2017 November 24
ابن تیمیہ اور حضرت فاطمہ زہرا (س) کی فضیلت کا انکار کرنا
مندرجات: ٥٩٦ تاریخ اشاعت: ١٠ February ٢٠١٧ - ١٧:٢٥ مشاہدات: 763
مضامین و مقالات » پبلک
جدید
ابن تیمیہ اور حضرت فاطمہ زہرا (س) کی فضیلت کا انکار کرنا

مقدمہ:

دین اسلام کی 1400 سالہ تاریخ میں اہل بیت (ع) کے دشمنوں نے انکے فضائل چھپانے اور نابود کرنے کی بہت کوششیں کیں ہیں، تا کہ اپنے باطل گمان میں نور اہل بیت کو ان ضعیف بہانوں سے کم رنگ اور خاموش کر سکیں، لیکن وہ اس سے غافل تھے ، غافل ہیں اور غافل رہیں گے کہ خداوند نے اپنے نور کو باقی رکھنے کا عزم کر رکھا ہے:

يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَ اللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَ لَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ۔

وہ نور خداوندی کو اپنی پھونکوں سے بجھانا چاہتے ہیں، اور خداوند اپنے نور کو مکمل کر کے رہے گا، اگرچے کافروں اور منافقوں کو یہ بات بری ہی کیوں نہ لگے۔

سورہ صف:آیت 8

اپنے اس ہدف تک پہنچنے کے لیے دشمنان اسلام کا ایک حربہ، اہل بیت (ع) کے فضائل کو جھٹلانا اور انکار کرنا تھا۔ ابن تیمیہ ناصبی اہل بیت کے ان دشمنوں میں سے ایک ہے۔ اس کی کتب سے آشنائی رکھنے والے اشخاص جانتے ہیں کہ اہل بیت کے فضائل کے انکار کرنے میں ابن تیمیہ اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ اپنی اس تحریر میں ہم رسول خدا (ص) کی حضرت زہرا (س) کی شان میں معروف حدیث «ان الله يغضب لغضبک و يرضی لرضاک» کے بارے میں ابن تیمیہ کی کہی ہوئی باتوں کے بارے میں بحث کریں گے۔ حضرت زہرا (س) کے بارے میں رسول خدا (ص) کی یہ وہ حدیث ہے کہ جسکو فریقین کے علماء نے بہت اہمیت دی ہے اور اس حدیث کو صحیح اسناد کے ساتھ اپنی اپنی کتب میں ذکر کیا ہے۔

ابن تیمیہ کا اس حدیث کو ردّ کرنا:

اس نے اپنی منہاج السنۃ میں اس حدیث کے بارے میں اسطرح لکھا ہے کہ:

و أما قوله و رووا جميعا أن النبي صلي الله عليه و سلم قال يا فاطمة إن الله يغضب لغضبک و يرضى لرضاک فهذا کذب منه ما رووا هذا عن النبي صلي الله عليه و سلم و لا يعرف هذا في شيء من کتب الحديث المعروفة و لا له إسناد معروف عن النبي صلي الله عليه و سلم لا صحيح و لا حسن.

یہ جو اس (علامہ حلّی) نے کہا ہے کہ: تمام محدثین نے نقل کیا ہے کہ رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: اے فاطمہ خداوند تیرے غضب کرنے سے غضبناک اور تیرے راضی ہونے سے راضی ہوتا ہے، یہ جھوٹ ہے اور اسطرح کی روایت رسول خدا سے بالکل نقل نہیں ہوئی اور یہ حدیث، حدیث کی معروف کتب میں سے کسی ایک میں بھی ذکر نہیں ہوئی اور یہ حدیث کسی معروف سند کے ساتھ رسول خدا سے نقل نہیں ہوئی، نہ ہی سند صحیح کے ساتھ اور نہ ہی سند حسن کے ساتھ ۔

ابن تيميه الحراني الحنبلي، ابو العباس أحمد عبد الحليم (متوفى 728 هـ)، منهاج السنة النبوية، ج4، ص248-249 ، تحقيق: د. محمد رشاد سالم، ناشر: مؤسسة قرطبة،

ابن تیمیہ ناصبی کے اس کلام پر تنقید اور تحقیق:

ابن تیمیہ وہابی کے اس کلام کے بر خلاف اہل سنت کے بہت سے علماء اور محدثین نے اس حدیث کو اپنی کتب میں ذکر کیا ہے اور اس حدیث کی سند کے صحیح یا معتبر ہونے پر یقین اور اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ اب ہم ان موارد میں سے بعض کو ذکر کرتے ہیں:

1.حاکم نيشاپوری در المستدرک علی الصحيحين:

حاکم نیشاپوری نے اپنی کتاب المستدرک علی الصحيحين میں اس حدیث کو نقل کیا ہے اور پھر اس کی سند کے صحیح ہونے کی طرف بھی اشارہ کیا ہے:

حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن علي بن عفان العامري و أخبرنا محمد بن علي بن دحيم بالكوفة ثنا أحمد بن حاتم بن أبي غرزة قالا ثنا عبد الله محمد بن سالم ثنا حسين بن زيد بن علي عن عمر بن علي عن جعفر بن محمد عن أبيه عن علي بن الحسين عن أبيه عن علي رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لفاطمة إن الله يغضب لغضبك و يرضى لرضاك۔

 هذا حديث صحيح الإسناد و لم يخرجاه.

امام صادق سے اور انھوں نے اپنے والد امام باقر سے اور انھوں نے اپنے والد امام سجاد سے اور انھوں نے امام حسین سے اور انھوں نے امیر المؤمنین علی سے اس طرح نقل کیا ہے کہ: رسول خدا نے حضرت زہرا سے فرمایا کہ: اے فاطمہ بے شک خداوند تیرے غضب کرنے سے غضبناک اور تیرے راضی ہونے سے راضی ہوتا ہے۔

 اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن بخاری اور مسلم نے اس حدیث کو اپنی اپنی کتاب میں نقل نہیں کیا۔

      الحاكم النيشاپوری،  ابو عبد الله محمد بن عبد الله (متوفى 405 هـ)، المستدرك علی الصحيحين، ج3، ص167، تحقيق: مصطفي عبد القادر عطا، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت الطبعة: الأولى،

2.طبرانی در المعجم الکبير:

طبرانی نے اپنی کتاب معجم الکبير میں حمدی بن عبد الحمید السلفی کی تحقیق کے ساتھ لکھا ہے کہ:

حدثنا بِشْرُ بن مُوسَى و مُحَمَّدُ بن عبد اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ قَالا ثنا عبد اللَّهِ بن مُحَمَّدِ بن سَالِمٍ الْقَزَّازُ قال ثنا حُسَيْنُ بن زَيْدِ بن عَلِيٍّ وَ عَلِيُّ بن عُمَرَ بن عَلِيٍّ عن جَعْفَرِ بن مُحَمَّدٍ عن أبيه عن عَلِيِّ بن الْحُسَيْنِ عَنِ الْحُسَيْنِ بن عَلِيٍّ عن عَلِيٍّ قال قال رسول اللَّهِ صلى اللَّهُ عليه و سلم لِفَاطِمَةَ أن اللَّهَ يَغْضَبُ لِغَضَبِكِ وَ يَرْضَى لِرَضَاكِ.

اس عبارت کا ترجمہ پہلے کیا جا چکا ہے..........

الطبرانی،  ابو القاسم سليمان بن أحمد بن أيوب (متوفى360هـ)، المعجم الكبير، ج 22 ص 401 ، تحقيق: حمدی بن عبد المجيد السلفی، ناشر: مكتبة الزهراء - الموصل، الطبعة: الثانية،

اس کتاب کے محقق نے نیچے حاشیے میں ایسے لکھا ہے:

فی هامش الأصل: هذا حديث صحيح الاسناد و روی من طرق عن علی عليه السلام رواه الحارث عن علی و روی مرسلا و هذا الحديث احسن شئ رأيته و أصح اسناد قرأته انتهی.

اس کتاب کے اصلی حاشیے میں ایسے آیا ہے کہ: اس حدیث کی سند صحیح ہے اور حضرت علی سے مختلف اسناد کے ساتھ نقل ہوا ہے کہ حارث نے اس حدیث کو حضرت علی سے مرسل سند کے ساتھ نقل کیا ہے اور یہ حدیث ان بہترین چیزوں میں سے ہے کہ جنکو میں نے دیکھا ہے اور اس حدیث کی سند ان صحیح ترین اسناد میں سے ہے کہ جنکو میں نے قرائت کیا ہے۔

3. مناوی کا طبرانی کی سند کو صحیح قرار دینا:

مناوی نے بھی اس روایت کو طبرانی سے نقل کیا ہے اور پھر اس روایت کو صحیح بھی قرار دیا ہے:

عن علی - رضی الله عنه - قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لفاطمة: (إن الله يرضى لرضاك و يغضب لغضبك) . رواه الطبرانی بإسناد حسن.

...... طبرانی نے اس حدیث کو سند حسن (معتبر) کے ساتھ نقل کیا ہے۔

المناوی، محمد عبد الرؤوف بن علی بن زين العابدين (متوفى 1031هـ)، سيدة نساء أهل الجنة فاطمة الزهراء أو اتحاف السائل بما لفاطمة من المناقب، ص38 ، تحقيق: علي أحمد عبد العال الطهطاوی، ناشر:دار الكتب العلمية – بيروت، الطبعة: الأولى،

4. نور الدين ہيثمی در مجمع الزوائد:

ہيثمی نے بھی اپنی کتاب مجمع الزوائد فی منبع الفوائد میں اس روایت کو وجود مقدس حضرت علی (ع) سے نقل کیا ہے اور پھر اس روایت کی سند کے معتبر ہونے کی طرف بھی اشارہ کیا ہے:

و عن علی قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن الله يغضب لغضبک و يرضى لرضاک،

 رواه الطبرانی و إسناده حسن.

اور حضرت علی سے نقل ہوا ہے کہ: رسول خدا نے فرمایا کہ: اے فاطمہ بے شک خداوند تیرے غضب کرنے سے غضبناک اور تیرے راضی ہونے سے راضی ہوتا ہے۔ اس حدیث کو طبرانی نے نقل کیا ہے اور اسکی سند حسن (معتبر) ہے۔

الهيثمی، ابو الحسن نور الدين علی بن أبی بكر (متوفى 807 هـ)، مجمع الزوائد و منبع الفوائد، ج 9، ص 203 ، ناشر: دار الريان للتراث،‏ دار الكتاب العربی - القاهرة، بيروت ،

5. ابن حجر ہيثمی:

ابن حجر ہيثمی نے اپنی کتاب الصواعق المحرقہ میں اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد، اس حدیث کے ساتھ استدلال بھی کیا ہے اور اس حدیث پر کوئی اشکال وغیرہ بھی نہیں کیا کہ یہ مطلب اس بات کی علامت ہے کہ اس نے اس حدیث کو قبول کیا ہے، اس نے ایسے لکھا ہے کہ:

و أخرج أبو سعد فی شرف النبوة و ابن المثنى أنه صلى الله عليه و سلم قال ( يا فاطمة إن الله يغضب لغضبك و يرضى لرضاك ) فمن آذى أحدا من ولدها فقد تعرض لهذا الخطر العظيم لأنه أغضبها و من أحبهم فقد تعرض لرضاها.

ابو سعد نے کتاب شرف النبوۃ میں اور ابن مثنی نے نقل کیا ہے کہ رسول خدا نے فرمایا کہ : اے فاطمہ بے شک خداوند تیرے غضب کرنے سے غضبناک اور تیرے راضی ہونے سے راضی ہوتا ہے، پس جو بھی انکی اولاد میں سے کسی ایک کو بھی اذیت کرے تو اسکو اس عظیم عذاب کا سامنا ہو گا، کیونکہ اس نے اپنے اس کام سے رسول خدا کو اذیت کی ہے اور جو بھی ان حضرت کی اولاد سے محبت کرتا ہو گا، تو رسول خدا بھی اس سے محبت کریں گے۔

الهيتمی، ابو العباس أحمد بن محمد بن علي ابن حجر (متوفى973هـ)، الصواعق المحرقة علی أهل الرفض و الضلال و الزندقة، ج 2 ص 507، تحقيق عبد الرحمن بن عبد الله التركی - كامل محمد الخراط، ناشر: مؤسسة الرسالة - لبنان، الطبعة: الأولى،

6. صالحی شامی در سبل الهدی و الرشاد:

صالحی شامی نے بھی اپنی کتاب سبل الهدی و الرشاد میں اس روایت کو طبرانی سے نقل کیا ہے اور ساتھ ہی واضح کہا ہے کہ اس روایت کی سند معتبر ہے:

روى الطبرانی بإسناد حسن و ابن السنی فی معجمه و أبو سعيد النيسابوری فی ' الشرف ' عن علی - رضی الله تعالى عنه - أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لفاطمة : ' إن الله تعالى يغضب لغضبك و يرضی لرضاك.

الصالحی الشامی، محمد بن يوسف (متوفى942هـ)، سبل الهدی و الرشاد فی سيرة خير العباد، ج 11، ص 44 ، تحقيق: عادل أحمد عبد الموجود و علی محمد معوض، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى،

7. زرقانی در شرح المواہب اللدنية بالمنح المحمدية:

زرقانی نے بھی اپنی کتاب میں اس روایت کو طبرانی سے نقل کیا ہے اور واضح کہا ہے کہ اس روایت کی سند صحیح ہے:

أخرجه الطبرانی فی الأوسط بسند صحيح على شرط الشيخين، و أخرجه ابن أبی عاصم عن علی أنه صلى الله عليه و سلم، قال لفاطمة: "إن الله يغضب لغضبك و يرضی لرضاك".

طبرانی نے اس حدیث کو صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی صحیح ہونے کی شرائط کے مطابق نقل کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الزرقانی المالكی، أبو عبد الله محمد بن عبد الباقی بن يوسف بن أحمد بن شهاب الدين بن محمد (المتوفى: 1122هـ)، شرح الزرقانی على المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، ج4، ص331،  الطبعة: الأولى، دارالنشر: دار الكتب العلمية.

8. سيوطی در الثغور الباسمة:

جلال الدين عبد الرحمن سيوطی نے بھی کتاب الثغور الباسمہ میں وضاحت کی ہے کہ اس روایت کی سند حسن (معتبر) ہے:

أخرج الطبرانی بسند حسن عن علی قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لفاطمة :  إن الله و يرضی لرضاك و يغضب لغضبك.

سيوطي، جلال الدين عبدالرحمن، الثغور الباسمة فی مناقب سيدتنا فاطمة، ص11

9. محمد الصبان در اسعاف الراغبين:

اس نے بھی طبرانی سے اس روایت کو نقل کیا ہے اور اسی روایت کے حسن ہونے کی طرف بھی اشارہ کیا ہے:

و روی الطبرانی وغيره باسناد حسن عن علی ان رسول الله صلی الله عليه و سلم قال لفاطمة ان الله يغضب لغضبک و يرضی لرضاک.

الصبان، محمد، اسعاف الراغبين في سيرة المصطفي و فضائل أهل بيته الطاهرين، ص67

روایت کی سند کے بارے میں بحث:

اہل سنت کے علماء کے اس روایت کو حسن (معتبر) قرار دینے کے باوجود اب ہم اس روایت کی سند کے بارے میں بحث کرتے ہیں۔ اس روایت کی اسناد میں سے ایک سند حاکم نیشاپوری کی ہے کہ:

حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن علي بن عفان العامري و أخبرنا محمد بن علي بن دحيم بالكوفة ثنا أحمد بن حاتم بن أبي غرزة قالا ثنا عبد الله محمد بن سالم ثنا حسين بن زيد بن علي عن عمر بن علي عن جعفر بن محمد عن أبيه عن علي بن الحسين عن أبيه عن علي رضي الله عنه،

راوی اول: محمد بن يعقوب:

ابن کثير دمشقی نے اسکے بارے میں لکھا ہے کہ:

محمد بن يعقوب بن يوسف بن معقل بن سنان أبو العباس الأصم مولى بني أمية النيسابوري راوي المذهب، كان إماما، ثقة، حافظا، ضابطا، صدوقا، دينا۔

۔۔۔۔۔۔ وہ امام، ثقہ، حافظ، سچا اور بہت دیندار انسان تھا۔

القرشي البصري، أبو الفداء إسماعيل بن عمر بن كثير، طبقات الشافعيين، ص 270، المتوفى: 774هـ، المحقق: د أحمد عمر هاشم، د محمد زينهم محمد عزب، مكتبة الثقافة الدينية.

اسی طرح اس نے اپنی کتاب البدايہ و النہايہ میں لکھا ہے کہ:

و كان ثقة صادقا ضابطا لما سمعه.

وہ ایک موثق اور قابل اعتماد، سچا اور کچھ وہ سنتا تھا، اسکو اچھی طرح سے محفوظ کرنے والا انسان تھا۔

ابن كثير الدمشقي،  ابو الفداء إسماعيل بن عمر القرشي (متوفاى774هـ)، البداية و النهاية، ج11 ص232 ، ناشر: مكتبة المعارف – بيروت.

ذہبی نے حاکم نیشاپوری کے قول سے اسکے بارے میں ایسے کہا ہے کہ:

و كان محدث عصره و لم يختلف أحد فی صدقه و صحة سماعاته۔

وہ اپنے زمانے کا محدث تھا اور کسی ایک نے بھی اس کے سچا ہونے اور جو کچھ اس نے سنا تھا، اسکے صحیح ہونے میں، کسی قسم کا اختلاف نہیں کیا۔

الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفاى 748 هـ)، سير أعلام النبلاء، ج15 ص455 ، تحقيق : شعيب الأرناؤوط , محمد نعيم العرقسوسي ، ناشر : مؤسسة الرسالة - بيروت ، الطبعة : التاسعة ،

اسی طرح ذہبی نے اپنی کتاب تذکرۃ الحفاظ میں لکھا ہے کہ:

الأصم الإمام المفيد الثقة محدث المشرق أبو العباس محمد بن يعقوب بن يوسف بن معقل بن سنان الأموی،

وہ امام، ثقہ اور محدث مشرق معروف تھا۔

الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفاى 748 هـ)، تذكرة الحفاظ، ج3 ص860 ، ناشر: دار الكتب العلمية – بيروت، الطبعة: الأولى.

راوی دوم: حسن بن علی بن عفان:

ذہبی نے اسکے بارے میں کہا ہے کہ:

 

ابن عفان ( د ق )، المحدث الثقة المسند أبو محمد الحسن بن علی بن عفان العامری الكوفی.

وہ ثقہ اور قابل استناد راوی تھا۔

الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفاى 748 هـ)، سير أعلام النبلاء، ج 13 ص 24 ، تحقيق : شعيب الأرناؤوط , محمد نعيم العرقسوسي ، ناشر : مؤسسة الرسالة - بيروت ، الطبعة : التاسعة ، 1413هـ .

راوی سوم: عبد الله محمد بن سالم:

ابن حجر نے اس کے بارے میں لکھا ہے کہ:

عبد الله بن سالم الزبيدی أبو محمد الكوفی المفلوج القزاز روى عنه أبو داود بن ماجة ثقة،

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفاى852 هـ)، لسان الميزان، ج7 ص262، تحقيق: دائرة المعرف النظامية - الهند، ناشر: مؤسسة الأعلمي للمطبوعات - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1406هـ – 1986م.

اسی طرح ابن حبان نے اسکو اپنی کتاب الثقات میں ذکر کیا ہے:

عبد الله بن سالم المفلوج يروى عن وكيع و إبراهيم بن يوسف بن أبى إسحاق روى عنه محمد بن على بن عثمان الأنصاری من ولد أبى بن كعب

 التميمي البستي، ابوحاتم محمد بن حبان بن أحمد (متوفاى354 هـ)، الثقات، ج8 ص350، تحقيق السيد شرف الدين أحمد، ناشر: دار الفكر، الطبعة: الأولى، 1395هـ – 1975م.

راوی چہارم: حسين بن زيد:

دار قطنی نے اس راوی کو ثقہ کہا ہے:

 

قلت له الحسين بن زيد بن علی بن الحسين عن عبد الله بن محمد بن عمر بن علی عن أبيه عن جده عن علی فقال كلهم ثقات.

میں نے اس سے کہا کہ: حسين بن زيد بن علی بن الحسين نے عبد الله بن محمد بن عمر بن علی سے، اس نے اپنے والد اس نے اپنے جدّ علی سے نقل کیا ہے کہ: وہ تمام کے تمام ثقہ ہیں۔

الدارقطني البغدادي، ابوالحسن علي بن عمر (متوفاى 385هـ)، سؤالات البرقاني، ج1، ص22، تحقيق: د. عبدالرحيم محمد أحمد القشقري، ناشر: كتب خانه جميلي - باكستان، الطبعة: الأولى،

ابن عدی نے کتاب الکامل فی الضعفاء میں اسکو ذکر کیا ہے اور واضح کہا ہے کہ اس میں کوئی اشکال نہیں ہے:

قال الشيخ و للحسين بن زيد أحاديث غير ما ذكرته يحدث عنه أهل الكوفة و أهل الحجاز و يحدث هو عن أبي جعفر محمد بن علي و عن أبيه جعفر و عن أخي جعفر كما أمليت و يحدث عن قوم آخرين من أهل البيت كما ذكرت بعضه و جملة حديثه عن أهل البيت و أرجو أنه لا بأس به.

الجرجاني ، عبدالله بن عدي بن عبدالله بن محمد أبو أحمد (متوفاى365هـ)، الكامل في ضعفاء الرجال ، تحقيق : يحيى مختار غزاوي ، ناشر : دار الفكر - بيروت ، الطبعة : الثالثة ،

ابو نعيم اصفہانی نے جب اس روایت کو حسین ابن زید سے نقل کیا ہے تو اس نے واضح کہا ہے کہ وہ اہل بیت (ع) میں سے ہے:

حدثنا أبو بكر الطلحي ثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا عبد الله بن محمد بن سالم حدثني حسين بن زيد بن علي بن الحسين عن علي بن عمر بن علي عن جعفر بن محمد عن أبيه عن علي بن الحسين عن الحسين بن علي عن علي بن أبي طالب عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : يا فاطمة إن الله تعالى يغضب لغضبك و يرضى لرضا،

 تفرد برواية هذا الحديث العترة الطيبة خلفهم عن سلفهم حتى ينتهي إلى النبي صلى الله عليه و سلم .

یہ حدیث راویوں کے سلسلے سے ہوتی ہوئی رسول خدا (ص) کے اہل بیت تک پہنچتی ہے۔

الأصبهاني، ابو نعيم أحمد بن عبد الله (متوفاى430هـ)، معرفة الصحابة، ج 1،‌ ص 93، الجامع الكبير کی سی ڈی کے مطابق،

راوی پنجم: عمرو بن علی:

اگرچہ اہل سنت کی کتب میں اسکو عمر ابن علی کے نام سے نقل کیا گیا ہے، لیکن اسکا اصلی نام عمرو تھا۔ متقی ہندی نے کنز العمال میں عمر ابن علی ابن الحسین کے بارے میں کہا ہے کہ کا صحیح نام عمرو ابن علی ابن الحسین ہے!

عن ابن أبي فديك قال : حدثني علي بن عمر بن علي بن أبي طالب عن أبيه عن جده ، قال : لما قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم المدينة ، قال : يا معشر قريش إنكم بأقل الأرض مطرا فاحرثوا فإن الحرث مبارك و أكثروا فيه من الجماجم . ابن جرير ) و قال : هذا خبر عندنا صحيح سنده إن كان عمرو بن علي هذا هو عمر بن علي بن أبي طالب ، و لم يكن عمر ابن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب فإني أظنه عمرو بن علي بن الحسين، و ذلك أنه قد روى عنه بعضه مرسلا۔

الهندي، علاء الدين علي المتقي بن حسام الدين (متوفاى975هـ)، كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال، ج 4، ص 54 ،‌ تحقيق: محمود عمر الدمياطي، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى،

ابن حبان نے اسکو کتاب الثقات میں ذکر کیا ہے:

عمر بن على بن الحسين بن على بن أبى طالب.

التميمي البستي، ابوحاتم محمد بن حبان بن أحمد (متوفاى354 هـ)، الثقات، ج 7، ص 180، تحقيق السيد شرف الدين أحمد، ناشر: دار الفكر، الطبعة: الأولى،

ابن حجر نے بھی اسکے بارے میں لکھا ہے کہ:

عمر بن علی بن الحسين بن علی الهاشمی المدنی صدوق فاضل.

وہ ایک سچا اور فاضل انسان تھا۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفاى852هـ)، تقريب التهذيب، ج 1، ص 416 ، تحقيق: محمد عوامة، ناشر: دار الرشيد - سوريا، الطبعة: الأولى، 1406 - 1986.

راوی ششم: امام صادق (ع):

ابن حجر نے امام کی شخصيت کے بارے میں کہا ہے کہ:

جعفر بن محمد بن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب الهاشمي أبو عبد الله المعروف بالصادق صدوق فقيه إمام من السادسة،

جعفر ابن محمد صادق کے نام سے معروف تھے، وہ بہت سچے اور امامیہ کے چھٹے امام معصوم ہیں۔

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفى852هـ)، تقريب التهذيب، ج 1، ص 141، تحقيق: محمد عوامة، ناشر: دار الرشيد - سوريا، الطبعة: الأولى،

جرجانی نے بھی لکھا ہے کہ:

حدثنا عباس سمعت يحيى بن معين يقول جعفر بن محمد مأمون ثقة ثنا محمد بن علي ثنا عثمان بن سعيد قال سألت يعني يحيى بن معين عن جعفر بن محمد بن علي بن الحسين فقال ثقة،

عباس نے کہا ہے کہ: میں نے ابن معین سے سنا ہے کہ اس نے کہا تھا کہ: جعفر ابن محمد ایک امین اور قابل اعتماد انسان ہیں.....

سعید کہتا ہے کہ میں نے یحیی ابن معینت سے جعفر ابن محمد کے بارے میں پوچھا کہ تو اس نے جواب دیا کہ: وہ ایک مورد اطمینان انسان ہیں۔

الجرجاني ، عبدالله بن عدي بن عبدالله بن محمد أبو أحمد (متوفاى365هـ)، الكامل في ضعفاء الرجال، ج2 ص131 ، تحقيق : يحيى مختار غزاوي ، ناشر : دار الفكر - بيروت ، الطبعة : الثالثة ، 1409هـ – 1988م

ذہبی نے کتاب تذکرة الحفاظ میں لکھا ہے کہ:

 عن أبي حنيفة قال ما رأيت أفقه من جعفر بن محمد و قال أبو حاتم ثقة لا يسئل عن مثله،

ابو حنیفہ سے نقل ہوا ہے کہ اس نے کہا کہ: میں نے جعفر ابن محمد سے کسی کوئی کو عالم تر نہیں دیکھا۔ ابو حاتم نے بھی کہا ہے کہ: وہ ایک مورد اعتماد انسان ہے، اور جعفر ابن محمد جیسے انسان کے بارے میں کسی قسم کا سوال نہیں کیا جا سکتا۔

الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفاى 748 هـ)، تذكرة الحفاظ، ج1 ص166 ، ناشر: دار الكتب العلمية – بيروت، الطبعة: الأولى.

راوی ہفتم: امام باقر (ع):

ابن حجر نے امام کی شخصیت کے بارے میں کہا ہے کہ:

محمد بن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب أبو جعفر الباقر ثقة فاضل،

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفاى852هـ)، تقريب التهذيب، ج1 ص497 ، تحقيق: محمد عوامة، ناشر: دار الرشيد - سوريا، الطبعة: الأولى، 1406 - 1986.

راوی ہشتم: امام سجاد (ع):

ابن سعد نے امام کی شخصیت کے بارے میں لکھا ہے کہ:

و كان علی بن حسين ثقة مأمونا كثير الحديث عاليا رفيعا ورعا،

وہ بہت زیادہ احادیث کے نقل کرنے والے، بلند مرتبہ اور بہت زیادہ پرہیز گار انسان تھے۔

الزهري، محمد بن سعد بن منيع ابوعبدالله البصري (متوفاى230هـ)، الطبقات الكبرى، ج 5 ص 221 ، ناشر: دار صادر - بيروت.

راوی نہم: امام حسين (ع):

ذہبی نے امام کی شخصیت کے بارے میں لکھا ہے کہ:

الحسين الشهيد الإمام الشريف الكامل سبط رسول الله صلى الله عليه و سلم و ريحانته من الدنيا و محبوبه أبو عبد الله الحسين ابن أمير المؤمنين أبي الحسن علي بن أبي طالب بن عبد المطلب بن هاشم بن عبد مناف بن قصي القرشي الهاشمي.

الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفاى 748 هـ)، سير أعلام النبلاء، ج 3 ص 280 ، تحقيق : شعيب الأرناؤوط , محمد نعيم العرقسوسي ، ناشر : مؤسسة الرسالة - بيروت ، الطبعة : التاسعة ، 1413هـ .

راوی دہم: امير المؤمنين علی (ع):

علی (ع) کا شمار بزرگ صحابہ میں سے ہوتا ہے اور انکی شخصیت کے ثقہ ہونے میں کسی قسم کا شک نہیں ہے۔

نتيجہ:

حاکم نیشاپوری کی روایت کی سند کے تمام راوی ثقہ اور معتبر ہیں اور نتیجے کے طور پر جس محدث نے حاکم سے روایت کو نقل کیا ہو گا، وہ طریق اور سند بھی معتبر اور صحیح ہو گی۔

اہل سنت کی معتبر کتب حدیثی میں رسول خدا (ص) کی حضرت زہرا (س) کی شان کے بارے اس حدیث کے ذکر ہونے کے باوجود ابن تیمیہ کا اس حدیث کے اہل سنت کی معتبر کتب حدیثی میں ذکر ہونے کا انکار کرنا اور اس کے نتیجے میں اہل بیت (ع) کے فضائل کا انکار کرنا، یہ فقط اور فقط رسول خدا (ص) کے اہل بیت سے تعصّب اور بغض کا نتیجہ ہے، کیونکہ شیعہ علماء کے علاوہ اہل سنت کے علماء اور محدثین نے بھی ابن تیمیہ کو اس حدیث کس انکار کرنے کا جواب دیا ہے۔ فریقین کے علماء کا رسول خدا (ص) کی حضرت زہرا (س) کی شان میں اس حدیث کو اپنی اپنی کتب میں ذکر کرنا، اس حدیث کو اپنے استدلالات میں ذکر کرنا اور اس روایت کے ایک ایک راوی کے بارے میں بحث کرنا، یہ اس بات کی علامت ہے کہ انھوں نے اس حدیث کو کنتی اہمیت دی ہے اور اس حدیث کے صحیح ہونے پر بھی علمی اور عملی وضاحت کی ہے، لہذا اس حدیث کے بارے میں ابن تیمیہ وغیرہ کے انکار اور اشکال کی کوئی علمی اہمیت نہیں ہو گی۔کیونکہ ابن تیمیہ نے اپنی دو کتابوں میں لکھا ہے کہ:

 فإن تعدد الطرق وكثرتها يقوى بعضها بعضا حتى قد يحصل العلم بها ولو كان الناقلون فجارا فساقا فكيف إذا كانوا علماء عدولا۔

بے شک اگر ایک روایت مختلف اور متعدد اسناد کے ساتھ نقل ہوئی ہو، تو وہ اسناد ایک دوسرے تائید اور تصدیق کرتی ہیں، تو اس طرح اس روایت کے مضمون کے بارے میں انسان کو علم و یقین حاصل ہو جاتا ہے، (یعنی وہ روایت صحیح ہوتی ہے،) اگرچے اس روایت کے سارے راوی فاسق و فاجر ہی کیوں نہ ہوں، تو پھر جب ایک روایت کے راوی عالم اور عادل ہوں تو کیا وہ روایت صحیح نہیں ہو گی؟؟؟

أحمد عبد الحليم بن تيمية الحراني أبو العباس علوم الحديث ( من مجموع الفتاوى )  ج 18   ص 26  الوفاة: 728 ، دار النشر : مكتبة ابن تيمية ، الطبعة : الثانية ، تحقيق : عبد الرحمن بن محمد بن قاسم العاصمي النجدي

أحمد عبد الحليم بن تيمية الحراني أبو العباس مجموع الفتاوى  ج 18   ص 26 الوفاة: 728 ، دار النشر : مكتبة ابن تيمية ، الطبعة : الثانية ، تحقيق : عبد الرحمن بن محمد بن قاسم العاصمي النجدي

جب خود ابن تیمیہ کا یہ عقیدہ ہے تو، ہماری مورد بحث رسول خدا (ص) کی حدیث کے اولا: راوی اور اسناد متعدد ہیں، ثانیا: سارے راوی عالم و عادل ہیں، ثالثا: بلکہ اس سے بھی بالا تر یہ کہ یہ حدیث ہم تک خود رسول خدا کے اہل بیت (ع) سے پہنچی ہے اور اہل سنت کے بزرگ علماء نے اس حدیث کو اپنی کتب میں ذکر کیا ہے، تو کیا یہ حدیث نبوی صحیح نہیں ہوگی ؟؟؟

کیا آپ ابن تیمیہ کے انکار کو اہل بیت (ع) سے تعصّب اور بغض کے علاوہ کوئی اور نام دے سکتے ہیں؟؟؟

 التماس دعا.....





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی