2017 November 23
شہادت عبد صالح، باب الحوائج حضرت امام موسی کاظم (ع)
مندرجات: ٧١٠ تاریخ اشاعت: ٢٣ April ٢٠١٧ - ١٢:١٠ مشاہدات: 471
یاداشتیں » پبلک
شہادت عبد صالح، باب الحوائج حضرت امام موسی کاظم (ع)

آپ کا نام موسی اور ان کا لقب کاظم  ہے ۔ ان امام کی والدہ گرامی ایک با فضیلت و کرامت بی بی ہیں کہ جن کا نام حمیدہ ہے، اور امام کے والد بزرگوار شیعوں کے چھٹے امام حضرت جعفر صادق علیہ السلام ہیں، امام موسی کاظم علیہ السلام ابواء کے مقام، کہ جو مدینہ کے قریب ایک گاؤں ہے، پر اس دنیا میں تشریف لائے اور سن 183 ہجری قمری میں شہید ہو گئے۔ حضرت امام کاظم علیہ السلام کی امامت کے زمانے میں متعدد غاصب خلفاء نے خلافت کی:

منصود دوانیقی: 136 ہجری سے 158 ہجری تک

محمد معروف بہ مہدی: 158 ہجری سے 159 ہجری تک

ہادی: 159 ہجری سے 170 ہجری تک

ہارون: 170 ہجری سے 193 ہجری تک

پیشوایی، مهدی، سیره پیشوایان ، ص413 ، قم ، مؤسسه تعلیماتی و تحقیقاتی امام صادق علیه السلام،

حضرت امام کاظم علیہ السلام کی امامت کے ابتدائی دس سال میں کوئی سختی اور مشکلات نہیں تھی۔ انھوں نے اس زمانے میں قرآن کی تعلیم اور اسلامی تعلیم دینے میں مشغول رہے۔

اصفهانی ( عماد زاده ) ، عماد الدین حسین، مجموعه زندگانی چهارده معصوم ، ج2 ، ص307،

لیکن اس کے بعد دباؤ ، سختی ، ہجرت ، تخویف شروع ہو گئی۔ امام علیہ السلام نے اپنی امامت کا کچھ زمانہ مدینہ میں گزارا تو باقی زمانے میں وہ بغداد میں تھے۔

امام کی زندگی میں سماجی اور دینی پہلو کے علاوہ خداوند کی عبادت اور اس کی بندگی شروع سے آخر تک نمایاں ہے۔

دوران زندگی: 

امامت سے پہلے کا دور جو 128 ہجری سے 148 آپ اپنے والد بزرگوار امام جعفر صادق کے ساتھ گزارے، اور امامت کے بعد کا دور 148  ہجری سے 183 تک ہے، جو منصور دوانیقی ،مہدی  عباسی ، ہادی عباسی ، اور ہارون رشید پر مشتمل ہے ، سب سے زیادہ آپ کی امامت کا دور عصر ہارون میں تھا جس کی مدت 23 سال تھی اور ہارون  عباسی دور کا پانچواں خلیفہ تھا، اس کے دور میں حضرت زیادہ تر قید خانہ میں رہے۔

امام موسی کاظم (ع) کا جہاد:

امام جعفر صادق  نے جس روش و طریقے پر اپنی جدوجہد اور منصوبہ بندی کے ذریعہ معاشرے میں اپنا جہاد جاری رکھا ہوا تھا، اسی راستے اور جدوجہد پر امام موسی کاظم نے اپنا جہاد جاری رکھا جس کے چار محور تھے :

پہلا محور:

 فکری منصوبہ بندی کرنا، نظریاتی بیداری پیدا کرنا ،نیز منحرف عقائد اور قبائلی ، قومی و مذہبی اختلافات کی چارہ جوئی کے عمل کو آگے بڑھانا ، اس دور کے خطرناک پروپیگنڈوں میں سے ایک الحادی نظریات کی ترویج تھا ، اس کے خلاف امام موسی کاظم کا طرز عمل یہ تھا کہ آپ مستحکم علمی دلائل کے ساتھ ان سے بحث کرنے کے لیے میدان میں آتے اور ان نظریات کی حقیقت سے دوری اور غیر منطقی ہونے کو آشکار کرتے ، یہاں تک کہ ان نظریات کے حامل لوگوں کی ایک کثیر تعداد نے اپنی غلطی اور گمراہی کا اعتراف کیا۔

یہ حکمران طبقے پر گراں گزرا اور یوں حکام نے ان کو دبانے اور سخت ترین سزائیں دینے پر اتر آئے ، عقائد کے بارے میں گفتگو کرنے پر پابندی لگا دی گئی ، چنانچہ امام نے اپنے ایک ساتھی ہشام کو پیغام بھیجا کہ وہ لاحق خطرات کے پیش نظر گفتگو میں پرہیز سے کام لے ، یوں ہشام خلیفہ مہدی کے مرنے تک عقائد کے بارے میں بات کرنے سے پرہیز کرتا رہا۔

رجال کشی :ص172

دوسرا محور:

اپنے وفاداروں اور حامیوں کی براہ راست نظارت اور ان کے ساتھ نظم و ہم آہنگی پیدا کرنا ، تا کہ حکومت وقت کو سیاسی طور پر کمزور کرنے ، اس کے ساتھ روابط نہ رکھنے اور سرکاری عدالتوں کی طرف رجوع نہ کرنے کے سلسلے میں مناسب موقف اختیار کیا جا سکے۔

امام کے اس موقف کا اظہار آپ کے ایک ساتھی (صفوان جمال ) کے ساتھ آپ کی گفتگو سے ہوتا ہے ، آپ نے صفوان  سے فرمایا :

اے صفوان تمہاری ہر صفت پسندیدہ اور اچھی ہے سوائے ایک چیز کے،

صفوان : قربان جاؤں وہ کون سی صفت ہے ؟

امام : تمہارا اپنے اونٹوں کا اس ظالم ( ہارون) کو کرائے پر دینا۔

صفوان: خدا کی قسم میں نے غرور و تکبر جتانے یا شکار و لہو و لعب کے لیے اسے اونٹ کرائے پر نہیں دیئے بلکہ میں نے تو اس سفر (حج) کے واسطے دئیے ہیں ،علاوہ از این میں بذات خود ان کے ساتھ نہیں جاتا ، بلکہ اپنے آدمیوں کو ان کے ساتھ بھیجتا ہوں۔

امام : اے صفوان کیا کبھی تمہارا کرایہ ان کے ذمے ( واجب الاداء ) باقی رہتا ہے ؟

صفوان :میری جان آپ پر فدا ہو، ہاں ایسا ہوتا ہے ۔

امام : اس صورت میں کیا تمہاری خواہش یہ نہیں ہوتی کہ کرائے کی ادائیگی تک وہ زندہ رہیں ؟

صفوان: جی ہاں !

امام :جو کوئی ان کے زندہ رہنے کی تمنا کرے وہ انہی میں سے ہے اور جس کا تعلق ان سے ہو اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔

مکاسب شیخ انصاری باب الولایة من قبل الجائر

اس کے بعد اس کے اس آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی :

وَ لا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَ ما لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِياءَ ثُمَّ لا تُنْصَرُون،

سوره ہود 113

امام نے اپنے اصحاب کو ہارونی نظام حکومت میں داخل ہونے اور کسی قسم کا عہدہ یا کام قبول کرنے سے منع کیا ، چنانچہ آپ نے زیاد بن ابی سلمہ  سے فرمایا :

اے زیاد میں کسی بلندی سے گر کر ٹکڑے ٹکڑے ہونے کو ان ظالموں کے لیے کوئی کام انجام دینے یا ان میں سے کسی کی فرش پر پاؤں رکھنے کی بہ نسبت زیادہ پسند کرتا ہوں۔

 مکاسب شیخ انصاری باب الولایة من قبل الجائر،

تیسرا محور:

 آپ کا حکام کے مقابلے میں یہ اعلانیہ اور صریح استدلالی موقف اختیار کرنا ، کہ آپ دوسروں کی بہ نسبت خلافت کے زیادہ حقدار ہیں اور دیگر تمام مسلمانوں سے آپ حق خلافت میں مقدم ہیں ۔

قبر رسول خدا (ص) کے پاس ایک جم غفیر کے سامنے آپ نے ہارون کے روبرو اپنا استدلال پیش کیا ،وہاں ہارون نے رسول اللہ کی ضریح کی جانب رخ کر کے یوں سلام کیا :

اے میرے چچا زاد بھائی آپ  پر دورد و سلام ہو ،،

اس وقت امام بھی موجود تھے آپ نے رسول اللہ کو یوں سلام کیا :

سلام ہو آپ پر اے میرے پدر بزرگوار ' '

یہ سننا تھا کہ ہارون آپے سے باہر ہو کر سخت طیش میں آ گیا کیونکہ امام نے فخر و عظمت میں اپنی سبقت ثابت کر دی تھی ، چنانچہ مامون نے غیظ و غضب بھرے لہجے میں کہا:

آپ نے ہم سے زیادہ رسول سے قریب ہونے کا دعوی کیوں کیا ؟

امام نے دو ٹوک اور دندان شکن جواب دیتے ہوئے فرمایا :

اگر رسول اللہ زندہ ہوتے اور تم سے تمہاری بیٹی کا رشتہ مانگتے تو کیا تم اسے قبول کرتے ؟

ہارون نے جواب دیا :سبحان اللہ ! یہ تو عرب و عجم کے سامنے میرے لیے باعث فخر ہوتا۔

امام نے فرمایا : لیکن رسول اللہ مجھ سے میری بیٹی نہیں مانگ سکتے اور نہ میں دے سکتا ہوں کیونکہ رسول اللہ ہمارے باپ ہیں نہ کہ تمہارے ، اسی لیے ہم تمہاری نسبت آنحضرت سے زیادہ نزدیک ہیں۔

اخبار الدول :ص 113

ہارون امام کی دلیل کے آگے منہ کی کھا کر چپ ہو گیا اور امام کو گرفتار کرنے کا حکم دیا اور آپ کو حوالہ زندان کر دیا کیا۔

تذکرة الخواص :ص 359

چوتھا محور:

 امت کے انقلابی جذبے کو بیدار کرنے کے لیے علوی انقلابیوں کی ان بغاوتوں اور تحریکوں کی حوصلہ افزائی جن کا مقصد امت مسلمہ کے ضمیر اور اسلامی عزم و ارادے کو  ظالم و منحرف حکمرانوں کے آگے سرنگوں ہونے سے بچانا تھا ، امام مخلص علویوں کی مدد بھی فرماتے تھے ،جب شہید فخ حسین بن علی ابن حسن نے امام کے معتقد شیعوں او علویوں کی توہین اور ان پر ہونے والے مظالم کے پیش نظر فاسد ماحول کے خلاف بغاوت کا عزم کیا تو وہ پہلے امام موسی کاظم کی خدمت میں مشہورہ لینے آئے ، امام نے فرمایا: آپ قتل ہو جائیں گے ، پس اپنی تلوار تیز کر لیجئے کیونکہ یہ لوگ فاسق ہیں۔

جب آپ کو حسین کے قتل کی خبر ملی تو آپ نے گریہ فرمایا اور ان الفاظ میں ان کی توصیف کی : خدا کی قسم وہ صالح ، کثرت سے روزہ رکھنے اور نماز پڑھنے والے اور معروف کا حکم دینے اور منکر سے منع کرنے والے تھے۔ ان کے گھرانے میں ان جیسا کوئی بھی نہ تھا۔

مقاتل الطالبین :ص 453

یہ مختصراً وہ چار محور ہیں جن پر امام موسی کاظم نے اپنی جدوجہد کو جاری رکھا ہوا تھا ، امام موسی کاظم کے فضائل و کمالات بھی ایسی تھے کہ خلفاء وقت کے لیے وہ بھی ناگوار تھے ہم یہاں پر نمونے کے  طور پر اہل سنت کے دو بڑے عالم دین کے ان کے بارے میں قول کو بیان کرتے ہیں:

اہل سنت کے بزرگ عالم دین ابن طلحہ تحریر کرتے ہیں کہ:

هو الامام ، الكبير القدر العظيم الشأن ، الكثير التهجّد ، الجادّة في الإجتهاد، المشهود له بالكرامات ، المشهور بالعبادة ، المواظب علي الطاعات ، يبيّت الليل ساجدا و قائما و يقطع النهار متصدقاً و صائماً ولفرط علمه و تجاوزه عن المعتدين عليه دُعي كاظما ، كان يجازي المسيء بإحسانه إليه ، ويقابل الجاني عليه بعفوه عنه ، و لكثرة عباداته كان يسمي بالعبد الصالح ، ويُعرف بالعراق بباب الحوائج إلي الله ، لنجح المتوسلين إلي الله تعالي به ، كراماته تحار منها العقول۔

وہ ایک عظیم القدر اور عظیم الشان امام تھے، بہت زیادہ تہجد گذار اور محنت و کوشش کرنے والے تھے ، جن کی کرامات ظاہر تھیں اور جو عبادت میں مشہور اور اطاعت الٰہی پر پابندی سے گامزن رہنے والے تھے، راتوں کو رکوع و سجود میں گزارتے تھے اور دن میں روزہ رکھتے اور خیرات فرمایا کرتے تھے، اور بہت زیادہ حلم و بخشش اور اپنی شان میں گستاخی کرنے والوں کی بخشش کی وجہ سے آپ کو کاظم کے نام سے پکارا جاتا تھا، اور جو شخص آپ کی شان میں گستاخی کرتا تھا آپ اس کا جواب نیکی اور احسان کے ذریعہ دیتے تھے، اپنے اوپر ظلم و ستم کرنے والوں کو بخش دیا کرتے تھے، اور بہت زیادہ عبادت کی وجہ سے آپ کا نام عبد صالح پڑ گیا، اور آپ عراق میں باب الحوائج الی اللہ کے نام سے مشہور ہوئے، کیونکہ ان کے وسیلہ سے خداوند سے متوسل ہوا جاتا ہے جس کا نتیجہ بھی برآمد ہوتا ہے۔ اور آپ کی کرامات عقلوں کو حیران کر دیتی ہیں.....،

کشف الغمه :ج2،ص212

اسی طرح آپ کی شان میں اہل سنت کے بہت زیادہ تعصب رکھنے والے عالم ابن حجر لکھتے ہیں کہ:

و كان معروفاً عند أهل العراق بباب قضاء الحوائج عند الله و كان أعبد أهل زمانه و أعلمهم و أسخاهم،

آپ عراقیوں کے درمیان خدا کی طرف سے باب اللہ کے نام سے مشہور تھے اور اپنے زمانہ کے سب سے بڑے عبادت گزار، سب سے بڑے عالم اور سب سے زیادہ سخی انسان تھے۔

الصواعق المحرقه :ص203

امام موسی کاظم علیہ السلام کی عبادت :

امام موسی کاظم علیہ السلام : اپنے زمانے کے لوگوں میں بہت بڑے عابد شمار ہوتے تھے۔

إبن حجر الهیتمی، الصواعق المحرقة، ج2، ص590-593، تحقیق: عبد الرحمن بن عبد الله الترکی و کامل محمد الخراط ، مؤسسة الرسالة - بیروت ، 1997م.

 اسی طرح ان کی عبادت اور ان کی محنت کی وجہ سے ان کو، عبد صالح کہا جاتا تھا۔

عبد الرحمن بن علی بن محمد أبو الفرج، صفة الصفوة، تحقیق: محمود فاخوری - د.محمد رواس قلعه جی، دار المعرفة – بیروت، 1399ق - 1979م.

ذہبی نے لکھا ہے کہ: قد کان موسی من أجواد الحکماء و من العباد الأتقیاء،

حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام سخاوت مند حکماء اور خدا کے پرہیزگار بندوں میں سے تھے۔

ذہبی، میزان الاعتدال ، ج 4 ، ص 204، بیروت ، دار المعرفة،

 تاریخ یعقوبی میں آیا ہے کہ:

کان موسی بن جعفر من اشدّ الناس عبادة،

حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام اپنے زمانے کے عابد ترین شخص تھے۔

احمد بن ابی یعقوب، تاریخ الیعقوبی ، ج2 ، ص414 ، قم ، مؤسسه و نشر فرهنگ اہل بیت،

جمال الدین محمد بن طلحہ شافعی نے اپنی کتاب میں اس طرح لکھا ہے کہ:

ان کی عبادت مشہور اور خدا کی اطاعت و عبادت میں محتاط اور ملازم تھے، شب کو سجدے میں اور صبح کو قیام کی صورت میں گزارتے تھے، اپنے دن کو صدقہ دے کر اور روزے سے تمام کیا کرتے تھے۔

نقل از مسند الامام الکاظم ، ج1، ص 6 . عطاردی ، عزیز الله ، مسند الامام الکاظم، مشهد ، کنگره جهانی امام رضا (ع) 1409ق،

شفیق بلخی کہتا ہے کہ: سن 149 ہجری میں حج ادا کرنے کے لیے نکلا اور قادسیہ پہنچا، وہاں میں نے بہت زیادہ کو دیکھا کہ جو حج انجام دینے کے لیے جانے کو آمادہ تھے، جس میں ایک خوبصورت گندمی رنگ کے جوان کو دیکھا جو کمزور تھا اپنے لباس کے اوپر پشمی لباس پہنے ہوئے تھا اور اپنے پاؤں میں نعلین پہنے کنارے بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے اپنے آپ سے کہا یہ جوان صوفیوں میں سے ہے اور وہ چاہتا یے کہ لوگ سارے راستے میں اس کو اپنے سر پر بٹھائے رہیں۔

اس کے نزدیک گیا جیسے ہی اس کی نگاہ مجھ پر پڑی انھوں نے فرمایا کہ: شقیق!

 اجْتَنِبُوا کَثِیراً مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ،

مجھ کو وہیں پر چھوڑ دیا اور اپنے راستے پر چلنے لگے، میں نے اپنے آپ سے کہا یہ بہت بڑی بات ہے اتنا بڑا کام انجام دیا وہ میرے دل کے اندر کی خبر دے رہا ہے اور میرا نام بھی جانتا ہے یہ بہت ہی نیک اور صالح ، خدا کا بندہ ہے۔ میں خود اس کے پاس پہنچوں گا اور اس سے عذر خواہی کروں گا جتنی بھی جلدی کر سکا کہ ان تک پہنچ جاؤں مگر نہیں پہنچ سکا اور وہ میری نظروں سے غائب ہو چکے تھے۔ جب میں نے دوبارہ انکو دیکھا تو وہ نماز پڑھنے میں مشغول تھے، ان کے جسم کے تمام اعضاء و جوارح لرز رہے تھے اور آنکھوں سے اشک جاری تھے، میں نے خود سے کہا یہ وہی شخص ہے میں جاتا ہوں اور ان سے معافی مانگتا ہوں۔ میں کھڑا رہا تا کہ ان کی نماز تمام ہو جائے میں ان کی طرف گیا۔ جیسے ہی انھوں نے مجھے دیکھا فرمانے لگے شفیق ! اس آیت کو پڑھو:

 وَ إِنِّی لَغَفَّارٌ لِمَنْ تابَ وَ آمَنَ وَ عَمِلَ صالِحاً ثُمَّ اهْتَدى»‏ پھر مجھے چھوڑ کر وہ اپنے راستے پر ہو لیے،

میں نے اپنے آپ سے کہا یہ جوان کوئی بہت بزرگ اور صوفی ہے۔ یہ دوسری مرتبہ ہے کہ اس نے میرے دل کے اندر کی خبر دی ہے۔ جب منزل زبالہ پہنچے، تو دیکھا کہ کنویں کے کنارے ہاتھ میں کوزہ لیے کھڑے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ کنویں سے پانی نکالیں۔ کوزہ ہاتھ سے چھوٹ کر کنویں میں گر جاتا ہے وہ حضرت آسمان کی طرف سر اٹھا کر کہتے ہیں:

انت ربى اذا ظمئت الى الماء و قوتى اذا اردت الطعاما انت

خدایا اس کوزے کے علاوہ میرے پاس کوزہ نہیں ہے اس کو میرے پاس واپس کر دے ۔

اس وقت میں نے دیکھا کنویں کا پانی اوپر آیا اور انھوں نے ہاتھ بڑھا کر کوزے کو پانی سے بھر کر باھر نکال لیا۔ وضو کیا اور چار رکعت نماز پڑھی۔ اس کے بعد ریت کے ٹیلے کے پیچھے گئے، اور اس ریت کو ہاتھوں سے کوزے میں ڈالا اور کوزے کو ہلا کر پی جاتے تھے۔ میں ان کے پاس گیا اور سلام عرض کیا، انھوں نے میرے سلام کا جواب دیا۔ میں نے ان کی خدمت میں عرض کیا خدا نے جو آپ کو زیادہ غذا عنایت کی ہے مجھ کو بھی اس سے مستفید فرمائیں۔ انھوں نے فرمایا: شفیق مسلسل خدا کی ظاہری و باطنی نعمتیں ہمارے شامل حال ہیں۔ خدا کے لیے حسن ظن رکھو کوزے کو میری طرف بڑھایا میں نے کوزے کا پانی پیا دیکھا کہ اس میں خوشبو دار میٹھا شربت ہے۔ خدا کی قسم میں نے کبھی اس سے لذیذ اور خوشبوتر نہیں کھایا تھا اور نہیں پیا تھا۔ سیر بھی ہو گیا اور پیاس بھی ختم ہو گئی۔ یہاں تک کہ کچھ روز تک بھوک ہی نہیں لگی اور نہ پانی پینے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اس کے بعد ان کو نہیں دیکھا یہاں تک کہ مکہ پہنچ گیا۔ اتفاق سے ایک رات میں نے ان کو دیکھا آدھی رات ہے اور وہ نماز پڑھنے میں مشغول ہیں، اور تمام خشوع و خضوع کے ساتھ آنکھوں سے آنسو  جاری ہیں۔ اس طرح وہ صبح تک تھے، یہاں تک کہ اذان صبح ہوئی، اور نماز کے لیے بیٹھے اور تسبیح خدا کرنا شروع کر دی اس کے بعد اپنی جگہ سے اٹھے اور نماز صبح پڑھی۔ سات مرتبہ خانہ خدا کا طواف کیا اور مسجد حرام کی طرف سے باہر چلے گئے۔ میں ان کے آگے بڑھا، تو دیکھا کہ ضرورت مند اور محتاج ان کے پاس حلقہ کیے ہوئے جمع ہیں، اور بہت سے غلام ان کی خدمت میں تیار ہیں، اور ان کے حکم کے منتظر ہیں۔ ان تمام چیزوں کو اس کے خلاف دیکھ رہا ہوں جو پہلے دیکھ چکا تھا۔ نزدیک اور دور سے لوگ پہنچ کر ان کو سلام کر رہے ہیں۔ ایک آدمی جو ان سے بہت قریب تھا میں نے پوچھا کہ یہ کون صاحب ہیں اس نے کہا : یہ موسی بن جعفر بن محمد بن علی بن الحسین بن علی ابن ابی طالب علیہم السلام ہیں۔ تب میں نے کہا : تب تو اس طرح کے تعجب اور حیرت انگیز کام ان جیسے بزرگوار سے ہی انجام پا سکتے ہیں۔

عبد الرحمن بن علی بن محمد أبو الفرج، صفة الصفوة، تحقیق: محمود فاخوری، د.محمد رواس قلعه جی، دار المعرفة – بیروت، 1399ق - 1979م

مجلسی ، محمد باقر، زندگانى حضرت امام موسى کاظم علیه السلام ( ترجمه جلد 11 بحار الانوار) ، ص72، ترجمه: موسی خسروی، اسلامیه ، تهران، 1377ش.

شیخ مفید اپنی کتاب الارشاد میں لکھتے ہیں کہ:

حضرت موسی کاظم علیہ السلام اپنے زمانے کے عابد ترین لوگوں میں سے تھے، سخی ترین ، سخاوت مند ترین اور بزرگوار ترین لوگوں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔

روایت میں ہے کہ حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام ہمیشہ نماز نافلہ شب پڑھتے تھے اور اس کو نماز صبح سے ملا دیتے تھے، اس کے بعد بھی نماز پڑھتے تھے یہاں تک کہ خورشید طلوع ہو جائے اور اس وقت سجدے میں جاتے تھے اور دعا و حمد میں مشغول ہو جاتے تھے، یہاں تک کہ ظھر کا وقت نزدیک ہو جاتا تھا بہت دعا کیا کرتے تھے اور کہتے تھے:

اللهم ان أسألک الراحة عند الموت و العفو عند الحساب،

خدا وند عالم تجھ سے استدعا کرتا ہوں کہ میری موت کے وقت کو آسان کر اور حساب کے وقت مجھے معاف کر دے،

 اور اسی دعا کو کئی مرتبہ پڑہتے تھے۔ ان کی دعاؤں میں ہے کہ وہ کہتے تھے:

عظم الذنب من عبدک فلیحسن العفو من عندک،

خدایا تیرے بندے کا گناہ بہت ہے تو بخش دے، تیری بخشش حسین ہے تو بہترین بخشنے والا ہے۔

شیخ مفید، محمد بن محمد بن نعمان‏، الارشاد فی معرفة حجج الله على العباد، ج‏2، ص223،ترجمه :سید هااشم رسولى محلاتى، اسلامیه،

زندان میں امام کاظم علیہ السلام کی عبادت:

امام کاظم علیہ السلام کو مخفی رکھنے کے لیے مختلف زندانوں میں بھیجا گیا۔ ہارون نے حاکم بصرہ کو حکم دیا کہ امام کو بصرہ کے زندان میں ڈالا جائے، اس زمانے میں بصرہ کا حاکم عیسی بن جعفر بن منصور تھا، عیسی نے ایک سال تک امام علیہ السلام کو بصرہ کے زندان میں رکھا، اسی کے درمیان ہارون نے عیسی کو خط لکھا کہ امام علیہ السلام کو زہر دے کر قتل کر دے۔

عیسی نے کچھ اپنے نزدیکی لوگ اور مشاوروں سے اس سلسلے میں مشورہ کیا، تو ان لوگوں نے اس کام کو اس کے صلاح کے خلاف سمجھا، اور ان لوگوں نے رائے دی کہ ان کو قتل کر نے کے ارادے کو چھوڑ دے، اور ہارون سے کہے کہ وہ اس کام کو کرنے کے لیے اس کو معاف کر دے ۔ عیسی بن جعفر نے اس بارے میں ہارون کو خط لکھا۔

موسی کاظم ہمارے زندان میں ایک زمانے سے ہیں، اور اس عرصے میں میں نے ان کو آزمایا ، اور کچھ لوگوں کو ان پر نظر رکھنے کے لیے معین کیا لیکن کچھ دیکھا نہیں گیا سوائے اس کے کہ وہ عبادت میں مشغول رہے ہیں، اور کچھ لوگوں کو اس کام پر معین کیا کہ وہ چپکے سے ان کی بات سنیں کہ وہ دعا میں کیا کہتے ہیں اور کیا دعا کرتے ہیں مگر سنا نہیں گیا کہ وہ تمہارے یا میرے لیے بد دعا کرتے ہوں، یا ہم لوگوں کو برا کہتے ہوں۔ سوائے اس کے کہ وہ خداوند عالم سے مغفرت و رحمت کی دعا کرتے ہیں۔ ابھی کسی کو بھیجو تا کہ میں موسی کاظم کو اس کے حوالے کر دوں ورنہ میں ان کو آزاد کر دوں گا، کیونکہ میں اس سے زیادہ ان کو زندان میں نہیں رکھ سکتا۔

روایت میں ہے کہ: بعض چپکے سے امام پر نظر رکھنے والے جن کو عیسی نے معین کیا تھا۔ اس نے دیکھا اور عیسی کو خبر دی کہ امام علیہ السلام سے بہت سنا ہے کہ وہ دعا میں کہتے ہیں اے خدا ! تو جانتا ہے کہ میں چاہتا تھا کہ مجھے تنھائی میسر ہو تا کہ تیری عبادت کر سکوں تو نے مجھے یہ جگہ عنایت کی میں تیرا بہت ہی مشکور ہوں۔

الإرشاد فی معرفة حجج الله على العباد ، ج‏2، ص232-231

اس ماجرے کے بعد ہارون نے امام کو بغداد منتقل کر دیا۔ فضل بن ربیع ( اس کے ورزاء میں تھا ) اس کے سپرد کر دیا۔ امام علیہ السلام طولانی زمانے تک اس کے پاس تھے۔ ہارون نے فضل سے چاہا کہ امام کو شہید کر دے لیکن فضل بن ربیع نے بھی اس کام سے پرہیز کیا۔ تب ہارون نے ایک خط ابن ربیع کو لکھا کہ ان حضرت کو فضل بن یحیی بن خالد برمکی کے حوالے کر دے۔ فضل بن یحیی نے اپنے گھر کے کمرے میں جگہ دی اور اس میں رکھا اور ان پر نظر رکھنے کے لیے کچھ لوگوں کو معین کیا امام روز و شب عبادت میں مشغول تھے۔ تمام شب نماز پڑھنے اور تلاوت قرآن مجید کرنے اور دعا کرنے اور عبادت خدا میں گزارتے تھے۔ زیادہ تر دن میں امام روزہ رکھتے تھے اپنے چھرے کو محراب عبادت سے دوسری طرف نہیں موڑتے تھے۔ فضل بن یحیی نے امام کو اس طرح دیکھا تو امام کے کاموں کو اچھی نگاہوں سے دیکھنے لگا اور امام کا احترام کرنے لگا، اور امام کے آرام اور ضرورت کا سامان مہیا کرنے لگا۔ یہ بات ہارون کے کانوں تک پہنچی ہارون نے خط کے ذریعے ابن یحیی کو توبیخ کی اور حکم دیا کہ امام کو قتل کر دے، مگر ابن یحیی نے اس کام کو انجام نہیں دیا۔ ہارون اس وجہ سے کہ فضل نے اس کے حکم کی تعمیل نہیں کی اس پر بہت ہی ناراض اور غصہ ہو گیا، اور حکم دیا کہ اس کو تنبیہ کی جائے امام کو ابن یحیی کے پاس سے سندی بن شاہک کے پاس منتقل کر دیا۔ سندی نے امام کو اپنے پاس قید کر لیا اور امام کو شہید کر دیا۔

الإرشاد فی معرفة حجج الله على العباد ، ج‏2، ص232،

ثعبانی کہتا ہے کہ امام موسی کاظم علیہ السلام چودہ پندرہ سال تک ہر روز آفتاب کی سفیدی سے ظھر کے وقت تک سجدے میں رہا کرتے تھے بعض وقت ہارون اپنے چھت پر جاتا تھا تا کہ چھت سے زندان کے اندر کے حالات کو دیکھ سکے۔ ایک روز ربیع سے کہتا ہے یہ کپڑا ہر روز زندان کے درمیان میں دکھتا ہے ۔ یہ کیا ہے ؟ اس نے جواب دیا اے امیر المؤمنین یہ کپڑا نہیں ہے وہ موسی کاظم ہیں جو سجدے کی حالت میں ہیں ہر روز طلوع آفتاب سے ابتدائے ظھر تک سجدہ کرتے ہیں۔ ہارون کہتا ہے واقعی وہ بنی ھاشم کے راہب میں سے ہیں۔

شیخ صدوق ابن بابویه، متن و ترجمه عیون اخبار الرضا ، ج1 ، ص95 ؛ ترجمه حمید رضا مستفید - علی اکبر غفاری، تهران ، نشر صدوق،1372ش

مجلسی ، محمد باقر، بحار الانوار ، ج48، ص221، بیروت ، مؤسسة الوفاء ، 1403ق.

سندی کی بہن کہتی ہے کہ: وہ یعنی موسی کاظم علیہ السلام نماز عشاء کے بعد حمد و ثنا و درود و دعا سے نماز شب کے لیے آمادہ ہوتے تھے، اور طلوع فجر تک نماز پڑھتے تھے اور نماز صبح پڑھنے کے بعد پھر طلوع آفتاب تک نماز پڑھتے تھے۔ پھر تھوڑی دیر بیٹھتے تھے اور جیسے ہی آفتاب اوپر کی طرف جاتا تھا وہ سوتے تھے، اور ظھر سے پہلے اٹھتے تھے، اور وضو کرتے تھے، اور ظھر کی نماز ادا کرتے تھے، اور پھر سو جاتے تھے پھر اٹھتے تھے، اور نماز عصر پڑھتے تھے اور عبادت کرتے تھے آفتاب کے ڈوبنے تک پھر مغرب کی نماز پڑھتے تھے اس کے بعد نماز عشاء، ان کی اس طرح کی حالت تھی یہاں تک کہ دنیا سے چلے گئے جب سندی کی بہن امام کو دیکھتی تھی تو کہتی تھی وائے ہو اس قوم پر جو اس پرہیز گار شخص کو آزار و اذیت دیتے ہیں وہ لوگ کبھی بھی بخشے نہیں جائیں گے۔

عز الدین علی بن اثیر، کامل تاریخ بزرگ اسلام و ایران ، ج16 ، ص106؛ ترجمه ابو القاسم حالت - عباس خلیلی ، تهران ، مؤسسه مطبوعاتی علمی ، 1371ش،

زمانہ امامت پر ایک نظر:

امامت:
148 ہجری میں امام جعفر صادق علیہ السّلام کی شہادت ہوئی اس وقت سے حضرت امام موسی کاظم علیہ السّلام بذات خود فرائض امامت کے ذمہ دار ہوئے۔ اس وقت سلطنت عباسیہ کے تخت پر منصور دوانقی غاصبانہ طور  پر بیٹھا ہوا تھا۔ یہ وہی ظالم بادشاہ تھا جس کے ہاتھوں سے لاتعداد سادات مظالم کا نشانہ بن چکے تھے اور تلوار کے گھاٹ اتار دیئے گئے یا دیواروں میں چنوا دیئے گئے یا قید میں رکھے گئے تھے۔ خود امام جعفر صادق علیہ السّلام کے خلاف طرح طرح کی سازشیں کی جا چکی تھیں اور مختلف صورتوں سے تکلیفیں پہنچائی گئی تھیں یہاں تک کہ منصور ہی کا بھیجا ہوا زہر تھا، جس سے اب آپ دنیا سے رخصت ہو رہے تھے۔ ان حالات میں آپ کو اپنے جانشین کے متعلق یہ قطعی اندیشہ تھا کہ حکومت وقت اسے زندہ نہ رہنے دے گی اس لیے آپ نے ایک اخلاقی توجہ حکومت کے کاندہوں پر رکھنے کے لیے یہ صورت اختیار فرمائی کہ اپنی جائیداد اور گھر بار کے انتظام کے لیے پانچ افراد پر مشتمل ایک جماعت مقرر فرمائی۔ جس میں پہلا شخص خود خلیفہ وقت منصور عباسی تھا۔ اس کے علاوہ محمد بن سلیمان حاکم مدینہ اور عبد اللہ افطح جو سن میں امام موسی کاظم علیہ السّلام کے بڑے بھائی تھے اور  حضرت امام موسی کاظم علیہ السّلام نیز ان کی والدہ حمیدہ خاتون۔

امام صادق (ع) کا یہ حربہ بالکل صحیح تھا اور آپ کا طریقہ بھی کامیاب ثابت ہوا، چنانچہ جب حضرت کی وفات کی اطلاع منصور کو پہنچی تو اس نے پہلے تو سیاسی مصلحت کے طور پر اظہار رنج کیا۔ تین مرتبہ انا للهِ و انا الیہ راجعون، کہا اور کہا کہ اب بھلا جعفر کا مثل (جانشین) کون ہے ؟ اس کے بعد حاکم مدینہ کو لکھا کہ اگر جعفر صادق (ع) نے کسی شخص کو اپنا وصی مقرر کیا ہو تو اس کا سر فورا قلم کر دو۔ حاکم مدینہ نے جواب لکھا کہ انھوں نے تو پانچ وصی مقرر کیے ہیں جن میں سے پہلے آپ خود ہیں۔ یہ جواب پڑھ کر منصور دیر تک خاموش رہا اور سوچنے کے بعد کہنے لگا تو اس صورت میں تو یہ لوگ قتل نہیں کیے جا سکتے۔ اس کے بعد دس برس تک منصور  زندہ رہا لیکن امام موسی کاظم علیہ السّلام کو کوئی تکلیف وغیرہ نہیں دی اور آپ مذہبی فرائض امامت کی انجام دہی میں امن و سکون کے ساتھ مصروف رہے۔ یہ بھی تھا کہ اس زمانے میں منصور شہر بغداد کی تعمیر میں مصروف تھا جس سے 157 ہجری میں یعنی اپنی موت سے صرف ایک سال پہلے اسے فراغت ہوئی۔ اس لیے وہ امام موسی کاظم علیہ السّلام کے متعلق کسی ایذا رسانی کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوا  تھا۔

دور مصائب:

158 ہجری کے آخر میں منصور دوانقی دنیا سے رخصت ہوا تو اس کا بیٹا مہدی تخت سلطنت پر بیٹھا شروع میں تو اس نے بھی امام موسی کاظم علیہ السّلام کی عزت  و احترام کے خلاف کوئی برتاؤ نہیں کیا مگر چند سال کے بعد پھر وہی بنی فاطمہ کی مخالفت کا جذبہ ابھرا اور 164 ہجری میں جب وہ حج کے نام پر حجاز کی طرف آیا تو امام موسی کاظم علیہ السّلام کو اپنے ساتھ مکہ سے بغداد لے گیا اور قید کر دیا۔ ایک سال تک حضرت اس کی  قید میں رہے۔ پھر اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور حضرت کو مدینہ کی طرف واپسی کا موقع دیا گیا۔ مہدی کے بعد اس کا بھائی ہادی 192 ہجری میں تخت سلطنت پر بیٹھا اور صرف ایک سال ایک مہینے تک اس نے حکومت کی۔ اس کے بعد ہارون رشید کا زمانہ آیا جس میں پھر امام موسی کاظم علیہ السّلام کو آزادی کے ساتھ سانس لینا نصیب نھیں ہوا۔

اخلاق و  اوصاف:

حضرت امام موسی کاظم علیہ السّلام اسی مقدس سلسلہ کے ایک فرد تھے، جس کو خالق نے نوع انسان کے لیے معیار کمال قرار دیا تھا، اس لیے ان میں سے ہر ایک اپنے زمانے میں بھترین اخلاق و اوصاف کا مرقّع تھا۔ بے شک یہ ایک حقیقت ہے کہ بعض افراد میں بعض صفات اتنی ممتاز نظر آتی ہیں کہ سب سے پہلے ان پر نظر پڑتی ہے، چنانچہ ساتویں امام میں تحمل و برداشت اور غصہ کو ضبط کرنے کی صفت اتنی نمایاں تھی کہ آپ کا لقب کاظم قرار پایا،جس کے معنی ہیں غصے کو بہت زیادہ پینے والا۔ آپ کو کبھی کسی نے غصے اور سختی کے ساتھ بات کرتے نہیں دیکھا اور انتہائی ناگوار حالات میں بھی مسکراتے ہوئے نظر آتے تھے۔ مدینے کے ایک حاکم سے آپ کو سخت تکلیفیں پہنچیں، یہاں تک کہ وہ جناب امیر علیہ السّلام کی شان میں بھی نازیبا الفاظ استعمال کیا کرتا تھا، مگر حضرت نے اپنے اصحاب کو ہمیشہ اس کو جواب دینے سے روکا۔

جب اصحاب نے اس کی گستاخیوں کی بہت شکایات کیں اور یہ کہا کہ ہم میں صبر کی تاب نہیں ہے، ہمیں اس سے انتقام لینے کی اجازت دی جائے تو حضرت نے فرمایا کہ میں خود اس کا تدارک کروں گا۔ اس طرح ان کے جذبات میں سکون پیدا کرنے کے بعد حضرت خود اس شخص کے پاس اسکی زراعت پر تشریف لے گئے اور کچھ ایسا احسان اور سلوک فرمایا کہ وہ اپنی گستاخیوں پر نادم ہوا اور اپنے طرزِ عمل کو بدل دیا۔ حضرت نے اپنے اصحاب سے صورت حال بیان فرما کر پوچھا کہ جو میں نے اس کے ساتھ کیا وہ اچھا تھا یا جس طرح تم لوگ اس کے ساتھ کرنا چاہتے تھے ؟ سب نے کہا: یقینا حضور نے جو طریقہ استعمال فرمایا وہی بہتر تھا۔ اس طرح آپ نے  اپنے جدِ بزرگوار حضرت امیر علیہ السّلام کے اس ارشاد کو عمل میں لا کر دکھلایا کہ جو آج تک نھج البلاغہ میں موجود ہے کہ اپنے دشمن پر احسان کے ساتھ فتح حاصل کرو کیونکہ اس قسم کی فتح زیادہ پر لطف  اور کامیاب ہے۔ بیشک اس کے لیے فریق مخالف کے ظرف کا صحیح اندازہ ضروری ہے اور اسی لیے حضرت علی علیہ السّلام نے ان الفاظ کے ساتھ یہ بھی فرمایا ہے کہ: خبردار یہ عدم تشدد کا طریقہ نا اھل کے ساتھ اختیار نہ کرنا  ورنہ اس کے تشدد میں اضافہ ہو جائے گا۔

یقینا ایسے عدم تشدد کے موقع کو پہچاننے کے لیے ایسی ہی بالغ نگاہ کی ضرورت ہے جیسی امام کو حاصل تھی مگر یہ اس وقت میں ہے جب مخالف کی طرف سے کوئی ایسا عمل ہو چکا ہو جو اس کے ساتھ انتقامی جواز پیدا کر سکے لیکن اس کی طرف سے اگر کوئی ایسا اقدام ابھی نہ ہوا تو یہ حضرات بہر حال اس کے ساتھ احسان کرنا پسند کرتے تھے تا کہ اس کے خلاف حجت قائم ہو اور اسے اپنے جارحانہ اقدام کے لیے تلاش کرنے سے بھی کوئی عذر نہ مل سکے۔ بالکل اسی طرح جیسے ابن ملجم کے ساتھ جناب امیر علیہ السّلام نے کیا جو آپ کو شہید کرنے والا تھا، آخری وقت تک جناب امیر علیہ السّلام اس کے ساتھ احسان فرماتے رہے۔ اسی طرح محمد ابنِ اسمعیل کے ساتھ جو امام موسی کاظم علیہ السّلام کی جان لینے کا باعث ہوا، آپ برابر احسان فرماتے رہے، یہاں تک کہ اس سفر کے لیے جو اس نے مدینے سے بغداد کی جانب خلیفہ عباسی کے پاس امام موسی کاظم علیہ السّلام کی شکائتیں کرنے کے لیے کیا تھا ، ساڑھے چار سو دینار اور پندرہ سو درہم کی رقم خود حضرت ہی نے عطا فرمائی تھی جس کو لے کر وہ روانہ ہوا تھا۔ آپ کو زمانہ بہت ناساز گار ملا تھا۔ نہ اس وقت وہ علمی دربار قائم رہ سکتا تھا جو امام جعفر صادق علیہ السّلام کے زمانہ میں قائم رہ چکا تھا نہ دوسرے ذرائع سے تبلیغ و اشاعت ممکن تھی، بس آپ کی خاموش سیرت ہی تھی جو دنیا کو آلِ محمد کی تعلیمات سے روشناس کرا سکتی تھی۔

آپ اپنے مجمعوں میں بھی اکثر بالکل خاموش رہتے تھے یہاں تک کہ جب تک آپ سے کسی امر کے متعلق کوئی سوال نہ کیا جائے آپ گفتگو میں ابتدا بھی نہ فرماتے تھے۔ اس کے باوجود آپ کی علمی جلالت کا سکہ دوست اور دشمن سب کے دل پر قائم تھا اور آپ کی سیرت کی بلندی کو بھی سب مانتے تھے۔ اسی لیے عام طور پر آپ کو کثرت عبادت اور شب زندہ داری کی وجہ سے عبد صالح کے لقب سے یاد جاتا تھا۔ آپ کی سخاوت اور فیاضی کا بھی خاص شہرہ تھا۔ آپ فقرائے مدینہ کی اکثر پوشیدہ طور پر خبر گیری فرماتے تھے۔ ہر نماز کے صبح کی تعقیبات کے بعد آفتاب کے بلند ہونے کے بعد سے پیشانی سجدے میں رکھ دیتے تھے اور زوال کے وقت سر اٹھاتے تھے۔ پاس بیٹھنے والے بھی آپ کی آواز سے متاثر ہو کر روتے رہتے تھے۔

170ہجری میں ہادی کے بعد ہارون تخت خلافت پر بیٹھا۔ سلطنت عباسیہ کے قدیم روایات جو سادات بنی فاطمہ کی مخالفت میں تھے، اس کے سامنے تھے خود اس کے باپ منصور کا رویہ جو امام جعفر صادق علیہ السّلام کے خلاف تھا، اسے معلوم تھا اس کا یہ ارادہ تھا کہ جعفر صادق علیہ السّلام کے جانشین کو قتل کر ڈالا جائے یقینا اس کے بیٹے ہارون کو معلوم ہو چکا ہو گا۔ وہ تو امام جعفر صادق علیہ السّلام کی حکیمانہ وصیت کا اخلاقی دباؤ تھا جس نے منصور کے ہاتھ باندھ دیئے تھے اور شہر بغداد کی تعمیر کی مصروفیت تھی جس نے اسے اس جانب متوجہ نہ ہونے دیا تھا، ورنہ اب ہارون کے لیے ان میں سے کوئی بات مانع نہ تھی۔ تخت سلطنت پر بیٹھ کر اپنے اقتدار کو مضبوط رکھنے کے لیے سب سے پہلے اس کے ذہن میں تصور پیدا ہو سکتا تھا کہ اس روحانیت کے مرکز کو جو مدینہ کے محلہ بنی ہاشم میں قائم ہے توڑنے کی کوشش کی جائے مگر ایک طرف امام موسی کاظم علیہ السّلام کا محتاط اور خاموش طرزِ عمل اور دوسری طرف سلطنت کے اندرونی مشکلات جن کی وجہ سے نو سال تک ہارون کو بھی کسی امام کے خلاف کھلے تشدد کا موقع نہیں مل سکا۔

جعفر بن محمد شیعیان آل محمد (ص) میں سے تھے اور امام موسی کاظم علیہ السلام کی امامت کے قائل تھے اور یحیی نے کئی بار یہ بات ہارون کے گوش گزار کرائی تھی۔

یحیی نے ایک شیطانی چال چلی اور امام موسی کاظم علیہ السلام کے بھتیجے علی بن اسمعیل بن جعفر کو مدینہ سے بلوایا تا کہ وہ آ کر ہارون کے پاس امام علیہ السلام کی بد گوئی اور عیب جوئی کرے۔

امام موسی بن جعفر علیہ السلام نے علی بن اسمعیل کی مدینہ سے حرکت سے قبل، اس کو بلوایا اور فرمایا کہ وہ اس سفر سے اجتناب کرے اور اگر بغداد جانا اس کے لیے بہت ضروری ہے تو ہارون کے پاس جا کر آپ (ع) کی بدگوئی نہ کرے۔ علی بن اسمعیل کی آنکھوں کے سامنے دنیا کی چمک تھی اور امام علیہ السلام کے حکم کو نظر انداز کرتے ہوئے بغداد میں یحیی برمکی کے پاس پہنچا اور یحیی نے ایک ہزار درہم دے کر اس کو خرید لیا۔

ہارون اس سال حج کے لیے گیا اور مدینہ میں امام موسی کاظم علیہ السلام اور مدینہ کے اکابرین نے اس کا استقبال کیا۔ لیکن ہارون نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی قبر شریف کے پاس کہا: یا رسول اللہ (ص) میں آپ سے معافی مانگتا ہوں کہ میں امام موسی بن جعفر (ع) کو قید کرنا چاہتا ہوں کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ آپ کی امت کو درہم برہم کر دیں، اور ان کا خون بہا دیں۔ اور اس کے بعد حکم دیا کہ امام علیہ السلام کو  مسجد سے گرفتار کیا جائے اور خفیہ طور پر بصرہ کے والی عیسی بن جعفر بن منصور کے پاس لے جایا جائے۔

عیسی نے کچھ عرصہ بعد ہارون کو ایک خط لکھا کہ "موسی بن جعفر (ع) قید خانے میں عبادت اور نماز کے سوا کسی کام کی طرف توجہ نہیں دیتے یا کسی کو بھیج دیں کہ آپ (ع) کو اپنی تحویل میں لیں یا پھر میں آپ (ع) کو رہا کر دوں گا"۔

ہارون امام علیہ السلام کو بغداد لے گیا اور فضل بن ربیع کے سپرد کیا اور کچھ دن بعد فضل سے کہا کہ امام علیہ السلام کو آزار و اذیت پہنچائے لیکن فضل نے انکار کیا چنانچہ ہارون نے امام علیہ السلام کو فضل بن یحیی بن خالد برمکی کے سپرد کیا، چونکہ امام علیہ السلام فضل بن یحیی کے گھر میں نماز و عبادت و تلاوت قرآن میں مصروف رہے، چنانچہ فضل نے آپ (ع) کو آزار و اذيت دینے سے اجتناب کیا اور ہارون کو معلوم ہوا تو غضبناک ہوا چنانچہ یحیی بن خالد برمکی نے امام علیہ السلام کو سندی بن شاہک کے سپرد کیا اور سندی نے آپ (ع) کو قید خانے میں مسموم کیا۔ امام علیہ السلام کی شہادت زہر کی وجہ سے ہوئی تو سندی بن شاہک نے بغداد کے درباری فقہاء اور اشراف کو بلوا کر آپ (ع) کا جسم بے جان انہیں دکھایا اور ان سے گواہی طلب کی کہ امام (ع) کے بدن پر کسی زخم یا گلا گھونٹنے کے آثار نہيں ہیں، اور اس کے بعد امام علیہ السلام کو بغداد کے علاقے "باب التبن" میں مقبرہ قریش میں سپرد خاک کیا۔ امام موسی کاظم علیہ السلام جمعہ کے دن، 25 رجب سنہ 183 ہجری کو 55 سال کی عمر میں شہید ہوئے۔

الارشاد شیخ مفید

امام موسی کاظم علیہ السلام کی بعض اخلاقی خصوصیات

کلام و سخن

آئمہ معصومین علیہم السلام کا شیوہ تھا کہ مخالفین ولایت اور غرض و مرض لے کر شکوک و شبہات کی ترویج کرنے والوں کو اپنے کلام سے قائل کیا کرتے تھے اور ان کا جواب لاجواب ہوتا تھا، کیونکہ ایسے افراد عام طور پر بادشاہوں کے درباروں سے حکم لے کر بد اندیشی اور کج اندیشی کی ترویج کے بدلے انعام پاتے تھے۔ ان ہی کج فکر دانشوروں اور دربار کے وظیفہ خواروں میں سے ایک "نفیع انصاری" تھا۔

نقل ہوا ہے کہ ایک دن ہارون نے امام علیہ السلام کو بلوایا اور امام دربار ہارون میں تشریف لے گئے۔ نفیع دروازے پر بیٹھا اندر جانے کا اذن پانے کا منتظر تھا کہ امام (ع) اس کے سامنے سے وقار و عظمت کے ساتھ دربار میں داخل ہوئے۔

نفیع نے اپنے قریب کھڑے عبد العزیز بن عمر سے پوچھا: یہ باوقار شخص کون تھا ؟

عبد العزیز نے کہا: یہ علی بن ابیطالب علیہ السلام کے بزرگوار فرزند اور آل محمد (ص) میں سے ہیں۔ وہ امام موسی بن جعفر علیہ السلام ہیں۔ نفیع جو آل رسول (ص) کے ساتھ بنو عباس کی دشمنی سے آگاہ تھا، اور خود بھی آل محمد (ص) کے ساتھ بغض و عداوت رکھتا تھا، کہنے لگا: میں نے بنو عباس سے زيادہ بدبخت کوئی گروہ نہيں دیکھا، کہ وہ ایسے فرد کے لیے اتنے احترام کے قائل ہیں کہ اگر طاقت پائے تو انہيں  سرنگون کرے گا۔ میں یہیں رکتا ہوں اور جب وہ باہر آئیں تو ان کے ساتھ ایسا سلوک کروں گا کہ ان کی شخصیت کا احترام ختم ہو جائے گا۔

عبد العزيز نے نفیع کی عداوت بھری باتیں سن کر کہا: جان لو کہ یہ ایسے خاندان سے تعلق رکھتے ہيں کہ اگر کوئی کلام کے گھوڑے پر سوار ہو کر ان پر حملہ کرے تو وہ خود پشیمان ہوتا ہے اور شرمندگی کا دھبہ تا حیات ان کے ماتھے پر باقی رہتا ہے۔

تھوڑی دیر بعد امام علیہ السلام دربار سے باہر آئے اور اپنی سواری پر بیٹھ گئے۔ نفیع پر عزم چہرے کے ساتھ امام علیہ السلام کے سامنے آیا اور امام علیہ السلام کے گھوڑے کی لگام پکڑ لی اور غرور آمیز لہجے میں پوچھا: تم کون ہو ؟

امام علیہ السلام نے اطمینان کے ساتھ جواب دیا: اگر تم میرا نسب پوچھ رہے ہو تو میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ابراہیم خلیل اللہ اور اسمعیل ذبیح اللہ علیہما السلام کا فرزند ہوں اور اگر میرا وطن پوچھنا چاہتے ہو تو میں اسی سرزمین کا رہنے والا ہوں، جس کے حج و زيارت کو خداوند متعال تم پر اور تمام مسلمانوں پر فرض کر دیا ہے، اگر میری شہرت جاننا چاہتے ہو تو میں اس خاندان  سے ہوں جس پر صلوات و درود بھیجنا، ہر نماز میں، خداوند متعال نے تم پر واجب کر دیا ہے، اور اگر تم نے فخر فروشی کی رو سے مجھ سے میرا تعارف پوچھا ہے تو خدا کی قسم! میرے قبیلے کے مشرکین نے تیرے خاندان کے مسلمانوں تک کو اپنے برابر نہيں سمجھا اور انھوں نے پیغمبر اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے عرض کیا کہ ان لوگوں کو ہماری طرف بھیجیں جو قبیلے کے لحاظ سے ہمارے ہم شان و ہم مرتبہ ہوں۔ اب تم میرے گھوڑے کے سامنے سے ہٹ جاؤ اور اس کی لگام کو چھوڑ دو۔

نفیع نے اپنی پوری شخصیت و حیثیت کو برباد دیکھا اور اپنے غرور کو کلام امام علیہ السلام کے بھاری طوفان میں ضائع ہوتا ہوا دیکھا تو ایسے حال میں کہ اس کا ہاتھ کانپ رہا تھا اور اس کا چہرہ شدت شرمندگی سے سرخ ہو رہا تھا، امام علیہ السلام کے گھوڑے کی لگام چھوڑ کر سامنے سے ہٹ گیا۔

عبد العزیز بن عمر نے ہاتھ نفیع کے کندھے پر رکھا اور طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا: اے نفیع میں نہ کہتا تھا کہ تم ان کا مقابلہ نہيں کر سکو گے۔

ایک اہم سبق:

امام علیہ السلام کی اخلاقی خصوصیات میں ایک ان کی خصوصیت غیر معمولی عفو اور درگذر سے عبارت ہے، مثال کے طور پر نقل ہوا ہے کہ:

جس شہر میں امام کاظم علیہ السلام کی رہائش تھی وہاں خلفاء کا ہر ایک بندہ عقیدتمند تھا، جو امام علیہ السلام سے عجیب عداوت رکھتا تھا اور جب بھی امام علیہ السلام کو دیکھتا برا بھلا کہتا تھا، اور حتی بعض اوقات امیر المؤمنین علیہ السلام کو بھی اپنی بد زبانی کا نشانہ بناتا تھا۔ ایک روز امام علیہ السلام اپنے اصحاب کے ہمراہ اس شخص کی کھیتی کے قریب سے گذرے تو اس شخص نے معمول کے مطابق دشنام دینا شروع کر دیا۔

امام علیہ السلام کے اصحاب غضبناک ہوئے اور امام علیہ السلام سے درخواست کی اس شخص کو سزا دینے کی اجازت دیں لیکن امام (ع) نے اس اقدام کی شدت سے مخالفت کی۔

ایک دن امام علیہ السلام اس شخص کی طرف گئے اور اس سے ملاقات کرنا چاہی لیکن وہ شخص گندے اخلاق سے باز نہ آیا اور امام علیہ السلام کو دیکھتے ہی زبان درازی کرنا شروع کر دی۔

امام علیہ السلام گھوڑے سے اترے اور اس شخص کو سلام کیا تو اس نے زیادہ شدت سے دشنام دینا شروع کر دیا۔

امام علیہ السلام نے گشادہ روئی کے ساتھ فرمایا: اس کھیتی میں زراعت کا خرچہ کتنا ہے؟

اس نے جواب دیا: 100 دینار،

امام علیہ السلام نے پوچھا: کتنا منافع کمانے کی امید رکھتے ہو ؟

اس شخص نے گستاخی اور طعنہ زنی کے انداز میں کہا: میں علم غیب نہيں رکھتا کہ میں اس کھیت سے کتنا منافع کماؤں گا لیکن میرا خیال ہے کہ اس کھیتی میں میں 200 دینا کماؤں گا۔

امام علیہ السلام نے تین سو سونے کے دینار کی ایک تھیلی اس شخص کو عطا کرتے ہوئے فرمایا: یہ لے لو اور کھیتی اور زراعت کا ماحصل بھی تمہارا، مجھے امید ہے کہ خداوند وہ منافع بھی تمہیں عطا فرمائے جس کی تمہیں امید ہے۔

اس شخص نے شرمندہ اور حیرت زدہ ہو کر امام علیہ السلام سے تھیلی وصول کی امام علیہ السلام کا ماتھا چھوما اور اپنے کیے کی بھی معافی مانگی اور امام علیہ السلام نے بزرگواری سے اس شخص کی غلطیاں بخش دیں۔

ایک دن وہی مرد مسجد میں حاضر ہوا اور جب اس کی نظر امام موسی کاظم علیہ السلام پر پڑی تو کہا: خدا خود ہی بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کو کہاں اور کس کے دوش پر قرار دے۔

اس شخص کی بات اصحاب امام (ع) کی حیرت کا سبب ہوئی، وہ جاننا چاہتے تھے کہ کونسی چیز اس کے رویئے میں تبدیلی کا سبب بنی ہے ؟

اصحاب نے پوچھا: کیا ہوا ؟ اس سے پہلے تو تم کچھ اور کہتے رہے ہو!

مرد عرب نے سر جھکا کر کہا: تم نے صحیح سنا ہے اور بات وہی ہے جو تم نے اب تھوڑی دیر پہلے سنی ہے اور میں اس کے سوا ہرگز کچھ اور نہيں کہوں گا۔ اس کے بعد اس شخص نے ہاتھ اٹھائے اور امام علیہ السلام کے لیے دعا کی۔

وہ مرد مسجد سے نکل گیا اور امام علیہ السلام بھی اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئے اور راستے میں اپنے اصحاب سے مخاطب ہو کر فرمایا: "اب بتاؤ کہ ان دو راستوں میں سے کون سا راستہ بہتر تھا، وہ جو تم اپنانا چاہتے تھے یا وہ جو میں نے اپنایا ؟ میں  نے اس کا مسئلہ اسی رقم سے حل کیا جو تم جانتے ہو اور اپنے آپ کو اس کے شر سے نجات دی ہے اور اسکی بھی صحیح راستے کی طرف راہنما‏ئی کر دی ہے۔

آپ کا حلیہ مبارک:

امام علیہ السلام کی ایک پسندیدہ خصوصیت تھی، جو لوگوں کو آپ (ع) کی طرف جذب کرتی تھی۔ وہ آپ کی صفائی ستھرائی اور آراستگی تھی۔ ان لوگوں کے برعکس جو اسلام کی بعض تعلیمات و احکام میں افراط اور زیادہ روی میں مبتلا ہو جایا کرتے تھے اور بعض دیگر احکام و تعلیمات کو سرے سے ترک کیا کرتے تھے اور آج بھی ان لوگوں کی زندہ مثالیں پانا زیادہ مشکل نہيں ہے اور ایسے کئی لوگ آج بھی ملتے ہيں جو صفائی اور حفظان صحت کے اصولوں کو عبادت کے بہانے ترک کر دیتے ہیں اور بعض معاشروں میں ان ہی لوگوں کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور انہيں معاذ اللہ اولیاء اللہ وغیرہ، جیسے القاب سے نوازا جاتا ہے!۔

امام کاظم علیہ السلام کا ایک محب آپ (ع) کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام کیا اور آپ (ع) کا حال پوچھا اور امام علیہ السلام کے چہرہ مبارک کی طرف غور سے دیکھا کہ آپ (ع) نے بڑی عمر کے باوجود داڑھی کو خضاب لگایا ہے اور آپ کا (ع) مبارک چہرہ نوجوانوں جیسا ہے۔

اس شخص نے عرض کیا: ميری جان آپ پر فدا ہو، کیا آپ نے داڑھی کو خضاب لگایا ہے ؟

امام علیہ السلام نے فرمایا: ہاں! کیونکہ آراستگی کا خداوند متعال کی بارگاہ میں پاداش و ثواب ہے۔ اور پھر داڑھی کو خضاب لگانا، خواتین کی پاکدامنی اور ازواج کی عفت کا سبب بنتا ہے۔ بہت سی ایسی عورتیں ہوتی ہیں، جو اپنے شوہروں کی عدم آراستگی کی وجہ سے فساد اور گناہ میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔

صلہ رحم کی اہمیت:

امام موسی کاظم علیہ السلام اپنے آباء و اجداد کی طرح صلہ رحمی کو بہت اہمیت دیا کرتے تھے اور قرابت داروں کو بدترین حالات میں بھی عزت و احترام دیتے اور ان کی مدد کرتے تھے اور دوسروں سے ان کی رعایت حال کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔

نقل ہوا ہے کہ امام صادق علیہ السلام کو سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی اور بستر شہادت پر آرام فرما رہے تھے۔ عباسی بادشاہ منصور نے آپ (ع) کو مسموم کروایا تھا اور آپ (ع) اپنی حیات طیبہ کے آخری لمحات سے گذر رہے تھے۔ بعض اصحاب اور شاگرد، قرابتدار اور دوست آپ (ع) کے ارد گرد موجود تھے اور سب اپنے عالم و دانشمند پیشوا کے فراق میں آبدیدہ تھے۔

امام علیہ السلام نے اسی حال میں اپنے بیٹے امام کاظم علیہ السلام سے نہایت دشواری کے ساتھ وصیت فرمائی: حسن افطس کو ستر دینار دے دیں اور فلان شخص کو اتنی رقم دیں اور فلان کو اتنی ۔۔۔ اور پھر اپنے فرزند کو وصیت فرمائی۔

ساعد نامی خادم نے روتے ہوئے امام علیہ السلام سے عرض کیا: کیا آپ ایسے شخص کو رقم دیں گے جس نے آپ کے خلاف تلوار اٹھائی اور آپ کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتا تھا ؟

امام علیہ السلام نے ساعد کی طرف نظر گھمائی اور فرمایا: کیا تم نہيں چاہتے کہ میں ان لوگوں میں سے ہو جاؤں جن کے بارے میں خداوند متعال نے فرمایا ہے کہ:

"وَ الَّذین یَصِلُونَ ما أمَرَ اللّهُ بِهِ اَنْ یُوصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخافُونَ سُوءَ الْحِسابِ"۔ (سورہ رعد آیت 21)۔

ترجمہ: وہ [مؤمنین] ایسے لوگ ہیں کہ ان رشتوں کو قائم کرتے ہيں جن کا خداوند متعال نے حکم دیا ہے اور اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور یوم الحساب کی دشواریوں سے فکر مند ہیں۔

ہاں اے ساعد! خداوند متعال نے جنت کو خلق فرمایا اور اس کو اچھی طرح خوشبو عطا فرمائی اور جنت کی دل انگیز خوشبو ایک ہزار سال کے فاصلے سے آتی اور محسوس ہوتی ہے لیکن دو قسم کے لوگ اس کو محسوس نہيں کر سکتے، ایک وہ جو عاق والدین اور ماں باپ کے نافرمان ہیں اور ایک وہ لوگ جو صلہ رحمی کو منقطع کرتے ہيں [اور اپنے رشتہ داروں سے رشتہ کاٹ دیتے ہیں]۔

شیخ مفید اپنی کتاب الارشاد میں لکھتے ہیں کہ:

امام موسی کاظم علیہ السلام خوف خدا سے اس قدر روتے تھے کہ آپ کی داڑھی آنسؤوں سے تر ہو جاتی تھی اور سب سے زیادہ صلہ رحمی اور قرابتداروں سے میل ملاقات کو اہمیت دیتے اور اس کا اہتمام فرمایا کرتے تھے۔ راتوں کو مدینہ منورہ کے بے نواؤں کی ضروریات پوری کرتے اور ان کی دلجوئی کرتے تھے اور ان کے لیے نقد رقم اور آٹے اور کھجوروں کے تھیلے لے جایا کرتے تھے اور انہیں معلوم نہیں تھا کہ یہ عطیات کس بزرگ کی طرف سے ان کے لیے ارسال کیے جا رہے ہیں۔

کتاب الارشاد ص 575

مظلوموں اور محروموں کی مدد گناہوں کا کفارہ:

معاشرے کے محرومین، محتاجوں اور ظلم و ستم کا شکار ہونے والے افراد کی مدد آئمہ طاہرین علیہم السلام کی زندگی کے اٹل اصولوں میں سے تھا اور امام کاظم علیہ السلام اسی بناء پر ان کی مادی، اخلاقی اور روحانی مدد فرمایا کرتے تھے اور اپنے دوستوں، جاننے والوں اور قرابتداروں کے احوال سے آگاہ رہنے کے لیے کوشاں تھے اور ان سے ملنے اور ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش فرمایا کرتے تھے تا کہ ان کے حالات سے پوری طرح آگاہ رہیں اور حتی الامکان ان کے معاشی مسائل حل کریں جیسا کہ امام کاظم علیہ السلام سمیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آئمہ ہدایت علیہم السلام کی حدیثوں میں بھی یہ رجحان بڑی وضاحت کے ساتھ بیان مورد تاکید قرار پایا ہے۔ امام علیہ السلام ہر موقع و مناسبت سے مسلمانوں کو مدد پہنچانے کے سلسلے میں استفادہ کیا کرتے تھے اور عباسی گھٹن کے دور میں آپ (ع) کی اہم ترین سفارش یہ تھی کہ مؤمنین اور مظلومین کی مدد گناہوں کا کفارہ ہے۔

زیاد بن ابی سلمہ کا ماجرا:

مروی ہے کہ امام کاظم علیہ السلام کے محبین میں سے "زیاد بن ابی سلمہ" کے ہارون عباسی کی حکومت سے بھی قریبی تعلقات تھے۔

ایک دن امام علیہ السلام نے زیاد سے فرمایا: اے زياد بن ابی سلمہ! میں نے سنا ہے کہ تم ہارون الرشید کے لیے کام کرتے ہو اور اس کی حکومت کے ساتھ تعاون کرتے ہو ؟!

زیاد نے عرض کیا: ہاں! میرے سید و سرور۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: کیوں ؟

زیاد نے کہا: میرے مولا! میں ایک آبرومند انسان ہوں لیکن تہی دست اور محتاج ہوں اور اپنے خاندان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کام کرنا میری مجبوری ہے۔

امام علیہ السلام نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: اگر میں اونچائی سے گر جاؤں اور میرے بدن کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں تو یہ میرے لیے اس سے کہیں بہتر ہے کہ ظالموں کے امور انجام دوں یا ان کے بستر پر ایک قدم بھی رکھوں، سوائے ایک صورت کے! کیا جانتے ہو کہ وہ کون سی صورت ہے ؟

زیاد نے عرض کیا: نہیں میری جان آپ پر فدا ہو۔

فرمایا: میں ہرگز ان کے ساتھ تعاون نہيں کرتا مگر یہ کہ ایسا کر کے کسی مؤمن کے دل سے غم کا بوجھ ہلکا کروں یا اس کی کوئی مشکل حل کروں یا اس کا قرض ادا کر کے پریشانی کے آثار اس کے چہرے سے مٹا دوں۔

اے زياد! خداوند متعال ظالموں کے مددگاروں کے ساتھ جو کم از کم سلوک روا رکھتا ہے وہ یہ ہے کہ انہیں آگ کے تابوت میں بند کر دیتا ہے، حتی کہ روز حساب آن پہنچے اور قیامت برپا ہو جائے۔

اے زیاد! جب بھی ان ظالموں کے کسی کام کو اپنے ذمے لیتے ہو اپنے بھائیوں سے نیکی کرو اور ان کی مدد کرو تا کہ یہ تمہارے کاموں کا کفارہ ہو۔ جب تم قوت و طاقت حاصل کرو تو جان لو کہ تمہارا خدا بھی قیامت کے دن صاحب قوت و اقتدار ہے اور جان لو کہ تیری نیکیاں گذر جاتی ہیں اور ممکن ہے کہ لوگ تمہاری نیکیوں کو بھول جائیں لیکن خدا کے ہاں وہ نیک کام قیامت کے لیے محفوظ اور باقی رہیں گے۔

علی بن یقطین کا ماجرا:

ہارون عباسی کے دربار میں امام موسی کاظم علیہ السلام کے دوسرے صحابی "علی بن یقطین" تھے۔ وہ کئی بار امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے تا کہ عباسی بادشاہ کے دربار سے اپنا تعلق منقطع کریں، لیکن امام علیہ السلام انہیں اجازت نہیں دے رہے تھے، کیونکہ امام علیہ السلام جانتے تھے کہ وہ اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حقیقی حبدار ہيں۔ ایک بار وہ اسی نیت سے امام  علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہارون کے دربار سے استعفاء دینے کی اجازت مانگی تو امام علیہ السلام نے شفقت کے ساتھ فرمایا: ایسا مت کرو۔ ہم آپ کو پسند کرتے ہيں اور آپ کو دوست رکھتے ہیں، ہارون کے دربار میں تمہاری ملازمت تمہارے بھائیوں کی مشکلات حل کرنے کا سبب ہے، امید ہے کہ خداوند متعال تمہاری وجہ سے پریشانیاں برطرف فرمائے گا اور ان کی دشمنیوں اور سازشوں کی آگ کو ٹھنڈا کرے گا۔

علی بن یقطین جو امام علیہ السلام کا کلام قطع نہيں کرنا چاہتے گویا سراپا توجہ بن کر سن رہے تھے۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: اے علی بن یقطین! جان لو کہ ظالموں کے دربار میں ملازمت کا کفارہ محرمین کا حق لینا ہے۔ تم مجھے ایک چیز کی ضمانت دو میں تمہیں تین چیزوں کی ضمانت دوں گا، تم وعدہ کرو کہ جب بھی کوئی مؤمن تم سے رجوع کرے گا، تم اس کی ہر حاجت اور ہر ضرورت پوری کرو گے، اس کا حق اس کو دلاؤ گے اور اس کے ساتھ احترام کے ساتھ پیش آؤ گے۔ میں بھی ضمانت دیتا ہوں کہ تم کبھی بھی گرفتار نہ ہو گے، ہرگز دشمن کی تلوار سے قتل نہ کیے جاؤ گے اور کبھی بھی تنگدستی اور غربت کا سے شکار نہ ہو گے۔

جان لو کہ جو بھی مظلوم کا حق اس کو دلائے اور اس کے دل کو خوش کرے، سب سے پہلے خداوند متعال اور پھر رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور پھر آئمہ علیہم السلام اس سے راضی اور خوشنود ہوں گے۔

علم و دانش کا خورشید جہانتاب:

امام موسی کاظم علیہ السلام دوسرے آئمہ معصومین (ع) کی طرح آسمان دانش پر خورشید عالمتاب کی مانند پرتو افگن تھے۔ تمام علمی مسائل کا احاطہ اور کامل و شامل جواب، آپ (ع) کے علمی مقام و منزلت کے ہزاروں نکتوں میں سے ایک تھا۔

"بریہہ" نامی عیسائی عالم اس زمانے کے عیسائیوں کے لیے فخر و اعزاز کا سرمایہ سمجھا جاتا تھا، وہ کچھ عرصے سے اپنے عقائد میں تردد کا شکار ہو چکا تھا اور حقیقت کی تلاش میں مصروف تھا، اور اس سلسلے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا کرتا تھا۔

کبھی کبھی مسلمانوں کے ساتھ اپنے ذہنی سوالات کے بارے میں بحث بھی کرنے لگتا تھا، لیکن پھر بھی محسوس کرتا تھا کہ گویا اسے اس کے سوالات کا جواب نہيں مل سکا ہے اور جو کچھ وہ چاہتا ہے، اس کو کہیں اور تلاش کرنا چاہیے۔

ایک دن بریہہ کچھ شیعہ افراد سے ملا تو انھوں نے انہیں امام صادق علیہ السلام کے شاگر ہشام بن حَکَم کا پتہ دیا جو علم عقائد کے زبردست استاد تھے۔ ہشام کی کوفہ میں دکان تھی اور بریہہ بعض عیسائی دوستوں کے ہمراہ ان کی دکان پر پہنچے، جہاں ہشام چند افراد کو قرآن سکھا رہے تھے۔ دکان میں داخل ہوئے اور آنے کا مقصد بیان کیا۔

بریہہ نے کہا: میں نے بہت سے مسلمان دانشوروں کے ساتھ مناظرے اور مباحثے کیے ہیں لیکن کسی نتیجے پر نہيں پہنچ سکا ہوں! اب میں آیا ہوں کہ آپ کے ساتھ اعتقادی مسائل کے بارے میں بات چیت کروں۔

ہشام نے گشادہ روئی کے ساتھ کہا: اگر آپ مجھ سے حضرت عیسی علیہ السلام کے معجزات کی توقع رکھتے ہیں تو میرے پاس وہ طاقت نہیں ہے۔

ہشام نے مزاحیہ انداز میں بات کا آغاز کیا تو اس کا اثر مثبت ثابت ہوا اور بریہہ نے ابتداء میں اسلام کی حقانیت کے بارے میں بعض سوالات پوچھے اور ہشام نے اپنی قوت اور علم و دانش کی حد تک صبر اور حوصلے کے ساتھ جواب دیا اور اس کے بعد ہشام کی باری آئی تو انھوں نے بھی چند سوالات اٹھائے لیکن بریہہ بے بس ہو گیا اور اطمینان بخش جواب نہ دے سکا۔

بریہہ کو گویا وہ آدمی مل چکا تھا، جس کی اسے ضرورت تھی چنانچہ دوسرے دن بھی ہشام کی دکان پر گیا، لیکن اس بار وہ تنہا تھا اور ہشام سے پوچھا: اتنی قابلیت اور دانائی کے باوجود بھی کیا آپ کے استاد ہیں ؟

ہشام نے کہا: بے شک میرے استاد ہيں۔

بریہہ نے کہا: وہ کون ہیں اور کہاں رہتے ہیں اور ان کا پیشہ کیا ہے ؟

ہشام نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے اپنے برابر میں بٹھایا اور امام صادق علیہ السلام کی منفرد اخلاقی خصوصیات اس کے لیے بیان کیں۔ انھوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کے نسب، بخشش، علم و دانش، شجاعت اور عصمت کے بارے میں تفصیل سے بات کی اور پھر بریہہ کے قریب ہو کر کہا: "اے بریہہ! خدا نے اپنی جو بھی حجت گذشتہ لوگوں کے لیے آشکار فرمائی ہے، ان لوگوں کے لیے بھی آشکار فرماتا ہے جو ان کے بعد آنے والے ہیں اور خدا کی زمین کبھی بھی حجت خدا سے خالی نہيں ہوتی۔ ہشام نے انہیں بتایا کہ ان کے استاد حضرت امام صادق علیہ السلام مدینہ منورہ میں سکونت پذیر ہیں۔

بریہہ اس روز سراپا سماعت تھا اور ہمہ تن گوش، ان کو آج تک اتنی دلچسپ باتیں سننے کو نہيں ملی تھیں چنانچہ سن رہا تھا اور ذہن نشین کر رہا تھا۔ بریہہ گھر لوٹا تو بہت خوش تھا اور نہایت خندہ پیشانی کے ساتھ اپنی بیوی کو آواز دی کہ جلدی سے مدینہ کے سفر کے لیے تیار ہو جاؤ، ہشام بن حکم نے بھی اس سفر میں ان کا ساتھ دیا۔ سفر بہت دشوار اور مشکل تھا لیکن امام کے دیدار کی امید سختیوں کو آسان کر رہی  تھی۔ آخر کار سب مل کر مدینہ منورہ میں داخل ہوئے اور فوری طور پر امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔

امام علیہ السلام سے ملاقات کا شرف حاصل کرنے سے قبل، انہیں امام موسی کاظم علیہ السلام کی زیارت نصیب ہوئی۔ ہشام نے بریہہ کے ساتھ اپنی شناسائی کا ماجرا کہہ سنایا تو امام موسی کاظم علیہ السلام نے فرمایا: تم اپنے دین کی کتاب (انجیل) سے کس قدر واقف ہو ؟

بریہہ نے کہا: انجیل سے آگاہ ہوں۔

امام کاظم (ع) نے فرمایا: آپ کس قدر مطمئن ہیں کہ تم نے اس کے معانی کو صحیح طرح سے سمجھ لیا ہے ؟

بریہہ نے کہا: میں بہت زيادہ مطمئن ہوں کہ میں نے اس کے معانی کو درست سمجھ لیا ہے۔

امام کاظم علیہ السلام نے انجیل کے بعض کلمات بریہہ کے لیے بیان کیے۔ بریہہ یہ دیکھ کر کلام امام (ع) کا شیدائی ہو گیا اور زمان و مکان کو بھول گیا اور یہ بھی بھول گیا کہ اس نے اتنا لمبا راستہ طے کیا ہے۔ امام علیہ السلام کے کلام مبارک سے اس قدر متأثر ہوا اور اسلام کی عظمت اور حقانیت اس قدر اس کے لیے آشکار ہوئی کہ بحث کو جاری رکھنے اور مزید سوالات پوچھنے اور جوابات میں بہانے تراشی کرنے کی بجائے اپنے باطل عقائد کو ترک کر کے مسلمان ہو گیا۔ بریہہ کے اسلام لانے کی خاص بات یہ تھی کہ ابھی اس زمانے کے امام حضرت جعفر بن محمد صادق علیہ السلام کی خدمت میں نہيں پہنچا تھا کہ آپ ( ع) کے نوجوان فرزند امام  ہفتم حضرت امام موسی بن جعفر علیہ السلام کے ہاتھوں دلیل و برہان کے ساتھ مسلمان ہو گیا تھا۔

بریہہ نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کرنے کے بعد کہا: میں پچاس برسوں سے آپ کی طرح کے آگاہ فرد، حقیقی عالم اور دانشمند استاد کی تلاش میں ہوں۔

فرزند رسول حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام تقریبا" 35 سال مسند امامت پر فائز رہے مگر اس میں سے بیشتر حصہ قید و بند میں گزارا یا پھر جلا وطن رہے۔ یہ حالات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ کے زمانے میں اہل بیت علیہم السلام کے سلسلے میں عباسی حکمرانوں کی سختیاں اور دشمنی کس قدر شدت اختیار کر گئی تھی جس چیز نے فرزند رسول حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو اپنے دور کے حالات کے خلاف آواز اٹھانے پر مجبور کیا۔ وہ مسلمانوں پر حکمفرما فاسد سیاسی اور سماجی نظام تھا۔ عباسی حکمرانوں نے حکومت کو موروثی اور آمرانہ نظام میں تبدیل کر دیا تھا۔ ان کے محل بھی حکمرانوں کے لہو و لعب اور عیش و نوش و شراب و کباب کا مرکز بن گئے تھے اور ان بے پناہ دولت و ثروت کا خزانہ تھے جو انہوں نے لوٹ رکھے تھے۔ جبکہ مفلس و نادار طبقہ غربت ، فاقہ کشی اور امتیازی سلوک کی سختیاں جھیل رہا تھا۔ اس صورتحال میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام لوگوں کی سیاسی اور سماجی آگاہی و بصیرت میں اضافہ فرماتے اور بنی عباس کے حکمرانوں کی روش کو اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیتے، دوسری طرف ہارون الرشید اس بات کی اجازت نہيں دیتا تھا کہ لوگ امام کے علم و فضل کے بحر بیکران سے فیضیاب ہوں اور وہ اس سلسلے میں لوگوں پر سختیاں کرتا تھا، لیکن ہارون الرشید کی ان سختیوں کے جواب میں امام کا ردعمل قابل غور تھا۔

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ہر مناسب وقت سے فائدہ اٹھا کر خداوند عالم کے حضور نماز و نیایش اور تقرب الہی میں مصروف ہو جاتے۔ آپ پر جتنا بھی ظلم و ستم ہوتا وہ صبر اور نماز سے سہارا لیتے۔ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ہر حال میں صبر و شکر ادا کرتے بصرہ کا زندانباں عیسی بن جعفر کہتا ہے کہ:

میں نے بہت کوشش کی کہ امام پر ہر لحاظ سے نظر رکھوں یہاں تک کہ چھپ چھپ کر ان کی دعاؤں اور نیایش کو سنتا تھا مگر وہ فقط درگاہ خداوند سے طلب رحمت و مغفرت کرتے اور وہ اس دعا کی بہت زيادہ تکرار فرماتے تھے:

خدایا تو جانتا ہے کہ میں تیری عبادت کے لیے ایک تنہائی کی جگہ چاہتا تھا اور اب جبکہ تو نے ایک ایسی جگہ میرے لیے مہیا کر دی ہے میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں۔

فرزند رسول امام موسی کاظم علیہ السلام اپنے ایک مقام پر فرماتے ہیں کہ: عرش الہی پر ایک سایہ ہے جہاں ایسے لوگوں کو جگہ ملے گی جنہوں نے اپنے بھائیوں کے حق میں نیکی اور بھلائی کی ہو گی، یا مشکلات میں ان کی مدد کی ہو گی۔ امام موسی کاظم علیہ السلام کا روز مرہ کا ایک معمول محتاجوں اور ناداروں کی خبر گیری کرنا تھا۔

اہل بیت علیہم السلام کی نگاہ میں مال و دولت اور مادی وسائل ایک ایسا وسیلہ ہے جس کے ذریعے رضائے پروردگار حاصل کی جا سکتی ہے۔

شیخ مفید علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ: امام موسی کاظم علیہ السلام رات کی تاریکیوں میں نکل کر شہر مدینہ کے غریبوں ، محتاجوں اور ناداروں کی دلجوئی فرماتے اور ان کے گھروں کو جا کر انہیں اشیاء ، خوراک اور نقد رقوم فراہم کرتے کیا کرتے تھے۔

امام موسی کاظم علیہ السلام اپنے پدر بزرگوار حضرت امام صادق (ع) کی شہادت کے بعد اپنے دور کے سب سے زیادہ بافضل اور عالم شخصیت تھے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے ایک صحابی کے جواب میں اپنے فرزند امام موسی کاظم کی توصیف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:

میرا بیٹا موسی کاظم (ع) علم و فضل کے اس درجہ کمال پر فائز ہے کہ اگر قرآن کے تمام مطالب و مفاہیم اس سے پوچھو تو وہ اپنے علم و دانش کے ذریعے انتہائی محکم اور مدلّل جواب دے گا۔ وہ حکمت و فہم و معرفت کا خزانہ ہے۔

تاريخ میں منقول ہے کہ: تقریبا" 300 افراد نے امام موسی کاظم (ع) سے حدیث نقل کی ہے جن میں سے بعض راویوں کا نام اعلی درجے کے علماء میں لیا جاتا ہے۔

امام  کاظم (ع)کے انمول فرامین:

۔ صالح افراد کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا فلاح اور بہبود کی طرف دعوت دیتا ہے۔ علماء کا ادب کرنا عقل میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔

۔ جو شخص اپنے غیظ و غضب کو لوگوں سے روکے تو قیامت میں خدا اس کو اپنے غضب سے محفوظ رکھے گا۔

 ۔ معرفت الٰہی کے بعد جو چیزیں انسان کو سب سے زیادہ خداوند سے نزدیک کرتی ہیں وہ نماز ،والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ، حسد نہ کرنا، خود پسندی سے پرہیز کرنا، فخر و مباہات سے اجتناب کرنا ہے۔

۔ مخلوقات کا نصب العین اطاعت پروردگار ہے۔ اطاعت کے بغیر نجات ممکن نہیں۔ اطاعت علم کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے۔ علم سیکھنے سے حاصل ہوتا ہے۔ علم عقل کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے۔ علم تو بس عالم ربانی کے پاس ہے۔ عالم کی معرفت اس کی عقل کے ذریعہ سے ہے۔

۔ تمھارے نفس کی قیمت تو بس جنت ہے۔ بس اپنے کو جنت کے علاوہ کسی اور سے نہ فروخت کرو۔

۔ نعمت اس شخص کے پاس رہتی ہے جو میانہ روی اور قناعت کو اپناتا ہے، اور جو شخص بے جا مصرف اور اسراف کرتا ہے، تو اس سے نعمت دور ہو جاتی ہے۔

۔ امانت داری اور سچائی رزق مہیا کرتے ہیں۔ خیانت اور جھوٹ فقر اور نفاق پیدا کرتے ہیں۔

۔ عاقل وہ ہے جسے رزق حلال شکر سے باز نہیں رکھتا اور نہ کبھی حرام اس کے صبر پر غالب آتا ہے۔

۔ علی بن یقطین سے فرماتے ہیں کہ : ظالم بادشاہ کی نوکری کرنے کا کفارہ یہ ہے کہ تم اپنے بھائیوں کے ساتھ احسان کرو۔

۔ جو شخص حمد و ثنائے پروردگار اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود و سلام بھیجے بغیر دعا مانگتا ہے وہ بالکل اس شخص کے مانند ہے جو بغیر ہدف کے تیر چلائے۔

۔ غور و فکر کرنا نصف راحت ہے اور لوگوں سے محبت کرنا نصف عقل ہے کیوںکہ لوگ تمھیں تمھارے عیوب سے آگاہ کریں گے، اور یہی لوگ تمھارے حقیقی مخلص ہیں۔

۔ وہ شخص ہم سے نہیں ہے ( ہمارا دوست نہیں ہے ) جو اپنی دنیا کو دین کے لیے ترک کر دے یا اپنے دین کو دنیا کے خاطر ترک کر دے۔

 ۔ وہ برتر چیزیں جو خدا سے بندہ کی قربت کا سبب بنتی ہیں وہ خدا کی معرفت کے بعد نماز ، والدین سے نیکی ، ترک حسد ، و خود پسندی و عُجُب ہے۔

۔ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں کہ: خوش اخلاق اور سخی انسان ہمیشہ خدا کی پناہ میں ہے۔ یہاں تک کہ خدا اسے ایک دن بہشت میں داخل کرے گا۔ دینداروں کے ساتھ ہمنشینی شرف دنیا و آخرت کا باعث ہے اور خیر خواہ عقلمند سے مشورت باعث سعادت و فلاح اور موجب برکت و توفیق الہی ہے۔

تحف العقول

چنانچہ تاریخ میں ملتا ہے کہ ایک مرتبہ مہدی جو اپنے زمانے کا حاکم تھا، مدینہ آیا اور امام موسی کاظم سے مسٔلہ تحریم شراب پر بحث کرنے لگا وہ اپنے ذہنِ ناقص میں خیال کرتا تھا کہ معاذ اللہ اس طرح امام کی رسوائی کی جائے لیکن شاید وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ وارث باب مدینۃ العلم ہیں چنانچہ امام سے سوال کرتا ہے کہ آپ حرمتِ شراب کی قران سے دلیل دیجیے امام نے فرمایا: خداوند سورۂ اعراف میں فرماتا ہے اے حبیب ! کہہ دو کہ میرے خدا نے کارِ بد چہ ظاہر چہ مخفی و اثم و ستم ناحق حرام قرار دیا ہے اور یہاں اثم سے مراد شراب ہے، امام یہ کہہ کر خاموش نہیں ہوئے، بلکہ فرماتے ہیں کہ خداوند نیز سورۂ بقرہ میں فرماتا ہے اے میرے حبیب ! لوگ تم سے شراب اور قمار کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہہ دو کہ یہ دونوں بہت عظیم گناہ ہیں، اسی وجہ سے شراب قرآن میں صریحاً حرام قرار دی گئی ہے۔ مہدی امام کے اس عالمانہ جواب سے بہت متأثر ہوا اور بے اختیار کہنے لگا ایسا عالمانہ جواب سوائے خانوادۂ عصمت و طہارت کے کوئی نہیں دے سکتا یہی سبب تھا کہ لوگوں کے قلوب پر امام کی حکومت تھی اگرچہ لوگوں کے جسموں پر حکمران حاکم تھے۔ ہارون  کے حالات میں ملتا ہے کہ ایک مرتبہ قبرِ رسول اللہ پر کھڑ ے ہو کر کہتا ہے کہ:

اے خدا کے رسول آپ پر سلام اے پسرِ عمّو آپ پر سلام، وہ یہ چاہتا تھا کہ میرے اس عمل سے لوگ یہ پہچان لیں کہ خلیفہ سرور کائنات کا چچازاد بھائی ہے۔ اسی وقت امام کاظم قبر پیغمبر کے نزدیک آئے اور فرمایا اے ﷲ کے رسول! آپ پر سلام، اے پدر بزرگوار! آپ پر سلام، ہارون امام کے اس عمل سے بہت غضبناک ہوا۔ فورا امام کی طرف رخ کر کے کہتا ہے، آپ فرزند رسول ہونے کا دعوی کیسے کر سکتے ہیں؟ جب کہ آپ علی مرتضی کے فرزند ہیں۔ امام نے فرمایا تو نے قرآن کریم میں سورۂ انعام کی آیت نہیں پڑھی جس میں خدا فرماتا ہے قبیلۂ ابراہیم سے داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسی، ہارون، زکریا، یحیی، عیسی، اور الیاس یہ سب کے سب ہمارے نیک اور صالح بندے تھے ہم نے ان کی ہدایت کی اس آیت میں خداوند نے حضرت عیسی کو گزشتہ انبیاء کا فرزند قرار دیا ہے ۔حالانکہ عیسیٰ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے۔ حضرت مریم کی طرف سے پیامبران سابق کی طرف نسبت دی ہے اس آیۂ کریمہ کی رو سے بیٹی کا بیٹا فرزند شمار ہوتا ہے ۔ اس دلیل کے تحت میں اپنی ماں فاطمہ کے واسطہ سے فرزند نبی ہوں۔ اس کے بعد امام فرماتے ہیں کہ اے ہارون! یہ بتا کہ  اگر اسی وقت پیغمبر دنیا میں آ جائیں اور اپنے لیے تیری بیٹی کا سوال فرمائیں تو کیا تو اپنی بیٹی پیغمبر کی زوجیت میں دے گا یا نہیں ؟ ہارون برجستہ جواب دیتا ہے نہ صرف یہ کہ میں اپنی بیٹی کو پیغمبر کی زوجیت میں  دونگا بلکہ اس کارنامے پر تمام عرب و عجم پر افتخار کرونگا۔ امام فرماتے ہیں کہ تو اس رشتے پر تو سارے عرب و عجم پر فخر کریگا لیکن پیامبر ہماری بیٹی کے بارے میں یہ سوال نہیں کر سکتے اس لیے کہ ہماری بیٹیاں پیغمبر کی بیٹیاں ہیں اور باپ پر بیٹی حرام ہے۔ امام کے اس استدلال سے حاکم وقت نہایت پشیمان ہوا۔ امام موسی کاظم نے علم امامت کی بنیاد پر بڑے بڑے مغرور اور متکبر بادشاہوں سے اپنا علمی سکّہ منوا لیا تھا۔ امام قدم قدم پر لوگوں کی ہدایت کے اسباب فراہم کرتے رہے۔ چنانچہ جب ہارون نے علی بن یقطین کو اپنا وزیر بنانا چاہا اور علی بن یقطین نے امام موسی کاظم سے مشورہ کیا تو آپ نے اجازت دیدی، امام کا ہدف یہ تھا کہ اس طریقہ سے جان و مال و حقوق شیعیان محفوظ رہیں۔ امام نے علی بن یقطین سے فرمایا تو ہمارے شیعوں کی جان و مال کو ہارون کے شر سے بچانا ہم تیری تین چیزوں کی ضمانت لیتے ہیں کہ اگر تو نے اس عہد کو پورا کیا تو ہم ضامن ہیں۔ تم تلوار سے ہرگز قتل نہیں کیے جاؤ گے۔ ہرگز مفلس نہ ہو گے۔ تمہیں کبھی قید نہیں کیے جاؤ گے۔ علی بن یقطین نے ہمیشہ امام کے شیعوں کو حکومت کے شر سے بچایا اور امام کا وعدہ بھی پورا ہوا۔ نہ ہارون پسر یقطین کو قتل کر سکا۔ نہ وہ تنگدست ہوا۔ نہ قید ہوا۔ لوگوں نے بہت چاہا کہ فرزند یقطین کو قتل کرا دیا جائے لیکن ضمانتِ امامت، علی بن یقطین کے سر پر سایہ فگن تھی ۔ چنانچہ تاریخ میں ملتا ہے کہ ایک مرتبہ ہارون نے علی بن یقطین کو ایک قیمتی شاہی لباس دیا، علی بن یقطین نے اس لباس کو امام موسیٰ کاظم کی خدمت میں پیش کر دیا مولا یہ آپ کی شایانِ شان ہے۔ امام نے اس لباس کو واپس کر دیا اے علی ابن یقطین اس لباس کو محفوظ رکھو یہ برے وقت میں تمہارے کام آئے گا، ادھر دشمنوں نے بادشاہ سے شکایت کی کہ علی ابن یقطین امام کاظم کی امامت کا معتقد ہے یہ ان کو خمس کی رقم روانہ کرتا ہے یہاں تک کہ جو لباس فاخرہ تو نے علی ابن یقطین کو عنایت کیا تھا وہ بھی اس نے امام کاظم کو دے دیا ہے۔ بادشاہ سخت غضب ناک ہوا اور علی ابن یقطین کے قتل پر آمادہ ہو گیا فورا علی ابن یقطین کو طلب کیا اور کہا وہ لباس کہاں ہے جو میں نے تمہیں عنایت کیا تھا؟ علی ابن یقطین نے غلام کو بھیج کر لباس، ہارون کے سامنے پیش کر دیا ہارون بہت شرمندہ ہوا، یہ ہے تدبیر امامت اور علم امامت۔

مطالب السول ص 279

نورالابصارص 135

شواہدالنبوت ص 193

صواعق محرقہ ص 121

 ارجح المطالب ص 452

حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی بعض کرامات:

امام شبلنجی لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ عیسی مدائنی حج کے لیے گئے اور ایک سال مکہ میں رہنے کے بعد وہ مدینہ چلے گئے ان کا خیال تھا کہ وہاں بھی ایک سال گزاریں گے، مدینہ پہنچ کر انہوں نے جناب ابوذر کے مکان کے قریب ایک مکام میں قیام کیا۔

مدینہ میں ٹہرنے کے بعد انہوں نے امام موسی کاظم علیہ السلام کے ہاں آنا جانا شروع کیا، مدائنی کا بیان ہے کہ ایک شب بارش ہو رہی تھی اور میں اس وقت امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا، تھوڑی دیر کے بعد آپ نے فرمایا کہ اے عیسی تم فورا اپنے مکان چلے جاؤ کیونکہ ”انہدم البیت علی متاعک“ تمہارا مکان تمہارے گھر کے سامان پر گر گیا ہے اور لوگ سامان نکال رہے ہیں یہ سن کر میں فورا مکان کی طرف گیا، دیکھا کہ گھر گر چکا ہے اور لوگ سامان نکال رہے ہیں، دوسرے دن جب حاضر ہوا تو امام علیہ السلام نے پوچھا کہ کوئی چیز چوری تو نہیں ہوئی ، میں نے عرض کی صرف ایک طشت نہیں ملتا جس میں وضو کیا کرتا تھا، آپ نے فرمایا وہ چوری نہیں ہوا، بلکہ انہدام مکان سے پہلے تم اسے بیت الخلاء میں رکھ کر بھول گئے ہو، تم جاؤ اور مالک کی لڑکی سے کہو، وہ لا دے گی، چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا اور طشت مل گیا۔

نور الابصار ص 135

علامہ جامی تحریر فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک صحابی کے ہمراہ سو دینارحضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی خدمت میں بطور نذر ارسال کیے وہ اسے لے کر مدینہ پہنچا، یہاں پہنچ کر اس نے سوچا کہ امام کے ہاتھوں میں اسے جانا ہے لہذا پاک کر لینا چاہیے وہ کہتا ہے کہ میں نے ان دیناروں کو جو امانت تھے شمار کیا تو وہ نناوے تھے میں نے ان میں اپنی طرف سے ایک دینار شامل کر کے سو پورا کر دیا، جب میں حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا سب دینار زمین پر ڈال دو، میں نے تھیلی کھول کر سب زمین پر نکال دئیے ، آپ نے میرے بتائے بغیر اس میں سے میرا وہی دینار جو میں نے ملایا تھا مجھے دیدیا اور فرمایا بھیجنے والے نے عدد کا لحاظ نہیں کیا بلکہ وزن کا لحاظ کیا ہے جو 99 میں پورا ہوتا ہے۔

ایک شخص کا کہنا ہے کہ مجھے علی بن یقطین نے ایک خط دے کر امام علیہ السلام کی خدمت میں بھیجا، میں نے حضرت کی خدمت میں پہنچ کر ان کا خط دیا، انہوں نے اسے پڑھے بغیر آستین سے ایک خط نکال کر مجھے دیا اور کہا کہ انہوں نے جو کچھ لکھا ہے اس کا یہ جواب ہے۔

شواہد النبوت ص 195

ابو بصیر کا بیان ہے کہ امام موسی کاظم علیہ السلام دل کی باتیں جانتے تھے اور ہر سوال کا جواب رکھتے تھے ہر جاندار کی زبان سے واقف تھے۔

روائح المصطفی ص 162

ابوحمزہ بطائنی کا کہنا ہے کہ میں ایک مرتبہ حضرت کے ساتھ حج کو جا رہا تھا کہ راستے میں ایک شیر برآمد ہوا، اس نے آپ کے کان میں کچھ کہا آپ نے اس کو اسی کی زبان میں جواب دیا اور وہ چلا گیا ہمارے سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ اس نے اپنی شیرنی کی ایک تکلیف کے لیے دعا کی خواہش کی، میں نے دعا کر دی ہے اور اب وہ واپس چلا گیا ہے۔

تذکرة المعصومین ص 193

جب بادشاہ نے اپنی آنکھوں سے چغہ دیکھ لیا،تواس کاغصہ ٹھنڈاہوا، اورخوش ہوکرکہنے لگا، کہ اب میں تمہارے بارے میں کسی کی کوئی بات نہ مانوں گا۔

علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ پھر اس کے بعد رشید نے اور بہت سے عطیے دے کر انہیں عزت و احترام کے ساتھ واپس کر دیا اور حکم دیا کہ چغلی کرنے والے کو ایک ہزار کوڑے لگائے جائیں چنانچہ جلادوں نے مارنا شروع کیا اور وہ پانچ سو کوڑے کھا کر مر گیا۔

بحار الانوار ص 130

شواہد النبوت ص 194

علی ابن یقطین کو الٹا وضو کرنے کا حکم:

علامہ طبرسی اور علامہ ابن شہر آشوب لکھتے ہیں کہ علی بن یقطین نے امام موسی کاظم علیہ السلام کو ایک خط لکھا جس میں تحریر کیا کہ ہمارے درمیان اس امر میں بحث ہو رہی ہے کہ آیا مسح کعب سے اصابع (انگلیوں) تک ہونا چاہیے یا انگلیوں سے کعب تک حضور اس کی وضاحت فرمائیں، حضرت نے اس خط کا ایک عجیب و غریب جواب تحریر فرمایا آپ نے لکھا کہ میرا خط پاتے ہی تم اس طرح وضو شروع کرو کہ تین مرتبہ کلی کرو، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالو، تین مرتبہ منہ دھوؤ، اپنی داڑھی کو اچھی طرح بھگوؤ، سارے سر کا مسح کرو، اندر باہر کانوں کا مسح کرو، تین مرتبہ پاؤں دھوؤ اور دیکھو میرے اس حکم کے خلاف ہرگز ہرگز عمل نہ کرنا۔

علی بن یقطین نے جب اس خط کو پڑھا، تو حیران رہ گیا لیکن یہ سمجھتے ہوئے کہ مولائی اعلم بما قال، آپ نے جو کچھ حکم دیا ہے اس کی گہرائی کا اچھی طرح آپ کو علم ہو گا اس پر عمل کرنا شروع کر دیا۔

راوی کا بیان ہے کہ علی بن یقطین کی مخالفت ہمیشہ دربار میں ہوا کرتی تھی اور لوگ بادشاہ سے کہا کرتے تھے کہ یہ شیعہ ہے اور تمہارے مخالف ہے۔ ایک دن بادشاہ نے اپنے بعض مشیروں سے کہا کہ علی بن یقطین کی شکایات بہت ہو چکی ہیں، اب میں خود چھپ کر دیکھوں گا اور یہ معلوم کروں گا کہ وضو کیسے کرتا ہے اور نماز کیسے پڑھتا ہے ، چنانچہ اس نے چھپ کر آپ کے حجرہ میں نظر ڈالی تو دیکھا کہ وہ اہل سنت کے اصول اور طریقے پر وضو کر رہے ہیں یہ دیکھ کر وہ ان سے مطمئن ہو گیا اور اس کے بعد سے پھر کسی کے کہنے پر یقین نہیں کرتا تھا۔

اس واقعہ کے فورا بعد امام موسی کاظم علیہ السلام کا خط علی بن یقطین کے پاس پہنچا جس میں مرقوم تھا کہ خدشہ دور ہو گیا ”توضاء کما امرک اللہ“ اب تم اسی طرح وضو کرو، جس طرح خداوند نے حکم دیا ہے یعنی اب الٹا وضو نہ کرنا، بلکہ سیدھا اور صحیح وضو کرنا اور تمہارے سوال کا جواب یہ ہے کہ انگلیوں کے سرے سے کعبین تک پاؤں کا مسح ہونا چاہیے۔

اعلام الوری ص 170

مناقب ج 5 ص 58

امام موسی کاظم (ع) کا علی ابن یقطین کو اسکی غلطی کا احساس دلانا:

علامہ حسین بن عبد الوہاب تحریر فرماتے ہیں کہ محمد بن علی صوفی کا بیان ہے کہ ابراہیم جمّال (جو امام موسی کاظم کے صحابی تھے) نے ایک دن ابو الحسن علی بن یقطین سے ملاقات کے لیے وقت چاہا انہوں نے وقت نہ دیا، اسی سال وہ حج کے لیے گئے اور حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام بھی تشریف لے گئے ابن یقطین حضرت سے ملنے کے لیے گئے انہوں نے ملنے سے انکار کر دیا، ابن یقطین کو بڑا تعجب ہوا، راستے میں ملاقات ہوئی تو حضرت نے فرمایا کہ تم نے ابراہیم سے ملاقات کرنے سے انکار کیا تھا اس لیے میں بھی تم سے نہیں ملا اور اس وقت تک نہ ملوں گا جب تک تم اس سے معافی نہ مانگو گے اور انہیں راضی نہ کرو گے ، ابن یقطین نے عرض کی مولا میں مدینہ میں ہوں اور وہ کوفہ میں ہیں، فوری ملاقات کیسے ہو سکتی ہے، فرمایا تم تنہا بقیع میں جاؤ، ایک اونٹ تیار ملے گا اور اونٹ پر سوار ہو کر کوفہ کے لیے روانہ ہو چشم زدن میں وہاں پہنچ جاؤ گے چنانچہ وہ گئے اور اونٹ پر سوار ہو کر کوفہ پہنچے ، ابراہیم کے دروازہ پر دق الباب کیا آواز آئی کون ہے؟ کہا میں ابن یقطین ہوں ، انہوں نے کہا، تمہارا میرے دروازہ پر کیا کام ہے؟

ابن یقطین نے جواب دیا، سخت مصیبت میں مبتلا ہوں، خدا کے لیے ملنے کا وقت دو، چنانچہ انہوں نے اجازت دی، ابن یقطین نے قدموں پر سر رکھ کر معافی مانگی اور سارا واقعہ سنایا ابراہیم نے معافی دی پھر اسی اونٹ پر سوار ہو کر چشم زدن میں مدینہ پہنچے اور امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے، امام نے بھی معاف کر دیا اور ملاقات کا وقت دے کر گفتگو فرمائی۔

عیون المعجزات ص 123

امام موسی کاظم اور باغ فدک کا حدود اربعہ:

علامہ یوسف بغدادی سبط ابن جوزی حنفی تحریر فرماتے ہیں کہ: ایک دن ہارون الرشید نے حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام سے کہا کہ آپ فدک لینا چاہیں تو میں دیدوں ، آپ نے فرمایا کہ میں جب اس کے حدود بتاؤں گا تو، تو اسے دینے پر راضی نہ ہو گا اور میں اسی وقت لے سکتا ہوں جب اس کے پورے حدود دئیے جائیں، اس نے پوچھا اس کے حدود کیا ہیں فرمایا پہلی حد، عدن ہے دوسری سمرقند ہے، تیسری  حد افریقہ ہے، چوتھی حد سیف البحر ہے، جو خزر اور آرمینیہ کے قریب ہے۔ یہ سن کر ہارون رشید آگ بگولہ ہو گیا اور کہنے لگا کہ پھر ہمارے لیے کیا باقی رہا ؟ حضرت نے فرمایا کہ اسی لیے تو میں نے لینے سے انکار کیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد ہی سے ہارون رشید نے حضرت کے قتل کی منصوبہ بندی کر لی تھی۔

 خواص الامة، سبط ابن جوزی س 416

 اسیر بغداد کی شہادت:

سب سے آخر میں امام موسی کاظم علیہ السّلام سندی بن شاہک کے قید خانے میں رکھے گئے، یہ شخص بہت ہی بے رحم اور سخت دل تھا۔ آخر اسی قید میں حضرت کو انگور میں زہر دیا گیا۔ 25رجب 183 ہجری میں 55 سال کی عمر میں حضرت کی شہادت ہوئی۔ شہادت کے بعد آپ کے جسد مبارک کے ساتھ بھی کوئی اعزاز کی صورت اختیار نہیں کی گئی بلکہ حیرتناک طریقے پر توہین آمیز الفاظ کے ساتھ اعلان کرتے ہوئے آپ کی لاش کو قبرستان کی طرف روانہ کیا گیا۔ مگر اب ذرا عوام میں احساس پیدا ہو گیا تھا اس لیے کچھ اشخاص نے امام کے جنازے کو لے لیا اور پھر عزت و احترام کے ساتھ تشیع کر کے بغداد سے باہر اس مقام پر جو اب کاظمین کے نام سے مشھور ہے، دفن کیا۔

امام کاظم علیہ السلام کو بصرہ میں ایک سال قید رکھنے کے بعد ہارون رشید ملعون نے والی بصرہ عیسی بن جعفر کو لکھا کہ موسی بن جعفر امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو قتل کر کے مجھ کو ان کے وجود سے سکون دے ۔ اس نے اپنے ہمدردوں سے مشورہ کرنے کے بعد ہارون رشید ملعون کو لکھا : میں نے امام موسی کاظم علیہ السلام میں اس ایک سال کے اندر کوئی برائی نہیں دیکھی۔ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام روز و شب نماز اور روزہ میں مصروف و مشغول رہتے ہیں اور عوام و حکومت کے لیے دعائے خیر کرتے ہیں اور ملک کی فلاح و بہبودی کے خواہشمند ہیں۔ کس طرح ایسے شخص کو قتل کر دوں۔ میں ان کے قتل کرنے میں اپنے انجام اور اپنی عاقبت کی تباہی دیکھ رہا ہوں، لہٰذا تو مجھے اس گناہ عظیم کے ارتکاب سے معاف کر بلکہ تو مجھے حکم دے کہ میں ان کو اس قید با مشقت سے آزاد کر دوں۔ اس خط کو پانے کے بعد ہارون رشید ملعون نے اس کام کو سندی بن شاہک کے حوالے کیا اور اسی ملعون کے ذریعہ امام علیہ السلام کو زہر دلوا کر شہید کر دیا۔

ابن حجر مکی لکھتے ہیں کہ: ہارون رشید نے آپ کو بغداد میں قید کر دیا  فلم یخرج من حبسہ الا میتا مقیدا اور تاحیات قید رکھا، آپ (ع) کی شہادت کے بعد آپ کے ہاتھوں اور پیروں سے ہتھکڑیاں اور بیڑیاں کاٹی گئیں۔ آپ کی شہادت ہارون رشید کے زہر سے ہوئی جو اس نے سندی ابن شاہک کے ذریعہ دلوایا تھا۔

صواعق محرقہ،ص 132

امام موسی کاظم علیہ السلام کی شہادت 25 رجب المرجب بروز جمعہ 183 ہجری میں واقع ہوئی۔ اس وقت آپ کی عمر 55 سال کی تھی ۔ آپ نے 14 سال ہارون رشید کے قید خانے میں گزارے ۔ شہادت کے بعد آپ کے جنازہ کو قید خانے سے ہتھکڑی اور بیڑی سمیت نکال کر بغداد کے پل پر ڈال دیا گیا تھا اور نہایت ہی توہین آمیز الفاظ میں آپ کو اور آپ کے ماننے والوں کو یاد کیا گیا۔ سلیمان بن جعفر ابن ابی جعفر اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ ہمت کر کے نعش مبارک کو دشمنوں سے چھین کر لے گئے اور غسل و کفن دے کر بڑی شان سے جنازہ کو لے کر چلے ۔ ان لوگوں کے گریبان امام مظلوم کے غم میں چاک تھے، انتہائی غم و اندوہ کے عالم میں جنازے کو لے کر مقبرہ قریش میں پہنچے۔ امام علی رضا علیہ السلام کفن و دفن اور نماز کے لیے مدینہ منورہ سے با اعجاز پہنچ گئے۔ آپ نے اپنے والد ماجد کو سپرد خاک فرمایا۔

تدفین کے بعد امام رضا علیہ السلام مدینہ منورہ واپس تشریف لے گئے۔ جب مدینہ والوں کو آپ کی شہادت کی خبر ملی تو کہرام برپا ہو گیا۔ نوحہ و ماتم اور تعزیت کا سلسلہ مدتوں جاری رہا۔

امام  کاظم (ع) کے تلخ ترین مصائب:

امام کے یہ فضائل و کرامات اور سرگرمیاں ہارون کے غیظ و غضب اور کینے میں اضافے کا باعث بنتا تھا ، یہی وجہ ہے کہ امام کی ایک طویل مدت ( تقریباً سولہ سال) زندانوں میں گزاری اور وہیں اپنے رب سے جا ملے ۔

آپ نے دوران قید تلخ ترین مصائب اور سخت ترین تکالیف کا سامنا کیا ، یہاں تک کہ آپ زندان سے تنگ آ گئے اور مدت کی طوالت سے ملول ہوئے ، حکومت آپ کو مختلف زندانوں میں منتقل کرتی رہی ، اس خوف سے کہ کہیں آپ کا رابطہ کسی شیعہ کے ساتھ برقرار نہ ہو جائے، سرکاری پولیس اور جاسوس سختی سے آپ کی نگرانی کیا کرتے رہتے تھے۔

امام طویل مدت تک ہارون کی قید میں رہے ، طویل قید نے آپ کی صحت پر برا اثر ڈالا اور آپ کے بدن مبارک کو گھلا کر رکھ دیا تھا ، یہاں تک کہ جب آپ سجدہ کرتے تو ایسا معلوم ہوتا گویا زمین پر کوئی کپڑا پڑا ہوا ہو ، ایک مرتبہ خلیفہ کے ایک نمائندے نے آپ سے عرض کیا ' 'خلیفہ آپ سے معذرت خواہ ہے اور اس نے آپ کی آزادی کا حکم دیا ہے ، بشرطیکہ آپ اس سے ملاقات فرما کر معذرت حاصل کریں یا اس کی خوشنودی حاصل کریں  ' '

امام نے نہایت بے نیازی کے ساتھ صریح الفاظ میں نفی میں جواب دیا ، یوں آپ نے زہر قاتل کا تلخ جام پینا گوارا فرمایا ، آپ کا مقصد صرف یہ تھا کہ آپ کو اپنا ہمنوا بنانے کے سلسلے میں گمراہ حکمرانوں کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے اور ان کی گمراہی آشکار ہو۔

دائرة المعارف الاسلامیہ ،مقالہ دور الآئمہ از شہید صدر :ص 96

امام نے زندان سے ہارون کے نام ایک خط لکھا جس میں آپ نے ہارون پر اپنے شدید غصے کا اظہار فرمایا : ' 'بتحقیق جتنے میرے مشقت و آلام کے دن گزریں گے اتنے ہی دن تیرے راحت و آرام کے بھی گزر جائیں گے ، پھر ایک دن ایسا آئے گا جب ہم سب کا خاتمہ ہو گا ، اور کبھی ختم نہ ہونے والا دن آ پہنچے گا ، اس دن بدکار لوگ خسارے میں ہوں گے۔

البدایة و النہایة :ج 10، ص 183 اور تاریخ بغداد

ہارون کے زندان میں امام قسم قسم کی اذیتوں کو برداشت کرتے رہے ، کیونکہ ایک طرف سے آپ کو بیڑیوں سے پا بہ زنجیر کیا گیا تھا اور دوسری طرف سے آپ پر زبردست سختیاں اور اذیتیں روا رکھی گئیں ، ہارون رشید نے ہر قسم کے مصائب ڈہانے کے بعد آخر کار آپ کو زہر دے کر شہید کر دیا گیا ، یوں آپ شہادت و سعادت کی منزل پر فائز ہوئے اور اپنے خالق سے جا ملے ، آپ کی شہادت 25، رجب 183 ہجری کو واقع ہوئی۔

ابن خلکان :ج2، ص 173 اور تاریخ بغداد،

25رجب سن 183 ہجری کو فرزند رسول حضرت امام موسی کاظم (ع) کو زندان میں زہر دے کر عالم غربت میں شہید کر دیا گیا ۔

امام کاظم (ع) سن 128 ہجری قمری میں پیدا ہوئے۔  آپ نے بیس سال تک کی عمر اپنے والد ماجد حضرت امام صادق (ع) کی ذات مقدس کے ساتھ گزاری اور امام صادق (ع) کی شہادت کے بعد 35 سال تک مسلمانوں کی امامت و ہدایت کی ذمہ داری انجام دی ۔ اس راہ میں آپ نے بہت سی مشکلات اور صعوبتیں برداشت کیں۔ آپ (ع) کے علم سے فیضیاب ہونے والے بہت سے فقیہ اور دانشور شاگردوں نے اسلامی علوم و تعلیمات کو پوری دنیا میں رائج کیا۔ امام کاظم (ع) نے اسلامی علوم اور تعلیمات کی ترویج و اشاعت کے ساتھ ساتھ عباسی حکومت کے خلاف جدوجہد بھی جاری رکھی۔ سر انجام عباسی خلیفہ ہارون رشید نے امام موسیٰ کاظم (ع) کو گرفتار کر لیا اور ایک سازش کے تحت زہر دے کر شہید کر دیا۔

آپ کے دو مشہور لقب کاظم اور باب الحوائج تھے۔ جب حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام نے فرائض امامت سنبھالے اس وقت عباسی خلیفہ منصور دوانقی بادشاہ تھا یہ وہی ظالم بادشاہ تھا جس کے ہاتھوں بے شمار سادات مظالم کا نشانہ بن چکے تھے سادات زندہ دیواروں میں چنوائے گئے یا قید کر کے رکھے گئے تھے۔

امام موسي کاظم عليہ السلام نے مختلف حکام کے دور ميں زندگی بسر کی۔ آپ کا دور، حالات کے اعتبار سے نہايت مصائب اور شديد مشکلات اور گھٹن سے بھرا ہوا دور تھا۔ ہر آنے والے بادشاہ کی امام پر سخت نظر تھی ليکن يہ آپ کا کمال امامت تھا کہ آپ شدید مصائب مشکلات کے دور ميں قدم قدم پر لوگوں کو درس علم و ہدايت عطا فرماتے رہے۔ اتنے نامناسب حالات ميں آپ نے اس یونیورسٹی کی جو آپ کے پدر بزرگوار کی قائم کردہ تھی، پاسداری اور حفاظت فرمائی آپ کا مقصد امت کی ہدايت اور نشر علوم آل محمد تھا، جس کی آپ نے قدم قدم پر ترويج کی اور حکومت وقت تو بہرحال امامت کی محتاج ہے۔

  علامہ مقریزی لکھتے ہیں کہ منصور کے زمانے میں بے انتہا سادات شہید کیے گئے ہیں اور جو بچے ہیں وہ وطن چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں انہیں تارکین وطن میں ہاشم بن ابراہیم بن اسماعیل الدیباج بن ابراہیم عمر بن الحسن المثنی ابن امام حسن بھی تھے جنہوں نے ملتان کو علاقوں میں سے مقام خان میں سکونت اختیار کر لی تھی.

 النزاع والتخاصم ص 47 طبع مصر

158 ہجری کے آخر میں منصور دوانقی دنیا سے رخصت ہوا، اور اس کا بیٹا مہدی تخت سلطنت پر بیٹھا، شروع میں تو اس نے بھی امام موسی کاظم علیہ السلام کی عزت و احترام کے خلاف کوئی برتاؤ نہیں کیا مگر چند سال بعد پھر وہی بنی فاطمہ کی مخالفت کا جذبہ ابھرا اور 164 ہجری میں جب وہ حج کے نام سے حجاز کی طرف گیا تو امام موسی کاظم علیہ السلام کو اپنے ساتھ مکہ سے بغداد لے گیا اور قید کر دیا ایک سال تک حضرت اس کی قید میں رہے پھر اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور حضرت کو مدینہ کی طرف واپسی کا موقع دیا گیا۔

  مہدی کے بعد اس کا بھائی ہادی 169 ہجری میں تخت سلطنت پر بیٹھا اور صرف ایک سال ایک ماہ تک اس نے سلطنت کی ، اس کے بعد ہارون الرشید کا زمانہ آیا جس میں امام موسی کاظم علیہ السلام کو آزادی کی سانس لینا نصیب نہیں ہوئی۔

سوانح امام موسی کاظم ص 5

اعلام الوری ص 171

امام موسی کاظم (ع) کو جس آخری قید خانے میں قید کیا گيا تھا، اس کا زندان باں انتہائی سنگدل تھا جس کا نام سندی بن شاہک تھا۔ اس زندان میں امام پر بہت زیادہ ظلم و ستم ڈھایا گيا اور بالآخر ہارون رشید کے حکم پر ایک سازش کے ذریعہ امام کو زہر دے دیا گیا اور تین دن تک سخت رنج و تعب برداشت کرنے کے بعد 55 سال کی عمر میں درجہ شہادت پر فائز ہوئے۔

خدا کا درود و سلام ہو اس پر کہ جس کے صبر و استقامت نے دشمنوں کو گھنٹے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔

السلام على المعذب في قعر السجون وظلم المطامير 
السلام على ذي الساق المرضوض بحلق القيود
السلام على الجسد النحيف
السلام على القلب الوجيف
السلام على الكاظم الصابر
السلام على من حارت فيه البصائر
السلام عليك يا باب الحوائج 
عليك مني سلام الله مابقيت وبقي الليل والنهار  

مرزا دبیر کہتے ہیں:

مولا پہ انتہائے اسیری گزر گئی ۔

زندان میں جوانی و پیری گزر گئی 

یَا أَبَا الْحَسَنِ یَا مُوسَی بْنَ جَعْفَرٍ، أَیُّھَا الْکاظِمُ، یَا ابْنَ رَسُولِ اللهِ، یَا حُجَّةَ اللهِ عَلی خَلْقِہِ، یَا سَیِّدَنا وَ مَوْلانَا إِنَّا تَوَجَّھْنا  وَ اسْتَشْفَعْنا وَ تَوَسَّلْنا بِکَ إِلَی اللهِ وَ قَدَّمْناکَ بَیْنَ یَدَیْ حَاجَاتِنا، یَا وَجِیہاً عِنْدَ اللهِ اشْفَعْ لَنا عِنْدَ اللهِ.....

 التماس دعا.....

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی