2017 August 18
25 شوال ، احیا گر مذہب تشیع، قرآن ناطق، حضرت امام جعفر صادق (ع) کا یوم شہادت
مندرجات: ٨٧٥ تاریخ اشاعت: ١٩ July ٢٠١٧ - ١٢:٣٤ مشاہدات: 214
یاداشتیں » پبلک
25 شوال ، احیا گر مذہب تشیع، قرآن ناطق، حضرت امام جعفر صادق (ع) کا یوم شہادت

حضرت امام جعفر صاد ق (ع) پیغمبر اسلام (ص) کے چھٹے جانشین اور سلسلہ عصمت کی آٹھویں کڑی ہیں۔ آپ منصوص من اللہ اور معصوم تھے۔

عالم اہل سنت ابن خلکان نے تحریر کیا ہے کہ: آپ سادات اہل بیت (ع) سے تھے اور آپ کی فضیلت اور آپ کا فضل و کرم محتاج بیان نہیں ہے۔

وفیات الاعیان ،ج 1،ص 105

آپ 17 ربیع الاول 83 ھ مطابق پیر کے دن مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ آپکی ولادت تاریخ کو خدا نے بڑی عزت دے رکھی ہے اور احادیث میں ہے کہ اس تاریخ کو روزہ رکھنا ایک سال کے روزے کے برابر ہے ۔ امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:

یہ میرا فرزند ان چند مخصوص افراد میں سے ہے کہ جن کے وجود سے خدا نے بندوں پر احسان فرمایا ہے اور یہی میرے بعد میرا جانشین ہو گا۔

علماء کا بیان ہے کہ جعفر، جنت میں ایک شیریں نہر کا نام ہے، اسی کی مناسبت سے آپ کا لقب جعفر رکھا گیا ہے ،کیونکہ آپ کا فیض عام جاری نہر کی طرح تھا، لہذا اسی لقب سے ملقب ہوئے۔

ارجح المطالب ،ص 361

ابو عبد اللہ ، جعفر بن محمد بن علی بن الحسن بن علی بن ابی طالب علیہ السلام معروف بہ صادق آل محمد شیعوں کے چھٹے امام ہیں، جو کہ اپنے والد امام محمد باقر علیہ السلام کی شہادت کے بعد 7 ذی الحجہ سن 114 ھ ق کو اپنے والد محترم کی وصیت کے مطابق امامت کے منصب پر فائز ہوئے۔

امام جعفر صادق (ع) روز جمعہ طلوع فحر کے وقت اور دوسرے قول کے مطابق روز منگل 17 ربیع الاول سن 80 ھ ق کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔

تاج المواليد (علامہ طبرسی)، ص 43

زندگانی چہاردہ معصوم (ع) (ترجمہ اعلام الوری)، ص 376

منتہي الامال (شيخ عباس قمی)، ج2، ص 120

آنحضرت کی والدہ کا نام فاطمہ بنت قاسم بن محمد بن ابی بکر جن کی کنیت، ام فروہ، تھی ۔

یہ خاتون امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے وفا دار جانثار شہید راہ ولایت و امامت حضرت محمد بن ابی بکر کی بیٹی تھی ۔ اپنے زمانے کی خواتین میں باتقوی ، کرامت نفس اور بزرگواری سے معروف و مشہور تھی، اور امام صادق (ع) نے ان کی شخصیت کے بارے میں فرمایا ہے : میری والدہ ان خواتین میں سے ہے کہ جنہوں نے ایمان لایا اور تقوی اختیار کیا اور نیک کام کرنے والی ہیں اور اللہ نیک کام کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

امام جعفر صادق (ع) کا نسب والدہ کی طرف سے ابوبکر اور والد کی طرف سے شیعوں کے پہلے امام امیر المؤمنین حضرت علی (ع) تک پہنچتا ہے۔

امام صادق (ع) بنی امیہ کی حکومت کے اواخر اور بنی عباس کی حکومت کے اوائل میں زندگی گزار رہے تھے اور بنی امیہ کے خلاف عوامی بغاوت اور بنی عباس کا لوگوں کے ساتھ مذہبی احساسات کے ساتھ استحصال کر کے اور لوگوں سے الرضا من ال محمد (ص) کے عنوان سے بیعت لے کر حکومت پر قابض ہونے کا نزدیک سے مشاہدہ کر رہے تھے اور ان حالات میں شیعوں اور محبان اہل بیت (ع) کی امامت کے سنگین کام کو انجام دیتے رہے ۔ امام صادق (ع) عبد الملک بن مروان پانچواں اموی خلیفہ کے زمانے میں پیدا ہوئے اور اسکے بعد باقی 8 بنی امیہ کے خلفاء اور دو عباسی خلفاء کہ جن کے نام ذیل میں دئیے گئے ہیں، کے ہمعصر تھے اور ان میں سے اکثر کی طرف سے امام صادق پر مصائب اور مظالم ہوتے رہے :

1. ولید بن عبد الملک

2. سلیمان بن عبد الملک

3. عمر بن عبد الملک

4. یزید بن عبد الملک

5 ۔ ہشام بن عبد الملک

6. ولید بن یزید

7. یزید بن ولید

8. مروان بن محمد

9. ابو العباس

10 ۔ منصور دوانقی

تاج المواليد، ص 43

زندگانی چہاردہ معصوم(ع)، ص 376

آخر کار امام صادق (ع) 65 سال کی عمر میں منصور دوانقی کی طرف سے مسموم ہوئے کہ جس سے آپ کی شہادت واقع ہوئی۔

آپ کی شہادت کی تاریخ کے بارے میں دو قول نقل ہوئے ہیں ۔ بعض نے 15 رجب سن 148 ھ ق اور بعض نے 25 شوال سن 148 ھ ق بیان کیا ہے اور مشہور شیعہ مؤرخین اور سیرہ نویسوں کے نزدیک دوسرا قول یعنی 25 شوال ہی معتبر ہے ۔

امام صادق (ع) کی شہادت کے بعد حضرت امام موسی کاظم (ع) نے بھائیوں اور افراد خاندان کے ساتھ مل کر آپکو  غسل و کفن دینے کے بعد بقیع میں دفن کیا۔

سبب شہادت: عباسی بادشاہ منصور دوانیقی نے عداوت کے باعث انگوروں میں زہر دے کر شہید کیا ۔

مدفن: جنت البقیع مدینہ منورہ میں اپنے والد ماجد حضرت امام محمد باقر علیہ السلام، اپنے دادا سید سجاد امام زین العابدین علیہ السلام اور امام حسن مجتبی علیہ السلام کے مزارات کے قریب دفن ہوئے مگر عہد سعودیہ میں یہ تمام روضہ ہائے آل رسول (ص) منہدم کر دیئے گئے اور آج یہ قبور حسرت و یاس کی تصاویر بنی امت کی غیرت کا منہ دیکھ رہی ہیں۔

عہد امامت:

فرزند رسول (ص) امام جعفر صادق علیہ السلام وہ شخصیت ہیں جن کو امامت حقہ کے دونوں دشمن خاندانوں سے واسطہ پڑا۔ یعنی بنی امیہ اور بنی عباس۔ آپ نے اموی شوکت و جبروت اور عباسی شہنشاہیت کا قہر و غلبہ دونوں کو دیکھا۔ اموی خون آشامیوں کو بھی ملاحظہ فرمایا اور عباسی سفاکیوں کا بھی نظارہ کیا۔ آپ نے اموی عہد کی آخری ہچکیاں سنیں اور ان کے اقتدار کو دم توڑتے ہوئے بھی دیکھا کہ استبدادی تخت و تاج کس طرح ٹھوکروں کا کھلونا بن گئے۔ 40 ھ سے قائم اموی سلطنت کا چراغ آخرکار گل ہوا اور ظالم حکومت اپنے انجام کو پہنچ گئی۔ جابر حکمران اپنے ظلم و جور اور جبر و استبداد ختم کر کے خود تو زمینی کیڑے مکوڑوں کی خوراک بن گئے، مگر اپنی چیرہ دستیوں کے بدلے اپنی نسلوں کو گروی رکھ گئے۔ کعبۃ اللہ کی تاراجی، مدینتہ الرسول کی تباہی و بے حرمتی، امام حسین مظلوم کا بے خطا قتل، اسلامی آئین کی پامالی اور شرعی قوانین کی توہین وغیرہ ایسی شنیع باتیں تھیں، جو ملت مسلمہ کے ضمیر کو لخطہ لخطہ جھنجھوڑ رہی تھیں۔ جلدی یا دیر سے بہر حال امت کی غیرت بیدار ہوئی۔ مسلمانوں پر اثر ہوا اور بھرپور ہوا کہ مردہ بولے تو کفن پھاڑے۔ اب امویوں کیلئے کوئی جائے پناہ نہ تھی۔ سر چھپانے کا ٹھکانا ملنا تو بڑی بات ہے لوگوں نے پرانے مردے اکھاڑنے شروع کیے اور قبروں تک کو کھدوا دیا گیا۔

بنی عباس جنہوں نے موقع کی نزاکت سے بھر پور فائدہ اٹھایا اور آل رسول (ص) کے نام اور ثارات الحسین علیہ السلام کے نعرہ پر انقلاب کو ہوا دی، اپنے مظالم میں بنی امیہ سے بھی بازی لے گئے اور اموی و عباسی دونوں کے انداز حکمرانی میں کوئی فرق باقی نہ رہا۔ جس طرح بنی امیہ کے زمانے میں اہل بیت رسول پر ظلم و تشدد ہوتا رہا اسی طرح بنو عباس کے عہد کی سفاکیاں جاری رہیں۔ آئمہ اہل بیت علیھم السلام پہلے بھی نشانہ ستم بنے رہے اور اب تو جور و جفا میں اور اضافہ ہو گیا۔ دونوں ادوار میں قانون کی بالا دستی نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ حاکم کے منہ سے نکلے ہوئے کلمات گویا حرف آخر ہوتے تھے۔

مفتیان دین اور قاضیان شرع متین اپنی عزت و ناموس اور جانوں کا تحفظ اس بات میں محسوس کرتے تھے کہ سلطان وقت کے اشارہ ابرو کو سمجھیں اور اس پر بلا حیل و حجت عمل کریں۔ جابر بادشاہ کے احساسات اور جذبات کے موافق فتوے جاری کریں ورنہ کوڑے کھانے کیلئے تیار رہیں۔ کسی صاحب دستار عالم فاضل کے سر کو پھوڑ دینا اور معزز شہری کو بلا قصور قید و بند کی صعوبت میں مبتلا کر دینا تو معمولی واقعات تھے۔ کیا ایسے فتنہ انگیز دور میں رسول صادق صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مسند شریفہ پر بیٹھ کر اسلام کی صحیح ترویج اور دین کے محکم فیصلوں کا صادر کرنا آسان کام تھا ؟ یہی وجہ تھی کہ آئمہ اہل بیت علیہم السلام کو کام کرنے کا موقع ہاتھ نہ لگ سکا کیونکہ ان کی تو خصوصی طور سے کڑی نگرانی کی جاتی تھی۔ البتہ صرف امام جعفر صادق علیہ السلام کو غنیمت کے طور پر تھوڑا سا وقت مل گیا۔ وہ بھی اس لیے کہ امویوں کو اپنے اقتدار کے جانے کی پڑ گئی اور عباسیوں کو اپنی کرسی بچانے کی۔ جب دونوں کو اپنی اپنی پڑی تو امام برحق کو موقع مل گیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مشن کتاب و حکمت کی تعلیم کو فروغ اور وسعت دیں۔ یوں تو ہر امام نے اپنے وقت میں اپنے فرائض امامت کما حقہ انجام دیئے بالخصوص واقعہ کربلا سے۔

 امیر المؤمنین امام علی علیہ السلام اور جوانان جنت کے دونوں سردار حضرات حسنین شریفین علیھما السلام کے کارہائے نمایاں اور مسند علم و فقہ پر متمکن رشد و ہدایت کے فیوض سے کون واقف نہیں ہے۔ ان کا تو ذکر ہی بلند ہے۔ ان سے وابستہ ہو جانے والے غلام و کنیزیں علمی مراتب میں اپنی مثال نہیں رکھتی ہیں۔

 کربلا کے مصائب اور خونین حادثات کو برداشت کرنے کے بعد امام زین العابدین علیہ السلام کا دین اسلام کی خدمت پر کمر بستہ ہو جانا بھی انوکھی نظیر ہے۔ صحفیہ سجادیہ جسے زبور آل محمد کہا گیا ہے حضرت سجاد علیہ السلام کے علمی آثار کا ایک ممتاز نمونہ ہے۔

 امام محمد باقر علیہ السلام وہ کوہ علم ہیں جس کی بلندیوں تک انسانی نگاہیں پہنچنے سے قاصر ہیں۔ وہ ایسی ذی وقار شخصیت ہیں جن کے در پر بڑے بڑے عالم اور نابغہ روزگار جبہ رسائی کیے بغیر اپنے آپ کو نامکمل اور ادھورا تصور کرتے تھے۔ آپ کا لقب " باقر " اسی لیے ہے کہ آپ بات سے بات پیدا کرتے اور علم کو شگافتہ کر کے اس کی تہہ و حقیقت سے دنیا کو روشناس کراتے اور ایسے مسائل بیان فرماتے جو وارث قرآن حکیم ہی بیان کر سکتا ہے۔ آپ کا شریعت کدہ علم کا مرکز اور حکمت کا عظیم منبع اور سر چشمہ تھا جس سے ایک عرصہ تک دنیا فیض حاصل کرتی رہی اور امام جعفر صادق علیہ السلام نے بھی اپنے والد معظم کے مکتب میں حاضری دی جن کو دوسرے اماموں کے مقابلے میں نشر علوم کا زیادہ موافق وقت مل گیا۔

یہاں پر شیخ مفید کا امام صادق (ع) کے بارے میں ان کا قول نقل کرتے ہیں وہ لکھتے ہیں کہ:

و كان الصادق جعفر بن محمد بن علي بن الحسين عليہم السلام من بين اخوتہ خليفہ ابيہ محمد بن علي عليہما السلام و وصيہ، القائم بالامامہ من بعدہ، و برز علي جماعتھم بالفضل، و كان انبہھم ذاكرا، و اعظھم قدرا، و اجّلھم في العامہ و الخاصہ، و نقل الناس عنہ من العلوم ما سارت بہ الركبان، و انتشر ذكرہ في البلدان و لم ينقل عن احد من اھل بيتہ العلماء ما نقل عنہ، و لا لقي احد منھم من اھل الاثار و نقلہ الاخبار و لا نقلوا عنھم كما نقلوا عن ابي عبد اللہ، فان اصحاب الحديث قد جمعوا اسماء الرواۃ عنہ من الثقاۃ علي اختلافھم في الاراء و المقالات فكانوا اربعہ آلاف رجل.

امام صادق اپنے والد کے خلیفہ و وصی تھے، کہ جو اپنے والد کے بعد امامت کے منصب پر فائز ہوئے۔ وہ بہت عظیم شان و مقام رکھتے تھے۔ اس زمانے کے تمام لوگوں نے انکے علم نقل کیا ہے اور وہ علم ہر جگہ منتشر ہو گیا ہے۔ علمائے حدیث نے امام سے روایات کو نقل کرنے والے راویوں کے اسماء کو جمع کیا ہے کہ انکی تعداد چار ہزار تھی۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی شخصیت:

امام صادق (ع) کی جامع و کامل شخصیت کا احاطہ نا ممکن ہے۔ جعفر کے معنی نہر کے ہیں۔ گویا قدرت کی طرف سے اشارہ ہے کہ آپ کے علم و کمالات سے دنیا سیراب ہو جائیگی۔ امام جعفر صادق (ع) کی تاریخ ولادت 17 ربیع الاوّل پر سب کو اتفاق ہے مگر سال ولادت میں اختلاف ہے۔ روایت رجال کے مطابق ولادت سال 80 ہجری میں ہے جبکہ محمد ابن یعقوب کلینی اور شیخ صدق کا اتفاق سال 83 ہجری پر ہے۔ آپ نے بہ فضل خدا 65 سال عمر پائی اور مدتِ امامت 34 سال رہی ( 114 ھ تا 148ھ ) چہاردہ معصومین میں طویل عمر اور عہد امامت کے حوالہ سے آپ کی امتیازی خصوصیت ہے۔ آپ کی مادر گرامی جناب اُمِ فروہ بنت ِ قاسم بن محمد بن ابو بکر تھیں۔

صاحب مروج الذھب کے حوالہ سے ان معظمہ کی عظمت اور مرتبہ کے لیے یہی کافی ہے کہ خود امام باقر (ع) نے آپ کے والد قاسم سے اپنے لیے رشتہ مانگا تھا ۔ آپ کی مشہور کنیت عبد ﷲ ہے اور بے شمار القاب میں لقب الصادق زیادہ مشہور ہے۔

آپ کے 7 بیٹے یعنی اسماعیل ، عبد ﷲ ، موسیٰ (ابن کاظم) اسحاق، محمد (الدیباج) ، عباس اور علی ، اور تین بیٹیاں ام فروہ، اسماء و فاطمہ تھیں۔ آپ کی دو ازواج مطہرات میں ایک فاطمہ بنت الحسین امام زین العابدین کی پوتی تھیں۔

امام صادق (ع) کے دورِ امامت میں بنی امیہ کے سلاطین میں ہشام بن عبد الملک ، ولید بن یزید بن عبد الملک ، یزید بن ولید ، مروان حمار اور خاندان بنی عباس کے ، افراد ابو العباس السفاح اور منصور دوانیقی تھے۔ ان میں عبد الملک کی حکومت کے بیس سال اور منصور دوانیقی کے دس سال شامل ہیں۔

منصور دوانیقی ایک خود سر اور ظالم حکمران تھا۔ آئمہ اہلبیت اور ان کے دوستوں پر حاکمان وقت کے مظالم کے سلسلے میں صرف اتنا کہنا کافی ہے کہ:

ایک سیل خوں رواں ہے حمزہ سے عسکری تک،

شیعہ عقیدہ کی رو سے امامت کسبی نہیں بلکہ وہبی وصف ہے یعنی اس کا تعین خود ﷲ تعالیٰ کرتا ہے اور ایک امام دوسرے آنے والے کی نشان دہی کرتا ہے اس عمل کو (نص) کہتے ہیں یعنی منشائے الہیٰ کا اظہار، امام صادق (ع) کے بارے میں امام باقر (ع) کی بے شمار نصوص معتبر کتابوں میں ملتی ہیں۔

شیخ مفید ۔ الارشاد، بحار الانوار وغیرہ

امام جعفر صادق کی عظیم شخصیت پر مسلسل اور انتھک کام کرنے کی ضرورت ہے۔ آئمہ علیہ السلام کی زندگی کا ہر قدم ہمارے لیے مشعل راہ ہے ان کی زندگی کا ہر پہلو صحیفہ رشد و ہدایت ہے۔ ان حضرات نے اپنی زندگیاں اطاعت خدا اور رسول میں وقف کر دیں تھی اور وحی الہٰی اور تعلیمات نبوی کو ہمیشہ پیش نظر رکھا ۔ امام صادق (ع) کی حیات طیبہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ اسلام ہی نہیں بلکہ تاریخ بشریت کی یہ قد آور شخصیت اپنے علم و عمل سے انسانیت کو کس قدر فیص بخشا ہے۔ اس کا اندازہ امام سے متعلق ان آراء سے ہی ہو سکتا ہے ۔ جس کا اظہار مختلف مفکرین نے وقتاً فوقتاً کیا ہے اس کی چند مثالیں حسب ذیل ہیں:

نور المشرقین منِ حیاۃ الصادقین میں، آغا سلطان مرزا نے اعیان الشیعہ کے حوالہ سے امام کی تصانیف کی طویل فہرست دی ہے ان میں سے چند مشہور حسب ذیل ہیں۔

150 تصانیف۔ 80 بلا واسطہ اور 70 بالواسطہ

1- رسالہ عبد ﷲ ابن النجاشی

2- رسالہ مروی عن الاعمش

3- رسالہ توحید مفضل

4- کتاب الاہلیلجہ

ان کے علاوہ امام صادق (ع) کے مختلف دینی اور لا دینی طبقات اور دہریوں سے مناظروں کی ایک طویل فہرست بھی ہے جس میں اعترافات طبیب ہندی، امام ابو حنیفہ سے مناظرہ ، صوفیوں کے گروہ سے مناظرہ اور مشہور دہریہ ابو شاکر دیصانی سے مناظرہ قابل ذکر ہیں۔

امام صادق (ع) کی سیاسی بصیرت  اور  قیام حضرت زید :

امام صادق (ع) کی شخصیت کے مطالعہ میں ان کی سیاسی بصیرت بھی زیر بحث آتی ہے۔ اس ضمن میں قاتلانِ امام حسین (ع) کے خلاف حضرت زید ابن علی ابن الحسین (ع) کا معرکہ ایک اہم واقعہ ہے۔ واقعہ کربلا کے بعد بنو حسن اور بنو حسین مدینے میں نہایت قلیل آمدنی پر گوشہ تنہائی میں گزارہ کرتے تھے، سیاست میں مطلقاً حصہ نہیں لیتے تھے۔ ان کے علم و فضل اور زہد و عبادت کی وجہ سے لوگ ان کی بہت عزت کیا کرتے تھے جس کی وجہ سے بنو امیہ اور بنو عباس ان کے مخالف تھے۔ انہیں طرح طرح سے اذیت دیتے تھے۔ بالآخر زید اور ان کے بیٹے یحییٰ کو بنی امیہ کے مسلسل ظلم نے تلوار سے اپنی حفاظت کرنے پر مجبور کر دیا۔ جناب زید خاندانِ اہلبیت کے ایک اہم فرد تھے اور علم حدیث اور فقہ میں آپ کا رتبہ بہت بڑا تھا۔ 42 سال کی بھر پور جوانی میں بنی امیہ کے خلاف جہاد کیا اور  122 ھ میں شہادت پر فائز ہوئے زید کے بعد ان کے بیٹے یحییٰ نے ان کی تحریک کو جاری رکھنے کی کوشش کی لیکن  125 ھ میں وہ بھی شہید ہو گئے۔

زید کے جہاد کے اس حساس معاملہ میں امام صادق (ع) کی پالیسی سمجھنے کے لیے یہ نکتہ پیش نظر رکھنا چاہیے کہ امام نے اپنی آنکھوں سے خوارج کا فتنہ دیکھا تھا، اس فتنہ نے اہلِ مدینہ کو جس کرب میں مبتلا اور شدت و مصیبت سے دو چار کیا تھا وہ بھی دیکھا۔ علم امامت سے وہ محمد نفس ذکیہ اور ابراہیم اور یحییٰ بن زید کے مستقبل سے واقف تھے، جس میں باطل کی سرنگونی کی کوئی علامت نہیں تھی۔ ان حالات میں گو امام زید کی تحریک میں عملاً شریک نہیں تھے، لیکن وہ ان کی کامیابی کے آرزو مند تھے۔ اس ضمن میں امام کا یہ بیان قابل غور ہے کہ:

خداوند زید پر رحم فرمائے، وہ مؤمن تھے، عارف تھے، عالم تھے، صادق تھے۔ اگر وہ کامیاب ہو جاتے تو وفائے عہد کرتے، اگر حکومت ان کے ہاتھ آ جاتی تو اس ذمہ داری کو خیر و خوبی کے ساتھ وہ انجام دیکر دکھا دیتے۔

اس بیان میں وفائے عہد کلیدی الفاظ ہیں جو حضرت زید کی نیک نیتی پر سند ہیں۔ زید کے ساتھ امام کی عدم شرکت کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو علم کی اشاعت اور فقہ کی تدوین جیسے اعلیٰ اہداف کی تکمیل کے لیے وقف کرنا چاہتے تھے جس کے نتائج دوامی نوعیت کے تھے۔

تدوین فقہ ایک جائزہ :

امام جعفر صادق (ع) کے تذکرے میں ذہن فوری فقہ جعفری کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے، کیونکہ تدوین فقہ کی کوشش امام صادق (ع) کے حوالے کے بغیر نا ممکن سمجھی جاتی ہے۔ مکتب تشیع کی فقہ یعنی فقہ جعفری تو اپنی وجہ تسمیہ ہی سے امام صادق (ع) کی مرہون منت اور احسان مندی ظاہر کرتی ہے۔

عربی میں فقہ کے لغوی معنی علم و فہم ہے اور فقیہ کے معنی عالم ہیں لیکن مرور زمانہ کے ساتھ اصطلاحاً اس سے دینی مسائل اور استدلالی علم مراد لیا جاتا ہے۔ جس میں احکام شریعہ کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ یہ احکام واجب ، مستحب ، حرام ، مکروہ ، اور مباح کے محور کے اطراف اپنے میں سبب، شرط ، مانع ، صحت بطلان، رخصت اور عزیمت کے پہلو لیے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ تمام فقہی اصطلاحات ہیں جن کی تفصیل متعلقہ کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ فقہ کی اس مختصر تشریح کے بعد اب تدوین کا مطلب جمع کرنا یا مرتب کرنا ہے۔ اس لحاظ سے جب ہم تددوین کی نسبت سے امام جعفرِ صادق (ع) کا نام لیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اپ نے فقہ محمدیہ کے احکام کو جمع اور مرتب کیا کہ وہ ایک مستقل علم بن گیا۔

اسلامی تاریخ میں فقہ کی تدوین کے چند واضح ادوار نظر آتے ہیں ، امام صادق (ع) کی علمی برکات کو سمجھنے کے لیے فقہ اسلامی کے تدریجی ارتقاء کا مطالعہ ضروری ہے۔ اس کا سبب پہلا عہد حضرت ختمی مرتبت کی ظاہری رسالت سے  11ھ تک محیط ہے جس میں سوائے چند استثنائی واقعات ( صلح حدیبیہ ، حدیث قرطاس ) کے بظاہر مسلمانوں میں کوئی اختلاف نظر نہیں آتا۔ رحلت رسول کائنات (ص) کے فوری بعد سب سے بڑا فقہی اختلاف آنحضرت کی جانشینی کے سلسلہ میں نمودار ہوا اس دور میں جو پہلے تین خلفاء کے زمانہ یعنی تقریباً 24 سال (35 ھ) تک پھیلا ہوا ہے۔ قرآن اور سنت کے علاوہ فقہ کے ماخذ میں قیاس اور اجماع کا اضافہ ہوا اور ساتھ ساتھ ابوبکر اور عمر نے روایت حدیث پر کڑی پابندی لگا دی، جس کی وجہ سے قیاس پر زیادہ انحصار ہوا۔ تیسرا دور 35 ھ تا 40 ھ میں خلافت امیر المؤمنین کے دوران قرآن و سنت ہی ماخذ فقہ رہے اور اس پر سختی سے عمل کیا گیا۔

اثنائے عشری شیعہ عقیدہ کی رو سے اسلام کی اصل تشریح وہی ہے جو وفات پیغمبر کے بعد حضرت امیر المؤمنین علی (ع) سے لے کر بارہویں امامت تک بلا فصل جاتی ہے۔ بالآخر ہر حکم کا منبع قول معصوم ہوتا ہے اور جو کچھ راوی کی زبان پر آئے گا وہ عصمت فکر اور معیار صداقت پر پورا اتریگا۔ حضرت علی (ع) سے امام حسین (ع) تک یہ وصل قول انتہائی بھر پور انداز میں عیاں ہے۔

چوتھا دور 60 ھ تا 133 ھ کا ہے، جو بنی امیہ کی خلافت کا زمانہ ہے اس دور میں شہادت امیر المؤمنین علی (ع) ، امام حسن (ع) کی ظاہری خلافت سے دستبرداری اور شہادت امام حسین (ع)، سانحہ کربلا و مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی تاراجی کے واقعات دیکھ کر انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ سلاطین بنی امیہ کس فقہ کے پابند تھے۔ جس میں ان باتوں کی انہیں اجازت تھی۔ عمر بن عبد العزیز کے دور میں البتہ فدک واپس کیا گیا لیکن یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ کس فقہ کے تحت چھینا گیا تھا۔

پانچواں طویل دور  135 ھ سے 260 ھ یعنی 125 سال پر محیط ہے، دور امام صادق (ع) کی امامت کے ابتدائی زمانے سے شہادت امام حسن عسکری (ع) کے بعد تک پھیلا ہوا ہے، سیاسی اور فکری اعتبار سے تاریخ اسلام کا یہ نہایت اہم دور تھا اس زمانے میں بے شمار تاریخ ساز واقعات اور تحریکات رونما ہوئے جس کے نتیجے میں امت مسلمہ بشمول شیعہ فقہی اعتبار سے مختلف مسلکوں میں بٹ گئی ۔ اس دور میں روایت حدیث پر کوئی پابندی نہیں تھی اور وقتی مصلحتوں اور حاکمان وقت کی سرپرستی کے نتیجے میں وضع حدیث ایک مشغلہ اور پیشہ بن گیا تھا۔ اس دور میں امام جنبل ،امام بخاری ،امام مسلم ، ابو داؤد، ابن ماجہ اور نسائی کی مسانید کی تدوین ہوئی اب وہ صحابہ اور تابعین بھی نہیں رہے جنہوں نے یہ احادیث سنی تھیں اور اصل اور نقل میں تمیز کر سکتے تھے۔ مزید برآں فتوحات اور اسلامی سلطنت کی توسیع اور بڑھتے ہوئے بیرونی روابط کے نتائج میں ایک نیا خفلشار اسلامی فلسفہ میں ایران، روم اور یونان کے فلسفوں کی آمیزش کی صورت میں نمودار ہو گیا تھا۔

تدوین فقہ اور امام صادق (ع):

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس افرا تفری کے عالم میں فقہ اسلامی کو اس اصل روح میں محفوظ رکھنا کس کی ذمہ داری تھی؟ واقعہ کربلا اور اس کے تسلسل میں دربارِ شام میں جناب زینب (س) کے خطبہ نے ثابت کر دیا کہ حق اور نا حق اور سچائی اور گمراہی میں حد فاصل قائم رکھنے کا فریضہ آئمہ حق نے اپنے ذمے لے لیا تھا۔ یہ ذمہ داری ان آئمہ نے نہایت حکمت علمی و عملی سے انجام دی۔ اس کی خاموش ابتداء امام زین العابدین (ع) نے اپنی دعاؤں سے کی، جن کے ذریعے امت کے افراد کے ذہنوں کی تربیت کا انتظام کیا گیا۔ بعد ازاں امام محمد باقر (ع) نے مدینے میں اپنی درس گاہ میں باقاعدہ درس کا آغاز کیا جس کی بنیادوں کو امام جعفر صادق (ع) نے استوار کیا۔ امام جعفر صادق (ع) کی یہ امتیازی خصوصیت ہے کہ آپ کو اپنی 65 سال عمر میں سے تقریباً 12 سال اپنے دادا حضرت علی ابن الحسین (ع) کی معیت میں اور پھر 19 سال اپنے والد ماجد کے زیر سایہ گزارنے کا موقع ملا اور پھر خود اپنی امامت کے 34 سال میسر ہوئے۔ اس دوران بنی امیہ اور بنی عباس کو اپنی لڑائیوں میں مشغولیت نے آل محمد (ص) کی طرف توجہ کرنے کا موقع نہیں دیا۔ امام صادق (ع) نے اس موقعہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس درس گاہ کو ایک عظیم دانش گاہ کے رتبہ تک پہنچا دیا۔ یہ ایک ایسی دانشگاہ تھی کہ جسکے نصاب کے دستاویز بہت پہلے ہی امام زین العابدین (ع) نے صحیفہ کاملہ کی شکل میں تیار کر دئیے تھے۔ بظاہر یہ دعاؤں کا مجموعہ اپنے اندر حکمت اور دانائی ، احکام خداوندی ، عبد اور معبود کے تعلقات ، حقوق الناس اور تخلیق کائنات جیسے بہت سے عنوانات پر مشتمل تھا جو پڑھنے والوں کو دعوت فکر دیتا ہے۔

محمد ابن یعقوب کلینی نے 16199 احادیث پر مشتمل اصول کافی بطور تدریسی مواد مہیا کیا جس کو من لا یحضر الفقیہ ، تہذیب اور استبصار نے مزید و سعت دی اور اس طرح تقریباً 60 ہزار احادیث پر مشتمل یہ مایہ ناز سرمایہ بنا، جس کی موجودگی میں ہمارے علماء کو قیاس اور رائے پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ امام صادق (ع) کی تدوین فقہ کی انہی کوشش کی بناء پر فقہ محمدی کو فقہ جعفری سے موسوم کیا گیا، کیونکہ اس کو فقہ حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی سے ممتاز کیا جا سکے۔

یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب باقی فقہوں کو ریاست کی سرپرستی حاصل تھی فقہ جعفری پُر زور مخالفتوں کا مقابلہ کرتی ہوئی پھیلی اور یوں اپنی ترقی کی راہیں طے کرتی رہی۔ اس کے ارتقاء میں قابل ذکر سنگِ میل علامہ حلی ( ساتویں صدی ) علامہ بہبہانی ( گیارہویں صدی ) شیخ مرتضیٰ (تیرہویں صدی ) اور پھر موجودہ دور میں ایران ، عراق، بیروت اور دمشق کے حوزہ علمیہ نے اس کی آبیاری کا  فریضہ سنبھالا ہوا ہے۔

موجودہ دور میں فقہ جعفری کی اعلیٰ علمی حلقوں میں پذیرائی کی ایک قابل ذکر مثال مصر کی عظیم دانشگاہ جامعہ الازہر کے چانسلر مفتی علامہ شیخ محمود شلتوت کا ایک منصفانہ اور جرات مندانہ قدم ہے۔ تقریباً بیس سال پہلے انہوں نے یہ نظریہ پیش کیا کہ اجتہاد کا دروازہ کھلا ہے اور قوی دلیل کی موجودگی میں ایک مذہب یا فقہ کے ماننے والوں کے لیے دوسرے مذہب کی طرف رجوع کرنے میں کوئی امر مانع نہیں ہے اور اس بناء پر انہوں نے قانونی طور پر فتویٰ دیا کہ دوسرے مذہب کی طرح شیعہ فقہ پر بھی عمل صحیح ہے۔ ان کا یہ اقدام قدر و منزلت کا متقاضی ہے۔

فقہ جعفری کی برتری کے لیے یہ کہنا کافی ہے کہ دیگر تمام فقہوں کے بانی بالواسطہ یا بلا واسطہ امام صادق (ع) کے شاگرد تھے اور اس پر ان کو ناز بھی تھا۔ فقہ جعفری میں دور جدید کی ضروریات کے مطابق اجہتاد کے ذریعے انسانی مسائل کے حل کی تمام صلاحتیں موجود ہیں۔ یہ ایک عادلانہ نظام ہے جو نیکی اور بدی میں تمیز کی راہ بتاتا ہے، جہاں خوشی کے موقعوں پر خوشی کے اظہار کا ڈھنگ اور آلام و مصائب میں تعزیت کے اسلوب بتائے جاتے ہیں۔ جہاں اکابرین کے کارناموں کو اجاگر کیا جاتا ہے اور عبرت کے نشانات سے دوری سکھائی جاتی ہے یہ ایک صالح معاشرے کے قیام میں مدد دیتا ہے۔

امام جعفر صادق (ع) کے علمی فیوضات اور برکات:

مخلوقات کی ہدایت کی غرض سے انبیاء اور پیغمبروں کا ایک سلسلہ تخلیق کیا گیا جو ہم تک آنحضرت اور آئمہ اہلبیت کی صورت میں پہنچا۔ باوجود یہ کہ ختمی مرتبت کے بعد کسی بھی امام کو کام کرنے کا موقع و ماحول میسر نہ ہو سکا۔ ہر امام نے اپنے عہد میں فیوض امامت امت تک پہچانے کا مناسب انتظام کیا۔ کربلا کے مصائب کے بعد امام زین العابدین (ع) نے ایک انوکھے انداز میں تبلیغ دین کی جو صحیفہ کاملہ کی صورت میں آثارِ علمیہ کا ایک شاہکار ہے۔ امام محمد باقر (ع) وہ کوہِ علم ہیں جس بلندیوں تک انسان کی نگاہیں پہنچنے سے قاصر ہیں۔ آپ کا شریعت کدہ علم و حکمت کا سرچشمہ تھا۔ امام جعفر صادق (ع) کی شخصیت کا اہم رخ یہ ہے کہ آپ نے اپنے علمی انقلاب سے معارف اسلام کے افق کو اتنی زیادہ وسعت دی کہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک نسل بعد جب حضرت امام رضا (ع) نیشاپور میں قدم رکھتے ہیں تو ہزارہا افراد امام کی اواز سننے اور ارشاد کو کاغذ پر محفوظ کرنے کے سراپا مشتاق تھے۔ یوں تو سلسلہ امامت کے ہر فرد نے جس قدر ممکن ہو سکا ظلم و ستم اور قید و بند کی فضاؤں میں بھی فرائض امامت کو انجام دیا، لیکن امام صادق (ع) کو اپنے عہد میں موقع مل گیا تھا کہ آنحضرت کے مقصد یعنی ( کتاب و حکمت کی تعلیم ) کو فروغ دیں۔ اس دور میں علم کا پھیلاؤ اس حد تک ہوا کہ انسانی فکر کا جمود ختم ہو گیا اور فلسفی مسائل کھلی مجلسوں میں زیر بحث آنے لگے ۔ اس ضمن میں ایک عالم نے لکھا ہے کہ:

یہ تحریک امام صادق (ع) کی سرکردگی میں آگے بڑھی جن کی فکر وسیع ، نظر عمیق اور جنہیں ہر علم کے مرکز کی حیثیت حاصل تھی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آپ اسلام کے تمام مکاتب فکر کے مؤسس اور بانی کی حیثیت رکھتے ہیں آپ کی مجلس بحث و درس میں صرف وہی افراد نہیں آتے تھے جو بعد میں امام مذہب بن گئے بلکہ تمام اطراف سے بڑے بڑے فلاسفہ استفادہ کرنے حاضر ہوتے تھے۔

دوسری صدی کی ابتداء یعنی 133 ھ میں اموی خلافتوں کے خاتمہ پر عباسی دور شروع ہوا۔ یہ عبوری دور انتقال و تحویل اقتدار کی کشمکش کا وقفہ تھا، جس کو استعمال کرتے ہوئے امام صادق (ع) نے علوم و معارف اسلام کی ترویج و اشاعت کا اہم کام انجام دیا۔ یہ وہ دور تھا جب فتوحات اور بیرونی دنیا سے بڑھتے ہوئے روابط کے نتیجے میں رومی اور یونانی فکری اثرات عربستان میں مختلف فنون، علوم اور نظریاتی رجحانات کو متاثر کر رہے تھے، جو اسلام کے خلاف ایک بیرونی یلغار ثابت ہوئے۔ یہ ایک ایسی سرد جنگ تھی جس کے زہریلے اثرات اور ہلاکت سے مسلمانوں کو محفوظ رکھنا صرف تلوار کی دھار اور اسلحہ کی طاقت سے ممکن نہ تھا، کیونکہ علم و فکر کا مقابلہ علم و دانش ہی سے کیا جا سکتا ہے۔ نسلی تعصب اور جہالت سے فکری اور علمی طوفان پر بندھ نہیں باندھ سکتے۔ امام صادق (ع) واقف تھے کہ ایسی صورت میں سب سے بہتر حکمت عملی امت مسلمہ کو حصول علم و دانش کی طرف راغب کرنا ہے۔ ان فیوض کے اجراء کے لیے مدینے میں آپ کا گھر اور مسجد نبوی ایک بڑے علمی تحقیقی مرکز کی شکل اختیار کر گئے اور اس حلقہ تعلیم و تدریس و تحقیق میں کم از کم چار ہزار طلباء مختلف شہروں اور ملکوں سے آ کر تعلیم حاصل کرتے تھے۔

شیخ طوسی کے مطابق امام صادق (ع) کے شاگردوں میں سے 3197 مرد اور 12 خواتین تھیں۔ حسن بن علی بن زیاد جو شاگرد امام رضا (ع) تھے اور خود بھی اساتذہ حدیث میں شمار ہوتے تھے، نے کہا ہے کہ:

میں نے مسجد کوفہ میں 900 سو استاد حدیث کو دیکھا ہے کہ جو امام صادق (ع) سے حدیث نقل کرتے تھے۔

صاحبان اصول یعنی وہ لوگ جو اصل کتاب جس میں راوی اور معصوم کے درمیان صرف ایک واسطہ ہوتا ہے، امام کی خدمت میں حاضر ہو کر ارشادات قلم بند کرتے جاتے۔ اس طرح ایسی 400 کتابیں تیار ہوئیں جن کو اصول اربعماۃ ( چار سو اصول ) کہا جاتا ہے۔ محمد ابن یعقوب کلینی نے چار سو کتابوں کی مدد سے  ' ' اصول کافی ' ' مرتب کی جو فقہ جعفریہ کی بنیادی کتاب ہے۔ یہ امام صادق (ع) کا فیض تھا کہ آج ہمارا حدیثوں کا سرمایہ اتنا مستند اور مستحکم ہے۔

امام صادق (ع) کے علمی فیوض کے ضمن میں یہ عرض ہے کہ علم تو آئمہ کی میراث ہے جس شعبہ سے بھی متعلق ہو سوال کرنے والے کو مطمئن کر دیا کرتے تھے۔ ان کے ذاتی تقدس اور دینی نظام میں ان کے مقام کے حوالے سے امام سے حصولِ فیوض کو زیادہ تر دینی معاملات تک محدود رکھا گیا۔ یہ ہماری بصیرت کی کوتاہی ہے۔ ورنہ علوم طبعیہ اور کونیہ ( کائناتی معلومات ) علوم میں بھی ہم اپنے آئمہ کو انتہائی مقام پر فائز دیکھتے ہیں۔ نہج البلاغہ اور صحیفہ سجادیہ میں اس ضمن میں بے شمار اشارے موجود ہیں۔ خوش قسمتی سے امام جعفر صادق کو درس و تدریس ، بالمشافہ افہام و تفہیم ، مناظروں اور مواعظہ حسنہ کی صورت میں ایسا ماحول اور موقع میسر ہوا کہ علوم جدیدہ کے شعبہ میں بھی اپنے فیوض سے مستفید کر سکے بلکہ یہ کہنا بر محل ہو گا کہ اس سلسلہ میں بھی انہیں ایک امتیازی مقام حاصل ہے۔

مسلم مفکر:

مختلف علوم میں امام کی دسترس کا بنیادی راز یہ ہے کہ آئمہ اور معصومین کا علم لدنی ہوتا ہے اور کائنات کی ہر چیز ان کے سامنے ایک کھلی کتاب کی طرح ہے۔ یہ الہامی علم ہے جس کی بنیاد روحانیت ، تزکیہ نفس اور معارف الہیہ ہیں۔ فرانس کے شہر اسٹراسبرگ کی یونیورسٹی کے مطالعاتی مرکز سے شائع ہونے والی کتاب کا فرانسیسی زبان سے ذبیح اﷲ المنصوری نے ' ' مغز متفکر جہانِ شیعہ ' ' کے نام سے فارسی ترجمہ کیا تھا۔ ہمارے دانشور محمد موسی رضوی نے اس کتاب کی اردو زبان میں تلیخض ' ' حضرت امام جعفری صادق کے بارے میں 23 یورپی دانشوروں کی تحقیق ' ' کے عنوان سے دو حصوں میں ادارہ تبلیغات اسلامی کے ذریعہ شائع کروائی۔ اردو داں طبقہ کے لیے ان کی یہ خدمت لائق تحسین ہے۔ بعد ازاں قیام پبلی کیشنز لاہور نے 1994 میں اصل فارسی کتاب کا مکمل اردو ترجمہ شائع کیا جس کے مترجم سید کفایت حسین ہیں۔ اصل کتاب کی مناسبت سے اس کا نام ' ' مغز متفکر اسلام ' ' ہے لیکن اس کا عوامی نام ' ' سپر مین اِن اسلام ' ' زیادہ زبان زد عام ہے ۔

اس کتاب میں ایسے مطالب درج ہیں جو پہلی مرتبہ عام قاری تک پہنچے ہیں، یہ کتاب ایک علمی کاوش ہے جو 25 دانشوروں کی تحقیق کا نتیجہ ہے جس میں صرف دو مسلمان ہیں ( حسین نصر، موسیٰ صدر ) باقی یورپ اور امریکہ کی مختلف جامعات سے منسلک پروفیسر اور مستشرقین ہیں۔ اس کاوش کا پس منظر یہ ہے کہ سترہویں صدی عیسوی سے اسلامی مسائل یورپ کے دانشوروں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے ۔ اسٹراسبرگ یونیورسٹی کا تحقیقاتی مرکز جو ادیان عالم پر ریسرچ کرتا ہے دوسری جنگ عظیم کے بعد اہل تشیع اور ان کے مذہب کی عظیم شخصیات کی علمی سطح ، خدمات اور فیوضات کا جائزہ لیا اور اس جائزہ کے دوران مختلف کتب خانوں میں موجود شیعہ دانشوروں کی علمی تحقیقات اور دستاویزات کے مطالعہ کے نتیجہ میں ان دانشوروں کو امام جعفر صادق کی آفاقی شخصیت کا پہلی مرتبہ اندازہ ہوا۔

یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ ممتاز دانشور محمد ابو زہرا مصری کے مطابق اختلاف فکر و نظر اور اختلاف حزب و طائفہ کے باوجود علماء اسلام کسی امر پر اس درجہ متفق نہیں ہوئے جتنے امام جعفر صادق کے علم و فضل پر ہوئے، یعنی حق زیادہ دیر تک پوشیدہ نہیں رہ سکتا ۔

یہاں یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اس کتاب کے مندرجات کے انتخاب کی اساس امام صادق کی روحانیت نہیں ہے اور نہ یہ توقع رکھنی چاہیے کی متذکرہ غیر مسلم دانشور امام کی ذاتی ، مذہبی یا روحانی شخصیت کی طرف کوئی جھکاؤ رکھتے تھے۔ اس وجہ سے امر باعث طمانیت ہے جو نتائج اخذ کیے گئے اور جو انکشافات پیش کیے گئے بالکلیہ علم و فضل اور سائنسی علوم کی جانچ کے عالمی معیار پر پورے اترے، یہی اس کتاب کی پذیرائی کا منفرد پہلو ہے۔ اس کتاب میں علوم جدیدہ سے متعلق انکشافات اور مندرجات پڑھ کر ایک فخر محسوس ہوتا ہے، جب امام ایک استاد کی طرح نہایت دقیق مسائل مثلاً ماحول کا تحفظ ، دنیا کے حالات میں بد نظمی کے اسباب ، کائنات کا متحرک ہونا، تخلیق کائنات ، وائرس ، جراثیم اور اینٹی باڈیز ( ضد اجسام ) اور مادہ کی دوامیت جیسے نظریات کے اسباب و علل اور توضیحات نہایت آسان طریقے سے سمجھا تے ہیں ۔ تیرہ سو سال پہلے جب انسانی ذہن میں سائنس اور ٹیکنالوجی کا کوئی واضح تصور موجود نہ تھا اور نہ صحت کے ساتھ جانچنے والے آلات موجود تھے، اس وقت امام جعفر صادق (ع) نے حیات و کائنات کے حوالہ سے ایسے افکار و نظریات پیش کیے جو صدیوں بعد علمی اور سائنسی تجربات کی پیش رفت کے نتیجے میں حاصل ہونے والی معلومات سے حد درجہ مطابقت رکھتے ہیں۔

چند مثالیں:

ا- عناصر اربع: امام نے واضح کیا کہ عناصر اربع میں ہوا ایک مجرد عنصر نہیں اور نہ ہی پانی ، بلکہ یہ مرکبات ہیں آج ہمارے پاس 109 عناصر کی ایک طویل فہرست ہے ۔

ب۔ زمین کی حرکت: امام نے آیات قرآنی کی روشنی میں ثابت کیا کہ سورج اپنی جگہ قائم ہے اور زمین سورج کے اطراف اپنے محور کے گرد گھومتی ہے جس سے دن رات اور موسم تبدیل ہوتے ہیں ، یہ ایک انقلابی دریافت ہے۔

ج۔ ماحول کے تحفظ کے سلسلہ میں آپ نے فرمایا کہ آدمی کو زندگی اس طرح گزارنی چاہیے کہ اس کا ماحول آلودہ نہ ہو ورنہ بالآخر زندگی گزارنا مشکل بلکہ نا ممکن ہو جائیگی۔ آج ماحولیات سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

د۔ امام کی نظر میں طوفان، سیلاب ، زلزلہ کائنات کی بدنظمی نہیں ہے، بلکہ ایک مستقل ناقابل تسخیر اور تغیر قواعد کی اطاعت کا نتیجہ ہے جس کے خلاف انسان کوئی تدارک نہیں کر سکتا۔

خلاصۃ یہ کہ امام صادق (ع) نے کلیات کی طرف اشارہ کر دیا ہے اگر ان کی جزئیات پر موجود سائنس علوم اور وسائل کے ساتھ تحقیق کی جائے تو انسانیت کی بھلائی کے اسباب مہیا ہو سکتے ہیں۔

امام صادق (ع) کے مشہور شاگرد اور اصحاب:

ایک درخت اپنے پھل سے، ایک آدمی اپنے ساتھیوں سے اور ایک استاد اپنے شاگردوں کی صلاحیتوں سے پہچانا جاتا ہے۔ امام صادق (ع) کے شاگرد اور اصحاب کی ایک طویل فہرست ہے ان میں چند معروف نام آبان بن تغلب ، ہشام ابن الحکم، مفضل بن عمر، حماد بن عیسیٰ ، زرارۃً بن اعین، محمد بن علی المعروف مومن طاق اور آخر میں لیکن بہت قابل احترام جابر بن حیان ہیں۔

امام جعفر صادق سے پہلے تحصیل علم کے لیے لوگوں میں خاص رغبت نہیں پائی جاتی تھی اس عدم توجہی کا ایک سبب درس و تدریس کا طریقہ تھا، مسلمانوں میں حصول علم کا جذبہ اور شوق پیدا کرنے کے لیے امام صادق (ع) نے باہمی ربط کا موثر طریقہ رائج کیا جس کو موجودہ زمانہ میں Intractive طریقہ کہتے ہیں اس میں شاگرد کو سوالات کرنے کی آزادی تھی امام سے مختلف افراد کے مناظروں میں اس طریقہ کی جھلک نظر آتی ہے، امام کی دانشگاہ میں مختلف علوم یعنی فقہ، حدیث ،اصول، علم کلام اور تفسیر کے علاوہ علوم طبیعی اور علم ابدان سے متعلق امور پر درس و تدریس اور بحث و مباحثے ہوتے تھے۔ امام اپنے شاگردوں کو تاکید فرماتے تھے کہ جو کچھ سمجھو اور سنو لکھ لو کیونکہ جب تک لکھو گے نہیں اس وقت تک حفاظت نہ کر سکو گے۔ علم و حکومت کو زمانے کی دست برد سے محفوظ رکھنے کے لیے ضبط تحریر میں لانا ضروری ہے، انسان کا حافظہ کتنا ہی قوی کیوں نہ ہو تحریر کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ امام صادق کا مقصد یہ تھا کہ ذہن کی دی ہوئی دولت اور بصیرت کی نعمت کو الفاظ کے مکتوبی حصار میں محفوظ کر لینا چاہیے۔

چار ہزار سے زیادہ عظیم ترین افراد اور ہستیاں آپ کے حلقہ علم و ارادت سے منسلک تھیں۔ ان کی فہرست باقاعدہ موجود ہے۔ چند مشہور شخصیتوں کا تذکرہ اور اسماء درج ذیل ہے جو علم و فضل میں ممتاز تھے۔

ابن تغلب اسحاق ابن عمار، ابو القاسم برید بن معاویہ، عجلی ثابت بن دینار، ابو حمزہ ثمالی،

مالک ابن انس، سفیان ثوری، سفیان بن عینیہ، فضل بن عیاض، شعبہ بن حجاج، حاتم بن اسماعیل،

حفص بن غیاث، ا براہیم بن محمد، ابو المنذر زہیر بن محمد، حماد بن زیاد، زرارہ بن اعین، شیبانی ابو محمد صفوان بن مہران، ہشام بن الحکم، معلی بن خنیس، مفضل بن عمرو، بکر الشیبقی، جابر بن حیان، امام اعظم ابو حنیفہ وغیر ہم۔

شعراء:

السید الحمیری، الکمیت، ابوہریرہ، الابار، اشجع السلمی البعدی۔

دربان: محمد بن سنان، مفضل بن عمرو۔

تصانیف و تالیفات:

رسالہ عبد اللہ ابن النجاشی، رسالہ مروی عن الاعمش، توحید مفضل، کتاب مصباح الشریعہ، مفتاح الحقیقہ، رسالہ الی اصحاب، رسالہ الی اصحاب الرائے و القیاس، رسالہ بیان غنائم وجوب الخمس، وصیت العبد اللہ ابن جندب، وصیت لابی جعفر بن النعمان الاحول، نثر الدررر، کلام در بیان محبت اہل بیت، توحید، ایمان، اسلام، کفر و فسق، وجوہ معالیش العباد و وجوہ اخراج الاموال، رسالہ فی احتجاج علی الصوفیہ، کلام در خلق و ترکیب انسان، مختلف اقوال حکمت و آداب، نسخہ (اس کا ذکر نجاشی نے اپنی کتاب الرجال میں کیا ہے)، نسخہ (جس کو عبد اللہ ابن ابی اولیس بن مالک بن ابی عامر الاصبحی نے بیان کیا ہے)، نسخہ (جو سفیان بن عینیہ سے مروی ہے)، نسخہ (جو ابراہیم بن رجاء الشیبانی سے مروی ہے)، کتاب (جو جعفر بن بشیر البجلی کے پاس تھی)، کتاب رسائل جو آپ کے شاگرد جابر بن حیان الکوفی سے مروی ہے، تقسم الرویاء۔ (مزید تفصیل کیلئے اعیان الشیعہ کا مطالعہ کیا جائے )۔

امام کے چند شاگردوں کا مختصر تذکرہ حسب ذیل ہے:

الف۔ آبان بن تغلب ابو سعد الکوفی: انھوں نے 3 آئمہ کا زمانہ دیکھا۔ یعنی امام زین العابدین، سے امام صادق (ع) ، وہ قاری بھی تھے اور فقیہ بھی۔ قرآن ، حدیث، نعت اور تجوید میں دوسروں پر سبقت رکھتے تھے ان کے بارے میں اتنا کہنا کافی ہے کہ امام محمد باقر (ع) نے ان سے فرمایا تھا کہ مسجد مدینہ میں بیٹھو اور لوگوں کو فتوے دو اس کے علاوہ سوائے صحیح بخاری کے دیگر تمام صحابہ میں ان کے حوالہ سے روایتیں موجود ہیں یعنی یہ بین الفریقین قابل اعتماد ہیں۔ ان کی اہم کتاب (غریب القرآن) ہے جو اس موضوع پر پہلی کتاب ہے جس میں الفاظ قرآنی کے مفہوم پر اشعار عرب سے استدلال کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کتاب الفضائل اور کتاب القرات آپ کی اہم تالیفات ہیں۔

ب: ہشام بن الحکم البغدادی لکندی:  ان بزرگ ہستی کا تاریخ اور رجال کی کتب میں خاص تذکرہ کیا گیا ہے ان کی علمیت کے اندازہ کے لیے یہ کافی ہے کہ انہوں نے ' ' الرد علیٰ ارسطا طالیس ' ' نامی کتاب میں ارسطو کے فلسفہ پر تنقید کی ہے ۔ ان کی پوری زندگی مناظروں میں گزری جس میں جاثلیق نصرانی عالم سے مناظرہ، امامت حق کی اطاعت کا وجوب اور ابو حنفیہ سے مناظرے شامل ہیں۔ امام صادق (ع) سے رسائی کے بعد انہوں نے اپنے آبائی مذہب کو تبدیل کر دیا اور مکمل طور پر اپنے آپ کو خدمت امام کے لیے وقف کر دیا اور آخری وقت تک پاسداران ولایت ہی رہے۔ ان کی تصانیف بصورت مناظرے کے حوالے موجود ہیں۔ ہشام کے متعلق امام صادق (ع) کا قول ہے کہ:

ہشام ہمارے حق کا سراغ رساں ہے ہماری صداقت کا پاسدار، ہمارے اعداء کی باطل قوتوں کا دفع کرنے والا ہے۔

امام محمد تقی (ع) نے ہشام کے متعلق کہا۔ ﷲ ان پر رحمت کرے وہ کسی طرف سے ہم پر حرف نہیں آنے دیتے تھے۔

ج۔ جابر بن حیان: امام جعفر صادق (ع) کی شخصیت اور علمی فیوض کے سلسلے میں جابر بن حیان طوسی کے ذکر کو خصوصیت حاصل ہے، جابر 104 ھ میں پیدا ہوئے اور 202 ھ میں ان کا انتقال ہوا۔ حجاج بن یوسف کے ہاتھوں اپنے والد کی شہادت کے بعد مدینہ آ گئے اور امام کی خدمت میں پہنچے۔ جابر نے امام سے کسب فیض کے بعد علم کیمیا میں اہم انکشافات اور نظریات پیش کیے جس کی بناء پر ان کو ' ' بابائے کیمیا ' ' کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔ جابر نہ صرف علم کیمیا کے ماہر تھے بلکہ حیاتیات اور نباتات ، علم حجر ( جیالوجی ) اور نفسیات پر بھی ان کے متعدد کتابیں اور رسالے موجود ہیں۔

جابر کی سائنس کی بنیاد کلام الہی پر ہے۔ جابر نے امام صادق (ع) سے روایت کی کہ ( پارہ چاندی ) ہے جو آگے چل کر تمام عناصر میں یگانگت اور صرف ایٹمی نمبر کے فرق کے نظرئیے کی توثیق کرتا ہے۔ جابر کلام معصوم کے حوالہ سے ایک سائنسدان کی صفت کا پروفائل یوں بناتے ہیں کہ:

کہ علوم عقلیہ پر تحقیق کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ صالح ہو اور کلام مجید اور کلام معصومین سے آگاہی رکھتا ہو۔ ایسے شخص کو فاضل ہونا چاہیے اور بصیرت والی آنکھیں ہونی چاہیے اسے آلات کے استعمال کا علم ہونا چاہیے۔

امام صادق (ع) کے فیض اور سرپرستی میں جابر جیسے شاگردوں نے سائنس کو مالا مال کر دیا، جابر کے 500 رسائل اور کتابوں کا جرمن زبان میں ترجمہ کیا گیا کچھ کتابیں فرانسیسی تراجم کے ساتھ ایران ، مصر، ترکی ، جرمنی اور فرانس کے کتب خانوں کی زینتیں ہیں۔ اب انٹرنیٹ اور ویب کی سہولتوں کے ذریعے امام کے فیوض دنیا کے ہر کونے میں علم کے پیاسوں کی دسترس میں ہیں۔

فقہ جعفری میں گروہی تقسیم:

بڑے فرقوں میں مرور زمانہ کے ساتھ تفریق و تقسیم تعجب کی بات نہیں ہے، شیعیت میں گروہی تقسیم کے واقعات عہد امام جعفرِ صادق(ع) سے پہلے بھی رونما ہوئے تھے لیکن امام صادق کی شہادت کے بعد یہ مسئلہ شدت اختیار کر گیا جس کے نتیجے میں شیعہ بالآخر اسماعیلی ، بوہری اور اثنا عشری مسلکوں میں تقسیم ہو گئے۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ منصب امامت ' ' بذریعہ نص ' ' کے بارے میں جو وحدت فکر تھی اس میں بتدریج تبدیلی ظہور پذیر ہوئی اور منصب امامت بطور ایک کسبی رتبہ کے نظریہ کا فروغ ہوا۔ اس رجحان سے متوازی قیادت کا تصور ابھرا جو امامت از روئے نص کے اصول سے متصادم تھا۔

شیعیت میں تفریق کا ایک اور ممکنہ سبب بھی قابل غور ہے، امام صادق (ع) نے شیعیت کو ایسے نقطہ عروج پر پہنچا دیا تھا کہ ہر کوئی طالع آزما اس کو اپنے مفاد میں اپنانا چاہتا تھا لیکن مجبوری یہ تھی کہ ان میں کوئی بھی اس پایہ کا عالم یا محدث نہیں تھا کہ فقہ جعفری سے بہتر تصور پیش کر سکے۔ بالآخر انسانی ذہن کی تخریبی صلاحیتوں کے ذریعے ایک عظیم الشان مسلک میں شکست و ریخت کے سامان پیدا کیے گئے۔ اس منصوبہ کو انجام دینے کے لیے امام صادق کے سب سے بڑے بیٹے اسماعیل کی وفات کو نزاعی مسئلہ بنا دیا جب کے اسماعیل امام کی زندگی میں 26 سال کی عمر میں 133 ھ میں وفات پا چکے تھے۔ اس ضمن میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اسماعیل کو منصور دوانیقی کے ظلم سے بچانے کے لیے ان کی وفات کا شہرہ کیا گیا لیکن اس ضمن میں تاریخ خاموش ہے۔ کسی کمزور یا بے بنیاد نص کی بناء پر امام صادق کی شہادت کے بعد ایک گروہ نے امامت کو اسماعیل کے ذریعہ ان کے بیٹے محمد تک پہنچا دیا اور انہیں اپنا ساتواں امام مان لیا اور سبعیہ کہلائے۔ یہ 133 ھ میں محمد ابن اسماعیل کی وفات کے بعد امامت ختم سمجھتے ہیں اور ہدایت کے لیے ایک حاضر امام کا وجود ضروری سمجھتے ہیں۔ اپنے اس عقیدے کی ترویج کے لیے انہوں نے افریقہ کو مناسب سمجھا کیونکہ یہ عباسیوں کی دسترس سے دور تھا۔ مزید یہ کہ افریقہ میں امام جعفر صادق نے 145 ھ میں عقائد اہلبیت کی تعلیم کے لیے دو داعی بھیجے ۔ مصری فاطمئین کے دور میں اسماعیلی عقیدے کو رواج ملا۔ ان کے ایک نامور امام نزار ( عزیز باللہ ) کے انتقال پر 344 ھ میں نیابت کے مسئلہ پر ان میں دو شاخیں ہو گئیں۔ ایک گروہ آغا خانی اور اسماعیلی اور دوسرا نزار کے بھائی مستعلی کی تقلید کی نسبت سے مستعلیہ کہلایا۔ موخر الذکر نے فقہ جعفری کی تقلید میں اپنے ہاں ایک مہدی غائب کا تصور پیش کیا اور ہدایت کے امور ایک داعی کے سپرد کر دیئے جو ابھی تک جاری ہے۔

عام زبان میں شش امامی داؤدی بوہرہ کہلاتے ہیں۔ دیگر فقہی امور میں یہ فقہ جعفری سے قریب ہیں اس کے برعکس اسماعیلی عقائد میں فقہ جعفریہ سے انحراف ہے، دونوں گروہ دنیوی آسائش اور نجات اُخروی کے وعدوں پر پیرؤں کو اپنی طرف کھنچتے ہیں۔

شیعوں کا وہ گروہ جو امام صادق (ع) کی نص کی بنیاد پر حضرت امام موسیٰ کاظم (ع) کے ذریعہ سلسلہ امامت کو بارہویں ہادی تک مسلسل رکھا وہ شیعہ اثنا عشری کہلائے اور یہی اپنے آپ کو اعلانیہ فقہ جعفری سے متمسک قرار دیتا ہے۔

تاریخ امامت حقہ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ایک امام کے بیٹوں کے درمیان امامت پر فائز ہونے کے مسئلہ پر اختلاف ہو جائے یا جس بیٹے کو امام نے جانشین قرار دے دیا وہ باپ کی زندگی میں ہی وفات پا جائے اور نص کی تنسیخ ہو جائے۔ اس لحاظ سے بحمد ﷲ فقہ جعفری پر عامل مومنین کو اپنی فقہ کی حقانیت پر سو فیصد یقین اور اطمینان قلب ہے۔

امام صادق (ع) نے دہریوں، قدریوں، کافروں اور یہودیوں و نصاری  سے بے شمار علمی مناظرے کیے اور ہمیشہ  انہیں شکست  دی ۔ عبد الملک بن مروان کے زمانے میں  ایک قدریہ مذہب کا مناظر اس کے دربار میں آ کر علماء سے مناظرہ کا خواہشمند ہوا، بادشاہ نے حسب عادت اپنے علماء کو طلب کیا اور ان سے کہا کہ اس قدریہ سے مناظرہ کرو علماء نے اس سے کافی زور آزمائی کی لیکن تمام علماء عاجز آ گئے اسلام کی شکست ہوتے ہوئے دیکھ کر عبد الملک بن مروان نے فورا ایک خط حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام کی خدمت میں مدینہ روانہ کیا اور اس میں تاکید کی کہ آپ ضرور تشریف لائیں حضرت امام محمد باقر کی خدمت میں جب اس کا خط پہنچا تو آپ نے اپنے فرزند حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے فرمایا کہ بیٹا میں ضعیف ہو چکا ہوں تم مناظرہ کے لیے شام چلے جاؤ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے پدر بزرگوار کے حکم پر شام پہنچ گئے۔

عبد الملک بن مروان نے جب امام محمد باقر علیہ السلام کی بجائے امام جعفر صادق علیہ السلام کو دیکھا تو کہنے لگا کہ آپ ابھی کم سن ہیں، ہو سکتا ہے کہ آپ بھی دوسرے علماء کی طرح شکست کھا جائیں، اس لیے مناسب نہیں کہ مجلس مناظرہ منعقد کی جائے حضرت نے ارشاد فرمایا: تو مت ڈرو، اگر خدا نے چاہا تو میں صرف چند منٹ میں مناظرہ ختم کر دوں گا۔

قدریوں کا اعتقاد ہے کہ بندہ ہی سب کچھ ہے، خدا کو بندوں کے معاملہ میں کوئی دخل نہیں، اور نہ خدا کچھ کر سکتا ہے، یعنی خدا کے حکم اور قضا و قدر و ارادہ کو بندوں کے کسی امر میں دخل نہیں لہذا حضرت نے اس کی خواہش پر فرمایا کہ میں تم سے صرف ایک بات کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ تم سورہ حمد پڑھو، اس نے پڑھنا شروع کیا جب وہ ایاک نعبد و ایاک نستعین، پر پہنچا تو آپ نے فرمایا، ٹہر جاؤ اور مجھے اس کا جواب دو کہ جب خدا کو تمہارے اعتقاد کے مطابق تمہارے کسی معاملہ میں دخل دینے کا حق نہیں تو پھر تم اس سے مدد کیوں مانگتے ہو، یہ سن کر وہ خاموش ہو گیا اور کوئی جواب نہ دے سکا، اور مجلس مناظرہ برخواست ہو گئی۔

تشنگانِ علم و حکمت دور درواز سے آتے اور امام جعفر صادق سے فیضیاب ہوا کرتے تھے۔ مورخین آپ سے روایت کرتے اور دانشور کتابی صورت میں آپ کے فرمودات جمع کرتے تھے حتیٰ کہ حفاظ اور محدثین جب کچھ بیان کرتے تو امام جعفر صادق کے ارشادات کا حوالہ دیتے ۔

مؤرخین اس بات پر متفق ہیں امام جعفر صادق نے کسی مدرسہ میں تعلیم حاصل نہیں کی اور نہ کسی اْستاد کے سامنے زانوئے اَدب تہہ کیا۔ آپ کا علم نسل در نسل آپ کے سینے میں منتقل ہوا جس سے ثابت ہوا کہ امام صادق نے جس علم کی روشنی بکھیری وہ دراصل عِلمِ مصطفوی و مرتضوی ہی ہے۔ چار ہزار سے زائد شاگردوں نے بیک وقت اور ایک ہی دور میں آپ کی بارگاہ سے کسب علوم اور نقل روایت کا شرف حاصل کیا۔ جن علوم کی تعلیم آپ کی درسگاہ سے دی جاتی ان میں فقہ کے علاوہ ریاضی فلکیات فزکس کیمسٹری سمیت تمام جدید علوم شامل تھے۔ آپ کی درسگاہ کے فیض سے جہاں قدیم علوم کا احیاء ہوا وہاں جدید علوم کی بھی بنیاد رکھی گئی۔ مسلمانوں میں نابغہ روزگار ہستیاں پیدا ہوئیں۔ احادیث و معرف دین و شریعت میں امام جعفر صادق کے وضع کردہ چار سو اصول ہی کتب اربع کا منبع و مدرک ہیں۔ امام جعفر صادق کے گراں قدر بیانات و فرمودات و ارشادات نے جہالت اور گمراہی و ضلالت کے پردوں کو چاک کر دیا۔ آپ نے پیغمبر اسلام کے الہامی و آفاقی دستور حیات کو لوگوں کے سامنے اس طرح پیش فرمایا کہ لوگوں میں دین و شریعت کی پیروی بڑھتی گئی۔

آپ کے ممتاز شاگردوں میں ہشام بن حکم، محمد بن مسلم ، ابان بن تغلب ، ہشام بن سالم ، مفصل بن عمر اور جابر ابن حیان کا نام خاص طور سے لیا جا سکتا ہے۔ ان میں سے ہر ایک نے بڑا نام پیدا کیا مثال کے طور پر ہشام بن حکم نے اکتیس کتابیں اور جابر بن حیان نے دو سو سے زائد کتابیں مختلف علوم و فنون میں تحریر کی ہیں۔ جابر بن حیان بابائے علم کیمیا کے نام سے مشہور ہیں۔ الجبرا کے بانی ابو موسی الخوارزمی نے بھی بالواسطہ امام جعفر صادق کی تعلیمات سے فیض حاصل کیا۔ اہل سنت کے چاروں مکاتب فکر کے امام بلا واسطہ یا بالواسطہ امام جعفر صادقؒ کے شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں خاص طور پر ابو حنیفہ نے تقریباً دو سال تک براہ راست آپ سے کسب فیض کیا۔ آپ کے علمی مقام کا اعتراف کرتے ہوئے ابو حنیفہ نے کہا ہے : میں نے جعفر ابن محمد سے زیادہ عالم کوئی اور شخص نہیں دیکھا۔

ایک اور مقام پر ابو حنیفہ نے امام جعفر صادق کی خدمت میں گزارے ہوئے دو سالوں کے بارے میں کہا ہے کہ : اگر یہ دو سال نہ ہوتے تو نعمان ہلاک ہو جاتا، لولا سنتان، لھلک النعمان

مالک بن انس حضرت امام جعفر صادق کی علمی اور اخلاقی عظمت کے بارے میں کہتے ہیں کہ میں ایک مدت تک جعفر ابن محمد کی خدمت میں زانوئے ادب تہہ کیا کرتا تھا آپ مزاح بھی فرمایا کرتے تھے ہمیشہ آپ کے لبوں پر تبسم رہتا تھا۔ جب آپ کے سامنے رسول اللہ کا نام مبارک لیا جاتا تو آپ کے چہرے کا رنگ سبز اور زرد ہو جاتا تھا۔ میں نے نہیں دیکھا کہ انہوں نے رسول اللہ سے حدیث بیان کی ہو اور وضو سے نہ ہوں۔ میں جب تک ان کے پاس آیا جایا کرتا تھا میں نے نہیں دیکھا کہ وہ ان تین حالتوں سے خارج ہوں:

یا وہ نماز پڑھتے رہتے تھے، یا قرآن کی تلاوت کر رہے ہوتے تھے یا پھر روزے سے ہوتے تھے۔

مالک بن انس حضرت امام جعفر صادق (ع) کی عظمت کے بارے میں ان خیالات نے سمندر کو کوزے میں بند کر دیا کہ کسی آنکھ نے نہیں دیکھا، کسی کان نے نہیں سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں خیال آیا کہ کوئی جعفر ابن محمد سے بھی افضل ہو سکتا ہے۔

ابن خلکان لکھتے ہیں کہ:

امام صادق کیمیا میں ید طولا رکھتے تھے، ابو موسی جابر بن حیان طرطوسی ان کے شاگردوں میں سے ہیں۔ جابر نے ایک ہزار ورق پر مشتمل ایک کتاب لکھی ہے جس میں جعفر ابن محمد کی تعلیمات تھیں۔ ان کے سامنے بہت سے لوگوں نے زانوے ادب تہ کیا ہے اور ان سے علمی فیض حاصل کیا ہے۔ ان میں ان کے بیٹے موسی کاظم، یحی بن سعید انصاری، یزید بن عبد اللہ، ابو حنیفہ، ابان بن تغلب، ابن جریح ، معاویہ بن عمار، ابن اسحاق، سفیان، شبعہ ، مالک، اسماعیل بن جعفر، وھب بن خالد، حاتم بن اسماعیل، سلیمان بن بلال، سفیان بن عینیہ، حسن بن صالح، حسن بن عیاش، زھیر بن محمد، حفص بن غیاث، زید بن حسن، انماطی، سعید بن سفیان اسلمی، عبد اللہ بن میمون، عبد العزیز بن عمران زھری، عبد العزیز درآوری، عبد الوہاب ثقفی، عثمان بن فرقد، محمد بن ثابت بنانی، محمد بن میمون زعفرانی، مسلم زنجی، یحی قطان، ابو عاصم نبیل سمیت ہزاروں شامل ہیں۔

شہاب الدین ابو العباس احمد بن بدر الدین شافعی معروف بہ ابن حجر ہیتمی امام صادق کے بارے میں لکھتے ہیں کہ:

لوگوں نے آپ سے بہت سے علوم سیکھے ہیں اس یہ علوم مدینہ آنے والے زائرین و حجاج کے ذریعے ساری دنیا میں پھیل گئے اور ساری دنیا میں جعفر ابن محمد کے علم کا ڈنکا بجنے لگا۔ اہل سنت کے بزرگ علماء میں سے ایک میر علی ہندی، حضرت امام جعفر صادق کی علمی اور اخلاقی عظمت کے بارے میں کہتے ہیں اس زمانے میں علم کی ترقی نے سب کو کشتہ بحث و جستجو بنا دیا تھا اور فلسفیانہ گفتگو ہر جگہ رائج ہو چکی تھی۔ قابل ذکر ہے کہ اس فکری تحریک کی رہبری اس مرکز علمی کے ہاتھ میں تھی جو مدینہ میں پھل پھول رہا تھا اور اس مرکز کا سربراہ علی ابن ابی طالب کا پوتا تھا جس کا نام جعفر صادق تھا۔ وہ ایک بڑے مفکر اور سرگرم محقق تھے اور اس زمانے کے علوم پر عبور رکھتے تھے، وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے اسلام میں فلسفے کے مدارس قائم کیے۔ ان کے درس میں صرف وہ لوگ شرکت نہیں کرتے تھے جو بعد میں فقہی مکاتب کے امام کہلائے بلکہ فلاسفہ، فلسفہ کے طلبہ بھی دور دراز سے آ کر ان کے درس میں شرکت کرتے تھے۔

ڈاکٹر حامد حنفی جو عربی ادب کے استاد گردانے جاتے ہیں ایک کتاب کے مقدمہ میں لکھتے ہیں کہ:

20 سال سے زیادہ زمانہ بیت گیا میں تاریخ فقہ و علوم اسلامی کی ترتیب کر رہا ہوں خانوادہ کرامت نبوی کے طاہر فرزند حضرت امام جعفر صادق کی نمایاں ترین شخصیت نے مجھے خاص طور پر اپنی جانب متوجہ کیا۔ میں اس نظرئیے پر پہنچا ہوں کہ آپ علوم اسلامی کے موجد اور موسس رہنما ہیں۔

علامہ ابن حجر مکی نے صواعق محرقہ میں بیان کیا ہے کہ:

تمام بلادِ اسلامیہ میں ان کے علم و حکمت کا شہرہ تھا۔

علامہ شبلی نعمانی سیرۃ النعمان میں لکھتے ہیں کہ:

حضرت امام ابو حنیفہ لاکھ مجتہد ہی سہی لیکن امام جعفر صادق کے شاگرد تھے۔

مسیح عالم عارف ثامر استاد دانش کدہ مباحث شرقی قاہرہ نے لکھا ہے کہ:

جو شخص بے غرض متعصب سے پاک ہو کر امام جعفر بن محمد الصادق کی شخصیت کے بارے میں جدید علمی اصول کی پیروی کرتے ہوئے ہر قسم کے تعصبات سے بے نیاز ہو کر علمی و حقیقی تحلیل و تجزیہ میں مشغول ہو گا، تو اس کیلئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اس بات کا اعتراف کرے کہ امام کی شخصیت ایسا فلسفی مجموعہ ہے جسے اپنے اوپر اعتماد و بھروسہ ہے جو بہت سے نظریات، خیالات اور فکریات کا سرچشمہ ہیں جو نئے افکار و خیالات و جدید احکامات کے نہ صرف مؤسس ہیں بلکہ انھوں نے اس بارے میں نئی نئی راہیں بھی دکھائی ہیں۔

ابن خلکان کہتے ہیں کہ:

آپ سادات اہلبیت میں سے تھے اور آپ کی فضیلت کسی بیان کی محتاج نہیں۔

اسی طرح بیان کرتے ہیں کہ:

حضرت امام جعفر صادق کے مقالات علم کیمیا اور علم جفر و فال میں موجود ہیں اور جابر بن حیان صوفی طرطوسی آپ کے شاگر تھے جنہوں نے ایک ہزار صفحات کی کتاب مرتب کی تھی۔

انسائیکلو پیڈیا آف اسلامک ہسٹری میں ہے کہ:

استاد اعظم جابر بن حیان بن عبد اللہ کوفہ میں پیدا ہوا،امام باقر اور امام جعفر صادق کے فیض صحبت سے خود امام ہو گیا۔

علامہ فرید وجدی دائرۃ المعارف القرآن الرابع عشر میں لکھتے ہیں کہ:

جابر بن حیان نے امام جعفر صادق کے پانچ سو رسائل کو جمع کر کے ایک ہزار صفحہ کی کتاب تالیف کی تھی۔ فرید مولف دائرۃ المعارف مزید لکھتا ہے کہ:

جعفر ابن محمد کے علم و دانش کا گھر روزانہ جید علماء سے بھر جاتا تھا۔ وہ علماء و دانشمند علم حدیث، تفسیر،کلام و فلسفہ کے حصول کے خواہشمند تھے۔ آپ کے حلقہ دروس میں مشہور و معروف علماء میں سے اکثر اوقات میں تین سے چار ہزار افراد تک شرکت فرماتے تھے۔

سٹراسبرگ میں 25 مغربی محققین نے امام جعفر صادق کی علمی و سائنسی خدمات پر ایک مقالہ مرتب کیا ہے کہ جو سپرمین ان اسلام کے عنوان کے تحت شائع ہوا ہے۔ اس مقالہ میں ان دریافتوں کا احاطہ کیا گیا ہے جن کی بنیاد امام جعفر صادق کے دروس سے آشکار ہوئی۔

امام جعفر صادق کی کرامات بھی لاتعداد ہیں جن سے شیعہ سنی کتب بھری پڑی ہیں۔ منصور دوانیقی کے ایک درباری کا بیان ہے کہ:

میں نے ایک مرتبہ اسے پریشان دیکھا سبب پوچھا تو کہنے لگا جب تک میں امام جعفر صادق کا کام تمام نہ کر لوں آرام سے نہ بیٹھوں گا۔ اس نے جلاد کو بلایا اور کہا کہ میں امام جعفر صادق کو بلواتا ہوں جب امام جعفر صادق آئیں اور میں اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لوں تو تم انہیں قتل کر دینا۔ درباری بیان کرتا ہے کہ جب منصور نے امام کو بلوایا تو میں ان کے ساتھ ہو لیا وہ زیر لب کچھ ورد فرما رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ اچانک منصور کے محل میں ارتعاش و زلزلہ پیدا ہو گیا ہے اور وہ اپنے محل سے ایسے نکلا جیسے کشتی سمندر کی تند و تیز لہروں سے باہر آتی ہے منصور کا حلیہ عجیب تھا وہ لرزہ براندام برہنہ سر اور برہنہ پا امام جعفر صادق کے استقبال کے لیے بڑھنے پر مجبور ہو گیا اور آپ کے بازو کو پکڑ کر اپنے ساتھ تکیہ پر بٹھایا اور کہنے لگا اے فرزند رسول آپ کیسے تشریف لائے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا تو نے بلایا اور میں آ گیا۔ منصور کہنے لگا کسی چیز کی ضرورت ہو تو فرمائیں۔ آپ نے فرمایا مجھے بجز اس کے کسی چیز کی ضرورت نہیں کہ تم مجھے یہاں نہ بلایا کرو۔ اس کے بعد امام جعفر صادق تشریف لے گئے اور منصور ایسا سویا کہ اگلے روز دن چڑھے بیدار ہوا مجھے بلایا اور کہا کہ میں نے جعفر ابن محمد کو قتل کے ارادے سے بلایا تھا جیسے ہی وہ دربار میں داخل ہوئے تو میں نے ایک اژدھا دیکھا جس کے منہ کا ایک حصہ زمین پر تھا اور دوسرا میرے محل پر وہ مجھے فصیح و بلیغ زبان میں کہہ رہا تھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے اگر تم نے جعفر صادق کو کوئی گزند پہنچائی تو تجھے تیرے محل سمیت دفن کر دوں گا۔

شواہد النبوۃ۔ ملاجامی

امام جعفر صادق (ع) نے جس علمی تحریک کی بنیاد رکھی اس کے سبب اسلامی دنیا علم کا گہواہ بن گئی۔ فلکیات ریاضی کیمسٹری فزکس تمام سائنسی علوم میں مسلمانوں نے قابل رشک ترقی کی۔ لیکن جب مسلمانوں نے علم سے ناطہ توڑا تو آج حالات یہ ہو چکے ہیں کہ مسلمان ذلت و رسوائی کی گہرائیوں میں دھنستے چلے جا رہے ہیں۔ اگر عالم اسلام اپنی کمزوری کا تجزیہ کرے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مسلمانوں نے علم کی میراث چھوڑ دی ہے۔ مشاہیر اسلام بزگان دین کی ناقدری کی ایمان کی کمزوری کا شکار ہو گئے۔ مسلمانوں نے اپنے مشاہیر کی عزت کرنا تو کجا اپنے ہاتھوں ان کی بے توقیری کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ لیکن عالم اسلام خواب خرگوش میں پڑا ہے۔ آج داعش بنانے والے داعش کو مٹانے کے بہانے مسلمان ملکوں کی خود مختاری کو چیلنج کر رہے ہیں۔ المختصر یہ کہ اگر مسلمان دنیا میں مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں باہمی اختلافات مٹا کر متحد ہونا ہو گا، جنت البقیع جنت المعلی سمیت مشاہیر اسلام کے آثار کی عظمت رفتہ بحال کرنا ہو گا، امام جعفر صادق کی علمی تحریک سے ٹوٹا ہوا ناطہ جوڑ کر سائنس ٹیکنالوجی میں ترقی کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے۔

خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ دانش افرنگ

سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف

اہل سنت کی کتابوں میں ابو حنیفہ کے ساتھ امام جعفر صادق علیہ السلام کا مناظرہ کچھ اس طرح سے بیان ہوا ہے ابو حنیفہ بن ابی شبرمہ و ابن ابی لیلی ، امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں پہنچے  امام صادق علیہ السلام نے ابن ابی لیلی سے فرمایا : یہ تمہارے ساتھ کون ہے ؟ اس نے عرض کیا : یہ ایسا شخص ہے جو صاحب بصیرت اور دین میں اثر و رسوخ رکھتا ہے ۔ امام نے فرمایا : گویا یہ شخص دین کے امور میں اپنی رائے سے قیاس کرتا ہے ؟ اس نے کہا : جی ہاں۔ امام نے ابو حنیفہ سے فرمایا : تمہارا نام کیا ہے ؟ اس نے کہا : نعمان ، امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : میں دیکھ رہا ہوں کہ تم کسی بھی چیز کو اچھی طرح نہیں جانتے ؟ اس کے بعد امام نے کچھ مسائل بیان کرنے شروع کیے جن کا ابو حنیفہ کے پاس کوئی جواب نہیں تھا ۔

امام نے فرمایا : اے نعمان ! میرے والد نے میرے جد امجد سے حدیث نقل کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :

سب سے پہلے جس شخص نے دین میں اپنی رائے سے قیاس کیا وہ ابلیس تھا ، خداوند عالم نے اس سے فرمایا : آدم کو سجدہ کرو۔ اس نے جواب میں کہا : انا خیر منہ خلقتنی من نار و خلقتہ من طین،  میں اس سے بہتر ہوں ، کیونکہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے ۔ پس جو شخص بھی دین میں اپنی رائے سے قیاس کرے اس کو خداوند عالم قیامت کے روز ابلیس کے ساتھ محشور کرے گا کیونکہ اس نے قیاس میں ابلیس کی پیروی کی ہے۔

ابن شبرمہ کہتے ہیں : پھر امام نے ابو حنیفہ سے سوال کیا:  ان دو چیزوں میں سب سے عظیم چیز کیا ہے : انسان کو قتل کرنا ، یا زنا کرنا ؟ ابو حنیفہ نے کہا : انسان کو قتل کرنا ۔ امام نے فرمایا : پھر خداوند عالم نے انسان کو قتل کرنے میں دو گواہوں کو کافی کیوں سمجھا جبکہ زنا کے شواہد میں چار گواہوں کو ضروری سمجھا ہے ؟ پھر فرمایا : نماز زیادہ عظیم ہے یا روزہ ؟ ابو حنیفہ نے کہا : نماز ۔ امام نے فرمایا : پھر کیا وجہ ہے کہ حائض عورت اپنے روزوں کی قضا کرتی ہے لیکن نماز کی قضا نہیں کرتی ؟ وائے ہو تجھ پر ! تیرا قیاس کس طرح حکم کرتا ہے ؟ خدا سے ڈر اور دین میں اپنی رائے سے قیاس مت کر  ۔

سفیان نوری ( جو اپنے زمانہ کے مشہور فقہاء میں سے ایک ہیں اور اہل سنت کے یہاں علم و زہد پرہیز کاری کے حوالے سے بہت مشہور ہیں ) نے بھی امام جعفر صادق (ع) کی شاگردی اور آپ سے علمی اور اخلاقی میدان میں کسب فیض کیا ہے اور امام صادق (ع) سے حدیثیں بھی نقل کی ہیں۔

تذکرة الحفاظ ج1 ص 197 ۔

ادوار فقہ ج3 ص 576، محمود شہابی چاپ دوم وزارت ارشاد و فرہنگ اسلامی سنہ 1368 ھ ۔

عمر وابن ابی المقدام سے روایت نقل ہوئی ہے کہ:

قال کنت اذا نظرت الیٰ جعفر بن محمد علمت انہ من سلالة البنیین قد رایتہ واقفا عند الجمرة یقول سلونی سلونی ۔

عمرو کہتے ہیں کہ میں جب بھی جعفر بن محمد کی طرف نظر دوڑاتا تو جان لیتا کہ آپ انبیاء کی نسل میں سے ہیں اور میں نے آپ کو دیکھا جب آپ ایک پتھر پر کھڑے تھے اور یہ فرما رہے تھے سلونی سلونی ۔

مجھ سے پوچھو مجھ سے پوچھو ۔ آپ نے اپنے جد امیر المومنین کی طرح یہ دعویٰ کیا ہے مولا امیر المومنین نے بھی یہی فرمایا تھا اس سے پہلے کہ میں تمھارے درمیان نہ رہو ں ۔ مجھ سے علمی مسائل اور مشکلات کے بارے پوچھ لو اور میرے بعد کوئی بھی مجھ جیسے حدیث بیان نہیں کرے گا ۔

تہذیب التہذیب، ابن حجر عسقلانی ج2 ص 88، دار الفکر بیروت چاپ اول سنہ 1385 ۔

شمس الدین ذہبی ، سیر أعلام النبلا ،ج 6،ص 440

ابن حجر ہیثمی امام کی علمی شخصیت کے بارے میں لکھتے ہیں: یحیی بن سعید بن جریح، امام مالک، سفیان ثوری، امام ابو حنیفہ اور ایوب نے فقیہ جیسی شخصیتوں نے آپ سے حدیثیں نقل کی ہیں۔

الصواعق المحرقہ ابن حجر ھیثمی ص 102 ۔

ابو بحر جاحظ جو کہ اہل سنت کے بہت بڑے عالم دین تھے اور دوسری صدی کے آخر میں ان کا دور تھا ایک غیر معمولی ادیب ،ایک بہترین جامعہ شناس اور مورخ تھے ، کتاب الحیوان ،جس کو آپ نے لکھا ہے بہت معروف ہے اور آج بھی یورپ کے سائنس دانوں کے لیے قابل توجہ ہے یہ عالم امام صادق کے آخری دور میں موجود تھے۔ امام کے بارے میں کہا ہے کہ :

جعفر ابن محمد الذی ملا الدنیا علمہ و فقھہ و یقال ان ابا حنیفہ من تلامذتہ و کذلک سفیان الثوری و جسک بھما فی ھذا الباب ۔

جعفر ابن محمد وہ ہیں کہ جن کے علم اور فقہ نے دنیا کو پُر کر رکھا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ابو حنیفہ آپ کے شاگردوں میں سے تھے اور اسی طرح سفیان ثوری بھی آپ کے شاگرد تھے ۔

اور ان دونوں کا شاگرد ہونا آپ کی عظمت کے لیے کافی ہے۔

رسائل الجاحظ ص 106، الامام الصادق (ع) (ابوزہرہ) ص 36

ابو زہرہ نے کتاب " الامام الصادق (ع) " میں لکھا ہے کہ:

علماء اسلام مختلف نظریات اور مکاتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک دوسرے سے اختلاف رائے رکھنے کے باوجود امام صادق (ع) کے علمی مقام و عظمت اور بزرگی کے بارے میں اتفاق نظر رکھتے ہیں۔

17.الامام الصادق (ع) (ابوزہرہ ) ص 66 ۔

قاہرہ یونیور سٹی، میں شعبہ ادبیات کے پروفیسر ڈاکٹر حامد حنفی، عراقی دانشمند اسد حیدری کی کتاب " الامام صادق (ع) والمذاہب الاربعۃ" کے مقدمہ میں لکھتے ہیں کہ:

بیس سال سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا کہ میں نے تاریخ فقہ و علوم اسلامی میں محقق کی حیثیت رکھتا ہوں اور زمانہ تحقیق سے نسل نبوت کی پاک و پاکیزہ اور باکرامت اور علمی شخصیت حضرت امام جعفر صادق (ع) نے مجھے بے حد متاثر کیا ۔ میرا عقیدہ ہے حضرت ترقی پسند رہبروں میں سے تھے اور آپ اسلامی علوم کے موجد اور سب سے ذمہ دار مفکر ہیں جو ہمیشہ شیعہ اور سنی دانشمندوں کا مرکز رہے ہیں اور رہیں گے۔

الامام الصادق (ع) والمذاہب الاربعة اسد حیدر ج2 ص 53

حسن ابن وشا، ایک مشہور اسلامی متکلم اور فلسفی کہتے ہیں کہ:

میں نے اس مسجد کوفہ میں نو سو سے زیادہ ایسے اساتذہ دیکھے ہیں جو کہا کرتے تھے ، حدثنی جعفر بن محمد (ع) " ہم سے جعفر بن محمد (ع) نے حدیث بیان کی ہے "۔

الملل و النحل عبد الکریم شہر ستانی ج1 ص 132 بحوالہ تاریخ کوفہ

قاموس الاعلام، کے مؤلف " مسترش " دائرہ المعارف نامی کتاب میں لکھتے ہیں کہ:

جعفر بن محمد (ع) شیعوں کے بارہ اماموں میں سے ایک ہیں آپ امام باقر (ع) کے سب سے بڑے فرزند تھے علم و فضل میں یگانہ زمان تھے۔ آپ کے درس میں امام ابوحنیفہ نے زانوئے ادب تہہ کیا اور آپ کے ظاہری اور باطنی علوم سے فیض حاصل کیا امام جعفر صادق (ع) علم الجبر او کیمیا اور ان کے علاوہ دوسرے علوم میں بھی مہارت رکھتے تھے جن لوگوں نے آپ کی صحبت سے کسب فیض کیا ہے ان میں " الجبرا " کے مشہور ماہر جابر بن حیان بھی تھے۔

دائرة المعارف ج3 ص 1821

بطر من بستانی، کا بیان ہے کہ:

امام جعفرصادق (ع) سادات اور بزرگان اہل بیت (ع) میں سے تھے ۔ راستگوئی کی وجہ سے آپ کا لقب صادق قرار پایا ان کا فضل و شرف بہت عظیم ہے ۔ علم کیمیا اور جبر میں آپ کے خاص نظریات ہیں ۔ آپ کے مشہور شاگرد جابر بن حیان نے ایک کتاب لکھی ہے جو ایک ہزار صفحات پر مشتمل تھی ۔

دائرة المعارف، فرید وجدی ج6 ص 468

منصور دوانقی: جو امام کے سخت ترین دشمنوں میں سے تھا لیکن اسے بھی اعتراف ہے کہ امام صادق (ع) خیر و برکات اور نیکیوں کے ویسے ہی پیشرو تھے جس طرح قرآن نے فرمایا ہے ۔

تاریخ یعقوبی، ج3 ص 117، بیروت،

شیخ مفید، لکھتے ہیں کہ:

امام جعفر صادق (ع) رسول اکرم (ص) کے پروقار اور باعظمت فرزندوں میں سے تھے آپ کے مانند کسی دوسرے سے اس قدر علوم و آثار و احادیث نقل نہیں ہوئے ۔ آپ سے جن لوگوں نے حدیث نقل کی ہے ان کی تعداد چارہزار افراد بتائی جاتی ہے ۔

الارشاد فی معرفة حجج اللہ علی العباد، محمدبن محمد بن بعمان ( شیخ مفید ) ج2 ص179 موسسہ آل اہلبیت (ع) قم سنہ 14 13 ھ،

الامام و المذاہب الاربعة ج1 ص 69

محمد شہر ستانی الملل والنحل کے مصنف کہ جن کا شمار فلاسفہ اور متکلمین میں سے ہوتا ہے ۔ پانچویں صدی ہجری میں تھے، اس نے امام صادق (ع) کے بارے میں لکھا ہے کہ:

ھوذ وعلم عزیر وادب کامل فی الحکمة وزھد فی الدنیا وورع تام عن الشھوات ویفیض علیٰ الموالی لہ اسرار العلوم ثم دخل العراق ولانازع فی الخلافة احدا ومن غرق فی بحرالمعرفة لم یقع فی شط ومن تعلی الیٰ ذروة الحقیقة لم یخف من حط ۔

ترجمہ : آپ کے پاس جوش مارنے والا علم تھا اورحکمت میں کامل ادب تھا دنیا میں زہد اور شہوات سے مکمل دوری تھی آپ نے دوستوں پر مختلف علوم کے اسرار و رموز کا فیض پہنچایا ۔ پھر آپ عراق میں داخل ہوئے اور کسی سے خلافت کے بارے میں جھگڑا نہیں کیا ۔ اور معرفت و علوم کے سمندر میں آپ ایسے غوطہ ور ہو گئے کہ ان مسائل کی طرف توجہ ہی نہ دی اور جو بھی علم و معرفت کے سمندر میں غرق ہو جائے وہ کنارے میں نہیں آتا ۔ اور جو حقیقت کی چوٹی پر چڑھ جائے وہ نیچے گرنے سے نہیں ڈرتا ۔

شہرستانی ،الملل والنحل

اگرچہ شہر ستانی نے اس قول میں جو کچھ بیان کیا ہے وہ سب ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے کہ خلافت کے بارے کسی سے جھگڑا نہیں کیا اور دوری اختیار کی ہے ۔اگرچہ ہم اس نقطہ نظر کو تسلیم نہیں کرتے مگر چونکہ یہ ہمارے موضوع سے خارج ہے لہذا اس کو بحث نہیں کریں گے ۔

ابن حجر عسقلاتی کہتے ہیں کہ:

جعفر الصادق نقل الناس عنہ ماسارت بہ الرکبان وانتشر صیتہ فی جمیع البلدان

یعنی لوگوں نے امام جعفر صادق سے اتنی زیادہ احادیث نقل کی ہیں کہ انسان کی فکر وہاں تک نہیں پہنچ سکتی اور یہ علوم پوری دنیا میں زبان زد عام ہو گئے ہیں ۔

ابن حجر عسقلانی ،الصواعق المحرقہ ،ص 201

حضرت امام صادق (ع) کے بارے میں دانشمندوں کے تمام اقوال کے نقل کرنے کے لیے ایک مستقل کتاب کی ضرورت ہے ۔ لہذا ہم اسی مقدار پر اکتفاء کرتے ہیں ۔ پوری بحث کا نچوڑ یہ ہے کہ امام جعفر صادق (ع) جیسی علمی شخصیت نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہے اور نہ کسی کان نے سنی ہے اور نہ کسی بشر کے دل میں یہ خطور ہوئی ہے کہ علم و عمل اور فقہ و فقاہت میں ان سے بڑا بھی ہو گا ۔

امام جعفر صادق علیہ السلام اکثر مجالس عزاداری امام حسین علیہ السلام کا اہتمام کرتے تھے اور اپنے جد بزرگوار سید الشہداء علیہ السلام کی مظلومیت پر گریہ و نالہ کرتے تھے۔ ابو ہارون مکفوف نقل کرتا ہے کہ:

امام جعفر صادق علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا: اے ابا ہارون، امام حسین علیہ السلام کیلئے مرثیہ پڑھو، میں نے مرثیہ پڑھا اور امام صادق علیہ السلام نے گریہ کیا، اسکے بعد فرمایا: اس طرح سے مرثیہ پڑھو جس طرح تم اکیلے میں اپنے لیے پڑھتے ہو، میں نے اپنے خاص انداز میں مرثیہ پڑھنا شروع کیا، میرا مرثیہ یہ تھا:

اگر اپنے جد حسین علیہ السلام کے روضے پر جائیں تو انکے پاکیزہ بدن کو کہیں ۔۔۔۔۔ امام صادق علیہ السلام نے دوبارہ اونچی آواز میں گریہ کرنا شروع کیا اور اسکے ساتھ ہی پردے کے پیچھے خواتین کے گریہ و زاری کی آوازیں بھی سنائی دینے لگیں۔

امام صادق علیہ السلام نے منصور کے دور حکومت میں بڑی دشواری اور نگرانی میں زندگی گزاری  لیکن مناسب حالات میں حکام وقت پر اعتراض اور ان کو ٹوکنے سے بھی گریز نہیں کیا ۔ جب منصور نے خط کے ذریعے چاہا کہ آپ اس کو نصیحت کریں تو آپ نے اس کے جواب میں لکھا :

جو دنیا کو چاہتا ہے وہ تم کو نصیحت نہیں کر سکتا اور جو آخرت کو چاہتا ہے وہ تمہارا ہم نشین نہیں ہو سکتا ۔ ایک دن منصور کے چہرے پر ایک مکھی بیٹھ گئی ۔ ایسا بار بار ہوتا رہا یہاں تک کہ منصور تنگ آ گیا  اور اس نے  غصے میں امام جو تشریف فرما تھے پوچھا کہ خدا نے مکھی کیوں پیدا کیا ہے ؟ امام علیہ السلام نے فرمایا  تا کہ جو جابر ہیں انہیں ذلیل و رسوا کرے  ۔ آسمان ولایت و امامت  کے اس درخشاں ستارے کا  وجود ظالم حکمران منصور کے لیے برداشت نہیں ہوا اور اس ملعون نے آپ کو زہر دینے کا ارداہ کیا اور آخر کار آپ کو زہر سے شہید کیا گیا ۔ یوں 25 شوال 148 ھ کو 65 سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔ آپ کو آپ کے پدر گرامی کے پہلو میں بقیع میں سپرد خاک کر دیا ۔

وَ سَلَامٌ عَلَيْہِ يَوْمَ وُلِدَ وَ يَوْمَ يَمُوتُ وَ يَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا،

السلام علیکُم یا اَھل بیتِ النُبوَۃِ و مو ضَع الرّساَلَۃ ۔۔۔۔۔۔ کلامَکُم نُورُ وَاَمَرکُم رُشد، وَ صیّتکُم الّتقویٰ وَفعلُکُم خَیرَ عَادَتُکُم الا حَسانِ ۔۔۔۔۔۔ ان ذکِر الخَیر کُنتُم اَوّلَہ وَاَصلَہ وَفَرَعَہُ وَ مَعدَنہ وماوَایہُ و منتَھاۃُ ،

ترجمہ: سلام ہو آپ پر اے نبوت کے گھر والو اور پیغام ربانی کے مرکز۔ آپ کی گفتگو سر تاپائے نور، آپ کا فرمان ہدایت کا سرچشمہ ، آپ کی نصیحت تقویٰ کے بارے میں آپ کا عمل خیر ہی خیر، آپ کی عادت احسان کرنے کی ہے جب کبھی نیکیوں کا تذکرہ ہو تو آپ حضرت سے ہی ان کی ابتداء ہوتی ہے اور انتہا بھی ۔ اس کی اصل بھی آپ ہیں اور مخزن اور مرکز اور انتہا بھی آپ ہیں۔ ( ترجمہ رضی جعفر)

( مفاتیح الجنان)

زیارت جامعہ محمد و آلِ محمد (ص) کا قصیدہ ہے، حضرت امام علی النقی علیہ السلام کا ہم پر احسان ہے کہ انہوں اپنے انتہائی فصیح و بلیغ کلام میں زیارت جامعہ کی تدوین کی جو حقائق اور معرفت کا بے پایاں سمندر ہے۔ حضرت امام جعفر (ع) صادق کی شخصیت زیارت جامعہ میں بیان کردہ ان خصائص کی مجسم تصویر ہے۔

امام صادق (ع) کی چند احادیث:

1- قالَ الامامُ جَعْفَرُ بنُ محمّد الصّادقُ عليه السلام: حَديثي حَديثُ ابى وَ حَديثُ ابى حَديثُ جَدى وَ حَديثُ جَدّى حَديثُ الْحُسَيْنِ وَ حَديثُ الْحُسَيْنِ حَديثُ الْحَسَنِ وَ حَديثُ الْحَسَنِ حَديثُ اميرِ الْمُۆْمِنينَ وَ حَديثُ اميرَ الْمُۆْمِنينَ حَديثُ رَسُولِ اللّهِ صلّى اللّه عليه و اله و سلّم وَ حَديثُ رَسُولِ اللّهِ قَوْلُ اللّهِ عَزَّ وَ جَلّ.َ

ترجمہ: ميری حديث ميرے والد کی حديث ہے اور ميرے والد کی حديث ميرے دادا کی حديث ہے اور ميرے دادا کی حديث امام حسين عليہ السلام کی حديث ہے اور امام حسين عليہ السلام کی حديث امام حسن عليہ السلام کی حديث ہے اور امام حسن عليہ السلام کی حديث امير المؤمنين عليہ السلام کی حديث ہے اور امير المؤمنين عليہ السلام کی حديث رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کی حديث ہے اور رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کی حديث قول اللہ عز و جلّ ہے۔

جامع الاحاديث الشيعه : ج 1 ص 127 ح 102،

بحارالا نوار: ج 2، ص 178، ح 28.

2- قالَ عليه السلام: مَنْ حَفِظَ مِنْ شيعَتِنا ارْبَعينَ حَديثا بَعَثَهُ اللّهُ يَوْمَ الْقيامَةِ عالِما فَقيها وَلَمْ يُعَذِّبْهُ.

ترجمہ: ہمارے شيعيان ميں سے جو کوئی چاليس حديثيں حفظ کرے خداوند متعال قيامت کے روز اس کو عالم اور فقيہ مبعوث فرمائے گا اور اس کو عذاب ميں مبتلا نہيں کرے گا۔

امالى الصدوق : ص 253.

3- قالَ عليه السلام: قَضاءُ حاجَةِ الْمُۆْمِنِ افْضَلُ مِنْ الْفِ حَجَّةٍ مُتَقَبَّلةٍ بِمَناسِكِها وَ عِتْقِ الْفِ رَقَبَةٍ لِوَجْهِ اللّهِ وَ حِمْلانِ الْفِ فَرَسٍ فى سَبيلِ اللّهِ بِسَرْجِها وَ لَحْمِها.

ترجمہ: مؤمن کے حوائج اور ضروريات برلانا ايک ہزار مقبول حجوں، اور ہزار غلاموں کی ازادی اور ايک ہزار گھوڑے راہ خدا ميں روانہ کرنے سے برتر و بالاتر ہے۔

أمالي الصدوق : ص 197.

4- قالَ عليه السلام: اوَّلُ مايُحاسَبُ بِهِ الْعَبْدُالصَّلاةُ، فَانْ قُبِلَتْ قُبِلَ سائِرُ عَمَلِهِ وَ اذارُدَّتْ، رُدَّ عَلَيْهِ سائِرُ عَمَلِهِ.

ترجمہ: خدا کی بارگاہ ميں سب سے پہلے نماز کا احتساب ہو گا پس اگر انسان کی نماز قبول ہو اس کے ديگر اعمال بھی قبول ہونگے اور اگر نماز رد ہو جائے گی تو ديگر اعمال بھی رد ہو جائیں گے۔

وسائل الشيعه : ج 4 ص 34 ح 4442.

5- قالَ عليه السلام: اذا فَشَتْ ارْبَعَةٌ ظَهَرَتْ ارْبَعَةٌ: اذا فَشاالزِّناكَثُرَتِ الزَّلازِلُ وَ اذاامْسِكَتِ الزَّكاةُ هَلَكَتِ الْماشِيَةُ وَ اذاجارَ الْحُكّامُ فِى الْقَضاءِ امْسِكَ الْمَطَرُ مِنَ السَّماءِ وَ اذا ظَفَرَتِ الذِّمَةُ نُصِرُ الْمُشْرِكُونَ عَلَى الْمُسْلِمينَ.

ترجمہ: جس معاشرے ميں چار چيزيں عام اور اعلانيہ ہو جائيں چار مصيبتيں اور بلائيں اس معاشرے کو گھير ليتی ہيں:

زنا عام ہو جائے، زلزلہ اور ناگہانی موت فراوان ہو گی۔

زکوة اور خمس دينے سے امتناع کيا جائے، پالتو حيوانات تلف ہونگے۔

حکام اور قضات ستم اور بے انصافی کی راہ اپنائيں، خدا کی رحمت کی بارشيں برسنا بند ہونگی۔

اور ذمی کفار کو تقويت ملے تو مشرکين مسلمانوں پر غلبہ پائيں گے۔

وسائل الشيعة : ج 8 ص 13.

6- قالَ عليه السلام: مَنْ عابَ اخاهُ بِعَيْبٍ فَهُوَ مِنْ اهْلِ النّارِ.

ترجمہ: جو شخص اپنے برادر مؤمن پر تہمت و بہتان لگائے وہ اہل دوزخ ہو گا۔

اختصاص : ص 240،

بحارالا نوار: ج 75، ص 260، ح 58.

7- قالَ عليه السلام: الصَّمْتُ كَنْزٌ وافِرٌ وَ زَيْنُ الْحِلْمِ وَ سَتْرُالْجاهِلِ.

ترجمہ: خاموشی ايک قیمتی خزانے کی مانند حلم اور بردباری کی زينت اور نادان شخص کے جہل و نادانی چھپانے کا وسيلہ ہے۔

مستدرك الوسائل : ج 9 ص 16 ح 4.

8- قالَ عليه السلام: إصْحَبْ مَنْ تَتَزَيَّنُ بِهِ وَ لاتَصْحَبْ مَنْ يَتَزَّيَنُ لَكَ.

ترجمہ: ايسے شخص کے ساتھ دوستی اور مصاحبت کرو جو تمہاری عزت اور سربلندی کا باعث ہو اور ايسے شخص سے دوستی اور مصاحبت نہ کرو جو اپنے آپ کو تمہارے لیے نيک ظاہر کرتا ہے اور تم سے استفادہ کرنا چاہتا ہے۔

وسائل الشيعه : ج 11 ص 412.

9-  قالَ عليه السلام: كَمالُ الْمُۆْمِنِ فى ثَلاثِ خِصالٍ: الْفِقْهُ فى دينِهِ وَ الصَّبْرُ عَلَى النّائِبَةِ وَالتَّقْديرُ فِى الْمَعيشَةِ.

ترجمہ: مؤمن کا کمال تين خصلتوں ميں ہے: دين کے مسائل و احکام سے اگاہی، سختيوں اور مشکلات ميں صبر و بردباری، اور زندگی کے معاملات ميں منصوبہ بندی اور حساب و کتاب کی پابندی۔

أمالي طوسى : ج 2 ص 279.

10- قالَ عليه السلام: عَلَيْكُمْ بِاتْيانِ الْمَساجِدِ، فَانَّها بُيُوتُ اللّهِ فِى الارْضِ، و مَنْ اتاها مُتَطِّهِراً طَهَّرَهُ اللّهُ مِنْ ذُنُوبِهِ وَ كَتَبَه مِنْ زُوّارِهِ.

ترجمہ: تمہيں مساجد ميں جانے کی نصیحت کرتا ہوں کيوںکہ مساجد روئے زمين پر خدا کے گھر ہيں اور جو شخص پاک و طاہر ہو کر مسجد ميں وارد ہو گا خداوند متعال اس کو گناہوں سے پاک کر دے گا اور اس کو اپنے زائرين کے زمرے ميں قرار دے گا۔

وسائل الشيعة : ج 1 ص 380 ح 2.

11-  قالَ عليه السلام: مَن قالَ بَعْدَ صَلوةِ الصُّبْحِ قَبْلَ انْ يَتَكَلَّمَ: (بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمنِ الرَّحيمِ وَ لاحَوْلَ وَ لا قُوَّةَ الا بِاللّهِ الْعَلىّ الْعَظيمِ يُعيدُها سَبْعَ مَرّاتٍ، دَفَعَ اللّهُ عَنْهُ سَبْعينَ نَوْعاً مِنْ انْواعِ الْبَلاءِ، اهْوَنُهَا الْجُذامُ وَ الْبَرَصُ.

ترجمہ: جو شخص نماز فجر کے بعد کوئی بھی بات کیے بغير 7 مرتبہ «بسم اللّه الرّحمن الرّحيم، لاحول و لاقوّة الاباللّه العليّ العظيم » کی تلاوت کرے گا خداوند متعال ستر قسم کی آفتيں اور بلائيں اس سے دور فرمائے گا جن ميں سب سے ساده اور کمترين آفت برص اور جذام ہے۔

امالى طوسى : ج 2 ص 343.

12-  قالَ عليه السلام: مَنْ تَوَضَّأ وَ تَمَنْدَلَ كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةٌ وَ مَنْ تَوَضَّأ وَ لَمْ يَتَمَنْدَلْ حَتّى يَجُفَّ وُضُوئُهُ، كُتِبَ لَهُ ثَلاثُونَ حَسَنَةً.

ترجمہ: جو شخص وضو کرے اور اسے تولیے کے ذريعے خشک کر دے اس کے لیے صرف ايک نیکی ہے اور اگر خشک نہ کرے تو اس کے لیے 30 حسنات ہوں گی۔

وسائل الشيعة : ج 1 ص 474 ح 5.

13- قالَ عليه السلام: لَاِفْطارُكَ فى مَنْزِلِ اخيكَ افْضَلُ مِنْ صِيامِكَ سَبْعينَ ضِعْفا.

ترجمہ: اگر روزہ اپنے مؤمن بھائی کے گھر ميں افطار کرو گے تو اسے اس افطاری دینے کا ثواب روزے کے ثواب سے ستر گنا زياده ملے گا۔

من لايَحضره الفقيه : ج 2 ص 51 ح 13.

14- قالَ عليه السلام: اذا افْطَرَ الرَّجُلُ عَلَى الْماءِ الْفاتِرِ نَقى كَبِدُهُ وَ غَسَلَ الذُّنُوبَ مِنَ الْقَلْبِ وَ قَوىَّ الْبَصَرَ وَالْحَدَقَ.

ترجمہ: اگر انسان ابلے ہوئے پانی سے افطار کرے اس کا جگر پاک و سالم رہے گا اور اس کا قلب کدورتوں سے پاک ہو گا اور اس کی آنکھوں کا نور بڑھے گا اور آنکھيں روشن ہونگی۔

وسائل الشيعه : ج 10 ص 157 ح 3.

15- قالَ عليه السلام: مَنْ قَرَءَ الْقُرْانَ فِى الْمُصْحَفِ مُتِّعَ بِبَصَرِهِ وَ خُنِّفَ عَلى والِدَيْهِ وَ انْ كانا كافِرَيْنِ.

ترجمہ: جو شخص قرآن مجيد کو سامنے رکھ کر اس کی تلاوت کرے گا تو اس کی انکھوں کی روشنی ميں اضافہ ہو گا نيز اس کے والدين کے گناہوں کا بوجھ ہلکا ہو گا خواه وه کافر ہی کيوں نہ ہوں۔

وسائل الشيعه : ج 6 ص 204 ح 1.

16- قالَ عليه السلام: مَنْ قَرَءَ قُلْ هُوَاللّهُ احَدٌ مَرَّةً واحِدَةً فَكَانَّما قَرَءَ ثُلْثَ الْقُرانِ وَ ثُلْثَ التُّوراةِ وَ ثُلْثَ الانْجيلِ وَ ثُلْثَ الزَّبُورِ.

ترجمہ: جو شخص ايک مرتبہ سورہ توحيد (قل هو الله احد ... کی تلاوت کرے وه اس شخص کی مانند ہے جس نے ايک تہائی قرآن اور تورات اور انجيل کی تلاوت کی ہو۔

وسائل الشيعه : ج 25 ص 147 ح 2.

17- قالَ عليه السلام: انَّ لِكُلِّ ثَمَرَةٍ سَمّا، فَاذا أَتَيْتُمْ بِها فامسُّوهَ الْماء وَاغْمِسُوهافِى الْماءِ.

ترجمہ: ہر قسم کا پهل اپنے خاص قسم کے زہر اور جراثيموں سے آلوده ہے ہر وقت پهل کهانا چاہو تو پہلے پانی ميں بهگو کر دھو لو۔

وسائل الشيعه : ج 25 ص 208 ح 4

18- قالَ عليه السلام: عَلَيْكُمْ بِالشَّلْجَمِ، فَكُلُوهُ وَاديمُوااكْلَهُ وَاكْتُمُوهُ الاعَنْ اهْلِهِ، فَمامِنْ احَدٍ الاوَ بِهِ عِرْقٌ مِنَ الْجُذامِ، فَاذيبُوهُ بِاكْلِهِ.

ترجمہ:  شلجم کو اہميّت دو اور مسلسل کهاتے رہو اور اہل انسانوں کے سوا دوسروں سے چهپائے رکھو اور ہر شخص ميں جذام کی رگ موجود ہے پس شلجم کها کر اس کا خاتمہ کر دو۔

جامع احاديث الشيعة : ج 5 ص 358 ح 12.

19- قالَ عليه السلام: يُسْتَجابُ الدُّعاءُ فى ارْبَعَةِ مَواطِنَ: فِى الْوِتْرِ وَ بَعْدَ الْفَجْرِ وَ بَعْدَالظُّهْرِ وَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ.

ترجمہ: چار اوقات ميں دعا مستجاب ہوتی ہے: نماز وتر کے وقت (تہجد ميں، نماز فجر کے بعد، نماز ظہر کے بعد، نماز مغرب کے بعد ۔

جامع احاديث الشيعة : ج 6 ص 178 ح 78.

20- قالَ عليه السلام: مَنْ دَعالِعَشْرَةٍ مِنْ اخْوانِهِ الْمَوْتى لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ اوْجَبَ اللّهُ لَهُ الْجَنَّةَ.

ترجمہ: جو شخص شب جمعہ دنيا سے رخصت ہونے والے 10 مؤمن بهائيوں کے لیے مغفرت کی دعا کرے خداوند متعال اس کو اہل بہشت ميں سے قرار دے گا۔

وسائل الشيعة : ج 2 ص 124 ح 1.

21- قالَ عليه السلام: مِشْطُ الرَّاسِ يَذْهَبُ بِالْوَباءِ وَ مِشْطُ اللِّحْيَةِ يُشَدِّدُ الاضْراسَ.

ترجمہ: سر کے بالوں کو کنگهی کرنا وبا کی نابودی کا سبب ہے، بالوں کو گرنے سے بچاتا ہے اور داڑھی کو کنگھی کرنے سے دانتوں کی جڑيں مضبوط ہو جاتی ہيں۔

أمالي طوسى : ج 2، ص 278، س 9،

وسائل الشيعة : ج 16، ص 360، ح 10.

22- قالَ عليه السلام ايُّما مُۆْمِنٍ سَئَلَ اخاهُ الْمُۆْمِنَ حاجَةً وَ هُوَ يَقْدِرُ عَلى قَضائِها فَرَدَّهُ عَنْها، سَلَّطَ اللّهُ عَلَيْهِ شُجاعا فى قَبْرِهِ، يَنْهَشُ مِنْ اصابِعِهِ.

ترجمہ: اگر کوئی مؤمن اپنے مؤمن بهائی سے حاجت طلب کرے اور وه حاجت روائی کی قدرت رکھنے کے باوجود منع کرے، خداوند متعال قبر ميں اس پر ايک افعی یعنی بڑا سانپ مسلط فرمائے گا جو اس کو ہر وقت ڈستا رہے گا۔

بحارالا نوار: ج 79 ص 116 ح 7 و ح 8، و ص 123 ح 16.

ایک اہم سوال

صحیح بخاری جو کہ اہل سنت کے ہاں سب سے معتبر ترین کتاب ہے اسماعیل بخاری نے اس کتاب میں غیر موثق اور ضعیف روایات کو بھی بیان کیا ہے بلکہ عمران بن حطان سدوسی جو کہ خارجی تھا، اس سے بھی روایت نقل کی ہے اور اسی طرح دوسرے خوارج اور نواصب سے روایات نقل کی ہیں ۔ لیکن امام جعفر صادق (ع) جن کے علمی مقام کو اہل سنت کے تمام آئمہ نے اور دیگر علماء نے قبول کیا ہے، جس طرح آپ نے ان اقوال کو ملاحظہ کیا ہے، لیکن بخاری نے ان سے ایک روایت کو بھی اپنی کتاب صحیح بخاری نے نقل نہیں کیا ؟!!!

صحیح بخاری کی کل 5374 احادیث میں صرف ابو ہریرہ سے 446 احادیث نقل کی ہیں جبکہ امام الائمہ جعفر صادق (ع) ایک حدیث بھی نقل نہیں کی ؟

جبکہ امام بخاری کا دور امام جعفر صادق (ع) کے قریب تھا اور امام علیہ السلام کے بعد ایک صدی تک بخاری کی وفات ہوئی ہے ۔

اگرچہ بخاری کا امام جعفر صادق (ع) سے حدیث نقل نہ کرنے سے امام کے علمی مقام و منزلت میں ذرہ بھر بھی کمی نہیں آئے گی کیونکہ آپ وہ ہیں کہ پوری امت مسلمہ نے جن کی صداقت کی گواہی دی ہے اور اسی وجہ سے آپ کو صادق کا لقب دیا گیا ہے ۔ ابن خلکان میں لکھا ہے کہ:

جعفر بن محمد احد الآئمہ اثنی عشر کان من سادا ت اہل البیت ولقب باالصادق لصدق مقالتہ وفضلہ اشھر من ان یذکر جعفر ابن محمد،

بارہ اماموں میں سے ایک اور سادات اہل بیت میںسے تھے اور آپ کی صداقت کی وجہ سے آپ کوصادق کا لقب دیا گیا ہے اور آپ کے فضائل کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔

ابن خلکان ،وفیات الا عیان ،ج1،ص 307

امام صادق (ع) کے بارے میں عالم معاصر میر علی ہندی کے خوبصورت جملات ہیں کہ:

لا مشاحة ان انتشار العلم فی ذلک الحین قد ساعد علیٰ فک الفکر من لمقالہ فا صحبت المنا قشات الفلسےة عامة فی کل حاضرة من حواضر العالم الا سلامی ولا یغو تنا ان عانشیرَ الیٰ ان الذی تزعم تلک الحرکة ہو حفید علی ابن ابی طالب المسمی با الا مام الصادق ھو رجل رھب افق تفکیر بعید أغوالا لعقل علم کل ألمام بعلوم عصرہ ویعتبر فی الواقع ھو اول من أ سَّ المدارس الفلسفےة المشھورة فی الاسلام ولم یکن یحضر حلقتہ العلمےة اولئک الذین أ صبحوا موسّی المذاھب الفقھیہ فحسب بل کان یحضر ھا طلاب الفلسفة والمتفلسفون من أ نحا ء الواسعہ۔

ترجمہ : اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس زمانے ( زمانہ امام صادق ) میں مختلف علوم کے پھیلنے سے افکار کی آزادی ہوئی اور فکری پابندی ختم ہوئی جس کے نیتجے میں تمام فلسفی ابحاث اسلامی معاشرے میں عام ہو گئیں اور ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ جس ہستی نے اس فکری تحریک کی رہبری کی وہ علی ابن ابی طالب کے پوتے امام جعفر صادق ہیں اور وہ ایسے فرد تھے کہ جن کی سوچ کا افق بہت وسیع تھا ان کی عقل بہت عمیق اور گہری تھی وہ اپنے دور کے علوم پر غیر معمولی توجہ رکھتے تھے ۔ حقیقت میں سب سے پہلے جس ہستی نے اسلامی دنیا میں عقلی و فکری مدارس کی بنیاد رکھی، وہ آپ تھے آپ کے شاگردوں کا حلقہ فقط فقہی مذاہب کی تاسیس تک محدود نہیں تھا بلکہ دنیا کے کونے کونے سے علوم عقلی کے طلاب بھی آپ کے شاگرد تھے ۔

شہید مطہری،سیری در سیرہ ائمہ اطہار ،ص 65

اسلام محو ہونے لگا جب دروغ سے

جب گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

کب یہ گوارہ کرتا محمد کا ورثہ دار

اٹھا کہ تھا وہ دیں کی حفاظت کا ذمہ دار

کرنے لگا جہاد قلم سے زبان سے

بد اصل فلسفے کے پرخچے اڑا دیئے

جس طرح کربلا میں بچا دین مصطفی

آل نبی کی سعی سے اسلام پھر بچا

جب وار علم جعفر صادق کا چل گیا

مردود ناصبی کا جنازہ نکل گیا

يا أَبا عَبْدِ اللّهِ يا جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ أَيُّهَا الصّادِقُ يَا بْنَ رَسُولِ اللّهِ يا حُجَّةَ اللّهِ عَلى خَلْقِهِ يا سَيِّدَنا وَمَوْلينا اِنّا تَوَجَّهْنا وَاسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا بِكَ اِلَى اللّهِ وَقَدَّمْناكَ بَيْنَ يَدَىْ حاجاتِنا يا وَجيهاً عِنْدَ اللّهِ اِشْفَعْ لَنا عِنْدَ اللّهِ،

التماس دعا.....





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی