2017 September 19
یکم ذیقعدہ ، ولادت کریمہ اہل بیت حضرت فاطمہ معصومہ (س) قم، ولادت طہارت و کرامت
مندرجات: ٨٨٠ تاریخ اشاعت: ٢٥ July ٢٠١٧ - ١١:٢٣ مشاہدات: 243
یاداشتیں » پبلک
جدید
یکم ذیقعدہ ، ولادت کریمہ اہل بیت حضرت فاطمہ معصومہ (س) قم، ولادت طہارت و کرامت

حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی اس دختر نیک اختر کا اسم گرامی" فاطمہ " اور معروف لقب مبارک " معصومہ" سلام اللہ علیہا ہے۔ حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کی ولادت با سعادت یکم ذیقعدۃ 173 ہجری قمری کو ہوئی۔

علی نمازی، مستدرک سفینتہ البحار ج  8، ص257

اس مقدس بی بی کی با فضیلت اور خوش نصیب والدہ ماجدہ کا نام نامی " تکتم " ہے کہ جو حضرت امام ہشتم علی ابن موسی الرضا علیہ السلام کی بھی والدہ بزرگوار ہیں۔ بس اسی وجہ سے حضرت معصومہ (س) اور امام رضا (ع) ایک ماں سے ہیں۔ خداوند متعال نے مذکورہ تاریخ میں اپنے عبد صالح ، بر حق حجت حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کو اپنی اس خاص نورانی عنایت سے نوازا۔ حضرت حق کی اس خصوصی عطا پر امام ہفتم علیہ السلام اور حضرت امام رضا علیہ السلام کے بعد سب سے زیادہ خوشی حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی والدہ ماجدہ کو تھی کیونکہ 25 سال گزرنے کے بعد اس گلشن میں یہ دوسرا  مقدس پھول کھل رہا  تھا۔ 25 سال پہلے اسی مہینے کی گیارہ تاریخ (یعنی 11 ذیقعد 148 ھ.ق)کو حضرت نجمہ (تکتم) خاتون کو پروردگار جہان نے آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سکون عطا فرمایا تھا جس کا نام نامی و اسم گرامی علی رکھا گیا اور بعد میں " رضا " کے لقب سے مشہور و معروف ہوئے۔

حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی اس دختر نیک اختر کی ولادت با سعادت کے دن کی مناسبت سے سر زمین ایران کی بیٹیوں کی مسرت اپنے اوج و عروج کو پہنچی کیونکہ 1385 ہجری شمسی میں انقلاب کی ثقافتی شورائے عالینے یکم ذیقعد کو قومی و سرکاری سطح پر ' ' یوم دختران " سے موسوم کیا۔

یہاں پر اٹھنے والے دو سوال اور ان کے جواب پیش کرتے ہیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے یوم ولادت با سعادت کو کس لیے قومی سطح پر " یوم دختران " کے طور پر انتخاب کیا گیا ؟ اور دوسرا سوال یہ کہ آخر کیا ضرورت ہے کہ ایک دن کو اس عنوان سے مخصوص کیا جائے ؟

پہلے سوال کے جواب میں کہنا چاہیے کہ : بے شک پیغمبر اکرم (ص) کے اہلبیت علیہم السلام نے دنیا بھر کے لیے پر فروغ ہدایت بخش ہستیاں پیش کی ہیں کہ جن کے اسماء گرامی فضائل کے آسمان پر درخشان ستاروں کی مثل ہیں۔ سرزمین ایران میں خواتین کے درمیان ان درخشان اور چمکتے ہوئے ستاروں میں حضرت موسی ابن جعفر الکاظم علیہما السلام کی دختر نیک اختر حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا ہیں، معصومہ قم سلام اللہ علیہا پاکیزگی اور طہارت میں اس حد تک کم نظیر شخصیت ہیں کہ حضرت امام رضا علیہ السلام کی لسان عصمت سے انھیں معصومہ کہا گیا ہے۔

یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ : حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی شخصیت کے پہلوؤں کو درک کرنے اور ان کی معنوی منزلت و مقام کی معرفت کی بدولت اسلامی و معنوی معاشرے کو مثالی معاشرے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے تا کہ عام طور پر تمام حواتین اور معاشرے کی بیٹیاں کریمہ اہلبیت حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا جیسی مظہر عفت و تقوی مثالی اور نمونہ و اسوہ ہدایت بخش خاتون سے نمونہ عمل حاصل کر سکیں۔ اس لیے ایسی مثالی اور اپنے امام زمانہ حضرت امام رضا علیہ السلام کو دل کی گہرائیوں سے چاہنے والی نمونہ خاتون کی ولادت با سعادت کے دن کو قومی سطح پر " یوم دختران " قرار دینا جہاں تمام مسلمان اور با ایمان خواتین کے سامنے آنحضرت سلام اللہ علیہا کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو متعارف کروانے کا باعث ہے وہاں اس سر زمین کی بیٹیوں کے سامنے ایک آئیڈیل شخصیت کو پیش کرنے کا موجب بھی ہے۔

دوسرے سوال کے جواب میں کہنا چاہیے کہ : ایک معاشرے کی تشکیل میں معاشرے کی بیٹیوں کے قابل توجہ ترکیبی حصے کے علاوہ ایک معاشرے کی عمومی ثقافت میں معاشرے کی بیٹیوں کے کردار کی طرف بھی اشارہ کیا جا سکتا ہے۔ معاشرے کے سمجھ دار اور خوش فکر افراد اس اہم معاشرہ ساز کردار کی اہمیت سے اچھی طرح آگاہ ہیں اور ہمیشہ معاشرے کی با استعداد ،مثالی اور پاکیزہ و عفیف بیٹیوں کی پرورش و تربیت کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔

قومی سطح پر " یوم دحتران " کا انتخاب ایک اساسی ضرورت ہے جس کی بنیاد کے طور پر مندرجہ ذیل نکات قابل ذکر ہیں:

 معاشرے میں معاشرے کی بیٹیوں سے جو فرہنگی ،ثقافتی اور اجتماعی معاشرتی اقدار مطلوب ہیں ،ان میں بہتری لانا اور تقویت کرنا۔

 اہلبیت علیہم السلام کی سیرت طیبہ اور پاکیزہ ثقافت پر بھروسہ کرتے ہوئے اسلامی ثقافتی اقدار کو متعارف کروانا اور ان کی ترویج و اشاعت۔

 اسلامی معاشرے میں مسلمان بیٹیوں کے بہترین کردار کو اجاگر کرنے کے لیے قومی اہتمام۔

 معاشرے کی تشکیل میں حصے دار اس صنف کے عمومی کلچر کی اصلاح و بہتری کا اقدام۔

 اس صنف کے لیے دینی تعلیمات اور مذہبی معارف کی گہرائیوں کو روشناس کروانا اور پھیلانا۔

 دختران ملت کے اسلامی ثقافتی تشخص کو ترقی بخشنے کے لیے مناسب مواقع فراہم کرنا۔

 قوم کی بیٹیوں کی استعداد اور توانائیوں کو سامنے لانے کے لیے مناسب ترین مواقع مہیا کرنا۔

 اسلامی معاشرے کی بیٹیوں کی ضروریات پورا کرنے اور در پیش مشکلات ختم کرنے کے لیے عمومی کوششیں اور قومی کاوشیں۔

 حقوق اور وظایف و ذمہ داریوں کی پہچان اور معاشرے میں خواتین اور دختران ملت کے کردار کی وضاحت۔

10۔ خلاصہ یہ کہ قوم کی بیٹیوں کے لیے آئیڈیل پیش کرنا تا کہ اس آئیڈیل کو اپنی عملی زندگی میں ڈھال کر خود دنیا بھر کی بیٹیوں اور نوجوان و جوان نسل کے لیے آئیڈیل ثابت ہو سکیں۔

حضرت فاطمہ معصومہ (س) کی زیارت کی فضیلت:

حضرت معصومہ علیہا السلام کے بارے میں یہ بات قابل غور ہے کہ چودہ معصومین علیہم السلام کی زیارت کے بعد جتنی ترغیب اور توجہ آپ کی زیارت کے سلسلے میں دلائی گئی ہے، اتنی ترغیب کسی بھی نبی ، ولی اور امامزادے کے سلسلے میں نہیں ملتی۔ تین معصوم آئمہ (ع) نے آپ کی زیارت کی تشویق دلائی ہے۔ جن روایات میں آپ کی زیارت کی ترغیب دلائی گئی ہے ان میں سے بعض آپ کی ولادت سے قبل معصوم سے صادر ہوئی تھیں ، بعض روایات میں تو اس بات کی بھی وضاحت کی ہے کہ اس وقت آپ کے پدر بزرگوار حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی بھی ولادت نہیں ہوئی تھی۔

تین معصومین (ع) کا ارشاد ہے کہ حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی زیارت کے ثواب میں جنت نصیب ہو گی ۔ معصومین (ع) کی زبان سے حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی زیارت کی فضیلت کے سلسلہ میں چند حدیثیں مندرجہ ذیل ہیں:

شیخ صدوق نے صحیح سند کے ساتھ حضرت امام رضا علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ : جو ان کی زیارت کرے گا اسے جنت نصیب ہو گی ۔

حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ :

من زار عمّتی بقم فلہ الجنة،

جس شخص نے بھی قم میں میری پھوپھی کی زیارت کی، تو جنت اسکی ہو جائے گی۔

حضرت امام صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ : فاطمہ معصومہ کی زیارت، جنت جنت کے برابر ہے ۔

حضرت امام رضا علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ: اے سعد! جو شخص بھی ان کی زیارت کرے گا، اسے جنت نصیب ہو گی یا وہ اہل بہشت میں سے ہو گا۔

حضرت امام رضا علیہ السلام نے اپنی بہن فاطمہ کو معصومہ کا لقب عطا کرتے ہوئے فرمایا:

من زار المعصومۃ بقم کمن زارنی،

جس نے قم میں معصومہ کی زیارت کی گویا اس نے میری زیارت کی۔

علامہ مجلسی نے کتاب بحار الانوار میں امام رضا علیہ السلام کے اصحاب کی کتابوں سے روایت کی ہے کہ امام رضا علیہ السلام نے سعد بن سعد اشعری کو مخاطب کر کے فرمایا:

اے سعد تمہارے یہاں ہم میں سے ایک کی قبر ہے، سعد نے کہا میں نے عرض کیا : میں آپ پر قربان ہو جاؤں ! کیا وہ دختر امام موسی کاظم علیہ السلام حضرت فاطمہ کی قبر ہے ؟ امام نے فرمایا: جی ہاں، جس شخص نے ان کے حق کی معرفت کے ساتھ ان کی زیارت کی وہ جنتی ہے۔

فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کون ہیں ؟

عالمہ غیر معلمہ حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا

اسم گرامی:فاطمہ کبریٰ

القاب:عقیلہ ہاشمیہ،عالمہ غیر معلمہ،معصومہ

مشہور لقب:معصومہ(معصومہ قم)

القاب کس نے دئیے: تین معصومین علیہم السلام حضرت امام زین العابدین علیہ السلام، حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام اور حضرت امام علی رضا علیہ السلام نے یہ القاب بی بی کی ولادت با سعادت سے پہلے عطا فرمائے۔

ولادت با سعادت: یکم ذیقعدہ 173 ھ۔ق

جائے ولادت: مدینہ منورہ

والد بزرگوار: حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام

والدہ ماجدہ: ام البنین حضرت نجمہ خاتون سلام اللہ علیہا، اور ان کو نجمۂ مغربیہ بھی کہا جاتا ہے۔

حضرت امام رضا علیہ السلام اور حضرت معصومہ ایک ہی والدہ ماجدہ سے تھے۔

فاطمہ نام کی محبوبیت: حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے اپنی کئی بیٹیوں کے نام فاطمہ رکھے: فاطمہ کبریٰ، فاطمہ صغریٰ (بی بی ہیبت،تدفین: آذربائیجان باکو) فاطمہ وُسطیٰ، فاطمہ اُخریٰ (عُرف خواہر امام،تدفین: رشت ایران) فاطمہ کبریٰ یہی بی بی ہیں جو قم مقدسہ کی معنویت و مرکزیت کا باعث بنی ہوئی ہیں۔

مفصل القاب: معصومہ، اُخت الرضا،کریمہ اہلبیت، عالمہ غیر معلمہ، ولیۃ اللہ، عابدہ، زاہدہ، عقیلہ، متقیہ، عارفہ کاملہ، مستورہ، عقیلہ الھاشمیہ، محدثہ، شفیعۂ روزِ جزا، طاہرہ، راضیہ، رضیّہ، مرضیہ ، تقیّہ، نقیّہ، رشیدہ، سیدہ، حمیدہ، برّہ۔

مشہور لقب کی عطا: ناسخ التواریخ کے مطابق لقب: معصومہ حضرت امام رضا علیہ السلام نے عطا فرمایا تھا اور واضح ہے کہ کوئی بھی معصوم کسی غیر معصوم کو معصومہ خطاب نہیں فرماتے لہذا یہ عالمہ غیر معلمہ بی بی درجۂ عصمت پر فائز ہیں۔

بھائی سے جدائی کا عرصہ: حضرت امام رضا علیہ السلام کی مدینہ منورہ سے خراسان کی طرف اجباری ہجرت کے ایک سال کا عرصہ بی بی نے بھائی کی جدائی میں بسر کیا لیکن مزید قابل تحمل نہ رہا۔

ہجرت: مدینہ منورہ سے قم شہر ۔

ہجرت کی وجہ: حضرت امام رضا علیہ السلام نے اپنی بہن کے نام خراسان سے خط بھجوایا تھا جس کے ملتے ہی بی بی نے رخت سفر باندھ لیا۔

مذہبی شہر قم میں داخلہ: 23  ربیع الاول 201 ھ۔ق (ابھی تک اس دن حضرت معصومۂ قم سلام اللہ علیہا کے قم داخلے کی یاد تازہ کی جاتی ہے)۔

حضرت معصومہ کی ہمراہی: بھائی سے ملنے کے شوق میں پیش آنے والے اس سفر میں حضرت معصومہ علیہا السلام کے پانچ بھائیوں، متعدد بھتیجوں، چند غلاموں اور چند کنیزوں نے بی بی کی ہمراہی اختیار کی۔

حضرت معصومہ کے ساتھ سفر میں ہمراہی کرنے والے بھائیوں کے نام یہ ہیں: فضل، جعفر، ہادی، قاسم اور زید ،

کاروان پر حملہ: جب یہ کاروان ساوہ شہر پہنچا تو خلیفۂ وقت مأمون کے اشارے پر دشمنان اہل بیت (ع) نے حملہ کر دیا، دشمن کی تعداد بہت زیادہ تھی اس حملے میں حضرت معصومہ کے تمام بھائی اور کئی دیگر ہمراہی بھی شہید ہو گئے۔

حضرت معصومہ علیہا السلام کا بیمار ہونا: دشمنوں کے ظالمانہ حملے کی وجہ سے پیش آنے والی مظلومانہ شہادتیں دیکھ کر یا ایک تحقیق کے مطابق مسموم ہو جانے کی وجہ سے بی بی سخت بیمار ہو گئیں اور خراسان تک سفر کرنا ناممکن ہو گیا۔

اہل قم کا استقبال: قم کے مؤمنین باخبر ہوئے تو استقبال کے لیے بڑھے اور انتہائی شان و شوکت سے جبکہ کرئمہ اہلبیت کے ناقہ کی لگام موسیٰ بن خرزج نے پکڑی ہوئی تھی، کاروان کو قم لے گئے۔ اسی بزرگوار اور عقیدتمند مؤمن کو میزبانی کا شرف نصیب ہُوا۔

قم میں قیام: باب الحوائج امام کی بیٹی، رئیسِ مذہب امام کی پوتی، غریب الغرباء امام کی ہمشیرہ اور جواد الائمہ امام علیہم السلام کی پھوپھی حضرت معصومہ قم شہر میں مقیم ہوئیں اور اس قیام کی مدت سترہ (17) دنوں سے بڑھ نہ سکی۔

قیام کا مقام یا قیام گاہ: قم میں موسیٰ بن خزرج کا گھر بی بی کی قیام گاہ بنا جو بعد میں مدرسہ ستیہ کی صورت اختیار کر گیا۔ اس گھر میں بی بی کا محرابِ عبادت اب بھی بیت النور کے عنوان سے معروف ہے، حضرت معصومہ علیہا السلام کا محراب عبادت آج بھی عام و خاص کی زیارت گاہ بنا ہوا ہے۔

حسرت جو ادہوری رہی: بھائی کو ملنے کی حسرت پورا نہ ہو سکی اور بہن اپنے بھائی کی یاد میں اس پردیس کے عالم میں دُنیا سے گزر گئیں۔

محقق شیخ مرتضی عاملی کا انکی کتاب حیاۃ الامام الرضا علیہ السلام میں کہنا ہے کہ نہ فقط جناب معصومہ کے اہل کاروان کو شہید کیا گیا بلکہ خود جناب معصومہ سلام اللہ علیہا کو بھی زہر سے مسموم کیا۔

تاریخ شہادت: دس ربیع الثانی 201 ھ۔ق۔

جناب معصومہ (س) کے والد محترم امام موسیٰ ابن جعفر (ع) کی بچپن میں ہی شہر بغداد میں شہادت واقع ہو گئی اور آپ آٹھویں امام علی ابن موسی الرضا (ع) کی کفالت میں قرار پائیں۔ سن 200 ہجری میں امام رضا علیہ السلام کو مامون نے شدید اصرار کر کے خراسان بلوا لیا۔ امام تمام گھر والوں اور اقرباء کو مدینہ چھوڑ کر خراسان تشریف لے گئے۔ امام کی ہجرت کے ایک سال بعد جناب فاطمہ معصومہ اپنے بھائی سے ملاقات کے شوق میں اور سیرت حضرت زینب (س) کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے اپنے کچھ بھائیوں اور بھتیجوں کے ساتھ خراسان کی طرف چل پڑیں۔

ہر شہر اور ہر محلے میں آپ کا والہانہ استقبال ہو رہا تھا، یہی وہ وقت تھا کہ جب آپ اپنی پھوپھی حضرت زینب (س) کی سیرت پر عمل کر کے مظلومیت کے پیغام اور اپنے بھائی کی غربت ، مؤمنین اور مسلمانوں تک پہنچا رہی تھیں اور بنی عباس کی فریبی حکومت کا بھیانک چہرہ عوام کے سامنے پیش کر رہی تھیں ، یہی وجہ تھی کہ جب آپ کا قافلہ شہر ساوہ پہنچا تو کچھ دشمنان اہلبیت (ع) جن کے سروں پر حکومت کا ہاتھ تھا راستے میں حائل ہو گئے اور حضرت معصومہ (س) کے کاروان سے ان بد کرداروں نے جنگ شروع کر دی ۔ آخر کار کاروان کے تمام مردوں نے جام شہادت نوش فرمایا، یہاں تک کہ ایک روایت کے مطابق حضرت معصومہ (س) کو بھی زہر دیا گیا ۔

ہاں بی بی معصومہ نے حضرت زینب علیا مقام سلام اللہ علیہا کی طرح اپنے پر برکت سفر میں حقانیت رہبران واقعی کی امامت کی سند گویا پیش کردی اور ماٴموں کے چہرہ سے مکر و فریب کی نقاب نوچ لی قہرمان کربلا کی طرح اپنے بھائی کے قاتل کی حقیقت کو طشت ازبام کردیا ۔ فقط فرق یہ تھا کہ اس دور کے حسین علیہ السلام کو مکر و فریب کے ساتھ قتلگاہ بنی عباس میں لے جایا گیا تھا ۔ اسی درمیان تقدیر الٰہی اس پر قائم ہوئی کہ اس حامی ولایت و امامت کی قبر مطہر ہمیشہ کے لیے تاریخ میں ظلم و ستم اور بے عدالتی کے خلاف قیام کرنے کا بہترین نمونہ قرار پا جائے اور ہر زمانے میں پیروان علی علیہ السلام کے لیے ایک الہام الٰہی قرار پائے ۔

اس سفر کے دوران ہر مقام پر اپنے بھائی کی مظلومیت کا پیغام دنیا والوں تک پہنچاتی ہوئی ایران کے ایک شہر ساوہ میں پہنچیں۔ ساوہ کے رہنے والوں نے کہ جو دشمنان اہلبیت (ع) تھے عباسی حکومت کی طرف سے ماموریت  کی بناء پر اس کاروان کا راستہ روک لیا اور حضرت معصومہ کے ساتھ تشریف لائے ہوئے بنی ہاشم کے ساتھ جنگ کرنے پر اتر آئے۔

بہر حال زہر کی وجہ سے یا شدت غم اور اندوہ کی وجہ سے آپ شدید مریض ہو گئیں۔ اب چونکہ شہر خراسان کے بہت دور ہونے وجہ سے اسکی طرف جانا ممکن نہیں رہا، لہٰذا قم کا ارادہ کیا ۔ شہر قم کا راستہ معلوم کیا اور فرمایا: مجھے قم لے چلو۔ اس لیے کہ میں نے اپنے بابا سے سنا ہے قم کا شہر ہمارے شیعوں کا مرکز ہے۔

بزرگان قم جب اس مسرت بخش خبر سے مطلع ہوئے تو حضرت کے استقبال کے لئے دوڑ پڑے ، موسیٰ بن خزرج اشعری نے اونٹ کی زمام ہاتھوں میں سنبھالی اور فاطمہ معصومہ (ص) اہل قم کے عشق اہلبیت سے لبریز سمندر کے درمیان وارد ہوئیں ۔ موسیٰ بن خزرج کے شخصی مکان میں نزول اجلال فرمایا۔

قم کے لوگ تو خوشی اور مسرت کے ساتھ آپ کے استقبال کے لیے دوڑ پڑے۔ آخر کار جناب معصومہ 23 ربیع الاول سن 201 ہجری کو قم پہنچیں۔ صرف 17 دن اس مقدس شہر میں زندگی گذاری اور اس مدت میں دن رات اپنے پروردگار سے مسلسل راز و نیاز میں مشغول رہتیں۔ آپ کا محل عبادت " بیت النور " کے نام سے آج بھی مشہور ہے اور دنیا بھر سے عاشقان عصمت و طہارت اس مکان مقدس کی بھی زیارت کرتے ہیں۔

مراسم دفن:

شفیعہ روز جزا کی وفات حسرت آیات کے بعد ان کو غسل دیا گیا ۔ کفن پہنایا گیا پھر قبرستان بابلان کی طرف آپ کی تشییع کی گئی ۔ لیکن دفن کے وقت محرم نہ ہونے کی وجہ سے آل سعد مشکل میں پھنس گئے آخر کار فیصلہ کیا گیا کہ ایک ضعیف العمر بزرگ بنام قادر اس عظیم کام کو انجام دے ، لیکن قادر حتی دیگر بزرگان اور صلحائے شیعہ اس امر عظیم کی ذمہ داری اٹھانے کے لائق نہ تھے، کیونکہ اہل بیت میں ایک معصوم کے جنازے کو ہر کس و ناکس سپرد خاک نہیں کر سکتا ہے، لوگ اسی مشکل میں اس ضعیف العمر بزرگ کی آمد کے منتظر تھے کہ ناگہاں لوگوں نے دو سواروں کو دیکھا کہ صحرا کی طرف سے آ رہے ہیں جب وہ لوگ جنازے کے نزدیک پہنچے تو نیچے اتر گئے پھر نماز جنازہ پڑھی اور اس ریحانہ رسول خدا کے جسد اطہر کو داخل سرداب کہ جو پہلے سے تیار شدہ تھا، میں دفن کر دیا اور قبل اس کے کہ کسی سے گفتگو کریں سوار ہوئے اور روانہ ہو گئے اور کسی نے بھی ان لوگوں کو نہ پہچانا ۔

حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ محمد فاضل لنکرانی مدظلہ العالی فرماتے ہیں کہ بعید نہیں ہے کہ یہ دو بزرگوار دو امام معصوم رہے ہوں کہ جو اس امر عظیم کی انجام دہی کے لیے قم تشریف لائے ہوں ۔

حضرت کو دفن کرنے کے بعد موسیٰ بن الخزرج نے حصیر و بوریا کا ایک سائبان قبر مطہر پر ڈال دیا وہ ایک مدت تک باقی رہا۔ یہاں تک کہ 256 ہجری میں امام جواد (ع) کی بیٹی زینب نے سب سے پہلی بار اپنی پھوپھی کی قبر شریف پر گنبد تعمیر کروایا۔ اس کے بعد یہ روضہ عالم اسلام مخصوصا اہلبیت کے چاہنے والوں کی عقیدتوں کا مرکز بن گیا اور آج تمام دنیا سے آپ کے چاہنے والے آپ کے روضہ مقدسہ کی زیارت کرنے کے لیے شہر مقدس قم کا سفر کرتے ہیں۔

مثالی بہن بھائی: تاریخ نے مثالی بہن بھائی پہلے بھی دیکھے تھے، یہ بہن بھائی بھی بہت بے مثال محبت و ارادت والے تھے۔

ایک حساب کے مطابق حضرت امام علی رضا علیہ السلام اور حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا دونوں کی والدہ ماجدہ ایک تھیں یعنی حضرت نجمہ خاتون۔ امام علیہ السلام کی ولادت باسعادت 11 ذیقعدہ 148 ھ۔ق میں ہوئی جبکہ حضرت فاطمہ کبری یکم ذیقعدہ  173 ھ۔ق میں دنیا میں تشریف لائیں، اس طرح سے 25 سال کا عرصہ امام ایسی بہن سے محروم رہے تھے اور خداداد فضائل جو حضرت معصومہ علیہا السلام کو عطا کیے گئے تھے اور عصمت و علم و سخاوت و کرامت کہ کریمۂ اہلبیت کہلائیں ان سب کی وجہ سے یہ بہن ، بھائی کی نگاہ میں خاص و منفرد منزلت و مقام رکھتی تھیں۔

مقام و منزلت: حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کو خود ان کے رؤوف بھائی حضرت امام رضا علیہ السلام نے معصومہ کہہ کر پکارا اور ان کی زیارت کی فضیلت اس طرح سے بیان فرمائی:

قال الامام الرضا علیہ السلام: مَن زار المعصومہ بقم کمن زارنی،

یعنی جو شخص بھی قم میں حضرت معصومہ کی زیارت کا شرف حاصل کر لے تو گویا اُس نے میری زیارت کی ہے۔

اسی طرح حضرت امام محمد تقی علیہ السلام فرماتے ہیں:

من زار قبر عمّتی بقم فلہ الجنۃ،

یعنی جو بھی قم میں میری پھوپھی کی زیارت کرے گا اُس پر جنت واجب ہو جائے گی۔

تجلی گاہ: آیت اللہ سید محمود مرعشی اس فکر میں تھے کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی قبر مطہر کی جگہ معلوم ہو جائے۔ اسی جستجو میں اُنہوں نے چالیس راتیں توسّل کے لیے مخصوص کر دیں۔

چالیسویں رات جب توسّل کے اعمال کے بعد آنکھ لگ گئی تو عالم خواب میں معصوم ہستی حضرت امام محمد باقر علیہ السلام یا حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی زیارت کا شرف نصیب ہُوا۔ امام معصوم علیہ السلام نے فرمایا:

علیک بکریمۃ اہل البیت ، یعنی آپ کریمۂ اہلبیت کے ساتھ تمسک اور توسّل رکھیں۔ آیت اللہ نے یہ سوچتے ہوئے کہ کریمۂ اہلبیت سے مراد حضرت زہرا سلام اللہ علیہا ہیں، عرض کی : مولا یہ چالس راتوں کا توسّل میں نے انہیں کی قبر اطہر کا سراغ لگانے کے لیے کیا ہے تا کہ قبر اطہر کا صحیح نشان معلوم ہو جائے اور زیارت سے مشرف ہو سکیں۔ امام علیہ السلام فرماتے ہیں:

میری مراد قم میں حضرت معصومہ کی قبر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مصلحت کی بناء پر حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی قبر کو مخفی رکھا ہے اور اس کی تجلی گاہ حضرت معصومہ علیہا السلام کی قبر کو قرار دیا ہے۔ آیت اللہ جب نیند سے بیدار ہوئے تو حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی زیارت کے لیے روانہ ہو گئے۔ پس معلوم ہوتا ہے کہ حضرت معصومہ قم کی زیارت سے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی زیارت کا اجر و ثواب نصیب ہو جاتا ہے۔

یعنی اگر کوئی حضرت فاطمہ معصومہ (س) کی شہر قم میں زیارت کرے تو خداوند اسکو حضرت فاطمہ زہرا (س) کی قبر کی شہر مدینہ میں زیارت کا ثواب عطا کرے گا۔

اسی مطلب پر دلیل ایک روایت ہے کہ جو امام رضا (ع) سے نقل ہوئی ہے کہ: جو بھی میری بہن کی زیارت کرے، گویا اس نے میری زیارت کی ہے۔

لہذا رسول خدا کی خواب والی بات کا یہ معنی ہو گا کہ: حضرت زہرا (س) گویا فرماتی ہیں کہ: جو بھی میری بیٹی فاطمہ معصومہ کی زیارت کرے گا، گویا اس نے میری زیارت کی ہے۔

پس حضرت فاطمہ معصومہ (س) شہر قم، ایران کے لوگوں بلکہ تمام مسلمانوں کے لیے خیر و برکت ہیں، حتی ہم نے کئی مرتبہ دیکھا ہے کہ بعض اہل سنت بھی اس مقدس حرم میں آ کر بی بی معصومہ کی زیارت کرتے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ دین اسلام کے بزرگان کی زیارت کرنے کے بارے میں شیعہ اور سنی کا عقیدہ ایک ہی ہے۔

آج وہابیت کی کوشش ہے کہ شیعہ اور سنی میں مختلف بہانوں اور غلط تہمتوں کے ذریعے سے اختلافات کو ایجاد کریں اور وہابیوں نے یہ کام اپنے اجداد بنی امیہ اور بنی مروان سے میراث میں لیا ہے۔

کاشانۂ اہلبیت: قم مقدسہ میں حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے حرم مطہر کی عظمت و رفعت کا اندازہ اسی حدیث سے ہو سکتا ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

آگاہ رہو کہ خداوند متعال کے لیے ایک حرم ہے اور وہ مکہ ہے، حضرت رسولِ خدا  کے لیے ایک حرم ہے اور وہ مدینہ ہے، حضرت علی علیہ السلام کا ایک حرم ہے جو کہ کوفہ ہے اور میری اولاد کا حرم قم میں ہے ۔ قم چھوٹا کوفہ ہے جنت کے آٹھ دروازے ہیں، جن میں سے تین دروازے قم کی طرف کھلتے ہیں۔ میری اولاد میں سے ایک فاطمہ بنت موسیٰ کاظم  نامی خاتون قم میں سفرِ آخرت کریں گی، ان کی شفاعت سے میرے شیعہ جنت میں داخل ہوں گے۔

مقام شفاعت: احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کریمۂ اہلبیت بی بی مقام شفاعت پر فائز ہیں جیسا کہ اُن کے القاب میں سے ایک لقب شافعۂ روزِ جزا ہے اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

فاطمہ کبریٰ کی شفاعت سے میرے شیعہ جنت میں داخل ہوں گے۔

اب بھی قم مقدسہ میں ہر زائر کے دل کی امید کے پس منظر میں اُس کی زبان پر یہ جملہ وظیفہ بن کر مکرر ہوتا رہتا ہے:

یا فاطمۃ اشفعی لی فی الجنۃ،

خداوند متعال اس بی بی کی کرامت کے طفیل ہمیں بھی ان کی مقبول زیارت اور شفاعت سے بہرہ مند رکھے۔

حضرت معصومہ علیہا السلام کی علمی قدر و منزلت

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حضرت فاطمہ معصومہ (س) بے حد کمالات کا سر چشمہ ہیں اور آپ کی نسبت تین معصوم اماموں سے دی گئی ہے اور خاندان پیغمبر اکرم (ص) میں آپ کا بہت زیادہ احترام ہے ، خاص طور سے حضرت موسی بن جعفر (ع) ، علی بن موسی اور محمد بن علی کے نزدیک آپ کی قدر و منزلت بہت زیادہ تھی ، لہذا آپ کی شان و منزلت کو پہچاننا بہت ضروری ہے ۔

حضرت آیۃ اللہ العظمی مکارم شیرازی نے کریمہ اہل بیت (س) کی شان و منزلت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا :

حضرت معصومہ (س) کا مقام و مرتبہ علمی لحاظ سے بھی بہت بڑا تھا ، امام موسی کاظم علیہ السلام کے زمانہ میں کچھ شیعہ مدینہ میں داخل ہوئے تا کہ امام موسی کاظم سے کچھ سوال دریافت کریں ، لیکن امام علیہ السلام سفر پر گئے ہوئے تھے جس کی وجہ سے انہوں نے وہ سوالات امام کے گھر والوں کو دیدئیے تا کہ جب دوسری مرتبہ آئیں تو ان کے جوابات حاصل کر لیں ، پھر جب اپنے وطن واپس جانے لگے تو خدا حافظی کے لیے امام علیہ السلام کے گھر پہنچے ۔ حضرت فاطمہ معصومہ علیہا السلام نے ان کے سوالوں کے جوابات لکھ کر ان کو دیدئیے ۔ وہ لوگ خوشی خوشی اپنے گھر کی طرف جا رہے تھے، اتفاقی طور پر انہوں نے راستہ میں امام موسی کاظم علیہ السلام سے ملاقات کی اور امام علیہ السلام کو پورا واقعہ سنایا ، امام نے ان جوابات کا مطالعہ کیا ، حضرت معصومہ علیہا السلام کے تمام جوابات صحیح تھے ، امام نے تین مرتبہ فرمایا : فداھا ابوھا ۔ اس کا باپ اس پر قربان ہو جائے ۔ کیونکہ اس وقت حضرت معصومہ علیہا السلام کی عمر بہت کم تھی ، یہ بات آپ کی عظمت اور علم و معرفت کو اچھی طرح بیان کر رہی ہے۔

حضرت معصومہ فاطمہ دوم ، صفحہ 166

ہمراہ زائرین قم و جمکران ، صفحہ 60

حضرت معصومہ (س) کی معنوی اور قدسی قدر و منزلت

حضرت معصومہ (س) کی معنوی قدر و منزلت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : عالم کشف و شہود میں آپ کا بلند و بالا مقام صرف اس وجہ سے نہیں ہے کہ آپ حضرت موسی بن جعفر (ع) کی بیٹی اور آٹھویں امام علی رضا علیہ السلام کی بہن ہیں ، بلکہ آپ کی یہ منزلت اس معرفت کی وجہ سے ہے جو آپ کے اندر پائی جاتی تھی۔

حضرت فاطمہ معصومہ (س) کی معنوی قدر و منزلت کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا : حضرت معصومہ (س) کی جلالت کے بارے میں بہت سی روایات موجود ہیں ۔ مرحوم محدث قمی فرماتے ہیں : شہر قم کے ایک بزرگ شخص جن کا نام سعد تھا ، امام علی بن موسی الرضا (ع) کی خدمت میں پہنچے ، امام علیہ السلام نے فرمایا :

سعد عندکم لنا قبر، قلت : جعلت فداک قبر فاطمة بنت موسی؟ قال : نعم من زارھا عارفا بحقھا فلہ الجنة ...

امام رضا علیہ السلام نے سعد سے فرمایا : اے سعد ! تمہارے شہر میں ہم اہل بیت کی ایک قبر ہے ، میں نے عرض کیا : میں آپ پر قربان ہو جائوں ، آپ حضرت فاطمہ بنت موسی بن جعفر علیہ السلام کی قبر کے بارے میں معلوم کر رہے ہیں ؟ امام علیہ السلام نے فرمایا : جی ہاں ، جو بھی علم و معرفت کے ساتھ ان کی زیارت کرے اس پر جنت واجب ہے ۔

بحار الانوار ج 60 ص 288

کامل الزیارات،ص 324

بحار الانوار ج48 ،ص 307

امام صادق (ع) نے فرمایا ہے کہ:

اٴلا ان حرمی و حرم ولدی بعدی قم

امام صادق (ع) فرماتے ہیں آگاہ ہو جاوٴ میرا اور میرے بیٹوں کا حرم میرے بعد قم ہے۔

بحار الانوار ج 60 ص 216

حضرت معصومہ (س) کا سلسلہ نسب

سلسلہ نسب ایک دوسری خصوصیت ہے جو اس طرح سے بیان ہوئی ہے کہ:

ہم جس وقت حضرت فاطمہ معصومہ (س) کا سلسلہ نسب دیکھتے ہیں تو وہ نو معصوموں تک پہنچتا ہے اور یہ آپ کا بہت ہی بڑا مقام و مرتبہ ہے۔

زیارت حضرت معصومہ علیہا السلام کی حقیقت اور ثواب:

زیارت حضرت معصومہ علیہا السلام کے آثار و برکات میں ہے کہ:

کامل الزیارات کے مولف نے حضرت معصومہ علیہا السلام کے والد اور بھائی سے نقل کرتے ہوئے امام جواد علیہ السلام کی ایک روایت میں اس طرح نقل کیا ہے :

مَنْ زارَ عَمَّتى‏ بِقُمْ فَلَهُ الْجَنَّةُ ،

جو شخص بھی میری پھوپھی (حضرت فاطمہ معصومہ علیہا السلام) کے مرقد کی شہر قم میں زیارت کرے ، اس پر جنت واجب ہو جاتی ہے۔

قم میں شیعیت کا عروج حضرت معصومہ (س) کا مرہون منت ہے:

حضرت معصومہ (س) کے وجود سے شہر قم شیعوں کا مرکز بن گیا اور یہاں پر شیعوں کو بہت ہی قدرت اور عزت حاصل ہوئی ، ہجرت کی پہلی صدی کے اوایل میں اس زمین پر شیعہ آباد ہونے لگے اور پھر آہستہ آہستہ اس شہر میں شیعہ آباد ہو گئے اور یہ شہر مکتب اہل بیت کی پیروی کرنے والوں کے لیے پناہ گاہ بن گیا ۔

اس مدت میں شہر قم ، آل علی کی جسمانی اور روحانی اولاد کے استقبال کے لیے آمادہ ہو گیا اور پیغمبر اکرم ص کی نسل سے جو بھی اس سرزمین کی طرف آتا تھا ، قم کے لوگ اس کا بہت اچھا استقبال کرتے تھے اور وہ بہت ہی عزت و احترام کے ساتھ اپنے دشمنوں سے دور رہ کر قم میں زندگی بسر کرتے تھے۔

اسی بنیاد پر بہت سے جلیل القدر سادات اور معصوم اماموں کی اولادیں اس جگہ آئیں جن میں سے ایک امام موسی کاظم علیہ السلام کی بیٹی حضرت فاطمہ معصومہ علیہا السلام ہیں۔

لہذا 201 ہجری قمری میں حضرت معصومہ علیہا السلام اپنے بھائی کی زیارت کرنے کیلئے مدینہ سے خراسان کی طرف روانہ ہوئیں اور جس وقت شہر ساوہ پہنچی تو بیمار ہو گئیں اور چونکہ آپ کو معلوم تھا کہ قم میں شیعہ لوگ رہتے ہیں اس لیے اپنے خادم سے فرمایا : مجھے قم لے چلو ، دوسری طرف جب قم کے لوگوں نے آپ کے قم میں داخل ہونے کی خبر سنی تو انہوں نے حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کو دعوت دی اور سعد اشعری کے بیٹے آپ کی خدمت میں پہنچے اور ان کو قم میں لے آئے اور بہت ہی عزت و احترام کے ساتھ ان کا استقبال کیا ، اگرچہ کچھ ہی دنوں کے بعد آپ کا انتقال ہو گیا ، لیکن قم میں آپ کے وجود ، آپ کے مرقد مطہر ، نیز امام زادوں ، راویان احادیث ، کوفہ اور دوسرے شہروں سے علماء کی آمد کی وجہ سے قم ، شیعوں کو بہت ہی مستحکم اور وسیع مرکز بن گیا۔

نور حضرت معصومہ (س) کے سایہ کرامت میں حوزہ علمیہ قم کا مستحکم ہونا:

کریمہ اہل بیت (س) کے آثار و برکات کی وضاحت کرتے ہوئے آپ کے وجود سے روز بروز حوزہ علمیہ کی ترقی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ: شہر قم میں حضرت معصومہ کے تشریف لانے کی وجہ سے تاریخ قم میں ایک نیا باب کھل گیا اور آپ کی وجہ سے بہت علمائے، دانشور اور طلاب اس شہر کی طرف مجذوب ہوئے ، جس سے قم کو بہت زیادہ برکت نصیب ہوئی ، جن میں سے ایک علمی مراکز کا استحکام ہے۔

لہذا حضرت معصومہ (س) کے قم میں آنے کی وجہ سے حوزہ علمیہ روز بروز ترقی کرتا گیا اور یہ شہر بہت سے بزرگ علماء ،طلاب ، روایوں اور آئمہ علیہم السلام کے شاگردوں کی رفت و آمد کا وسیلہ بن گیا اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔

وہ احادیث جو حضرت معصومہ (س) سے منقول ہیں:

حدثتنی فاطمۃ و زینب و ام کلثوم بنات موسی بن جعفر قلن : ۔۔۔ عن فاطمۃ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم و رضی عنہا : قالت : انسیتم قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یوم غدیر خم ، من کنت مولاہ فعلی مولاہ و قولہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، انت منی بمنزلۃ ہارون من موسی،

اس حدیث کو حضرت فاطمہ معصومہ (س) امام صادق (ع) کی بیٹی سے نقل کرتی ہیں ۔ اس حدیث کی سند کا سلسلہ حضرت زہرا (س) پر اختتام پزیر ہوتا ہے ۔

حضرت فاطمہ زہرا (س) نے فرمایا :کیا تم نے فراموش کر دیا رسول خدا (ص) کے اس قول کو جسے آپ نے غدیر کے دن ارشاد فرمایا تھا کہ جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علی (ع) مولا ہیں ۔

اور کیا تم نے رسول خدا (ص) کے اس قول کو فراموش کر دیا کہ آپ (ص) نے علی (ع) کے لیے فرمایا تھا کہ آپ (ع) میرے لیے ایسے ہیں جیسے موسی (ع) کے لیے ہارون (ع) تھے۔

عوالم العلوم، ج 21 ، ص 353

عن فاطمۃ بنت موسی بن جعفر علیہ السلام : ۔۔۔ عن فاطمۃ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : قالت : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم : اٴلا من مات علی حب آل محمد مات شہیداً

حضرت فاطمہ معصومہ (س) اسی طرح ایک اور حدیث حضرت امام صادق (س) کی بیٹی سے نقل کرتی ہیں اور اس حدیث کا سلسلہ سند بھی حضرت زہرا (س) پر اختتام پزیر ہوتا ہے ۔

حضرت زہرا (س) نے فرمایا کہ رسول خدا (ص) فرماتے ہیں: آگاہ ہو جاوٴ کہ جو اہل بیت (ع) کی محبت پر اس دنیا سے اٹھتا ہے وہ شہید اٹھتا ہے ۔

مرحوم علامہ مجلسی شیخ صدوق سے حضرت معصومہ (س) کی زیارت کی فضیلت کے بارے میں روایت نقل فرماتے ہیں :

قال ساٴلت ابا الحسن الرضا علیہ السلام عن فاطمۃ بنت موسی ابن جعفر علیہ السلام قال : من زارھا فلہ الجنۃ،

راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت فاطمہ معصومہ (س) کے بارے میں امام رضا (ع) سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ جو شخص ان کی قبر اطہر کی زیارت کرے گا اس پر جنت واجب ہو جائے گی۔

شہر قم کے مقدس ہونے کا راز:

متعدد احادیث میں قم کے تقدس پر تأکید ہوئی ہے۔ امام صادق (ع) نے قم کو اپنا اور اپنے بعد آنے والے اماموں کا حرم قرار دیا ہے اور اس کی مٹّی کو پاک و پاکیزہ توصیف فرمایا ہے: امام علیہ السلام فرماتے ہیں:

راوی کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث امام موسی کاظم علیہ السلام کی ولادت سے بھی پہلے امام صادق علیہ السلام سے سنی تھی۔ یہ حدیث قم کی قداست کا پتا دیتی ہے اور قم کی شرافت و تقدس کے راز سے پردہ اٹھاتی ہے، اور یہ کہ اس شہر کا اتنا تقدس اور شرف جو روایات سے ثابت ہے ـ ریحانۃ الرسول(ص)، کریمۂ اہل بیت سلام اللہ علیہا کے وجود مبارک کی وجہ سے ہے کہ جنہوں نے اس سرزمین میں شہادت پا کر اس کی خاک کو حور و ملائک کی آنکھوں کا سرمہ بنا دیا ہے۔

ہاں سیدہ معصومہ سلام اللہ علیہا نے حضرت زینب علیا مقام سلام اللہ علیہا کی طرح اپنے پر برکت سفر میں حقیقی پیشواؤں کی حقانیت کے سلسلے میں امامت کی سند پیش کر دی اور مأمون کے چہرے سے مکر و فریب کا نقاب نوچ لیا۔ قہرمان کربلا کی طرح اپنے بھائی کے قاتل کی حقیقت کو طشت از بام کر دیا۔ فقط فرق یہ تھا کہ اس دور کے حسین علیہ السلام کو مکر و فریب کے ساتھ قتلگاہ بنی عباس میں لے جایا گیا تھا۔ اسی اثناء میں تقدیر الٰہی اس پر قائم ہوئی کہ اس حامی ولایت و امامت کی قبر مطہر ہمیشہ کے لیے تاریخ میں ظلم و ستم اور بے انصافی کے خلاف قیام کا بہترین نمونہ اور ہر زمانے میں پیروان علی علیہ السلام کے لیے ایک الہام الٰہی قرار پائے۔ آپ (س) جیسوں کی موت شہادت نہ ہو تو کیا ہو ؟

آپ (س) نے خاندان پیغمبر صل اللہ علیہ و آلہ کے چند افراد اور محبان اہلبیت کے ہمراہ مدینے سے سفر کر کے ثابت کر دیا کہ ہر زمانے میں حقیقی اور خالص محمدی اسلام کے تربیت یافتہ جیالوں نے مادی و طاغوتی طاقتوں کے سامنے حق کا اظہار کیا ہے۔ جیسا کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے یزید کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر فرمایا  انّی استصغرک،

میں تجھے حقارت کی نگاہ سے دیکھتی ہوں اور تجھے بہت ذلیل و رسوا سمجھتی ہوں۔

زیارت حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا روایات کی نگاہ میں

دعا اور زیارت گوشہ تنہائی سے پر کھول کر لقاء اللہ تک عروج کرنے کا نام ہے۔ خالص معنویت کے شفاف چشمے کے آب خوشگوار سے بھرا ہوا شفاف جام ہے اور حضرت معصومہ کے حرم کی زیارت زمانے کی غبار آلود فضا میں امید کی کرن ہے، غفلت اور بے خبری کے بھنور میں غوطہ کھانے والی روح کی فریاد ہے اور بہشت کے باغات سے اٹھی ہوئی فرح بخش نسیم ہے۔

حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے مرقد منور کی زیارت انسان کو خود اعتمادی کا درس دیتی ہے، ناامیدی کی گرداب میں ڈوبنے سے بچا دیتی ہے اور اس کو مزید ہمت و محنت کی دعوت دیتی ہے۔ کریمہ اہل بیت سلام اللہ علیہا کے مزار کی زیارت موجب بنتی ہے کہ زائر خود کو خداوند صمد کے سامنے نیاز مند اور محتاج پائے، خدا کے سامنے خضوع و خشوع اختیار کرے، غرور و تکبر کی سواری جو تمام بدبختیوں اور شقاوتوں کا موجب ہے سے نیچے اتر آئے اور حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کو اپنے اور خدا کے درمیان واسطہ قرار دے۔ اسی وجہ سے آپ سلام اللہ علیہا کی زیارت کے لیے عظیم انعامات کا وعدہ دیا گیا ہے۔

مولی حیدر خوانساری لکهتے ہیں: روایت ہے کہ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:

جو شخص میری زیارت کے لیے نہ آ سکے رے میں میرے بهائی (حمزه) کی زیارت کرے یا قم میں میری ہمشیره معصومہ کی زیارت کرے اس کو میری زیارت کا ثواب ملے گا۔

زبدة التصانيف، ج 6، ص 159، بحوالہ كريمہ اهل بيت، ص 3

جنت کا واجب ہونا، جنت کے برابر ہونا، بہشت کا مالک ہو جانا، جو لفظ (لہ) سے سمجها جاتا ہے اور ان کی زیارت کا حضرت رضا علیہ السلام کی زیارت کے برابر ہونا اور حضرت رضا علیہ السلام کا اس شیعہ بهائی سے بازخواست کرنا، جس نے حضرت معصومہ سلام الله علیہا کی زیارت نہیں کی تهی۔

حضرت معصومہ علیہا السلام کی زیارت کی سفارش صرف ایک امام نے نہیں فرمائی ہے بلکہ تین اماموں (علیہم السلام) نے ان کی زیارت کی سفارش فرمائی ہے: امام صادق، امام رضا و امام جواد علیہم السلام، اور دلچسپ امر یہ ہے کہامام صادق علیہ السلام نے حضرت معصومہ کی ولادت با سعادت سے بہت پہلے بلکہ آپ (س) کے والد امام کاظم علیہ السلام کی ولادت سے بهی پہلے ان کی زیارت کی سفارش فرمائی ہے۔

دوسرا دلچسپ نکتہ پانچویں روایت ہے جس میں حضرت معصومہ کی زیارت امام رضا علیہ السلام کی زیارت کے ہم پلہ قرار دیا گیا ہے۔

زید شحّام نے امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا: یا بن رسول الله جس شخص نے آپ میں سے کسی ایک کی زیارت کی اس کی جزا کیا ہے ؟

امام علیہ السلام نے فرمایا: جس نے ہم میں سے کسی ایک کی زیارت کی کمن زار رسول الله (ص)، وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے رسول خدا صلی الله و علیہ و آلہ کی زیارت کی ہو۔

چنانچہ جس نے سیده معصومہ (س) کی زیارت کی در حقیقت اس نے رسول خدا (ص) کی زیارت کی ہے، اور پهر حضرت رضا علیہ السلام جو سیدہ معصومہ کی زیارت کو اپنی زیارت کے برابر قرار دیتے ہیں، فرماتے ہیں کہ:

آگاه رہو کہ جس نے غسل زیارت کر کے میری زیارت کی وه گناہوں سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے جس طرح کہ وه ماں سے متولد ہوتے وقت گناہوں سے پاک تها۔

ان احادیث سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ سیده معصومه سلام الله کی زیارت گناہوں کا کفاره بهی ہے اور جنت کی ضمانت بهی ہے بشرطیکہ انسان زیارت کے بعد گناہوں سے پرہیز کرے۔

دو حدیثوں میں امام صادق اور امام رضا علیہما السلام نے زیارت کی قبولیت اور وجوب جنت کے لیے آپ (س) کے حق کی معرفت کو شرط قرار دیا ہے اور ہم آپ (س) کی زیارت میں پڑهتے ہیں کہ:

يا فاطِمَة اشْفَعي لي فِي الْجَنَّةِ، فَانَّ لَكَ عِنْدَ اللّْه ِشَأْناً مِنَ الشَّأْن،

اے فاطمہ جنت میں میری شفاعت فرما کیونکہ آپ کے لیے خدا کے نزدیک ایک خاص شأن و منزلت ہے۔

امام صادق علیہ السلام کے ارشاد گرامی کے مطابق تمام شیعیان اہل بیت (ع) حضرت سیده معصومہ سلام الله علیہا کی شفاعت سے جنت میں داخل ہونگے اور زیارتنامے میں ہے کہ آپ ہماری شفاعت فرمائیں کیوںکہ آپ کے لیے بارگاہ خداوندی میں ایک خاص شأن و منزلت ہے۔ علماء کہتے ہیں کہ یہ شأن، شأنِ ولایت ہے جو سیده (س) کو حاصل ہے اور اسی منزلت کی بنا پر وه مؤمنین کی شفاعت فرمائیں گی اور اگر کوئی اس شأن کی معرفت رکهتا ہو اور آپ کی زیارت کرے تو اس پر جنت واجب ہے۔

زیارت اور اس کا فلسفہ:

اعتقاد شیعہ میں ایک مقدس و معروف کلمہ، کلمہٴ زیارت ہے، اسلام میں جن آداب کی بہت زیادہ تأکید ہوئی ہے ان میں سے ایک اہل بیت علیہم السلام اور ان کی اولاد کی قبور مبارک کی زیارت کے لیے سفر کرنا ہے۔ حدیثوں میں رسول الله صلی الله علیه و آلہ اور آئمہ معصومین علیہم السلام کی جانب سے اس امر کی بہت تأکید کی گئی ہے۔

مثلا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا:

جو میری یا میری اولاد میں سے کسی کی زیارت کرے گا میں قیامت کے دن اس کے دیدار کو پہنچوں گا اور اسے اس دن کے خوف سے نجات دلاؤں گا۔

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

جو معرفت حقہ کے ساتھ امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرے گا تو گویا اس نے 100 حج رسول اللہ کے ساتھ انجام دیئے۔

ایک دوسری روایت میں امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

امام حسین علیہ السلام کی زیارت ہزار حج و عمرہ کے برابر ہے۔

بحار الانوار ج 101، ص 43

امام رضا علیہ السلام نے اپنی زیارت کے لیے فرمایا:

جو شخص معرفت کے ساتھ میری زیارت کرے گا میں اس کی شفاعت کروں گا۔

بحار الانوار ج 102، ص 33

امام علی نقی علیہ السلام نے فرمایا:

جس نے عبد العظیم (ع) کی قبر کی زیارت کی گویا اس نے امام حسین علیہ السلام کی زیارت کی ہے۔

بحار الانوار ج 102، ص 265

امام جواد علیہ السلام نے بھی امام رضا علیہ السلام کے لیے فرمایا:

اس شخص پر جنت واجب ہے جو معرفت کے ساتھ (طوس میں) ہمارے بابا کی زیارت کرے۔

حضرت معصومہ سلام الله علیہا کی زیارت کے بارے میں وارد ہونے والی روایات بهی مندرجہ بالا سطور میں بیان ہوئیں۔

اب سوال یہ ہے کہ ان فضائل و جزا کا فلسفہ کیا ہے ؟ کیا یہ تمام اجر و ثواب بغیر کسی ہدف کے فقط ایک بار ظاہری طور پر زیارت کرنے والے کو میسر ہو گا ؟

در حقیقت زیارت کا فلسفہ یہ ہے کہ ہم ان کی تعلیمات سے آخرت کے لیے زاد راہ فراہم کریں اور خدا کی راہ میں اسی طرح قدم اٹھائیں جس طرح کہ ان بزرگوں نے اٹھائے۔ زیارت معصومین (ع) کے سلسلے میں وارد ہونے والی اکثر احادیث میں شرط یہ ہے کہ ان کے حق کی معرفت کے ساتھ ہو تو تب ہی اس کا اخروی ثمرہ ملنے کی توقع کی جا سکے گی۔

یہ بزرگ ہستیاں، عالم بشریت کے لیے نمونہ اور مثال ہیں، ہمیں ان کا حق پہچان کر ان کی زیارت کے لیے سفر کی سختیان برداشت کرنی ہیں اور ساتھ ہی خدا کی راہ میں ان کی قربانیوں اور قرآن و اسلام کی حفاظت کی غرض سے ان کی محنت و مشقت سے سبق حاصل کرنا ہے اور اپنی دینی اور دنیاوی حاجات کے لیے ان سے التجا کرنی ہے کہ ہماری شفاعت فرمائیں اور اس کے لیے ان کے حق کی معرفت کی ضرورت ہے۔

لَقَد كانَ لَكُم في رَسولِ اللَّهِ أُسوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَن كانَ يَرجُو اللَّهَ وَاليَومَ الآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثيرًا،

سوره أحزاب آیت 21

امام زمان (عج) نے حضرت فاطمہ زہرا (س) کی مبارک حیات طیبہ کو اپنے لیے عملی نمونہ قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ:

و فی ابنۃ رسول اللہ لی اسوۃ حسنۃ،

فاطمہ بنت محمد کی زندگی میرے لیے بہت اچھا عملی نمونہ ہے۔

بحار الانوار ، ج 53 ، ص 178، باب 31، روایت 9

لھذا آئمہ معصومین (ع) اور انکی مبارک اولاد کے نقش قدم پر چل کر ہی ہم دنیا اور آخرت کی کامیابی کو حاصل کر سکتے ہیں، اور اس کامیابی کو حاصل کرنے کا ایک وسیلہ ان کی پاک و مطہر قبور و حرم کی زیارت کرنا ہے اور وقتا فوقتا اسی زیارت کے ذریعے سے ان سے تجدید عہد و میثاق کرنے کی بھی شدید ضرورت ہے۔

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کا مأثور زیارتنامہ

ہر بارگاہ میں ملاقات (زیارت) کا ایک خاص دستور ہوتا ہے۔ حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی بارگاہ میں بھی مشرف ہونے کے خاص آداب ہیں یہی وجہ ہے کہ آپ کی زیارت کے لیے معتبر روایتوں سے زیارت نامہ منقول ہے تا کہ مشتاقان زیارت ان نورانی جملوں کی تلاوت فرما کر رشد و کمال کی راہ میں حضرت سے الہام حاصل کر سکیں اور رحمت حق کی بی ساحل سمندر سی اپنی توانائی اور اپنے ظرف کے مطابق کچھ قطرے ہی اٹها سکیں۔

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ آپ کے لیے آئمہ معصومین سے مأثور زیارت نامہ وارد ہوا ہے۔ سیدة العالمین حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے بعد آپ سلام اللہ علیہا پہلی بی بی ہیں جن کے لیے آئمہ اطہار علیہم السلام کی طرف سے زیارت نامہ وارد ہؤا ہے۔ تاریخ اسلام میں رسول اللہ (ص) کی والدہ حضرت آمنہ بنت وہب، حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام کی والدہ حضرت فاطمہ بنت اسد، حضرت سیدہ سلام اللہ علیہا کی والدہ ماجدہ حضرت خدیجہ بنت خویلد، حضرت ابو الفضل علیہ السلام کی والدہ فاطمہ بنت ام البنین، شریکۃ الحسین ثانی زہراء حضرت زینب، حضرت امام علی النقی علیہ السلام کی ہمشیرہ حضرت حکیمہ خاتون اور حضرت امام مہدی علیہ السلام کی والدہ ماجدہ حضرت نرجس خاتون (سلام اللہ علیہن اجمعین) جیسی عظیم عالی مرتبت خواتین ہو گذری ہیں کہ جن کے مقام و منزلت میں شک و شبہے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، مگر ان کے بارے میں معصومین سے کوئی مستند زیارتنامہ وارد نہیں ہوا ہے جبکہ حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے لیے زیارتنامہ وارد ہوا ہے اور یہ حضرت معصومہ(س) کی عظمت کی نشانی ہے، تا کہ شیعیان و پیروان اہل بیت عصمت و طہارت بالخصوص خواتین اس عظمت کا پاس رکھیں اور روئے زمین پر عفت و حیاء اور تقوی و پارسائی کے عملی نمونے پیش کرتی رہیں، کہ صرف اسی صورت میں ہے آپ سلام اللہ علیہا کی روح مطہر ہم سے راضی اور خوش ہو گی اور ہماری شفاعت فرمائیں گی۔

امام رضا (ع) اور لقب (معصومہ)

حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا جنتی خاتون، عبادت اور خداوند کے ساتھ راز و نیاز میں ڈوبی ہوئی، بدیوں سے پاک اور عالم خلقت کا شبنم ہیں۔ شاید اس بی بی کو لقب معصومہ اسی لیے ملا ہے کہ ماں زہراء سلام اللہ علیہا کی عصمت آپ (س) کے وجود میں جلوہ گر ہو گئی تھی۔ بعض روایات کے مطابق یہ لقب حضرت رضا علیہ السلام نے اپنی ہمشیرہ مطہرہ کو عطا فرمایا تھا۔ جیسا کہ محمد باقر مجلسی (رہ) روایت کرتے ہیں کہ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:

جو شخص قم میں حضرت معصومہ کی زیارت کرے، گویا کہ اس نے میری زیارت کی ہے۔

کریمۃ  اہل بیت علیہم السلام

یہ لقب امام معصوم کی جانب سے سیدہ معصومہ سلام اللہ علیہا کو عطا ہؤا ہے جو آپ (س) کی مرتبت کی بلندی پر دلالت کرتا ہے۔

انسان عبادت و بندگی خداوند عالم کے نتیجے میں مظہر ارادہ حق اور واسطہ فیض الٰہی قرار پا سکتا ہے، یہ ذات اقدس الہی کی عبودیت کا ثمرہ ہے چنانچہ خداوند عالم حدیث قدسی میں فرماتا ہے:

اے فرزند آدم میں کسی چیز کے لیے کہتا ہوں کہ ہو جا ! پس وہ وجود میں آ جا تی ہے، تو بھی میرے بتائے ہوئے راستوں پر چل، میں تجھ کو ایسا بنا دوں گا کہ کہے گا ہو جا ! وہ شیء موجود ہو جائے گی۔

امام صادق علیہ اسلام نے بھی فرمایا:

یعنی خدا کی بندگی ایک گوہر ہے جس کی نہایت اور اس کا باطن موجودات پر فرمانروائی ہے۔

اولیائے خدا جنہوں نے بندگی و اطاعت کی راہ میں دوسروں سے سبقت حاصل فرمائی اور اس راہ کو خلوص کے ساتھ طے کیا وہ اپنی اس با برکت عارضی زندگی میں بھی اور زندگی کے بعد بھی کرامات و عنایات کا منشأ ہیں اور یه سب ان کی پاکیزہ زندگی کا نتیجہ ہے۔

آستان قدس فاطمی قدیم الایام سے ہی ہزاروں کرامات و عنایات ربانی کا مرکز و معدن رہا ہے، کتنے نا امید قلوب خدا کے فضل و کرم سے پر امید ہوئے، کتنے تہی داماں، رحمت ربوبی سے اپنی جھولی بھر چکے اور کتنے ٹهکرائے ہوئے اس در پر آ کر کریمہ اہلبیت سلام اللہ علیہا کے فیض و کرم سے فیضیاب ہوئے اور خوشحال و شادماں ہو کر لوٹے ہیں اور اولیائے حق کی ولایت کے سائے میں ایمان محکم کے ساتھ اپنی زندگی کی نئی بنیاد رکهی ہے۔ یہ تمام چیزیں اسی کنیز خدا کی روح کی عظمت اور خداوند متعال کے فیض و کرم کے منبع بے کراں کی نشاندہی کرتی ہیں اور ثابت کرتی ہیں کہ سیده معصومہ (س) کریمہ اہل بیت (ع) ہیں۔

اب ہم دیکهتے ہیں کہ کریمہ اہل بیت علیہم السلام کا لقب کس طرح ظاہر ہوا ؟

یہ لقب در حقیقت ایک معاصر بزرگ مرجع تقلید کے والد بزرگوار کی سچی خواب کے ذریعے ظاہر ہوا ہے، خواب کچھ یوں ہے:

آیت اللہ العظمی سید شہاب الدین مرعشی نجفی (رہ) کے والد ماجد مرحوم آيت اللّہ سيّد محمود مرعشى نجفى (رہ)، حضرت سیدہ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی قبر شریف کا مقام معلوم کرنے کی سعی وافر کر رہے تھے اور اس سلسلے میں انھوں نے ایک مجرب ختم کا تعین کیا تا کہ اس طرح معلوم ہو جائے کہ ام ابیھا سلام اللہ علیہا کی گمشدہ قبر کہاں ہے ؟ چالیس راتیں انھوں نے اپنا ذکر جاری رکھا۔ چالیسویں شب انھوں نے ختم مکمل کر لیا اور دعا و توسل بسیار کے بعد آرام کرنے لگے تو آنکھ لگتے ہی عالم خواب میں حضرت امام محمد باقر (ع) يا حضرت امام جعفر صادق (ع) کی زیارت کا شرف حاصل کیا۔

امام علیہ السلام نے انہیں فرمایا:

یعنی کریمہ اہل بیت کی زیارت کی پابندی کرو۔

انھوں نے سوچا کہ گویا امام علیہ السلام حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ کی زیارت کی سفارش کر رہے ہیں۔ چنانچہ عرض کیا:

میں آپ پر قربان جاؤں میں نے ختم کا چلہ اسی لیے کاٹا ہے کہ میں حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ کی قبر کے صحیح مقام کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: میری مراد حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی قبر شریف ہے۔

پھر حضرت (ع) نے مزید فرمایا: بعض مصلحتوں کی بنا پر خداوند متعال نے ارادہ فرمایا ہے کہ حضرت زہرا (س) کی قبر شریف مخفی ہی رہے۔ اگر مشیت الہی یہ ہوتی کہ سیدہ فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا کی قبر ظاہر ہو، تو خدا کی طرف سے اس کے لیے جو جلال و جبروت مقدر ہوتا وہی جلال و جبروت خدا نے حضرت معصومہ کے لیے مقدر کر رکھا ہے۔

آیت اللہ مرعشى نجفى جاگ اٹھے تو فورا قم میں حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی زیارت کی غرض سے قم روانہ ہوئے اور اپنے اہل و عیال کے ہمراہ نجف سے قم تشریف لائے۔

كريمه اهل بيت، ص 43، با تلخيص

القاب:

حضرت فاطمہ معصومہ کے متعدد القاب ہیں ،مثلا: معصومہ ،طاہرہ، حمیدہ، محدثہ، عابدہ، رشیدہ، رضیہ، مرضیہ، سیدہ، نقیہ، اخت الرضا اور کریمہ اہل البیت وغیرہ۔

بارگاہ فاطمہ معصومہ، تجلی گاہ فاطمہ زہرا، آیت اللہ سید جعفر میر عظیمی ، ج2، ص 29-30

ان تمام القاب میں سب سے زیادہ معروف و مشہور اور بامعنی لقب معصومہ ہے کہ جو حضرت امام موسی کاظم کی دختر نیک سے مخصوص و منسوب ہے ، آپ اگرچہ ظاہرا معصومین کے زمرہ میں شامل نہیں ہیں لیکن ان مخصوص خواتین میں سے ایک ہیں کہ جنہوں نے وادی عصمت و طہارت کو طے کیا ہے اور تالی تلو معصوم قرار پائی ہیں ، آپ اپنے ضمیر کی پاکیزگی ، اپنی والدہ گرامی نجمہ خاتون کی عفت اور اپنے والد گرامی و برادر عزیز حضرت امام علی رضا (ع) کے زیر سایہ دین و قرآن کی تعلیم و تربیت پانے کی وجہ سے اور پروردگار عالم کی خالصانہ عبادت و بندگی کی خاطر اس بلند و بالا مقام اور کمال معنوی پر فائز ہوئیں کہ جس کے نتیجے میں ہر طرح کی آلودگی گناہ و معصیت سے پاک ہیں ۔ یہی پاکیزگی سبب بنی کہ آپ کے برادر ارجمند حضرت امام علی رضا (ع) نے مناسب سمجھا کہ لقب معصومہ سے آپ کو نوازیا جائے ۔ امام رضا (ع) کہ جو اپنی بہن کے کردار و مقام سے واقف تھے آپ نے فرمایا:

من زار المعصومہ بقم کمن زارنی،

جو شخص بھی شہر قم میں فاطمہ معصومہ کی زیارت کرے گویا اس نے میری زیارت کی ہے۔

محمد علی معلم، الفاطمۃ المعصومۃ، ص64۔بنقل از ریاحین الشریعۃ ، ج5، ص35۔ محمد تقی خان سپہر، ناسخ التواریخ، ج3، ص68

حضرت امام علی رضا علیہ السام کے ذریعہ اس لقب کا انتخاب اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت معصومہ ہر طرح کی برائی و گناہوں سے پاک اور معصوم کی حد تک معنوی مقام و مرتبہ پر فائز ہیں گویا یوں کہا جاسکتا ہے کہ آپ کی جدہ ماجدہ حضرت فاطمہ زہرا کی عصمت و طہارت آپ میں متجلی و نمایاں ہے ۔

اسی بنا پر شیعہ فقہاء، دانشور اور علماء کی زبان میں حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا (کریمہ اہل بیت) کے لقب سے مشہور ہیں۔

دیگر عنوانات:

سیدہ معصومہ(س) کے دو زیارتناموں میں جو اسماء و القاب بیان ہوئے ہیں وہ یہ ہیں:

طاہرہ (پاک و پاکیزہ)

حمیدہ (جس کی ستائش اور تعریف ہوئی ہے)

رشیدہ (ہدایت یافتہ و عاقلہ)

تقَیّہ (پرہیزگار)

مرضیّہ (ان سے خدا راضی و خوشنود ہے)

سیدہ صدیقہ (بہت زیادہ سچی خاتون)

سیدہ رضیّہ مرضّیہ (وہ خاتون جو خدا سے راضی ہیں اور خدا بھی ان سے راضی و خوشنود ہے)

برہ (نیک سیرت)

رشیدہ (عقلمند و ہوشیار)

صدیقہ(ہمیشہ سچ کہنے والی)

شفاعت حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا

بے شک شفاعت کا والا ترین اور بالا ترین مقام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا مقام ہے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا مقام قرآن مجید میں مقام محمود قرار دیا گیا۔

وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا،

اور رات کے ایک حصے میں نیند سے بیدار رہیں اور قرآن (اور نماز) پڑهیں۔ یہ آپ کے لیے ایک اضافی فریضہ ہے، امید رکهیں کہ خدا آپ کو مقام محمود (قابل ستائش و تعریف مقام) عطا فرما کر محشور و مبعوث فرمائے گا۔

سوره اسراء آیت 79

اسی طرح خاندان احمد مختار صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں دو خواتین کے لیے وسیع شفاعت مقرر ہے، جو بہت ہی وسیع اور عالمگیر ہے اور پورے اہل محشر بھی ان دو عالی مرتبت خواتین کی شفاعت کے دائرے میں داخل ہو سکتے ہیں بشرطیکہ وہ شفاعت کے لائق ہوں۔

یہ دو عالیقدر خواتین صدیقہ طاہرہ، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور شفیعہ روز جزا، حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا ہیں۔ حضرت ام الحسنین علیہا السلام کا مقام شفاعت جاننے کے لیے یہی جاننا کافی ہے کہ شفاعت آپ (س) کا حق مہر ہے اور جب بحکم الہی آپ (س) کا نکاح قطب عالم امکان حضرت علی ابن ابیطالب علیہ السلام سے ہو رہا تھا، قاصد وحی نے خدا کا بھیجا ہوا شادی کا پیغام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے حوالے کیا۔ وہ تحفہ ایک ریشمی کپڑا تھا جس پر تحریر تھا:

امت محمد (ص) کے گنہگاروں کی شفاعت خداوند عالم نے فاطمہ زہراء (س) کا حق مہر قرار دیا ہے۔

یہ حدیث اہل سنت کے منابع میں بھی نقل ہوئی ہے۔

سیدہ زہراء سلام اللہ علیہا کے بعد کسی بھی خاتون کو شفیعہ روز محشر حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کا مقام شفاعت حاصل نہیں ہے۔ اسی لیے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

جان لو کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں جن میں سے تین دروازے قم کی جانب کھلتے ہیں، میرے فرزندوں میں سے ایک خاتون جن کا نام فاطمہ ہے ۔ قم میں رحلت فرمائیں گی جن کی شفاعت سے ہمارے تمام شیعہ بہشت میں وارد ہونگے۔

حضرت امام رضا (ع) سے حضرت معصومہ (س) کی محبت

25 برس تک حضرت رضا علیہ السلام حضرت نجمہ خاتون سلام اللہ علیہا کے اکلوتے فرزند تھے اور 25 سال بعد نجمہ خاتون (س) کے دامن مبارک سے ایک ستارہ طلوع ہوا جس کا نام فاطمہ رکھا گیا۔ امام علیہ السلام نے اپنے والا ترین احساساتِ نورانی اپنی کمسن ہمشیرہ کے دل کی اتہاہ میں ودیعت رکھ لیں۔ یہ دو بھائی بہن حیرت انگیز حد تک ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے اور ایک دوسرے کا فراق ان کے لیے ناقابل برداشت تھا۔ زبان ان دو کے درمیان محبت کی گہرائیاں بیان کرنے سے قاصر ہے۔ امام موسی کاظم علیہ السلام کے ایک معجزے کے دوران جس میں سیدہ معصومہ (س) کا بھی کردار ہے ۔ جب نصرانی اس کم سن امامزادی سے پوچھتا ہے:

آپ کون ہیں ؟ تو آپ (س) جواب دیتی ہیں:

میں امام رضا (ع) کی ہمشیرہ معصومہ ہوں۔

سیدہ (س) کے اس بیان سے دو چیزوں کا اظہار ہوتا ہے: ایک یہ کہ آپ (ع) اپنے بھائی سے حد درجہ محبت کرتی تھیں۔ دوسری بات یہ کہ آپ (س) امام رضا (ع) کو اپنی شناخت کی علامت سمجھتی تھیں اور امام (ع) کی بہن ہونے کو اپنے لیے اعزاز اور باعث فخر سمجھتی تھیں۔

محدث بزرگوار شیخ عباس قمی (رہ) امام کاظم(ع) کی بیٹیوں کے بارے میں لکھتے ہیں: جو روایات ہم تک پہنچی ہیں ان سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ ان سب سے افضل و برتر سیدہ جلیلہ حضرت فاطمہ بنت امام موسی بن جعفر(ع) ہیں جو معصومہ کے لقب سے مشہور ہوئی ہیں۔

فضیلت بے مثال و لا زوال:

شیخ محمد تقی تُستری، قاموس الرجال میں حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کا ایک مثالی خاتون (اور خواتین کے لیے اسوہ کاملہ) کے عنوان سے تعارف کراتے ہیں جو امام رضا (ع) کے بعد اپنے بھائیوں اور بہنوں کے درمیان بے مثال تھیں، وہ اس سلسلے میں لکھتے ہیں:

امام موسی ابن جعفر علیہ السلام کی اولاد کی کثرت کے باوجود امام رضا علیہ السلام کو چھوڑ کر کوئی بھی حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے ہم پلہ نہیں ہے۔

بے شک فاطمہ دختر موسی بن جعفر(ع) کے بارے میں اس طرح کے اظہارات ان روایات و احادیث پر استوار ہیں جو آئمہ معصومین علیہم السلام سے آپ (ع) کے سلسلے میں وارد ہوئی ہیں۔ یہ روایات سیدہ معصومہ (س) کے لیے ایسے مراتب و مدارج بیان کرتی ہیں جو آپ (س) کے دیگر بھائیوں اور بہنوں کے لیے بیان نہیں ہوئے ہیں اور اس طرح فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کا نام دنیا کی برتر خواتین کے زمرے میں قرار پایا ہے۔

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی اٹھائیس سالہ پر برکت زندگی کی ثمر بخشی کے اثبات کے لیے یہی جاننا کافی ہے کہ قم میں آپ (س) کے سترہ روزہ قیام نے قم کے حوزہ علمیہ کو بقائے جاودانہ بخشی اور قم نے آپ ہی کی برکت سے دسیوں ہزار محقق، عالم، دانشور، مراجع اور مجتہدین عالم تشیع کے حوالے کیے ہیں اور انشاء اللہ قیامت تک کرتا رہے گا۔

اکابر علماء منجملہ امام رضا (ع) کے صحابی زکریّا بن آدم اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے وکیل حسن بن اسحاق سے لے کر علمائے مفکر اور مراجع تقلید ۔

منجملہ میرزائے قمی، آیت اللہ شیخ ابو القاسم قمی، آیت اللہ حائری، آیت اللہ صدر، آیت اللہ سید محمد تقی خوانساری، آیت اللہ حجّت، آیت اللہ بروجردی، آیت اللہ سید احمد خوانساری، آیت اللہ گلپایگانی، آیت اللہ مرعشی نجفی، آیت اللہ اراکی، علامہ طباطبایی، استاد شہید مرتضی مطہری و حضرت امام خمینی (اعلی اللہ مقامہم الشّریف) تک،  سب کے سب عالم عالمۂ آل عبا حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے وجود کی برکت سے اس سرزمین پر نشو و نما پا چکے ہیں اور بی ہی کے وجود نے حوزہ علمیہ کو مرکزیت و محوریت عطا فرمائی ہے اور قم نے آپ ہی کی برکت سے مدینہ فاضلہ کی حیثیت اختیار کی ہوئی ہے۔ ۔ ۔

خداوند عالم، انبیاء عظام، آئمہ طاہرین، اولیائے الہی، حقیقی مجاہدین اور سُکان  ارض و سماء کا سلام و درود ہو اس سیدہ کریمہ اہل بیت (ع) پر اس بزرگ خاتون پر، جس کا چشمہ فیض دائما جاری ہے اور جس کا سرچشمہ نور ہر وقت دنیا کی تاریکیوں میں امید ہدایت کے روشن نقاط اجاگر کرتا ہے درود و سلام ہو اس کوثرِ ولایت پر۔

مختصر یہ کہ امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ایمان اور عمل انسان کو مقامات عالیہ اور مراتب و مدارج رفیعہ کے معراج تک پہنچاتا ہے، امام (ع) فرماتے ہیں:

خدا کی قسم وہ شخص ہمارے شیعوں میں سے نہیں ہے جو متقی و پرہیزگار نہ ہو اور جو خدا کی اطاعت نہ کرتا ہو۔

نیز امام پنجم (ع) نے فرمایا:

ہماری دوستی اور ولایت تک پہنچنا نیک عملی اور پرہیزگاری کے سوا ممکن نہیں ہے۔      

علامہ سبط ابن جوزی ساتویں صدی میں اہل سنت کے مشہور و معروف عالم حضرت امام موسی کاظم کی اولاد کو شمار کرتے ہوئے آپ کی چار بیٹیوں کو بنام فاطمہ تحریر کرتے ہیں،" فاطمہ کبری" فاطمہ وسطی" فاطمہ صغری" اور فاطمہ اخری"

تذکرۃ الخواص، سبط ابن جوزی ، ص 315

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے فاطمہ نام رکھنے کے متعلق ایک روایت میں آپ کی عظمت و منزلت کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت رسول اکرم (ص) نے ارشاد فرمایا :

انما سمیت فاطمۃ فاطمۃ لانھا فطمت ھی و شیعتھا و ذریتھا من النار،

حضرت فاطمہ زہرا کا اسم گرامی فاطمہ اس لیے رکھا گیا کہ آپ کو، آپ کے شیعوں اور آپ کی ذریت کو جہنم کی آگ سے جدا رکھا گیا ہے۔

ابن جریر طبری، محمد، دلائل الامامۃ ، تہران،موسسہ بعثت،طبع اول،1423ھ، ص148

حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی دختر نیک کا نام بھی فاطمہ رکھنے کی وجہ بھی شاید وہی ہو کہ جو دختر رسول اکرم (ص) حضرت فاطمہ زہرا (س) کے نام کی ہے۔

آپ کے ذاتی فضائل اور خصوصیات:

حضرت فاطمہ معصومہ کہ جو اپنے معصوم والد گرامی اور پاک دامن والدہ کی آغوش میں تربیت پائیں اور اپنے برادار بزرگوار حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی تعلیمات سے مستفید ہوئیں بہت زیادہ فضائل و کمالات کی حامل ہیں، وحی و امامت کے گھرانے سے نسبت،مخصوص علمی و عبادی مقام کا حامل ہونا، حق شفاعت  رکھنا  وغیرہ آپ کے خصوصی فضائل میں سے ہیں۔

حضرت فاطمہ معصومہ کے خصوصی فضائل میں سے ایک یہ ہے کہ آپ کی قبر مطہر کی زیارت کا ثواب بہت زیادہ بیان ہوا ہے ۔چودہ معصومین علیہم السلام کی زیارتوں کے بعد آپ کی زیارت کی بھی بہت  زیادہ تاکید ہوئی ہے اس لیے کہ آنحضرت کے روضہ منورہ کی زیارت انسان کی مایوسانہ  زندگی میں ایک امید کی کرن روشن کرتی ہے انسان کو اعتماد نفس عطا کرتی ہے اور انسان کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو نجات دیتی ہے ۔ آپ کے مزار کی زیارت باعث ہوتی ہے کہ انسان غرور تکبر سے چھٹکارہ پالے اور آپ کو خداوندعالم کے بارگارہ میں واسطہ قرار دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے بزرگوں نے آنحضرت کے روضہ کی زیارت کی بہت زیادہ تاکید فرمائی  اور اس زیارت کا بہت زیادہ اجر و ثواب بیان فرمایا ہے۔

حضرت فاطمہ معصومہ کی قبر کی زیارت کے ثواب کے سلسلے میں اور اس کی کیفیت و مقدار ثواب کے بارے میں بہت زیادہ روایات نقل ہوئی ہیں کہ یہاں پر صرف چند روایات کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے۔

1- ان جماعۃ من اھل الری دخلوا علی ابی عبد اللہ الصادق وقالوا نحن اھل الری فقال: مرجبا باخواننا من اھل قم، فقالوا نحن من اھل الری فاعاد الکلام قالو ذالک مرارا و اجابھم مثل اجاب بہ اولا، فقال ان للہ حرما وھو مکۃ و ان للرسول حرما وھو المدینۃ وان لامیرالمؤمنین حرما وھو الکوفۃ، وان لنا حرما وھو بلدۃ قم وستدفن فیھا امر‏اۃ من اولادی تسمی فاطمۃ فمن زارھا وجبت لہ الجنۃ،

شہر رے سے کچھ لوگ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں مشرف ہوئے اور کہا کہ ہم شہر رے کے رہنے والے ہیں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں ، حضرت نے فرمایا : شہر قم سے ہمارے دوستوں کو خوش آمدید، انہوں نے کہا کہ ہم شہر رے سے آئے ہیں، امام نے پھر وہی جواب دیا ، ان لوگوں نے دوبارہ اپنی بات کی تکرار کی لیکن امام کی زبان مبارک پر وہی کلمات  آتے رہے، پھر کئی مرتبہ کے بعد آپ نے فرمایا: بیشک خداوند عالم کا حرم ہے کہ جو مکہ میں ہے، اور رسول خدا کا حرم مدینہ میں ہے، امیر المؤمنین کا حرم کوفہ میں ہے، اور ہم اہل بیت کا حرم شہر قم میں ہے عنقریب میری اولاد میں سے ایک بیٹی بنام فاطمہ اس شہر میں دفن ہو گی جو شخص بھی اس شہر میں  ان کی زیارت کرے گا، اس پر جنت واجب ہو جائے گی۔

محمد مھدی حائری، شجرہ طوبی، ج1، ص23۔

2- علامہ مجلسی نے بحار الانوار میں اور آیت اللہ بروجردی نے جامع احادیث شیعہ میں ایک حدیث اس مضمون میں نقل فرمائی ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:

ان زیارتھا تعادل الجنۃ،

حضرت فاطمہ معصومہ کی قبر کی زیارت جنت کے مساوی و برابر ہے۔

محمد باقر مجلسی ، بحارالانوار، ج57، ص210۔

حسین طباطبائی بروجردی، جامع احادیث الشیعہ،ج12، ص617

3- شیخ صدوق نے اپنے والد گرامی اور محمد بن موسی بن متوکل سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا :

حدثنا علی بن ابراہیم بن ھاشم عن ابیہ عن سعد قال: سالت ابا الحسن الرضا عن زیارۃ فاطمۃ بنت موسی بن جعفر فقال : من زاھا فلہ الجنۃ،

علی بن ابراہیم بن ہاشم نےاپنے والد سے اور انہوں نے  سعد سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہم نے حضرت امام رضا علیہ السلام سے حضرت فاطمہ معصومہ کی زیارت کے بارے میں دریافت کیا  تو آپ نے فرمایا: جو بھی آپ کی زیارت کرے گا اس کی جزاء جنت ہے۔

شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا ، ج1، ص300

4- حضرت امام رضا علیہ السلام نے اپنی خواہر گرامی حضرت فاطمہ معصومہ کی زیارت کے ثواب کی مقدار کے متعلق اس طرح اشارہ فرمایا ہے :

من زارالمعصومۃ بقم کمن زارنی،

جو شخص بھی شہر قم میں معصومہ کی زیارت کرے وہ اس شخص کی مانند ہے کہ جس نے میری زیارت کی ہے۔

محمد علی معلم، الفاطمۃ المعصومۃ، ص64۔بنقل از ریاحین الشریعۃ ، ج5، ص35۔

محمد تقی خان سپہر، ناسخ التواریخ، ج3، ص68

5- شیخ صدوق نے اپنے والد محترم سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت امام محمد تقی علیہ السلام نے بھی اپنی پھوپی فاطمہ معصومہ کی  قبر کی زیارت کے متعلق فرمایا :

من زار قبر عمتی بقم فلہ الجنۃ،

جو شہر قم میں  میری پھوپی کی قبر کی زیات کرے، اس کے لیے جنت ہے ۔

جعفر ابن محمد قولویہ، کامل الزیارات، ص536

ماثورہ زیارت نامے کا حامل ہونا:

حضرت فاطمہ معصومہ تمام فرزندان آئمہ طاہرین میں سے ان خاص فرزندوں میں سے ہیں کہ جن کا زیارت نامہ ،ماثورہ ہے ۔

ماثورہ زیارت نامہ اس کو کہتے ہیں کہ جو  کسی امام معصوم نے کسی صاحب قبر کے لیے تعلیم دیا ہو،یا خود قبر پر جا کر پڑھا ہو۔

ایک روایت کہ جو سعد قمی سے نقل ہوئی ہے مذکور ہے کہ ایک روز میں حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی خدمت میں مشرف ہوا ، آنحضرت نے مجھ سے معلوم کیا : کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے شہر میں ایک ہماری قبر بھی ہے ۔ میں نے عرض کی  : میں آپ پر قربان ہو جاؤں کیا آپ کی مراد حضرت فاطمہ معصومہ بنت موسی کاظم علیہ السلام کی قبر ہے ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں، پھر فرمایا :

من زارھا عارفا بحقھا فلہ الجنۃ۔

جو شخص بھی ان کی زیارت کرے اس صورت میں کہ وہ ان کے حق و مقام سے واقف ہو تو اس کی جزا جنت ہے ۔

حسین نوری،مستدرک الوسائل،ج10،ص368

مجلسی ، محمد باقر، بحارالانوار، ج99، ص266

بروجردی، حسین، جامع احادیث الشیعہ، ج12، ص617

حضرت امام علی رضا علیہ السلام نے اس نورانی حدیث میں نہ یہ کہ صرف  اپنی خواہر گرامی کی زیارت کے ثواب کو بیان فرمایا ہے بلکہ آداب زیارت اور اس کی کیفیت کو بھی بیان فرما دیا ہے، آپ نے فرمایا:

فاذا اتیت القبر عند راسھا مستقبل القبلۃ و کبر اربعا و ثلاثین تکبیرۃ، و سبح ثلاثا و ثلاثین تسبیحۃ، و احمد اللہ ثلاثا و ثلاثین تحمیدۃ، ثم قل: السلام علی ۔ ۔ ۔ الی آخر الزیارۃ۔

آپ جب بھی آنخصرت کی قبر مبارک کے قریب جائیں تو آپ کے سرہانے قبلہ رخ کھڑے ہو کر 34 مرتبہ اللہ اکبر ، 33 مرتبہ سبحان اللہ اور 33 مرتبہ الحمد للہ پڑھیں اور پھر زیارت کی تلاوت فرمائیں۔

بی بی حضرت فاطمہ معصومہ (س) کا زیارت نامہ:

اَلسَّلامُ عَلی آدَمَ صَفْوَۃِ اللّہ ِ، اَلسَّلامُ عَلی نوُح نَبِیِّ اللّہ ِ ، اَلسَّلامُ عَلی ابْرھیمَ خَلیل ِ اللّہ ِ، اَلسَّلامُ عَلی موُسی کَلیم ِاللّہ ِ ، اَلسَّلامُ عَلی عیسی روُح ِ اللّہ ِ، اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یا خَیْرَ خَلْقَ اللّہ ِ ، اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یا صَفِیَّ اللّہ ِ، اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یا مُحَمّدَ بْنَ عَبْد ِاللّہ ِ، خاتَمَ النَّبِیّینَ، اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یا اَمیرَ الْمُؤْمِنینَ عَلیَّ بْنَ اَبی طالِب ، وَصِیَّ رَسوُل ِ اللّہ ِ، اَلسَّلامُ عَلَیْک ِ یا فاطِمَۃُ سَیِّدَۃَ نِساءِ الْعالَمینَ، اَلسَّلامُ عَلَیْکُما یا سِبْطَیْ نَبِیِّ الرَّحْمَۃ ِ، وَ سَیِّدَیْ شَباب ِ اھل ِ الْجَنَّۃ ِ ، اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یا عَلِیَّ بْنَ الْحُسَیْن ِ، سَیِّدَ الْعابِدینَ وَ قُرَّۃَ عَیْن ِ النّاظِرینَ، اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یا مُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ، باقِرَ الْعِلْم ِ بَعْدَ النَّبِیِّ ، اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یا جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّد الصّادِقَ الْبارَّ الْامینَ ، اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یا موُسَی بْنَ جَعْفَر الطّاہرَ الطُّہرَ، اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یا عَلِیِّ بْنَ موُسَی الرِّضَا الْمُرْتَضی، اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یا مُحَمَّدَ بْنَ عَلِی التَّقِیَّ، اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یا عَلِیِّ بْنَ مُحَمَّد النَّقِیَّ النّاصِحَ الْأَمینَ، اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یا حَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ،

اَلسَّلامُ عَلَی الْوَصِیِّ مِنْ بَعْدِہ ِ . اَللّہمَّ صَلِّ عَلی نُورِکَ وَ سِراجِکَ، وَ وَلِیِّ وَلِیِّکَ، وَ وَصِیِّکَ، وَ حُجَّتِکَ عَلی خَلْقِکَ .

اَلسَّلامُ عَلَیْک ِ یا بِنْتَ رَسوُل ِ اللّہ ِ، اَلسَّلامُ عَلَیْک ِ یا بِنْتَ فاطِمَۃَ وَ خَدیجَۃَ ، اَلسَّلامُ عَلَیْک ِ یا بِنْتَ اَمیر ِ الْمُؤْمِنینَ ، اَلسَّلامُ عَلَیْک ِ یا بِنْتَ الْحَسَن ِ وَ الْحُسَیْن ِ اَلسَّلامُ عَلَیْک ِ یا بِنْتَ وَلِیِّ اللّہ ِ ، اَلسَّلامُ عَلَیْک ِ یا اُخْتَ وَلِیِّ اللّہ ِ، اَلسَّلامُ عَلَیْک ِ یا عَمَّۃَ وَلِیِّ اللّہ ِ ، اَلسَّلامُ عَلَیْک ِ یا بِنْتَ موُسَی بْن ِ جَعْفَر ، وَ رَحْمَۃُ اللّہ ِ وَ بَرَکاتُہُ.

اَلسَّلامُ عَلَیْک ِ، عَرَّفَ اللّہُ بَیْنَنا وَ بَیْنَکُمْ فِی الْجَنَّۃ ِ، وَ حَشَرَنا فی زُمْرَتِکُمْ، وَ أَوَرَدْنا حَوْضَ نَبِیِّکُمْ، وَ سَقانا بِکَأْس ِ جَدِّکُمْ مِنْ یَد ِ عَلِی ِّ بْن ِ اَبی طالِب ، صَلَواتُ اللّہ عَلَیْکُمْ ، أَسْئَلُ اللّہ أَنْ یُرِیَنا فیکُمُ السُّروُرَ وَ الْفَرَجَ ، وَ أَنْ یَجْمَعَنا وَ إِیّاکُمْ فی زُمْرَۃ ِ جَدِّکُمْ مُحَمَّد، صَلَّی اللّہُ عَلَیْہ ِ وَ آلِہ ِ، وَ أَنْ لا یَسْلُبَنا مَعْرفَتَکُمْ، إِنَّہُ وَلِیِّ قَدیرٌ. أَتَقَرَّبُ إِلَی اللّہ ِ بِحُبِّکُمْ وَ الْبَراۃ ِ مِنْ أَعْدائِکُمْ، وَ التَّسْلیم ِ إِلَی اللّہ ِ ، راضِیاً بِہ ِ غَیْرَ مُنْکِر وَ لا مُسْتَکْبِر وَ عَلی یَقین ِ ما أَتی بِہ ِ مَحَمَّدٌ وَ بِہَ راض، نَطْلُبُ بِذلِکَ وَجْھکَ یا سَیِّدی ، اَللّھمَّ وَ رِضاکَ وَ الدّارَ الْآخِرَۃِ .

یا فاطِمَۃُ اِشْفَعی لی فِی الْجَنَّۃ ِ ، فَانَّ لَکَ عِنْدَ اللّْہ ِ شَأْناً مِنَ الشَّأْن ِ. اَللّْہمّ انّی اَسْئَلُکَ أَنْ تَخْتِمَ لی بِالسَّعادَۃ ِ ، فَلاتَسْلُبْ مِنّی ِ ما أَنَا فیہ ِ،وَ لاحُولَ وَ لا قُوَۃَ إِلا بالّلہ الْعَلِیِّ الْعَظیم ِ .

اَللّہمَ اسْتَجِبْ لَنا، وَ تَقَبَّلْہُ بِکَرَمِکَ وَ عِزَّتِکَ ، وَ بِرَحْمَتِکَ وَ عافِیَتَکَ، وَ صَلَّی الّلہُ عَلی مُحَمَّد وَ آلِہ ِ أَجْمَعینَ، وَ سَلَّمَ تَسْلیما یا أَرْحَمَ الرّاحِمین۔

ترجمہ زیارت:

سلام ہو خدا کے انتخاب کردہ آدم پر، سلام ہو خدا کے نبی نوح پر ، سلام ہو خدا کے دوست ابراہیم پر ،سلام ہو خدا سے بات کرنے والے موسی پر ، سلام ہو خدا کی روح عیسی پر،سلام ہو آپ پر اے خداوند عالم کی بہترین مخلوق، سلام ہو آپ پر اے خدا کے انتخاب شدہ پیغمبر، سلام ہو آپ پر اے محمد ابن عبد اللہ سب سے آخری نبی، سلام ہو آپ پر اے امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب، رسول خدا کے جانشین، سلام ہو آپ پر اے  فاطمہ ، ساری کائنات کی عورتوں کی سردار، سلام ہو آپ پر اے نبی رحمت کے دونوں بیٹوں اور جنت کے جوانوں کے سرداروں، سلام ہو آپ پر اے علی ابن الحسین، عبادت کرنے والوں کے سردار اور دیکھنے والوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک، سلام ہو آپ پر اے محمد ابن علی، نبی کے بعد علم کو پھیلانے والے، سلام ہو آپ پر اے جعفر ابن محمد، صادق ،  نیک اور امانتدار، سلام ہو آپ پر اے موسی ابن جعفر، پاک و پاکیزہ، سلام ہو آپ پر اے علی ابن موسی، جس کی مرضی خدا کی مرضی ہے ، سلام ہو آپ پر اے محمد تقی ابن علی ، سلام ہو آپ پر اے علی نقی ابن محمد، امانتدار اور نصیحت کرنے والے، سلام ہو آپ پر اے حسن عسکری ابن علی، سلام ہو حسن عسکری کے بعد ان کے جانشین پر ۔

پروردگار! درود  و سلام بھیج اپنے نور اور اپنے چراغ اور اپنے دوست کے دوست اور جانشین پر اور اپنی مخلوقات پر حجت پر ۔

سلام ہو آپ پر اے رسول خدا کی بیٹی، سلام ہو آپ پر اے فاطمہ اور خدیجہ کی بیٹی، سلام ہو آپ پر اے امیر المؤمنین کی بیٹی، سلام ہو آپ پر اے حسن و حسین کی بیٹی، سلام ہو آپ پر اے خدا کے دوست کی بیٹی، سلام ہو آپ پر اے خدا کے دوست کی بہن، سلام ہو آپ پر اے خدا کے دوست کی پھوپی، سلام ہو آپ پر موسی ابن جعفر کی دختر اور آپ پر خدا کی رحمت اور اس کی برکت ہو۔

سلام ہو آپ پر کہ خداوند عالم ہم کو جنت میں آپ کی زیارت سے نوازے اور ہمیں آپ کے زمرے میں شمار فرمائے، اور ہم کو آپ کے جد نبی اکرم کی حوض پر پہنچائے اور آپ کے دادا امیر المؤمنین کے دست مبارک سے سیراب کرائے، آپ سب پر خدا کا درود و سلام ہو ، میں خداوند عالم کی بارگاہ میں التجا کرتا ہوں کہ ہم کو آپ کے ذریعہ کشائش دکھائے اور ہم اور تم کو آپ کے جد حضرت محمد کے زمرے میں شامل فرمائے ، خدا کا درود و سلام ہو محمد اور ان کی آل پاک پر ، خداوند عالم ہم سے آپ کی معرفت و محبت کو سلب نہ کر لے کہ وہی سب کا سرپرست اور قدرت رکھنے والا ہے ۔

میں آپ کی محبت اور آپ کے دشمنوں سے بیزاری کے سبب خداوند عالم سے قربت حاصل کرنا چاہتا ہوں ، میں خداوند عالم کے حضور تسلیم ہوں اور اس سے راضی و خوشنود ہوں  نہ اس کی مخالفت کرتا ہوں اور نہ اس کے سامنے غرور و تکبر کرتا ہوں  اور میں جو حضرت محمد لے کر آئے ان سب پر یقین رکھتا ہوں اور ان سے راضی ہوں۔

اے میرے پروردگار! ان سب چیزوں کے سبب میں تیری خوشنودی چاہتا ہوں ، اے میرے پروردگار ! صرف تیری خوشنودی اور آخرت کا گھر۔

اے فاطمہ جنت میں میری شفاعت کرنا ، اس لیے کہ خداوند عالم کے نزدیک آپ کی بہت منزلت ہے۔

اے میرے پروردگار! میں تجھ سے التجا کرتا ہوں کہ میرا خاتمہ بالخیر کرنا اور مجھ سے میری ان نیکیوں کو سلب نہ کرنا ۔

خدا کے سوا  نہ کوئی طاقت ہے اور نہ کوئی قدرت ، کہ وہ بہت بلند و عظمت والا ہے ۔

اے میرے پروردگار! اس دعا و زیارت کو اپنے کرم و عزت اور رحمت و عافیت کے صدقہ میں قبول فرما، اور محمد وآل محمد پر درود و سلام بھیج، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

زیارت نامے کے بلندمطالب پر ایک نگاہ:

جیسا کہ اس سے پہلے بھی بیان ہو چکا ہے کہ یہ زیارت نامہ ایک امام معصوم سے منقول و ماثور زیارت نامہ ہے ۔ یعنی حضرت امام رضا علیہ السلام نے اپنی خواہر گرامی کے لیے فرمایا اور اور ہدیہ کیا ، یہ حضرت معصومہ کی عظمت پر دلیل ہے کہ آپ اپنی جدہ ماجدہ حضرت فاطمہ زہرا کے بعد تنہا ایسی خاتون ہیں کہ جن کا زیارت نامہ کسی معصوم سے ماثور ہو۔ یہ زیارت نامہ دوسرے  زیارت ناموں کے مقابل کچھ خاص نکات و امتیازات کا حامل ہے کہ جن کی طرف اشارہ کرنا مناسب ہے:

1- زیارت نامے کا آغاز انبیاء علیہم السلام جیسے آدم ، نوح، ابراہیم ، موسی و عیسی ابن مریم اور چودہ معصومین علیہم السلام پر سلام کے ذریعہ ہوا ہے یہ سلا م کہ جو انتہائی مودبانہ اور خاضعانہ ہیں بہت ہی مناسب مقدمہ ہیں حضرت معصومہ پر سلام کرنے کے لیے ۔

2- زیارت نامے میں  عام نبیوں پر ایک سلام ذکر ہوا ہے جب کہ ہمارے پیغمبر اکرم پر چار سلام مذکور ہیں ، کہ جو ہر ایک کسی خاص صفت کے ساتھ ذکر ہوئے ہیں جیسے رسول اللہ ، خیر خلق اللہ ، صفی اللہ   اور خاتم النبیین ، کہ جو رسول اکرم کی دوسرے نبیوں پر فضیلت کے بیان کرنے کے لیے کافی ہے۔

3- ایک اور نکتہ کہ جو بہت زیادہ قابل توجہ ہے وہ یہ کہ دوسرے زیارت ناموں میں صاحب زیارت نامہ کے علاوہ باقی دیگر ہستیوں پر سلام صیغہ غایب (یعنی سلام ہو اس پر یا ان پر) کے ساتھ بیان ہوا ہے، جب کہ اس زیارت نامہ میں پیغمبر اکرم سے امام حسن عسکری تک مخاطب (یعنی سلام ہو آپ پر) کی حیثیت سے سلام ذکر ہوا ہے گویا یہ اشارہ ہے کہ حضرت معصومہ کا حرم تمام چودہ معصومین علیہم السلام کا آشیانہ ہے یعنی یہ حرم ، حرم رسول بھی ہے اور حرم امیر المؤمنین بھی ، حرم حضرت فاطمہ بھی ہے اور حرم دیگر معصومین بھی، لہذا جو کوئی بھی حضرت فاطمہ معصومہ کے حرم کی زیارت سے مشرف ہو گویا اس کو حضرت رسول اکرم ، حرم امیر المؤمنین اور تمام معصومین کے حرم کی زیارت کا شرف حاصل ہوا ہے ۔ اس واقعیت پر حضرت امام جعفر صادق کی فرمائش پر ایک دلیل ہے کہ آپ نے فرمایا : خداوند عالم کا حرم مکہ معظمہ میں ہے ، رسول اکرم کا حرم مدینہ منورہ میں ہے و امیر المؤمنین کا حرم کوفہ میں ہے اور ہم معصومین کا حرم شہر قم میں ہے۔

محمد مہدی  حائری، شجرہ طوبی، ج1، ص 23

4- مذکورہ نکات سے بھی زیادہ قابل توجہ یہ نکتہ ہے کہ جہاں تمام معصومین پر مخاطب کی حیثیت سے سلام ذکر ہوا وہاں حضرت حجت ابن الحسن امام زمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف پر غایب کی حیثیت سے سلام ذکر ہوا ہے ، اس میں کوئی شک نہیں  کہ سلام کی کیفیت میں یہ تبدیلی کسی راز کی طرف اشارہ ہے ، شاید وہ یہ ہو کہ حضرت کی اکثر عمر شریف حالت غیبت میں گذرے گی یعنی اگرچہ زندہ  و حاضر ہیں لیکن لوگوں کی نظروں سے غایب ہیں ۔

5- حضرت امام علی رضا علیہ السلام نے اس زیارت نامہ میں ابنیاء اور معصومین علیہم السلام پر درود و سلام بھیجنے کے بعد اپنی خواہر گرامی کی خدمت میں سلام پیش کیا ہے اور آپ کا اس طرح تعارف کرایا کہ آپ کو حضرت امام موسی کاظم کی بیٹی کے ساتھ ساتھ رسول خدا کی بیٹی اور جناب خدیجہ ، حضرت امیر المؤمنین ، حضرت فاطمہ زہرا ، حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین کی بھی بیٹی قرار دیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت معصومہ ان تمام بزرگوں کی خوبیوں اور نیکیوں کی وارث ہیں اور ان تمام اچھائیوں پر عمل پیرا ہو کر اپنے تقدس اور احترام میں اضافہ فرمایا ہے ۔

6- اس سلسلہ کا آخری نکتہ یہ ہے کہ حضرت امام رضا علیہ السلام نے اس زیارت نامہ میں اپنی خواہر گرامی کا بنت ولی اللہ،  اخت ولی  اللہ اور عمۃ ولی اللہ کے طور پر تعارف کرایا ہے ، اس تعارف میں یہ نکات اتفاقی امر نہیں ہیں بلکہ اس میں اس عقیدہ کی طرف اشارہ  ہے کہ حضرت معصومہ قم ایسی بیٹی ہیں کہ ولی خدا یعنی حضرت امام موسی کاظم (ع) آپ کی عظمت  و مقام پر فخر فرماتے ہوئے ارشاد فرمائیں : فداھا ابوھا۔

اور ایسی بہن ہیں کہ جنہوں نے ولی خدا یعنی حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے ساتھ حق خواہری کو صحیح معنوں میں ادا کیا ہے ، اور آنحضرت اپنی اس خواہر گرامی کے بے نظیر وجود سے خوشحال ہیں ، اس حد تک خود اسی زیارت نامہ میں آپ سے اپنی شفاعت کے لیے متوسل ہیں اور فرماتے ہیں : یا فاطمۃ اشفعی لی فی الجنۃ، اے فاطمہ روز قیامت میرے لیے جنت کی شفاعت فرمانا ۔

اور ایسی پھوپھی ہیں کہ آپ پر حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کو فخر ہے ۔ آپ اپنے بھتیجے کی نظر میں اسقدر عزت و احترام رکھتی ہیں کہ حضرت امام محمد تقی (ع) نے آپ کی قبر کی زیارت کا ثواب یوں بیان فرمایا ہے کہ: جو حضرت معصومہ قم کی قبر مطہر کی زیارت سے مشرف ہو گا وہ جنت کا مستحق ہے۔

ابن قولویہ ، جعفر ابن محمد، کامل الزیارت، ص536

نتیجہ:

تمام ادیان و مذاہب اور اقوام میں اپنے بزرگوں اور مذہبی شخصیتوں کی قبروں کی زیارت رائج و مرسوم ہے ، صدر اسلام کے مسلمان بھی اس سیرت پر عمل پیرا تھے ، یہاں تک کہ خود رسول اکرم (ص) بھی میدان احد میں اپنے چچا حمزہ کی قبر اور ابواء میں اپنی والدہ مکرمہ کی قبر مطہر پر زیارت کے لیے تشریف لے جاتے تھے اور آپ کے اصحاب نے بھی آپ کی سنت کو جاری رکھا اور یہ فعل انجام دیا۔

حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی دختر نیک اختر حضرت فاطمہ معصومہ کہ جن کا مزار شہر مقدس قم میں واقع ہے انہی مذہبی شخصیتوں میں سے ایک ہیں، آپ کی قبر مطہر کی زیارت کے لیے بھی بہت تاکید ہوئی ہے اسی وجہ سے آپ کی قبر کی زیارت کے لیے تشویق میں بہت زیادہ روایات ہیں جن میں سے پانچ احادیث بیان کی جا چکی ہیں اور آپ کے برادر بزرگوار حضرت امام علی بن موسی الرضا (ع) کی جانب سے آپ کے لیے زیارت نامہ بھی ماثور ہے  ، اس زیارت نامہ میں بہت سے علمی و معنوی نکات ہیں کہ جن میں سے چھ نکات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

سلام ہو اسلام کی اس عظیم المرتبت خاتون پر روز طلوع سے لے کر لمحہ غروب تک۔

سلام و درود معصومہ سلام اللہ علیہا کی روح تابناک پر جن کے حرم منور نے قم کی ریگستانی سرزمین کو نورانیت بخشی۔

سلام ہو دنیا کی خواتین کی سیدہ (س)، مہر محبت کے پیامبروں کی لاڈلی، دختر سرداران جوانان جنت پر۔

اے فاطمہ! روز قیامت ہماری شفاعت فرما، کہ آپ اللہ تعالی کی بارگاہ میں خاص مقام و منزلت کی مالک ہیں۔

سلام ہو آپ پر اے ثانی زہرائے دوم

سلام ہو آپ پر اے امام رضا (ع) کی زینب

التماس دعا.....

 

 
   

 

 

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی