2017 December 15
رسول خدا(ص) کی زندگی کے آخری ایام:
مندرجات: ٤٣٢ تاریخ اشاعت: ٢٧ November ٢٠١٦ - ١٢:٤٠ مشاہدات: 786
یاداشتیں » پبلک
رسول خدا(ص) کی زندگی کے آخری ایام:

 وصیت لکھنے میں حائل ہونا:

شدید بخار اور نہایت ہی تکلیف کے باوجود رسول خدا (ص) علی (ع) اور فضل بن عباس کا سہارا لیکر لوگوں کو نماز پڑھانے کے لئے گھر سے مسجد میں آئے تاکہ ان مفاد پرستوں کے منصوبوں کو ناکام بنا سکیں جنہوں نے خلافت و قیادت کو غصب کرنے کے لئے سازش کی تھی، اس مقصد میں کامیابی ہی کے لئے ان لوگوں نے بھی نہایت ہی ہوشیاری سے رسول خدا کے حکم سے روگردانی کی تھی جب رسول نے انہیں لشکرِ اسامہ کے ساتھ جانے کا حکم دیا تھا۔ نماز پڑھانے کے بعد رسول لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:

ایّھا النّاس سعرت النّار و اقبلت الفتن کقطع الّلیل المظلم، و انّی و اللّٰہ ما تمسکون علی بشیء انی لم احل الا ما احل اللہ و لم احرم الا ما حرم اللّٰہ۔

اے لوگو! فتنہ کی آگ بھڑک اٹھی ہے اور وہ کالی رات کے ٹکڑوں کی طرح بڑھے چلے آ رہے ہیں۔ میں نے اسی چیز کو حلال قرار دیا ہے جس کو خدا نے حلال کیا ہے اور میں نے اسی چیز کو حرام قرار دیا ہے جس کو خدا نے حرام قرار دیا ہے۔

سیرت نبویہ ج 2 ص 954،

طبقات الکبریٰ ج2 ص 215۔

یہ آپ کی طرف سے ایک اور تنبیہ تھی کہ یہ لوگ آپ کے حکم کی نافرمانی نہ کریں اگر چہ ان کی نیتوں سے یہ بات آشکار تھی کہ یہ لوگ امت اسلامی کو مصائب میں مبتلا کریں گے خصوصاً جب جاہل افراد اس کے سربراہ اور خلیفہ بن جائیں۔

رسول خدا (ص) کے مرض میں شدت پیدا ہو گئی، صحابہ بھی آپ کے گھر میں جمع ہو گئے انہیں لوگوں میں وہ اشخاص بھی شامل ہو گئے جنہوں نے لشکر اسامہ سے روگردانی کی تھی۔ آنحضرت نے انہیں لعنت و ملامت کی تو انہوں نے کھوکھلے قسم کے عذر بیان کیے، اس موقعہ پر رسول خدا  (ص)  نے امت کو ہلاکت و تباہی سے بچانے کے لئے دوسرے طریقہ سے کوشش کی فرمایا:

ایتونی بدواة و صحیفة اکتب لکم کتاباً لا تضلون بعدہ۔

مجھے کاغذ و دوات دیدو تاکہ میں تمہارے لئے ایک نوشتہ لکھ دوں جس سے تم گمراہ نہ ہو۔

عمرابن خطاب نے کہا: رسول پر مرض کا غلبہ ہے اور تمہارے پاس قرآن مجید ہے ، ہمارے لیے خدا کی کتاب ہی کافی ہے ۔ 

صحیح بخاری کتاب العلم باب کتابة العلم و کتاب الجہاد، باب جوائز الوفد ۔

اس طرح اختلاف و جھگڑا ہو گیا، پردہ کے پیچھے سے رسول کی ازواج نے کہا: اللہ کا رسول جو مانگ رہا ہے وہ انہیں دے دو، اس پر عمر نے کہا: چپ ہو جائو تمہاری مثال حضرت یوسف کی بیویوں کی سی ہے جب وہ بیمار ہوتے ہیں تو تم آنسو بہاتی ہوں اور جب صحت یاب ہو جاتے تو تم ان کے سر پر چڑھ جاتی ہو۔ رسول خدا نے فرمایا: وہ تم سے بہتر ہیں

طبقات الکبریٰ ج2 ص 244،

کنز العمال ج3 ص138۔

پھر فرمایا: قوموا عنی لا ینبغی عندی التنازع۔

میرے پاس سے اٹھ جاؤ کہ میرے سامنے جھگڑا کرنا مناسب نہیں ہے۔

رسول کے اس نوشتہ کی امت کو شدید ضرورت تھی چنانچہ جب ابن عباس اس واقعہ کو یاد کر لیتے تھے تو افسوس کے ساتھ کہتے تھے: سب سے بڑا المیہ اور مصیبت یہ ہے کہ اللہ کے رسول کو نوشتہ نہیں لکھنے دیا گیا۔

صحیح بخاری کتاب العلم ج1 ص22 و ج2 ص 14، 

الملل و النحل ج2 ص 22،

طبقات الکبریٰ ج2 ص 244

جب آپ کے پاس صحابہ میں اختلاف ہو گیا تو آپ نے نوشتہ لکھنے پر اصرار نہیں کیا، پھر یہ بھی خوف تھا کہ اس کے بعد ان کی سرکشی اور بڑھ جائیگی اور اس کا نتیجہ اس سے زیادہ خطرناک ہوگا۔ رسول خدانے ان کی نیتوں کو سمجھ لیا تھا چنانچہ جب صحابہ نے قلم و دوات کی بات دہرائی تو آپ نے فرمایا: 

ابعد الذی قلتم ؟

اب اتنا کچھ کرنے کے بعد تحریر لکھنے کا کیا فائدہ ہے ؟

بحار الانوار ج 22 ص 469۔

یعنی اگر رسول خدا زبردستی وصیت لکھ بھی دیتے تو منافق مسلمانوں نے کہنا تھا کہ بیماری کی حالت میں لکھی گئی، وصیت کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔کیا تمہاری گستاخی کے بعد بھی پھر آپ نے انہیں تین وصیتیں فرمائیں لیکن تاریخ کی کتابوں میں ان میں سے دو ہی نقل ہوئی ہیں وہ یہ ہیں کہ مشرکین کو جزیرہ نما عرب سے نکال دیا جائے اور وفود بھیجے جائیں جیسا کہ آپ بھیجتے تھے۔

علامہ سید محسن امین عاملی نے اس پر اس طرح حاشیہ لگایا ہے : جو شخص بھی غور کرے گا وہ اس بات کو بخوبی سمجھ لے گا کہ محدثین نے اسے جان بوجھ کر بیان نہیں کیا ہے ، فراموشی کی وجہ سے نہیں چھوڑا ہے ۔ سیاست نے انہیں مجبور کیا کہ وہ اسے بیان نہ کریں وہ وصیت یہ تھی کہ رسول خدا نے ان سے دوات و کاغذ طلب کیا تھا تاکہ ان کے لیے ایک نوشتہ لکھ دیں۔

اعیان الشیعة ج1 ص 294،

صحیح بخاری باب مرض النبی۔

2۔ فاطمہ زہرا  (س) باپ کی خدمت میں:

غم سے نڈھال فاطمہ زہرا آئیں، اپنے والد کو حسرت سے دیکھنے لگیں کہ وہ عنقریب اپنے رب سے جا ملیں گے، پریشان حال میں باپ کے پاس بیٹھ گئیں، آنکھیں اشکبار ہیں اور زبان پر یہ شعر ہے :

وابیض یستسقی الغمام بوجہہ ٭٭٭ ثمال الیتامیٰ عصمة الارامل

نورانی چہرہ جس کے وسیلہ سے بارش طلب کی جاتی ہے ۔ وہ یتیموں کی پناہ گاہ اور بیوہ عورتوں کا نگہبان ہے ۔

اسی وقت رسول نے اپنی آنکھیں کھول دیں اور آہستہ سے فرمایا: بیٹی یہ تمہارے چچا ابو طالب کا شعر ہے، اس وقت یہ نہ پڑھو بلکہ یہ آیت پڑھو:

و ما محمّد الّا رسول قد خلت من قبلہ الرّسل افان مات او قتل انقلبتم علیٰ اعقابکم و من ینقلب علیٰ عقبیہ فلن یضر اللّہ شیئا و سیجزی اللّہ الشاکرین۔

اور محمد تو بس رسول ہیں ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں پھر اگر وہ مر جائیں یا قتل کر دئیے جائیں تو کیا تم الٹے پیروں پلٹ جائو گے؟ یاد رکھو جو بھی ایسا کرے گا تو وہ خدا کو نقصان نہیں پہنچائے گا اور خدا شکر گذاروں کو عنقریب جزا دے گا۔

سورہ آل عمران آیت 144

اس طرح رسول خدا اپنی بیٹی فاطمہ کو ان افسوسناک حوادث کے لیے تیار کرنا چاہتے تھے جو عنقریب رونما ہونے والے تھے یقینا یہ چیز حضرت ابو طالب کے قول سے زیادہ بہتر تھی۔

اس کے بعد نبی کریم نے اپنی بیٹی کو قریب آنے کا اشارہ کیا تا کہ آپ سے کچھ گفتگو کریں، فاطمہ زہرا  (س)جھک کر سننے لگیں، آنحضرت نے ان کے کان میں کچھ کہا تو وہ رونے لگیں، پھر آپ نے ان کے کان میں کچھ کہا تو وہ مسکرانے لگیں، صورت حال سے بعض حاضرین کے اندر تجسس پیدا ہو گیا، انہوں نے فاطمہ زہرا سے دریافت کیا آپ کے رونے اور پھر مسکرانے کا کیا راز ہے ؟ آپ نے فرمایا؛ میں رسول کے راز کو افشا نہیں کروں گی۔

لیکن جب رسول خدا کی وفات کے بعد آپ سے دریافت کیا گیا تو فرمایا:

اخبرنی رسول اللّہ  انّہ قد حضر اجلہ و انہ یقبض فی وجعہ ھذا فبکیت ثم اخبرنی انّی اوّل اھلہ لحوقاً بہ فضحکت۔

مجھے رسول خدا نے یہ خبر دی تھی کہ ان کی وفات کا وقت قریب ہے اور اسی مرض میں آپ دنیا سے اٹھ جائیں گے تو یہ سن کر میں رونے لگی پھر مجھے یہ خبر دی کہ ان کے اہل بیت میں سب سے پہلے میں ان سے ملحق ہوں گی تو میں مسکرائی۔

طبقات الکبریٰ ج2 ص 247،

تاریخ کامل ج2 ص 219۔

3۔رسول خدا  (ص) کی زندگی کے آخری لمحات:

علی (ع) رسول خدا (ص) کے ساتھ ایسے ہی رہتے تھے جیسے ایک انسان کے ساتھ، اسکا سایہ رہتا ہے ، زندگی کے آخری لمحات میں بھی آپ ان کے ساتھ ہی تھے آنحضرت انہیں تعلیم دیتے اپنا راز بتاتے اور وصیت کرتے تھے۔ آخری وقت میں رسول خدا نے فرمایا: میرے بھائی کو میرے پاس بلاؤ ، علی (ع) کو رسول خدا  (ص)نے کہیں کام سے بھیجا تھا، بعض مسلمان آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے لیکن رسول نے انہیں کوئی اہمیت نہیں دی کچھ دیر بعد علی بھی آ گئے تو رسول خدا نے فرمایا: میرے قریب آؤ، مولاعلی آپ کے قریب آئے تو آنحضرت علی کے سہارے بیٹھ گئے اور ان سے باتیں کرتے رہے یہاں تک کہ آپ پر احتضار کے آثار ظاہر ہو گئے اور رسول نے حضرت علی کی گود میں وفات پائی، اس بات کو خود حضرت علی نے اپنے ایک مشہور خطبہ میں بیان فرمایا ہے۔

نہج البلاغہ خطبہ 197

4۔ وفات اور دفن رسول خدا (ص):

آخری وقت میں رسول کے پاس علی ابن ابیطالب ، بنی ہاشم اور ازواج کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا، آپ کے فراق میں آپ کے گھر سے بلند ہونے والی آہ و بکا کی آواز سے آپ کی وفات کی خبر سب کو ہو گئی تھی ، سرور کائنات کے غم میں دل پاش پاش تھے، دیکھتے ہی دیکھتے مدینہ بھر میں آپ کی وفات کی خبر پھیل گئی۔ سبھی پر غم و الم کی کیفیت طاری تھی اگرچہ رسول خدا نے اس حادثہ کے لیے انہیں آمادہ کر دیا تھا اور کئی بار اپنے انتقال کی خبر دے چکے تھے اور امت کو یہ وصیت کر چکے تھے کہ وہ آپ کے بعد آپ کے خلیفہ علی بن ابی طالب کی اطاعت کریں۔ یقینا آپ کی وفات ایک بہت بڑا سانحہ تھا جس سے مسلمانوں کے دل دہل گئے تھے مدینہ پر ایک اضطرابی کیفیت طاری تھی، رسول کے گھر کے اطراف میں جمع افراد عمر بن خطاب کی بات سے حیرت زدہ تھے وہ تلوار سے لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ: منافقین میں سے بعض لوگوں کا یہ گمان ہے کہ اللہ کا رسول مر گیا۔ خدا کی قسم! وہ مرے نہیں ہیں ہاں وہ موسیٰ بن عمران کی طرح اپنے رب کے پاس چلے گئے ہیں۔

تاریخ کامل ج 2 ص 323،

طبقات الکبریٰ ج2 ص 266،

سیرت نبویہ، زینی دحلان ، ج2 ص 306

اگر چہ موسیٰ کی غیبت اور محمد (ص) کی وفات میں کوئی مماثلت نہیں ہے لیکن اس مماثلت و مشابہت پر عمر کے اصرار سے خود ان کے کردار سے پردہ ہٹتا ہے ۔

عمر آرام سے نہیں بیٹھا یہاں تک کہ ابو بکر  مدینہ واپس آ گیا اور رسول خدا کے گھر میں داخل ہوا اور رسول خدا کے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور تیزی سے باہر نکلا اور کہا: اے لوگو! سنو جو محمد کی پرستش کرتا ہے وہ جان لے کہ محمد مر گئے اور جو خدا کی عبادت کرتا ہے وہ جان لے کہ اللہ زندہ ہے اسے موت نہیں آئیگی۔ پھر یہ آیت پڑھی:

(وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل)

اس سے عمر کا سارا جوش ٹھنڈا پڑ گیا اور انہوں نے یہ گمان کیا کہ گویا وہ اس طرف متوجہ ہی نہیں تھے کہ قرآن مجید میں ایسی کوئی آیت ہے ؟   

طبقات الکبریٰ ج2 ص53 و 56

یہاں عمر کہہ رہا ہے کہ جو مسلمان، محمد کی عبادت کرتا ہے، وہ سن لے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مسلمانوں سے سوال ہے کہ عمر کو اتنا بھی نہیں پتا تھا کہ مسلمان اور صحابہ، خداوند کی عبادت کرتے ہیں نہ رسول خدا کی ؟؟؟

اس کے بعد ابو بکر اور عمر بن خطاب اپنے ہم خیال لوگوں کے ساتھ سقیفہ بنی ساعدہ گئے انہیں یہ خبر ملی تھی کہ سقیفہ میں ایک ہنگامی جلسہ ہو رہا ہے جس میں رسول خدا کی وفات کے بعد خلافت کا مسئلہ حل کیا جائیگا۔ یہ لوگ حضرت علی بن ابی طالب کا منصوب ہونا بھول گئے اور یہ بھی بھول گئے کہ انہوں نے خلیفہ کے عنوان سے علی کی بیعت کی تھی ، ان لوگوں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ ان کے اس عمل کو رسول خدا کے جنازہ کی بے حرمتی تصور کیا جائے گا۔

علی بن ابی طالب اور آپ کے اہل بیت رسول کے جنازہ کی تجہیز و تدفین کے امور میں مشغول تھے، علی نے آپ کی قمیص اتارے بغیر غسل دیا، عباس بن عبد المطلب اور ان کے بیٹے فضل نے مدد کی ، غسل دیتے وقت علی فرماتے تھے:

بابی انت و امی ما اطیبک حیاً و میتاً۔

میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ زندگی میں بھی پاکیزہ تھے اور مرنے کے بعد بھی طیب و طاہر ہیں۔

سیرت نبویہ ، ابن کثیر ج4 ص 518

پھر آپ کے جسد اقدس کو ایک تخت پر لٹا دیا ۔ علی (ع) نے فرمایا:

ان رسول اللہ امامنا حیاً و میتاً فلیدخل علیہ فوج بعد فوج فیصلون علیہ بغیر امام و ینصرفون۔

بے شک اللہ کا رسول زندگی میں بھی ہمارا امام ہے اور مرنے کے بعد بھی، لہذا دستہ دستہ بغیر امام کے نماز جناہ پڑھیں اور لوٹ جائیں، چنانچہ سب سے پہلے آپ کی نماز جنازہ حضرت علی اور بنی ہاشم نے پڑھی اور ان کے بعد انصار نے پڑھی۔

ارشاد ج1 ص 187،

اعیان الشیعة ج1 ص 295

اس کے بعد علی (ع) رسول خدا (ص) کے پاس کھڑے ہوئے اور کہا:

سلام علیک ایھا النبی و رحمة اللّہ و برکاتہ، الّلھم انّا نشھد ان قد بلغ ما انزل الیہ و نصح لامتہ و جاہد فی سبیل اللّہ حتّی اعز اللّہ دینہ و تمت کلمتہ الّلھم فاجعلنا ممن یتبع ما انزل اللّہ الیہ و ثبتنا بعدہ و اجمع بیننا و بینہ۔

سلام اور خدا کی رحمت و برکات ہوں آپ پر اے نبی، اے اللہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ انہوں نے ہر اس چیز کی تبلیغ کی جو تو نے ان پر نازل کی ، اپنی امت کو نصیحت کی اور راہِ خدا میں جہاد کیا یہاں تک کہ خدا نے اپنے دین کو عزت بخشی اور اس کی بات پوری ہو گئی۔ اے اللہ ہمیں ان لوگوں میں قرار دے جو ان چیزوں کا اتباع کرتے ہیں جو تونے ان پر نازل کی ہیں اور ان کے بعد ہمیں ثابت قدم رکھ ہمیں اور انہیں یکجا کر دے۔ اس پر لوگوں نے آمین کہا۔ پھر دوسرے مردوں نے ان کے بعد عورتوں نے اور سب کے بعد لڑکوں نے آپ کے جنازہ پر نماز پڑھی۔ 

طبقات الکبریٰ ج2 ص 291

آپ کی قبر اسی حجرہ میں تیار کی گئی جس میں آپ نے وفات پائی تھی۔ جب حضرت علی نے آپ کو قبر میں اتارنا چاہا تو دیوار کے پیچھے سے انصار نے ندا دی۔ اے علی ! ہم آپ کو خدا کا واسطہ دیتے ہیں رسول کے بارے میں ہمارا جو حق ہے آج وہ حق ہاتھ سے جا رہا ہے اس کام میں ہم میں سے بھی کسی کو شریک کر لیجئے تا کہ رسول کے امور دفن میں ہم بھی شریک ہو جائیں حضرت علی نے فرمایا: اوس بن خولی شریک ہو جائیں یہ بنی عوف سے تھے اور بدری تھے۔

علی  (ع) قبر میں اترے ، رسول کے چہرہ کو کھولا، آپ کے رخسار کو خاک پر رکھا اور قبر کو بند کر دیا۔رسول خدا کے دفن اور نمازِ جنازہ میں وہ صحابہ شریک نہیں ہوئے جو سقیفہ چلے گئے تھے، کہ ان میں ابوبکر اور عمر بھی شامل تھے، یعنی حبّ ریاست کی وجہ سے رسول خدا کے کفن و دفن و نماز میں شامل نہیں ہوئے  !!! 

اے اللہ کے رسول ! آپ پر سلام ہو جس دن آپ پیدا ہوئے ، جس دن وفات پائی اور جس دن زندہ اٹھائے جائیں گے۔

نماز، پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی آخری وصیت:

عام طور سے لوگ اس بات کے خواہشمند ہوتے ہیں کہ بزرگ شخصیتوں اور مقدس انسانوں کی آخری وصیت کو جانیں ،کون ہے جس کی شخصیت رسول اکرم(ص) سے زیادہ با عظمت ہوگی ،کون ہے جو رسول اکرم کے کمالات کی منزلوں کو پا سکتا ہے تو پھر کون ہو گا جو خاتم الانبیاء رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی آخری وصیت کو جاننا اور سمجھنا نہ چاہے گا ۔

جابر بن عبد اللہ ناقل ہیں : کعب الاحبار نے عمر سے پوچھا : پیغمبر(ص) کی آخری وصیت کیا تھی ؟ اس نے جواب دیا : علی سے پوچھو ۔ کعب علی علیہ السلام کے پاس آیا اور یہی سوال ان سے کیا تو حضرت نے جواب دیا : 

اسندت رسول الله الي صدري فوضع رأسه علي منکبي فقال: الصلاة الصلاة۔

میں نے رسول اکرم(ص) کو اپنے سینے سے لگایا تو آپ نے اپنا سر میرے کاندھوں پر رکھا اور فرمایا : نماز نماز ،

یعنی جس چیزکی پیروی تم پر لازم ہے اور دل و جان سے اس کی حفاظت واجب ہے اسے ضائع مت ہونے دینا اور اسے ہلکا نہ سمجھنا وہ نماز ہے ۔ ہمیں دل و جان سے اس کی حفاظت اور پاسداری کرنی چاہئے اور اعزاز و تکریم اور خشوع و خضوع کے ساتھ اسے بجا لانا چاہیے۔

یہ جملہ سن کر کعب الاحبار بولا :

کذلک آخر عهد الانبياء و بِهِ امروا و عليه يبعثون۔

تمام انبیاء کی آخری وصیت یہی تھی اور انھیں اسی پر مامور و مبعوث کیا گیا تھا ۔

کعب گزشتہ انبیاء اور پیغمبروں کی کتب سے واقف تھا اس نے اس بات کی تصدیق کی کہ " ہمیشہ سے پیغمبروں کی روش یہی رہی ہے کہ وہ اپنی زندگی کے آخری لمحات میں نماز کی وصیت فرماتے تھے ۔

یقیناً رسول کی آخری وصیت نماز تھی ۔

بیشک نماز ہی وہ پہلا واجب عمل تھا جسے رسول اسلام(ص) نے انجام دیا یہاں تک کہ آغاز اسلام ہی سے پیغمبر اکرم(ص) مسجد الحرام میں باجماعت نماز ادا کرتے تھے جبکہ مردوں میں امیرالمومنین علیہ السلام اور عورتوں میں حضرت خدیجہ(س) کے سوا آپ کے ساتھ کوئی بھی نہیں ہوتا تھا ۔ اس جماعت میں صرف ایک مرد اور ایک عورت ماموم ہوا کرتے تھے ۔جیسا کہ بعض تاریخی کتب میں لکھا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) ہفتے کے دن نماز پر مامور کیے گئے اور  پیر والے دن  مسجد الحرام میں نماز جماعت پڑھی گئی اور جب پیغمبر اکرم(ص) حالت احتضار میں تھے تو بھی یہی وصیت فرما رہے تھے ،اور آخری لمحات میں نماز ہی کا ذکر لبوں پر تھا ۔

السلام علیک یا رسول اللہ، السلام علیک یا خاتم النبیین، السلام علیک یا حبیب اللہ و رحمۃ اللہ و برکاتہ،

التماس دعا۔۔۔۔۔

 

 وصیت لکھنے میں حائل ہونا:

شدید بخار اور نہایت ہی تکلیف کے باوجود رسول خدا (ص) علی (ع) اور فضل بن عباس کا سہارا لیکر لوگوں کو نماز پڑھانے کے لئے گھر سے مسجد میں آئے تاکہ ان مفاد پرستوں کے منصوبوں کو ناکام بنا سکیں جنہوں نے خلافت و قیادت کو غصب کرنے کے لئے سازش کی تھی، اس مقصد میں کامیابی ہی کے لئے ان لوگوں نے بھی نہایت ہی ہوشیاری سے رسول خدا کے حکم سے روگردانی کی تھی جب رسول نے انہیں لشکرِ اسامہ کے ساتھ جانے کا حکم دیا تھا۔ نماز پڑھانے کے بعد رسول لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:

ایّھا النّاس سعرت النّار و اقبلت الفتن کقطع الّلیل المظلم، و انّی و اللّٰہ ما تمسکون علی بشیء انی لم احل الا ما احل اللہ و لم احرم الا ما حرم اللّٰہ۔

اے لوگو! فتنہ کی آگ بھڑک اٹھی ہے اور وہ کالی رات کے ٹکڑوں کی طرح بڑھے چلے آ رہے ہیں۔ میں نے اسی چیز کو حلال قرار دیا ہے جس کو خدا نے حلال کیا ہے اور میں نے اسی چیز کو حرام قرار دیا ہے جس کو خدا نے حرام قرار دیا ہے۔

سیرت نبویہ ج 2 ص 954،

طبقات الکبریٰ ج2 ص 215۔

یہ آپ کی طرف سے ایک اور تنبیہ تھی کہ یہ لوگ آپ کے حکم کی نافرمانی نہ کریں اگر چہ ان کی نیتوں سے یہ بات آشکار تھی کہ یہ لوگ امت اسلامی کو مصائب میں مبتلا کریں گے خصوصاً جب جاہل افراد اس کے سربراہ اور خلیفہ بن جائیں۔

رسول خدا (ص) کے مرض میں شدت پیدا ہو گئی، صحابہ بھی آپ کے گھر میں جمع ہو گئے انہیں لوگوں میں وہ اشخاص بھی شامل ہو گئے جنہوں نے لشکر اسامہ سے روگردانی کی تھی۔ آنحضرت نے انہیں لعنت و ملامت کی تو انہوں نے کھوکھلے قسم کے عذر بیان کیے، اس موقعہ پر رسول خدا  (ص)  نے امت کو ہلاکت و تباہی سے بچانے کے لئے دوسرے طریقہ سے کوشش کی فرمایا:

ایتونی بدواة و صحیفة اکتب لکم کتاباً لا تضلون بعدہ۔

مجھے کاغذ و دوات دیدو تاکہ میں تمہارے لئے ایک نوشتہ لکھ دوں جس سے تم گمراہ نہ ہو۔

عمرابن خطاب نے کہا: رسول پر مرض کا غلبہ ہے اور تمہارے پاس قرآن مجید ہے ، ہمارے لیے خدا کی کتاب ہی کافی ہے ۔ 

صحیح بخاری کتاب العلم باب کتابة العلم و کتاب الجہاد، باب جوائز الوفد ۔

اس طرح اختلاف و جھگڑا ہو گیا، پردہ کے پیچھے سے رسول کی ازواج نے کہا: اللہ کا رسول جو مانگ رہا ہے وہ انہیں دے دو، اس پر عمر نے کہا: چپ ہو جائو تمہاری مثال حضرت یوسف کی بیویوں کی سی ہے جب وہ بیمار ہوتے ہیں تو تم آنسو بہاتی ہوں اور جب صحت یاب ہو جاتے تو تم ان کے سر پر چڑھ جاتی ہو۔ رسول خدا نے فرمایا: وہ تم سے بہتر ہیں

طبقات الکبریٰ ج2 ص 244،

کنز العمال ج3 ص138۔

پھر فرمایا: قوموا عنی لا ینبغی عندی التنازع۔

میرے پاس سے اٹھ جاؤ کہ میرے سامنے جھگڑا کرنا مناسب نہیں ہے۔

رسول کے اس نوشتہ کی امت کو شدید ضرورت تھی چنانچہ جب ابن عباس اس واقعہ کو یاد کر لیتے تھے تو افسوس کے ساتھ کہتے تھے: سب سے بڑا المیہ اور مصیبت یہ ہے کہ اللہ کے رسول کو نوشتہ نہیں لکھنے دیا گیا۔

صحیح بخاری کتاب العلم ج1 ص22 و ج2 ص 14، 

الملل و النحل ج2 ص 22،

طبقات الکبریٰ ج2 ص 244

جب آپ کے پاس صحابہ میں اختلاف ہو گیا تو آپ نے نوشتہ لکھنے پر اصرار نہیں کیا، پھر یہ بھی خوف تھا کہ اس کے بعد ان کی سرکشی اور بڑھ جائیگی اور اس کا نتیجہ اس سے زیادہ خطرناک ہوگا۔ رسول خدانے ان کی نیتوں کو سمجھ لیا تھا چنانچہ جب صحابہ نے قلم و دوات کی بات دہرائی تو آپ نے فرمایا: 

ابعد الذی قلتم ؟

اب اتنا کچھ کرنے کے بعد تحریر لکھنے کا کیا فائدہ ہے ؟

بحار الانوار ج 22 ص 469۔

یعنی اگر رسول خدا زبردستی وصیت لکھ بھی دیتے تو منافق مسلمانوں نے کہنا تھا کہ بیماری کی حالت میں لکھی گئی، وصیت کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔کیا تمہاری گستاخی کے بعد بھی پھر آپ نے انہیں تین وصیتیں فرمائیں لیکن تاریخ کی کتابوں میں ان میں سے دو ہی نقل ہوئی ہیں وہ یہ ہیں کہ مشرکین کو جزیرہ نما عرب سے نکال دیا جائے اور وفود بھیجے جائیں جیسا کہ آپ بھیجتے تھے۔

علامہ سید محسن امین عاملی نے اس پر اس طرح حاشیہ لگایا ہے : جو شخص بھی غور کرے گا وہ اس بات کو بخوبی سمجھ لے گا کہ محدثین نے اسے جان بوجھ کر بیان نہیں کیا ہے ، فراموشی کی وجہ سے نہیں چھوڑا ہے ۔ سیاست نے انہیں مجبور کیا کہ وہ اسے بیان نہ کریں وہ وصیت یہ تھی کہ رسول خدا نے ان سے دوات و کاغذ طلب کیا تھا تاکہ ان کے لیے ایک نوشتہ لکھ دیں۔

اعیان الشیعة ج1 ص 294،

صحیح بخاری باب مرض النبی۔

2۔ فاطمہ زہرا  (س) باپ کی خدمت میں:

غم سے نڈھال فاطمہ زہرا آئیں، اپنے والد کو حسرت سے دیکھنے لگیں کہ وہ عنقریب اپنے رب سے جا ملیں گے، پریشان حال میں باپ کے پاس بیٹھ گئیں، آنکھیں اشکبار ہیں اور زبان پر یہ شعر ہے :

وابیض یستسقی الغمام بوجہہ ٭٭٭ ثمال الیتامیٰ عصمة الارامل

نورانی چہرہ جس کے وسیلہ سے بارش طلب کی جاتی ہے ۔ وہ یتیموں کی پناہ گاہ اور بیوہ عورتوں کا نگہبان ہے ۔

اسی وقت رسول نے اپنی آنکھیں کھول دیں اور آہستہ سے فرمایا: بیٹی یہ تمہارے چچا ابو طالب کا شعر ہے، اس وقت یہ نہ پڑھو بلکہ یہ آیت پڑھو:

و ما محمّد الّا رسول قد خلت من قبلہ الرّسل افان مات او قتل انقلبتم علیٰ اعقابکم و من ینقلب علیٰ عقبیہ فلن یضر اللّہ شیئا و سیجزی اللّہ الشاکرین۔

اور محمد تو بس رسول ہیں ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں پھر اگر وہ مر جائیں یا قتل کر دئیے جائیں تو کیا تم الٹے پیروں پلٹ جائو گے؟ یاد رکھو جو بھی ایسا کرے گا تو وہ خدا کو نقصان نہیں پہنچائے گا اور خدا شکر گذاروں کو عنقریب جزا دے گا۔

سورہ آل عمران آیت 144

اس طرح رسول خدا اپنی بیٹی فاطمہ کو ان افسوسناک حوادث کے لیے تیار کرنا چاہتے تھے جو عنقریب رونما ہونے والے تھے یقینا یہ چیز حضرت ابو طالب کے قول سے زیادہ بہتر تھی۔

اس کے بعد نبی کریم نے اپنی بیٹی کو قریب آنے کا اشارہ کیا تا کہ آپ سے کچھ گفتگو کریں، فاطمہ زہرا  (س)جھک کر سننے لگیں، آنحضرت نے ان کے کان میں کچھ کہا تو وہ رونے لگیں، پھر آپ نے ان کے کان میں کچھ کہا تو وہ مسکرانے لگیں، صورت حال سے بعض حاضرین کے اندر تجسس پیدا ہو گیا، انہوں نے فاطمہ زہرا سے دریافت کیا آپ کے رونے اور پھر مسکرانے کا کیا راز ہے ؟ آپ نے فرمایا؛ میں رسول کے راز کو افشا نہیں کروں گی۔

لیکن جب رسول خدا کی وفات کے بعد آپ سے دریافت کیا گیا تو فرمایا:

اخبرنی رسول اللّہ  انّہ قد حضر اجلہ و انہ یقبض فی وجعہ ھذا فبکیت ثم اخبرنی انّی اوّل اھلہ لحوقاً بہ فضحکت۔

مجھے رسول خدا نے یہ خبر دی تھی کہ ان کی وفات کا وقت قریب ہے اور اسی مرض میں آپ دنیا سے اٹھ جائیں گے تو یہ سن کر میں رونے لگی پھر مجھے یہ خبر دی کہ ان کے اہل بیت میں سب سے پہلے میں ان سے ملحق ہوں گی تو میں مسکرائی۔

طبقات الکبریٰ ج2 ص 247،

تاریخ کامل ج2 ص 219۔

3۔رسول خدا  (ص) کی زندگی کے آخری لمحات:

علی (ع) رسول خدا (ص) کے ساتھ ایسے ہی رہتے تھے جیسے ایک انسان کے ساتھ، اسکا سایہ رہتا ہے ، زندگی کے آخری لمحات میں بھی آپ ان کے ساتھ ہی تھے آنحضرت انہیں تعلیم دیتے اپنا راز بتاتے اور وصیت کرتے تھے۔ آخری وقت میں رسول خدا نے فرمایا: میرے بھائی کو میرے پاس بلاؤ ، علی (ع) کو رسول خدا  (ص)نے کہیں کام سے بھیجا تھا، بعض مسلمان آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے لیکن رسول نے انہیں کوئی اہمیت نہیں دی کچھ دیر بعد علی بھی آ گئے تو رسول خدا نے فرمایا: میرے قریب آؤ، مولاعلی آپ کے قریب آئے تو آنحضرت علی کے سہارے بیٹھ گئے اور ان سے باتیں کرتے رہے یہاں تک کہ آپ پر احتضار کے آثار ظاہر ہو گئے اور رسول نے حضرت علی کی گود میں وفات پائی، اس بات کو خود حضرت علی نے اپنے ایک مشہور خطبہ میں بیان فرمایا ہے۔

نہج البلاغہ خطبہ 197

4۔ وفات اور دفن رسول خدا (ص):

آخری وقت میں رسول کے پاس علی ابن ابیطالب ، بنی ہاشم اور ازواج کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا، آپ کے فراق میں آپ کے گھر سے بلند ہونے والی آہ و بکا کی آواز سے آپ کی وفات کی خبر سب کو ہو گئی تھی ، سرور کائنات کے غم میں دل پاش پاش تھے، دیکھتے ہی دیکھتے مدینہ بھر میں آپ کی وفات کی خبر پھیل گئی۔ سبھی پر غم و الم کی کیفیت طاری تھی اگرچہ رسول خدا نے اس حادثہ کے لیے انہیں آمادہ کر دیا تھا اور کئی بار اپنے انتقال کی خبر دے چکے تھے اور امت کو یہ وصیت کر چکے تھے کہ وہ آپ کے بعد آپ کے خلیفہ علی بن ابی طالب کی اطاعت کریں۔ یقینا آپ کی وفات ایک بہت بڑا سانحہ تھا جس سے مسلمانوں کے دل دہل گئے تھے مدینہ پر ایک اضطرابی کیفیت طاری تھی، رسول کے گھر کے اطراف میں جمع افراد عمر بن خطاب کی بات سے حیرت زدہ تھے وہ تلوار سے لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ: منافقین میں سے بعض لوگوں کا یہ گمان ہے کہ اللہ کا رسول مر گیا۔ خدا کی قسم! وہ مرے نہیں ہیں ہاں وہ موسیٰ بن عمران کی طرح اپنے رب کے پاس چلے گئے ہیں۔

تاریخ کامل ج 2 ص 323،

طبقات الکبریٰ ج2 ص 266،

سیرت نبویہ، زینی دحلان ، ج2 ص 306

اگر چہ موسیٰ کی غیبت اور محمد (ص) کی وفات میں کوئی مماثلت نہیں ہے لیکن اس مماثلت و مشابہت پر عمر کے اصرار سے خود ان کے کردار سے پردہ ہٹتا ہے ۔

عمر آرام سے نہیں بیٹھا یہاں تک کہ ابو بکر  مدینہ واپس آ گیا اور رسول خدا کے گھر میں داخل ہوا اور رسول خدا کے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور تیزی سے باہر نکلا اور کہا: اے لوگو! سنو جو محمد کی پرستش کرتا ہے وہ جان لے کہ محمد مر گئے اور جو خدا کی عبادت کرتا ہے وہ جان لے کہ اللہ زندہ ہے اسے موت نہیں آئیگی۔ پھر یہ آیت پڑھی:

(وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل)

اس سے عمر کا سارا جوش ٹھنڈا پڑ گیا اور انہوں نے یہ گمان کیا کہ گویا وہ اس طرف متوجہ ہی نہیں تھے کہ قرآن مجید میں ایسی کوئی آیت ہے ؟   

طبقات الکبریٰ ج2 ص53 و 56

یہاں عمر کہہ رہا ہے کہ جو مسلمان، محمد کی عبادت کرتا ہے، وہ سن لے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مسلمانوں سے سوال ہے کہ عمر کو اتنا بھی نہیں پتا تھا کہ مسلمان اور صحابہ، خداوند کی عبادت کرتے ہیں نہ رسول خدا کی ؟؟؟

اس کے بعد ابو بکر اور عمر بن خطاب اپنے ہم خیال لوگوں کے ساتھ سقیفہ بنی ساعدہ گئے انہیں یہ خبر ملی تھی کہ سقیفہ میں ایک ہنگامی جلسہ ہو رہا ہے جس میں رسول خدا کی وفات کے بعد خلافت کا مسئلہ حل کیا جائیگا۔ یہ لوگ حضرت علی بن ابی طالب کا منصوب ہونا بھول گئے اور یہ بھی بھول گئے کہ انہوں نے خلیفہ کے عنوان سے علی کی بیعت کی تھی ، ان لوگوں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ ان کے اس عمل کو رسول خدا کے جنازہ کی بے حرمتی تصور کیا جائے گا۔

علی بن ابی طالب اور آپ کے اہل بیت رسول کے جنازہ کی تجہیز و تدفین کے امور میں مشغول تھے، علی نے آپ کی قمیص اتارے بغیر غسل دیا، عباس بن عبد المطلب اور ان کے بیٹے فضل نے مدد کی ، غسل دیتے وقت علی فرماتے تھے:

بابی انت و امی ما اطیبک حیاً و میتاً۔

میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ زندگی میں بھی پاکیزہ تھے اور مرنے کے بعد بھی طیب و طاہر ہیں۔

سیرت نبویہ ، ابن کثیر ج4 ص 518

پھر آپ کے جسد اقدس کو ایک تخت پر لٹا دیا ۔ علی (ع) نے فرمایا:

ان رسول اللہ امامنا حیاً و میتاً فلیدخل علیہ فوج بعد فوج فیصلون علیہ بغیر امام و ینصرفون۔

بے شک اللہ کا رسول زندگی میں بھی ہمارا امام ہے اور مرنے کے بعد بھی، لہذا دستہ دستہ بغیر امام کے نماز جناہ پڑھیں اور لوٹ جائیں، چنانچہ سب سے پہلے آپ کی نماز جنازہ حضرت علی اور بنی ہاشم نے پڑھی اور ان کے بعد انصار نے پڑھی۔

ارشاد ج1 ص 187،

اعیان الشیعة ج1 ص 295

اس کے بعد علی (ع) رسول خدا (ص) کے پاس کھڑے ہوئے اور کہا:

سلام علیک ایھا النبی و رحمة اللّہ و برکاتہ، الّلھم انّا نشھد ان قد بلغ ما انزل الیہ و نصح لامتہ و جاہد فی سبیل اللّہ حتّی اعز اللّہ دینہ و تمت کلمتہ الّلھم فاجعلنا ممن یتبع ما انزل اللّہ الیہ و ثبتنا بعدہ و اجمع بیننا و بینہ۔

سلام اور خدا کی رحمت و برکات ہوں آپ پر اے نبی، اے اللہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ انہوں نے ہر اس چیز کی تبلیغ کی جو تو نے ان پر نازل کی ، اپنی امت کو نصیحت کی اور راہِ خدا میں جہاد کیا یہاں تک کہ خدا نے اپنے دین کو عزت بخشی اور اس کی بات پوری ہو گئی۔ اے اللہ ہمیں ان لوگوں میں قرار دے جو ان چیزوں کا اتباع کرتے ہیں جو تونے ان پر نازل کی ہیں اور ان کے بعد ہمیں ثابت قدم رکھ ہمیں اور انہیں یکجا کر دے۔ اس پر لوگوں نے آمین کہا۔ پھر دوسرے مردوں نے ان کے بعد عورتوں نے اور سب کے بعد لڑکوں نے آپ کے جنازہ پر نماز پڑھی۔ 

طبقات الکبریٰ ج2 ص 291

آپ کی قبر اسی حجرہ میں تیار کی گئی جس میں آپ نے وفات پائی تھی۔ جب حضرت علی نے آپ کو قبر میں اتارنا چاہا تو دیوار کے پیچھے سے انصار نے ندا دی۔ اے علی ! ہم آپ کو خدا کا واسطہ دیتے ہیں رسول کے بارے میں ہمارا جو حق ہے آج وہ حق ہاتھ سے جا رہا ہے اس کام میں ہم میں سے بھی کسی کو شریک کر لیجئے تا کہ رسول کے امور دفن میں ہم بھی شریک ہو جائیں حضرت علی نے فرمایا: اوس بن خولی شریک ہو جائیں یہ بنی عوف سے تھے اور بدری تھے۔

علی  (ع) قبر میں اترے ، رسول کے چہرہ کو کھولا، آپ کے رخسار کو خاک پر رکھا اور قبر کو بند کر دیا۔رسول خدا کے دفن اور نمازِ جنازہ میں وہ صحابہ شریک نہیں ہوئے جو سقیفہ چلے گئے تھے، کہ ان میں ابوبکر اور عمر بھی شامل تھے، یعنی حبّ ریاست کی وجہ سے رسول خدا کے کفن و دفن و نماز میں شامل نہیں ہوئے  !!! 

اے اللہ کے رسول ! آپ پر سلام ہو جس دن آپ پیدا ہوئے ، جس دن وفات پائی اور جس دن زندہ اٹھائے جائیں گے۔

نماز، پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی آخری وصیت:

عام طور سے لوگ اس بات کے خواہشمند ہوتے ہیں کہ بزرگ شخصیتوں اور مقدس انسانوں کی آخری وصیت کو جانیں ،کون ہے جس کی شخصیت رسول اکرم(ص) سے زیادہ با عظمت ہوگی ،کون ہے جو رسول اکرم کے کمالات کی منزلوں کو پا سکتا ہے تو پھر کون ہو گا جو خاتم الانبیاء رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی آخری وصیت کو جاننا اور سمجھنا نہ چاہے گا ۔

جابر بن عبد اللہ ناقل ہیں : کعب الاحبار نے عمر سے پوچھا : پیغمبر(ص) کی آخری وصیت کیا تھی ؟ اس نے جواب دیا : علی سے پوچھو ۔ کعب علی علیہ السلام کے پاس آیا اور یہی سوال ان سے کیا تو حضرت نے جواب دیا : 

اسندت رسول الله الي صدري فوضع رأسه علي منکبي فقال: الصلاة الصلاة۔

میں نے رسول اکرم(ص) کو اپنے سینے سے لگایا تو آپ نے اپنا سر میرے کاندھوں پر رکھا اور فرمایا : نماز نماز ،

یعنی جس چیزکی پیروی تم پر لازم ہے اور دل و جان سے اس کی حفاظت واجب ہے اسے ضائع مت ہونے دینا اور اسے ہلکا نہ سمجھنا وہ نماز ہے ۔ ہمیں دل و جان سے اس کی حفاظت اور پاسداری کرنی چاہئے اور اعزاز و تکریم اور خشوع و خضوع کے ساتھ اسے بجا لانا چاہیے۔

یہ جملہ سن کر کعب الاحبار بولا :

کذلک آخر عهد الانبياء و بِهِ امروا و عليه يبعثون۔

تمام انبیاء کی آخری وصیت یہی تھی اور انھیں اسی پر مامور و مبعوث کیا گیا تھا ۔

کعب گزشتہ انبیاء اور پیغمبروں کی کتب سے واقف تھا اس نے اس بات کی تصدیق کی کہ " ہمیشہ سے پیغمبروں کی روش یہی رہی ہے کہ وہ اپنی زندگی کے آخری لمحات میں نماز کی وصیت فرماتے تھے ۔

یقیناً رسول کی آخری وصیت نماز تھی ۔

بیشک نماز ہی وہ پہلا واجب عمل تھا جسے رسول اسلام(ص) نے انجام دیا یہاں تک کہ آغاز اسلام ہی سے پیغمبر اکرم(ص) مسجد الحرام میں باجماعت نماز ادا کرتے تھے جبکہ مردوں میں امیرالمومنین علیہ السلام اور عورتوں میں حضرت خدیجہ(س) کے سوا آپ کے ساتھ کوئی بھی نہیں ہوتا تھا ۔ اس جماعت میں صرف ایک مرد اور ایک عورت ماموم ہوا کرتے تھے ۔جیسا کہ بعض تاریخی کتب میں لکھا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) ہفتے کے دن نماز پر مامور کیے گئے اور  پیر والے دن  مسجد الحرام میں نماز جماعت پڑھی گئی اور جب پیغمبر اکرم(ص) حالت احتضار میں تھے تو بھی یہی وصیت فرما رہے تھے ،اور آخری لمحات میں نماز ہی کا ذکر لبوں پر تھا ۔

السلام علیک یا رسول اللہ، السلام علیک یا خاتم النبیین، السلام علیک یا حبیب اللہ و رحمۃ اللہ و برکاتہ،

التماس دعا۔۔۔۔۔

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی