2017 August 18
ماہ ربیع الاوّل کے فضائل اور اعمال
مندرجات: ٤٤٢ تاریخ اشاعت: ٠٦ December ٢٠١٦ - ١٩:١٤ مشاہدات: 403
یاداشتیں » پبلک
ماہ ربیع الاوّل کے فضائل اور اعمال

نثار تیری چہل پہل پر ہزار عیدیں ربیع الاول

سوائے ابلیس کے جہاں میں سبھی تو خوشیاں منا رہے ہیں

شب اول ماہ ربیع الاوّل:

بعثت کے تیرہویں سال اسی رات حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ کو ہجرت کا آغاز ہوا، اس رات آپ غار ثور میں پوشیدہ رہے اور حضرت امیرالمومنین علیہ السلام اپنی جان آپ پر فدا کرنے کے لیے مشرک قبائل کی تلواروں سے بے پرواہ ہو کر حضور اکرم کے بستر پر سو رہے تھے۔ اس طرح آپ نے اپنی فضیلت اور حضرت رسول اللہ کے ساتھ اپنی اخوت و ہمدردی کی عظمت کو سارے عالم پر آشکار کر دیا۔ پس اسی رات امیرالمومنین علیہ السلام کی شان میں یہ آیت اتری:

 و من الناس من یشری نفسہ ابتغآء مرضات اللہ

 اور لوگوں میں سے کچھ ہیں جو رضاالہٰی حاصل کرنے کے لیے جان دیتے ہیں.

  ماہ ربیع الاوّل کا پہلا دن:

   علماء کرام کا فرمان ہے کہ اس دن حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ اور امیرالمومنین علیہ السلام کی جانیں بچ جانے پر شکرانے کا روزہ رکھنا مستحب ہے اور آج کے دن ان دونوں ہستیوں کی زیارت پڑھنا بھی مناسب ہے۔

سید ابن طاووس نے کتاب اقبال میں آج کے دن کی دعاء بھی نقل کی ہے۔ شیخ کفعمی کے بقول آج ہی کہ دن امام حسن عسکری علیہ السلام کی وفات ہوئی ۔ لیکن قول مشہور یہ ہے کہ آپ کی وفات اس مہینے کی آٹھویں کو ہوئی ، لیکن ممکن ہے کہ پہلی کوآپ کے مرض کی ابتداء ہوئی ہو۔

 آٹھویں ربیع الاوّل کا دن:

       قول مشہور کے مطابق 260ھج میں اسی دن امام حسن عسکری علیہ السلام کی وفات ہوئی اور آپ کے بعد امام العصر عجل اللہ فرجہ منصب امامت پر فائز ہوئے۔ اس لیے مناسب ہے کہ اس روز ان دونوں بزرگواروں کی زیارت پڑھی جائے۔

 ماہ ربیع الاوّل کی نو تاریخ کا دن:

    آج کا دن بہت بڑی عید ہے، کیونکہ مشہور قول یہی ہے کہ آن کے دن عمر بن سعد واصل جہنم ہوا۔ جو میدان کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے مقابلے میں یزیدی لشکر کا سپہ سالار تھا ۔ روایت ہوئی ہے کہ جو شخص آن کے دن راہ خدا میں خرچ کرے تو اس کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔ نیز یہ کہ آج کہ دن برادر مومن کو دعوت طعام دینا، اسے خوش و شادمان کرنا ، اپنے اہل و عیال کے خرچ میں فراخی کرنا، عمدہ لباس پہننا، خدا کی عبادت کرنا اور اس کا شکر بجا لانا سبھی امور مستحب ہیں ۔ آج وہ دن ہے کہ جس میں رنج و غم دور ہوئے اور چونکہ ایک دن قبل امام حسن عسکری علیہ السلام کی وفات ہوئی ۔لہذا آج امام العصر عجل اللہ فرجہ کی امامت کا پہلا دن ہے۔ لہذا اس کی عزت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

 ماہ ربیع الاوّل کی بارہ تاریخ کا دن:

       کلینی و مسعودی کے قول ، نیز برادران اہل سنت کی مشہور روایت کے مطابق اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ولادت با سعادت ہوئی۔ اس روز دو رکعت نماز مستحب ہے کہ جس میں پہلی رکعت میں سورہ  الحمد کے بعد تین مرتبہ سورہ کافرون پڑھے دوسری رکعت میں الحمد کے بعد تین مرتبہ سورہ  توحید پڑھے۔ یہی وہ دن ہے، جس میں بوقت ہجرت حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وارد مدینہ ہوئے اور شیخ نے فرمایا کہ 130ھج میں اسی دن بنی مروان کی حکومت و سلطنت کا خاتمہ ہوا۔

 چودھویں ربیع الاوّل کا دن:

     64 ھج میں اسی دن رسوائے عالم یزید بن معاویہ داخل جہنم ہوا، اخبار الدوّل میں لکھا ہے کہ یزید ملعون دل اور معدے کے درمیانی پردے کی سوجن (ذات الجنب) میں مبتلا تھا۔ جس سے وہ مقام حوران میں مرا۔ وہاں سے اس کی لاش دمشق لائی گئی اور باب صغیر میں دفن کر دی گئی، پھر لوگ اس جگہ کوڑا کرکٹ پھینکتے رہے۔ وہ جہنمی 37سال کی عمر میں موت کا شکار ہو ا اور اس کی ظالم و باطل حکومت محض تین سال نو ماہ رہی۔

 سترہویں ربیع الاوّل کی رات:

      یہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ولادت باسعادت کی رات ہے اور بڑی ہی با برکت رات ہے۔ سید نے روایت کی ہے کہ ہجرت سے ایک سال قبل اس رات حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کو معراج ہوا۔

 سترہویں ربیع الاوّل کا دن:

   علماء شیعہ امامیہ میں یہ قول معروف ہے کہ یہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کا یوم ولادت ہے اور ان کے درمیان یہ بھی امر مسلمہ ہے کہ آپ کی ولادت با سعادت روز جمعہ طلوع فجر کے وقت اپنے گھر میں ہوئی۔ جبکہ عام الفیل کا پہلا سال اور نوشیرواں عادل کا عہد حکومت تھا۔ نیز 83ھ میں اسی دن امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت باسعادت ہوئی۔ لہذا اس دن کی عظمت وبزرگی میں اور اضافہ ہوا۔

 خلاصہ یہ کہ اس دن کو بڑی فضیلت ،عزت اور شرافت حاصل ہے۔

آج کے دن مسلمانوں کو خاص طور پر خوشی منانا چاہیے، وہ اس دن کی بہت تعظیم کریں۔ صدقہ و خیرات دیں اور مومنین کو شادمان کریں۔ نیز آئمہ طاہرین کے روضہ ہائے مقدس کی زیارت کریں۔

سید ابن طاووس نے کتاب ”اقبال“ میں آج کے دن کی تعظیم و تکریم کا تفصیلی تذکرہ کیا اور فرمایا ہے کہ نصرانی اور مسلمانوں کا ایک گروہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی ولادت کے دن بہت تکریم کرتے ہیں، لیکن مجھے ان پر تعجب ہوتا ہے کہ کیوں وہ آنحضرت کے یوم ولادت کی تعظیم نہیں کرتے کہ جو حضرت عیسٰی علیہ السلام کی نسبت بہت بلند مرتبہ ہیں اور ان سے بڑھ کر فضیلت رکھتے ہیں۔

وجہ تسمیہ:

اسلامی سال کا تیسرا مہینہ ربیع الاول مبارک ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جب ابتداء میں اس کا نام رکھا گیا تو اس وقت موسم ربیع یعنی فصل بہار کا آغاز تھا۔ یہ مہینہ فیوضات و برکات کے اعتبار سے افضل ہے کہ باعث تخلیق کائنات رحمۃ اللعالمین احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دنیا میں قدم رنجہ فرمایا۔ 17 ربیع الاول شریف بروز پیر، مکۃ المکرمہ کے محلہ بنی ہاشم میں آپ کی ولادت باسعادت صبح صادق کے وقت ہوئی۔ 12 ربیع الاول ہی میں آپ ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے۔ اسی ماہ کی 10 تاریخ کو محبوب کبریا صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین سیدہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح فرمایا تھا۔

مشائخ عظام اور علمائے کرام فرماتے ہیں کہ حضور پر نور شافع یوم النشور صلی اللہ علیہ و سلم کا وقت ولادت باسعادت لیلۃ القدر سے بھی افضل ہے۔ کیوں کہ لیلۃ القدر میں فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ولادت پاک کے وقت خود رحمۃ للعالمین شفیع المذنبین صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ لیلۃ القدر میں صرف امتِ مسلمہ پر فضل و کرم ہوتا ہے اور شب عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات پر اپنا فضل و کرم فرمایا ۔ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے کہ

وَمَا اَرْ سَلْنَاکَ اِلَّا رَحْمَۃٌ لِّلْعٰالَمِیْنَ.

بارھویں ربیع الاوّل مبارک کو یعنی ولادت پاک کے دن خوشی و مسرت کا اظہار کرنا۔ مساکین کو کھانا کھلانا۔ اور میلاد شریف کا جلوس نکالنا اور جلسے منعقد کرنا اور کثرت سے درود شریف پڑھنا بڑا ثواب ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام سال امن و امان عطا فرمائے گا اور اس کے تمام جائز مقاصد پورے فرمائے گا۔

مسلمانوں کو اس ماہ مبارک میں گنبد خضرا کی شبیہ والے اور صلوٰۃ و سلام لکھے ہوئے سبز پرچم لہرانے چاہئیں اور بارہویں تاریخ کو بالخصوص جلوس میلاد شریف اور مجالس منعقد کیا کریں۔

حکایت:

ابو لہب جو مشہور کافر تھا اور سید دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا رشتہ میں چچا تھا ۔ جب رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارک ہوئی تو ابو لہب کی لونڈی ثویبہ نے آپ کی ولادت با سعادت کی خوش خبری اپنے مالک ابو لہب کو سنائی ۔ تو ابو لہب نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ولادت کی خوشی میں اپنی لونڈی کو آزاد کر دیا۔

جب ابو لہب مرگیا تو کسی نے خواب میں دیکھا اور حال دریافت کیا۔ تو اس نے کہا کہ کفر کی وجہ سے دوزخ کے عذاب میں گرفتار ہوں مگر اتنی بات ہے کہ ہر پیر کی رات عذاب میں تخفیف ہو جاتی ہے۔ اور جس انگلی کے اشارے سے میں نے اپنی لونڈی کو آزاد کیا تھا اس سے مجھے پانی ملتا ہے جب میں انگلی چوستا ہوں ۔

ابن جوزی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ جب ابو لہب کافر( جس کی مذمت میں سورہ لہب نازل ہوئی) کو یہ انعام ملا تو بتاؤ اس مسلمان کو کیا صلہ ملے گا جو اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ولادت کی خوشی منائے۔ اس کی جزاء اللہ کریم سے یہی ہو گی کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل عمیم سے اسے جنت النعیم میں داخل فرمائے گا ۔ الحمدللہ ربّ العالمین۔

 

میلاد پاک کرنا اور اس میں محبت کرنا ایمان کی علامت ہے اور میلاد پاک کا ثبوت قرآن مجید ،احادیث شریفہ اور اقوال بزرگانِ دین سے ملتا ہے۔ میلاد شریف میں ہزاروں برکتیں ہیں۔ اس کو بدعت کہنا دین سے نا واقفیت پر مبنی ہے۔

محفل میلاد کی حقیقت:

حقیقت صرف یہ ہے کہ مسلمان ایک جگہ جمع ہوں، سب محبت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سر شار ہوں اور صحیح العقیدہ علماء یا کوئی بھی عالم دین مسلمانوں کے سامنے حضور سراپا نور شافع یوم النشور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ولادت مبارک ، آپ کے معجزات ، آپ کے اخلاق کریمہ، فضائل اور مناقب صحیح روایات کے ساتھ بیان کرے۔ اور آخر میں بار گاہِ رسالت میں درود و سلام با ادب کھڑے ہو کر پیش کریں۔ اگر توفیق ہو تو شیرینی پر فاتحہ دلا کر فقراء و مساکین کو کھلائیں۔ احباب میں تقیسم کریں پھر اپنی تمام حاجتوں کیلئے دعا کریں۔ یہ تمام امور قرآن و سنت اور علمائے امت کے اقوال سے ثابت ہیں صرف اللہ جل شانہ، کی ہدایت کی ضرورت ہے۔

انعقادِ میلاد، اللہ تعالیٰ کی سنّت ہے:

محبوب کبریا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا میلاد شریف خود خالق اکبر جل شانہ، نے بیان کیا ہے ۔

لَقَدْ جَآءَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُوْمِنِیْنَ رَؤُوْفٌ الرَّحِیْم۔

 سورۃ توبہ 128

(ترجمہ) بے شک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے۔ تمہاری بھلائی کے بہت چاہنے والے ہیں اور مسلمانوں پر کمال مہربان۔

اس آیت شریفہ میں پہلے اللہ جل شانہ، نے فرمایا کہ ” مسلمانوں تمہارے پاس عظمت والے رسول تشریف لائے” یہاں تو اپنے حبیب پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ولادت شریفہ بیان فرمائی ، پھر فرمایا کہ ”وہ رسول تم میں سے ہیں” اس میں اپنے رسول مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا نسب شریف بیان فرمایا ہے ، پھر فرمایا ”تمہاری بھلائی کے بہت چاہنے والے اور مسلمانوں پر کرم فرمانے والے مہربان ہیں” یہاں اپنے محبوب پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نعت بیان فرمائی۔

میلاد ِ مروجہ میں یہی تین باتیں بیان کی جاتی ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ سرکار ابد قرارا کا میلاد شریف بیان کرنا سنت الٰہیہ ہے۔

عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دوسری دلیل:

اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَائِدَۃً مِّنَ السَّمَآءِ تَکُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَۃً مِّنْکَ۔

 سورۃ المائدہ، ١١٤

(ترجمہ) اے اللہ اے رب ہمارے ہم پر آسمان سے ایک خوان اتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو ہمارے اگلوں پچھلوں کی اور تیری طرف سے نشانی ۔

مندرجہ بالا دعا حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے منسوب ہے کہ انہوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں ایک خوانِ نعمت اللہ کی نشانی کے طور پر نازل ہونے کی دعا کی ، اور نزول آیت و خوانِ نعمت کو اپنے لیے اور بعد میں آنے والوں یومِ عید قرار دیا، یہی وجہ ہے کہ خوانِ نعمت کے نزول کے دن ”اتوار” کو دنیائے عیسائیت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور اس دن روز مرّہ کے کام کاج چھوڑ کر تعطیل مناتی ہے۔

عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تیسری دلیل:

اللہ تعالیٰ حکم فرما رہا ہے ،

قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَ بِرَحْمَتِہ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا ہُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ۔

  سورۃ یونس، ٥٨

(ترجمہ) تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت ، اسی پر چاہئے کہ خوشی کریں، وہ ان کی سب دولت سے بہتر ہے۔

مفسرینِ کرام مثلاً علامہ ابن جوزی (م ۔597ھ) ، امام جلال الدین سیوطی (م۔ 911ھ) علامہ محمود آلوسی (م۔ 1270ھ) اور دیگر نے متذکرہ آیت مقدسہ کی تفسیر میں ”فضل اور رحمت” سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو مراد لیا ہے

حوالے کیلئے دیکھیں:

زاد المسیر، جلد 4، صفحہ 40۔ تفسیر درِّ منثور ، جلد 4، صفحہ 368۔ تفسیر روح المعانی ، جلد 6، صفحہ 205)

مفسرینِ کرام کی وضاحت و صراحت کے بعد یہ ثابت ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت کے عموم میں کائنات اور اس کے لوازمات بھی شمار ہوں گے لیکن فضل و رحمت سے مطلق نبی کریم کی ذات مراد ہو گی کہ جملہ کائنات کی نعمتیں اسی نعمتِ عظمیٰ کے طفیل ہیں اور اس ذات کی تشریف آوری کا یوم بھی فضل و رحمت سے معمور ہے ، پس ثابت ہو ا کہ یومِ میلاد، ذاتِ با برکات کے سبب اس قابل ہوا کہ اسی دن اللہ کے حکم کے مطابق خوشی منائی جائے ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ میلاد کی خوشیوں کےلئے یوم کا تعین کیا جا سکتا ہے۔

خیمہ افلاک کا ایستادہ اسی نام سے ہے

نبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے

اگر قرآنِ مجید سے مزید دلائل پیش کئے جائیں تو عرض ہے اول تا آخر مکمل قرآن نبی پاک کی نعت اور صفات بیان کرتا ہے۔

سورۃ آلِ عمران ، آیات 81 اور82 میں اس مجلس میلاد کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ نے عالمِ ارواح میں انبیاءِ کرام کو جمع کر کے منعقد فرمائی۔

میلاد بیان کرنا سنت مصطفی (ص) ہے:

بعض لوگ لا علمی کی بنا پر میلاد شریف کا انکار کر دیتے ہیں ۔ حالانکہ محبوب کبریا نے خود اپنا میلاد بیان کیا ہے۔ سیدنا حضرت عباس رضی اللہ عنہ، فرماتے ہیں کہ سید العرب و العجم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یہ اطلاع ملی کہ کسی گستاخ نے آپ کے نسب شریف میں طعن کیا ہے تو،

فَقَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَی الْمِنْبَرِ فَقَالَ مَنْ اَنَا فَقَا لُوْ اَنْتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ۔۔ قَالَ اَنَا مُحَمَّدُ ابْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدُ الْمُطَّلِبْ اِنَّ اللّٰہَ خَلَقَ الْخَلْقَ فَجَعَلْنِیْ فِیْ خَیْرِ ہِمْ ثُمَّ جَعَلَہُمْ فِرْقَتَیْنِ فَجَعَلْنِیْ فِیْ خَیْرِ ہِمْ فِرْقَۃً ثُمَّ جَعَلَہُمْ قَبَائِلَ فَجَعَلْنِیْ فِیْ خَیْرِ ہِمْ قَبِیْلَۃً ثُمَّ جَعَلَہُمْ بُیُوْتًا فَاَنَا خَیْرُ ہُمْ نَفْسًا وَ خَیْرُہُمْ بَیْتًا۔

 ( رواہ الترمذی ، مشکوٰۃ شریف رضی اللہ تعالی عنہ ٥١٣)

(ترجمہ) پس نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ممبر پر تشریف لائے اور فرمایا کہ میں کون ہوں؟ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں ۔ فرمایا میں عبد المطلب کے بیٹے کا بیٹا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے مخلوق پیدا کی ان میں سب سے بہتر مجھے بنایا پھر مخلوق کے دو گروہ کئے ان میں مجھے بہتر بنایا پھر ان کے قبیلے کئے اور مجھے بہتر قبیلہ بنایا پھر ان کے گھرانے بنائے مجھے ان میں بہتر بنایا تو میں ان سب میں اپنی ذات کے اعتبار اور گھرانے کے اعتبار سے بہتر ہوں۔

اس حدیث شریف سے ثابت ہو اکہ حضور پر نور شافع یوم النشور (ص) نے بذاتِ خود محفلِ میلاد منعقد کی جس میں اپنا حسب و نسب بیان فرمایا ۔ نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ محفل میلاد کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ اس مجلس و محفل میں ان لوگوں کو رد کیا جائے جو آپ کی بدگوئی کرتے ہیں۔

تعیّن تاریخ پر قرآنی دلیل:

وَ ذکِّرْہُمْ بِاَیَّامِ اللّٰہِ۔

سورۃ ابراہیم

(اے موسیٰ) ان کو یاد دلاؤ اللہ تعالیٰ کے دن

ہر عام و خاص جانتا ہے کہ ہر دن اور رات اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں۔ پھر اللہ کے دنوں سے کیا مراد ہے؟ ان دنوں سے مراد خدا تعالیٰ کے وہ مخصوص دن ہیں جن میں اس کی نعمتیں بندوں پر نازل ہوئی ہیں۔ چنانچہ اس آیت کریمہ میں سیدنا حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم ہو اکہ آپ اپنی قوم کو وہ دن یاد دلائیں جن میں اللہ جل شانہ، نے بنی اسرائیل پر من و سلویٰ نازل فرمایا۔

مقام غور یہ ہے کہ اگر من و سلوٰی کے نزول کا دن بنی اسرائیل کو منانے کا حکم ہوتا ہے تو رسول خدا (ص) کی ولادت پاک (جو تمام نعمتوں میں اعلیٰ اور افضل ہے) کا دن بطور عید منانا، اس کی خوشی میں جلوس نکالنا، جلسے منعقد کرنا ، مساکین و فقراء کے لئے کھانا تقسیم کرنا کیوں کر بدعت و حرام ہو سکتا ہے؟

حدیث نبوی سے تعیّن یوم پر دلیل:

عَنْ اَبِیْ قَتَا دَۃ قَالَ سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ و سلم عَنْ صَوْمِ یَوْمِ الْاَثْنَیْنِ فَقَالَ فِیْہِ وُلِدْتُ وَ فِیْہِ اُنْزِلَ عَلَیَّ۔

مشکوٰۃ صفحہ ١٧٩

(ترجمہ) سیدنا حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیر کے دن روزہ رکھنے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ میں اسی دن پیدا ہوا۔ اور اسی روز مجھ پر قرآن نازل ہوا۔

اس حدیث شریف نے واضح کر دیا کہ کسی دن کا تعین و تقرر کرنا نا جائز نہیں ہے۔ سرکار دو عالم (ص) کے لئے بروز پیر دو نعمتیں نازل فرمائی گئی تھیں ایک ولادت مقدسہ اور دوسرے نزول قرآن ، اسی لئے آپ نے پیر کے دن کو روزہ رکھنے کے لیے معیّن فرمایا۔

ماہِ ربیع الاول شریف کیلئے خصوصی ہدایات:

ربیع الاول شریف کے مقدس مہینے میں حصول برکات کیلئے ، عبادات کی کثرت (نماز، روزہ اور صدقات و خیرات) کیجئے۔ گناہوں سے بچنے کا خصوصی اہتمام اس مہینے میں کرنا چاہئے، جھوٹ ، غیبت، چغلی، ایذا رسانی، الزام تراشی، غصہ و برہمی وغیرہ سے اپنی ذات کو آلودہ نہ کیجئے، عید میلاد النبی (ص) کے دن اپنے چہروں پر مسکراہٹ سجائے رکھئے،کسی سے بھی جھگڑا کرنے سے اجتناب کیجئے۔

ربیع الاوّل کی فضیلت:

جس طرح ماہِ رمضان المبارک کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی عظمت و شان کےطفیل دیگر مہینوں پر انفرادیت اور امتیاز عطا فرمایا، اسی طرح ماہ ربیع الاول کےامتیاز اور شان علو کی وجہ بھی اس میں صاحب قرآن کی تشریف آوری ہے۔ یہ ماہِ مبارک بلاشبہ حضور نبی اکرم (ص) کی ولادت با سعادت کے صدقے سے ایک انفرادی حیثیت کےساتھ سال کےجملہ مہینوں پر نمایاں فضیلت اور امتیاز کا حامل ہے۔

ہر چیز میں فضیلت کی نوعیت جدا ہے مختلف اشیاء کی وجہ فضیلت و شرف مختلف ہوتی ہے۔ جس طرح ہر ماہ کی انفرادیت اور فضیلت کی ایک جدا جہت ہے۔ اسی طرح ہر شہر، ہر علاقے اور ہر دن کی اپنی اپنی امتیازی صفات اور خصوصیات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مختلف افراد کو افراد پر، بعض ایام کو دسرے ایام پر اور ماہ و سال بلکہ ہر ساعت کو دوسری ساعتوں پر جدا جدا اعتبارات اور مختلف نسبتوں سے شرف و امتیاز عطا فرمایا ہے۔ اس اعتبار سے بعض انبیاء علیھم السلام کو بھی ایک دوسرے پر مختلف حیثیتوں سے فضیلت حاصل ہے۔

مثلا قرآن حکیم میں ذکر ہوا ہے کہ:

یہ سب رسول (جو ہم نےمبعوث فرمائے) ہم نےان میں سےبعض کو بعض پر فضیلت دی۔“

البقرہ

ماہ رمضان المبارک کی وجہ فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا:

رمضان کا مہینہ (وہ ہے) جس میں قران اتارا گیا ہے۔“

البقرہ

اسی ماہِ مبارک میں آنے والی لیلۃ القدر کو سال بھر کی تمام دوسری راتوں پر فوقیت عطا فرمانے کی وجہ اور فضیلت کا سبب بھی نزولِ قرآن کو قرار دیتے ہوئے فرمایا:

بے شک ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں اتارا“

القدر

کبھی شہر مکہ کی قسم کھا کر دوسرے مقدس مقامات کے با وجود اسے صرف اس لئے دوسرے شہروں پر فضیلت دی کہ حضور اکرم (ص) کی حیات مقدسہ کا بیشتر حصہ اس شہر میں گزرا، ارشاد فرمایا گیا:

میں اس شہر (مکہ) کی قسم کھاتا ہوں (اےحبیب مکرم!) اور اس لئےکہ آپ اس شہر میں تشریف فرما ہیں “

البلد

اسی طرح ایمان اور اسلام کے بعد ایک مسلمان کے دوسرے پر شرف و تکریم اور اللہ کے ہاں بزرگی کے لئے تقویٰ کی شرط لگائی۔

ارشاد باری تعالٰی ہوا ہے کہ:

بے شک تم میں سے اللہ تعالیٰ کے ہاں وہی با عزت ہے جو تم میں سے زیادہ متقی ہے۔“

الحجرات

الغرض قرآن حکیم کی متعدد آیات میں اللہ تعالیٰ نے مختلف مقامات و اشیائِے مقدسہ کی فضیلت اور شرف و تکریم کی وجوہات بھی مختلف بیان فرمائی ہیں۔

نزول قرآن کا سبب ذاتِ مصطفٰی (ص):

قرآن اللہ تبارک و تعالیٰ کا پاکیزہ کلام اور اس کی صفت ہونے کے اعتبار سے پوری کائنات میں اپنی فضیلت و شان میں یکتا ہے، بے شک اس کا نازل ہونا انسانیت کے لئے اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے اور اس کا احسان عظیم ہے۔ ہم سب مل کر اس کے ایک کلمے کا شکر بھی عمر بھر ادا نہیں کر سکتے۔ اس کے ذریعے جہالت و ضلالت میں گھری ہوئی انسانیت کو اللہ تعالیٰ نے وہ نور علم عطا فرمایا جس سے جہالت کی تاریکیاں کافور ہوئیں اور انسان پستیوں سے اٹھ کر شرف و تکریم کی بلندیوں پر متمکن ہوا یہ سب کچھ اگر اپنی جگہ ایک نا قابل انکار حقیقت ہےتو ہمیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ یہ قرآن ہمیں کس کے ذریعے عطا ہوا؟ اگر قرآنی علم کے ذریعے انسان کو اللہ تعالیٰ نے لا متناہی عظمتیں عطا کی ہیں تو اس ہستی کی اپنی عظمتوں کا کیا عالم ہو گا جس کی دہلیز سے انسانیت کو اس قرآن کی صورت میں اتنا عظیم ذخیرہِ علم و حکمت اور مصدرِ ہدایت میسر آیا۔

وہ ذاتِ اقدس جس کا قلب اطہر اس وحی الٰہی کا ضبط بنا اور سراپا حسن صورت و سیرت خلق قرآن قرار پایا اس کے مقام علو کا ادراک کون کر سکتا ہے؟ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ قرآن حضور اکرم(ص) کی دلکش اداؤں اور آپ کی عادات و خصائل کے ذکرِ جمیل کا مجموعہ ہے۔

شب میلاد رسول خدا (ص) لیلۃ القدر سے بھی افضل ہے:

جس کے اوصاف جمیلہ کے ذکر اور خلق عظیم کو بیان کرنے والی کتاب کے اترنے سے رمضان کو اتنی فضیلت ملی کہ اس کی صرف ایک رات ہزار مہینوں سے افضل ٹھہری تو اس ماہ مقدس یعنی ربیع الاول کی عظمت و فضیلت کا کیا عالم ہو گا جس کو صاحب کتاب، محبوب کبریا کے ماہ میلاد ہونے کا شرف حاصل ہے۔ جس رات یہ کلام الٰہی یعنی ذکر خلقِ عظیم اترا، اللہ تعالیٰ نےاس رات کو قیامت تک انسان کے لئے”لیلۃ القدر“ کی صورت میں بلندی درجات اور شرف نزولِ ملائکہ سے نوازا اور فرمان خداوندی ہے کہ:

 ”لَيْلَۃُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَھْرٍ“

 اس ایک رات کو ہزار مہینوں پر فائق و برتر قرار دیا گیا۔

 تو جس رات صاحب قرآن یعنی مقصود و محبوب کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ورود ہوا اور بزم حسینانِ عالم کے تاجدار صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اس زمین و مکاں کو ابدی رحمتوں اور لا زوال سعادتوں سے منور فرمایا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کی کتنی قدر و منزلت کیا ہو گی۔ اس کا اندازہ لگانا فہم و شعورِ انسانی کے لئے نا ممکن ہے۔ لیلۃ القدر کی فضیلت اس لیے ہے کہ وہ نزول قرآن اور ملائکہ کی رات ہے۔ اور نزول قرآن مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کیلئے ہوا، اگر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نہ ہوتے تو نہ قرآن ہوتا نہ شب قدر ہوتی اور نہ کوئی اور رات ہوتی۔ یہ ساری فضیلتیں میلاد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا صدقہ ہیں۔ سو شب میلاد رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم شب قدر سے بھی افضل ہے۔ ہزار مہینوں سے افضل کہہ کر باری تعالیٰ نے شب قدر کی فضیلت کی حد مقرر فرما دی جبکہ شب میلاد رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی فضیلت زمان و مکان کے اعتبار سے مطلق ہے۔

آئمہ و محدثین نے راتوں کی فضیلت پر گفتگو کی ہے۔ مثلاً لیلۃ القدر، لیلۃ نصف شعبان، لیلۃ یوم العرفہ، لیلۃ یوم الفطر وغیرہ ان میں لیلۃ مولد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ذکر بھی آیا ہے۔ بہت سے اہل علم و محبت آئمہ و محدثین نے شب میلاد کو شب قدر سے افضل قرار دیا ہے۔

امام قسطلانی، امام زرقانی اور امام نبہانی نے بہت صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ سب راتیں فضیلت والی ہیں مگر شب میلادِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سب سے افضل ہے۔

امام قسطلانی اس حوالے سے لکھتے ہیں:

جب ہم نے یہ کہا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم رات کے وقت پیدا ہوئے تو سوال یہ ہےکہ شبِ میلاد رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم افضل ہے یا لیلۃ القدر؟ تو میں اس کے جواب میں کہوں گا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی میلاد کی رات تین وجوہ کی بنیاد پر ”لیلۃ القدر“ سے افضل ہے:

١۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ولادت مبارکہ کی رات وہ رات ہے جس میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ظہور ہوا جبکہ لیلۃ القدر آپکو عطا کی گئی، لہٰذا وہ رات جس کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ظہور کا شرف ملا اس رات سے زیاد شرف والی ہو گی جسے اس رات میں تشریف لانے والی شخصیت کے سبب سے شرف ملا پس اس میں کوئی نزاع نہیں، لہٰذا شبِ میلاد رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ”لیلۃ القدر“سے افضل ہوئی۔

قسطلانی، المواہب الادنیہ،ج1 ص 541

٢۔ اگر لیلۃ القدر کی عظمت اس بناء پر ہے کہ اس میں فرشتوں کا نزول ہوتا ہے تو شب ولادت کو یہ شرف حاصل ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کائنات میں جلوہ فرما ہوئے اور جس وجہ سے شبِ میلاد رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو شرف سے نوازا گیا وہ ” لیلۃ القدر“ کو شرف سے نوازنے کی وجہ سے کہیں زیادہ افضل و اشرف ہے، لہٰذا شب ولادت افضل ہو گی۔

زرقائی، شرح المواہب اللدنیہ، ج1 ص 522

٣۔ لیلۃ القدر کے باعث امت محمدیہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو فضیلت بخشی گئی اور شبِ میلاد رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جمیع موجودات کو فضیلت سے نوازا گیا، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہی ہیں جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا تو اس نعمت کو جمیع کائنات کے لیے عام کر دیا گیا، پس ”شب ولادت“ نفع رسانی میں کہیں زیادہ ہے لہٰذا اس اعتبار سے یہ لیلۃ القدر سے افضل ہوئی۔ “

(نبہانی، جواہر البحار فی فضائل النبی المختار ج3: ص 424)

امام طحاوی نے اس بارے میں کہا ہے کہ :

سب سے افضل راتوں میں سے شبِ میلاد رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پھر شب قدر پھر شب اسراء و معراج پھر شب عرفہ پھر شب جمعہ پھر شعبان کی پندرہویں شب پھر شب عید ہے۔

نبہانی  جواہر البحار، ٣:٦٢٤

امام نبہانی اپنی مشہور تصنیف الانوار المحمدیہ میں رقم طراز ہیں:

اور شبِ میلاد رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم شب قدر سے افضل ہے۔ “

نبہانی: الانوار المحمدیۃ:٨٢

جس رات میں فرشتے اتریں اس رات کی فضیلت یہ ہے کہ وہ ہزار مہینوں سے افضل ہے اور خود ذاتِ مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی فضیلت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مزار اقدس کی زیارت کے لئے ستر ہزار فرشتے صبح اور ستر ہزار فرشتے شام کو اترتے ہیں مزار اقدس کا طواف کرتے ہیں اور بارگاہِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں عرض نیاز کرتے اور چلے جاتے ہیں اور یہ سلسلہ قیامت تک اسی طرح جاری رہے گا اور ان ایک لاکھ چالیس ہزار فرشتوں میں سے جن کی باری ایک بار آتی ہے دوبارہ نہیں آئے گی۔ فرشتے تو دربار مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے خادم اور جاروب بردار ہیں۔ وہ اتریں تو رات ہزار مہینوں سے افضل ہو جائے اور ساری کائنات کی سرکار اترے تو اس کی کوئی فضیلت ہی نہ جانی جائے؟ آقا کی آمد کی رات اور آپ کی آمد کے مہینہ پر کروڑوں اربوں مہینوں کی فضیلتیں قربان، اور خاص بات یہ ہے کہ شب قدر کی فضیلت فقط اہل ایمان کے لئے ہے باقی انسانیت اس سے محروم رہتی ہے مگر مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی آمد باعثِ فضل و رحمت فقط اہل ایمان ہی کے لئے نہیں مومن اور کافر ساری کائنات کے لئے ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ولادت ساری کائنات کی تمام مخلوقات کے لئے اللہ کا فضل اور اسکی رحمت ہے اس پر خوشی کا اظہار کرنا باعث اجر و ثواب ہے۔

اس مختصر سے تقابل سے مقصود ” لیلۃ القدر“ کی عظمت کا انکار نہیں بلکہ ربیع الاول اور بالخصوص ساعت میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اہمیت و تقدس کو واضح کرنا ہے۔ان حقائق کو تسلیم کرنے سے یہ بھی حاصل ہوا کہ قرآن حکیم کی قدر و منزلت کا اعتراف کرنے سے پہلے صاحب قرآن کی قدر و منزلت کو دل کی گہرائیوں سے تسلیم کرنا نا گزیر ہے۔

استاد کی قدردانی در اصل علم کی قدردانی ہے۔

اس کی مزید وضاحت اس روز مرہ مثال پر غور کرنے سے ہو جاتی ہے کہ اگر کوئی علم جیسی نعمت کو حاصل کرتا ہے تو اسے کسی نہ کسی واسطےیا ذریعے کا سہارا لینا پڑےگا اور یہ واسطہ و ذریعہ علم اس کے لئے بلا شبہ اس کا استاد ہے جو اسے علم سکھاتا ہے۔ گویا اﷲ تعالیٰ نے استاد کو انسان تک نعمت علم پہنچانےکا ذریعہ بنایا ہے۔

اس حال میں کتنا عجیب ہو گا کہ اگر انسان علم کی قدر دانی تو کرے مگر اس استاد کی قدر و منزلت اور شرف و تکریم سے عدم توجہی کا مظاہرہ کرے جس کے واسطے سے اسے علم کی دولت نصیب ہوئی۔ کوئی شخص استاد جیسی نعمت کو کمتر جانتے ہوئے اس کی قدر و منزلت غیر ضروری سمجھے اور علم کی دولت کو بہتر جانتے ہوئے اس کی قدر و منزلت کی طرف زیادہ توجہ دے تو اس نے در اصل علم کی ناقدری کی ہے استاد کی نہیں۔

نعمتِ قرآن کے شکر کی قبولیت بواسطہ مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم:

 امت مسلمہ جب قرآن حکیم کے نزول پر شکر بجا لاتی ہے تو یہ اس کے اہم ترین فرائض، قرآن پر ایمان اور اس سے محبت کے اہم ترین تقاضوں میں سے ہے۔ لیکن نعمت قرآن کا شکر بجا لانا اس وقت تک شکر نہیں بن سکتا اور ﷲ جل مجدہ کی بار گاہ میں شرف قبولیت حاصل کر ہی نہیں سکتا جب تک اس ہستی کی تشریف آوری اور ولادتِ مبارکہ کا شکرانہ ادا نہ کیا جائے جس کی وساطت سے ﷲ تعالیٰ نے اس نعمت قرآن سے دامن انسانیت کو منور کیا۔

ﷲ کی ہر نعمت کا شکر ادا کرنا ضروری ہے جس نے اپنی نعمتوں کو دل سے یاد رکھ کر ان پر شکر بجا لانے کا حکم صادر فرمایا ہے۔ قرآن حکیم کے کئی مقامات اس پر شاہد عادل ہیں۔ مثلاً یہ فرمایا گیا:

اور اپنے اوپر (کی گئی) ﷲ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ جب تم (ایک دوسرےکی) دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کر دی پس تم اس کی نعمت کے باعث آپس میں بھائی بھائی بن گئے۔ “

اٰل عمران

یہ (بلاشبہ) ﷲ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے کہ اس نے ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑ دیا اور باہم خون کے پیاسوں کو ایک دوسرے کا غمخوار بھائی بنا دیا، ان کی نفرتوں اور عداوتوں کو محبتوں اور مروتوں سے بدل دیا۔ لیکن یہ بھی تو سوچئے کہ یہ نعمت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بعثت کے تصدق سے نصیب ہوئی اس نعمت کا مبداء و مرجع بھی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذات گرامی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا اس دنیا میں تشریف لانا اور لوگوں کا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کےحلقہ غلامی میں داخل ہونا تھا کہ سب لوگ خواہ اس سے پہلے وہ ایک دوسرے کے دشمن اور خون کے پیاسے تھی، باہم شیر و شکر ہو گئے اور ایک دوسرے کی محبت اور الفت کے اسیر ہو گئی۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ﷲ کی سب سے بڑی نعمت:

پہلی امتیں ﷲ تعالیٰ کی نعمت پر شکر بجا لاتی تھیں نیز نعمتوں کے شکرانے پر جشن اور عید منانا خود انبیاء کی سنت ہے اور قرآن کی واضح آیات اس پر گواہ ہیں۔ آج تک عیسائی لوگ مائدہ جیسی عام نعمت کے ملنے والے دن کو بطور عید مناتے ہیں۔ اس سے کسی کے ذہن میں یہ شبہ وارد نہیں ہونا چاہئے کہ یہ تو پھر غیر مسلموں کےساتھ اشتباہ ہو گا کہ وہ جس طرح نعمت کا شکر بجا لاتے ہیں ہمیں بھی اسی طرح کرنا چاہئے، نہیں! بلکہ اس مثال سے مقصود صرف یہ ہے کہ وہ اپنی سابقہ روایات کے مطابق مخصوص دن مناتے چلے آ رہے ہیں اور ان کے اس فعل کا ذکر تو قرآن نے کرنا مناسب سمجھا۔

غور طلب بات ہے کہ سابقہ امتوں کو جب معمولی سے نعمت پر شکر بجا لانےکا حکم تھا اور وہ اس کی تعمیل کرتی تھیں تو امت مسلمہ کو کیا ہےکہ وہ اپنےآقا اور مولا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی آمد کے سلسلے میں خوشی منا کر خدا کی اس عظیم ترین نعمت کا شکریہ ادا نہ کرے جب عام نعمتوں کےحصول پر شکر کرنا واجب ہے تو اس نعمت کا شکریہ ادا کرنا بدرجہ اولیٰ واجب ٹھہرا کیونکہ کائنات میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذات مبارکہ سے بڑھ کر اور کوئی نعمت نہیں بلکہ کائنات کو وجود ہی اسی نعمت کے توسط سے ملا۔ دنیا و مافیہا اور آخرت کی جملہ نعمتیں تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کےدرِ اقدس کی خیرات ہیں۔

اﷲ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے علاوہ کسی نعمت کا احسان نہیں جتلایا کائنات ہست و بود میں خدا تعالیٰ نے بےحد و حساب احسانات فرمائے ہیں۔ انسان پر لاتعداد انعامات و مہربانیاں فرمائی ہیں اور اسی طرح ہمیشہ فرماتا رہے گا کیونکہ وہ رحیم و کریم ہے۔

ﷲ نے ہمیں ہزاروں نعمتیں دیں لیکن کبھی کسی پر احسان نہیں جتلایا، ﷲ تعالیٰ نے ہمیں کھانے پینے اور سہولتوں سے نوازا لیکن احسان نہیں جتلایا پھر دن رات کا نظام ہمارے لئے مرتب کیا۔ سمندروں، پہاڑوں اور فضاؤں کو ہمارے لئے مسخر فرمایا مگر اس کا احسان بھی نہیں جتلایا۔ اس ذات رؤف و رحیم نے ہمیں اپنی پوری کائنات میں شرف و بزرگی کا تاج پہنایا اور احسن تقویم کے سانچےمیں ڈھال کر رشک ملائکہ بنایا لیکن پھر بھی کوئی احسان نہیں جتلایا۔ ہمیں ماں، باپ، بہن، بھائی، بیوی اور بچوں جیسی نعمتوں سے نوازا غرضیکہ انفس و آفاق کی ہزاروں ایسی نعمتیں جو ہمارے حیطہ ادراک سے بھی باہر ہیں، اس نے ہمیں عطا فرمائیں لیکن بطور خاص کسی نعمت اور احسان کا ذکر نہیں کیا اس لئےکہ وہ تو اتنا سخی ہے کہ کوئی اسے مانے یا نہ مانے وہ سب کو اپنے کرم سے نوازتا ہے اور کسی پر اپنے احسانات کو نہیں جتاتا۔

لیکن ایک نعمت عظمیٰ ایسی تھی کہ ﷲ تعالیٰ نےجب حریم کبریائی سے اسے بنی نوع انسان کی طرف بھیجا اور امت مسلمہ کو اس نعمت سے سر فراز فرمایا تو اس کا ذکر کیا اور کیا بھی اس طرح کہ پوری دنیائے نعم میں صرف اس پر احسان جتلایا اور اظہار بھی عام الفاظ میں نہیں بلکہ مومنین کو اس کا احساس دلایا اور احسان جتلانے سے پہلے دو تاکیدیں بھی لائیں۔

ارشاد فرمایا گیا:

بے شک ﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں پر بڑا احسان فرمایا کہ ان میں انہیں میں سے عظمت والا رسول بھیجا۔“

 اٰل عمران

ﷲ رب العزت فرما رہا ہےکہ امت مسلمہ پر میرا یہ بہت بڑا احسان، انعام اور لطف و کرم ہےکہ میں نے اپنے محبوب کو تمہاری جانوں میں سے تمہارے لئے پیدا کیا۔ محض تمہاری تقدیریں بدلنی، بگڑے ہوئےحالات سنوارنے اور شرف و تکریم سے نوازنے کے لئے تا کہ تمہیں ذلت و گمراہی کے گڑھے سے اٹھا کر عظمت و شرف انسانیت سے ہمکنار کر دیا جائے۔ لوگو! آگاہ ہو جاؤ کہ میرے کارخانہ قدرت میں اس سےبڑھ کر کوئی نعمت تھی ہی نہیں جب میں نے وہی محبوب تمہیں دے دیا جس کی خاطر میں کائنات کو عدم سے وجود میں لایا اور اس کو انواع و اقسام کی نعمتوں سے مالا مال کر دیا تو اب اس پر ضروری تھا کہ میں رب العالمین ہوتے ہوئے بھی اس عظیم نعمت کا احسان جتلاؤں ایسا نہ ہو کہ امت مصطفوی اسے بھی عام سے نعمت سمجھتے ہوئے اس کی قدر و منزلت اور علو مرتب سے بے نیازی کا مظاہرہ کرنے لگے اور خداوند تعالیٰ کے اس احسان عظیم کی ناشکری کا ارتکاب کرتی رہے۔ اس احسان جتلانے میں بھی امت مسلمہ کی بھلائی کو پیش نظر رکھا گیا نیز قرآن حکیم کے اس واضح حکم سے ہر مسلمان کو آگاہ کیا گیا ہے کہ خبردار! ﷲ کے اس عظیم احسان کو کبھی فراموش نہ کرنا اس میں خدا اور اس کے محبوب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو (نعوذ باﷲ) کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا نہ اس کی شان میں کوئی فرق پڑ سکتا ہے تم اس کے اس احسان پر شکرانہ ادا کرو یا نہ کرو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ذکر تو خدائی وعدہ کے مطابق روز افزوں ہی رہے گا۔

اے محبوب! ہر آنے والی گھڑی تیرے لئے پہلی گھڑی سے بہتر ہے۔“

 الضحیٰ

اور آپ کا ذکر مبارک ہر آن بلند سے بلند تر ہوتا چلا جائے گا کہ یہ بھی خود خالق کائنات کا ارشاد گرامی ہے:

اور (اےمحبوب) ہم نے تیری خاطر تیرا ذکر بلند کر دیا ہے۔“

 الانشراح

اب کوئی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ذکر کرے گا تو اس کی اپنی ذات کو فائدہ ہے اور اسی طرح ان کی تشریف آوری پر اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں بطور شکرانہ خوشی منائے گا تو یہ بھی اس کے اپنے مفاد کی بات ہے نہ وہ کسی پر احسان کر رہا ہے اور نہ ہی کسی کا فائدہ بلکہ اپنا توشہ آخرت بہتر بنا رہا ہے۔

التماس دعا

 

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی