2017 August 23
کیا رسول خدا (ص) کی حدیث «خلفائي إثنا عشر»، امام زمان، حضرت مہدی (ع) کے موجود و زندہ ہونے پر دلالت کرتی ہے ؟
مندرجات: ٧٥٨ تاریخ اشاعت: ٢٤ May ٢٠١٧ - ١٢:٢٦ مشاہدات: 319
سوال و جواب » Mahdism
جدید
کیا رسول خدا (ص) کی حدیث «خلفائي إثنا عشر»، امام زمان، حضرت مہدی (ع) کے موجود و زندہ ہونے پر دلالت کرتی ہے ؟

سوال:

کیا رسول خدا (ص) کی حدیث «خلفائي إثنا عشر»، امام زمان، حضرت مہدی (ع) کے موجود و زندہ ہونے پر دلالت کرتی ہے ؟

توصيخ سوال:

کتب شیعہ و اہل سنت میں رسول خدا (ص) سے بہت سی روایات ذکر ہوئی ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ: میرے بعد میرے بارہ جانشین ہوں گے۔ فریقین کے علماء و محدثین کے درمیان تمام یہ روایات «خلفائي إثنا عشر»کے نام و عنوان سے مشہور ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہ تمام روایات امام زمان، حضرت مہدی (ع) کے موجود ہونے اور انکے زندہ ہونے پر بھی دلالت کرتیں ہیں یا دلالت نہیں کرتیں؟

جواب:

روایت «اثنی عشر» ان روایات میں سے ہے کہ جو آئمہ اہل بیت (ع) میں سے ایک شخص کے قیامت تک دین اسلام کی بقاء و حفاظت کرنے کے لیے زندہ ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ اسی وجہ سے اس زمانے میں بھی اہل بیت میں سے ایک شخص کو موجود ہونا چاہیے تا کہ جسکی وجہ سے دین اسلام اپنی صحیح شکل میں باقی رہ سکے اور نابود بھی نہ ہو۔

اس جواب میں ہم اسی مطلب کو شیعہ و سنی کتب سے بیان کریں گے۔

اصل روايت مختلف الفاظ کے ساتھ:

رسول خدا (ص) کی یہ روایت اہل سنت کی کتب میں مختلف الفاظ کے ساتھ نقل ہوئی ہے:

1. تعبير «اثنا عشر خليفۃ»

کتاب صحیح مسلم میں یہ روایت اس عبارت کے ساتھ ، مختلف اسناد کے ساتھ نقل ہوئی ہے:

          حدثنا قُتَيْبَةُ بن سَعِيدٍ حدثنا جَرِيرٌ عن حُصَيْنٍ عن جَابِرِ بن سَمُرَةَ قال: سمعت النبي صلي الله عليه وسلم يقول وحدثنا رِفَاعَةُ بن الْهَيْثَمِ الْوَاسِطِيُّ واللفظ له حدثنا خَالِدٌ يَعْنِي بن عبد اللَّهِ الطَّحَّانَ عن حُصَيْنٍ عن جَابِرِ بن سَمُرَةَ قال: دَخَلْتُ مع أبي علي النبي صلي الله عليه وسلم فَسَمِعْتُهُ يقول: إِنَّ هذا الْأَمْرَ لَا يَنْقَضِي حتي يَمْضِيَ فِيهِمْ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً. قال: ثُمَّ تَكَلَّمَ بِكَلَامٍ خَفِيَ عَلَيَّ قال: فقلت لِأَبِي: ما قال؟ قال: كلهم من قُرَيْشٍ.

جابر بن سمره نے کہا ہے کہ: میں اپنے والد کے ساتھ رسول خدا کے پاس گیا، ہم نے سنا کہ ان حضرت نے فرمایا: خلافت اسلامی کا سلسلہ ختم نہیں ہو گا، یہاں تک کہ لوگوں پر بارہ خلیفہ حکومت کریں گے۔ پھر ان حضرت نے ایک ایسی بات کی کہ جو مجھے سمجھ نہیں آئی، میں نے اپنے والد سے کہا کہ: ان حضرت نے کیا فرمایا ہے ؟ میرے والد نے کہا کہ: رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: وہ سارے بارہ جانشین قریش میں سے ہیں۔

النيسابوري القشيري، ابوالحسين مسلم بن الحجاج (متوفي261هـ)، صحيح مسلم، ج3، ص1452، ح1821، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.

مسلم نے ایک دوسری روايت کو بھی نقل کیا ہے:

حدثنا قُتَيْبَةُ بن سَعِيدٍ وأبو بَكْرِ بن أبي شَيْبَةَ قالا حدثنا حَاتِمٌ وهو بن إسماعيل عن الْمُهَاجِرِ بن مِسْمَارٍ عن عَامِرِ بن سَعْدِ بن أبي وَقَّاصٍ قال كَتَبْتُ إلي جَابِرِ بن سَمُرَةَ مع غُلَامِي نَافِعٍ أَنْ أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ من رسول اللَّهِ صلي الله عليه وآله قال فَكَتَبَ إلي سمعت رَسُولَ اللَّهِ صلي الله عليه وآله يوم جُمُعَةٍ عَشِيَّةَ رُجِمَ الْأَسْلَمِيُّ يقول: لَا يَزَالُ الدِّينُ قَائِمًا حتي تَقُومَ السَّاعَةُ أو يَكُونَ عَلَيْكُمْ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً كلهم من قُرَيْشٍ.

عامر بن سعد بن ابی وقاص کہتا ہے کہ: میں نے اپنے غلام کے ساتھ مل کر جابر ابن سمرہ کو لکھا کہ جو تم نے رسول خدا سے سنا ہے، اسکو ہمارے لیے بھی لکھو، جابر نے ہمارے لیے لکھا کہ جمعے کے دن شام کے وقت اسلمی کو سنگسار کیا گیا تھا، اس نے رسول خدا سے سنا تھا کہ انھوں نے فرمایا تھا کہ: ہمیشہ دین باقی ہے گا، یہاں تک کہ قیامت برپا ہو جائے اور تم پر بارہ خلیفہ ہوں گے کہ وہ سب قریش سے ہوں گے۔

       النيسابوري القشيري، ابوالحسين مسلم بن الحجاج (متوفي261هـ)، صحيح مسلم، ج3، ص1453، ح1822، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.

اختصار کی وجہ سے بعد والی روایات کہ جو صفحہ نمبر 1452 پر ذکر ہوئیں ہیں، انکی سند کو حذف کرتے ہوئے، بیان کیا جا رہا ہے:

... يقول لَا يَزَالُ الْإِسْلَامُ عَزِيزًا إلي اثني عَشَرَ خَلِيفَةً.

رسول خدا (ص) نے فرمایا کہ: دین اسلام ہمیشہ اسوقت تک عزیز رہے گا، جب تک تم پر بارہ خلیفہ حکومت کرتے رہیں گے۔

       ... لَا يَزَالُ هذا الْأَمْرُ عَزِيزًا إلي اثني عَشَرَ خَلِيفَةً.

امر دین اسوقت تک ہمیشہ عزیز رہے گا، یہاں تک کہ بارہ خلیفہ لوگوں پر حکومت کر لیں۔

... لَا يَزَالُ هذا الدِّينُ عَزِيزًا مَنِيعًا إلي اثني عَشَرَ خَلِيفَةً.

ہمیشہ یہ دین عزیز و طاقتور رہے گا، یہاں تک کہ بارہ خلیفہ لوگوں پر حکومت کر لیں۔

... لَا يَزَالُ أَمْرُ الناس مَاضِيًا ما وَلِيَهُمْ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا۔

لوگوں کے کام ہمیشہ اسی طرح آگے چلتے رہیں گے، جب تک بارہ شخص ان پر حکومت کرتے رہیں گے۔

النيسابوري القشيري، ابوالحسين مسلم بن الحجاج (متوفي261هـ)، صحيح مسلم، ج3، ص1452، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.

ابو داود سجستانی عالم اہل سنت نے اس روايت کو دوسرے الفاظ کے ساتھ ایسے نقل کیا ہے:

       حدثنا عَمْرُو بن عُثْمَانَ ثنا مَرْوَانُ بن مُعَاوِيَةَ عن إسماعيل يَعْنِي بن أبي خَالِدٍ عن أبيه عن جَابِرِ بن سَمُرَةَ قال سمعت رَسُولَ اللَّهِ صلي الله عليه وسلم يقول لَا يَزَالُ هذا الدِّينُ قَائِمًا حتي يَكُونَ عَلَيْكُمْ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً كلهم تَجْتَمِعُ  عليه الْأُمَّةُ فَسَمِعْتُ كَلَامًا من النبي صلي الله عليه وسلم لم أَفْهَمْهُ قلت لِأَبِي ما يقول قال كلهم من قُرَيْشٍ.

جابر بن سمره نے کہا ہے کہ میں نے رسول خدا سے سنا ہے کہ وہ فرما رہے تھے کہ: یہ دین ہمیشہ باقی رہے گا، یہاں تک کہ بارہ خلیفہ کہ جن پر امت نے اجماع و اتفاق کیا ہے، وہ آئیں گے۔ پھر ان حضرت نے ایک ایسی بات کی کہ جو مجھے سمجھ نہیں آئی، میں نے اپنے والد سے کہا کہ: ان حضرت نے کیا فرمایا ہے ؟ میرے والد نے کہا کہ: رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: وہ بارہ جانشین قریش میں سے ہوں گے۔

 السجستاني الأزدي، ابوداود سليمان بن الأشعث (متوفي275هـ)، سنن أبي داود، ج4، ص106، ح4279، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، ناشر: دار الفكر.

حدثنا مُوسَي بن إسماعيل ثنا وُهَيْبٌ ثنا دَاوُدُ عن عَامِرٍ عن جَابِرِ بن سَمُرَةَ قال: سمعت رَسُولَ اللَّهِ صلي الله عليه وسلم يقول: لَا يَزَالُ هذا الدِّينُ عَزِيزًا إلي اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً قال فَكَبَّرَ الناس وَضَجُّوا ثُمَّ قال: كَلِمَةً خفية قلت لِأَبِي يا أَبَتِ ما قال؟ قال: كلهم من قُرَيْشٍ.

جابر بن سمره نے کہا ہے کہ رسول خدا نے فرمایا کہ: جب تک بارہ خلیفہ آئیں گے، یہ دین ہمیشہ عزیز رہے گا۔ جابر نے کہا کہ: لوگوں نے یہ بات سن کر بلند بلند آواز سے تکبیر کہنا شروع کر دیا اور شور شرابا کیا۔ پھر ان حضرت نے ایک ایسی بات کی کہ جو مجھے شور کی وجہ سمجھ نہیں آئی، میں نے اپنے والد سے کہا کہ: ان حضرت نے کیا فرمایا ہے ؟ میرے والد نے کہا کہ: رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: وہ سارے بارہ جانشین قریش میں سے ہیں۔

السجستاني الأزدي، ابوداود سليمان بن الأشعث (متوفي275هـ)، سنن أبي داود، ج4، ص106، ح4280، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، ناشر: دار الفكر۔

اس روایت کو حنبلی مذہب کے مؤسس احمد ابن حنبل نے اپنی کتاب مسند احمد کے صفحہ 86 سے صفحہ 107 تک اور حاکم نیشاپوری نے اپنی کتاب المستدرک علی الصحیحن کی جلد 3 کے صفحہ 715 و 716 پر حدیث نمبر 6586 و 6589 کے طور پر اس روایت کو ذکر کیا ہے، اور دوسرے اہل سنت کے بزرگ علماء نے بھی اس روایت کو اپنی اپنی کتب میں ذکر کیا ہے۔

2. «اثني عشر نقيبا»

بعض روایات «اثنا عشر»  میں لفظ خلیفہ کی جگہ لفظ نقیبا ذکر ہوا ہے۔

احمد بن حنبل نے اپنی کتاب مسند احمد میں دو جگہ پر اس روایت کو نقل کیا ہے:

حدثنا عبد اللَّهِ حدثني أبي ثنا حَسَنُ بن مُوسَي ثنا حَمَّادُ بن زَيْدٍ عَنِ الْمُجَالِدِ عَنِ الشعبي عن مَسْرُوقٍ قال: كنا جُلُوساً عِنْدَ عبد اللَّهِ بن مَسْعُودٍ وهو يُقْرِئُنَا الْقُرْآنَ فقال له رَجُلٌ: يا أَبَا عبد الرحمن هل سَأَلْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صلي الله عليه وسلم كَمْ تملك هذه الأُمَّةَ من خَلِيفَةٍ؟ فقال عبد اللَّهِ بن مَسْعُودٍ: ما سألني عنها أَحَدٌ مُنْذُ قَدِمْتُ الْعِرَاقَ قَبْلَكَ ثُمَّ قال: نعم. وَلَقَدْ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلي الله عليه وسلم فقال: اثْنَا عَشَرَ كَعِدَّةِ نُقَبَاءِ بني إِسْرَائِيلَ.

مسروق نے کہا ہے کہ: ہم عبد اللہ ابن مسعود کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور وہ ہمارے لیے قرآن کی تلاوت کر رہا تھا۔ ایک شخص نے اس سے کہا: اے ابو عبد الرحمن کیا تم نے رسول خدا سے نہیں پوچھا کہ انکے بعد کتنے خلیفہ ہوں گے ؟ عبد اللہ نے کہا: جب سے میں عراق میں آیا ہوں، کسی نے بھی اس موضوع کے بارے میں مجھ سے نہیں پوچھا، ہم نے رسول خدا سے پوچھا تھا اور انھوں نے فرمایا تھا کہ: میرے خلفاء، نقباء بنی اسرائیل کی طرح بارہ ہی ہوں گے۔

الشيباني، ابو عبد الله أحمد بن حنبل (متوفي241هـ)، مسند أحمد بن حنبل، ج1، ص398، ح3781 و ص406، ح 3859، ناشر: مؤسسة قرطبة - مصر.

اہل سنت کے بعض بزرگ علماء جیسے عاصمی مكی، مباركفوری، ابن حجر عسقلانی، عبد الرحمن سيوطی اور ابن حجر ہيثمی نے واضح طور پر کہا ہے یہ: ابن مسعود کی روایت سند کے لحاظ سے حسن ہے:

أما حديث بن مسعود فأخرجه أحمد والبزار بسند حسن أنه سئل كم يملك...

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفي852 هـ)، فتح الباري شرح صحيح البخاري، ج13، ص212، تحقيق: محب الدين الخطيب، ناشر: دار المعرفة - بيروت.

السيوطي، جلال الدين أبو الفضل عبد الرحمن بن أبي بكر (متوفي911هـ)، تاريخ الخلفاء، ج1، ص10، تحقيق: محمد محي الدين عبد الحميد، ناشر: مطبعة السعادة - مصر، الطبعة: الأولي، 1371هـ - 1952م.

الهيثمي، ابوالعباس أحمد بن محمد بن علي ابن حجر (متوفي973هـ)، الصواعق المحرقة علي أهل الرفض والضلال والزندقة، ج1، ص54، تحقيق عبد الرحمن بن عبد الله التركي - كامل محمد الخراط، ناشر: مؤسسة الرسالة - لبنان، الطبعة: الأولي، 1417هـ - 1997م.

العاصمي المكي، عبد الملك بن حسين بن عبد الملك الشافعي (متوفي1111هـ)، سمط النجوم العوالي في أنباء الأوائل والتوالي، ج2، ص406، تحقيق: عادل أحمد عبد الموجود- علي محمد معوض، ناشر: دار الكتب العلمية.

المباركفوري، أبو العلا محمد عبد الرحمن بن عبد الرحيم (متوفي1353هـ)، تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي، ج6، ص394، دار الكتب العلمية - بيروت.

ابن حجر عسقلانی نے اس روایت کو اس طرح سے نقل کیا ہے:

وقال إسحاق: أخبرنا أبو أسامة قالا: ثنا المجالد عن الشعبي عن مسروق قال: جَاءَ رَجُلٌ إِلَي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ: هَلْ حَدَّثَكُمْ نَبِيُّكُمْ صلي الله عليه وآله كَمْ يَكُونُ بَعْدَهُ مِنَ الْخُلَفَاءِ؟ فَقَالَ: نَعَمْ. وَمَا سَأَلَنِي أَحَدٌ قَبْلَكَ وَإِنَّكَ لَأَحْدَثُ الْقَوْمِ سِنّاً نَعَمْ. قَالَ:يَكُونُ بَعْدِي عِدَّةُ نُقَبَاءِ مُوسَي اثني عشر نقيبا.

ایک شخص عبد اللہ ابن مسعود کے پاس آیا اور کہا: کیا آپکے پیغمبر نے آپکو خبر دی ہے کہ انکے بعد کتنے خلیفہ ہوں گے ؟ ابن مسعود نے جواب دیا: ہاں، اور کسی نے بھی تم سے پہلے اس بات کو مجھ سے نہیں پوچھا اور تم عمر میں سب سے جوان ہو، ہاں رسول خدا نے فرمایا کہ: میرے بعد حضرت موسی کے نقبا کی تعداد کے مطابق بارہ نقیب ہوں گے۔

آخر میں کہتا ہے کہ:

(هذا اسناده حسن)

اس روایت کی سند حسن ہے۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفي852هـ)، ج9، ص577، المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية، تحقيق: د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشتري، ناشر: دار العاصمة/ دار الغيث، الطبعة: الأولي، السعودية - 1419هـ.

3. اثنا عشر اميراً»

بعض روایات میں «اثنا عشر اميراً» کی تعبیر ذکر ہوئی ہے:

اہل سنت کی صحیح ترین کتاب صحیح بخاری میں یہ روایت اس طرح سے نقل ہوئی ہے:

حدثني محمد بن الْمُثَنَّي حدثنا غُنْدَرٌ حدثنا شُعْبَةُ عن عبد الْمَلِكِ سمعت جَابِرَ بن سَمُرَةَ قال: سمعت النبي صلي الله عليه وسلم يقول: يَكُونُ اثْنَا عَشَرَ أَمِيرًا فقال: كَلِمَةً لم أَسْمَعْهَا فقال: أبي إنه قال: كلهم من قُرَيْشٍ.

جابر بن سمره نے کہا ہے کہ: میں نے رسول خدا کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: میرے بعد بارہ امیر و حاکم ہوں گے، پھر ان حضرت نے کچھ فرمایا جو میں سن نہ سکا، لیکن میرے والد نے کہا کہ: رسول خدا نے فرمایا کہ: وہ سب خلفاء قریش سے ہوں گے۔

البخاري الجعفي، ابوعبدالله محمد بن إسماعيل (متوفي256هـ)، صحيح البخاري، ج6، ص2640، ح6796، تحقيق د. مصطفي ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987.

احمد ابن حنبل کی کتاب مسند احمد کی نقل کے مطابق رسول خدا نے بارہ جانشینوں والی حدیث حجۃ الوداع میں فرمائی تھی:

حدثنا عبد اللَّهِ حدثني أبي ثنا بن نُمَيْرٍ ثنا مُجَالِدٌ عن عَامِرٍ عن جَابِرِ بن سَمُرَةَ السوائي قال: سمعت رَسُولَ اللَّهِ صلي الله عليه وسلم يقول: في حَجَّةِ الْوَدَاعِ لاَ يَزَالُ هذا الدِّينُ ظَاهِراً علي من نَاوَأَهُ لاَ يَضُرُّهُ مُخَالِفٌ وَلاَ مَفَارِقٌ حتي يَمْضِيَ من أمتي اثْنَا عَشَرَ أَمِيراً كلهم من قُرَيْشٍ قال: ثُمَّ خفي عَلَيَّ قَوْلُ رسول اللَّهِ صلي الله عليه وسلم قال: وكان أبي أَقْرَبَ إلي رَاحِلَةِ رسول اللَّهِ صلي الله عليه وسلم مِنِّي فقلت: يا أَبَتَاهُ ما الذي خفي علي من قَوْلِ رسول اللَّهِ صلي الله عليه وسلم قال يقول: كلهم من قُرَيْشٍ قال: فاشهد علي إِفْهَامِ أبي إياي قال: كلهم من قُرَيْشٍ.

جابر نے کہا کہ: رسول خدا نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا کہ: یہ دین ہمیشہ اپنے دشمنوں پر کامیاب رہے گا اور کوئی بھی مخالفت دین کو نقصان نہیں پہنچا سکے گی، جب تک میری امت سے بارہ بندے کہ جو سب قریش سے ہوں گے، اس امت پر حاکم رہیں گے۔ پھر رسول خدا نے ایک ایسی بات کی جو مجھے سمجھ نہیں آئی، میرے والد رسول خدا کے نزدیک بیٹھے ہوئے تھے، میں نے ان سے کہا کہ رسول خدا نے کیا فرمایا ہے، میں نے نہیں سنا ؟ میرے والد نے کہا کہ: رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: یہ بارہ بندے قریش سے ہیں۔ جابر نے کہا کہ: میں اپنے والد کی عقل و ذہانت پر اعتماد کرتے ہوئے، گواہی دیتا ہوں کہ رسول خدا نے یہ حدیث ایسے ہی فرمائی ہے، یعنی رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: وہ بارہ بندے قریش سے ہوں گے۔

الشيباني، ابو عبد الله أحمد بن حنبل (متوفي241هـ)، مسند أحمد بن حنبل، ج5، ص90 و 99، ح 20873 و 20978، ناشر: مؤسسة قرطبة - مصر.

احمد حنبل نے ایک دوسری روایت میں اس تعبیر کو نقل کیا ہے:

       لاَ يَزَالُ هذا الأَمْرُ مَاضِياً حتي يَقُومَ اثْنَا عَشَرَ أَمِيراً.

لوگوں کے کام ہمیشہ آسانی سے ہوتے رہیں گے، جب تک بارہ حاکم ان پر حکومت کرتے رہیں گے۔

الشيباني، ابو عبد الله أحمد بن حنبل (متوفي241هـ)، مسند أحمد بن حنبل، ج5، ص101، ح20999، ناشر: مؤسسة قرطبة - مصر.

طبرانی نے اپنی کتاب المعجم الكبير میں اس روايت کو دوسرے الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے:

حدثنا أبو حَبِيبٍ زَيْدُ بن الْمُهْتَدِي الْمَرْوَزِيُّ حدثنا عَلِيُّ بن حَشْرَمٍ ثنا عِيسَي بن يُونُسَ عن عِمْرَانَ بن سُلَيْمَانَ عَنِ الشَّعْبِيِّ عن جَابِرٍ قال سمعت رَسُولَ اللَّهِ صلي اللَّهُ عليه وسلم في حَجَّةِ الْوَدَاعِ يقول لا يَزَالُ أَمْرُ هذه الأُمَّةِ هَادِئًا علي من نَاوَأَها حتي يَكُونَ عَلَيْكُمِ اثْنَا عَشَرَ أَمِيرًا ثُمَّ تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ لم أَسْمَعْهَا فَسَأَلْتُ أبي وكان أَقْرَبَ إليه مِنِّي ما قال  قال قال كلهم من قُرَيْشٍ،

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: ہمیشہ یہ امت کامیاب ہے، جو بھی اسکے ساتھ دشمنی کرے، جب تک بارہ شخص حاکم رہیں گے، پھر رسول خدا نے ایک ایسی بات کی جو مجھے سمجھ نہیں آئی، میرے والد رسول خدا کے نزدیک بیٹھے ہوئے تھے، میں نے ان سے کہا کہ رسول خدا نے کیا فرمایا ہے، میں نے نہیں سنا ؟ میرے والد نے کہا کہ: رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: یہ بارہ بندے قریش سے ہیں۔

الطبراني، ابو القاسم سليمان بن أحمد بن أيوب (متوفي360هـ)، المعجم الكبير، ج2، ص197، ح1800، تحقيق: حمدي بن عبدالمجيد السلفي، ناشر: مكتبة الزهراء - الموصل، الطبعة: الثانية، 1404هـ - 1983م.

البانی وہابی نے اس روایت کے بارے میں کہا ہے کہ:

وهذا إسناد صحيح علي شرطهما. وقد أخرجه مسلم عنه بلفظ: لا يزال أمر الناس ماضيا.

اس روایت کی سند شیخین ( بخاری و مسلم ) کی شرائط کے مطابق صحیح ہے، مسلم نے اس روایت کو تعبیر لا يزال أمر الناس ماضيا کے ساتھ ذکر کیا ہے۔

السلسلة الصحيحة، ج1، ص651.

ترمذی نے اس حدیث کے بارے میں لکھا ہے کہ:

قال أبو عِيسَي: هذا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

یہ روايت حسن و صحيح ہے۔

الترمذي السلمي، ابو عيسي محمد بن عيسي (متوفي279هـ)، سنن الترمذي، ج4، ص501، تحقيق: أحمد محمد شاكر وآخرون، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.

4. «اثنا عشر قيما»

چوتھی تعبیر کہ جو باقی تعابیر سے الگ ہے، وہ «اثنا عشر قيماً» ہے، جو اس روایت کے بارے میں نقل ہوئی ہے کہ جسکو طبرانی نے اپنی کتاب معجم الكبير میں ذکر کیا ہے:

حدثنا إِبْرَاهِيمُ بن هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ ثنا محمد بن عبد الرحمن الْعَلافُ ثنا محمد بن سَوَاءٍ ثنا سَعِيدٌ عن قَتَادَةَ عَنِ الشَّعْبِيِّ عن جَابِرِ بن سَمُرَةَ قال: كنت مع أبي عِنْدَ النبي صلي اللَّهُ عليه وسلم فقال: يَكُونُ لِهَذِهِ الأُمَّةِ اثْنَا عَشَرَ قَيِّمًا لا يَضُرُّهُمْ من خَذَلَهُمْ ثُمَّ هَمَسَ رسول اللَّهِ صلي اللَّهُ عليه وسلم بِكَلِمَةٍ لم أَسْمَعْهَا فقلت: لأَبِي ما الْكَلِمَةُ التي هَمَسَ بها النبي صلي اللَّهُ عليه وسلم؟ قال: كلهم من قُرَيْشٍ.

جابر ابن سمرہ کہتا ہے کہ: میں اپنے والد کے ساتھ رسول خدا کے پاس گئے، تو انھوں نے فرمایا کہ: اس امت کے بارہ سرپرست ہیں کہ لوگ اگر انکی مدد نہ بھی کریں تو انکو کسی قسم کا کوئی ضرر نہیں پہنچتا، پھر ان حضرت نے کچھ فرمایا جو میں سن نہ سکا، لیکن میرے والد نے کہا کہ: رسول خدا نے فرمایا کہ: وہ سرپرست سب قریش سے ہوں گے۔

 الطبراني، ابو القاسم سليمان بن أحمد بن أيوب (متوفي360هـ)، المعجم الكبير، ج2، ص196، ح1794، تحقيق: حمدي بن عبدالمجيد السلفي، ناشر: مكتبة الزهراء - الموصل، الطبعة: الثانية، 1404هـ - 1983م.

طبرانی نے ایک دوسری روایت میں نقل کیا ہے کہ جب رسول خدا نے اس روایت کو بیان فرمایا تو میں نے دیکھا کہ عمر ابن خطاب میرے پیچھے کھڑا تھا:

حدثنا عَبْدَانُ بن أَحْمَدَ ثنا زَيْدُ بن الْحَرِيشِ ثنا رَوْحُ بن عَطَاءِ بن أبي مَيْمُونَةَ عن عَطَاءِ بن أبي مَيْمُونَةَ عن جَابِرِ بن سَمُرَةَ قال: سمعت رَسُولَ اللَّهِ صلي اللَّهُ عليه وسلم وهو يَخْطُبُ علي الْمِنْبَرِ وَيَقُولُ: اثْنَا عَشَرَ قَيِّمًا من قُرَيْشٍ لا  يَضُرُّهُمْ عَدَاوَةُ من عَادَاهمْ قال: فَالْتَفَتَ خَلْفِي فإذا أنا بِعُمَرِ بن الْخَطَّابِ رضي اللَّهُ عنه وَأَبِي في نَاسٍ فَأَثْبَتُوا لِيَ الحديث كما سمعت.

رسول خدا صلي الله عليه وآله منبر پر بیٹھے فرما رہے تھے کہ: میرے بعد قریش سے بارہ سرپرست ہوں گے کہ دشمنوں کی دشمنی انکو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی، پھر میں نے اپنے پیچھے دیکھا کہ عمر ابن خطاب اور میرے والد بھی لوگوں میں کھڑے ہیں اور انھوں نے بھی رسول خدا کے فرمان کو جس طرح میں نے سنا تھا، نقل کیا ہے۔

          الطبراني، ابو القاسم سليمان بن أحمد بن أيوب (متوفي360هـ)، المعجم الكبير، ج2، ص256، ح2073، تحقيق: حمدي بن عبدالمجيد السلفي، ناشر: مكتبة الزهراء - الموصل، الطبعة: الثانية، 1404هـ - 1983م.

«اثنا عشر رجلاً»

بعض روایات میں «اثنا عشر رجلاً» کے الفاظ ذکر ہوئے ہیں، ان الفاظ کو مسلم وغیرہ نے نقل کیا ہے:

حدثنا بن أبي عُمَرَ حدثنا سُفْيَانُ عن عبد الْمَلِكِ بن عُمَيْرٍ عن جَابِرِ بن سَمُرَةَ قال سمعت النبي صلي الله عليه وسلم يقول: لَا يَزَالُ أَمْرُ الناس مَاضِيًا ما وَلِيَهُمْ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا ثُمَّ تَكَلَّمَ النبي صلي الله عليه وسلم بِكَلِمَةٍ خَفِيَتْ عَلَيَّ فَسَأَلْتُ أبي مَاذَا؟ قال: رسول اللَّهِ صلي الله عليه وسلم فقال: كلهم من قُرَيْشٍ.

النيسابوري القشيري، ابوالحسين مسلم بن الحجاج (متوفي261هـ)، صحيح مسلم، ج3، ص1452، ح1821، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.

اور بعض کتب میں یہ روایت لفظ «خليفة اميراً، رجلاً و قيماً کے بغیر ذکر ہوئی ہے۔ اس روایت کو ابو عوانہ نے اپنی کتاب مسند میں ذکر کیا ہے:

حدثنا أحمد بن يوسف السلمي قال نا عمر بن عبد الله بن رزين عن سفيان يعني ابن حسين عن سعيد بن عمرو بن أشوع عن عامر الشعبي عن جابر بن سمرة السوائي قال جئت مع أبي إلي المسجد ورسول الله صلي الله عليه وسلم يخطب فسمعته يقول: من بعدي اثنا عشر ثم خفض صوته فلم أدر ما يقول، قلت: لأبي ما يقول؟ قال: كلهم من قريش.

ابو عوانہ نے آخر میں کہا ہے کہ:

وهذا مما انتخبه أبو زكريا الأعرج وهو حديث حسن حسن.

اس روایت کو ابو زکریا اعرج نے انتخاب کیا ہے کہ یہ روایت حسن ہے۔

الاسفرائني، أبو عوانة يعقوب بن إسحاق (متوفي316هـ)، مسند أبي عوانة، ج4، ص372، ح6990، ناشر: دار المعرفة – بيروت

اہل سنت کی اصلی و بنیادی احادیث کی کتب کی روشنی میں واضح ہو جاتا ہے کہ یہ روایت اپنے مختلف الفاظ کے ساتھ اہل سنت کے علماء کے نزدیک ایک صحیح و قابل قبول روایت ہے۔ اور سب علماء واضح طور پر کہا ہے کہ یہ بارہ شخص، رسول خدا کے بعد اس امت میں انکے جانشین، سرپرست، امام و خلیفہ ہوں گے۔

اس روایت میں بارہ خلفاء سے مراد کون خلفاء ہیں:

 

اس روایت کے مہم مطالب میں سے ایک مطلب بارہ خلفاء کو معیّن کرنا ہے کہ وہ کون کون خلفاء ہیں۔ اس بارے میں شیعہ اور سنی علماء نے مخلتف و متعدد اقوال کو ذکر کیا ہے۔

کیونکہ شیعوں کا اعتقاد ہے کہ اس روایت میں مذکور بارہ خلفاء سے مراد، بارہ آئمہ اہل بیت (ع) ہیں، اس وجہ سے انکے نزدیک اس روایت کا معنی و تفسیر کرنے میں کسی قسم کی کوئی مشکل نہیں ہے۔ لیکن اہل سنت کے بزرگان و علماء نے اس روایت کے بارے میں مختلف اقوال کو ذکر کیا ہے، اسی لیے وہ اس روایت کا صحیح معنی و تفسیر بیان کرنے میں تضاد و مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں، یہاں تک کہ بعض نے تو واضح طور پر اپنی عاجزی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں معلوم نہیں کہ رسول خدا کی مراد اس روایت میں بارہ خلفاء سے کیا ہے ؟؟؟

الف: علمائے اہل سنت کے اقوال:

اہل سنت کے علماء بارہ خلفاء کے مصداق کو معیّن و واضح کرتے ہوئے بہت ہی حیرت اور سرگردانی کا شکار ہو گئے ہیں، کیونکہ ایک طرف سے اس بارے میں تمام روایات صحیح و حسن سند کے ساتھ انکی اپنی صحیح ترین کتب میں ذکر ہوئی ہیں، اور دوسری طرف سے بارہ کے عدد نے ان علماء کو مشکل و سرگردانی میں مبتلا کر دیا ہے، اور انکے کسی معنی و تفسیر کے مطابق بارہ کا عدد انکے بیان کردہ خلفاء پر پورا نہیں اترتا، اس لیے کہ یا تو انکے بیان کردہ خلفاء بارہ سے کم ہو جاتے ہیں یا پھر بارہ سے زیادہ ہو جاتے ہیں!!!

اہل سنت کے علماء کی اس روایت ( بارہ خلفاء ) کی صحیح تفسیر بیان کرنے میں سرگردانی کو ابن جوزی نے اس طرح سے بیان کیا ہے کہ:

هذا الحديث قد أطلت البحث عنه، وتطلّبت مظانّه، وسألت عنه، فما رأيت أحدا وقع علي المقصود به.

اس روایت ( بارہ خلفاء ) کے بارے میں، میں نے بہت زیادہ بحث کی ہے اور اسکے بارے میں، میں نے ہر ظن و گمان سے کام لیا ہے، اور میں نے کسی کو بھی نہیں دیکھا کہ جو اس روایت کے صحیح معنی و مقصود تک پہنچا ہو۔   

ابن الجوزي الحنبلي، جمال الدين ابو الفرج عبد الرحمن بن علي بن محمد (متوفي597 هـ)، كشف المشكل من حديث الصحيحين، ج1، ص449، تحقيق: علي حسين البواب، ناشر: دار الوطن - الرياض - 1418هـ - 1997م

ابن بطال بکری قرطبی نے صحیح بخاری کی شرح میں، ابن حجر عسقلانی نے کتاب فتح الباری میں اور بدر الدين عينی نے کتاب عمدة القاری میں مُہلَّب سے نقل کیا ہے کہ: کسی نے بھی اس روایت میں مذکور بارہ خلفاء کو صحیح و یقینی طور پر معیّن نہیں کیا اور ہمیشہ سے اس روایت کے بارے میں اقوال اور آراء مختلف ہی رہے ہیں:

لم ألق أحدا يقطع في هذا الحديث بمعني- يعني بشئ معين.

کوئی بھی اس روایت کے قطعی و یقینی معنی کو معیّن اور اسکی واضح تفسیر کو بیان نہیں کر سکا۔

إبن بطال البكري القرطبي، ابو الحسن علي بن خلف بن عبد الملك (متوفي449هـ)، شرح صحيح البخاري، ج8، ص287، تحقيق: ابوتميم ياسر بن إبراهيم، ناشر: مكتبة الرشد - السعودية / الرياض، الطبعة: الثانية، 1423هـ - 2003م.

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابو الفضل (متوفي852 هـ)، فتح الباري شرح صحيح البخاري، ج13، ص211، تحقيق: محب الدين الخطيب، ناشر: دار المعرفة - بيروت.

العيني الغيتابي الحنفي، بدر الدين ابو محمد محمود بن أحمد (متوفي855هـ)، عمدة القاري شرح صحيح البخاري، ج24، ص281، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.

اہل سنت کے علماء اور بزرگان نے روایت «اثنا عشر خليفة» کے ذیل  میں اسکے معنی مقصود کو بیان کرنے کے لیے بہت سے احتمالات کو ذکر کیا ہے۔ ان احتمالات میں سے انکے نزدیک بہترین احتمال یہ ہے کہ اس روایت میں اثنا عشر خلفاء سے مراد، خلفائے بنی امیہ ہیں۔ 

ب: علمائے شیعہ کے اقوال:

شیعہ علماء کے نزدیک ان روایات کا مصداق فقط اور فقط آئمہ اہل بیت (ع) ہیں۔ اس بارے میں شیعہ کتب میں صحیح السند روایات موجود ہیں کہ جن میں آئمہ اہل بیت کی تعداد، انکے اسماء اور نسب ذکر ہوا ہے۔

ان روایات میں بہترین اور جامع ترین روایت، لوح جابر ابن عبد اللہ انصاری والی روایت ہے کہ جو لوح ( تختی ) خداوند کی طرف سے رسول خدا کو دی گئی تھی، اس پر تمام آئمہ اہل بیت کے اسماء لکھے ہوئے تھے اوربزرگ محدث ثقۃ الاسلام یعقوب کلینی نے اس روایت کو موثق سند کے ساتھ نقل کیا ہے۔

شیعہ عقیدے کے مطابق رسول خدا (ص) کے خلفاء بنی ہاشم اور ان حضرت کی عترت و آل میں سے ہیں، نہ یہ کہ وہ فقط قریشی ہیں اور یہ مطلب خود اہل سنت کی کتب میں بھی ذکر ہوا ہے۔

اہل سنت کے بعض علماء اور محققین نے واضح طور پر ذکر کیا ہے کہ روایت «اثنا عشر» کے آخری حصے کو تحریف و تبدیل کر دیا گیا ہے، اس بارے میں اہل سنت کے دو علماء نے وضاحت بھی کی ہے:

1. علامہ سيد علی ہمدانی:

کتاب ینابیع المودۃ کی نقل کے مطابق، سید علی ہمدانی نے اس روایت کو اسی سند و متن کہ جسکو بخاری اور دوسری کتب نے ذکر کیا ہے، لیکن جملہ  «كلهم من بنی هاشم» کی بجائے جملہ «كلهم من بنی هاشم» کو نقل کیا ہے، لیکن کتاب صحیح بخاری میں یہ روایت اسطرح سے ذکر ہوئی ہے:

عن عبد الملك بن عمير عن جابر بن سمرة قال: كنت مع أبي عند النبي صلي الله عليه وآله فسمعته يقول: بعدي إثنا عشر خليفة، ثم أخفي صوته، فقلت لأبي: ما الذي أخفي صوته؟ قال: قال: كلهم من بني هاشم. وعن سماك بن حرب مثل ذلك.

جابر بن سمره نے کہا ہے کہ: میں اپنے والد کے ساتھ رسول خدا کے پاس گیا، ہم نے سنا کہ ان حضرت نے فرمایا کہ: میرے بعد لوگوں پر بارہ خلیفہ حکومت کریں گے، پھر ان حضرت نے آہستہ بات کی کہ جو مجھے سمجھ نہیں آئی، میں نے اپنے والد سے کہا کہ: ان حضرت نے کیا فرمایا ہے ؟ میرے والد نے کہا کہ: رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: وہ بارہ خلیفہ سارے بنی ہاشم سے ہیں۔

مؤلف کہتا ہے کہ: سماک ابن حرب کے واسطے سے بھی اسطرح کی حدیث نقل ہوئی ہے۔

 القندوزي الحنفي، الشيخ سليمان بن إبراهيم (متوفي1294هـ) ينابيع المودة لذوي القربي، ج3، ص290، تحقيق سيد علي جمال أشرف الحسيني، ناشر: دار الأسوة للطباعة والنشر ـ قم، الطبعة:الأولي، 1416هـ.

2. علامہ قندوزی:

شيخ سليمان ابن ابراہيم قندوزی حنفی نے بھی اس روایت کو اسی سند و متن کے ساتھ عبد الملک سے «كلهم من بنی هاشم» کے الفاظ ہی نقل کیے ہیں:

عن عبد الملك بن عمير عن جابر بن سمرة رضي الله عنه قال: كنت مع أبي عند رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم فسمعته يقول: بعدي إثنا عشر خليفة ثم أخفي صوته فقلت لأبي: ما الذي [قال في] أخفي صوته؟ قال: قال: كلهم من بني هاشم. وعن سماك بن حرب مثله.

القندوزي الحنفي، الشيخ سليمان بن إبراهيم (متوفي1294هـ) ينابيع المودة لذوي القربي، ج2، ص315، ح 908، تحقيق سيد علي جمال أشرف الحسيني، ناشر: دار الأسوة للطباعة والنشر ـ قم، الطبعة:الأولي، 1416هـ.

یہاں پر یہ نکتہ قابل غور ہے کہ عبد الملک ابن عمیر صحاح ستۃ کے راویوں میں سے ہے اور سماک ابن حرب کتاب بخاری و مسلم کے علاوہ باقی چار صحاح کا راوی ہے۔ ان دونوں نے اس روایت کو لفظ قریش کی بجائے، بنی ہاشم کے الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے۔

شاید رسول خدا (ص) کے اس روایت کو بیان کرتے وقت بعض صحابہ نے جو شور شرابا برپا کیا تھا، وہ اس لیے تھا کہ رسول خدا ان بارہ خلفاء مصداق کو معیّن نہ کر پائیں تا کہ وہاں پر موجود لوگ اس بات کو نہ سن سکیں۔ اس فرض کو قبول کرنے کی صورت میں، یہ دیکھنا ہے کہ اس شور و  شرابے کو برپا کرنے والے کون کون سے صحابہ تھے ؟؟؟

اس طرح کا ایک واقعہ رسول خدا (ص) کی زندگی کے آخری لمحات کے وقت، کہ جب انھوں نے چاہا کہ ایک ایسی تحریر لکھیں کہ جس سے امت میرے بعد گمراہ نہ ہو، بھی پیش آیا تھا اور ان حضرت کی موجودگی کے باوجود بعض صحابہ نے اختلاف و شور مچایا تھا، تا کہ رسول خدا وہ تحریر نہ لکھ سکیں۔ یہاں پر بھی کس کس نے شور شرابا برپا کیا تھا اور انکا اس کام کرنے سے ہدف و مقصد کیا تھا ؟!

علمائے اہل سنت کے اعتراف کے مطابق، آئمہ اہل بیت (ع) کا حدیث اثنا عشر کا مصداق ہونا:

قندوزی حنفی نے اہل سنت کے بعض محققین کے اقوال کو ذکر کیا ہے کہ جہنوں نے بارہ خلفاء کے مصداق کو معیّن کیا ہے، اور خود قندوزی کی بھی یہی رائے ہے کہ اثنا عشر والی روایت کا مصداق، آئمہ اہل بیت (ع) ہی ہیں، نہ کوئی اور:

       قال بعض المحققين:

إن الأحاديث الدالة علي كون الخلفاء بعده صلي الله عليه وآله إثنا عشر، قد اشتهرت من طرق كثيرة، فبشرح الزمان وتعريف الكون والمكان، علم أن مراد رسول الله صلي الله عليه وآله من حديثه هذا الأئمة الاثنا عشر من أهل بيته وعترته، إذ لا يمكن أن يحمل هذا الحديث علي الخلفاء بعده من أصحابه، لقلتهم عن اثني عشر، ولا يمكن أن يحمله علي الملوك الأموية لزيادتهم علي اثني عشر، ولظلمهم الفاحش إلا عمر بن عبد العزيز، ولكونهم غير بني هاشم، لان النبي صلي الله عليه وآله قال: «كلهم من بني هاشم» في رواية عبد الملك عن جابر، وإخفاء صوته صلي الله عليه وآله في هذا القول يرجح هذه الرواية، لأنهم لا يحسنون خلافة بني هاشم و لا يمكن أن يحمله علي الملوك العباسية لزيادتهم علي العدد المذكور ولقلة رعايتهم الآية «قل لا أسألكم عليه أجرأ إلا المودة في القربي» وحديث الكساء فلا بد من أن يحمل هذا الحديث علي الأئمة الاثني عشر من أهل بيته وعترته صلي الله عليه وآله لأنهم كانوا أعلم أهل زمانهم وأجلهم وأورعهم وأتقاهم، وأعلاهم نسبا، وأفضلهم حسبا، وأكرمهم عند الله، وكان علومهم عن آبائهم متصلا بجدهم صلي الله عليه وآله وبالوراثة واللدنية، كذا عرفهم أهل العلم والتحقيق وأهل الكشف والتوفيق.

ويؤيد هذا المعني أي أن مراد النبي صلي الله عليه وآله الأئمة الاثنا عشر من أهل بيته ويشهده ويرجحه حديث الثقلين، والأحاديث المتكثرة المذكورة في هذا الكتاب وغيرها.

بعض محققین نے کہا ہے کہ: وہ احادیث کہ جن میں رسول خدا کے بعد خلفاء کی تعداد کو بارہ بیان کیا گیا ہے، یہ احادیث اپنی زیادہ اسناد کی وجہ سے مشہور ہو گئی ہیں، اور واضح ہے کہ رسول خدا کی مراد بارہ خلفاء سے، انکے اہل بیت ہیں، کیونکہ ممکن نہیں ہے کہ اس حدیث کو ان ( رسول خدا ) کے بعد آنے والے خلفاء پر حمل کریں، اس لیے کہ انکی تعداد بارہ سے کم ہے، اور یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ اس حدیث کو بنی امیہ کے حکماء  پر حمل کیا جائے، کیونکہ انکی تعداد بارہ سے زیادہ تھی اور عمر ابن عبد العزیز کے علاوہ وہ سب کے سب بہت ظالم تھے، اسکے علاوہ وہ بنی ہاشم سے بھی نہیں تھے، حالانکہ عبد الملک سے نقل ہونے والی رسول خدا  کی حدیث میں ذکر ہوا ہے کہ: وہ بارہ خلفاء سارے بنی ہاشم میں سے ہیں، اور رسول خدا کے روایت کو بیان کرتے وقت صحابہ کا شور شرابا کرنا، یہ اس روایت کی برتری کو ثابت کرتا ہے، کیونکہ وہ بنی ہاشم کی خلافت کے مخالف تھے۔

اور اسکے علاوہ یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ اس حدیث کو بنی عباس کے خلفاء پر حمل کیا جائے، کیونکہ:     

      اولاً: ان خلفاء کی تعداد بارہ سے بہت زیادہ ہے اور

      ثانياً: اس لیے کہ انھوں نے آیت مودت، کہ جس میں خداوند نے رسول خدا کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ: اے پیغمبر کہہ دیں کہ میں تم لوگوں سے اپنی رسالت کا کوئی اجر نہیں مانگتا، فقط یہ کہتا ہوں کہ میرے قریبی اہل بیت سے محبت کرتے رہنا۔

شوری آیت 23

سے اور حدیث کساء سے غفلت کی تھی، لھذا اس حدیث ( حدیث اثنا عشر ) سے مراد رسول خدا کی عترت و اہل بیت سے بارہ آئمہ ہیں، کیونکہ وہ اپنے زمانے کے عالم ترین، بہترین اور متقی ترین افراد شمار ہوتے تھے۔ حسب و نسب کے لحاظ سے عالی ترین اور بہترین تھے، خداوند کے نزدیک محبوب ترین انسان تھے، انکے علوم اپنے آباء کے ذریعے سے اپنے جدّ (ص) سے متصل تھے کہ وہ علوم میراث میں لدنّی تھے اور اسطرح کہ اہل علم و اہل تحقیق و اہل معرفت افراد کو تمام لوگ جانتے تھے، اور وہ چیز جو اس بات و مطلب کی تائید کرتی ہے اور اس بات پر شاہد بھی ہے _ یعنی یہ کہ اس حدیث میں رسول خدا کی مراد بارہ آئمہ اہل بیت (ع) ہیں _ وہ معروف و متواتر حدیث، حدیث ثقلین ہے اور اسکے علاوہ بہت سی دوسری احادیث کہ جو اسی کتاب اور دوسری کتب احادیثی میں نقل و ذکر ہوئی ہیں۔

       القندوزي الحنفي، الشيخ سليمان بن إبراهيم (متوفي1294هـ) ينابيع المودة لذوي القربي، ج3، ص291، تحقيق سيد علي جمال أشرف الحسيني، ناشر: دار الأسوة للطباعة والنشر ـ قم، الطبعة:الأولي، 1416هـ.

علمائے اہل سنت کے اعتراف کے مطابق حضرت مہدی (ع)، خلفائے اثنا عشر اور نسل رسول خدا (ص) میں سے ہیں،

اسکے باوجود کہ علمائے اہل سنت نے بہت ہی کوشش کی ہے کہ حدیث «خلفای اثنا عشر» کے مصداق کو بنی امیہ و بنی عباس کے خلفاء بیان کریں، لیکن پھر بھی اہل سنت کے بہت سے علماء نے اعتراف کیا ہے کہ حضرت مہدی (ع) ان بارہ خلفاء میں سے ایک ہیں:

1. ابن كثير دمشقی:

ابن كثير دمشقی سلفی نے اپنی تفسیر میں اقرار کیا ہے کہ یہ روایت ان بارہ صالح خلفاء پر دلالت کرتی ہے کہ جو حق کو برپا و قائم کریں گے، اور ان بارہ خلفاء میں سے ایک مہدی ہے کہ روایات میں اسکے آنے ( ظہور ) کے بارے میں بشارت دی گئی ہے:

ومعني هذا الحديث (البشارة) بوجود اثني عشر خليفة صالحا يقيم الحق ويعدل فيهم...

والظاهر أن منهم المهدي المبشر به في الأحاديث الواردة بذكره أنه يواطئ إسمه إسم النبي صلي الله عليه وسلم وإسم أبيه إسم أبيه فيملأ الأرض عدلا وقسطا كما ملئت جورا وظلما.

یہ روایت بارہ صالح خلفاء کے وجود کے بارے میں بشارت دے رہی ہے کہ جو لوگوں کے درمیان عدالت قائم کریں گے۔

اور ظاہر یہ ہے کہ ان بارہ خلفاء میں سے ایک حضرت مہدی ہیں، وہی مہدی کہ روایات میں جو پیغمبر کا ہم نام ہے اور جسکے والد کا نام رسول خدا کے والد کے نام پر ہے، وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، جسطرح کہ وہ ظلم و ستم سے بھری ہوئی ہو گی۔

ابن كثير الدمشقي، ابو الفداء إسماعيل بن عمر القرشي (متوفي774هـ)، تفسير القرآن العظيم، ج2، ص33، ناشر: دار الفكر - بيروت - 1401هـ.

2. جلال الدين سيوطی:

سيوطی اہل سنت کے بزرگ مفسرین میں سے ہے، اس نے کہا ہے کہ: ابو داود نے اپنی کتاب سنن میں حضرت مہدی کے بارے میں ایک باب ذکر کیا ہے اور اس باب میں ان حضرت کے بارے میں روایات کو ذکر کیا ہے، ان احادیث میں سے ایک جابر ابن سمرہ والی حدیث کو ذکر کرنے کے بعد کہتا ہے کہ: مہدی بارہ خلفاء میں سے ایک ہے:

        أن المهدي أحد الاثني عشر

السيوطي، جلال الدين أبو الفضل عبد الرحمن بن أبي بكر (متوفي911هـ)، الحاوي للفتاوي في الفقه وعلوم التفسير والحديث والاصول والنحو والاعراب وسائر الفنون، ج2، ص80، تحقيق: عبد اللطيف حسن عبد الرحمن، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1421هـ - 2000م.

سيوطی نے اپنی ایک دوسری کتاب میں اعتراف کیا ہے کہ بارہ خلفاء میں سے دس آ چکے ہیں اور ابھی دو آنے باقی ہیں، کہتا ہے کہ ان دونوں میں سے ایک مہدی ہے کہ جو رسول خدا کے اہل بیت میں سے ہے:

وعلي هذا فقد وجد من الاثني عشر خليفة: الخلفاء الأربعة، والحسن ومعاوية وابن الزبير وعمر بن عبد العزيز، ويحتمل أن يضم إليهم المهتدي من العباسيين، لأنه فيهم كعمر بن عبد العزيز، وكذلك الطاهر لما أوتيه من العدل، وبقي الاثنان المنتظران، أحدهما المهدي، لأنه من أهل بيت محمد صلي اللّه عليه وآله وسلم.

پس بارہ خلفاء یہ ہیں: پہلے چار خلیفہ، امام حسن، معاویہ، ابن زبیر، عمر ابن عبد العزیز، اور یہ بھی احتمال ہے کہ مہتدی عباسی بھی ان میں سے ایک ہو، کیونکہ وہ عباسی خلفاء میں، عمر ابن عبد العزیز کی طرح تھا، اور طاہر بھی ہے کہ جو عدل و انصاف سے کام لیتا تھا، اور ان بارہ خلفاء میں سے دو کے انتظار میں ہیں، کہ ان دو میں سے ایک مہدی ہے کہ جو رسول خدا کے اہل بیت میں سے ہے۔

السيوطي، جلال الدين أبو الفضل عبد الرحمن بن أبي بكر (متوفي911هـ)، تاريخ الخلفاء، ج1، ص12، تحقيق: محمد محي الدين عبد الحميد، ناشر: مطبعة السعادة - مصر، الطبعة: الأولي، 1371هـ - 1952م.

3. محمد بن يوسف صالحی شامی:

صالحیی شامی نے بھی بزرگان سے نقل شدہ روایات کی روشنی اعتراف کیا ہے کہ حضرت مہدی رسول خدا کی عترت میں سے ہے اور اس نے ان روایات پر کوئی اشکال و اعتراض بھی نہیں کیا:

وروي الإمام أحمد والباوردي عنه [ابي سعيد الخدري] قال: قال رسول الله صلي الله عليه وسلم: (أبشروا بالمهدي، رجل من قريش من عترتي يخرج في اختلاف من الناس، فيملأ الأرض قسطا وعدلا كما ملئت ظلما وجورا،  ويرضي عنه ساكن السماء وساكن الأرض ويقسم المال صحاحا.

امام احمد اور بارودی نے ابو سعيد خدری سے روايت کی ہے کہ رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: میں تم کو مہدی کہ جو قریش سے اور میری عترت سے ہے، کی بشارت دیتا ہوں، وہ لوگوں کے آپس میں اختلافات کے وقت ظہور کرے گا، وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، جسطرح کہ وہ ظلم و ستم سے بھری ہوئی ہو گی، اہل زمین و آسمان اس سے راضی ہوں گے اور وہ مال کو لوگوں میں عادلانہ طور پر تقسیم کرے گا۔

الصالحي الشامي، محمد بن يوسف (متوفي942هـ)، سبل الهدي والرشاد في سيرة خير العباد، ج10، ص171، تحقيق: عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1414هـ.

4. ابن حجر ہيتمی:

اور ابن حجر ہيتمی نے بھی قبول کیا ہے کہ بارہ خلفاء میں سے آخری، حضرت مہدی ہو گا:

والظاهر أن آخرهم المهدي فإنه بملك جميع الأرض.

اور ظاہر یہ ہے کہ بارہ خلفاء میں سے آخری شخص مہدی ہے کہ جسکی تمام زمین پر حکومت ہو گی۔

الهيتمي، أبو العباس أحمد بن محمد بدر الدين ابن محمد شمس الدين ابن علي نور الدين ابن حجر (متوفي973 هـ)، مبلغ الأرب في فخر العرب، ج1، ص38، تحقيق: يسري عبد الغني عبد الله، دار النشر: دار الكتب العلمية - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولي 1410هـ - 1990م،

5. عظيم آبادی شارح سنن ابو داود:

عظيم آبادی کہ کتاب سنن ابو داود کا شارح ہے، اس نے اور کتاب جامع ترمذی کے شارح مبارکفوری نے ابن کثیر کے کلام کو نقل کیا ہے کہ اس نے کہا ہے کہ:

و معني هذا الحديث البشارة بوجود اثني عشر خليفة صالحاً يقيم الحق، و يعدل فيهم.

اور انھوں نے بھی اسی بات کو قبول کیا ہے۔

المباركفوري، أبو العلا محمد عبد الرحمن بن عبد الرحيم (متوفي1353هـ)، تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي، ج6، ص293، دار الكتب العلمية - بيروت.

العظيم آبادي، محمد شمس الحق (متوفي1329هـ)، عون المعبود شرح سنن أبي داوود، ج11، ص247، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الثانية، 1995م.

6. مجمع (مرکز) فقہی رابطة العالم الاسلامی:

مجمع (مرکز) فقہی رابطة العالم الاسلامی کہ جو مكہ مكرمہ میں ہے، اس نے بھی کہا ہے کہ: بارہ خلفاء میں سے آخری وہ ہے کہ جسکے آنے کے بارے میں رسول خدا نے خبر دی ہے:

«ويظهر عند فساد الزمان وانتشار الكفر وظلم الناس ويملأ الأرض قسطاً وعدلاً، كما ملئت ظلماً وجوراً، يحكم العالم كله، وتخضع له الرقاب... وهو آخر الخلفاء الاثني عشر، أخبر النبي صلي اللّه عليه وسلّم عنهم في الصحاح».

جب زمانہ خراب ہو جائے گا اور لوگوں میں کفر و ظلم زیادہ ہو جائے، تو وہ ظاہر ہو گا اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، جس طرح کہ ظلم و ستم سے بھری ہو گی۔ اسکی ساری دنیا پر حکومت ہو گی، تمام لوگ اسکے مطیع و تابع ہوں گے..... وہ بارہ خلفاء میں سے آخری خلیفہ ہو گا کہ جسکے آنے کے بارے میں رسول خدا نے صحیح روایات میں خبر دی ہے۔

الفتوي التي أصدرها المجمع الفقهي في رابطة العالم الإسلامي في مكة المكرمة،

اس روایت ( اثنا عشر خلفاء ) سے امام مہدی (ع) کے موجود و زندہ ہونے پر استدلال کرنا:

اس روایت میں موجود مہم نکات:

اس روایت کی عبارت اور مختلف الفاظ کی روشنی میں چند مہم نکات معلوم و حاصل ہوتے ہیں کہ جنکے ذریعے سے امام مہدی کے وجود پر استدلال کیا جا سکتا ہے:

1. جن خلفاء کے بارے میں بشارت دی گئی ہے، انکی تعداد فقط و فقط بارہ ہے،

2. وہ سب قریشی، بلکہ قندوزی حنفی کی روایت کے مطابق، ہاشمی ہیں،

3. ان خلفاء کی صفت یہ ہے کہ دین اسلام کی عزت و عظمت انکے ساتھ وابستہ ہے، اور لوگوں کا انکے موافق یا مخالف ہونے کا کوئی اثر بھی ان پر نہیں پڑتا، یعنی وہ ہر طرح اور ہر حالت میں اسلام کی حفاظت کا وظیفہ انجام دیتے رہتے ہیں، چاہے کوئی ساتھ دے یا ساتھ نہ دے۔

4. ان بارہ خلفاء کو بنی اسرائیل کے نقباء کے ساتھ تشبیہ دینے کا یہ مطلب ہے کہ انکو منصب امامت و خلافت پر انتخاب کرنا، فقط خداوند کا کام ہے، نہ کہ ایسا کرنا لوگوں کے اختیار میں ہے، جس طرح سے خداوند نے بنی اسرائیل کے نقباء کو انتخاب کیا تھا،«وَبَعَثْنَا مِنهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيباً،

 سورہ مائده آیت 12

 اور یہ بارہ خلفاء بھی بنی اسرائیل کے نقباء و انبیاء کی مقام عصمت پر فائز ہیں کہ فقط خداوند افراد کی عصمت سے آگاہ ہوتا ہے۔

5. یہ بارہ خلفاء دین اسلام کو عزت و عظمت بخشنے کے لیے، خداوند کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں، اس سلسلے میں اپنی مرضی سے کوئی بھی کام انجام نہیں دیتے۔ انکا کام عدل و انصاف کو قائم کرنا ہوتا ہے نہ کہ دوسروں پر ظلم و ستم کرنا۔

6. یہ بارہ خلفاء رسول خدا کے بعد ہر زمانے میں لوگوں کی ہدایت کے لیے ایک ایک کر کے مسلسل و لگاتار آئیں گے، اس طرح کہ قیامت تک کوئی بھی زمانہ ان سے خالی نہیں ہو گا۔ لفظ لایزال، اس جملے میں «لا يزال الاسلام عزيزا إلي اثنا عشر خليفة» اور دوسرے جملوں کہ جو اہل سنت کی معتبر کتب میں ذکر ہوئے ہیں، معنی مسلسل و دوام پر دلالت کرتا ہے، اور اگر ایک ایسا زمانہ آئے کہ ان بارہ خلفاء میں سے کوئی بھی اس دنیا میں موجود نہ ہو تو، اس سے کائنات کا نظام درہم برہم ہو جائے گا اور قیامت برپا ہونے کے نزدیک ہو جائے گی۔ اسی نکتے کو ذیل والی روایت بیان کر رہی ہے:

لَنْ يَزَالَ الدينُ قَائِماً إِلَي اثْنَيْ عَشَرَ مِنْ قُرَيْشٍ، فَإِذَا هَلَكُوا مَاجَتِ الأَرْضُ بِأَهْلِهَا.

الهندي، علاء الدين علي المتقي بن حسام الدين (متوفي975هـ)، كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال، ج12، ص17، ح33861، تحقيق: محمود عمر الدمياطي، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولي، 1419هـ - 1998م.

ان نکات کی روشنی میں اگر روایت اثنا عشر کو روایت ثقلین کے ساتھ رکھا جائے، اور احادیث کے معروف قاعدے  «ان الحديث يفسر بعضه بعضا» یعنی احادیث بھی ایک دوسرے کی تفسیر کرتی ہیں، کہ جسکو اہل سنت کے علماء بھی قبول کرتے ہیں، کی روشنی میں، تو یہ روایت اپنا واضح تر معنی بتائے گی۔

روايت ثقلين واضح بیان کرتی ہے کہ قرآن و رسول خدا کے اہل بیت کہ جو بارہ حقیقی خلفاء ہیں، یہ قیامت میں حوض کوثر پر جانے تک، ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے اور جس طرح قرآن ہر زمانے میں موجود ہے، اسی طرح بارہ خلفاء میں سے بھی کوئی نہ کوئی فرد ہر زمانے میں موجود ہو گا، اور کوئی زمانہ بھی ان دونوں کے وجود سے خالی نہیں ہو گا۔

پس روایت اثنا عشر کے مطابق، رسول خدا کے خلفاء مسلسل و لگاتار ایک دوسرے کے بعد آئیں گے اور قیامت تک کوئی بھی زمانہ ان کے وجود سے خالی نہیں ہو گا۔

اسی روایت کے علاوہ اہل سنت کی بعض کتب میں خلفاء کے مسلسل و لگاتار آنے کے بارے میں رسول خدا کے بعض اصحاب سے روایات نقل ہوئی ہیں:

حدثنا ابن وهب عن عبد الرحمن بن زياد بن أنعم عن أبي عبد الرحمن الحبلي عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما قال: سيلي أمر هذه الأمة خلفاء يتوالون، كلهم صالح وعليهم تفتح الأرضين كلها...

عبد الله بن عمرو بن العاص نے کہا ہے کہ: بہت جلد وہ خلفاء کہ جو لگاتار ایک دوسرے کے بعد آئیں گے، اس امت پر امامت و خلافت کریں گے، وہ تمام کے تمام صالح و نیک ہوں گے اور تمام زمین و کائنات انکے اختیار میں ہو گی۔

        المروزي، نعيم بن حماد أبو عبد الله متوفي 288هـ)، كتاب الفتن، ج1، ص117، تحقيق: سمير أمين الزهيري، دار النشر: مكتبة التوحيد - القاهرة، الطبعة: الأولي 1412

استدلال کا طریقہ:

ان نکات کی روشنی میں، اس مطلب کو ثابت کرنے کے لیے، اس طرح سے استدلال کیا جائے گا:

اولاً: شیعہ اعتقاد کے مطابق رسول خدا کے بارہ خلیفہ و جانشین ہیں کہ جنکو خداوند نے انتخاب کیا ہے، انکا علم و عصمت لدنی و خداوند کی عطا کردہ ہے، اسکے علاوہ وہ تمام صفات کہ جو ان روایات میں ذکر ہوئی ہیں، جیسے عادل و صالح ہونا، دین اسلام کو عزت و عظمت بخشنا، خداوند کے حکم سے مخلوق خدا کی ہدایت کرنا وغیرہ یہ سب صفات ان آئمہ حق پر منطبق ہوتی ہیں۔

ثانياً: اس روایت میں واضح بیان ہوا ہے کہ دین اسلام کی عزت و عظمت ان بارہ خلفاء کے وجود کے ساتھ وابستہ ہے، اسکے علاوہ اسی روایت کے مطابق خداوند کا دین قیامت تک باقی رہے گا:

لَا يَزَالُ الدِّينُ قَائِمًا حتي تَقُومَ السَّاعَةُ.

پس ان بارہ خلفاء میں سے کسی ایک کا وجود بھی جب تک دین ہے، ضروری و لازم ہو گا، اس لیے کہ دین کا وجود، اس خلیفہ کے وجود کی وجہ سے موجود ہے۔

ثالثاً: خود اہل سنت کے بعض بزرگان نے اعتراف کیا ہے کہ ان بارہ خلفاء میں سے آخری خلیفہ، مہدی نام کا ایک شخص ہو گا اور وہ مہدی رسول خدا کا ہم نام اور انکے اہل بیت میں سے ہو گا اور اسکے آنے کے بعد زمین عدل و انصاف سے بھر جائے گی۔

قندوزی حنفی نے دو اسناد کے ساتھ رسول خدا سے نقل کیا ہے کہ ان حضرت نے اپنے پہلے جانشین کو امیر المؤمنین علی اور آخری جانشین کو حضرت مہدی قرار دیا ہے:

روايت اول:

وعن عباية بن ربعي، عن جابر قال: قال رسول الله صلي الله عليه وآله: أنا سيد النبيين، وعلي سيد الوصيين، وإن أوصيائي بعدي إثنا عشر، أولهم علي، وآخرهم القائم المهدي.

جابر نے کہا ہے کہ رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: میں انبیاء کا سید و سردار ہوں، اور علی اوصیاء کا سید و سردار ہے، میرے بعد میرے بارہ اوصیاء ہوں گے کہ ان میں سے پہلے حضرت علی اور آخری حضرت مہدی ہیں۔

القندوزي الحنفي، الشيخ سليمان بن إبراهيم (متوفي1294هـ) ينابيع المودة لذوي القربي، ج3، ص291، تحقيق سيد علي جمال أشرف الحسيني، ناشر: دار الأسوة للطباعة والنشر ـ قم، الطبعة:الأولي، 1416هـ.

روايت دوم:

عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلي الله عليه وآله: إن خلفائي وأوصيائي وحجج الله علي الخلق بعدي الاثنا عشر، أولهم علي، وآخرهم ولدي المهدي، فينزل روح الله عيسي بن مريم فيصلي خلف المهدي، وتشرق الأرض بنور ربها، ويبلغ سلطانه المشرق والمغرب.

ابن عباس نے کہا ہے کہ رسول خدا صلي الله عليه وآلہ نے فرمایا ہے کہ: میرے بعد لوگوں پر خداوند کی طرف سے اوصیاء و خلفاء بارہ شخص ہوں گے، ان میں سے پہلے علی اور آخری میرا بیٹا مہدی ہو گا، پس عیسی روح اللہ آسمان سے نازل ہو گا اور اس (مہدی) کے پیچھے نماز پڑھے گا۔ اس کے آنے کے بعد زمین خداوند کے نور سے نورانی ہو جائے گی اور مشرق و مغرب میں اسکی حکومت ہو گی۔

القندوزي الحنفي، الشيخ سليمان بن إبراهيم (متوفي1294هـ) ينابيع المودة لذوي القربي، ج3، ص295، تحقيق سيد علي جمال أشرف الحسيني، ناشر: دار الأسوة للطباعة والنشر ـ قم، الطبعة:الأولي، 1416هـ

اور اسکے علاوہ ہم نے اہل سنت کے بعض علماء کے کلام کو نقل کیا ہے کہ جس میں انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ بارہ خلفاء میں سے آخری خلیفہ حضرت مہدی ہوں گے۔

نتیجے کے طور پر یہ روایت ( روایت اثنا عشر خلفاء ) ثابت کرتی ہے کہ رسول خدا (ص) کے خلفاء سے مراد، وہی بارہ آئمہ اہل بیت (ع) ہیں اور یہ بارہ خلفاء مسلسل و لگاتار قیامت تک ہر زمانے میں موجود ہوں گے اور کوئی بھی زمانہ بھی انکے وجود سے خالی نہیں ہو گا، اور ان خلفاء میں سے پہلے جانشین امیر المؤمنین علی (ع) اور آخری حضرت مہدی (ع) ہیں، اور آخر میں یہ روایت، یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ حضرت مہدی موجود ہیں اور خداوند کی حکمت و مرضی سے ابھی تک حیّ و حاضر ہیں۔

استدلال علامہ عسكری بر وجود امام زمان (ع)

مرحوم علامہ سيد مرتضی عسكری نے روایت اثنا عشر کو اہل سنت کی کتب سے مختلف الفاظ کے ساتھ نقل کرنے کے بعد، امام زمان حضرت مہدی (ع) کے وجود پر اس طرح سے استدلال کیا ہے کہ:

نستخلص مما سبق ونستنتج:

أن عدد الأئمة في هذه الأمة اثنا عشر علي التوالي، وان بعد الثاني عشر منهم ينتهي عمر هذه الدنيا.

فقد ورد في الحديث الأول: «لا يزال هذا الذين قائما حتي تقوم الساعة أو يكون عليكم اثنا عشر خليفة... ». فان هذا الحديث يعين مدة قيام الدين ويحددها بقيام الساعة ويعين عدد الأئمة في هذه الأمة باثني عشر شخصا.

وفي الحديث الخامس: «لن يزال هذا الدين قائما إلي اثني عشر من قريش فإذا هلكوا ماجت الأرض بأهلها». ويدل هذا الحديث علي تأبيد وجود الدين بامتداد الاثني عشر وأن بعدهم تموج الأرض.

وفي الحديث الثامن: حصر عددهم باثني عشر بقوله. «يكون بعدي من الخلفاء عدة أصحاب موسي». ويدل هذا الحديث علي أنه لا خليفة بعد الرسول عدا الاثني عشر.

وأن ألفاظ هذه الروايات المصرحة بحصر عدد الخلفاء بالاثني عشر وأن بعدهم يكون الهرج وتموج الأرض وقيام الساعة تبين ألفاظ الأحاديث الأخري التي قد لا يفهم من ألفاظها هذا التصريح. وبناءا علي هذا لابد أن يكون عمر أحدهم طويلا خارقا للعادة في اعمار البشر كما وقع فعلاً في مدة عمر الثاني عشر من الأئمة أوصياء النبي صلي الله عليه و آله.

ابھی تک ذکر کیے گئے مطالب کا خلاصہ و نتیجہ یہ ہے کہ: اس امت میں ایک دوسرے کے بعد مسلسل آنے والے آئمہ کی تعداد بارہ ہے، اور بارویں خلیفہ کے آنے کے بعد اس دنیا کی عمر ختم ہو جائے گی، یعنی قیامت برپا ہو جائے گی۔

پہلی روایت:

«لا يزال هذا الذين قائما حتي تقوم الساعة أو يكون عليكم اثنا عشر خليفة»

دین کے قیامت تک باقی رہنے کو بیان کر رہی ہے اور یہ بھی بتا رہی ہے کہ اس امت میں آنے والے شرعی و قانونی آئمہ کی تعداد بارہ ہے۔

پانچویں حدیث دلالت کر رہی ہے کہ جب تک یہ بارہ خلفاء باقی رہیں گے، خداوند کا دین بھی باقی رہے گا اور انکے بعد زمین بھی نابود ہو جائے گی۔

آٹھویں روایت نے ان خلفاء کی تعداد کو بنی اسرائیل کے نقباء کی تعداد کے مطابق بارہ میں منحصر کیا ہے، اور یہ روایت دلالت کرتی ہے کہ ان بارہ خلفاء کے علاوہ کوئی بھی رسول خدا کا خلیفہ نہیں ہو گا۔ پس ان بارہ خلفاء میں سے ایک خلیفہ کی عمر و زندگی خداوند کے حکم سے غیر معمولی طور پر طولانی و لمبی ہو گئی ہے، اور وہ خلیفہ اس زمانے میں ان خلفاء میں سے بارویں امام ہیں۔

العسكري، السيد مرتضي (متوفي 1386هـ)، معالم المدرستين، ج1، ص336، ناشر: مؤسسة النعمان للطباعة والنشر والتوزيع - بيروت - لبنان، سال چاپ: 1410 - 1990 م

نتيجہ بحث:

روایت اثنا عشر اہل سنت کے علماء کی نظر میں ایک صحیح اور قابل قبول روایت ہے۔ اگر اس روایت کو معروف و متواتر حدیث ثقلین کے ساتھ رکھ کر نتیجہ نکالا جائے تو ثابت ہو گا کہ بارہ خلفاء میں سے آخری خلیفہ یعنی امام زمان حضرت مہدی (ع) ابھی موجود اور زندہ ہیں۔ اسی بات کو شیعہ اور بعض سنی علماء نے اپنی اپنی معتبر کتب میں نقل و ذکر بھی کیا ہے۔

التماس دعا.....

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی