیمہ خاتون فرماتی ہیں کہ:

 ایک دن میرے بھائی نے مجھے بلا کر کہا کہ آج تم میرے گھر میں قیام کرو، کیونکہ خیزران کے بطن سے آج رات کو خداوند مجھے ایک فرزند عطا فرمائے گا ، میں نے خوشی کے ساتھ اس حکم کی تعمیل کی جب رات آئی تو ہمسایہ کی اور چند عورتیں بھی بلائی گئیں، نصف شب سے زیادہ گزرنے پر یکایک وضع حمل کے آثار نمودار ہوئے۔ یہ حال دیکھ کر میں خیزران کو حجرے میں لے گئی، اور میں نے چراغ روشن کر دیا، تھوڑی دیر میں امام محمد تقی علیہ السلام پیدا ہوئے میں نے دیکھا کہ وہ مختون اور ناف بریدہ ہیں۔ ولادت کے بعد میں نے انہیں نہلانے کے لیے طشت میں بٹھایا، اس وقت جو چراغ روشن تھا وہ گل ہو گیا مگر پھر بھی اس حجرہ میں روشنی بدستور باقی رہی ،اور اتنی روشنی رہی کہ میں نے آسانی سے بچہ کو نہلا دیا۔

تھوڑی دیر میں میرے بھائی امام رضا علیہ السلام بھی وہاں تشریف لے آئے، میں نے نہایت عجلت کے ساتھ صاحبزادے کو کپڑے میں لپیٹ کر حضرت کی آغوش میں دیدیا۔ آپ نے سر اور آنکھوں پر بوسہ دے کر پھر مجھے واپس کر دیا۔ دو دن تک امام محمد تقی علیہ السلام کی آنکھیں بند رہیں تیسرے دن جب آنکھیں کھلیں تو آپ نے سب سے پہلے آسمان کی طرف نظر کی پھر داہنے بائیں دیکھ کر کلمہ شہادتین زبان پر جاری کیا۔ میں یہ دیکھ کر سخت متعجب ہوئی اور میں نے سارا ماجرا اپنے بھائی سے بیان کیا، آپ نے فرمایا تعجب نہ کرو، یہ میرا فرزند حجت خدا اور وصی رسول ہدی ہے۔ اس سے جو عجائبات ظہور پذیر ہوں ، ان میں تعجب کیا ؟ محمد بن علی ناقل ہیں کہ:

حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کے دونوں کندھوں کے درمیان اسی طرح مہر امامت تھی جس طرح دیگر آئمہ علیہم السلام کے دونوں کندھوں کے درمیان مہریں ہوا کرتی تھیں۔

نام کنیت اور القاب:

آپ کا اسم گرامی ،لوح محفوظ کے مطابق ان کے والد ماجد حضرت امام رضا علیہ السلام نے، محمد، رکھا آپ کی کنیت ابو جعفر اور آپ کے القاب جواد، قانع، مرتضی تھے اور مشہور ترین لقب تقی تھا۔

روضة الصفا ج3 ص 16

شواہد النبوت ص 202

اعلام الوری ص 199

بادشاہان وقت:

حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی ولادت 195 ہجری میں ہوئی۔ اس وقت بادشاہ وقت ، امین ابن ہارون رشید عباسی تھا۔

وفیات الاعیان

198 ہجری میں مامون رشید بادشاہ وقت ہوا۔

تاریخ خمیس و ابو الفداء

21 ہجری میں معتصم عباسی خلیفہ وقت مقررہوا۔

ابو الفداء

اسی معتصم نے 220 ہجری میں آپ کو زہرسے شہیدکرا دیا۔

وسیلة النجات

امام محمد تقی (ع) کی نشوونما اور تربیت:

یہ ایک حسرتناک واقعہ ہے کہ امام محمد تقی علیہ السلام کو نہایت کمسنی ہی کے زمانہ میں مصائب اور پریشانیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہونا پڑا انہیں بہت ہی کم اطمینان اور سکون کے لمحات میں ماں باپ کی محبت اور شفقت و تربیت کے سایہ میں زندگی گزارنے کا موقع مل سکا۔ آپ صرف پانچ برس کے تھے کہ، جب حضرت امام رضا علیہ السلام مدینہ سے خراسان کی طرف سفر کرنے پر مجبور ہوئے۔ امام محمد تقی علیہ السلام اس وقت سے جو اپنے باپ سے جدا ہوئے تو پھر زندگی میں ملاقات کا موقع نہ ملا، امام محمد تقی علیہ السلام سے جدا ہونے کے تیسرے سال امام رضا علیہ السلام کی وفات ہو گئی، دنیا سمجھتی ہو گی کہ امام محمدتقی کے لیے علمی اور عملی بلندیوں تک پہنچنے کا کوئی ذریعہ نہیں رہا، اس لیے اب امام جعفرصادق علیہ السلام کی علمی مسند شاید خالی نظر آئے، مگر خالق خدا کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس کمسن بچے کو تھوڑے دن بعد مامون کے پہلو میں بیٹھ کر بڑے بڑے علماء سے فقہ و حدیث و تفسیر اور کلام پر مناظرے کرتے اور ان سب کو قائل ہو جاتے دیکھا۔ ان کی حیرت اس وقت تک دور ہونا ممکن نہ تھی جب تک وہ مادی اسباب کے آگے ایک مخصوص خداوندی مدرسہ تعلیم و تربیت کے قائل نہ ہوتے جس کے بغیر یہ معمہ نہ حل ہوا، اور نہ کبھی حل ہو سکتا ہے۔

سوانح امام محمد تقی ص 4

مقصد یہ ہے کہ امام کو علم لدنی ہوتا ہے یہ انبیاء کی طرح پڑھے لکھے اور تمام صلاحیتوں سے بھرپور پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے سرور کائنات کی طرح کبھی کسی کے سامنے زانوئے تلمذ نہیں تہ کیا اور نہ کر سکتے تھے، یہ اس کے بھی محتاج نہیں ہوتے تھے کہ آباؤ اجداد انہیں تعلیم دیں، یہ اور بات ہے کہ ازدیاد علم و شرف کے لیے ایسا کر دیا جائے، یا علوم مخصوصہ کی تعلیم دیدی جائے۔

والد ماجد کے سایہ عاطفیت سے محرومی:

یوں تو عمومی طور پر کسی کے باپ کے مرنے سے سایہ عاطفت سے محرومی ہوا کرتی ہے لیکن حضرت امام محمد تقی علیہ السلام اپنے والد ماجد کے سایہ عاطفت سے ان کی زندگی ہی میں محروم ہو گئے تھے، ابھی آپ کی عمر 6 سال کی بھی نہ ہونے پائی تھی کہ آپ اپنے پدر بزرگوار کی شفقت و عطوفت سے محروم کر دیئے گئے، اور مامون رشید عباسی نے آپ کے والد ماجد حضرت امام رضا علیہ السلام کو اپنی سیاسی غرض کے ماتحت مدینہ سے خراسان طلب کر لیا تھا۔

اور ساتھ ہی یہ شق بھی لگا دی کہ آپ کے بال بچے مدینہ ہی میں رہیں گے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ سب کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ کر خراسان تشریف لے گئے اور وہیں عالم غربت میں سب سے جدا مامون رشید کے ہاتھوں ہی شہید ہو کر دنیا سے رخصت ہو گئے۔

آپ کے مدینہ سے تشریف لے جانے کا اثر خاندان پر یہ پڑا کہ سب کے دل کا سکون جاتا رہا اور سب کے سب اپنے کو زندہ در گور سمجھتے رہے بالاخر وہ نوبت پہنچی ، کہ آپ کی ہمشیرہ جناب فاطمہ جو بعد میں معصومہ قم کے نام سے ملقب ہوئیں ، انتہائی بے چینی کی حالت میں گھر سے نکل کر خراسان کی طرف روانہ ہوئیں ، ان کے دل میں جذبات یہ تھے کہ کسی طرح اپنے بھائی علی رضا علیہ السلام سے ملیں، لیکن ایک روایت کی بناء پر آپ مدینہ سے روانہ ہو کر جب مقام ساوہ میں پہنچیں تو علیل ہو گئیں، آپ نے پوچھا کہ یہاں سے شہر قم کتنی دور ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ یہاں سے قم کی مسافت دس فرسخ ہے، آپ نے خواہش کی کہ کسی صورت سے وہاں پہنچا دی جائیں، چنانچہ آپ آل سعد کے رئیس موسی بن خزرج کی کوششوں سے وہاں پہنچیں اور اسی کے مکان میں 17 دن بیمار رہ کر اپنے بھائی کو روتی ہوئی دنیا سے رخصت ہو گئیں اور مقام بابلان قم میں دفن ہوئیں۔ یہ واقعہ 201 ہجری کا ہے۔

انوار الحسینیہ ج 4 ص 53

حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کے لیے حضرت امام رضا علیہ السلام کی جدائی ہی کیا کم تھی کہ اب اپنی پھوپھی کے سایہ سے بھی محروم ہو گئے۔ ہمارے امام کے لیے کمسنی میں یہ دونوں صدمے انتہائی تکلیف دہ اور رنج رساں تھے لیکن مشیت ایزدی میں چارہ نہیں۔ آخر آپ کو تمام مراحل کا مقابلہ کرنا پڑا اور آپ صبر و ضبط کے ساتھ ہر مصیبت کو جھیلتے رہے۔

شہادت امام جواد (ع) کی تفصیلی روایات

احمد بن داؤد کا قریبی دوست زرقان کہتا ہے کہ: ... جب معتصم کے زمانے میں چور کی شرعی حد کے بارے میں امام جواد (ع) کی رائے پر عمل کیا گیا اور ابن داؤد کی رائے مسترد کی گئی تو ابن داؤد نے میرے لیے بیان کیا کہ: ابو جعفر (امام جواد ع) سے شکست کھانے کے بعد میں نے معتصم سے کہا: جب آپ فقہاء اور علماء کو ایک مجلس میں جمع کرتے ہیں وہ اپنے فتاوی بیان کرتے ہیں اور آپ ایسی شخصیت کی رائے کو مقدم رکھتے ہیں، جس کو امت کے کچھ لوگ امام تو کیا اس کی وجہ سے لوگ خلافت سے منحرف ہو کر ابو جعفر (ع) کی طرف متوجہ نہ ہوں گے ؟ معتصم کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور ۔۔۔۔۔۔۔

شہادت کا پس منظر:

امام جواد (ع) کم سنی میں ہی بے مثل شخصیت کے طور پر ابھرے شیعہ علماء و اکابرین کے مجمع میں دین پر وارد ہونے والے شبہات کا جواب، یحیی بن اکثم وغیرہ جیسے افراد کے ساتھ کم سنی میں مناظرے کیے، جن میں سب آپ (ع) کی منطق و علم دانش کے سامنے مغلوب ہوئے ـ وہ اسباب تھے جن کی بنا پر آپ (ع) ہر دلعزیز شخصیت کے طور پر جانے پہچانے لگے۔ ایک طرف سے یہ مقبولیت عامہ حاسد علمائے دربار کو ایک آنکھ نہ بھاتی تھی، تو دوسری طرف ظلم و جور کی بنیادوں پر استوار ہونے والی سلطنت عباسیہ کو خطرے کا احساس ہوا۔

مامون امام رضا (ع) کو قتل کر چکا تھا، چنانچہ وہ دوسرے امام کو خوف کے مارے، قتل کرنے سے گریز کرتا تھا چنانچہ وہ اپنی خاص زیرکی سے اپنی بیٹی اور امام جواد (ع) کی زوجہ ام الفضل کے ذریعے آپ (ع) کی نگرانی کرتا تھا اور آپ (ع) کی دامادی کا ہتھیار لے کر زمانے کے وقائع بالخصوص علویوں کی سرگرمیوں کو قابو میں لانا چاہتا تھا۔ مامون 17 رجب المرجب سن 218 بروز جمعرات (یا جمعہ) تاریخ کے جابر بادشاہوں سے جا ملا۔

بحارالانوار، ج 50، ص 16،

تاریخ الامم والملوک، ج 50، ص 30

اور اس کا بھائی معتصم کہ جو عسکری ذہنیت رکھتا تھا اور مسائل کو سیاست اور زیرکی سے حل کرنے کی بجائے طاقت کے استعمال سے حل کرنے کا قائل تھا، وہ بادشاہ بنا۔ وہ امام جواد (ع) کو ہرگز برداشت نہیں کرتا تھا چنانچہ اس نے بادشاہ بنتے ہی امام جواد (ع) کو مدینہ سے بغداد بلوایا اور یوں امام (ع) کی نظر بندی کے ایام کا آغاز ہوا۔

امام رضا (ع) اور امام جواد (ع) غیظ و غضب کا شکار ہوئے، وہ غیظ و غضب جس کی وجہ سے عباسی سلطنت عاجز اور بے بس ہوئی تھی اور اس کے پاس ان آئمہ طاہرین کا کوئی منطقی جواب نہ تھا۔

حکیم بن عمران کہتے ہیں کہ جب امام جواد (ع) متولد ہوئے تو امام رضا (ع) نے اپنے اصحاب سے فرمایا: مجھے خدا نے ایسے فرزند سے نوازا ہے جو حضرت موسی بن عمران (ع) کی طرح دریا کو شگاف کر لیتا ہے اور اس کی والدہ حضرت عیسی بن مریم (ع) کی طرح، مقدس، پاکیزہ اور پاکدامن ہیں۔

اور مزید فرمایا: میرے اس فرزند کو غیظ و غضب کی وجہ سے قتل کیا جائے گا اور آسمان والے اس پر گریہ و بکاء کریں گے۔ خداوند متعال اس کے ظالم ستمگر دشمنوں پر غضبناک ہو گا اور بہت مختصر عرصے میں انہیں درد ناک عذاب میں مبتلا کرے گا۔

بحارالانوار، ج 50، ص 15

معتصم نے بادشاہت کا عہدہ سنبھالا اور لوگوں سے بیعت لی تو سب سے پہلے امام جواد (ع) اور ان کے مسکن کے بارے میں پوچھا، درباریوں نے اس کو بتایا کہ امام (ع) مدینہ میں ہیں۔ معتصم نے عبد الملک بن زیات کو کہ جو مدینہ میں اس کا وزیر سمجھا جاتا تھا ـ پیغام بھجوایا کہ امام جواد (ع) کو ان کی زوجہ ام الفضل کے ہمراہ، عزت و احترام کے ساتھ بغداد روانہ کرے۔ محمد بن عبد المالک نے بھی ایک خط علی بن یقطین کو دیا اور انہیں امام جواد (ع) کو بغداد روانہ کرنے کی ذمہ داری سونپی۔

بحار الانوار، ج 50، ص 8

سن 218 ہجری میں امام جواد (ع) کی عمر مبارک 23 سال تھی اور دوسری مرتبہ بغداد جا رہے تھے۔ اس سے قبل مامون نے آپ (ع) کو بغداد بلوایا تھا جب اسماعیل بن مہران نے فکرمند ہو کر عرض کیا تھا: اے میرے مولا اب جو آپ مدینہ کو ترک کر رہے ہیں، میں آپ کے لیے فکرمند ہوں، ہماری کیا ذمہ داری ہے ؟ اور امام (ع) نے مسکرا کر فرمایا تھا:

لیس حيث ظننت في هذه السنة ،

جس چیز کا گمان کر رہے ہو ( اور جس کے لیے فکرمند ہو ) وہ اس سال نہ ہو گا۔

دوسری بار جب متعصم نے امام (ع) کو بلوایا تو پھر بھی اسماعیل بن مہران نے خدشہ ظاہر کیا اور عرض کیا: اے میرے مولا میری جان آپ پر فدا ہو، آپ مدینہ سے جا رہے ہیں۔ آپ کے بعد ہماری کیا ذمہ داری ہے: تو فرمایا

الامر من بعدي الی ابني علي ،

میرے بعد امام میرا بیٹا علی ( النقی الہادی ) ہو گا۔

الارشاد ص 328، بحار الانوار، ج 50، ص 118

تاریخ کے مطابق چند افراد امام جواد (ع) کے قتل میں شریک ہیں جن کے نام یہ ہیں:

عباسی بادشاہ معتصم عباسی، (مامون عباسی کا بھائی)،

جعفر بن مامون عباسی، (ام الفضل کا بھائی اور معتصم کا بھتیجا)،

ام الفضل (مامون کی بیٹی، معتصم کی بھتیجی، جعفر کی بہن اور امام (ع) کی زوجہ)،

یحیی بن اکثم (درباری مولوی اور عباسیوں کا قاضی جو کئی بار امام جواد (ع) سے مناظرے میں شکست کھا چکا تھا)،

احمد بن داؤد (وہ بھی دربار کا قاضی اور مفتی تھا اور یحیی بن اکثم کی طرح کئی مرتبہ امام (ع) کے سامنے شکست کھا چکا تھا)۔

بے شک جس طرح کہ بعد میں عثمانیوں کے دور میں کئی مرتبہ شیعہ علماء کو شہید کیا گیا، یا ہندوستان میں قاضی القضات سید نور اللہ شوشتری کو مولویوں کی تحریک پر شہید کیا گیا۔ اس سنت قبیحہ کی بنیاد اموی اور عباسی دور میں رکھی گئی تھی۔ جب یا تو مولویوں کو مال دنیا عطا کر کے آئمہ کے قتل کے فتوے لیے جاتے تھے یا پھر مولوی خود اس آگ کا ایندھن فراہم کرتے تھے۔ اس دور میں بھی ابتدائی کردار یحیی بن اکثم اور احمد بن داؤد کا تھا جن کو مامون کے دور میں اور معتصم کے دور میں بھی امام (ع) کے ساتھ مناظروں میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

جعفر بن مامون کا کردار یہ تھا کہ وہ اپنی بہن جو امام سے صاحب اولاد نہ ہو سکی تھی اور امام (ع) اس کی شرارتوں اور دربار کے ساتھ ساز باز کی وجہ سے اس کو کم ہی توجہ دیتے تھے، کے جذبات کو مشتعل کیا کرتا تھا اور قتل کا حکم معتصم نے دیا جبکہ ام الفضل نے اس حکم پر عمل کیا۔

سازش کا آغاز:

عباسی دربار کے مشہور قاضی نے جب ایک چور پر حد جاری کرنا چاہی اور کہا کہ چور کا ہاتھ کلائی سے کاٹ دیا جائے گا، تو امام جواد (ع) نے فرمایا کہ ہتھیلی مساجد سبعہ میں سے ہے اور قرآن نے فرمایا ہے کہ:

 وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ ،

سجدہ کرنے کی جگہ خداوند کے لیے ہیں،

سورہ جن آیت 18

چنانچہ ہاتھ کلائی سے نہیں کاٹا جا سکتا بلکہ انگلیاں کاٹی جائیں گی تا کہ نماز کے سجدے میں نقص نہ ہو، تو ابن داؤد کو شکست ہوئی اور اس نے اپنے دل سیاہ میں امام جواد (ع) کا بغض و کینہ بسا دیا کیونکہ اس کی علمی حیثیت خلیفہ اور عوام کے سامنے ختم ہو چکی تھی اور جب معتصم بر سر اقتدار آیا تو اس کو معلوم تھا کہ یہ شخص جذباتی ہے اور اس کو مشتعل کرنا آسان ہے، چنانچہ اس کے کان کھانے لگا اور اس کے امام (ع) کی نسبت بدظن کیا۔

احمد بن داؤد کا قریبی دوست زرقان کہتا ہے کہ : ... جب معتصم کے زمانے میں چور کی شرعی حد کے بارے میں امام (ع) کی رائے پر عمل کیا گیا اور ابن داؤد کی رائے مسترد کی گئی تو ابن داؤد نے میرے لیے بیان کیا کہ ابو جعفر (امام جواد ع) سے شکست کھانے کے بعد میں بہت زيادہ اداس ہوا، حتی کہ میں نے موت کی خواہش کی، اسی وجہ سے تیسرے دن (بحث و مناظرے کے دوران) معتصم کے پاس گیا اور کہا: آپ کی خیر خواہی اور نصیحت مجھ پر واجب ہے اور اگر ایسا نہ کروں تو گویا کہ میں ناشکری کا مرتکب ہوا ہوں اور اہل دوزخ ہوں۔

معتصم نے میری اس حالت اور اس بات کی وجہ پوچھی تو میں نے کہا: جب آپ فقہاء اور علماء کو ایک مجلس میں جمع کرتے ہیں اور اس مجلس میں علماء اور فقہاء اپنے فتاوی بیان کرتے ہیں جبکہ اس مجلس میں آپ کے افراد خاندان اور وزراء اور افواج کے کمانڈر بھی ہوتے ہیں اور عام لوگوں کو بھی وہاں کی خبریں پہنچتی ہیں کہ خلیفہ نے علماء اور فقہاء کے فتاوی کو مسترد کر کے ایسی شخصیت کی رائے کو مقدم رکھا ہے، جس کو امت کے کچھ لوگ امام اور دوسروں سے زيادہ عالم و دانشمند سمجھتے ہیں، تو حکومت اور درباری علماء کی کیا حیثیت رہے گی ؟ کیا اس طرح کے اقدامات خلافت سے لوگوں کے انحراف اور ابو جعفر (ع) کی طرف ان کی توجہ کا سبب نہيں بنیں گے ؟

جذباتی عباسی بادشاہ جس کو معلوم نہ تھا شاید، کہ ابن داؤد دوزخی ہونے کے خوف سے نہیں بلکہ حسد کی وجہ سے خود بھی اہل دوزخ بن رہا ہے اور اس کو بھی قطعی طور پر دوزخی بنا رہا ہے، کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور کہنے لگا: جزاك الله عن نصیحتك خیرا...

خدا تم کو اس خیر خواہی پر جزائے خیر دے،

 اور یوں مناظرے کے چار روز بعد امام جواد (ع) ام الفضل کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔

مؤرخین نے امام (ع) کی شہادت کی کیفیت تین صورتوں میں نقل کی ہے:

پہلی روایت:

معتصم عباسی نے اپنے ایک وزیر کو حکم دیا کہ امام جواد (ع) کو دن کے کھانے کے لیے اپنے گھر آنے کی دعوت دے اور انہيں کھانے میں زہر دے۔ معتصم نے زور دے کر کہا کہ امام جواد (ع) انکار کریں تو کہلوا بھیجو کہ مجلس خصوصی ہے ! اس وزیر نے امام جواد (ع) کو گھر آنے کی دعوت دی تو اس کو امام کے اکراہ اور امتناع کا سامنا کرنا پڑا۔

وزیر نے بےحد اصرار اور تاکید کے ساتھ امام (ع) کو کہا کہ " مجھے بہت زیادہ شوق ہے کہ آپ اپنے مبارک قدم ہمارے گھر میں رکھیں اور میرے گھر کو متبرک کریں اور وزراء میں سے ایک شخص بھی آپ کی ملاقات کے لیے آئے۔ بہر حال امام (ع) کو دعوت قبول کرنے پر مجبور کیا گیا۔

امام جواد (ع) عباسی وزیر کے گھر میں کھانے کے دسترخوان پر بیٹھے تو پہلا نوالہ کھاتے ہیں، مسمومیت کا احساس کیا اور فوری طور پر اپنا گھوڑا منگوایا کہ اپنے گھر تشریف لے جائیں۔ پہلا نوالہ کھانے کے بعد وزير نے اصرار کیا کہ بیٹھیں اور مزید کھانا کھائیں لیکن امام (ع) نے فرمایا:

خروجي من دارك خير لك ،

تمہارے گھر سے میرا باہر نکلنا تمہارے لیے بہتر ہے۔

امام (ع) نے اسی حال میں وزیر کا گھر ترک کر دیا اور اس رات دن اور رات کو مسمومیت کی وجہ سے تڑپتے رہے اور وہ نوالہ کھانے کے 20 گھنٹے بعد جام شہادت نوش کیا۔

دوسری روایت:

ابن شہر آشوب روایت کرتے ہیں: معتصم نے امام (ع) کو جبری دعوت پر بلوایا اور بظاہر ان کا استقبال کیا اور اپنے تُرک سپاہ کے کمانڈر " اشناس " کو بڑی مقدار میں تحفے تحائف دے کر امام (ع) کی خدمت میں روانہ کیا اور اس کو حکم دیا کہ ریواس (ریوند چینی) کا ترش ذائقے والا شربت (جو اس کو بظاہر معتصم نے دیا تھا) امام (ع) کو پلائے۔ اشناس نے تحفائف ديئے اور امام (ع) کو خوش آمدید کہنے کے بعد کہا:

یہ لذیذ شربت ہے جس کو خشک برف سے ٹھنڈا کیا گیا اور خلیفہ معتصم اور قاضی احمد بن داؤد اور سعید بن خضیب اور متعدد درباری شخصیات نے بھی پی لیا ہے، خلیفہ نے حکم دیا ہے کہ اس شربت کو اسی وقت نوش فرمائیں!

امام (ع) نے شربت لے لیا اور فرمایا: کوئی حرج نہيں ہے میں یہ شربت رات کو پی لوں گا۔

اشناس نے کہا: یہ شربت ابھی اسی وقت پینا پڑے گا، کیونکہ اب یہ ٹھنڈا ہے اور اگر رات تک نہ پیا جائے تو اپنی خاصیت کھو دے گا۔ چنانچہ اشناس نے امام (ع) کو شربت پینے پر مجبور کیا حالانکہ آپ (ع) اشناس کے منصوبے سے آگاہ ہو چکے تھے، لیکن اسکے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔

مناقب ال ابی طالب، ج 4، ص 379، بحارالانوار، ج 50، ص 8

تیسری روایت:

ابو اسحاق محمد بن ہارون (معتصم عباسی) نے بادشاہ بنتے ہی امام ابو جعفر محمد علی الجواد (ع) کو شہید کرنے کے منصوبے بنانا شروع کیے۔ حتی مامون کی بیٹی اور امام (ع) کی زوجہ ام الفضل کو حکم دیا کہ امام (ع) کو مسموم کرے اور اس نے ایسا ہی کیا اور امام (ع) کو شہید کر دیا۔

معتصم ام الفضل کے زنانہ جذبات سے آگاہ تھا اور جانتا تھا کہ وہ امام (ع) سے راضی نہیں ہے اور امام (ع) اپنی دوسری زوجہ ام الحسن کو کہ جو امام (ع) کے بیٹے کی ماں ہیں، کو ام الفضل پر ترجیح دیتے ہیں جو ماں نہ بن سکی تھی۔ چنانچہ اس نے ام الفضل کو اپنی سازش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مناسب ترین فرد سمجھا۔ امام (ع) کی بے وفا زوجہ نے اپنے چچا معتصم کی سازش میں آ کر اس کی ہدایات پر عمل کیا۔

چونکہ معتصم اور جعفر جانتے تھے کہ امام (ع) انگور کو پسند فرماتے ہیں، چنانچہ انھوں نے " رزاقی انگوروں " کے دانوں کو میں زہر داخل کیا اور ام الفضل نے انگور کے 19 دانے امام (ع) کو کھلا دیئے۔ جب امام (ع) نے زہریلے انگور کھا لیے تو ام الفضل بہت مغموم ہوئی اور پریشان ہو کر دھاڑیں مار مار کر رونے لگی۔

امام (ع) اس کی خیانت سے آگاہ ہوئے اور فرمایا: اب روتی کیوں ہو ؟ خدا کی قسم خدا تجھے ایک لا علاج زخم سے دوچار کرے گا اور بلا سے دوچار ہو جاؤ گی کہ اپنا درد کسی کو نہ بتا سکو گی۔

بحار الانوار، ج 50، ص 17٫

باغ عصمت کے اس نو رستہ پھول کی عمر اگرچہ کم تھی، لیکن اس کے رنگ و بو نے جانوں کو فیض بخشا۔ جو افکار آپ (ع) نے اپنے پیچھے چھوڑے ہیں، جن مسائل کا آپ (ع) نے جواب دیا ہے اور جو کلمات اور احادیث آپ (ع) سے نقل ہوئی ہیں، ابد تک تاریخ اسلام کی زینت ہیں۔ امام جواد (ع) کی عمر مبارک 25 سال اور دوران امامت 17 سال ہے۔

سال شہادت:

ابن ابی ثلج البغدادی (متوفی سن 325 ہجری) تاریخ آئمہ(ع) میں اور محمد بن یعقوب کلینی (متوفی سن 328 ہجری) اصول کافی میں، شیخ مفید (متوفی سن 413 ہجری) الارشاد میں، شیخ طبرسی امامی (متوفی پانچویں صدی ہجری) دلائل الامامہ میں، علامہ محمد باقر مجلسی (متوفی سن 1111 ہجری) بحار الانوار میں اور محدث شیخ عباس قمی (متوفی سن 1359 ہجری) منتہی الآمال میں لکھتے ہیں کہ امام جواد (ع) سن 220 ہجری میں جام شہادت نوش کر گئے تھے۔

یوم شہادت:

ابن ابی ثلج بغداد اور محمد بن یعقوب کلینی نے لکھا ہے کہ امام جواد (ع) نے منگل 6 ذوالحجہ سن 220 ہجری کے دن شہادت پائی اور محمد جن جریر بن رستم طبری کہتے ہیں کہ آپ (ع) منگل 5 ذوالحجہ سن 220 ہجری کے دن طلوع آفتاب کے دو گھنٹے بعد شہید ہوئے تھے۔

علامہ مجلسی، شیخ عباس قمی اور سید محمد قزوینی کا کہنا ہے کہ امام (ع) ماہ ذوالقعدۃ کے آخر میں شہید ہوئے ہیں۔

ایک روایت یہ ہے کہ امام 29 محرم الحرام سنہ 220 ہجری کو بغداد تشریف فرما ہوئے اور اسی سال ماہ ذوالقعدۃ میں 25 سال کی عمر میں شہید ہوئے۔

مقام شہادت:

تمام محدثین و مؤرخین کا اتفاق ہے کہ امام جواد (ع) کی شہادت بغداد میں ہوئی ہیں۔ آپ (ع) کو قریش کے قبرستان میں اپنے دادا حضرت امام موسی بن جعفر الکاظم (ع) کی قبر کی پشت پر سپرد خاک کیا گیا۔ آج بھی دونوں اماموں کا حرم ایک ہی ہے، جس کو کاظمین کہا جاتا ہے۔

قاتلوں کا انجام:

 بہت عرصہ قبل امام جواد (ع) کی ولادت کے بعد امام رضا (ع) نے فرمایا تھا کہ: " میرے اس بیٹے کو غیظ و غضب کے ساتھ قتل کیا جائے گا اور اہل آسمان اس پر روئیں گے اور اللہ اس کے دشمنوں پر غضب ناک ہو گا اور انہيں بہت کم عرصے میں درد ناک عذاب میں مبتلا فرمائے گا "۔

چنانچہ امام جواد (ع) کی شہادت کے دوسرے ہی دن آپ (ع) سالا جعفر بن مامون (جو اپنی بہن کو امام (ع) کے خلاف اکساتا رہا تھا) کنویں میں گرا اور اس کے سر پر جو ضرب وارد ہوئی اس کے باعث وہ دیوانہ ہوا اور آخر عمر تک دیوانگی میں زندگی بسر کی۔ معتصم عباسی جس نے قتل کا حکم دیا تھا، کی حکومت چھ سال سے زیادہ عرصے تک نہ چلی۔

ام الفضل کا انجام کیا ہوا ؟

امام جواد (ع) نے مسموم ہونے سے پہلے جو کچھ ام الفضل سے فرمایا تھا۔ وہی ہوا ام الفضل ایسی بیماری میں مبتلا ہوئی جس کے بارے میں وہ کسی کو بھی نہ بتا سکتی تھی۔ وہ کسی نسوانی مرض میں مبتلا تھی اور اس نے اپنی پوری دولت اپنے علاج پر خرچ کر دی مگر افاقہ نہ ہوا اور نہایت غربت اور تنگ دستی کی حالت میں مر گئی۔

امام جواد (ع) کی شہادت:

ایک مرد جو حضرت امام جواد (ع) کا رضاعی بھائی تھا، نے کہا ہے کہ: میں کسی وقت امام علی النقی الہادی (ع) کی خدمت میں حاضر تھا کہ ابو زکریا نامی ایک مرد، جو امام ہادی (ع) کی گھر کی نگرانی کیا کرتا تھا اور امام (ع) کو بعض مسائل سکھائے کرتے تھے، بھی موجود تھا۔ اسی حال میں کہ امام (ع) ایک تختی کو ابو زکریا کے لیے پڑھ کر سنا رہے تھے، اچانک رونے لگے۔ ابو زکریا نے رونے کا سبب پوچھا تو امام (ع) نے جواب نہیں دیا اور اس کے بعد امام ہادی (ع) گھر کی اندرونی میں تشریف لے گئے تو آہ و بکاء کی صدا اندر سے بلند ہوئی۔

جب امام (ع) باہر تشریف لائے اور ہم نے پوچھا تو امام (ع) نے فرمایا: اسی وقت میرے والد دنیا سے رخصت ہو گئے۔

ہم نے پوچھا: آپ کو کیسے معلوم ہوا ؟

فرمایا: پروردگار کی عظمت و جلال سے میرے وجود میں ایک کفیت طاری ہوئی جو اس سے قبل کبھی پیدا نہیں ہوئی تھی اور میں حالت کی اس تبدیلی کے دوران سمجھ گیا کہ میرے والد محمد تقی الجواد (ع) دنیا سے رخصت ہوئے ہیں۔ مجلس میں حاضر افراد کہتے ہیں: ہم نے اس واقعے کی تاریخ اور دن اور مہینے کو ذہن نشین کیا اور بعد میں معلوم ہوا کہ امام جواد (ع) اسی دن شہید ہوئے تھے جس دن امام ہادی (ع) پر وہ کیفیت طاری ہوئی تھی۔

مامون رشید عباسی اور حضرت امام محمد تقی  (ع)  کا پہلا سفر عراق:

عباسی خلیفہ مامون رشید حضرت امام رضا علیہ السلام کی شہادت سے فراغت کے بعد یا اس لیے کہ اس پر امام رضا کے قتل کا الزام ثابت نہ ہو سکے یا اس لیے کہ وہ امام رضا کی ولیعہدی کے موقع پر اپنی بیٹی ام حبیب کی شادی کا اعلان بھی کر چکا تھا کہ ولی عہد کے فرزند امام محمد تقی کے ساتھ کرے گا اسے نبھانے کے لیے یا اس لیے کہ ابھی اس کی سیاسی ضرورت اسے امام محمد تقی کی طرف توجہ کی دعوت دے رہی تھی ،بہر حال جو بات بھی ہو، اس نے یہ فیصلہ کر لیا کہ امام محمد تقی علیہ السلام کو مدینہ سے دعوت نامہ ارسال کیا اور انہیں اسی طرح مجبور کر کے بلایا جس طرح امام رضا علیہ السلام کو بلوایا تھا۔ حکم حاکم مرگ مفاجات، بالاخر امام محمد تقی علیہ السلام کو بغداد آنا پڑا۔

بازار اور مچھلی کا واقعہ:

امام محمد تقی علیہ السلام جن کی عمر اس وقت تقریبا 9 سال کی تھی، ایک دن بغداد کے کسی گزر گاہ میں کھڑے ہوئے تھے اور چند لڑکے وہاں کھیل رہے تھے کہ ناگہاں خلیفہ مامون کی سواری آتی دکھائی دی، سب لڑکے ڈر کر بھاگ گئے مگر حضرت امام محمد تقی علیہ السلام اپنی جگہ پر کھڑے رہے جب مامون کی سواری وہاں پہنچی تو اس نے حضرت امام محمد تقی سے مخاطب ہو کر کہا کہ صاحبزادے جب سب لڑکے بھاگ گئے تھے تو تم کیوں نہیں بھاگے؟ انہوں نے بے ساختہ جواب دیا کہ میرے کھڑے رہنے سے راستہ تنگ نہ تھا جو ہٹ جانے سے وسیع ہو جاتا اور میں نے کوئی جرم نہیں کیا تھا کہ ڈرتا نیز میرا حسن ظن ہے کہ تم بے گناہ کو ضرر نہیں پہنچاتے۔ مامون کو حضرت امام محمد تقی کا انداز بیان بہت پسند آیا۔

اس کے بعد مامون وہاں سے آگے بڑھا، اس کے ساتھ شکاری باز بھی تھے۔ جب آبادی سے باہر نکل گیا تو اس نے ایک باز کو ایک چکور پر چھوڑا باز نظروں سے اوجھل ہو گیا اور جب واپس آیا تو اس کی چونچ میں ایک چھوٹی سی مچھلی تھی جس کو دیکھ کر مامون بہت متعجب ہوا تھوڑی دیر میں جب وہ اسی طرف لوٹا تو اس نے حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کو دوسرے لڑکوں کے ساتھ وہیں دیکھا جہاں وہ پہلے تھے لڑکے مامون کی سواری دیکھ کر پھر بھاگے، لیکن حضرت امام محمد تقی علیہ السلام بدستور سابق وہیں کھڑے رہے جب مامون ان کے قریب آیا تو مٹھی بند کر کے کہنے لگا کہ صاحبزادے بتاؤ، میرے ہاتھ میں کیا ہے انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے اپنے دریائے قدرت مین چھوٹی مچھلیاں پیدا کی ہیں اور سلاطین اپنے باز سے ان مچھلیوں کا شکار کر کے اہلبیت رسالت کے علم کا امتحان لیتے ہیں۔ یہ سن کر مامون بولا ! بے شک تم علی بن موسی الرضا کے فرزند ہو، پھر ان کو اپنے ساتھ لیتا گیا۔

صواعق محرقہ ص 123

مطالب السول ص 290

شواہد النبوت ص 204

نور الابصار ص 145

ارحج المطالب ص 459

یہ واقعہ ہماری بھی بعض کتابوں میں ہے اس واقعہ کے سلسلہ میں جن کتابوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ان میں ان اللہ خلق فی بحر قدرتہ سمکا صغارا، مندرج ہے البتہ بعض کتب میں، بین السماء و الھواء لکھا ہے، اول الذکر کے متعلق تو تاویل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ ہر دریا خداوند کی قدرت سے جاری ہے اور مذکورہ واقعہ میں امکان قوی ہے کہ باز اسی زمین پر جو دریا ہیں انھیں کے کسی ایک سے شکار کر کے لایا ہو گا البتہ آخر الذکر کے متعلق کہا جا سکتا ہے:

1- جہاں تک مجھے علم ہے ہر گہرے سے گہرے دریا کی انتہا کسی سطح ارضی پر ہے۔

2- بقول علامہ مجلسی بعض دریا ایسے ہیں جن سے ابر چھوٹی مچھلیوں کو اڑا کر اوپر لے جاتے ہیں ۔

3- آسمان اور ہوا کے درمیان بحر متلاطم سے مراد فضا کی وہ کیفیات ہوں جو دریا کی طرح پیدا ہوتے ہیں۔

4- کہا جاتا ہے کہ علم حیوان میں یہ ثابت ہے کہ مچھلی دریا سے ایک سو پچاس گز تک بعض حالات میں بلند ہو جاتی ہے، بہر حال انہیں گہرائیوں کی روشنی میں فرزند رسول نے مامون سے فرمایا کہ بادشاہ بحر قدرت خداوندی سے شکار کر کے لایا ہے اور آل محمد کا امتحان لیتا ہے۔

ام الفضل کی رخصتی ، امام محمد تقی (ع) کی مدینہ کو واپسی اور حضرت کے اخلاق و اوصاف و عادات و خصائل:

اس شادی کا پس منظر جو بھی ہو ، لیکن مامون نے نہایت اچھوتے انداز سے اپنی لخت جگر ام الفضل کو حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کے حبالہ نکاح میں دیدیا۔ تقریبا ایک سال تک امام علیہ السلام بغداد میں مقیم رہے، مامون نے دوران قیام بغداد میں آپ کی عزت و توقیر میں کوئی کمی نہیں کی ،

الی ان توجہ بزوجتہ ام الفضل الی المدینة المشرفة،

یہاں تک آپ اپنی زوجہ ام الفضل سمیت مدینہ مشرفہ تشریف لے آئے۔

نور الابصار ص 146

مامون نے بہت ہی انتظام و اہتمام کے ساتھ ام الفضل کو حضرت کے ساتھ رخصت کر دیا۔

علامہ شیخ مفید، علامہ طبرسی، علامہ شبلنجی، علامہ جامی تحریر فرماتے ہیں کہ امام علیہ السلام اپنی اہلیہ کو لیے ہوئے مدینہ تشریف لے جا رہے تھے، آپ کے ہمراہ بہت سے حضرات بھی تھے چلتے چلتے شام کے وقت آپ وارد کوفہ ہوئے وہاں پہنچ کر آپ نے جناب مسیب کے مکان پر قیام فرمایا اور نماز مغرب پڑھنے کے لیے وہاں کی ایک نہایت ہی قدیم مسجد میں تشریف لے گئے، آپ نے وضو کے لیے پانی طلب فرمایا، پانی آنے پر ایک ایسے درخت کے نیچے میں وضو کرنے لگے جو بالکل خشک تھا اور مدتوں سے سرسبزی اور شادابی سے محروم تھا۔ امام علیہ السلام نے اس جگہ وضو کیا، پھر آپ نماز مغرب پڑھ کر وہاں سے واپس ہوئے اور اپنے پروگرام کے مطابق وہاں سے روانہ ہو گئے۔

امام علیہ السلام تو تشریف لے گئے لیکن ایک عظیم نشانی چھوڑ گئے اور وہ یہ تھی کہ جس خشک درخت کے نیچے آپ نے وضو فرمایا تھا وہ سرسبز و شاداب ہو گیا، اور رات ہی بھر میں وہ تیار پھلوں سے بھر گیا، لوگوں نے اسے دیکھ کر بے انتہا تعجب کیا۔

الارشاد، شیخ مفید، ص 479

اعلام الوری ص 205

نور الابصار ص 147

شواہد النبوت ص 205

کوفہ سے روانہ ہو کر طے مراحل و قطع منازل کرتے ہوئے آپ مدینہ منورہ پہنچے وہاں پہنچ کر آپ اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی میں مشغول ہو گئے۔ پند و نصائح، تبلیغ و ہدایت کے علاوہ آپ نے اخلاق کا عملی درس شروع کر دیا خاندانی طرہ امتیاز کے بموجب ہر ایک سے جھک کر ملنا، ضرورت مندوں کی حاجت روائی کرنا، مساوات اور سادگی کو ہر حال میں پیش نظر رکھنا، غرباء کی پوشیدہ طور پر خبر لینا، دوستوں کے علاوہ دشمنوں سے بھی اچھا سلوک کرتے رہنا، مہمانوں کی خاطر داری میں توجہ کرنا اور علمی و مذہبی پیاسوں کیے لیے فیض کے چشموں کو جاری رکھنا ، آپ کی سیرت زندگی کے نمایاں پہلو تھے۔ اہل دنیا جو آپ کی بلندی نفس کا پورا اندازہ نہ رکھتے تھے، انہیں یہ تصور ضروری ہوتا تھا کہ ایک کمسن بچے کا عظیم الشان مسلمان سلطنت کے شہنشاہ کا داماد ہو جانا یقینا اس کے چال ڈھال ، طور طریقے کو بدل دے گا اور اس کی زندگی دوسرے سانچے میں ڈھل جائے گی۔

حقیقت میں یہ ایک بہت بڑا مقصد ہو سکتا ہے جو مامون کی کوتاہ نگاہ کے سامنے بھی تھا بنی امیہ یا بنی عباس کے بادشاہوں کو آل رسول کی ذات سے اتنا اختلاف نہ تھا، جتنا ان کی صفات سے تھا۔ وہ ہمیشہ اس کے در پے رہتے تھے کہ بلندی اخلاق اور معراج انسانیت کا وہ مرکز جو مدینہ منورہ میں قائم ہے اور جو سلطنت کے مادی اقتدار کے مقابلہ میں ایک مثالی روحانیت کا مرکز بنا ہوا ہے، یہ کسی طرح ٹوٹ جائے اسی کے لیے گھبرا گھبرا کر وہ مختلف تدبیریں کرتے تھے ۔

امام حسین علیہ السلام سے بیعت طلب کرنا، اسی کی ایک شکل تھی اور پھر امام رضا کو ولی کو عہد بنانا اسی کا دوسرا طریقہ تھا فقط ظاہری شکل و صورت میں ایک کا انداز معاندانہ اور دوسرے کا طریقہ  ارادت مندی کے روپ میں تھا، مگر اصل حقیقت دونوں صورتوں کی ایک تھی ، جس طرح امام حسین نے بیعت نہ کی، تو وہ شہید کر ڈالے گئے، اسی طرح امام رضا علیہ السلام ولی عہد ہونے کے باوجود حکومت کے مادی مقاصد کے ساتھ ساتھ نہ چلے تو آپ کو زہر کے ذریعہ سے ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا گیا۔

اب مامون کے نقطہ نظر سے یہ موقع انتہائی قیمتی تھا کہ امام رضا کا جانشین ایک آٹھ، نو، برس کا بچہ ہے، جو تین چار برس پہلے ہی باپ سے چھڑا لیا جا چکا تھا۔ حکومت وقت کی سیاسی سوجھ بوجھ کہہ رہی تھی کہ اس بچہ کو اپنے طریقے پر لانا نہایت آسان ہے اور اس کے بعد وہ مرکز جو حکومت وقت کے خلاف ساکن اور خاموش مگر انتہائی خطرناک قائم ہے ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔

مامون رشید عباسی، امام رضا علیہ السلام کے ولی عہدی کی مہم میں اپنی ناکامی کو مایوسی کا سبب نہیں تصور کرتا تھا اس لیے کہ امام رضا کی زندگی ایک اصول پر قائم رہ چکی تھی، اس میں تبدیلی نہیں ہوئی تو یہ ضروری نہیں کہ امام محمد تقی جو آٹھ ، نو برس کے سن سے قصر حکومت میں نشو و نما پا کر بڑھیں وہ بھی بالکل اپنے بزرگوں کے اصول زندگی پر برقرار ہیں۔

سوائے ان لوگوں کے جو ان مخصوص افراد کے خدا داد کمالات کو جانتے تھے، اس وقت کا ہر شخص یقینا مامون ہی کا ہم خیال ہو گا، مگر حکومت کو حیرت ہو گئی جب یہ دیکھا کہ وہ نو برس کا بچہ جسے شہنشاہ اسلام کا داماد بنایا گیا ہے اس عمر میں اپنے خاندانی رکھ رکھاؤ اور اصول کا اتنا پابند ہے کہ وہ شادی کے بعد محل شاہی میں قیام سے انکار کر دیتا ہے ، اور اس وقت بھی کہ جب بغداد میں قیام رہتا ہے تو ایک علیحدہ مکان کرایہ پر لے کر اس میں قیام فرماتے ہیں اس سے بھی امام کی مستحکم قوت ارادی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ عموما مالی اعتبار سے لڑکی والے جو کچھ بھی بڑا درجہ رکھتے ہوتے ہیں تو وہ یہ پسند کرتے ہیں کہ جہاں وہ رہیں وہیں داماد بھی رہے اس گھر میں نہ سہی تو کم از کم اسی شہر میں اس کا قیام رہے، مگر امام محمد تقی نے شادی کے ایک سال بعد ہی مامون کو حجاز واپس جانے کی اجازت پر مجبور کر دیا یقینا یہ امر ایک چاہنے والے باپ اور مامون ایسے باقتدار کے لیے انتہائی ناگوار تھا مگر اسے لڑکی کی جدائی گوارا کرنا پڑی اور امام مع ام الفضل کے مدینہ تشریف لے گئے۔

مدینہ تشریف لانے کے بعد ڈیوڑھی کا وہی عالم رہا جو اس کے پہلے تھا ،نہ پہرہ دار نہ کوئی خاص روک ٹوک، نہ تزک و احتشام نہ اوقات ملاقات، نہ ملاقاتیوں کے ساتھ برتاؤ میں کوئی تفریق زیادہ تر نشست مسجد نبوی میں رہتی تھی جہاں مسلمان حضرت کے وعظ و نصحیت سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ راویان حدیث، اخبار و احادیث دریافت کرتے تھے طالب علم مسائل پوچھتے تھے ، صاف ظاہر تھا کہ جعفر صادق ہی کا جانشین اور امام رضا کا فرزند ہے جو اسی مسند علم پر بیٹھا ہوا ہدایت کا کام انجام دے رہا ہے۔

امور خانہ داری اور ازدواجی زندگی میں آپ کے بزرگوں نے اپنی بیویوں کو جن حدود میں رکھا ہوا تھا انہیں حدود میں آپ نے ام الفضل کو بھی رکھا، آپ نے اس کی مطلق پرواہ نہ کی کہ آپ کی بیوی ایک شہنشاہ وقت کی بیٹی ہے چنانچہ ام الفضل کے ہوتے ہوئے آپ نے حضرت عمار یاسر کی نسل سے ایک محترم خاتون کے ساتھ عقد بھی فرمایا اور قدرت کو نسل امامت اسی خاتون سے باقی رکھنا منظور تھی ، یہی امام علی نقی کی ماں ہوئیں۔ ام الفضل نے اس کی شکایت اپنے باپ کے پاس لکھ کر بھیجی، مامون کے دل کے لیے بھی یہ کچھ کم تکلیف دہ امر نہ تھا، مگر اسے اب اپنے کیے کو نباہنا تھا۔ اس نے ام الفضل کو جواب میں لکھا کہ میں نے تمہارا عقد ابو جعفر سے ساتھ اس لیے نہیں کیا کہ ان پر کسی حلال خدا کو حرام کر دوں خبردار! مجھ سے اب اس قسم کی شکایت نہ کرنا۔

یہ جواب دے کر حقیقت میں اس نے اپنی خفت مٹائی ہے، ہمارے سامنے اس کی نظریں موجود ہیں کہ اگر مذہبی حیثیت سے کوئی با احترام خاتون ہوئی ہے تو اس کی زندگی میں کسی دوسری بیوی سے نکاح نہیں کیا گیا، جیسے پیغمبر اسلام کے لیے جناب خدیجة اور حضرت علی المرتضی کے لیے جناب فاطمة الزہراء ، مگر شہنشاہ دنیا کی بیٹی کو یہ امتیاز دینا صرف اس لیے کہ وہ ایک بادشاہ کی بیٹی ہے، اسلام کی اس روح کے خلاف تھا جس کے آل محمد محافظ تھے، اس لیے امام محمد تقی علیہ السلام نے اس کے خلاف طرز عمل اختیار کرنا اپنا فریضہ سمجھا۔

سوانح محمد تقی ج 2 ص 11

امام محمدتقی علیہ السلام اور طیء الارض:

امام محمد تقی علیہ السلام اگرچہ مدینہ میں قیام فرما تھے لیکن فرائض کی وسعت نے آپ کو مدینہ ہی کے لیے محدود نہیں رکھا تھا آپ مدینہ میں رہ کر اطراف عالم کے عقیدت مندوں کی خبر گیری فرمایا کرتے تھے یہ ضروری نہیں کہ جس کے ساتھ کرم گستری کی جائے وہ آپ کے کوائف و حالات سے بھی آگاہ ہو، عقیدہ کا تعلق دل کی گہرائی سے ہے کہ زمین و آسمان ہی نہیں ساری کائنات ان کے تابع ہوتی ہے انہیں اس کی ضرورت نہیں پڑتی کہ وہ کسی سفر میں طے مراحل کے لیے زمین اپنے قدموں سے نانپا کریں، ان کے لیے یہی بس ہے کہ جب اور جہاں چاہیں چشم زدن میں پہنچ جائیں اور یہ عقلا محال بھی نہیں ہے ایسے خاصان خدا کے اس قسم کے واقعات قران مجید میں بھی ملتے ہیں۔

آصف ابن برخیا وصی جناب سلیمان علیہ السلام کے لیے علماء نے اس قسم کے واقعات کا حوالہ دیا ہے ان میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ آپ مدینہ منورہ سے روانہ ہو کر شام پہنچے، وہاں ایک شخص کو اس مقام پر عبادت میں مصروف و مشغول پایا جس جگہ امام حسین کا سر مبارک لٹکایا گیا تھا آپ نے اس سے کہا کہ میرے ہمراہ چلو وہ روانہ ہوا، ابھی چند قدم نہ چلا تھا ، کہ کوفہ کی مسجد میں جا پہنچا وہاں نماز ادا کرنے کے بعد جو روانگی ہوئی، تو صرف چند منٹوں میں مدینہ منورہ جا پہنچے اور زیارت و نمازسے فراغت کی گئی، پھر وہاں سے چل کر لمحوں میں مکہ معظمہ رسیدگی ہوئی ، طواف و دیگر عبادت سے فراغت کے بعد آپ نے چشم زدن میں اسے شام کی مسجد میں پہنچا دیا۔

اور خود نظروں سے اوجل ہو کر مدینہ منورہ جا پہنچے، پھر جب دوسرا سال آیا تو آپ بدستور شام کی مسجد میں تشریف لے گئے اور اس عابد سے کہا کہ میرے ہمراہ چلو، چنانچہ وہ چل پڑا آپ نے چند لمحوں میں اسے سال گزشتہ کی طرح تمام مقدس مقامات کی زیارت کرا دی، پہلے ہی سال کے واقعہ سے وہ شخص بے انتہا متاثر تھا ہی، کہ دوسرے سال بھی ایسا ہی واقعہ ہو گیا اب کی مرتبہ اس نے مسجد شام واپس پہنچتے ہی ان کا دامن تھام لیا اور قسم دے کر پوچھا کہ فرمائیے آپ اس عظیم کرامت کے مالک کون ہیں ؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ میں محمد ابن علی (امام محمد تقی ہوں) اس نے بڑی عقیدت اور تعظیم و تکریم کے مراسم ادا کیے۔

آپ کے واپس تشریف لے جانے کے بعد یہ خبر بجلی کی طرح تمام لوگوں میں پھیل گئی۔ جب والی شام محمد بن عبد الملک کو اس کی اطلاغ ملی اور یہ بھی پتا چلا کہ لوگ اس واقعہ سے بے انتہا متاثر ہو گئے ہیں۔ تو اس نے اس عابد پر مدعی نبوت ہونے کا الزام لگا کر اسے قید کر دیا اور پھر شام سے منتقل کرا کے عراق بھجوا دیا۔ اس نے والی کو قید خانہ سے ایک خط بھیجا جس میں لکھا کہ میں بے خطا ہوں، مجھے رہا کیا جائے، تو اس نے خط کی پشت پر لکھا کہ جو شخص تجھے شام سے کوفہ اور کوفہ سے مدینہ اور وہاں سے مکہ اور پھر وہاں سے شام پہنچا سکتا ہے، اپنی رہائی میں اسی کی طرف رجوع کرو۔

اس جواب کے دوسرے دن یہ شخص مکمل سختی کے باوجود، سخت ترین پہرہ کے ہوتے ہوئے قید خانہ سے غائب ہو گیا۔

علی بن خالد راوی کا بیان ہے کہ جب میں قید خانہ کے پھاٹک پر پہنچا تو دیکھا کہ تمام ذمہ داران حیران و پریشان ہیں، اور کچھ پتا نہیں چلا کہ عابد شامی زمین میں سما گیا یا آسمان پر اٹھا لیا گیا۔ شیخ مفید فرماتے ہیں کہ اس واقعہ سے علی بن خالد جو دوسرے مذہب کا پیرو تھا، امامیہ مسلک کا معتقد ہو گیا۔

شواہد النبوت ص 205

نور الابصار ص 146

اعلام الوری ص 731

الارشاد، مفید ص 481

حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی بعض کرامات:

صاحب تفسیر علامہ حسین واعظ کاشفی کا بیان ہے کہ حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی کرامات بے شمار ہیں۔

روضة الشہداء ص 438

علامہ عبد الرحمن جامی تحریر کرتے ہیں کہ :

1- مامون رشید کے انتقال کے بعد حضرت امام محمد تقی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ اب تیس ماہ بعد میرا بھی انتقال ہو جائے گا، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

2- ایک شخص نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ ایک مسماة (ام الحسن) نے آپ سے درخواست کی ہے کہ اپنا کوئی جامہ کہنہ (پرانا لباس) دیجیے تا کہ میں اسے اپنے کفن میں رکھوں آپ نے فرمایا کہ اب جامہ کہنہ کی ضرورت نہیں ہے۔ روای کا بیان ہے کہ میں وہ جواب لے کر جب واپس ہوا تو معلوم ہوا کہ 13 ۔ 14 دن ہو گئے ہیں کہ وہ انتقال کر چکی ہے۔

3- ایک شخص (امیہ بن علی) کہتا ہے کہ میں اور حماد بن عیسی ایک سفر میں جاتے ہوئے حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے تا کہ آپ سے رخصت ہو لیں، آپ نے ارشاد فرمایا کہ تم آج اپنا سفر ملتوی کر دو، چنانچہ میں حسب الحکم ٹہر گیا، لیکن میرا ساتھی حماد بن عیسی نے کہا کہ میں نے سارا سامان سفر گھر سے نکال رکھا ہے اب اچھا نہیں معلوم ہوتا کہ سفر ملتوی کر دوں، یہ کہہ کر وہ روانہ ہو گیا اور چلتے چلتے رات کو ایک وادی میں جا پہنچا اور وہیں قیام کیا، رات کے کسی حصے میں عظیم الشان سیلاب آ گیا، اور وہ تمام لوگوں کے ساتھ حماد کو بھی بہا کر لے گیا۔

شواہد النبوت ص 202

4- علامہ اربلی لکھتے ہیں کہ معمر ابن خلاد کا بیان ہے کہ ایک دن مدینہ منورہ میں جب کہ آپ بہت کمسن تھے مجھ سے فرمایا کہ چلو میرے ہمراہ چلو ! چنانچہ میں ساتھ ہو گیا حضرت نے مدینہ سے باہر نکل کر ایک وادی میں جا کر مجھ سے فرمایا کہ تم ٹھر جاؤ میں ابھی آتا ہوں چنانچہ آپ نظروں سے غائب ہو گئے اور تھوڑی دیر کے بعد واپس ہوئے واپسی پر آپ بے انتہاء ملول اور رنجیدہ تھے، میں نے پوچھا : فرزند رسول ! آپ کے چہرہ مبارک سے آثار حزن و ملال کیوں ہویدا ہیں ارشاد فرمایا کہ اسی وقت بغداد سے واپس آ رہا ہوں وہاں میرے والد ماجد حضرت امام رضا علیہ السلام زہر سے شہید کر دئیے گئے ہیں۔ میں ان پر نماز وغیرہ ادا کرنے گیا تھا۔

5- قاسم بن عباد الرحمن کا بیان ہے کہ میں بغداد میں تھا میں نے دیکھا کہ کسی شخص کے پاس تمام لوگ ہمیشہ آتے جاتے ہیں، میں نے دریافت کیا کہ جس کے پاس آنے جانے کا تانتا بندھا ہوا ہے یہ کون ہیں ؟ لوگوں نے کہا کہ ابو جعفر محمد بن علی علیہ السلام ہیں، ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ آپ ناقہ پر سوار اس طرف سے گذرے ، قاسم کہتا ہے کہ انہیں دیکھ کر میں نے دل میں کہا کہ وہ لوگ بڑے بیوقوف ہیں جو آپ کی امامت کے قائل ہیں اور آپ کی عزت و توقیر کرتے ہیں، یہ تو بچے ہیں اور میرے دل میں ان کی کوئی وقعت محسوس نہیں ہوتی، میں اپنے دل میں یہی سوچ رہا تھا کہ آپ نے قریب آ کر فرمایا: اے قاسم بن عبد الرحمن جو شخص ہماری اطاعت سے گریزاں ہے، وہ جہنم میں جائے گا۔ آپ کے اس فرمانے پر میں نے خیال کیا کہ یہ جادوگر ہیں کہ انہوں نے میرے دل کے ارادے کو جان لیا ہے، جیسے ہی یہ خیال میرے دل میں آیا آپ نے فرمایا کہ تمہارا خیال بالکل غلط ہے۔ تم اپنے عقیدے کی اصلاح کرو یہ سن کر میں نے آپ کی امامت کا اقرار کیا اور مجھے ماننا پڑا کہ آپ حجت اللہ ہیں۔

6- قاسم بن الحسن کا بیان ہے کہ میں ایک سفر میں تھا ، مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مفلوج الحال شخص نے مجھ سے سوال کیا، میں نے اسے روٹی کا ایک ٹکڑا دیدیا۔ ابھی تھوڑی دیر گذری تھی کہ ایک زبردست آندھی آئی اور وہ میری پگڑی اڑا کر لے گئی۔ میں نے بڑی تلاش کی لیکن وہ دستیاب نہ ہو سکی جب میں مدینہ پہنچا اور حضرت امام محمد تقی علیہ السلام سے ملنے گیا تو آپ نے فرمایا کہ اے قاسم تمہاری پگڑی ہوا اڑا لے گئی میں نے عرض کیا جی حضور! آپ نے اپنے ایک غلام کو حکم دیا کہ ان کی پگڑی لے آؤ، غلام نے پگڑی حاضر کی میں نے بڑے تعجب سے دریافت کیا کہ مولا ! یہ پگڑی یہاں کیسے پہنچی ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ تم نے جو راہ خدا میں روٹی کا ٹکڑا دیا تھا، اسے خدا نے قبول فرما لیا ہے، اے قاسم خداوند عالم یہ نہیں چاہتا جو اس کی راہ میں صدقہ دے، وہ اسے نقصان پہنچنے دے۔

7- ام الفضل نے حضرت امام محمد تقی کی شکایت اپنے والد مامون رشید عباسی کو لکھ کر بھیجی کہ ابو جعفرمیرے ہوتے ہوئے دوسری شادی بھی کر رہے ہیں۔ اس نے جواب دیا کہ میں نے تیری شادی ان کے ساتھ اس لیے نہیں کی حلال خدا کو حرام کر دوں انہیں قانون خداوندی اجازت دیتا ہے کہ وہ دوسری شادی کریں، اس میں تیرا کیا دخل ہے۔ دیکھ آئندہ سے اس قسم کی کوئی شکایت نہ کرنا اور سن تیرا فریضہ ہے کہ تو اپنے شوہر ابو جعفر کو جس طرح ہو راضی رکھ اس تمام خط و کتابت کی اطلاع حضرت کو ہو گئی۔

کشف الغمہ ص 120

شیخ حسین بن عبد الوہاب تحریر فرماتے ہیں کہ ایک دن ام الفضل نے حضرت کی ایک بیوی کو جو عمار یاسر کی نسل سے تھی، کو دیکھا تو مامون رشید کو کچھ اس طرح سے اسکے بارے میں کہا کہ وہ حضرت کے قتل پر آمادہ ہو گیا، مگر قتل نہ کر سکا۔

عیون المعجزات ص 154

حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کی ہدایات و ارشادات:

یہ ایک مسلہ حقیقت ہے کہ بہت سے بزرگ مرتبہ علماء نے آپ سے علوم اہل بیت کی تعلیم حاصل کی، آپ کے لیے مختصر حکیمانہ اقوال کا بھی ایک ذخیرہ ہے، جیسے آپ کے جد بزرگوار حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ جناب امیر علیہ السلام کے بعد امام محمد تقی علیہ السلام کے اقوال کو ایک خاص درجہ حاصل ہے۔ بعض علماء نے آپ کے فرامین کی تعداد کئی ہزار بتائی ہے۔ علامہ شبلنجی بحوالہ فصول المہمہ تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ :

1- خداوند عالم جسے جو نعمت دیتا ہے، بہ ارادہ دوام دیتا ہے ، لیکن اس سے وہ نعمت اس وقت زائل ہو جاتی ہے، جب وہ لوگوں یعنی مستحقین کو دینا بند کر دیتا ہے۔

2- ہر نعمت خداوندی میں مخلوق کا حصہ ہے جب کسی کو عظیم نعمتیں دیتا ہے، تو لوگوں کی حاجتیں بھی کثیر ہو جاتی ہیں۔ اس موقع پر اگر صاحب نعمت (مالدار) عہدہ برآ ہو سکا تو خیر ورنہ نعمت کا زوال لازمی ہو جاتا ہے۔

3- جو کسی کو بڑاسمجھتا ہے، اس سے ڈرتا ہے۔

4- جس کی خواہشات زیادہ ہوں گی اس کا جسم موٹا ہو گا۔

5- صحیفہ حیات مسلم کا سرنامہ حسن خلق ہے۔

6- جو خدا کے بھروسے پر لوگوں سے بے نیاز ہو جائے گا، لوگ اس کے محتاج ہوں گے۔

7- جو خدا سے ڈرے گا تو لوگ اس سے محبت رکھیں گے۔

8- انسان کی تمام خوبیوں کا مرکز زبان ہے۔

9- انسان کے کمالات کا دار و مدار عقل کے کمال پر ہے۔

10- انسان کے لیے فقر کی زینت عفت ہے، خدائی امتحان کی زینت شکر ہے، حسب کی زینت تواضع اور فروتنی ہے، کلام کی زینت فصاحت ہے، روایات کی زینت حافظہ ہے، علم کی زینت انکساری ہے، ورع و تقوی کی زینت حسن ادب ہے، قناعت کی زینت خندہ پیشانی ہے، ورع و پرہیز گاری کی زینت تمام مہملات سے کنارہ کشی ہے۔

11- ظالم اور ظالم کا مددگار اور ظالم کے فعل کے سراہانے والے ایک ہی زمرے میں ہیں، یعنی سب کا درجہ برابر ہے۔

12- جو زندہ رہنا چاہتا ہے، اسے چاہیے کہ برداشت کرنے کے لیے اپنے دل کو صبر آزما بنا لے۔

13- خدا کی رضا حاصل کرنے کے لیے تین چیزیں ہونی چاہئیں، اول استغفار، دوم نرمی، و فروتنی، سوم کثرت صدقہ۔

14- جو جلد بازی سے پرہیزکرے گا لوگوں سے مشورہ لے گا ، اللہ پر بھروسہ کرے گا، وہ کبھی شرمندہ نہیں ہو گا۔

15- اگر جاہل زبان بند رکھے تو اختلافات نہ ہوں گے۔

16- تین باتوں سے دل موہ لیے جاتے ہیں، 1 ۔ معاشرت با انصاف، 2 ۔ مصیبت میں ہمدردی، 3 ۔ پریشان خاطری میں تسلی ۔

17- جو کسی بری بات کو اچھی نگاہ سے دیکھے گا، وہ اس میں شریک سمجھا جائے گا۔

18- کفران نعمت کرنے والا خدا کی ناراضگی کو دعوت دیتا ہے۔

19- جو تمہارے کسی عطیہ پر شکریہ ادا کرے، گویا اس نے تمہیں اس سے زیادہ دیدیا ہے۔

20- جو اپنے بھائی کو پوشیدہ طور پر نصیحت کرے، وہ اس کا حسن ہے، اور جو علانیہ نصیحت کرے،گویا اس نے اس کے ساتھ برائی کی ہے۔

21- عقلمندی اور حماقت جوانی کے قریب تک ایک دوسرے پر انسان پر غلبہ کرتے رہتے ہیں اور جب 18 سال پورے ہو جاتے ہیں تو استقلال پیدا ہو جاتا ہے اور راہ معین ہو جاتی ہے۔

22- جب کسی بندہ پر نعمت کا نزول ہو اور وہ اس نعمت سے متاثر ہو کر یہ سمجھے کہ یہ خدا کی عنایت و مہربانی ہے، تو خداوند عالم کا شکر کرنے سے پہلے اس کا نام شاکرین میں لکھ لیتا ہے، اور جب کوئی گناہ کرنے کے ساتھ یہ محسوس کرے کہ میں خدا کے ہاتھ میں ہوں، وہ جب اور جس طرح چاہے عذاب کر سکتا ہے، تو خداوند عالم اسے استغفار سے قبل بخش دیتا ہے۔

23- شریف وہ ہے جو عالم ہے اور عقلمند وہ ہے جو متقی ہے۔

24- جلد بازی کر کے کسی امر کو شہرت نہ دو، جب تک تکمیل نہ ہو جائے۔

25- اپنی خواہشات کو اتنا نہ بڑھاؤ کہ دل تنگ ہو جائے۔

26- اپنے ضعیفوں پر رحم کرو اور ان پر ترحم کے ذریعہ سے اپنے لیے خدا سے رحم کی درخواست کرو۔

27- عام موت سے بری موت وہ ہے جو گناہ کے ذریعہ سے ہو اور عام زندگی سے خیر و برکت کے ساتھ والی زندگی بہتر ہے۔

28- جو خدا کے لیے اپنے کسی بھائی کو فائدہ پہنچائے، وہ ایسا ہے، جیسے اس نے اپنے لیے جنت میں گھر بنا لیا ہو۔

29- جو خدا پر اعتماد رکھے اور اس پر توکل اور بھروسہ کرے خدا اسے ہر برائی سے بچاتا ہے اور اس کی ہر قسم کے دشمن سے حفاظت کرتا ہے۔

30- دین عزت ہے، علم خزانہ ہے اور خاموشی نور ہے۔

31- زہد کی انتہا ورع و تقوی ہے۔

32- دین کو تباہ کر دینے والی چیز بدعت ہے۔

33- انسان کو برباد کرنے والی چیز لالچ ہے۔

34- حاکم کی صلاحیت رعایا کی خوشحالی کا دار و مدار ہے۔

35- دعا کے ذریعہ سے ہر بلا ٹل جاتی ہے۔

36- جو صبر و ضبط کے ساتھ میدان میں آ جائے، وہ کامیاب ہو گا۔

 37- جو دنیا میں تقوی کا بیج بوئے گا، آخرت میں دلی مرادوں کا پھل پائے گا۔

نور الابصار ص 148

امام محمدتقی (ع) کی نظربندی، قید اور شہادت:

مدینہ رسول سے فرزند رسول کو طلب کرنے کی غرض چونکہ نیک نیتی پر مبنی نہ تھی، اس لیے عظیم شرف کے باوجود آپ حکومت وقت کی کسی رعایت کے قابل نہیں متصور ہوئے۔ معتصم نے بغداد بلوا کر آپ کو قید کر دیا۔ علامہ اربلی لکھتے ہیں کہ:

معتصم جب خلیفہ بنا تو اس نے امام جواد کو مدینہ سے دار الحکومت بغداد بلوا کر قید خانے میں ڈال دیا۔

کشف الغمہ ص 121

ایک سال تک آپ نے قید کی سختیاں صرف اس جرم میں برداشت کیں کہ آپ کمالات امامت کے حامل کیوں ہیں اور آپ کو خدا نے یہ شرف کیوں عطا فرمایا ہے۔ بعض علماء کا کہنا ہے کہ آپ پر اس قدر سختیاں تھیں اور اتنی کڑی نگرانی اور نظر بندی تھی کہ آپ اکثر اپنی زندگی سے بیزار ہو جاتے تھے۔ بہرحال وہ وقت آ گیا کہ آپ صرف 25 سال کی عمر میں قید خانہ کے اندر آخری ذی قعدہ بتاریخ 29 ذی قعدہ 220 ہجری معتصم کے زہر سے شہید ہو گئے۔

کشف الغمہ ص 121

صواعق محرقہ ص 123

روضة الصفاء ج 3 ص 16

اعلام الوری ص 205

الارشاد ص 480

انوار النعمانیہ ص 127

انوار الحسینیہ ص 54

آپ کی شہادت کے متعلق ملا مبین کہتے ہیں کہ: معتصم عباسی نے آپ کو زہر سے شہید کیا۔

وسیلة النجات ص 297

ابن حجر مکی لکھتے ہیں کہ: آپ کو امام رضا کی طرح زہر سے شہید کیا گیا۔

صواعق محرقہ ص 123

علامہ حسین واعظ کاشفی لکھتے ہیں کہ:

کہتے ہیں کہ آپ زہر سے شہید ہوئے۔

روضة الشہداء ص 438

ملا جامی کی کتاب میں ہے ، قیل مات مسموما ،

کہا جاتا ہے کہ آپ کی وفات زہر سے ہوئی ہے۔

شواہد النبوت ص 204

علامہ نعمت اللہ جزائری لکھتے ہیں کہ: مات مسموما قد سمم المعتصم،

آپ زہر سے شہید ہوئے ہیں اور یقینا معتصم نے آپ کو زہر دیا ہے۔

انوار العنمانیہ ص 195

علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ: انہ مات مسموما،

آپ زہر سے شہید ہوئے ہیں،

یقال ان ام الفضل بنت المامون سقتہ بامر ابیہا،

کہا جاتا ہے کہ آپ کو آپ کی بیوی ام الفضل نے اپنے باپ مامون کے حکم کے مطابق (معتصم کی مدد سے) زہر دے کر شہید کیا۔

نور الابصار ص 147 ،ارحج المطالب ص 460

مطلب یہ ہوا کہ مامون رشید نے امام محمد تقی کے والد ماجد امام رضا کو اور اس کی بیٹی نے امام محمد تقی کو بقول امام شبلنجی شہید کر کے اپنے وطیرہ مستمرة اور اصول خاندانی کو فروغ بخشا ہے ، علامہ موصوف لکھتے ہیں کہ:

دخلت امراتہ ام الفضل الی قصر المعتصم،

امام محمد تقی کو شہید کر کے ان کی بیوی ام الفضل معتصم کے پاس چلی گئی۔

بعض معاصرین لکھتے ہیں کہ امام علیہ السلام نے شہادت کے وقت ام الفضل کے بدترین مستقبل کا ذکر فرمایا تھا جس کے نتیجہ میں اس کے ناسور ہو گیا تھا اور وہ آخر میں دیوانی ہو کر مری۔

مختصر یہ کہ شہادت کے بعد امام علی نقی علیہ السلام نے آپ کی تجہیز و تکفین میں شرکت کی اور نماز جنازہ پڑھائی اور اس کے بعد آپ مقابر قریش اپنے جد نامدار حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کے پہلو میں دفن کیے گئے چونکہ آپ کے دادا کا لقب کاظم اور آپ کا لقب جواد بھی تھا۔ اس لیے اس شہرت کو آپ کی شرکت سے کاظمین (دو کاظم)  اور وہاں کے اسٹیشن کو آپ کے دادا کی شرکت کی رعایت سے جوادین (دو جواد)  کہا جاتا ہے۔

اس مقبرہ قریش میں جسے کاظمین کے نام سے یاد کیا جاتا ہے 356 ہجری میں معز الدولہ اور 452 ہجری میں جلال الدولہ شاہان آل بویہ کے جنازے اعتقاد مندی سے دفن کیے گئے کاظمین میں جو شاندار روضہ بنا ہوا ہے اس پر بہت سے تعمیری دور گزرے، لیکن اس کی تعمیر تکمیل شاہ اسماعیل صفوی نے 966 ہجری میں کرائی اور 1255 ہجری میں محمد شاہ قاچار نے اسے جواہرات سے مرصع کیا۔

آپ کی ازواج اور اولاد:

علماء نے لکھا ہے کہ حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی چند بیویاں تھیں۔ جن ام الفضل بنت مامون رشید عباسی اور سمانہ خاتون یاسری نمایاں حیثیت رکھتی تھیں۔ جناب سمانہ خاتون جو کہ حضرت عمار یاسر کی نسل سے تھیں، کے علاوہ کسی سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ آپ کی اولاد کے بارے میں علماء کا اتفاق ہے کہ دو نرینہ اور دو غیر نرینہ تھیں۔ جن کے اسماء یہ ہیں:

1- حضرت امام علی نقی علیہ السلام، 2 ۔ جناب موسی مبرقع علیہ الرحمۃ، 3 ۔ جناب فاطمہ، 4 ۔ جناب امامہ،

الارشاد مفید ص 493

صواعق محرقہ ص 123

روضة الشہداء ص 438

نور الابصارص 147

انوار النعمانیہ ص 127

کشف الغمہ ص 116

اعلام الوری ص 205

امام محمد تقی (ع) جو چھوٹی عمر ہونے کے باوجود امامت کے منصب پر فائز تھے۔

امام محمد تقی (ع) جو چھوٹی عمر ہونے کے باوجود امامت کے منصب پر فائز تھے اور قيادت کی ذمہ دارياں ادا کر رہے تھے نظام حاکم کيلئے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا۔ مامون عباسی اہل تشيع کی جانب سے بغاوت سے سخت خوفزدہ تھا۔ لہذا انہيں اپنے ساتھ ملانے کيلئے مکاری اور فريبکاری سے کام ليتا تھا۔ اس مقصد کيلئے اس نے امام علی رضا (ع) کو عمر ميں خود سے کہيں زيادہ بڑا ہونے کے باوجود اپنا وليعہد بنايا اور انکے نام کا سکہ جاری کيا اور اپنی بيٹی سے انکی شادی کروائی۔ مامون نے امام محمد تقی (ع) سے بھی يہ رويہ اختيار کيا اور 211 ہجری ميں انہيں مدينہ سے بغداد بلوا ليا تا کہ انکی سرگرميوں پر کڑی نظر رکھ سکے۔

مامون عباسی چاہتا تھا کہ دھمکيوں اور لالچ جيسے سياسی ہتھکنڈوں کے ذريعے امام جواد (ع) کو اپنا حامی بنائے۔ اسکے علاوہ وہ يہ بھی چاہتا تھا کہ اہل تشيع کو خود سے بدبين نہ ہونے دے اور امام علی رضا (ع) کو شہيد کرنے کا الزم بھی اپنے دامن سے دھو سکے۔

امام محمد تقی (ع) اسکی توقعات کے برعکس اپنی تمام سرگرمياں انتہائی ہوشياری اور دقيق انداز ميں انجام ديتے تھے۔ وہ حج کے بہانے بغداد سے خارج ہو کر مکہ آ جاتے تھے اور واپسی پر کچھ عرصہ کيلئے مدينہ ميں رہ جاتے تھے تا کہ مامون کی نظروں سے دور اپني ذمہ دارياں انجام دے سکيں۔

مامون عباسی کے بعد اسکا بھائی معتصم بر سر اقتدار آيا۔ اس نے مدينہ کے والی عبد الملک ابن زياد کو لکھا کہ امام محمد تقی (ع) اور انکی اہليہ ام الفضل کو بغداد بھجوا دے۔ معتصم عباسی کے اقدامات کے باوجود امام محمد تقی (ع) کی محبوبيت ميں روز بروز اضافہ ہوتا چلا گيا۔ حکومت کيلئے جو چيز سب سے زيادہ ناگوار تھی وہ يہ کہ امام جواد (ع) چھوٹی عمر کے باوجود سب کی توجہ کے مرکز بنتے جا رہے تھے اور دوست اور دشمن ان کے علم اور فضيلت کے قائل ہو رہے تھے۔ جب امام جواد (ع) بغداد کی گليوں ميں جاتے تھے، تو سب لوگ آپکی زيارت کيلئے چھتوں اور اونچی جگہوں پر جمع ہو جاتےتھے۔

اس طرح بنی عباس کے حکمرانوں کی سازشوں کے باوجود امام محمد تقی (ع) کے اثر و رسوخ ميں روز بروز اضافہ ہوتا چلا گيا۔ معتصم انتہائی پريشان تھا کيونکہ وہ ديکھ رہا تھا کہ امام جواد (ع) انتہائی عقلمندی سے اسکے تمام منصوبوں پر پانی پھير رہے ہيں۔

سيستان کا رہنے والا بنی حنيفہ قبيلے کا ايک شخص کہتا ہے: ايک بار امام جواد (ع) کے ساتھ حج پر گيا ہوا تھا۔ ايک دن دسترخوان پر بيٹھ کر کھانا کھا رہے تھے، معتصم کے دربار کے کچھ افراد بھی موجود تھے۔ ميں نے امام جواد (ع) سے کہا کہ ہمارا حکمران اہلبيت (ع) سے محبت رکھنے والا شخص ہے، اس نے مجھ پر کچھ ٹيکس لگائے ہيں، آپ مجھے اسکے نام ايک خط لکھ ديں تا کہ ميرے ساتھ اچھا رويہ اختيار کرے۔ امام جواد (ع) نے لکھا: بسم اللہ الرحمان الرحيم، اس خط کا حامل شخص تمہارے بارے ميں اچھی رائے رکھتا ہے۔ تمہارے لیے فائدہ مند کام يہ ہے کہ لوگوں کے ساتھ نيکی سے پيش آؤ۔

وہ شخص کہتا ہے کہ جب ميں سيستان آيا اور حکمران کو خط ديا تو اس نے وہ خط اپنی آنکھوں سے لگايا اور مجھ سے پوچھا کہ تمہارا مسئلہ کيا ہے ؟ ميں نے کہا کہ تمہارے افراد نے مجھ پر بہت بھاری ٹيکس لگايا ہے، آپ دستور ديں کہ يہ ٹيکس ختم کر ديا جائے۔ اس نے کہا کہ جب تک ميں حکمران ہوں تم ٹيکس ادا نہ کرو۔

اس واقعہ سے اندازہ لگايا جا سکتا ہے کہ امام جواد (ع) کا اثر و رسوخ کس حد تک تھا۔ امام محمد تقی (ع) نے امامت کی بنيادوں کو مستحکم کيا اور اہلبيت (ع) کی محبوبیت کو حفظ کيا۔ اپنے زمانے کے بڑے بڑے علماء اور دانشور حضرات جيسے يحيی بن اکثم جو ايک بڑا فقيہ تھا، کے ساتھ مناظروں کے ذريعے امام جواد (ع) نے اہلبيت کا پيغام سب لوگوں تک پہنچايا۔ بنی عباس کے حکمران کسی صورت نہيں چاہتے تھے کہ امام جواد (ع) کی عظيم شخصيت سے لوگ آشنائی پيدا کريں لہذا انکو شہيد کرنے کے منصوبے بنانے لگے۔

معتصم عباسی نے اپنے ايک وزير کے ذريعے امام محمد تقی (ع) کو زہر کھلا کر شہيد کروا ديا۔ شہادت کے وقت امام جواد (ع) کی عمر 25 سال اور کچھ ماہ تھی۔

باب الحوائج حضرت محمد تقی (ع)  کا سیاسی کردار :

آپ کے دو مشہور لقب تھے، جواد اور تقی، امام محمد تقی علیہ السلام اگرچہ مدینہ میں قیام فرما تھے لیکن فرائض کی وسعت نے آپ کو مدینہ ہی کے لیے محدود نہیں رکھا تھا۔ آپ مدینہ میں رہ کر اطراف عالم کے عقیدت مندوں کی خبر گیری فرمایا کرتے تھے۔

امام جواد  (ع) کي سياسی حکمت عملی امامت کے فروغ کا باعث بنی اور مقام امامت کيلئے انکی شائستگی اور لياقت کو ثابت کر گئی۔

شيعيان خاص طور پر علويان جن کی سربراہی آئمہ معصومين (ع) کے ہاتھوں ميں تھی بنی اميہ کے دور حکومت اور منصور عباسی اور مہدی عباسی کی حکومت ميں شديد ترين حالات سے رو برو تھے۔ شيعہ تحريکيں مسلسل اور يکے بعد ديگرے اٹھتی تھيں اور حکومت کی جانب سے کچل دی جاتی تھيں۔ شيعہ ہونا بہت بڑا جرم بن چکا تھا، جسکی پاداش ميں قيد کر دينا، قتل کر دينا، تمام اموال کا ضبط کر لينا اور انکے گھروں کو مسمار کر دينا حکومت کا قانونی حق بن چکا تھا۔ آئمہ معصومين عليھم السلام بھی تقيہ کی حالت ميں تھے اور شيعيان کے ساتھ انکے روابط مخفيانہ طور پر انجام پاتے تھے۔

امام موسی کاظم (ع) کے بعد جب آئمہ معصومين عليھم السلام کی زير نگرانی سياسی فعاليت کے نتيجے ميں شيعيان ايک حد تک طاقتور ہو چکے تھے، وہ اس قابل ہو گئے تھے کہ اظہار وجود کر سکيں اور انکی تعداد بھی کافی حد تک بڑھ چکی تھی۔ لہذا شيعيان کئی سال تک آئمہ معصومين عليہم السلام سے کھل کر اظہار عقيدت کرنے کی طاقت سے محروم ہونے کے بعد اب ايسے مرحلے تک پہنچ چکے تھے کہ آئمہ معصومين عليھم السلام کی اجتماعی منزلت اس حد تک بلند ہو چکی تھی کہ خلفائے بنی عباس اعلانيہ طور پر ان سے اپنی دشمنی کا اظہار کرنے سے کتراتے تھے۔ دوسری طرف بنی عباس آئمہ معصومين عليھم السلام کو اپنے حال پر بھی نہيں چھوڑنا چاہتے تھے، تا کہ وہ مکمل آزادی کے ساتھ اپنی مرضی سے جو چاہيں انجام دے سکيں، لہذا انہوں نے فيصلہ کيا کہ آئمہ معصومين عليہم السلام کو اپنی زیر نگرانی رکھيں تا کہ انکی سرگرميوں پر کڑی نظر رکھ سکيں

چنانچہ مامون عباسی نے امام علی رضا (ع) کو مدينہ سے طوس آنے پر مجبور کر ديا۔ يہی چيز علويان کے اجتماعی اثر و رسوخ ميں اضافے کا باعث بنی۔ امام علی رضا (ع) خراسان ميں مستقر ہوئے اور آپ اور اپکے فرزند امام محمد تقی (ع) کے وکلاء کا نيٹ ورک اسلامی سر زمين کے کونے کونے تک پھيل گيا۔ شيعيان اس قابل ہو گئے کہ ہر سال حج کے موقع پر مکہ مکرمہ اور مدينہ منورہ ميں امام جواد  (ع) سے براہ راست ملاقات کر سکيں۔

امام محمد تقی (ع) کے ماننے والے بغداد، مدائن، عراق اور مصر تک پھيل گئے اور خراسان اور رے دو بڑے شيعہ مراکز کے طور پر ظاہر ہوئے۔ شيعيان امام جواد (ع) کے وکلاء کے ساتھ رابطہ برقرار کرنے کے علاوہ حج کے موقع پر خود امام (ع) سے بھی ملاقات کرتے رہتے تھے اور ان سے براہ راست رابطہ قائم رکھتے تھے۔ قم شيعوں کے بڑے اور اصلی مراکز ميں سے ايک تھا۔ قم کے شيعوں نے بھی امام محمد تقی (ع) کے ساتھ براہ راست رابطہ برقرار کر رکھا تھا۔ دوسری طرف قم کے لوگ مامون عباسی کی حکومت کی مخالفت کا بھی اظہار کرتے تھے۔ نوبت يہاں تک پہنچی کہ مامون عباسی نے علی ابن ہشام کی سربراہی ميں قم پر فوجی حملے کا حکم دے ديا ليکن اسے پسپائی کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح فارس، اہواز، سيستان اور خراسان ميں مختلف شيعہ گروہ وجود ميں آئے جو امام جواد (ع) سے مکمل رابطے ميں تھے۔

مامون عباسی جو بنی عباس کا سب سے زيادہ چالاک اور دور انديش حکمران تھا خود کو علم اور آزادی بيان کا حامی ظاہر کرتا تھا جسکا مقصد اقتدار پر اپنے قبضے کو باقی رکھنا اور ايسے حقائق کو مسخ کرنا تھا جو بنی عباس کی سياسی بقاء کيلئے خطرہ تھے۔ مامون عباسی امام محمد تقی (ع) کے دوران امامت ميں حکم فرما تھا، اور انکی زندگی کا بڑا حصہ مامون کے دوران حکومت ميں گزرا۔ مامون عباسی نے شيعہ تفکر پر مکمل غلبہ پانے کيلئے امام علی رضا (ع) اور امام محمد تقی (ع) کے دوران امامت ميں بہت سے اقدامات انجام ديئے۔ اس نے کوشش کی کہ گذشتہ حکمرانوں کے رويے کے برعکس آئمہ معصومين عليہم السلام کے ساتھ نئے انداز سے پيش آئے اور انہيں اپنے زمانے کے نامور دانشور اور علماء حضرات کے ساتھ  علمی مناظروں کی دعوت ديتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ امام علی رضا (ع) اور امام محمد تقی (ع) جن کی عمر بھی کم تھی، کو کسی طرح علمی ميدان ميں شکست سے دوچار کر سکے۔ مامون عباسی آئمہ معصومين عليھم السلام کی علمی شخصيت کو خدشہ دار کر کے تشيع کو جڑ سے اکھاڑ پھينکے کی سازشوں ميں مصروف تھا۔

امام علی رضا (ع) کی شہادت کے بعد بھی بنی عباس کی شيعہ مخالف سازشيں جاری رہيں۔ مامون عباسی کا طريقہ يہ تھا کہ اس نے ہر شخص پر ايک جاسوس مقرر کر رکھا تھا اور يہ کام وہ اپنی کنيزوں سے ليا کرتا تھا۔ وہ جسکی جاسوسی کرنا چاہتا تھا اسے اپنی ايک کنيز تحفے کے طور پر پيش کرتا تھا، يہی کنيز اسکے بارے ميں تمام معلومات مامون عباسی تک پہنچاتی رہتی تھی۔ لہذا امام محمد تقی (ع) کی سرگرميوں پر نظر رکھنے کيلئے مامون عباسی نے انکی شادی اپنی بيٹی ام الفضل سے کروا دی، جيسا کہ امام علی رضا (ع) کے دور ميں بھی انکی شادی اپنی دوسری بيٹی ام حبيبہ سے کروا چکا تھا۔

یَا أَبَا جَعْفَرٍ یَا مُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ أَیُّهَا التَّقِیُّ الْجَوَادُ یَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ‏  یَا حُجَّهَ اللَّهِ عَلَى خَلْقِهِ یَا سَیِّدَنَا وَ مَوْلاَنَا إِنَّا تَوَجَّهْنَا وَ اسْتَشْفَعْنَا وَ تَوَسَّلْنَا بِکَ إِلَى اللَّهِ  ‏وَ قَدَّمْنَاکَ بَیْنَ یَدَیْ حَاجَاتِنَا یَا وَجِیهاً عِنْدَ اللَّهِ اشْفَعْ لَنَا عِنْدَ اللَّهِ ۔۔۔۔۔۔

التماس دعا۔۔۔۔۔ 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی