2017 August 20
فضائلِ امیر المؤمنین امام المتقین علی ابن ابی طالب علیہ السلام علماء و کتب اہل سنت کی نظر میں
مندرجات: ٧٩٥ تاریخ اشاعت: ١٩ June ٢٠١٧ - ١٣:٣٤ مشاہدات: 476
یاداشتیں » پبلک
جدید
فضائلِ امیر المؤمنین امام المتقین علی ابن ابی طالب علیہ السلام علماء و کتب اہل سنت کی نظر میں

ان مختصر سے ابتدائی کلمات میں یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ علمائے اہلِ سنت کی کتب سے حوالہ جات لکھنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ شیعہ علماء نے ان روایات کے بارے میں کچھ نہیں لکھا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان تمام روایات کو شیعہ علماء نے اپنی کتب میں واضح طور پر بیان کیا ہے اور اُن کی نظر میں یہ سب معتبر اور تسلیم شدہ ہیں۔ ان کے بارے میں کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔ لہٰذا ان وجوہات کے پیش نظر شیعہ علماء اور کتب شیعہ سے کوئی حوالہ نہیں لکھا جا رہا۔ صرف چند ایک جگہوں پر اشارتاً ذکر کیا گیا ہے۔

اصل مدعا یہ ہے کہ وہ لوگ جو علی (ع) کو صرف مسلمانوں کا چوتھا خلیفہ مانتے ہیں اور اُن کو رسول اللہ کا خلیفہٴ بلافصل نہیں مانتے، آپ کے فضائل اُن کی زبانی سنے جائیں، اس لیے کہ اہل سنت کے لیے شیعہ کتب حجت نہ ہوں تو، انکے اپنے علماء اور مذہب کی کتب تو انکے لیے یقینی طور پر حجت ہیں، اسی لیے ہم نے امیر المؤمنین علی کے اہم فضائل کو اہل سنت کی معتبر کتب سے جمع کر کے بیان کیا ہے تا کہ اس طرح ایک تو مسلمانانِ عالم کو صحیح راستہ دکھاتے ہوئے ان پر اتمام حجت ہو سکے ،  اور دوسرے اہلِ تشیع کے ایمان نسبت بہ محمد و آلِ محمد کو مزید تقویت پہنچا سکیں گے،انشاء اللہ۔

پہلی روایت:

علی (ع)  سب سے پہلے نبوت اور کلمہ ٴتوحید کی گواہی دینے والے ہیں۔

عَنْ انس ابن مالک قَالَ: قَالَ رَسُوْل اللّٰہِ:صَلّٰی عَلیَّ الْمَلٰائِکَةُ وَ عَلٰی عَلِیِّ سَبْعَ سِنِیْنَ وَلَمْ یَصْعُدْ اَوْ لَمْ یَرْتَفِعْ بِشَھٰادَةِ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مِنَ الْاَرْضِ اِلَی السَّمَاءِ اِلَّا مِنِّی وَمِنْ علی ابنِ ابی طالب۔

انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا کہ فرشتے سات سال تک مجھ پر اور علی علیہ السلام پر درود بھیجتے رہے (یہ اس واسطے کہ ان سات سالوں میں) خدا کی وحدانیت کی گواہی زمین سے آسمان کی طرف سوائے میرے اور علی کے علاوہ کسی نے نہ دی۔

یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کے سب سے پہلے اسلام لانے کے بارے میں اہلِ سنت اور شیعہ کتب سے کافی روایات ملتی ہیں۔ جیسے زید بن ارقم کہتے ہیں کہ:

اَوَّلُ مَنْ اَسْلَمَ عَلِی،

سب سے پہلے جو اسلام لائے وہ علی تھے۔

ابن کثیر کتاب البدایہ والنہایہ،جلد7،صفحہ335(باب فضائلِ علی علیہ السلام)۔

گنجی شافعی کتاب کفایة الطالب،باب25،صفحہ125۔

سیوطی ،کتاب تاریخ الخلفاء، صفحہ166(بابِ ذکر علی ابن ابی طالب علیہ السلام)۔

ابن عساکر تاریخ دمشق ،باب شرح حالِ امام علی ،جلد1، ص70،حدیث116۔

ابن مغازلی کتاب مناقب ِ امیر المؤمنین ،حدیث 19،ص8،اشاعت اوّل،ص14پر

شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، باب12،صفحہ68۔

حافظ الحسکانی، کتاب شواہد التنزیل میں، حدیث 786اور 819۔

سیوطی، کتاب اللئالی المصنوعہ،ج1،ص169و(صفحہ166اشاعت بولاق)

متقی ہندی، کنز العمال،ج11،ص616(موٴسسة الرسالہ بیروت،اشاعت پنجم)۔

اسی طرح انس بن مالک کہتے ہیں کہ:

"بُعِثَ النَّبِیُّ یَوْمَ الْاِثْنَیْنِ وَاَسْلَمَ عَلِیٌّ یَوْمَ الثلاثا"

یعنی پیغمبر اکرم (ص) پیر کے دن مبعوث برسالت ہوئے اور علی علیہ السلام نے منگل کے  دن اسلام قبول کیا۔

خطیب،تاریخ بغداد میں، جلد1، صفحہ134(حالِ علی علیہ السلام، شمارہ1)۔

حاکم ،المستدرک میں، جلد3، صفحہ112(بابِ فضائلِ علی علیہ السلام)۔

ابن کثیر، کتاب البدایہ والنہایہ، جلد3،صفحہ26۔

سیوطی، کتاب تاریخ الخلفاء،صفحہ166(بابِ ذکر علی ابن ابی طالب علیہ السلام)۔

شیخ سلیمان قندوزی حنفی، ینابیع المودة، باب12، صفحہ 68اورباب59،ص335

ابن عساکر تاریخ دمشق ، حالِ امیر الموٴمنین امام علی ،جلد1، ص41،حدیث76۔

دوسری روایت:

علی (ع)  پیغمبر (ص) کے ساتھ اور پیغمبر(ص) علی (ع) کے ساتھ ہیں:

عَنْ علی ابنِ ابی طالب قَالَ: قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلَّی اللّٰہُ علیہ وآلہ وسلَّمْ: یَا عَلِیُّ اَنْتَ مِنِّی وَ اَنَا مِنْکَ۔

علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے روایت ہے کہ پیغمبر اسلام نے فرمایا: یا علی ! تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔

حاکم، کتاب المستدرک میں جلد3،صفحہ120۔

ذہبی، میزان الاعتدال،جلد1 ،صفحہ 410، شمارہ 1505،ج3، ص324، شمارہ6613

ابن ماجہ سنن میں، جلد1،صفحہ44،حدیث119۔

ابن کثیر، کتاب البدایہ والنہایہ،جلد7،صفحہ344(بابِ فضائلِ علی علیہ السلام)۔

ابن عساکر، تاریخ دمشق میں، باب حالِ امیر الموٴمنین ،ج1، ص124،حدیث183

سیوطی،تاریخ الخلفاء،صفحہ169۔

ابن مغازلی، کتاب مناقب میں، حدیث275،صفحہ228،اشاعت اوّل۔

گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب، باب 67،صفحہ284۔

شیخ سلیمان قندوزہ حنفی ،کتاب ینابیع المودة، صفحہ277، باب7،صفحہ60۔

بخاری، کتاب صحیح بخاری میں، جلد5،صفحہ141(عن البراء بن عازب)۔

نسائی الخصائص میں، صفحہ19اور51اور حدیث133،صفحہ36۔

ترمذی اپنی کتاب میں، جلد13،صفحہ167(عن البراء بن عازب)۔

متقی ہندی، کتاب کنزل العمال ،جلد11،صفحہ599،اشاعت پنجم بیروت۔

تیسری روایت:

پیغمبر(ص)  اور علی (ع)  کی خلقت ایک ہی نور سے ہوئی ہے:

عَنْ جٰابِرِبْنِ عَبْدُ اللّٰہِ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِی رسول اللّٰہ یَقُوْلُ لِعَلیٍّ: النّاسُ مِنْ شَجَرٍ شَتّیٰ وَ اَنَا وَ اَنْتَ مِنْ شَجَرَةٍ وٰاحِدَةٍ ثُمَّ قَرَأَ النَّبِی"وَجَنٰاتٌ مِنْ اَعْنَابٍ وَزَرْعٌ وَنَخِیْلٌ صِنْوٰانٌ وَغَیْرُ صِنْوٰانٍ یُسْقٰی بِمٰاءٍ وٰاحِدٍ۔

جابر ابن عبد اللہ کہتے ہیں کہ میں نے رسولِ خدا (ص) سے سنا کہ وہ حضرت علی علیہ السلام سے مخاطب تھے اور فرما رہے تھے کہ سب لوگ سلسلہ ہائے مختلف (مختلف اشجار) سے پیدا کئے گئے ہیں لیکن میں اور تو (علی ) ایک ہی سلسلہ (شجرئہ طیبہ) سے خلق کئے گئے ہیں اور پھر آپ نے یہ آیت پڑھی:

ثُمَّ قَرَأَ النَّبِی وَجَنٰاتٌ مِنْ اَعْنَابٍ وَزَرْعٌ وَنَخِیْلٌ صِنْوٰانٌ وَغَیْرُ صِنْوٰانٍ یُسْقٰی بِمٰاءٍ وٰاحِدٍ ۔ (سورہ رعد:آیت:13)

اور انگوروں کے باغ اور کھیتیاں اور کھجور کے درخت ایک ہی جڑ میں سے کئی اُگے ہوئے اور علیحدہ علیحدہ اُگے ہوئے کہ یہ سب ایک ہی پانی سے سیراب کیے جاتے ہیں۔

ابن مغازلی، کتاب مناقب، حدیث 400اور حدیث90،297میں۔

حموینی، کتاب فرائد السمطین،باب4،حدیث17۔

حاکم، کتاب المستدرک،جلد2،صفحہ241۔

ابن عساکر، تاریخ دمشق ، شرح حالِ علی ، ج1، ص126، حدیث178، شرح محمودی۔

سیوطی، تفسیر الدر المنثور میں،جلد4،صفحہ51اور تاریخ الخلفاء، صفحہ171۔

شیخ سلیمان قندوزی حنفی، ینابیع المودة، بابِ مناقب70، حدیث37،صفحہ280۔

حافظ الحسکانی،کتاب شواہد التنزیل میں، حدیث395۔

متقی ہندی، کنز العمال، جلد6، صفحہ154، اشاعت اوّل ،جلد2، ص608 (موٴسسة الرسالہ بیروت، اشاعت پنجم)۔

چوتھی روایت:

علی (ع)  ہی دنیا و آخرت میں نبی (ص)  کے علم بردار ہیں:

عن جابر ابنِ سَمْرَةَ قَالَ: قِیْلَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ مَنْ یَحْمِلُ ٰرایَتَکَ یَوْمَ القِیٰامَةِ ؟ قٰالَ: مَنْ کَانَ یَحْمِلُھَا فِی الدُّنْیٰا علی۔

جابر ابن سمرہ سے روایت ہے کہ رسولِ خدا کی خدمت میں عرض کیا گیا:یا رسول اللہ! قیامت کے روز آپ کا عَلَم کون اٹھائے گا؟ آپ نے فرمایا جو دنیا میں میرا علمبردار ہے یعنی علی ۔

ابن کثیر، کتاب البدایہ والنہایہ، جلد7،صفحہ336 (بابِ فضائل حضرت علی )۔

ابن عساکر، تاریخ دمشق ، شرح حالِ علی ، ج1، ص145، حدیث209، شرح محمودی۔

ابن مغازلی، کتاب مناقب ِ امیر الموٴمنین علیہ السلام میں، حدیث237،صفحہ200۔

علامہ اخطب خوارزمی، کتاب مناقب،صفحہ250۔

علامہ عینی، کتاب عمدة القاری،16۔216۔

متقی ہندی، کتاب کنز العمال میں، جلد13،صفحہ136

پانچویں روایت:

علی (ع)  کی محبت گناہوں کو ختم کر دیتی ہے:

عَنْ ابنِ عباس قٰالَ: قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّمْ حُبُّ عَلِیٍّ یَأکُلُ السِّیِّاتِ کَمٰا تَاکُلُ النَّارُ الخَطَبَ۔

ابن عباس کہتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: علی کی محبت گناہوں کو ایسے کھا جاتی ہے جیسے خشک لکڑی کو آگ۔

ابن عساکر ،تاریخ دمشق ،بابِ شرح حالِ امیر الموٴمنین ، ج2،ص103حدیث607

خطیب ،تاریخ بغداد شرح حالِ احمد بن شبویة بن معین موصلی، ج4،ص194،

شمارہ1885۔

متقی ہندی، کنزل العمال، ج15،ص218،اشاعت دوم، شمارہ1261(بابِ فضائل علی ) اور دوسری اشاعت ج11،ص421(موٴسسة الرسالة بیروت، اشاعت5)

شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، بابِ مناقب سبعون، صفحہ279،حدیث 33 اور باب56صفحہ211اور 252۔

سیوطی در اللئالی المصنوعہ، جلد1،صفحہ184،اشاعت اوّل

چھٹی روایت:

 خداوند کی طرف سے باب علی (ع)  کے علاوہ تمام ابواب مسجد بند کرنے کا حکم:

عَنْ زَیْد اِبْنِ اَرْقَم قالَ: کَانَ لِنَفَرٍ مِنْ اَصْحٰابِ رَسُولِ اللّٰہِ اَبْوابٍ شَارِعَةٍ فِی الْمَسْجِدِ قَالَ: فَقٰالَ (النَّبِیُّ) یَوْمًا: سُدُّوا ھٰذِہِ الاَبْوَابَ اِلَّا بَابَ عَلی۔قٰالَ: فَتَکَلَّمَ فِیْ ذٰالِکَ اُنَاسٍ قٰالَ: فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ فَحَمَدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قٰالَ أَمَّا بَعْدُ فَاِنِّی اُمِرْتُ بِسَدِّ ھٰذِہِ الْاَبْوَابِ غَیْرَ بَابِ عَلِیٍّ فَقٰالَ فیہِ قَاعِلُکُمْ،وَ اِنِّی وَاللّٰہِ مَا سَدَدْتُ شَیْئًا وَلَا فَتَحْتُہ وَلَکِنِّی اُمِرْتُ بِشَیءٍ فَاتَّبِعُہ۔

زید بن ارقم کہتے ہیں کہ چند اصحابِ رسولِ خدا کے گھروں کے دروازے مسجد کی طرف کھلتے تھے۔ ایک دن رسولِ اکرم (ص) نے حکم دیا کہ تمام دروازوں کو سوائے حضرت علی علیہ السلام کے دروازے کے بند کر دیا جائے۔چند لوگوں نے اس پر چہ میگوئیاں کرنا شروع کر دیں۔ پس رسولِ خدا کھڑے ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا شروع کر دی اور فرمایا کہ جب سے میں نے دروازوں کو بند کرنے کا حکم  دیا ہے ،اُس کے بعد سے کچھ لوگوں نے باتیں کی ہیں، اس کے بارے میں صحیح رائے نہیں رکھتے۔ خدا کی قسم! میں نے کسی دروازے کو اپنی طرف سے بند کرنے کا حکم نہیں دیا اور نہ ہی کسی کے کھولنے کا حکم اپنی طرف سے دیا ہے، لیکن خدا کی طرف سے مجھے حکم ملا اور میں نے حکمِ خدا کو جاری کر دیا ہے۔

ابن عساکر تاریخ دمشق ، باب شرح حالِ امام علی ، ج1، احادیث323 تا335۔

ابن مغازلی، کتاب مناقب، حدیث302،صفحہ253۔

ابو نعیم ، کتاب حلیة الاولیاء، باب شرح حالِ عمرو بن میمون۔

حاکم، کتاب المستدرک، جلد3،صفحہ125،حدیث63،بابِ مناقب علی علیہ السلام۔

ابن کثیر کتاب البدایہ والنہایہ میں،جلد7،صفحہ343،اشاعت بیروت۔

گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب، باب50،صفحہ201۔

بہیقی، کتاب السنن الکبریٰ، جلد7،صفحہ65۔

شیخ سلیمان قندوزی حنفی،ینابیع المودة، باب مناقب السبعون ، ص275،حدیث11 اور باب17،صفحہ99۔

محب الدین طبری، کتاب ذخائر العقبی،صفحہ102۔

ابن حجر،کتاب فتح الباری،جلد8،صفحہ15۔

متقی ہندی، کتاب کنزل العمال،جلد11،صفحہ598و617،اشاعت بیروت۔

احمد بن حنبل، کتاب المسند،جلد1،صفحہ175۔

ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ،جلد9،صفحہ173۔

ہیثمی، کتاب مجمع الزوائد میں ، جلد9،صفحہ115۔

ساتویں روایت:

علی (ع)  کا مقام و منزلت:

عَنْ اِبْنِ عباس، عَنِ النَّبِی قٰالَ لِاُمِّ سَلَمَة:یَا اُمِّ سَلَمَةَ اِنَّ عَلِیًّا لَحْمُہُ مِنْ لَحْمِیْ وَ دَمُہُ مِنْ دَمِیْ وَ ھُوَ بِمَنْزِلَةِ ھَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی اِلَّا اَنَّہُ لَا نَبِیَّ بَعْدِی۔

ابن عباس سے روایت کی گئی ہے کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنابِ اُمِ سلمہ سے فرمایا :اے اُمِ سلمہ! بے شک علی کا گوشت میرا گوشت ہے، علی کا خون میرا خون ہے اور اُس کی نسبت محمد سے ایسی ہے جیسی ہارون کی موسیٰ سے تھی سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئیگا۔

حدیث ِمنزلت ِامام علی علیہ السلام ایک نہایت ہی اہم اور معتبر ترین حدیث ِ پیغمبر اسلام ہے جو حضرت علی علیہ السلام کی شان ،مقامِ عالی اور منزلت کا پتا دیتی ہے۔ البتہ یہ حدیث کئی اور ذرائع اور مختلف طریقوں سے بھی بیان کی جاتی ہے۔ مندرجہ بالا حدیث میں رسولِ خدا ص جنابِ اُمِ سلمہ سے مخاطب ہیں۔ لیکن ابوہریرہ سے یہ روایت (اس روایت کو ابن عساکر نے ترجمہ تاریخ دمشق ،جلد1،حدیث412میں اس طرح نقل کیا ہے) اس طرح سے منقول ہے:

اِنَّ النَّبی قٰالَ بِعَلِیٍّ عَلَیْہِ السَّلَام: یَا عَلِیُّ اَنْتَ بِمَنْزِلَةِ ھَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی اِلَّا النَّبُوَّةَ۔

پیغمبر اسلام نے حضرت علی علیہ السلام سے ارشاد فرمایا:یا علی ! آپ کی نسبت مجھ سے ایسی ہے جیسی ہارون کی موسیٰ علیہ السلام سے تھی، سوائے نبوت کے۔

ابن عساکر، تاریخ دمشق،شرح حالِ امام علی ، جلد1، حدیث406،336سے لے کر 456 تک،

احمد بن حنبل، مسند سعد بن ابی وقاص ، جلد1، صفحہ177،189اور نیز الفضائل میں،حدیث79،80۔

ابن ماجہ قزوینی اپنی کتاب میں، جلد1،صفحہ42،حدیث 115۔

بخاری،صحیح بخاری میں،جلد5،صفحہ81،حدیث225(فضائلِ اصحاب النبی )۔

ابی عمر یوسف بن عبد اللہ، استیعاب ،ج3،ص1097اور روایت1855کے ضمن میں

ابونعیم، کتاب حلیة الاولیاء ، جلد7،صفحہ194۔

بلاذری، کتاب انساب الاشراف، ج2،ص95،حدیث15،اشاعت اوّل بیروت

شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، باب6، صفحہ56،153۔

ابن مغازلی،کتاب مناقب میں،حدیث40،50،صفحہ33۔

حاکم، المستدرک میں، جلد3،صفحہ108۔

ابن کثیر،کتاب البدایہ والنہایہ ،جلد8،صفحہ77۔

گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں، باب37،صفحہ167۔

ذہبی، کتاب میزان الاعتدال میں، جلد2،صفحہ3،حدیث2586۔

حافظ الحسکانی، کتاب شواہد التنزیل میں، حدیث656۔

سیوطی،کتاب اللئالی المصنوعة،جلد1،صفحہ177،اشاعت اوّل۔

ابن حجر عسقلانی،کتاب لسان المیزان میں، جلد2،صفحہ324۔

آٹھویں روایت:

حدیث ِ ولایت اور مقامِ علی (ع) :

حدیث ِ ولایت بھی ایک اہم ترین حدیث ہے جو شانِ علی اور مقامِ علی کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ حدیث بھی مختلف ذرائع اور مختلف انداز میں بیان کی گئی ہے لیکن اصلِ مفہوم وہی ہے۔

عَنْ عَمْروذی مَرَّ عَنْ عَلی اَنَّ النَّبِی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلَّم قٰالَ: مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ، اَلَّلھُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاہُ وَعَادِ مَنْ عٰادٰاہُ۔

عمروذی حضرت علی علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم نے فرمایا کہ جس کا میں مولا ہوں، اُس کا علی مولا ہے۔ پروردگارا! تو اُس کو دوست رکھ جو علی علیہ السلام کو دوست رکھے اور تو اُس کو دشمن رکھ جو علی علیہ السلام سے دشمنی رکھے۔

ابن عساکر، تاریخ دمشق ، باب شرح حالِ امام علی ، جلد2،ص30،حدیث532۔

احمد بن حنبل ،المسند، جلد  4، ص281، حدیث12، جلد1، ص250، حدیث961،950، 964۔

حاکم، المستدرک میں، حدیث8، باب مناقب علی ،،جلد3، صفحہ110اور116۔

سیوطی، تفسیر الدر المنثور، جلد2، صفحہ327اور دوسری اشاعت جلد5، صفحہ180 اور تاریخ الخلفاء صفحہ169۔

ابن مغازلی، مناقب میں، حدیث36،صفحہ18،24،26،اشاعت اوّل۔

ہیثمی،کتاب مجمع الزوائد میں، جلد9،صفحہ105،108اور164۔

ابن ماجہ سنن میں،جلد1،صفحہ43،حدیث116۔

ابن عمر یوسف بن عبداللہ ،استیعاب ، ج3،ص1099،روایت1855کے ضمن میں

ابن کثیر، کتاب البدایہ والنہایہ میں،جلد7،صفحہ335،344،366۔

شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة میں، باب4،صفحہ33۔

خطیب"حالِ یحییٰ بن محمد ابی عمرالاخباری"،شمارہ7545،کتاب تاریخ بغداد میں،جلد 14 صفحہ 236

بلاذری، کتاب انساب الاشراف میں،جلد2،صفحہ108،اشاعت اوّل،حدیث45 اور باب شرح حالِ امیر الموٴمنین علیہ السلام میں۔

گنجی شافعی،کتاب کفایة الطالب میں، باب1،صفحہ58۔

نسائی، کتاب الخصائص میں، حدیث8،صفحہ47اورحدیث75،صفحہ94۔

ابن اثیر، کتاب اسد الغابہ میں ،جلد4، صفحہ27اور ج3،ص 321اور ج2،ص397

ترمذی اپنی کتاب صحیح میں، حدیث3712،جلد5،صفحہ632،633۔

نویں روایت:

علی (ع)  کی محبت جہنم سے بچاؤ اور جنت میں داخلے کی ضمانت ہے:

عَنْ اِبْنِ عباس،قٰالَ: قُلْتُ لِنَّبِی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ھَلْ لِلنَّارِ جَوازٌ ؟ قٰالَ نَعَمْ قُلْتُ وَ مَا ھُوَ ؟ قٰالَ حُبُّ علیِّ۔

ابن عباس سے روایت ہے کہ انہوں نے پیغمبر اسلام سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! کیا جہنم سے عبور کیلئے کوئی جواز (اجازت نامہ) ہے؟ پیغمبر اسلام نے فرمایا:ہاں۔ میں نے پھر عرض کیا کہ وہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا: علی سے محبت۔

اس طرح کی دوسری مشابہ حدیث بھی ابن عباس سے روایت کی گئی ہے:

عَنْ ابنِ عباس قٰالَ: قٰالَ رَسُوْل اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّمْ: علیٌ یَوْمَ الْقِیٰامَةِ عَلَی الْحَوْضِ لَا یَدْخِلُ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ جَاءَ بِجَوَاز مِنْ عَلِیِّ ابْنِ اَبِی طَالِب۔

ابن عباس سے روایت ہے کہ پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ علی علیہ السلام قیامت کے دن حوضِ کوثر پر ہوں گے اور کوئی بھی جنت میں داخل نہ ہو سکے گا مگر جس کے پاس علی علیہ السلام کی جانب سے پروانہ ہو گا۔

ابن عساکر، تاریخ دمشق میں،باب حالِ علی ،جلد2، صفحہ104، حدیث 608اورجلد2 صفحہ243،حدیث753۔

ابن مغازلی، کتاب مناقب میں، حدیث156،صفحہ119،131اور242۔

شیخ سلیمان قندوزی ، کتاب ینابیع المودة، باب56، ص211اور باب37،ص133، 301، 245

سیوطی، اللئالی المصنوعة ، جلد1، صفحہ197،اشاعت اوّل(آخر ِ مناقب ِعلی )۔

محب الدین طبری، کتاب ریاض النضرة میں، جلد2، صفحہ 177،211اور244۔

دسویں روایت:

قیامت کے دن حُبِّ علی (ع)  اور حُبِّ اہلِ بیت (ع)  کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔

عَنْ اَبِی ذَر قٰالَ:قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّمْ لَا تَزُوْلُ قَدَمٰا اِبْنِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیٰامَةِ حَتّیٰ یُسْأَلَ عَنْ اَرْبَعٍ، عَنْ عِلْمِہ مٰا عَمِلَ بِہ، وَ عَنْ مٰا اکْتَسَبَہُ، وَ فِیْمٰا اَنْفَقَہُ، وَ عَنْ حُبِّ اَھْلِ الْبَیْتِ فَقِیْلَ یٰا رَسُوْلَ اللّٰہِ، وَ مَنْ ھُمْ ؟ فَأَوْمَأَ بِیَدِہِ اِلٰی عَلِیِّ۔

ابوذر روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ص) نے فرمایا کہ قیامت کے دن کوئی انسان اپنا قدم نہ اٹھا سکے گا جب تک اُس سے چار سوال نہ کئے جائیں گے:

اُس کے علم کے بارے میں کہ کس طرح اُس نے عمل کیا ؟

اُس کی دولت کے بارے میں کہ کہاں سے کمائی؟

 اور وہ دولت کہاں خرچ کی ؟

اہلِ بیت سے محبت کے بارے میں۔

عرض کیا گیا : یا رسول اللہ! آپ کے اہلِ بیت کون ہیں ؟ آپ نے اپنے ہاتھ سے علی علیہ السلام کی طرف اشارہ کیا اور کہا: علی ابن ابی طالب علیہ السلام،

گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں، باب911،صفحہ324۔

ابن عساکر،تاریخ دمشق ،بابِ حالِ امیر الموٴمنین ،جلد2، ص159،حدیث644۔

شیخ سلیمان قندوزی حنفی، ینابیع المودة، باب32، ص124، باب37 ص133،271

ہیثمی، کتاب مجمع الزوائد میں، جلد10،صفحہ326۔

ابن مغازلی، حدیث157،مناقب میں صفحہ120،اشاعت اوّل۔

حموینی، کتاب فرائد السمطین میں، حدیث574،باب62۔

خوارزمی، کتاب مقتل میں،جلد1،باب4،صفحہ42،اشاعت اوّل۔

گیارہویں روایت:

علی (ع)  سے اللہ اور اُس کے رسول (ص)  محبت کرتے ہیں:

عَنْ دٰاوٴد بنِ علیِّ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عباس، عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہ ابنِ عباس قٰالَ: اُتِیَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّمْ بِطٰائِرِ فَقَالَ: اَلَّلھُمَّ اِئْتِنِیْ بِرَجُلٍ یُحِبُّہُ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ، فَجٰاءَ عَلِیٌّ فَقٰالَ: اَلَّلھُمَّ وٰالِ علیاّ۔

ابن عباس کہتے ہیں کہ ایک دن پیغمبر اکرم (ص) کی خدمت میں ایک مرغ بطور طعام پیش کیا گیا۔ آپ نے دعا فرمائی کہ پروردگار! ایسے شخص کو میرے پاس بھیج جس کو خدا اور رسول دوست رکھتے ہیں (تا کہ اس کھانے میں میرے ساتھ شریک ہو جائے)۔ پس تھوڑی دیر بعد ہی علی وہاں پہنچے ۔ پیغمبر اسلام نے فرمایا: پروردگار! تو علی علیہ السلام کو دوست رکھ ۔ علی پیغمبر اسلام کے ساتھ بیٹھے اور آپ نے پیغمبر کے ساتھ وہ کھانا تناول فرمایا۔

مندرجہ بالا حدیث ایک اہم اور متواتر حدیث ہے جو کتب ِ اہلِ سنت اور شیعہ میں مختلف صورتوں میں بیان کی گئی ہے۔ ماجرا کچھ اس طرح ہے کہ ایک دن پیغمبر خدا کی خدمت میں مرغ بریان پیش کیا گیا۔ پیغمبر خدا نے اُس وقت دعا مانگی کہ پروردگارا! ایسے شخص کو میرے پاس بھیج دے جس کو خدا اور رسول محبوب رکھتے ہوں (تا کہ میرے ساتھ طعام میں شامل ہو سکے)۔ کچھ ہی دیر بعد امیر الموٴمنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام وہاں پہنچے۔ آپ خوش ہوئے۔

ابن عساکر، تاریخ دمشق ، بابِ حالِ امیر الموٴمنین ،ج2، ص631، حدیث622اور ج2، حدیث609تا642(شرح محمودی)۔

ابن مغازلی، مناقب میں حدیث189،صفحہ156،اشاعت اوّل۔

شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، باب8،صفحہ62۔

ابن کثیر، کتاب البدایہ والنہایہ میں،جلد7،صفحہ351اور اس کے بعد۔

حاکم، کتاب المستدرک میں جلد3،صفحہ130(بابِ فضائلِ علی علیہ السلام)۔

گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں، باب33،صفحہ148۔

ذہبی، میزان الاعتدال ، باب شرح حال ابی الہندی، ج4، صفحہ583،شمارہ10703 اور تاریخ اسلام میں جلد2،صفحہ197۔

ہیثمی، کتاب مجمع الزوائد میں، جلد9،صفحہ125اور جلد5،صفحہ199۔

خطیب، تاریخ بغداد ، باب شرح حال طفران بن الحسن بن الفیروزان،ج9،صفحہ 369، شمارہ4944۔

ابو نعیم،حلیة الاولیاء میں،جلد6،صفحہ339۔

بلاذری، کتاب انساب الاشراف میں، باب شرح حالِ علی ،حدیث140،ج2،صفحہ 142، اشاعت اوّل از بیروت۔

خوارزمی، کتاب مناقب ، باب 9،صفحہ64،اشاعت تبریز اور اشاعت دوم ،صفحہ59۔

ابن اثیر، کتاب اسد الغابہ میں، باب شرح حالِ امیر الموٴمنین میں،جلد4،صفحہ30۔

طبرانی،معجم الکبیر میں، باب مسند ِ انس بن مالک، جلد1،صفحہ39۔

نسائی، کتاب الخصائص میں ، حدیث12،صفحہ51۔

بارہویں روایت:

حُبِّ علی(ع) کے بغیر پیغمبر اسلام سے دوستی کا دعویٰ جھوٹا ہے:

عَنْ جابِر قٰالَ: دَخَلَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّمْ وَ نَحْنُ فِی الْمَسْجِدِ وَ ھُوَ اَخِذَ بِیَدِ عَلِیٍّ فَقٰالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّمْ،اَلَسْتُمْ زَعَمْتُمْ اَنَّکُمْ تُحِبُّوْنِیْ ؟ قٰالُوا: بَلٰی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قٰالَ: کَذِبَ مَنْ زَعَمَ اَنَّہُ یُحِبُّنِیْ وَ یُبْغِضُ ھٰذا۔

جابر سے روایت ہے کہ پیغمبر اکرم مسجد میں داخل ہوئے اور ہم بھی پہلے سے وہاں موجود تھے۔ آپ نے علی علیہ السلام کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور فرمایا: کیا تم یہ گمان نہیں کرتے کہ تم سب مجھ سے محبت کرتے ہو ؟ سب نے کہا: ہاں! یا رسول اللہ۔ آپ نے فرمایا کہ اُس نے جھوٹ بولا ہے کہ جو یہ کہتا ہے کہ مجھ (محمد) سے محبت کرتا ہے لیکن اس (علی علیہ السلام) سے بغض رکھتا ہے۔

ابن عساکر تاریخ دمشق میں، باب شرح حالِ امیر الموٴمنین ،ج2،ص185،حدیث  664 اور اس کے بعد کی احادیث۔

ذہبی، کتاب میزان الاعتدال میں، جلد1،صفحہ536،شمارہ2007۔

ابن کثیر البدایہ والنہایہ میں، جلد7،صفحہ355،بابِ فضائلِ علی علیہ السلام۔

حاکم، المستدرک میں، جلد3،صفحہ130۔

شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة میں، باب4،صفحہ31۔

گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں، باب88،صفحہ319۔

ابن حجر عسقلانی ، کتاب لسان المیزان میں،جلد2،صفحہ109۔

سیوطی، کتاب جامع الصغیر میں،جلد2،صفحہ479۔

تیرہویں روایت:

محبانِ علی (ع)  موٴمن اور دشمنانِ علی (ع)  منافق ہیں:

عَنْ زَرِّبْنِ جَیْشٍ قٰالَ سَمِعْتُ عَلِیًّا یَقُوْلُ: وَ الَّذِی فَلَقَ الْحَبَّةَ وَ بَرَیٴَ النَّسَمَةَ اِنَّہُ لَعَھِدَ النَّبِیُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّمْ اِلیَّ اَنْ لَا یُحِبُّکَ اِلَّا مُوٴْمِنُ،وَ لَا یُبْغِضُکَ اِلَّا مُنٰافِقٌ۔

زربن جیش کہتے ہیں کہ میں نے علی علیہ السلام سے سنا کہ انہوں نے فرمایا کہ مجھے قسم ہے اُس خدا کی جو دانے کو کھولتا ہے اور مخلوق کو وجود میں لاتا ہے۔ پیغمبر اکرم (ص) نے مجھ سے عہد کرتے ہوئے فرمایا: یا علی ! تم سے کوئی محبت نہ رکھے گا مگر سوائے موٴمن کے اور تم سے کوئی بغض نہیں رکھے گا سوائے منافق کے۔

احمد بن حنبل، کتاب المسند، باب مسند ِعلی ،جلد1،صفحہ95،حدیث731اور دوسری اشاعت میں صفحہ204اور حدیث642،جلد1،صفحہ84،اشاعت اوّل۔

ابن عساکر تاریخ دمشق ، باب شرح حالِ امیر الموٴمنین ،ج2،ص190،حدیث674

ابن مغازلی مناقب میں، حدیث225،صفحہ190،اشاعت اوّل۔

خطیب ،تاریخ بغداد میں، شمارہ7785،باب شرح حال ابی علی بن ہشام حربی۔

بلاذری، کتاب انسابُ الاشراف میں، باب شرح حالِ علی ،حدیث20،ج2،ص97 اور حدیث158،صفحہ153۔

حاکم، المستدرک میں، جلد3،صفحہ129۔

ابن کثیر، کتاب البدایہ والنہایہ میں، جلد7،صفحہ355،بابِ فضائلِ علی علیہ السلام۔

ابن عمر یوسف بن عبد اللہ ، استیعاب میں، جلد3،صفحہ 1100اور روایت1855۔

گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں، باب3،صفحہ68۔

ابن ماجہ قزوینی اپنی کتاب "سنن" میں، جلد1،صفحہ42،حدیث114۔

شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة میں ،باب6، صفحہ52 اور 252پر۔

چودہویں روایت:

علی (ع)  مسلمانوں کے اور متّقین کے امام ہیں:

حَدَّثَنِی عَبْدُ اللّٰہِ بْنِ اَسْعَدْ بنِ زُرَارة قٰالَ: قٰالَ رسول اللّٰہِ لَیْلَةً اُسْرِیَ بِی اِنْتَھَیْتُ اِلٰی رَبِّی، فَأَوْحٰی اِلیَّ (اَوْ اَخْبَرَنِی) فِی عَلِیٍ بثلَاثٍ: اِنَّہُ سَیِّدُ الْمُسْلِمِیْنَ وَ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ وَ قَائِدُ الْغُرَّ الْمُحَجَّلِیْنَ۔

عبد اللہ بن اسعد بن زرارہ کہتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا کہ شبِ ِمعراج جب میں اپنے پروردگار عزّ و جلّ کے حضور پیش ہوا تو مجھے حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں تین باتوں کی خبر دی گئی جو یہ ہیں کہ علی مسلمانوں کے سردار ہیں، متقین اور عبادت گزاروں کے امام ہیں اور جن کی پیشانیاں پاکیزگی سے چمک رہی ہیں اُن کے رہبر ہیں۔

ابن عساکر تاریخ دمشق ،باب شرح احوالِ امام ج2ص256حدیث772ص259

ذہبی، کتاب میزان الاعتدال میں ،صفحہ64،شمارہ211۔

ابن مغازلی، کتاب مناقب میں، حدیث126اور147،صفحہ104۔

ہیثمی، کتاب مجمع الزوائد میں، جلد9،صفحہ121۔

حاکم، کتاب المستدرک میں، جلد3،صفحہ138،حدیث99،بابِ مناقب ِعلی ۔

گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں، باب45،صفحہ190۔

شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة میں، صفحہ245،باب56،صفحہ213۔

حافظ ابو نعیم، کتاب حلیة الاولیاء میں، جلد1،صفحہ63۔

خوارزمی، کتاب مناقب میں، صفحہ229۔

ابن اثیر، کتاب اسد الغابہ میں،جلد1،صفحہ69اورجلد3،صفحہ116۔

متقی ہندی، کنز العمال میں، جلد11،صفحہ620(موٴسسة الرسالہ ،بیروت)۔

پندرہویں روایت:

پیغمبر اکرم (ص)  اور علی (ع)  خدا کے بندوں پر اُس کی حجت ہیں:

عَنْ أَنْس قٰالَ: قٰالَ النَّبِیُّ اَنَا وَ عَلِیٌ حُجَّةُ اللّٰہِ عَلٰی عِبٰادِہِ۔

انس روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا کہ میں اور علی اللہ کی طرف سے اُس کے بندوں پر حجت ہیں۔

ابن عساکر،تاریخ دمشق میں، باب شرح حالِ امام علی علیہ اسلام،جلد2،صفحہ272، احادیث793تا796(شرح محمودی)۔

خطیب، تاریخ بغداد میں، باب شرح حال محمد بن اشعث، جلد2،صفحہ88۔

ابن مغازلی، مناقب میں، حدیث67اور234،صفحہ45اور197،اشاعت اوّل۔

ذہبی، کتاب میزان الاعتدال میں، جلد4،صفحہ128،شمارہ8590۔

شیخ سلیمان قندوزی حنفی، ینابیع المودة میں، باب مناقب، صفحہ284،حدیث57۔

ابو عمر یوسف بن عبد اللہ، کتاب استیعاب میں ،جلد3،صفحہ1091اور روایت1855

یَاعلی اَنْتَ ولی کل موٴمن بَعْدِی" کے تسلسل میں۔

سیوطی ، اللئالی المصنوعہ میں، ج 1،صفحہ189،اشاعت اوّل اور بعد والی میں۔

سولہویں روایت:

علی (ع)  پیغمبرانِ خدا کی تمام اعلیٰ صفات کے حامل تھے:

عَنْ اَبِی الحَمْرَاءِ قٰالَ: قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّمْ مَنْ اَرَادَ اَنْ یَنْظُرَ اِلٰی آدَمَ فِیْ عِلْمِہ وَ اِلٰی نُوْحٍ فِیْ فَھْمِہ وَ اِلٰی اِبْرَاھِیْمَ فِیْ حِلْمِہ وَ اِلٰی یَحْییٰ بِن زِکرِیَّا فِی زُھْدِہِ وَ اِلٰی مُوْسٰی بن عِمْرَانِ فِی بَطْشِہ فَلْیَنْظُرْ اِلٰی عَلِیِ بْنِ اَبِیْ طَالِب عَلَیْہِ السَّلَام۔

ابو الحمراء سے روایت ہے کہ پیغمبر خدا نے فرمایا کہ جو کوئی چاہتا ہے کہ آدم علیہ السلام کو اُن کے علم میں دیکھے، نوح کو اُن کی فہم و دانائی میں دیکھے ، ابراہیم علیہ السلام کو اُن کے حلم میں دیکھے ، یحییٰ بن زکریا کو اُن کے زہد میں دیکھے اور موسیٰ بن عمران کو اُن کی بہادری میں دیکھے ، پس اُسے چاہیے کہ وہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے چہرہ مبارک کی زیارت کرے۔

ابن عساکر، تاریخ دمشق ، بابِ شرح حالِ امام علی ، جلد2،صفحہ280،حدیث804 (شرح محمودی)۔

شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، صفحہ253۔

گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں، باب23،صفحہ121۔

ابن مغازلی، کتاب مناقب میں، حدیث256،صفحہ212،اشاعت اوّل۔

ابن کثیر، کتاب البدایہ والنہایہ میں، جلد7،صفحہ356۔

ذہبی، کتاب میزان الاعتدال میں،جلد4،صفحہ99،شمارہ8469۔

ابن ابی الحدید، نہج البلاغہ ، باب شرح المختار (147) ج2ص449اشاعت اوّل،مصر

حموینی، کتاب فرائد السمطین میں، حدیث142،باب35۔

سترہویں روایت:

علی (ع)  بہترین انسان ہیں ،جو اس حقیقت کو نہ مانے ،وہ کافر ہے:

عَنْ حُذَیْفَةِ بْنِ الْیَمٰانِ قٰالَ: قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّمْ: عَلِیٌّ خَیْرُ الْبَشَرِ، مَنْ أَبٰی فَقَدْ کَفَرَ۔

حذیفہ بن یمان سے روایت ہے کہ پیغمبر خدا نے فرمایا کہ علی بہترین انسان ہیں اور جو کوئی اس حقیقت سے انکار کرے گا، اُس نے گویا کفر کیا ہے۔

خطیب، تاریخ بغداد میں، (ترجمہ الرجل) جلد3، صفحہ192، شمارہ1234۔

ابن عساکر، تاریخ دمشق ، باب شرح حالِ امام علی ،جلد2،صفحہ444،حدیث955 (شرح محمودی)۔

گنجی شافعی، کفایة الطالب میں،باب62،صفحہ244۔

بلاذری، انساب الاشراف ، حدیث35،بابِ شرح حالِ علی ،ج2،ص103،

اشاعت اوّل،بیروت۔

شیخ سلیمان قندوزی حنفی،کتاب ینابیع المودة، باب56،صفحہ212۔

حموینی،کتاب فرائد السمطین میں، باب30،حدیث127۔

سیوطی، کتاب اللئالی المصنوعہ،جلد1،صفحہ169،170،اشاعت اوّل۔

متقی ہندی، کنز العمال میں،جلد11، صفحہ625 (موٴسسة الرسالہ،بیروت)۔

اٹھارہویں روایت:

علی (ع)  اور اُن کے شیعہ ہی قیامت کے دن کامیابی اور فلاح پانے والے ہیں:

عَنْ عَلِیٍّ عَلَیْہِ السَّلَام قٰال: قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّمْ یٰا عَلِیُّ اِذَ کَانَ یَوْمُ الْقِیٰامَةِ یَخْرُجُ قَوْمٌ مِنْ قُبُوْرِھِمْ لِبَاسُھُمُ النُّوْرُ عَلٰی نَجٰائِبَ مِنْ نُوْرٍ أَزِمَّتُھَا یَٰواقِیتُ حُمْرٌ تَزُقُّھُمُ الْمَلاٰئِکَةُ اِلَی الْمَحْشَرِ فَقٰالَ عَلِیُّ تَبٰارَکَ اللّٰہُ مٰا اَکْرَمَ قَوْمًا عَلَی اللّٰہِ قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّمْ یَا عَلِیُّ ھُمْ اَھْلُ وِلٰایَتِکَ وَ شِیْعَتُکَ وَ مُحِبُّوْکَ،یُحِبُّوْنَکَ بِحُبِّی وَ یُحِبُّوْنِی بِحُبِّ اللّٰہِ۔ ھُمُ الْفٰائِزُوْنَ یَوْمَ الْقِیٰامَةِ۔

امیر الموٴمنین علی علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ پیغمبر اکرم کا ارشاد ہے کہ یا علی ! قیامت کے دن قبروں سے ایک گروہ نکلے گا ،اُن کا لباس نوری ہو گا اور اُن کی سواری بھی نوری ہو گی۔ اُن سواریوں کی لگامیں یاقوتِ سرخ سے مزین ہوں گی۔ فرشتے اِن سواریوں کو میدانِ محشر کی طرف لے جا رہے ہوں گے۔ پس علی علیہ السلام نے فرمایا: تبارک اللہ! یہ قوم پیش خدا کتنی عزت والی ہو گی۔ پیغمبر اسلام نے فرمایا: یا علی ! وہ تمہارے شیعہ اور تمہارے حُب دار ہوں گے۔ وہ تمہیں میری دوستی کی وجہ سے دوست رکھیں گے اور مجھے خدا کی دوستی کی وجہ سے دوست رکھیں گے اور وہی قیامت کے روز کامیاب اور فلاح پانے والے ہیں۔

ابن عساکر، تاریخ دمشق ، باب شرح حالِ امام علی ، ج2،ص346،846،شرح محمودی

گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں، باب86،صفحہ313۔

خطیب، تاریخ بغداد میں، شرح حال فضل بن غانم،شمارہ6890،جلد12،صفحہ358

ہیثمی، کتاب مجمع الزوائد میں،جلد10،صفحہ21اورجلد9،صفحہ173۔

ابن مغازلی، کتاب مناقب میں، حدیث339،صفحہ296،اشاعت اوّل۔

بلاذری، انساب الاشراف، باب شرح حالِ علی ،جلد2، صفحہ182،اشاعت اوّل۔

شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، بابِ مناقب،صفحہ281،حدیث45۔

ذہبی،کتاب میزان الاعتدال میں،جلد1،صفحہ421،شمارہ1551۔

حافظ الحسکانی، شواہد التنزیل میں، حدیث107(سورئہ بقرہ آیت 4کی تفسیر میں)۔

طبرانی، معجم الکبیر میں، شرح حالِ ابراہیم المکنی بأبی،جلد1،صفحہ51۔

اُنیسویں روایت:

اہم کاموں کیلئے علی (ع)  کا انتخاب اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوتا تھا:

عَنْ زَیدِ بْنِ یَشِیعَ قٰالَ بَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ اَبَا بَکْرٍ بِبَرٰاءةٍ، ثُمَّ اَتْبَعَہُ عَلِیاً فَلَمَّا قَدَمَ اَبُوْ بَکْرٍ قٰالَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ أَنْزَلَ فِی شَیٴٍ ؟ قٰالَ لَا وَ لٰکِنِّی اُمِرْتُ اُبَلِّغَھٰا أَنَا اَوْ رَجُلٌ مِنْ اَھْلِ بَیْتِیْ۔

زید بن یشیع کہتے ہیں کہ پیغمبر اسلام نے ابوبکر کو سورہ برائت (سورہ توبہ) کے ساتھ مکہ کی جانب روانہ کیا تا کہ مشرکین مکہ کیلئے تلاوت فرمائیں ۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد علی علیہ السلام کو اُن کے پیچھے بھیجا، علی علیہ السلام نے وہ سورہ اُس سے واپس لے لیا۔ جب ابوبکر واپس آیا تو عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میرے بارے میں کوئی چیز نازل ہوئی ہے؟ پیغمبر خدا نے فرمایا: نہیں، لیکن خدائے بزرگ کی جانب سے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ اس سورہ کی کوئی تبلیغ نہ کرے سوائے میرے یا میرے اہلِ بیت کا کوئی ایک فرد۔

بلاذری، انساب الاشراف ، شرح حالِ علی ،حدیث164، جلد2، صفحہ155،اشاعت

اوّل،بیروت۔

ابن عساکر، تاریخ دمشق میں، شرح حالِ امام علی ،،جلد2،صفحہ376،احادیث871تا

873اور اُس کے بعد(شرح محمودی)۔

ابن کثیر، البدایہ والنہایہ میں جلد5،صفحہ37اور جلد7،صفحہ35(بابِ فضائلِ علی )۔

احمد بن حنبل، المسند میں، جلد1،صفحہ318،روایت1296۔

ابن مغازلی، مناقب میں، حدیث267 اور اس کے بعد صفحہ221،اشاعت اوّل۔

گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں، باب62،صفحہ254،اشاعت الغری۔

شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، باب18،صفحہ101۔

ترمذی اپنی سنن میں، حدیث8،(بابِ مناقب علی علیہ السلام)جلد13،صفحہ169۔

بیسویں روایت:

علی (ع)  کا چہرہ دیکھنا عبادت ہے:

عَنْ اَبِی ذَرٍ قٰالَ: قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّم مَثَلُ عَلِیٍّ فِیکُمْ۔ اَوْ قٰالَ فِی ھٰذِہِ الْاُمَّةِ کَمَثَلِ الْکَعْبَةِ الْمَسْتُوْرَةِ، اَلنَّظَرُ اِلَیْھَا عِبَادةٌ، وَ الْحَجُّ اِلَیْھَا فَرِیْضَةً۔

ابوذر کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ علی کی مثال تمہارے درمیان یا اُمت کے درمیان کعبہ مستورہ کی مانند ہے کہ اُس کی طرف نظر کرنا عبادت ہے اور اُس کا قصد کرنا یا اُس کی جانب جانا واجب ہے۔

ابن عساکر، تاریخ دمشق شرح حالِ امام علی ، ج2ص406حدیث905،شرح محموی

سیوطی، تاریخ الخلفاء میں، صفحہ172"اَلنَّظَرُ اِلٰی عَلیٍّ عِبَادة"۔

ابن اثیر، اسد الغابہ میں،جلد4، صفحہ31 (بمطابق نقل آثار الصادقین، جلد14،صفحہ 213 "اَنْتَ بِمَنْزِلَةِ الْکَعْبَة"۔

ابن مغازلی، مناقب میں، حدیث149، صفحہ 106اور حدیث100، صفحہ70۔

حموینی، کتاب فرائد السمطین ، جلد1،صفحہ182(بمطابق نقل آثار الصادقین، جلد1، صفحہ182)"کعبہ اور علی کی طرف نظر کرنا عبادت ہے"۔

حاکم، المستدرک ،حدیث113،باب مناقب ِعلی ،جلد3،صفحہ141 'اَلنَّظَرُ اِلٰی وَجْہِ علی عبادة۔

ابو نعیم ،حلیة الاولیاء ، شرح حال اعمش،ج5ص58 'اَلنَّظَرُ اِلٰی وَجْہِ علی عبادہ‘

ابن کثیر، البدایہ والنہایہ میں، جلد7،صفحہ358"اَلنَّظَرُ اِلٰی وَجْہِ علی عبادة"۔

گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں، باب34،صفحہ160اور161۔

ذہبی، کتاب میزان الاعتدال میں،جلد4،صفحہ127،شمارہ8590 اور جلد1،صفحہ 507 ،شمارہ1904"اَلنَّظَرُ اِلٰی وَجْہِ علی عبادة۔

اکیسویں روایت:

حکمت و دانائی کو دس حصوں میں تقسیم کیا گیا، اُن میں سے نو حصے علی علیہ السلام کو دئیے گئے ہیں:

عَنْ عَلْقَمَةِ،عَنْ عَبدِ اللّٰہِ قٰالَ کُنْتُ عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّم فَسُئِلَ عَنْ عَلِیٍّ فَقٰال: قُسِّمَتِ الْحِکْمَةُ عَشَرَةَ اَجْزٰاءٍ فَأُعْطِیَ عَلِیٌّ تِسْعَةَ اَجْزَاءٍ و النَّاسُ جُزْءٌ وَاحِدٌ ،

علقمہ سے روایت کی گئی کہ عبد اللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ میں پیغمبر اکرم  کی خدمت میں تھا۔ اس دوران حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں سوال کیا گیا۔ پیغمبر اکرم نے فرمایا کہ دانائی کو دس حصوں میں تقسیم کیا گیا، ان میں سے نو (۹) حصے حضرت علی علیہ السلام کو دئیے گئے اور ایک حصہ باقی تمام لوگوں کو دیا گیا ہے۔

ابو نعیم، کتاب حلیة الاولیاء میں، باب شرح حالِ امیر الموٴمنین ، جلد1،صفحہ64۔

ابن عساکر، تاریخ دمشق ، باب شرح حالِ امام علی ،جلد2 ،صفحہ481،حدیث999۔

ابو یوسف بن عبد اللہ، استیعاب ، ج3،ص1104،روایت1855کے ضمن میں۔

ذہبی، میزان الاعتدال ، حدیث499، جلد1، صفحہ58 اور اشاعت ِ بعد،ص124۔

ابن مغازلی، کتاب مناقب میں، حدیث328،صفحہ286،اشاعت اوّل۔

شیخ سلیمان قندوزی حنفی، ینابیع المودة، باب مناقب السبعون، حدیث47،صفحہ282

گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں، باب59، صفحہ 226 اور صفحہ292،332۔

حموینی، کتاب فرائد السمطین میں، حدیث76،باب10اور دوسرے ابواب۔

بائیسویں روایت:

پیغمبر اکرم (ص)  علم کا شہر ہیں اور علی (ع)  اُس شہر کا دروازہ ہیں:

عَن الصَّنٰابجِی،عَن عَلِیٍّ عَلَیْہِ السَّلاٰم قٰالَ:قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ اَنَا مَدِیْنَةُ الْعِلْمِ وَعَلِیٌّ بَابُھَا، فَمَنْ اَرٰادَ الْعِلْمَ فَلْیَأتِ بٰابَ الْمَدِیْنَةِ۔

صنابجی حضرت علی علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی علیہ السلام اُس کا دروازہ ہیں۔ جو کوئی علم چاہتا ہے، وہ شہر علم کے دروازے سے آئے۔

ابن عساکر، تاریخ دمشق ، باب شرح حالِ امام علی ،جلد2،صفحہ464،حدیث984۔

ابن مغازلی، کتاب مناقب میں، حدیث120،صفحہ80،اشاعت اوّل۔

سیوطی، کتاب تاریخ الخلفاء میں، صفحہ170اور جامع الصغیر میں،حدیث2705۔

حاکم، المستدرک میں، جلد3،صفحہ126۔

شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة میں، صفحہ153اور مناقب السبعون میں صفحہ278،حدیث22،باب14،صفحہ75۔

خطیب ،تاریخ بغداد،باب شرح حال عبدالسلام بن صالح: ابی الصلت الھروی، جلد11،صفحہ49،50،شمارہ5728۔

گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں، باب58،صفحہ221۔

ذہبی،کتاب میزان الاعتدال میں،جلد1،صفحہ415،شمارہ1525۔

ابو عمر یوسف بن عبد اللہ ، کتاب استیعاب میں، جلد3، صفحہ1102،روایت1855۔

حافظ ابو نعیم، کتاب حلیة الاولیاء میں،جلد1،صفحہ64۔

ابن کثیر،کتاب البدایہ والنہایہ میں،جلد7،صفحہ359،بابِ فضائلِ علی علیہ السلام۔

خوارزمی، کتاب مقتل ، باب4،صفحہ43۔

تئیسویں روایت:

علی (ع)  ہی وصیٴِ برحق اور وارثِ پیغمبر (ص)  ہیں:

عَنْ اَبِی بُرَیْدَةِ عَن اَبِیْہِ: قٰالَ،قٰالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّم لِکُلِّ نَبِیٍّ وَصِیٌ وَ وَارِثٌ وَ اِنَّ عَلِیًا وَصِیِّی وَ وَارِثِی۔

ابی بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم نے فرمایا کہ ہر نبی کا کوئی وصی اور وارث ہوتا ہے اور بے شک علی علیہ السلام میرے وصی اور وارث ہیں۔

ابن مغازلی، کتاب مناقب میں، حدیث238،صفحہ201،اشاعت اوّل۔

ابن عساکر ،تاریخ دمشق ، باب شرح امام علی ،ج3، ص5،حدیث1022شرح محمودی

ذہبی، کتاب میزان الاعتدال میں، جلد4،صفحہ127،128،شمارہ8590۔

گنجی شافعی،کتاب کفایة الطالب میں، باب62،صفحہ260۔

ہیثمی، کتاب مجمع الزوائد میں، جلد9،صفحہ113اورجلد7،صفحہ200۔

شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة میں، باب15، صفحہ90 اور 295 ۔

سیوطی، کتاب اللئالی المصنوعة میں، جلد1،صفحہ186،اشاعت اوّل(بولاق)

حافظ الحسکانی، کتاب شواہد التنزیل میں، تفسیر آیت30سورئہ بقرہ۔

حموینی، کتاب فرائد السمطین میں، باب52،حدیث222۔

خوارزمی، کتاب مناقب میں، حدیث22،باب14،صفحہ88اور دوسرے۔

چوبیسویں روایت:

علی (ع)  اور آپ کے سچے صحابیوں کو دوست رکھنا واجب ہے:

عَنْ سُلَیْمٰانِ بْنِ بُرِیْدَةَ عَنْ ابیہِ قٰالَ: قٰالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّم اِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَ تَعٰالٰی أَمَرَنِی أَنْ اُحِبَّ اَرْبَعَةً قٰالَ قُلْنٰا مَنْ ھُمْ؟ قٰالَ،عَلِیُّ وَ اَبُوْذَرْ وَ الْمِقْدٰادُ وَ سَلْمٰانُ۔

سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم نے مجھ سے فرمایا کہ بے شک اللہ تبارک و تعالی نے مجھے حکم دیا ہے کہ چار افراد سے محبت کروں۔ میں نے عرض کیا کہ وہ کون افراد ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ وہ علی ، ابوذر،مقداد اور سلمان ہیں۔

ابن عساکر، تاریخ دمشق میں، باب شرح حال مقداد،صفحہ100اور اس کتاب کے ترجمہ امام علیہ السلام، جلد2، صفحہ172، حدیث658(شرح محمودی)۔

حاکم، المستدرک میں، جلد3،صفحہ130،137۔

ابن ماجہ قزوینی اپنی کتاب سنن میں،جلد1،صفحہ66،حدیث149۔

ابو نعیم، کتاب حلیة الاولیاء ،ترجمہ مقداد، ج1، ص172، شمارہ28اورج1،ص190

گنجی شافعی، کفایة الطالب ، باب12،صفحہ94(صرف علی کے نام کا ذکر ہے)۔

ہیثمی، کتاب مجمع الزوائد میں، جلد9،صفحہ155۔

ابن مغازلی، کتاب مناقب میں، حدیث331،صفحہ290۔

شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة میں، باب59،صفحہ337،حدیث5۔

سیوطی، کتاب تاریخ الخلفاء میں،صفحہ169۔

بخاری اپنی کتاب صحیح بخاری، باب شرح حال ابی ربیعہ ایادی، شمارہ271،صفحہ31۔

پچیسویں روایت:

علی (ع)  حق کے ساتھ ہیں اور حق علی (ع)  کے ساتھ ہے:

عَنْ اَبِی ثٰابِتٍ مَولٰی اَبِی ذَر قٰالَ دَخَلْتُ عَلٰی اُمِّ سَلَمَة فَرَأیتُھَا تَبْکِی وَ تذکُرُ عَلِیّاً وَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّم یَقُوْلُ: عَلِیٌّ مَعَ الْحَقِّ وَالْحَقُّ مَعَ عَلِیٍّ وَ لَنْ یَفْتَرِقٰا حَتّٰی یَرِدٰا عَلَیَّ الْحَوْضَ یَوْمَ الْقِیٰامَةِ۔

ابو ثابت غلامِ حضرت ابوذر روایت کرتے ہیں کہ میں نے اُمِ سلمہ کو روتے ہوئے پایا ،وہ حضرت علی علیہ السلام کو یاد کر رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں کہ میں نے رسول اللہ سے سنا کہ انہوں نے فرمایا: علی حق کے ساتھ ہیں اور حق علی کے ساتھ، یہ دونوں جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ دونوں کنارِ حوضِ کوثر میرے پاس آ پہنچیں گے۔

ابن مغازلی، کتابِ مناقب میں، صفحہ244۔

ابن عساکر،تاریخ دمشق ، باب شرح حالِ امام علی ، ج3، ص119،حدیث1162 (شرح محمودی)۔

حاکم، المستدرک میں،حدیث61،جلد3،صفحہ124(بابِ مناقب علی علیہ السلام)۔

شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة میں، باب20،صفحہ104۔

خطیب، تاریخ بغداد ،ترجمہ یوسف بن محمد الموٴدب،ج14،ص321،شمارہ7643۔

ابن کثیر، البدایہ والنہایہ میں،جلد7،صفحہ321(آخر ِ بابِ فضائلِ علی علیہ السلام)۔

ہیثمی، کتاب مجمع الزوائد میں، جلد9،صفحہ135۔

خوارزمی، کتابِ مناقب میں، صفحہ223۔

ترمذی اپنی کتاب سنن میں، حدیث3،جلد13،صفحہ166(بابِ مناقب علی )۔

متقی ہندی، کنز العمال ،ج11،ص621،623(موٴسسة الرسالة،بیروت، پنجم)۔

چھبیسویں روایت:

علی (ع)  قرآن کے ساتھ ہیں اور قرآن علی  (ع) کے ساتھ ہے:

عَنْ اُمِّ سَلَمَةِ قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّم یَقُوْلُ: عَلِیُّ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ مَعَ الْقُرْآنِ وَ الْقُرْآنُ مَعَہ،لَا یَفْتَرِقٰانِ حَتّٰی یَرِدٰا عَلَیَّ الْحَوْضَ۔

جنابِ اُمِ سلمہ روایت کرتی ہیں کہ میں نے پیغمبر اکرم (ص) سے سنا کہ پیغمبر اکرم نے فرمایا کہ علی قرآن کے ساتھ ہیں اور قرآن علی کے ساتھ ہے اور یہ دونوں آپس میں جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ کنارِ حوضِ کوثر یہ دونوں مجھ تک آ پہنچیں گے۔

حاکم، المستدرک میں،جلد3،صفحہ124۔

شیخ سلیمان قندوزی حنفی ، کتاب ینابیع المودة میں، باب20،صفحہ103۔

ہیثمی، کتاب مجمع الزوائد میں،جلد9،صفحہ134۔

سیوطی، کتاب تاریخ الخلفاء میں، صفحہ173(بابِ فضائلِ علی علیہ السلام میں)۔

متقی ہندی، کنز العمال ،جلد11، صفحہ6032 (موٴسسة الرسالہ،بیروت،پنجم)

ستائیسویں روایت:

پیغمبر اکرم (ص)  کے بعد علی (ع)  کی اتباع اور پیروی کرنا لازم ہے:

عَنْ اَبِی لَیْلٰی الْغَفٰارِی، قٰالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ یَقُوْلُ: سَتَکُوْنُ مِنْ بَعْدِی فِتْنَةٌ فَاِذٰا کَانَ ذٰالِکَ فَاَلْزِمُوْا عَلِیَّ ابْنَ ابِی طَالِبْ فَاِنَّہ اَوَّلُ مَنْ یَرٰانِیْ وَ اَوَّلُ مَنْ یُصٰافِحُنِی یَوْمَ الْقِیٰامَةِ،وَ ھُوَ مَعِی فِی السَّمٰاءِ الْاَعْلٰی وَ ھُوَ الْفٰارُوْقُ مِنَ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلِ۔

ابو لیلیٰ غفاری کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ سے سنا کہ آپ نے فرمایا: میری زندگی کے بعد فتنہ پیدا ہو گا، ان حالات میں لازم ہے کہ تم پیروِ علی ابن ابی طالب علیہما السلام رہو کیونکہ حقیقت میں قیامت کے دن سب سے پہلے وہی مجھے دیکھیں گے اور سب سے پہلے مجھ سے مصافحہ کریں گے اور وہی اعلیٰ آسمانوں میں میرے ساتھ ہوں گے اور وہی ہیں جو حق اور باطل کو جدا کرنے والے ہیں۔

ابن عساکر، تاریخ دمشق ، باب شرح حالِ امام علی ،ج3، ص123،حدیث1164، شرح محمودی۔

ذہبی، میزان الاعتدال ،جلد2، صفحہ3، (صرف الدال)2587اور جلد1،ص188، شمارہ740۔

شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة میں، صفحہ93،152،باب43۔

گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں،باب44،صفحہ188۔

طبرانی، مسند ِ ابی رافع ابراہیم میں معجم الکبیر سے، جلد1، صفحہ51۔

متقی ہندی کنز العمال ،جلد11، صفحہ612(موٴسسة الرسالہ، بیروت، اشاعت پنجم)

اٹھائیسویں روایت:

علی (ع)  قرآن کے حقیقی حامی اور دفاع کرنے والے ہیں:

عَنْ اَبِیْ سَعِیْدَ الْخَدْرِی قٰالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّم یَقُوْلُ: اِنَّ مِنْکُمْ مَنْ یُقَاتِلُ عَلٰی تَاوِیْلِ الْقُرْآنِ کَمَا قَاتَلْتُ عَلٰی تَنْزِیْلِہ۔ قَالَ اَبُوبَکر: اَنَا ھُوَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: لَا۔ قٰالَ عُمَرُ: فَاِنَّا ھُوَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ؟ قٰالَ: لَا۔ وَ لٰکِنْ خٰاصِفُ النَّعْلِ قٰالَ (ابو سعید) وَ کَان قَدْ اَعْطِیْ عَلِیّاً نَعْلُہ یَخْصِفُھَا۔

ابو سعید خدری روایت کرتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ میں نے پیغمبر اکرم سے سنا کہ آپ نے فرمایا: بے شک تم میں وہ کون ہے جو قرآن کی تاویل (حکمِ باطن) پر جنگ کرے گا جس طرح میں نے قرآن کی تنزیل (حکمِ ظاہر) پر مشرکین سے جنگ کی تھی۔ ابوبکر نے کہا: یا رسول اللہ! کیا وہ شخص میں ہوں ؟ پیغمبر اسلام نے فرمایا: نہیں۔ عمر نے کہا: یا رسول اللہ! کیا وہ شخص میں ہوں ؟ پیغمبر اکرم نے فرمایا: نہیں، لیکن وہ شخص وہ ہے جو جُوتا مرمت کر رہا ہے۔ ابو سعید کہتے ہیں کہ یہ واقعہ اُس وقت ہوا جب پیغمبر اسلام نے اپنا جوتا حضرت علی علیہ السلام کو دیا تھا کہ وہ اُس کی مرمت کر دیں۔

ابن کثیر، البدایہ والنہایہ میں،جلد7،صفحہ361(بابِ فضائلِ علی ،آخری حصہ)۔

ابن عساکر، تاریخ دمشق ، باب شرح حال امام علی ، ج3،ص130،حدیث1171 (شرح محمودی)۔

حاکم، المستدرک میں، جلد3،صفحہ122،حدیث53(بابِ فضائلِ علی علیہ السلام)۔

ابن مغازلی، مناقب میں، صفحہ298،حدیث341،اشاعت اوّل۔

ہیثمی، مجمع الزوائد میں، جلد5، صفحہ 186اور جلد6، صفحہ244اورجلد9،صفحہ133۔

ابن ابی الحدید،شرح نہج البلاغہ میں، باب شرح المختار ،جلد3،صفحہ206۔

سیوطی، تاریخ الخلفاء میں، صفحہ173۔

حافظ ابو نعیم، حلیة الاولیاء ، جلد1، صفحہ67(بابِ شرح حالِ امیرالموٴمنین علی میں)۔

خطیب، تاریخ بغداد میں، جلد1،صفحہ134(بابِ شرح حالِ امیر الموٴمنین )شمارہ1۔

گنجی شافعی، کفایة الطالب ، باب94،صفحہ333اور دوسری اشاعت میں صفحہ191۔

شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة میں، صفحہ247اور باب11،صفحہ67۔

اُنتیسویں روایت:

علی (ع)  کو ناکثین،قاسطین اور مارقین سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا تھا:

عَنْ عَلِیٍّ قٰالَ: أَمَرَنِی رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّم بِقِتَالِ النَّاکِثِیْنَ وَالْمٰارِقِیْنَ وَالقٰاسِطِیْنَ۔

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ رسولِ خدا (ص) نے مجھے ناکثین، مارقین اور قاسطین کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔

ناکثین: بیعت توڑنے والوں یعنی طلحہ و زبیر وغیرہ (اصحابِ جنگ ِ جمل مراد ہیں)۔

مارقین: جنگ ِ نہروان کے خوارج۔

قاسطین: جنگ ِصفین میں لشکر ِمعاویہ۔

ہیثمی، کتاب مجمع الزوائد میں، جلد7،صفحہ238اورجلد5،صفحہ186۔

ابن عساکر، تاریخ دمشق میں، باب حالِ امیر الموٴمنین علی علیہ السلام،جلد3،ص158، حدیث1195اور اُس کے بعد(شرح محمودی)۔

ابن کثیر، البدایہ والنہایہ میں،جلد7،صفحہ305،362۔

ابن عمر یوسف بن عبد اللہ کتاب استیعاب میں،جلد3، صفحہ1117،روایت1855۔

خطیب، تاریخ بغداد میں، جلد8،صفحہ340،شمارہ4447۔

ذہبی، میزان الاعتدال میں، ج1،ص271،شمارہ1014اور ص410،شمارہ1505

حاکم، المستدرک میں،جلد3، صفحہ139، حدیث107(شرح حالِ امیرالموٴمنین )۔

شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، باب43،صفحہ152۔

گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں، باب37،صفحہ167۔

ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ میں، شرح المختار(48) جلد3، صفحہ207اور دوسرے۔

تیسویں روایت:

نسلِ پیغمبر اکرم (ع)  صُلب ِعلی (ع)  سے ہے:

عَنْ جَابِر قٰالَ: قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّم اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ جَعَلَ ذُرِیَّةَ کُلِّ نَبِیٍ فِی صُلْبِہِ وَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ جَعَلَ ذُرِیَّتِی فِیْ صُلْبِ عَلِیِ بْنِ ابی طالب علیہ السلام۔

جناب ابن عبد اللہ روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کی نسل کو اُس کے صلب میں رکھا اور بے شک میری نسل کو حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے صلب میں رکھا۔

گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں ،باب62،صفحہ79اور379۔

ابن عساکر ،تاریخ دمشق ، باب حالِ علی ،ج2، ص159، حدیث643،شرح محمودی۔

ہیثمی، کتاب مجمع الزوائد میں،جلد9،صفحہ172۔

شیخ سلیمان قندوزی ، ینابیع المودة ، باب مناقب السبعون، ص277،حدیث20، صفحہ300۔

ابن مغازلی، مناقب میں، صفحہ49۔

متقی ہندی، کنز العمال ، ج11،صفحہ600،موٴسسة الرسالہ، بیروت، اشاعت پنجم۔

اکتیسویں روایت:

پیغمبر اکرم (ص)  ،علی و فاطمہ حسن و حسین (علیہم السلام)  کے دشمنوں کے دشمن اور ان کے دوستوں کے دوست ہیں:

عَنْ زَیْدِ بْنِ اَرْقَمَ، قٰالَ : قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ لِعَلِیٍ و فاطِمَةَ وَ بِالْحَسَنِ وَ الْحُسَیْنِ: اَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَکُمْ وَسِلْمٌ لِمَنْ سٰالَمَکُمْ۔

زید بن ارقم کہتے ہیں کہ رسولِ خدا (ص) نے حضرت علی علیہ السلام ،جنابِ فاطمہ سلام اللہ علیہا، امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام سے فرمایا: میری اُس سے جنگ ہے جو تم سے جنگ کرے گا اور میری اُس سے صلح ہے جو تم سے صلح کرے گا۔

شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة میں،(دوسرا حصہ) صفحة444۔

حاکم، المستدرک میں،جلد3،صفحہ149۔

ہیثمی، کتاب مجمع الزوائد میں،جلد9،صفحہ169۔

گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں، صفحہ329،باب93۔

ذہبی، کتاب میزان الاعتدال میں،جلد1،صفحہ175،176درشمارہ712۔

ابن ماجہ قزوینی اپنی کتاب میں،جلد1،صفحہ52،حدیث145۔

متقی ہندی، کنز العمال ،ج12، صفحہ97 (موٴسسة الرسالہ،بیروت،اشاعت پنجم)۔

بتیسویں روایت:

علی (ع)  سے دُوری پیغمبر اکرم (ص)  سے دُوری ہے:

عَنْ اَبِیْ ذَرْ قٰالَ: قٰالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ آلِہ وَسَلَّم یٰا عَلِیُّ مَنْ فٰارَقَنِی فَقَدْ فٰارَقَ اللّٰہَ وَمَنْ فٰارَقَکَ یٰا عَلِیُّ فَقَدْ فٰارَقَنِی۔

حضرت ابوذر غفاری کہتے ہیں کہ رسولِ خدا نے فرمایا: یا علی ! جو کوئی مجھ سے جدا ہوا، وہ خدا سے جدا ہوا اور جو تم سے جدا ہوا، وہ بالتحقیق مجھ سے بھی جدا ہوا۔

حاکم، المستدرک میں،جلد3،صفحہ124،126۔

ذہبی، کتاب میزان الاعتدال میں،جلد2،صفحہ49،روایت2779۔

شیخ سلیمان قندوزی حنفی، ینابیع المودة ،صفحہ364(بابِ آیاتِ قرآن جو علی کی شان

میں نازل ہوئیں)۔

ابن عساکر، تاریخ دمشق ،باب شرح حالِ امام علی ،جلد2، صفحہ268،حدیث789۔

گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں، باب44،صفحہ189۔

متقی ہندی، کتاب کنزالعمال،جلد11،صفحہ

تینتیسویں روایت:

محبانِ علی (ع)  سعید و کامیاب ہیں اور دشمنانِ علی (ع)  پر خداوند کا غضب ہے:

عَنْ اَبِیْ مَرْیَمَ الثَّقَفِیْ،سَمِعْتُ عَمَّارِ بْنِ یٰاسِر،سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّم یَقُوْلُ لِعَلِیٍّ: یا عَلِیُّ طُوْبٰی لِمَنْ اَحَبَّکَ وَصَدَّقَ فِیْکَ وَ وَیْلٌ لِمَنْ اَبْغَضَکَ وَکَذَّبَ فِیْکَ۔

ابی مریم ثقفی سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے عمار بن یاسر سے سنا، عمار بن یاسر کہتے ہیں کہ انہوں نے رسولِ خدا (ص) سے سنا کہ رسول اللہ نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا: یا علی !سعادت مند و خوشبخت ہے وہ شخص جس نے تم سے محبت کی اور تمہاری تصدیق کی اور ہلاکت و بدبخت  ہے وہ شخص جس نے تم سے بغض رکھا اور تم کو جھٹلایا۔

حاکم، المستدرک میں،جلد3،صفحہ135۔

ابن کثیر، کتاب البدایہ والنہایہ،جلد7،صفحہ356۔

شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة،صفحہ252۔

ذہبی، کتاب میزان الاعتدال میں، جلد3،صفحہ118۔

ابن عساکر، تاریخ دمشق میں،باب حالِ امام علی ،جلد2، صفحہ211، حدیث705۔

گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں،صفحہ192،باب46۔

متقی ہندی، کنز العمال ، ج11، ص623(موٴسسة الرسالہ، بیروت، اشاعت پنجم)

چونتیسویں روایت:

علی (ع)  دنیا و آخرت میں رسولِ خدا (ص)کے بھائی ہیں:

عَنْ اِبْنِ عمراَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّم قٰالَ لِعَلیٍ: اَنْتَ أَخِیْ فِی الدُّنْیَا وَ الْآخِرَة۔

ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ (ص) نے علی علیہ السلام سے فرمایا کہ یا علی ! تم اس دنیا میں اور آخرت میں بھی میرے بھائی ہو۔

ذہبی،کتاب میزان الاعتدال میں،جلد1،صفحہ421،شمارہ1552۔

سیوطی، تاریخ الخلفاء میں،صفحہ170۔

ابی عمر یوسف بن عبد اللہ ،استیعاب ،ج3،ص1099،روایت1855کے تسلسل میں

ابن کثیر کتاب البدایة والنہایہ میں،جلد7،صفحہ336،بابِ فضائلِ علی علیہ السلام۔

متقی ہندی،کنز العمال ،ج11،ص598(موٴسسة الرسالہ،بیروت،اشاعت پنجم)

پینتیسویں روایت:

علی (ع)  محبوبِ خدا  و رسول (ص)  ہیں اور مشکلوں کا حل اُن کے پاس ہے:

عَنِ النَّبِی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّم قٰالَ یَوْمَ الْخَیْبَرِ: لَاُعْطِیَنَّ الرّٰایَةَ غَدًا رَجُلاً یُحِبُّ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہُ وَ یُحِبُّہُ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ لَیْسَ بِفَرّٰارٍ،یَفْتَحُ اللّٰہُ عَلٰی یَدَیْہِ (فَبَعَثَ اِلٰی عَلِیٍ فَاَعطٰاہُ الرّٰایةَ)۔

پیغمبر اکرم نے خیبر کے روز فرمایا کہ کل میں عَلَم اُس کو دوں گا جو خدا اور رسول کو دوست رکھتا ہو گا اور خدا و رسول بھی اُسے دوست رکھتے ہوں گے۔ وہ (میدانِ جنگ سے) بھاگنے والا نہیں ہو گا اور خدا اُس کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائے گا (اگلے دن علی علیہ السلام کو پرچم عطا فرمایا)۔

ابی عمر یوسف بن عبد اللہ، کتاب استیعاب میں، جلد3، صفحہ1099، روایت1855۔

حافظ ابی نعیم،حلیة الاولیاء میں،جلد1،صفحہ62۔

ابن کثیر ،کتاب البدایہ والنہایہ میں،جلد7،صفحہ337۔

گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں، باب14،صفحہ98میں۔

سیوطی، تاریخ الخلفاء میں،صفحہ168۔

بلاذری، کتاب انساب الاشراف میں،جلد1،صفحہ94،حدیث12۔

بخاری ،صحیح بخاری میں،جلد5،صفحہ79،حدیث220،بابِ فضائلِ اصحاب النبی۔

ابن ماجہ اپنی کتاب میں، جلد1،صفحہ43،حدیث117۔

متقی ہندی، کنز العمال ،ج13، ص 121(موٴسسة الرسالہ، بیروت،اشاعت پنجم)

بہت سی روایات جو اس ضمن میں موجود ہیں، اُن سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اُس دن (روزِ فتح خیبر) شروع میں دوسرے سردار اس قلعہ کو فتح کرنے کیلئے گئے لیکن کامیاب نہ ہو سکے ۔پس رسولِ خدا نے علی علیہ السلام کو اس کام کیلئے منتخب فرمایا۔ علی علیہ السلام کے جانے پر اور درِ خیبر کے اکھاڑنے پر یقینی فتح نصیب ہوئی۔

چھتیسویں روایت:

علی (ع)  ہادی و مہدی ہیں اور اُن کا راستہ ہی صراطِ مستقیم ہے:

عَنْ حذیفة، قٰالَ: قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّم اِنْ وَلُّوا عَلِیاً فَھٰادِیَاً مَھْدِیَاً (وَ جَاءَ فِی روایةٍ اُخْریٰ اِنَّہ قٰال صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّم) اِنْ تُوَلُّوْا عَلِیاً وَجَدْتُمُوْہُ ھٰادِیاً مَھْدِیاً یَسْلُکُ بِکُمْ عَلَی الطَّرِیْقِ الْمُسْتَقِیْمِ۔

حذیفہ روایت کرتے ہیں کہ رسولِ خدا ص نے فرمایا کہ اگر تم نے ولایت اور سرداری علی ابن ابی طالب علیہما السلام کو قبول کیا (تو جان لو) کہ علی ہدایت کرنے والے ہیں اور خود ہدایت یافتہ ہیں اور دوسری روایت میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ اگر تم ولایت ِعلی کو قبول کرو گے تو تم اُس کو ہدایت کرنے والا اور ہدایت یافتہ پاؤ گے اور وہ تمہیں صراطِ مستقیم پر چلانے والا ہے۔

ابن عمر یوسف بن عبد اللہ، استیعاب ،ج3،ص1114،روایت1855کا تسلسل۔

ابن عساکر،تاریخ دمشق ، باب شرح حالِ امام علی ،جلد3، صفحہ68،حدیث1110۔

حافظ ابو نعیم، کتاب حلیة الاولیاء میں،جلد1،صفحہ64۔

ابن کثیر،کتاب البدایہ والنہایہ میں،جلد7،صفحہ361(آخر ِ بابِ فضائلِ علی )۔

بلاذری، انساب الاشراف،ج2،صفحہ102،حدیث34(اشاعت اوّل،بیروت)۔

خطیب، تاریخ بغداد، باب شرح حال ابی الصلت الھروی،ج11،ص47، شمارہ5728۔

حاکم، المستدرک میں،جلد3،صفحہ142،بابِ فضائلِ علی علیہ السلام۔

متقی ہندی، کنز العمال ،ج11، ص612(موٴسسة الرسالہ، بیروت،اشاعت پنجم)

سینتیسویں روایت:

پیغمبر اکرم (ص)  کا علی (ع)  و فاطمہ (ع)  کے گھر کے دروازے پر آیت تطہیر کی تلاوت کرنا:

عَنْ اَبِی الْحَمْرَاء قٰالَ أَقَمْتُ بِالْمَدِیْنَةِ سَبْعَةَ اَشْھُرٍ کَیَوْمٍ وَاحِدٍ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّم یَجِیٴُ کُلَّ غَدَاةٍ فَیَقُوْمُ عَلٰی بٰابِ فٰاطِمَةَ یَقُولُ: اَلصَّلَاة "اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْراً۔ (سورہ احزاب: آیت33)

ابی الحمراء سے روایت کی گئی ہے ،وہ کہتے ہیں کہ میں سات ماہ تک متواتر مدینہ میں قیام پذیر رہا (اور اس چیز کا مشاہدہ کرتا رہا)۔ رسولِ خدا (ص) ہر روز صبح تشریف لاتے اور خانہٴ سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا پر رُکتے اور فرماتے" الصَّلاة " اور پھر فرماتے: اے اہلِ بیت ! سوائے اس کے نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم سے ہر قسم کے رجس کو دور رکھے اور تم کو ایسا پاک کر دے جیسا کہ پاک کرنے کا حق ہے۔

ابن عساکر ،تاریخ دمشق ،باب شرح حالِ امیر الموٴمنین ،ج1، حدیث320تا322۔

بلاذری،انساب الاشراف ،ج2، ص157 ،215 اور اشاعت ِ بیروت، صفحہ104۔

گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں، باب62،صفحہ242۔

شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة میں، باب5،صفحہ51۔

حاکم، المستدرک میں،جلد3،صفحہ158۔

ابن کثیر اپنی تفسیر میں،جلد3،صفحہ483،آیہٴ تطہیر کے ذیل میں۔

متقی ہندی، کنز العمال ،ج13، ص646 (موٴسسة الرسالہ، بیروت،اشاعت پنجم)

اڑہتیسویں روایت:

جس نے علی (ع)  کو تکلیف پہنچائی اُس نے گویا پیغمبر (ص)  کو تکلیف پہنچائی ہے:

عَنْ عَمْرو بْنِ شٰاسٍ اَنَّہ سَمِعَ النَّبِیَّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّم یَقُوْلُ: مَنْ آذیٰ عَلِیّاً فَقَدْ آذانِیْ۔

عمرو بن شاس روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے پیغمبر اکرم (ص) سے سنا کہ آپ نے فرمایا کہ جس کسی نے علی کو اذیت پہنچائی، اُس نے گویا مجھے اذیت پہنچائی ہے۔

یہی روایت کتاب استیعاب میں بہتر طور پر اور تفصیل سے بیان کی گئی ہے یعنی پیغمبر اسلام نے فرمایا ہے کہ:

مَنْ اَحَبَّ عَلِیّاً فَقَدْ اَحَبَّنِیْ وَ مَنْ اَبْغَضَ عَلِیّاً فَقَدْ اَبْغَضَنِیْ وَ مَنْ آذیٰ عَلِیّاً فَقَدْ آذَانِیْ وَ مَنْ آذَانِیْ فَقَدْ آذَی اللّٰہ۔

جس کسی نے علی علیہ السلام سے محبت کی، اُس نے گویا مجھ سے محبت کی اور جس کسی نے علی علیہ السلام سے بغض رکھا، اُس نے گویا مجھ سے بغض رکھا اور جس کسی نے علی کو اذیت پہنچائی،اُس نے گویا مجھے اذیت پہنچائی اور جس کسی نے مجھے اذیت پہنچائی، اُس نے گویا اللہ تعالیٰ کو اذیت پہنچائی ہے۔

ابن عساکر، تاریخ دمشق، باب شرح حال امام علی ،جلد1، صفحہ388،حدیث495 (شرح محمودی)۔

حاکم، المستدرک میں،جلد3،صفحہ122۔

شیخ سلیمان قندوزی حنفی، ینابیع المودة، باب مناقب ِ سبعون، صفحہ275،حدیث9۔

احمد بن حنبل، المسند، حدیث بعنوان"حدیث ِعمروبن شاس الاسلمی"،جلد3، صفحہ 483 ،اشاعت اوّل۔

ابی عمر یوسف بن عبد اللہ ،استیعاب ،ج3،ص1101،روایت1855اور صفحہ1183

گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں،باب68،صفحہ276۔

بلاذری، انساب الاشراف ، حدیث147،ج2،ص146،اشاعت بیروت،اوّل۔

سیوطی، کتاب تاریخ الخلفاء میں،صفحہ172۔

متقی ہندی،کنز العمال ، ج11، صفحہ601 (موٴسسة الرسالہ، بیروت، اشاعت پنجم)

اُنتالیسویں روایت:

زندگی اور موت میں رسول (ص)  کے ساتھ اور جنت میں رسول (ص)  کے ہمراہ ہونا ، یہ سب علی (ع)  کی ولایت کے اقرار کے ساتھ مشروط ہیں:

عَنْ زَیْد اِبنِ اَرْقَمْ قٰالَ، قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّم مَنْ یُرِیْدُ اَنْ یَحْیٰی حَیٰاتِیْ وَ یَمُوْتَ مَوْتِیْ وَ یَسْکُنَ جَنَّةَ الْخُلْدِ الَّتِیْ وَعَدَنِیْ رَبِّیْ، فَلْیَتَوَلِّ عَلَیَّ ابنَ اَبِیْ طَالِب فَاِنَّہ لَنْ یُخْرِجَکُمْ مِنْ ھُدیً وَ لَنْ یُدْخِلَکُمْ فِی ضَلٰالَةٍ۔

زید بن ارقم سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ (ص) نے فرمایا کہ جو کوئی بھی یہ چاہتا ہے کہ اُس کی زندگی اور موت میری نسبت سے منسلک رہے اور وہ جنت جس کا پروردگار نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے، اُسے نصیب ہو، اُس کو چاہیے کہ علی ابن ابی طالب علیہما السلام سے محبت رکھے کیونکہ وہ یقینا تمہیں ہدایت کے راستہ سے ہٹنے نہیں دیں گے اور یقینا گمراہی میں پڑنے نہیں دیں گے۔

حاکم، المستدرک میں، جلد3،صفحہ128۔

شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، باب43،صفحہ149،150۔

حافظ ابی نعیم، کتاب حلیة الاولیاء،جلد1(صفحہ86)۔

متقی ہندی،کنز العمال،ج11، ص611 (موٴسسة الرسالہ،بیروت ، اشاعت پنجم)

چالیسویں روایت:

پیغمبر (ص)  کا علی (ع)  کی شہادت کی خبر دینا اور آپ کے قاتل کو سب سے زیادہ شقی القلب قرار دینا:

عَنْ عُثْمٰانَ ابْنِ صُھَیْبٍ، عَنْ اَبِیْہِ قٰالَ: قٰالَ عَلِیٌ قٰالَ لِی رَسُولُ اللّٰہ مَنْ اَشْقَی الْاَوَّلِیْن ؟ قُلْتُ: عٰاقِرُ الْنّٰاقِةِ۔ قٰالَ صَدَقْتَ،فَمَنْ اَشْقَی الآخِرِیْنَ ؟ قُلْتُ لَاعِلْمَ لِی رَسُوْلُ اللّٰہِ قٰالَ الَّذِیْ یَضْرِبُکَ عَلٰی ھٰذِہِ وَ اَشَارَ بِیَدِہِ اِلٰی یٰافُوْخِہِ وَ کَانَ (عَلِیٌ) یَقُوْلُ: وَدَدْتُ اَنَّہ قَدِ انْبَعَثَ اَشْقٰاکُمْ فَخَضِبَ ھٰذِہِ مِنْ ھٰذِہِ۔ یَعْنِی لِحْیَتَہُ مِنْ دَمِ رَأسِہِ۔

عثمان بن صہیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ علی علیہ السلام نے فرمایا کہ رسولِ خدا نے مجھ سے فرمایا کہ پہلے آنے والوں میں بدبخت ترین شخص کون ہے؟ میں نے عرض کی کہ ناقہٴ صالح کو کاٹنے والا۔ آپ نے فرمایا: یا علی ! تم نے سچ کہا، اور آخر میں آنے والوں میں بدبخت ترین شخص کون ہے ؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نہیں جانتا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ جو کوئی تمہارے سر پر مارے گا اور اپنے ہاتھ سے علی کے سر کی طرف اشارہ کیا۔ علی ساتھ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ میں اس چیز کو پسند کرتا ہوں کہ شقی ترین شخص اُٹھے اور میری ریش کو میرے سر کے خون سے خضاب کرے۔

ابن عساکر،تاریخ دمشق ، باب شرح حالِ علی ،جلد3، صفحہ282، حدیث1371۔

ابن کثیر،کتاب البدایہ والنہایہ میں،جلد7،صفحہ324۔

ہیثمی،کتاب مجمع الزوائد میں،جلد9،صفحہ136۔

شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة میں، باب59،صفحہ216اور339۔

متقی ہندی،کنز العمال ،ج13،ص190(موٴسسة الرسالہ، بیروت، اشاعت پنجم)

گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں، صفحہ463۔

سیوطی ،تاریخ الخلفاء میں،صفحہ173۔

خطیب، تاریخ بغداد میں،جلد1،صفحہ135(بابِ حالِ علی ،شمارہ1)اور دوسرے۔

اس ضمن میں بہت سی روایات موجود ہیں۔منجملہ روایت ِ ابی رافع کہ وہ کہتے ہیں کہ:

پیغمبر اسلام نے علی علیہ السلام سے فرمایا:

اَنْتَ تَقْتَلُ عَلٰی سُنَّتِی۔

یا علی ! تم میری سنت اور روش پر قتل کیے جاؤ گے۔

ابن عساکر ،تاریخ دمشق میں، باب شرح حالِ امام علی ،جلد3،ص269،حدیث1347اور دوسرے۔

التماس دعا.....

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی