2017 August 21
واشنگٹن پوسٹ: سعودی عرب کو اپنے شہریوں کے خلاف بہیمانہ اقدامات سے باز آنا چاہیے
مندرجات: ٩١٦ تاریخ اشاعت: ٠٨ August ٢٠١٧ - ١٠:١٠ مشاہدات: 17
خبریں » پبلک
واشنگٹن پوسٹ: سعودی عرب کو اپنے شہریوں کے خلاف بہیمانہ اقدامات سے باز آنا چاہیے

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے سعودی عرب زیر عنوان ایک مقابلہ میں لکھا ہے کہ سعودی بادشاہ کو اپنے شہریوں کے خلاف بہیمانہ اقدامات انجام دینے سے باز رہنا چاہیے ورنہ ممکن ہے ایک دن سعودی عرب میں وسیع پیمانے پر تبدیلی رونما ہو جائے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے سعودی عرب زیر عنوان ایک مقابلہ میں لکھا ہے کہ سعودی بادشاہ کو اپنے شہریوں کے خلاف بہیمانہ اقدامات انجام دینے سے باز رہنا چاہیے ورنہ ممکن ہے ایک دن سعودی عرب میں وسیع پیمانے پر تبدیلی رونما ہو جائے۔
اس رپورٹ میں سعودی بادشاہ کے ولیعہد محمد بن سلمان کے اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سلمان بن عبد العزیز ایسے اقدامات انجام دینے کی اس لیے کوشش کر رہا ہے تاکہ اس کے ملک کی مستقبل میں تیل سے وابستگی ختم ہو جائے لیکن ایسا ہونا ممکن نہیں ہے اس لیے کہ اس ملک میں انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں آزادی بیان کو دبایا جا رہا ہے ایسے ماحول میں ماڈرن ملک کی تعمیر ناممکن اور نامناسب عمل ہے۔
واشنگٹن پوسٹ نے سعودی عرب میں انسانی حقوق کی دردناک حالت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انسانی حقوق کی پامالی کی تازہ ترین مثال ان ۱۴ افراد کی لیسٹ ہے جن کا تعلق شیعہ مذہب سے ہے اور خاندان آل سعود پر اعتراض کے جرم میں انہیں سزائے موت کا حکم سنایا گیا ہے۔
سعودی حکام کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ افراد دھشتگردانہ کاروائیوں میں ملوس ہیں لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان ۱۴ افراد سے لیا گیا اعتراف شکنجوں کی وجہ سے ہے۔
ان افراد کی لیسٹ میں ۲۱ سالہ نوجوان مجتبیٰ آل سویکت بھی نظر آتا ہے جو ڈیموکریسی کی حمایت کے جرم میں سزائے موت کا مستحق قرار پایا ہے۔
یہ العوامیہ کا رہنے والا ہے جسے ۲۰۱۳ میں دمام کے ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا اور اس پر بعض مجرم افراد کی حمایت، حکومت مخالف مظاہرے کروانے اور حکومتی اموال کو نقصان پہنچانے کے الزامات عائد کئے گئے۔
اس رپورٹ کے مطابق، مجتبیٰ سویکت کی گرفتاری جو ۱۷ سال کی عمر میں انجام پائی پر کوئی ٹھوس دلیل نہیں ہے اور اسے بغیر کسی قانون کے مجرم قرار دیا گیا ہے۔
یہ تمام چیزیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ سعودی عرب میں کھلے عام انسانی حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی مئی ماہ میں سعودی عرب کے اپنے دورے کے دوران انسانی حقوق کے مسئلہ کو نہیں چھیڑا حالانکہ سعودی بادشاہت کے وحشیانہ اقدامات جاری ہیں۔ اگر سعودی حکومت حقیقت میں اپنے ملک کو ماڈرن ملک بنانا چاہتی ہے تو اسے چاہیے کہ ۱۴ شیعہ افراد کو دئے گئے سزائے موت کے حکم کو واپس لے۔




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی