2017 November 24
سعودی ولی عہد محمد بن نایف سے زبردستی استعفیٰ لیا گیا ، نیو یارک ٹائمز کا انکشاف
مندرجات: ٨٧٦ تاریخ اشاعت: ٢٢ July ٢٠١٧ - ١٩:٢٣ مشاہدات: 53
خبریں » پبلک
سعودی ولی عہد محمد بن نایف سے زبردستی استعفیٰ لیا گیا ، نیو یارک ٹائمز کا انکشاف

شیعیت نیوز: سعودی بادشاہت کے ولی عہد شہزادہ محمد بن نایف سے زبردستی استعفیٰ لیا گیا، اس ضمن میں سعودی بادشاہ سلمان کے 31سالہ بیٹے محمد بن سلمان نے سازشی کردار ادا کیا۔اس سے قبل ولی عہد سلطنت محمد بن نایف کو محل میں قید کرلیا گیا تھا ۔

یہ انکشافات امریکی روزنامہ نیو یارک ٹائمز نے ایک خصوصی خبر میں کئے ہیں۔ انکشاف کیا گیا ہے کہ 20جون 2017ع کی شب سعودی شہزادوں اور سیکیورٹی سے متعلق افسران کو مکہ کے صفہ محل پہنچنے کی ہدایت یہ کہہ کرکی گئی کہ بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ محمد بن نایف کو بھی اسی شب یہ کہہ کر ہ بادشاہ سے ملاقات ہے لے جایا گیا لیکن وہاں بادشاہ کی بجائے ان کی ملاقات سعودی شاہی کورٹ کے افسران سے ہوئی جنہوں نے فوری طور پر انکا فون چھین لیا اور ان پر دباؤ ڈالا کہ وہ ولی عہدی اور وزیر داخلہ کے عہدے سے دستبردار ہوجائیں۔ آغاز میں انہوں نے انکار کردیا۔ البتہ جوں جوں رات گذرتی گئی ، ان کے اعصاب جواب دینے لگے کیونکہ وہ ذیا بیطس کے مرض میں مبتلا ہیں۔ بالآخر دباؤ اور زبردستی کرکے انہیں عہدوں سے ہٹنے پر مجبور کردیا گیا۔

نیو یارک ٹائمز نے ان معلومات کا ذریعہ امریکی عہدیدار اور شاہی خاندان سے قربت رکھنے والے افراد کو قرار دیا ہے۔ اسی دوران شاہی کورٹ کے ا فسران نے بیعت کاؤنسل کے اراکین سعودی شہزادوں کو بلوالیا اور انہیں بتایا گیا کہ ڈرگ پرابلم کی وجہ سے محمد بن نایف ولی عہدی اور وزارت داخلہ سے دستبردار ہورہے ہیں۔ محمد بن نایف نے قطر پر پابندی کی مخالفت کی تھی اسی لئے ان کو ہٹانے کی سازش کی گئی۔ اس کے بعدایک وڈیو بنوائی گئی جس میں سعودی شہزادہ محمد بن سلمان جسے نیا ولی عہد مقرر کیا گیا تھا، اس نے محمد بن نایف کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور کہا کہ ہم آپکی ہدایات اور نصیحتوں سے مستفید ہوناہرگز نہیں چھوڑیں گے ۔ بعد ازاں محمد بن نایف کو جدہ میں ان کے شاہی محل لے جایا گیا جہاں سے انہیں باہر نکلنے کی اجازت نہیں۔ان کے قریبی ساتھی جنرل عبدالعزیز ال حویرینی کو بھی انکے گھر میں قید کرلیا گیا ہے لیکن اعلی سعودی سرکاری افسر کا کا دعویٰ ہے کہ جنرل حویرینی بدستور عہدے پر کام کررہے ہیں اور محمد بن سلمان کی بیعت بھی کرچکے ہیں ۔

سعودی سرکاری میڈیا کا دعویٰ ہے کہ بیعت کاؤنسل کے 34میں سے 31اراکین نے تبدیلی کی حمایت کی ہے۔لیکن تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بیعت کاؤنسل میں شامل شہزادے سعودی بادشاہ کی مرضی کے برعکس کوئی رائے دینے سے گریزاں ہیں۔ بعض امریکی عہدیداروں اورباخبر سعودی کا خیال ہے کہ سعودی شاہی خاندان و نظام میں شکست و ریخت کا عمل ہورہا ہے۔ وہ سعودی جنہیں اس عمل سے دھچکا لگا ہے کہتے ہیں کہ اگر شاہی خاندان کے اندرونی اختلافات منظر عام پر آجائیں اورسعودی مملکت کو عدم استحکام سے دوچار کردیں تو اس سے بہت نقصان ہوگا ۔یاد رہے کہ اس مرتبہ سعودی بادشاہ یا ولی عہد میں سے کوئی بھی گروپ (G-20) کے سربراہی اجلاس میں شریک نہیں ہوا حالانکہ پچھلی تین سربراہی کانفرنسوں میں ان کی مسلسل شرکت رہی ہے





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی