2017 November 24
سعودی و یہودیوں کے تعلقات بہت پرانے اور گہرے ہیں، موساد سربراہ کا اعتراف
مندرجات: ٩٥٠ تاریخ اشاعت: ٢١ August ٢٠١٧ - ١٠:٥٤ مشاہدات: 53
خبریں » پبلک
سعودی و یہودیوں کے تعلقات بہت پرانے اور گہرے ہیں، موساد سربراہ کا اعتراف

شیعیت نیوز:  21مئی 2013 کو اسرائیلی انٹیلی جینس موساد کے سربراہ افرائم ھالوی نے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ سعودیہ اور یہودیوں کے مابین قدیمی تعلقات ہیں اور سلسلہ گذشتہ صدی کے 1930 اور 1940 کے عشرے سے شروع ہوا۔

یاد رہے کہ ملک سعود نے تلوار کی طاقت اور برطانیہ کی حمایت سے جزیرہ عرب پر قبضہ کیا اور مملکت حجاز کا نام سعودی عرب 1930 کے عشرے میں رکھا، وہ کہتا ہے کہ "سعودی عرب اور قضیہ فلسطین "پر ایک صہیونی میخائل کھانوف نے پی ایچ ڈی تھیسسز اور تحقیق لکھی جس کے آخری باب میں وہ وضاحت کرتا ہےاور اس باب کا عنوان " سعودیہ کا اسرائیل کے بارے ميں رویہ ، کراہیت سے قبول کرنے تک"جس میں اسرائیل کے پہلے وزیراعظم کا قول نقل کیا گیا ہے " فقط آل سعود ہی ہیں جو اس بات کی قدرت رکھتے ہیں کہ وہ عرب اور یہودیوں کے مابین مصالحتی کردار ادا کر سکیں۔

لکھتا ہے کہ سعودی عرب نے نہ تو مالی لحاظ سے اور نہ عسکری طور پر کبھی فلسطینیوں کی مدد کی آل سعود فلسطینی قومی تحریکوں کو پورے خطے کے امن واستقرار کے لئے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں.

سعودی ملک عبداللہ بن عبدالعزیز نے صلح کے لئے جو عرب پلان پیش کیا وھاں کہیں بھی عرب مہاجریں اور پناہ گزینوں کی وطن واپسی کا تذکرہ نہیں کیا.

ملک عبداللہ نے ہی کہا کہ اسرائیل کو قبول کئے بغیر کبھی بھی فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا.

موجودہ ملک سلمان بن عبدالعزیز نے اپنی مشرق وسطیٰ کے بارے میں پالیسی دو الفاظ میں بیان کی، ایک امن اور دوسرا استقرار ( پیس اینڈ اسٹیبلٹی ) ، اندرونی امن اور بیرونی استقرار، یعنی اسرائیل کا اندرونی امن وامان برقرار رہے اور بیرونی استقرار بھی قائم ہو۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی