2017 October 20
ابوبکر کی طرف سے احادیث نبوی (صلي الله عليه وآله و سلم) پر پابندی
مندرجات: ٤٦ تاریخ اشاعت: ٢٣ July ٢٠١٦ - ١٧:٥٤ مشاہدات: 435
تصویری دستاویز » پبلک
ابوبکر کی طرف سے احادیث نبوی (صلي الله عليه وآله و سلم) پر پابندی

 


ذهبی نے تذکرة الحفاظ میں لکھا ہے:

 أن الصديق جمع الناس بعد وفاة نبيهم فقال إنكم تحدثون عن رسول الله (ص) أحاديث تختلفون فيها والناس بعدكم أشد اختلافا فلا تحدثوا عن رسول الله شيئا فمن سألكم فقولوا بيننا وبينكم كتاب الله فاستحلوا حلاله وحرموا حرامه. 

ابوبکر نے رسول (صلي الله عليه وآله و سلم) کی رحلت کے بعد لوگوں کو جمع کیا اور کہا:

تو لوگ پیغمبر (صلي الله عليه وآله و سلم) سےایسی روایات نقل کرتے ہو جن میں اختلاف ہے اور تمہارے بعد لوگ اور زیادہ اختلاف کریں گے۔ ]لہذا یغمبر (صلي الله عليه وآله و سلم) سے کوئی حدیث نقل نہ کرو اور جو کوئی تم سے کوئی سوال کرے تو کہہ دو کہ تمہارے اور ہمارے درمیان اللہ کی کتاب ہے۔ اللہ کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام کرو۔

 

تذکرة الحفاظ، ج 1 ص 2-3

 

اهل سنت بھائیوں سے سوال:

1ـ کیا ابوبکر کا حدیث نقل کرنے سے منع کرنا قرآن کی ان آیتوں کے خلاف نہیں ہے جن میں حکم دیا گیا ہے کہ رسول خدا (صلي الله عليه وآله و سلم) کے دستور پر عمل کیجئے؟

2ـ کیا ابوبکر کا یہ کام رسول خدا (صلي الله عليه وآله و سلم) سے مقابلہ بازی نہیں شمار ہوگا؟

3ـ کیا ابوبکر کی طرف سے احادیث پیغمبر (صلي الله عليه وآله و سلم) پر پابندی لگانا آپ (صلي الله عليه وآله و سلم) کے مقصد رسالت کے خلاف نہیں ہے؟

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی