2017 November 23
ولادت حضرت امام حسین (ع)، رحمت واسعہ خداوند رحیم
مندرجات: ٧١٧ تاریخ اشاعت: ٢٩ April ٢٠١٧ - ١٨:١٣ مشاہدات: 440
یاداشتیں » پبلک
ولادت حضرت امام حسین (ع)، رحمت واسعہ خداوند رحیم

امام حسین علیہ السلام کی ولادت با سعادت:

حضرت امام حسین بن علی علیہما السلام مدینہ منورہ میں ہجرت کے چوتھے سال تین شعبان کو منگل یا بدھ کے دن پیدا ہوۓ۔ بعض مؤرخین کے مطابق آپ کی ولادت ہجرت کے تیسرے سال ربیع الاول اور بعض کے مطابق ہجرت کے تیسرے یا چوتھے سال جمادی الاول کی پنجم کو ہوئی ہے۔ بنابریں آپ کی تاریخ پیدائش کے بارے میں مختلف اقوال ہیں لیکن قول مشہور یہ ہے کہ آپ تین شعبان ہجرت کے چوتھے سال میں پیدا ہوۓ۔

ولادت کے بعد آپ کو آپ کے جد بزرگوار رسول اکرم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کے پاس لایا گيا آپ کو دیکھ کر رسول اکرم (ص) مسرور و شادمان ہو‌ۓ آپ کے دائيں کان میں اذان کہی اور بائيں کان میں اقامت، اور ولادت کے ساتویں دن ایک گوسفند کی قربانی کر کے آپ کا عقیقہ کیا اور آپ کی والدہ جناب صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیھا سے فرمایا کہ "بچے کا سر مونڈ کر بالوں کے وزن کے برابر چاندی صدقہ دو۔

حضرت امام حسین علیہ السلام نے چھ سال چند ماہ کا عرصہ اپنے جد امجد رسول اللہ کے زیر سایہ گزارا اور 29 سال و گیارہ ماہ اپنے پدر بزرگوار امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام اور دس سال کا عرصہ اپنے برادر بزرگوار حضرت امام حسن مجتبی کے ساتھ گزارا، امام حسن علیہ السلام کی شہادت کے بعد آپ کی امامت کی مدت دس برسوں پر مشتمل ہے۔

رسول اللہ (ص) نے آپ کا نام رکھا:

روایات میں آیا ہے کہ سبطین علیھما السلام کے اسماء مبارکہ کا انتخاب خود رسول اللہ ص نے فرمایا ہے اور یہ نام خدا کے حکم سے رکھے گئے ہیں۔

حضرت علی علیہ السلام سے روایت ہے کہ: آپ نے فرمایا جب حسن کی ولادت ہوئی تو میں نے اس کا نام اپنے عم محترم حمزہ کے نام پر رکھا اور جب حسین پیدا ہوۓ تو اس کا نام اپنے دوسرے چچا جعفر کے نام پر رکھا۔ ایک دن رسول اکرم نے مجھے طلب فرمایا اور کہا مجھےخداوند نے حکم دیا ہے کہ ان دونوں بچوں کے نام بدل دوں اور آج سے ان کے نام حسن و حسین ہونگے۔

ایک اور روایت میں ہے کہ: رسول اکرم نے فرمایا میں نے اپنے بچوں حسن و حسین کے نام فرزندان ہارون کے ناموں پر رکھے ہیں اور وہ اپنے بچوں کو شبر و شبیر کہتے تھے اور میں نے اپنے بچوں کے نام اسی معنی میں عربی میں حسن و حسین رکھے ہیں۔

ولادت کے بعد خبر شہادت:

اسماء بنت عمیس کہتی ہیں کہ جب حضرت امام حسین علیہ السلام کی ولادت ہوئی تو رسول اللہ تشریف لاۓ اور فرمایا اسماء میرے بیٹے کو میرے پاس لاؤ میں نے بچے کو سفید کپڑے میں لپیٹ کر رسول اللہ کی گود میں دیا آپ نے بچے کے دائيں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی اور ایسے عالم میں جب آپ امام حسین علیہ السلام کو گود میں لیے ہوۓ تھے گریہ بھی فرما رہے تھے۔
میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ کے گرئیے کا کیا سبب ہے؟

آپ نے فرمایا میں اس بچے کے لیے گریہ کر رہا ہوں۔
میں نے کہا یہ بچہ تو ابھی پیدا ہوا ہے پس گریہ کیسا؟

آپ نے فرمایا ہاں اسماء ایک سرکش گروہ اس کو قتل کرے گا خدا انہیں میری شفاعت سے محروم کرے ، اس کے بعد آپ نے فرمایا یہ بات فاطمہ کو مت بتانا ابھی اس کے بچے کی ولادت ہوئی ہے۔
ایک دن ام الفضل رسول اکرم کے چچا عباس کی زوجہ رسول اللہ (ص) کی خدمت میں آئیں اور کہا یا رسول اللہ میں نے گذشتہ شب بڑا برا خواب دیکھا ہے میں نے دیکھا ہے کہ آپ کے بدن مبارک کا ایک ٹکڑا جدا ہو کر میرے دامن میں گر گيا ہے ، آپ نے فرمایا خیر ہے، فاطمہ کے ہاں ایک بچہ ہو گا جس کی پرورش آپ کریں گی۔ میں رسول اللہ کی خدمت میں پہنچی اور بچے کو آپ کی گود میں دیدیا جب دوبارہ میں آپ کی طرف متوجہ ہوئی تو دیکھتی ہوں کہ آپ کی آنکھوں سے اشک جاری ہیں۔

میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں آپ کس وجہ سے گریہ فرما رہے ہیں؟

آپ نے فرمایا: ابھی ابھی جبرائيل آئے تھے اور مجھے بتایا ہے کہ میری امت اس بچے کو قتل کر دے گی۔

صفین جاتے ہوۓ حضرت امیر المؤمنین کا گزر کربلا سے ہوا آپ وہاں کچھ دیر کے لیے رکے اور اس قدر گریہ کیا کہ زمین آپ کے آنسووں سے تر ہو گئی، آپ نے فرمایا ایک دن ہم رسول اللہ کی خدمت میں پہنچے تو دیکھا کہ آپ گریہ فرما رہے ہیں۔ میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ کیوں گریہ فرما رہے ہیں؟رسول اللہ نے فرمایا کہ ابھی ابھی جبرائيل آۓ تھے انہوں نے مجھے بتایا کہ میرا بیٹا حسین دریاۓ فرات کے کنارے کربلاء نامی زمین پر مارا جاۓ گا اور جبرئيل مجھے سنگھانے کے لیے کربلا کی ایک مٹھی خاک لیکر آۓ تھے، جسے دیکھ میں گرئیے پر ضبط نہ کر سکا۔

اس کے بعد امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا کہ یہیں ان کا پڑاؤ ہو گا یہاں ان کا خون بہایا جاۓ گا اور آل محمد کے بعض لوگ اس صحرا میں قتل کیے جائيں گے جن کے حال پر زمیں و آسماں گریہ کریں گے۔

رسول اللہ (ص) سے شباہت:

متعدد روایات میں وارد ہوا ہے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام رسول اللہ (ص) سے سب سے زیادہ شباہت رکھتے تھے۔ اصحاب نے اس بات کا ذکر امام حسین علیہ السلام کی صورت و سیرت کے سلسلے میں متعدد مرتبہ کیا ہے۔ خاص طور سے آپ کی قامت رسول اسلام سے بہت زیادہ مشابھت رکھتی تھی اور جو بھی آپ کو دیکھتا اسے رسول خدا یاد آ جاتے تھے۔

عاصم بن کلیب نے اپنے باپ سے نقل کیا ہے کہ: ایک دن میں نے رسول اللہ کو خواب میں دیکھا اور اس خواب کی تعبیر ابن عباس سے دریافت کی کہ آیا یہ خواب صحیح ہے یا نہیں ابن عباس نے کہا جب تو نے رسول اللہ کو دیکھا تو کیا تمہیں امام حسین کا خیال نہیں آیا؟ میں نے کہا خدا کی قسم رسول اللہ کے قدم اٹھانے کا انداز اسی طرح تھا، جس طرح حسین قدم اٹھاتے ہیں۔ اس وقت ابن عباس نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ حسین کو رسول اللہ سے مشابہ پایا ہے۔

انس بن مالک کہتے ہیں کہ میں عبید اللہ بن زیاد کے پاس تھا کہ حسین ابن علی کے سر کو ایک طشت میں دربار میں لایا گيا، ابن زیاد نے چھڑی سے آپ کی ناک اور صورت کی طرف اشارہ کیا اور کہا میں نے اس سے اچھا چہرہ نہیں دیکھا ہے، میں نے کہا اے ابن زیاد کیا تو نہیں جانتا کہ حسین ابن علی رسول اللہ سے سب سے زیادہ شباہت رکھتے تھے۔

امام حسین علیہ السلام سے رسول خدا  (ص)کی محبت:

امام حسین علیہ السلام کی ذات مبارک کا ایک خوبصورت ترین اور ممتاز ترین پہلو آپ اور آپ کے برادر بزرگوار امام حسن علیہ السلام سے رسول اللہ کی شدید محبت اور بے انتہا توجہ ہے۔ یہ امر اس قدر واضح اور عیان تھا کہ اہل سنت کی متعدد کتب حدیث و تاریخ میں اس کا ذکر ملتا ہے، یہاں پر ہم اختصار سے بعض امور کا ذکر کر رہے ہیں:

رسول اللہ (ص) اپنے بعض اصحاب کے ساتھ کسی کے گھر دعوت پر تشریف لےجا رہے تھے کہ راستے میں امام حسین علیہ السلام کو دیکھا آپ کھیل میں مشغول تھے رسول اللہ آگے بڑھے اور حسین کو گود میں لینا چاہا لیکن امام حسین علیہ السلام آپ کے ہاتھ نہیں آ رہے تھے، رسول اللہ بھی ہنستے ہوئے آپ کے پیچھے پیچھے آ رہے تھے، یہاں تک کہ آپ کو آغوش میں لے لیا اس کے بعد گردن پر ایک ہاتھ اور ٹھوڑی کے نیچے ایک ہاتھ رکھ کر آپ کے لبوں پر بوسہ دیا اس کے بعد فرمایا:

"حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں خدا اس سے محبت کرتا ہے، جو حسین سے محبت کرتا ہو۔

زید بن حارثہ نقل کرتے ہیں کہ میں کسی کام سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچنا چاہتا تھا۔ رات میں بیت الشرف گيا اور دق الباب کیا، رسول اللہ نے دروازہ کھولا میں نے دیکھا آپ کی عبا میں کچھ ہے آپ باہر تشریف لاۓ میں نے اپنے کام کے بجاۓ یہ پوچھا کہ یا رسول اللہ آپ کی عبا میں کیا ہے؟

آپ نے اپنی عبا ہٹائی اور حسن و حسین کو جو آپ کی گود میں تھے مجھے دکھایا اور فرمایا یہ میرے بچے اور میری بیٹی کے بچے ہیں۔ اس وقت آسمان کی طرف دیکھا اور فرمایا خدایا تو جانتا ہے میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے  محبت فرما اور ان سے محبت کرنے والوں سے بھی محبت فرما۔

سلمان فارسی نے حسنین علیھما السلام سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کے بارے میں نقل کیا ہے کہ:

رسول اللہ نے فرمایا:

"من احبھما احببتہ و من احببتہ احبہ اللہ و من احبہ اللہ ادخلہ جنات النعیم و من ابغضھما او بغی علیھما ابغضتہ و من ابغضتہ ابغضہ اللہ و من ابغضہ اللہ ادخلہ نار جھنم و لہ عذاب مقیم،

جو میرے بیٹوں حسن و حسین سے محبت کرے گا میں اسے دوست رکھوں گا اور میں جسے دوست رکھوں خدا اسے دوست رکھے گا اور خدا جسے دوست رکھے اسے نعمتوں سے سرشار بہشت میں داخل کرے گا لیکن جو ان دونوں سے دشمنی رکھے گا اور ان پر ستم کرےگا میں اس سے دشمنی کرونگا اور جس کا میں دشمن ہوں، خدا اس کا دشمن ہے اور جس کا خدا دشمن ہے خدا اسے جہنم میں ڈال دے گا اور اس کے لیے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے عذاب ہو گا۔

اہل بیت اور امام حسین علیھم السلام سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کو رشتہ داری کی بناء پر محض ایک جذباتی لگاؤ نہیں کہا جا سکتا بلکہ اہل سنت کی کتب میں منقول روایات پر توجہ کرنے سے واضح ہوتا ہے کہرسول اللہ جنہیں اسلامی معاشرہ کے مستقبل کا علم تھا اس طرح حق و باطل میں امتیاز کرنا چاہتے تھے، در حقیقت رسول اللہ نے اپنی ان احادیث سے راہ حق پر چلنے والوں کو مستقبل میں اہل بیت  علیھم السلام کے خلاف ہونے والی عداوتوں اور دشمنیوں سے آگاہ کر دیا تھا۔ ان روایات کے علاوہ دیگر روایات میں رسول خدا نے اہل بیت سے جنگ کو اپنے خلاف جنگ سے تعبیر فرمایا ہے۔

اہل سنت کے ممتاز علماء نے زید بن ارقم اور ابو ہریرہ سے اور دیگر افراد سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ص نے اپنی شہادت کے وقت علی و فاطمہ و حسن و حسین علیھم السلام سے فرمایا کہ:

انّی حرب لمن حاربکم و سلم لمن سالمکم:

میں اس کے خلاف جنگ کرونگا جو تمہارے خلاف جنگ کرے گا اور اس سے دوستی کرونگا جو تم سے دوستی کرے گا۔

براء بن عازب نے روایت کی ہے کہ: رسول اللہ ص نے امام حسین علیہ السلام کے بارے میں فرمایا ہے کہ: "یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اور جو چیزیں مجھ پر حرام ہیں حسین پر بھی حرام ہیں۔

روایات میں آیا ہے کہ ایک دن حسن و حسین علیھما السلام رسول اللہ کے سامنے کشتی لڑ رہے تھے اور رسول اللہ امام حسن کی حوصلہ افزائی فرما رہے تھے، حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھما نے کہا بابا آپ حسن کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں جبکہ وہ بڑے ہیں۔ آپ نے فرمایا جبرئيل بھی یہ کھیل دیکھ رہے ہیں اور حسین کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں اور میں حسن کا۔

امام حسین اور آپ کے برادر بزرگوار امام حسن علیہماالسلام سے رسول اللہ کی محبت زبانزد خاص و عام ہے۔ جو روایات پیش کی گئی ہیں ان کے علاوہ ایسی بہت سی حکایات ہیں جن سے حسنین علیھما السلام کے لیے رسول اللہ کی محبت کا اندازہ ہوتا ہے ۔

روایت ہے کہ نماز جماعت کے موقع پر بچپن میں کبھی کبھی حسن و حسین علیھما السلام اپنے جد بزرگوار کے پاس آتے تھے اور جب آپ سجدہ میں جاتے تھے تو آپ کی کمر پر سوار ہو جاتے، بعض اصحاب بچوں کو رسول اللہ کی کمر پر سے ہٹانے کی کوشش کرتے تھے، لیکن آپ اشارے سے منع فرماتے اور خود بڑے پیار سے دونوں کے ہاتھ تھام کر انہیں نیچے لاتے اور اپنے زانووں پر بٹھا لیتے  تھے۔

ایک دن رسول اللہ نے معمول کے بر خلاف سجدہ کو طول دیا نماز تمام ہونے کے بعد نمازیوں نے آپ سے سوال کیا کہ آج آپ نے سجدہ کو خاصہ طول دیا کیا آپ پر وحی نازل ہوئی تھی یا اور کوئی نیا حکم آیا ہے؟ آپ نے فرمایا ایسی بات نہیں ہے میرا بیٹا حسین میرے کندھے پر بیٹھا ہوا تھا میں نے سجدہ کو طول دیا تا کہ وہ خود اتر آئے اور میں نے خود اسے کندھے پر سے اتارنا مناسب نہیں جانا۔
عمر سے روایت ہے کہ: ایک دن میں نے دیکھا کہ رسول اللہ کے شانوں پر حسن و حسین بیٹھے ہوۓ ہیں، میں نے ان کی طرف دیکھا اور کہا کتنی اچھی سواری ہے۔ پیغمبر نے فرمایا کتنے اچھے سوار ہیں۔

امام حسین علیہ السلام کا گریہ:

رسول اللہ (ص) ایک دن حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کے گھر کے قریب سے گزر رہے تھے آپ کو گھر سے حسین کے رونے کی آواز سنائی دی آپ نے فرمایا بیٹی حسین کو چپ کرو، کیا تم نہیں جانتی کہ اس بچے کے رونے سے مجھے تکلیف ہوتی ہے۔

امام حسین علیہ السلام سب سے بہتر:

حذیفہ یمان روایت کرتے ہیں کہ: ایک دن رسول اللہ (ص) ایسے عالم میں مسجد میں داخل ہوۓ کہ امام حسین علیہ السلام آپ کے شانے پر بیٹھے ہوۓ تھے اور آپ امام حسین علیہ السلام کے پیروں کو اپنے سینے پر دبا رہے تھے، آپ نے فرمایا میں جانتا ہوں آپ لوگ کس مسئلے کے بارے میں اختلاف کا شکار ہیں۔ یہ حسین ابن علی ہیں جن کی دادی بہترین دادی ہیں ان کے جد محمد رسول اللہ سید المرسلین ہیں ان کی نانی خدیجۃ بنت  خویلد وہ پہلی خاتوں ہیں جو خدا اور اس کے رسول پر ایمان لائيں تھیں،یہ حسین ابن علی ہیں جن کے والدین بہترین والدین ہیں ان کے والد علی ابن ابیطالب ہیں جو رسول خدا کے بھائی وزیر اور چچا زاد بھائی ہیں اور وہ پہلے شخص ہیں۔ جو خدا اور اس کے رسول پر ایمان لائے تھے ، اور ان کی والدہ فاطمہ بنت محمد سیدۃ النساء العالمین ہیں۔ یہ حسین ابن علی ہیں جن کے چچا اور پھوپھی بہترین چچا اور پھوپھی ہیں۔ ان کے چچا جعفر ابن ابیطالب ہیں جنہیں خدا نے دو پر عطا کیے ہیں، جن سے وہ جنت میں جہاں چاہتے ہیں پرواز کر کے جا سکتے ہیں۔ ان کی پھوپھی ام ہانی بنت ابی طالب ہیں۔ یہ حسین ابن علی ہیں جن کے ماموں اور خالہ بہترین ماموں اور خالہ ہیں۔ ان کے ماموں قاسم ابن رسول اللہ ہیں اور خالہ زینب بنت رسول اللہ ہیں۔ اس کے بعد رسول اللہ نے حسین کو اپنے شانے سے نیچے اتارا اور فرمایا اے لوگو یہ حسین ہے جس کے دادا اور دادی بہشت میں ہیں، اس کے ماموں اور خالہ بہشت میں ہیں اور یہ بھی اور اس کے بھائی بھی بہشتی ہیں۔

امام حسین علیہ السلام کے فضائل و مناقب:

امام حسین علیہ السلام کے فضائل اس قدر زیادہ ہیں کہ انہیں ایک یا چند کتابوں میں جمع نہیں کیا جا سکتا، بنابریں ہم یہاں پر نہایت اختصار سے چند فضائل بیان کرنے پر ہی اکتفا کریں گے۔ یہاں اس بات کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ مندرجہ ذیل ہر فضیلت کے بارے میں علمائے اہل سنت نے دسیوں حدیثیں نقل کیں ہیں۔

حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں:

امام علی علیہ السلام نے رسول خدا ص سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:

الحسن و الحسین سیدا شباب اھل الجنۃ ۔

ابن عباس نے رسول اللہ (ص) سے روایت کی ہے کہ:

الحسن و الحسین سیدا شباب اھل الجنۃ من احبھما فقد احبنی و من ابغضھما فقد ابغضنی،

حسن و حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں جو ان سے محبت کرےگا، اس نے مجھ سے محبت کی اور جو ان سے بغض رکھے گا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔

اسی روایت کو عمر اور اس کے بیٹے عبد اللہ بن عمر نے بھی رسول اللہ (ص) سے نقل کیا ہے۔

رسول اللہ کے معروف صحابی حذیفہ بن یمان روایت کرتے ہیں کہ:

ایک شب میں رسول اللہ کی خدمت میں گیا اور آپ کے پیچھے مغرب کی نماز پڑھی حضرت اٹھے اور نماز میں مشغول ہو گئے، یہانتک کے عشاء کا وقت ہو گيا نماز عشاء بھی آپ کی امامت میں ادا کی، پھر انتظار کرنے لگا رسول اللہ مسجد سے باہر تشریف لے جانے لگے تا کہ اپنے گھر کی طرف روانہ ہوں، میں بھی آپ کے پیچھے چل پڑا میں نے دیکھا آپ کسی سے گفتگو فرما رہے ہیں تاہم یہ نہ سمجھ سکا کہ آپ کیا فرما رہے ہیں۔ آپ نے اچانک پیچھے مڑ کر دیکھا اور فرمایا کون ہو ؟ میں نے کہا حذیفہ ہوں،

آپ نے فرمایا تم سمجھے میں کس سے بات کر رہا تھا؟

میں نے کہا جی نہیں،

آپ نے فرمایا جبرئيل امین تھے انہوں نے خدا کا سلام پہنچانے کے بعد مجھے بشارت دی کہ فاطمہ جنت کی عورتوں کی سردار اور حسن و حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔

جابر ابن عبد اللہ انصاری نے رسول اللہ سے روایت کی ہے کہ:

ایک دن ہم رسول اللہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوۓ تھے کہ اتنے میں حسین مسجد میں داخل ہوتے ہیں آپ نے ہمیں مخاطب کر کے فرمایا:

من اراد ان ینظر الی سید شباب اھل الجنۃ فلینظر الی حسین ابن علی ۔

جو جنت کے سردار کو دیکھنا چاہتا ہو وہ حسین ابن علی کو دیکھے۔

حسین باب بہشت ہیں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو میرے ذریعے تمہیں دین حق سے آگاہی حاصل ہوئی اور علی کے ذریعے تمہیں صحیح راہ ملی اور تمہاری ہدایت ہوئی۔ حسن کے وسیلہ سے تمہیں نیکیاں عطا ہوئيں لیکن تمہاری سعادت و شقاوت حسین کے ساتھ تمہارے روئیے پر منحصر ہے، آگاہ ہو جاؤ کہ حسین جنت کا ایک دروازہ ہے جو بھی اس سے دشمنی کرے گا خدا اس پر جنت کی خوشبو حرام کر دے گا۔

امام حسین علیہ السلام اور آیۃ تطہیر:

رسول اللہ کی زوجہ باوفا ام سلمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے نقل کرتی ہیں کہ:

ایک دن فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا رسول اللہ کے لیے غذا لے کر آئيں اس دن رسول اللہ میرے گھر میں تشریف رکھتے تھے، رسول اللہ نے اپنی بیٹی کی تعظیم کی اور فرمایا جاؤ میرے چچازاد بھائی علی اور میرے بچوں حسن و حسین کو بھی بلا لاؤ تا کہ ہم مل کر کھانا کھائيں کچھ دیر بعد علی و فاطمہ حسنین کا ہاتھ تھامے ہوۓ رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوۓ اسی وقت جبرئيل آیۃ تطہیر لے کر نازل ہوۓ اور کہا:

 انمایریداللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطھرکم تطھیرا،

اے پیغمبر کے اہل بیت خدا تو بس یہ چاہتا ہے کہ تم کو ہر طرح کی برائی سے دور رکھے اور جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے ویساپاک و پاکیزہ رکھے۔

احزاب 33،

ام سلمہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ نے مجھ سے فرمایا: کساء خیبری لے آؤ (یہ ایک بڑی عبا تھی) رسول اللہ نے علی کو اپنے داہنے طرف زہرا کو بائيں طرف اور حسن و حسین کو زانووں پر بٹھایا اور یہ عبا سب پر ڈال دی اپنے بائيں ہاتھ سے عبا کو سختی سے تھاما اور سیدھا ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر تین بار فرمایا:

اللھم ھؤلاء اھل بیتی و حامتی اللھم اذھب عنھم الرجس وطھر ھم تطھیرا انا حرب لمن حاربتم وسلم لمن سالمتم و عدولمن عاداکم،

خدایا یہ میرے اہل بیت اور میرا خاندان ہے جیسا کہ تو نے وعدہ کیا ہے ان سے ہر طرح کی برائی کو دور رکھ اور انہیں معصوم و پاک رکھ میں اس کے ساتھ جنگ کروں گا جو ان کے ساتھ جنگ کرے گا اور اس سے میری صلح ہے جو ان سے صلح رکھے گا اور دشمن ہوں اس کا جو ان سے عداوت رکھے گا۔

یہ روایت مختلف کتب احادیث میں مختلف طریقوں سے نقل ہوئی ہے اور اس پر شیعہ و اہل سنت کا اتفاق ہے۔ اس اتفاق سے واضح ہوتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام آيت تطہیر کا ایک مصداق ہیں۔ مختلف روایات و قرائن سے ثابت ہوتا ہے کہ آیت تطہیر کے نزول کے وقت صرف یہی پانچ افراد کے علاوہ کوئی اور شامل آيۃ تطہیر نہیں تھا۔ اسی بنا پر ان حضرات کو اصحاب کساء کہا جاتا ہے اور امام حسین علیہ السلام کو خامس اصحاب کساء کا لقب دیا گیا ہے۔

اہل سنت کے بزرگ محدثین احمد بن حنبل اور ترمذی نے اپنی کتابوں سنن اور مسند میں نقل کیا ہے کہ: آيت تطہیر کے نازل ہونے کے بعد چھے مہینوں تک رسول اللہ ہر روز جب نماز صبح کے لیے تشریف لے جاتے تھے علی و فاطمہ علیھما السلام کے دروازے کے پاس رک کر بلند آواز میں فرمایا کرتے تھے کہ:

الصلواۃ یا اھل بیت محمد انمایرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطھر کم تطھیرا۔

امام حسین اور آيۃ مباہلہ:

شیعہ اور سنی علماء اس بات پر اتفاق نظر رکھتے ہیں کہ نصاری نجران سے سے مباہلہ کے وقت رسول اللہ نے علی و فاطمہ حسن و حسین کو اپنے ساتھ لیا اور انہیں آیۃ شریفہ کے الفاظ ابنائنا و نسائنا و انفسنا کا مصداق قرار دیا۔ یہ امر اس قدر مشہور و مسلم ہے کہ اہل سنت کے بزرگ عالم دین حاکم نیشاپوری نے اپنی کتاب معرفت الحدیث میں اس واقعے کو متواتر روایات کا مصداق قرار دیا ہے۔

حسین وارث علم پیغمبر:

ابن عباس کے شاگرد رشید عکرمہ نقل کرتے ہیں کہ:

ایک دن ابن عباس مسجد میں لوگوں کو حدیثیں سنا رہے تھے کہ نافع بن ازرق اٹھا اور کہنے لگا اے ابن عباس کیا تم کیڑے مکوڑوں کے احکام سے لوگوں کے لیے فتوے صادر کرتے ہو؟ اگر تم صاحب علم ہو تو مجھے اس خدا کے بارے میں بتاؤ جسکی تم پرستش کرتے ہو ابن عباس نے یہ سن کر سر جھکا لیا اور خاموش ہو گئے، امام حسین علیہ السلام مسجد کے ایک گوشہ میں بیٹھے ہوۓ تھے،  آپ نے رافع سے مخاطب ہو کر فرمایا: اے نافع میرے پاس آؤ تا کہ میں تمہارے سوال کا جواب دے سکوں۔

نافع نے کہا میں نے تو آپ سے سوال نہیں پوچھا تھا۔
ابن عباس نے کہا:

یابن الازرق انہ من اھل البیت النبوہ و ھم ورثۃ العلم،

اے ابن ازرق حسین اہل بیت نبوت میں سے ہیں اور اہل بیت علم کے وارث ہیں۔

نافع امام کے پاس گیا آپ نے اس کا تسلی بخش جواب دیا
نافع نے کہا اے حسین آپ کا کلام پرمغز اور فصیح ہے،

امام نے فرمایا میں نے سنا ہے تم میرے والد اور بھائی پر کفر کا الزام لگاتے ہو؟

نافع نے کہا خدا کی قسم میں نے جو آپ کی باتیں سنیں تو مجھے یقین ہو گیا کہ آپ ہی نور اسلام کا سرچشمہ اور احکام کا منبع ہیں۔

امام نے فرمایا میں تجھ سے ایک سوال کرتا ہوں۔

نافع نے کہا پوچھیے یابن رسول اللہ،

آپ نے فرمایا کیا تو نے یہ آیت: فاما الجدار فکان لغلامین یتیمین فی المدینہ پڑھی ہے؟

اے نافع کس نے ان دو یتیم بچوں کے لیے دیوار کے نیچے خزانہ چھپا رکھا تھا تا کہ ان کو وارثت میں مل سکے؟ نافع نے کہا ان کے باپ نے،

امام نے فرمایا: سچ بتاؤ کیا ان کا باپ زیادہ مہربان ہے یا اپنی امت کے لیے رسول اللہ زیادہ مہربان ہیں؟ کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ نے اپنے بچوں کے لیے علم نہیں چھوڑا ہے اور ہمیں اس سے محروم رکھا ہے؟

ریحانۃ الرسول: ( رسول خدا کے پھول)

جابر ابن عبد اللہ انصاری کہتے ہیں کہ: ایک دن ہم رسول اللہ کے حضور بیٹھے ہوۓ تھے کہ علی علیہ السلام تشریف لاتے ہیں اس وقت رسول اللہ نے حضرت علی کی طرف رخ کر کے فرمایا:

سلام علیک یا ابا لریحانتین اوصیک بریحانتی من الدنیا خیرا فعن قلیل ینھدم رکناک واللہ عزوجل خلیفتی علیک،

جابر کا کہنا ہے کہ جب رسول اللہ کا وصال ہوا تو حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا یہ ایک رکن تھا، جس کے بارے میں رسول اللہ نے فرمایا تھا اور جس وقت جناب فاطمہ نے وفات پائی تو آپ نے فرمایا یہ دوسرا رکن تھا، جسکے بارے میں رسول اللہ نے فرمایا تھا۔

اسی سلسلے میں ایک روایت عبد اللہ ابن عمر سے نقل ہوئی ہے جو واقعہ عاشورہ کے بعد امام حسین سے متعلق ہے۔

ابن نعیم نقل کرتا ہے کہ ایک دن ہم عبد اللہ ابن عمر کے پاس بیٹھے ہوۓ تھے کہ ایک شخص آیا اور اس نے مچھر کے خون کے بارے میں سوال کیا کہ اگر مچھر کا خون نمازی کے لباس پر لگا ہو تو کیا اسکی نماز صحیح ہے یا نہیں؟

عبد اللہ نے پوچھا کہاں سے آئے ہو اور کہاں کے رہنے والے ہو؟ سائل نے کہا عراق کا رہنے والا ہوں، عبد اللہ نے کہا کہ اس شخص کو دیکھو کہ مچھر کے خون کے بارے میں سوال کر رہا ہے، جبکہ انہوں نے رسول خدا کے بیٹے کو قتل کیا اور خاموشی بھی اختیار کی میں نے رسول اللہ سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ:

حسن و حسین اس دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔

سخاوت و تواضع:

ایک دن حضرت امام حسین علیہ السلام نے دیکھا کہ کئی بچے ملکر روٹی کا ایک ٹکڑا مل بانٹ کر کھا رہے ہیں ان بچوں نے امام سے بھی درخواست کی کہ آپ بھی اس روٹی میں سے تناول فرمائيں آپ نے بچوں کی بات مان لی اور ان کی روٹی کے ٹکڑے میں سے تناول فرمایا اس کے بعد ان سب کو اپنے گھر لے کر آئے انہیں کھانا کھلایا اور نئے کپڑے پہنائے اس کے بعد آپ نے فرمایا یہ مجھ سے زیادہ سخی ہیں کیونکہ انہوں نے اپنا سب کچھ بخش دیا تھا لیکن میں نے اپنے مال میں سے کچھ حصہ انہیں دیا ہے ۔

جود و شجاعت:

زینب بنت ابو رافع نقل کرتی ہیں کہ: رسول اللہ کی وفات کے بعد حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا سخت رنجور و متالم تھیں اور ہر وقت گریہ و زاری کیا کرتی تھیں۔ ایک دن آپ نے حسن و حسین کا ہاتھ تھاما اور اپنے بابا کی قبر پر آئيں اور شدید گریہ کیا آپ نے عرض کیا اے بابا ان بچوں کے لیے وارثت میں کیا چھوڑ گئے ہیں؟

قبر رسول اللہ سے صدا آئی ، میں نے حسن کے لیے اپنی ہیئبت اور حسین کے لیے جرات و جود چھوڑا ہے ۔ یہ سن کر شہزادی کونین نے کہا بابا میں اس عطا پر راضی اور خوش ہوں۔

امام حسین کا حج:

امام حسین علیہ السلام نے اپنی حیات طیبہ میں پچیس مرتبہ پیادہ حج کیا ہے۔ جب کہ آپ کے ہمراہ عربی نسل کے گھوڑے بغیر سوار کے ہوا کرتے تھے۔

امام حسین علیہ السلام کافی وسائل و ذرائع کے حامل تھے اور ان سے استفادہ بھی کر سکتے تھے لیکن آپ نے بندگی اور خضوع و خشوع کے تقاضوں کے مطابق پیادہ سفر حج کیا،

بغیر سوار کے گھوڑوں کا اپنے ساتھ رکھنے کے دو اسباب ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ آپ واپسی میں ان سے استفادہ کرتے تھے، اور دوسرا یہ کہ نوکروں اور خادموں کی طرح سفرکرنا نہایت بندگی ہے۔

تاریخ دمشق، صحیح بخاری
مقتل خوارزمی، فرائد السمطین
طبقات ابن سعد، تاریخ ابن عساکر
سنن ترمذی، اسدالغابہ
مستدرک حاکم نیشاپوری، کنزالعمال
تفسیرجامع البیان، حلیۃ الاولیاء، ابونعیم اصفہانی

 امام حسین کی سبق آموز زندگی:

 مومن کے دل کی خوشی:

حضرت امام حسین علیہ السلام سے نقل ہوا کہ آپ نے فرمایا:

میرے نزدیک ثابت ہے کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا: نماز کے بعد بہترین کام کسی مؤمن کے دل کو خوش کرنا ہے، اگر اس کام میں گناہ نہ ہو۔

میں نے ایک روز ایک غلام کو دیکھا جو اپنے کتے کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا، میں نے اس سے سبب دریافت کیا تو اس نے کہا: یابن رسول الله! میں غمگین ہوں، میں چاہتا ہوں کہ اس کتے کا دل خوش کروں تا کہ میرا دل خوش ہو جائے، میرا آقا یہودی ہے، میں اس سے جدا ہونے کی تمنا رکھتا ہوں۔

حضرت امام حسین علیہ السلام دو سو دینار اس کے آقا کے پاس لے گئے اور اس غلام کی قیمت ادا کرنی چاہی، اور اس کو خریدنا چاہا، تو اس کے مالک نے کہا: غلام آپ کے قدموں پر نثار اور میں نے یہ باغ بھی اس کو بخش دیا اور یہ دینار بھی آپ کو واپس کرتا ہوں۔

امام حسین علیہ السلام نے کہا: میں نے بھی یہ مال تمھیں بخشا، اس آقا نے کہا: میں نے آپ کی بخشش کو قبول کیا اور اسے غلام کو بخش دیا، امام حسین علیہ السلام نے کہا: میں نے غلام کو آزاد کر دیا اور یہ مال اس کو بخش دیا۔

اس شخص کی زوجہ اس نیکی کو دیکھ رہی تھی، چنانچہ وہ مسلمان ہو گئی اور اس نے کہا: میں نے اپنا مہر شوہر کو بخش دیا ہے، اس کے بعد وہ آقا بھی اسلام لے آیا اور اپنا مکان اپنی زوجہ کو بخش دیا۔

ایک قدم اٹھانے سے ایک غلام آزاد ہو گیا، ایک غریب بے نیاز ہو گیا، ایک کافر مسلمان ہو گیا، میاں بیوی آپس میں با محبت بن گئے، زوجہ صاحب خانہ ہو گئی، اور عورت مالک بن گئی، یہ قدم کیسا قدم تھا۔

مناقب، ج4، ص 66

بحار الانوار، 44، ص 190، باب 26، حدیث 2

لوگوں میں سب سے زیادہ کریم:

ایک بادیہ نشین عرب مدینہ میں داخل ہوا اور مدینہ کے سب سے زیادہ کریم شخص کی تلاش کرنے لگا، چنانچہ اس کو حضرت امام حسین علیہ السلام کا نام بتایا گیا، وہ عرب مسجد میں آیا اور آپ کو نماز کے عالم میں دیکھا، وہ امام حسین علیہ السلام کے سامنے کھڑا ہوا اور اس نے اس مضمون کے اشعار پڑھے؟

جو شخص آپ کے دروازے پر دق الباب کرے وہ ناامید نہیں ہو گا، آپ عین جود و سخا اور معتمد ہیں، آپ کے والد گرامی طاغوت اور نافرمان لوگوں کو ہلاک کرنے والے تھے اگر آپ نہ ہوتے تو ہم دوزخ میں ہوتے۔

امام حسین علیہ السلام نے اس اعرابی کو سلام کیا اور جناب قنبر سے فرمایا:

کیا حجاز کے مال سے کچھ باقی بچا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، چار ہزار دینار باقی ہیں، فرمایا: ان کو لے آؤ کہ یہ شخص اس مال کا ہم سے زیادہ سزاوار ہے، اس کے بعد اپنی ردا اتاری اور اس میں دینار رکھے اور اس عرب سے شرم کی وجہ سے اپنا ہاتھ دروازے سے نکالا اور اس مضمون کے اشعار پڑھے:

یہ مال ہم سے لے لو ، میں تجھ سے معذرت چاہتا ہوں، جان لو کہ میں تمھاری نسبت مہربان اور تمہارا دوستدار ہوں، اگر میرے اختیار میں حکومت ہوتی تو ہمارے جود و سخا کی بارش تمہارے اوپر ہوتی، لیکن زمانے کے حادثات نے مسائل ادھر ادھر کر دئیے ہیں، اس وقت صرف یہی کم مقدار میں دے سکتے ہیں۔

چنانچہ اس اعرابی نے وہ مال لیا اور اس نے رونا شروع کر دیا، امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: شاید جو کچھ ہم نے تمہیں عطا کیا ہے وہ کم ہے؟ اس نے کہا: نہیں، میرا رونا اس وجہ سے ہے کہ اس عطا کرنے والے کو یہ زمین کس طرح اپنے اندر سما لے گی۔!!!

مناقب، ج4، ص 66

بحار الانوار 44، ص 190، باب 26، حدیث 2

قرض ادا کرنا:

حضرت امام حسین علیہ السلام، اسامہ بن زید کی بیماری کے وقت اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے ، حالانکہ اسامہ ہمیشہ کہے جا رہے تھے: ہائے ، یہ غم و اندوہ

امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: اے برادر! تمہیں کیا غم ہے؟ انھوں نے کہا: میں 60000 درہم کا مقروض ہوں، امام علیہ السلام نے فرمایا: میں اس کو ادا کروں گا، انھوں نے کہا: مجھے اپنے مرنے کا خوف ہے، امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: تمھارے مرنے سے پہلے ادا کر دوں گا اور آپ نے اس کے مرنے سے پہلے اس کا قرض ادا کر دیا۔

مناقب، ج4، ص 65

بحار الانوار 44، ص 189، باب 26، حدیث 2

 خدمت کی نشانی:

حادثہ کربلا میں حضرت امام حسین علیہ السلام کے شانے پر زخم کی طرح ایک نشان پایا گیا، حضرت امام زین العابدین علیہ السلام سے اس کے سلسلہ میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: یہ نشانی ان بھاری تھیلیوں کی وجہ سے ہے جو ہمیشہ بیواؤں، یتیموں اور غریبوں کی مدد کے لیے اپنے شانوں پر رکھ لے جایا کرتے تھے۔

مناقب، ج 4، ص 66

بحار الانوار 44، ص 190، باب 26، حدیث 3

 استاد کی تعظیم:

عبد الرحمن سلمی نے امام حسین علیہ السلام کے ایک بیٹے کو سورہ حمد کی تعلیم دی، جب اس بیٹے نے امام حسین علیہ السلام کے سامنے اس سورہ کی قرائت کی، تو (خوش ہو کر) استاد کو ایک ہزار دینار اور ہزار حُلّے عطا کیے اور ان کا منہ نایاب درّ سے بھر دیا، لوگوں نے ایک دن کی تعلیم کی وجہ سے اتنا کچھ عطا کرنے پر اعتراض کیا تو آپ نے فرمایا:

اٴَیْنَ یَقَعُ ھٰذٰا مِنْ عَطٰائِہِ۔

جو کچھ میں نے اس کو عطا کیا ہے اس کی عطا کے مقابلے میں کہاں قرار پائے گا؟!"

مناقب، ج4، ص 66

بحار الانوار 44، ص 190، باب 26، حدیث 3

 میری خوشی حاصل کرو:

حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے بھائی محمد حنفیہ میں ایک گفتگو ہوئی، محمد نے امام حسین علیہ السلام کو ایک خط لکھا: میرے بھائی، میرے والد اور آپ کے والد علی (علیہ السلام) ہیں، اس سلسلہ میں نہ میں تم پر فضیلت رکھتا ہوں اور نہ تم مجھ پر، اور آپ کی والدہ جناب فاطمہ بنت پیغمبر خدا ہیں، اگر میری والدہ پوری زمین کی مقدار بھر سونا رکھتی ہو تو بھی آپ کی والدہ کے برابر نہیں ہو سکتی، اور جب تمھیں یہ خط مل جائے اور اس کو پڑھو تو میرے پاس آؤ تا کہ میری خوشی حاصل کر سکو، کیونکہ نیکی میں آپ مجھ سے زیادہ حقدار ہیں، تم پر خدا کا درود و سلام ہو۔

امام حسین علیہ السلام نے جب یہ خط پڑھا تو اپنے بھائی کے پاس گئے اور اس کے بعد سے ان کے درمیان کوئی ایسی گفتگو نہیں ہوئی۔

مناقب، ج4، ص 66

بحار الانوار 44، ص 191، باب 26، حدیث 3

حرّیت اور آزادی کی انتہاء:

روز عاشوراء جب امام حسین علیہ السلام سے کہا گیا کہ یزید کی حکومت کو تسلیم کر لو اور اس کی بیعت کر لو اور اس کی مرضی کے سامنے تسلیم ہو جاؤ! تو آپ نے جواب دیا:

نہیں، خدا کی قسم میں اپنے ہاتھ کو ذلیل و پست لوگوں کی طرح تمہارے ہاتھ میں نہیں دوں گا، اور تم سے میدان جنگ میں غلاموں کی طرح نہیں بھاگوں گا اور پھر یہ نعرہ بلند کیا: اے خدا کے بندو! میں ہر اس متکبر سے جو روز حساب پر ایمان نہ لائے اپنے پروردگار اور تمھارے پروردگار کی پناہ چاہتا ہوں۔

مناقب، ج4، ص 66

بحار الانوار 44، ص 191، باب 26، حدیث 4

بہترین انعام:

انس کہتے ہیں: میں حضرت امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا کہ آپ کی کنیز آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور ریحان کے گل دستہ تہنیت اور مبارک کے عنوان سے تقدیم کیا، امام حسین علیہ السلام نے اس سے فرمایا: تو خدا کی راہ میں آزاد ہے!

میں نے حضرت امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: (اس کنیز نے) ایک ناچیز گل دستہ آپ کی خدمت میں پیش کیا اور آپ نے اس کے مقابلے میں اُسے راہ خدا میں آزاد کر دیا! امام علیہ السلام نے فرمایا: خداوند نے ہماری اس طرح تربیت کی ہے، جیسا کہ خداوند کا ارشاد ہے کہ:

وَإِذَا حُیِّیتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوا بِاٴَحْسَنٍ مِنْہَا اٴَوْ رُدُّوہَ...

اور جب تم لوگوں کو کوئی تحفہ(سلام)پیش کیا جائے تو اس سے بہتر یا کم سے کم ویسا ہی واپس کرو...۔

سورہٴ نساء آیت 86

اس کی مبارک سے بہتر مبارک ، اس کو غلامی کی قید و بند سے آزاد کرنا۔

کشف الغمة، ج 2، ص 31

بحار الانوار، ج 44، ص 195، باب 26، حدیث 8

انسان کی اہمیت:

ایک اعرابی حضرت امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا: یا بن رسول الله! میں ایک کامل دیت کا ضامن ہوں، لیکن اس کو ادا نہیں کر سکتا، میں نے دل میں سوچا کہ اس کے بارے میں سب سے زیادہ کریم و سخی انسان سے سوال کروں اور میں پیغمبر اکرم (ص) کے اہل بیت (علیھم السلام) سے زیادہ کسی کریم کو نہیں جانتا۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: اے عرب بھائی تجھ سے تین سوال کرتا ہوں اگر ان میں ایک کا جواب دیا تو تمھاری درخواست کا ایک تہائی حصہ تجھے عطا کر دوں گا، اگر تو نے دو سوال کا جواب دیا تو دو تہائی مال عطا کر دوں گا اور اگر تینوں کا جواب دیدیا تو سارا مال تجھے عطا کر دوں گا۔

اس عرب نے کہا: کیا آپ جیسی شخصیت جو علم و شرف کے مالک ہیں مجھ جیسے شخص سے مسئلہ معلوم کرتی ہے؟ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: جی ہاں، میں نے اپنے جد رسول اکرم (ص) سے سنا ھے کہ آپ نے فرمایا: شخص کی اہمیت اس کی معرفت کے مطابق ہوتی ہے، اس عرب نے کہا: تو معلوم کیجئے کہ اگر مجھے معلوم ہو گا تو جواب دوں گا اور اگر معلوم نہیں ہو گا تو آپ سے معلوم کر لوں گا، اور خدا کی مدد کے علاوہ کوئی طاقت و قدرت نہیں ہے۔

امام حسین علیہ السلام نے فرمایا:

سب سے افضل عمل کونسا ہے؟ اس عرب نے کہا: خدا پر ایمان رکھنا۔
امام علیہ السلام نے اس سے سوال کیا: ہلاکت سے نجات کا راستہ کیا ہے؟ اس عرب نے کہا: خدا پر بھروسہ رکھنا۔

آپ نے فرمایا: مردوں کی زینت کیا ہوتی ہے؟ اس عرب نے کہا: ایسا علم، جس کے ساتھ بُردباری ہو، امام علیہ السلام نے سوال کیا کہ اگر یہ نہ ہو تو؟ اس عرب نے کہا: ایسی دولت جس کے ساتھ ساتھ سخاوت ہو، امام علیہ السلام نے سوال کیا: اگر یہ نہ ہو تو؟ اس نے کہا: تنگدستی اور غربت کہ جس کے ساتھ صبر ہو، امام علیہ السلام نے سوال فرمایا: اگر یہ نہ ہو تو؟ اس عرب نے کہا: آسمان سے ایک بجلی گرے اور ایسے شخص کو جلا ڈالے کیونکہ ایسے شخص کی سزا یہی ہے!

حضرت امام حسین علیہ السلام مسکرائے اور ایک ہزار دینار کی تھیلی اس کو دی اور اپنی انگوٹھی اس کو عطا کی جس میں دو سو درہم کا قیمتی نگینہ تھا، اور فرمایا: اے عرب! ہزار دینار سے اپنا قرض ادا کرو اور انگوٹھی کو اپنی زندگی کے خرچ کے لیے فروخت کر دو، چنانچہ عرب نے وہ سب کچھ لیا اور کہا: الله بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کو کہاں رکھے۔

اللهُ اٴَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہُ،

 سورہٴ انعام ، آیت 124

جامع الاخبار، ص137، فصل 96

بحار الانوار، ج44، ص196، باب26، حدیث11

امام حسین کون ہیں:

امام حسین(ع) اپنے بھائی امام حسن(ع) سے عمر میں بہت کم چھوٹے تھے اسی وجہ سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ان دونوں سے متعلق احادیث اور واقعات میں دونوں کا ایک ساتھ تذکرہ ہے۔

روایت میں نقل ہوا ہے کہ فرمایا:

میرے یہ دو بیٹے، میرے لیے اس دنیا کے دو پھول ہیں۔ محمد بن عبد اللہ نے ابن ابی نعم سے نقل کرتے ہوئے کہا: میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سنا تھا کہ آپ نے فرمایا: میرے یہ دوبیٹے( حسن و حسین) میرے لیے اس دنیا کے دو پھول ہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے نواسوں کو جنت کا سردار بنایا ہے۔

حذیفہ نے آنحضرت سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: مجھ پر آج وہ فرشتے نازل ہوئے ہیں جو اس سے پہلے کبھی نہیں آئے اذن خدا سے مجھ پر سلام کرنے کے بعد یہ خوشخبری دی ہے کہ فاطمہ خواتین جنت کی سردار اور حسن و حسین جوانان جنت کے سردار ہیں۔
امام حسین علیہ السلام کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ آپ رسول خدا سے شباہت رکھتے تھے۔

امام حسین علیہ السلام سن 61 ہجری میں شہادت فرما گئے۔ اس وقت آپ کی عمر مبارک 56 سال تھی۔ اپنی زندگی کے چھ یا سات سال اپنے نانا رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ گزارے 37 سال تک اپنے بابا علی مرتضی علیہ السلام کے ساتھ اور 47 سال کی عمر تک اپنے بھائی امام حسن (ع) کے ساتھ رہے۔ اپنے بھائی کی شہادت کے دس سال بعد خود بھی مقام شہادت پر فائز ہو گئے۔

آپ کی کنیت ابا عبد اللہ تھی اور القاب: الرَّشيد، الوَفىّ، الطّيِّب، السّيد الزّكى، المبارك، التّابع لمرضاة اللَّه، الدّليل على ذات اللَّه والسِّبط، تھے۔

سید شباب اہل الجنہ اور سبط اصغر دو ایسے القاب ہیں جو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے آپ کو عطا کیے تھے۔

امام حسین (ع) کے یہ بیٹے اور بیٹیاں تھیں۔:

علی اکبر کہ جو کربلا میں شہید ہو گئے جن کی ماں لیلی ابو مرۃ بن مسعود ثقفی کی بیٹی تھی۔

علی ابن الحسین زین العابدین کہ جن کی ماں " شاہ بانو" ایران کے بادشاہ یزدگرد کی بیٹی تھیں۔

علی اصغر، شش ماہ جو کربلا میں اپنی گردن پر سہ شعبہ تیر کھا کر شہید ہو گئے۔

آپ کی بیٹیاں سکینہ، فاطمہ اور زینب تھیں۔

واقعہ کربلا کے بعد آپ کی اولاد میں سے صرف امام زین العابدین باقی بچے تھے، جن سے آپ کی نسل آگے بڑھی۔

اخلاقی فضائل:

امام حسین علیہ السلام انسانی فضائل و کمالات اور اسلامی اخلاق کے نمونہ عمل تھے۔ سخاوت، کرامت، عفو و بخشش، شجاعت و بہادری، ظلم و ستم کا مقابلہ آپ کی آشکارا خصوصیات تھیں۔

انصار کا ایک آدمی اپنی حاجت لے کر امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ امام (ع) نے فرمایا: اے میرے بھائی ! سوال کر کے اپنی آبرو ریزی نہ کرو اپنی حاجت ایک خط میں لکھ کر مجھے دو۔ اس نے لکھا : یا ابا عبد اللہ ! میں فلاں آدمی کا پانچ سو دینار کا مقروض ہوں۔ اس سے کہیے کہ کچھ دن مجھے مہلت دے۔ امام (ع) خط پڑھنے کے بعد گھر تشریف لے گئے اور ایک ہزار دینار کی تھیلی لا کر اس کو دی اور فرمایا: پانچ سو دینار اس کا قرض دو اور پانچ سو اپنے بال بچوں پر خرچ کرو۔ اور اپنی حاجت کو کسی سے طلب نہ کرو مگر تین اشخاص سے:

دیندار، سخی اور سید و سردار ۔ اس لیے کہ دیندار اپنی دینداری کا پاس و لحاظ رکھے گا۔ سخاوت مند اپنی سخاوت مندی سے شرم و حیا کر کے دے گا اور سید و سردار یہ جانتا ہے کہ جب آپ نے اس کے سامنے اپنی آبرو ریزی کی ہے تو اس کی حفاظت کرتے ہوئے آپ کی ضرورت کو پورا کرے گا۔

نقل ہوا ہے کہ روز عاشورا آپ کی پیٹھ پر گھٹوں کے نشان دکھائی دئیے تو اس کا سبب امام سجاد علیہ السلام سے معلوم کیا گیا تو آپ نے فرمایا: آپ اپنی پیٹھ پر اناج کی بوریاں لاد کر یتیموں، بیواؤں اور بیکسوں کے گھروں میں پہنچاتے تھے۔

ایک دن آپ کا چند فقیروں کے پاس سے گذر ہوا جو عبا بچھا کر بیٹھے ہوئے سوکھی روٹیاں چبا رہے تھے۔ آپ نے ان پر سلام کیا اور ان کی دعوت قبول کرتے ہوئے ان کے پاس بیٹھ گئے اور کہا: اگر یہ روٹیاں صدقہ نہ ہوتیں تو میں بھی آپ کے ساتھ کھاتا۔ اس کے بعد انہیں اپنے گھر ساتھ لے گئے اور کھانا کھلایا پہنے کو لباس دیا اور ہر ایک کو کچھ درہم عطا کیے۔

فصاحت و بلاغت:

امام حسین علیہ السلام ایک بہترین سخنور تھے۔ آپ ایسے گھر میں پروان چڑھے کہ جہاں الٰہی فرشتے کلام خدا لے کر نازل ہوتے تھے۔ جب آپ نے انکھیں کھولیں تو سب سے پہلے رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زبان مبارک سے اذان و اقامت کی صورت میں کلام وحی کو سنا۔ آپ کی معلم اور مربی آپ کی والدہ گرامی سیدہ کونین دختر رسول جناب زہرا (س) تھیں اور استاد آپ کے والد بزرگوار علی مرتضیٰ تھے کہ جن کا خطابت کے میدان میں عرب و عجم میں کوئی ماں کا لال مقابلہ نہ کر پایا۔

حضرت سید الشھداء (ع) کے بہت سے حکیمانہ خطبات نقل ہوئے ہیں کہ جن میں سے ایک خوبصورت اور لاجواب خطبہ صبح عاشور آپ نے فرمایا:

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذى‏ خَلَقَ الدُّنيا فَجَعَلَها دارَ فَناءٍ وَزَوالٍ، مُتَصَرِّفَةً بِأَهْلِها حالًا بَعْدَ حالٍ، فَالْمَغْرُورُ مَنْ غَرَّتْهُ وَالشَّقِىُّ مَنْ فَتِنَتْهُ، فَلا تَغُرَّنَّكُمْ هذِهِ الدُّنْيا، فَإِنَّها تَقْطَعُ رَجاءَ مَنْ رَكَنَ إِلَيْها وَتُخَيِّبُ طَمَعَ مَنْ طَمِعَ فيها وَأَراكُمْ قَدْ اجْتَمَعْتُمْ عَلى أَمْرٍ قَدْ أَسْخَطْتُمُ اللَّهَ فيهِ عَلَيْكُمْ. فأَعْرَضَ بِوَجْهِهِ الْكَريمِ عَنْكُمْ وَأَحَلَّ بِكُمْ نِقْمَتَهُ وَجَنَّبَكُمْ رَحْمَتَهُ فَنِعْمَ الرَّبُّ رَبُّنا وَبِئْسَ الْعَبْدُ أَنْتُمْ، أَقْرَرْتُمْ بِالطَّاعَةِ وَآمَنْتُمْ بِالرَّسُولِ مُحَمَّدٍ- صَلىَّ اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ- ثُمَّ إنَّكُمْ زَحَفْتُمْ إِلى ذُرِّيَّتِهِ وَتُريدُونَ قَتْلَهُمْ، لَقَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْكُمُ الشَّيْطانُ فَأَنْساكُمْ ذِكْرَ اللَّهِ الْعَظيمِ. فَتَبّاً لَكُمْ وَما تُرِيدُونَ، إنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ، هؤُلاءِ قَوْمٌ كَفَرُوا بَعْدَ إيمانِهِمْ فَبُعْداً لِلْقَوْمِ الظَّالِمينَ۔

تمام تعریفیں اس خدا عظیم کی ہیں جس نے دنیا کو خلق کیا اور اس کو فنا اور زوال کا گھر بنا دیا۔ دنیا اپنے اندر بسنے والوں کو ہر لمحہ دگرگوں بناتی ہے۔ مغرور وہ شخص ہے جس کو دنیا نے فریب دیا ہو اور بد بخت وہ ہے جس کو دنیا نے گمراہ کیا ہو۔ ایسا نہ ہو کہ دنیا کا فریب کھا جاؤ۔ اس لیے کہ دنیا اس پر اعتماد کرنے والوں کے ساتھ قطع تعلق کرتی ہے اور اس کی لالچ کرنے والوں کو امید دلاتی رہتی ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں ایسے کام کو کرنے کی خاطر جمع ہوئے ہو کہ جس سے خدا غضبناک ہوا ہے۔ اور اس کریم اور مہربان خدا نے اپنا منہ تم لوگوں سے موڑ کر تمہارے لیے عذاب کا سامان فراہم کیا ہے۔ اور تم لوگوں کو اپنی رحمت سے محروم کر دیا ہے۔ ہمارا پرودگار کتنا اچھا پرودگار ہے۔ اور تم لوگ کتنے برے لوگ ہو۔ تم لوگوں نے یہ قبول کیا تھا کہ خدا کے حکم کی اطاعت کرو گے اور اس کے رسول (ص) پر ایمان لاؤ گے لیکن آج اس کی اولاد کے ساتھ جنگ کرنے آ گئے ہو۔ اور انہیں قتل کرنے پر مصمّم ہو۔ بتحقیق شیطان نے تم لوگوں پر غلبہ کر لیا ہے اور خدا کی یاد کو تمہارے دلوں سے محو کر دیا ہے۔ وای ہو تم پر تم کس چیز کی تلاش میں ہو؟۔ ہم خدا کی جانب سے ہیں اور اس کی طرف ہماری بازگشت ہو گی۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایمان کے بعد کفر اختیار کر لیا ہے ۔ پس نابودی ہو ظالم قوم پر۔

شجاعت اور دلیری:

امام حسین علیہ السلام نے گویا پوری دنیا کی شجاعت کو اپنے اندر سمیٹ رکھا تھا۔ آپ اس معمولی اور انگشت شمار دوست و احباب کے ساتھ یزید کے لاکھوں کی تعداد میں لشکر کے مقابلہ میں صف آرا ہو گئے اور جنگ کے یقینی ہونے کے بعد ذرہ برابر خوف و ہراس آپ کے چہرے پر ظاہر نہیں ہوا۔ اس کے باوجود کہ اپنی اور اپنے اصحاب کی شہادت پر یقین کامل رکھتے تھے پورے انتظام کے ساتھ اپنی مختصر سی فوج کو تیار کیا اور پورے اقتدار اور دلیری کے ساتھ جنگ کو قبول کر لیا۔

آپ کی آنکھوں کے سامنے آپ کے اعزاء و اقرباء اور اصحاب و انصار خون میں غلتیدہ ہو گئے لیکن ہرگز آپ دشمن کے سامنے تسلیم نہیں ہوئے۔ اور جب اپنی جنگ کی باری آئی، تو شیر دلاور کی طرح دشمن پر ایسا حملہ کیا کہ ان کی صفوں کر چیرتے ہوئے لاشوں پر لاشے بچھا دئیے۔

آپ نے ہر جنگی ٹیکنیک کو پوری امید کے ساتھ استعمال کرتے ہوئے ایسی جنگ کی کہ دشمن نے جنگی قوانین کو پامال کرتے ہوئے حیوانوں کی طرح آپ پر حملہ کیا۔

وہ لوگ جو آپ کے مد مقابل بر سر پیکار تھے کوچہ و بازار کے افراد نہ تھے بلکہ ماہر جنگجو تھے لیکن آپ کی شجاعت کے سامنے سب نے گھٹنے ٹیک دئیے اور اس بات کا اعتراف کیا کہ آج تک کسی کو ایسا نہ دیکھا کہ جس کی آنکھوں کے سامنے اس کی گودی کے پلے ہوئے اور لاڈلے ذبح کیے جائیں پھر بھی وہ تمام قوت کے ساتھ میدان کار زار میں اپنی شجاعت کا مظاہرہ کرے۔

برخلاف دشمن کے کہ جو حکومت اور اقتدار کی لالچ دلا کر لوگوں کو جنگ کرنے پر مجبور کر رہا تھا۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے اصحاب و انصار کو واپس چلے جانے اور جنگ کرنے میں اختیار دیا تھا۔ آپ نے اپنے اپنے مختصر سے لشکر کو دنیا پرستی اور پست عناصر سے پاک و پاکیزہ کر دیا تھا اور صرف وہی لوگ آپ کے ہمراہ آئے تھے جنہوں نے دنیا کو بیچ کر جنت کے مقامات خرید لیے تھے، یہی وجہ تھی کہ دشمن نے کبھی بھی امام حسین (ع) اور ان کے اصحاب کے اندر ضعف اور ناتوانی کے آثار نہیں دیکھے۔

فوج اشقیاء کے چاروں طرف سے آپ کو گھیر کر جو چیز انہیں میسر ہوئی اس سے آپ پر حملہ کیا لیکن پھر بھی شجاعانہ طریقہ سے دفاع کر رہے تھے اور دشمن کو نزدیک نہیں آنے دیا۔ ہاں، حسین ابن علی (ع) نے زخموں سے چھلنی بدن کے ساتھ زندگی کے آخری لمحہ تک فوج اشقیاء کے سیلاب کے سامنے جبل راسخ کی طرح ڈت کر مقابلہ کیا یہاں تک کہ جام شہادت نوش فرما لیا۔

حریت اور آزادی:

امام حسین علیہ السلام کی شخصیت کی آشکارا صفات میں سے ایک صفت حریت اور آزادی تھی۔

امام حسین (ع) نے ذلت کو قبول نہیں کیا، ظلم و ستم کے نیچے نہیں دبے اور ظالموں کا آخری لمحہ تک منہ توڑ جواب دیا۔ یزید کے بر سر اقتدار آنے سے یہ احساس کیا کہ اسلامی اور انسانی قدریں نابود ہو رہی ہیں۔ اگر یزید جیسا شرابخوار، ہوس پرست اور زن باز اسلامی تخت خلافت پر بیٹھ جائے تو دین اور دینداری کا چراغ گل ہو جائے گا۔ اسی وجہ سے روز اول مروان کے سامنے بیٹھ کر یہ اعلان کر دیا کہ:

جب بھی اسلامی حکومت کی باگ ڈور یزید جیسوں کے ہاتھ میں ہو تو ایسے میں اسلام کی فاتحہ پڑھنا چاہیے۔

اپنے بھائی محمد حنفیہ کے جواب میں جو مصلحت کی دعوت دے رہے تھے فرمایا: چنانچہ پوری دنیا میں اگر کہیں پناہگاہ نہ ملے تب بھی یزید کی بیعت نہیں کی جائے گی۔

وہ حسین (ع) کہ جنہوں نے آغوش وحی میں تربیت حاصل کی تھی ہرگز اپنے ذاتی مفاد اور مصالح کی حفاظت کی خاطر اہداف رسالت کو پامال ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے تھے۔ جیسا کہ فرمایا تھا:

ہم خاندان پیغمبر، آماجگاہ رسالت اور فرشتوں کی رفت و آمد کی جگہ ہیں۔ خداوند نے اس کائنات کا ہم سے آغاز کیا تھا اور ہمیں پر ہی اس کا خاتمہ کرے گا۔ مجھ جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔

اسی وجہ سے ان کی بے غیرت مندانہ رفتار کو دیکھ کر آپ نے فرمایا:

انْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ دينٌ وَكُنْتُمْ لا تَخافُونَ الْمَعادَ فَكُونُوا أَحْراراً فِى دُنْياكُمْ،

اگر تمہارے پاس دین نہیں ہے اور قیامت سے نہیں ڈرتے تو کم سے کم اپنی زندگی میں آزاد تو رہو۔۔۔۔

صلح امام حسن (ع) کے دور میں:

حضرت امام حسن علیہ السلام نے اپنے دور کے سیاسی، سماجی اور عسکری حالات کے پیش نظر معاویہ ملعون کے ساتھ ایسا عہد و پیمان کیا کہ جس سے اسلامی قدروں کو محفوظ رکھا جا سکتا تھا۔ جنگ کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا۔ لیکن خود خواہ اور زیرک عناصر اس اس صلح پر راضی نہ تھے امام حسن علیہ السلام کے ساتھ مخالف کا اظہار کرتے ہوئے امام حسین علیہ السلام کو بھی اس صلح سے کنارہ کشی کی ترغیب دلاتے تھے۔ لیکن امام حسین علیہ السلام نے ان کی باتوں کو ردّ کرتے ہوئے فرمایا: ہم نے بیعت کر لی ہے اور بیعت ٹورنے کا ابھی کوئی راستہ ہمارے پاس نہیں ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ اس وقت منصب امامت پر امام حسن علیہ السلام فائز ہیں۔ ان کے ساتھ مخالفت جائز نہیں ہے۔

امام حسن (ع) کی شہادت کے بعد جب تک معاویہ زندہ تھا پیمان صلح کی بنا پر آپ نے اس کے ساتھ عہد و پیمان نہیں توڑا اور کسی طرح کا قیام اس کے خلاف نہیں کیا۔ جو اس کے ساتھ مخالفت کی دعوتیں دیتے تھے آپ فرماتے تھے کہ جب تک معاویہ زندہ ہے ہم پیمان صلح کی وجہ سے اس کے ساتھ مخالفت کا حق نہیں رکھتے۔

امام حسن (ع) اور معاویہ کے درمیان پیمان صلح کی بنا پر معاویہ اپنے بعد جانشین مقرر کرنے کا حق نہیں رکھتا تھا۔ ایک دن مغیرہ بن شعبہ کہ جو کوفہ کی سربراہی سے معزول ہوا تھا۔ معاویہ کے پاس آیا اور اسے مشورہ دیا کہ اپنے بعد یزید کو جانشین مقرر کرے۔ معاویہ اس فکر کو عملی جامہ پہنانے میں مردّد تھا لیکن مغیرہ نے اسے دعدہ دیا کہ وہ کوفہ اور بصرہ کے لوگوں سے اس کے لیے بیعت لے گا اور ان شہروں کی بیعت کے بعد مخالفت کوئی معنی نہیں رکھتی۔

اس کے بعد معاویہ نے بھی کوشش کرنا شروع کر دی کہ یزید کے لیے ہر ممکن صورت میں بیعت لے اور چونکہ سب زیادہ مخالف لوگ اس کے حجاز میں تھے لہذا حاکم مدینہ کو حکم دیا کہ وہ امام حسین (ع) اور چند دوسرے افراد سے یزید کے لیے بیعت لے لے۔ اس تلاش و کوشش کے ناکام ہونے کے بعد وہ خود مکہ و مدینہ میں عازم سفر ہوا اور لوگوں کے درمیان اس بات کو رکھا لیکن اس کوشش بھی ناکام رہ گئی اور وہ واپس شام آنے پر مجبور ہو گیا۔

معاویہ کے مرگ کے بعد سب سے پہلا سیاسی اقدام یہ تھا کہ امام حسین اور چند دوسرے افراد سے یزید کے لیے بیعت حاصل کی جائے۔ لیکن امام حسین (ع) یزید کی بیعت کرنے پر راضی نہیں ہوئے اور اس کے مقابلہ میں قیام کرنے پر تیار ہو گئے۔ حاکم مدینہ نے یزید کے حکم کے مطابق امام حسین (ع) کو اس کام کے لیے مجبور کرنے کی کوشش کی۔ لیکن آپ نے اپنا وطن مدینہ چھوڑا اور مکہ کی طرف چل پڑے۔ کوفہ کے لوگوں کو محض خبر ملتے کہ امام یزید کی بیعت کے مخالف ہیں اور نتیجہ میں اس کی مخالف میں قیام کرنا چاہتے ہیں ان کی طرف خطوط کے ڈھیر لکھنا شروع کر دئیے کہ امام ان کے شہر یعنی کوفہ میں تشریف لے جا کر حکومت اسلامی کی زمام کو اپنے ہاتھ میں لیں۔ ان کے خطوط کے مضامین تقریبا کچھ اس طرح کے تھے:

"ہمارے ہاں کوئی امام نہیں ہے۔ آپ آ جائیے ۔ خدا آپ کے ذریعے ہمیں حق کی طرف ہدایت کرے گا" امام علیہ السلام نے بھی فریضہ الہی پر عمل کرتے ہوئے اور حجت تمام کرتے ہوئے یہ ارادہ بنا لیا کہ ان کے تقاضا کو پورا کیا جائے۔

اس دوران مکہ میں کئی شخصیات آپ کو اس کام سے روکنے کی غرض کے لیے آئیں۔

منجملہ ابن عباس نے اس سلسلے میں امام (ع) سے گفتگو کی اور کہا اگر کوفہ کے لوگ اپنے حاکم کو قتل کر کے حکومتی امور کو اپنے ہاتھ میں لیں اور اپنے دشمنوں کو اپنے شہر سے باہر کریں تو ٹھیک ہے آپ جائیں۔ لیکن اگر ان کا حاکم ان پر حکومت کر رہا ہو اور وہ اس کو ٹیکس اور جزئیہ ادا کرتے ہوں تو ایسی حالت میں آپ کو دعوت صرف جنگ و جدال کے ہو گی۔ ابن عباس نے مزید کہا اگر سچ مچ آپ کو مکہ بھی چھوڑنا ہے تو یمن کی طرف چلے جائیے اور اپنا آپ بچا لیجیئے۔
اس کے بعد عبد اللہ بن زبیر نے بھی اصرار کیا کہ آپ مکہ میں ہی ٹھر جائیں اس لیے کہ مکہ میں آپ کا مقام و منزلت عظیم ہے۔ اور لوگ یہی پر آپ کے حکم کی اتباع کریں گے۔

اس باوجود ان میں سے بعض باتیں منطقی اور بظاہر صحیح معلوم ہوتی ہیں لیکن امام (ع) نے کسی ایک کی بھی نہ سنی اور سب کی باتوں کی تردید کی۔ آخر کیوں؟ اس بات کا راز امام (ع) کے عقیدہ اور دوسرے لوگوں کے طرز تفکرات میں پنہان تھا۔ وہ لوگ سیاسی اور فوجی نگاہ سے اس مسئلہ کی طرف دیکھتے تھے اور نتیجہ میں امام (ع) کی بنی امیہ پر کامیابی کو امر محال سمجھتے تھے۔ لیکن امام (ع) ان خبروں کی بنا پر جو آپ کے نانا اور بابا کی طرف سے آپ کی شہادت کے بارے میں نقل ہوئیں تھی اور آپ کے لیے تعیین تکلیف کر رہی تھیں آگے بڑھ رہے تھے۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فرما دیا تھا کہ میرا بیٹا حسین (ع) بنی امیہ کے ہاتھوں شہید ہو گا۔ اور امام حسین (ع) قضای الٰہی کے سامنے تسلیم تھے اور الہی الھامات کی بنا پر قدم اٹھا رہے تھے۔

خداوند کی طرف سے ولادت امام حسین کی تہنیت اور تعزیت:

علامہ حسین واعظ کاشفی لکھتے ہیں کہ امام حسین کی ولادت کے بعد خلاق عالم نے جبرئیل کو حکم دیا کہ زمین پر جا کر میرے حبیب محمد مصطفی کو میری طرف سے حسین کی ولادت پر مبارک باد دیدو اور ساتھ ہی ساتھ ان کی شہادت عظمی سے بھی مطلع کر کے تعزیت ادا کر دو، جناب جبرئیل بحکم رب جلیل زمین پر وارد ہوئے اور انہوں نے آنحضرت کی خدمت میں شہادت حسینی کی تعزیت بھی منجانب اللہ ادا کی جاتی ہے ،یہ سن کر سرور کائنات کا ماتھا ٹھنکا اور آپ نے پوچھا ، جبرئیل ماجرا کیا ہے تہنیت کے ساتھ تعزیت کی تفصیل بیان کرو، جبرئیل نے عرض کی کہ مولا ایک وہ دن ہو گا جس دن آپ کے چہیتے فرزند"حسین" کے گلوئے مبارک پر خنجر آبدار رکھا جائے گا اور آپ کا یہ نور نظر بے یار و مدد گار میدان کربلا میں یکہ و تنہا تین دن کا بھوکا پیاسا شہید ہو گا یہ سن کر سرور عالم محو گریہ ہو گئے آپ کے رونے کی خبر جونہی امیر المؤمنین کو پہنچی وہ بھی رونے لگے اور عالم گریہ میں داخل خانہ سیدہ ہو گئے ۔

جناب سیدہ نے جو حضرت علی کو روتا دیکھا دل بے چین ہو گیا، عرض کی ابو الحسن رونے کا سبب کیا ہے فرمایا بنت رسول ابھی جبرئیل آئے ہیں اور وہ حسین کی تہنیت کے ساتھ ساتھ اس کی شہادت کی بھی خبر دے گئے ہیں، حالات سے باخبر ہونے کے بعد فاطمہ کے گریہ گلو گیر ہو گیا، آپ نے حضرت کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی بابا جان یہ کب ہو گا، فرمایا جب میں نہ ہوں گا نہ تو ہو گی نہ علی ہوں گے نہ حسن ہوں گے فاطمہ نے پوچھا بابا میرا بچہ کس خطا پر شہید ہو گا فرمایا فاطمہ بالکل بے جرم و خطا صرف اسلام کی حمایت میں شہادت ہو گا، فاطمہ نے عرض کی بابا جان جب ہم میں سے کوئی نہ ہو گا تو پھر اس پر گریہ کون کرے گا اور اس کی صف ماتم کون بچھائے گا، راوی کا بیان ہے کہ اس سوال کا حضرت رسول کریم ابھی جواب نہ دینے پائے تھے کہ ہاتف غیبی کی آواز آئی، اے فاطمہ غم نہ کرو تمہارے اس فرزند کا غم ابد الآباد تک منایا جائے گا اور اس کا ماتم قیامت تک جاری رہے گا۔ ایک روایت میں ہے کہ رسول خدا نے فاطمہ کے جواب میں یہ فرمایا تھا کہ خدا کچھ لوگوں کو ہمیشہ پیدا کرتا رہے گا جس کے بوڑھے بوڑھوں پر اور جوان جوانوں پر اور بچے بچوں پر اور عورتیں عورتوں پر گریہ و زاری کرتے رہیں گے۔

فطرس کا واقعہ:

حضرت شیخ مفید علیہ الرحمہ نے لکھا ہے کہ اسی تہنیت کے سلسلہ میں جناب جبرئیل بے شمار فرشتوں کے ساتھ زمین کی طرف آ رہے تھے کہ ناگاہ ان کی نظر زمین کے ایک غیر معروف طبقہ پر پڑی دیکھا کہ ایک فرشتہ زمین پر پڑا ہوا زار و قطار رو رہا ہے آپ اس کے قریب گئے اور آپ نے اس سے ماجرا پوچھا اس نے کہا اے جبرئیل میں وہی فرشتہ ہوں جو پہلے آسمان پر ستر ہزار فرشتوں کی قیادت کرتا تھا میرا نام فطرس ہے جبرئیل نے پوچھا تجھے کس جرم کی یہ سزا ملی ہے ؟ اس نے عرض کی ، مرضی معبود کے سمجھنے میں ایک پل کی دیر کی تھی جس کی یہ سزا بھگت رہا ہوں بال و پر جل گئے ہیں یہاں کنج تنہائی میں پڑا ہوں ۔

اے جبرئیل خدارا میری کچھ مدد کرو ابھی جبرئیل جواب نہ دینے پائے تھے کہ اس نے سوال کیا ائے روح الامین آپ کہاں جا رہے ہیں انہوں نے فرمایا کہ نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی ص کے یہاں ایک فرزند پیدا ہوا ہے جس کا نام حسین ہے میں خدا کی طرف سے اس کی ادائے تہنیت کے لیے جا رہا ہوں، فطرس نے عرض کی اے جبرئیل خدا کے لیے مجھے اپنے ہمراہ لیتے چلو مجھے اسی در سے شفا اور نجات مل سکتی ہے، جبرئیل اسے ساتھ لے کر حضور کی خدمت میں اس وقت پہنچے جب کہ امام حسین آغوش رسول میں جلوہ فرما تھے جبرئیل نے عرض حال کیا، سرور کائنات نے فرمایا کہ فطرس کے جسم کو حسین کے بدن سے مس کر دو ، شفا ہو جائے گی جبرئیل نے ایسا ہی کیا اور فطرس کے بال و پر اسی طرح روئیدہ ہو گئے جس طرح پہلے تھے ۔

وہ صحت پانے کے بعد فخر و مباہات کرتا ہوا اپنی منزل"اصلی" آسمان سوم پر جا پہنچا اور مثل سابق ستر ہزار فرشتوں کی قیادت کرنے لگا ، بعد از شہادت حسین چوں بر آں قضیہ مطلع شد" یہاں تک کہ وہ زمانہ آیا جس میں امام حسین نے شہادت پائی اور اسے حالات سے آگاہی ہوئی تو اس نے بارگاہ احدیت میں عرض کی مالک مجھے اجازت دی جائے کہ مین زمین پر جا کر دشمنان حسین سے جنگ کروں ارشاد ہوا کہ جنگ کی ضرورت نہیں البتہ تو ستر ہزار فرشتے لے کر زمین پر جا اور ان کی قبر مبارک پر صبح و شام گریہ ماتم کیا کر اور اس کا جو ثواب ہو اسے ان کے رونے والوں کے لیے ہبہ کر دے چنانچہ فطرس زمین کربلا پر جا پہنچا اور تا قیام قیامت شب و روز روتا رہے گا۔

(روضة الشہدا ص 236

غنیة الطالبین شیخ عبدالقادر جیلانی،

امام حسین سینہ رسول پر:

ابوہریرہ راوی حدیث کا بیان ہے کہ میں نے اپنی آنکھوں سے یہ دیکھا ہے کہ رسول کریم لیٹے ہوئے اور امام حسین نہایت کمسنی کے عالم میں ان کے سینہ مبارک پر ہیں ، ان کے دونوں ہاتھوں کو پکڑے ہوئے فرماتے ہیں اے حسین تو میرے سینے پر کود چنانچہ امام حسین آپ کے سینہ مبارک پر کودنے لگے اس کے بعد حضور ص نے امام حسین کا منہ چوم کر خدا کی بارگاہ میں عرض کی اے میرے پالنے والے میں اسے بے حد چاہتا ہوں تو بھی اسے محبوب رکھ ، ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت امام حسین کا لعاب دہن اور ان کی زبان اس طرح چوستے تھے، جس طرح کوئی کجھور چوسے۔

 ارجح المطالب ص 359

استیعاب ج 1 ص 144

اصابہ جلد 2 ص 11

کنزالعمال جلد 7 ص 104

کنوزالحقائق ص 59

جنت کے کپڑے اور فرزندان رسول کی عید:

امام حسن اور امام حسین کا بچپنا ہے عید آنے والی ہے اور ان اسخیائے عالم کے گھر میں نئے کپڑے کا کیا ذکر پرانے کپڑے بلکہ نان جو تک نہیں ہے۔ بچوں نے ماں کے گلے میں بانہیں ڈال دیں مادر گرامی اطفال مدینہ عید کے دن زرق برق کپڑے پہن کر نکلیں گے اور ہمارے پاس بالکل لباس نو نہیں ہے ہم کس طرح عید منائیں گے ماں نے کہا بچو گھبراؤ نہیں ، تمہارے کپڑے درزی لائے گا عید کی رات آئی بچوں نے ماں سے پھر کپڑوں کا تقاضا کیا، ماں نے وہی جواب دے کر نونہالوں کو خاموش کر دیا۔

ابھی صبح نہیں ہونے پائی تھی کہ ایک شخص نے دق الباب کیا، دروازہ کھٹکھٹایا فضہ دروازہ پر گئیں ایک شخص نے ایک کچھ لباس دئیے، فضہ نے سیدہ عالم کی خدمت میں اسے پیش کیا اب جو کھولا تو اس میں دو چھوٹے چھوٹے عمامے دو قبائیں، دو عبائیں غرضیکہ تمام ضروری کپڑے موجود تھے۔ ماں کا دل باغ باغ ہو گیا وہ تو سمجھ گئیں کہ یہ کپڑے جنت سے آئے ہیں لیکن منہ سے کچھ نہیں کہا بچوں کو جگایا کپڑے دئیے صبح ہوئی بچوں نے جب کپڑوں کے رنگ کی طرف توجہ کی تو کہا مادر گرامی یہ تو سفیدکپڑے ہیں اطفال مدینہ رنگین کپڑے پہننے ہوں گے، امام جان ہمیں رنگین کپڑے چاہئیں ۔

حضور انور کو اطلاع ملی ، تشریف لائے، فرمایا گھبراؤ نہیں تمہارے کپڑے ابھی ابھی رنگین ہو جائیں گے اتنے میں جبرئیل آیا اور انہوں نے پانی ڈالا محمد مصطفی کے ارادے سے کپڑے سبز اور سرخ ہو گئے سبز جوڑا حسن نے پہنا سرخ جوڑا حسین نے زیب تن کیا، ماں نے گلے لگا لیا باپ نے بوسے دئیے نانا نے اپنی پشت پر سوار کر کے مہار کے بدلے زلفیں ہاتھوں میں دیدیں اور کہا، میرے نونہالو، رسالت کی باگ ڈور تمہارے ہاتھوں میں ہے جدھر چاہو موڑ دو اور جہاں چاہو لے چلو۔

روضة الشہداء ص 189

امام حسین کا سردارجنت ہونا:

"الحسن و الحسین سیدا شباب اہل الجنة و ابوھما خیر منہما"

حسن اور حسین جوانان جنت کے سردار ہیں اور ان کے پدر بزرگوار ان دونوں سے بہتر ہیں۔

ابن ماجہ، خ 5 ص323

کنز العمال جلد7 ص 107

 تاریخ الخلفاء ص 123

اسدالغابہ ص 12

اصابہ جلد 2 ص12

ترمذی شریف ،

مطالب السول ص 242

صواعق محرقہ ص 114

حدیث حسین منّی:

سرور کائنات نے امام حسین علیہ السلام کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ اے دنیا والو! بس مختصر یہ سمجھ لو کہ "حسین منی و انا من الحسین"حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔ خدا اسے دوست رکھے گا، جو حسین کو دوست رکھے۔

مطالب السؤل ص 242

صواعق محرقہ ص 114

نور الابصار ص 113

صحیح ترمذی جلد 6ص 307

مستدرک امام حاکم جلد 3 ص 177

مسنداحمد، جلد 4 ص 972

اسد الغابہ جلد 2 ص 91

کنز العمال، جلد 4 ص 221

مکتوبات باب جنت:

سرور کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ شب معراج جب میں سیر آسمانی کرتا ہوا جنت کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ باب جنت پر سونے کے حروف میں لکھا ہوا ہے:

"لا الہ الاّ اللہ محمد حبیب اللہ علی ولی اللہ و فاطمة امة اللہ و الحسن و الحسین صفوة اللہ و من ابغضہم لعنہ اللہ"

ترجمہ : خدا کے سوا کوئی معبود نہیں۔ محمد ص اللہ کے رسول ہیں علی ، اللہ کے ولی ہیں ۔ فاطمہ اللہ کی کنیز ہیں، حسن اور حسین اللہ کے برگزیدہ ہیں اور ان سے بغض رکھنے والوں پر اللہ کی لعنت ہے۔

ارجح المطالب باب 3 ص 313

عمر کا اعتراف شرف آل محمد(ع):

عہد عمر میں اگرچہ پیغمبر اسلام کی آنکھیں بند ہو چکی تھیں اور لوگ محمد مصطفی کی خدمت اور تعلیمات کو پس پشت ڈال چکے تھے لیکن پھر بھی کبھی کبھی "حق بر زبان جاری" کے مطابق عوام سچی باتیں سن ہی لیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ عمر منبر رسول پر خطبہ دے رہا تھا کہ ناگاہ حضرت امام حسین کا ادھر سے گزر ہوا آپ مسجد میں تشریف لے گئے اور عمر کی طرف مخاطب ہو کر بولے:

"انزل عن منبر ابی" میرے باپ کے منبر سے اترو اور اپنے باپ کے منبر پر جا کر بیٹھو،عمر نے کہا کہ میرے باپ کا تو کوئی منبر نہیں ہے اس کے بعد منبر سے اتر کر امام حسین کو اپنے ہمراہ گھر لے گئے اور وہاں پہنچ کر پوچھا کہ صاحب زادے تمہیں یہ بات کس نے سکھائی ہے تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے اپنے سے کہا ہے ،مجھے کسی نے سکھایا نہیں ہے، اس کے بعد عمر نے کہا کہ میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں ، کبھی کبھی آیا کرو آپ نے فرمایا بہتر ہے ایک دن آپ تشریف لے گئے تو عمر کو معاویہ سے تنہائی میں محو گفتگو پا کر واپس چلے گئے ۔۔۔۔ جب اس کی اطلاع عمر کو ہوئی تو اس نے محسوس کیا اور راستے میں ایک دن ملاقات پر کہا کہ آپ واپس کیوں چلے آئے تھے ؟ فرمایا کہ تم محو گفتگو تھے اس لیے میں نے عبد اللہ (ابن عمر) کے ہمراہ واپس آیا عمر نے کہا کہ "فرزند رسول میرے بیٹے سے زیادہ تمہارا حق ہے:

" فانما انت ما تری فی روسنا اللہ ثم انتم"

اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ میرا وجود تمہارے صدقہ میں ہے اور میرے سر کے بال بھی تمہارے طفیل سے اگے ہوئے ہیں۔

اصابة ج 2 ص 25

کنز العمال جلد 7 ص 107

ازالة الخفاء ،

ابن عمر کا اعتراف شرف حسینی:

ابن حریب راوی ہیں کہ ایک دن عبد اللہ ابن عمر خانہ کعبہ کے سایہ میں بیٹھا لوگوں سے باتیں کر رہا تھا کہ اتنے میں حضرت امام حسین علیہ السلام سامنے سے آتے ہوئے دکھائی دئیے ابن عمر نے لوگوں کی طرف مخاطب ہو کر کہا کہ یہ شخص یعنی امام حسین اہل آسمان کے نزدیک تمام اہل زمین سے زیادہ محبوب ہیں۔

کرم حسین کی ایک مثال:

امام فخر الدین رازی تفسیر کبیر میں زیر آیۃ "علم آدم الاسماء کلھا" لکھتے ہیں کہ:

ایک اعرابی نے خدمت امام حسین میں حاضر ہو کر کچھ مانگا اور کہا کہ میں نے آپ کے جد نامدار سے سنا ہے کہ جب کچھ مانگنا ہو تو چار قسم کے لوگوں سے مانگو :

1- شریف عرب سے،

2- کریم حاکم سے،

3- اہل قرآن سے،

4- حسین شکل والے سے،

میں آپ میں یہ تمام صفات پاتا ہوں اس لیے مانگ رہا ہوں آپ شریف عرب ہیں آپ کے نانا عربی ہیں آپ کریم ہیں ، کیونکہ آپ کی سیرت ہی کرم ہے، قرآن پاک آپ کے گھر میں نازل ہوا ہے، اور آپ کا چہرہ مبارک بھی حسین ہے، رسول خدا کا ارشاد ہے کہ جو مجھے دیکھنا چاہے، وہ حسن اور حسین کو دیکھے، لہذا عرض ہے کہ مجھے عطیہ سے سرفراز فرمائیے، آپ نے فرمایا کہ جد نامدار نے فرمایا ہے کہ "المعروف بقدر المعرفة" معرفت کے مطابق عطیہ دینا چاہیے،

اس کے بعد آپ ہنس پڑے۔ و رمی بالصرة الیہ، اور ایک بڑا تھیلا، اس کے سامنے رکھ دیا۔

فضائل الخمسة من الصحاح الستہ ج 3 ص 268

امام حسین کی نصرت کے لیے رسول کریم کا حکم:

انس بن حارث کا بیان ہے جو کہ صحابی رسول اور اصحاب صفہ میں سے کہ میں نے دیکھا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام ایک دن رسول خدا کی گود میں تھے اور وہ ان کو پیار کر رہے تھے ، اسی دوران فرمایا،

ان ابنی ھذا یقتل بارض یقال لھاکربلاء فمن شھد ذالک منکم فلینصرہ"

کہ میرا یہ فرزند حسین اس زمین پر قتل کیا جائے گا جس کا نام کربلا ہے دیکھو تم میں سے اس وقت جو بھی موجود ہو، اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کی مدد کرے۔

راوی کا بیان ہے کہ: اصل راوی اور چشم دید گواہ انس بن حارث جو کہ اس وقت موجود تھے، وہ امام حسین کے ہمراہ کربلا میں شہید ہو گئے تھے۔

اسد الغابہ ج 1 ص 123 و 349

اصابہ، ج 1 ص 68

کنز العمال ج 6 ص 223

ذخائرالعقبی محب طبری ص 146

جنگ صفین میں امام حسین کی جدوجہد:

اگرچہ مؤرخین کا تقریبا اس پر اتفاق ہے کہ امام حسین عہد امیر المؤمنین کے ہر معرکہ میں موجود رہے، لیکن محض اس خیال سے کہ یہ رسول اکرم کی خاص امانت ہیں انہیں کسی جنگ میں لڑنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

نور الحسینہ ص 44

لیکن علامہ شیخ مہدی مازندرانی کی تحقیق کے مطابق آپ نے بندش توڑنے کے لیے مقام صفین میں نبرد آزمائی فرمائی تھی۔

شجرہ طوبی طبع نجف اشرف،

بحار الانوار ج 10 ص 257

علامہ باقر خراسانی لکھتے ہیں کہ: اس موقع پر امام حسین کے ہمراہ حضرت عباس بھی تھے۔

کبریت الاحمر ص25

ذکرالعباس ص 26

رسول خدا (ص) کی امام حسین (ع) سے محبت:

حضرت رسول خدا اپنے فرزند ارجمند امام حسین علیہ السلام سے بے انتہا محبت کیا کرتے تھے، آپ کے نزدیک امام حسین علیہ السلام کی شان و منزلت اور کیا مقام تھا، اس سلسلہ میں آپ کی بعض احادیث مندرجہ ذیل ہیں:

جابر بن عبد اللہ سے مروی ہے کہ رسول کا فرمان ہے کہ :

من اراد ان ینظر الی سید شباب اھل الجنة فلینظر الی الحسین بن علی،

'جو شخص جنت کے جوانوں کے سردار کو دیکھنا چاہتا ہے وہ حسین بن علی کے چہرے کو دیکھے '۔

سیر اعلام النبلاء ،جلد 3،صفحہ 190

تاریخ ابن عساکر خطی ،جلد 13،صفحہ 50

ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ: میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ امام حسین کو اپنی آغوش میں لیے ہوئے یہ فرما رہے تھے:

  'اللھم انی احِبُّہ فاحبّہ ،

پروردگارامیں اس سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اس سے محبت فرما،

مستدرک حاکم ،ج 3،ص 177

نور الابصار، صفحہ 129:اللھم انی اُ حِبُّہ وَ أُحِبَّ کُلَّ مَنْ یُحِبُّہُ '۔

یعلی بن مرہ سے روایت ہے : ہم نبی اکرم  کے ساتھ ایک دعوت میں جا رہے تھے تو آنحضرت نے دیکھا کہ حسین سکوں سے کھیل رہے ہیں تو آپ نے کھڑے ہو کر اپنے دونوں ہاتھ امام کی طرف پھیلا دیئے ، آپ مسکرا رہے تھے اور کہتے جا رہے تھے، بیٹا ادھر آؤ ادھر آؤ یہاں تک کہ آپ نے امام حسین کو اپنی آغوش میں لے لیا ایک ہاتھ ان کی ٹھوڑی کے نیچے رکھا اور دوسرے سے سر پکڑ کر ان کے بوسے لیے اور فرمایا:

'حسین منی وانامن حسین،احب اللّٰہ من احب حسینا،حسین سبط من الاسباط '،

'حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں خدایا جو حسین سے محبت کرے تو اس سے محبت کر ، حسین بیٹوں میں سے ایک بیٹا ہے، '

سنن ابن ماجہ ،ج 1،ص 56

مسند احمد، جلد 4،صفحہ 172

اسد الغابہ، جلد 2،صفحہ 19

تہذیب الکمال،صفحہ 71

تیسیر الوصول ،جلد 3، صفحہ 276

مستدرک حاکم ،جلد 3،صفحہ 177

سلمان فارسی سے روایت ہے کہ : جب میں نبی کی خدمت میں حاضر ہوا تو امام حسین آپ کی ران پر بیٹھے ہوئے تھے اور نبی آپ کے رخسار پر منہ ملتے ہوئے فرما رہے تھے:

'انت سید ابْنُ سَیَّد، انت امام بن امام، وَ اَخُوْا اِمَامٍ، وَ اَبُو الاَئِمَةِ،وَ اَنْتَ حُجَّةُ اللّٰہِ وَ ابْنُ حُجَّتِہِ،وَ اَبُوْ حُجَجٍ تِسْعَةٍ مِنْ صُلْبِکَ، تَاسِعُھُمْ قَائِمُھُمْ '۔

'آپ سید بن سید،امام بن امام ،امام کے بھائی،آئمہ کے باپ ،آپ اللہ کی حجت اور اس کی حجت کے فرزند،اور اپنے صلب سے نو حجتوں کے باپ ہیں جن کا نواں قائم ہو گا '۔

حیاة الامام حسین ، جلد 1،صفحہ 95

ابن عباس سے مروی ہے کہ : رسول اسلام اپنے کاندھے پر حسین کو بٹھائے لیے جا رہے تھے تو ایک شخص نے کہا :

'نِعم المرکب رکبت یا غلام ، فاجا بہ الرسول : 'و نعم الراکب ھُوَ '۔

'کتنا اچھا مرکب (سواری )ہے جو اس بچہ کو اٹھا ئے ہوئے ہے، رسول اللہ نے جواب میں فرمایا: 'یہ سوار بہت اچھا ہے '۔

تاج جامع للاصول ،جلد 3،صفحہ 218

رسول اللہ کا فرمان ہے کہ:

'ھذا(یعنی :الحسین )امام بن امام ابوائمةٍ تسعةٍ '۔

'یہ یعنی امام حسین امام بن امام اور نو اماموں کے باپ ہیں '۔

منہاج السنة، جلد 4،صفحہ 210

امام حسین اپنے والد بزرگوار کے ساتھ:

حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے والد بزرگوار کی عطوفت کے زیر سایہ پرورش پائی۔ آپ کے والد بزرگوار آپ سے اتنی محبت کرتے تھے کہ آپ نے جنگ صفین میں اپنے دونوں فرزندوں کو میدان جنگ میں حاضر ہونے کی اجازت نہیں دی کہ کہیں ان کے شہید ہو جانے سے نسل رسول منقطع نہ ہو جائے، مولائے کائنات آپ اور آپ کے بھائی امام حسن کی تعریف کرتے تھے، آپ نے ان دونوں کو اپنے فضائل و کمالات سے آراستہ کیا اور اپنے آداب اور حکمتوں کے ذریعہ فیض پہنچایا یہاں تک کہ یہ دونوں آپ کے مانند ہو گئے تھے۔

امام حسین شجاعت ،عزت نفس ،غیرت اور نورانیت میں اپنے پدر بزرگوار کی شبیہ تھے ، آپ نے بنی امیہ کے سامنے سر جھکانے پر شہادت کو ترجیح دی ،جس کی بنا پر آپ نے ظاہری زندگی کو خیر آباد کہا اور راہِ خدا میں قربان ہونے کیلئے آمادہ ہو گئے ۔

آپ کے ذاتی کمالات:

وہ منفرد صفات و کمالات کہ جن سے ابو الاحرار امام حسین کی شخصیت کو متصف کیا گیا درج ذیل ہیں:

قوت ارادہ:

ابو الشہدا کی ذات میں قوت ارادہ ، عزم محکم و مصمم تھا، یہ مظہر آپ کو اپنے جد محترم رسول اسلام سے میراث میں ملا تھا، جنھوں نے تاریخ بدل دی ، زندگی کے مفہوم کو بدل دیا، تنہا ان طوفانوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو گئے جو آپ کو کلمہ لا الٰہ الّا اللّٰہ کی تبلیغ کرنے سے روکتے تھے ، آپ نے ان کی پروا کیے بغیر اپنے چچا ابو طالب مؤمن قریش سے کہا : 'خدا کی قسم اگر یہ مجھے دین اسلام کی تبلیغ سے روکنے کے لیے داہنے ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند بھی رکھ دیں گے تو بھی میں اسلام کی تبلیغ کرنے سے باز نہیں آؤنگا جب تک کہ مجھے موت نہ آئے یا اللہ کے دین کو غلبہ حاصل نہ ہو جائے ۔۔۔ '۔

پیغمبر اسلام نے اس خدائی ارادہ سے شرک کا قلع و قمع کر دیا اور وقوع پذیر ہونے والی چیزوں پر غالب آ گئے ، اسی طرح آپ کے عظیم نواسے امام حسین نے اموی حکومت کے سامنے کسی تردد کے بغیر یزید کی بیعت نہ کرنے کا اعلان فرما دیا،کلمہ حق کو بلند کرنے کیلئے اپنے بہت کم ناصر و مدد گار کے ساتھ میدان جہاد میں قدم رکھا اور کلمہ باطل کو نیست و نابود کر دیا جبکہ امویوں نے بہت زیادہ لشکر جمع کیا تھا وہ بھی امام کو اپنے مقصد سے نہیں روک سکا، اور آپ نے اس زندہ جاوید کلمہ کے ذریعہ اعلان فرمایا :

'میں موت کو سعادت کے علاوہ اور کچھ نہیں دیکھتا ،اور ظالموں کے ساتھ زندگی بسر کرنا ذلت کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔۔۔

 اور آپ ہی کا فرمان ہے ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے،

آپ پرچم اسلام کو بلند کرنے کیلئے اپنے اہل بیت خاندان عصمت و طہارت اور اصحاب کے ساتھ میدان میں تشریف لائے اور پرچم اسلام کو بلند کرنے کی کوشش فرمائی ،امت اسلامیہ کی سب سے عظیم نصرت اور فتح دلائی یہاں تک کہ خود امام شہید ہو گئے ،آپ ارادہ میں سب سے زیادہ قوی تھے۔ آپ پختہ ارادہ کے مالک تھے اور کسی طرح کے ایسے مصائب اور سختیوں کے سامنے نہیں جھکے جن سے عقلیں مدہوش اور صاحبانِ عقل حیرت زدہ ہو جاتے ہیں۔

ظلم و ستم (و حق تلفی) سے منع کرنا:

امام حسین کی ایک صفت ظلم و ستم سے منع کرنا تھا، اسی وجہ سے آپ کو (ابو الضیم ) کا لقب دیا گیا، آپ کا یہ لقب لوگوں میں سب سے زیادہ مشہور و منتشر ہوا، آپ اس صفت کی سب سے اعلیٰ مثال تھے یعنی آپ ہی نے انسانی کرامت کا نعرہ لگایا،اور انسانیت کو عزت و شرف کا طریقہ دیا، آپ بنی امیہ کے بندروں کے سامنے نہیں جھکے اور نیزوں کے سایہ میں موت کی نیند سو گئے ،عبد العزیز بن نباتہ سعدی کا کہنا ہے :

والحسینُ الذی رأی الموت ف العز

حیاةً وَالعیشَ فی الذلِّ قتلا

'یعنی حسین وہ ہیں جنھوں نے عزت کی موت کو زندگی اورذلت کی زندگی سے بہتر سمجھا ہے '۔

مشہور و معروف مورّخ یعقوبی نے آپ کو شدید العزّت کی صفت سے متصف کیا ہے۔

تاریخ یعقوبی، جلد 2،صفحہ 293

ابن ابی الحدید کا کہنا ہے :سید اہل اباء حضرت ابا عبد اللہ الحسین جنھوں نے لوگوں کو حمیت و غیرت کی تعلیم اور دنیوی ذلت کی زندگی کے مقابلہ میں تلواروں سے کٹ کر مر جانے کا درس دیا انھیں اور آپ کے اصحاب کو امان نامہ دیا گیا لیکن آپ نے ذلت اختیار نہیں فرمائی ،امام کو اس بات کا اندیشہ لا حق ہوا کہ ابن زیاد آپ کو قتل نہ کر کے ایک طرح کی ذلت سے دوچار کر دے جس کی بنا پر جان فدا کرنے کو ترجیح دی۔

آپ روز عاشورہ اموی لشکر کے بھیڑیا صفت درندوں کے درمیان ایک کوہ ہمالیہ کی مانند کھڑے ہوئے تھے اور آپ نے ان کے درمیان عزت و شرافت ،کرامت و بزرگی ،ظلم و ستم کی مخالفت سے متعلق عظیم الشان خطبے ارشاد فرمائے :

واللّٰہ لا اعطیکم بیدی اِعطائَ الذَّلِیْلِ،ولااَفِرُّ فِرارالعبیدِ،اِنی عذت بربی وربِّکُمْ اَنْ ترجُمُوْنَ۔۔۔ '۔

شجاعت:

بڑے بڑے صاحبان فکر و نظر نے پوری تاریخ میں ایسا شجاع اور ایسا بہادر انسان نہیں دیکھا ، جتنی امام حسین کی ذات با برکت تھی کربلا کے دن آپ نے وہ موقف اختیار فرمایا جس سے سب متحیر ہو گئے ، عقلیں مدہوش ہو کر رہ گئیں ،نسلیں آپ کی شجاعت اور محکم عزم کے متعلق متعجب ہو کر گفتگو کرنے لگیں ،لوگ آپ کی شجاعت کو آپ کے والد بزرگوار کی شجاعت پر فوقیت دینے لگے جس کے پوری دنیا کی ہر زبان میں چرچے تھے ۔

آپ کے ڈر پوک دشمن آپ کی شجاعت سے مبہوت ہو کر رہ گئے ، آپ ان ہوش اڑا دینے والی ذلت و خواری کے سامنے نہیں جھکے جن کی طرف سے مسلسل آپ پر حملے کیے جا رہے تھے ،اور جتنی مصیبتیں بڑھتی جا رہی تھیں اتنا ہی آپ مسکرا رہے تھے ، جب آپ کے اصحاب اور اہل بیت کا خاتمہ ہو گیا اور (روایات کے مطابق ) تیس ہزار کے لشکر نے آپ پر حملہ کیا تو آ پ نے تن تنہا ان پر ایسا حملہ کیا، جس سے ان کے دلوں پر آپ کا خوف اور رعب طاری ہو گیا ،وہ آپ کے سامنے سے اس طرح بھاگے جا رہے تھے، جس طرح شیرِ غضبناک (روایات کی تعبیر کے مطابق) کے سامنے بکری بھاگتی ہوئی دکھائی دیتی ہے ،آپ ہر طرف سے آنے والے تیروں کے سامنے جبل راسخ کی طرح کھڑے ہو گئے آپ کے وقار میں کوئی کمی نہیں آئی ، آپ کا امر محکم و پائیدار اور موت کمزور ہو کر رہ گئی تھی،

سید حیدرکہتے ہیں :

فَتَلقّی الجُمُوْعُ فَرداً ولٰکِنْ

کُلُّ عُضْوٍ فِی الرَّوعِ مِنْہُ جُمُوْعُ

رُمْحُہُ مِنْ بِنَائِہِ وَکَاَنَّ مِنْ

عَزْمِہِ حَدَّ سَیْفِہِ مَطْبُوْعُ

زَوَّ جَ السَّیْفَ بِالنُّفُوْسِ وَلٰکِنْ

مَھْرُھَالْمَوْتُ والخِضآبُ النَّجِیْعُ

'امام حسین نے گرچہ دشمنوں کی جماعت کا تنہا مقابلہ کیا لیکن ہیبت کے لحاظ سے آپ کے بدن کا ہرحصہ کئی جماعتوں کی مانند تھا۔

آپ کی انگلیوں کا پور پور نیزے کا کام کرتا تھا اپنی بلند ہمت کی بنا پر آپ کو تلواروں کا مقابلہ کرنے کی عادت پڑ گئی تھی ۔

آپ نے اپنی تلوار کے ذریعہ دشمنوں کی صفوں میں تباہی مچا دی '۔

دوسرے اشعار میں سید حیدر کہتے ہیں :

رَکِیْن وَلِلْاَرْضِ تَحْتَ الْکُماة

رَجِیْفْ یُزَلْزِلُ ثَھْلَانَھَا

اَقَرُّ عَلیٰ الارضِ مِنْ ظَھرِھَا

اِذَامَلْمَلَ الرُّعْبُ اَقْرَانَھَا

تَزِیْدُ الطَّلَاقَةُ فِیْ وَجْھِہِ

اِذَاغَیَّرَالْخَوْفُ اَلْوَانَھَا

'حالانکہ زمین مسلسل تھرا رہی تھی لیکن آپ مضبوطی کے ساتھ پُر سکون تھے ۔

شدید خوف کے مقامات پر بھی آپ کا چہرہ کھِلا ہوا تھا '۔

جب ظلم و ستم و حق تلفی سے روکنے والے زخمی ہو کر زمین پر گرے اور خون بہہ جانے کی وجہ سے آپ پر غش طاری ہو گیا، تو پورا لشکر آپ کے رعب و دبدبہ کی وجہ سے آپ کے پاس نہ آ سکا ۔

اس سلسلہ میں سید حیدر کہتے ہیں :

عفیراًمتی عا ینتہ الکُماة

یَخْتَطِفُ الرُّعْبُ اَلوانَھَا

فَما أَجَلَتِ الْحَرْبُ عَنْ مِثْلِہ

صَرِیْعاً یُجَبِّنُ شُجْعَانَھَا

'آپ زمین کربلا پر خاک آلود پڑے ہوئے تھے پھر بھی بڑے بڑے بہادر آپ کے نزدیک ہونے سے ڈر رہے تھے '۔

لشکر یزید کی جگہ اگر پہاڑ بھی ہوتے تو وہ بھی آپ کی بہادری کی وجہ سے ریزہ ریزہ ہو جاتے۔

شرح نہج البلاغہ، جلد 3،صفحہ 263

امام حسین نے فطرت بشری کی نادر استقامت و پائیداری کے ساتھ چیلنج پیش کرتے ہوئے موت کی کوئی پروا نہ کی اور جب آپ پر دشمنوں کے تیروں کی بارش ہو رہی تھی تو اپنے اصحاب سے فرمایا:

'قُوموُارحِمَکُم اللّٰہُ الیٰ المَوْتِ الَّذِیْ لَابُدَّ مِنْہُ فَاِنَّ ھٰذِہِ السّھَامَ رُسُلُ الْقَوْمِ اِلَیْکُمْ۔۔۔ '۔

'تم پر خدا کی رحمت ہو اس مو ت کی جانب آگے بڑھوجس سے راہ فرار نہیں کیونکہ یہ تیر دشمنوں کی جانب سے تمہارے لئے موت کا پیغام ہیں '۔

حضرت امام حسین کا اپنے اصحاب کو موت کی دعوت دینا گویا لذیذ چیز کی دعوت دینا تھا ،جس کی لذت آپ کے نزدیک حق تھی ، چونکہ آپ باطل کو نیست و نابود کر کے ان کے سامنے پروردگار کی دلیل پیش کرنا چاہتے تھے جو ان کی تخلیق کرنے والا ہے۔

الامام حسین، ص 101

صراحت:

حضرت امام حسین کی ایک صفت کلام میں صاف گوئی سے کام لینا تھی ،سلوک میں صراحت سے کام لینا ، اپنی پوری زندگی کے کسی لمحہ میں بھی نہ کسی کے سامنے جھکے اور نہ ہی کسی کو دھوکہ دیا، نہ سست راستہ اختیار کیا، آپ نے ہمیشہ ایسا واضح راستہ اختیار فرمایا جو آپ کے زندہ ضمیر کے ساتھ منسلک تھا اور خود کو ان تمام چیزوں سے دور رکھا جن کا آپ کے دین اور خلق میں کوئی مقام نہیں تھا ،یہ آپ کے واضح راستہ کا ہی اثر تھا کہ یثرب کے حاکم یزید نے آپ کو رات کی تاریکی میں بلایا، آپ کو معاویہ کے ہلاک ہونے کی خبر دی اور آپ سے رات کے اندہیرے میں یزید کے لیے بیعت طلب کی تو آپ نے یہ فرماتے ہوئے انکار کر دیا :

'اے امیر ،ہم اہل بیت نبوت ہیں ، ہم معدن رسالت ہیں ،اللہ نے ہم ہی سے دنیا کا آغاز کیا اور ہم پر ہی اس کا خاتمہ ہو گا، یزید فاسق و فاجر ہے ،شارب الخمر ہے ،نفس محترم کا قاتل ہے وہ ہر فسق کا انجام دینے والا ہے اور میرے جیسا اس جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا '۔

ان کلمات کے ذریعہ آپ کی صاف گوئی ،بلندی مقام اور حق کی راہ میں ٹکرانے کی طاقت واضح ہو جاتی ہے۔

آپ کی ذات میں اسی صاف گوئی کی عادت کے موجود ہونے کا یہ اثر تھا کہ جب آپ عراق کی طرف جا رہے تھے تو راستہ میں آپ کو مسلم بن عقیل کے انتقال اور ان کو اہل کوفہ کے رسوا و ذلیل کرنے کی درد ناک خبر ملی تو آپ نے ان افراد سے جنھوں نے حق کی حمایت کا راستہ اختیار نہ کر کے عفو کا راستہ اختیار کیا فرمایا: 'ہمارے شیعوں کو رسوا و ذلیل کیا تم میں سے جو جانا چاہے وہ چلا جائے ، تم پر کوئی زبردستی نہیں ہے۔۔۔ '۔

لالچی افراد آپ سے جدا ہو گئے ،صرف آپ کے ساتھ آپ کے منتخب اصحاب اور اہل بیت علیہم السلام باقی رہ گئے ،آپ نے ان مشکل حالات میں دنیا پرست افراد سے اجتناب کیا جن میں آپ کو ناصر و مدد گار کی ضرورت تھی ، آپ نے سخت لمحات میں مکر و فریب سے اجتناب کیا آپ کا عقیدہ تھا کہ خدا پر ایمان رکھنے والے افراد کے لیے ایسا کرنا زیب نہیں دیتا۔

اسی صاف گوئی و صراحت کا اثر تھا کہ آپ نے محرم الحرام شب عاشورہ میں اپنے اہل بیت اور اصحاب کو جمع کر کے ان سے فرمایا کہ میں کل قتل کر دیا جائوں گا اور جو میرے ساتھ ہیں وہ بھی کل قتل کر دیئے جائیں گے، آپ نے صاف طور پر ان کے سامنے اپنا امر بیان فرماتے ہوئے کہا کہ تم رات کی تاریکی میں مجھ سے جدا ہو جاؤ ،تو اس عظیم خاندان نے آپ سے الگ ہونے سے منع کر دیا اور آپ کے ساتھ شہید ہونے پر اصرار کیا۔

انساب الاشراف، جلد 1،صفحہ 240

حکومتیں ختم ہو گئیں بادشاہ اس دنیا سے چلے گئے لیکن یہ بلند اخلاق باقی رہنے کے حقدار ہیں جو کائنات میں ہمیشہ باقی رہیں گے ،کیونکہ یہ بلند و بالا اور اہم نمونے ہیں جن کے بغیر انسان کریم و شفیق نہیں ہو سکتا ۔

حق کے سلسلہ میں استقامت:

امام حسین کی اہم اور نمایاں صفت حق کے سلسلہ میں استقامت و پائیداری تھی ،آپ نے حق کی خاطر اس مشکل راستہ کو طے کیا، باطل کے قلعوں کو مسمار اور ظلم و جور کو نیست و نابود کر دیا ۔

آپ نے اپنے تمام مفاہیم میں حق کی بنیاد رکھی ،تیر برستے ہوئے میدان کو سر کیا، تا کہ اسلامی وطن میں حق کا بول بالا ہو، سخت دلی کے موج مارنے والے سمندر سے امت کو نجات دی جائے جس کے اطراف میں باطل قواعد و ضوابط معین کیے گئے تھے ، ظلم کا صفایا ہو، سرکشی کے آشیانہ کی فضا میں باطل کے اڈّے، ظلم کے ٹھکانے اور سرکشی کے آشیانے وجود میں آ گئے تھے، امام نے ان سب سے روگردانی کی ہے ۔

امام نے امت کو باطل خرافات اور گمراہی میں غرق ہوتے دیکھا ،آپ کی زندگی میں کوئی بھی مفہوم حق کے مفہوم سے زیادہ نمایاں شمار نہیں کیا جاتا تھا ،آپ حق کا پرچم بلند کرنے کے لیے قربانی اور فدیہ کے میدان میں تشریف لائے ،آپ نے اپنے اصحاب سے ملاقات کرتے وقت اس نورانی مقصد کا یوں اعلان فرمایا:

'کیا تم نہیں دیکھ رہے ہو کہ نہ حق پر عمل کیا جا رہا ہے اور نہ ہی باطل سے منع کیا جا رہا ہے، جس سے مؤمن اللہ سے ملاقات کرنے کے لیے راغب ہو ۔۔۔ '۔

امام حسین کی شخصیت میں حق کا عنصر موجود تھا ،اور نبی اکرم نے آپ کی ذات میں اس کریم صفت کا مشاہدہ فرمایا تھا ، آپ ہمیشہ امام کے گلوئے مبارک کے بوسے لیا کرتے تھے جس سے کلمة اللہ ادا ہوا اور وہ حسین جس نے ہمیشہ کلمہ حق کہا اور زمین پر عدل و حق کے چشمے بہائے ۔

صبر:

سید الشہدا کی ایک منفرد خاصیت دنیا کے مصائب اور گردش ایام پر صبر کرنا ہے ، آپ نے صبر کی مٹھاس اپنے بچپن سے چکھی ، اپنے جد اور مادر گرامی کی مصیبتیں برداشت کیں ، اپنے پدر بزرگوار پر آنے والی سخت مصیبتوں کا مشاہدہ کیا، اپنے برادر بزرگوار کے دور میں صبر کا گھونٹ پیا ، ان کے لشکر کے ذریعہ آپ کو رسوا و ذلیل اور آپ سے غداری کرتے دیکھا یہاں تک کہ آپ صلح کرنے پر مجبور ہو گئے لیکن آپ اپنے برادر بزرگوار کے تمام آلام و مصائب میں شریک رہے ، یہاں تک کہ معاویہ نے امام حسن کو زہر ہلاہل دیدیا، آپ اپنے بھائی کا جنازہ اپنے جد کے پہلو میں دفن کرنے کے لیے لے کر چلے تو بنی امیہ نے عایشہ بنت ابوبکر کے حکم پر آپ کا راستہ روکا اور امام حسن کے جنازہ کو ان کے جد کے پہلو میں دفن نہیں ہونے دیا۔ یہ آپ کے لیے سب سے بڑی مصیبت تھی ۔

آپ کے لیے سب سے عظیم مصیبت جس پر آپ نے صبر کیا وہ اسلام کے اصول و قوانین پر عمل نہ کرنا تھا نیز آپ کے لیے ایک بڑی مصیبت یہ تھی کہ آپ دیکھ رہے تھے کہ آپ کے جدبزرگوار کی طرف جھوٹی حدیثیں منسوب کی جا رہی ہیں جن کی بنا پر شریعت ا لٰہی مسخ ہو رہی تھی آپ نے اس المیہ کا بھی مشاہدہ کیا کہ آپ کے پدر بزرگوار پر منبروں سے سب و شتم کیا جا رہا ہے نیز باغی ' زیاد 'شیعوں اور آپ کے چاہنے والوں کو موت کے گھاٹ اتار رہا تھا، چنانچہ آپ نے ان تمام مصائب و آلام پر صبر کیا ۔

جس سب سے سخت مصیبت پر آپ نے صبر کیا وہ دس محرم الحرام تھی، مصیبتیں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیں بلکہ مصیبتیں آپ کا طواف کر رہی تھیں آپ اپنی اولاد اور اہل بیت کے روشن و منور ستاروں کے سامنے کھڑے تھے ،جب ان کی طرف تلواریں اور نیزے بڑھ رہے تھے تو آپ ان سے مخاطب ہو کر ان کو صبر اور استقامت کی تلقین کر رہے تھے : 'اے میرے اہل بیت !صبر کرو ،اے میرے چچا کے بیٹوں! صبر کرو اس دن سے زیادہ سخت دن نہیں آئے گا '۔

آپ نے اپنی حقیقی بہن عقیلہ بنی ہاشم کو دیکھا کہ میرے خطبہ کے بعد ان کا دل رنج و غم سے بیٹھا جا رہا ہے تو آپ جلدی سے ان کے پاس آئے اور جو اللہ نے آپ کی قسمت میں لکھ دیا تھا اس پر ہمیشہ صبر و رضا سے پیش آنے کا حکم دیا ۔

سب سے زیادہ خوفناک اور غم انگیز چیز جس پر امام نے صبر کیا وہ بچوں اور اہل و عیال کا پیاس سے بلبلانا تھا ،جو پیاس کی شدت سے فریاد کر رہے تھے، آپ ان کو صبر و استقامت کی تلقین کر رہے تھے اور ان کو یہ خبر دے رہے تھے کہ ان تمام مصائب و آلام کو سہنے کے بعد ان کا مستقبل روشن و منور ہو جائے گا ۔

آپ نے اس وقت بھی صبر کا مظاہرہ کیا جب تمام اعداء ایک دم ٹوٹ پڑے تھے اور چاروں طرف سے آپ کو نیزے و تلوار مار رہے تھے اور آپ کا جسم اطہر پیاس کی شدت سے بے تاب ہو رہا تھا ۔

عاشور کے دن آپ کے صبرو استقامت کو انسانیت نے نہ پہچانا:

اربلی کا کہنا ہے : 'امام حسین کی شجاعت کو نمونہ کے طور پر بیان کیا جاتا ہے اور جنگ و جدل میں آپ کے صبر کو گذشتہ اور آنے والی نسلیں سمجھنے سے عاجز ہیں،

کشف الغمہ ،ج  2،ص 229

بیشک وہ کونسا انسان ہے جو ایک مصیبت پڑنے پر صبر ،عزم اور قوت نفس کے دامن کو اپنے ہاتھ سے نہیں چھوڑتا اور اپنے کمزور نفس کے سامنے تسلیم ہو جاتا ہے لیکن امام حسین نے مصیبتوں میں کسی سے کوئی مدد نہیں مانگی، آپ نے انتہائی صبر سے کام لیا اگر امام پر پڑنے والی مصیبتوں میں سے اگر کوئی مصیبت کسی دوسرے شخص پر پڑتی تو وہ انسان کتنا بھی صبر کرتا پھر بھی اس کی طاقتیں جواب دے جاتیں لیکن امام کی پیشانی پر بل تک نہ آیا۔

مؤرخین کا کہنا ہے کہ : آپ اس عمل میں منفرد تھے، آپ پر پڑنے والی کوئی بھی مصیبت آپ کے عزم میں کوئی رکاوٹ نہ لا سکی ، آپ کا فرزند ارجمند آپ کی زندگی میں مارا گیا لیکن آپ نے اس پر ذرا بھی رنجیدگی کا اظہار نہیں کیا آپ سے اس سلسلہ میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: 'بیشک ہم اہل بیت اللہ سے سوال کرتے ہیں تو وہ ہم کو عطا کرتا ہے اور جب وہ ہم سے ہماری محبوب چیز کو لینا چاہتا ہے تو ہم اس پر راضی رہتے ہیں '۔

الاصابہ، ج 2 ،ص 222

آپ ہمیشہ اللہ کی قضا و قدر پر راضی رہے اور اس کے حکم کے سامنے تسلیم رہے ،یہی اسلام کا جوہر اور ایمان کی انتہا ہے۔

تواضع:

امام حسین بہت زیادہ متواضع تھے اور انانیت اور تکبر آپ کے پاس تک نہیں پھٹکتا تھا ،یہ صفت آپ کو اپنے جد بزرگوار رسول اسلام سے میراث میں ملی تھی جنھوں نے زمین پر فضائل اور بلند اخلاق کے اصول قائم کیے ۔ راویوں نے آپ کے بلند اخلاق اور تواضع کے متعلق متعدد واقعات بیان کیے ہیں ،ہم ان میں سے ذیل میں چند واقعات بیان کر رہے ہیں :

آپ کا مسکینوں کے پاس سے گذر ہوا جو کھانا کھا رہے تھے، انھوں نے آپ کو کھانا کھانے کے لیے کہا تو آپ اپنے مرکب سے اتر گئے اور ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا، پھر ان سے فرمایا: 'میں نے تمہاری دعوت قبول کی تو تم میری دعوت قبول کرو ' انھوں نے آپ کے کلام پر لبیک کہا اور آپ کے ساتھ آپ کے گھر تک آئے آپ نے اپنی زوجہ رباب سے فرمایا: 'جو کچھ گھر میں موجود ہے وہ لا کر دیدو '۔ انھوں نے جو کچھ گھر میں رقم تھی وہ لا کر آپ کے حوالے کر دی اور آپ نے وہ رقم ان سب کو دیدی۔

تاریخ ابن عساکر، ج 13،ص 54

ایک مرتبہ آپ ان فقیروں کے پاس سے گذرے جو صدقہ کا کھانا کھا رہے تھے ،آپ نے ان کو سلام کیا تو انھوں نے آپ کو کھانے کی دعوت دی تو آپ ان کے پاس بیٹھ گئے اور ان سے فرمایا: 'اگر یہ صدقہ نہ ہوتا تو میں آپ لوگوں کے ساتھ کھاتا 'پھر آپ ان کو اپنے گھر تک لے کر آئے ان کو کھانا کھلایا ، کپڑا دیا اور ان کو درہم دینے کا حکم دیا۔

اعیان الشیعہ ،ج 4،ص 110

اس سلسلہ میں آپ نے اپنے جد رسول اللہ کی اقتدا فرمائی ،ان کی ہدایات پر عمل پیرا ہوئے، (مو رخین کا کہنا ہے کہ ) آپ غریبوں کے ساتھ مل جُل کر رہتے اور ان کے ساتھ اٹھتے اور بیٹھتے تھے۔ ہمیشہ ان پر احسان فرماتے ان سے نیکی سے پیش آتے تھے یہاں تک کہ فقیر اپنے فقر سے بغاوت نہ کرتا اور مالدار اپنی دولت میں بخل نہیں کرتا تھا۔

وعظ و ارشاد:

امام حسین ہمیشہ لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے تھے جیسا کہ آپ سے پہلے آپ کے پدر بزرگوار لوگوں کو وعظ و نصیحت فرماتے تھے ، جس سے ان کا ہدف لوگوں کے دلوں میں اچھائی کی رشد و نمو کرنا ، ان کو حق اور خیر کی طرف متوجہ کرنا اور ان سے شر ،غرور اور غصہ وغیرہ کو دور کرنا تھا۔ ہم ذیل میں آپ کی چند نصیحت بیان کر رہے ہیں :

امام کا فرمان ہے : 'اے ابن آدم !غور و فکر کر اور کہہ :دنیا کے بادشاہ اور ان کے ارباب کہاں ہیں جو دنیا میں آباد تھے انھوں نے زمین میں بیلچے مارے اس میں درخت لگائے ، شہروں کو آباد کیا اور سب کچھ

کر چلے گئے جبکہ وہ جانا نہیں چاہتے تھے ،ان کی جگہ پر دوسرے افراد آ گئے اور ہم بھی عنقریب اُن کے پاس جانے والے ہیں ۔

اے فرزند آدم! اپنی موت کو یاد کر اور اپنی قبر میں سونے کو یاد رکھ اور خدا کے سامنے کھڑے ہونے کو یاد کر ،جب تیرے اعضاء و جوارح تیرے خلاف گواہی دے رہے ہوں گے اور اس دن قدم لڑکھڑا رہے ہوں گے ،دل حلق تک آ گئے ہوں گے، کچھ لوگوں کے چہرے سفید ہوں گے اور کچھ رو سیاہ ہوں گے، ہر طرح کے راز ظاہر ہو جائیں گے اور عدل و انصاف کے مطابق فیصلہ ہو گا ۔

اے فرزند آدم ! اپنے آباء و اجداد کو یاد کر اور اپنی اولاد کے بارے میں سوچ کہ وہ کس طرح کے تھے اور کہاں گئے اور گویا عنقریب تم بھی اُن ہی کے پاس پہنچ جاؤ گے اور عبرت لینے والوں کے لیے عبرت بن جاؤ گے '۔

پھر آپ نے یہ اشعار پڑھے :

این الملوک التی عن حفظھا غفلت

حتیٰ سقاھا بکأس الموت ساقیھا؟

تلک المدائن فی الآفاق خالیة

عادت خراباً و ذاقَ الْمَوْتِ بَانِیْھَا

اَموالنا لذو الورّاثِ نَجْمَعُھَا

و دُورُنا لخراب الدھر نَبْنِیْھَا '

'وہ بادشاہ کہاں گئے جو ان محلوں کی حفاظت سے غافل ہو گئے یہاں تک کہ موت نے اُن کو اپنی آغوش میں لے لیا ؟

وہ دور دراز کے شہر ویران ہو گئے اور ان کو بسانے والے موت کا مزہ چکھ چکے ۔

ہم دولت کو وارثوں کے لے اکٹھا کرتے ہیں اور اپنے گھر تباہ ہونے کے لیے بناتے ہیں '۔

الارشاد، دیلمی،ج 1 ،ص 28

یہ بہت سے وہ وعظ و نصیحت تھے جن سے آپ کا ہدف اور مقصد لوگوں کی اصلاح ان کو تہذیب و تمدن سے آراستہ کرنا اور خواہشات نفس اور شر سے دور رکھنا تھا ۔

اقوال زرّین:

پروردگار عالم نے امام حسین کو حکمت اور فصل الخطاب عطا فرمایا تھا، آپ اپنی زبان مبارک سے مواعظ ،آداب اور تمام اسوہ حسنہ بیان فرماتے تھے ،آپ کی حکمت کے بعض کلمات قصار یہ ہیں :

امام حسین کا فرمان ہے : 'تم عذر خواہی کرنے سے پرہیز کرو ،بیشک مومن نہ برا کام انجام دیتا ہے اور نہ ہی عذر خواہی کرتا ہے ،اور منافق ہر روز برائی کرتا ہے اور عذر خواہی کرتا ہے۔۔۔

تحف العقول، صفحہ 246

امام حسین فرماتے ہیں : 'عاقل اس شخص سے گفتگو نہیں کرتا جس سے اسے اپنی تکذیب کا ڈر ہو،اس چیز کے متعلق سوال نہیں کرتا جس کے اسے انکار کا ڈر ہو ،اس شخص پر اعتماد نہیں کرتا جس کے دھوکہ دینے کا اسے خوف ہو اور اس چیز کی امید نہیں کرتا جس کی امید پر اسے اطمینان نہ ہو ۔۔۔

ریحانة الرسول، صفحہ 55

امام حسین کا فرمان ہے : 'پانچ چیزیں ایسی ہیں اگر وہ کسی میں نہ ہوں تو اس میں بہت سے نیک صفات نہیں ہوں گے عقل ،دین ،ادب ،حیا اور حُسن خلق '

ریحانة الرسول، صفحہ 55

امام حسین فرماتے ہیں : 'بخیل وہ ہے جو سلام کرنے میں بخل سے کام لے ،

ریحانة الرسول، صفحہ 55

امام حسین فرماتے ہیں : 'ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے '۔

تحف العقول ،صفحہ 246

امام نے اس شخص سے فرمایا جو آپ سے کسی دوسرے شخص کی غیبت کر رہا تھا : 'اے شخص غیبت کرنے سے باز آ جا، بیشک یہ کتّوں کی غذا ہے ۔۔۔

تحف العقول ،صفحہ 245

التماس دعا....

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی