2017 December 15
شخصیت و فضائل حضرت حجت ابن الحسن، امام زمان (عج)
مندرجات: ٧٤٩ تاریخ اشاعت: ١٧ May ٢٠١٧ - ١٧:١٤ مشاہدات: 686
یاداشتیں » پبلک
شخصیت و فضائل حضرت حجت ابن الحسن، امام زمان (عج)

اجمالی تعارف:

نام: م۔ح۔م۔د

والد گرامی: حضرت امام حسن عسکری (علیہما السلام)

والدہ: نرجس خاتون (ملیکہ اور صقیل بہی ذکر ہوا ہے)

کنیت: ‏‏ابو القاسم ، ابا صالح

القاب: مہدی،بقیۃ اللہ ،منتظر،صاحب الامر،صاحب الزّمان قائم ،خلف صالح و۔۔۔۔۔۔

شجرہ نسب: محمّد بن حسن بن علیّ بن محمد بن علیّ بن موسی بن جعفربن محمّد بن علیّ بن حسن بن علیّ بن ابیطالب علیہم السلام۔

تاریخ ولادت: جمعۃ المبارک 15 شعبان المعظم سن 255 ہجری،

محلّ ولادت: سامراء

سال آغاز امامت:260 ہجری(آغاز امامت کے وقت حضرت مہدی (ع)کی عمر پانج برس تھی)

آغاز غیبت صغری:260 ہجری

آغاز غیبت کبری:329 ہجری

مدّت غیبت صغری: تقریبا 70 سال

مدّت غیبت کبری: اللہ اعلم (اللہ بہتر جانتا ہے کہ کب تک ہو گی۔

مدّت امامت: اللہ اعلم

عمر مبارک: اللہ اعلم

محل ظہور: وادئ حق کعبہ معلّی

نوّاب اربعہ:

1۔ عثمان بن سعید عمروی (متوفی سن 257 ہجری)

2۔ محمّد بن عثمان عمروی (متوفی سن  304 ہجری)

3۔ حسین بن روح نوبختی (متوفی سن 336 ہجری)

4۔ علیّ بن محمّد سمری (متوفی329 ہجری)

تواتر احادیث حضرت مہدی(ع):

وہ احادیث جن میں حضرت مہدیّ (ع) کا ذکر پایا جاتا ہے ، فریقین کی نظر میں متواتر ہیں ہم یہان فقط چند علماء اہل سنت کے اقوال کو ذکر کرتے ہیں :

 زینی دحلان نے لکھا ہے کہ :

و الاحادیث التی جاء فیھا ذکر ظھور المہدی (ع) کثیرۃ،

زینی دحلان ، الفتوحات الاسلامیّہ ج 2 ص 238،المکتبۃ التجاریۃ الکبری، مصر۔

اور وہ احادیث جن میں حضرت مہدی کے ظہور کا ذکر ہوا ہے زیادہ اور متواتر ہیں ۔

 شیخ محمّد بن رسول الحسینی البرزنجی نے اپنی کتاب الاشاعۃ لاشراط السّاعۃ میں یوں لکھا ہے کہ :

قد علمت انّ احادیث وجود المھدی وخروجہ آخر الزّمان و انّہ من عترۃ الرّسول (ص) من ولد فاطمۃ بلغت حدّالتواتر المعنویّ فلامعنی لانکارھا،

بتحقیق آپ جان چکے ہیں کہ احادیث وجود اور خروج مہدی آخری زمانہ میں اور یہ کہ مہدی عترت رسول (ص) اوراولاد فاطمہ میں سے ہیں تواتر معنوی کی حدّ کو پہنچ چکی ہیں بس ایسی احادیث کے انکار کی کوئی معنی اور وجہ نہیں ہے ۔

برزنجی ،محمّد بن حسن ،الاشاعۃ لاشراط الساعۃ ،ص 112 باب 3

 ابن حجر ہیثمی نے اپنی کتاب " الصواعق المحرقہ " میں لکھا ہے کہ:

والاحادیث التیّ جاء فیھا ذکر ظھور المھدی کثیرۃ متواترۃ،

ہیشمی ،ابن حجر ،الصواعق المحرقہ، ج 2 ص 211

 ابو طالب تجلیل تبریزی علاّمہ محمّد بن حسن آسفوی کی کتاب "مناقب الشافی" سے نقل کرتے ہیں کہ:

و قد تواترت الاخبار عن رسول اللہ (ص) بذکر المھدیّ وانّہ من اھل بیتہ،

اور بتحقیق حضرت رسول خدا (ص) سے منقول روایات حضرت مہدی (ع) کے ذکر کے بارے میں اور اس میں کہ وہ اہل بیت رسول خدا (ص) سے ہیں ، متواتر ہیں۔

تبریزی ،ابوطالب تجلیل، تنزیہ الشیعہ الاثنی عشریۃ عن الشبھات الواھیۃ ،ص 385

 علاّمہ قرطبی اپنی تفسیر "الجامع لاحکام القرآن " میں لکھتے ہیں کہ:

الاخبار الصحاح قد تواترت علی انّ المھدیّ من عترۃ الرّسول (ص)،

اور بتحقیق صحیح روایات اس امر پر متواتر ہیں کہ مہدی نسل رسول خدا (ص) سے ہیں ۔

قرطبی ،محمد بن احمد ،الجامع لاحکام القرآن، ج8 ص121

6 ۔ سید فاخر موسوی نے ابو الحسن آلسحری سے نقل کیا ہے کہ:

وقد تواترت الاخبار واستفاضت بکثرۃ رواتھاعن المصطفی (ص) بمجیئ المھدی وانہ من اھل البیت۔۔۔۔،

بتحقیق روات کی کثرت کی وجہ سے حضرت محمّد مصطفی (ع) سے منقول روایات خروج اور ظہور حضرت مہدی کے متعلق اور اس بارے میں کہ وہ اہل بیت رسول خدا (ص) سے ہیں مستفیضہ اور متواتر ہیں ۔

موسوی ،فاخر،التجلّی الاعظم ،ص 542، قم ایران۔

 علامہ شیخ محمّد بن احمد سفارینی حنبلی اپنی کتاب " لوائح الانوار البھّیۃ " میں لکھتے ہیں کہ :

کثرت بخروجہ الروایات حتّی بلغت حد التواتر المعنوی فلا معنی لانکارھا،

سفارینی حنبلی ،محمد بن احمد ،لوائح الانوار البہیّہ، ج2 ص80

 علامہ شبلنجی اپنی کتاب " نور الابصار ' ' میں تحریر کرتے ہیں:

تواترت الاخبار عن النبی (ص) انہ من اھل بیتہ وانہ یملا الارض عدلا،

حضرت رسول اکرم (ص) سے صادر ہونے والی روایات اس امر پر متواتر ہیں کہ مہدی آنحضرت (ص)کے اہل بیت میں سے ہیں اور زمین کو عدل سے بھر دیں گے ۔

شبلنجی ،مؤمن نور الابصار ،ص171، الشعبیّہ ، مصر اور، ص 189 ،دار الفکر ،بیروت۔

 علاّمہ ابن صبان اپنی کتاب " اسعاف الرّغبین " میں لکھتے ہیں:

و قد تواترات الاخبار عن النبی (ص) بخروجہ و انّہ من اھل بیتہ وانہ یملا الارض عدلا،

بتحقیق حضور اکرم (ص) سے صادر ہونے والی روایات حضرت مہدی (ع) کے ظہور پر اور اس پہ کہ وہ اہل بیت رسول (ص) میں سے ہیں اور وہ زمین کو عدل سے بھر دیں گے ، متواتر ہیں ۔

ابن صبّان ،محمد بن علیّ ،اسعاف الرّاغبین ،ص140، باب 2

10- حافظ ابن حجر عسقلانی اپنی کتاب " تھذیب التھذیب " میں محمّد بن حسین آبری سے نقل کرتے ہیں کہ:

وقد تواترت الاخبار واستفاضت بکثرة رواتها عن المصطفی (ص)فی المھدیّ وانہ من اھل بیتہ ۔۔۔،

بتحقیق راویون کی کثرت کی وجہ سے حضرت مصطفی (ص)

سے منقول روایات حضرت مہدی کے متعلق اور اس امر کے بارے میں کہ مہدی (ع) آنحضرت ( ص ) کے اہل بیت سے ہیں ، مستفیضہ و متواترہ ہیں ۔

عسقلانی، ابن حجر ،تھذیب التھذیب ،9ج ص126، دارالفکر بیروت، لبنان

11 ۔ حافظ ابن حجر عسقلانی " فتح الباری " میں لکھتے ہیں کہ :

و فی صلاۃ عیسی ( ع ) خلف رجل من ھذہ الامّۃ مع کونہ فی آخر الزمان و قرب قیام الساعۃ دلالۃ للصحیح من الاقوال : انّ الارض لا تخلوا من قائم اللہ بحجّۃ،

حضرت عیسی ( ع) کی اس امّت میں ایک شخص کے پیچھے نماز پڑہنے میں حالانکہ یہ امر آخری زمانے میں قیامت برپا ہونے کے قریب ہو گا ، صحیح قول کی دلیل ہے کہ : زمیں حجت خدا سے خالی نہیں رہتی۔

عسقلانی، ابن حجر ،فتح الباری ج6 ص385، دار المعرفہ بیروت، لبنان۔

مجھے نہیں معلوم کہ ابن حجر کی نظر میں عیسی ( ‏ع ) کا امام اور مقتدی کون ہے ؟ اور کیوں اس شخصیت کو واضح بیان نہیں کیا جاتا ؟

البتہ بغض بیان حقیقت سے مانع ہوتا ہے ۔

12 ۔ قاصی محمّد بن علی شوکانی نے موضوع مہدویت کے بارے میں اس نام کے ساتھ ( التوضیح فی تواتر ما جاء فی المنتظر والدجال و المسیح ) رسالہ لکھا ہے اور اس رسالہ میں پچاس حدیثیں حضرت مہدی کے بارےمیں تحریر کی میں، وہ لکھتے ہیں کہ :

۔۔۔۔ فتقر بجمیع ما سقناہ انّ الا حادیث الواردۃ فی المھدی المنتظر (ع) متواترۃ ۔۔۔۔۔،

یعنی جو کچھ ہم بیان کر چکے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ وہ احادیث جو مہدی منتظر کے بارے میں وارد ہوئی ہیں ، متواتر ہیں ۔

عظیم آبادی ،عون المعبود ، ج11 ص308 ،دار الکتب العلمیّہ ،بیروت ،لبنان

حضرت مہدی (عج) کا نام اور آپکی کنیت:

متعدد احادیث رسول اکرم (ص) میں حضرت مہدی (عج) کا نام اور ان کی کنیت کا ذکر آیا ہے اور خود آنحضرت (عج) کا مشخص و معین کرنا مہدویت نوعی کے بطلان پر محکم دلیل ہے ‏۔ ہم ذیل میں حضور اکرم (ص) کی چند احادیث کو ذکر کرتے ہیں :

طبرانی نے اپنی کتاب" المعجم الکبیر " میں عبد اللہ ابن مسعود سے روایت کی ہے کہ آنحضرت (ص) نے فرمایا :

یخرج رجل من ‏اھل بیتی یواطئ اسمہ اسمی و خلقہ خلقی یملاھا قسطا و عدلا کما ملئت ظلما و جورا ،

میرے اہل بیت سے ایک شخص ظہور کرے گا اس کا نام میرے نام کے موافق ہو گا ۔ وہ اس زمین  اسی طرح عدل و انصاف سے پر کرے گا جس طرح وہ جور سے بھر چکی ہو گی ۔

طبرانی ،ابو القاسم سلیمان بن احمد ،المعجم الکبیر ج10 ص137،ح:10229،تحقیق ،تخریج ؛حمدی عبد المجید السلفی، داراحیاء التراث العربی بیروت، لبنان۔

اس حدیث میں شاھد (یواطئ اسمہ اسمی ) ہے، یعنی یوافق و یساوی اور ہر مسلمان آنحضرت (ص) کا نام جانتا ہے وہ مسلمان کیسا ہے جس کو اپنے نبی کا نام ہی نہ آتا ہو!!!

ہاں میرے رسول کا اسم گرامی محمد (ص) ہے:

امّت کے لیے صحیح و روا نہیں تھا کہ حضور کی موجودگی میں آپ کو نام سے پکارا جائے اور اس چیز کو مسلمانوں کے لیے حرام قرار دیا گیا تھا، لہذا ادب کی پاسداری کرنے کے لیے ضروری تھا کہ جب بھی بلانا مقصود ہوتا تھا تو قرآن کی پیروی کرتے ہو‏ئے "یا رسول اللہ " یا نبیّ اللہ و ۔۔۔ کہا جائے اور اپنی آوازوں کو آنحضرت (ص) کی آواز سے ہمیشہ نیچا رکھا جائے اور اپنے اس عمل کے ذریعہ عالم اسلام کو بتانا چاہیے کہ ہم رسول (ص) کی طرح نہیں ہیں ہم غلام ہیں وہ ہمارے مولا و آقا ہیں اور ہم رعایا ہیں اور وہ ہمارے سردار ہیں ۔

ہاں البتہ رسول اللہ (ص) کی مانند نصّ قرآنی کے مطابق فقط آل محمّد (ص) ہیں اس لیے کہ وہ رسول (ص) سے اور رسول ان سے ہیں یہ ایک حقیقت کا نام ہیں ، ظاہر میں ان کے اسما‏ء و صفات و حالات مختلف ہیں لیکن حقیقت میں سب ایک ہیں اور ایک ہی نور سے ہیں ۔

آل محمّد (ص) کے سیّد و سردار مولی الموحّدین امیر المؤمنین علی بن ابی طالب (ع) کو اللہ نفس رسول قرار دیتے ہوئے فرمایا:

۔۔۔ فقل تعالوا ندع ابناءنا و ابنا‏ئکم و نساءنا و نسائکم و انفسنا و انفسکم ۔۔۔۔،

سورہ آل عمران آیت 61

اور ان سب کی عصمت و طہارت کو سب کے لیے عیاں کرتے ہوئے فرمایا :

انّما یریداللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت و یطھرکم تطھیرا،

سورہ الاحزاب آیت 33

یا یھا النبی ، یا یّھا الرسول ۔۔۔۔۔۔ کو ضرور استعمال کیا گیا ہے ۔ حضرت امیر المؤمنین (ع) کو برادر رسول (ص) اور آپ کے علاوہ حضرت مہدی (ع) تک یابن رسول اللہ کہہ کر پکارتے تھے ۔

اسی سبب سے ہم یا مہدی ، یا ابا صالح ، یا حجۃ اللہ ، یا بقیّۃ اللہ ، و ۔۔۔۔۔۔ کہتے ہیں لیکن کبھی بھی یا محمّد سے اپنے مولا کو نہیں پکارتے اس لیے کہ اپنے امام وقت کے نام لینے سے بعض روایات میں منع کیا گیا ہے اور اس لیے کہ کیوں کہ آپ کا نام ہمارے رسول (ص) کے نام کے مطابق و مساوی ہے ۔ لہذا حدّ اقل ادب کا یہ تقاضا ہے کہ اس طرح نہ پکارا جائے ۔

آنحضرت(ص) نے فرمایا :

القائم المھدیّ من ولدی ، اسمہ اسمی ، وکنیتہ کنیتی ، اشبہ الناس بی خلقا و خلقا ،

قیام کرنے والا مہدی میری اولاد سے ہے اس کا نام میرا نام ہو گا ، اس کی کنیت میرے کنیت ہو گی ۔ وہ صورت (خلق ) کے لحاظ سے سب انسانوں سے میرے مشابہ ہو گا ۔ حضرت رسول اکرم (ص) کی کنیت ابو القاسم ہے اور امام عصر (عج) کی کنیت بھی ابو القاسم ہے ۔

قندوزی ،سلیمان بن ابراھیم ،ینابیع المودۃ ، ج3 ص397 باب 94 تحقیق :سید علی جمال اشرف الحسینی۔اسوہ قم۔ ایران۔

علامہ مجلسی ،محمّد باقر ،بحار الانوار ج،51 ص 72، مؤسسۃ الوفاء ،بیروت لبنان۔

حضرت مہدی (عج) اشبہ الناس برسول اللہ (ص) خلقا و خلقا ہیں ۔ کیوں نہ ایسے ہو حالانکہ سب حقیقت واحدہ کے مصادیق ہیں ، اللہ نے ان سب کو ایک ہی نور سے خلق فرمایا اور باقی مخلوق کو ان کی وجہ سے اور ان کے لیے خلق فرمایا ہے ۔

قرآن میں اخلاق رسول خدا (ص) کے لیے خداوند نے یوں فرمایا ہے :

انّک لعلی خلق عظیم،

القلم آیت 4

جملہ اسمیہ ثبوت و دوام پر دلالت کرتا ہے اور جملہ اسمیّہ کا استعمال تاکید کے لیے ہوتا ہے اور اسمیّہ جملہ میں حروف مشبہ بالفعل کا استعمال بھی تاکید کی غرض سے ہوتا ہے اور لام تاکید کو بھی اسی ہدف کے پیش نظر لایا جاتا ہے ۔

ہاں بیشک حضرت مہدی (عج) بھی اپنے جدّ بزرگوار کی طرح خلق عظیم کے مالک ہیں ۔

عن عبد اللہ بن مسعود قال رسول اللہ (ص):

یخرج فی آخر الزمان رجل من ولدی اسمہ کاسمی و کنیتہ ککنیتی، یملاء الارض عدلا کما ملئت جورا،

آخری زمانے میں میری اولاد سے ایسا شخص خروج کرے گا جس کا نام میرے نام کی طرح ہو گا اور اسکی کنیت میری کنیت کی مانند ہو گی، وہ زمین کو اسی طرح عدل سے بھر دیں گے جس طرح وہ جور سے پر ہو چکی ہو گی ۔

سبط ابن جوزی ،تذکرۃ خواص الامّہ ،ص 204

عن حذیفہ قال : قال رسول اللہ (ص) :

لو لم یبق من الدنیا الّا یوم واحد لبعث اللہ رجلا اسمہ اسمی و خلقہ خلقی،

حذیفہ سے مرویّ ہے کہ آنحضرت (ص) نے فرمایا : اگر دنیا کا صرف ایک دن باقی رہے گا تو بھی حتما اللہ ایک ایسے شخص کو بھیجے گا جس کا نام اور خلق میرے نام اور خلق پر ہو گا ۔

گنجی شافعی ،محمد بن یوسف ،البیان فی اخبار صاحب الزمان (ع)ص 127باب 13، مؤسسۃ النشر الاسلامی ،قم،

عن جابر بن عبد اللہ الانصاری قال : قال رسول اللہ (ص) :

المھدی من ولدی اسمہ اسمی و کنیتہ ککنیتی ۔۔۔۔۔،

مہدی (ع) میری اولاد سے ہو گا اس کا نام میرے نام پر ہو گا اور اسکی کنیت میری کنیت کی مانند ہو گی۔

قندوزی حنفی، سلیمان بن ابراھیم ،ینابیع المودّہ ج 3 ص386

عن عبد اللہ قال : قال رسول اللہ (ص):

لا یذھب الدنیا حتّی یملک رجل من اھل بیتی یوافق اسمہ اسمی،

عبد اللہ ابن مسعود سے مروی ہے انہوں نے کہا : رسول اللہ (ص) نے فرمایا : دنیا ختم نہیں ہو گی یہاں تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص مالک ( حاکم و خلیفہ ) ہو جائے، اس کا نام میرے نام کے موافق ہو گا ۔

طبرانی ،ابو القاسم ،سلیمان بن احمد ،المعجم الکبیر ج 10ص 131

عن عبد اللہ عن النبی (ص) قال :

یلی رجل من اھل بیتی یواطی اسمہ اسمی،

عبد اللہ ابن مسعود سے روایت ہے کہ حضور (ص) نے فرمایا :

میرے اہل بیت میں سے ایک ایسا شخص خلیفہ ہو گا جس کا نام میرے نام کی طرح ہو گا ۔

ترمذی، محمد بن عیسی ،الجامع الصحیح،ج 4 ص 505دارحیاء التراث العربی بیروت لبنان،

عن عبد اللہ قال : قال رسول اللہ (ص):

تذھب الدنیا حتّی یملک العرب رجل من اھل بیتی یواطی اسمہ اسمی،

دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہو گی یہاں تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص پورے عرب کا مالک ہو جائے ؛ اس کا نام میرے نام کے مطابق ہو گا ۔

بزار،ابوبکر احمد بن عمرو المسند ج 5ص204 مکتبہ المدینہ بیروت لبنان۔

امام مہدی (‏‏ع) کا عترت و اہل بیت رسول خدا (ص) سے ہونا:

یہ بات متواتر روایات اسلام سے ثابت ہے کہ حضرت مہدی (ع) اولاد ، عترت اور اہل بیت رسول اکرم (ص) سے ہیں ۔ ہم پہلے شیعہ منابع سے 8 احادیث اور پھر منابع اہل سنت سے اسکے بارے میں احادیث ذکر کرتے ہیں : ‏

1 ۔ عن امّ سلمۃ قالت : سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم یقول : المھدی من عترتی من ولد فاطمۃ ،

حضرت امّ سلمہ سے مروی ہے کہ انھوں نے فرمایا : میں نے خود رسول اللہ سے سنا کہ آپ (ص) نے فرمایا:

مہدی میری عترت ( نسل ) اور فاطمہ سلام اللہ علیہا کی اولاد سے ہوں گے ۔

مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار ج 51 ص75 ح 30باب 1،

2 : عن ابی سعید الخدری ، قال : سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم یقول :

انّ المھدی من عترتی من اھل بیتی ، یخرج فی آخر الزمان۔۔۔۔۔۔۔،

ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ (ص) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : بتحقیق مہدی میری نسل اور میرے اہل بیت سے ہیں ۔ وہ آخر زمان میں ظاہر ہوں گے۔

شیخ طوسی ابو جعفر محمد بن حسن الغیبہ ص 180ح 38 تحقیق : عبد اللہ تھرانی ،علی احمد ناصح، مؤسسۃ المعارف الاسلامیہ قم ایران۔

3 ۔ عن عبد اللہ بن مسعود ، قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم:

لا تذھب الدنیا حتّی یلی امّتی رجل من اھل بیتی یقال لہ :المھدی۔

عبد اللہ بن مسعود سے روایت ہے انہوں نے کہا : رسول اللہ نے فرمایا : دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہو گی یہاں تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک ایسا شخص میری امّت کا امام اور سر پرست ہو جائے کہ جس کو مہدی (ع) کہا جائے گا ۔

مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار ج 51 ص 75 ح 28 باب 1۔

4 ۔ عن عبد اللہ ابن مسعود ، قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم :

لا تقوم السّاعۃ حتّی یملک رجل من ولدی یوافق اسمہ اسمی ۔۔۔۔،

عبد اللہ ابن مسعود سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : قیامت اس وقت تک برپا نہیں ہو گی یہاں تک کہ میری اولاد سے ایسا شخص پوری زمین کا مالک ہو جائے جس کا نام میرے نام کے برابر ہو گا۔

طبری (شیعہ) محمد بن جریر ،دلائل الامامہ ص 255 ح54 ، مؤسسۃ البعثہ قم ۔

5 ۔ عن جبر ابن نوف ابی الودّاک ، قال : قلت لابی سعید الخدری : ۔۔۔۔فقال ابو سعید :۔۔۔۔۔۔ ولکن سمعت رسول اللہ (ص) یقول :

۔۔۔۔۔ تمّ یبعت اللہ عزّ و جلّ رجلا منّی و من عترتی ۔۔۔۔۔،

جبر ابن نوف ابی الوداک سے مروی ہے انہوں نے کہا : میں نے ابو سعید خدری سے کہا : ۔۔۔۔۔ پھر ابو سعید خدری کہنے لگا :۔۔۔۔۔۔ میں نے رسول اللہ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ۔۔۔۔۔ پھر اللہ عزّ و جلّ مجھ سے اور میری عترت سے ایک شخص کو بھیجے گا ۔۔۔۔۔ ( منّی ) سے مراد میری نسل ہے اور اس کے بعد والا کلمہ ( من عترتی ) اس کے لیے مفسر ہے ۔

مجلسی، محمد باقر ، بحار الانوار  ج51 ص 68ح  9 باب 1

شیخ طوسی ابو جعفر محمد بن حسن ،الامالی ج2 ص126

6 ۔ عن جابر بن عبد اللہ الانصاری ، قال : قال رسول اللہ (ص):

المھدی من ولدی۔۔۔۔۔،

حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری سے مروی ہے انھوں نے کہا : رسول اللہ (ص) نے فرمایا : مہدی میری اولاد سے ہوں گے ۔

صدوق، ابو جعفر محممد بن علی کمال الدین ،تمام النعمہ ج 1ص 286 ح 1 باب 25 تصحیح وتعلیق :علی اکبر غفاری، مؤسسۃ النشر الاسلامی قم ایران۔

7- عن الصّادق جعفر بن محمّد ، عن آبائہ علیھم السلام ، قال : رسول اللہ (ص)

المھدی من ولدی ۔۔۔۔۔۔۔،

حضرت امام صادق علیہ آلاف التحیّۃ والثناء اپنے آباء و اجداد علیھم آلاف التحیّۃ و الثناء سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (ص) نے فرمایا : مہدی میری اولاد سے ہوں گے ۔

قمی ،ابن بابویہ الامامۃ و التبصرہ ص 120 باب فی الغیبۃ، مدرسۃ الامام المہدی (ع) قم۔

8 ۔ عن الامام السجّاد علیہ السلام ، قال : رسول اللہ (ص) :

القائم من ولدی ۔۔۔۔۔،

حضرت امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں: رسول اللہ (ص) نے فرمایا : قائم "عج" میری اولاد میں سے ہوں گے ۔

صدوق ابو جعفر محمد بن علی کمال الدین وتمام النعمہ ص 114ح 6 باب 39۔

منابع اہل سنّت سے امام مہدی (عج) کے بارے میں کچھ احادیث :

عن علی ، قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم :

المھدی منّا اھل البیت یصلحہ اللہ فی لیلۃ،

حضرت علی علیہ السلام سے مروی ہے ، انھوں نے فرمایا : رسول اللہ (ص) نے ارشاد فرمایا : مہدی میرے اہل بیت سے ہو گا ، اللہ اس کے ذریعے سے اس امت کی ایک ہی رات میں اصلاح کر دے گا۔

ابن ماجہ محمد بن یزید السنن ج 2ص 1367 ،دارالفکر بیروت لبنان۔

عن ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ قال : قال رسول اللہ (ص) :

المھدیّ منّا اھل البیت ۔۔۔۔۔۔،

ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ (ص) نے فرمایا :

مہدی ہم اہلبیت میں سے ہو گا ۔۔۔۔۔۔،

حاکم نیشاپوری ،ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ، المستدرک علی الصّحیحین ج4 ص 600،

عن علی (ع) عن النبی (ص) قال :

لو لم یبق من الدھر الّا یوم لبعث اللہ رجلا من اھل بیتی یملا ھا عدلا کما ملئت جورا،

حضرت علی علیہ السلام حضرت نبی اکرم (ص ) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (ص) نے فرمایا : اگر دنیا کا فقط ایک دن رہ جائے گا تو یقینا اللہ میرے اہل بیت میں سے ایک ایسے شخص کو بھیجے گا جو دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم سے بھر چکی ہو گی۔

ابن ابی شیبہ کوفی ،عبداللہ ،المصنف ج 7 ص531 مکتبۃ الرّشید الریاض ،المملکۃ العربیہ السعودیہ ۔

عن ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ قال : قال رسول اللہ (ص):

لا تقوم الساعۃ حتّی تملا الارض ظلما و جورا و عدوانا ثمّ یخرج من اھل بیتی من یملاھا قسطا و عدلا،

ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ (ص) نے فرمایا :

قیامت برپا نہیں ہوگی یہاں تک زمین ظلم و جور اور دشمنی و سر کشی سے بھر جائے گی ، پھر میرے اہل بیت سے ایسا شخص ظھور کرے گا جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا ۔

حاکم نیشاپوری ،ابوعبداللہ محمد بن عبد اللہ المستدرک، ج4 ص 600

عن عبد اللہ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ (ص)

لا تذھب الدنیا حتّی یملک العرب رجل من اھل بیتی یواطی اسمہ اسمی،

عبد اللہ ابن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ (ص ) نے فرمایا:

دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہو گی یہاں تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایسا شخص عرب کا مالک بن جائے گا جس کا نام میرے نام کے برابر ہو گا ۔

ترمذی ، محمد بن عیسی ،الجامع الصحیح، ج4 ص 505

بزار، المسند ج5 ص 404

عن عبد اللہ رضی اللہ عنہ عن النبی (ص) قال :

یلی رجل من اھل بیتی یواطی اسمہ اسمی،

عبد اللہ ابن مسعود سے روایت ہے کہ نبی اکرم (ص) نے فرمایا :

میرے اہل بیت میں سے ایک ایسا شحص خلیفہ ہو گا جس کا نام میرے نام کے مطابق ہو گا۔

ترمذی الجامع الصحیح، ج4 ص505

سجستانی ،ابو داود ،سلیمان بن اشعث، السسنن ج 4 ص107 دارالفکر بیروت۔

شیبانی ،ابو عبد اللہ ،احمد بن حنبل المسند ج 1 ص376 مؤسسہ قرطبہ مصر ۔

عن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قال : قال رسول اللہ (ص):

لو لم یبق من الدنیا الّا لیلۃ لطوّل اللہ تلک الیلۃ حتّی یملک رجل من اھل بیتی یواطی اسمہ اسمی ۔۔۔۔۔۔،

عبد اللہ ابن مسعود سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ (ص) فرمایا :

اگر دنیا کی فقط ایک رات ہی باقی رہ گئی تو اللہ اس رات کو اس قدر لمبا کر دے گا یہاں تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک ایسا شخص  پوری زمین کا مالک بنے گا جس کا نام میرے نام کے موافق و مساوی ہو گا۔

طبرانی ابوالقاسم ،سلیمان بن احمد ،المعجم الکبیر، ج10 ص135

عن ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ : سمعت رسول اللہ (ص) یقول :  یخرج رجل من اھل بیتی یقول بسنّتی ۔۔۔۔۔ ،

ابو سعید خدری سے روایت ہے انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ (ص) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ آپ (ص) نے فرمایا :

میرے اہل بیت میں سے ایک ایسا شخص ظہور کرے گا جو میری سنّت بتلائے گا۔

حاکم نیشاپوری ، ابوعبداللہ محمد بن عبداللہ ،المستدرک ، ج4 ص 501

عن ابی ھریرۃ  قال : حدّثنی خلیلی ابو القاسم (ص) قال: لا یقوم الساعۃ حتّی یخرج علیھم رجل من اھل بیتی ، فیضربھم حتّی یرجعوا الی الحق ،

ابو ہریرہ سے روایت ہے انھوں نے کہا : مجھے میرے خلیل ابو القاسم نے فرمایا :

قیامت اس وقت تک بپا نہیں ہو گی جب تک کہ میرے اہل بیت سے ایک شخص انسانوں میں ظاہر نہ ہو پس وہ لوگوں سے جنگ کریں گے، حتّی کہ وہ حق کی طرف پلٹ آئیں گے۔

ہیثمی ،علی بن ابی بکر،مجمع الزوائد ج 7  ص315 ،دارالکتاب العربی ،بیروت ،لبنان۔

عن عبد اللہ قال : قال رسول اللہ (ص) :

لا تنقضی الایّام ولا یذھب الدھر حتّی یملک العرب رجل من اھل بیتی ، اسمہ یواطی اسمی،

عبد اللہ ابن مسعود سے روایت ہے انھوں نے کہا : رسول اللہ (ص) نے فرمایا :

دن پورے نہیں ہون گے اور زمانہ ختم نہیں ہو گا یہاں تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص پورے عرب کا مالک بن جائے گا ، اس کا نام میرے نام کے مطابق ہے۔

شیبانی ، ابو عبد اللہ احمد بن حنبل ، المسند ، ص 376

عن ابن مسعود قال : قال رسول اللہ (ص):

لا یذھب اللّیالی و الایّام حتّی یملک رجل من اھل بیتی یواطی اسمہ اسمی ،

ابن مسعود سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ نے فرمایا :

راتیں اور دن ختم نہیں ہوں گے یہاں تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک ایسا شخص مالک ہو جائے گا جس کا نام میرے نام کے موافق ہو گا ۔

طبرانی ، ابو القاسم سلیمان بن احمد ، المعجم الکبیر ، ج 10 ص 133

عن علی رضی اللہ عنہ قال : قلت: یا رسول اللہ امنّا آل محمّد المھدی ام من غیرنا ؟ فقال:

لا، بل منّا ، یختم اللہ بہ الدّین کما فتح بنا ، و بنا ینقذون من الفتنۃ کما انقذوا من الشّرک ۔۔۔۔،

حضرت علی علیہ السلام سے روایت ہے آپ نے فرمایا : میں نے عرض کی یا رسول اللہ (ص) کیا مہدی ہم آل محمّد سے ہوں گے یا ہمارے علاوہ کسی اور سے ؟

تو آپ نے فرمایا: نہیں ، بلکہ وہ ہم ہی میں سے ہوں گے ، اللہ ان پر دین ختم فرمائے گا جس طرح ہم سے آغاز فرمایا ہے اور ہمارے ذریعے ہی لوگوں کو فتنہ سے بچایا جائے گا جس طرح انہیں شرک سے بچایا گیا ہے۔

حضرت مہدی (ع) کا اولاد امام حسین (ع) اور ذریت حسین (ع) سے ہونا:

اس مطلب پر روایات زیادہ ہیں لیکن ہم فقط دو روایات منابع اہل سنت سے ذکر کرتے ہیں:

 احمد بن عبد اللہ طبری نے حذیفہ سے رسول اکرم (ص) کا یہ فرمان نقل کیا ہے :

لو لم یبق من الدنیا الاّ یوم واحد لطول اللہ ذالک الیوم حتی یبعث رجلا من ولدی اسمہ کاسمی فقال سلمان :من ایّ ولدک یا رسول اللہ ؟ قال : من ولدی ھذا و ضرب بیدہ علی الحسین (ع)،

اگر دنیا کا فقط ایک دن باقی بچ جائے تو بھی اللہ اس دن کو یقینا طولانی قرار دے گا یہاں تک کہ میری اولاد سے ایک ایسے شخص کو مبعوث کرے گا جس کا نام میرے نام کی مانند ہو گا سلمان نے عرض کی : اے اللہ کے رسول (ص) وہ آپ کے کس فرزند کی اولاد سے ہو گا ؟

فرمایا: میرے اس فرزند سے ہو گا یہ کہہ کر اپنے ہاتھ کو حسین (ع) پہ رکھا۔

طبری احمد بن عبداللہ ، ذخائر العقبی ، ص 136

 ابن عباس سے روایت ہے کہ ایک نعثل نامی یہودی حضرت رسالتمآب (ص) کی بارگاہ میں شرفیاب ہو کر عرض کرنے لگا : محمد (ص) آپ سے کچھ ایسی چیزوں کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں جو مدّت سے میرے دل میں ہیں اگر آپ میرے ان سوالوں کا جواب دیں گے تو میں آپ کے ہاتھ پر اسلام لاؤں گا حضرت نے فرمایا: اے ابو عمارہ پوچھو۔

فاخبرنی عن وصّیک من ھو؟ فما من نبیّ الاّ ولہ وصی وانّ نبیا موسی بن عمران اوصی الی یوشع بن نون فقال نعم انّ وصیی والخلیفۃ من بعدی علیّ بن الی طالب وبعدہ :سبطای : الحسن والحسین یتلوہ تسعۃ من ولد الحسین ائمۃ الابرار فقال: یامحمد سمھم لی: قال نعم فاذامضی الحسین فابنہ علیّ واذامضی علیّ فابنہ محمد فاذامضی محمد فابنہ جعفرفاذامضی جعفرفابنہ موسی فاذامضی موسی فابنہ علی فاذامضی علیّ فابنہ محمد ثم ابنہ علیّ ثم ابنہ الحسن ثم الحجۃ ابن الحسن فھذہ اثناعشر ائمۃ عدد نقباء بنی اسرائیل قال فاین مکانھم من الجنۃ؟ قال :معی فی درجتی،

پس مجھے خبر دیں اپنے وصی کے متعلق کہ وہ کون ہے ؟اس لئے کہ ہر نبی کے لئے وصی ہوتا ہے اور ہمارے نبی موسی بن عمران نے یوشع بن نون کو اپنا وصی قراردیاہے حضور (ص) نے فرمایا ہاں بتحقیق میرا وصی اور میرا خلیفہ میرے بعد علیّ بن ابی طالب ہے اور اس کے بعد میرے دو نواسے حسن وحسین (ع) اور حسین کے بعد نو حسین کی اولاد سے ہیں گے یہی آئمہ ابرار ہیں اس نے عرض کی محمد :ان کے نام بتلائیے آپ (ص) نے فرمایا پس جب حسین اس دنیا سے رخصت ہون گے تو ان کا فرزند علیّ اور جب علیّ اس دنیا سے چلے جائیں گے تو ان کا بیٹا محمد اور جب محمد اس دنیا سے رخصت ہوں گے تو ان کا فرزند جعفر آور جب جعفر اس دنیا سے رخصت ہوں گے تو ان کا بیٹا موسی اور جب موسی اس دنیا سے چلے گۓ تو ان کا بیٹا علی اور جب علیّ اس دنیا سے رخصت ہو جائیں گے تو ان کا فرزند محمد پھر ان کا فرزند علیّ پھران کا فرزند حسن اور پھر ان کا بیٹا حجّت میرا خلیفہ ہے۔

یہ بارہ نفر ہیں انکی تعداد بنی اسرائیل کے نبیوں کی ہے اس نے پوچھا :جنت میں یہ کس جگھ ہوں گے فرمایا میرے درجہ میں میرے ساتھ ہوں گے ۔

جوینی خراسانی ، ابراھیم بن محمّد ، فرائد السمطین ، ج 2 ص133

غیبت حضرت مہدی(ع):

احادیث غیبت بھی متواتر ہیں : ہم اختصارکی وجہ سے چند احادیث پہ اکتفا کرتے ہیں: حضرت رسالتمآب (ص) غیبت حضرت مہدی (ع) کے بارے میں فرماتے ہیں کہ:

لابد للغلام من غیبۃ فقیل لہ ولم یا رسول اللہ (ص) یخاف القتل،

اس نوجوان کی غیبت ضروری ہے حضور (ص) کی خدمت میں عرض کی گئی اے رسول خدا (ص) کیوں اس کے لیے غیبت ہے ؟ فرمایا اس لیے کہ اسے قتل کا خوف ہے۔

مجلسی ، محمّد باقر ، بحار الانوار، ج52 ص 90 باب 20

 قال رسول اللہ (ص):

المھدی من ولدیّ اسمہ اسمی و کنیتہ کنیتی اشبہ الناس لی خلقا وخلقا تکون لہ غیبۃ و حیرۃ تضل فیھا الامم ثم یقبل کالشھاب الثاقب یملاھا عدلا وقسطا کما ملئت جورا وظلما،

رسول خدا (ص) نے فرمایا ہے کہ: مہدی میری نسل سے ہے، اس کا نام میرے نام پر ہے اور اسکی کنیت میری کنیت ہے وہ تمام لوگوں میں میرے ساتھ خلق (صورت) اور خلق (کردار) کے لحاظ سے سب سے زیادہ شباہت رکھتا ہے اس کے لیے غیبت و حیرت ہے جس غیبت میں امتیں گمراہ ہوں گی پھر وہ درخشان ستارے کی مانند آئے گا اور زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح پر کرے گا جس طرح وہ جور و ظلم سے بھر چکی ہو گی۔

خزّار قمی ، کفایۃ الاثر ، ص 67

صدوق ، کمال الدین و تمام النعمۃ ، ص 286 باب 25

قال رسول اللہ (ص):

المھدی من ولدی تکون لہ غیبۃ وحیرۃ تضل فیھا الامم یاتی بذخیرۃ الانبیاء علیہم السلام فیملاھا قسطا وعدلا کما ملئت جورا و ظلما،

اس حدیث میں یاتی بذخیرۃ الانبیاء استعمال ہوا ہے اس کا ترجمہ یہ ہے کہ: مہدی ذخیرہ انبیاء (ع) کو لائے گا حدیث باقی جملوں کا ترجمہ اوپر والی حدیث میں مذکور ہے۔

بحرانی ، سیّد ھاشم ، غایۃ المرام ، ج 7 ص 89 باب 141 ، تحقیق : سید علی عاشور

قال رسول اللہ (ص):

طوبی لمن ادرک قائم اھل بیتی و ھو مقتد بہ قبل قیامہ ویتولی اولیاءہ یعادی اعدائہ ذالک من رفقائی وذوی مودّتی واکرم امتی علیّ یوم القیامۃ،

سعادت ہے اس شخص کے لیے جو میرے اہل بیت کے قائم (ع) کو حالانکہ اس کی اقتداء کرتے ہوئے اس کے قیام سے قبل پا لے اور اس کے دوستوں کو دوست اور اس کے دشمنون کو دشمن رکھے وہ میرے دوستوں میں سے ہو گا اور میرے نزدیک قیامت کے دن میری امت میں سب سے زیادہ محترم ہو گا۔

مجلسی ، محمّد باقر ، بحار الانوار ۔ج 52 ص 130

شیخ طوسی ، الغیبہ ،ص 456

قال رسول اللہ (ص):

المھدی من ولدی الذی یفتح اللہ بہ مشارق الارض و مغاربھا ذالک الذی یغیب عن اولیائہ غیبۃ لایثبت علی القول بامامتہ الاّ من امتحن اللہ قلبہ للایمان ۔۔۔،

مہدی میری اولاد سے ایسا فرزند ہے جس کے سبب اللہ مشارق و مغارب زمین کو فتح کرے گا وہ مہدی جو اپنے اولیاء اور دوستوں سے ایسی غیبت اختیار کرے گا اس میں انکی امامت کے عقیدہ پر کوئی ثابت قائم نہیں رہے گا سوائے اس شخص کے جس کے قلب کو اللہ نے ایمان کے لیے آزمایا ہو۔

قندوزی حنفی ، سلیمان بن ابراھیم ، ینابیع المودہ ،ج8 ص323

آئمّہ معصومین (ع) کی احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مہدی کے لیے دو قسم کی غیبتں ہیں:

1- غیبت صغری 2 - غیبت کبری ۔

یعنی حضرت مہدی (ع) لوگوں کو دیکھتے ہیں لیکن لوگ حضرت کے دیدار سے محروم ہیں، یا حضرت کو لوگ دیکھتے ہیں اور آپکی زیارت سے مختلف مقامات میں شرفیاب ہوتے ہیں، لیکن پہچان نہیں پاتے لہذا جب حضرت ظہور فرمائیں گے اور لوگ دیدار مہدی سے معراج کی منزلت پہ فائز ہوں گے تو کہیں گے : ہم نے حضرت (ع) کو فلاں مسجد میں دیکھا تھا۔

زمان غیبت میں حضرت مہدی (عج) کے وجود سے استفادہ:

سئل عن الرسول اللہ (ص):

فقلت : یارسول اللہ (ص) ھل لاولیائہ الانتفاع بہ فی غیبتہ ؟

فقال: والذی بعثنی بالحق نبیا انھم یستضیئون بنورہ وینتفعون بولایتہ فی غیبتہ کانتفاع النّاس بالشمس اذا سترھا سحاب یا جابر ھذامن مکنون سراللہ ومخزون علمہ فاکتمہ الّا عن اھلہ،

میں نے عرض کی : اے رسول خدا کیا اس کی غیبت میں اس کے دوست اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟

فرمایا مجھے قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے حق کا نبی بنا کر مبعوث کیا بتحقیق وہ لوگ اس کے نور سے روشنی حاصل کریں گے اور اس کی غیبت میں اس کی ولایت سے اس طرح فائدہ اٹھائیں گے جس طرح لوگ سورج سے اس وقت بھی فائدہ اٹھاتے ہیں جب سورج کو بادل چھپا دیں ۔

اے جابر یہ اللہ کے پوشیدہ اسرار اور اس کے محزون علم میں سے ہے، اس  نا اہلوں سے چھپا کر رکھنا۔

مجلسی ، محمّد باقر ، بحار الانوار ، ج 52 ص 93

 انتظار حضرت مہدی (ع):

حضور (ص) کی نظر میں حضرت مہدی کے انتظار کا بہت زیادہ ثواب ہے، ہم فقط دو حدیثوں پر اکتفا کرتے ہیں :

1 ۔ افضل العبادۃ انتظار الفرج،

بہترین عبادت انتظار ظہور مہدی (ع) ہے۔

شیخ صدوق ،کمال الدین وتمام النعمہ ،ص 287باب 25

2 - طوبی للصابرین فی غیبتہ طوبی للمتقین علی محبتہ اولئک الذین وصفھم اللہ فی کتابہ وقال (ھدی للمتقین الذّین یؤمنون بالغیب )،

سعادت مند ہیں اس کی غیبت میں صبر کرنے والے، اور اس کی محبت پر ثابت قدم رہنے والے یہ وہ لوگ ہیں جن کی اللہ نے اپنی کتاب میں یوں تعریف فرمائی ہے (یہ قرآن پرہیز گاروں کے لیے ہدایت ہے وہ لوگ جو غیب پہ ایمان رکھتے ہیں۔

خزّاز قمی کفایۃ الاثر، ص 60 و سورہ بقرہ آیت 3 ۔

قرآن اور امام زمان (ع):

مومنین کی خوشی اور مسر ت کا دن:

۔۔۔یَومَئِذٍ یَّفرَحُ المُومِنُونَ بِنَصرِ اللّٰہِ۔۔۔

ترجمہ:

اس دن صاحبان ایمان اللہ کی مدد سے خوشی منائیں گے۔

سورہ روم آیت 4 و 5

پیغام:

امام جعفر صادق (ع) سے مروی ہے کہ آخری امام کے ظہور کا دن، وہ دن ہے جب مومنین اللہ کی نصرت و امداد کے سہارے خوشی منائیں گے۔

امام زمان علیہ السلام کے ساتھی:

وَ مِن قَومِ مُوسٰٓی امَّة یَّھدُونَ بِالحَقِّ وَ بِہ یَعدِلُونَ۔

سورہ اعراف آیت 95

ترجمہ:

اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک ایسی جماعت بھی ہے جو حق کے ساتھ ہدایت کرتی ہے اور معاملات میں حق و انصاف کے ساتھ کام کرتی ہے۔

پیغام:

امام جعفر صادق (ع) سے منقول ہے کہ جب قائم آل محمد کعبہ سے ظہور کریں گے تو 72 افراد ان کے ساتھ ہوں گے جن میں سے 51 کا تعلق قوم حضرت موسیٰ، 7 افراد اصحاب کہف، یوشع جناب موسیٰ کے جانشین، سلمان، مقداد و مالک اشتر وغیرہ یہ سب کے سب حضرت کے ساتھی اور آپ (ع) کی جانب سے فوج پر حُکّام ہوں گے۔

آئمہ (ع) کی معرفت:

مَن کَانَ یُرِیدُ حَرثَ الاٰخِرَةِ نَزِد لَہ‘ فِی حَرثِہ وَ مَن کَانَ یُرِیدُ حَرثَ الدُّنیَا ۔۔۔

ترجمہ:

جو انسان آخرت کی کھیتی چاہتا ہے ہم اس کے لیے اضافہ کر دیتے ہیں اور جو دنیا کی کھیتی کا طلب گار ہے اسے اسی میں سے عطا کر دیتے ہیں۔

سورہ شوریٰ آیت 2

پیغام:

امام جعفر صادق (ع) سے روایت ہے کہ "حرث الاخرة"سے مراد علی اور باقی آئمہ علیہم السلام کی معرفت ہے۔ اور "حرث الدنیا" سے مراد اُن لوگوں کی تلاش اور کوشش جن کا حضرت بقیة اللہ کی حکومت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔

حق کی کامیابی کا دن:

۔۔۔ وَ یَمحُ اللّٰہُ البَاطِلَ وَ یُحِقُّ الحَقَّ بِکَلِمٰتِہ۔

ترجمہ:

اور خدا باطل کو مٹا دیتا ہے اور حق کو اپنے کلمات کے ذریعہ ثابت اور پائیدار بنا دیتا ہے۔

سورہ شوریٰ آیت 42

پیغام:

امام صادق (ع) سے منقول ہے کہ اس آیت میں کلمات سے مراد آئمہ علیہم السلام اور قائم آل محمد ہیں کہ جن کے ذریعے سے خداوند حق کو غلبہ عطا کرے گا۔

دین حق:

ھُوَ الَّذِی ارسَلَ رَسُولَہ‘ بِالھُدٰی وَ دِینِ الحَقِّ لِیُظھِرَہ عَلَی الدِّینِ کُلِّہِ ۔۔۔

ترجمہ:

وہی وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تا کہ اُسے تمام ادیان پر غالب بنائے۔

سورہ فتح آیت 82

پیغام:

امام صادق (ع) سے روایت ہے کہ غلبہ سے مراد امام زمان کا ظہور ہے جو تمام ادیان پر غالب آ کر زمین کو عدل و انصاف سے بھر دینگے۔

اہل زمین کا دوبارہ زندہ ہونا:

اِعلَمُوا اَنَّ اللّٰہَ یُحیِ الاَرضَ بَعدَ مَوتِھٰا۔۔۔

سورہ حدید آیت 71

ترجمہ:

یاد رکھو کہ خدا ہی زمین کو اُس کے مرنے (ختم ہونے) کے بعد زندہ (آباد) کرتا ہے۔

پیغام:

امام جعفر صادق (ع) سے مروی ہے کہ زمین کے مردہ ہونے سے مراد اہل زمین کا کفر اختیار کرنا ہے۔ خداوند حضرت حجة ابن الحسن کے ذریعے دنیا کو عدل و انصاف سے بھر کر زمین کو زندگی عطا کریگا۔

اللہ کا نور:

یُرِیدُونَ لِیُطفِئُوا نُورَ اللّٰہِ بِافوَاھِھِم وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُورِہ وَ لَوکَرِہَ الکٰفِرُونَ۔

ترجمہ:

یہ لوگ چاہتے ہیں کہ نورِ خدا کو اپنے منہ سے بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو مکمل کرنے والا ہے چاہے یہ بات کفار کو کتنی ہی ناگوار کیوں نہ ہو۔

سورہ صف آیت 8

پیغام:

امام صادق (ع) سے منقول ہے کہ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ نورِ ولایت علی (ع) کو بجھا دیں لیکن خداوند اُسے مکمل کرے گا اور حضرت حجة ابن الحسن کے ظہور کے ذریعہ اُسے سارے جہاں پر غلبہ عطا کرے گا۔

امام زمان علیہ السلام:

الٓمّٓ ۔ ذٰلِکَ الکِتٰبُ لَارَیبَ فِیہِ ھُدًی لِّلمُتَّقِینَ۔ الَّذِینَ یُومِنُونَ بِالغَیبِ وَ۔۔۔

ترجمہ:

یہ وہ کتاب ہے جس میں کسی طرح کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے یہ صاحبان تقویٰ اور پرہیز گار لوگوں کے لیے مجسمہ ہدایت ہے جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔

سورہ بقرہ آیت 2

پیغام:

امام جعفر صادق (ع) سے منقول ہے کہ صاحبان تقوی سے مراد حضرت علی (ع) کے شیعہ اور غیب سے مراد امام زمان ہیں۔

اللہ کا گروہ:

اُولٰٓئِکَ حِزبُ اللّٰہِ اَلَآ اِنَّ حِزبَ اللّٰہِ ھُمُ المُفلِحُونَ۔

ترجمہ:

یہی لوگ اللہ کا گروہ ہیں اور آگاہ ہو جاؤ کہ اللہ کا گروہ ہی نجات پانے والا ہے۔

سورہ مجادلہ آیت 22

پیغام:

جابر بن عبد اللہ فرماتے ہیں: پیغمبر اسلام نے فرمایا آخری امام حجة ابن الحسن العسکری ہیں پھر فرمایا کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو ان کی غیبت میں ثابت قدم ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں خدا فرماتا ہے: اُولٰئِکَ حِزبُ اللّٰہ۔۔۔

پیغمبرصلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے جانشین:

۔۔۔اَطِیعُوا اللّٰہَ اَطِیعُوا الرَّسُولَ وَ اُولِی الاَمرِ مِنکُم ۔۔۔

ترجمہ:

اللہ کی اطاعت کرو، رسول اور صاحبان امر کی اطاعت کرو جو تم ہی میں سے ہیں۔

سورہ نساء آیت 95

پیغام:

جابر بن عبد اللہ انصاری فرماتے ہیں: میں نے رسالت مآب سے سوال کیا کہ اولی الامر سے مراد کون ہیں؟ رسالت مآب نے فرمایا: وہ میرے جانشین اور مسلمانوں کے پیشوا اور رہنما ہیں جن میں سے پہلے علی ابن ابی طالب اور آخری حجة ابن الحسن العسکری ہیں۔ جابر نے کہا :یارسول اللہ! کیا شیعہ حضرت مہدی (ع) کی غیبت کے زمانے میں اُن سے مستفید ہو سکیں گے۔ رسالت مآب نے فرمایا: یقینا اُس ذات کی قسم جس نے مجھے نبوت عطا کی ہے، شیعہ مہدی کے نورِ ولایت سے مکمل بہرہ مند ہونگے جس طرح لوگ سورج کے فوائد سے بہرہ مند ہوتے ہیں ، چاہے وہ بادلوں کے پیچھے ہی کیوں نہ ہو۔

بے رُخی کی سزا:

۔۔۔ یَومَ یَاتِی بَعضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ لَا یَنفَعُ نَفسًا اِیمَانُھَا لَم تَکُن اٰمَنَت مِن قَبلُ۔۔۔

ترجمہ:

جس دن اس کی (پروردگار کی) بعض نشانیاں آ جائیں گی اس دن جو نفس پہلے سے ایمان نہیں لایا ہے ، اسکے ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہ ہو گا۔

سورہ انعام آیت 158

پیغام:

حضرت امام جعفر صادق (ع) سے منقول ہے کہ وہ دن حضرت بقیة اللہؑ کے ظہور کا دن ہے۔

اولیاء خدا:

اَلَآ اِنَّ اَولِیَآئَ اللّٰہِ لَا خَوف عَلَیھِم وَلَا ھُم یَحزَنُونَ۔

ترجمہ:

آگاہ ہو جاو کہ اولیاء خدا پر نہ خوف طاری ہوتا ہے اور نہ محزون و رنجیدہ ہوتے ہیں۔

سورہ یونس آیت 26

پیغام:

امام صادق (ع) سے مروی ہے آپ نے ابو بصیر سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے ابو بصیر حضرت بقیة اللہ کے شیعہ خوش نصیب ہیں جو آپ کی غیبت میں آپ کے مطیع اور آپ کے ظہور کے منتظر ہیں ۔ اس کے بعد آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی ۔ الَا اِنَّ اولِیٰاء اللّٰہ۔۔۔

اللہ کا وعدہ:

وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِینَ اٰمَنُوا مِنکُم وَ عَمِلُوا لصّٰلِحٰتِ لَیَستَخ لِفَنَّھُم فِی الاَرضِ۔۔۔

ترجمہ:

اللہ نے تم میں سے صاحبانِ ایمان و عملِ صالح سے وعدہ کیا ہے کہ انھیں روئے زمین میں اپنا خلیفہ بنائے گا۔

سورہ نور آیت 55

پیغام:

امام جعفر صادق (ع) سے منقول ہے کہ یہ آیت حضرت بقیة اللہ اور ان کے اصحاب کی شان میں ہے۔ جابر بن عبد اللہ انصاری سے مروی ہے کہ پیغمبر اسلام نے فرمایا: جناب موسیٰ کی طرح میرے بھی بارہ جانشین ہونگے۔ اس کے بعد آپ نے بارہ اماموں کے نام بتائے اور فرمایا کہ حسن (عسکری) کے بیٹے غیبت میں چلے جائیں گے اس کے بعد آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی۔ وَعَدَ اللّٰہ الَّذِینَ۔۔۔

ظالموں کا انجام:

۔۔۔وَ سَیَعلَمُ الَّذِینَ ظَلَمُوآ اَیَّ مُنقَلَبٍ یَّنقَلِبُونَ ۔

ترجمہ:

اور عنقریب ظالمین کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس جگہ پلٹا دیئے جائیں گے۔

سرہ شعراء آیت 27

پیغام:

رسالت مآب سے منقول ہے جو میرے دین کا پیرو اور میری کشتی نجات میں سوار ہونا چاہتا ہے وہ علی ابن ابی طالب سے وابستہ ہو جائے ۔ ان کے دشمن کو دشمن اور ان کے دوست کو دوست رکھے۔ اس کے بعد آپ نے اماموں کے نام بتائے اور فرمایا میری امت کے نو پیشوا حسین کی اولاد سے ہیں جن میں آخری قائم ہیں۔ پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی۔ وَ سَیَعلَمُ الَّذِینَ۔۔۔

زمین کے وارث:

اَمَّن یُّجِیبُ المُضطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَ یَکشِفُ السُّوئَ وَ یَجعَلُکُم خُلَفَآئَ الاَرضِ ۔

ترجمہ:

بھلا وہ کون ہے جو مضطر کی فریاد کو سنتا ہے جب وہ اس کو آواز دیتا ہے اور اس کی مصیبت کو دور کر دیتا ہے اور تم لوگوں کو زمین کا وارث بناتا ہے۔

سورہ نمل آیت 26

پیغام:

امام صادق (ع) سے روایت ہے کہ یہ آیت قائم آل محمدؑ کی شان میں ہے۔ ظہور کے وقت آپ مقامِ ابراہیم کے پاس نماز ادا کرتے ہوئے یہ مناجات کریںگے۔

لوگوں کے پیشوا:

وَنُرِیدُ ان نَّمُنَّ عَلَی الَّذِینَ استُضعِفُوا فِی الاَرضِ وَ نَجعَلَھُم اَئِمَّةً وَّ نَجعَلَھُمُ الوٰرِثِینَ۔

ترجمہ:

اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور بنا دیا گیا ہے ۔ ان پر احسان کریں اور انھیں لوگوں کا پیشوا بنائیں اور زمین کا وارث قرار دیں۔

سورہ قصص آیت 5

پیغام:

پیغمبر اسلام سے منقول ہے آپ نے جناب سلمان فارسی سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے سلمان! کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں تمہیں اپنے بارہ جانشینوں کے نام بتاؤں اور اس کے بعد آپ نے بارہ اماموں کے نام بیان کیے۔ جناب سلمان فارسی کہتے ہیں کہ میں نے ان کے شوقِ دیدار میں بے انتہا گریہ کیا تو پیغمبر اسلام نے فرمایا: اے سلمان! اُن کے ہونے سے اس آیت کی تکمیل ہو گی۔ وَنُرِیدُ ان نَمُنَّ۔۔۔

نماز کا قیام:

اَلَّذِینَ اِن مَّکَّنّٰھُم فِی الاَرضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاَتُوا الزَّکٰوةَ وَ اَمَرُوا بِالمَعرُوفِ وَنَھَو عَنِ المُنکَرِ وَ لِلّٰہِ عَاقِبَةُ الاُمُورِ۔

ترجمہ:

یہی وہ لوگ ہیں جنھیں ہم نے زمین میں اختیار دیا تو انھوں نے نماز قائم کی اور زکات ادا کی اور نیکیوں کا حکم دیا اور برائیوں سے روکا اور یہ طے ہے کہ جملہ امور کا انجام خدا کے اختیار میں ہے۔

سورہ حج آیت 14

پیغام:

امام جعفر صادق (ع) سے منقول ہے کہ یہ آیت مہدی آخر الزمان اور ان کے اصحاب کی شان میں ہے جو مشرق و مغرب میں دین اسلام کا پرچم لہرا کر خرافات اور ظلم وجور کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے اور پھر فرمایا : ویَا مُرُونَ بالمعروف (نیکیوں کا حکم دینے)۔۔۔

ذخیرہ الٰہی:

بَقِیَّتُ اللّٰہِ خَیر لَّکُم اِن کُنتُم مُّومِنِینَ۔۔۔

ترجمہ:

اللہ کی طرف کا ذخیرہ تمھارے لیے بہت بہتر ہے، اگر تم صاحبِ ایمان ہو۔

سورہ ھود آیت 68

پیغام:

روایات میں امام عصر (ع) کو " بقیة اللہ " کے لقب سے یاد کیا گیا ہے۔ اس لیے کہ پروردگار عالم نے انہیں آخری انقلاب اور زمانہ کی واقعی اصلاح کے لیے بچا کر رکھا ہے۔ جب سر زمین مکّہ سے آپ کا ظہور ہوگا تو آپ اس آیت کی تلاوت فرما کر کہیں گے میں ہی وہ بقیة اللہ ہوں۔

صالحین کی حکومت:

وَلَقَد کَتَبنَا فِی الزَّبُورِ مِنم بَعدِ الذِّکرِ اَنَّ الاَرضَ یَرِثُھَا عِبَادِیَ الصَّالِحُونَ۔

ترجمہ:

اور ہم نے ذکر کے بعد زبور میں لکھ دیا ہے کہ ہماری زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہی ہوں گے۔

سورہ انبیاء آیت 105

پیغام:

رسالت مآب (ص) سے روایت ہے: قیامت اُس وقت تک برپا نہیں ہو گی ، جب تک دنیا ظلم و جور سے نہ بھر جائے ۔ پھر میری ذرّیت میں سے ایک فرد قیام کرے گا اور دنیا کو اس طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ پہلے ظلم و جور سے بھر چکی ہو گی۔

امام بر حق:

فَوَ رَبِّ السَّمَآئِ وَ الاَرضِ اِنَّہ لَحَقّ مِّثلَ مَآ اَنَّکُم تَنطِقُونَ۔

ترجمہ:

آسمان اور زمین کے مالک کی قسم یہ قرآن بالکل برحق ہے جس طرح تم خود باتیں کر رہے ہو۔

سورہ ذاریات آیت 32

پیغام:

امام سجاد (ع) سے منقول ہے : اس آیت میں حق سے مراد حضرت حجة ابن الحسن العسکری (ع) کا ظہور ہے۔

زمین کا جگمگانا:

وَ اَشرَقَتِ الاَرضُ بِنُورِ رَبِّھَا۔

ترجمہ:

اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے جگمگا اٹھے گی۔

سورہ زمر آیت 96

پیغام:

امام جعفر صادق (ع) سے مروی ہے کہ جب قائم کا ظہور ہو گا تو زمین نورِ پروردگار سے اس طرح جگمگا اٹھے گی کہ لوگ سورج کی روشنی سے بے نیاز ہو جائیں گے۔ دن رات ایک ہی معلوم ہوں گے اور لوگ ہزار سال تک صحیح و سالم زندگی گزاریں گے۔

امام زمان (عج) کے وجود پر عقلی اور منقولہ دلائل:

رسول خدا (ص) کی فریقین سے مروی اس روایت کے مطابق کہ جو شخص اس دنیا میں اپنے زمانے کے امام کو پہچانے بغیر مر جائے اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔

اگرچہ امام زمانہ(ع) کی تفصیلی معرفت تو میسر نہیں ہے لیکن اجمالی معرفت کو اختصار کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے۔

عقلی نقطہ نگاہ سے:

عقلی دلائل کا اجمالی طور پر خلاصہ یہ ہے کہ نبوت و رسالت کا دروازہ پیغمبر خاتم (ص) کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے۔ لیکن قرآن کو سمجھنے کے لیے، جو آنحضرت (ص) پر نازل ہوا ہے اور ہمیشہ کے لیے انسان کی تعلیم و تربیت کا دستور العمل ہے، معلم و مربی کی ضرورت ہے۔ وہ قرآن، جس کے قوانین مدنی البطع انسان کے حقوق کے ضامن تو ہیں لیکن ایک مفسر اور ان قوانین کو عملی جامہ پہنانے والے کے محتاج ہیں۔

بعثت کی غرض اس وقت تک متحقق نہیں ہو سکتی جب تک کہ تمام علوم قرآنی کا معلم موجود نہ ہو۔ ایسے بلند مرتبہ اخلاقی فضائل سے آراستہ ہو کہ جو ، انما بعثت لاٴتمم مکارم الاٴخلاق،

فقط مبعوث ہوا ہوں اس لیے کہ مکارم الاخلاق کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکوں۔

بحار الانوار ج 16 ص 210

کا مقصد ہے۔ نیز ہر خطا و خواہشات نفسانی سے پاک و منزہ ہو جس کے سائے میں انسان اس علمی و عملی کمال تک پہنچے جو خداوند کی غرض ہے۔

مختصر یہ کہ قرآن ایسی کتاب ہے جو تمام انسانوں کو فکری، اخلاقی اور عملی ظلمات سے نکال کر عالم نور کی جانب ہدایت کرنے کے لیے نازل ہوئی ہے:

کِتَابٌ اٴَنْزَلْنَاہُ إِلَیْکَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّوْرِ،

یہ کتاب ہے جسے آپ کی طرف نازل کیا ہے تا کہ آپ لوگوں کو حکم خدا سے تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لے آئیں۔

سورہٴ ابراھیم، آیت 1۔

اس غرض کا حصول فقط ایسے انسان کے ذریعے ممکن ہے جو خود ظلمات سے دور ہو اور اس کے افکار، اخلاق و اعمال سراپا نور ہوں اور اسی کو امام معصوم کہتے ہیں۔

اور اگر ایسا انسان موجود نہ ہو تو تعلیم کتاب و حکمت اور امت کے درمیان عدل کا قیام کیسے میسر ہو سکتا ہے ؟ اور خود یہی قرآن جو اختلافات کو ختم کرنے کے لیے نازل ہوا ہے، خطا کار افکار اور ہوا و ہوس کے اسیر نفوس کی وجہ سے، اختلافات کا وسیلہ و آلہ بن کر رہ جائے گا۔

آیا وہ خدا جو خلقت انسان میں احسن تقویم کو مدنظر رکھتے ہوئے انسان کی ظاہری خوبصورتی کے لیے بھنوں تک کا خیال رکھ سکتا ہے، کیا ممکن ہے کہ مذکورہ ہدف و مقصد کے لیے کتاب تو بھیج دے لیکن بعثت انبیاء اور کتب نازل کرنے کی اصلی غرض، جو سیرت انسان کو احسن تقویم تک پہچانا ہے، باطل کر دے ؟!

رسول خدا (ص) کے اس کلام کا نکتہ واضح و روشن ہوتا ہے کہ جسے اہل سنت کی کتابوں نے نقل کیا ہے:

 من مات بغیر إمام مات میتة جاھلیة،

 جو اس حال میں مر جائے کہ اپنے زمانے کے امام کو نہ پہچانے تو وہ جہالت کی موت مرے گا"

مسند الشامیین، ج 2، ص 437،

المعجم الکبیر، ج 19، ص 388

مسند احمد بن حنبل، ج 4، ص 96

اور کلام معصومین علیھم السلام کا نکتہ بھی کہ جسے متعدد مضامین کے ساتھ شیعہ کتب میں نقل کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر حضرت امام علی بن موسی الرضا (ع) نے شرائع دین سے متعلق، مامون کو جو خط لکھا اس کا مضمون یہ ہے کہ:

و إن الارض لا تخلو من حجة اللّٰہ تعالی علی خلقہ فی کل عصر و اٴوان و إنھم العروة الوثقیٰ، یہاں تک کہ آپ (ع) نے فرمایا: و من مات و لم یعرفھم مات میتة جاھلیة،

زمین حجت خدا سے کسی زمانہ میں خالی نہ ہو گی اور یہ حجت مستحکم وسیلہ ہیں یہاں تک کہ فرمایا جو مر جائے اور ان کو نہ پہچانتا ہو تو وہ جہالت کی موت مرتا ہے۔

عیون اخبار الرضا علیہ السلام،ج 2، ص 133۔

اب جب کہ اکمال دین  و اتمام نعمت ہدایت میں ایسی شخصیت کے وجود کی تاثیر واضح ہو چکی، اگر اس کی عدم موجودگی سے خدا اپنے دین کو ناقص رکھے تو اس عمل کی وجہ یا تو یہ ہو گی کہ ایسی شخصیت کا وجود ناممکن ہو یا خدا اس پر قادر نہیں اور یا پھر خدا حکیم نہیں ہے اور ان تینوں کے واضح بطلان سے امام کے وجود کی ضرورت ثابت ہے۔

حدیث تقلین جس پر فریقین کا اتفاق ہے، ایسی شخصیت کے وجود کی دلیل ہے جو قرآن سے اور قرآن جس سے، ہر گز جدا نہ ہوں گے اور چونکہ مخلوق پر خدا کی حجت، حجت بالغہ ہے،

ابن حجر ہیثمی جس کا شیعوں کی نسبت تعصب ڈھکا چھپا نہیں، کہتا ہے کہ:

و الحاصل اٴن الحث وقع علی التمسک بالکتاب و بالسنة و بالعلماء بھما من اٴھل البیت و یستفاد من مجموع ذلک بقاء الاٴمور الثلاثہ إلی قیام الساعة، ثم اعلم اٴن لحدیث التمسک بذلک طرقاً کثیرةً وردت عن نیف و عشرین صحابیا۔

صواعق محرقہ، ص 150

ابن حجر اعتراف کر رہا ہے کہ حدیث ثقلین کے مطابق، جسے بیس سے زیادہ اصحاب نے پیغمبر اکرم (ص) سے نقل کیا ہے، پوری امت کو کتاب، سنت اور علماء اہل بیت سے تمسک کا حکم دیا گیا ہے اور ان سب سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ تینوں قیامت کے دن تک باقی رہیں گے۔

اور مذہب حق یہی ہے کہ قرآن کے ہمراہ اہل بیت علیھم السلام سے ایسے عالم کا ہونا ضروری ہے جو قرآن میں موجود تمام علوم سے واقف ہو، کیوںکہ پوری امت مسلمہ کو، بغیر کسی استثناء کے، کتاب، سنت اور اس کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے، اور ہر ایک کی ہدایت کا دار و مدار اسی تمسک پر ہے۔

روائی نقطہ نگاہ سے:

بارہویں امام (ع) کے متعلق شیعوں کا اعتقاد اور آپ کا ظہور معصومین علیھم السلام سے روایت شدہ متواتر نصوص سے ثابت ہے، جو اثبات امامت کے طریقوں میں سے ایک ہے۔

قرآن مجید میں ایسی آیات موجود ہیں، جنہیں شیعہ و سنی کتب میں امام مہدی (ع) کی حکومت کے ظہور سے تفسیر کیا گیا ہے۔ ان میں سے بعض کو ہم یہاں ذکر کرتے ہیں :

ھُوَ الَّذِی اٴَرْسَلَ رَسُوْلَہ بِالْھُدیٰ وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہ وَ لَو کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ،

وہ خدا وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تا کہ اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب بنائے چاہے مشرکین کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو۔

سورہٴ توبہ، آیت 33

ابو عبد اللہ گنجی کتاب "البیان فی اخبار صاحب الزمان (ع) " میں کہتا ہے کہ :"اور بالتحقیق، مہدی کی بقا کا تذکرہ قرآن و سنت میں ہوا ہے۔ قرآن میں یوں کہ سعید بن جبیر قرآن میں خداوند متعال کے اس فرمان، لِیُظْھِرَہ عَلیَ الدِّیْنِ کُلِّہ وَ لَو کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ، کی تفسیر میں کہتے ہیں: ھو المھدی من عترة فاطمہ علیھا السلام،

البیان فی اخبار صاحب الزمان عجل اللہ فرجہ الشریف،ص 528

اَلَّذِیْنَ یُوٴْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَیُقِیْمُوْنَ الصَّلاَةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاہُمْ یُنْفِقُوْنَ،

جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں ۔ پابندی سے پورے اہتمام کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے رزق دیا ہے اس میں سے ہماری راہ میں خرچ بھی کرتے ہیں۔

سورہٴ بقرہ، آیت 3

فخر رازی کہتا ہے: بعض شیعوں کے عقیدے کے مطابق غیب سے مراد مھدی منتظر (ع) ہے، کہ جس کا وعدہ خدا نے قرآن اور حدیث میں کیا ہے۔ قرآن میں یہ کہہ کر، وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمَنُوا مِنکُم وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی اْلاٴَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ، اور حدیث میں قول پیغمبر اکرم (ص) کے اس قول کے مطابق:

لو لم یبق من الدنیا إلا یوم واحد لطول اللّٰہ ذلک الیوم حتی یخرج رجل من اٴھل بیتی یواطی اسمہ اسمی و کنیتہ کنیتی، یملاٴ الاٴرض عدلا و قسطا کما ملئت جورا و ظلما،

اگر دنیا کے ختم ہو جانے میں ایک دن بھی باقی رہ جائے تو خدا اس کو اتنا طولانی کر دے گا کہ میرے اہل بیت (ع) میں سے ایک شخص قیام کرے جو میرا ہم نام اور اس کی کنیت میری کنیت ہو گی جو زمین کو عدل و انصاف سے ویسا بھر دے گا جیسے ظلم و جور سے بھری ہو گی۔

اللہ نے تم میں سے صاحبان ایمان و عمل صالح سے وعدہ کیا ہے کہ انھیں روئے زمین میں اس طرح اپنا خلیفہ بنائے گا جس طرح پہلے والوں کو بنایا ہے اور ان کے لیے اس دین کو غالب بنائے جسے ان کے لیے پسندیدہ قرار دیا ہے اور ان کے خوف کو امن سے تبدیل کر دے گا وہ سب صرف میری عبادت کریں گے اور کسی طرح کا شرک نہ کریں گے اور اس کے بعد بھی کوئی کافر ہو جائے تو در حقیقت وہی لوگ فاسق اور بدکردار ہیں۔

سورہٴ نور، آیت  55

تفسیر کبیر،، فخر رازی، ج2، ص 28

غیبة نعمانی، شیخ طوسی ، ص 177

 تفسیر القمی، ج 1، ص 14

سورہ شعراء، آیت4 ۔ اگر ہم چاہتے تو آسمان سے ایسی آیت نازل کر دیتے کہ ان کی گردنیں خضوع کے ساتھ جھک جاتیں۔

ینابیع المودة، ج 3، ص 297۔ "آگاہ ہو جاؤ کہ خدا کی حجت کا ظہور خانہ خدا میں ہو گیا ہے تو اس کی پیروی کرو کیونکہ حق اس کے ساتھ ہے اس کی ذات کے اندر ضم ہے۔

سورہ قصص، آیت 5 اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور بنا دیا گیا ہے ان پر احسان کریں اور انہیں لوگوں کا پیشوا بنائیں اور زمین کا وارث قرا ر دیدیں۔

 اس کے بعد یہ اشکال کرتا ہے کہ بغیر دلیل کے مطلق کو تخصیص دینا باطل ہے۔

تفسیر کبیر، فخر رازی،ج 2، ص 28

فخر رازی نے ، حضرت مہدی موعود (ع) کے بارے میں قرآن و حدیث پیغمبر خدا (ص) کی دلالت کو تسلیم کرنے اور آپ (ع) کی غیب میں شمولیت کے اعتراف کے بعد، یہ سمجھا ہے کہ شیعہ، غیب کو فقط حضرت مہدی (ع) سے اختصاص دینے کے قائل ہیں، جب کہ فخر رازی اس بات سے غافل ہے کہ شیعہ امام مہدی (ع) کو مصادیقِ غیب میں سے ایک مصداق مانتے ہیں۔

وَ إِنَّہ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلاَ تَمْتَرُنَّ بِھَا وَاتَّبِعُوْنِ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ،

اور بے شک یہ قیامت کی واضح دلیل ہے لہٰذا اس میں شک نہ کرو اور میرا اتباع کرو کہ یہی سیدھا راستہ ہے۔

سورہ زخرف، آیت 61

ابن حجر کے بقول : مقاتل بن سلیمان اور اس کے پیروکار مفسرین کہتے ہیں کہ یہ آیت مہدی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

صواعق محرقہ، ص 162

وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمَنُوا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی اْلاٴَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِیْنَھُمُ الَّذِی ارْتَضیٰ لَھُمْ وَلَیُبَدِلَنَّھُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِھِمْ اٴَمْناً یَّعْبُدُوْنَنِی لَایُشْرِکُوْنَ بِیْ شَیْئاً وَّمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَاٴُوْلٰئِکَ ھُمُ الْفَاسِقُوْنَ،

اس آیت کو امام مہدی(ع) اور آپ کی حکومت سے تفسیر کیا گیا ہے۔

إِنْ نَّشَاٴْ نُنَزِّلْ عَلَیْھِمْ مِنَ السَّمَاءِ آیَةً فَظَلَّتْ اٴَعْنٰاقُھُمْ لَھَا خَاضِعِیْنَ،

اس آیت میں لفظِ (آیة) کی تفسیر، حضرت مہدی (ع) کے ظہور کے وقت دی جانے والی ندا کو بتلایا گیا ہے، جسے تمام اہل زمین سنیں گے اور وہ ندا یہ ہو گی (اٴلا إن حجة اللّٰہ قد ظھر عند بیت اللّٰہ فاتبعوہ فإن الحق معہ وفیہ)،

وَ نُرِیْدُ اٴَنْ نَّمُنَّ عَلَی الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی اْلاٴَرْضِ وَنَجْعَلَھُمْ اٴَئِمَّةً وَّ نَجْعَلَھُمُ الْوَارِثِیْنَ،

امیر المؤمنین (ع) فرماتے ہیں : یہ دنیا منہ زوری دکھانے کے بعد پھر ہماری طرف جھکے گی جس طرح کاٹنے والی اونٹنی اپنے بچے کی طرف جھکتی ہے۔ اس کے بعد مذکورہ آیت کی تلاوت فرمائی۔

نھج البلاغہ،شمارہ 209 ، حکمت امیر المومنین علیہ السلام۔

وَ لَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْ بَعْدِ الذِّکْرِ اٴَنَّ اْلاٴَرْضَ یَرِثُھَا عِبَادِیَ الصَّالِحُوْنَ،

"اور ہم نے ذکر کے بعد زبور میں لکھ دیا ہے کہ ہماری زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہی ہوں گے۔

سورہ انبیاء، آیت 105

اس آیت کو امام مہدی (ع) اور آپ (ع) کے اصحاب کے بارے میں تفسیر کیا گیا ہے۔

بحار الانوار، ج 51، ص 47، نمبر 6

اور اس آیت کا مضمون، یعنی زمین پر صالح افراد کی حکومت، زبور  حضرت داود (ع) میں موجود ہے :

کتاب مزامیر۔ زبور حضرت داود (ع) ، 37 ویں مزمور کی انتیسویں آیت میں ہے:

اور نسل شریر منقطع ہو جائے گی اور صالح افراد زمین کے وارث ہوں گے اور اس میں ابد تک رہیں گے، صالح دہان حکمت کو بیان کرے گا اور اس کی زبان انصاف کا تذکرہ کرے گی۔ اس کے خدا کی شریعت اس کے دل میں ہو گی۔ لہٰذا اس کے قدم نہ لڑکھڑائیں گے۔

کتاب مزامیر کے بہترویں مزمور کی پہلی آیت: اے خدا بادشاہ کو اپنا انصاف اور اس کے فرزند کو اپنی عدالت عطا کر اور وہ تیری قوم کے درمیان عدالت سے فیصلہ کرے گا اور تیرے مساکین کے ساتھ انصاف کرے گا۔ اس وقت پہاڑ، قوم کے لیے سلامتی کا سامان مہیا کریں گے اور ٹیلے بھی۔ قوم کے مساکین کے درمیان عدالت برقرار کرے گا، فقراء کی اولاد کو نجات دلائے گا اور ظالموں کو سرنگوں کرے گا اور جب تک سورج اور چاند اپنے سارے طبقات کے ساتھ باقی ہیں وہ تجھ سے ڈریں گے۔ وہ کٹے ہوئے سبزہ زاروں پر برسنے والی بارش کی طرح برسے گا اور زمین کو سیراب کرنے والی بارشوں کی طرح اس کے دور میں صالح افراد خوب پھلے پھولیں گے اور سلامتی ہی سلامتی ہو گی، یہاں تک کہ چاند نابود ہو جائے گا، ایک سمندر سے دوسرے سمندر اور نہر سے دنیا کے آخری کونے تک اس کی حکومت ہو گی، اس کے سامنے صحرا نشین گردنیں جھکائیں گے اور اس کے دشمن خاک چاٹیں گے۔

آپ (ع) کے بارے میں فریقین کی کتابوں میں تواتر کی حد تک روایات موجود ہیں۔

ابو الحسن ابری،جو اہل سنت کے بزرگ علماء میں سے ہے، کا کہنا ہے : راویوں کی کثیر تعداد نے حضرت محمد مصطفی(ص) سے مہدی کے بارے میں روایت کی ہے جو متواتر و مستفیض ہیں اور یہ کہ وہ اہل بیت پیغمبر(ص) سے ہے، سات سال حکومت کرے گا، زمین کو عدل سے پر کر دے گا، حضرت عیسی(ع) خروج کریں گے اور دجال کو قتل کرنے میں آپ(ع) کی مدد کریں گے۔ امت کی امامت مہدی (ع) کرائیں گے جب کہ عیسی (ع) آپ کے پیچھے نماز پڑہیں گے ۔

تہذیب التہذیب، ج 9،ص 126

شبلنجی نور الابصار میں کہتا ہے:"پیغمبر اکرم (ص) سے متواتر احادیث ہیں کہ مہدی (ع) آنحضرت (ص) کے اہل بیت سے ہے اور زمین کو عدل سے پر کر دے گا۔

نور الابصار، ص 189

ابن ابی حدید معتزلی کہتا ہے : مسلمانوں کے تمام فرقوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ دنیا اور دینی ذمہ داریاں حضرت مہدی (ع) پر ختم ہوں گی۔

شرح نھج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج 10، ص 96

زینی دحلان کے بقول : جن احادیث میں مہدی (ع) کے ظہور کا ذکر ہوا ہے وہ بہت زیادہ اور متواتر ہیں۔

الفتوحات الاسلامیہ، ج2، ص 338

شیعہ اور سنی کتب میں مذکور چند خصوصیات مذکور ہیں کہ :

نماز جماعت میں افضل کو تقدم حاصل ہے، جیسا کہ یہ مطلب سنی اور شیعہ روایات میں ذکر ہوا ہے:

امام القوم وافدھم فقدموا اٴفضلکم،

ہر قوم کا امام وہ ہوتا ہے جو سب سے پہلے خدا پر وارد ہوتا ہے تو تم لوگ بھی افضل کو آگے کرو۔

 بغیة الباحث عن زوائد مسند الحارث، ص 56، نمبر 139

 وسائل الشیعہ، کتاب الصلاة، ابواب الجماعة، باب 26، ج8 ، ص 347

 آپ (ع) کے ظہور اور حکومت حقہ کے قیام کے وقت عیسی بن مریم (ع) آسمان سے زمین پر تشریف لائیں گے اور سنی اور شیعہ روایات کے مطابق آپ (ع) کی امامت میں نماز ادا کریں گے۔

الصواعق المحرقہ، ص 164

فتح الباری، ج 6، ص 358

صحیح بخاری، ج 4، ص 143

صحیح مسلم، ج1، ص 94

سنن ابن ماجہ، ج2، ص 1361

عقد الدرر، دسواں حصہ،

الغیبة نعمانی، ص 75

بحار الانوار، ج36 ، ص 272

وہ ایسی ہستی ہیں کہ کلمة اللہ، روح اللہ اور مردوں کو حکم خدا سے زندہ کرنے والے اولو العزم رسول سے افضل ہیں اور آپ کی وجاہت اور قرب، خدائے ذو الجلال کے نزدیک زیادہ ہے ۔ وقت نماز، جو خدا کی طرف عروج کا وقت ہے، عیسی بن مریم آپ کی اقتداء کریں گے اور آپ کی زبان مبارک کے ذریعے خدا سے ہم کلام ہوں گے۔

گنجی نے البیان میں نماز و جھاد میں آپ کی امامت کے بارے میں مروی روایات کے صحیح ہونے اور اس تقدم و امامت کے اجماعی ہونے کی تصدیق کے بعد، مفصل بیان کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ اس امامت کو معیار قرار دیتے ہوئے آپ (ع) ، عیسی سے افضل ہیں۔

البیان فی اخبار صاحب الزمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف، ص 498

عقد الدرر، باب اول میں سالم اشل سے روایت نقل کی ہے کہ وہ کہتا ہے: میں نے ابی جعفر محمد بن علی الباقر (علیھما السلام) کو فرماتے سنا کہ:

موسی (ع) نے نظر کی تو پہلی نظر میں وہ کچھ دیکھا جو قائم آل محمد(ع) کو عطا ہونا تھا، پس موسی نے کہا: اے پروردگار ! مجھے قائم آل محمد (ص) قرار دے۔ ان سے کہا گیا : کہ وہ محمد (ص) کی ذریت سے ہے۔ دوسری بار بھی اس کی مانند دیکھا اور دوبارہ وہی درخواست کی اور وہی جواب سنا، تیسری بار بھی اسی کو دیکھا اور سوال کیا تو تیسری بار بھی وہی جواب ملا۔

عقد الدرر،ص 26،

الغیبة نعمانی، ص 240

باوجود اس کے کہ حضرت موسی بن عمران (ع) خدا کے اولو العزم پیغمبر و کلیم اللہ ہیں، لیکن پھر بھی حضرت مہدی (ع) کے لیے وہ کیا مقام و منزلت تھی جسے دیکھنے کے بعد پانے کی آرزو میں حضرت موسی (ع) نے خدا سے تین مرتبہ درخواست کی۔

حضرت موسی بن عمران کا آپ (ع) کے مقام کو پانے کی آرزو کرنا ایسی حقیقت ہے جس کے لیے کسی اور حدیث و روایت کی ضرورت نہیں، اس لیے کہ حضرت عیسی (ع) جیسے اولو العزم پیغمبر کا آپ (ع) کی اقتدا میں نماز پڑھنا اس مقام کی حسرت و آرزو کے لیے کافی ہے۔ اس کے علاوہ عالم و آدم کی خلقت کا نتیجہ اور آدم سے لے کر خاتم تک تمام انبیاء (ع) کی بعثت کا خلاصہ ان چار نکات میں مضمر ہے:

الف۔ معرفت و عبادت خدا کے نور کا ظہور، جو ساری دنیا کو منور کر دے، وَ اٴَشْرَقَتِ اْلاٴَرْضُ بِنُوْرِ رَبھَا،

اور زمین اپنے رب کے نور سے جگمگا اٹھے گی۔

سورہٴ زمر، آیت 69

ب۔ کائنات کو علم و ایمان سے بھر پور زندگی عطا ہونا جو، اِعْلَمُوْا اٴَنَّ اللّٰہَ یُحْیِ اْلاٴَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا،

یاد رکھو کہ خدازندہ کرتا  ہے زمین کو اس کی موت کے بعد،

سورہٴ حدید، آیت 17

ج۔ باطل کے زوال اور حق کی حکومت کا قائم ہونا جو، وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَھَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقاً، کی تجلّی ہے۔

اور کہہ دیجئے کہ حق آ گیا اور باطل فنا ہو گیا کہ باطل ہر حال فنا ہونے والا ہے۔

سورہٴ اسراء، آیت 81

د۔ تمام انسانوں کا عدل و انصاف کو اپنانا، جو تمام انبیاء و رسل کے ارسال اور کتب کے نزول کی علت غائی ہے، لَقَدْ اٴَرْسَلْنَا بِالبَیِّنَاتِ وَ اٴَنْزَلْنَا مَعَھُمُ الْکِتَابَ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ،

بے شک ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل کے ساتھ بھیجا ہے اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان کو نازل کیا تا کہ لوگ انصاف کے ساتھ قیام کریں۔

سورہٴ حدید، آیت 25

ان تمام آثار کا ظہور قائم آل محمد (ص) کے ہاتھوں ہو گا، یملاٴ اللّٰہ بہ الاٴرض قسطا و عدلا بعد ما ملئت جورا و ظلما،

خدا زمین کو اس کے ذریعہ عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے ظلم و جور سے پر تھی۔

بحارالانوار، ج38، ص 126

البیان فی اخبار صاحب الزمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف، ص 505

صحیح ابن حبان، ج15، ص 238

 مستدرک صحیحین، ج 4، ص 514

۔مسند احمد بن حنبل، ج3، ص 36

 مسند ابی یعلی، ج2، ص274 نمبر 987

اور یہ وہ مقام ہے جس کی حسرت و آرزو آدم سے لے کر عیسی تک تمام انبیاء نے کی ہے۔

سنی اور شیعہ روایات میں آپ (ع) کو خلیفۃاللہ کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے:

یخرج المھدی وعلی راٴسہ غمامة فیھا مناد ینادی: ھذا المھدی خلیفة اللّٰہ فاتبعوہ،

"مہدی اس حال میں خروج کرے گا کہ اس کے سر پر ایک ابر ہو گا جس میں ایک منادی ندا دے گا یہ مہدی ہے جو خدا کا خلیفہ ہے بس اس کی اتباع کرو"۔

بحار الانوار، ج51، ص 81

عنوان خلیفة اللہ، مستدرک صحیحین ، ج۴، ص464 میں ذکر ہوا ہے،

سنن ابن ماجہ، ج2، ص 1367

مسند احمد بن حنبل، ج5، ص 277

نور الابصار،ص 188

عقد الدرر الباب الخامس، ص 125

اللہ جیسے مقدس اسم کی طرف اضافے کا تقاضا یہ ہے کہ آپ (ع) کا وجود تمام اسماء حسنی کی آیت ہے۔

آپ (ع) کے مقام کی عظمت و بلندی آپ کے اصحاب کے مقام و منزلت سے روشن ہوتی ہے، جس کا ایک نمونہ روایات اہل تشیع میں یہ ہے کہ : آپ (ع) کے اصحاب کی مقدار، اہل بدر کی تعداد کے برابر ہے۔

بحار الانوار، ج51، ص 157

اور ان پر تلواریں ہیں کہ ہر تلوار پر ایک کلمہ لکھا ہوا ہے جو ہزار کلمات کی کنجی ہے۔

بحار الانوار، ج 52، ص 286

اور روایات اہل سنت میں بخاری و مسلم کی شرائط کے مطابق ایک صحیح روایت کا کچھ مربوط حصہ، جسے حاکم نیشاپوری نے مستدرک اور ذہبی نے تلخیص میں نقل کیا ہے، یہ ہے:

لا یستوحشون إلی اٴحد ولا یفرحون باٴحد یدخل فیھم علی عدة اٴصحاب بدر لم یسبقھم الاٴولون ولا یدرکھم الآخرون وعلی عدة اٴصحاب طالوت الذین جاوزوا معہ النھر،

ان کو خوف نہیں کہ کسی سے مدد حاصل کریں اور نہ کسی سے خوش ہوتے ہیں کہ ان میں داخل ہو جائیں ان کی تعداد اصحاب بدر کے برابر ہیں نہ ان سے کوئی سبقت لے پایا ہے اور نہ ہوئی ان تک پہنچ سکتا ہے ان کی تعداد طالوت کے اس لشکر کے جتنی ہے جس نے طالوت کے ساتھ نہر کو پار کیا تھا۔

مستدرک صحیحین ، ج4، ص 554

رسول اکرم (ص) اور حضرت مہدی میں خاتمیت کی مشترکہ خصوصیت اس بات کی متقاضی ہے کہ جس طرح نبوت آپ (ص) پر ختم ہوئی اسی طرح امامت حضرت مہدی پر ختم ہو گی، نیز کار دین کا آغاز آنحضرت (ص) کے دست مبارک سے ہوا اور اختتام حضرت مہدی کے ہاتھوں سے ہو گا۔ اسی نکتے کی جانب شیعہ اور سنی روایات میں اشارہ کیا گیا ہے کہ آنحضور (ص) نے فرمایا:

المھدی منا یختم الدین بنا کما فتح بنا،

صواعق محرقہ، ص 163

المعجم الاوسط میں، ج1، ص 56

عقد الدرر الباب السابع، ص 145

بحار الانوار 51، ص93

آپ (ع) میں خاتم کی جسمانی، روحانی اور اسمی تمام خصوصیات جلوہ گر ہیں۔

دو مختلف شخصیات، یعنی خاتم النبین و خاتم الوصیین کا کنیت، اسم، سیرت و صورت کے اعتبار سے ایک ہونا یعنی ابو القاسم محمد پر دین کا افتتاح و اختتام، اہل نظر کے لیے ایسے مافوق ادراک مقام و مرتبے کی حکایت کرتا ہے جو ناقابل بیان ہے۔

اس بارے میں بطور خاص وارد شدہ بعض روایات ملاحظہ ہوں :

الف۔ رسول خدا (ص) سے روایت ہے کہ آپ (ص) نے فرمایا: میری امت میں ایسا فرد ظهور کرے گا کہ اس کا نام میرا نام اور اس کا اخلاق میرا اخلاق ہے، زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح پر کر دے گا جس طرح ظلم و جور سے بھر چکی ہو گی۔

صحیح ابن حبان، ج8، ص291،ح 6786

ب۔ ایک صحیح روایت کے مطابق جسے جعفر بن محمد علیھما السلام نے اپنے آباء و اجداد اور انهوں نے رسول خدا (ص) سے نقل کیا ہے کہ آپ (ص) نے فرمایا: مہدی میری اولاد سے ہے جس کا نام، میرا نام اور اس کی کنیت میری کنیت ہے۔ خَلق و خُلق میں مجھ سے سب سے زیادہ شباہت رکھتا ہے۔ اس کے لیے ایسی غیبت اور حیرت ہے کہ لوگ دین سے گمراہ ہو جائیں گے، پھر اس کے بعد وہ شہاب ثاقب کی مانند ظہور کرے گا اور زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح پر کر دے گا جس طرح ظلم و جور سے بھر چکی ہو گی۔

کمال الدین وتمام النعمة، باب 25، ص 287

ج۔ صحیح نص کے مطابق چھٹے امام جعفر بن محمد علیھما السلام نے اپنے آباء اور انهوں نے رسول خدا (ص) سے نقل کیا ہے کہ آپ (ص) نے فرمایا: جو میری اولاد میں سے قائم کا انکار کرے، یقینا اس نے میرا انکار کیا ہے۔

کمال الدین وتمام النعمة، باب39، ص 412

د۔ شیخ صدوق نے دو واسطوں سے احمد بن اسحاق بن سعد الاشعری سے، جو نہایت ہی بزرگ ثقہ افراد میں سے ہیں، نقل کیا ہے کہ انهوں نے کہا ہے کہ: میں حسن بن علی علیھما السلام کی خدمت میں ان کے بعد ان کے جانشین کے متعلق سوال کرنے کی غرض سے حاضر ہوا۔ اس سے پہلے کہ میں سوال کرتا آپ(ع) نے فرمایا : اے احمد بن اسحاق ! خداوند تبارک و تعالی نے جب سے آدم کو خلق کیا ہے زمین کو اپنی حجت سے خالی نہیں رکھا اور نہ ہی اسے قیامت تک اپنی حجت سے خالی رکھے گا۔ وہ اپنی حجت کے ذریعے اہل زمین سے بلاوٴں کو دور کرتا ہے، اس کے وسیلے سے بارش برساتا ہے اور اس کے وجود کی بدولت زمین سے برکات نکالتا ہے۔

احمد بن اسحاق کہتے ہیں، میں نے پوچھا : یا بن رسول اللہ ! آپ کے بعد امام و خلیفہ کون ہے ؟

حضرت امام حسن عسکری (ع) اٹھے، تیزی سے گھر میں داخل ہوئے اور جب باہر تشریف لائے تو آپ (ع) اپنے شانے پر ایک تین سالہ بچے کو لیے ہوئے تھے جس کا چھرہ چودہویں کے چاند کی طرح دمک رہا تھا، اس کے بعد آپ (ع) نے فرمایا : اے احمد بن اسحاق ! اگر تم خدا اور اس کی حجتوں کے لیے محترم نہ ہوتے تو تمہیں اپنے بیٹے کی زیارت نہ کراتا، یہ پیغمبر خدا (ص) کا ہمنام اور ہم کنیت ہے۔ یہ وہ ہے جو زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح پر کر دے گا جس طرح ظلم و جور سے بھر چکی ہو گی۔

اے احمد بن اسحاق ! اس امت میں اس کی مثال خضر و ذوالقرنین کی ہے۔ خدا کی قسم، اس کی غیبت ایسی ہو گی کہ ہلاکت سے اس کے سوا کوئی نہ بچ سکے گا جسے خدا اس فرزند کی امامت پر ثابت قدم رکھے اور جسے خدا نے دعائے تعجیل فرج کی توفیق عنایت کی ہو۔

پھر احمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اے میرے آقا ! کیا کوئی علامت ہے جس سے میرا دل مطمئن ہو جائے ؟

اس بچے نے فصیح عربی میں کہا :

اٴنا بقیةا للّٰہ فی اٴرضہ والمنتقم من اعدائہ،

میں اس زمین پر بقیة اللہ اور دشمنان خدا سے انتقام لینے والا ہوں۔ اے احمد بن اسحاق! دیکھنے کے بعد طلب اثر نہ کرو۔

احمد بن اسحاق کہتا ہے کہ میں مسرور و خوشحال باہر آیا اور اگلے دن امام (ع) کی خدمت میں جا کر عرض کی: یا بن رسول اللہ ! آپ (ع) نے مجھ پر جو احسان فرمایا اس سے میری خوشی میں بے انتہا اضافہ ہوا ہے۔ اس بچے میں خضر و ذوالقرنین کی صفت کو بھی میرے لیے بیان فرمائیے ؟

امام (ع) نے فرمایا: غیبت کا طولانی ہونا، اے احمد۔

عرض کی : یا بن رسول اللہ ! اس بچے کی غیبت طولانی ہو گی ؟

امام (ع) نے فرمایا : ہاں، خدا کی قسم ایسا ہی ہو گا۔ غیبت اتنی طولانی ہو گی کہ اکثر غیبت کے ماننے والے بھی انکار کرنے لگیں گے اور سوائے ان کے کوئی نہ بچے گا جن سے خداوند متعال ہماری ولایت کا اقرار لے چکا ہے اور جن کے دلوں میں ایمان کو لکھ دیا ہے اور اپنی روح کے ساتھ جن کی تائید فرمائی ہے۔ اے احمد بن اسحاق! یہ امر خدا میں سے ایک امر، رازِ خدا میں سے ایک راز اور غیب خدا میں سے ایک غیب ہے۔

میں نے جو کچھ دیا ہے اسے لے لو، اسے چھپا کر رکھو اور شاکرین میں سے ہو جاوٴ تا کہ قیامت کے دن ہمارے ساتھ علّیین میں سے ہو سکو۔

کمال الدین وتمام النعمة، ص 384

ینابیع المودة،ص 458

سنی اور شیعہ روایت کے مطابق آپ (ع) کا ظہور خانہ کعبہ سے ہو گا۔ آپ (ع) کے دائیں جبرئیل اور بائیں میکائیل ہوں گے۔ چونکہ حضرت جبرئیل (ع) انسان کے حوائج معنوی یعنی افاضہ علوم اور معارف الھیہ کا واسطہ، اور حضرت میکائیل (ع) مادی ضروریات یعنی افاضہٴ ارزاق کا واسطہ ہیں، بنا بر ایں علوم و ارزاق کے خزائن کی کلید آپ (ع) کے اختیار میں ہے۔

عقدالدرر الباب الخامس وفصل اول الباب الرابع،ص 65

الامالی للمفید، ص 45

سنی اور شیعہ روایت میں ظہور کے وقت آپ (ع) کی صورت مبارک کو کوکب درّی سے تشبیہ دی گئی ہے۔

فیض القدیر، ج6، ص 362

کنز العمال، ج14، ص 264

ینابیع المودة، ج2، ص 104، ج3، ص 263

بحار الانوار، ج36، ص217،  222 و ج 51،ص 80

اور، لہ ھیبة موسی و بھاء عیسی و حکم داؤود و صبر ایوب،

بحارالانوار،ج 36، ص 303

امام علی رضا (ع) کی حدیث کے مطابق ایسے لباس میں ملبوس ہوں گے کہ، علیہ جیوب النور تتوقد من شعاع ضیاء القدس،

اس پر نور کے اس طرح لباس ہیں جو قدس کی روشنی سے روشن رہتے ہیں"۔

بحار الانوار، ج51، ص 152

الغیبۃ میں شیخ طوسی اور صاحب عقد الدرر کی روایت کے مطابق آپ (ع) عاشور کے دن ظہور فرمائیں گے۔

الغیبة، ص 452 و 453

عقدالدرر الباب الرابع، فصل اول ، ص 65

امام زمان (علیہ السلام) کی طولانی عمر:

ممکن ہے کہ طول عمر، سادہ لوح افراد کے اذہان میں شبہات ایجاد کرنے کا سبب ہو لیکن یہ جاننا ضروری ہے کہ ایک انسان کی عمر کا ہزاروں سال تک طولانی ہونا، نہ تو عقلی طور پر محال ہے اور نہ ہی عادی اعتبار سے، کیونکہ محال عقلی یہ ہے کہ دو نقیضین کے اجتماع یا ارتفاع کا سبب ہو، مثال کے طور پر جیسا کہ ہم کہیں کہ کوئی بھی چیز یا ہے یا نہیں ہے، یا مثلاً عدد یا جفت ہے یا طاق، کہ ان کا اجتماع یا ارتفاع عقلا محال ہے اور محال عادی یہ ہے کہ عقلی اعتبار سے تو ممکن ہو، لیکن قوانینِ طبیعت کے مخالف ہو مثال کے طور پر انسان آگ میں گر کر بھی نہ جلے۔

انسان کا ہزار ہا سال طول عمر پانا، اور اس کے بدن کے خلیات کا جوان باقی رہنا نہ تو محال عقلی ہے اور نہ محال عادی، لہٰذا اگر حضرت نوح علی نبینا و آلہ وعلیہ السلام کی عمر اگر نو سو پچاس سال یا اس سے زیادہ واقع ہوئی ہے تو اس سے زیادہ بھی ممکن ہے اور سائنسدان اسی لیے بقاء حیات و نشاط جوانی کے راز کی جستجو میں تھے اور ہیں۔ جس طرح علمی قوانین و قواعد کے ذریعے مختلف دھاتوں کے خلیات کی ترکیب میں تبدیلی سے انہیں آفات اور نابود ہونے سے بچایا جا سکتا ہے اور لوہے کو کہ جسے زنگ لگ جاتا ہے اور تیزاب جسے نابود کر دیتا ہے، آفت نا پذیر طلائے ناب بنایا جا سکتا ہے، اسی طرح علمی قوانین و قواعد کے ذریعے ایک انسان کی طولانی عمر بھی عقلی و عملی اعتبار سے ممکن ہے، چاہے ابھی تک اس راز سے پردے نہ اٹھے ہوں۔

اس بحث سے قطع نظر کہ امام زمان(ع) پر اعتقاد، خداوند متعال کی قدرت مطلقہ، انبیاء کی نبوت اور معجزات کے تحقق پر ایمان لانے کے بعد کا مرحلہ ہے، اسی لیے جو قدرت ابراہیم (ع) کے لیے آگ کو سرد اور سالم قرار دے سکتی ہے، جادوگروں کے جادو کو عصائے موسی کے دہن کے ذریعے نابود کر سکتی ہے، مردوں کو عیسی کے ذریعے زندہ کر سکتی ہے اور اصحاب کہف کو صدیوں تک بغیر کھائے پیئے نیند کی حالت میں باقی رکھ سکتی ہے ، اس قدرت کے لیے ایک انسان کو ہزاروں سال تک جوانی کے نشاط کے ساتھ اس حکمت کے تحت سنبھال کر رکھنا نہایت ہی سہل اور آسان ہے کہ زمین پر حجت باقی رہے اور باطل پر حق کے غلبہ پانے کی مشیت نافذ ہو کر رہے،إِنَّمَا اٴَمْرُہ إِذَا اٴَرَادَ شَیْئاً اٴَنْ یَقُوْلَ لَہ کُنْ فَیَکُوْنُ،

اس کا صرف امر یہ ہے کہ کسی شے کے بارے میں یہ کہنے کا ارادہ کر لے کہ ہو جا اور وہ شے ہو جاتی ہے۔

سورہ یس، آیت 82

اس واقعے کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ شہر ری میں شیخ صدوق کی قبر ٹوٹی اور آپ کے تر و تازہ بدن کے نمایاں ہونے سے یہ بات ثابت ہوئی کہ آ پ کے جسم پر قوانین طبیعت کا کوئی اثر نہیں ہوا اور بدن کو فاسد کرنے والے تمام اسباب و عوامل بے کار ہو کر رہ گئے۔ اگر طبیعت کا عمومی قانون امام زمانہ (ع) کی دعا سے پیدا ہونے والے شخص کے بارے میں ٹوٹ سکتا ہے، جس نے آپ (ع) کے عنوان سے "کمال الدین وتمام النعمة " جیسی کتاب لکھی ہے، تو خود اس امام (ع) کے بارے میں قانون کا ٹوٹنا جو نائب خدا اور تمام انبیاء و اوصیاء کا وارث ہے، باعث تعجب نہیں ہونا چاہیے۔

امام زمان (علیہ السلام) کے کچھ معجزات:

شیخ الطائفہ اپنی کتاب "الغیبة" میں فرماتے ہیں کہ: غیبت کے زمانے میں آپ (ع) کی امامت کو ثابت کرنے والے معجزات قابل شمارش نہیں ہیں۔

الغیبة ،شیخ طوسی، ص 281

اگر شیخ طوسی کے زمانے تک، جنهوں نے  460 ہجری میں وفات پائی ہے، معجزات کی تعداد کا اندازہ لگانا مشکل تھا، تو موجودہ زمانے تک معجزات میں کتنا اضافہ ہو چکا ہو گا ؟!

لیکن اس مقدمے میں ہم، دو مشہور روایتیں پیش کرتے ہیں، جن کا خلاصہ علی بن عیسی اربلی،

کشف الغمة، ج2، ص 493

 کہ جو فریقین کے نزدیک ثقہ ہیں، کی روایت کے مطابق یہ ہے کہ: امام مہدی (ع) کے متعلق لوگ ما فوق العادة خبریں اور قصے نقل کرتے ہیں جن کی شرح طولانی ہے۔ میں اپنے زمانے میں واقع ہونے والے دو واقعات، جنہیں میرے دوسرے ثقہ بھائیوں کے ایک گروہ نے بھی نقل کیا ہے، ذکر کرتا ہوں:

1- حلّہ میں فرات اور دجلہ کے درمیان آبادی میں اسماعیل بن حسن نامی شخص رہتا تھا، اس کی بائیں ران پر انسان کی مٹھی کے برابر پھوڑا نکل آیا۔ حلّہ اور بغداد کے اطباء اسے دیکھنے کے بعد لا علاج قرار دے چکے تھے۔ لہٰذا وہ سامرا آ گیا اور دو آئمہ حضرت امام ہادی اور امام عسکری علیھما السلام کی زیارت کرنے کے بعد اس نے سرداب میں جا کر خدا کی بارگاہ میں دعا و گر یہ و زاری کی اور امام زمانہ (ع) کی خدمت میں استغاثہ کیا، اس کے بعد دجلہ کی طرف جا کر غسل کیا اور اپنا لباس پہنا۔ اس نے دیکھا کہ چار گھڑ سوار شہر کے دروازے سے باہر آئے۔ ان میں سے ایک بوڑھا تھا جس کے ہاتھ میں نیزہ تھا، ایک جوان رنگین قبا پہنے ہوئے تھا، وہ بوڑھا راستے کی دائیں جانب اور دوسرے دو جوان راستے کی بائیں جانب اور وہ جوان جس نے رنگین قبا پہن رکھی تھی ان کے درمیان راستے پر تھا۔

رنگین قبا والے نے پوچھا : تم کل اپنے گھر روانہ ہو جاوٴ گے ؟

میں نے کہا: ہاں، اس نے کہا: نزدیک آوٴ ذرا دیکھوں تو تمھیں کیا تکلیف ہے ؟

اسماعیل آگے بڑھا، اس جوان نے اس پھوڑے کو ہاتھ سے دبایا اور دوبارہ زین پر سوار ہو گیا۔ بوڑھے نے کہا: اے اسماعیل ! تم فلاح پا گئے، یہ امام (ع) تھے۔

وہ روانہ ہوئے تو اسماعیل بھی ان کے ساتھ ساتھ چلنے لگا، امام (ع) نے فرمایا: پلٹ جاوٴ۔

اسماعیل نے کہا: آپ سے ہرگز جدا نہیں ہوں گا۔ امام (ع) نے فرمایا: تمہارے پلٹ جانے میں مصلحت ہے۔ اسماعیل نے دوبارہ کہا: آپ سے ہرگز جدا نہیں ہو سکتا۔ بوڑھے نے کہا: اسماعیل ! تمہیں شرم نہیں آتی، دو مرتبہ امام نے فرمایا، پلٹ جاوٴ اور تم مخالفت کرتے ہو ؟

اسماعیل وہیں رک گیا، امام چند قدم آگے جانے کے بعد اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: جب بغداد پہنچو گے، ابو جعفر یعنی خلیفہ مستنصر باللہ، تمہیں طلب کرے گا۔ جب اس کے پاس جاوٴ اور تمہیں کوئی چیز دے، اس سے نہ لینا اور ہمارے فرزند رضا سے کہنا علی بن عوض کو خط لکھیں، میں اس تک پیغام پہنچا دوں گا کہ جو تم چاہو گے تمہیں عطا کر ے گا۔

اس کے بعد اصحاب کے ساتھ روانہ ہو گئے اور نظروں سے اوجھل ہونے تک اسماعیل انہیں دیکھتا رہا۔ غم و حزن اور افسوس کے ساتھ کچھ دیر زمین پر بیٹھ کر ان سے جدائی پر روتا رہا۔ اس کے بعد سامرا آیا تو لوگ اس کے ارد گرد جمع ہو کر پوچھنے لگے کہ تمہارے چہرے کا رنگ متغیر کیوں ہے ؟ اس نے کہا: کیا تم لوگوں نے شہر سے خارج ہونے والے سواروں کو پہچانا کہ وہ کون تھے ؟ انهوں نے جواب دیا: وہ باشرافت افراد ہیں، جو بھیڑوں کے مالک ہیں۔ اسماعیل نے کہا: وہ امام (ع) اور آپ (ع) کے اصحاب تھے اور امام (ع) نے میری بیماری پر دست ِشفا پھیر دیا ہے۔

جب لوگوں نے دیکھا کہ زخم کی جگہ کوئی نشان تک باقی نہیں رہا، اس کے لباس کو بطور تبرک پھاڑ ڈالا۔ یہ خبر خلیفہ تک پہنچی، خلیفہ نے تحقیق کے لیے ایک شخص کو بھیجا۔

اسماعیل نے رات سرداب میں گزاری اور صبح کی نماز کے بعد لوگوں کے ہمراہ سامرا سے باہر آیا، لوگوں سے خدا حافظی کے بعد وہ چل دیا، جب قنطرہ عتیقہ پہنچا تو اس نے دیکھا کہ لوگوں کا ہجوم جمع ہے اور ہر آنے والے سے اس کا نام و نسب پوچھ رہے ہیں۔ نشانیوں کی وجہ سے اسے پہچاننے کے بعد لوگ بعنوان تبرک اس کا لباس پھاڑ کر لے گئے۔

تحقیق پر مامور شخص نے خلیفہ کو تمام واقعہ لکھا۔ اس خبر کی تصدیق کے لیے وزیر نے اسماعیل کے رضی الدین نامی ایک دوست کو طلب کیا۔ جب دوست نے اسماعیل کے پاس پہنچ کر دیکھا کہ اس کی ران پر پھوڑے کا اثر تک باقی نہیں ہے، وہ بے ہوش ہو گیا اور ہوش میں آنے کے بعد اسماعیل کو وزیر کو پاس لے گیا، وزیر نے اس کے معالج اطباء کو بلوایا اور جب انهوں نے بھی معائنہ کیا اور پھوڑے کا اثر تک نہ پایا تو کہنے لگے : یہ حضرت مسیح کا کام ہے، وزیر نے کہا : ہم جانتے ہیں کہ کس کا کام ہے۔

وزیر اسے خلیفہ کے پاس لے گیا، خلیفہ نے اس سے حقیقت حال کے متعلق پوچھا، جب واقعہ بیان کیا تو اسے ہزار دینار دئیے، اسماعیل نے کہا: میں ان سے ایک ذرے کو لینے کی جراٴت نہیں کر سکتا۔ خلیفہ نے پوچھا: کس کا ڈر ہے ؟ اس نے کہا: اس کا جس نے مجھے شفا دی ہے، اس نے مجھ سے کہا ہے کہ ابو جعفر سے کچھ نہ لینا۔ یہ سن کر خلیفہ رونے لگا۔

علی بن عیسی کہتے ہیں: میں یہ واقعہ کچھ لوگوں کے لیے نقل کر رہا تھا، اسماعیل کا فرزند شمس الدین بھی اس محفل میں موجود تھا جسے میں نہیں پہچانتا تھا، اس نے کہا: میں اس کا بیٹا ہوں۔ میں نے اس سے پوچھا : کیا تم نے اپنے والد کی ران دیکھی تھی جب اس پر پھوڑا تھا ؟ اس نے کہا: میں اس وقت چھوٹا تھا لیکن اس واقعے کو اپنے والدین، رشتہ داروں اور ہمسایوں سے سنا ہے اور جب میں نے اپنے والد کی ران کو دیکھا تو زخم کی جگہ بال بھی آ چکے تھے۔

اور علی بن عیسی کہتے ہیں : اسماعیل کے بیٹے نے بتایا کہ صحت یابی کے بعد میرے والد چالیس مرتبہ سامرا گئے کہ شاید دوبارہ ان کی زیارت کر سکیں۔

2- علی بن عیسی کہتے ہیں: میرے لیے سید باقی بن عطوہ علوی حسنی نے حکایت بیان کی کہ ان کے والد عطوہ امام مہدی (ع) کے وجود مبارک پر ایمان نہ رکھتے تھے اور کہا کرتے تھے : اگر آئے اور مجھے بیماری سے شفا دے تو تصدیق کروں گا، اور مسلسل یہ بات کہا کرتے تھے۔

ایک مرتبہ نماز عشاء کے وقت سب گھر والے جمع تھے کہ والد کے چیخنے کی آواز سنی، تیزی سے ان کے پاس گئے۔ انهوں نے کہا: امام(ع) کی خدمت میں پہنچو کہ ابھی ابھی میرے پاس سے باہر گئے ہیں۔

باہر آئے تو ہمیں کوئی نظر نہیں آیا، دوبارہ والد کے پاس پلٹ کر آئے تو انهوں نے کہا: ایک شخص میرے پاس آیا اور کہا: اے عطوہ، میں نے کہا: لبیک، اس نے کہا : میں ہوں مہدی، تمہیں اس بیماری سے شفا دینے آیا ہوں اس کے بعد اپنا دست مبارک بڑھا کر میری ران کو دبایا اور واپس چلے گئے۔ اس واقعہ کے بعد عطوہ ہرن کی طرح تیز تیز چلتے تھے ۔

زمانہ غیبت میں امام زمان (علیہ السلام) سے بھرہ مند ہونے کا طریقہ:

اگرچہ امام زمانہ (ع) ہماری نظروں سے غائب ہیں اور اس غیبت کی وجہ سے امت اسلامی آپ (ع) کے وجود کی ان برکات سے محروم ہے جو آپ (ع) کے ظہور پر متوقف ہیں، لیکن بعض فیوضات ظہور سے وابستہ نہیں ہیں۔

آپ (ع) کی مثال آفتاب کی سی ہے، کہ غیبت کے بادل پاکیزہ دلوں میں آپ (ع) کے وجود کی تاثیر میں رکاوٹ نہیں بن سکتے، اسی طرح جیسے سورج کی شعاوٴں سے اعماق زمین میں موجود نفیس جواہر پروان چڑہتے ہیں اور سنگ و خاک کے ضخیم پردے اس گوہر کو آفتاب سے استفادہ کرنے سے نہیں روک سکتے۔

جیسا کہ خداوند متعال کے الطاف خاصّہ سے بھرہ مند ہونا دو طریقوں سے میسر ہے:

اول۔ جہاد فی اللہ کے ذریعے، یعنی خدا کے نور عنایت کے انعکاس میں رکاوٹ بننے والی کدورتوں سے نفس کو پاک کرنے سے۔

دوم۔ اضطرار کے ذریعے جو فطرت اور مبدء فیض کے درمیان موجود پردوں کو ہٹاتا ہے، اٴَمَّنْ یجِیْبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاہُ وَ یَکْشِفُ السُّوْءَ،

بھلا وہ کون ہے جو مضطر کی فریاد کو سنتا ہے جب وہ اس کو آواز دیتا ہے اور اس کی مصیبت کو دور کر دیتا ہے۔

سورہٴ نمل، آیت 62

اسی طرح فیض الٰہی کے وسیلے سے استفادہ کرنا جو اسم اعظم و مَثَلِ اعلیٰ ہے، دو طریقوں سے ممکن ہے :

اول۔ فکری، اخلاقی اور عملی تزکیہ کہ:

اٴما تعلم اٴن اٴمرنا ھذا لاینال إلا بالورع،

کیا تم نہیں جانتے کہ ہمارے امر تک نائل نہیں ہو سکتے مگر تقوی کے ذریعہ۔

بحار الانوار، ج 47، ص 71

دوم۔ اضطرار اور اسباب مادی سے قطع تعلق کے ذریعے کہ اس طریقے سے بہت سے افراد جن کے لیے کوئی چارہ کار نہ بچا تھا اور جو بالکل بے دست و پا ہو کر رہ گئے تھے، امام (ع) سے استغاثہ کرنے کے بعد نتیجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

آخر میں ہم ساحت مقدس امام زمانہ (ع) کے حضور میں اپنے قصور و تقصیر کا اعتراف کرتے ہیں۔ آپ (ع) وہ ہیں جس کے وسیلے سے خدا نے اپنے نور اور آپ (ع) ہی کے وجود مبارک سے اپنے کلمے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے، کمال دین امامت سے ہے اور کمال امامت آپ (ع) سے ہے اور آپ (ع) کی ولادت کی شب یہ دعا وارد ہوئی ہے:

 اللّٰھم بحق لیلتنا ھذہ ومولودھا وحجتک وموعودھا التی قرنت إلی فضلھا فضلک، فتمّت کلمتک صدقاً و عدلاً، لا مبدّل لکلماتک و لا معقّب لآیاتک، و نورک المتعلق و ضیائک المشرق و العلم النور فی طخیاء الدیجور الغائب المستور جلّ مولدہ و کرم محتدہ، و الملائکة شَہَّدَہ واللّٰہ ناصرہ و موٴیّدہ إذا آن میعادہ، والملائکة امدادہ، سیف اللّٰہ الذی لا ینبو، و نورہ الذی لا یخبو، و ذو الحلم الذی لا یصبو...

مصباح متہجد، ص 842

امام مہدی (عج) کی ولادت شیعہ روایات کی روشنی میں:

حضرت حکیمہ خاتون سے روایت:

حضرت حکیمہ خاتون جو کہ امام جواد علیہ السلام کی بیٹی اور امام حسن عسکری علیہ السلام کی پھوپھی ہیں بیان کرتی ہیں کہ ابو محمد حسن بن علی علیہ السلام نے ایک خادم کے ذریعے مجھے پیغام بھجوا کر مجھے اپنے پاس بلایا اور فرمایا: اے پھوپھی جان آج افطار ہمارے پاس کریں کیونکہ آج پندرہ شعبان کی رات ہے اور آج کی رات خداوند متعال اپنی حجت کو زمین پر بھیجے گا حکیمہ خاتون کہتی ہیں کہ میں نے پوچھا کہ کس ماں سے متولد ہوں گے ؟ فرمایا: نرجس خاتون میں نے کہا کہ میری جان آپ پر فدا میں اس میں حمل کے آثار نہیں دیکھ رہی، فرمایا : جو کچھ بیان کیا ہے وہی انجام پائے گا۔

اس وجہ سے میں نرجس کے پاس داخل ہوئی اور سلام کیا نرجس خاتون نے میرے پاس آئیں تا کہ میرے جوتے اتاریں مجھ سے کہا : اے میری سیدہ آپ کا کیا حال ہے ؟ میں نے جواب دیا نہیں بلکہ آپ میری اور میرے خاندان کی سردار ہیں، لیکن انہوں نے میری بات کا انکار کیا اور جواب دیا اے پھوپھی جان آپ یہ کیا کہہ رہی ہیں میں نے کہا : اے میری بیٹی آج کی شب خداوند متعال تجھے ایسا فرزند عنایت کرے گا کہ جو دونوں جہاں کا مالک ہو گا ؟ یہ سن کر نرجس نے شرم سے سر جھکا لیا۔

 تاریخ عصر غیبت ،ص 30

اس کے بعد میں نماز عشا بجا لائی اور اپنے بستر پر چلی گئی جیسے ہی آدھی رات ہوئی میں نماز شب پڑہنے کے لیے بیدار ہوئی اور تعقیبات پڑہنے کے بعد سو گئی اور تھوڑی دیر بعد دوبارہ بیدار ہوئی اسی اثنا میں نرجس بھی نماز تہجد کے لیے بیدار ہوئی اور نماز تہجد بجا لائی پھر میں اپنے حجرے سے باہر آئی تا کہ طلوع فجر کے بارے مطلع ہو سکوں میں نے دیکھا کہ فجر اول کا وقت ہو چکا ہے،

اسی وقت میرے ذہن میں یہ سوال اٹھا کہ کیوں ابھی تک حجت کے متولد ہونے کا کوئی اثر ظاہر نہیں ہو رہا قریب تھا کہ میرے دل میں شک ایجاد ہوتا کہ اچانک امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنے حجرے سے مجھے آواز دی !

اے پھوپھی جان جلدی نہ کریں کہ موعود کی ولادت کا وقت قریب ہے میں سورہ الم سجدہ اور یسیں : ( اور دوسری روایات کے مطابق سورہ قدر) پڑھنے میں مشغول ہوئی اچانک نرجس خاتون مضطرب حالت میں بیدار ہوئی میں جلدی سے اس کے پاس گئی اور پوچھا ، کیا کسی چیز کا احساس کر رہی ہو ؟

نرجس نے جواب دیا، ہاں،

میں نے اس سے کہا کہ خدا کا نام اپنی زبان پر جاری کرو یہ وہی موضوع ہے جس کا پہلے میں نے ذکر کیا پریشان نہ ہو اور اپنے دل کو مطمئن رکھو۔ اسی اثنا میں نور کا پردہ میرے اور اس کے درمیان حائل ہو گیا ( یا دوسری روایت کے مطابق کہ میری آنکھوں پر نیند کا ایسا غلبہ ہوا کہ میری تھوڑی دیر کے لیے آنکھ لگ گئی جب بیدار ہوئی ) تو دیکھا کہ نرجس کی آغوش میں نو مولود ہے در حالیکہ سر اقدس سجدہ میں ہے اور خدا کے ذکر میں مشغول ہے جب مولود کو آغوش میں لیا تو میں نے دیکھا کہ کاملا پاک و پاکیزہ ہے اسی اثنا میں امام حسن عسکری علیہ السلام نے مجھے اپنے پاس بلایا اور کہا اے پھوپھی جان میرے فرزند کو میرے پاس لے کر آئیں جب نوزاد کو امام کی خدمت میں لے گئی تو امام نے انہیں اپنی آغوش لیا اور داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی اور فرمایا اے میرے فرزند کچھ بولو !

پس بچے نے اپنی زبان مبارک سے کلمہ شہادتین جاری کیا،

اشہد ان لاالہ الااللہ وحدہ لاشریک لہ و ان جدی رسول اللہ و ان ابی امیر المؤمنین،

اسی طرح سارے معصومین (ع) کی امامت کی گواہی دی۔

بحارالانوار، ج 51،ص 13

جب ساتویں دن جب میں امام کے گھر گئی تو امام نے اپنے بیٹے کو طلب کیا اور اپنے بیٹے کو اٹھا کر فرمایا : اے میرے بیٹے مجھ سے بات کرو تو اس نو مولود نے اس آیت کی تلاوت کی:

،و نرید ان نمن علی الذین استضعفوا فی الارض و نجعلھم آئمۃ و نجعلھم الوارثین،

ترجمہ : ہم یہ چاہتے ہیں کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور بنا دیا گیا ہے ان پر احسان کریں اور انہیں لوگوں کا پیشوا بنائیں اور زمین کا وارث قرار دیں ۔

سورہ قصص، آیت نمبر 5

دوسری روایت : چالیس افراد کا امام کی زیارت سے شرفیاب ہونا:

ایک دن شیعوں میں سے چالیس افراد امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تقاضا کیا کہ امام مہدی (عج) کی زیارت کروائیں تو امام حجرے کے اندر گئے اور ایک بچے کو باہر لے کر آئے کہ جو چاند کے مانند درخشان اور اپنے والد کی مکمل شبیہ تھے۔ امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا : کہ میرے بعد یہ میرا بیٹا آپ لوگوں کے درمیان میرا جانشین ہے، اس کی اطاعت کرو اور اس سے پراکندہ نہ ہونا ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے اور آپ لوگوں کا دین تباہ ہو جائے گا یہ بھی جان لو کہ آپ لوگ اسے نہ دیکھو گے یہاں تک کہ ایک طولانی مدت گذر جائے لہذا اس زمانے میں ان کے نائب عثمان بن سعید کی اطاعت کرنا۔

 خورشید مغرب ص 23

نوبختی، جو کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کے جلیل القدر اصحاب میں سے ہے اور شیعوں کے بزرگ مفکر اور دانشور تھے کہ جنہوں نے بہت سے شاگردوں کی تربیت بھی کی یہ وہی شخص ہے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کی زندگی کے آخری ایام میں ان کی عیادت کو گئے اور وہاں پر امام مہدی (عج) کی زیارت کی۔

خورشید مغرب ،ص 23

علماء کے اقوال :

مرحوم کلینی لکھتے ہیں کہ:

ولد للنصف من شعبان سنۃ خمس و خمسین و مائتین ،

مہدی موعود  255 ہجری کو پیدا ہوئے۔

مسعودی ، شیخ صدوق ، شیخ مفید ، سید مرتضی اور شیخ طوسی نے بھی اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے۔

علامہ طباطبائی لکھتے ہیں کہ : حضرت امام مہدی (عج) کہ جو گیارہویں امام کے فرزند ہیں اور آپ ہمنام پیغمبر ہیں  256 یا 255 ہجری کو شہر سامرا میں پیدا ہوئے۔

امام مہدی (عج) کی ولادت اور اہل سنت:

بعض علماء اہل سنت نے بھی اپنی کتابوں میں امام مہدی (عج) کی ولادت کا ذکر کیا ہے جیسے :

ابن خلکان  ( متوفی 681 ہجری) لکھتا ہے کہ:

ابو القاسم محمد بن حسن العسکری بن علی بن ہادی بن محمد جواد، مذکورہ بالا شیعوں کے بارہ اماموں میں سے بارہویں امام ہیں، کہ ان کا مشہور لقب حجت ہے۔ ان کی ولادت جمعہ کے دن 15 شعبان کو ہوئی ہے۔

شبراوی شافعی (متوفی 1171 ہجری) نے کہا ہے کہ:

اس نے 15 شعبان کو امام مہدی (عج) کی ولادت کی تصریح کی ہے۔

علی بن حسین مسعودی لکھتا ہے: امام حسن عسکری علیہ السلام مدینہ میں ربیع الثانی کے مہینہ میں 232 ہجری میں پیدا ہوئے اور جمعہ کے دن 8 ربیع الاول میں شہید کر دئیے گئے ان کی عمر مبارک اس وقت 29 سال تھی وہ سامرا میں اپنے گھر میں دفن کیے گئے اور اور اپنے بیٹے کو جانشین کے عنوان سے متعارف کرایا یعنی امام منتظر کا، خدا کا ان پر درود و سلام ہو۔

سبط ابن جوزی حنبلی (متوفی 254 ہجری) نے بھی لکھا ہے کہ:

وہ محمد بن حسن بن علی بن محمد بن علی بن موسی بن جعفر بن محمد بن علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب علیھم السلام ہیں۔ ان کی کنیت ابو عبد اللہ اور ابو القاسم ہے، وہی خلف ،حجت اور صاحب الزمان (عج) ، قائم اور منتظر ہیں۔

اور بھی بہت سے اہل سنت کے علماء نے امام زمان (عج) کی ولادت کا ذکر کیا ہے۔

غیبت صغری میں امام زمان (عج) سے ملاقات کرنے والے:

شیعوں کی کتابوں میں ایسی بہت سی روایتیں نقل ہوئی ہیں کہ جو امام سے غیبت صغری میں ملاقات کو بتاتی ہیں۔ عبد اللہ بن جعفر حمیری ،محمد بن عثمان سے سوال کرتے ہیں کہ کیا صاحب الامر (عج) کو دیکھا ہے انہوں نے جواب دیا ہاں اور آخری بار بیت اللہ میں ان کی زیارت کی۔

بررسی تطبیقی مہدویت ،ص 220

وہ چند افراد نے جنہوں نے امام کی زیارت کا شرف حاصل کیا ہے:

ابراہیم بن ادریس، اصول کافی ،ج 1 ص 331

محمد بن عثمان، الغیبہ ،شیخ طوسی

ابراہیم بن محمد تبریزی، الغیبہ ،شیخ طوسی ،ص 226

احمد بن اسحاق بن سعد اشعری، کمال الدین وتمام النعمہ ،شیخ صدوق ، ج 2،ص 384

ابراہیم بن عبدہ نیشا پوری، اصول کافی ،ج 1ص 331

      

امام زمان (علیہ السلام) کے انتظار کی خصوصیات:

انتظار انسانی فطرت میں شامل ہے اور ہر قوم و ملت اور ہر دین و مذہب میں انتظار کا تصور پایا جاتا ہے، لیکن انسان کی ذاتی اور اجتماعی زندگی میں پایا جانے والا عام انتظار اگرچہ عظیم اور با اہمیت ہو لیکن امام مہدی علیہ السلام کے انتظار کے مقابلے میں چھوٹا اور ناچیز ہے کیونکہ آپ کے ظہور کا انتظار درج ذیل خاص امتیازات رکھتا ہے:

امام زمان علیہ السلام کے ظہور کا انتظار ایک ایسا انتظار ہے، جو کائنات کی ابتداء سے موجود تھا یعنی بہت قدیم زمانہ میں انبیاء علیھم السلام اور اولیائے کرام آپ کے ظہور کی بشارت دیتے تھے اور ہمارے تمام آئمہ (علیھم السلام) قریبی زمانہ میں آپ کی حکومت کے زمانہ کی آرزو رکھتے تھے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

اگر میں ان (امام مھدی علیہ السلام) کے زمانہ میں ہوتا تو تمام عمر ان کی خدمت کرتا۔

غیبت نعمانی، باب 13، ح 46، ص 252

امام مہدی علیہ السلام کا انتظار ایک عالمی اصلاح کرنے والے کا انتظار ہے، عالمی عادل حکومت کا انتظار ہے اور تمام ہی اچھائیوں کے ظاہر ہونے کا انتظار ہے، چنانچہ اسی انتظار میں عالم بشریت آنکھیں بچھائے ہوئے ہے اور پاک و پاکیزہ قدرتی فطرت کی بنیاد پر اس کی تمنا کرتا ہے اور کسی بھی زمانہ میں مکمل طور پر اس تک نہیں پہنچ سکا ہے، و حضرت امام مہدی علیہ السلام اسی شخصیت کا نام ہے، جو عدالت اور معنویت، برادری اور برابری، زمین کی آبادی ، صلح و صفا ، عقل کی شکوفائی اور انسانی علوم کی ترقی کو تحفہ میں لائیں گے، اور استعمار و غلامی ، ظلم و ستم اور تمام برائیوں کا خاتمہ کرنا آپ کی حکومت کا ثمرہ ہو گا۔

امام مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کا انتظار ایسا انتظار ہے جس کے شکوفائی کا راستہ فراہم ہونے سے خود انتظار بھی شگوفہ ہو جائے گا، اور وہ ایسا زمانہ ہو گا کہ جب تمام انسان آخر الزمان میں اصلاح کرنے والے اور نجات بخشنے والے کی تلاش میں ہوں گے، وہ آئیں گے تا کہ اپنے ناصر و مددگاروں کے ساتھ برائیوں کے خلاف قیام کریں گے، نہ یہ کہ صرف اپنے معجزہ سے پوری کائنات کے نظام کو بدل دیں گے۔

امام مہدی علیہ السلام کا انتظار ان کے منتظرین میں ان کی نصرت و مدد کا شوق پیدا کرتا ہے اور انسان کو حیثیت اور حیات عطا کرتا ہے، نیز اس کو بے مقصد سرگرمی اور گمراہی سے نجات دیتا ہے۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:

لوگوں پر ایک زمانہ وہ آئے گا کہ جب ان کا امام غائب ہو گا، خوش نصیب ہے وہ شخص جو اس زمانہ میں ہمارے امر (یعنی ولایت) پر ثابت قدم رہے۔

کمال الدین، ج 1، ح  15، ص 602

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:

جو شخص امام قائم علیہ السلام کے ناصر و مددگار میں شامل ہونا چاہتا ہے اسے انتظار کرنا چاہیے اور انتظار کی حالت میں تقوی و پرہیزگاری کا راستہ اپنانا چاہیے اور نیک اخلاق سے مزین ہونا چاہیے۔

غیبت نعمانی، باب 1، ح 16، ص 200

اس "انتظار" کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ انسان کو اپنی ذات سے بلند کرتا ہے اور اس کو معاشرے کے ہر شخص سے جوڑ دیتا ہے، یعنی انتظار نہ صرف انسان کی ذاتی زندگی میں موٴثر ہوتا ہے بلکہ معاشرے میں انسان کے لیے مخصوص منصوبہ بھی پیش کرتا ہے اور معاشرے میں مثبت قدم اٹھانے کی رغبت بھی دلاتا ہے، اور چونکہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت اجتماعی حیثیت رکھتی ہے، لہذا ہر انسان اپنے لحاظ سے معاشرے کی اصلاح کے لیے کوشش کرے اور معاشرہ میں پھیلی برائیوں کے سامنے خاموش اور بے توجہ نہ رہے، کیونکہ عالمی اصلاح کرنے والے کے منتظر کو فکر و عمل کے لحاظ سے اصلاح اور خیر کے راستہ کو اپنانا چاہیے۔

مختصر یہ کہ "انتظار" ایک ایسا مبارک چشمہ ہے جس کا آب حیات انسان اور معاشرے کی رگوں میں جاری ہے، اور زندگی کے تمام پہلوؤں میں انسان کو الہی رنگ اور حیات عطا کرتا ہے، اور خدائی رنگ سے بہتر اور ہمیشگی رنگ اور کونسا ہو سکتا ہے ؟!

قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:

صِبْغَةَ اللهِ وَمَنْ اٴَحْسَنُ مِنْ اللهِ صِبْغَةً وَنَحْنُ لَہُ عَابِدُونَ،

رنگ تو صرف اللہ کا رنگ ہے اور اس سے بہتر کس کا رنگ ہو سکتا ہے اور ہم سب اسی کے عبادت گزار ہیں۔

سورہ بقرہ، آیت 138

مذکورہ مطالب کے پیش نظر "مصلح کل" حضرت امام زمانہ علیہ السلام کے منتظرین کی ذمّہ داری "الٰھی رنگ اپنانے" کے علاوہ کچھ نہیں ہے، جو انتظار کی برکت سے انسان کی ذاتی اور اجتماعی زندگی کے مختلف پہلوؤں میں جلوہ گر ہوتا ہے، جس کے پیش نظر ہماری وہ ذمّہ داریاں ہمارے لیے مشکل نہیں ہوں گی، بلکہ ایک خوشگوار واقعہ کے عنوان سے ہماری زندگی کے ہر پہلو میں ایک بہترین معنی و مفہوم عطا کرے  گی۔ واقعاً اگر ملک کا مہربان حاکم اور محبوب امیر قافلہ ہمیں ایک شائستہ سپاہی کے لحاظ سے ایمان کے خیمہ میں بلائے اور حق و حقیقت کے مورچہ پر ہمارے آنے کا انتظار کرے تو پھر ہمیں کیسا لگے گا ؟ کیا پھر ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو نبہانے میں کوئی پریشانی ہو گی کہ یہ کام کرو اور ایسا بنو، یا ہم خود چونکہ انتظار کے راستہ کو پہچان کر اپنے منتخب مقصد کی طرف قدم بڑہاتے ہوئے نظر آئیں گے ؟!

صحاح ميں امام زمان (عج) سے متعلق احاديث:

المہديہ فى الاسلام كے مؤلف نے تحرير كيا ہے : محمد بن اسماعيل بخارى اور مسلم بن حجاج نيشاپورى نے اپنى صحاح ميں مہدى سے متعلق احاديث درج نہيں كى ہيں جبكہ صحاح ميں معتبر ترين ، نہايت احتياط و تحقيق كے ساتھ ان ميں احاديث جمع كى گئی ہيں ، ہاں سنن ابى داؤد ، ابن ماجہ ، ترمذى ، نسائی اور مسند احمد ميں ايسى احاديث جن كے منقولات ميں زيادہ احتياط سے كام نہيں ليا گيا ہے _ چنانچہ منجملہ دوسرے علماء كے ابن خلدون نے ان احاديث كو ضعيف قرار ديا ہے۔

 كتاب المہديہ فى الاسلام ص 69

ابن خلدون اپنے مقدمہ لكھتا ہے کہ:

سارے مسلمانوں كے درميان يہ بات مشہور تھى اور ہے كہ آخرى زمانے ميں پيغمبر اسلام كے اہل بيت ميں سے ايک شخص ظہور كرے گا ، دين كى حمايت كرے گا اور عدل و انصاف كو فروغ ديگا اور سارے اسلامى ممالک اس كے تسلّط میں آ جائيں گے۔ ان مسلمانوں كے پاس دلیل وہ احاديث ہيں جو كہ علماء كى ايک جماعت ، جيسے ترمذى ، ابو داؤد ، ابن ماجہ ، حاكم ، طبرانى اور ابو يعلى موصلى كى كتابوں ميں موجود ہيں۔ ليكن مہدى (عج) كے منكروں نے ان احاديث كے صحيح ہونے ميں شک كا اظہار كيا ہے، پس ہميں مہدى سے متعلق احاديث اور ان سے متعلق منكرين كے اعتراضات و طعن كو بيان كرنا چاہیے تا كہ حقيقت روشن ہو جائے۔ ليكن اس بات كو ملحوظ ركھنا چاہیے كہ ، اگر ان احاديث كے راويوں كے بارے ميں كوئی جرح و قدح ہو تو اصل حديث ہى غير معتبر ہو جاتى ليكن ان كے راويوں كے بارے ميں عدالت و وثاقت بھى وارد ہوئی ہے، تو مشہور ہے كہ ان كا ضعيف ہونا اور ان كى بدگوئی عدالت پر مقدم ہے۔ اگر كوئی شخص ہمارے اوپر يہ اعتراض كرے كہ يہى عيب بعض ان لوگوں كے بارے ميں بھى سامنے آتا ہے جن سے بخارى و مسلم ميں روايات لى گئی ہيں وہ طعن و تضعيف سے سالم نہ رہ سكيں گے، تو ان كے لیے ہمارا جواب يہ ہے كہ ان دو كتابوں كى احاديث پر عمل كرنے كے سلسلے ميں علماء كا اجماع ہے اور يہ مقبوليت ان كے ضعف كا جبران كرتى ہے، ليكن دوسرى كتابيں ان كے پايہ كى نہيں ہيں۔

 مقدمہ ابن خلدون ص 311

يہ تھا ابن خلدون كى عبارت كا خلاصہ ، اس كے بعد انہوں نے احاديث كے راويوں كى توثيق و تضعيف کے بارے میں بحث كى ہے۔

تواتر احاديث:

اول تو اہل سنّت كے بہت سے علماء نے ، مہدى (عج) سے متعلق احاديث كو متواتر جانا ہے، يا ان كے تواتر كو دوسروں سے نقل كيا ہے اور ان پر اعتراض نہيں كيا ہے ، مثلاً : ابن حجر ہيثمى نے صواعق محرقہ ميں، شبلنجى نے نور الابصار ميں، ابن صباغ مالكى نے فصول المہمہ ميں، محمد الصبان نے اسعاف الراغبين ميں، گنجى شافعى نے البيان ميں، شيخ منصور على نے غاية المامول ميں، سويدى نے سبائك الذہب ميں، اور دوسرے علماء نے اپنى كتابوں ميں ان احاديث كو متواتر قرار ديا ہے اور يہى تواتر ان كى سند كے ضعف كا جبران كرتا ہے۔

 ابن حجر عسقلانى نے لکھا ہے کہ: خبر متواتر سے يقين حاصل ہو جاتا ہے اور اس پر عمل كرنے كے سلسلے ميں كسى بحث كى ضرورت نہيں رہتى ہے۔

نزہتہ النظر، احمد بن حجر عسقلانى، ص 12

شافعى فرقہ كے مفتى سيد احمد شيخ الاسلام لكھتا ہے كہ: جو احاديث مہدى كے بارے ميں وارد ہوئی ہيں ، ان كى تعداد بہت زيادہ ہے اور وہ معتبر ہيں ، ان ميں سے بعض احاديث صحيح ، بعض حسن اور كچھ ضعيف ہيں ، اگرچہ ان ميں اكثر ضعيف ہيں ليكن چونكہ بہت زيادہ ہيں اور ان كے راوى اور لكھنے والے بھى زيادہ ہيں اس لیے بعض احاديث بعض كى تقويت كرتى ہيں اور انھيں مفيد يقين بنا ديتى ہيں۔

فتوحات الاسلاميہ طبع مكہ ج 2 ص 250

مختصر يہ كہ عظيم صحابہ كى ايک جماعت ، عبد الرحمن بن عوف، ابو سعيد خدرى ، قيس بن صابر ، ابن عباس ، جابر ، ابن مسعود ، على بن ابى طالب (ع) ، ابو ہريرہ ، ثوبان ، سلمان فارسى ، ابو امامہ ، حذيفہ ، انس بن مالک اور ام سلمہ اور دوسرے گروہ نے بھى مہدی (ع) سے متعلق احاديث كو نقل كيا ہے اور ان حديثوں كو علماء اہل سنّت نے اپنی اپنی کتب میں ذکر کیا ہے۔

مثلاً ، ابو داؤد احمد بن حنبل ، ترمذى ، ابن ماجہ ، حاكم نسائی ، روبانى ، ابو نعيم ، جكرانى ، اصفہانى ، ديلمی، بيہقى ، ثعلبى ، حموينى ، منادى ، ابن مغازلى ، ابن جوزى ، محمد الصبان مارودى ، گنجى شافعى ، سمعانى ،خوارزمى ، شعرانى ،دار قطنى ، ابن صباغ مالكى ، شبلنجى ، محب الدين طبرى ، ابن حجر ہيثمى ، شيخ منصور على ناصف ، محمد بن طلحہ ، جلال الدين سيوطى ، سليمان حنفى ، قرطبى ، بغوى اور دوسرے علماء نے اپنى اپنى كتابوں ميں لكھا ہے۔

يہ تھے اہل سنّت كے ان علماء كے نام جنہوں نے مہدى (ع) سے متعلق احاديث كو اپنى كتابوں ميں لكھا ہے اور ان كى كتابيں رائج تھيں ليكن ان سب كى كتابيں دست رس ميں نہيں تھيں ، لہذا دوسرى كتابوں سے نقل كيا ہے۔ مہدى خراسانى نے كتاب البيان پر بہترين مقدمہ لكھا ہے اس ميں علمائے اہل سنّت كے 72 نام لكھے ہيں۔

دوسرے جن افراد كو ضعيف قرار ديا گيا ہے اور ابن خلدون نے ان كے نام تحرير كیے ہيں۔ ان كے بارے ميں بعض توثيقات بھى وارد ہوئی ہيں كہ جن سے بعض كو خود ابن خلدون نے نقل كيا ہے اور پھر يہ بات صحيح نہيں ہے كہ ہر جگہ بطور مطلق تضعيف كو تعديل پر مقدم كيا جائے ، ممكن ہے ضعيف قرار دينے والے كے نزديک كوئی مخصوص صفت ضعف كا سبب ہو ليكن دوسرے اس صفت كو ضعف كا سبب نہ سمجھتے ہوں۔ پس كسى راوى كو ضعيف قرار دينے والے كا قول اس وقت معتبر ہو گا جب اس كے ضعف كى وجہ بيان كرے۔

عسقلانى اپنى كتاب ، لسان الميزان ميں لكھتا ہے کہ: تضعيف تعديل پر اسى صورت ميں مقدم ہو سكتى ہے كہ جب اس كے ضعف كى علت معين ہو، اس كے علاوہ ضعيف قرار دينے والے كے قول كا كوئی اعتبار نہيں ہو گا۔

ابو بكر احمد بن على بن ثابت بغدادى نے لکھا ہے كہ: جن احاديث سے بخارى ، مسلم اور ابو داؤد نے تمسک كيا ہے، حالانکہ ان ميں سے بعض راويوں كو ضعيف اور مطعون قرار ديا گيا ہے ان كے بارے ميں يہ كہنا چاہیے كہ ان حضرات كے نزديک ان راويوں كا ضعيف و مطعون ہونا ثابت نہيں تھا۔

 لسان الميزان، ابن حجر عسقلانى ج 1 ص 25

خطيب نے لکھا ہے كہ: اگر تضعيف و تعديل دونوں برابر ہوں تو تضعيف مقدم ہے، ليكن اگر تضعيف تعديل سے كم ہو تو اس سلسلے ميں كئی قول ہيں۔ بہترين قول يہ ہے كہ تفصيل كے ساتھ يہ كہا جائے كہ اگر ضعف كا سبب بيان ہوا ہے تو ہمارى نظر ميں مؤثر ہے اور تعديل پر مقدم ہے، ليكن سبب بيان نہ ہونے كى صورت ميں تعديل مقدم ہے۔

لسان الميزان ج 1 ص 15

مختصر يہ كہ ہر جگہ تعديل كو بطور مطلق تضعيف پر مقدم نہيں كيا جا سكتا۔ اگر يہ مسلّم ہو كہ ہر قسم كى تضعيف موثر ہے تو طعن و قدح سے بہت ہى مختصر حديثيں محفوظ رہيں گى۔ اس سلسلے ميں نہايت احتياط اور كوشش و سعى كرنا چاہیے تا كہ حقيقت واضح ہو سکے۔

شيعہ ہونا تضعيف كا سبب:

راوى كے ضعيف ہونے كے اسباب ميں سے ايک، اس كا شيعہ ہونا بھى شمار كيا گيا ہے مثلاً ابن خلدون نے قطن بن خليفہ جو كہ مہدى سے متعلق احاديث كا ايک راوى ہے ، كو شيعہ ہونے كے جرم ميں غير معتبر قرار ديا ہے اور اس كے بارے ميں تحرير كيا ہے:

عجلى كہتا ہے: قطن حديث كے اعتبار سے بہت اچھا ہے ليكن تھوڑا سا شيعيت كى طرف مائل ہے۔

احمد بن عبد اللہ بن يونس لكھتا ہے: ميں نے قطن كو ديكھا ليكن اسے كتّے كى طرح چھوڑ كر نكل آيا۔ ابو بكر بن عياش لكھتا ہے کہ: ميں نے قطن كى احاديث كو صرف اس كے مذہب كے فاسد ہونے كى بنا پر چھوڑ ديا ہے۔

جبكہ احمد ، يحيى بن قطاف ، ابن معين ، نسائی اور دوسرے لوگوں نے اسكى توثيق كى ہے۔

مقدمہ ابن خلدون ص 313

اس كے بعد ابن خلدون ان احاديث كے راوى ہارون كے بارے ميں لكھتا ہے کہ: ہاروں شيعہ اولاد سے تھا۔

مقدمہ ابن خلدون ص 314

 ايک گروہ نے ان احاديث كے راوى يزيد بن ابى زياد كو مجمل انداز ميں ضعيف قرار ديا ہے اور بعض نے ان كے ضعف كى وضاحت كى ہے چنانچہ محمد بن فضيل ان كے متعلق لكھتا ہے کہ: وہ معروف شيعوں ميں سے ايک تھے اور ابن عدى كہتے ہيں: وہ كوفہ كے شيعوں ميں سے تھے۔

مقدمہ ابن خلدون ص 318

ابن خلدون عمار ذہبى كے بارے ميں لكھتے ہيں كہ: اگرچہ احمد ، ابن معين ، ابو حاتم ، نسائی اور بعض دوسرے افراد نے عمار كى توثيق كى ہے، ليكن بشر بن مروان نے شيعہ ہونے كى بنا پر انہيں قبول نہيں كيا۔

مقدمہ ابن خلدون ص 319

عبد الرزاق بن ہمام كے بارے ميں لكھتے ہيں كہ: انہوں نے فضائل اہل بيت ميں حديثيں نقل كى ہيں اور شيعہ مشہور ہيں۔

مقدمہ ابن خلدون ص 320

ايک اور چيز کہ جو اكثر راوىوں كى تضعيف كا سبب ہوتى ہے اور جس سے وہ نيک اور سچے كو بھى متہم كر ديتے ہيں اور ان كى حديثوں كو رد كر ديتے ہيں، وہ عقيدے سے اختلاف ہونا ہے۔

جيسا كہ شديد مذہبى تعصب اور عقيدوں كا اختلاف اس بات كا سبب ہوا كہ وہ لوگوں كى سچائی اور امانت دارى كو نظر انداز كر ديں اور ان كى احاديث كو مسترد كر ديں۔ اسى طرح مذہب و عقيدے كے اتحاد كى وجہ سے لوگ اپنے ہم مسلک افراد كے جرائم اور برائيوں سے چشم پوشى كرنے اور ان كى تعديل و توثيق كا باعث ہوا ہے، مثلا عجلى ، عمرو بن سعد كے بارے ميں كہتا ہے کہ: وہ موثق تابعين ميں سے تھا اور لوگ اس سے روايت كرتے تھے، جبكہ عمرو بن سعد حسين بن على يعنى جوانان جنت كے سردار رسول خدا كے پارہ دل كا قاتل تھا۔

اضواء على سنة ص 319

اسى طرح بسر بن ارطاة جيسے كہ جس نے معاويہ كے حكم سے ہزاروں بے گناہ شيعوں كو قتل كيا تھا اور جانشين رسول خدا حضرت على بن ابى طالب كو كھلم كھلا سبّ و لعن كرتا تھا، نجس انسان كو اس ننگ و عار كے باوجود مجتہد اور قابل درگزر قرار ديتے ہىں۔

اضواء على سنة ص 321

عتبہ بن سعيد كے بارے ميں يحيى بن معين كہتا ہے، وہ ثقہ ہيں ، نسائی ، ابو داؤد اور دار قطنى نے بھى اسے ثقہ جانا ہے، جبكہ عتبہ حجاج بن يوسف ثقفی جيسے ظالم شخص كا مددگار تھا۔

بخارى نے اپنى کتاب صحيح ميں مروان بن حكم سے روايات نقل كى ہيں اور اس پر اعتماد كيا ہے۔ حالانكہ جنگ جمل كے شعلے بھڑكانے والوں ميں سے ايک مروان بھى تھا اور حضرت علی (ع) سے جنگ كرنے كيلئے طلحہ كو بڑکایا بھی تھا، اور پھر جنگ کے دوران اسے قتل كر ديا تھا۔

اضواء على سنة ص 317

يہ باتيں مثال كے طور پر لكھى گئی ہيں تا كہ ہر با ضمیر انسان ان مصنفّين كے طرز فكر ، فيصلہ کرنے كے طريقے اور عقيدہ كے اظہار سے آگاہ ہو جائے اور يہ جان لے كہ محبت و بغض اور تعصب انسان کو كس منزل تک پہنچا دیتا ہے۔

اضواء كے مؤلف لكھتے ہيں کہ كہ ذرا ان علماء كے فيصلوں كو ملاحظہ فرمائيں اور غور كريں كہ اس نے اس شخص كى توثيق كر دى جو علی (ع) كى شہادت پر راضى ، طلحہ كا قاتل اور حسين بن على (ع) كى شہادت كا ذمہ دار تھا، ليكن اس كے بر خلاف بخارى اور مسلم جيسے لوگوں نے امت كے علماء و حافظوں جيسے حماد بن مسلمہ اور مكحول جيسے عابد و زاہد كو رد كر ديا ہے۔

اضواء على سنة ص 319

مختصر يہ كہ جو شخص اہل بيت اور حضرت علی (ع) كے فضائل ميں يا شيعوں كے عقيدہ كے مطابق كوئی حديث بيان كرتا تھا تو متعصب لوگ اس كى حديث كى صحت كو مخدوش بنا دتيے تھے اور  سركارى طور پر اس كى حديثوں كے مردود ہونے كا اعلان كر ديا جاتا تھا اور اگر كسى شخص كا شيعہ ہونا ثابت ہو جاتا تھا تو اس كے لیے بغض و عناد اور اس كى حديث كو ٹھكرانے كيلئے اتنا ہى كافى ہوتا تھا۔

اگر آپ جرير كے كلام ميں غور كريں تو عامة المسلمين كے تعصب كا اندازہ ہو جائے گا ، جرير نے کہا ہے کہ: ميں نے جابر جعفى سے ملاقات كى ليكن ان سے حديثيں نہيں لى ہيں كيونكہ وہ رجعت كا عقيدہ ركھتے تھے۔

صحيح مسلم ج 1 ص 101

بے جا تعصّب:

غرض مندى اور بے جا تعصب تحقيق كے منافى ہے۔ جو شخص حقائق كى تحقيق كرنا چاہتا ہے اسے تحقيق سے پہلے خود كو بغض و عناد اور بے جا تعصب سے آزاد كر لينا چاہیے ، اور اس كے بعد غير جانبدار ہو كر مطالعہ كرنا چاہیے۔ اگر تحقيق كے دوران كوئی چيز حديث كے ذريعہ ثابت ہوتى ہے تو اس حديث كے راويوں كى وثاقت سے بحث كرے ، اگر ثقہ ہيں تو ان كى روايتوں پر اعتماد كرے ، خواہ سنّى ہوں يا شيعہ ، يہ بات طريقہ تحقيق كے خلاف ہے كہ ثقہ راويوں كى احاديث كو شيعہ ہونے كے الزام ميں رد كر ديا جائے۔ عامة المسلمين سے منصف مزاج حضرات اس بات كى طرف متوجہ رہے ہيں۔

ابن حجر عسقلانى نے اس بارے میں کہا ہے کہ: جن مقامات پر تضعيف كرنے والے قول پر توقف كرنا چاہیے ، ان ميں سے ايک يہ ہے كہ تضعيف كرنے والے اور جس كى تضعيف كى گئی ہے ان كے درميان عقيدے كا اختلاف اور عدالت و دشمنى ہو مثلاً ابو اسحاق جوزجانى ، ناصبى تھا اور كوفے والے شيعہ مشہور تھے۔ اس لیے اس نے ان كى تضعيف ميں توقف نہيں كيا اور سخت الفاظ ميں انہيں ضعيف قرار ديتا تھا۔ يہاں تک كہ اعمش ، ابو نعيم اور عبيد اللہ جيسے احاديث كے اركان كو ضعيف قرار ديديا ہے۔ قشيرى كہتے ہيں: لوگوں كى اغراض و خواہشيں آگ كے گڑھے ہيں۔ اگر ايسے موارد ميں راوى كى توثيق وارد نہ ہوتى ہو تو تضعيف مقدم ہے۔

لسان الميزان ج 1 ص 16

ابان بن تغلب كے حالات لكھنے كے بعد محمد بن احمد بن عثمان ذہبى لكھتا ہے کہ: اگر ہم سے يہ پوچھا جائے كہ بدعتى ہونے كے باوجود تم ابان كى توثيق كيوں كرتے ہو تو ہم جواب ديں گے كہ بدعت كى دو قسميں ہيں ، ايک چھوٹى بدعت ہے جيسے تشيع ميں غلو ، يا تشيع بغير انحراف، البتہ تابعين اور تبع تابعين ميں ايسى بدعت رہى ہے اس كے باوجود ان كى سچائی ، ديانت دارى اور پرہيزگارى باقى رہى اگر ايسے افراد كى احاديث رد كرنا ہى مسلم ہے تو نبى (ص) كى بے شمار حديثيں رد ہو جائيں گى اور اس بات ميں قباحت ہے وہ كسى پر مخفى نہيں ہے۔ دوسرى قسم بدعت كبرى ہے يعنى مكمل رافضى، رافضيت ميں غلو اور ابوبكر و عمر كى بدگوئی، البتہ ايسے راويوں كى حديثوں كو رد كر دينا چاہیے اور ان كى كوئی حيثيت نہيں ہے۔

ميزان الاعتدال ج 1 ص 5

مختصر يہ كہ ان تضعيفات پر اعتماد نہيں كرنا چاہیے بلكہ بھرپور كوشش اور چھان بين سے راوى كى صلاحيت اور عدم صلاحيت كا سراغ لگانا چاہیے۔

بخارى و مسلم اور احاديث مہدى (عج):

اگر كوئی حديث بخارى و مسلم ميں نہ ہو تو يہ اس كے ضعيف ہونے كى دليل نہيں ہے كيونكہ بخارى و مسلم كے مؤلفوں كا مقصد تمام صحیح حديثوں كو جمع كرنا نہيں تھا۔

دار قطنى نے لكھا ہے کہ: ايسى بہت سى حديثيں موجود ہيں جنھيں بخارى و مسلم نے اپنى صحاح ميں نقل نہيں كيا ہے جبكہ ان كى سند بالكل ايسى ہے جيسى ان احاديث كى ہے کہ جو انھوں نے نقل كىں ہيں۔

بيہقى نے بھی لكھا ہے کہ: مسلم و بخارى كا ارادہ تمام حديثوں كو جمع كرنے كا نہيں تھا۔ اس بات كى دليل وہ احاديث ہيں جو كہ بخارى ميں موجود ہيں ليكن مسلم نہيں اور مسلم ميں ہيں بخارى ميں نہيں ہيں۔

صحيح مسلم بشرح امام نووى ج 1 ص 24

اور جيسا كہ مسلم نے يہ دعوى كيا ہے كہ انہوں نے اپنى كتاب ميں صرف صحيح حديثوں كو نقل كيا ہے تو ابو داؤد بھى اسى كے مدعى ہيں۔

ابوبكر بن داسہ نے کہا ہے كہ: ميں نے ابو داؤد كو كہتے ہوئے سنا كہ: ميں نے اپنى كتاب ميں چار ہزار آٹھ سو حديثيں لكھى ہيں جو كہ سب صحيح يا صحيح كے مشابہ ہيں۔

ابو الصباح نے لکھا ہے كہ ابو داؤد سے نقل ہے كہ انہوں نے كہا: ميں نے صرف صحيح يا صحيح سے مشابہ احاديث نقل كى ہيں اور اگر كوئی حديث ضعيف تھى تو ميں نے اس كے ضعف كا بھى ذكر كر ديا ہے، پس جس حديث كے بارے ميں ، ميں نے خاموشى اختيار كى ہے اسے معتبر سمجھنا چاہیے۔

خطابى كہتے ہيں: سنن ابى داؤد ايک گراں بہا كتاب ہے ، اس جيسى كوئی كتاب نہيں لكھى گئی جو كہ مسلمانوں ميں مقبول ہو جسے عراق ، مصر ، مغرب اور دوسرے علاقے كے علماء ميں مقبوليت حاصل ہوئی ہو۔

مقدمہ سنن ابى داؤد،

مختصر يہ كہ بخارى اور مسلم اور دوسرى كتابوں كى احاديث اس لحاظ سے يكساں ہيں كہ ان كى صحت و ضعف سے باخبر ہونے كيلئے ان كے راويوں كى تحقيق كى جائے۔

بخارى و مسلم ، جن كى احاديث كى صحيح ہونے كا آپ كو اعتراف ہے ، ميں بھى مہدى (ع) سے متعلق احاديث موجود ہيں اگرچہ ان ميں لفظ مہدى نہيں آيا ہے ، منجملہ ان كے يہ حديث ہے:

پيغمبر :(ص) نے ارشاد فرمايا: اس وقت تمہارا كيا حال ہو گا جب عيسى بن مريم نازل ہوں گےجبكہ تمہارا امام خود تم ہى سے ہو گا۔

ضرورى وضاحت:

ابن خلدون كے بارے ميں يہ بات كہنا صحيح نہيں ہے كہ وہ مہدى (ع) سے متعلق احاديث كو كلى طور پر قبول نہيں كرتے ہيں بلكہ انہيں قابل رد سمجھتے ہيں كيونكہ جيسا كہ پہلے بھى آپ ملاحظہ فرما چكے ہيں كہ اس عالم نے يہ لكھا ہے كہ مسلمانوں كے درميان يہ بات مشہور تھى اور ہے كہ آخرى زمانہ ميں پيغمبر (ص) كے اہل بيت ميں سے ايک شخص اٹھے گا اور عدل و انصاف قائم كرے گا۔ اجمالى طور پر يہاں انہوں نے اس بات كو تسليم كيا ہے كہ مہدى (ع) موعود كا عقيدہ مسلمانوں كے درميان مشہور تھا۔ دوسرے يہ كہ راويوں كے بارے ميں رد و قدح اور جرج و تعديل كے بعد لكھتے ہيں:

مہدى موعود كے بارے ميں جو حديثيں وارد ہوئی ہيں اور كتابوں ميں درج ہيں ان ميں سے بعض كے علاوہ سب مخدوش ہيں يہاں بھى ابن خلدون نے كلى طور پر مہدى سے متعلق احاديث كو قابل رد نہيں جانا ہے بلكہ ان ميں سے بعض كى صحت كا اعتراف كيا ہے۔     

حضرت امام زمان (عج) کا خط شیخ مفید کے نام:

جیسا کہ احتجاج میں مرحوم طبرسی نے نقل کیا ہے کہ ماہ صفر 410 ہجری میں شیخ مفید ایک خط امام زمان (عج) کی جانب سے دریافت کرتے ہیں کہ جس کا ایک حصہ یہ ہے :

و انا غیر مہملین لمراعاتکم و لا ناسین لذکرکم و لولا ذالک لنزل بکم البلاء "

ہم تمھاری رعایت و مراعات کی نسبت بے توجہ نہیں ہیں اور نہ تمہارے ذکر کو بھلانے والے ہیں اور اگر ایسا نہ ہوتا تو تم پر بلاء نازل ہوجاتی ۔

الاحتجاج : ج 2  ، ص 497

" مراعات " مصدر میمی ہے بمعنائے رعایت ، اور یہاں پر " مراعاتکم " یعنی " رعایتکم " مراد ہے ۔ حضرت امام زمانہ (عج) شیخ مفید کے نام اپنے اس خط میں تحریر فرماتے ہیں کہ :

" ہم تمھاری نسبت اہمال ( بے توجہی ) نہیں کرتے " معلوم ہونا چاہیے کہ اہمال اور ترک کے درمیان فرق ہے ، ترک کا معنی اہمال سے اعم ہے ، امام (عج) نے فرمایا ہے کہ : " اہمال نہیں کرتے " یعنی اگر ہم نے رعایت نہ کی تو اہمال ( بے توجہی ) ہماری طرف سے نہیں ہے بلکہ خود تمہاری جانب سے ہے ۔

دوسرے جملے میں : " و لا ناسین لذکرکم " نسیان ( بھلانے ) کی عام و مطلق کی صورت میں نفی کر رہے ہیں ، اس معنی میں کہ ہمیشہ اور ہر جگہ ہم تمھیں یاد رکھتے ہیں کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو تم پر بلائیں نازل ہو جاتیں ۔

حضرت امام زمانہ (عج) ہمارے زندہ امام ہیں اور دوسرے آئمہ (ع) اس دنیا سے شہید ہو کر جا چکے ہیں ، اگرچہ شیعوں کا اعتقاد ہے کہ امام معصوم کا حاضر و غائب ہونا اور زندہ و مردہ ہونا کوئی فرق نہیں رکھتا ، لہذا ہم زیارت ناموں میں پڑہتے ہیں :

" اشہد انک تشہد مقامی و تسمع کلامی و ترد سلامی "

یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ مجھے دیکھ رہے ہیں اور میرا کلام سن رہے ہیں اور میرے سلام کا جواب دے رہے ہیں ،

یہ مسئلہ قطعی و یقینی ہے اور اس میں کوئی شک و شبہہ نہیں ہے ، لیکن آج شیعہ حضرت امام زمان (عج) سے منسوب ہیں اور زمام امور آپ کے ہاتھوں میں ہے ۔

حضرت امام زمان (عج) کی نظر میں شیخ مفید کا مرتبہ:

شیخ مفید کا مرتبہ و منزلت اس حد تک بلند ہے کہ حضرت ولی عصر (عج) آپ کی وفات پر مرثیہ پڑھتے ہیں :

لا صوت الناعی بفقدک انہ

یوم علیٰ آل الرسول عظیم،

یعنی تمہاری وفات کی مصیبت آل رسول (ص) کے لئے بہت بڑی مصیبت ہے ۔

بحار الانوار : ج 53 ، ص 256

القاضی سید نور اللہ الشوشتری نے مجالس المومنین میں ذکر فرمایا ہے کہ یہ اشعار حضرت صاحب الامر (عج) کے ساتھ شیخ مفید کی قبر پر لکھے ہوئے پائے گئے :

لا صوت الناعی بفقدک انہ ۔ یوم علیٰ آل الرسول عظیم

سنانی سنانے والے نے تمہاری سنانی سنائی ۔ یقناً یہ دن آل رسول (ص) پر بہت بڑی مصیبت کا دن ہے،

ان کنت قد غیبت فی جدث الثریٰ ۔ فالعدل و التوحید فیک مقیم

اگر تم قبر کی خاک نمناک کے اندر چھپ گئے ۔ تو عدل و توحید تیرے اندر قیام پذیر ہیں،

و القائم المہدی یفرح کلما ۔ تلیت علیک من الدروس علوم

اور قائم مہدی کو خوشی ہو گی جب بھی ۔ تم پر دروس و علوم کی تلاوت کی جائے گی،

آپ کے لیے اس سے بڑھ کر فخر کی بات کیا ہو سکتی ہے کہ حضرت امام مہدی (عج) آپ کو خطاب کر کے فرماتے ہیں :

" سلام علیک ایہا العبد الصالح الناصر للحق الداعی بکلمۃ الصدق "

سلام ہو تم پر اے خدا کے نیک بندے ، حق کی مدد کرنے والے اور راہ راست کی طرف دعوت دینے والے۔

حضرت امام زمان (عج) کی امید شیعوں سے:

بہت سے شیعہ یہ سوچتے ہیں کہ امام زمانہ (عج) کی خدمت میں کیسے پہنچا جا سکتا ہے اور کیسے حضرت سے ملاقات کی جا سکتی ہے ، حضرت امام زمان (عج) سے ملاقات ایک خاص مسئلہ ہے اور اس سے متعلق کتابوں میں ان افراد کے واقعات ذکر ہوئے ہیں جنہوں نے حضرت سے ملاقات کی ہے ، حضرت امام زمان (عج) سے ملاقات کرنے والوں میں عالم و عوام ، بوڑھے اور جوان ، مرد و عورت سبھی دکھائی دیتے ہیں۔

لیکن آیا امام زمان (عج) نے شیعوں سے یہ چاہا ہے کہ غیبت کے زمانہ میں یہ کوشش کریں ؟ یا نہیں ، بلکہ وظیفہ کوئی دوسری چیز ہے ؟ اور آیا ہم اس سے زیادہ اہم وظیفہ نہیں رکھتے ∙∙∙ ؟

جیسا کہ ذکر کیا گیا کہ حضرت امام زمان (عج) سے تقرب کا سب سے زیادہ اہم وسیلہ خود اپنے وظیفہ انجام دینا ہے ، وہی چیز کہ جس کے لیے خداوند نے حضرت کو امامت کو مرتبہ عطا فرمایا ہے ، وہی چیز کہ جس کے لیے حضرت رسول خدا (ص) تشریف لائے ہیں ۔

حضرت امام زمان (عج) شیعوں سے چاہتے ہیں کہ لوگوں کی ہدایت کے لیے کوشش کریں ، البتہ اس کام کے چند مقدمات ہیں جن میں سے ایک حسن معاشرت اور لوگوں ساتھ اچھا برتاؤ کرنا اور زیادہ علم کا ہونا ہے ۔ اور پختہ ارادہ رکھیں کہ دوست و دشمن کے ساتھ نرمی و مداوا کریں ۔

ان خطوط میں کئی مرتبہ حضرت امام زمان (عج) نے لفظ " صدق " ( سچ ) شیخ مفید کو خطاب کر کے استعمال کیا ہے ، وہ ایک ایسا لفظ ہے کہ ہم جیسوں پر صادق آنے کے لیے کئی سال گزر جاتے ہیں ۔

اگر " میں " یعنی غرور ختم ہو گیا اور ملاک و معیار " یہدون باٴمرنا " ہمارے حکم سے ہدایت کرتے ہیں، رہا تو پھر خشن اور غیر خشن لباس ، لذیذ اور سادہ غذا انسان کے لیے کوئی فرق نہیں رکھتا ، واقعاً شیخ مفید ہونا بہت مشکل ہے۔

شیخ مفید یہ سوچتے تھے کہ حضرت امام زمان (عج) ان سے کیا چاہتے ہیں اور اس کو انجام دیا۔

آج علماء پر وثوق و اعتماد حاصل نہ ہونے کے سبب بہت سے یہودی اور عیسائی ہیں ، یا یہ کہ شیعہ ہیں لیکن غفلت میں زندگی بسر کر رہے ہیں ۔

عالم اگر ثقہ و معتمد ہو تو لوگوں کو فوج در فوج دین خدا میں داخل کر سکتا ہے لیکن انسان اس قدر بے معتبر ہو جائے یہاں تک کہ اس کے بیوی بچے بھی اس پر اطمینان نہ رکھتے ہوں تو کوئی کام انجام نہیں دے سکتا ۔

اب ہم سب کو چاہیے کہ حضرت ولی عصر (عج) کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے یہ دو کام انجام دینے کی کوشش کریں :

1- حضرت امام زمان (عج) سے عہد کریں کہ ہم ایسے ہوں ۔

2- خود حضرت امام زمان (عج) سے مدد طلب کریں کہ حضرت (عج) ہمارے لیے دعا کریں اور ہماری مدد فرمائیں کہ ہم ایسے ہی بنیں۔

امام زمان (عج) کی ولادت کا اثبات:

1- حكيمہ خاتون بنت امام محمد نقى امام حسن عسكرى كى پھوپھى ، صاحب الامر كى ولادت كے وقت وہاں موجود تھيں اور انہوں نے اس واقعہ كو تفصيل كے ساتھ بيان كيا ہے۔ اس كا خلاصہ يہ ہے : حكيمہ خاتون كہتى ہيں : پندرہ شعبان كى شب ، ميں امام حسن عسكرى كے گھر تھى۔ جب ميں اپنے گھر واپس آنا چاہتى تھى اس وقت امام حسن عسكرى نے فرمايا: پھوپھى جان آج كى رات آپ ہمارے ہى گھر ٹھر جاہیے کيونكہ آج كى رات ولى خدا اور ميرا جانشين پيدا ہو گا۔ ميں نے دريافت كيا كس كنيز سے ؟ فرمايا : سوسن سے۔

ميں نے سوسن كو اچھى طرح سے ديكھا ليكن مجھے حمل كے آثار نظر نہ آئے۔ نماز اور افطار كے بعد سوسن كے ساتھ ميں ايک كمرے ميں سو گئی، تھوڑى دير بعد بيدار ہوئی تو امام حسن عسكرى كى باتوں كے متعلق سوچنے لگى، پھر نماز شب ميں مشغول ہوئی، سوسن نے بھى نماز شب ادا كى، صبح صادق كا وقت قريب آ گيا۔ لكن وضع حمل كے آثار ظاہر نہ ہوئے مجھے امام حسن عسكرى كى باتوں ميں شک ہونے لگا تو دوسرے كمرے سے امام حسن عسكرى (ع) نے فرمايا : پھوپھى جان شک نہ كيجئے ميرے بيٹے كى ولادت كا وقت قريب ہے۔

اچانک سوسن كى حالت بدل گئی ميں نے پوچھا : كيا بات ہے ؟ فرمايا : شديد درد محسوس ہو رہا ہے، ميں وضع حمل كے وسائل فراہم كرنے ميں مشغول ہو گئی اور دايہ كے فرائض كى ذمہ دارى اپنے ذمہ لے لی۔

كچھ دير نہ گزرى تھى كہ ولى خدا پاک و پاكيزہ پيدا ہوئے اور اسى وقت امام حسن عسكرى نے فرمايا : پھوپھى جان ميرے بيٹے كو لائیے ميں بچے كو ان كے پاس لے گئی انہوں نے بچے كو ليا اور اپنى زبان مبارک اس كى آنكھوں پر پھرائی تو بچے نے آنكھيں كھول ديں اس كے بعد نوزاد كے دہان اور كان پر زبان پھرائی اور سر پر ہاتھ پھيرا تو بچہ گويا ہوا اور تلاوت قرآن كرنے ميں مشغول ہو گيا۔ اس كے بعد بچہ مجھے ديديا اور فرمايا : اس كى ماں كے پاس لے جايئے حكيمہ خاتون كہتى ہيں: ميں نے بچہ كو اس كى ماں كو ديديا اور اپنے گھر لوٹ آئی۔ تيسرے دن ميں پھر امام حسن عسكرى كے گھر گئی اور پہلے بچے كو ديكھنے كى غرض سے سوسن كے كمرے ميں داخل ہوئی ليكن بچہ وہاں نہيں تھا۔ اس كے بعد امام حسن عسكرى كى خدمت ميں پہنچى، ليكن بچے كے بارے ميں پوچھنے کے لیے مجھے شرم محسوس ہو رہى تھى ، كہ امام حسن عسكرى نے فرمايا: پھوپھى جان ميرا بيٹا خدا كى پناہ ميں غائب ہو گيا ہے۔ جب ميں دنيا سے چلا جاؤں گا اور ہمارے شيعہ ہمارے جانشين كے بارے ميں اختلاف كرنے لگيں تو آپ قابل اعتماد شيعوں سے ميرے بيٹے كى داستان ولادت بيان كر ديجئے گا ليكن اس قضيہ كو مخفى ركھنا چاہیے كيونكہ ميرا بيٹا غائب ہو جائے گا۔

غيبت شيخ ص 141 و 142

2- امام حسن عسكرى كى خدمت گار نسيم و ماريہ نے روايت كى ہے كہ : جب صاحب الامر نے ولادت پائی تو پہلے وہ دو زانو بيٹھے اور اپنى انگشت شہادت كو آسمان كى طرف بلند كيا۔ اس كے بعد چھينک آئی تو فرمايا : الحمد للہ ربّ العالمين۔

اثبات الہداة ج 7 ص 292

اثبات الوصيہ ص 197

3- ابو غانم خادم كہتا ہے : امام حسن عسكرى (ع) كے ہاں ايک بيٹا پيدا ہوا جس كا نام محمد ركھا ، تيسرے دن اس بچہ كو آپ نے اپنے اصحاب كو دكھايا اور فرمايا : يہ ميرا بيٹا ميرے بعد تمہارا امام و مولا ہے اور يہى وہ قائم ہے جس كا تم انتظار كرو گے اور اس وقت ظہور كرے گا جب زمين ظلم و ستم سے بھر جائے گى اور اسے عدل و انصاف سے پر كرے گا۔

اثبات الہداة ج 6 ص 431

4- ابو على خيزرانى اس كنيز سے نقل كرتے ہيں جو كہ امام حسن عسكرى نے انہيں بخش دى تھى كہ اس نے كہا : صاحب الامر كى ولادت كے وقت ميں موجود تھى ، ان كى والدہ كا نام صيقل ہے۔

منتخب الاثر ص 343

5- حسن بن حسين علوى كہتے ہيں : ميں سامرا ميں امام حسن عسكرى كى خدمت ميں شرفياب ہوا اور آپ كے فرزند كى ولادت كى مبارک باد پيش كى۔

اثبات الہداة ج 7 ص 433

6- عبد اللہ بن عباس علوى كہتے ہيں : ميں سامرا ميں امام حسن عسكرى كى خدمت ميں شرفياب ہوا اور آپ كے فرزند كى ولادت كى مبارک باد پيش كى۔

اثبات الہداة ج 7 ص 720

7- حسن بن منذر كہتے ہيں : ايک دن حمزہ بن ابى الفتح ميرے پاس آئے اور كہا : مبارک ہو كل رات خدا نے امام حسن عسكرى كو فرزند عطا كيا ہے ، ليكن ہميں اس خبر كے مخفى ركھنے كا حكم ديا ہے۔ ميں نے نام پوچھا تو فرمايا : ان كا نام محمد ہے۔

اثبات الہداة ج 6 ص 434

8- احمد بن اسحاق كہتے ہيں : ايک روز ميں امام حسن عسكرى كى خدمت ميں شرفياب ہوا۔ ميرا قصد تھا كہ آپ كے جانشين كے بارے ميں كچھ دريافت كروں، ليكن آپ (ع) ہى نے گفتگو كا آغاز كيا اور فرمايا : اے احمد بن اسحاق خداوند عالم نے حضرت آدم كى خلقت سے قيامت تک ، زمين كو اپنى حجت سے خالى نہيں ركھا ہے ، اور نہ ركھے گا۔ اس كے وجود كى بركت سے زمين سے بلائيں دور ہوتى ہيں ، بارش برستى ہے اور زمين كى بركتيں ظاہر ہوتى ہيں۔ ميں نے عرض كى اے فرزند رسول (ص) آپ (ع) كا جانشين كون ہے ؟ امام گھر ميں داخل ہوئے اور ايک تين سالہ بچے كو لائے جو كہ چودہويں كے چاند كى مانند تھا اور فرمايا : اے احمد اگر تم خدا اور آئمہ كے نزديک معزز نہ ہوتے تو ميں تمہيں اپنا بيٹا نہ دكھاتا۔ جان لو يہ بچہ رسول كا ہمنام اور ہم كنيت ہے، يہى زمين كو عدل و انصاف سے پر كرے گا۔

بحار الانوار ج 52 ص 23

9- معاويہ بن حكيم ، محمد بن ايوب اور محمد بن عثمان عمرى نے روايت كى ہے كہ ہم چاليس آدمى امام حسن عسكرى (ع) كے گھر ميں جمع تھے كہ آپ اپنے بيٹے كو لائے اور فرمايا : يہ تمہارا امام اور جانشين ہے۔ ميرے بعد تمہيں اس كى اطاعت كرنا چاہیے اور اختلاف نہ كرنا ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے، واضح رہے كہ ميرے بعد تم اسے نہ ديكھو گے۔

بحار الانوار ج 52 ص 25

10- جعفر بن محمد بن مالک نے شيعوں كى ايک جماعت منجملہ على بن بلال ، احمد بن ہلال ، محمد بن معاويہ بن حكيم اور حسن بن ايوب سے روايت كى ہے كہ انہوں نے كہا : ہم لوگ امام حسن عسكرى (ع) كے گھر ميں اس لیے جمع ہوئے تھے تا كہ آپ كے جانشين كے بارے ميں معلوم كريں۔ اس مجلس ميں چاليس اشخاص موجود تھے كہ عثمان بن سعيد اٹھے اور عرض كى : يابن رسول اللہ ہم ايک سوال كى غرض سے آئے ہيں۔ آپ (ع) نے فرمايا: بيٹھ جاؤ، اس كے بعد فرمايا كوئی شخص مجلس سے باہر نہ جائے ، يہ كہہ كر آپ (ع) تشريف لے گئے اور ايک گنھٹے كے بعد واپس تشريف لائے ، چاند سا بچہ اپنے ساتھ لائے اور فرمايا : يہ تمہارا امام ہے۔ اس كى اطاعت كرو، ليكن اس كے بعد اسے نہ ديكھو گے۔

اثبات الہداة ج 6 ص 311

11- ابو ہارون كہتے ہيں : ميں نے صاحب الزمان كو ديكھا ہے جبكہ آپ كا چہرہ چودہويں كے چاند كى مانند چمک رہا تھا۔

اثبات الہداة ج 7 ص 20

12- يعقوب كہتے ہيں : ايک روز ميں امام حسن عسكرى (ع) كے گھر ميں داخل ہوا تو ديكھا كہ آپ (ع) كے داہنى طرف پردہ پڑا ہوا ہے۔ ميں نے عرض كى : مولا صاحب الامر كون ہے ؟ فرمايا : پردہ اٹھاؤ، جب ميں نے پردہ اٹھايا تو ايک بچہ ظاہر ہوا جو آپ (ع) كے زانو پر آ كر بيٹھ گيا ، امام نے فرمايا يہى تمہارا امام ہے۔

 اثبات الہداة ج 6 ص 425

13- عمرو اہوازى كہتے ہيں : امام عسكرى نے مجھے اپنا بيٹا دكھايا اور فرمايا : ميرے بعد ميرا بيٹا تمہارا امام ہے۔

اثبات الہداة ج 7 ص 16

14- خادم فارسى كہتے ہيں : ميں امام حسن عسكرى (ع) كے دروازے پر تھا كہ گھر سے ايک كنيز نكلى جبكہ اس كے پاس كوئی چيز تھى جس پر كپڑا پڑا تھا امام نے فرمايا: اس سے كپڑا ہٹاؤ، تو كنيز نے ايک حسين و جميل بچہ دكھايا۔ امام نے مجھ سے فرمايا : يہ تمہارا امام ہے۔ خادم فارسى كہتے ہيں : اس كے بعد ميں نے اس بچہ كو نہيں ديكھا۔

ينابيع المودة باب 82

15- ابو نصر خادم كہتے ہيں : ميں نے صاحب الزمان كو گہوارے ميں ديكھا ہے۔

اثبات الہداة جلد 7 ص 344،

اثبات الوصيہ ص 198

16- ابو على بن مطہر كہتے ہيں : ميں نے حسن عسكرى كے فرزند كو ديكھا ہے۔

ينابيع المودہ باب 82

17- كامل بن ابرايہم كہتے ہيں : ميں نے صاحب الامر كو امام حسن عسكرى كے گھر ميں ديكھا ہے : چار سال كے تھے اور چہرہ چاند كى مانند چمک رہا تھا ، ميرى مشكلوں كو ميرے سوال كرنے سے پہلے ہى حل كيا تھا۔

اثبات الہداة ج 7 ص 323 ،

ينابيع المودہ باب 82

18- سعد بن عبد اللہ كہتے ہيں : ميں نے صاحب الامر كو ديكھا ہے آپ كا چہرہ چاند كے ٹكڑے كى مانند تھا۔

بحار الانوار ج 52 ص 78 و ص 82

19- حمزہ بن نصير ، غلام ابى الحسن (ع) نے اپنے والد سے نقل كيا ہے كہ انہوں نے كہا : جب صاحب الامر پيدا ہوئے تو آپ كے گھر ميں رہنے والے افراد نے ايک دوسرے كو مبارک باد دى۔ جب كچھ بڑے ہوئے تو مجھے حكم ملا كہ روزانہ نلى كى ہڈى گوشت سميت خريد كر لاؤں اور فرمايا يہ تمہارے چھوٹے مولا كے لیے ہے۔

اثبات الہداة ج 7 ص 18 ،

اثبات الوصيہ ص 197

20- ابراہيم بن محمد كہتے ہيں : ايک روز ميں حاكم كے دڑ سے فرار كرنا چاہتا تھا لہذا وداع كى غرض سے امام حسن عسكرى كے گھر گيا تو آپ كے پاس ايک حسين بچے كو ديكھا ، عرض كى فرزند رسول يہ كس كا بچہ ہے ؟ فرمايا: يہ ميرا بيٹا اور جانشين ہے۔

اثبات الہداة ج 7 ص 356

يہ لوگ امام حسن عسكرى كے معتمد ثقہ اور اصحاب و خدام ہيں كہ جنہوں نے بچپنے ميں آپ كے لخت جگر كو ديكھا ہے اور اس كے وجود كى گواہى دى ہے۔ جب ہم اس گواہى كے ساتھ پيغمبر اور آئمہ كى احاديث كو ضميمہ كرتے ہيں تو امام حسن عسكرى كے بيٹے كے وجود كا يقين حاصل ہو جاتا ہے۔

فلسفہ دعا برای سلامتی امام زمان (عج):

اس بات میں شک نہیں ہے کہ عظیم عبادتوں میں سے ایک عبادت دعا ہے اور اس کے متعدد آثار ہیں اور امام زمان عجل اللہ فرجہ الشریف کی سلامتی کے لیے دعا کرنا بہترین قسم کی دعا ہے ، دعا کی تاثیر کے بارے میں دو زاویوں سے نگاہ کی جا سکتی ہے:

الف: امام کے بارے میں دعا کی تاثیر

ب: دعا کرنے والے کے لیے دعا کی تاثیر

پہلی نگاہ کے مطابق، دعا، امام کی سلامتی میں مؤثر ہے،

کیونکہ آپ انسان ہیں اور اسی دنیا میں زندگی گزار رہے ہیں لہذا آپ کے وجود مبارک سے بیماریوں اور بلاؤں کو دور کرنے کے لیے دعا مؤثر ہو سکتی ہے جس طرح کہ بیماری سے شفا پانے میں اثر رکھ سکتی ہے۔ یہ چیز حیات اور سلامتی پر خدا کے ارادے کے ساتھ منافات نہیں رکھتی، کیونکہ خدا کا ارادہ اسباب کے تحت نافذ ہوتا ہے اور زندگی میں خدا کے ارادے کے واقع ہونے کے لیے بہترین وسیلہ اور سبب دعا ہے۔ البتہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اللہ تعالی کا ارادہ آپ کی حفاظت پر ہے لیکن چونکہ امام اپنے مادی بدن کے ساتھ اسی مادی دنیا میں رہتے ہیں، لہذا ان کے بدن کا بیماری سے دچار ہونا ممکن ہے۔ لہذا دعا امام کی حالت کے بہتر ہونے میں مؤثر ثابت ہو سکتی ہے، جس طرح کہ بیماری کے ظاہر ہونے سے روک سکتی ہے۔

دوسری نگاہ کے مطابق، دعا کے آثار بہت زیادہ ہیں مثلاً: امام زمان علیہ السلام کو یاد کرنے کا بہترین ذریعہ دعا ہے اور اس کے ذریعے ہم ان سے معنوی رابطہ قائم کر سکتے ہیں اور اس تعلق سے ہمارے معنوی کمال کے لیے بہت سے فوائد ہیں۔ ہر امام کے لیے دعا کرنا، ان سے ایک قسم کی اظہار محبت ہے اور یقیناً وہ بھی دعا کرنے والے پر اپنا خاص لطف و کرم کریں گے۔

امام علیہ السلام کے لیے دعا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ امام علیہ السلام کے مقدس وجود کو بہت سے دوسرے موجودات پر مقدم قرار دینا ہے اور اس کے ذریعے دلوں میں ان کی محبت میں اضافہ ہوتا ہے، کیونکہ محبوب کے ذکر سے، اس کی محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔ آپ کیونکہ اس کائنات میں فیض الہی کا واسطہ ہیں لہذا ان کی نیت سے صلوات پڑہنا اور صدقہ دینا بھی زیادہ سے زیادہ فیوضات کو کسب کرنے کا ایک قسم کا ذریعہ ہے۔

امام زمان (عج) کی سیرت وہی رسول خدا (ص) کی سیرت ہے:

حضرت امام زمان (عج) کی سیرت بالکل وہی حضرت رسول خدا (ص) کی سیرت و روش ہے ، یہاں تک کہ حضرت (عج) کے شمائل شکل و صورت بھی رسول خدا (ص) کے نورانی شمائل کے مانند ہیں ، جیسا کہ شیعہ و سنی کی بہت سی روایتوں میں آیا ہے اور حتی عیسائی مؤرخین نے بھی لکھا ہے کہ حضرت رسول خدا (ص) کا چہرہ مبارک اس قدر جذاب اور دلکش تھا کہ حتی آنحضرت (ص) کے سخت سے سخت دشمنوں کی نظر بھی جس وقت آپ (ص) کے چہرہٴ منور پر پڑتی تھی تو آنحضرت (ص) کے جمال پُر نور کو دیکھ کر ایسے محو ہو جاتے تھے کہ اپنے تمام ہم و غم بھلا دیتے تھے ، حضرت امام زمان (عج) کا چہرہٴ پُر نور بھی ایسا ہی ہے ۔

تاریخ و روایات کے علاوہ سب سے زیادہ اہم سند جو حضرت رسول خدا (ص) کی سیرت و سنت کے متعلق ہمارے پاس ہے ، وہ قرآن کریم ہے ، جو نقشہ قرآن کریم حضرت رسول خدا (ص) کے چہرہٴ مبارک کا کھینچا ہے وہ اس طرح ہے :

فبما رحمۃ من اللہ لنت لھم و لو کنت فظا غلیظ القلب لانفضوا من حولک،

اے رسول ! رحمت الٰہی ( کی برکت ) سے آپ ان لوگوں پر نرم و مہربان ہیں اور اگر بدمزاج اور سخت دل ہوتے تو وہ سب آپ کے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے ۔

سورہ آل عمران آیت 59

اور دوسر ی جگہ فرماتا ہے :

لقد جائکم رسول من انفسکم ، عزیز علیہ ما عنتّم حریص علیکم بالمؤمنین رؤف رحیم،

یقینا تمہارے پاس وہ رسول آیا ہے جو تم ہی میں سے ہے اور اس پر تمہاری ہر مصیبت شاق ہوتی ہے وہ تمہاری نجات اور ہدایت کے بارے میں حرص رکھتا ہے اور مؤمنین پر بہت ہی مہربان اور رحیم ہے ۔

سورہ توبہ آیت 128

حضرت رسول خدا (ص) کی شفقت و محبت لوگوں کی نسبت اس حد تک تھی کہ حتی بہت سے لوگوں نے اسی مسئلہ کو آنحضرت (ص) کے آزار کا ایک وسیلہ و ذریعہ بنا لیا تھا:

و منھم الذین یؤذون النبی و یقولون ھو اذن قل اذن خیر لکم یؤمن باللہ و یؤمن للمؤمنین و رحمۃ للّذین آمنوا منکم ∙∙∙

ان میں سے وہ بھی ہیں جو پیغمبر (ص) کو اذیت دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ تو صرف کان ( یعنی سب کی سن لیتے ) ہیں ، آپ کہہ دیجیئے کہ تمہارے حق میں بہتری کے کان ہیں ، لیکن جان لو کہ وہ صرف خدا پر ایمان رکھتے ہیں اور مؤمنین کی تصدیق کرتے ہیں، ان کی سن لیتے ہیں اور صاحبان ایمان کے لیے رحمت ہیں ، اور جو لوگ رسول خدا (ص) کو اذیت دیتے ہیں ان کے واسطے درد ناک عذاب ہے۔

سورہ توبہ آیت 61

یہ حضرت رسول خدا (ص) کا فعل و عمل ہے اور حضرت امام مہدی (عج) حضرت رسول خدا (ص) سے سب سے زیادہ مشابہ ہیں ۔

پیغمبر اسلام (ص) فبما رحمۃ من اللہ لنت لھم، کے مصداق کامل ہیں، لہٰذا حضرت امام مہدی (عج) بھی انہیں صفات کے مالک ہوں گے ، حضرت کافروں کے ساتھ نرم سلوک اختیار کریں گے تو پھر مسلمانوں کی بات تو الگ ہے ۔

اصولاً حضرت امام مہدی (عج) عدل و انصاف برپا کرنے کے لیے ظہور فرمائیں گے ، اور عدالت انسانوں کی ایک فطری اور طبیعی خواہش ہے ، اس بنا پر یہ ممکن نہیں ہے کہ حضرت (عج) ایسی روش اپنائیں کہ لوگ آرزو کریں کہ کاش ان کو نہ دیکھتے ، یا ان سختیوں کے سبب جو انجام دیں گے ، لوگ کہیں کہ وہ آل محمد (ص) سے نہیں ہیں اور وہ اہل بیت پیغمبر علیہم السلام سے ربط نہیں رکھتے، اور اسی طرح جب حضرت علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں : محال ہے کہ میں ظلم کے راستے سے چاہوں کہ کامیابی حاصل کروں اور ظلم کے وسیلہ سے طلب نصرت کروں ، تو یقیناً حضرت امام مہدی (عج) بھی اسی سیرت و روش کی پیروی کریں گے ، اور یہ ممکن نہیں ہے کہ ظلم و ستم کے ذریعہ لوگوں پر حکومت حاصل کریں ،

حضرت امام مہدی (عج) کا حکومت کرنے کا طریقہ:

حضرت امام مہدی (عج) کی اجرائی سیرتوں میں سے ایک سیرت یہ ہے کہ حضرت جتنا لوگوں اور مسکینوں کی نسبت رحیم و مہربان ہیں، اتنا ہی اپنے حکومتی عہدہ داروں اور کارندوں پر حد سے زیادہ سخت اور حساس ہیں :

المہدی جواد بالمال ، رحیم بالمساکین ، شدید علی العمّال،

مہدی (عج) حکومت کے عاملوں ، کارگزاروں پر بہت زیادہ سخت گیر ہوں گے۔

حضرت علی علیہ السلام ایک حدیث میں اس کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں :

الا و فی غد و سیاٴتی غد بما لا تعرفون ، یاٴخذ الوالی من غیرھا عمّا لہا علی مساوی اعمالہا ∙∙∙

آگاہ ہو جاؤ کہ کل کے دن جب کہ وہ (مہدی ) ظہور فرمائے گا ، وہ کل ( آئندہ ) جس سے تم نا واقف ہو دوسرے حاکموں کے بر خلاف اپنے عاملوں اور کارندوں کو ان کے برے کردار اور جرم کی سزا دے گا ان کی بد اعمالیوں کی نسبت مواخذہ کرے گا۔

نہج البلاغہ : خطبہ 138

البتہ حضرت (عج) خود سب سے پہلے اور سب سے زیادہ اپنے اوپر سختی اختیار کریں گے اور اس بات کے بر خلاف کہ تمام لوگ حضرت کی حکومت کے زیر سایہ رفاہ و آرام میں رہیں گے ، اپنے جد امیر المؤمنین علیہ السلام کے مانند درشت اور خشن پوشاک اور غیر لذیذ کھانے پر اکتفاء فرمائیں گے :

فو اللہ ما لباسہ الا الغلیظ و لا طعامہ الا الجشب،

قسم بخدا مہدی (عج) کا لباس درشت اور کھانا سوکھا اور بغیر سالن کے ہو گا۔

نعمانی ، الغیبۃ ص 233

بحار الانوار : ج 52 ، ص 354

کرامات امام زمان (عج):

اگرچہ آخر زمان میں لوگ قوی حکومت کے بروئے کار آنے سے جب کہ وہ مظلوموں کے حامی کے انتظار میں وقت شماری کریں گے، لیکن بہت ساری حکومتوں سے خوشحال نہیں ہوں گے ، اور ہر گروہ اور پارٹی کی بات نہیں مانیں گے، سچی بات یہ ہے کہ وہ کسی کو قادر نہیں سمجھتے جو دنیا کے نظام کو درست کر سکے اور پُر آشوب دنیا کو ٹھکانے لگا سکے۔

اس لحاظ سے جو سماج کے نظم بر قرار ہونے اور دنیا میں امنیت کی وسعت کے دعویدار ہیں، انہیں مافوق قوت کا مالک ہونا چاہیے اس بات کا اثبات کرامتوں کے ظاہر کرنے اور خارق العادة کاموں کے انجام دینے پر ہے، شاید اس لیے ہے کہ حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) ابتدائے ظہور میں معجزات و کرامات سے کام لیں گے، اگر اڑتے پرندوں کو آواز دیں گے تو وہ فوراً نیچے آ کر حضرت کے اختیار میں آ جائیں گے، خشک لکڑی کو اگر بنجر اور سخت زمین میں گاڑیں گے تو بلا فاصلہ وہ ہری بھری ہو جائے گی اور اس میں شاخ و پتے نکل آئیں گے ۔

ان کاموں سے لوگوں پر ثابت ہو جائے گا کہ میرا ایسی شخصیت سے سامنا ہے جس کے اختیار میں زمین و آسمان ہیں ،یہ کرامتیں در حقیقت ان لوگوں کے لیے ایک نوید ہوں گی جو سالہا سال اور صدیوں سے آسمان و زمین کے نیچے مظلوم و مغلوب اور دبے ہوں گے اور لاکھوں قربانی دینے کے با وجود قادر نہ ہو سکے ہوں گے جو ایسے حملوں کے لیے رکاوٹ بن سکے، لیکن اس وقت خود کو ایک ایسی شخصیت کے سامنے پائیں گے جس کے اختیار میں زمین و آسمان و ما فیھا ہوں گے۔

جو لوگ کل تک قحط کی زندگی گذار رہے تھے حد تو یہ تھی کہ ابتدائی ضرورتوں کو بھی پورا نہ کر سکتے ہوں گے، اور خشک سالی اور زراعت نہ ہونے کی وجہ سے اقتصادی بحران کا شکار ہوں گے، آج وہ لوگ ایسی شخصیت کے سامنے ہوں گے جس کے ایک ہی اشارے سے زمین سر سبز و شاداب ہو جائے گی اور پانی و بارش کا ذخیرہ ہو جائے گا۔

جو لوگ لا علاج بیماریوں سے دوچار ہوں گے، آج اس شخصیت کا سامنا کریں گے جو لا علاج بیماریوں کا علاج کرے گا اور مردوں کو حیات دے گا یہ سارے معجزات و کرامات ہیں جو اس ذات کی قوت و صداقت گفتار کو ثابت کریں گی ۔

خلاصہ یہ کہ دنیا والے یقین کریں گے کہ یہ نوید دینے والا گذشتہ دعویداروں سے کسی طرح مشابہ نہیں ہے ،بلکہ یہ وہی نجات دینے والا ، خداوند کا واقعی ذخیرہ یعنی مہدی موعود (ع) ہیں۔

کبھی حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کی کرامتیں سپاہیوں کے لیے ظاہر ہوں گی جو ان کے ایمان کو محکم اور اعتقاد کو راسخ کریں گی، اور کبھی دشمنوں اور شک کرنے والوں کے لیے ہوں گی جو آنحضرت پر ان کے ایمان و اعتقاد کا سبب ہو گا۔

ان حضرت کے بعض معجزات و کرامات:

1- پرندوں کا بات کرنا:

امیر الموٴمنین علی (ع) فرماتے ہیں : حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) اپنی راہ میں ایک سادات حسنی سے ملاقات کریں گے جس کے پاس 12 ہزار سپاہی ہوں گے۔ حسنی احتجاج کرے گا اور خود کو رہبری کا زیادہ حق دار سمجھے گا، حضرت اس کے جواب میں کہیں گے۔ میں مہدی ہوں، حسنی ان سے کہے گا : کیا تمہارے پاس کوئی علامت اور نشانی ہے کہ میں بھی بیعت کروں ؟ حضرت آسمان پر اڑتے پرندے کی طرف اشارہ کریں گے تو پرندہ نیچے آ جائے گا ،اور حضرت کے ہاتھوں پر بیٹھے گا پھر اس وقت قدرت خدا سے گویا ہو گا اور حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کی امامت کی گواہی دے گا۔

سید حسنی کے مزید اطمینان کے لیے حضرت سوکھی لکڑی زمین میں گاڑیں گے تو وہ سر سبز ہو جائے گی اور شاخ و پتے نکل آئیں گے، دوبارہ پتھر کے ٹکڑے کو زمین سے اٹھائیں گے اور ہلکے سے دباوٴ سے اسے ریزہ ریزہ کر کے خمیر کی طرح نرم کر دیں گے ۔

سید یہ ساری کرامتیں دیکھنے کے بعد حضرت پر ایمان لائے گا، اور خود اپنی تمام فوج کے ساتھ حضرت کے سامنے سرتسلیم خم کر دے گا، حضرت اسے فوج کے پہلے دستہ کا کمانڈر بنا دیں گے۔

اختصاص ،ص 304

نعمانی ،غیبة، ص 128

بصائر الدرجات ،ص 356

بحار الانوار، ج 52،ص 321

الشیعہ والرجعہ، ج 1، ص 431

المحجة، ص 217

ینابیع المودة ،ص 429

2- پانی کا ابلنا اور زمین سے غذا کا حاصل کرنا:

امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہیں: جب امام (عجل اللہ تعالی فرجہ) شہر مکہ میں ظہور کریں گے اور وہاں سے کوفہ کا قصد کریں گے، تو اپنی فوج میں اعلان کریں گے کہ کوئی اپنے ہمراہ کھانا پانی نہیں لے گا، حضرت موسی (ع) کا پتھر جو اپنے ہمراہ صاف و شفاف پانی کا بارہ چشمے رکھتا ہے ، لیے ہوں گے، راستے میں جہاں بھی رکیں گے اس کو نصب کر دیں گے، زمین سے پانی کے چشمے ابل پڑیں گے، اور سارے بھوکے اور پیاسے افراد اس سے شکم سیر ہو جائیں گے۔

راستے میں سپاہیوں کی خوراک کا بندوبست اسی طرح سے ہے، پھر جب نجف پہنچ جائیں گے وہاں اس پتھر کے نصب کرنے سے ہمیشہ کے لیے پانی اور دودھ ابلتا رہے گا، جو بھوکے پیاسوں کو سیراب کرے گا ۔

عقد الدرر ،ص 97۔ و 137

القول المختصر ،ص 19

الشیعہ والرجعہ، ج 1،ص 158

امام محمد باقر (ع) فرماتے ہیں : جب حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) ظہور کریں گے، تو رسول خدا کا پرچم ،سلیمان کی انگوٹھی، عصا اور سنگ موسی ان کے ہمراہ ہو گا، پھر حضرت کے حکم سے سپاہیوں کے درمیان اعلان ہو گا کہ کوئی اپنے کھانے پینے نیز جانوروں کے چارے کا انتظام نہ کرے ۔ بعض لوگ اپنے ساتھیوں سے کہیں گے : کیا وہ ہمیں ہلاک کرنا اور ہماری سواریوں کو بھوکا پیاسا مارنا چاہتے ہیں ، پہلی جگہ پہنچتے ہی حضرت پتھر زمین میں نصب کریں گے، اور فوج کے کھانے پینے نیز چوپایوں کے چارے کا انتظام ہو جائے گا، شہر نجف پہنچنے تک اس سے استفادہ کرتے رہیں گے۔

بصائر الدرجات ،ص 188

کافی ،ج 1،ص 231

نعمانی، غیبة، ص 238

خرائج، ج 2، ص 690

نور الثقلین ،ج 1، ص 84

بحار الانوار، ج 13، ص 185و ،ج  52،ص 324

3- طی الارض اور سایہ کا فقدان:

امام رضا (ع) فرماتے ہیں : جب حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) ظہور کریں گے تو زمین نور الٰہی سے روشن ہو جائے گی، اور حضرت مہدی کے قدموں کے نیچے تیزی سے آگے بڑھے گی، آپ تیزی سے راستہ طے کریں گے اور آپ وہ ہیں کہ جس کا سایہ نہ ہو گا۔

کمال الدین، ص 670

بحار الانوار، ج 52،ص 351

وافی، ج 2، ص 465

4- انتقال کا ذریعہ:

امام محمد باقر (ع) نے سورہ نامی شخص سے کہا : ذوالقرنین کو اختیار دیا گیا کہ نرم و سخت دو بادلوں میں کسی ایک کا انتخاب کرلیں، انھوں نے نرم بادل کا انتخاب کیا، سخت حضرت صاحب الامر کے لیے ذخیرہ رہ گیا ،سورہ نے پوچھا : سخت بادل کس لیے ہے؟ حضرت نے کہا جن بادلوں میں چمک، گرج، کڑک اور بجلی ہو گی جب ایسا ابر ہو گا تو تمہارے صاحب الامر اس پر سوار ہیں، بے شک آپ بادل پر سورا ہوں گے، اور اس کے ذریعہ آسمان کی بلندی کی طرف جائیں گے، اور سات آسمان و زمین کی مسافت طے کریں گے، وہی 5 زمینیں جو قابل سکونت ہیں اور 2 ویران ہیں۔

کمال الدین، ص 372

کفایة الاثر، ص 323

اعلام الوری، ص 408

کشف الغمہ، ج 3 ، ص 314

فرائد السمطین، ج 2، ص 335

ینابیع المودة، ص 489

نور الثقلین ،ج 4،ص 47

بحار الانوار، ج 51،ص 157

کفایة الاثر، ص 324

احتجاج، ج 2، ص 449

اعلام الوری، ص 409

خرائج، ج 3، ص 117

مستدرک الوسائل ،ج 2، ص 33

5- زمانے کی چال میں سستی:

امام محمد باقر (ع) فرماتے ہیں: جب حضرت امام زمان (عجل اللہ تعالی فرجہ) ظہور کریں گے تو کوفہ کی سمت حرکت کریں گے، پھر وہاں سات سال حکومت کریں گے جس کا ہر سال 10 سال کے برابر ہو گا، پھر اس کے بعد جو اللہ کا ارادہ ہو گا انجام دیں گے، کہا گیا سال کس طرح طولانی ہو گا ؟ امام نے کہا: کہ خداوند عالم شمسی نظام اور اس کے مدیر فرشتوں کو حکم دے گا کہ اپنی رفتار کم کرو اس طرح سے ایام و سال طولانی ہو جائیں گے۔

کہتے ہیں کہ اگر ان کی رفتار میں معمولی سے بھی تبدیلی ہوئی تو آپس میں ٹکرا کر تباہ ہو جائیں گے تو امام نے جواب دیا: یہ قول مادہ پرستوں اور منکرین خدا کا ہے لیکن مسلمان جو خداوند عالم کو اس کا گردش دینے والا جانتے ہیں، ایسی باتیں نہیں کرتے۔

اختصاص، ص 326

بحارالانوار،ج  52،ص 312

غایة المرام، ص 77

6- قدرت تکبیر:

کعب حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ذریعہ شہر قسطنطنیہ کی فتح کے بارے میں کہتا ہے کہ: حضرت ، اپنا پرچم زمین میں رکھ کر پانی کی طرف وضو کرنے نماز صبح کے لیے جائیں گے، پانی حضرت سے دور ہو جائے گا ، امام پرچم اٹھا کر پانی کے طرف دوڑیں گے تا کہ حضرت کا اس گوشہ سے گذر ہو جائے پھر اس وقت پرچم زمین میں رکھ دیں گے، اور سپاہیوں کو آواز دیں گے اور کہیں گے: اے لوگو! خداوند عالم نے دریا تمہارے لیے بنائے ہیں ، جس طرح بنی اسرائیل کے لیے شگاف کیا تھا پھر فوجی دریا سے پار ہو کر شہر قسطنطنیہ کے مقابل کھڑے ہو جائیں گے، سپاہی تکبیر کی آواز بلند کریں گے، اور شہر کی دیواریں ہلنے لگیں گی، دوبارہ تکبیر کہیں گے پھر دیوار ہلنے لگے گی، جب تیسری بار تکبیر کی آواز بلند ہو گی تو بارہ برجی محفوظ دیواریں زمین بوس ہو جائیں گی ۔

عقد الدرر، ص 138

رسول خدا فرماتے ہیں : حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) قسطنطنیہ کے سامنے اتریں گے، اس وقت اس قلعہ میں 7 دیواریں ہوں گی، حضرت سات تکبیر کہیں گے تو دیواریں زمین بوس ہو جائیں گی، اور بہت سارے رومی سپاہی کے قتل کے بعد وہ جگہ حضرت کے تحت تصرف آ جائے گی اور کچھ گروہ اسلام لے آئیں گے۔

العلل المناہیہ، ج 2،ص 855

عقد الدرر، ص 180

حضرت امیر الموٴمنین (ع) فرماتے ہیں: پھر حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) اور ان کے اصحاب تحریک جاری رکھیں گے، رومی کسی قلعہ سے نہیں گزریں گے مگر وہ ایک لا الہ الا اللہ سے مسمار ہو جائے گا ، اس کے بعد شہر قسطنطنیہ سے قریب ہو جائیں گے، وہاں پر چند تکبیر کہیں گے، پھر اس کے پڑوس میں واقع دریا خشک ہو جائے گا، اور پانی زمین کی تہہ میں چلا جائے، گا اور شہر کی دیواریں بھی گر جائیں گی، وہاں سے رومیوں کے شہر کی جانب چل پڑیں گے، اور جب وہاں پہنچ جائیں گے، تو مسلمان تین تکبیر کہیں گے، تو شہر دھول اور ریت کی طرح نرم ہو کر اڑنے لگے گا۔

عقد الدرر، ص 139

نیز آنحضرت فرماتے ہیں : حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) اپنی تحریک جاری رکھیں گے یہاں تک کہ شہروں کو عبور کرتے ہوئے دریا تک پہنچ جائیں گے، حضرت کا لشکر تکبیر کہے گا، اس کے کہتے ہی دیواریں آپس میں ٹکرا کر گر جائیں گی۔

الشیعہ والرجعہ، ج 1، ص 161

7- پانی سے گذر:

امام صادق (ع) فرماتے ہیں : میرے بابا نے کہا ہے کہ: حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) قیام کریں گے تو افواج کو شہر قسطنطنیہ تک روانہ کریں گے، اس وقت وہ خلیج تک پہنچ جائیں گے ، اپنے قدموں پر ایک جملہ لکھیں گے، اور پانی سے گذر جائیں گے، اور جب رومی اس عظمت اور معجزہ کو دیکھیں گے، تو ایک دوسرے سے کہیں گے جب امام زمانہ کے سپاہی ایسے ہیں تو خود حضرت کیسے ہوں گے ! اس طرح وہ دروازے کھول دیں گے، اور لشکر شہر میں داخل ہو جائے گا ،اور وہاں حکومت کرے گا۔

نعمانی ،غیبة، ص 159

دلائل الامامہ، ص 249

اثبات الہداة، ج 3، ص 573

بحار الانوار، ج 52،ص 365

8- بیماروں کو شفاء:

امیر الموٴمنین (ع) فرماتے ہیں : حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) پرچموں کو ہلا کر معجزات ظاہر کریں گے، اور خداوند عالم کے اذن سے ناپید اشیاء کو وجود میں لائیں گے، سفید داغ اور کوڑھ کے مریضوں کو شفا دیں گے ، مردوں کو زندہ اور زندوں کو مردہ کریں گے۔

الشیعہ والرجعہ، ج 1،ص 169

9- ہاتھ میں موسی (ع) کا عصا:

امام محمد باقر (ع) فرماتے ہیں: حضرت موسی (علیہ السلام) کا عصا جناب آدم (ع) سے متعلق تھا جو شعیب پیغمبر تک پہنچا ، اس کے بعد موسی (ع) ابن عمران کو دیا گیا ، وہی عصا اب میرے پاس ہے، ابھی جلدی ہی اسے دیکھا ہے، تو وہ سبز تھا، ویسے ہی جیسے ابھی درخت سے الگ کیا گیا ہو، جب اس عصا سے سوال کیا جائے گا، تو جواب دے گا، اور وہ ہمارے قائم کے لیے تیار کیا گیا ہے، اور جو کچھ موسی (ع) نے اس سے انجام دیا ہے، وہی حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) اس سے انجام دیں گے، اور اس عصا کو جو بھی حکم ہو گا انجام دے گا ، اور جہاں ڈال دیا جائے گا جادو کو نگل جائے گا۔

کمال الدین ،ج 2،ص 673

بحار الانوار ،ج 52،ص 318 و 351

 اصول کافی، ج 1، ص 232

10- بادل کی آواز:

امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہیں : آخر زمان میں حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) ظہور کریں گے تو بادل آپ کے سر پر سایہ فگن ہو کر جہاں آپ جائیں گے آپ کے ہمراہ وہ بھی جائے گا، تا کہ حضرت کی سورج کی تمازت سے حفاظت کرے، اور ببانگ دھل آواز دے گا کہ یہ مہدی ہیں۔

تاریخ موالید الآئمہ، ص 200

کشف الغمہ، ج 3،ص 265

الصراط المستقیم ،ج 2، ص 260

بحار الانوار، ج 51، ص 240

اثبات الہداة ،ج 3،ص 615

نوری ،کشف الاستار، ص 69

امام جعفر صادق (ع) کے بقول نتیجہ یہ ہو گا کہ کسی نبی اور وصی کا معجزہ باقی نہیں بچے گا مگر یہ کہ خداوند عالم اسے حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ہاتھوں ظاہر کر دے گا، تا کہ دشمنوں پر حجت تمام ہو جائے۔

خاتون آبادی، اربعین ،ص 67

اثبات الہداة، ج 3،ص 700

امام زمان (ع) زمین والوں کے لیے امان ہیں:

اِنّی لَاٴَمٰانُ لِاٴَہْلِ الْاٴَرْضِ کَمٰا اَٴنَّ النُّجُومَ اٴَمٰانُ لِاٴَھلِ السَّمٰاءِ،

بے شک میں اہل زمین کے لیے امن و سلامتی ہوں، جیسا کہ ستارے آسمان والوں کے لیے امان کا باعث ہیں۔

کمال الدین، ج 2، ص 485

الغیبة، شیخ طوسی، ص 292

احتجاج، ج 2، ص 284

اعلام الوری، ج 2، ص 272

کشف الغمة، ج 3، ص 340

الخرائج والجرائح، ج 3، ص 115

بحار الانوار، ج  53، ص 181

شرح:

یہ کلام حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے اس جواب کا ایک حصہ ہے جس کو امام علیہ السلام نے اسحاق بن یعقوب کے جواب میں لکھا ہے، اسحاق نے اس خط میں امام علیہ السلام سے غیبت کی وجہ کے بارے میں سوال کیا تھا۔ امام علیہ السلام نے غیبت کی علت بیان کرنے کے بعد اس نکتہ کی طرف اشارہ فرمایا کہ غیبت کے زمانے میں امام کا وجود بے فائدہ نہیں ہے، وجود امام کے فوائد میں سے ایک ادنی فائدہ یہ ہے کہ امام زمین والوں کے لیے باعث امن و امان ہیں، جیسا کہ ستارے آسمان والوں کے لیے امن و سلامتی کا ذریعہ ہوتے ہیں۔

دوسری صحیح روایات میں اسی مضمون کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ جیسا کہ اُن روایات میں بیان ہوا ہے: اگر زمین پر حجت خدا نہ ہو تو زمین اور اس پر بسنے والے مضطرب اور تباہ و برباد ہو جائیں گے۔

امام زمان علیہ السلام کو اہل زمین کے لیے امن و امان سے اس طرح تشبیہ دینا جس طرح ستارے اہل آسمان کے لیے امن و امان ہوتے ہیں، اس سلسلے میں شباہت کی چند چیزیں پائی جاتی ہیں جن میں سے دو چیزوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:

1- جس طرح تخلیقی لحاظ سے ستاروں کا وجود اور ان کو ان کی جگہوں پر رکھنے کی حالت اور کیفیت، تمام کرّات، سیارات اور کہکشاوٴں کے لیے امن و امان اور آرام کا سبب ہے، زمین والوں کے لیے امام زمان علیہ السلام کا وجود بھی اسی طرح سے ہے۔

2- جس طرح ستاروں کے ذریعہ شیاطین آسمانوں سے بھگائے گئے ہیں اور اہل آسمان منجملہ ملائکہ کے امان و آرام کا سامان فراہم ہوا ہے اسی طرح حضرت امام زمان علیہ السلام کا وجود، تخلیقی اور تشریعی لحاظ سے اہل زمین سے، مخصوصا انسانوں سے شیطان کو دور بھگانے کا سبب ہے۔

فلسفہٴ امامت اور صفات امام:

اٴَحْییٰ بِھمْ دینَہُ، َواَٴتَمَّ بِھمْ نُورَہُ، وَجَعَلَ بَیْنَھمْ وَبَیْنَ إِخْوٰانِھمْ وَبَنِي عَمِّھمْ َوالْاٴَدْنَیْنَ فَالْاٴَدْنَیْنَ مِنْ ذَوي اٴَرْحٰامِھمْ فُرْقٰاناً بَیِّناً یُعْرَفُ بِہِ الْحُجَّةُ مَنِ الْمَحْجُوجِ، وَالاْمٰامُ مِنَ الْمَاٴمُومِ، بِاٴَنْ عَصَمَھمْ مِنَ الذُّنُوبِ، وَ بَرَّاٴَھمْ مِنَ الْعُیُوبِ، وَ طَھرَھمْ مِنَ الدَّنَسِ، َونَزَّھمْ مِنَ اللَّبْسِ، وَجَعَلَھمْ خُزّٰانَ عِلْمِہِ، وَ مُسْتَوْدَعَ حِکْمَتِہِ، وَمَوْضِعَ سِرِّہِ، وَ اٴَیَّدَھمْ بِالدَّلاٰئِلِ، وَلَوْلاٰ ذٰلِکَ لَکٰانَ النّٰاسُ عَلیٰ سَوٰاءٍ، وَ لَاِدَّعیٰ اٴَمْرَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ کُلُّ اٴَحَدٍ، وَ لَمٰا عُرِفَ الْحَقُ مِنَ الْبٰاطِلِ، وَ لاٰ الْعٰالِمُ مِنَ الْجٰاہِلِ،

اوصیائے الٰھی وہ افراد ہیں جن کے ذریعہ خداوند عالم اپنے دین کو زندہ رکھتا ہے، ان کے ذریعہ اپنے نور کو مکمل طور پر نشر کرتا ہے، خداوند عالم نے ان کے اور ان کے حقیقی بھائیوں، چچا زاد بھائیوں اور دیگر رشتہ داروں کے درمیان واضح فرق رکھا ہے کہ جس کے ذریعہ حجت اور غیر حجت نیز امام اور ماموم کے درمیان پہچان ہو جائے۔ اور وہ واضح فرق یہ ہے کہ اوصیائے الٰہی کو خداوند عالم گناہوں سے محفوظ رکھتا ہے اور ان کو ہر عیب سے منزہ، برائیوں سے پاک اور خطاؤں سے دور رکھتا ہے، خداوند عالم نے ان کو علم و حکمت کا خزانہ دار اور اپنے اسرار کا راز دار قرار دیا ہے اور دلیلوں کے ذریعہ ان کی تائید کرتا ہے۔ اگر یہ نہ ہوتے تو پھر تمام لوگ ایک جیسے ہو جاتے، اور کوئی بھی امامت کا دعویٰ کر بیٹھتا، اس صورت میں حق و باطل اور عالم و جاہل میں تمیز نہ ہو پاتی۔

الغیبة، طوسی، ص 288

احتجاج، ج 2، ص 280

بحار الانوار، ج  53، ص 194

شرح:

یہ کلمات امام مہدی علیہ السلام نے احمد بن اسحاق کے خط کے جواب میں تحریر کیے ہیں، امام علیہ السلام چند نکات کی طرف اشارہ کرنے کے بعد امام اور امامت کی حقیقت اور شان کو بیان کرتے ہوئے امام کی چند خصوصیات بیان فرماتے ہیں، تا کہ ان کے ذریعہ حقیقی امام اور امامت کا جھوٹا دعوی کرنے والوں کے درمیان تمیز ہو سکے:

1- امام کے ذریعہ خدا کا دین زندہ ہوتا ہے، کیونکہ امام ہی اختلافات، فتنوں اور شبہات کے موقع پر حق کو باطل سے الگ کرتا ہے اور لوگوں کو حقیقی دین کی طرف ہدایت کرتا ہے۔

2- نور خدا جو رسول خدا (ص) سے شروع ہوتا ہے، امام کے ذریعہ تمام اور کامل ہوتا ہے۔

3- خداوند عالم نے پیغمبر اکرم (ص) کی ذرّیت میں امام کی پہچان کے لیے کچھ خاص صفات معین کیے ہیں، تا کہ لوگ امامت کے سلسلہ میں غلط فہمی کا شکار نہ ہوں، مخصوصاً اس موقع پر جب ذرّیت رسول کے بعض افراد امامت کا جھوٹا دعوی کریں۔ ان میں سے بعض خصوصیات کچھ اس طرح ہیں:

گناہوں کے مقابلہ میں عصمت، عیوب سے پاکیزگی، برائیوں سے مبرّا اور خطا و لغزش سے پاکیزگی وغیرہ۔

اگر یہ خصوصیات نہ ہوتی تو پھر ہر کس و ناکس امامت کا دعوی کر دیتا، اور پھر حق و باطل میں کوئی فرق نہ ہوتا، جس کے نتیجہ میں دین الٰہی پوری دنیا پر حاکم نہ ہوتا۔

فلسفہٴ امامت:

اٴَوَ مٰا رَاٴَیْتُمْ کَیْفَ جَعَلَ اللهُ لَکُمْ مَعٰاقِلَ تَاٴوُونَ إِلَیْھا، وَ اٴَعْلاٰماً تَھتَدُونَ بِھا مِنْ لَدُنْ آدَمَ ،

کیا تم نے نھیں دیکھا کہ خداوند عالم نے کس طرح تمہارے لیے پناہ گاہیں قرار دی ہیں تاکہ ان میں پناہ حاصل کرو، اور ایسی نشانیاں قرار دی ہیں جن کے ذریعہ ہدایت حاصل کرو، حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ سے آج تک۔

الغیبة، شیخ طوسی، ص 286

احتجاج، ج 2، ص 278

بحار الانوار، ج  53، ص 179

شرح:

امام زمانہ علیہ السلام امامت، وصایت اور جانشینی میں شک و تردید سے دوری کرنے کے سلسلہ میں بہت زیادہ سفارش کرنے کے بعد فرماتے ہیں: وصایت کا سلسلہ ہمیشہ تاریخ کے مسلم اصول میں رہا ہے، اور جب تک انسان موجود ہے زمین حجت الٰہی سے خالی نہیں ہو گی، امام علیہ السلام نے مزید فرمایا:

تاریخ کو دیکھو! کیا تم نے کسی ایسے زمانہ کو دیکھا ہے جو حجت خدا سے خالی ہو، اور اب تم اس سلسلہ میں اختلاف کرتے ہو؟!

امام علیہ السلام نے حدیث کے اس سلسلہ میں امامت کے دو فائدے شمار کیے ہیں:

1- امام، مشکلات اور پریشانیوں کے عالم میں ملجا و ماویٰ اور پناہ گاہ ہوتا ہے۔

2- امام،لوگوں کو دین خدا کی طرف ہدایت کرتا ہے۔

کیونکہ امام معصوم علیہ السلام نہ صرف یہ کہ لوگوں کو دین اور شریعت الٰہی کی طرف ہدایت کرتے ہیں بلکہ مادّی اور دنیوی مسائل میں ان کی مختلف پریشانیوں کو بھی دور کرتے ہیں۔

علم امام کی قسمیں:

عِلْمُنٰا عَلیٰ ثَلاٰثَہِ اٴَوْجُہٍ: مٰاضٍ وَغٰابِرٍ وَحٰادِثٍ، اٴَمَّا الْمٰاضِي فَتَفْسیرٌ، وَ اٴَمَّا الْغٰابِرُ فَموْ قُوفٌ، وَ اٴَمَّا الْحٰادِثُفَقَذْفٌ في الْقُلُوبِ، وَ نَقْرُ في الْاٴَسْمٰاعِ، وَہُوَ اٴَفْضَلُ عِلْمِنٰا، وَ لاٰ نَبيَّ بَعْدَ نَبِیِّنٰا،

"ہم (اہل بیت) کے علم کی تین قسمیں ہوتی ہیں: گزشتہ کا علم، آئندہ کا علم اور حادث کا علم۔ گزشتہ کا علم تفسیر ہوتا ہے، آئندہ کا علم موقوف ہوتا ہے اور حادث کا علم دلوں میں بھرا جاتا اور کانوں میں زمزمہ ہوتا ہے۔ علم کا یہ حصہ ہمارا بہترین علم ہے اور ہمارے پیغمبر (ص) کے بعد کوئی دوسرا رسول نہیں آئے گا"۔

مرآة العقول، ج 3، ص 136

شرح:

یہ الفاظ امام زمانہ علیہ السلام کے اس جواب کا ایک حصہ ہیں جس میں علی بن محمد سمری نے علم امام کے متعلق سوال کیا تھا۔

علامہ مجلسی کتاب "مرآة العقول" میں ان تینوں علم کے سلسلہ میں فرماتے ہیں کہ:

"علم ماضی" سے وہ علم مراد ہے جس کو پیغمبر اکرم (ص) نے اپنے اہل بیت علیھم السلام سے بیان کیا ہے، نیز یہ علم ان علوم پر مشتمل ہے جو گزشتہ انبیاء علیھم السلام اور گزشتہ امتوں کے واقعات کے بارے میں ہیں اور جو حوادثات ان کے لیے پیش آئے ہیں اور کائنات کی خلقت کی ابتداء اور گزشتہ چیزوں کی شروعات کے بارے میں ہیں۔

"علم غابر" سے مراد آئندہ پیش آنے والے واقعات ہیں، کیونکہ غابر کے معنی "باقی" کے ہیں، غابر سے مراد وہ یقینی خبریں ہیں جو کائنات کے مستقبل سے متعلق ہیں، اسی وجہ سے امام علیہ السلام نے اس کو "موقوفہ" کے عنوان سے یاد کیا ہے جو علوم کائنات کے مستقبل سے تعلق رکھتے ہیں وہ اہل بیت علیھم السلام سے مخصوص ہیں، موقوف یعنی "مخصوص"۔

"علم حادث" سے مراد وہ علم ہے جو موجودات اور حالات کے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے، یا مجمل چیزوں کی تفصیل مراد ہے۔۔۔

"قَذْفُ في الْقُلُوبِ"، سے خداوند عالم کی طرف سے عطا ہونے والا وہ الہام مراد ہے جو کسی فرشتہ کے بغیر حاصل ہوا ہو۔

"نَقْرُ في الْاٴَسْمٰاعِ"، سے وہ الٰھی الہام مراد ہے جو کسی فرشتہ کے ذریعہ حاصل ہوا ہو۔

تیسری قسم کی افضلیت کی دلیل یہ ہے کہ الہام (چاہے بالواسطہ ہو یا بلا واسطہ) اہل بیت علیھم السلام سے مخصوص ہے۔

الٰہی الہام کی دعا کے بعد ممکن ہے کوئی انسان آئمہ علیھم السلام کے بارے میں نبی ہونے کا گمان کرے، اسی وجہ سے امام زمانہ علیہ السلام نے آخر میں اس نکتہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) کے بعد کوئی پیغمبر نہیں آئے گا۔

مرآة العقول، ج 3، ص 136 

يا وَصِىَّ الْحَسَنِ وَالْخَلَفَ الْحُجَّةَ اَيُّهَا الْقاَّئِمُ الْمُنْتَظَرُ الْمَهْدِىُّ يَا بْنَ رَسُولِ اللّهِ يا حُجَّةَ اللّهِ عَلى خَلْقِهِ يا سَيِّدَنا وَمَوْلينا اِنّا تَوَجَّهْنا وَاسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا بِكَ اِلَى اللّهِ وَقَدَّمْناكَ بَيْنَ يَدَىْ حاجاتِنا يا وَجيهاً عِنْدَ اللّهِ اِشْفَعْ لَنا عِنْدَ اللّهِ .......،

التماس دعا....






Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی