2017 December 13
شیعوں نے امیر المؤمنین علی (ع) پر وہابیوں کی طرف سے شراب پینے کی تہمت کا کیا جواب دیا ہے ؟
مندرجات: ٨٣٦ تاریخ اشاعت: ٠٤ July ٢٠١٧ - ١٢:٠٥ مشاہدات: 758
سوال و جواب » امام علی (ع)
جدید
شیعوں نے امیر المؤمنین علی (ع) پر وہابیوں کی طرف سے شراب پینے کی تہمت کا کیا جواب دیا ہے ؟

توضیح سوال:

قرآن میں شراب والی آیات امیر المؤمنین علی (ع) کے بارے میں نازل ہوئی ہیں یا عمر ابن خطاب کے بارے میں نازل ہوئی ہیں ؟

بعض اہل سنت اور وہابی امیر المؤمنین علی پر شراب پینے کی تہمت لگاتے ہی‍ں، اس بارے میں شیعوں کا کیا جواب ہے ؟

بدقسمتی سے تھوڑے عرصے سے امیر المؤمنین علی (ع) کے بارے میں نام نہاد کلمہ پڑھنے والوں نے اور اپنے آپکو مسلمان حقیقی سمجھنے والوں نے مسموم تبلیغات کا آغاز کیا ہوا ہے کہ ان سراسر باطل اور غلط تہمتوں کو سن کر یا پڑھ ہر سچے اور حقیقی مسلمان کا دل دھکتا اور روح کانپ جاتی ہے۔ اہل بیت (ع) کے بعض دشمنوں نے بنی امیہ کی منحوس نسل کی پیروی کرتے ہوئے امیر المؤمنین علی (ع) پر شراب خواری کی ایسی تہمت لگائی ہے کہ جسکو نہ عقل قبول کرتا ہے، نہ شریعت اور نہ تاریخ اسلام قبول کرتی ہے۔ یہ وہ عالم نما انسان ہیں کہ جنکی عقل نہ تو اپنی ہے اور ہی انکی قلم اپنے اختیار میں ہے، یہ وہ جاہل اور متعصّب انسان ہیں کہ جنکو معلوم ہی نہیں ہے کہ لفظ اسلام ،  سین سے لکھا جاتا ہے یا صاد سے اور لفظ علم، عین سے لکھا جاتا ہے یا  الف سے !!!

کہتے ہیں کہ جس طرح کسی کی محبت اور دوستی انسان کو اندھا بنا دیتی ہے، اسی طرح کسی کا بغض اور دشمنی بھی انسان کو اندھا بنا دیتی ہے، یہ وہابی خشک مقدس بھی ایسے ہی ہیں کہ انکو اہل بیت (ع) اور خاص طور پر شیر خدا، امیر المؤمنین علی (ع) سے عدوات، کینے اور بغض نے اندھا بنا دیا ہے، لیکن جو اس دنیا میں باطنی اور دل کے اندھے ہوں تو، انکے بارے میں قرآن نے فرمایا ہے کہ:

 

وَمَن كَانَ فِي هَٰذِهِ أَعْمَىٰ فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَىٰ وَأَضَلُّ سَبِيلًا،

جو اس دنیا میں (باطنی طور) اندھا ہو تو ایسا شخص آخرت میں بھی اندھا محشور ہو گا.....

سورہ بنی اسرائیل آیت 72

جس طرح کہ آپ نے بھی پاکستان میں شائع ہونے والے روز نامہ اخبار جہان میں پڑھا ہو گا یا سنا ہو گا، کہ ایک وہابی عالم نما، جاہل اور خداوند و آخرت سے بے خبر انسان نے امیر المؤمنین علی (ع) پر شراب پینے کی تہمت لگائی ہے۔ (نعوذ باللہ) اے اس زمانے کے ابولہب اور ابوجہل : تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ ۔

ایک دوسرے عالم نے ٹی وی کے ایک پروگرام میں و لا تقربوا الصلاة وانتم سكاری، کی آیت کے بارے میں کہا ہے کہ: ایک دن علی نشے اور مستی کی حالت میں رسول خدا کے پاس مسجد میں گئے۔ رسول خدا علی کو اس حالت میں دیکھ کر بہت غضبناک ہوئے اور اسی وقت یہ آیت نازل ہوئی کہ مسلمانوں کو نشے اور مستی کی حالت میں نماز نہیں پڑھنی چاہیے۔

اے اس زمانے کے ابولہب اور ابوجہل : تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ ۔

جواب:

یہ رسول خدا (ص)  کے اہل بیت کے بارے میں کوئی نئی بات اور کوئی نئی تہمت نہیں ہے، بلکہ 1400 سال سے دشمنان اہل بیت اس طرح کی تعصبانہ اور بغیر دلیل کے باتیں کرتے آئے ہیں۔ سب سے پہلے اہل بیت کے سر سخت ترین دشمن معاویہ کہ جو خود بہت بڑا شرابی تھا، نے درہم و دینار کی چمک و دھمک دکھا کر آیات قرآن کی غلط تفسیر بیان کروا کر رسول خدا کے شجاع ترین، عالم ترین، عادل ترین اور با فضیلت ترین صحابی امیر المؤمنین علی (ع) پر طرح طرح کی تہمتیں لگوائیں کہ ان میں سے ایک یہی شراب پینے والی تہمت تھی۔

آج یہ جو وہابی امیر المؤمنین علی (ع) پر شراب پینے کی تہمتیں لگا رہے ہیں، یہ اصل میں اپنے ناصبی و منافق امام ابن تیمیہ کی پیروی کر رہے ہیں۔

معاویہ لعین کے بعد 8 ویں ہجری میں تاریخ اسلام کے متعصب ترین دشمن اہل بیت ابن تیمیہ نے اپنی کتاب منہاج السنۃ میں ‎ امیر المؤمنین علی پر واضح طور پر شراب پینے کی تہمت کا تکرار کیا۔ اس نے اپنی اسی کتاب میں لکھا ہے کہ:

وقد انزل الله تعالي في علي : يا ايها الذين ءامنوا لا تقربوا الصلاة وانتم سكاري حتي تعلموا ما تقولون" لما صلي فقرأ وخلط .

اور خداوند نے علی کے بارے میں نازل کیا ہے کہ: اے ایمان والو مستی و نشے کی حالت میں نماز کے نزدیک نہ جاؤ، تا کہ تم کو معلوم تو ہو کہ تم نماز میں کیا پڑھ اور کیا کہہ رہے ہو، کیونکہ جب اس نے نماز پڑھی تو اس نے نماز میں غلطیاں کیں تھیں!!!

منهاج السنة ، ج 4 ، ص65 .

ہم سب سے پہلے اس قول کا نقضی جواب دیتے ہیں اور ثابت کریں گے شراب کی حرمت کے بارے میں نازل ہونے والی آیات امیر المؤمنین علی (ع) کے بارے میں نازل نہیں ہوئیں بلکہ مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ عمر ابن خطاب کے بارے میں نازل ہوئی ہیں، ایک کہاوت ہے کہ علمائے اہل سنت نے جلدی سے ان آیات کے شان نزول کو علی (ع) کے بارے میں اس لیے بیان و ذکر کر دیا ہے تا کہ لوگ اصل بندے اور شراب خوار کی طرف متوجہ ہی نہ ہوں! انھوں نے چاہا ہے کہ علی (ع) پر اس تہمت کے ذریعے سے عمر ابن خطاب ، ابوبكر اور معاويہ کے دامن کو شراب خواری کے داغ سے پاک کر سکیں اور بنی امیہ کی پیروی کرتے ہوئے امیر المؤمنین علی (ع) کی آبرو کو داغدار کر سکیں۔

يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَ اللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَ لَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ،

خداوند اپنے نور کو مکمل کر کے ہی رہے گا۔۔۔۔۔۔۔

سوره صف آيت 8

               _ پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا _

پھر بعد والے مرحلے میں امیر المؤمنین علی (ع) کے شراب پینے والی روایت کے بارے میں علمائے اہل سنت کے اقوال کو ذکر کریں گے اور اس بارے میں موجود روایات پر بھی بحث کریں گے۔

شراب کی آیات کس کے بارے میں نازل ہوئی ہیں ؟

بے شک امیر المؤمنین علی (ع) پر اس باطل اور غلط تہمت کا سرچشمہ جس طرح کہ عالم اہل سنت حاکم نیشاپوری نے کہا ہے کہ خوارج ہیں اور ہماری نظر وہ سرچشمہ بنی امیہ کا نحس خاندان ہے کہ جہنوں نے ایک طرف سےامیر المؤمنین علی (ع) کے بلند مقام کو لوگوں اور تاریخ کی نگاہ میں نیچا کرنے اور اپنے باطنی بغض و کینے کو ظاہر کرنے کے لیے اور دوسری طرف سے اپنے خلیفہ عمر ابن خطاب کے دامن کو پاک کرنے کے لیے اس طرح کی تہمت امیر المؤمنین علی پر لگائی تھی۔

کیونکہ کتب شیعہ اور اہل سنت کی معتبر روایات کے مطابق، یہ عمر ابن خطاب تھا کہ جو ہمیشہ شراب پیتا تھا اور شراب کے حرام ہونے والی آیات بھی اسی کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔

چونکہ امیر المؤمنین علی (ع) پر یہ باطل اور غلط تہمت وہابیوں نے لگائی ہے، اس لیے ہم انہی کی کتب سے چند روایات کو اس بارے میں ذکر کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں اور شیعہ کتب سے روایات کو ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے:

ابوبکر اور عمر کا دوسرے 9 مسلمانوں کے ساتھ مل کر شراب پینا:

اہل سنت کے بہت سے علماء نے لکھا ہے کہ 11 مسلمانوں نے ابو طلحہ کے گھر اکٹھے ہو کر شراب پی اور پینے کے بعد نشے کی حالت میں مست ہو گئے تھے۔

ان میں سے ایک شخص کہ جس نے دوسروں کی نسبت بہت زیادہ شراب پی تھی اور بہت زیادہ نشے کی حالت میں مست ہوا تھا، اس نے جنگ بدر میں قتل ہونے والے کفار کے بارے میں اشعار کہے۔ جب یہ خبر رسول خدا (ص) تک پہنچی تو وہ بہت غصے سے آئے اور ان کے ہاتھ میں ایک چیز تھی کہ جو انھوں نے اس اشعار پڑھنے والے بندے (ابوبکر) کو دے ماری.......

شراب پینے والے دس بندوں میں سے 9 کے نام واضح ہیں کہ جن کے اسماء کو ابن حجر عسقلانی نے اپنی کتاب فتح الباری ، ج10 ، ص30 ، باب نزل تحريم الخمر، میں ایک ایک کر کے ذکر کیا ہے۔ وہ اسماء یہ ہیں:

1. ابو عبيده جراح ؛ 2 . ابو طلحہ ، زيد بن سہل (ميزبان محفل) ؛ 3. سہيل بن بيضاء ؛ 4. ابی بن كعب ؛ 5 . ابو دجانہ بن خرشہ ؛ 6 . ابو ايوب انصاری ؛ 7 . معاذ بن جبل ؛ 8 . انس بن مالک كہ جو اس شراب والی محفل میں شراب کے جام بھر بھر کر دوسروں کو دیتا تھا ؛ 9 . عمر بن الخطاب ؛ 10. ابو بكر .

ابن حجر نے ان اسماء کو ذکر کرنے کے بعد بہت ہی کوشش کی ہے کہ ثابت کرے کہ اس ابوبکر سے مراد، ابوبکر ابن شغوب ہے، نہ کہ خلیفہ اول ابوبکر ابن ابی قحافہ، لیکن مطالب کو بیان کرتے کرتے آخر میں قبول کر ہی لیتا ہے اور کہتا ہے کہ کیونکہ اس محفل میں عمر ابن خطاب موجود تھا، پس اس ابوبکر سے مراد، ابوبکر ابن ابی قحافہ مسلمانوں کا پہلا خلیفہ ہی تھا، !!!

ابن حجر نے اپنی کتاب فتح الباری میں کہا ہے کہ:

قَوْلُهُ كنت أَسْقِي أَبَا عُبَيْدَة هُوَ بن الْجَرَّاحِ وَأَبَا طَلْحَةَ هُوَ زَيْدُ بْنُ سَهْلٍ زَوْجُ أُمِّ سُلَيْمٍ أُمِّ أَنَسٍ وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ كَذَا اقْتَصَرَ فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ عَلَى هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةِ فَأَمَّا أَبُو طَلْحَةَ فَلِكَوْنِ الْقِصَّةِ كَانَتْ فِي مَنْزِلِهِ كَمَا مَضَى فِي التَّفْسِيرِ مِنْ طَرِيقِ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ كُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ فِي مَنْزِلِ أَبِي طَلْحَةَ وَأَمَّا أَبُو عُبَيْدَةَ فَلِأَنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخَى بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَبِي طَلْحَةَ كَمَا أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَنَسٍ وَأَمَّا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَكَانَ كَبِيرَ الْأَنْصَارِ ....  عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ كَانَا فِيهِمْ وَهُوَ مُنْكَرٌ مَعَ نَظَافَةِ سَنَدِهِ وَمَا أَظُنُّهُ إِلَّا غَلَطًا وَقَدْ أَخْرَجَ أَبُو نُعَيْمٍ فِي الْحِلْيَةِ فِي تَرْجَمَةِ شُعْبَةَ مِنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ قَالَتْ حَرَّمَ أَبُو بَكْرٍ الْخَمْرَ عَلَى نَفْسِهِ فَلَمْ يَشْرَبْهَا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ وَيَحْتَمِلُ إِنْ كَانَ مَحْفُوظًا أَنْ يَكُونَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ زَارَا أَبَا طَلْحَةَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ وَلَمْ يَشْرَبَا مَعَهُمْ،

ثُمَّ وَجَدْتُ عِنْدَ الْبَزَّارُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ وَ كَانَ فِي الْقَوْمِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو بَكْرٍ فَلَمَّا شَرِبَ قَالَ تُحَيِّي بِالسَّلَامَةِ أُمَّ بَكْرٍ الْأَبْيَاتَ فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ قَدْ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ الْحَدِيثُ وَأَبُو بكر هَذَا يُقَال لَهُ بن شَغُوبٍ فَظَنَّ بَعْضُهُمْ أَنَّهُ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ وَلَيْسَ كَذَلِكَ لَكِنْ قَرِينَةُ ذِكْرِ عُمَرَ تَدُلُّ عَلَى عَدَمِ الْغَلَطِ فِي وَصْفِ الصِّدِّيقِ فَحَصَّلْنَا تَسْمِيَةَ عَشَرَةٍ ....

پھر میں نے بزار کے واسطے سے ایک دوسری نقل پڑھی کہ انس نے کہا ہے کہ میں اس دن شراب کی محفل میں ساقی تھا اور اس دن شراب پینے والوں میں ایک شخص ابوبکر تھا کہ جب اس نے بہت زیادہ شراب پی تو یہ شعر پڑھا:

ابوبکر کی ماں پر سلامتی کے ساتھ درود پڑھنا چاہیے،

اس وقت ایک مسلمان بندہ اس محفل میں داخل ہوا اور کہا: کیا تم لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ خداوند کی طرف سے شراب کے حرام ہونے کا حکم نازل ہوا ہے ؟

 اس روایت میں ابوبکر سے مراد، ابوبکر ابن شغوب ہے، البتہ بعض نے خیال کیا ہے کہ یہ وہی ابوبکر صدیق ہے، لیکن ایسا نہیں ہے۔

لیکن کیونکہ ان شراب پینے والوں میں عمر ابن خطاب کا بھی نام ہے، پس اس سے معلوم ہوتا ہے اور اس میں کسی قسم کی غلطی کی گنجائش نہیں ہے کہ اس ابوبکر سے مراد، وہی ابوبکر صدیق ہے۔

گذشتہ تمام مطالب سے ان دس بندوں کے نام کو واضح سمجھا جا سکتا ہے۔

فتح الباري شرح صحيح البخاري ج10 ص37 المؤلف: أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل العسقلاني الشافعي، الناشر: دار المعرفة - بيروت، 1379، رقم كتبه وأبوابه وأحاديثه: محمد فؤاد عبد الباقي، قام بإخراجه وصححه وأشرف على طبعه: محب الدين الخطيب، عليه تعليقات العلامة: عبد العزيز بن عبد الله بن باز، عدد الأجزاء: 13 .

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد ج5 ص52 المؤلف: أبو الحسن نور الدين علي بن أبي بكر بن سليمان الهيثمي (المتوفى: 807هـ)، المحقق: حسام الدين القدسي، الناشر: مكتبة القدسي، القاهرة، عام النشر: 1414 هـ، 1994 م، عدد الأجزاء: 10

مندرجہ ذیل دس شراب پینے والے افراد کے نام گذشتہ مطالب کی روشنی میں واضح ہو جاتے ہیں:

1 - ابو بکر ابن ابی قحافہ 58 سال کی عمر میں

2 - عمر ابن الخطاب 45 سال کی عمر میں

3 - ابو عبيده جراح (مدينہ میں قبریں کھودنے والا) 48 سال کی عمر میں

4 ـ ابو طلحہ زيد بن سہل، ميزبان محفل 44 سال کی عمر میں

5 - سہل بن بيضاء

6 - ابی ابن کعب

7 - ابو دجانہ سماک بن خرشہ

8 - ابو ايوب انصاری

9 - ابو بکر ابن شغوب

10 - انس بن مالک، ساقی محفل 18 سال کی عمر میں، اس محفل میں سب سے کم عمر تھا۔

شراب والی آیات کا شان نزول عمر ابن خطاب کے بارے میں ہے:

زمخشری عالم اہل سنت ہے کہ جسکا ذہبی نے اپنی کتاب سير اعلام النبلاء ، ج20 ، ص191 میں بہت جلالت و عظمت کے ساتھ ذکر کیا ہے اور اسے لفظ علامہ کا لقب دیا ہے، اس علمی مقام والے زمخشری نے اپنی کتاب ربيع الأبرار ميں لکھا ہے کہ:

أنزل الله تعالي في الخمر ثلاث آيات، أولها يسألونك عن الخمر والميسر، فكان المسلمون بين شارب وتارك ، إلي أن شرب رجل ودخل في الصلاة فهجر ، فنزلت : يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سكاري ، فشربها من شرب من المسلمين ، حتي شربها عمر فأخذ لحي بعير فشج رأس عبد الرحمن بن عوف ، ثم قعد ينوح علي قتلي بدر بشعر الأسود بن عبد يغوث .

وكائن بالقليب قليب بدر ... فبلغ ذلك رسول الله صلي الله عليه وسلم ، فخرج مغضباً يجر رداءه ، فرفع شيئاً كان في يده ليضربه ، فقال : أعوذ بالله من غضب الله ورسوله . فأنزل الله تعالي : إنما يريد الشيطان ، إلي قوله : فهل أنتم منتهون . فقال عمر: انتهينا !!

خداوند متعال نے شراب کے بارے میں تین آیات کو نازل کیا ہے۔ پہلی آیت: آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں سوال کرتے ہیں، پس مسلمانوں میں سے بعض نے شراب پی اور بعض نے شراب نہیں پی، یہاں تک کہ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے شراب پی اور نماز کے لیے کھڑا ہوا اور نماز میں ہذیان کہنے لگا، پس آیت نازل ہوئی کہ: اے ایمان والو، مستی و نشے کی حالت میں نماز کے نزدیک نہ جاؤ، پھر بھی بعض مسلمانوں نے شراب پئی، یہاں تک کہ عمر ابن خطاب نے شراب پئی اور پھر عبد الرحمن ابن عوف کے سر کو اونٹ کے بدن کی ایک ہڈی مار کر پھاڑ دیا اور پھر بیٹھ کر جنگ بدر میں ہلاک ہونے کفار کی یاد میں اسود ابن عبد یغوث کے اشعار پڑھنا شروع کر دیا کہ: وہ جو اس کنوئیں میں تھے، بدر والے کنوئیں میں.....!!!

جب یہ خبر رسول خدا نے سنی تو غصے سے اس حالت میں کہ انکی چادر زمین پر رگڑتی جا رہی تھی، باہر آئے اور عمر کو مارنے کے لیے زمین سے ایک چیز اٹھا لی۔

عمر نے جب رسول خدا کو اس غصے کی حالت میں دیکھا تو کہا: خداوند اور اسکے رسول کے غضب سے میں خدا کی پناہ مانگتا ہوں۔ اسی وقت خداوند نے آیت نازل فرمائی کہ: بے شک شیطان چاہتا ہے کہ...... کیا تم اسکے منع کرنے سے رک جاؤ گے ؟ پھر عمر نے کہا کہ: ہاں ہم رک جائیں گے، ہم رک جائیں گے۔ یعنی شراب نہیں پیئیں گے۔!!!

ربيع الأبرار ، زمخشري ، ج1 ، ص398 ، طبق برنامه المكتبة الشاملة الكبري ، الإصدار الثاني،

تاريخ المدنية ، ابن شبه ، ج3 ، ص863 طبق برنامه المكتبة الشاملة الكبري ، الإْصدار الثاني .

اور ابی حامد غزالی اہل سنت کے بزرگ عالم نے اپنی كتاب مكاشفۃ القلوب میں لکھا ہے کہ:

فكان في المسلمين شارب و تارك ، الي ان شرب رجل فدخل في الصلاة فهجر ، فنزل قوله تعالي : «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَي... » الآيه (النساء / 43) فشربها من شربها من المسلمين ، و تركها من تركها، حتي شربها عمر رضي الله عنه فأخذ بلحي بعير و شج بها رأس عبدالرحمن بن عوف ثم قعد ينوح علي قتلي البدر .

فبلغ ذلك رسول الله صلي الله عليه و آله و سلم فخرج مغضبا يجر رداءه ، فرفع شيئا كان في يده فضربه به ، فقال : اعوذ بالله من غضبه، و غضب رسوله، فأنزل الله تعالي: ِ«انَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ» (المائده، 91) الآية، فقال عمر رضي الله عنه: انتهينا انتهينا .

بعض مسلمان شراب پیتے تھے اور بعض مسلمان شراب نہیں پیتے تھے، یہاں تک کہ ان میں سے ایک نے شراب پئی اور نشے کی حالت میں نماز میں نامناسب الفاظ کہنا شروع کر دیا، پس آیت نازل ہوئی کہ: لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ ...

لیکن پھر بھی بعض مسلمان شراب پیتے رہے اور بعض نہیں پیتے تھے، یہاں تک کہ عمر ابن خطاب نے شراب پئی اور پھر عبد الرحمن ابن عوف کے سر کو اونٹ کے بدن کی ایک ہڈی مار کر پھاڑ دیا اور پھر بیٹھ کر جنگ بدر میں ہلاک ہونے کفار کی یاد میں رونا شروع کر دیا!!!

جب یہ خبر رسول خدا نے سنی تو غصے سے اس حالت میں کہ انکی چادر زمین پر رگڑتی جا رہی تھی، باہر آئے اور عمر کو مارنے کے لیے زمین سے ایک چیز اٹھا لی۔

عمر نے جب رسول خدا کو اس غصے کی حالت میں دیکھا تو کہا: خداوند اور اسکے رسول کے غضب سے میں خدا کی پناہ مانگتا ہوں۔ اسی وقت خداوند نے آیت نازل فرمائی کہ: بے شک شیطان چاہتا ہے کہ...... کیا تم اسکے منع کرنے سے رک جاؤ گے ؟ پھر عمر نے کہا کہ: ہاں ہم رک جائیں گے، ہم رک جائیں گے۔ یعنی شراب نہیں پیئیں گے۔!!!

كتاب مكاشفة القلوب باب 91، باب عقوبة الشارب الخمر، ص459

عمر کا اپنی خلافت کے دور میں شراب پینا:

البتہ یہ جو عمر ابن خطاب نے کہا ہے کہ انتھینا، یعنی ہم شراب پینے سے رک جائیں گے، کیا حقیقت میں بھی ایسا ہی ہوا ہے ؟ یہ بات واضح نہیں ہے، کیونکہ خود اہل سنت کے علماء نے اعتراف کیا ہے کہ عمر حتی اپنی خلافت کے زمانے میں بھی زمانہ جاہلیت سے پڑی ہوئی شراب پینے کی عادت کو ترک نہیں کر سکا تھا۔

قول عمر: یہ کتنی اچھی شراب ہے !!!

مالک ابن انس نے اپنی کتاب الموطأ کہ جو اہل سنت کے بہت سے علماء کے مطابق مثل صحاح ستہ ہے، میں لکھا ہے کہ:

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ : أَنَّ أَسْلَمَ مَوْلَي عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ زَارَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَيَّاشٍ الْمَخْزُومِيَّ, فَرَأَي عِنْدَهُ نَبِيذاً وَهُوَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ، فَقَالَ لَهُ : أَسْلَمُ إِنَّ هَذَا الشَّرَابَ يُحِبُّهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَحَمَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشٍ قَدَحاً عَظِيماً، فَجَاءَ بِهِ إِلَي عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَوَضَعَهُ فِي يَدَيْهِ، فَقَرَّبَهُ عُمَرُ إِلَي فِيهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ عُمَرُ : إِنَّ هَذَا لَشَرَابٌ طَيِّبٌ، فَشَرِبَ مِنْهُ ......

عبد الرحمن ابن قاسم سے نقل ہوا ہے کہ: عمر کے غلام اسلم نے اسے بتایا تھا کہ اس نے عبد اللہ ابن عیاش مخزومی کو مکے جاتے ہوئے راستے میں دیکھا تھا، اور اس نے کہا کہ میں نے اسکے پاس نبیذ کو بھی دیکھا تھا !!! پس اسلم نے اسے بتایا کہ: یہ (نبیذ) ایسی چیز ہے کہ جسکو عمر بھی بہت پسند کرتا ہے۔ عبد اللہ ابن عیاش ایک بڑے برتن کو نبیذ سے بھر کر عمر کے پاس لایا اور لا کر اسکے سامنے رکھ دیا۔ عمر نے اس برتن کو اپنے منہ کے نزدیک لایا اور کہا: یہ کتنی اچھی شراب ہے، پھر عمر نے شراب کو پیا۔

كتاب الموطأ ، الإمام مالك ، ج 2 ص 894 و الاستذكار ، ابن عبد البر ، ج 8 ص 247 .

ایک شخص کا عمر کی مشک سے شراب پی کر مست ہونا:

بخاری کے استاد ابن ابی شيبہ نے اپنی کتاب میں ایک روایت کو نقل کیا ہے کہ:

حدثنا أبو بكر قال حدثنا ابن مسهر عن الشيباني عن حسان بن مخارق قال : بلغني أن عمر بن الخطاب سائر رجلا في سفر وكان صائما ، فلما أفطر أهوي إلي قربة لعمر معلقة فيها نبيذ قد خضخضها البعير ، فشرب منها فسكر ، فضربه عمر الحد ، فقال له : إنما شربت من قربتك ، فقال له عمر : إنما جلدناك لسكرك،

عمر ایک روزے دار شخص کے ساتھ سفر کر رہا تھا، افطار کے بعد اس شخص نے عمر کی مشک سے، کہ جس میں شراب تھی اور عمر نے اس مشک کو اپنے اونٹ پر لٹکایا ہوا تھا اور اونٹ نے بھی اس مشک کو راستے میں صحیح طریقے سے ہلا ہلا کر حل کیا ہوا تھا، شراب کو پیا تو وہ نشے کی حالت میں مست ہو گیا۔ عمر نے اس پر حدّ جاری کی یعنی اسکو چند کوڑے مارے، تو اس شخص نے کہا کہ : میں نے تمہاری مشک سے شراب کو پیا ہے !!!

المصنف لابن أبي شيبة ج 6 ص 502

ابن عبد ربہ نے بھی کہا ہے کہ:

وقال الشعبي: شرب أعرابي من إداوة عمر، فانتشي، فحده عمر. وإنما حده للسكر لا للشراب.

شعبی نے کہا ہے کہ: ایک صحرا نشین نے عمر کی مشک سے شراب پئی اور وہ نشے میں مست ہو گیا !!! عمر نے اس پر حدّ جاری کی !!! اور عمر نے اس پر صرف مست ہونے کی وجہ سے حدّ جاری کی نہ اسکے شراب پینے پر !!!

العقد الفريد باب احتجاج المحللين للنبيذ

شاید خود عمر اس مشک سے جب شراب پیتا تھا تو مست نہیں ہوتا تھا !!!

عمر حتی برتن کے نیچے بچی ہوئی شراب کا گندھا حصہ تک بھی پی جاتا تھا، (تلچھٹ)

جس طرح سے اشعار فارسی اور عربی میں بھی مشہور ہے کہ جب ایک شخص بہت زیادہ شراب پینے کا عادی ہو چکا ہو تو اسکے لیے شراب کا تلچھٹ ( برتن کے نیچے بچی ہوئی شراب کا گندھا حصہ) پینا بھی آسان اور معمولی ہو جاتا ہے۔ اہل سنت کی روایات میں ذکر ہوا ہے کہ عمر شراب پینے کے علاوہ اسکی تلچھٹ پینے میں بھی مشہور تھا:

حدثنا بن مبشر نا أحمد بن سنان نا عبد الرحمن بن مهدي نا عبد الله بن عمر عن زيد بن أسلم عن أبيه قال كنت أنبذ النبيذ لعمر بالغداة ويشربه عشية وأنبذ له عشية ويشربه غدوة ولا يجعل فيه عكرا

زید بن اسلم نے اپنے باپ ( عمر کا غلام) سے نقل کیا ہے کہ: میں عمر کے پینے کے لیے شراب دن کو تیار کرتا تھا اور وہ اسکو رات کو پیتا تھا اور رات کو شراب تیار کرتا تھا اور وہ اسکو صبح کو پیتا تھا اور حتی عمر برتن میں شراب کی تلچھٹ کو بھی باقی نہیں چھوڑتا تھا، یعنی اسکو بھی پی جاتا تھا۔

سنن الدارقطني ج4 ص259 ش 70

عمر نبيذ کو غذا ہضم کرنے کے لیے پسند کرتا تھا:

بيہقی نے اپنی کتاب سنن میں لکھا ہے کہ:

وأما الرواية فيه عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه فأخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد يعقوب ثنا الحسن بن مكرم ثنا أبو النضر ثنا أبو خيثمة ثنا أبو إسحاق عن عمرو بن ميمون قال قال عمر رضي الله عنه إنا لنشرب من النبيذ نبيذاً يقطع لحوم الإبل في بطوننا من أن تؤذينا .

عمر کہتا تھا کہ: میں اس نبیذ (شراب) کو اس لیے پیتا ہوں تا کہ اونٹ کا گوشت کہ جو میرے پیٹ میں ہے، وہ ہضم ہو سکے اور اس گوشت سے مجھے تکلیف بھی محسوس نہ ہو !!!

سنن البيهقي ، ج 8 ، ص 299

وأما الآثار فمنها ما روي عن سيدنا عمر رضي الله عنه أنه كان يشرب النبيذ الشديد ويقول إنا لننحر الجزور وإن العنق منها لآل عمر ولا يقطعه إلا النبيذ الشديد .

روایت ہوئی ہے کہ: ہمارے آقا عمر رضي الله عنہ بہت گاڑھی قسم کی نبیذ (شراب) پیتا تھا اور کہتا تھا کہ: ہم اونٹوں کو ذبح کرتے ہیں اور اسکی گردن کا گوشت عمر کے خاندان کو ملتا ہے اور اس گوشت کو خالص اور غلیظ نبیذ کے علاوہ کوئی اور چیز ہضم نہیں کر سکتی !!!

بدائع الصنائع ، ج5 ، ص 116

اور متقی ہندی نے بھی لکھا ہے کہ:

عن عمر قال: اشربوا هذا النبيذ في هذه الأسقية فإنه يقيم الصلب ويهضم ما في البطن وإنه لم يغلبكم ما وجدتم الماء.

عمر سے روایت ہوئی ہے کہ اس نے کہا ہے کہ: نبیذ کو جام میں بھر بھر کر پیئیو کیونکہ یہ نبیذ کمر کو مضبوط کرتی ہے اور جو کچھ بھی پیٹ میں ہو، اسے ہضم کرتی ہے اور جب تک تمہارے پاس اس (نبیذ) میں ملانے کے لیے پانی موجود ہو تو، وہ تم کو مست بھی نہیں کرتی !!!

كنز العمال ، ج 5 ، ص 522 .

عمر اپنی خلافت کے دور میں شراب میں پانی ملا کر پیتا تھا:

سب سے زیادہ قابل ذکر یہ نکتہ ہے کہ اہل سنت کے ایک بزرگ عالم محمد بن محمود خوارزمی نے اپنی کتاب جامع مسانيد أبو حنيفہ، میں کہا ہے کہ:

عن حماد عن إبراهيم عن عمر بن الخطاب ، أتي بأعرابي قد سكر فطلب له عذر فلما أعياه قال : احبسوه فإن صحي فاجلدوه ، ودعا عمر بفضله ودعا بماء فصبه عليه فكسره ثم شرب وسقي أصحابه ، ثم قال : هكذا فاكسروه بالماء إذا غلبكم شيطانه ، قال : وكان يحب الشراب الشديد .

ایک صحرا و بادیہ نشین کو کہ جو شراب پی کر نشے کی حالت میں مست تھا، عمر کے پاس لایا گیا، بعض نے عمر سے کہا کہ اسکو بخش دو، لیکن عمر نے انکی بات کو قبول نہ کیا اور عمر نے کہا: اسکو زندان میں ڈال دو، یہاں تک کہ اسکا نشہ ختم ہو جائے پھر اسکو کوڑے مارو۔ پھر خود عمر نے پانی مانگا اور اسکو اسی شراب میں ملا کر خود بھی شراب پی اور دوسروں کو بھی پلائی۔

پھر عمر نے کہا: اگر شراب کا شیطان تم پر غالب آئے تو اس میں اس طرح سے پانی ملا کر پیئو !!! خود عمر گاڑھی اور خالص شراب کو پسند کرتا تھا !!!

جامع المسانيد أبي حنيفة ، ج2 ، ص 192

اور مذہب حنفی کے مشہور فقیہ سرخسی نے اپنی کتاب  المبسوط میں کہا ہے کہ:

وقد بينا أن المسكر ما يتعقبه السكر وهو الكأس الأخير وعن إبراهيم رحمه الله قال أتي عمر رضي الله عنه بأعرابي سكران معه إداوة من نبيذ مثلث فأراد عمر رضي الله عنه أن يجعل له مخرجاً فما أعياه إلا ذهاب عقله فأمربه فحبس حتي صحا ثم ضربه الحد ودعا بإداوته وبها نبيذ فذاقه فقال أوه هذا فعل به هذا الفعل فصب منها في إناء ثم صب عليه الماء فشرب وسقي أصحابه وقال إذا رابكم شرابكم فاكسروه بالماء .

اور ہم نے بیان کیا ہے کہ: نشہ آور وہ چیز ہے کہ جس کے پینے سے انسان مست ہو جاتا ہے !!! یعنی آخری جام و پیالہ، پس اس سے پہلے تک نشہ آور اور حرام نہیں ہے !!!

اور ابراہیم سے روایت ہوئی ہے کہ اس نے کہا ہے کہ: ایک نشے میں مست بادیہ نشین کو عمر کے پاس لایا گیا اور اسکے پاس خالص نبیذ کی ایک مشک بھی تھی، پس عمر نے چاہا کہ اس بادیہ نشین کو کسی طریقے سے نجات دے ، لیکن کوئی بھی ترکیب اسکے ذہن میں نہیں آئی کیونکہ وہ نشے کی حالت میں تھا، پس عمر نے حکم دیا کہ اسے ہوش میں آنے تک زندان میں ڈال دو اور پھر اس پر شراب خواری کی حدّ جاری کی یعنی اسے کوڑے مارے۔ پھر عمر نے اسکی مشک منگوا کر اس میں سے نبیذ کو چکھ کر کہا: ہائے !! اس نبیذ نے اسکے ساتھ کیا کیا ہے !!! پھر اس مشک سے تھوڑی نبیذ ایک برتن میں ڈال کر اور اس میں پانی ملا کر خود بھی نبیذ (شراب) کو پیا اور اپنے دوستوں کو بھی پلایا اور کہا: جب بھی تم لوگوں کا اس شراب کو پینے کا دل کرے تو پہلے اس میں پانی ملا کر اسکے نشے کو ختم کر لیا کرو اور پھر پیا کرو !!!

المبسوط ، ج 24 ، ص 11 .

اور اسی طرح اس نے کہا ہے کہ:

وعن عمر ( رض ) أنه أتي بنبيذ الزبيب فدعا بماء وصبه عليه وشرب ، وقال : أن لنبيذ زبيب الطائف غراما .

عمر سے روایت ہوئی ہے کہ: اسکے لیے نبیذ کو لایا گیا، پھر پانی کو لایا گیا اور اسے نبیذ میں ملایا گیا اور اسے عمر نے پیا اور پھر کہا: شہر طائف کی کشمش سے بنی ہوئی شراب بہت قیمتی اور اہم ہے !!!۔

المبسوط ، ج 24 ، ص8 .

حالت احتضار میں بھی عمر کا شراب پینا:

قابل ذکر ہے کہ عمر نے حتی اپنی زندگی کے آخری لمحات میں بھی شراب شراب پینے کی عادت کو ترک نہیں کیا تھا، یہاں تک کہ حالت احتضار میں، کہ جو ایک انسان کی موت کا وقت ہوتا ہے، بھی عمر نے حکم دیا کہ میرے لیے شراب لائی جائے۔

ابن سعد عالم بزرگ اہل سنت نے اپنی معتبر کتاب الطبقات الكبری ميں لکھا ہے کہ:

عن عبد الله بن عبيد بن عمير أن عمر بن الخطاب لما طعن قال له الناس يا أمير المؤمنين لو شربت شربة فقال أسقوني نبيذا وكان من أحب الشراب إليه قال فخرج النبيذ من جرحه مع صديد الدم .

عبد الله ابن عبيد بن عمير سے نقل ہوا ہے کہ: جب عمر ابن خطاب کو چاقو مارا گیا تو لوگوں نے اس سے کہا کہ: اے امیر المؤمنین آپکے لیے اس حالت میں بہتر ہے کہ کوئی پینے والی چیز پی لیں، پس عمر نے کہا کہ مجھے نبیذ (شراب) لا کر دو !!! اور پینے والی چیزوں میں سے نبیذ اسکی پسندیدہ ترین چیز تھی۔ عبد اللہ نے کہا کہ: جب عمر نے اس حالت میں نبیذ پی تو نبیذ اسکے زخموں سے خون کے لوتھڑوں کے ساتھ بہہ کر باہر نکل آتی تھی۔

الطبقات الكبري ، محمد بن سعد ، ج 3 ، ص 354

تاريخ مدينة دمشق ، ابن عساكر ، ج 44 ، ص 430

السنن الكبري ، البيهقي ، ج 3 ، ص 113

فتح الباري ، ابن حجر ، ج 7 ، ص 52

المصنف ، ابن أبي شيبة الكوفي ، ج 5 ، ص 488

الاستيعاب ،ابن عبد البر ، ج 3 ، ص 1154

اور اہل سنت کی بہت سی دیگر معتبر کتب میں یہ روایت ذکر ہوئی ہے،

پس ہم دیکھتے ہیں کہ عمر نے اپنی ہوش سنبھالنے سے لے کر مرتے دم تک شراب پینا نہیں چھوڑا تھا۔

اہل سنت کی کتب میں نبیذ کا معنی :

نبیذ کا اہل لغت نے اس طرح سے معنی ذکر کیا ہے:

وإنما سمي نبيذا لأن الذي يتخذه يأخذ تمرا أو زبيبا فينبذه في وعاء أو سقاء عليه الماء ويتركه حتي يفور [ ويهدر ] فيصير مسكرا .

اسکو نبیذ کہا جاتا ہے، کیونکہ جو بھی اسکو تیار کرتا ہے وہ کھجور اور کشمش کو لے کر ایک برتن یا مشک میں ڈالتا ہے اور پھر اس میں پانی ڈال کر رکھ دیتا ہے تا کہ وہ خود بخود گرم ہو کر ابل جائے کہ اس صورت میں وہ نشہ آور اور مست کرنے والی نبیذ بن جاتی ہے۔

تاج العروس ، ج5 ، ص500 ، ماده نبذ .

اور محيی الدين نووی نے كتاب المجموع میں لکھا ہے کہ:

واما الخمر فهي نجسة لقوله عز وجل ( إنما الخمر والميسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشيطان ) ولأنه يحرم تناوله من غير ضرر فكان نجسا كالدم واما النبيذ فهو نجس لأنه شراب فيه شدة مطربة فكان نجسا كالخمر.

اور شراب نجس ہے، کیونکہ خداوند نے فرمایا ہے کہ: شراب اور جوا اور بت اور فال کے تیر سب شیطان کے گندے کام ہیں، اور اس وجہ سے بھی کہ اگر اس کے پینے کا ضرر نہ ہو تو، حرام ہے، پس یہ بھی خون کی طرح نجس ہے، اور نبیذ، پس وہ بھی نجس ہے، کیونکہ وہ ایسی شراب ہے کہ جو بہت خالص اور گاڑھی قسم کی ہے اور مست کرنے والی بھی ہے، پس اس وجہ سے شراب کی طرح نجس ہے۔

المجموع ، محيي الدين النووي ، ج 2 ، ص 563 .

معاويہ کا شراب خواری کرنا:

جس طرح کہ پہلے بھی ہم نے ذکر کیا ہے کہ بے شک امیر المؤمنین علی (ع) پر شراب خواری کی غلط اور باطل تہمت کا سرچشمہ بنی امیہ کی منحوس نسل ہے۔ اس منحوس نسل میں شراب پینا زمانہ جاہلیت سے ہی ایک رسم میں تبدیل ہو چکا تھا اور حتی ظاہری طور پر مسلمان ہونے کے بعد بھی وہ اپنی اس پکی عادت کو ترک نہیں کر سکے تھے، اسی وجہ سے اپنے غلط اور حرام عمل کی تاویل و توجیہ کرنے کے لیے اسلام کی دوسری شخصیات پر بھی ایسی تہمتیں لگاتے تھے، تا کہ لوگوں کی نظروں میں اپنے اس حرام کے جرم کو کم کر سکیں، یہی وجہ ہے کہ انھوں نے جان بوجھ کر امیر المؤمنین علی (ع) پر بھی ایسی تہمت لگائی تھی اور آج 1400 سال گزرنے کے بعد ابن تیمیہ اور اسکے پیروکار وہابیوں نے اپنی باطنی نجاست اور اہل بیت کے بارے میں اپنے کینے و بغض کو ظاہر کرنے کے لیے، اس تہمت کا بار بار ذکر کر رہے ہیں تا کہ اپنے خلفاء معاویہ اور یزید و بنی امیہ سے اپنی وفاداری کو ثابت کر سکیں۔

معاویہ کا شراب پینا اور اپنے مہمان سے بھی کہنا کہ وہ بھی شراب پیئے !!!

معاويہ بن ابی سفيان کا شمار بھی ان شراب خواروں میں ہوتا ہے کہ جو اسلام لانے کے بعد اور شراب کے یقینی طور پر حرام ہونے کے بعد بھی بہت زیادہ شراب پیا کرتے تھے۔

امام احمد بن حنبل نے عبد الله ابن بريده سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:

دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي عَلَي مُعَاوِيَةَ فَأَجْلَسَنَا عَلَي الْفُرُشِ ثُمَّ أُتِينَا بِالطَّعَامِ فَأَكَلْنَا ثُمَّ أُتِينَا بِالشَّرَابِ فَشَرِبَ مُعَاوِيَةُ ثُمَّ نَاوَلَ أَبِي ثُمَّ قَالَ مَا شَرِبْتُهُ مُنْذُ حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ایک دن میں اپنے والد بریدہ کے ساتھ معاویہ کے پاس گئے، اس نے ہمارا بہت احترام کیا، پھر کھانا لایا گیا اور ہم نے معاویہ کے ساتھ مل کر کھانا کھایا۔ کھانے کے بعد شراب لائی گئی، معاویہ نے خود شراب پئی اور میرے والد سے بھی کہا کہ تم بھی پیئو۔ میرے والد نے کہا: جس دن سے رسول خدا (ص) نے شراب کو حرام قرار دیا ہے، اس نے دن سے میں نے اس کو منہ تک نہیں لگایا۔

مسند أحمد بن حنبل ج5 ص347 ش 22991

سير أعلام النبلاء ج5 ص52

تاريخ مدينة دمشق ج27 ص127

ہيثمی نے اپنی کتاب مجمع الزوائد میں اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ:

رواه أحمد ورجاله رجال الصحيح،

اس روايت کو احمد نے نقل کیا ہے اور اس روایت کے سارے راوی کتاب صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے راوی ہیں، یعنی روایت صد در صد صحیح اور معتبر ہے۔

مجمع الزوائد ج5 ص42

معاويہ اور شراب کی تجارت (کاروبار) کرنا !!!

ابن عساكر نے اپنی کتاب تاريخ مدينہ دمشق ميں لکھا ہے کہ:

عن محمد بن كعب القرظي قال غزا عبد الرحمن بن سهل الأنصاري في زمان عثمان ومعاوية امير علي الشام فمرت به روايا خمر تحمل فقال اليها عبد الرحمن برمحه فبقر كل راوية منها فناوشه غلمانه حتي بلغ شأنه معاوية فقال دعوه فإنه شيخ قد ذهب عقله فقال كذب والله ما ذهب عقلي ولكن رسول الله صلي الله عليه وسلمنهانا ان ندخل بطوننا وأسقيتنا واحلف بالله لئن انا بقيت حتي أري في معاوية ما سمعت من رسول الله صلي الله عليه وسلم لأبقرن بطنه أو لأموتن دونه،

صحابی جليل القدر عبد الرحمن بن سہل انصاری، عثمان کے زمانے میں جنگ کے لیے گیا، اس وقت معاویہ شام کا حاکم تھا، اس صحابی کے نزدیک سے اونٹوں کا ایک قافلہ گزرا کہ جن پر شراب لدی ہوئی تھی، اس نے اپنے نیزے سے ان پر حملہ کر کے شراب کی تمام مشکوں کو پھاڑ دیا !!! اس قافلے کے نگہبانوں نے اسے پکڑا اور اس کی خبر جب معاویہ کو ملی تو اس نے کہا کہ: اسے چھوڑ دو، وہ بوڑھا پاگل ہو گیا ہے !!!

اس صحابی نے جواب دیا: خدا کی قسم معاویہ جھوٹ بول رہا ہے !!! میں پاگل نہیں ہوا ہوں ، لیکن میں نے رسول خدا سے سنا ہے کہ انھوں نے ہمیں شراب پینے سے اور حتی اسے اپنے برتن میں ڈالنے سے بھی منع کیا ہے، اور خدا کی قسم اگر میں زندہ رہا اور معاویہ کو دیکھا تو اسکے بارے میں رسول خدا کے کلام (اگر تم میں سے کوئی بھی معاویہ کو مدینہ میں میرے منبر پر بیٹھا ہوا دیکھے تو، وہ معاویہ کو قتل کر دے) کو ثابت کر کے دکھاؤں گا، یا تو میں اسکے پیٹ کو چاک کر دوں گا اور یا میں اس راہ میں قتل ہو جاؤں گا !!!

تاريخ مدينة دمشق ج34 ص420- فيض القدير ج5 ص463- الإصابة في تمييز الصحابة ج4 ص313

امیر المؤمنین علی (ع) پر اہل سنت اور وہابیوں کی طرف سے لگائی گئی تہمت کے بارے میں علمی بحث اور تحقیق:

جواب نقضی اور اس مطلب کو ثابت کرنے کے بعد کہ حرمت شراب والی آیات عمر کے بارے میں نازل ہوئی ہیں نہ کہ امیر المؤمنین علی (ع) کے بارے میں۔ اب ہم اہل سنت کی ان روایات کے بارے میں بحث کرتے ہیں کہ جن روایات کی روشنی میں اہل سنت اور وہابیوں نے امير المؤمنين عليہ السلام پر شراب پینے والی غلط و باطل تہمت لگائی ہے۔ سب سے پہلے ہم علمائے اہل سنت کے اقوال کو ذکر کرتے ہیں کہ جہنوں نے ان روایات کو ردّ کیا ہے اور بعد میں ان روایات کی سند کے بارے میں بحث کریں گے:

اس روایت کی ردّ میں علمائے اہل سنت کے اقوال :

یہ روایت حتی خود اہل سنت کے علماء کی نظر میں مردود ہے، جسطرح کہ شوکانی عالم بزرگ اہل سنت نے اس بارے میں لکھا ہے کہ:

وفي إسناده عطاء بن السائب لا يعرف إلا من حديثه ، وقد قال يحيي بن معين لا يحتج بحديثه .

اس روایت کی سند میں عطاء ابن سائب ہے اور اس روایت کو اسکے علاوہ کسی دوسرے نے نقل نہیں کیا، یحیی ابن معین نے اسکے بارے میں کہا ہے کہ: اسکی روایت کسی مطلب پر استدلال کرنے کے قابل نہیں ہے، یعنی اسکی نقل کردہ روایت پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔

نيل الأوطار ، ج 9 ، ص 56 .

اور حاكم نيشاپوری نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ:

وفي هذا الحديث فائدة كثيرة وهي ان الخوارج تنسب هذا السكر وهذه القراءة إلي أمير المؤمنين علي بن أبي طالب دون غيره وقد برأه الله منها فإنه راوي هذا الحديث.

اس روایت میں ایک مہم نکتہ موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ خوارج نے اس مستی و نشے اور نماز میں ہذیان کہنے کی نسبت امير المومنين علی بن أبی طالب عليہ السلام کی طرف دی تھی، نہ کہ کسی دوسرے کی طرف نسبت دی تھی، لیکن خداوند نے انکو اس باطل تہمت سے پاک و مبراء کیا ہے، اور یہ روایت جعلی ہے، کیونکہ خود علی (ع) اس روایت کے راوی ہیں۔ ( اور وہ خود تو قرآن کی ایک آیت کا غلط شان نزول بیان نہیں کر سکتے، یعنی جو کام انھوں نے انجام نہیں دیا، اسکی نسبت اپنی طرف دیں !!!

المستدرك ، الحاكم النيسابوري ، ج 2 ، ص 307 .

اہل سنت کی صحاح ستۃ میں امير المؤمنين علی (ع) پر تہمت والی روایت کے بارے میں بحث:

امير المؤمنين علی (ع) پر اس غلط و باطل تہمت کے بارے میں دو روایات نقل ہوئی ہیں، ایک روایت کتاب صحیح ترمذی اور دوسری روایت کتاب صحیح ابی داود میں ذکر ہوئی ہے۔ ہم ہر دو روایت کی سند کے بارے میں بحث کریں گے۔

ترمذی نے اپنی کتاب سنن میں لکھا ہے کہ:

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ صَنَعَ لَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ طَعَامًا فَدَعَانَا وَسَقَانَا مِنَ الْخَمْرِ فَأَخَذَتِ الْخَمْرُ مِنَّا وَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَقَدَّمُونِي فَقَرَأْتُ (قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ) لاَ أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ وَنَحْنُ نَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ. قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَي (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَقْرَبُوا الصَّلاَةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَي حَتَّي تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ ) .

علی بن ابی طالب سے نقل ہوا ہے کہ انھوں نے کہا کہ: عبد الرحمن ابن عوف نے ہمارے لیے کھانا تیار کیا اور ہماری دعوت کی اور ہمیں شراب بھی دی، جب ہم نے شراب پئی تو نماز کا وقت ہو گیا۔ عبد الرحمن نے مجھے کہا کہ آپ نماز پڑھائیں اور میں نے نماز میں سورہ کافرون کو ایسے پڑھا: « لا اعبد ما تعبدون ونحن نعبد ما تعبدون » پس خداوند نے اس آیت کو نازل کیا:   

اے ایمان والو مستی و نشے کی حالت میں نماز کے نزدیک نہ جاؤ، تا کہ تم کو معلوم تو ہو کہ تم نماز میں کیا پڑھ اور کیا کہہ رہے ہو،

سنن الترمذي ، الترمذي ، ج 4 ص 305

ابو داود نے بھی اپنی کتاب سنن میں لکھا ہے کہ:

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَي عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلاَمُ أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ دَعَاهُ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فَسَقَاهُمَا قَبْلَ أَنْ تُحَرَّمَ الْخَمْرُ فَأَمَّهُمْ عَلِيٌّ فِي الْمَغْرِبِ فَقَرَأَ (قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ) فَخَلَطَ فِيهَا فَنَزَلَتْ (لاَ تَقْرَبُوا الصَّلاَةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَي حَتَّي تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ ) .

علی سے روایت نقل ہوئی ہے کہ انصار میں سے ایک شخص نے، انکی اور عبد الرحمن ابن عوف کی کھانے پر دعوت کی اور ان دونوں کو شراب کے حرام ہونے سے پہلے، دعوت میں شراب پلائی۔ علی نے نماز مغرب کی امامت کرائی اور علی نے نماز میں سورہ کافرون کو غلط پڑھا: پس خداوند نے اس آیت کو نازل کیا: لا تقربوا الصلاة .....،  

سنن أبي داود ، ابن الأشعث السجستاني ، ج 2 ص 182 .

ان روایات کے معنی و مفہوم کے بارے میں بحث:

ان دو روایات کی عبارت میں تضاد اور تناقض موجود ہے، کیونکہ ایک روایت میں دعوت کا میزبان عبد الرحمن ابن عوف ہے اور دوسری روایت میں دعوت کا میزبان انصار کا ایک بندہ ہے، اور علم حدیث کے علماء کی نظر کے مطابق اگر دو روایات کے نقل کرنے والے تمام راوی مشترک و ایک ہی ہوں اور اسکے باوجود دونوں روایات کی عبارت میں فرق ہو تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ یا تو ان دونوں روایات کے راوی یا ایک روایت کے راوی یا تو جھوٹے ہیں یا پھر ضعیف حافظے کے مالک ہیں۔

روایات کی سند کے بارے میں بحث:

ابی عبد الرحمن سلمی یہ امیر المؤمنین علی (ع) کے دشمنوں میں سے ہے:

ہر دو روایات میں امیر المؤمنین سے اس قصے کو نقل کرنے والا ابی عبد الرحمن السلمی ہے کہ جو امام علی (ع) کے دشمنوں میں سے تھا۔ وہ امیر المؤمنین کے لشکر میں سے تھا، لیکن خود اس نے اقرار کیا ہے کہ وہ دلی طور امام  سے دشمنی رکھتا تھا:

طبری نے كتاب المنتخب من ذيل المذيل میں خود اس سے نقل کیا ہے کہ وہ امیر المؤمنین کا دشمن تھا:

وأبو عبد الرحمن السلمي واسمه عبد الله بن حبيب ... قال رجل لأبي عبد الرحمن أنشدك الله متي أبغضت عليا عليه السلام أليس حين قسم قسما بالكوفة فلم يعطك ولا أهل قال أما إذ نشدتني الله فنعم .

ابو عبد الرحمن السلمی کہ اس کا نام عبد الله بن حبيب ہے..... ایک شخص نے ابو عبد الرحمن سے کہا کہ: میں تم کو خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ تم کب سے علی کے دشمن ہو ؟ کیا اس وقت سے تم انکے دشمن نہیں ہو کہ جب انھوں نے شہر کوفہ میں ایک مال کو تقسیم کیا تھا، لیکن تم کو اور تمہارے خاندان کو اس مال سے کچھ بھی نہیں دیا تھا ؟ ابو عبد الرحمن نے جواب دیا: ہاں تم ٹھیک کہہ رہے ہو !!!

المنتخب من ذيل المذيل ، ص 147 .

ابراہيم ثقفی نے بھی اپنی كتاب الغارات میں اسکے نام کو ان بزرگ فقہاء میں ذکر کیا ہے کہ جو امیر المؤمنین سے دشمنی رکھتے تھے:

ومنهم (اي المنحرفين عن علي) أبو عبد الرحمن السلمي [ القاري] :

عن عطاء بن السائب قال : قال رجل لأبي عبد الرحمن السلمي أنشدك بالله تخبرني فلما أكد عليه قال : بالله هل أبغضت عليا إلا يوم قسم المال في أهل الكوفة فلم يصبك ولا أهل بيتك منه شئ ؟ ، قال : أما إذا أنشدتني بالله فلقد كان ذلك .

ان سے ( کہ جو امیر المؤمنین سے جدا ہو گئے تھے ) ابو عبد الرحمن سلمی ہے، عطاء سے روایت ہوئی ہے کہ وہ کہتا تھا کہ: ایک شخص نے ابو عبد الرحمن سے کہا کہ: میں تم کو خدا کی قسم دیتا ہوں کہ مجھ سے سچ بولنا، جب سے بہت زیادہ اصرار کیا تو اس نے قبول کر لیا، پھر اس نے کہا کہ: کیا اس وقت سے تم علی کے دشمن نہیں ہو کہ جب انھوں نے شہر کوفہ میں ایک دن بیت المال کو تقسیم کیا تھا، لیکن تم کو اور تمہارے خاندان کو اس مال سے کچھ بھی نہیں دیا تھا ؟ ابو عبد الرحمن نے جواب دیا: کیونکہ تم نے مجھے قسم دی ہے، میں بھی سچ کہتا ہوں کہ: ہاں ایسے ہی ہے جیسے تم کہہ رہے ہو۔

پھر سعد ابن عبیدہ سے نقل کرتے ہوئے، ایک روایت کو ابو عبد الرحمن سے نقل کرتا ہے کہ جو ہمارے لیے ابو عبد الرحمن کی امیر المؤمنین سے دشمنی کو زیادہ واضح کر کے بیان کرتی ہے:

عن سعد بن عبيدة قال : كان بين حيان وبين أبي عبد الرحمن السلمي شئ في أمر علي عليه السلام فأقبل أبو عبد الرحمن علي حيان فقال : هل تدري ما جرأ صاحبك علي الدماء ؟ يعني عليا عليه السلام قال : وما جرأه لا أبا لغيرك ؟ ، قال : حدثنا أن النبي صلي الله عليه وآله قال لأصحاب بدر : اعملوا ما شئتم فقد غفر لكم ، أو كلاما هذا معناه.

سعد ابن عبيده سے بھی روايت ہوئی ہے کہ اس نے کہا ہے کہ: حیان اور ابو عبد الرحمن کے درمیان علی کی وجہ سے جھگڑا رہتا تھا، پس ابو عبد الرحمن نے حیان سے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ تم جس { علی (ع) } کی حمایت کرتے ہو، اسکو کس چیز نے لوگوں کا خون بہانے پر جرات دی ہے ؟ حیان نے کہا: کس چیز نے انھیں جرات دی ہے ؟ اے نجس انسان !

ابو عبد الرحمن نے جواب دیا: علی نے ہمارے لیے رسول خدا سے روایت نقل کی ہے کہ انھوں نے اصحاب بدر سے فرمایا کہ: تمہارا جو دل ہے کرو، کیونکہ تم کو خداوند نے بخش دیا ہے، یعنی اسی بات نے اسکو لوگوں کا خون بہانے کی جرات دی ہے۔

الغارات ، ج 2 ، ص 567 .

اب ہمیں اہل سنت کے علماء سے سوال کرنا چاہیے کہ: کیا علی کے بارے میں ایسے شخص کی بات اور روایت پر اعتماد کیا جا سکتا ہے ؟ کیا شیعہ اور اہل سنت کی معتبر کتب کی معتبر روایات کے مطابق ذکر نہیں ہوا کہ: جو بھی امیر المؤمنین علی (ع) سے دشمنی کرے، وہ منافق ہے ؟ کیا ایک منافق شخص کی بات پر اعتماد کر کے امیر المؤمنین علی (ع) پر شراب پینے والی باطل تہمت لگائی جا سکتی ہے ؟؟؟

لھذا وہ دو روایات ، کہ جو اہل سنت کی صحاح ستۃ میں ذکر ہوئی ہیں، انکی سلسلہ سند میں، اس جیسے منافق راوی کے ہونے کی وجہ سے ، غیر معتبر اور غیر قابل اعتماد ہوں گی۔

عطاء بن سائب ، پاگل ہو گیا تھا:

ان دو روایات کے سلسلہ سند کا دوسرا راوی کہ جس نے ابو عبد الرحمن سے اس روایت کو نقل کیا ہے، وہ عطاء ابن سائب ہے۔ مزی نے اپنی کتاب تہذیب الکمال میں اسکے بارے میں لکھا ہے کہ:

و قال عن يحيي أيضا : عطاء بن السائب اختلط ، فمن سمع منه قديما فهو صحيح ... و قال أبو أحمد بن عدي : أخبرنا ابن أبي عصمة ، قال : حدثنا أحمد بن أبي يحيي ، قال : سمعت يحيي بن معين يقول : ليث بن أبي سليم ضعيف مثل عطاء بن السائب .

یحیی سے روایت ہوئی ہے کہ اس نے کہا کہ: عطاء پاگل ہو گیا تھا اور اگر جس نے بھی اس سے اسکے پاگل ہونے سے پہلے جو روایت سنی ہو، تو وہ صحیح ہے..... میں نے یحیی ابن معین سے سنا تھا کہ اس نے کہا تھا کہ: لیث ابن ابی سلیم بھی عطاء ابن سائب کی طرح ضعیف ہے۔

تهذيب الكمال ، ج 20 ص 91

ہيثمی نے بھی اسکی روایت کو ردّ کرنے کے بارے میں کہا ہے کہ:

رواه أحمد وفيه عطاء بن السائب وقد اختلط .

اس روایت کو احمد ابن حنبل نے نقل کیا ہے اور اس روایت کی سند میں عطاء ابن سائب ہے اور وہ بھی پاگل ہو گیا تھا۔

مجمع الزوائد ج 4 ص 83.

ابن حجر نے بھی اسکی روایت کے بارے میں کہا ہے کہ:

والاضطراب فيه من عطاء بن السائب فإنه اختلط .

اس روایت میں یہ اشکال عطاء ابن سائب کی وجہ سے ہے، کیونکہ وہ پاگل ہو گیا تھا۔

الإصابة ج 4 ص 338 .

ذہبی نے بھی اسکی زندگی کے بارے میں لکھا ہے کہ:

وقال يحيي : لا يحتج به .

یحیی نے کہا ہے کہ: اسکی روایات کے ساتھ کسی مطلب پر بھی استدلال نہیں کیا جا سکتا۔

ميزان الاعتدال ج 3 ص 71

ابو جعفر الرازی ، روايت کو نقل کرنے میں ضعيف تھا:

تیسرا راوی کہ جو ترمذی کی نقل کردہ روایت کی سند میں موجود ہے، وہ ابو جعفر رازی ہے کہ اہل سنت کے بہت سے علماء نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ مزی نے اپنی کتاب تہذیب الکمال میں اسکے بارے میں لکھا ہے کہ:

قال عبد الله بن أحمد بن حنبل ، عن أبيه : ليس بقوي في الحديث ... و قال عمرو بن علي : فيه ضعف ، و هو من أهل الصدق ، سييء الحفظ . و قال أبو زرعة : شيخ يهم كثيرا . و قال زكريا بن يحيي الساجي : صدوق ليس بمتقن . و قال النسائي : ليس بالقوي .

عبد الله بن احمد ابن حنبل نے اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ: وہ روایت نقل کرنے میں قوی نہیں تھا (یعنی ضعیف تھا) ..... عمرو ابن علی سے روایت ہوئی ہے کہ اس نے کہا ہے کہ: وہ (ابو جعفر) ضعیف ہے، اگرچہ وہ سچا انسان ہے لیکن اسکا حافظہ بہت کمزور تھا۔

ابو زرعہ نے کہا ہے کہ: وہ ایک بوڑھا انسان ہے کہ جو روایات نقل کرنے میں بہت زیادہ غلطیاں کرتا تھا۔

زكريا بن يحيی ساجی نے کہا ہے کہ: وہ (ابو جعفر) سچا ہے لیکن اسکی بات زیادہ صحیح نہیں ہوتی تھی۔

نسائی نے بھی کہا ہے کہ: وہ روایات نقل کرنے میں قوی نہیں تھا، یعنی ضعیف تھا۔

تهذيب الكمال ج 33 ص 195

ابن حجر عسقلانی نے بھی کہا ہے کہ:

و قال ابن حبان : كان ينفرد عن المشاهير بالمناكير ، لا يعجبني الاحتجاج بحديثه إلا فيما وافق الثقات . و قال العجلي : ليس بالقوي .

ابن حبان نے کہا ہے کہ: وہ مشہور علماء سے غیر قابل قبول روایات کو نقل کرتا تھا۔ میری نظر میں اسکی نقل کردہ روایت سے استدلال کرنا، صحیح نہیں ہے، مگر یہ کہ اسکی نقل کردہ روایات، دوسرے ثقہ راویوں کے موافق ہو۔ عجلی نے بھی کہا ہے کہ: وہ روایات نقل کرنے میں قوی نہیں تھا، یعنی ضعیف تھا۔

تهذيب التهذيب ، ج12 ، ص57

سفيان ثوری ، مدلس مشہور کہ جو پاگل راویوں سے بھی روایات کو نقل کرتا تھا:

ابی داود کی نقل کردہ روایت کی سند میں عطاء بن سائب اور عبد الرحمن سلمی کے علاوہ سفیان ثوری بھی ہے کہ جو روایات میں تدلیس کرنے میں مشہور تھا:

سفيان ثوری ، مدلس تھا:

اہل سنت کے بزرگ علماء کے اقوال کے مطابق سفیان ثوری روایات میں، تدلیس کی ایک قسم تدلیس تسویہ کیا کرتا تھا۔ علماء نے تدلیس کی اس قسم کی تعریف میں کہا ہے کہ:

ربّما يسقط ... أو اسقط غيره ضعيفاً أو صغيراً تحسيناً للحديث .

کبھی وہ حدیث سے کچھ الفاظ کو کم کرتا تھا یا اسکے علاوہ کوئی دوسرا یہی کام انجام دیتا تھا، یا اس شخص کے  ضعیف ہونے کی وجہ سے یا چھوٹا ہونے کی وجہ سے۔

تدريب الراوي ، باب النوع الثاني : المدلس وهو قسمان ، ج1 ، ص186

ابن قطان نے تدلیس کی اس قسم کے بارے میں کہا ہے کہ:

وهو شرّ أقسامه .

یہ تدلیس کی اقسام میں سے بدترین قسم ہے۔

تدريب الراوي ، ج1 ، ص187 .

سيوطی نے مزید لکھا ہے کہ:

قال الخطيب وكان الأعمش وسفيان الثوري يفعلون مثل هذا قال العلائي وبالجملة فهذا النوع أفحش أنواع التدليس مطلقا وشرها قال العراقي وهو قادح فيمن تعمد فعله وقال شيخ الإسلام لا شك أنه جرح وإن وصف به الثوري والأعمش فلا اعتذار أنهما لا يفعلانه إلا في حق من يكون ثقة عندهما ضعيفا عند غيرهما .

خطیب بغدادی نے کہا ہے کہ: اعمش اور سفیان ثوری یہ کام انجام دیا کرتے تھے۔

علائی نے کہا ہے کہ: خلاصہ یہ ہے کہ تدلیس کی یہ قسم، گندگی ترین اور بدترین قسم کی تدلیس ہے۔

عراقی نے کہا ہے کہ: جو بھی جان بوجھ کر اس کام کو انجام دے، تو وہ اپنی روایات کو ضرر پہنچاتا ہے اور اس وجہ سے اسکی روایات قابل اعتماد نہیں رہتیں۔

شيخ الاسلام [ابن حجر عسقلانی] نے کہا ہے کہ: اس میں شک نہیں ہے کہ تدلیس تسویہ کرنا، یہ راوی میں جرح کا باعث بنتا ہے اور اگر سفیان ثوری یا اعمش اسطرح کی تدلیس کرتے ہیں تو اس کام کے کرنے پر ان سے کسی قسم کا بہانہ قبول نہیں کیا جائے گا، یعنی اگر کوئی کہے کہ وہ دونوں اس قسم کی تدلیس اسکے بارے میں کرتے تھے کہ جو انکے نزدیک ثقہ ہوتا تھا، لیکن دوسروں کے نزدیک ضعیف ہوتا تھا۔ اس طرح کے بہانے روایات میں تدلیس کرنے کے بارے میں قبول نہیں کیے جائیں گے۔

اور مالک ابن انس کے قواعد کے مطابق: تدلیس کرنے والے راوی کی روایت بالکل اصلا حجت اور قابل قبول نہیں ہوتی۔

سخاوی نے اپنی کتاب فتح المغيث ميں لکھا ہے کہ:

وممن حكي هذا القول القاضي عبد الوهاب في الملخص فقال التدليس جرح فمن ثبت تدليسه لا يقبل حديثه مطلقا قال وهو الظاهر علي أصول مالك .

تدليس ، اگر ثابت ہو جائے کہ کسی راوی نے انجام دی ہے تو اسکے لیے بہت بڑا عیب شمار ہوتا ہے اور کسی بھی صورت میں اسکی نقل کردہ روایت قابل قبول نہیں ہوتی۔ قاضی عبد الوہاب نے کہا ہے کہ: یہ بات مالک ابن انس کے قواعد کے بھی مطابق و موافق ہے۔

فتح المغيث شرح الفية الحديث ، باب التدليس ، ج1 ، ص203 .

تدلیس کے بارے میں علمائے اہل سنت کے اقوال:

خطيب بغدادی مشہور عالم اہل سنت نے تدلیس کے بارے میں کہا ہے کہ:

سمعت شعبة ، يقول : « التدليس في الحديث أشد من الزنا ولأن أسقط من السماء أحب إلي من أن أدلس »

میں نے شعبہ سے سنا ہے کہ اس نے کہا ہے کہ: احادیث میں تدلیس کرنا، زنا کرنے سے بدتر ہے، میرے لیے آسمان سے گرنا، تدلیس کرنے سے بہتر اور آسان تر ہے۔

الكفاية في علم الرواية ، ج3 ، ص287 ، شماره 1137 تا 1141 .

اس صورت حال میں سفیان ثوری کی روایات پر کیسے اعتماد کیا جا سکتا ہے ؟

سفيان ثوری ، پاگلوں سے بھی روایات کو نقل کیا کرتا تھا:

ذہبی اہل سنت کا علم رجال کا مشہور عالم ہے، اس نے سفیان ثوری کے بارے میں لکھا ہے کہ:

شبابة ، عن شعبة ، قال : إذا حدثكم سفيان عن رجل لا تعرفونه فلا تقبلوا منه ، فإنما يحدثكم عن مثل أبي شعيب المجنون .

شبابہ نے شعبہ سے نقل کیا ہے کہ اس نے کہا تھا کہ: جب سفیان تمہارے لیے کسی ایسے راوی سے کہ جسکو تم جانتے نہ ہو تو، حدیث نقل کرے تو، تم اس حدیث کو اس سے قبول نہ کرو، کیونکہ وہ (سفیان) ابی شعیب جیسے پاگل انسانوں سے بھی روایت کو نقل کرتا ہے۔

ميزان الاعتدال ، ترجمه الصلت بن دينار ، ج2 ، ص371 ، ص3906 .

سفيان، رسول خدا (ص) کے دشمنوں سے بھی روایت کو نقل کرتا تھا:

سفيان ثوری، خالد ابن سلمہ ابن العاص جیسوں سے بھی روایت کو نقل کیا کرتا تھا، کہ بقول ابن عائشہ، یہ خالد، بنی مروان کہ وہ اشعار کہ جو انھوں نے رسول خدا (ص) کا مسخرہ کرنے کے لیے کہے تھے، رسول خدا کا مذاق اڑانے کے لیے پڑھا کرتا تھا۔

تهذيب التهذيب ، ج11 ، ص157 ، ترجمه سفيان الثوري ، شماره2407

ابن حجر عسقلانی نے خالد بن سلمۃ کے بارے میں کہا ہے کہ:

وذكر ابن عائشة انه كان ينشد بني مروان الاشعار التي هجي بها المصطفي صلي الله عليه وسلم .

ابن عائشہ نے روایت کی ہے کہ وہ (خالد) بنی مروان کے لیے، وہ اشعار پڑھا کرتا تھا کہ جن میں رسول خدا کی ہجو (توہین و مذمت) ذکر کی گئی تھی !!!

تهذيب التهذيب ، ترجمه خالد بن سلمة ، ج3 ، ص83 ، شماره 181

کیا اس جیسے ناصبی اور دشمن رسول خدا (ص) کی روایت پر اعتماد کیا جا سکتا ہے ؟

نتیجہ کے طور پر ثابت ہو جاتا ہے کہ ترمذی اور سنن ابی داود کی نقل کردہ ہر دو روایات میں، سند کے لحاظ سے اشکال ہے اور اسی وجہ سے ہر دو روایات غیر معتبر اور غیر قابل قبول ہوں گی۔

امیر المؤمنین علی (ع) پر شراب نوشی کی تہمت کے جواب میں علمائے شیعہ کے اقوال:

علامہ سيد جعفر مرتضی نے کہا ہے کہ:

ولا نريد أن نفيض في بيان سر حياكة هذه الأكاذيب ، فإنه قد كان ثمة تعمد لإيجاد شركاء لأولئك الذين ارتكبوا هذه الشنيعة ، ممن يهتم اتباعهم بالذب عنهم ، فلما لم يمكنهم تكذيب أصل القضية عمدوا إلي إشراك أبرياء معهم ، ليخف جرم أولئك من جهة ، وسيعا في تضعيف أمر هؤلاء من جهة أخري . . ولكن الله يأبي إلا أن يتم نوره ، وينزه أولياءه ، ويطهرهم ، ويصونهم من عوادي الكذب والتجني . . وليذهب الآخرون بعارها وشنارها ، وليكن نصيب محبيهم واتباعهم ، والذابين عنهم بالكذب والبهتان ، الخزي والخذلان وسبحان الله ، وله الحمد ، فإنه ولي المؤمنين ، والمدافع عنهم .

ہم اس جھوٹی تہمت لگانے کی علت اور سبب کے بارے میں گفتگو نہیں کرنا چاہتے، کیونکہ اس کام سے ان لوگوں میں اضافہ ہو گا کہ جہنوں نے اس مکروہ کام کو انجام دیا ہے، یہ وہی لوگ ہیں، جنکے طرف دار انکی بہت زیادہ حمایت کرتے ہیں، جب یہ لوگ اصل ماجرا کا انکار نہیں کر سکے اور نہ ہی اپنے ماننے والوں سے اس مکروہ (شراب نوشی) کام کا انکار کر سکے، تو انھوں نے کوشش کی ہے کہ بعض بے گناہوں (کہ جو اس مکروہ کام سے پاک تھے) پر بھی اس مکروہ کام کی تہمت لگا، انکو بھی اس جرم میں شریک کیا جائے، تا کہ ایک طرف سے انکے جرم کو کم رنگ کر سکیں اور دوسری طرف سے ان بے گناہوں کو بھی لوگوں و تاریخ کی نظر میں مجرم ظاہر کر کے انکے علمی مقام کو ضعیف ظاہر کر سکیں.....

لیکن خداوند اپنے نور کو کامل کر کے ہی رہتا ہے اور وہ اپنے اولیاء کو اس تہمت سے پاک و بری رکھتا ہے اور انکو ان جیسی جھوٹی تہمتوں کے آثار سے محفوظ رکھتا ہے..... وہ اور لوگ ہیں کہ جو ان جیسی تہمتوں کے ننگ و عار و رسوائی کو تحمل کرتے ہیں اور ان جیسے لوگوں کی حمایت اور طرفداری کرنے والوں کہ جو بے گناہوں پر باطل اور غلط تہمتیں لگاتے ہیں، کے لیے بھی رسوائی اور ذلت ہے اور منزہ و پاک ہے وہ ذات کہ حمد اسکی ذات کے لیے مخصوص ہے، پس وہی ذات ہے کہ جو مؤمنین کی سرپرست اور انکا دفاع کرنے والی ہے۔

الصحيح من سيرة النبي الأعظم (ص) ، السيد جعفر مرتضي ، ج 5 ص 315 .

اور سيد محمد باقر حكيم نے بھی لکھا ہے کہ:

ولا يشك أي مسلم يعرف القليل عن شخصية الإمام علي ( عليه السلام ) بوضع هذا الحديث علي لسانه ، حيث إن الإمام علي ( عليه السلام ) تربي في حجر الرسول منذ أن كان طفلا وتخلق باخلاقه ، فكيف يمكن ان نتصور وقوع هذا الشئ منه ، خصوصا إذا أخذنا بعين الاعتبار نزول بعض الآيات القرآنية في ذم الخمر قبل هذا الوقت ، وإذا لاحظنا وجود بعض النصوص التي تذكر نزول الآية في شخص آخر من كبار الصحابة ، ممن كان قد اعتاد شرب الخمر في الجاهلية عرفنا الهدف السياسي فيها .

کوئی مسلمان بھی کہ جو امیر المؤمنین علی کی شخصیت سے تھوڑی سی بھی آشنائی رکھتا ہو تو، اسکو کسی قسم کا شک نہیں ہوتا کہ یہ روایت کہ جو خود انکی زبان سے نقل کی گئی ہے، وہ باطل اور جھوٹی ہے، کیونکہ امیر المؤمنین علی بچپن سے ہی رسول خدا کے دامن میں پلے بڑھے تھے اور انکے اخلاق حسنہ سے تربیت یافتہ تھے، پس کیسے تصور کیا جا سکتا ہے کہ اس طرح کا حرام کام اس جیسے بندے سے سرزد ہو ؟ مخصوصا اگر دقت کے ساتھ اس ماجرے سے پہلے شراب کی مذمت کے بارے میں نازل ہونے والی آیات میں، غور کریں اور ان روایات میں غور کریں کہ جن میں ذکر کیا گیا ہے کہ شراب کی مذمت والی آیات کس کے بارے میں نازل ہوئی ہیں ، وہ شراب خور بندہ صحابی ہے کہ جو زمانہ جاہلیت سے شراب پینے کی عادت میں مبتلا تھا، تو ہمارے لیے واضح ہو جائے گا کہ اس تہمت کے لگانے کا مقصد صرف اور صرف سیاسی تھا۔

علوم القرآن ، السيد محمد باقر الحكيم ، ص 303 .

اسی موضوع کے متعلق چند اہم مطالب:

سوال:

کہا جاتا ہے کہ عمر شراب پینے کا بہت عادی تھا ؟

جواب:

ہاں، شراب عمر کی سب سے پسندیدہ چیز تھی۔ وہ زمانہ جاہلیت اور اسلام قبول کرنے کے بعد بھی بہت زیادہ شراب پیتا تھا۔

ابن عمر نے اپنے باپ عمر سے نقل کیا ہے کہ عمر نے کہا ہے کہ:

بے شک زمانہ جاہلیت میں سب سے زیادہ شراب خور ترین بندہ تھا۔

سنن کبری،ج10 ص214

سیره عمر،ابن جوزی،ص68

کنز العمال،ج3 ص107

حتی روایات میں ذکر ہوا ہے کہ ایسی محفل اور ایسے دسترخوان پر بیٹھنا کہ جس پر شراب ہو، حرام ہے۔

شیخ یعقوب کلینی نے اپنی کتاب اصول کافی میں روایت نقل کی ہے کہ: منصور عباسی ملعون نے امام صادق (ع) کو ایک محفل میں دعوت کی اور دسترخوان پر شراب کو بھی رکھا۔ امام صادق علیہ السلام اس محفل سے اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا:

ملعون ہے، ملعون ہے وہ شخص کہ جو ایسے دسترخوان پر بیٹھے کہ جس پر شراب بھی رکھی گئی ہو۔

الکافی ج6 ص268

التهذیب ج9 ص97

رسول خدا (ص) نے فرمایا ہے کہ:

جو شخص خداوند اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو، اسکو ایسے دسترخوان پر نہیں بیٹھنا چاہیے کہ جس پر شراب رکھی گئی ہو۔

الکافی ج6 ص268

امام رضا علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ:

جس دسترخوان پر شراب ہو، اس سے نہ کھاؤ اور ایسی محفل میں حاضر بھی نہ ہو، کیونکہ اگر خداوند کی لعنت اور عذاب نازل ہوا تو وہ تم سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔

فقه الرضا ص46

ایک روایت میں ذکر ہوا ہے کہ: ابلیس نے حضرت موسی (ع) سے مخاطب ہو کر کہا کہ:

کیا آپ نہیں چاہتے کہ میں آپکو بتاؤں کہ جس دسترخوان پر شراب ہو، اس پر نہ بیٹھنا، کیونکہ یہاں پر بیٹھنا ہر برائی کی جڑ ہے۔

مستدرک الوسائل ج16 ص206

آلوسى نے عمل صحابہ اور انکے شراب کے بارے میں واضح آیت نازل ہونے کے بعد بھی، شراب پینے کو دلیل بناتے ہوئے کہا ہے کہ: یہ آیت شراب کے حرام ہونے پر دلالت نہیں کرتی اور مزید لکھا ہے کہ: بزرگ صحابہ نے اس آیت کے نازل ہونے کے بعد بھی شراب پینا ترک نہیں کیا تھا۔

قوله تعالي : «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَي... »

سورہ نساء آیت 43

ومن هنا شربها كبار الصحابة رضي الله تعالى عنهم بعد نزولها، وقالوا: إنما نشرب ما ينفعنا، ولم يمتنعوا حتى نزلت آية المائدة فهي المحرمة...

سورہ نساء کی آیت نازل ہونے کے بعد بھی بلند مرتبہ صحابہ شراب پیا کرتے تھے اور وہ کہتے تھے کہ ہم وہ شراب پیتے ہیں جو ہمیں فائدہ دیتی ہے اور وہ سورہ مائدہ کی آیت کہ جس نے شراب کو حرام قرار دیا تھا، کے نازل ہونے تک شراب پیا کرتے تھے۔ سورہ مائدہ کی اس آیت نے شراب کے حرام کی بہت زیادہ تاکید کر دی تھی۔

روح المعاني في تفسير القرآن العظيم ج1 ص509 المؤلف: شهاب الدين محمود بن عبد الله الحسيني الألوسي (المتوفى: 1270هـ)، المحقق: علي عبد الباري عطية، الناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1415 هـ، عدد الأجزاء: 16 (15 ومجلد فهارس)

الثَّامِنَةُ- قَوْلُهُ تَعَالَى: (وَإِثْمُهُما أَكْبَرُ مِنْ نَفْعِهِما) أعلم الله عز وجل أَنَّ الْإِثْمَ أَكْبَرُ مِنَ النَّفْعِ، وَأَعْوَدُ بِالضَّرَرِ فِي الْآخِرَةِ، فَالْإِثْمُ الْكَبِيرُ بَعْدَ التَّحْرِيمِ، وَالْمَنَافِعُ قَبْلَ التَّحْرِيمِ. وَقَرَأَ حَمْزَةُ وَالْكِسَائِيُّ" كَثِيرٌ" بِالثَّاءِ الْمُثَلَّثَةِ، وَحُجَّتُهُمَا۔

أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ الْخَمْرَ وَلَعَنَ مَعَهَا عَشَرَةً: بَائِعَهَا وَمُبْتَاعَهَا وَالْمُشْتَرَاةُ لَهُ وَعَاصِرَهَا وَالْمَعْصُورَةَ لَهُ وَسَاقِيَهَا وَشَارِبَهَا وَحَامِلَهَا وَالْمَحْمُولَةَ لَهُ وَآكِلَ ثَمَنِهَا. وَأَيْضًا فَجَمْعُ الْمَنَافِعِ يَحْسُنُ مَعَهُ جَمْعُ الْآثَامِ. وَ" كَثِيرٌ" بِالثَّاءِ الْمُثَلَّثَةِ يُعْطِي ذَلِكَ. وَقَرَأَ بَاقِي الْقُرَّاءِ وَجُمْهُورُ النَّاسِ" كَبِيرٌ" بِالْبَاءِ الْمُوَحَّدَةِ، وَحُجَّتُهُمْ أَنَّ الذَّنْبَ فِي الْقِمَارِ وَشُرْبِ الْخَمْرِ مِنَ الْكَبَائِرِ، فَوَصْفُهُ بِالْكَبِيرِ أَلْيَقُ. وَأَيْضًا فَاتِّفَاقُهُمْ عَلَى" أَكْبَرُ" حُجَّةٌ لِ" كَبِيرٌ" بِالْبَاءِ بِوَاحِدَةٍ. وَأَجْمَعُوا عَلَى رَفْضِ" أَكْثَرُ" بِالثَّاءِ الْمُثَلَّثَةِ، إِلَّا فِي مُصْحَفِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَإِنَّ فِيهِ" قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَثِيرٌ"" وَإِثْمُهُمَا أَكْثَرُ" بِالثَّاءِ مُثَلَّثَةً فِي الْحَرْفَيْنِ.

تفسير القرطبي ج3 ص60 المؤلف: أبو عبد الله محمد بن أحمد بن أبي بكر بن فرح الأنصاري الخزرجي شمس الدين القرطبي (المتوفى: 671رهـ)، تحقيق: أحمد البردوني وإبراهيم أطفيش، الناشر: دار الكتب المصرية - القاهرة، الطبعة: الثانية، 1384هـ - 1964 م، عدد الأجزاء: 20 جزءا (في 10 مجلدات)

شراب خوری اور شراب فروشی اسلام کی نظر میں:

دین اسلام دین فطرت ہے جو انسانیت کو پاکیزگی و پاک بازی، عفت و پاک دامنی، شرم و حیا اور راست گوئی و راست بازی جیسی اعلیٰ صفات سے متصف اور مزین دیکھنا چاہتا ہے ۔ اس کے مقابلہ میں بے شرمی ، بے حیائی، بے عقلی، بد گوئی اور بے راہ روی جیسی مبغوض و ملعون عادات اور خسیس و رذیل حرکات سے بچنے کا حکم اور امر کرتا ہے۔

اسی بنا پر اسلام نے ہر اس چیز کے کھانے، پینے اور استعمال کی اجازت دی ہے جو حلال، طیب، پاکیزہ اور صاف ستھری ہو، جس کے استعمال سے صحت، قوت، طاقت، فرحت اور انبساط جیسی جسمانی ضروریات پوری ہوتی ہوں اور کردار و اخلاق جیسے عمدہ خصال بنتے اور سنورتے ہوں اور اس کے برعکس ہر اس چیز کے استعمال سے منع کیا ہے جس سے صحت ایمانی اور صحت جسمانی کی خرابی، عقل و شعور جیسی نعمت کا زوال اور تہذیب و اخلاق جیسے اعلیٰ اوصاف کے بگڑنے یا بدلنے کا اندیشہ اور شائبہ تک پایا جاتا ہو۔

ایک مسلمان کے لیے جس طرح نماز، روزہ، زکوٰة اور حج کی فرضیت کا عقیدہ رکھنا، ان کا علم حاصل کرنا اور ان پر عمل کرنا فرض اور ضروری ہے، اسی طرح شراب، جوا، سود، زنا اور چوری کی حرمت کا عقیدہ رکھنا، اس کی حرمت کا علم حاصل کرنا اور اس سے بچنا بھی فرض اور ضروری ہے۔

شراب کے نفع و نقصان، حلال و حرام ہونے کے اوقات، پھر قطعی طور پر ممانعت کا حکم اور حرمت و ممانعت کی حکمت کا ذکر قرآن کریم میں تین مقامات پر آیا ہے:

1 ۔ یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ، قُلْ فِیْہِمآ إِثْمٌ کَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ إِثْمُہُمآ أَکْبَرُ مِنْ نَّفْعِہِمَا…

تجھ سے پوچھتے ہیں شراب کا اور جوئے کا، کہہ دے ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور فائدے بھی ہیں لوگوں کو اور ان کا گناہ بہت بڑا ہے ان کے فائدہ سے…

سورہ بقرہ آیت 21

اس آیت میں شراب کے بارے میں سوال کے جواب میں خداوند نے واضح طور پر فرمایا کہ اگرچہ شراب اور قمار میں کچھ فائدہ ہے، لیکن ان کا گناہ اور نقصان ان کے فائدہ سے شدید تر ہے۔ ہر آدمی جانتا ہے کہ شراب پینے سے عقل جاتی رہتی ہے اور یہی عقل ہی انسان کو تمام برائیوں اور افعال شنیعہ سے بچاتی ہے۔

اس آیت کے نزول کے بعد بہت سی محتاط طبیعتوں نے مستقل طور پر شراب نوشی ترک کر دی، پھر کسی موقع پر نماز مغرب ہو رہی تھی، امام صاحب نے نشہ کی حالت میں سورة الکافرون میں ”لاَ أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ “ کی جگہ “ أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ “ پڑھا، جس سے معنی میں بہت زیادہ تبدیلی آ گئی، یعنی شرک سے اظہار برأت کی جگہ شرک کا اظہار لازم آیا تو خداوند نے فوراً یہ آیت نازل فرمائی:

2 ۔ یٰأَیُّھا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَقْرَبُوْا الصَّلٰوةَ وَ أَنْتُمْ سُکٰرٰی حَتَّی تَعْلَمْوْا مَا تَقُوْلُوْنَ …

اے ایمان والو ! نزدیک نہ جاؤ نماز کے جس وقت کہ تم نشہ میں ہو، یہاں تک کہ سمجھنے لگو جو کہتے ہو…

سورہ نساء آیت 43

چونکہ اس آیت سے بھی شراب کی ناپسندیدگی کا اظہار ہوتا ہے، جس کی بناء پر بہت سے بہت سے صحابہ نے کلی طور پر شراب نوشی ترک کر دی اور بہت سوں نے نماز عصر اور نماز مغرب کے بعد شراب پینا اس لیے چھوڑ دیا کہ ان نمازوں کے اوقات قریب قریب ہیں، لیکن پھر بھی شراب پیا کرتے تھے۔

بہرحال قرآن کریم کے اشارات اور قرائن سے یہی معلوم ہوتا تھا کہ عنقریب شراب کی حرمت کا قطعی حکم نازل ہونے والا ہے۔

تیسرے مرحلہ پر سورة المائدہ کی یہ آیات نازل ہوئیں:

3- یٰأَیُّھا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْأنْصَابُ وَالْأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ، إِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطَانُ أَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَکُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضآءَ فِیْ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ وَیَصُدَّکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللهِ وَعَنِ الصَّلٰوةِ، فَہَلْ أَنْتُمْ مُّنْتَہُوْنَ، وَأَطِیْعُوْا اللهَ وَأَطِیْعُوْا الرَّسُوْلَ وَاحْذَرُوْا، فَإِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْآ أَنَّمَا عَلٰی رَسُوْلِنَا الْبَلاَغُ الْمُبِیْنُ۔

اے ایمان والو ! یہ جو ہے شراب اور جوا اور بت اور پانسے سب گندے کام ہیں شیطان کے، سو ان سے بچتے رہو تا کہ تم نجات پاؤ، شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ ڈالے تم میں دشمنی اور بیر بذریعہ شراب اور جوئے کے اور روکے تم کو اللہ کی یاد سے اور نماز سے، سو اب بھی تم باز آؤ گے؟ اور حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور بچتے رہو، پھر اگر تم پھر جاؤ گے تو جان لو کہ ہمارے رسول کا ذمہ صرف پہنچا دینا ہے کھول کر۔

سورہ مائدہ آیات 90، 91، 92

عن النبی قال: لایدخل الجنة عاقٌّ و لا قمَّار و لا منَّان و لا مدمن خمر۔ رواہ الدارمی۔

چار بندے جنت میں داخل نہیں ہوں گے: والدین کا نافرمان، جوئے باز، صدقہ کر کے جتلانے والا اور ہمیشہ بہت زیادہ شراب پینے والا۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح مشکوٰة، ص318

شراب خوار کا جنت نہ جانا تو ایک طرف، ایسے شخص پر خداوند نے جنت کو حرام قرار دیا ہے۔

عن ابن عمر أن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم قال: ثلٰثة قد حرم الله علیہم الجنة، مدمن الخمر والعاق والدیوث الذی یقر فی اہلہ الخبث۔ رواہ أحمد و النسائی۔

اللہ تعالیٰ نے تین شخصوں پر جنت حرام قرار دی ہے، شراب خور، والدین کا نافرمان اور وہ دیوث، جو اپنے گھر میں گندگی کو برداشت کرتا ہے۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح مشکوٰة، ص318

عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : لعن الله الخمر وشاربھا وساقیھا ومبتاعھا وبائعھا وعاصرھا ومعتصرھا وحاملھا والمحمولة إلیہ۔ رواہ ابو داؤد واللفظ لہ وابن ماجة، وزاد: وآکل ثمنھا۔

ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول خدا نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے شراب، اس کے پینے والے، اس کے پلانے والے، اس کے خریدنے والے، اس کے بیچنے والے، اس کے بنانے والے،اس کے بنوانے والے، اس کے اٹھانے والے اور جس کی طرف لے جائی جائے (ان سب) پر لعنت کی ہے اور ایک روایت میں ہے کہ: اس کی قیمت کھانے والے پر بھی لعنت کی ہے۔

الترغیب والترہیب ج 3، ص 174

قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ شَرِبَ الخَمْرَ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلاَةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا۔

رسول خدا (ص) نے فرمایا ہے کہ: جو شخص شراب پیئے تو چالیس دن تک اسکی نماز تک قبول نہیں ہوتی۔

صحیح ترمذی، ج 2 ص 186

اسی بناء پر پیغمبر اکرم سے ایک روایت نقل ہوئی ہے کہ:

شرب الخمر کعابد الوثن،

شراب پینا، بت پرستی کی مانند ہے۔

حاشیہ تفسیر طبری، ج7، ص31۔

یہی حدیث تفسیر نور الثقلین، ج1، ص669 میں امام صادق علیہ السلام سے بھی منقول ہے ۔

خلاصہ یہ کہ شرابی جنت میں داخلے سے محروم ہے، شرابیوں کو دوزخیوں کے زخموں کی گندگی پلائی جائے گی، شرابی کی نماز قبول نہیں، شراب نوشی ترک نہ کرنے والوں کے خلاف جہاد کا حکم ہے، شراب بیماریوں کے بڑھنے کا سبب ہے ، شراب پینا، پلانا، بیچنا، خریدنا، بنانا، بنوانا، لانا، منگوانا یہ سب کام موجبِ لعنت اور حرام ہیں۔ اسی طرح ایک مسلمان کے حق میں جب شراب حرام ہے تو اسے بیچ کر اس کی قیمت، نفع، ٹیکس یا زرمبادلہ حاصل کرنا بھی حرام ہے اور یہ کہ شراب بیچنے والا اور خنزیر بیچنے والا دونوں حکم میں برابر ہیں، کیونکہ دونوں چیزیں مسلمان کے حق میں حرام اور نجس العین ہیں۔

اسلام تجارت، محنت، مزدوری اور حصول رزق سے کبھی منع نہیں کرتا، بلکہ اس کی ترغیب و تحریض کے علاوہ اس کے فضائل بھی بیان کرتا ہے۔ اسلام کسب حلال کی محنت اور جستجو کو ایک بہترین عمل اور فریضہ قرار دیتا ہے۔ ہاں ! اسلام حلال اور حرام کے درمیان حد فاصل ضرور قائم کرتا ہے۔

شراب ، جوا، قمار، سود، زنا، جسم فروشی غرضیکہ ہر وہ چیز اور طریقہ ان کے نزدیک ٹھیک اور قابل عمل ہے، جس سے حصول زر وابستہ ہو-

قرآن کریم اور رسول خدا (ص) کے ان صریح ارشادات کے بعد تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی مسلمان اس ام الخبائث کے قریب بھی جا سکتا ہے۔ جب ایک عام مسلمان کے لیے دین اسلام میں یہ حکم ہے تو پھر جو مسلمانوں کا خلیفہ ہو، اسکو کیسا ہونا چاہیے ؟ عدالت و خدمت و عدل جیسے القابات کو چرا لینا اور بات ہے اور عملی طور پر اپنے کردار کو دین اسلام کے مطابق صحیح کرنا، یہ  ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔

کسی نے خوب کہا ہے کہ:

خوشبو آ نہیں سکتی کاغذ کے پھولوں سے۔

شیر خدا، صدیق اکبر، فاروق اعظم، اول مظلوم کائنات، مولود کعبہ، شہید محراب، مجسمہ عدل و عدالت  حضرت مولانا امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب (ع) کی ایک زیارت کے چند جملے:

السَّلامُ عَلَيْكَ يَا وَصِيَّ الْأَوْصِيَاءِ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا عِمَادَ الْأَتْقِيَاءِ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا وَلِيَّ الْأَوْلِيَاءِ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا سَيِّدَ الشُّهَدَاءِ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا آيَةَ اللَّهِ الْعُظْمَى السَّلامُ عَلَيْكَ يَا خَامِسَ أَهْلِ الْعَبَاءِ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا قَائِدَ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِينَ الْأَتْقِيَاءِ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا عِصْمَةَ الْأَوْلِيَاءِ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا زَيْنَ الْمُوَحِّدِينَ النُّجَبَاءِ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا خَالِصَ الْأَخِلاءِ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا وَالِدَ الْأَئِمَّةِ الْأُمَنَاءِ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا صَاحِبَ الْحَوْضِ وَ حَامِلَ اللِّوَاءِ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا قَسِيمَ الْجَنَّةِ وَ لَظَى السَّلامُ عَلَيْكَ يَا مَنْ شُرِّفَتْ بِهِ مَكَّةُ وَ مِنًى السَّلامُ عَلَيْكَ يَا بَحْرَ الْعُلُومِ وَ كَنَفَ [كَهْفَ‏] الْفُقَرَاءِ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا مَنْ وُلِدَ فِي الْكَعْبَةِ وَ زُوِّجَ فِي السَّمَاءِ بِسَيِّدَةِ النِّسَاءِ، السَّلامُ عَلَيْكَ يَا صدیق الاکبر و الفاروق الاعظم و  السَّلامُ عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ ،

السَّلامُ عَلَيْكَ يَا حُجَّةَ اللَّهِ عَلَى مَنْ كَفَرَ وَ أَنَابَ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا إِمَامَ ذَوِي الْأَلْبَابِ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا مَعْدِنَ الْحِكْمَةِ وَ فَصْلَ الْخِطَابِ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا مَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا مِيزَانَ يَوْمِ الْحِسَابِ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا فَاصِلَ الْحُكْمِ النَّاطِقَ بِالصَّوَابِ السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْمُتَصَدِّقُ بِالْخَاتَمِ فِي الْمِحْرَابِ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا مَنْ كَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ بِهِ يَوْمَ الْأَحْزَابِ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا مَنْ أَخْلَصَ لِلَّهِ الْوَحْدَانِيَّةَ وَ أَنَابَ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا قَاتِلَ خَيْبَرَ وَ قَالِعَ الْبَابِ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا مَنْ دَعَاهُ خَيْرُ الْأَنَامِ لِلْمَبِيتِ عَلَى فِرَاشِهِ فَأَسْلَمَ نَفْسَهُ لِلْمَنِيَّةِ وَ أَجَابَ،

السَّلامُ عَلَيْكَ يَا مَنْ لَهُ طُوبَى وَ حُسْنُ مَآبٍ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا وَلِيَّ عِصْمَةِ الدِّينِ وَ يَا سَيِّدَ السَّادَاتِ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا صَاحِبَ الْمُعْجِزَاتِ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا مَنْ نَزَلَتْ فِي فَضْلِهِ سُورَةُ الْعَادِيَاتِ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا مَنْ كُتِبَ اسْمُهُ فِي السَّمَاءِ عَلَى السُّرَادِقَاتِ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا مُظْهِرَ الْعَجَائِبِ وَ الْآيَاتِ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْغَزَوَاتِ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا مُخْبِرا بِمَا غَبَرَ وَ بِمَا هُوَ آتٍ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا مُخَاطِبَ ذِئْبِ الْفَلَوَاتِ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا خَاتِمَ الْحَصَى وَ مُبَيِّنَ الْمُشْكِلاتِ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا مَنْ عَجِبَتْ مِنْ حَمَلاتِهِ فِي الْوَغَى مَلائِكَةُ السَّمَاوَاتِ،

السَّلامُ عَلَيْكَ يَا مَنْ نَاجَى الرَّسُولَ فَقَدَّمَ بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاهُ الصَّدَقَاتِ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا وَالِدَ الْأَئِمَّةِ الْبَرَرَةِ السَّادَاتِ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا تَالِيَ الْمَبْعُوثِ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا وَارِثَ عِلْمِ خَيْرِ مَوْرُوثٍ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا سَيِّدَ الْوَصِيِّينَ [الْمُؤْمِنِينَ‏] السَّلامُ عَلَيْكَ يَا إِمَامَ الْمُتَّقِينَ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا غِيَاثَ الْمَكْرُوبِينَ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا عِصْمَةَ الْمُؤْمِنِينَ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا مُظْهِرَ الْبَرَاهِينِ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا طه وَ يس السَّلامُ عَلَيْكَ يَا حَبْلَ اللَّهِ الْمَتِينَ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا مَنْ تَصَدَّقَ فِي صَلاتِهِ بِخَاتَمِهِ عَلَى الْمِسْكِينِ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا قَالِعَ الصَّخْرَةِ عَنْ فَمِ الْقَلِيبِ وَ مُظْهِرَ الْمَاءِ الْمَعِينِ،

السَّلامُ عَلَيْكَ يَا عَيْنَ اللَّهِ النَّاظِرَةَ وَ يَدَهُ الْبَاسِطَةَ وَ لِسَانَهُ الْمُعَبِّرَ عَنْهُ فِي بَرِيَّتِهِ أَجْمَعِينَ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا وَارِثَ عِلْمِ النَّبِيِّينَ وَ مُسْتَوْدَعَ عِلْمِ الْأَوَّلِينَ وَ الْآخِرِينَ وَ صَاحِبَ لِوَاءِ الْحَمْدِ وَ سَاقِيَ أَوْلِيَائِهِ مِنْ حَوْضِ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا يَعْسُوبَ الدِّينِ وَ قَائِدَ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِينَ وَ وَالِدَ الْأَئِمَّةِ الْمَرْضِيِّينَ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ السَّلامُ عَلَى اسْمِ اللَّهِ الرَّضِيِّ وَ وَجْهِهِ الْمُضِي‏ءِ وَ جَنْبِهِ الْقَوِيِّ وَ صِرَاطِهِ السَّوِيِّ السَّلامُ عَلَى الْإِمَامِ التَّقِيِّ الْمُخْلِصِ الصَّفِيِّ السَّلامُ عَلَى الْكَوْكَبِ الدُّرِّيِّ السَّلامُ عَلَى الْإِمَامِ أَبِي الْحَسَنِ عَلِيٍّ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ السَّلامُ عَلَى أَئِمَّةِ الْهُدَى وَ مَصَابِيحِ الدُّجَى وَ أَعْلامِ التُّقَى وَ مَنَارِ الْهُدَى وَ ذَوِي النُّهَى وَ كَهْفِ الْوَرَى وَ الْعُرْوَةِ الْوُثْقَى وَ الْحُجَّةِ عَلَى أَهْلِ الدُّنْيَا وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ السَّلامُ عَلَى نُورِ الْأَنْوَارِ،

وَ حُجَّةِ الْجَبَّارِ وَ وَالِدِ الْأَئِمَّةِ الْأَطْهَارِ وَ قَسِيمِ الْجَنَّةِ وَ النَّارِ الْمُخْبِرِ عَنِ الْآثَارِ الْمُدَمِّرِ عَلَى الْكُفَّارِ مُسْتَنْقِذِ الشِّيعَةِ الْمُخْلِصِينَ مِنْ عَظِيمِ الْأَوْزَارِ السَّلامُ عَلَى الْمَخْصُوصِ بِالطَّاهِرَةِ التَّقِيَّةِ ابْنَةِ الْمُخْتَارِ الْمَوْلُودِ فِي الْبَيْتِ ذِي الْأَسْتَارِ الْمُزَوَّجِ فِي السَّمَاءِ بِالْبَرَّةِ الطَّاهِرَةِ الرَّضِيَّةِ الْمَرْضِيَّةِ وَالِدَةِ الْأَئِمَّةِ الْأَطْهَارِ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ السَّلامُ عَلَى النَّبَإِ الْعَظِيمِ الَّذِي هُمْ فِيهِ مُخْتَلِفُونَ وَ عَلَيْهِ يُعْرَضُونَ وَ عَنْهُ يُسْأَلُونَ السَّلامُ عَلَى نُورِ اللَّهِ الْأَنْوَرِ وَ ضِيَائِهِ الْأَزْهَرِ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا وَلِيَّ اللَّهِ وَ حُجَّتَهُ وَ خَالِصَةَ اللَّهِ وَ خَاصَّتَهُ أَشْهَدُ أَنَّكَ يَا وَلِيَّ اللَّهِ [وَ حُجَّتَهُ‏] لَقَدْ جَاهَدْتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ،  فَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ دَفَعَكَ عَنْ حَقِّكَ وَ أَزَالَكَ عَنْ مَقَامِكَ وَ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ بَلَغَهُ ذَلِكَ فَرَضِيَ بِهِ أُشْهِدُ اللَّهَ وَ مَلائِكَتَهُ وَ أَنْبِيَاءَهُ وَ رُسُلَهُ أَنِّي وَلِيٌّ لِمَنْ وَالاكَ وَ عَدُوٌّ لِمَنْ عَادَاكَ السَّلامُ عَلَيْكَ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ.

أَشْهَدُ أَنَّكَ تَسْمَعُ كَلامِي وَ تَشْهَدُ مَقَامِي وَ أَشْهَدُ لَكَ يَا وَلِيَّ اللَّهِ بِالْبَلاغِ وَ الْأَدَاءِ يَا مَوْلايَ يَا حُجَّةَ اللَّهِ يَا أَمِينَ اللَّهِ يَا وَلِيَّ اللَّهِ إِنَّ بَيْنِي وَ بَيْنَ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ ذُنُوبا قَدْ أَثْقَلَتْ ظَهْرِي وَ مَنَعَتْنِي مِنَ الرُّقَادِ وَ ذِكْرُهَا يُقَلْقِلُ أَحْشَائِي وَ قَدْ هَرَبْتُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ إِلَيْكَ فَبِحَقِّ مَنِ ائْتَمَنَكَ عَلَى سِرِّهِ وَ اسْتَرْعَاكَ أَمْرَ خَلْقِهِ وَ قَرَنَ طَاعَتَكَ بِطَاعَتِهِ وَ مُوَالاتَكَ بِمُوَالاتِهِ كُنْ لِي إِلَى اللَّهِ شَفِيعا وَ مِنَ النَّارِ مُجِيرا وَ عَلَى الدَّهْرِ ظَهِيرا.

يَا وَلِيَّ اللَّهِ يَا حُجَّةَ اللَّهِ يَا بَابَ حِطَّةِ اللَّهِ وَلِيُّكَ وَ زَائِرُكَ وَ اللائِذُ بِقَبْرِكَ وَ النَّازِلُ بِفِنَائِكَ وَ الْمُنِيخُ رَحْلَهُ فِي جِوَارِكَ يَسْأَلُكَ أَنْ تَشْفَعَ لَهُ إِلَى اللَّهِ فِي قَضَاءِ حَاجَتِهِ وَ نُجْحِ طَلِبَتِهِ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ فَإِنَّ لَكَ عِنْدَ اللَّهِ الْجَاهَ الْعَظِيمَ وَ الشَّفَاعَةَ الْمَقْبُولَةَ فَاجْعَلْنِي يَا مَوْلايَ مِنْ هَمِّكَ وَ أَدْخِلْنِي فِي حِزْبِكَ وَ السَّلامُ عَلَيْكَ وَ عَلَى ضَجِيعَيْكَ آدَمَ وَ نُوحٍ وَ السَّلامُ عَلَيْكَ وَ عَلَى وَلَدَيْكَ الْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ وَ عَلَى الْأَئِمَّةِ الطَّاهِرِينَ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ .

التماس دعا.....





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی