2017 August 23
رسول خدا (ص) کی ولادت کا جشن منانا، اہل سنت کے علماء اور بزرگان کی نظر میں:
مندرجات: ٤٥٢ تاریخ اشاعت: ١٣ December ٢٠١٦ - ١٤:٥٨ مشاہدات: 441
مضامین و مقالات » پبلک
رسول خدا (ص) کی ولادت کا جشن منانا، اہل سنت کے علماء اور بزرگان کی نظر میں:

 مقدمہ:

وہابی رسول خدا (ص) اور آئمہ (ع) کی ولادت کے ایام میں جشن منانے اور خوشحالی کرنے، قرآن کی تلاوت کرنے، رسول خدا اور آئمہ کی شعراء کے ذریعے مدح کرنے، لوگوں کو کھانا کھلانے وغیرہ کو یہودیوں اور مسیحیوں کے جشن منانے کے ساتھ تشبیہ کرتے ہیں اور اسے حرام اور بدعت کہتے ہیں۔

علماء وہابی اور ان کے پیروکار اگرچہ رسول خدا (ص) کے دین اور انکی پیروی کے دعوے کرتے ہیں لیکن عملی طور پر مسلمانوں کے اس خوشی کے موقع پر خوش ہونے اور حشن منانے کا مذاق اڑاتے اور مسخرہ کرتے ہیں اور اس مبارک دن جشن اور عید منانے کو حرام قرار دیتے ہیں، اس بارے میں ان کے علماء کے فتوے بھی موجود ہیں۔

 ابتدا میں اس جشن کے حرام ہونے کے بارے میں وہابی علماء کے اقوال اور فتوے ذکر کرتے ہیں، پھر تفصیل سے اس سوال کے جواب کو بیان کریں گے۔

جشن ولادت کے بدعت ہونے کے بارے میں علماء وہابی کے اقوال اور فتوے:

اس بارے میں ان کے توہین آمیز اقوال اور فتوے بہت زیادہ ہیں لیکن ہم نمونے کے طور پر صرف دو کو ذکر کرتے ہیں:

1- ابن تیمیہ کا فتوی:

ابن تيميہ وہابیوں کا فکری راہنما ہے اور وہ اس بارے میں کہتا ہے کہ:

إن اتخاذ هذا اليوم عيداً ، محدثٌ لا أصل له ، فلم يكن في السلف لا من أهل البيت و لا غيرهم من اتخذ ذلك عيداً ، حتي يحدث فيه اعمالا إذ الأعياد شريعة من الشرائع فيجب فيها الاتباع لا الابتداع و للنبي خطب و عهود و وقائع في أيام متعددة مثل يوم بدر و حنين و الخندق و فتح مكة و وقت هجرته و دخوله المدينة و خطب له متعددة يذكر فيها قواعد الدين ثم لم يوجب ذلك أن يتخذ مثال تلك الأيام أعيادا و انّما يفعل مثل هذا: النصاری الذين يتّخذون أمثال أيام حوادث عيسي(عليه السلام) أعياداً أو اليهود ، و إنما العيد شريعة فما شرعه الله اتبع و إلا لم يحدث في الدين ما ليس منه.

و كذلك ما يحدثه بعض الناس اما مضاهاةً للنصاری في ميلاد المسيح ، و امّا محبّة للنبی(صلی الله عليه و آله) و تعظيماً له .  فإن هذا لم يفعله السلف ، و لو كان خيراً محضاً أو راجحاً لكان السلف أحقَّ به مِنّا۔

رسول خدا کی ولادت کے دن عید منانا، یہ ایک نئا اور بے بنیاد کام ہے۔ گذشتہ لوگوں اور حتی اہل بیت میں سے کسی نے بھی اس دن عید اور خوشی نہیں منائی، کیونکہ عید منانے کا تعلق شریعت سے ہے، پس اس بارے میں شریعت کی پیروی کرنی چاہیے نہ کہ اپنی طرف سے بدعت کو ایجاد کرنا چاہیے۔ 

رسول خدا کی ولادت کے دن عید اور جشن منانا، یہ ایک نئا کام ہے کہ جسکی  اسلام میں کوئی اساس اور بنیاد نہیں ہے۔ خود اہل بیت اور گذشتہ لوگوں نے اس دن عید اور جشن نہیں منایا اور ایسے کام انجام نہیں دئیے کہ جس سے آج کے دن خوشی منانا ظاہر ہوتا ہو، کیونکہ عید منانے کا تعلق شریعت اسلام سے ہے تو اس بارے میں شریعت کی پیروی کرنی چاہیے نہ کہ اپنی طرف سے دین اور شریعت میں بدعت ایجاد کرنی چاہیے۔ خود رسول خدا کے مختلف واقعات میں، جیسے جنگ بدر، حنین، خندق کے موقع پر ، فتح مکہ کے موقع پر، ہجرت کے وقت، مدینہ میں داخل ہوتے وقت بہت سے خطبے اور عہد نامے ہیں کہ جن میں انھوں نے دین اسلام کے اصول اور قوانین کو بیان کیا ہے لیکن اپنی ولادت اور اس طرح کے دوسرے مواقع پر عید منانے اور خوشی کرنے کو واجب قرار نہیں دیا۔

بلکہ اس طرح کے کام مسیحیت میں مسیحی انجام دیتے ہیں اور جن ایام میں حضرت عیسی کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا تھا، وہ اسکی یاد میں عید اور جشن مناتے ہیں۔ یھود بھی بالکل مسیحیوں والے کام انجام دیتے ہیں۔

عید منانا، ایک ایسا کام ہے کہ جسکو خداوند نے شریعت میں قرار دیا ہے، پس جس کام کو خداوند نے شریعت میں جائز قرار دیا ہے، اسکی اطاعت اور پیروی کرنی چاہیے، ورنہ جو چیز دین میں نہ ہو، اسکا دین میں اپنی طرف سے اضافہ نہیں کرنا چاہیے۔

اور بعض لوگ اپنی طرف سے نئے نئے کام انجام دیتے ہیں، یہ لوگ خود کو یا حضرت عیسی کی ولادت کے موقع پر جشن منانے میں عیسائیوں کے مشابہے کرتے ہیں یا رسول خدا سے محبت اور ان کا احترام کرنے کی وجہ سے.....

گذشتہ لوگوں نے عید اور جشن نہیں منایا، اور اگر یہ نیک اور اچھا کام ہوتا تو وہ لوگ ضرور اس کام کو انجام دیتے اور وہ لوگ ہماری نسبت ایسے کام انجام دینے کے لیے زیادہ مناسب اور حقدار تھے۔

ابن تيميه الحرانی الحنبلی، ابو العباس أحمد عبد الحليم (متوفی 728 هـ)، اقتضاء الصراط المستقيم مخالفة أصحاب الجحيم، ج 1، ص 294، تحقيق: محمد حامد الفقي، دار النشر:مطبعة السنة المحمدية - القاهرة،

2- بن باز ( وہابی مفتی )

بن باز ایک وہابی مفتی ہے کہ اس سے جب رسول خدا (ص) کی ولادت کے موقع پر جشن منانے کے بارے میں سوال کیا گیا تو اس نے جواب دیا کہ ایسا جشن منانا بدعت ہے۔

عبد الرحمان بن اسماعیل ابو شامہ نے اپنی کتاب الباعث علی انکار البدع، میں بن باز سے کیے گئے سوال اور اس کے جواب کے متن کو نقل کیا ہے کہ:

السؤال الأول

الحمد لله و الصلاة و السلام علی رسول الله و علی آله و صحبه و من اهتدی بهداه أما بعد فقد تكرر السؤال من كثير عن حكم الاحتفال بمولد النبی صلی الله عليه و سلم و القيام له فی أثناء ذلك و إلقاء السلام و غير ذلك مما يفعل فی المولد.

و الجواب أن يقال لا يجوز الاحتفال بمولد الرسول صلی الله عليه و سلم و لا غيره لأن ذلك من البدع المحدثة فی الدين لأن الرسول صلی الله عليه و سلم لم يفعله و لا خلفاؤه الراشدون و لا غيرهم من الصحابة رضوان الله علی الجميع و لا التابعون لهم بإحسان فی القرون المفضلة و هم أعلم الناس بالسنة و أكمل حبا لرسول الله صلی الله عليه و سلم و متابعة لشرعة ممن بعدهم۔

و قد ثبت عن النبی صلی الله عليه و سلم أنه قال من أحدث فی أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد أي مردود عليه و قال فی حديث آخر عليكم بسنتی و سنة الخلفاء الراشدين المهديين من بعدی تمسكوا بها و عضوا عليها بالنواجذ و إياكم و محدثات الأمور فإن كل محدثة بدعة و كل بدعة ضلالة.

پہلا سوال: حمد اور تعریف خدا کی ذات کے لیے خاص ہے اور سلام اور درود ہو رسول خدا، انکے اہل بیت، انکے اصحاب اور ان لوگوں پر کہ جہنوں نے ہدایت کی راہ پر انکی پیروی کی۔ 

اما بعد: بہت سے لوگ رسول خدا کی ولادت کے جشن منانے، ان حضرت کے احترام میں کھڑے ہونے اور ان حضرت پر سلام کرنے وغیرہ کے بارے میں بار بار سوال کرتے ہیں ؟

جواب: رسول خدا کی ولادت کا جشن وغیرہ منانا جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ کام دین میں نئی بدعت ایجاد کرنا ہے، اسلیے کہ خود رسول خدا، خلفائے راشدین، دوسرے صحابہ اور تابعین وغیرہ نے اس دور میں کہ وہ بہترین دور تھا، اس جشن وغیرہ کو نہیں منایا اور حالانکہ وہ ہم سے زیادہ سنت کے بارے میں علم رکھتے تھے اور رسول خدا کی نسبت انکی محبت اور اطاعت بھی ہماری نسبت کامل تر تھی۔

رسول خدا سے نقل ہوا ہے کہ، آپ نے فرمایا کہ: جو اس چیز کو کہ جو دین میں نہ ہو، اس کو دین میں داخل کرے تو دین نے اس چيز کو ردّ کیا ہے، یعنی دین اسکو قبول نہیں کرتا۔

ایک دوسری روایت میں ہے کہ: تم لوگوں پر میری اور خلفائے راشدین کی سنت پر عمل کرنا واجب ہے، اس سے تمسک کرو اور اگر اپنے دانتوں سے بھی ہو سکے تو اسکی حفاظت کرو اور بدعت سے بچو کیونکہ ہر نئی چیز بدعت ہے اور بدعت گمراہ کرنے والی ہے۔

عبد الرحمن بن إسماعيل أبو شامة (متوفی 665 هـ)، الباعث علی إنكار البدع و الحوادث ، ج 1، ص 107، تحقيق : عثمان أحمد عنبر، ، دار النشر : دار الهدي – القاهرة،

خلاصہ:

ابن تیمیہ اور وہابی مفتی بن باز کے کلام سے استفادہ ہوتا ہے کہ رسول خدا کی ولادت کا جشن منانا بدعت ہے، کیونکہ:

اولا: خود رسول خدا (ص) نے اس کام کو انجام نہیں دیا اور اپنے خطبوں وغیرہ میں بھی اس کے بارے میں کچھ بیان نہیں کیا۔

ثانيا: خلفاء، صحابہ اور تابعین نے بھی کسی کی ولادت کا جشن نہیں منایا۔

ثالثا: اس طرح کے جشن یہودی اور مسیحی لوگ مناتے ہیں اور اگر کوئی مسلمان اسطرح کے جشن منائے تو وہ بھی یہودیوں اور مسیحیوں کے مشابہے ہو جائے گا اور اسکا کام بدعت اور حرام ہو جائے گا۔

 شبهے کا جواب:

ابھی تک اصل شبھے کو ابن تیمیہ کی زبان سے اور بن باز کے فتوے اور ولادت کے جشن کے بدعت ہونے کے بارے میں ان کے دلائل کو بیان کیا۔ اب ہم اس شبھے کے جواب اور اس کے فرعی مسائل کو بیان کرتے ہیں:

پہلا جواب:

رسول خدا (ص) نے اپنی ولادت کی سالگرہ پر قربانی کی:

بن باز کے فتوے میں ولادت کے جشن منانے کے حرام ہونے کی یہ دلیل ذکر ہوئی ہے کہ اس جشن کو خود رسول خدا (ص) اور صحابہ نے نہیں منایا:

لأن الرسول صلی الله عليه و سلم لم يفعله و لا خلفاؤه الراشدون و لا غيرهم من الصحابة.

 بہت سے اقوال اور افعال کو وہابیوں کی طرف سے بدعت ثابت کرنے کے لیے یہی معیار اور میزان بار بار بیان ہوتا ہے کہ ان میں سے ایک یہی مورد بحث مسئلہ ہے۔

اس شبھے کے جواب میں کہنا چاہیے کہ:

اتفاقا خود رسول خدا (ص) نے بھی اپنی ولادت کی سالگرہ کے موقع پر دوبارہ عقیقے کے جشن کو منایا تھا اور یہ بات اہل سنت کی معتبر روایات میں بھی ذکر ہوئی ہے۔ 

جلال الدین سیوطی عالم اہل سنت نے اسی روایت کی بنیاد پر رسول خدا کی ولادت کے جشن منانے کے مستحب ہونے پر استدلال کیا ہے۔ 

سیوطی نے ابن حجر عسقلانی کے فتوے اور اس کی سند کے طور پر حضرت موسی کی نجات پر یھودیوں کا شکرانے کے طور پر روز عاشورا روزہ رکھنے کے بارے میں روایت کو بیان کرنے کے بعد، خود بھی اسی روایت کی بناء پر رسول خدا (ص) کی ولادت کے جشن کے مستحب ہونے پر استدلال کیا ہے اور کہا ہے کہ:

قلت : و قد ظهر لی تخريجه علی أصل آخر و هو ما أخرجه البيهقی عن أنس أن النبی صلی الله عليه و سلّم عق عن نفسه بعد النبوة مع أنه قد ورد أن جده عبد المطلب عق عنه فی سابع ولادته و العقيقة لا تعاد مرة ثانية ، فيجعل ذلك علی أن الذی فعله النبی صلی الله عليه و سلّم إظهار للشكر علی إيجاد الله إياه رحمة للعالمين و تشريع لأمته كما كان يصلی علی نفسه لذلك فيستحب لنا أيضاً إظهار الشكر بمولده بالاجتماع و إطعام الطعام و نحو ذلك من وجوه القربات و إظهار المسرات.

میں کہتا ہوں کہ: میری نظر میں رسول خدا کی ولادت کا جشن منانے کے لیے ایک دوسری روایت ہے، اور وہ، وہ روایت ہے کہ جس کو بیہقی نے انس سے روایت کیا ہے کہ رسول خدا نے مقام نبوت ملنے کے بعد اپنی طرف سے عقیقہ (قربانی ) کیا، حالانکہ روایات کے مطابق عبد المطلب نے رسول خدا کی ولادت کے تیسرے دن بعد ان کے لیے عقیقہ کیا تھا، حالانکہ عقیقہ ایک بار ہی کیا جاتا ہے لیکن اس کے با وجود بھی رسول خدا نے خداوند کا شکر اور حمد کرنے کے لیے دوسری مرتبہ عقیقہ کیا اور انھوں نے اپنے اس کام سے چاہا ہے کہ اپنی امت کو بھی یہ کام کرنے کی طرف متوجہ کریں، جس طرح کہ وہ خود اپنے آپ پر درود بھیجا کرتے تھے۔

پس یہ کام ہمارے لیے بھی مستحب ہے کہ ہم بھی رسول خدا کے وجود جیسی عظیم نعمت کا شکر ادا کرنے کے لیے ہر سال جمع ہو کر ان کا ذکر کریں، انکی شان بیان کریں، ان پر درود و صلوات پڑھیں، فقراء کو اس عظیم دن کھانا کھلائیں اور انکو بھی اپنی خوشیوں میں شریک کریں اور اپنے اس کام سے دنیا کو بھی رسول خدا اور ان کے ایام ولادت کی طرف متوجہ کرائیں اور ان کے علاوہ دوسرے خوشی کے کام بھی اس دن انجام دیں۔

الحاوی للفتاوی، ج 1، ص 188

سیوطی کے کلام میں یہ نکتہ مہم اور قابل توجہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ: رسول خدا نے عقیقے کا جشن دو وجہ سے برپا کیا، ایک یہ کہ: خداوند کا شکر ادا کرنے اور دوسرا یہ کہ: اپنی امت کے لیے بھی اس کام کے شرعی طور پر جائز ہونے کو بیان کرنے کے لیے انجام دیا:

إظهار للشكر علی إيجاد الله إياه رحمة للعالمين و تشريع لأمته.

یہ کہہ کر سیوطی نتیجہ نکالتا ہے کہ اس معیار کے مطابق رسول خدا کی ولادت کا جشن منانا مستحب ہے:

فيستحب لنا أيضاً إظهار الشكر بمولده.

حلبی نے بھی اس روایت کو نقل کرنے کے بعد وضاحت کی ہے کہ سیوطی نے بھی اس روایت کو رسول خدا کی ولادت کا جشن منانے کے لیے ایک معیار اور بنیاد کے طور پر قرار دیا ہے:

و الحافظ السيوطی ... و جعله أصلا لعمل المولد قال لأن العقيقة لا تعاد مرة ثانية فيحمل ذلك علی أن هذا الذی فعله النبی صلي الله عليه و سلم إظهارا للشكر علی إيجاد الله تعالی إياه رحمة للعالمين وتشريعا لأمته ...

الحلبی، علی بن برهان الدين (متوفی1044هـ)، السيرة الحلبية فی سيرة الأمين المأمون، ج 1، ص 130، ناشر: دار المعرفة – بيروت-

رسول خدا کے عقیقہ کرنے والی روایت اہل سنت کی کتب میں نقل ہوئی ہے۔ اب ہم چند علمائے اہل سنت کے اقوال کو اس روایت کے صحیح ہونے کے بارے میں ذکر کرتے ہیں:

مقدسی نے اس روایت کو ذکر کرنے کے بعد، اس روایت کو صحیح بھی کہا ہے، اس نے کہا ہے کہ:

أخبرنا محمد بن أحمد بن نصر بأصبهان أن الحسن بن أحمد الحداد أخبرهم و هو حاضر ابنا أبو نعيم ابنا سليمان بن أحمد الطبرانی ثنا أحمد بن مسعود هو المقدسی قثنا الهيثم بن جميل قثنا عبد الله بن المثنی عن ثمامة بن عبد الله بن أنس عن أنس أن النبی صلی الله عليه و سلم عق عن نفسه بعد ما بعث نبيا إسناده صحيح.

المقدسی الحنبلی، ابو عبد الله محمد بن عبد الواحد بن أحمد (متوفی643هـ)، الأحاديث المختارة، ج 5 ، ص 204، تحقيق عبد الملك بن عبد الله بن دهيش، ناشر: مكتبة النهضة الحديثة - مكة المكرمة،

ابو بكر ہيثمی نے بھی کہا ہے کہ:

و عن أنس أن النبي صلي الله عليه و سلم عق عن نفسه بعد ما بعث نبيا رواه البزار و الطبراني في الأوسط و رجال الطبراني رجال الصحيح خلا الهيثم بن جميل و هو ثقة.

انس سے روایت ہوئی ہے کہ رسول خدا نے اپنی بعثت کے بعد اپنی طرف سے اپنے لیے عقیقہ کیا تھا۔ اس روایت کو بزار اور طبرانی نے کتاب اوسط میں نقل کیا ہے اور طبرانی کی روایت کے راوی وہی صحیح بخاری والے راوی ہیں، غیر از ہیثم بن جمیل کہ وہ بھی ثقہ ہے۔

الهيثمی، ابوالحسن علی بن أبی بكر (متوفی807 هـ)، مجمع الزوائد و منبع الفوائد، ج 4، ص 59، ناشر: دار الريان للتراث/ دار الكتاب العربي - القاهرة، بيروت -

دمياطی نے بھی اس روايت کی سند کو حسن قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ:

و حسن أن يعق عن نفسه كما مر لخبر أنه صلی الله عليه و سلم عق عن نفسه بعد النبوة قال فی فتح الجواد و ادعاء النووی بطلانه مردود بل هو حديث حسن.

یہ اچھی بات ہے کہ اپنی طرف سے عقیقہ کیا جائے، جس طرح کہ گذشتہ روایت میں رسول خدا نے اپنی طرف سے اپنی بعثت کے بعد اپنے لیے عقیقہ کیا تھا۔ اس نے اپنی کتاب فتح الجواد میں کہا ہے کہ: اس روایت کے باطل ہونے کے بارے میں نووی کا دعوی باطل ہے بلکہ یہ روایت، حدیث حسن ہے۔

الدمياطی ، أبی بكر ابن السيد محمد شطا (معاصر) حاشية إعانة الطالبين علی حل ألفاظ فتح المعين لشرح قرة العين بمهمات الدين ، ج 2، ص 336، ناشر : دار الفكر للطباعة و النشر والتوزيع - بيروت.

اسی طرح زين الدين العراقی نے لکھا ہے کہ:

و يروى أن النبی صلى الله عليه و سلم عق عن نفسه بعد النبوة ... قلت له طريق لا بأس بها رواها أبو الشيخ و ابن حزم من رواية الهيثم بن جميل.

اور روایت ہوئی ہے کہ رسول خدا (ص) نے اپنی طرف سے نبوت کے مرتبے پر فائز ہونے کے بعد عقیقہ کیا، ..... میں کہتا ہوں کہ اس روایت کی چند اسناد ہیں کہ ان میں کسی قسم کا اشکال نہیں ہے، اور ان کو ابو شيخ اور ابن حزم نے الہيثم بن جميل سے روايت کیا ہے۔ 

طرح التثريب فی شرح التقريب ، ج 5 ص 180 ، اسم المؤلف:  زين الدين أبو الفضل عبد الرحيم بن الحسينی العراقی  الوفاة: 806هـ، دار النشر : دار الكتب العلمية  - بيروت  - 2000م ، الطبعة : الأولى، تحقيق : عبد القادر محمد علی

عبد الوہاب عبداللطيف کہ جو الازہر مصر کے استاد ہیں، اس نے لکھا ہے کہ:

فائدة: قد اشتهر انه صلی الله عليه و سلم عق عن نفسه ... ثانيهما من رواية ابی بکر المستملی عن الهيثم بن جميل ... فالحديث قوي الاسناد.

مشہور ہے کہ رسول خدا نے اپنی طرف سے عقیقہ کیا ..... دوسرا ان میں سے ابوبکر مستعملی کی روایت ہے کہ جو اس نے ہيثم بن جميل سے نقل کی ہے، پس یہ روایت قوی ہے۔

تحفة الاحوذی، بتحقيق عبد الوهاب عبد اللطيف، ج 5 ص 116-117 ، دار الفکر بيروت.

دوسرا جواب:

صحابہ رسول خدا کی ولادت اور بعثت جیسی نعمت کے شکرانے کے طور پر ہر پیر والے دن روزہ رکھا کرتے تھے۔

یہ مطلب صحیح مسلم کی روایت میں آیا ہے کہ جب رسول خدا سے پیر والے دن روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو، آپ نے فرمایا کہ: یہ وہ دن ہے کہ جس دن میں دنیا میں آیا تھا اور اسی دن میں رسالت کے لیے بھی مبعوث ہوا تھا۔

حدثنا محمد بن الْمُثَنَّی وَ مُحَمَّدُ بن بَشَّارٍ و اللفظ لابن الْمُثَنَّی قالا حدثنا محمد بن جَعْفَرٍ حدثنا شُعْبَةُ عن غَيْلَانَ بن جَرِيرٍ سمع عَبْدَ اللَّهِ بن مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيَّ عن أبی قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رضی الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی الله عليه و سلم سُئِلَ عن صَوْمِهِ قال فَغَضِبَ رسول اللَّهِ صلی الله عليه و سلم فقال عُمَرُ رضی الله عنه رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَ بِالْإِسْلَامِ دِينًا وَ بِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَ بِبَيْعَتِنَا بَيْعَةً ... قال وَ سُئِلَ عن صَوْمِ يَوْمٍ وَ إِفْطَارِ يَوْمٍ قال ذَاكَ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ عليه السَّلَام قال وَ سُئِلَ عن صَوْمِ يَوْمِ الإثنين قال ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فيه وَ يَوْمٌ بُعِثْتُ أو أُنْزِلَ عَلَيَّ فيه ...

ابو قتاده انصاری کہتا ہے کہ: رسول خدا سے ان کے روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ کو غصہ آ گیا۔ عمر نے کہا ہم راضی ہیں کہ خداوند ہمارا پروردگار ہو، اور اسلام ہمارا دین ہو، اور محمد (ص) ہمارے رسول ہوں اور ہماری بیعت، ہی صحیح بیعت ہو۔

راوی کہتا ہے کہ: رسول خدا سے سوال ہوا کہ کیا ہم ایک دن روزہ رکھ سکتے اور ایک دن افطار کر سکتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ: اس طرح سے میرے بھائی حضرت داود روزہ رکھا کرتے تھے۔ پھر آپ سے پیر والے دن روزہ رکھنے کے بارے میں سوال ہوا تو، آپ نے فرمایا کہ: یہ وہ دن ہے کہ جس دن میں دنیا میں آیا تھا اور اسی دن میں رسالت کے لیے بھی مبعوث ہوا تھا، یا اس دن مجھ پر وحی نازل ہوئی تھی۔

 صحيح مسلم، ج 2، ص 819

سنن کبری بیہقی ج 4 ص 286

سنن کبری نسائی ج 5 ص146

اس روایت میں وضاحت ہوئی ہے کہ رسول خدا (ص) سے پیر والے دن روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے دو مناسبتوں کی وجہ سے اس دن روزہ رکھنے کی تاکید اور تائید کی ہے۔

عبدری مالكی نے اس روایت کے ایک حصہ کی طرف اشارہ کرنے کے بعد، اس دن کے احترام کو ماہ ربیع الاول کا احترام کہا ہے اور وہ کہتا ہے کہ:

فتشريف هذا اليوم متضمن لتشريف هذا الشهر الذی ولد فيه فينبغی أن نحترمه حق الاحترام و نفضله بما فضل الله به الأشهر الفاضلة.

اس دن کا احترام، یہ اصل میں اس مہینے کا احترام ہے کہ جس مہینے میں رسول خدا کی ولادت ہوئی تھی۔ پس مناسب ہے کہ ہم اس مہینے کا احترام اور احترام کے حق کو ادا کریں اور اس مہینے کو دوسرے مہینوں پر برتری دیں، اس وجہ سے کہ خداوند نے بھی اس مہینے کو برتری دی ہے۔

المدخل ج 2،ص 3، أبو عبد الله محمد بن محمد بن محمد العبدری الفاسی المالكی الشهير بابن الحاج الوفاة: 737هـ ، دار النشر : دار الفكر-

لہذا اس تفصیل کی روشنی میں ان لوگوں کی بات باطل ہے کہ جو یہ کہتے ہیں کہ رسول خدا کی ولادت کے دن جشن اور عید منانا بدعت اور باطل ہے کیونکہ خود رسول خدا (ص) اور صحابہ نے اس دن جشن نہیں منایا تھا۔ 

تیسرا جواب:

رسول خدا (ص) کی ولادت کا جشن منانا، یہ قرآن کے مطابق رسول خدا کے وجود جیسی عظیم نعمت کے شکر ادا کرنے کا جشن ہے۔

خداوند نے انسان کو بے شمار ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کی ہیں۔ ان نعمتوں میں سب سے عظیم نعمت رسول خدا کا وجود مبارک ہے کہ جن کی برکت سے انسانیت نے گمراہی، جہالت کفر، شرک اور بت پرستی سے نجات پائی ہے۔

اس مطلب کی روشنی میں مسلمانوں کا رسول خدا کی ولادت کا جشن منانا، یہ در حقیقت رسول خدا کے مبارک وجود جیسی عظیم نعمت کے شکر بجا لانے کا جشن ہے۔

اس کے علاوہ عقلی لحاظ سے بھی نعمت کا شکر ادا کرنا ایک اچھا اور پسندیدہ کام ہے کہ کوئی بھی عقل سلیم رکھنے والا انسان اس عقلی بات کی مخالفت نہیں کرتا۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا نعمت کا شکر ادا کرنا بھی وہابیت کی نظر میں بدعت ہے ؟

ابن حجر عسقلانی عالم اہل سنت نے رسول خدا کی ولادت کو خداوند کی طرف سے ایک بزرگ اور عظیم نعمت کہا ہے اور واضح الفاظ میں رسول خدا کی ولادت کے جشن کو اس عظیم نعمت کے شکر ادا کرنے کا جشن کہا ہے۔

ابن حجر کے کلام میں یہ نکتہ مہم ہے کہ اس نے رسول خدا کی ولادت کے جشن منانے کے جائز ہونے کے فتوے کی دلیل صحیح روایت سے لائی ہے کہ جس میں رسول خدا نے یھودیوں کے فرعون کے غرق ہونے اور حضرت موسی کے نجات پانے پر شکرانے کے طور پر جشن منایا ہے۔ ابن حجر نے اس صحیح روایت سے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اگر ان جیسے مراسم کو شکر ادا کرنے کی نیت سے انجام دیا جائے تو جائز ہے۔

ان کے فتوے کی عبارت سیوطی کی نقل کے مطابق یہ ہے:

و قد سئل شيخ الإسلام حافظ العصر أبو الفضل أحمد بن حجر عن عمل المولد فأجاب بما نصه : أصل عمل المولد بدعة لم تنقل عن أحد من السلف الصالح من القرون الثلاثة و لكنها مع ذلك قد اشتملت علي محاسن و ضدها ، فمن تحری فی عملها المحاسن و تجنب ضدها كان بدعة حسنة و إلا فلا .

شیخ الاسلام، حافظ دوراں، ابو الفضل احمد ابن حجر سے رسول خدا کی ولادت کا جشن منانے کے بارے میں سوال ہوا، تو انھوں نے جواب دیا کہ:

ولادت کا جشن منانا یہ ایک نئا کام ہے کہ گذشتہ زمانے کی تیسری صدی کے صالحان سے نقل نہیں ہوا، لیکن اس کے با وجود اس جشن میں اچھے اور برے کام انجام دئیے جاتے ہیں، پس اگر کوئی نیک اور اچھے کام انجام دے اور بد اور برے کاموں سے دوری اختیار کرے تو، اس کا کام نیک اور ٹھیک ہو گا۔

وہ اس فتوے کے بعد اپنے کلام کے صحیح ہونے پر صحیح روایت سے استناد لایا ہے اور کہتا ہے کہ :

قال : و قد ظهر لي تخريجها علی أصل ثابت و هو ما ثبت فی الصحيحين من أن النبی صلی الله عليه و سلّم قدم المدينة فوجد اليهود يصومون يوم عاشوراء فسألهم فقالوا هو يوم أغرق الله فيه فرعون و نجی موسی فنحن نصومه شكراً لله تعالی.

فيستفاد منه فعل الشكر لله علی ما من به فی يوم معين من إسداء نعمة أو دفع نقمة ، و يعاد ذلك في نظير ذلك اليوم من كل سنة ، و الشكر لله يحصل بأنواع العبادة كالسجود و الصيام و الصدقة و التلاوة، و أی نعمة أعظم من النعمة ببروز هذا النبی نبی الرحمة فی ذلك اليوم ، و علی هذا فينبغی أن يتحری اليوم بعينه حتی يطابق قصة موسی فی يوم عاشوراء ، ...

و أما ما يعمل فيه فينبغی أن يقتصر فيه علی ما يفهم الشكر لله تعالی من نحو ما تقدم ذكره من التلاوة و الإطعام و الصدقة و إنشاد شيء من المدائح النبوية و الزهدية المحركة للقلوب إلی فعل الخير و العمل للآخرة...

میرے لیے واضح ہوا ہے کہ ولادت کے جشن پر اصل دلیل وہ ہے کہ جو صحیحین میں ذکر ہوا ہے اور وہ یہ ہےکہ جب رسول خدا مدینہ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہودی عاشورا کے دن روزہ رکھتے ہیں تو رسول خدا نے ان سے اس کام کی دلیل پوچھی تو انھوں نے جواب دیا کہ یہ وہ دن ہے کہ جب خداوند نے فرعون کر غرق کیا اور حضرت موسی کو نجات دی۔ پس ہم اس نعمت پر خدا کا شکر ادا کرنے کے لیے آج کے دن روزہ رکھتے ہیں۔

ابن حجر نے کہا ہے کہ:   اس روایت سے استفادہ ہوتا ہے کہ خداوند کے ایک خاص دن میں انسان پر لطف و کرم کرنے کا شکر ادا کرنا واجب ہے، جیسے خداوند کا نعمت عطا کرنا یا کسی سے عذاب کو دور کرنا۔ نعمت خدا کا یہ شکر، ہر سال کے اور اس خاص دن کے شکر ادا کرنے کی طرف پلٹتا ہے۔ خداوند کا شکر مختلف عبادتوں جیسے سجدہ کرنا، روزہ رکھنا، صدقہ دینا، قرآن کی تلاوت کرنا وغیرہ کے ساتھ ادا ہوتا ہے۔ اور کون سی نعمت اس خاص دن، رسول خدا کے وجود سے بڑھ کر ہو سکتی ہے ؟ لھذا اس دن خداوند کا شکر ادا کرنا زیادہ مناسب ہے تا کہ یہ دن حضرت موسی کے نجات والی داستان کہ جو روز عاشورا ہوئی تھی، اس کے مطابق ہو جائے۔ 

اسی وجہ سے وہ اعمال جو اس خاص دن انجام دئیے جاتے ہیں، ان سے خداوند کا شکر ادا ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے، جیسے قرآن کی تلاوت کرنا، محتاجوں کو کھانا کھلانا، صدقہ دینا، رسول خدا کی شان میں اشعار اور منقبت پڑھنا اور وہ کام کہ جن سے انسان کا دل نیکی اور آخرت کی طرف متوجہ ہوتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔

السيوطی،جلال الدين أبو الفضل عبد الرحمن بن أبی بكر (متوفی911هـ)، الحاوی للفتاوی فی الفقه و علوم التفسير و الحديث و الاصول و النحو و الاعراب و سائر الفنون، ج1، ص 188، تحقيق: عبد اللطيف حسن عبد الرحمن، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولی،

چوتھا جواب:

 علماء اہل سنت نے رسول خدا (ص) کی ولادت کے جشن منانے کو جائز قرار دیا ہے:

علماء اہل سنت کے کلام اور فتاوی میں غور اور فکر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ رسول خدا کی ولادت کے جشن منانے کو جائز اور شرعی کہتے ہیں اور اس شرعی کام کو وہابی علماء کی طرح نہ یہ کہ بدعت قرار نہیں دیتے، بلکہ اس کام کے لیے ثواب اور اجر کو بھی ذکر کرتے ہیں۔ واضح اور روشن ہے کہ ایک بدعت کے انجام دینے پر تو خداوند ثواب اور اجر عطا نہیں کرتا۔

ان علماء نے اس بارے میں بہت کچھ کہا ہے، لیکن یہاں پر ہم مختصر طور پر ان کے بعض کلمات اور فتاوی کو ذکر کرتے ہیں، اور وہ سب جشن کے تمام مراسم کو، رسول خدا کے مقام کے محترم ہونے، اور ان سے اظہار عشق کرنے کو اور ان کے وجود کی نعمت کے شکر ادا کرنے کو جائز قرار دیتے ہیں۔

1- ابن حجر عسقلانی (متوفی852 ہجـ):

ابن حجر عسقلانی عالم اہل سنت شافعی مذہب نے ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ رسول خدا کی ولادت کا جشن منانا ایک اچھا اور نیک کام ہے۔ سوال اور انکے فتوے کے متن کو سیوطی نے اس طرح نقل کیا ہے کہ:

و قد سئل شيخ الإسلام حافظ العصر أبو الفضل أحمد بن حجر عن عمل المولد فأجاب بما نصه : أصل عمل المولد بدعة لم تنقل عن أحد من السلف الصالح من القرون الثلاثة و لكنها مع ذلك قد اشتملت علي محاسن و ضدها ، فمن تحري في عملها المحاسن و تجنب ضدها كان بدعة حسنة و إلا فلا .

شیخ الاسلام، حافظ دوراں، ابو الفضل احمد ابن حجر سے رسول خدا کی ولادت کا جشن منانے کے بارے میں سوال ہوا، تو انھوں نے جواب دیا کہ:

ولادت کا جشن منانا یہ ایک نئا کام ہے کہ گذشتہ زمانے کی تیسری صدی کے صالحان سے نقل نہیں ہوا، لیکن اس کے با وجود اس جشن میں اچھے اور برے کام انجام دئیے جاتے ہیں، پس اگر کوئی نیک اور اچھے کام انجام دے اور بد اور برے کاموں سے دوری اختیار کرے تو، اس کا کام نیک اور ٹھیک ہو گا۔

 السيوطی، جلال الدين (متوفی911هـ)، الحاوی للفتاوی ، ج1، ص 188، تحقيق: عبد اللطيف حسن عبد الرحمن، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولی،

2- جلال الدين سيوطی (متوفی 911ہجـ):

سيوطی فقہ اور تفسیر کا اہل سنت کا عالم ہے، اس نے بھی رسول خدا کی ولادت کے جشن کو ایک اچھا کام کہا ہے کہ جس کے انجام دینے پر ثواب اور اجر بھی ملتا ہے:

فقد وقع السؤال عن عمل المولد النبوی في شهر ربيع الأول ما حكمه من حيث الشرع ؟ و هل هو محمود أو مذموم ؟ و هل يثاب فاعله أو لا ؟

و الجواب : عندی أن أصل عمل المولد الذی هو اجتماع الناس و قراءة ما تيسر من القرآن و رواية الأخبار الواردة فی مبدأ أمر النبی صلی الله عليه و سلّم و ما وقع فی مولده من الآيات ثم يمد لهم سماط يأكلونه و ينصرفون من غير زيادة علی ذلك هو من البدع الحسنة التی يثاب عليها صاحبها لما فيه من تعظيم قدر النبی صلی الله عليه و سلّم و إظهار الفرح و الاستبشار بمولده الشريف.

سوال : ربیع الاول کے مہینے میں رسول خدا کے جشن میلاد میں انجام دینے والے اعمال کے بارے میں سوال ہوا کہ کیا شریعت کی نظر میں یہ ایک اچھا اور نیک کام ہے یا ایک بد اور مورد مذمت کام ہے ؟ اور وہ لوگ جو یہ کام انجام دیتے ہیں، کیا ان کو کوئی ثواب اور اجر ملتا ہے یا نہیں ؟

جواب : وہ کام جو جشن میلاد میں انجام دئیے جاتے ہیں، جیسے لوگوں کا جمع ہونا، قرآن کی تلاوت کرنا، رسول خدا کی شان میں روایات کا پڑھنا، انکی ولادت کے واقعے اور معجزات کا ذکر کرنا، کھانا کھانا اور ان سب کا اپنے گھروں کو واپس آ جانا۔ یہ ایک ایسی بدعت ہے کہ جو اچھی ہے اور جو بھی اسکو انجام دے گا، اسکو ثواب ملے گا، کیونکہ یہ رسول خدا کی ولادت کے جشن کو منانا اور خوشی کا اظہار کرنا ہے۔

الحاوی للفتاوی، ج 1، ص 181

3- صالحیی شامی (متوفی 947ہجـ):

وہ ایک عالم کے کلام پر کہ جس نے کہا ہے کہ ولادت کا جشن منانا ایک شرعی کام نہیں ہے، اشکال کرتے ہوئے کہتا ہے کہ:

و لا نية هنا إلا الشكر لله تعالی علی ولادة هذا النبی الكريم صلی الله عليه و سلم فی هذا الشهر الشريف، و هذا معنی نية المولد فهی نية مستحسنة بلا شک۔

رسول خدا کی ولادت کا جشن منانا، یہ فقط اس مبارک مہینے میں خداوند کا شکر ادا کرنے کے لیے منایا جاتا ہے، اور یہی جشن منانے کی نیت کا معنی ہے، پس یہ نیت بغیر کسی شک کے ایک اچھی اور قابل تعریف نیت ہے۔

سبل الهدی و الرشاد، ج 1، ص 373

4- ابن جزری (متوفی833ہجـ):

شمس الدين محمد بن محمد جزری شافعی عالم اہل سنت نے اپنی کتاب «التعريف بالمولد الشريف» میں ابو لہب کے جہنم میں عذاب میں کمی ہونے والی روایت کو ذکر کیا ہے کہ ابو لہب نے رسول خدا کی ولادت کی خبر سن کر اپنی کنیز کو خدا کی راہ میں آزاد کر دیا تھا، جس پر خداوند نے اس کو جہنم میں عذاب میں کمی کی ہوئی ہے، پھر واضح طور پر کہتا ہے کہ اگر ابو لہب کے اس کام کرنے کی وجہ سے عذاب میں کمی ہو سکتی ہے تو پھر وہ اہل توحید مسلمان کہ جو رسول خدا کی ولادت کی خوشی میں خوشحال ہوتے ہیں اور جشن مناتے ہیں، انکی جزا یقینی طور پر جنت ہے اور ابن جزری اس بات پر قسم بھی کھاتا ہے۔

ابن جزری کے کلام کو سیوطی نے اپنی کتاب «الحاوی للفتاوی» میں نقل کیا ہے کہ :

ثم رأيت إمام القراء الحافظ شمس الدين بن الجزری قال فی كتابه المسمی عرف التعريف بالمولد الشريف ما نصه : قد رؤی أبو لهب بعد موته فی النوم فقيل له ما حالك ؟ فقال : فی النار إلا أنه يخفف عني كل ليلة اثنين و أمص من بين أصبعی ماء بقدر هذا و أشار لرأس أصبعه و إن ذلك باعتاقی لثويبة عند ما بشرتنی بولادة النبی صلی الله عليه و سلّم و بإرضاعها له.

فإذا كان أبو لهب الكافر الذی نزل القرآن بذمة جوزی فی النار بفرحه ليلة مولد النبی صلی الله عليه و سلّم به فما حال المسلم الموحد من أمة النبی صلی الله عليه و سلّم يسر بمولده و يبذل ما تصل إليه قدرته فی محبته صلی الله عليه و سلّم ؟ لعمری إنما يكون جزاؤه من الله الكريم أن يدخله بفضله جنات النعيم .

میں نے حافظ شمس الدين بن جزری کو دیکھا ہے کہ اس نے اپنی کتاب «عرف التعريف بالمولد الشريف» میں کہا ہے کہ: ابولھب کو مرنے کے بعد خواب میں دیکھا گیا اور اس سے اس کا حال پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ میں جہنم کی آگ میں ہوں لیکن ہر پیر والے دن میرے عذاب میں کمی ہوتی ہے اور میری انگلیوں میں سے تھوڑا پانی جاری ہوتا ہے اور یہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ جب میں نے اپنی کنیز ثوبیہ سے رسول خدا کی ولادت کی خبر سنی تو میں نے اسکو خدا کی راہ میں آزاد کر دیا اور کیونکہ اس نے رسول خدا کو دودھ بھی دیا تھا۔ اگر ابو لہب کہ جو کافر تھا اور اسکی مذمت میں قرآن کی ایک سورت بھی نازل ہوئی ہے، اس کو فقط رسول خدا کی ولادت پر خوش ہونے کی وجہ سے جہنم میں جزا دی جاتی ہے، تو پھر وہ اہل توحید مسلمان کہ جو ان رسول کی امت میں سے ہیں، اور وہ رسول خدا کی ولادت والے دن خوشحال ہوتے اور جشن مناتے ہیں اور اپنی طاقت کے مطابق ان حضرت کی محبت میں خرچ کرتے ہیں، تو پھر ان کے ثواب اور اجر کا تو فقط خداوند کو ہی پتا ہو گا۔ مجھے اپنی جان کی قسم ایسے شخص کی جزا یہ ہے کہ خداوند اپنے فضل و کرم کی وجہ سے اسکو جنت عطا کرے۔

الحاوی للفتاوی فی الفقه و علوم التفسير ، ج 1، ص 188

5- ابو الخير سخاوی (متوفی 902ہجـ):

سخاوی شافعی نے واضح طور پر کہا ہے کہ پوری دنیا کے مسلمان رسول خدا کی ولادت کے جشن میں نیک کام انجام دیتے ہیں، پھر اس نے صالحیی شامی کے کلام کو اسطرح نقل کیا ہے کہ:

قال الحافظ أبو الخير السخاوی - رحمه الله تعالی - فی فتاويه : عمل المولد الشريف لم ينقل عن أحد من السلف الصالح فی القرون الثلاثة الفاضلة ، و إنما حدث بعد ، ثم لا زال أهل الإسلام فی سائر الأقطار و المدن الكبار يحتفلون فی شهر مولده صلی الله عليه و سلم بعمل الولائم البديعة المشتملة علی الأمور البهجة الرفيعة و يتصدقون فی لياليه بأنواع الصدقات و يظهرون السرور و يزيدون فی المبرات و يعتنون بقراءة مولده الكريم و يظهر عليهم من بركاته كل فضل عميم . انتهی۔

حافظ ابو الخير سخاوی نے اپنے فتووں میں کہا ہے کہ: رسول خدا کی ولادت کا جشن تین صدیوں میں ماضی کے صالح علماء میں سے کسی سے بھی نقل نہیں ہوا بلکہ یہ چیز بعد میں وجود میں آئی ہے۔ پھر آہستہ آہستہ پوری دنیا کے مسلمان رسول خدا کی ولادت کے مہینے میں جشن مناتے، کھانا کھلاتے اور خوشحال کرنے والے کام انجام دیتے ہیں، جیسے ولادت کی رات کو صدقہ دینا، فقراء کی مدد کرنا اور انکو کھانا کھلانا، ولادت کے بارے میں اشعار پڑھنا وغیرہ۔ خداوند بھی ان کے اس پرمسرت موقعے پر جشن منانے کی وجہ سے ان پر اپنی نعمتوں کو نازل کرتا ہے۔

سبل الهدی و الرشاد، ج 1، ص 362

6- عبد الرحمن ابو شامہ (متوفی665ہجـ)

ابو شامہ کہ جو شافعی مذہب ہے، اس نے واضح کہا ہے کہ رسول خدا کی ولادت کا جشن منانا ایک اچھا اور نیک کام ہے کہ جس کو ابھی ہی منانا شروع کیا گیا ہے اور یہ کام رسول خدا کے احترام اور خداوند کا اس عظیم نعمت پر شکر ادا کرنے کے لیے انجام دیا جاتا ہے:

و من أحسن ما ابتدع فی زماننا من هذا القبيل ما كان يفعل بمدينة اربل جبرها الله تعالی كل عام فی اليوم الموافق ليوم مولد النبی صلی الله عليه و سلم من الصدقات و المعروف و اظهار الزينة و السرور فان ذلك مع ما فيه من الاحسان إلی الفقراء مشعر بمحبة النبی صلی الله عليه و سلم و تعظيمه و جلالته فی قلب فاعله و شكرا لله تعالی علی ما من به من ايجاد رسوله الذی أرسله رحمة للعالمين و علی جميع المرسلين.

ہمارے زمانے کی سب سے نیک اور اچھی بدعت، وہ اعمال ہیں کہ جو شہر اربل میں رسول خدا کی ولادت کے دن ہر سال انجام دئیے جاتے ہیں، جیسے صدقہ دینا، نیکی و احسان کرنا، شہر کی سجاوٹ کرنا، اظہار خوشحالی کرنا، یہ تمام کام فقراء پر احسان کے علاوہ، رسول خدا سے محبت اور انکا احترام اور انکی تعظیم بھی ہے۔ ان اعمال کو وہ لوگ انجام دیتے ہیں کہ جو رسول خدا سے دل سے محبت کرتے ہیں اور خداوند کا اس عظیم نعمت نازل کرنے پر شکر بھی ادا کرتے ہیں۔

وہ آخر میں وضاحت کرتا ہے کہ رسول خدا کے احترام میں، انکی ولادت کا پہلا جشن شہر موصل میں ایک نیک بندے نے منایا تھا:

و كان أول من فعل ذلك بالموصل الشيخ عمر بن محمد الملا أحد الصالحين المشهورين و به اقتدی فی ذلك صاحب أربل وغيره رحمهم الله تعالی.

سب سے پہلا وہ بندہ کہ جس نے اس کام کو موصل میں شروع کیا، وہ شیخ عمر بن محمد ملّا کہ وہ ایک صالح انسان کے طور پر مشھور تھا۔ اس کے اس کام میں اربل اور دوسرے شہروں کے لوگوں نے اسکی پیروی کی، کہ خداوند ان سب پر اپنی رحمت کرے۔

الباعث علی إنكار البدع و الحوادث، ج1 ، ص 23، عبد الرحمن بن إسماعيل أبو شامة الوفاة: 665 ، دار النشر : دار الهدی - القاهرة - الطبعة : الأولي ، تحقيق : عثمان أحمد عنبر

7-نصير الدين مبارك بن يحيی شافعی (متوفی669ہجـ):

شيخ نصير الدين مبارک بن يحیی شافعی نے بھی رسول خدا کی ولادت کے جشن منانے کو جائز کہا ہے اور اس پر ثواب اور اجر کو بھی بیان کیا ہے۔ ان کے کلام کو صالحیی شامی نے اپنی کتاب میں اسطرح نقل کیا ہے کہ:

و قال الشيخ الإمام العلامة نصير الدين المبارك الشهير بابن الطباخ فی فتوی بخطه : إذا أنفق المنفق تلك الليلة و جمع جمعا أطعمهم ما يجوز إطعامه و أسمعهم ما يجوز سماعه و دفع للمسمع المشوق للآخرة ملبوسا ، كل ذلك سرورا بمولده صلی الله عليه و سلم فجميع ذلك جائز و يثاب.

شیخ، امام، علامہ نصیر الدین مبارک کہ جو ابن طباخ کے نام سے بھی مشھور ہے، اس نے اپنے فتوے میں کہا ہے کہ: جو شخص بھی رسول خدا کی ولادت کی رات، خدا کی راہ میں خرچ کرے اور ان ضرورت مندوں کو کھانا کھلائے، ان کو چیز سنائے کہ جن کا سننا جائز ہے، اور جو اس محفل میں حاضر ہو اور اسکو آخرت کے گھر کا بہت شوق ہو، اسکو ہدئیے کے طور پر لباس دے۔ یہ تمام کام رسول خدا کی ولادت کی خوشی میں انجام دے تو یہ تمام کام جائز اور ان کے انجام دینے پر ثواب اور اجر بھی دیا جائے گا۔

الصالحی الشامی، محمد بن يوسف (متوفی942هـ)، سبل الهدی و الرشاد فی سيرة خير العباد، ج1، ص363 ، تحقيق: عادل أحمد عبد الموجود و علی محمد معوض، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولی،

8- ابن عباد الرندی (متوفای792ہجـ):

ابن عباد مالکی نے بھی رسول خدا کی ولادت کے جشن منانے کو جائز اور اس دن کو مسلمانوں کی عید کہا ہے اور اس جشن کے بدعت ہونے کو ردّ کیا ہے۔ اس کے کلام کو محمد بن عبد الرحمن مغربی نے اس طرح نقل كیا ہے کہ:

قال فی رسائله الكبری ما نصه و أما المولد فالذی يظهر لی أنه عيد من أعياد المسلمين و موسم من مواسمهم و كل ما يفعل فيه ما يقتضيه وجود الفرح و السرور بذلك المولد المبارك من إيقاد الشمع و إمتاع البصر و السمع و التزين بلبس فاخر الثياب و ركوب فاره الدواب أمر مباح لا ينكر علی أحد قياسا علی غيره من أوقات الفرح، و الحكم بكون هذه الأشياء بدعة فی هذا الوقت الذی ظهر فيه سر الوجود و ارتفع فيه علم الشهود و انقشع فيه ظلام الكفر و الجحود و ادعاء أن هذا الزمان ليس من المواسم المشروعة لأهل الإيمان و مقارنة ذلك بالنيروز و المهرجان أمر مستثقل تشمئز منه القلوب السليمة و تدفعه الآراء المستقيمة .

كتاب «رسائل الكبری» میں اسکا کلام اس طرح آیا ہے کہ: جو کچھ میرے لیے ثابت ہوا ہے، وہ یہ ہے کہ رسول خدا کی ولادت کا دن، مسلمانوں کی عید کا دن ہے اور اس دن انجام پانے والے اعمال، مسلمانوں کے اعمال ہیں۔ وہ تمام کام جو اس دن مسلمان انجام دیتے ہیں، وہ فقط رسول خدا کی ولادت کی خوشی منانے کے لیے انجام دیتے ہیں۔ جیسے شمعیں جلانا، آنکھوں اور کانوں کو خوشحال کرنا، ( اس سے مراد رسول خدا کی شان میں اشعار اور نعتیں پڑھنا ہے۔)، نئے لباس پہننا، گھوڑوں پر سوار ہونا، یہ سارے ایسے کام ہیں کہ جو مباح ہیں اور کوئی بندہ بھی برے کام نہیں کہتا، جس طرح کہ اس زمانے اور اس مناسبت کے علاوہ بھی ان کاموں کو انجام دینا جائز ہے، اسی طرح آج کے دن اور اس مناسبت پر بھی ان کاموں کو انجام دینا جائز ہے۔

لیکن رسول خدا کی ولادت کے موقع پر ان اعمال کے انجام دینے، وہ رسول خدا کہ جسکی برکت سے دنیا سے کفر و بت پرستی کی تاریکی نور توحید سے بدل گئی، کو بدعت کہنا اور یہ دعوی کرنا کہ ان حضرت کی ولادت کے دن انجام پانے والے اعمال غیر شرعی اور مسلمانوں کے اعمال نہیں ہیں اور اسکو نوروز اور یھودیوں کے جشن کے ساتھ موازنہ کرنا، یہ ایک ایسی عجیب بات ہے کہ جس سے پاک و صاف دل نفرت کرتے ہیں اور ان جیسے افکار اور نظریات کو قبول نہیں کرتے۔

المغربی، محمد بن عبد الرحمن ابو عبد الله (متوفی: 954هـ)، مواهب الجليل لشرح مختصر خليل، ج 2 ص 407، ناشر: دار الفكر - بيروت، الطبعة: الثانية،

9- حسن بن عمر بن حبيب (متوفی779ہجـ ):

مشہور تاریخ دان حسن بن عمر بن حبيب نے بھی وضاحت کی ہے کہ رسول خدا کی ولادت کے دن کو عید منانی اور اس دن کا احترام کرنا چاہیے۔

فما أكرم أيام مولده الشريف عند من عرف قدرها و ما أعظم بركتها عند من عرف سرها و نشرها و حقيق بيوم كان فيه وجود النبی أن يتخذ عيدا و خليق بوقت استقرت فيه غرته أن يعقد طالعا سعيدا إذ قد انبسق فيه عن جوهرة الكون بيض الشرف و فيه ظهرت الدرة المصونة من باطن الصدف و أبرز سابق السعد من كمون العدم و بمكة المشرفة أنجز صادق الوعد بمضمون الكرم۔

جس بندے کو رسول خدا کی معرفت ہے، وہ جانتا ہے کہ رسول خدا کی ولادت کے ایام کنتے مبارک ہیں اور یہ ایام اس بندے کے نزدیک کتنے با برکت ہیں کہ جو ان ایام کے رمز و راز کو جانتا ہو۔ اس مبارک دن مناسب یہ ہے کہ عید منائی جائے۔ مناسب یہ ہے کہ جب یہ مہینہ شروع ہو تو نیکی اور احسان بھی شروع ہو جانا چاہیے، کیونکہ اس مہینے میں کائنات کا گوہر اور جوہر اور انسانیت کا شریف ترین انسان ظاہر ہوا ہے۔ اس مہینے میں گوہر صدف سے باہر آیا اور خداوند کا وعدہ مکہ مشرفہ میں پورا ہوا ہے اور سعادت مند ترین انسان اس مہینے میں پیدا ہوا ہے۔ 

الحسن بن عمر بن حبيب (متوفی779هـ )، المقتفی من سيرة المصطفی، ج1، ص32 ، تحقيق : د مصطفی محمد حسين الذهبی، دار النشر: دار الحديث - القاهرة - مصر، الطبعة : الأولی،

10- محمد بن عمر حضرمی شافعی (930ہجـ) :

حضرمی شافعی نے واضح کہا ہے کہ مکہ کے لوگ رسول خدا کی ولادت کی رات ان حضرت کی ولادت کی جگہ پر جمع ہوتے ہیں اور اس جگہ خداوند کی عبادت اور دعا کرتے ہیں اور اس مبارک جگہ سے توسل کرتے ہیں۔ بعض اس زمانے کے علماء نے بھی ان اعمال کے شرعی اور جائز ہونے کے بارے میں فتوی دیا ہے۔

قال علماء السير : ولد النبی (ص) فی ربيع الأول ، يوم الاثنين بلا خلاف . ... و ذلك بمکۃ المشرفة ، فی شعب أبی طالب ، و هو المكان الذی يجتمع فيه أهل ( مكة ) ليلة المولد الشريف ، للذكر و الدعاء و التبرك بمسقط رأسه [ صلی الله عليه و سلم ] . و أفتی جماعة من المتأخرين بأن عمل المولد علی هذا القصد حسن محمود.

سیرت کے بارے میں لکھنے والوں نے لکھا ہے کہ: رسول خدا ماہ ربیع الاول میں پیر والے دن دنیا میں تشریف لائے تھے، اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ رسول خدا کی ولادت مکہ معظمہ میں شعب ابی طالب کے مقام پر ہوئی تھی۔ اس جگہ پر وہ مقام ہے کہ جہاں مکہ کے لوگ رسول خدا کی ولادت کی رات جمع ہو کر خدا کا ذکر اور عبادت کرتے ہیں اور خدا کی بارگاہ میں اس جگہ کو توسل قرار دیتے ہیں۔ بعض گذشتہ زمانے کے علماء نے اس ہدف اور مقصد کے لیے ان اعمال کے انجام دینے کو ایک اچھا اور نیک عمل کہا ہے۔

الحضرمی الشافعی، محمد بن عمر بحرق (متوفای930هـ)، حدائق الأنوار و مطالع الأسرار فی سيرة النبی المختار، ج1، ص105، تحقيق: محمد غسان نصوح عزقول، دار النشر: دار الحاوی - بيروت، الطبعة: الأولی،

نتيجہ:

مذکورہ تمام علماء اہل سنت کے اقوال کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول خدا کی ولادت کا جشن منانا، ان کے بلند و عالی مقام کا احترام کرنا، یہ ان حضرت سے محبت اور خداوند کا اس عظیم نعمت پر شکر ادا کرنے کی علامت ہے۔ اس مبارک جشن میں تمام نیک کاموں کو انجام دینا، اس جشن کو بدعت کے دائرے سے خارج کرتا ہے کہ جس طرح وہابی اس جشن کے بارے میں کہتے ہیں۔ 

پانچواں جواب:

اہل سنت کے مطابق جشن میلاد منانا ایک اچھی اور نیک بدعت ہے۔

علماء اہل سنت نے بدعت کی دو اقسام کو بیان کیا ہے: بدعت حسن (نیک)، بدعت قبیح( بد)، سمعانی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ:

و البدعة علی وجهين بدعة قبيحة و بدعة حسنة.

الانتصار لأصحاب الحديث، ج 1، ص 28، منصور بن محمد السمعانی أبو المظفر الوفاة: 489هـ ، دار النشر : مكتبة أضواء المنار - السعودية الطبعة : الأولی ، تحقيق : محمد بن حسين بن حسن الجيزانی،

ہم نے اس بارے میں بعض علماء کے کلام کو نقل بھی کیا ہے کہ جو اس جشن کے موضوع کو ایک اچھی اور نیک بدعت کہتے ہیں اور انھوں نے اس بات کی وضاحت بھی کی ہے۔

اس کے علاوہ حلبی نے ابن حجر ہیتمی سے نقل کیا ہے کہ وہ کام جو رسول خدا کے جشن میلاد میں انجام دئیے جاتے ہیں، وہ سب ایک اچھی اور نیک بدعت ہیں:

و قد قال ابن حجر الهيتمی و الحاصل أن البدعة الحسنة متفق علی ندبها و عمل المولد و إجتماع الناس له كذلك أی بدعة حسنة.

ابن حجر ہيتمی نے کہا ہے کہ: خلاصہ یہ ہے کہ سب کا اتفاق ہے کہ بدعت حسن ایک مستحب شئی ہے، اور وہ کام کہ جو رسول خدا کی ولادت کے جشن میں انجام دئیے جاتے ہیں اور ان کاموں کے لیے لوگ جمع ہوتے ہیں، وہ بھی اسی طرح ہیں یعنی وہ بھی ایک اچھی اور نیک بدعت ہے۔

السيرة الحلبية ج 1، ص 137

حتی ابن تیمیہ کے بیان کردہ معیار کے مطابق بھی، رسول خدا کا جشن میلاد بھی بدعت حسن میں شمار ہوتا ہے، وہ اس بارے میں کہتا ہے کہ:

إذا البدعة الحسنة عند من يقسم البدع إلی حسنة و سيئة لابد أن يستحبها أحد من أهل العلم الذين يقتدی بهم و يقوم دليل شرعی علی إستحبابها.

بدعت کو جب حسن اور قبیح میں تقسیم کیا ہے تو بدعت حسن، وہ ہے کہ جس کو کسی اہل علم نے کہ جسکی اتباع اور پیروی ہوتی ہو، ایک مستحب عمل کہا ہو اور اس عمل کے مستحب ہونے پر دلیل شرعی بھی موجود ہو۔

كتب و رسائل و فتاوی ابن تيمية فی الفقه ج 27، ص 152

ابن تیمیہ کی بات کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک کام اس بدعت حسنہ شمار ہو گا، جب علماء میں سے ایک عالم نے اس کام کو مستحب کہا ہو، جبکہ حلبی کی نقل کے مطابق ابن حجر نے واضح کہا ہے کہ رسول خدا کا جشن میلاد منانا اور اس کے لیے لوگوں کا ایک جگہ جمع ہونا، ایک بدعت حسن ہے اور بدعت حسن علماء کے اتفاق کی بناء پر مستحب ہے۔

  چھٹا جواب:

 

وہابیوں کا ہر سال جشن منانا:

یہ بات جالب ہے کہ وہابی فقط رسول خدا کی ولادت کے جشن منانے کو کہتے ہیں، فقط اس بہانے سے کہ دین نے جشن منانے کے بارے میں کچھ نہیں کہا، لیکن ملک عبد العزیز کے شہر ریاض کو فتح کرنے اور سعودی عرب کی حکومت قائم ہونے پر خود وہابی ہر سال سعودی عرب میں جشن مناتے ہیں۔ اسی وجہ سے سعودی عرب میں رسمی اور سرکاری عیدیں، عید فطر، عید قربان اور عید قیام کشور سعودی عرب، ہیں۔ 

اس حکومت کے سو سال مکمل ہونے پر ایک خاص جشن، امریکہ کے سابق صدر بش اور دوسرے کافر ممالک کے صدور کے سعودی عرب آنے پر ایک خاص جشن، ملک عبد اللہ کا بیماری سے شفا پانے پر ایک خاص جشن، پھر اس کا اپنے ملک میں خریت سے واپس آنے پر ایک خاص جشن، منایا گیا لیکن فقط و فقط رسول خدا کی ولادت کا جشن منانا ان بنی امیہ کی اولاد وہابیوں کی طرف سے حرام اور بدعت ہے!!!

کتاب تاریخ مکہ تالیف احمد السباعی کہ جو آل سعود کی سعودی عرب پر خونی کامیابی کے سو سال مکمل ہونے پر لکھی گئی تھی، اس کتاب کے مقدمے میں آیا ہے کہ:

جاءت فكرة الاحتفال بمناسبة مرور مائة عام على دخول الملك عبد العزيز بن عبد الرحمن الفيصل آل سعود يرحمه الله مدينة الرياض. و تأسيس المملكة العربية السعودية؛ تأكيداً لاستمرار المنهج القويم المبادئ السَامية التی قامت عليها المملكة و رصداً لبعض الجهود المباركة التی قام بها المؤسس الملك عبد العزيز فی سبيل توحيد المملكة؛ عرفاناً بفضله. و وفاءً بحقه و تسجيلاً لأبرز المكاسب و الإنجازات الوطنية التی تحققت فی عهده و عهد أبنائه خلال المائة عام و التعريف بها للأجيال القادمة.

ملک عبد العزیز کے شہر ریاض میں داخل ہونے اور کشور سعودی عرب کے معرض وجود میں آنے کے سو سال مکمل ہونے پر، جشن منانا یہ اس صحیح راہ پر حرکت کرنا ہے کہ جس پر سعودی عرب حرکت کر رہا ہے، اور یہ جشن حفاظت کرنا ہے، ان با برکت زحمات کی جو عبد العزیز نے سعودی عرب کو متحد کرنے کے لیے برداشت کیں، اور یہ جشن ان کے حق کے ساتھ اعلان وفا داری کرنا ہے، اور یہ جشن عبد العزیز اور اسکے بیٹے کے ان بہترین کاموں کہ جو ان سو سالوں میں انجام پائے گئے، ایک طرح سے محفوظ کرنا ہے، تا کہ آنے والی نسلیں ان سے آشنا ہوں۔

تاريخ مكة، ج 1 ص 5

آخری نکتہ: علماء اہل سنت کے کلام میں، رسول خدا کے جشن میلاد منانے کے معنوی آثار:

ممکن ہے کہ کسی کے ذہن میں یہ سوال آئے کہ کیا رسول خدا کی ولادت کے جشن منانے اور اس دن کو عید منانے کا کوئی ثواب اور اجر بھی ہے یا نہیں ؟

اس سوال کے جواب ہم ایک بار پھر بعض اہل سنت کے علماء کلام کو ذکر کرتے ہیں، کہ جہنوں نے اس نیک اور عظیم کام کے بعض ثواب کو بیان کیا ہے:

1- جلال الدين سيوطی:

سیوطی عالم اہل سنت نے اپنی کتاب «الوسائل فی شرح الشمائل» میں رسول خدا کی ولادت کے جشن منانے کے فضائل اور مناقب کو ذکر کیا کہ اس کو دمیاطی نے اپنی کتاب میں اس طرح نقل کیا ہے کہ:

قال سلطان العارفين جلال الدين السيوطی فی كتابه الوسائل فی شرح الشمائل ما من بيت أو مسجد أو محلة قريء فيه مولد النبی الا حفت الملائكة بأهل ذلك المكان و عمهم الله بالرحمة و المطوقون بالنور يعنی جبريل و ميكائل و إسرافيل و قربائيل و عينائيل و الصافون و الحافون و الكروبيون فإنهم يصلون علی ما كان سببا لقراءة مولد النبی۔

قال و ما من مسلم قريء فی بيته مولد النبی إلا رفع الله تعالی القحط و الوباء و الحرق و الآفات و البليات و النكبات و البغض و الحسد و عين السوء و اللصوص عن أهل ذلك البيت فإذا مات هون الله تعالی عليه جواب منكر و نكير و كان فی مقعد صدق عند مليك مقتدر۔

سلطان العارفین جلال الدين سيوطی نے كتاب «الوسائل فی شرح الشمائل» نے کہا ہے کہ: ہر گھر، ہر مسجد یا ہر محلے کہ جس میں رسول خدا کی ولادت کے جشن کو برپا کیا جاتا ہے تو فرشتے اس جگہ میں موجود سب بندوں کو خداوند کی رحمت اور نور کے دائرے میں قرار دیتے ہیں۔ یہاں پر فرشتوں سے مراد جبرائيل، ميكائيل، اسرافيل، قربائيل، عينائيل، صافون، حافون اور كربيون ہیں، کیونکہ وہ ان بندوں پر کہ جو رسول خدا کی ولادت کا جشن مناتے ہیں، درود و سلام بھیجتے ہیں۔

اور اس نے یہ بھی کہا ہے کہ: جس مسلمان کے گھر میں رسول خدا کی ولادت کا جشن منایا جاتا ہے، تو خداوند بھوک، آفتوں، بلاؤں، کینے، حسد، چشم بد، چوری ہونے کو اس گھر سے دور کر دیتا ہے، اور جب وہ بندہ مر جاتا ہے تو خداوند اس بندے پر منکر اور نکیر کے سوالوں کا جواب دینا آسان کر دیتا ہے اور وہ بندہ خداوند کے نزدیک سچے انسانوں کے مقام پر ہو گا۔

إعانة الطالبين، ج 3، ص 365

2- امام يافعی:

دمیاطی کی نقل کے مطابق، یافعی نے بھی واضح کہا ہے کہ جو رسول خدا کے جشن میلاد میں کھانا کھلائے اور دوسروں پر نیکی اور احسان کرے اور دوسرے لوگوں کو اس جشن میں آنے کی دعوت دے تو خداوند اس بندے کو صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ محشور کرے گا اور اسکا ٹھکانہ جنت میں ہو گا:

و قال الإمام اليافعی اليمنی من جمع لمولد النبی إخوانا و هيأ طعاما و أخلی مكانا و عمل إحسانا و صار سببا لقراءة مولد الرسول بعثه الله يوم القيامة مع الصديقين و الشهداء و الصالحين و يكون فی جنات النعيم.

امام یافعی یمنی نے کہا ہے کہ: جو بھی رسول خدا کا جشن میلاد منانے کے لیے اپنے دوسرے دینی بھائیوں کو جمع کرے، ان کے لیے کھانا تیار کرے، جشن منانے کے لیے جگہ کا انتظام کرے، اس جشن میں نیک کام انجام دے، اس جشن میں رسول خدا کی شان میں اشعار و منقبت پڑھا جائے تو خداوند تو خداوند اس بندے کو صدیقین، شھداء اور صالحین کے ساتھ محشور کرے گا اور اسکا مقام جنت میں ہو گا۔

إعانة الطالبين، ج 3، ص 365

3- جنيدی بغدا:

اس نے رسول خدا کے جشن میلاد میں حاضر ہونے کو ایمان کی علامت قرار دیا ہے۔ اس کے کلام کو دمیاطی نے اس طرح نقل کیا ہے کہ:

قال الجنيدی البغدادی رحمه الله من حضر مولد الرسول و عظم قدره فقد فاز بالإيمان.

جنيدی بغدادی نے کہا ہے کہ: جو بھی رسول خدا کے جشن میلاد میں حاضر ہو اور ان حضرت کے بلند و عالی مقام کی معرفت بھی رکھتاہو تو، ایسا بندہ با ایمان انسان ہوتا ہے۔

الدمياطی ، أبی بكر ابن السيد محمد شطا (معاصر) حاشية إعانة الطالبين علی حل ألفاظ فتح المعين لشرح قرة العين بمهمات الدين ، ج 3، ص 364، ناشر : دار الفكر للطباعة و النشر و التوزيع - بيروت.

4 - سری سقطی:

سری سقطی نے اس بارے میں بہت ہی اچھی بات کی ہے اور وہ یہ ہے کہ جو بھی رسول خدا کے جشن میلاد کی محافل میں شرکت کرنے کی نیت اور ارادہ رکھتا ہو تو، اس بندے نے جنت کے باغوں میں سے ایک باغ میں جانے کا ارادہ کیا ہے:

و قال السری السقطی من قصد موضعا يقرأ فيه مولد النبی صلی الله عليه و سلم فقد قصد روضة من رياض الجنة لأنه ما قصد ذلك الموضع إلا لمحبة الرسول و قد قال عليه السلام من أحبنی كان معی فی الجنة.

سری سقطی نے کہا ہے کہ: جو بھی بندہ اس جگہ پر جانے کا ارادہ کرے کہ جس جگہ پر رسول خدا کا جشن میلاد منایا جاتا ہو تو، اس بندے نے جنت کے باغوں میں سے ایک باغ میں جانے کا ارادہ کیا ہے، کیونکہ اس بندے نے فقط رسول خدا کی محبت میں اس جگہ پر جانے کا ارادہ کیا ہے، در حالیکہ رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: جو بھی مجھ سے محبت کرے گا تو وہ بندہ میرے ساتھ جنت میں ہو گا۔ 

إعانة الطالبين ج 3، ص 365

 نتيجہ كلی:

 

بیان شدہ تمام جوابات سے مندرجہ ذیل نکات معلوم ہوتے ہیں:

اولا: وہابیوں نے دعوی کیا ہے کہ خود رسول خدا (ص) نے اپنی ولادت کا جشن اور سالگرہ نہیں منائی، حالانکہ اہل سنت کے دو بزرگ عالم جیسے ابن حجر عسقلانی اور جلال الدين سيوطی نے دو روایات کی روشنی میں رسول خدا کے جشن میلاد منانے کو صحیح کہا ہے اور ان میں سے ایک روایت میں واضح طور پر کہا ہے کہ رسول خدا نے کئی سالوں کے بعد دوبارہ اپنے عقیقے کے جشن کو منایا اور قربانی کی۔

ثانيا: اور وہابیوں نے یہ بھی کہا ہے کہ صحابہ نے بھی رسول خدا کا جشن میلاد نہیں منایا، حالانکہ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق، صحابہ ہر ہفتے پیر کے دن رسول خدا کے دنیا میں آنے اور رسالت کے لیے مبعوث ہونے کی خوشی میں روزہ رکھتے تھے۔

ثالثا: رسول خدا اور انکے فرزند امام صادق کا جشن میلاد منانا، یہ ان عظیم ہستیوں کے مبارک وجود جیسی نعمت کے شکرانے کے طور ہے اور کوئی بھی عقل سلیم رکھنے والا مسلمان تو کیا کوئی بھی انسان نعمت کے شکر ادا کرنے کو قبیح اور مذموم نہیں کہتا۔

رابعا: علماء اہل سنت کے نزدیک رسول خدا کا جشن میلاد منانا ایک اچھا اور نیک کام ہے، کیونکہ یہ کام رسول خدا کی تعظیم و احترام کرنا، ان سے اظہار محبت کرنا اور ان کے وجود جیسی عظیم نعمت پر خداوند کا شکر ادا کرنا ہے۔

خامسا: اہل سنت کے نزدیک بدعت کی دو اقسام ہیں، اسطرح کے جشن منانا، یہ نیک اور اچھی (حسن) بدعت میں شمار ہوتا ہے، اور ابن حجر ہیتمی کے دعوے کے مطابق جو چیزیں بدعت حسن شمار ہوتی ہیں، وہ مستحب ہوتی ہیں، پس رسول خدا کی ولادت کا جشن منانا نہ یہ کہ بدعت قبیح نہیں ہے بلکہ ایسا مستحب ہے کہ جس کے انجام دینے پر خداوند کی طرف سے ثواب اور اجر بھی ملتا ہے، جیسا کہ اوپر تفصیل سے بیان ہوا ہے۔

التماس دعا





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی