2017 November 23
آل سعود کی فکرمندی مسجدالاقصی کی حمایت نہیں بلکہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی ہے
مندرجات: ٨٧٨ تاریخ اشاعت: ٢٢ July ٢٠١٧ - ١٩:٢٦ مشاہدات: 54
خبریں » پبلک
آل سعود کی فکرمندی مسجدالاقصی کی حمایت نہیں بلکہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی ہے

قطر کے ٹی وی چینل الجزيرہ کی ویب سائٹ نے پیر کے روز مسجدالاقصی پر صہیونی جارحیت پر ایک تجزیہ پیش کرتے ہوئے آل سعود کی مجرمانہ خاموشی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے لکھا: ریاض حال حاضر میں حتی مسجدالاقصی کے مسئلے کی فراموشی کی قیمت پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی جانب تیزرفتار قدم اٹھا رہا ہے۔ اسے مسجدالاقصی کی کوئی فکر نہیں ہے۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، ایسے حال میں، جب قدس پر قابض صہیونی ریاست فلسطینیوں کے خلاف اپنے جارحانہ اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے، کئی ہفتوں سے مسجد الاقصی میں نماز باجماعت پر پابندی لگی ہوئی اور مسلمانوں کو مسجد میں داخلے کا داخلہ تک ممنوع کیا جا چکا ہے سعودی عرب سمیت بعض عرب ریاستیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے مسئلے میں اس قدر الجھے ہوئے ہیں کہ زبانی کلامی مذمت سے بھی اجتناب کررہے ہیں اور مسجد الاقصی پر صہیونی جارحیت کے جواب میں مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔
الجزیرہ نے اس سلسلے میں اپنے تجزیئے میں لکھا ہے: اس وقت سعودیوں کی طرف سے مسجد الاقصی کے خلاف اسرائیلی اقدامات کے مقابلے میں کسی قسم کی کوئی صدا سنائی نہیں دے رہی ہے، لیکن قطر کے خلاف نام نہاد سعودی مفتیوں، شیوخ، سیاستدانوں و مفکرین کی جان خراش صداؤں نے سب کی سماعتوں کو مجروح کر رکھا ہے وہ بھی ایسے حال میں جب سعودی حکمران اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی طرف عجلت زدہ قدم اٹھا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ " نے مسجد الاقصی کے خلاف صہیونی جارحیت اور 1969 کے بعد پہلی بار اس کے دروازوں کی بندش پر قطر پر ہمہ جہت پابندیاں لگانے والے چار ممالک "امارات، بحرین، مصر اور سعودی عرب کی طرف سے کسی قسم کا کوئی سرکاری موقف سامنے نہیں آیا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق، سعودی عرب مسلمانوں کے لئے اعلی حیثیت رکھتا ہے لیکن اس نے مسجد الاقصی کے خلاف ہونے والے اقدامات اور وہاں نماز پر نافذ ہونے والی پابندی پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے اور سعودی حکمرانوں کی متابعت کرتے ہوئے اس کے نام نہاد صاحبان فکر، اہلیان قلم، مفتی اور سیاستدان بھی صہیونی جارحیت پر آواز اٹھانے کے بجائے قطر اور اس کے عوام پر پابندیاں سخت کرنے اور اقدامات میں شدت لانے حتی کہ قطر پر حملہ کرنے کے مطالبے کرکے سعودیوں کے بنے بنائے بحران کا حل تلاش کررہے ہیں۔
الجزیرہ لکھتا ہے: خلیج فارس کے امور کے سعودی وزیر مملکت ثامر السبہان نے چند روز قبل اسرائیل کے ساتھ عربوں کی دشمنی کا قطر کے ساتھ چار عرب ملکوں کی دشمنی سے موازنہ کرتے ہوئے قطر کا نام لئے بغیر کہا ہے کہ بعض عرب ممالک سعودی عرب کے نزدیک اسرائیل سے بھی زیادہ قابل نفرت ہیں۔
الجزیرہ نے تجزیہ نگاروں کے حوالے سے لکھا ہے: سعودیوں کی مجرمانہ خاموشی سے بدتر وہ سعودی کوششیں ہیں جو قبلۂ اول کے ساتھ مسلمانوں کے دیرینہ مذہبی رشتے کے خاتمے کے لئے کی جارہی ہیں اور اس کی ایک مثال سعودی مفتی احمد بن سعد القرنی کا موقف ہے جس نے حماس کو فلسطینیوں کا قاتل قرار دیتے ہوئے فلسطینیوں سے کہا ہے کہ "مسجد الاقصی کو یہودیوں کو سپرد کریں اور یہ کہ مسجد الاقصی کی راہ میں مرنا شہادت کے زمرے میں نہیں آتا"۔
القرنی نے ٹوئیٹر میں اپنے پیج پر لکھا ہے: "کیا فلسطینی مسلمان کے خون کی حرمت مسجدالاقصی کی حرمت سے کمتر ہے؟ خدا کا خوف کرو اور مسلمانوں کا خون مباح نہ کرو، کس نے کہا ہے کہ مسجدالاقصی کی راہ میں مرنا شہادت ہے؟"۔
جد الاقصی در حال انجام است؛ نمونه آن اظهارات احمد بن سعید القرنی مفتی سعودی است که چندی پیش به بهانه حفظ خون فلسطینیان گفته بود «مسجد الاقصی را برای یهود رها کنید».
وی در صفحه شخصی خود در توییتر نوشت: آیا حرمت خون مسلمان فلسطینی کمتر از مسجد الاقصی است؟ از خدا بترسید و خون مردم را مباح نکنید، چه کسی گفته است که مرگ در راه مسجد الاقصی شهادت است؟
الجزیرہ نے لکھا: القرنی کا موقف مسئلۂ فلسطین، قدس شریف اور مسجد الاقصی کے سلسلے میں سعودی حکمرانوں کے سیاسی رویئے کو نمایاں کرتا ہے اور ان کا موجودہ رویہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی طرف قدم اٹھانا ہے اور مغربی اخبارات اور سعودی اور اسرائیلی حکام کے خیالات سے اس سعودی رویئے کی تصدیق ہوتی ہے۔
الجزیرہ کے تجزیئے کے مطابق، سعودی عرب اور قطر کا محاصرہ کرنے والے باقی تین ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی طرف تیز تر قدم اٹھا رہے ہیں، گوکہ قاہرہ کے پہلے ہی سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات ہیں اور امارات اور بحرین نے بھی ـ اسرائیلی روزناموں کے مطابق ـ اسرائیل کے ساتھ خفیہ تعلقات قائم کررکھے ہیں۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے مئی 2017 میں لکھا تھا کہ ریاض نے ٹرمپ کے سعودی دورے سے قبل ہی اسرائیل کے ساتھ معمول کے سیاسی تعلقات کی غیر مشروط بحالی کے لئے اپنی آمادگی ظاہر کی تھی۔ ٹرمپ نے بھی اپنے دورہ ریاض کے چند روز بعد کہا تھا کہ "مشرق وسطی میں امن کی جانب بڑے قدم اٹھائے گئے ہیں اور ایک غیر متوقعہ بڑا واقعہ عنقریب رونما ہونے والا ہے"۔
اس بات کو بھی نظر سے دور نہیں رکھا جاسکتا کہ بہت سے سعودی صاحبان فکر و قلم اور سیاسی فیصلہ ساز ایران کی دشمنی کے مقابلے میں اسرائیل کے ساتھ دوستی کا پروپیگنڈا کررہے ہیں۔ ریٹائرڈ سعودی جرنیل اور جدہ کے سیاسی ـ تزویری مرکز کے سربراہ انور عشقی نے حال ہی میں کہا ہے کہ اسرائیل کے سلسلے میں سعودی رائے عامہ میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ عشقی کا کہنا ہے کہ ٹوئیٹر پر سعودی صارفین کی آراء سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے بقول حتی اسرائیل کی طرف سے سعودی عرب کے ساتھ دشمنی کا ایک واقعہ بھی ابھی تک دیکھنے کو نہیں ملا ہے۔
ادھر سعودی قلمکار دحام طریف العنزی نے اپنے ٹوئیٹر پیج پر سعودی عرب سے مطالبہ کیا کہ حالات کی زمام کو اپنے ہاتھ میں لے اور ایران کا مقابلہ کرنے کے لئے ریاض میں اسرائیلی سفارتخانہ کھول دے۔
کئی مبصرین نے اسرائیل کا چہرہ مثبت بنا کر پیش کرنے کی تحریک کو متنازعہ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کا منصوبہ قرار دیا ہے تا کہ سعودی رائے عامہ کو اسرائیل کے ساتھ کسی بھی غیرمعمولی واقعے کے لئے ہموار کرسکے۔
صہیونی اخبار یروشلم پوسٹ نے تیران و صنافیر کے دو مصری جزیروں پر مصر اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والی مفاہمت اور اسرائیل کی طرف سے اس کی حمایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا: اس واقعے سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان خفیہ روابط عرصے سے قائم ہیں اور دونوں کے مفادات مشترک ہیں۔
صہیونی اخبار یدیعوت آحرونوت [Yedioth Ahronoth] نے لکھا: سعودی عرب اوراسرائیل نے تجارتی تعلقات کی بحالی کے لئے مذاکرات کا آغاز کردیا ہے اور امکان ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان ایئرلائن رابطہ عنقریب بحال ہوجائے۔
الجزیرہ نے اپنے تجزیئے کے آخر میں لکھا ہے: سعودی عرب اور قطر کا محاصرہ کرنے والے باقی تین ممالک کی طرف سے مسجد الاقصی کے خلاف صہیونی جارحیت پر مکمل خاموشی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لئے ہونے والے اقدامات کی تکمیل ہے۔ یہ مسئلہ ـ ٹرمپ کے دورہ ریاض کے فورا بعد آغاز ہونے والے ـ قطر کے محاصرے سے بھی جڑا ہوا ہے۔ سعودی خاموشی اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ ریاض اسرائیل کی شراکت سے علاقے کو نئے مرحلے میں دھکیلنا چاہتا ہے، خواہ اس کی قیمت مسجد الاقصی کی مکمل فراموشی اور مسلمانوں کے تمام اصولوں کی پامالی ہی کیوں نہ ہو۔




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی