2017 December 12
امام حسین(ع) کی زیارت اور سیرت آئمہ معصومین(ع)
مندرجات: ٤٠٣ تاریخ اشاعت: ٢٠ September ٢٠١٧ - ١٣:٤٨ مشاہدات: 1319
مضامین و مقالات » پبلک
امام حسین(ع) کی زیارت اور سیرت آئمہ معصومین(ع)

 

مقدمہ:

روایات شیعہ میں جس چیز کے بارے میں بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے،  وہ امام حسین (ع) کی زیارت کرنا ہے۔ اس بارے میں آئمہ اہل بیت (ع) نے لوگوں کو فقط زبان سے ہی شوق نہیں دلایا بلکہ خود بھی جس امام کو جب بھی زمانے کے حالات کے مطابق فرصت ملی ہے،  تو اس امام نے عملی طور پر کربلاء جا کر امام حسین (ع) کی زیارت کی اہمیت کو لوگوں کے لیے ثابت کیا ہے کہ اس بارے میں روایات بھی بہت ہی بلند و عالی معنی و مفہوم کے ساتھ نقل ہوئی ہیں۔ یہاں تک کہ بعض آئمہ معصومین (ع) نے اپنی بیماری کی شفاء کے لیے کسی کو کربلاء امام حسین (ع) کی قبر کے نزدیک بھیجا ہے تا کہ وہ وہاں جا کر اس امام معصوم کی شفاء کے لیے دعا اور زیارت کرے اور بعض آئمہ معصومین (ع) نے امام حسین (ع) کی زیارت کرنے کو اس طرح سے بیان کیا ہے کہ بعض علماء شیعہ نے ان الفاظ سے امام حسین (ع) کی زیارت کرنے کے واجب ہونے کو سمجھا اور استنباط کیا ہے۔

امام حسین (ع) کی زیارت کے بارے میں آئمہ معصومین (ع) سے نقل ہونے والی روایات ایک طرح کی نہیں ہیں، بلکہ ہر امام معصوم کے زمانے کے حالات کے مطابق روایات بھی کئی طرح کی ہیں۔ اس لیے کہ جب ہم روایات و احادیث کی کتب کی طرف رجوع کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ بعض آئمہ سے اس بارے میں زیادہ روایات نقل ہوئی ہیں اور بعض سے اس بارے میں روایات کم نقل ہوئی ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ امام حسین (ع) کی زیارت کے بارے میں روایات بھی کم ہیں کیونکہ اس بارے میں روایات اس قدر زیادہ نقل ہوئی ہیں کہ یقینی طور پر تواتر کی حد سے بھی بالا تر ہیں۔

اس تحریر میں آئمہ معصومین (ع) کی سیرت میں امام حسین (ع) کی زیارت کے موضوع کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

حضرت رسول اكرم     (ص) اور زیارت امام حسین (ع):

شیعہ کی احادیث کی کتب میں کچھ روایات امام حسین (ع) کی زیارت کے بارے میں رسول خدا (ص) سے ذکر کی گئی ہیں کہ ان روایات سے امام حسین (ع) کی اہمیت کو رسول خدا  (ص) کے نزدیک سمجھا  جا  سکتا ہے:

حَدَّثَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ هَارُونُ بْنُ مُوسَى التَّلَّعُكْبَرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَكَرِيَّا الْعَدَوِيُّ النَّصْرِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُنْذِرِ الْمَكِّيِّ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْهَيْثَمِ قَالَ حَدَّثَنِي الْأَجْلَحُ الْكِنْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلي الله عليه و آله و سلم  وَ الْحَسَنُ عَلَى عَاتِقِهِ وَ الْحُسَيْنُ عَلَى فَخِذِهِ يَلْثِمُهُمَا وَ يُقَبِّلُهُمَا وَ يَقُولُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالاهُمَا وَ عَادِ مَا [مَنْ‏] عَادَاهُمَا ثُمَّ قَالَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ كَأَنِّي بِهِ وَ قَدْ خُضِبَتْ شَيْبَتُهُ مِنْ دَمِهِ يَدْعُو فَلَا يُجَابُ وَ يَسْتَنْصِرُ فَلَا يُنْصَرُ قُلْتُ مَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ شِرَارُ أُمَّتِي مَا لَهُمْ لَا أَنَالَهُمُ اللَّهُ شَفَاعَتِي ثُمَّ قَالَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ مَنْ زَارَهُ عَارِفاً بِحَقِّهِ كُتِبَ لَهُ ثَوَابُ أَلْفِ حَجَّةٍ وَ أَلْفِ عُمْرَةٍ أَلَا وَ مَنْ زَارَهُ فَكَأَنَّمَا زَارَنِي وَ مَنْ زَارَنِي فَكَأَنَّمَا زَارَ اللَّهَ وَ حَقُّ الزَّائِرِ عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُ‏ بِالنَّار۔

عبد اللَّه بن عباس کہتا ہے کہ: میں رسول خدا (ص) کے پاس گیا۔ میں نے دیکھا کہ امام حسن(ع) حضرت کے کندھے پر اور امام حسین (ع) حضرت کے زانو پر بیٹھے تھے،  رسول خدا  ان کے بوسے لے رہے تھے اور فرما بھی رہے تھے کہ خداوندا ان سے محبت کر جو ان سے محبت کرے اور ان سے دشمنی کر جو ان سے دشمنی کرے۔ پھر فرمایا کہ اے ابن عباس میں اپنے اس بیٹے حسین کو دیکھ رہا ہوں کہ اس کی ریش مبارک اس کے خون سے رنگین ہوئی ہے اور یہ لوگوں کو اپنی مدد کے لیے  پکارے  گا،  لیکن کوئی بھی  اس  کی مدد نہیں کرے  گا۔

ابن عباس کہتا ہے کہ میں نے پوچھا کہ کون لوگ اس امام کی مدد نہیں کریں گے ؟  فرمایا کہ میری امت کے برے لوگ کہ پتا نہیں ان کو کیا ہو گیا ہے ؟  خداوند ان لوگوں کو میری شفاعت نصیب نہیں کرے گا۔

اے ابن عباس جو بھی میرے بیٹے حسین کی صحیح معرفت کے ساتھ زیارت کرے گا،  اس کے لیے ایک ہزار حج اور ایک ہزار عمرے کا ثواب لکھا جائے گا،  اور جس نے اسکی زیارت کی گویا اس نے میری زیارت کی،  اور جس نے میری زیارت کی گویا اس نے خداوند کی زیارت کی اور زائر کا خداوند پر یہ حق ہے کہ خدا  اس کو جہنم کی آگ سے دور رکھے۔

خزاز رازى، على بن محمد، الوفاة : القرن الرابع، كفاية الأثر في النصّ على الأئمة الإثني عشر، محقق: حسينى كوهكمرى، عبد اللطيف،‏ ناشر: بيدار1401 ق‏

امام امير المؤمنين علی (ع) اور زیارت امام حسین (ع):

مولا امیر(ع) سے امام حسین (ع) کی زیارت کے بارے میں بہت ہی بہترین روایت نقل ہوئی ہے کہ حضرت امیر نے امام حسین کی زیارت پر نہ جانے کو اس بندے کی طرف سے جفا  قرار دیا ہے کہ یہ تعبیر خود  امام حسین (ع) کی زیارت کی اہمیت کو  بیان کرنے کے  لیے کافی ہے:

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الصَّفَّارِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي دَاوُدَ عَنْ سَعْدٍ عَنْ أَبِي عُمَرَ الْجَلَّابِ عَنِ الْحَرْثِ [الْحَارِثِ‏] الْأَعْوَرِ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ عليه السلام‏ بِأَبِي وَ أُمِّي الْحُسَيْنَ الْمَقْتُولَ‏ بِظَهْرِ الْكُوفَةِ وَ اللَّهِ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى الْوَحْشِ مَادَّةً أَعْنَاقَهَا عَلَى قَبْرِهِ مِنْ أَنْوَاعِ الْوَحْشِ يَبْكُونَهُ وَ يَرْثُونَهُ لَيْلًا حَتَّى الصَّبَاحِ فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَإِيَّاكُمْ وَ الْجَفَاءَ ۔

حضرت علی (ع) نے فرمایا ہے کہ: حسین کوفہ کے نزدیک قتل کیا جائے گا،  خدا کی قسم میں دیکھ رہا ہوں کہ وحشی حیوانات اس کی قبر پرگردن رکھ کر اس پرگریہ کر رہے ہیں اور رات سے صبح تک اس پر نوحے پڑھتے ہیں، جب حیوانات کا یہ  حال  ہے  تو  تم  اے  انسانوں  اس  امام  پر جفا  کرنے  سے  بچو۔

 ابن قولويه، جعفر بن محمد، الوفاة: 367،كامل الزيارات ج1 ص291، محقق: امينى، عبد الحسين‏، چاپ اول‏، ناشر: دار المرتضوية،

حضرت فاطمہ زہراء (س) اور زیارت امام حسین (ع):

امام حسین (ع) کی زیارت صدیقہ کبری (س) کی نظر میں اس قدر اہمیت کی حامل ہے کہ وہ خود اپنے بیٹے کی قبر پر حاضر ہوتی ہیں اور اس مبارک قبر کی زیارت کرنے والوں کے لیے طلب مغفرت کرتی ہیں۔

حتی اہل سنت کی بعض کتب میں نقل ہوا ہے کہ حضرت زہرا (س) نے خواب میں بعض علمائے  اہل سنت کو حکم دیا ہے کہ بعض ذاکروں سے کہیں کہ امام حسین کے مصائب کو پڑھیں۔ 

ان دونوں موارد کے بارے میں ایک ایک روایت کو ذکر کیا جاتا ہے:

روایت اول:

حَدَّثَنِي حَكِيمُ بْنُ دَاوُدَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الْوَشَّاءِ عَمَّنْ ذَكَرَهُ عَنْ دَاوُدَ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: إِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ صلي الله عليه و آله و سلم تَحْضُرُ لِزُوَّارِ قَبْرِ ابْنِهَا الْحُسَيْنِ عليه السلام فَتَسْتَغْفِرُ لَهُمْ ذُنُوبَهُمْ۔

حضرت امام صادق (ع) نے فرمایا کہ: حضرت فاطمہ(س) بنت حضرت محمّد(ص) اپنے بیٹے حسین کی قبر کی زیارت کرنے والے زائرین کے پاس حاضر ہوتی ہیں اور ان کے گناہوں کی بخشش کے لیے دعا کرتی ہیں۔

ابن قولويه، جعفر بن محمد، الوفاة: 367، كامل الزيارات ج1 ص118، محقق: امينى، عبد الحسين‏، چاپ اول‏، ناشر: دار المرتضوية، 

روایت دوم:

کتب اہل سنت میں صحيح سند کے ساتھ نقل ہوا ہے کہ حضرت زہرا (س) اہل سنت کے عالم کی خواب میں آتی  اور اس سے کہا کہ کربلا جاؤ.......

أنبأنا أحمد بن أزهر بن السباك قال أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الباقي الأنصاري في كتابه عن أبي القاسم علي بن المحسن التنوخي عن أبيه أبي علي قال حدثني أبي قال خرج إلينا أبو الحسن الكرخي يوما فقال تعرفون ببغداد رجلا يقال له ابن أصدق فلم يعرفه من أهل المجلس غيري و قلت أعرفه فكيف سألت عنه قال أي شيء يعمل قالت ينوح على ابن علي عليهما السلام قال فبكى أبو الحسن و قال عندي عجوز تزينني من أهل كرخ جدان يغلب على لسانها النبطية و لا يمكنها أن تقيم كلمة عربية فضلا عن أن تحفظ شعرا و هي من صوالح النساء و تكثر من الصلاة و الصوم و التهجد و انتبهت البارحة في جوف الليل و منامها قريب من منامي فصاحت أبو الحسن أبو الحسن قلت ما لك قالت إلحقني فجئتها و وجدتها ترعد وقلت ما أصابك قالت رأيت في منامي و قد صليت وردي و نمت كأني في درب من دروب الكرخ فيه حجرة محمرة بالساج مبيضة بالأسفيداج مفتوحة الباب و عليه نساء وقوف فقلت لهم ما الخبر فأشاروا إلى داخل الدار و إذا امرأة شابة حسناء بارعة الجمال و الكمال و عليها ثياب بياض مروية من فوقها إزار شديد البياض قد التفت به و في حجرها رأس يشخب دما ففزعت و قالت لا عليك أنا فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه و سلم و هذا رأس الحسين صلوات الله على الجماعة فقولي لابن أصدق حتى ينوح 

لم أمرضه فأسلو *** لا و لا كان مريضا *** و انتبهت مذعورة

قال أبو الحسن و قالت العجوز ( أمرظه ) بالظاء لأنها لا تتمكن من إقامة الضاد فسكنت منها إلى أن عاودت نومها و قال أبو القاسم ثم قال لي مع معرفتك بالرجل فقد حملتك الأمانة في هذه الرسالة فقلت سمعا و طاعة لأمر سيدة النساء رضوان الله تعالى عليها قال و كان هذا في شعبان و الناس في إذ ذاك يلقون أذى شديدا و جهدا جهيدا من الحنابلة و إذا أرادوا زيارة المشهد بالحائر خرجوا على استتار و مخافة فلم أزل أتلطف في الخروج حتى تمكنت منه و حصلت في الحائر ليلة النصف من شعبان و سألت عن أصدق فدللت عليه و دعوته و حضرني فقلت له إن فاطمة عليها السلام تأمرك أن تنوح بالقصيدة التي فيها

                  لم أمرضه فأسلوا         لا و لا كان مريضا

فانزعج من ذلك و قصصت عليه و على من كان معه عندي الحديث فأجهشوا بالبكاء و ناح بذلك طول ليلته و أول القصيدة 

                أيها العينان فيضا             و استهلا لا تغيضا

میرے والد نے نقل کیا ہے کہ ایک دن ابو الحسن کاتب کرخی ہمارے پاس آیا اور کہا کہ کیا تم بغداد میں ابن اصدق نامی ایک بندے کو جانتے ہو ؟  اس محفل میں اس کو میرے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا۔ میں نے کہا میں اس کو جانتا ہوں، کیوں کیا ہوا ہے کہ اس کے بارے میں اس طرح پوچھ رہے ہو ؟  ابو  الحسن نے کہا: یہ ابن اصدق کیا کام کرتا ہے ؟  میں نے امام حسین (ع) کے لیے نوحہ خوانی کرتا ہے۔  یہ سن کر ابو  الحسن نے گریہ کیا اور کہا  میرے پاس ایک بوڑھی عورت ہے کہ بچپن سے اس نے ہی مجھے پالا  ہے۔ وہ کرخ کے محلے جدان کی رہنے والی ہے اور اس کی زبان اب اس قابل نہیں رہی کہ عربی  کا ایک لفظ بھی صحیح طریقے سے بول سکے، کوئی شعر یا کوئی روایت اس کے لیے پڑھنا تو بہت دور کی بات ہے۔ ایک رات وہ اچانک بیدار ہو گئی کیونکہ اس کے سونے کی جگہ میرے سونے کی جگہ کے نزدیک  تھی،  اس نے اونچی آواز سے کہا کہ اے  ابو  الحسن اٹھو میرے پاس آؤ۔  میں نے کہا کیا ہوا ہے  ؟  میں اس کے پاس گیا دیکھا کہ وہ کانپ رہی ہے۔  میں نے کہا کیا ہوا ہے ؟  اس نے کہا کہ میں نے خواب  دیکھا ہے کہ میں کرخ کے دروازوں میں سے ایک دروازے کے سامنے ہوں۔ میں نے ایک خوبصورت کمرے کو دیکھا کہ جس کی دیواریں سفید اور سرخ رنگ کی تھیں،  اس کمرے کا  دروازہ کھولا ہوا تھا اور عورتیں دروازے کے سامنے کھڑی تھیں۔  میں نے ان سے پوچھا کہ کون فوت ہوا  ہے  ؟ یہاں پر کیا ہوا ہے ؟  انھوں نے کمرے کے اندر کی طرف اشارہ کیا۔  میں بھی کمرے کے اندر چلی گئی۔ میں نے دیکھا کہ کمرہ بہت ہی خوبصورت ہے اور اس کے وسط میں جوان عورت بیٹھی ہے کہ میں نے اس جیسی خوبصورت عورت آج تک نہیں دیکھی تھی اور  اس نے سفید رنگ کا  لمبا  سا  لباس  پہنا ہوا تھا کہ اس لباس کے ایک کونے سے خون نکل رہا تھا۔

میں نے پوچھا کہ آپ کون ہیں ؟  فرمایا میں رسول خدا (ص) کی بیٹی فاطمہ ہوں اور یہ میرے بیٹے حسین کا سر ہے۔  میری طرف سے ابن اصدق سے کہو کہ اس شعر کو نوحے کے طور پر پڑھے کہ: میرا بیٹا بیمار نہیں تھا کہ بیماری کی وجہ سے دنیا سے گیا ہو حتی واقعہ کربلا  سے  پہلے بھی بیمار نہیں ہوا تھا۔  ابو الحسن نے کہا اے ابو القاسم اب کہ تم ابن اصدق کو جانتے ہو۔  امانتداری کے ساتھ اس خبر کو اس تک پہنچا  دو۔  میں نے کہا  بی بی فاطمہ(س) کی خاطر میں یہ خبر ضرور  ابن اصدق  تک پہنچاؤں گا۔

ابو القاسم تنوخی کہتا ہے کہ: یہ ماہ شعبان کا واقعہ ہے  اور جب لوگ  امام حسین (ع) کی زیارت کے لیے جاتے تھے تو راستے میں ان کو حنبلی مذہب کے لوگ بہت تنگ کیا کرتے تھے۔  میں نے کوشش اور تلاش کر کے آخر کار خود کو  15 شعبان کی شب کربلاء  پہنچا  ہی لیا۔  ادھر پہنچ کر ابن اصدق کا معلوم کرتے کرتے میں نے اس کو ڈھونڈ ہی لیا اور اس سے کہا کہ حضرت زہرا (س) نے تم کو حکم  دیا ہے کہ تم اس مرثیے کو پڑھو کہ جس کا عنوان امام حسین  کا  نوحہ  ہے۔  میں نے ابن اصدق سے کہا کہ مجھے اس واقعے سے پہلے اس مرثیے کا پتا نہیں تھا۔  یہ سن کر ابن اصدق کی عجیب سی حالت ہو گئی۔  میں نے اس خواب کو اس کے لیے اور محفل میں حاضر سب لوگوں کے لیے مکمل طور پر  بیان کیا۔  سب نے بہت ہی زیادہ گریہ کیا اور ساری رات اسی مرثیے کے ساتھ نوحہ خوانی ہوتی رہی۔  اس مرثیے کا پہلا شعر یہ ہے:

 اے میری دو آنکھو  اشک بہاؤ،  بہت ہی شدید گریہ کرو،  اس طرح گریہ کرو کہ تمہارے اشک کبھی خشک  نہ  ہوں،

ابن  العدیم نے لکھا ہے کہ: ابو  الحسن کرخی  ابو حنیفہ کے بزرگترین  اصحاب  میں  سے  ہے۔

يافعی نے  ابو  القاسم تنوخی کے بارے میں لکھا ہے کہ:

ابو  القاسم علی  ابن محمد تنوخی حنفی قاضی  اور بہت  زیادہ  ذہین تھا،  اشعار کو  بیان کیا  کرتا  تھا،  علم  کلام  اور علم نحو میں بہت  مہارت  رکھتا  تھا  اور  اس  کی  اپنی بھی  اشعار کی  ایک  کتاب تھی۔

كمال الدين عمر بن أحمد بن أبي جرادة الوفاة: 660، بغية الطلب في تاريخ حلب  ج 6 ص 2655، دار النشر : دار الفكر ، تحقيق : د. سهيل زكار  

امام حسن (ع) اور  زیارت  امام حسین (ع):

بعض روایات میں امام حسن (ع) کا امام حسین (ع) کی زیارت کو بہت زیادہ  اہمیت  دینے  کے بارے  میں  اشارہ  ہوا  ہے۔

وَ بِالْإِسْنَادِ عَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ: كُنْتُ نَازِلًا بِالْكُوفَةِ وَ كَانَ لِي جَارٌ كَثِيراً مَا كُنْتُ أَقْعُدُ إِلَيْهِ وَ كَانَ لَيْلَةُ الْجُمُعَةِ فَقُلْتُ لَهُ: مَا تَقُولُ فِي زِيَارَةِ الْحُسَيْنِ، فَقَالَ لِي: بِدْعَةٌ وَ كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ وَ كُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ، فَقُمْتُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ أَنَا مُمْتَلِئٌ غَيْظاً وَ قُلْتُ: إِذَا كَانَ السَّحَرُ أَتَيْتُهُ فَحَدَّثْتُهُ مِنْ فَضَائِلِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ مَا يَشْحَنُ‏ اللَّهُ بِهِ عَيْنَيْهِ قَالَ: فَأَتَيْتُهُ وَ قَرَعْتُ عَلَيْهِ الْبَابَ، فَإِذَا أَنَا بِصَوْتٍ مِنْ وَرَاءِ الْبَابِ إِنَّهُ قَدْ قَصَدَ الزِّيَارَةَ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ، فَخَرَجْتُ مُسْرِعاً فَأَتَيْتُ الْحَيْرَ، فَإِذَا أَنَا بِالشَّيْخِ سَاجِدٌ لَا يَمَلُّ مِنَ السُّجُودِ وَ الرُّكُوعِ، فَقُلْتُ لَهُ: بِالْأَمْسِ تَقُولُ لِي بِدْعَةٌ وَ كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ وَ كُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ وَ الْيَوْمَ تَزُورُهُ، فَقَالَ لِي: يَا سُلَيْمَانُ لَا تَلُمْنِي فَإِنِّي مَا كُنْتُ أُثْبِتُ لِأَهْلِ هَذَا الْبَيْتِ إِمَامَةً حَتَّى كَانَتْ لَيْلَتِي هَذِهِ فَرَأَيْتُ رُؤْيَا أَرْعَبَتْنِي فَقُلْتُ: مَا رَأَيْتَ! أَيُّهَا الشَّيْخُ. قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا لَا بِالطَّوِيلِ الشَّاهِقِ وَ لَا بِالْقَصِيرِ اللَّاصِقِ، لَا أُحْسِنُ أَصِفُهُ مِنْ حُسْنِهِ وَ بَهَائِهِ، مَعَهُ أَقْوَامٌ يَحُفُّونَ بِهِ حَفِيفاً وَ يَزِفُّونَهُ زَفّاً، بَيْنَ يَدَيْهِ فَارِسٌ عَلَى فَرَسٍ لَهُ ذَنُوبٌ، عَلَى رَأْسِهِ تَاجٌ، لِلتَّاجِ أَرْبَعَةُ أَرْكَانٍ، فِي كُلِّ رُكْنٍ جَوْهَرَةٌ تُضِي‏ءُ مَسِيرَةَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا، فَقَالُوا: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ و سلم، فَقُلْتُ: وَ الْآخَرُ، فَقَالُوا: وَصِيُّهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ، ثُمَّ مَدَدْتُ عَيْنِي فَإِذَا أَنَا بِنَاقَةٍ مِنْ نُورٍ عَلَيْهَا هَوْدَجٌ مِنْ نُورٍ تَطِيرُ بَيْنَ السَّمَاءِ وَ الْأَرْضِ، فَقُلْتُ: لِمَنِ النَّاقَةُ، قَالُوا: لِخَدِيجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ وَ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ، قُلْتُ: وَ الْغُلَامُ، قَالُوا: الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، قُلْتُ: فَأَيْنَ يُرِيدُونَ، قَالُوا: يَمْضُونَ بِأَجْمَعِهِمْ إِلَى زِيَارَةِ الْمَقْتُولِ ظُلْماً الشَّهِيدِ بِكَرْبَلَاءَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، ثُمَّ قَصَدْتُ الْهَوْدَجَ وَ إِذَا أَنَا بِرِقَاعٍ تَسَاقَطُ مِنَ السَّمَاءِ أَمَاناً مِنَ اللَّهِ جَلَّ ذِكْرُهُ لِزُوَّارِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ هَتَفَ بِنَا هَاتِفٌ: أَلَا إِنَّنَا وَ شِيعَتَنَا فِي الدَّرَجَةِ الْعُلْيَا مِنَ الْجَنَّةِ، وَ اللَّهِ يَا سُلَيْمَانُ لَا أُفَارِقُ هَذَا الْمَكَانَ حَتَّى يُفَارِقَ رُوحِي جَسَدِي۔

سلیمان  اعمش کہتا ہے کہ: میں کوفے میں رہتا تھا۔  میرا  ایک  ہمسایہ تھا  میں اس کے پاس آیا  جایا کرتا  تھا۔  ایک دن میں شب  جمعہ کو  اس کے پاس گیا  اور کہا کہ تمہارا  امام حسین (ع) کی زیارت کرنے کے بارے میں کیا  عقیدہ  ہے ؟  اس نے کہا: بدعت  ہے،  ہر بدعت گمراہی  ہے  اور گمراہ انسان جہنم میں  ڈالا  جائے  گا۔  اعمش کہتا ہے کہ میں غصے کی حالت میں اس کے پاس  سے اٹھ کر  اپنے گھر آ  گیا  اور میں نے ارادہ کیا کہ صبح کے اس کے پاس آ کر اس کے لیے  امام حسین (ع) کے کچھ فضائل اور کرامات  بیان کروں گا۔  اگر پھر بھی  اس  نے  اپنے  عقیدے  پر  اصرار کیا  تو  میں  اس کو قتل کر دوں گا۔  صبح  کے وقت میں اس ہمسائے کے گھر گیا،  دروازے  پر  دستک  دی  اور  اس  کا نام لے کر آواز دی۔  اچانک اس کی بیوی کی آواز آئی اور اس نے کہا کہ میرا  شوہر کل شام سے  امام حسین (ع) کی زیارت کے لیے گیا ہوا ہے۔ یہ سن کر میں بھی اس کے پیچھے امام حسین (ع) کی قبر کی طرف چل پڑا۔ وہاں پہنچ کر میں نے دیکھا کہ وہ نماز و دعا و گریہ و توبہ و استغفار کرنے میں مصروف ہے۔ جب اس نے سجدے سے سر اٹھایا تو مجھے اپنے قریب بیٹھا ہوا دیکھا۔ میں نے اس سے کہا کہ کل تو تم امام حسین (ع) کی زیارت کو بدعت اور ہر بدعت گمراہی ہے اور گمراہ انسان جہنم میں ڈالا جائے گا،  کی بات کر رہے تھے اور آج آ کر اسی امام کی زیارت بھی کر رہے ہو !؟ اس نے کہا اے سلیمان مجھے ایسا مت کہو کیونکہ میں اہل بیت کی امامت کا عقیدہ نہیں رکھتا تھا لیکن کل میں نے ایک خواب دیکھا ہے کہ جس نے مجھے بہت ڈرا دیا ہے۔ میں نے کہا کیا خواب دیکھا ہے ؟ اس نے  کہا: میں نے خواب میں بہت محترم شخص کو دیکھا ہے کہ جس کا قد بہت بلند یا بہت چھوٹا نہیں تھا۔ مجھ میں یہ جرات نہیں کہ اس کی عظمت، جلال، ہیبت اور کمال کو بیان کر سکوں۔ وہ چند لوگوں کے ساتھ تھا کہ جو اس کے ارد گرد تھے کہ جو اسکو بہت تیزی سے لائے اور ان کے سامنے ایک سواری تھی کہ جس کے سر پر تاج تھا اور جس کے چار کونے تھے کہ جس کے ہر کونے پر ایک گوہر تھا کہ جو تین دن تک کے فاصلے کے راستے کو نورانی کر رہا تھا۔ میں نے ان میں سے ایک خادم کو کہا کہ یہ کون  ہیں ؟  اس نے کہا یہ حضرت محمّد مصطفى(ص) ہیں۔ میں نے کہا وہ اس کے ساتھ دوسرا بندہ کون ہے ؟ اس نے کہا وہ علی مرتضی(ع) ہیں کہ جو ان کے وصی ہیں، پھر میں نے ایک نورانی سواری کو دیکھا کہ اس پر ایکنورانی ہودج تھا۔ اس ہودج میں دو خواتین بیٹھی ہوئی تھیں۔ وہ سواری زمین اور آسمان کے درمیان پرواز کر رہی تھی۔ میں کہا یہ سواری کس کی ہے ؟ اس نے کہا کہ یہ حضرت خدیجہ کبری(س) اور انکی بیٹی فاطمہ کبری(س) کی ہے۔ پھر میں نے کہا یہ بچہ کون ہے ؟ اس نے کہا کہ یہ حسن ابن علی(ع) ہیں۔ پھر میں نے کہا کہ یہ سب اکٹھے مل کر کہاں جا رہے ہیں ؟ اس نے کہا وہ سب امام حسین(ع) کہ جو کربلاء میں شہید ہوئے تھے، کی زیارت کے لیے جا رہے ہیں۔ پھر میں نے حضرت فاطمہ کے ہودج کی طرف دیکھا کہ کچھ کاغذ کہ جن پر کچھ لکھا ہوا تھا آسمان سے زمین کی طرف گر رہے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ یہ کاغذ کیا ہیں ؟ اس نے کہا یہ ان زائرین کے لیے جہنم کی آگ سے امان نامہ ہے کہ جو شب جمعہ امام حسین(ع) کی زیارت کے لیے جاتے ہیں۔ جب میں نے آگے ہو کر ان میں سے ایک کاغذ لینا چاہا تو اس نے مجھ سے کہا تم تو کہتے ہو کہ امام حسین کی قبر کی زیارت کرنا بدعت ہے۔ تم کو یہ کاغذ تب ہی ملے گا کہ جب تم امام حسین(ع) کی زیارت کرو گے اور اس امام کی عظمت اور شرافت کے قائل ہو گے۔ میں اس اضطراب اور پریشانی کی حالت میں نیند سے بیدار ہو گیا اور اسی وقت گھر سے امام حسین کی زیارت کرنے کے لیے نکل پڑا ہوں۔ اب میں نے توبہ کر لی ہے۔ اے سلیمان اب میں مرتے دم تک امام حسین(ع) کی قبر سے دور نہیں ہوں گا۔

ابن مشهدى، محمد بن جعفر، الوفاة: 610 ق‏، المزار الكبير ج1 ص330،محقق: قيومى اصفهانى،جواد،چاپ: اول‏،ناشر: دفتر انتشارات اسلامى جامعه مدرسين حوزه علميه قم‏،

امام حسين  (ع) اور  زیارت  امام حسین (ع):

بہت سی روایات بہت ہی بلند اور عالی مفہوم و معانی کے ساتھ امام حسین(ع) کی مبارک زبان سے زیارت کربلاء کے بارے میں کہ جو بھی کربلاکی زیارت کرے گا خداوند اس کو جہنم کی آگ سے دور رکھے گا۔ اس بارے میں دو روایت کو ذکر کیا جا رہا ہے:

روايت اول:

رَوَيْنَاهُ بِإِسْنَادِنَا إِلَى مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ دَاوُدَ الْقُمِّيِّ، مِنْ كِتَابِ الزِّيَارَاتِ تَصْنِيفِهِ، بِإِسْنَادِهِ إِلَى مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ بْنِ عُقْبَةَ قَالَ: كَانَ لَنَا جَارٌ يُعْرَفُ بِعَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ: كُنْتُ أَزُورُ الْحُسَيْنَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي كُلِّ شَهْرٍ، قَالَ: ثُمَّ عَلَتْ سِنِّي وَ ضَعُفَ جِسْمِي وَ انْقَطَعَتْ عَنْهُ مُدَّةٌ، ثُمَّ وَقَعَ إِلَيَّ أَنَّهَا آخِرُ سِنِي عُمُرِي، فَحَمَلْتُ عَلَى نَفْسِي وَ خَرَجْتُ مَاشِياً، فَوَصَلْتُ فِي أَيَّامٍ، فَسَلَّمْتُ وَ صَلَّيْتُ رَكْعَتَيِ الزِّيَارَةِ وَ نِمْتُ، فَرَأَيْتُ الْحُسَيْنَ عليه السلام قَدْ خَرَجَ مِنَ الْقَبْرِ. فَقَالَ لِي: «يَا عَلِيُّ، لِمَ جَفَوْتَنِي وَ كُنْتَ بِي بَرّاً؟» فَقُلْتُ: يَا سَيِّدِي، ضَعُفَ جِسْمِي وَ قَصُرَتْ خُطَايَ، وَ وَقَعَ لِي أَنَّهَا آخِرُ سِنِي عُمُرِي فَأَتَيْتُكَ فِي أَيَّامٍ، وَ قَدْ رُوِيَ عَنْكَ شَيْ‏ءٌ أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْكَ. فَقَالَ: «قُلْ». قَالَ: قُلْتُ: رُوِيَ عَنْكَ «مَنْ زَارَنِي فِي حَيَاتِهِ زُرْتُهُ بَعْدَ وَفَاتِهِ». قَالَ: «نَعَمْ». قُلْتُ: فَأَرْوِيهِ عَنْكَ «مَنْ زَارَنِي فِي حَيَاتِهِ زُرْتُهُ بَعْدَ وَفَاتِهِ». قَالَ: «نَعَمْ ارْوِ عَنِّي‏: مَنْ زَارَنِي فِي حَيَاتِهِ زُرْتُهُ بَعْدَ وَفَاتِهِ، وَ إِنْ وَجَدْتُهُ فِي النَّارِ أَخْرَجْتُهُ۔

داود ابن عقبہ کہتا ہے کہ میرا ایک ہمسایہ تھا کہ جس کا نام محمد ابن علی تھا، محمد ابن علی کہتا ہے کہ میں ہر مہینے امام حسین(ع) کی زیارت کے لیے جاتا تھا لیکن جب میری عمر زیادہ ہو گئی اور بدن ضعیف ہو گیا تو تھوڑا عرصہ میں زیارت کے لیے نہ جا سکا۔ جب میں نے احساس کیا کہ اب میری زندگی کے آخری ایام ہیں تو میں پیدل امام حسین(ع) کی زیارت کرنے کے لیے چل پڑا۔ چند دنوں کے بعد میں آخر کار کربلاء پہنچ گیا۔ میں نے امام حسین(ع) کو سلام کیا اور دو رکعت نماز پڑھی اور پھر سو گیا۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ امام حسین قبر سے باہر آئے ہیں اور مجھ سے فرمایا کہ تم تو مجھ پر نیکی کرنے والے تھے پس اب کیوں تم نے مجھ پر جفا کرنا شروع کر دیا ہے ؟ میں نے کہا اے میرے مولا میرا بدن کمزور اور ٹانگیں ضعیف  ہو گی ہیں اس لیے تھوڑا عرصہ زیارت کے لیے نہیں آ سکا لیکن اب زندگی کے آخری ایام میں پیدل چلتا ہوا آپ کی زیارت کے لیے آیا ہوں۔ میں نے آپ سے منسوب ایک روایت کو سنا ہے میں چاہتا ہوں کہ اب اس روایت کو آپ کی مبارک زبان سے سنوں۔ اس پر امام حسین(ع) نے فرمایا کہ بولو کون سی روایت ہے ؟ میں نے کہا آپ سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا ہے کہ جو بھی میری زیارت کے لیے آئے گا تو میں بھی اس کی وفات کے بعد اسکی زیارت کے لیے آؤں گا۔ امام حسین(ع) نے فرمایا ہاں تم نے  ٹھیک سنا ہے۔ میں نے عرض کیا: کیا اس روایت کو آپ سے نقل کروں ؟ امام نے فرمایا ہاں اس روایت کو میری طرف  سے نقل کرو کہ: جو بھی میری زیارت کے لیے آئے گا تو میں بھی اس کے مرنے کے بعد اسکی زیارت کے لیے آؤں گا اور اگر میں نے دیکھا کہ وہ جہنم کی  آگ  میں  ہے  تو  اس کو  وہاں سے  باہر نکالوں  گا۔

ابن طاووس، على بن موسى‏، الوفاة: 664 ق‏، الدروع الواقية ج1 ص75، چاپ اول، ناشر: مؤسسة آل البيت عليهم السلام‏

روايت دوم:

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْمُتَوَكِّلِ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ السَّعْدَ آبَادِيُّ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَرْقِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ مُسْكَانَ عَنْ هَارُونَ بْنِ خَارِجَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ قَالَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عليهما السلام أَنَا قَتِيلُ الْعَبْرَةِ قُتِلْتُ مَكْرُوباً وَ حَقِيقٌ‏ عَلَى‏ اللَّهِ‏ أَنْ لَا يَأْتِيَنِي مَكْرُوبٌ إِلَّا أَرُدَّهُ وَ أَقْلِبَهُ إِلَى أَهْلِهِ مَسْرُوراً۔

امام حسین(ع) نے فرمایا کہ میں اشکوں سے شہید کیا گیا ہوں، میں غم و حزن کی حالت میں قتل کیا گیا ہوں، اب خداوند کا کام ہے کہ جو بھی جس مصیبت میں مبتلا بندہ میری زیارت کے لیے آئے گا، خداوند اس کو خوشحالی کی حالت میں اس کے گھر واپس پہنچائے گا۔

 ابن بابويه، محمد بن على، الوفاة: 381 ق،‏ ثواب الأعمال و عقاب الأعمال ج1 ص98،‏ چاپ دوم، ناشر: دار الشريف الرضي للنشر۔

امام  سجاد  (ع) اور  زیارت  امام حسین (ع):

امام سجاد (ع) کہ جو خود بھی واقعہ کربلاء میں حاضر تھے، انھوں نے عملی طور پر اپنے والد محترم امام حسین (ع) کی زیارت کے لیے کربلا جا کر زیارت کی اہمیت کو  ثابت کیا  ہے: 

عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي حَمَّادٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ مَالِكِ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ قَالَ: إِنَّ أَوَّلَ مَا عَرَفْتُ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ عليهما السلام أَنِّي رَأَيْتُ رَجُلًا دَخَلَ مِنْ بَابِ الْفِيلِ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ‏  فَتَبِعْتُهُ حَتَّى أَتَى بِئْرَ الزَّكَاةِ وَ هِيَ عِنْدَ دَارِ صَالِحِ بْنِ عَلِيٍّ وَ إِذَا بِنَاقَتَيْنِ مَعْقُولَتَيْنِ وَ مَعَهُمَا غُلَامٌ أَسْوَدُ فَقُلْتُ لَهُ مَنْ هَذَا فَقَالَ هَذَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ عليه السلام فَدَنَوْتُ إِلَيْهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَ قُلْتُ لَهُ مَا أَقْدَمَكَ بِلَاداً قُتِلَ فِيهَا أَبُوكَ وَ جَدُّكَ فَقَالَ زُرْتُ‏ أَبِي‏ وَ صَلَّيْتُ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ ثُمَّ قَالَ هَا هُوَ ذَا وَجْهِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ‏ و آله و سلم.

ابو حمزہ کہتا ہے کہ پہلی مرتبہ کہ جب میں نے علی ابن الحسین (ع) کو پہچانا تو یہ وہ دن تھا کہ جب میں نے دیکھا کہ ایک بندہ مسجد کوفہ کے باب الفیل سے داخل ہوا اور اس نے چار رکعت نماز پڑھی۔ میں اس بندے کے پیچھے گیا کہ جو بئر الزکاۃ (کنوئیں کا نام) کہ صالح ابن علی کے گھر کے نزدیک تھا، پہنچ گیا تھا۔ وہاں میں نے زانو سے بندھے ہوئے دو اونٹ اور کالے غلام کو دیکھا۔ میں نے غلام سے پوچھا کہ یہ کون ہے ؟ اس نے کہا وہ علی ابن الحسین ہیں۔ یہ سن کر میں ان کے نزدیک گیا اور ان کو سلام کیا اور ان سے کہا: کیا ہوا ہے کہ آپ جگہ تشریف لائے ہیں ؟ کیونکہ یہ وہ جگہ ہے کہ جہاں پر آپ کے بابا اور جدّ کو شہید کیا گیا۔ امام (ع) نے فرمایا کہ میں اپنے والد کی زیارت کے لیے آیا ہوں اور میں نے اس مسجد میں نماز پڑھی  ہے  اور  اب  میں  واپس  مدینہ  جا  رہا  ہوں۔

 كلينى، محمد بن يعقوب بن اسحاق، الوفاة: 329 ق‏، الكافي ج8 ص255،محقق:غفارى على اكبر و آخوندى،محمد،چاپ چهارم، ‏ناشر: دار الكتب الإسلامية

امام محمد باقر  (ع) اور زیارت  امام حسین (ع):

امام باقر (ع) نے لوگوں کو امام حسین (ع) کی زیارت کا شوق دلانے کے لیے، زیارت کا ثواب بیان کرنے کے علاوہ بعض روایات میں واضح طور پر امام حسین (ع) کی زیارت کرنے کا حکم دیا ہے کہ اگر ان روایات سے زیارت کرنے کا واجب ہونا نہ بھی سمجھا جائے تو کم از کم امام حسین کی زیارت کا مستحب مؤکد ہونا ثابت  ہوتا  ہے۔

روایت اول:

حَدَّثَنِي أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحِمْيَرِيِّ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ الْبَرْقِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ الْعَظِيمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ الْحَكَمِ النَّخَعِيِّ عَنْ أَبِي حَمَّادٍ الْأَعْرَابِيِّ عَنْ سَدِيرٍ الصَّيْرَفِيِّ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام فَذَكَرَ فَتًى‏ قَبْرَ الْحُسَيْنِ‏ عليه السلام فَقَالَ لَهُ أَبُو جَعْفَرٍ عليه السلام مَا أَتَاهُ عَبْدٌ فَخَطَا خُطْوَةً إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ حَسَنَةً وَ حَطَّ عَنْهُ سَيِّئَة.

سدير صیرفی نے کہا ہے کہ میں امام محمد باقر (ع) کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک بندے نے امام حسین (ع) کی قبر مبارک کا ذکر کیا تو امام باقر نے اس سے فرمایا کہ جو بھی بندہ امام حسین کی زیارت کے لیے جائے خداوند ہر قدم کے بدلے میں اس کے  لیے  ایک نیکی  کو  لکھتا  ہے  اور  اس کے  ایک  گناہ  کو معاف فرماتا ہے۔

ابن قولويه، جعفر بن محمد، الوفاة: 367،كامل الزيارات ج1 ص134، محقق: امينى، عبد الحسين‏، چاپ اول‏، ناشر: دار المرتضوية،

روایت دوم:

حَدَّثَنِي أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ وَ جَمَاعَةُ مَشَايِخِي عَنْ سَعْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْعَطَّارِ وَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحِمْيَرِيِّ جَمِيعاً عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ بَزِيعٍ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام قَالَ: مُرُوا شِيعَتَنَا بِزِيَارَةِ قَبْرِ الْحُسَيْنِ عليه السلام فَإِنَّ إِتْيَانَهُ يَزِيدُ فِي الرِّزْقِ وَ يَمُدُّ فِي الْعُمُرِ وَ يَدْفَعُ مَدَافِعَ السَّوْءِ وَ إِتْيَانَهُ مُفْتَرَضٌ عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ يُقِرُّ لِلْحُسَيْنِ بِالْإِمَامَةِ مِنَ اللَّهِ.

امام باقر (ع) نے فرمایا ہے کہ ہمارے شیعوں کو امام حسین (ع) کی زیارت کرنے کا حکم دو کہ ان امام کی زیارت کرنا رزق کو زیادہ، انسان کی عمر کو طولانی اور اس سے بلاؤں کو دور کرتا ہے۔ امام حسین کی زیارت کرنا ہر اس انسان پر کہ جو امام حسین (ع) کی امامت کو خداوند کی طرف سے ہونے کا اقرار کرتا ہے ، واجب و ضروری  ہے۔

ابن قولويه، جعفر بن محمد، الوفاة: 367،كامل الزيارات ج1 ص150، محقق: امينى، عبد الحسين‏، چاپ اول‏، ناشر: دار المرتضوية، 

روایت سوم:

وَ بِإِسْنَادِهِ عَنْ سَيْفِ بْنِ عَمِيرَةَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ‏ مَنْ أَرَادَ أَنْ يَعْلَمَ أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَعْرِضُ حُبَّنَا عَلَى قَلْبِهِ فَإِنْ قَبِلَهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ وَ مَنْ كَانَ لَنَا مُحِبّاً فَلْيَرْغَبْ فِي زِيَارَةِ قَبْرِ الْحُسَيْنِ عليه السلام فَمَنْ كَانَ لِلْحُسَيْنِ عليه السلام زَوَّاراً عَرَفْنَاهُ بِالْحُبِّ لَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ وَ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَ مَنْ لَمْ يَكُنْ لِلْحُسَيْنِ زَوَّاراً كَانَ نَاقِصَ الْإِيمَانِ۔

حضرت امام محمد باقر(ع) نے فرمایا کہ جو یہ جاننا چاہے کہ وہ اہل جنت ہے یا نہیں تو وہ ہم اہل بیت کی محبت کو اپنے دل میں ہونے یا نہ ہونے کو چیک کرے۔ پس اگر اس کے دل میں ہماری محبت ہو تو وہ مؤمن ہے اور جو بھی ہمارا محبّ اور ہم سے محبت کرنے والا ہے وہ امام حسین (ع) کی زیارت کا شوق دل میں رکھنے والا ہو۔ لہذا جو شخص بھی امام حسین کا زائر ہو ہم اسکو اپنا محبّ مانتے ہیں اور وہ اہل جنت میں سے ہو گا اور جو امام حسین (ع) کی زیارت کے لیے زیادہ نہ جاتا ہو تو اس بندے کا ایمان ناقص اور مکمل نہیں ہے۔

ابن قولويه، جعفر بن محمد، الوفاة: 367،كامل الزيارات ج1 ص193، محقق: امينى، عبد الحسين‏، چاپ اول‏، ناشر: دار المرتضوية، 

امام صادق (ع) اور زیارت امام حسین (ع):

امام حسین(ع) کی زیارت کے بارے میں امام صادق (ع) سے بہت زیادہ روایات نقل ہوئی ہیں کہ جن میں امام صادق نے امام حسین کی زیارت کے ثواب کو عام طور پر اور زیارت اربعین کے ثواب کو خاص طور پر بیان کیا ہے اور خود بھی عملی طور پر امام حسین (ع) کی  زیارت کے لیے کربلا گئے ہیں:

روایت=1

حَدَّثَنِي أَبِي وَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ رَحِمَهُمُ اللَّهُ جَمِيعاً عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مَتِّيلٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الْكُوفِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حَسَّانَ الْهَاشِمِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَثِيرٍ مَوْلَى أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ حَجَ‏ دَهْرَهُ‏ ثُمَّ لَمْ يَزُرِ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ عليهما السلام  لَكَانَ تَارِكاً حَقّاً مِنْ حُقُوقِ اللَّهِ وَ حُقُوقِ رَسُولِ اللَّهِ صلي الله عليه و آله و سلم  لِأَنَّ حَقَّ الْحُسَيْنِ عليه السلام فَرِيضَةٌ مِنَ اللَّهِ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِم۔

امام صادق (ع) نے فرمایا ہے کہ: تم میں سے جو بھی اپنی زندگی میں حج کے لیے مکے جائے لیکن امام حسین کی زیارت کے لیے کربلا نہ جائے تو اس نے یقینی طور پر خداوند اور رسول خدا (ص) کے بعض حقوق کو ترک کیا ہے کیونکہ امام حسین (ع) کا حق فرض اور ضروری ہے کہ جو خداوند کی طرف سے ہر مسلمان پر واجب ہے۔

ابن قولويه، جعفر بن محمد، الوفاة: 367،كامل الزيارات ج1 ص122، محقق: امينى، عبد الحسين‏، چاپ اول‏، ناشر: دار المرتضوية، 

روایت =2

حَدَّثَنِي أَبِي وَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ رَحِمَهُمُ اللَّهُ جَمِيعاً عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنِ السُّحْتِ الْخَزَّازِ قَالَ حَدَّثَنَا حَفْصٌ الْمُزَنِيُّ عَنْ عُمَرَ بْنِ بَيَاضٍ عَنْ أَبَانِ بْنِ تَغْلِبَ قَالَ: قَالَ لِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ يَا أَبَانُ مَتَى عَهْدُكَ بِقَبْرِ الْحُسَيْنِ عليه السلام قُلْتُ لَا وَ اللَّهِ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ مَا لِي بِهِ عَهْدٌ مُنْذُ حِينٍ فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَ أَنْتَ مِنْ رُؤَسَاءِ الشِّيعَةِ تَتْرُكُ‏ زِيَارَةَ الْحُسَيْنِ‏ عليه السلام لَا تَزُورُهُ- مَنْ زَارَ الْحُسَيْنَ عليه السلام كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ حَسَنَةً وَ مَحَا عَنْهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ سَيِّئَةً وَ غَفَرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَ مَا تَأَخَّرَ يَا أَبَانُ لَقَدْ قُتِلَ الْحُسَيْنُ عليه السلام فَهَبَطَ عَلَى قَبْرِهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ شُعْثٌ غُبْرٌ يَبْكُونَ عَلَيْهِ وَ يَنُوحُونَ عَلَيْهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ۔

ابان ابن تغلب نے کہا ہے کہ امام صادق (ع) نے مجھے فرمایا ہے کہ اے ابان تم نے امام حسین (ع) کی قبر کی کب زیارت کی ہے ؟ ابان نے کہا کہ اے رسول خدا کے بیٹے میں نے ابھی تک امام حسین کی قبر کی زیارت نہیں کی۔ امام نے فرمایا: سبحان اللہ تم تو بزرگان شیعہ میں سے ہو اور پھر بھی امام حسین (ع) کی زیارت کو ترک کرتے ہو اور زیارت کے لیے نہیں جاتے ؟ امام نے فرمایا کہ جو بھی بندہ امام حسین کی زیارت کے لیے جائے تو خداوند ہر قدم کے بدلے میں اس کے لیے ایک نیکی کو لکھتا ہے اور اس کے ایک گناہ کو معاف فرماتا ہے اور اس تمام گذشتہ اور آئندہ گناہوں کو معاف فرماتا ہے۔ اے ابان جب امام حسین کو شہید کیا گیا تو 70 ہزار فرشتے غبار آلود اور پریشان بالوں کے ساتھ آسمان سے نازل ہوئے اور اس دن سے لے کر قیامت تک امام حسین (ع) کے لیے گریہ اور نوحہ خوانی کرتے رہیں گے۔

ابن قولويه، جعفر بن محمد، الوفاة: 367،كامل الزيارات ج1 ص331، محقق: امينى، عبد الحسين‏، چاپ اول‏، ناشر: دار المرتضوية، 

 روایت =3  (زيارت اربعين):

أَخْبَرَنَا جَمَاعَةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ هَارُونَ بْنِ مُوسَى بْنِ أَحْمَدَ التَّلَّعُكْبَرِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَعْمَرٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْعَدَةَ وَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ فَضَّالٍ عَنْ سَعْدَانَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مِهْرَانَ الْجَمَّالِ قَالَ: قَالَ لِي مَوْلَايَ الصَّادِقُ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ فِي زِيَارَةِ الْأَرْبَعِينَ‏ تَزُورُ عِنْدَ ارْتِفَاعِ النَّهَارِ وَ تَقُولُ- السَّلَامُ عَلَى وَلِيِّ اللَّهِ وَ حَبِيبِهِ السَّلَامُ عَلَى خَلِيلِ اللَّهِ وَ نَجِيبِهِ السَّلَامُ عَلَى صَفِيِّ اللَّهِ وَ ابْنِ صَفِيِّهِ السَّلَامُ عَلَى الْحُسَيْنِ الْمَظْلُومِ الشَّهِيدِ السَّلَامُ عَلَى أَسِيرِ الْكُرُبَاتِ وَ قَتِيلِ الْعَبَرَاتِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَشْهَدُ أَنَّهُ وَلِيُّكَ وَ ابْنُ وَلِيِّكَ وَ صَفِيُّكَ وَ ابْنُ صَفِيِّكَ الْفَائِزُ بِكَرَامَتِكَ أَكْرَمْتَهُ بِالشَّهَادَةِ وَ حَبَوْتَهُ بِالسَّعَادَةِ وَ اجْتَبَيْتَهُ بِطِيبِ الْوِلَادَةِ وَ جَعَلْتَهُ سَيِّداً مِنَ السَّادَةِ وَ قَائِداً مِنَ الْقَادَةِ وَ ذَائِداً مِنَ الذَّادَةِ وَ أَعْطَيْتَهُ مَوَارِيثَ الْأَنْبِيَاءِ وَ جَعَلْتَهُ حُجَّةً عَلَى خَلْقِكَ مِنَ الْأَوْصِيَاءِ فَأَعْذَرَ فِي الدُّعَاءِ وَ مَنَحَ النُّصْحَ وَ بَذَلَ مُهْجَتَهُ فِيكَ لِيَسْتَنْقِذَ عِبَادَكَ مِنَ الْجَهَالَةِ وَ حَيْرَةِ الضَّلَالَةِ وَ قَدْ تَوَازَرَ عَلَيْهِ مَنْ غَرَّتْهُ الدُّنْيَا وَ بَاعَ حَظَّهُ بِالْأَرْذَلِ الْأَدْنَى وَ شَرَى آخِرَتَهُ بِالثَّمَنِ الْأَوْكَسِ وَ تَغَطْرَسَ وَ تَرَدَّى فِي هَوَاهُ وَ أَسْخَطَ نَبِيَّكَ وَ أَطَاعَ مِنْ عِبَادِكَ أَهْلَ الشِّقَاقِ وَ النِّفَاقِ وَ حَمَلَةَ الْأَوْزَارِ الْمُسْتَوْجِبِينَ النَّارَ فَجَاهَدَهُمْ فِيكَ صَابِراً مُحْتَسِباً حَتَّى سُفِكَ فِي طَاعَتِكَ دَمُهُ وَ اسْتُبِيحَ حَرِيمُهُ اللَّهُمَّ فَالْعَنْهُمْ لَعْناً وَبِيلًا وَ عَذِّبْهُمْ عَذَاباً أَلِيماً السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ سَيِّدِ الْأَوْصِيَاءِ أَشْهَدُ أَنَّكَ أَمِينُ اللَّهِ وَ ابْنُ أَمِينِهِ عِشْتَ سَعِيداً وَ مَضَيْتَ حَمِيداً وَ مِتَّ فَقِيداً مَظْلُوماً شَهِيداً وَ أَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ مُنْجِزٌ مَا وَعَدَكَ وَ مُهْلِكٌ مَنْ خَذَلَكَ وَ مُعَذِّبٌ مَنْ قَتَلَكَ-وَ أَشْهَدُ أَنَّكَ وَفَيْتَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَ جَاهَدْتَ فِي سَبِيلِهِ حَتَّى أَتَاكَ الْيَقِينُ فَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ قَتَلَكَ وَ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ظَلَمَكَ وَ لَعَنَ اللَّهُ أُمَّةً سَمِعَتْ بِذَلِكَ فَرَضِيَتْ بِهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أُشْهِدُكَ أَنِّي وَلِيٌّ لِمَنْ وَالاهُ وَ عَدُوٌّ لِمَنْ عَادَاهُ بِأَبِي أَنْتَ وَ أُمِّي يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّكَ كُنْتَ نُوراً فِي الْأَصْلَابِ الشَّامِخَةِ وَ الْأَرْحَامِ الطَّاهِرَةِ لَمْ تُنَجِّسْكَ الْجَاهِلِيَّةُ بِأَنْجَاسِهَا وَ لَمْ تُلْبِسْكَ الْمُدْلَهِمَّاتُ مِنْ ثِيَابِهَا وَ أَشْهَدُ أَنَّكَ مِنْ دَعَائِمِ الدِّينِ وَ أَرْكَانِ الْمُسْلِمِينَ وَ مَعْقِلِ الْمُؤْمِنِينَ وَ أَشْهَدُ أَنَّكَ الْإِمَامُ الْبَرُّ التَّقِيُّ الرَّضِيُّ الزَّكِيُّ الْهَادِي الْمَهْدِيُّ وَ أَشْهَدُ أَنَّ الْأَئِمَّةَ مِنْ وُلْدِكَ كَلِمَةُ التَّقْوَى وَ أَعْلَامُ الْهُدَى وَ الْعُرْوَةُ الْوُثْقَى وَ الْحُجَّةُ عَلَى أَهْلِ الدُّنْيَا وَ أَشْهَدُ أَنِّي بِكُمْ مُؤْمِنٌ وَ بِإِيَابِكُمْ مُوقِنٌ بِشَرَائِعِ دِينِي وَ خَوَاتِيمِ عَمَلِي وَ قَلْبِي لِقَلْبِكُمْ سِلْمٌ وَ أَمْرِي لِأَمْرِكُمْ مُتَّبِعٌ وَ نُصْرَتِي لَكُمْ مُعَدَّةٌ حَتَّى يَأْذَنَ اللَّهُ لَكُمْ فَمَعَكُمْ مَعَكُمْ لَا مَعَ عَدُوِّكُمْ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَ عَلَى أَرْوَاحِكُمْ وَ أَجْسَادِكُمْ وَ شَاهِدِكُمْ وَ غَائِبِكُمْ وَ ظَاهِرِكُمْ وَ بَاطِنِكُمْ آمِينَ رَبَّ الْعَالَمِينَ وَ تُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَ تَدْعُو بِمَا أَحْبَبْتَ وَ تَنْصَرِفُ .

صفوان نے کہا ہے کہ میرے مولا امام صادق (ع) نے زیارت اربعین کے بارے میں مجھے کہا ہے کہ جب دن کا کچھ حصہ گزر جائے اور سورج نکل آئے تو کہو: آپ پر سلام ہو اے اللہ کے ولی اور اسکے حبیب، سلام ہو آپ پر اے خدا کے پسندیدہ اور اس کے پسندیدہ کے فرزند سلام ہو حسین (ع) پر کہ جو مظلوم شہید کیے گئے سلام ہو حسین (ع) پر جو مشکلوں میں پڑے اور انکی شہادت پر آنسو بہائے گئے اے خداوندا میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ تیرے ولی اور تیرے ولی کے فرزند تیرے پسندیدہ اور تیرے پسندیدہ کے فرزند ہیں کہ جس نے آپ سے عزت پائی اور تو نے انہیں شہادت کے ساتھ عزت دی اور انکو خوش بختی نصیب کی اور انہیں پاک گھرانے میں پیدا کیا تو نے قرار دیا انہیں سرداروں میں سردار پیشواؤں میں پیشوا مجاہدوں میں مجاہداور انہیں انبیاء کا وارث قرار دیا اور ان کو اوصیاء میں سے اپنی مخلوقات پر حجت پس انہوں نے تبلیغ کا حق ادا کیا بہترین خیر خواہی کی اور تیری خاطر اپنی جان قربان کی تا کہ تیرے بندوں کو نجات دلائیں نادانی و گمراہی کی پریشانیوں سے جب کہ ان پر ان لوگوں نے ظلم کیا جنہیں دنیا نے مغرور بنا دیا تھا جنہوں نے اپنی جانیں معمولی چیز کے بدلے بیچ دیں اور اپنی آخرت کے لیے گھاٹے کا سودا کیا انہوں نے سر کشی کی اور لالچ کے لیے چل پڑے انہوں نے تجھے غضب ناک اور تیرے نبی (ص) کو ناراض کیا انہوں نے تیرے بندوں میں سے انکی بات مانی جو ضدی اور بے ایمان تھے کہ اپنے گناہوں کا بوجھ لے کر جہنم کی طرف چلے گئے

پس حسین (ع) ان سے تیرے لیے لڑے جم کر ہوش مندی کیساتھ یہاں تک کہ تیری فرمانبرداری کرنے پر  انکا  خون  بہایا  گیا  اور  انکے  اہل حرم کو  لوٹا  گیا۔

اے معبود لعنت کر ان ظالموں پر سختی کے ساتھ اور عذاب دے ان کو درد ناک عذاب آپ پر سلام ہو اے رسول (ص) کے فرزند آپ پر سلام ہو اے سردار اوصیاء کے فرزند میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ خدا کے امین اور اسکے امین کے فرزند ہیں  آپ  نیک بختی میں  زندہ  رہے

قابل تعریف حال میں گزرے اور وفات پائی وطن سے دور کہ آپ ستم زدہ شہید ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا آپ کو جزا دے گا جسکا اس نے وعدہ کیا اور اسکو تباہ کریگا وہ جس نے آپکا ساتھ چھوڑا اور اسکو عذاب دیگا جس نے آپکو قتل کیا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے خدا کی دی ہوئی ذمہ داری نبہائی آپ نے اسکی راہ میں جہاد کیا حتی کہ شہید ہو گئے پس خدا لعنت کرے جس نے آپکو قتل کیا خدا لعنت کرے جس نے آپ پر ظلم کیا اور خدا لعنت کرے اس قوم پرجس نے یہ واقعہ شہادت سنا تو اس پر خوشی ظاہر کی اور راضی ہوئے اے معبود میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ ان کے دوست کا دوست اور ان کے دشمنوں کا دشمن ہوں میرے ماں باپ قربان آپ پر اے فرزند رسول خدا (ص)میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نور کی شکل میں صاحب عزت صلب   میں  اور  پاکیزہ  رحموں  میں جنہیں  جاہلیت  نے  اپنی نجاست سے آلودہ نہ کیا اور نہ ہی اس نے اپنے خراب اور نجس لباس آپ کو پہنائے ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ دین کے ستون ہیں۔ مسلمانوں کے سردار ہیں اور مؤمنوں کی پناہ گاہ ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امام (ع) ہیں نیک و پرہیز گار پسندیدہ پاک رہبر راہ یافتہ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ جو امام آپ کی اولاد میں سے ہیں وہ پرہیز گاری کے ترجمان ہدایت کے نشان محکم تر سلسلہ اور دنیا والوں پر خدا کی دلیل و حجت ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ کا اور آپ کے بزرگوں کا ماننے والا اپنے دینی احکام اور عمل کی جزا پر یقین رکھنے والا ہوں میرا دل آپکے دل کیساتھ پیوستہ میرا معاملہ آپ کے معاملے کے تابع اور میری مدد آپ کیلئے حاضر ہے حتی کہ خدا آپکو اذن قیام دے پس آپکے ساتھ ہوں آپکے ساتھ نہ کہ آپکے دشمن کیساتھ خدا کی رحمتیں ہوں آپ پر آپ کی پاک روحوں پر آپ کے جسموں پر آپ کے حاضر پر آپ کے غائب پر آپ کے ظاہر اور آپ کے باطن پر ایسا  ہی  ہو  جہانوں  کے  پروردگار۔

اس کے بعد دو رکعت نماز پڑھو اور اپنی حاجات کو خداوند سے طلب کرو اور واپس آ جاؤ۔

الطوسى، محمد بن الحسن، الوفاة: ‏460 ق، ‏تهذيب الأحكام ج6 ص113،‏ محقق: خرسان، حسن الموسوى،‏ چاپ چهارم، ‏ناشر: دار الكتب الإسلاميه‏،

روایت =4 

بِالْإِسْنَادِ عَنِ الشَّرِيفِ أَبِي عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ بَهْرَامَ الضَّرِيرُ الرَّازِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ أَبِي الْعَيْفَاءِ الطَّائِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي ذَكَرَ أَنَّ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ عليه السلام  مَضَى إِلَى الْحِيرَةِ وَ مَعَهُ غُلَامٌ لَهُ عَلَى‏ رَاحِلَتَيْنِ‏ وَ ذَاعَ الْخَبَرُ بِالْكُوفَةِ فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الثَّانِي قُلْتُ لِغُلَامٍ لِي اذْهَبْ فَاقْعُدْ لِي فِي مَوْضِعِ كَذَا وَ كَذَا مِنَ الطَّرِيقِ فَإِذَا رَأَيْتَ غُلَامَيْنِ عَلَى‏ رَاحِلَتَيْنِ‏ فَتَعَالَ إِلَيَّ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا جَاءَنِي فَقَالَ قَدْ أَقْبَلَا فَقُمْتُ إِلَى بَارِيَّةٍ فَطَرَحْتُهَا عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ وَ إِلَى وِسَادَةٍ وَ صُفْرِيَّةٍ جَدِيدَةٍ وَ قُلَّتَيْنِ فَعَلَّقْتُهُمَا فِي النَّخْلَةِ وَ عِنْدَهَا طَبَقٌ مِنَ الرُّطَبِ وَ كَانَتِ النَّخْلَةُ صَرَفَانَةً فَلَمَّا أَقْبَلَ تَلَقَّيْتُهُ وَ إِذَا الْغُلَامُ مَعَهُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَحَّبَ بِي ثُمَّ قُلْتُ يَا سَيِّدِي‏ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ مَوَالِيكَ تَنْزِلُ عِنْدِي سَاعَةً وَ تَشْرَبُ شَرْبَةَ مَاءٍ بَارِدٍ فَثَنَى رِجْلَهُ فَنَزَلَ وَ اتَّكَأَ عَلَى الْوِسَادَةِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى النَّخْلَةِ فَنَظَرَ إِلَيْهَا وَ قَالَ يَا شَيْخُ مَا تُسَمُّونَ هَذِهِ النَّخْلَةَ عِنْدَكُمْ قُلْتُ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهُ صَرَفَانَةً فَقَالَ وَيْحَكَ هَذِهِ وَ اللَّهِ الْعَجْوَةُ نَخْلَةُ مَرْيَمَ الْقُطْ لَنَا مِنْهَا فَلَقَطْتُ فَوَضَعْتُهُ فِي الطَّبَقِ الَّذِي فِيهِ الرُّطَبُ فَأَكَلَ مِنْهَا فَأَكْثَرَ فَقُلْتُ لَهُ جُعِلْتُ فِدَاكَ بِأَبِي وَ أُمِّي هَذَا الْقَبْرُ الَّذِي أَقْبَلْتَ مِنْهُ قَبْرُ الْحُسَيْنِ قَالَ إِي وَ اللَّهِ يَا شَيْخُ حَقّاً وَ لَوْ أَنَّهُ عِنْدَنَا لَحَجَجْنَا إِلَيْهِ قُلْتُ فَهَذَا الَّذِي عِنْدَنَا فِي الظَّهْرِ أَ هُوَ قَبْرُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام قَالَ إِي وَ اللَّهِ يَا شَيْخُ حَقّاً وَ لَوْ أَنَّهُ عِنْدَنَا لَحَجَجْنَا إِلَيْهِ ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ وَ مَضی۔

حسين بن ابى العلا کہتا ہے کہ میں نے اپنے والد سے سنا ہے کہ وہ کہہ رہے تھے کہ امام جعفر صادق (ع) اور ان کے ساتھ ایک لڑکا تھا جو دونوں سواری پر سوار حیرہ تشریف لے گئے اور یہ خبر کوفہ میں پھیل گئی۔ دوسرے دن میں نے اپنے غلام سے کہا کہ فلاں جگہ پر جا کر کھڑے ہو جاؤ۔ جب دو سوار جوان وہاں آئیں تو مجھے آ کر خبر دینا۔ صبح کے وقت وہ غلام خبر لے کر آیا کہ وہ دونوں جوان آ گئے ہیں۔ میں جلدی سے بستر لے کر گیا اور حضرت کے لیے بچھا دیا اور اس پر ایک تکیہ بھی رکھا۔ وہاں پر ایک کھجور کا درخت تھا۔ میں نے پانی کے دو ظرف اس درخت پر لٹکائے اور کھجوروں کا ایک ٹرے بھی وہاں پر رکھا۔ وہ کھجور صرفانہ کا درخت تھا۔ جب امام صادق (ع) پہنچے تو میں نے ان کا استقبال کیا اور ان پر سلام کیا۔ امام نے بھی سلام کا جواب دیا۔ میں نے کہا اے میرے مولا اے رسول خدا کے بیٹے میں بھی آپ کے چاہنے اور ماننے والوں میں سے ہوں اور آپ سے التماس کرتا ہوں کہ تھوڑا میرے پاس بھی ٹھر جائیں اور ٹھنڈا پانی نوش فرمائیں۔ امام سواری سے نیچے آئے اور بستر پر تکیے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے اور کھجور کے درخت کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ اے شیخ اس کھجور کے درخت کا کیا نام ہے ؟ میں نے کہا: يا ابن رسول اللَّه! اس درخت کو صرفانہ کا درخت کہتے ہیں۔ امام نے فرمایا کہ خداوند تم پر رحمت کرے، خدا کی قسم اس درخت کا نام عجوہ ہے، یہ وہ کھجور کا درخت ہے کہ جس کے نیچے حضرت عیسی (ع) پیدا ہوئے تھے اور حضرت مریم نے اس درخت سے کھجوروں کو کھایا تھا۔ پھر امام نے فرمایا کہ اس درخت سے میرے لیے کھجوریں اتارو۔ میں نے حکم کی تعمیل کی اور کھجوروں کو برتن میں رکھ امام کی خدمت میں لے کر آيا۔ امام نے ان کھجوروں کو کھایا۔ پھر میں نے کہا میں اور میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ! جس قبر کی زیارت سے آپ واپس آ رہے ہیں، کیا وہ امام حسین کی قبر ہے ؟  امام نے فرمایا: خدا کی قسم ہاں اے شیخ، اگر یہ قبر مدینہ میں ہوتی تو جیسے ہم حج کے لیے جاتے ہیں ویسے ہی ہم اس قبر کی زیارت کے لیے جاتے۔ میں نے کہا: وہ قبر جو کوفہ میں ہے وہ حضرت امير المؤمنين علی(ع) کی قبر ہے ؟  امام نے فرمایا: خدا کی قسم ہاں اے شیخ، اور اگر یہ قبر مدینہ کے نزدیک ہوتی تو جس طرح ہم حج کو اہمیت دیتے ہیں اسی طرح اس قبر کی زیارت کو بھی اہمیت دیتے۔ یہ کہہ کر امام صادق (ع) سواری پر سوار ہو چلے گئے۔ 

ابن طاوس، عبدالكريم بن احمد، الوفاة: 693 ق،‏ فرحة الغري في تعيين قبر أمير المؤمنين عليّ بن أبي طالب عليه السلام في النجف‏، ناشر: منشورات الرضی

روایت=5 

حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مَحْبُوبٍ عَنْ صَبَّاحٍ الْحَذَّاءِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَرْوَانَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ‏ زُورُوا الْحُسَيْنَ عليه السلام وَ لَوْ كُلَّ سَنَةٍ فَإِنَّ كُلَّ مَنْ أَتَاهُ عَارِفاً بِحَقِّهِ غَيْرَ جَاحِدٍ لَمْ يَكُنْ لَهُ عِوَضٌ غَيْرُ الْجَنَّةِ وَ رُزِقَ رِزْقاً وَاسِعاً وَ آتَاهُ اللَّهُ مَنْ قِبَلَهُ بِفَرَحٍ [بِفَرَجٍ‏] عَاجِلٍ وَ ذَكَرَ الْحَدِيثَ۔

حضرت امام صادق (ع) نےفرمایا کہ امام حسین (ع) کی زیارت کرو اگرچہ ہر سال ہی کیوں نہ ہو کیونکہ جو بھی امام حسین (ع) کے حق کی معرفت کے ساتھ زیارت کرے تو اسکی جزاء فقط جنت ہے، اور اسکا رزق زیادہ ہو گا اور خداوند اس کو دنیا میں خوشیاں نصیب کرے گا۔

ابن قولويه، جعفر بن محمد، الوفاة: 367،كامل الزيارات ج1 ص152، محقق: امينى، عبد الحسين‏، چاپ اول‏، ناشر: دار المرتضوية، 

 روایت =6 

مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ مِسْمَعٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَنَانٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام يَا سَدِيرُ تَزُورُ قَبْرَ الْحُسَيْنِ عليه السلام فِي كُلِّ يَوْمٍ قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ لَا قَالَ فَمَا أَجْفَاكُمْ قَالَ فَتَزُورُونَهُ فِي كُلِّ جُمْعَةٍ قُلْتُ لَا قَالَ فَتَزُورُونَهُ فِي كُلِّ شَهْرٍ قُلْتُ لَا قَالَ فَتَزُورُونَهُ فِي كُلِّ سَنَةٍ قُلْتُ قَدْ يَكُونُ ذَلِكَ قَالَ يَا سَدِيرُ مَا أَجْفَاكُمْ‏ لِلْحُسَيْنِ عليه السلام امَا عَلِمْتَ أَنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ أَلْفَيْ أَلْفِ مَلَكٍ شُعْثٌ غُبْرٌ يَبْكُونَ وَ يَزُورُونَ لَا يَفْتُرُونَ وَ مَا عَلَيْكَ يَا سَدِيرُ أَنْ تَزُورَ قَبْرَ الْحُسَيْنِ عليه السلام فِي كُلِّ جُمْعَةٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ وَ فِي كُلِّ يَوْمٍ مَرَّةً قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ إِنَّ بَيْنَنَا وَ بَيْنَهُ فَرَاسِخَ كَثِيرَةً فَقَالَ لِي اصْعَدْ فَوْقَ سَطْحِكَ ثُمَّ تَلْتَفِتُ يَمْنَةً وَ يَسْرَةً ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ انْحُ نَحْوَ الْقَبْرِ وَ تَقُولُ- السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ تُكْتَبُ لَكَ زَوْرَةٌ وَ الزَّوْرَةُ حَجَّةٌ وَ عُمْرَةٌ قَالَ سَدِيرٌ فَرُبَّمَا فَعَلْتُ فِي الشَّهْرِ أَكْثَرَ مِنْ عِشْرِينَ مَرَّةً.

سدیر کہتا ہے کہ: امام صادق (ع) نے فرمایا ہے کہ اے سدیر کیا تم ہر روز امام حسین (ع) کی قبر کی زیارت کرتے ہو ؟  سدیر نے کہا: میں آپ  پر قربان ہوں، نہیں۔ امام نے فرمایا تم کس قدر جفا کرنے والے ہو !!! پھر فرمایا کہ کیا ہفتے میں ایک مرتبہ زیارت کرتے ہو ؟ سدیر نے کہا: نہیں۔ امام نے فرمایا ہر مہینے ایک مرتبہ ؟  سدیر نے کہا: نہیں۔  امام نے فرمایا ہر سال میں ایک مرتبہ ؟  سدیر نے کہا ہاں کبھی سال میں ایک مرتبہ زیارت کے لیے چلا جاتا ہوں۔  امام نے فرمایا اے سدیر تم کس قدر امام حسین پر جفاء کرتے ہو ! کیا تم نہیں جانتے کہ خداوند کے دو ہزار غبار آلود فرشتے ہیں کہ جو امام حسین (ع) پر گریہ کرتے ہیں اور ان کی زیارت کرتے ہیں اور کبھی تھکاوٹ بھی محسوس نہیں کرتے۔ اے سدیر تم بھی کم از کم ہر ہفتے میں پانچ مرتبہ اور ہر روز ایک مرتبہ امام حسین کی زیارت کیا کرو۔ میں نے کہا میں آپ پر قربان ہو جاؤں، ہمارے اور کربلا  کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ ہے۔ امام نے فرمایا: اپنے گھر کی چھت پر جا کر اپنے دائیں بائیں دیکھ کر پھر سر کو آسمان کی طرف بلند کر کے امام حسین (ع) کی قبر کی طرف رخ کر کے کہو: السَّلامُ عَلَيكَ يا أبا عَبدِ اللّهِ، السَّلامُ عَلَيكَ و رَحمَةُ اللّهِ و بَرَكاتُهُ : سلام ہو آپ پر  اے  ابا  عبد  اللّه ! سلام اور رحمت اور خدا کی برکات آپ پر ہوں! جب ایسا کرو گے تو تمہارے لیے ایک زیارت لکھی جائے گی اور وہ زیارت ایک حج اور ایک عمرے کے برابر ہو گی۔ پھر سدیر نے کہا اس طرح میں کبھی کبھی ایک مہینے میں بیس مرتبہ سے زیادہ امام حسین (ع) کی زیارت کیا کرتا تھا۔

كليني، محمد بن يعقوب بن اسحاق،‏ الوفاة: 329 ق‏، الكافي( ط- الإسلامية) ج‏4 ص589 محقق : غفارى على اكبر و آخوندى، محمد، ناشر: دار الكتب الإسلامية،

روایت= 7

حَدَّثَنِي حَكِيمُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُعَلَّى عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ زِيَادٍ [يَزْدَادَ] قَالَ: أَتَى رَجُلٌ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام  فَقَالَ إِنِّي قَدْ ضَرَبْتُ عَلَى كُلِّ شَيْ‏ءٍ لِي ذَهَباً وَ فِضَّةً وَ بِعْتُ ضِيَاعِي فَقُلْتُ أَنْزِلُ مَكَّةَ فَقَالَ لَا تَفْعَلْ فَإِنَّ أَهْلَ مَكَّةَ يَكْفُرُونَ بِاللَّهِ جَهْرَةً قَالَ فَفِي حَرَمِ رَسُولِ اللَّهِ صلی الله عليه و آله و سلم قَالَ هُمْ شَرٌّ مِنْهُمْ قَالَ فَأَيْنَ أَنْزِلُ قَالَ عَلَيْكَ بِالْعِرَاقِ الْكُوفَةِ فَإِنَّ الْبَرَكَةَ مِنْهَا عَلَى اثْنَيْ عَشَرَ مِيلًا هَكَذَا وَ هَكَذَا- وَ إِلَى جَانِبِهَا قَبْرٌ مَا أَتَاهُ مَكْرُوبٌ قَطُّ وَ لَا مَلْهُوفٌ إِلَّا فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ .

 اسحاق بن زياد نے کہا ہے کہ: ایک شخص امام صادق (ع) کے پاس آیا اور عرض کیا جو کچھ میرے پاس سونا چاندی تھا میں نے اس کو اور تمام جائیداد کو فروخت کر کے تمام مال کو نقد پیسوں میں تبدیل کر لیا ہے کیونکہ میں اپنے شہر سے ہجرت کر کے کسی دوسرے شہر جانا اور رہنا چاہتا ہوں۔ آپ بتائیں میں کس شہر کو رہنے کے لیے انتخاب کروں ؟  اسحاق کہتا ہے کہ میں نے اس سے کہا کہ مکے میں گھر لے کر ادھر رہو۔ اس پر امام صادق (ع) نے فرمایا کہ نہ مکے نہ جاؤ کیونکہ اہل مکہ خداوند کے بارے میں کافر تھے اور علی الاعلان اپنے کفر کو ظاہر کرتے تھے۔ اس شخص نے کہا پھر میں حرم رسول خدا (ص) مدینہ چلا جاتا ہوں ؟  امام نے فرمایا اس شہر کے لوگ اہل مکہ سے بھی بد تر ہیں۔ اس شخص نے کہا پھر کہاں جاؤں ؟  امام نے فرمایا کہ تم عراق کے شہر کوفہ چلے جاؤ کیونکہ اس شہر سے برکت طلوع ہوئی ہے کہ جو اس کے بارہ میل تک کے فاصلے تک پھیلی ہوئی ہے اور اس شہر کے ایک طرف قبر امام حسین (ع) ہے کہ جو مصیبت زدہ اور پریشان حال اس قبر کی زیارت کرتا ہے تو خداوند اس کے غم و حزن کو خوشی اور آرام میں بدل دیتا ہے۔

ابن قولويه، جعفر بن محمد، الوفاة: 367،كامل الزيارات ج1 ص169، محقق: امينى، عبد الحسين‏، چاپ اول‏، ناشر: دار المرتضوية، 

روایت =8 

حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مَحْبُوبٍ عَنْ صَبَّاحٍ الْحَذَّاءِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَرْوَانَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ‏ زُورُوا الْحُسَيْنَ  عليه السلام وَ لَوْ كُلَّ سَنَةٍ فَإِنَّ كُلَّ مَنْ أَتَاهُ عَارِفاً بِحَقِّهِ غَيْرَ جَاحِدٍ لَمْ يَكُنْ لَهُ عِوَضٌ غَيْرُ الْجَنَّةِ وَ رُزِقَ رِزْقاً وَاسِعاً وَ آتَاهُ اللَّهُ مَنْ قِبَلَهُ بِفَرَحٍ [بِفَرَجٍ‏] عَاجِلٍ وَ ذَكَرَ الْحَدِيث.

امام صادق (ع) نے فرمایا کہ: حضرت امام صادق (ع) نےفرمایا کہ امام حسین (ع) کی زیارت کرو اگرچہ ہر سال ہی کیوں نہ ہو کیونکہ جو بھی امام حسین کے حق کی معرفت کے ساتھ زیارت کرے تو اسکی جزاء  فقط جنت  ہے، اور  اسکا  رزق  زیادہ  ہو  گا  اور خداوند اس کو  دنیا  میں خوشیاں نصیب کرے  گا۔

ابن قولويه، جعفر بن محمد، الوفاة: 367،كامل الزيارات ج1 ص151، محقق: امينى، عبد الحسين‏، چاپ اول‏، ناشر: دار المرتضوية،

روایت =9 

حَدَّثَنِي أَبِي وَ جَمَاعَةُ مَشَايِخِي عَنْ سَعْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى وَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحِمْيَرِيِّ وَ أَحْمَدَ بْنِ إِدْرِيسَ جَمِيعاً عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ النَّهَاوَنْدِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ ثُوَيْرِ بْنِ أَبِي فَاخِتَةَ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام‏ يَا حُسَيْنُ مَنْ خَرَجَ مِنْ مَنْزِلِهِ يُرِيدُ زِيَارَةَ قَبْرِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عليهما السلام إِنْ كَانَ مَاشِياً كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ حَسَنَةً وَ مَحَى عَنْهُ سَيِّئَةً حَتَّى إِذَا صَارَ فِي الْحَائِرِ كَتَبَهُ اللَّهُ مِنَ الْمُصْلِحِينَ الْمُنْتَجَبِينَ [الْمُفْلِحينَ‏ الْمُنْجِحِينَ‏] حَتَّى إِذَا قَضَى مَنَاسِكَهُ كَتَبَهُ اللَّهُ مِنَ الْفَائِزِينَ حَتَّى إِذَا أَرَادَ الِانْصِرَافَ أَتَاهُ مَلَكٌ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلي الله عليه و آله و سلم  يُقْرِؤُكَ السَّلَامَ وَ يَقُولُ لَكَ اسْتَأْنِفِ الْعَمَلَ فَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا مَضَى.

حسين بن ثوير بن ابى فاختہ کہتا ہے کہ: امام صادق (ع) نے فرمایا کہ اے حسین جو بھی اپنے گھر سے باہر آئے اور اس کا امام حسین (ع) کی زیارت کرنے کا  ارادہ  ہو اور  اگر وہ  پیدل جائے  تو  خداوند اس کے لیے ہر قدم کے بدلے میں ایک نیکی لکھے گا اور اس کا ایک گناہ معاف فرمائے گا،    یہاں تک کہ وہ امام حسین (ع) کے حرم میں پہنچ جائے اور اس مبارک جگہ پہنچنے کے بعد خداوند اس کو فلاح  پانے والوں میں شمار کرے گا یہاں تک کہ اس کی زیارت، دعا اور عبادت مکمل ہو جائیں،  تو اس  وقت  خداوند اس کو کامیاب لوگوں میں قرار دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ وہاں سے واپس آنے کا ارادہ کر لے۔ اس وقت ایک فرشتہ اس کے پاس آتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ تم کو رسول خدا (ص) نے سلام کہا ہے اور تم سے کہا ہے کہ اپنے اعمال کو نئے سرے سے شروع کرو کیونکہ تمہارے پہلے سارے معاف کر دیئے  گئے  ہیں۔

ابن قولويه، جعفر بن محمد، الوفاة: 367،كامل الزيارات ج1 ص132، محقق: امينى، عبد الحسين‏، چاپ اول‏، ناشر: دار المرتضوية، 

روایت = 10

حَدَّثَنِي أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبَانٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أُورَمَةَ عَمَّنْ حَدَّثَهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ الصَّائِغِ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: يَا عَلِيُّ زُرِ الْحُسَيْنَ‏ وَ لَا تَدَعْهُ قَالَ قُلْتُ مَا لِمَنْ أَتَاهُ مِنَ الثَّوَابِ قَالَ مَنْ أَتَاهُ مَاشِياً كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ حَسَنَةً وَ مَحَى عَنْهُ سَيِّئَةً وَ رَفَعَ لَهُ دَرَجَةً فَإِذَا أَتَاهُ وَكَّلَ اللَّهُ بِهِ مَلَكَيْنِ يَكْتُبَانِ مَا خَرَجَ مِنْ فِيهِ مِنْ خَيْرٍ وَ لَا يَكْتُبَانِ مَا يَخْرُجُ مِنْ فِيهِ مِنْ شَرٍّ وَ لَا غَيْرَ ذَلِكَ فَإِذَا انْصَرَفَ وَدَّعُوهُ وَ قَالُوا يَا وَلِيَّ اللَّهِ مَغْفُوراً لَكَ أَنْتَ مِنْ حِزْبِ اللَّهِ وَ حِزْبِ رَسُولِهِ وَ حِزْبِ أَهْلِ بَيْتِ رَسُولِهِ وَ اللَّهِ لَا تَرَى النَّارَ بِعَيْنِكَ أَبَداً وَ لَا تَرَاكَ وَ لَا تَطْعَمُكَ أَبَداً.

على بن ميمون صائغ نے کہا ہے کہ امام صادق (ع) نے فرمایا ہے کہ اے علی امام حسین (ع) کی قبر کی زیارت کرو اور اس کام کو ترک نہ کرو۔ میں نے عرض کیا کہ جو یہ زیارت کرے گا تو اس کو کیا ثواب ملے گا ؟  امام نے فرمایا کہ جو بھی امام حسین (ع) کی زیارت پیدل کرے گا تو خداوند اس کے لیے ہر قدم کے بدلے میں ایک نیکی لکھے گا اور اس کا ایک گناہ معاف فرمائے گا اور اس کے ایک درجے کو بلند کرے گا اور جب وہ کربلا پہنچ جائے گا تو خداوند اس پر دو فرشتوں کو مقرر اور ان کو حکم دے گا کہ جو کچھ بھی اچھی اور نیک بات اس کے منہ سے نکلے تو اس کو لکھ لینا اور جو برائی اور گندی بات ہو اس کو نہ لکھنا اور جب وہ کربلا سے واپس آنے لگے گا تو وہ فرشتے اس کو الوداع اور کہتے ہیں کہ اے خدا کے نیک بندے تیرے سارے گناہ معاف کر دئیے گئے ہیں اور تو اب تمہارا تعلق لشکر خدا و لشکر رسول خدا اور اہل بیت سے ہے اور اب خداوند تیری آنکھوں کو کبھی جہنم کی آگ نہیں دکھائے گا اور جہنم کی آگ بھی ہر گز تمہیں نہیں دیکھے گی اور تم کو اپنے اندر نہیں لے کر جائے گی۔

ابن قولويه، جعفر بن محمد، الوفاة: 367،كامل الزيارات ج1 ص133، محقق: امينى، عبد الحسين‏، چاپ اول‏، ناشر: دار المرتضوية،‏ 

روایت =11 

حدَّثَنِي أَبِي ره وَ جَمَاعَةُ مَشَايِخِي ره عَنْ سَعْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي نَصْرٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِنَا عَنْ أَبَانٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ الْخَثْعَمِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: قَالَ لِي يَا عَبْدَ الْمَلِكِ لَا تَدَعْ زِيَارَةَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عليهما السلام وَ مُرْ أَصْحَابَكَ بِذَلِكَ يَمُدُّ اللَّهُ فِي عُمُرِكَ وَ يَزِيدُ اللَّهُ فِي رِزْقِكَ وَ يُحْيِيكَ اللَّهُ سَعِيداً وَ لَا تَمُوتُ إِلَّا سَعِيداً [شَهِيداً] وَ يَكْتُبُكَ سَعِيداً.

عبد الملک خثعمى کہتا ہے کہ امام صادق (ع) نے فرمایا ہے کہ اے عبد الملک امام حسین (ع) کی زیارت کو ترک نہ کرو اور اپنے دوستوں کو بھی اس کام کے کرنے کا کہو کیونکہ خداوند اس زیارت کی وجہ سے تمہاری عمر کو طولانی، تمہارے رزق کو زیادہ اور تمہاری زندگی کو سعادت مند فرمائے گا اور تمہاری موت کو شہید کی موت قرار  دے  گا۔

ابن قولويه، جعفر بن محمد، الوفاة: 367،كامل الزيارات ج1 ص151، محقق: امينى، عبد الحسين‏، چاپ اول‏، ناشر: دار المرتضوية، 

روایت =12

حَدَّثَنِي أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ وَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ حَمْدَانَ الْقَلَانِسِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ الْمُحَارِبِيِّ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مِيثَمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ النَّجَّارِ قَالَ: قَالَ لِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام تَزُورُونَ الْحُسَيْنَ عليه السلام وَ تَرْكَبُونَ السُّفُنَ فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ أمَا عَلِمْتَ أَنَّهَا إِذَا انْكَفَتْ بِكُمْ نُودِيتُمْ أَلَا طِبْتُمْ وَ طَابَتْ لَكُمُ الْجَنَّةُ.

عبد اللَّه بن نجّار کہتا ہے کہ امام صادق (ع) نے  مجھے فرمایا ہے کہ کیا تم امام حسین (ع) کی زیارت کے لیے جاتے ہو اور کیا تم کشتی پر سوار ہو کر زیارت کے لیے  جاتے  ہو ؟  میں نے کہا: ہاں،  امام نے فرمایا اگر تمہاری کشتی دریا میں الٹ کر غرق ہو جائے تو منادی  نداء  دیتا ہے کہ تم خوش قسمت  ہو کہ تم کو بہشت میں جانا  نصیب ہوا ہے۔

ابن قولويه، جعفر بن محمد، الوفاة: 367،كامل الزيارات ج1 ص134، محقق: امينى، عبد الحسين‏، چاپ اول‏، ناشر: دار المرتضوية،

روایت= 13

وَ رَوَى صَالِحٌ الصَّيْرَفِيُّ عَنْ عِمْرَانَ الْمِيثَمِيِّ عَنْ صَالِحِ بْنِ مِيثَمٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَكُونَ عَلَى مَوَائِدِ النُّورِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ- فَلْيَكُنْ مِنْ زُوَّارِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عليه السلام۔

حضرت امام صادق (ع) نے فرمایا کہ تم میں سے جو قیامت کے دن نورانی دستر خوانوں پر بیٹھنا چاہتا ہے تو وہ لازمی طور پر امام حسین (ع) کی زیارت کرے۔

ابن قولويه، جعفر بن محمد، الوفاة: 367،كامل الزيارات ج1 ص135، محقق: امينى، عبد الحسين‏، چاپ اول‏، ناشر: دار المرتضوية، 

روایت = 14

حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ وَ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قُولَوَيْهِ ره عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْعَطَّارِ وَ عَلِيِّ بْنِ‏ إِبْرَاهِيمَ بْنِ هَاشِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى بْنِ عُبَيْدِ بْنِ يَقْطِينٍ الْيَقْطِينِيِّ عَمَّنْ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي خَالِدٍ ذِي الشَّامَةِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو أُسَامَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام يَقُولُ‏ مَنْ أَرَادَ أَنْ يَكُونَ فِي جِوَارِ نَبِيِّهِ صلي الله عليه و آله و سلم وَ جِوَارِ عَلِيٍّ وَ فَاطِمَةَ فَلَا يَدَعْ زِيَارَةَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عليه السلام.

امام صادق (ع) نے فرمایا کہ جو شخص جنت میں رسولخدا (ص)،  حضرت علی (ع) اور حضرت فاطمہ (س) کا  ہمسایہ بننا  چاہتا  ہے تو  وہ  امام حسین (ع) کی زیارت کو ترک  نہ کرے۔ 

ابن قولويه، جعفر بن محمد، الوفاة: 367،كامل الزيارات ج1 ص136، محقق: امينى، عبد الحسين‏، چاپ اول‏، ناشر: دار المرتضوية،‏

روایت = 15

وَ بِإِسْنَادِهِ عَنْ أَبِي بَصِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام وَ [أَوْ] أَبَا جَعْفَرٍ عليه السلام يَقُولُ‏ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَكُونَ مَسْكَنُهُ الْجَنَّةَ وَ مَأْوَاهُ الْجَنَّةَ فَلَا يَدَعْ زِيَارَةَ الْمَظْلُومِ قُلْتُ مَنْ هُوَ قَالَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ صَاحِبُ كَرْبَلَاءَ مَنْ أَتَاهُ شَوْقاً إِلَيْهِ وَ حُبّاً لِرَسُولِ اللَّهِ وَ حُبّاً لِفَاطِمَةَ وَ حُبّاً لِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام أَقْعَدَهُ اللَّهُ عَلَى مَوَائِدِ الْجَنَّةِ يَأْكُلُ مَعَهُمْ وَ النَّاسُ فِي الْحِسَابِ۔

امام صادق (ع) نے فرمایا کہ جو چاہتا ہے کہ جنت اس کے رہنے کی جگہ ہو تو وہ مظلوم کی زیارت کو ترک نہ کرے۔ میں نے کہا: مظلوم کون ہے ؟  امام نے فرمایا: وہ حسین ابن علی (ع) ہیں کہ جو کربلا میں شہید ہوئے، جو امام حسین سے شوق اور رسول خدا (ص)،  حضرت فاطمہ (س) اور حضرت علی (ع) سے محبت کی وجہ سے امام حسین (ع) کی زیارت کرے تو خداوند اس کو ان اہل بیت  کے ساتھ نورانی دستر خوانوں پر بیٹھائے گا اس حالت میں کہ دوسرے لوگ  اپنے حساب کتاب میں مصروف ہوں گے۔

ابن قولويه، جعفر بن محمد، الوفاة: 367،كامل الزيارات ج1 ص136، محقق: امينى، عبد الحسين‏، چاپ اول‏، ناشر: دار المرتضوية،

روایت =16

حَدَّثَنِي أَبُو الْعَبَّاسِ الْكُوفِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مَحْبُوبٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبَانٍ الْأَزْرَقِ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام  قَالَ: مِنْ أَحَبِّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى زِيَارَةُ قَبْرِ الْحُسَيْنِ  عليه السلام  وَ أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ عِنْدَ اللَّهِ إِدْخَالُ السُّرُورِ عَلَى الْمُؤْمِنِ وَ أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى وَ هُوَ سَاجِدٌ بَاكٍ۔

حضرت امام صادق (ع) نے فرمایا کہ خداوند کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل،  امام حسین (ع) کی زیارت کرنا ہے اور خداوند کے نزدیک سب سے افضل عمل مؤمنین کو خوشحال کرنا ہے اور خداوند کے نزدیک ترین  وہ  بندہ ہے جو سجدے کی حالت میں خدا  کے حضور گریہ کرے۔

ابن قولويه، جعفر بن محمد، الوفاة: 367،كامل الزيارات ج1 ص146، محقق: امينى، عبد الحسين‏، چاپ اول‏، ناشر: دار المرتضوية،

روایت =17

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبَّادٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْمَدَائِنِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام فَقُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ آتِي قَبْرَ الْحُسَيْنِ قَالَ نَعَمْ يَا أَبَا سَعِيدٍ ائْتِ قَبْرَ ابْنِ رَسُولِ اللَّهِ صلي الله عليه و آله و سلم أَطْيَبِ الطَّيِّبِينَ- وَ أَطْهَرِ الطَّاهِرِينَ وَ أَبَرِّ الْأَبْرَارِ فَإِذَا زُرْتَهُ كُتِبَ لَكَ اثْنَتَانِ وَ عِشْرُونَ عُمْرَةً۔

ابى سعيد کہتا ہے کہ میں امام صادق (ع) کے پاس گیا اور عرض کیا: میں آپ پر قربان ہو جاؤں: کیا میں امام حسین (ع) کی زیارت کے لیے جاؤں ؟  امام نے فرمایا: ہاں اے ابو سعید فرزند رسول خدا (ص) کی زیارت کے لیے ضرور جاؤ کہ وہ پاک ترین اور نیک ترین خدا کے بندوں میں سے ہیں۔ جاؤ اور جان لو کہ جب بھی تم اس امام کی  زیارت کرو گے تو تمہارے لیے  22  عمروں کا ثواب لکھا جائے  گا۔

ابن قولويه، جعفر بن محمد، الوفاة: 367،كامل الزيارات ج1 ص154، محقق: امينى، عبد الحسين‏، چاپ اول‏، ناشر: دار المرتضوية،

روایت= 18

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقُرَشِيُّ الْكُوفِيُّ الرَّزَّازُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ بَزِيعٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام‏ فَمَرَّ قَوْمٌ عَلَى حَمِيرٍ فَقَالَ أَيْنَ يُرِيدُونَ هَؤُلَاءِ قُلْتُ قُبُورَ الشُّهَدَاءِ قَالَ فَمَا يَمْنَعُهُمْ مِنْ زِيَارَةِ الشَّهِيدِ الْغَرِيبِ قَالَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ زِيَارَتُهُ وَاجِبَةٌ قَالَ زِيَارَتُهُ خَيْرٌ مِنْ حِجَّةٍ وَ عُمْرَةٍ حَتَّى عَدَّ عِشْرِينَ حِجَّةً وَ عُمْرَةً ثُمَّ قَالَ مَبْرُورَاتٍ مُتَقَبَّلَاتٍ- قَالَ فَوَ اللَّهِ مَا قُمْتُ مِنْ عِنْدِهِ حَتَّى أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ إِنِّي قَدْ حَجَجْتُ تِسْعَةَ عَشَرَ حِجَّةً- فَادْعُ اللَّهَ لِي أَنْ يَرْزُقَنِي تَمَامَ الْعِشْرِينَ قَالَ فَهَلْ زُرْتَ قَبْرَ الْحُسَيْنِ  عليه السلام قَالَ لَا قَالَ إِنَّ زِيَارَتَهُ خَيْرٌ مِنْ عِشْرِينَ حِجَّةً۔

يزيد بن عبد الملک کہتا ہے کہ میں امام صادق (ع) کے پاس بیٹھا تھا کہ سواری کی حالت میں کچھ لوگ وہاں سے گزرے۔ امام نے فرمایا: وہ کہاں جا رہے ہیں ؟ میں نے کہا شہداء کی قبور کی زیارت کے لیے جا رہے ہیں۔ امام (ع) نے فرمایا: ان کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ شہید غریب کی زیارت کے لیے نہیں جاتے ؟!! راوی کہتا ہے کہ اہل عراق میں سے ایک شخص نے عرض کیا کہ اس کی زیارت کرنا واجب ہے ؟ امام نے فرمایا: ان امام کی زیارت ایک حج اور ایک عمرے سے بہتر ہے، دو حج اور دو عمرے سے بہتر ہے، اسی طرح امام حج اور عمرے کی تعداد میں اضافہ کرتے گئے یہاں تک فرمایا کہ ان امام کی زیارت بیس حج اور بیس عمرے سے بہتر ہے پھر فرمایا کہ بیس مقبول حج اور بیس مقبول عمرے سے بہتر ہے۔ راوی کہتا ہے کہ پھر ایک بندہ امام کے پاس آیا اور اس نے امام سے کہا کہ میں نے انیس حج کیے ہیں اب آپ خدا سے میرے لیے دعا کریں کہ مجھے ایک اور حج نصیب کرے تا کہ میرے بیس حج مکمل ہو جائیں۔ امام (ع) نے اس کو فرمایا: کیا تم نے امام حسین (ع) کی قبر کی زیارت کی ہے ؟ اس نے کہا: نہیں، امام نے کہا ان امام کی زیارت بیس حج سے بہتر ہے۔

ابن قولويه، جعفر بن محمد، الوفاة: 367،كامل الزيارات ج1 ص160، محقق: امينى، عبد الحسين‏، چاپ اول‏، ناشر: دار المرتضوية،

روایت =19

رُوِيَ عَنِ الصَّادِقِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عليه السلام أَنَّهُ قَالَ‏ زِيَارَةُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عليه السلام وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ مَنْ يُقِرُّ لِلْحُسَيْنِ‏ بِالْإِمَامَةِ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَ جَل‏ ۔

حضرت امام صادق (ع) نے فرمایا کہ: جو امام حسین (ع) کی امامت کا قائل ہو اس پر امام حسین (ع) کی زیارت کرنا  واجب  ہے۔

مفيد، محمد بن محمد، الوفاة: 413 ق، الإرشاد ج2 ص133، في معرفة حجج الله على العباد، محقق:مؤسسة آل البيت عليهم السلام‏، چاپ اول‏، الناشر: سیمنار: شيخ مفيد،

روایت =20

حَدَّثَنِي أَبُو الْعَبَّاسِ الرَّزَّازُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْخَطَّابِ عَنْ أَبِي دَاوُدَ الْمُسْتَرِقِّ عَنْ أُمِّ سَعِيدٍ الْأَحْمَسِيَّةِ قَالَتْ‏ كُنْتُ عِنْدَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام وَ قَدْ بَعَثْتُ مَنْ يَكْتَرِي لِي حِمَاراً إِلَى قُبُورِ الشُّهَدَاءِ فَقَالَ مَا يَمْنَعُكِ مِنْ زِيَارَةِ سَيِّدِ الشُّهَدَاءِ قَالَتْ‏ قُلْتُ وَ مَنْ هُوَ قَالَ الْحُسَيْنُ عليه السلام قَالَتْ قُلْتُ وَ مَا لِمَنْ زَارَهُ قَالَ حِجَّةٌ وَ عُمْرَةٌ مَبْرُورَةٌ وَ مِنَ الْخَيْرِ كَذَا وَ كَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ بِيَدِهِ.

امّ سعيد احمسيّہ کہتی ہے کہ میں امام صادق (ع) کے پاس بیٹھی تھی اور میں نے کسی کو گدھا کرائے  پر  لانے کے لیے بھیجا ہوا تھا کہ وہ مجھے شہداء کی قبور کی زیارت کے لیے لے جائے۔  امام نے فرمایا کہ کیا چیز مانع ہے کہ آپ  سید الشہداء کی زیارت کے لیے نہیں جاتی ؟  ام سعید کہتی ہے کہ میں نے پوچھا:  سید الشہداء کون ہیں ؟  امام نے فرمایا کہ وہ  امام حسین (ع) ہیں۔  ام سعید نے کہا: امام حسین کی زیارت کرنے کا کیا ثواب ہے ؟  امام نے فرمایا  ایک مقبول حج و عمرے  اور  بہت سے  نیک  اعمال  انجام دینے کا  ثواب  ملتا  ہے۔

ابن قولويه، جعفر بن محمد، الوفاة: 367،كامل الزيارات ج1 ص109، محقق: امينى، عبد الحسين‏، چاپ اول‏، ناشر: دار المرتضوية،

روایت =21

حَدَّثَنِي أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبَانٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أُورَمَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْمُؤْمِنِ عَنِ ابْنِ مُسْكَانَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام يَقُولُ‏ عَجَباً لِأَقْوَامٍ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ شِيعَةٌ لَنَا وَ يُقَالُ إِنَّ أَحَدَهُمْ يَمُرُّ بِهِ دَهْرَهُ وَ لَا يَأْتِي قَبْرَ الْحُسَيْنِ عليه السلام جَفَاءً مِنْهُ و تَهَاوُناً وَ عَجْزاً وَ كَسَلًا  تَهَاوَنَ وَ عَجَزَ وَ كَسِلَ أَمَا وَ اللَّهِ لَوْ يَعْلَمُ مَا فِيهِ مِنَ الْفَضْلِ مَا تَهَاوَنَ وَ لَا كَسِلَ قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ وَ مَا فِيهِ مِنَ الْفَضْلِ قَالَ فَضْلٌ وَ خَيْرٌ كَثِيرٌ أَمَا أَوَّلُ مَا يُصِيبُهُ أَنْ يُغْفَرَ لَهُ مَا مَضَى مِنْ ذُنُوبِهِ وَ يُقَالَ لَهُ اسْتَأْنِفِ الْعَمَلَ۔

سلیمان بن خالد کہتا ہے کہ امام صادق (ع) نے فرمایا ہے کہ مجھے تعجب ہے  ان لوگوں پر  جو  اپنے آپ کو شیعہ کہتے  ہیں اور زندگی میں ایک مرتبہ بھی  امام حسین (ع) کی زیارت کے لیے نہیں جاتے،  یہ کیا جفاء  اور سستی ہے  اور وہ  کتنے عاجز  اور  ناتواں  ہیں کہ جو  ایسا کرتے ہیں۔  خدا  کی قسم اگر  ان کو  پتا  ہوتا کہ امام حسین (ع) کی زیارت کا کیا اجر اور ثواب  ہے  تو  ہر گز  اس سستی  اور ناتوانی کا مظاہرہ نہیں کرتے۔  میں نے عرض کیا کہ میں آپ پر قربان ہو جاؤں،  امام حسین کی زیارت کا کیا ثواب ہے ؟  امام نے فرمایا: اس  زیارت میں بہت  ہی زیادہ خیر اور نیکی ہے،  اس زیارت کا  پہلا ثواب جو زائر کو  ملتا  ہے  وہ یہ  ہے کہ اس کے پچھلے سارے گناہ معاف کر  دیئے  جاتے  ہیں اور  اس کو کہا جاتا  ہے کہ اب  اپنے  اعمال کو  ابتداء  سے شروع کرو۔

ابن قولويه، جعفر بن محمد، الوفاة: 367،كامل الزيارات ج1 ص292، محقق: امينى، عبد الحسين‏، چاپ اول‏، ناشر: دار المرتضوية، 

امام موسی كاظم (ع) اور  زیارت  امام حسین (ع):

امام کاظم (ع) سے بعض روایات امام حسین (ع) کی زیارت کے بارے میں نقل ہوئی ہیں کہ جن میں امام کاظم (ع) نے فرمایا کہ جو امام حسین کی زیارت کرے گا اس کے گناہوں کو معاف کر دیا جائے گا۔  امام معصوم سے اس طرح کے ثواب کا نقل ہونا  یہ  امام حسین (ع) کی زیارت کی  اہمیت اور فضیلت کو  ظاہر کرتا  ہے۔

روایت اول:

حَدَّثَنِي أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحِمْيَرِيِّ وَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحِمْيَرِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْقُمِّيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الزَّيَّاتِ عَنْ قائد [فَائِدٍ] الْحَنَّاطِ عَنْ أَبِي الْحَسَنِ الْمَاضِي عليه السلام قَالَ: مَنْ زَارَ الْحُسَيْنَ عليه السلام عَارِفاً بِحَقِّهِ‏ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَ مَا تَأَخَّرَ۔

 حضرت امام کاظم (ع) نے فرمایا کہ جو امام حسین (ع) کی زیارت کرے اور ان امام حسین (ع) کے حق کی بھی معرفت رکھتا  ہو تو  خداوند  اس  کے گذشتہ اور آئندہ  سارے گناہ  معاف کر  دیتا ہے۔

ابن قولويه، جعفر بن محمد، الوفاة: 367،كامل الزيارات ج1 ص138، محقق: امينى، عبد الحسين‏، چاپ اول‏، ناشر: دار المرتضوية،

روایت دوم:

مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ عَنِ الْخَيْبَرِيِ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ أَبُو الْحَسَنِ مُوسَى عليه السلام أَدْنَى مَا يُثَابُ‏ بِهِ زَائِرُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام بِشَطِّ الْفُرَاتِ إِذَا عَرَفَ حَقَّهُ وَ حُرْمَتَهُ وَ وَلَايَتَهُ أَنْ يُغْفَرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَ مَا تَأَخَّرَ.

حضرت  امام کاظم (ع) نے فرمایا کہ کم ترین شئی کہ جو امام حسین (ع) کی فرات کے کنارے زیارت کرنے کی وجہ سے زائر کو  دی  جاتی  ہے،  اس حالت میں کہ زائر  امام کے حق،  ولایت  اور احترام کی معرفت بھی رکھتا ہو تو،  یہ  ہے کہ خداوند  اس کے گذشتہ اور آئندہ  سارے گناہ  معاف  فرما  دیتا  ہے۔

كلينى،محمد بن يعقوب بن اسحاق،الوفاة: 329 ق‏،الكافي ج4 ص582، محقق:غفارى على اكبر و آخوندى،محمد،چاپ چهارم، ‏ناشر: دار الكتب الإسلامية

امام علی  ابن موسی  الرضا (ع) اور  زیارت  امام حسین (ع):

امام رضا  (ع) خود بھی  امام حسین (ع) کی زیارت کو بہت زیادہ  اہمیت  دیتے  تھے  اور  زیارت کا  ثواب  بیان کر  کے  لوگوں کو بھی  امام حسین (ع) کی  زیارت  کا  شوق  دلایا کرتے  تھے۔

روایت اول:

حَدَّثَنِي أَبِي وَ جَمَاعَةُ مَشَايِخِي عَنْ سَعْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدٍ الْجُعْفِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي جَرِيرٍ الْقُمِّيُّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْحَسَنِ الرِّضَا عليه السلام يَقُولُ لِأَبِي مَنْ زَارَ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ عليه السلام عَارِفاً بِحَقِّهِ كَانَ مِنْ مُحَدِّثِي‏ اللَّهِ‏ فَوْقَ عَرْشِهِ ثُمَّ قَرَأَ إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَ نَهَرٍ. فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِر۔

محمّد بن ابى جرير قمّى کہتا  ہے کہ میں  نے  امام  رضا (ع) سے  سنا  ہے کہ وہ  میرے  والد  سے فرماتے  تھے کہ جو شخص  امام حسین (ع) کے حق کی معرفت کے ساتھ زیارت کرے  تو  وہ  عرش خدا پر خداوند سے گفتگو کرنے والوں میں سے ہو گا۔ پھر امام نے اس آیت کی تلاوت کی: إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَ نَهَرٍ، فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ.

بے شک متقی  لوگ  باغوں  اور نہر کے کنارے ہوں گے،  ان  کا  ٹھکانہ حقیقت  کے ساتھ خداوند کہ جسکی سلطنت  جاویدانی  ہو گی،  کے نزدیک ہو  گا۔

ابن قولويه، جعفر بن محمد، الوفاة: 367،كامل الزيارات ج1 ص141، محقق: امينى، عبد الحسين‏، چاپ اول‏، ناشر: دار المرتضوية،

روایت دوم:

وَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ بَزِيعٍ عَنِ الْخَيْبَرِيِّ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُمِّيِّ قَالَ: قَالَ لِيَ الرِّضَا عليه السلام مَنْ زَارَ قَبْرَ أَبِي‏ بِبَغْدَادَ كَانَ كَمَنْ زَارَ رَسُولَ اللَّهِ صلي الله عليه و آله و سلم وَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِلَّا أَنَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صلي الله عليه و آله و سلم  وَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ فَضْلَهُمَا قَالَ ثُمَّ قَالَ لِي مَنْ زَارَ قَبْرَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ بِشَطِّ الْفُرَاتِ كَانَ كَمَنْ زَارَ اللَّهَ فَوْقَ كُرْسِيِّهِ [فِي عَرْشِهِ‏]۔

امام رضا (ع) نے فرمایا کہ جو میرے والد کی بغداد میں زیارت کرے تو  گویا  اس نے رسول خدا (ص) اور امیر المؤمنین علی (ع) کی زیارت کی ہے،  اگرچہ  رسول خدا  اور  امیر المؤمنین کی  زیارت کرنے کا زیادہ ثواب ہے۔ پھر فرمایا  کہ جو  امام حسین (ع) کی قبر کی فرات کے کنارے زیارت کرے تو گویا  اس  نے  خداوند  کی عرش  خدا  پر  زیارت  کی  ہے۔

ابن قولويه، جعفر بن محمد، الوفاة: 367،كامل الزيارات ج1 ص148، محقق: امينى، عبد الحسين‏، چاپ اول‏، ناشر: دار المرتضوية،

امام  ہادی  النقی (ع) اور  زیارت  امام حسین (ع):

امام ہادی (ع) نے ایک بہت ہی نورانی روایت میں ایک شخص کو  اپنی بیماری کی  شفاء  کے  لیے  امام حسین (ع) کے حرم میں  زیارت  کے  لیے بھیجا  تا کہ وہ  وہاں جا کر  امام کی  شفاء  کے  لیے  دعا کرے۔

 امام معصوم  سے اس عملی  روایت کی روشنی میں  امام حسین (ع) کی زیارت کی  اہمیت  واضح  ہو جاتی  ہے۔

قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ الْوَهْوِرْدِيُّ حَدَّثَنِي أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ هَمَّامٍ ره قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ الْحِمْيَرِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هَاشِمٍ الْجَعْفَرِيُّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي الْحَسَنِ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ عليه السلام وَ هُوَ مَحْمُومٌ عَلِيلٌ فَقَالَ لِي يَا أَبَا هَاشِمٍ ابْعَثْ رَجُلًا مِنْ مَوَالِينَا إِلَى الْحَائِرِ يَدْعُو اللَّهَ لِي فَخَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهِ فَاسْتَقْبَلَنِي عَلِيُّ بْنُ بِلَالٍ فَأَعْلَمْتُهُ مَا قَالَ لِي وَ سَأَلْتُهُ أَنْ يَكُونَ الرَّجُلَ الَّذِي يَخْرُجُ فَقَالَ السَّمْعَ وَ الطَّاعَةَ وَ لَكِنَّنِي أَقُولُ- إِنَّهُ أَفْضَلُ مِنَ الْحَائِرِ إِذْ كَانَ بِمَنْزِلَةِ مَنْ فِي الْحَائِرِ وَ دُعَاؤُهُ لِنَفْسِهِ أَفْضَلُ مِنْ دُعَائِي لَهُ بِالْحَائِرِ فَأَعْلَمْتُهُ عليه السلام مَا قَالَ فَقَالَ لِي قُلْ لَهُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلي الله عليه و آله و سلم  أَفْضَلَ مِنَ الْبَيْتِ وَ الْحَجَرِ وَ كَانَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ وَ إِنَّ لِلَّهِ تَعَالَى بِقَاعاً يُحِبُّ أَنْ يُدْعَى فِيهَا فَيَسْتَجِيبَ لِمَنْ دَعَاهُ وَ الْحَائِرُ مِنْهَا۔

ابو  ہاشم جعفرى نے کہا ہے کہ میں  امام  ہادی (ع) کے  پاس گیا۔  میں  نے  دیکھا کہ امام کو  بہت تیز  بخار  ہے۔  امام نے مجھ  سے کہا کہ ہمارے شیعوں میں سے کسی کو کربلا  امام حسین (ع) کے حرم میں بھیجو  تا  کہ وہ میرے لیے وہاں جا کر دعا کرے۔  یہ سن کر میں  امام کے گھر سے  باہر آ  گیا۔ وہاں میں نے علی ابن بلال کو دیکھا تو میں  نے  اس کو  امام ہادی (ع) کی حالت  اور ساری بات  بتائی اور اس سے کہا کہ کسی بندے سے بات کرے۔ علی ابن بلال نے کہا: میں نے بات سن  لی ہے  اور اطاعت بھی کروں گا  لیکن پھر بھی میں کہتا  ہوں کہ خود  امام  ہادی (ع) حرم  امام حسین  سے افضل اور برتر ہیں کیونکہ وہ بھی  امام حسین (ع) کی طرح ایک معصوم  امام  ہیں  اور  ان کی دعا  خود اپنے لیے، میرا  ان کے لیے امام حسین کے حرم میں جا کر دعا کرنے سے بہتر ہے۔  میں دوبارہ  امام ہادی (ع) کی خدمت میں آیا  اور علی ابن بلال کی ساری بات امام کو  بتائی۔  اس  پر امام نے مجھ  سے فرمایا: اس  سے کہو کہ رسول خدا (ص) بیت  اللہ  اور حجر الاسود  سے  افضل تھے  لیکن  پھر بھی بیت  اللہ کے گرد  طواف کرتے تھے  اور حجر الاسود کو بوسہ دیا کرتے  تھے،  خداوند کے لیے بعض مقامات ہیں کہ خود  خدا  چاہتا  ہے کہ وہاں پر اس سے دعا مانگی جائے  اور وہ  دعا  کرنے  والے  کی  دعا کو قبول کرے، اور  ان  مبارک  مقامات میں سے  ایک  امام حسین (ع) کا  حرم  ہے۔

ابن قولويه، جعفر بن محمد، الوفاة: 367،كامل الزيارات ج1 ص274، محقق: امينى، عبد الحسين‏، چاپ اول‏، ناشر: دار المرتضوية،

امام حسن عسكری (ع) اور  زیارت  امام حسین (ع):

امام حسن عسکری (ع) نے بھی ایک  روایت میں  امام حسین (ع) کی زیارت کو مؤمن کی علامات میں  سے  قرار  دیا  ہے:

رُوِيَ عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الْعَسْكَرِيِّ عليه السلام أَنَّهُ قَالَ‏ عَلَامَاتُ الْمُؤْمِنِ خَمْسٌ صَلَاةُ الْإِحْدَى وَ الْخَمْسِينَ وَ زِيَارَةُ الْأَرْبَعِينَ وَ التَّخَتُّمُ فِي الْيَمِينِ وَ تَعْفِيرُ الْجَبِينِ وَ الْجَهْرُ بسم الله الرحمن الرحيم۔

 مؤمن کی پانچ علامات ہیں: 1-  51 رکعت نماز پڑھنا،  2-  زیارت اربعین پڑھنا،  3-  دائیں  ہاتھ میں انگوٹھی پہننا،  4-  خاک  شفاء  پر سجدہ کرنا،  5-  نماز میں بسم  اللہ  الرحمن  الرحیم   بلند  آواز  سے  پڑھنا۔

الشيخ المفيد، الوفاة: 413 ق، ‏المزار- مناسك المزار (للمفيد)  ج1 ص53 ، محقق: ابطحى، محمد باقر، چاپ اول‏،

امام  زمان عجل  اللہ تعالی  فرجہ  الشریف  اور  زیارت  امام حسین (ع):

حاجی علی بغدادی کی مشہور داستان کہ وہ  امام زمان (عج) کے حضور شرفیاب ہوا۔  اس  داستان میں ہے کہ امام  زمان (عج) حاجی علی بغدادی کے ساتھ امام حسین (ع) کی زیارت کے لیے کربلا  گئے کہ خود  امام حسین (ع) کی زیارت  کی  اہمیت  پر  واضح  دلیل  ہے۔

یہ داستان مرحوم نوری کی کتاب النجم الثاقب میں تفصیل سے ذکر ہوئی  ہے لیکن ہم یہاں  پر مختصر طور پر  ذکر کرتے  ہیں:

الحكاية الحادية و الثلاثون :

قضية الصالح الصفي التقي الحاج علي البغدادي الموجود حالياً في وقت تأليف هذا الكتاب وفّقه الله ، و هي تناسب الحكاية السابقة ، و لو لم يكن في هذا الكتاب الشريف الّا هذه الحكاية المتقنة الصحيحة التي فيها فوائد كثيرة ، و قد حدثت في وقت قريب ، لكفت في شرفه و نفاسته .

في شهر رجب السنة الماضية كنت مشغولا بتأليف رسالة جنّة المأوى فعزمت على السفر إلى النجف الأشرف لزيارة المبعث ، فجئت الكاظمين و وصلت بخدمة جناب العالم العامل و الفقيه الكامل السيد السند و الحبر المعتمد الآقا السيد محمد ابن العالم الأوحد السيد احمد ابن العالم الجليل و الدوحة النبيل السيد حيدر الكاظميني أيّده الله و هو من تلامذة خاتم المجتهدين و فخر الاسلام و المسلمين الأستاذ الأعظم الشيخ مرتضى أعلى الله تعالى مقامه ، و من أتقياء علماء تلك البلدة الشريفة ، و من صلحاء أئمة جماعة الصحن و الحرم الشريف ، و كان ملاذاً للطلاب و الغرباء و الزوار ، و أبوه و جدّه من العلماء المعروفين ، و ما زالت تصانيف جدّه سيد حيدر في الأصول و الفقه و غيرهما موجودة .

فسألته إذا كان رأى أو سمع حكاية صحيحة في هذا الباب أن ينقلها ، فنقل هذه القضية ، و كنت قد سبقتها سابقاً و لكنّي لم أضبط أصلها و سندها فطلبت منه أن يكتبها بخطّ يده . فقال : سمعتها من مدّة وأخاف أن أزيد فيها أو أنقص ، فعليَّ أن ألتقي به و اسئله و من ثمّ اكتبها ، و لكن اللقاء به و الأخذ منه صعب فانّه من حين وقوع هذه القضية قلّ اُنسه بالناس و سكناه في بغداد و عندما يأتي للتشرّف بالزيارة فانّه لا يذهب إلى مكان و يرجع بعد أن يقضي وطراً من الزيارة ، فيتفق أن لا أراه في السنة الّا مرّة أو مرّتين في الطريق ، وعلى ذلك فانّ مبناه على الكتمان الّا على بعض الخواص ممن يأمن منه الافشاء و الإذاعة خوف استهزاء المخالفين المجاورين المنكرين ولادة المهدي عليه السلام و غيبته ، و خوفاً من أن ينسبه العوام إلى الفخر و تنزيه النفس .

قلت : انّي أطلب منك أن تراه مهما كان و تسأله عن هذه القضية إلى حين رجوعي من النجف ، فالحاجة كبيرة و الوقت ضيق . ففارقته لساعتين أو ثلاث ثمّ رجع اليّ و قال : من أعجب القضايا انّي عندما ذهبت إلى منزلي جائني شخص مباشرة و قال جاؤوا بجنازة من بغداد و وضعوها في الصحن الشريف و ينتظرونك للصلاة عليها . فقمت و ذهبت و صلّيت فرأيت الحاج المذكور بين المشيّعين فأخذته جانباً ، و بعد امتناعه سمعت هذه القضية ، فشكرت الله على هذه النعمة السنية ، فكتبت القصة بكاملها و ثبّتها في جنّة المأوى۔

 اجتمع في ذمّتي ثمانون توماناً من مال الإمام عليه السلام فذهبت إلى النجف الأشرف فأعطيت عشرين توماناً منه لجناب علم الهدى و التقى الشيخ مرتضى أعلى الله مقامه و عشرين توماناً إلى جناب الشيخ محمد حسين المجتهد الكاظميني و عشرين توماناً لجناب الشيخ محمد حسن الشروقي و بقي في ذمّتي عشرون توماناً ، كان في قصدي أن أعطيها إلى جناب الشيخ محمد حسن الكاظميني آل ياسيني أيده الله عند رجوعي . فعندما رجعت إلى بغداد كنت راغباً في التعجيل بأداء ما بقي في ذمّتي ، فتشرّفت في يوم الخميس بزيارة الامامين الهمامين الكاظمين عليهما السلام و بعد ذلك ذهبت إلى خدمة جناب الشيخ سلّمه الله و أعطيته مقداراً من العشرين توماناً و واعدته بأني سوف أعطي الباقي بعد ما أبيع بعض الأشياء تدريجياً ، و أن يجيزني أن أوصله إلى أهله ، و عزمت على الرجوع إلى بغداد في عصر ذلك اليوم ، و طلب جناب الشيخ منّي أن أتأخر فاعتذرت بأن عليّ أن أوفي عمّال النسيج أجورهم ، فانّه كان من المرسوم أن أسلّم أجرة الأسبوع عصر الخميس ، فرجعت و بعد أن قطعت ثلث الطريق تقريباً رأيت سيداً جليلا قادماً من بغداد من أمامي ، فعندما قرب منّي سلّم عليّ و أخذ بيدي مصافحاً و معانقاً وقال : أهلا وسهلا و ضمني إلى صدره و عانقني و قبّلني و قبّلته ، و كانت على رأسه عمامة خضراء مضيئة مزهرة ، و في خدّه المبارك خال أسود كبير ، فوقف و قال : حاج علي على خير ، على خير ، أين تذهب ؟ قلت : زرت الكاظمين عليهما السلام و أرجع إلى بغداد . قال : هذه الليلة ليلة الجمعة فارجع . قلت : يا سيدي لا أتمكّن . فقال : في وسعك ذلك ، فارجع حتى أشهد لك بأنّك من موالي جدّي أمير المؤمنين عليه السلام و من موالينا ، و يشهد لك الشيخ كذلك ، فقد قال تعالى : { واستشهدوا شهيدين }  و كان ذلك منه إشارة إلى مطلب كان في ذهني أن ألتمس من جناب الشيخ أن يكتب لي شهادة بأنّي من موالي أهل البيت عليه السلام لأضعها في كفني. فقلت : أي شيء تعرفه ، و كيف تشهد لي ؟ قال : من يوصل حقّه إليه ، كيف لا يعرف من أوصله ؟

قلت : أيُّ حق ؟ قال : ذلك الذي أوصلته إلى وكيلي . قلت : من هو وكيلك . قال : الشيخ محمد حسن . قلت : وكيلك ؟ قال : وكيلي . و كان قد قال لجناب الآقا السيد محمد ، و كان قد خطر في ذهني ان هذا السيد الجليل يدعوني باسمي مع أنّي لا أعرفه ، فقلت في نفسي لعلّه يعرفني و أنا نسيته . ثمّ قلت في نفسي أيضاً : انّ هذا السيد يريد منّي شيئاً من حقّ السادة ، و أحببت أن اُوصل إليه شيئاً من مال الإمام عليه السلام الذي عندي .

فقلت : يا سيد بقي عندي شيءٌ من حقّكم فرجعت في أمره إلى جناب الشيخ محمد حسن لأؤدّي حقّكم يعني السادات بأذنه . فتبسّم في وجهي و قال : نعم قد أوصلت بعضاً من حقّنا إلى وكلائنا في النجف الأشرف .

فقلت : هل قبل ذلك الذي أدّيته ؟ فقال : نعم . خطر في ذهني أن هذا السيد يقول بالنسبة إلى العلماء الأعلام ( وكلائنا ) فاستعظمت ذلك ، فقلت : العلماء وكلاء في قبض حقوق السادات و غفلت.  ثم قال : ارجع زُر جدّي . فرجعت و كانت يده اليمنى بيدي اليسرى فعندما سرنا رأيت في جانبنا الأيمن نهراً ماؤه أبيض صاف جار ، و أشجار الليمون و النارنج و الرمان و العنب و غيرها كلّها مثمرة في وقت واحد مع انّه لم يكن موسمها ، و قد تدلت فوق رؤوسنا . قلت : ما هذا النهر و ما هذه الأشجار ؟ قال : انها تكون مع كل من يزورنا و يزور جدّنا من موالينا الی أن قال  الحاج علی البغدادی: قال لی ذالک السيد : هل تزور جدّي الحسين عليه السلام ؟

قلت : نعم أزوره فهذه ليلة الجمعة .

فقرأ زيارة وارث ، و قد فرغ المؤذنون من اذان المغرب ، فقال لي : صلِّ و التحق بالجماعة ، فجاء إلى المسجد الذي يقع خلف الحرم المطهّر و كانت الجماعة قد انعقدت هناك ، و وقف هو منفرداً في الجانب الأيمن لإمام الجماعة محاذياً له ، و دخلت أنا في الصفّ الأول حيث وجدت مكاناً لي هناك .فعندما انتهيت لم أجده۔

محدث نوری نے لکھا ہے کہ:

حکایت نمبر 31 ۔

یہ داستان ایک صالح اور متقی انسان حاجی علی بغدادی کی ہے، کہ جو اس کتاب کے لکھنے کے زمانے میں زندہ ہے  اور اگر اس کتاب میں اس سچی اور مفید داستان کے علاوہ کوئی دوسری داستان  نہ بھی ہو تو پھر بھی اس کتاب کے معتبر اور بہترین ہونے کے لیے کافی ہے۔ گذشتہ سال کے ماہ  رجب میں،  میں کتاب جنۃ  الماوی  لکھنے میں مصروف تھا کہ میں نے مبعث کے دن کی زیارت (27 رجب) کے لیے نجف اشرف جانے کا ارادہ کیا۔  پس میں سید محمد کاظمینی کہ جو عالم عامل اور شیخ  اعظم کے شاگردوں میں سے تھے کہ جو متقی ترین اور کاظمین کے حرم میں امام جماعت، کہ جو ہمیشہ طالب علموں، نیاز مندوں اور زائرین کی مدد کیا کرتے تھے، کہ جن کے والد اور دادا محترم بھی علماء میں سے تھے، کی خدمت میں کاظمین آیا۔ میں نے سید محمد کاظمینی سے پوچھا کہ اگر آپ نے امام زمان (عج) سے ملاقات کے بارے میں کوئی سچی حکایت سنی ہے تو  اس کو ہمارے لیے بھی  بیان فرمائیں،  پس انھوں نے حاجی علی بغدادی کی حکایت کو ہمارے لیے بیان کیا۔ میں نے اس حکایت کو اگرچے  پہلے بھی  سنا  ہوا تھا کیونکہ میں نے اس کو لکھا نہیں تھا،  اس لیے میں نے سید محمد کاظمینی سے التماس کی کہ وہ  اپنے ہاتھوں سے اس حکایت کو مجھے لکھ کر بھی دیں۔  سید محمد کاظمینی نے کہا: میں نے اس حکایت کو  کافی عرصہ پہلے سنا تھا،  اور  مجھے ڈر  ہے  اس کو بیان کرتے وقت میں اپنی طرف سے کوئی  چیز  اس  میں زیادہ یا کم نہ کر دوں۔  اس لیے میں خود حاجی علی بغدادی سے ملاقات کر کے  اس حکایت کو  دوبارہ سن کر اور لکھ کر پھر آپ کے سامنے بیان کروں گا،  اور  اس کے علاوہ  حاجی علی بغدادی  سے ملاقات کرنا بھی بہت مشکل ہے کیونکہ وہ اس واقعے کے بعد لوگوں کے درمیان بغداد میں کم  ہی ظاہر ہوتا ہے  اور جب زیارت کے لیے بھی آتا ہے تو صرف زیارت کرتا ہے  اور  زیارت کرنے کے بعد واپس چلا جاتا ہے پس میں اس کو سال میں فقط ایک یا  دو مرتبہ دیکھتا ہوں۔ اسی لیے حاجی علی بغدادی ہمیشہ اس حکایت کو فقط خاص خاص لوگوں کو بتاتا ہے کیونکہ وہ  ڈرتا ہے کہ کہیں ایسا  نہ ہو کہ جب مخالفین  اس حکایت کو سنیں تو وہ اس کا مذاق نہ اڑائیں یا بعض عام لوگ یہ نہ بولیں کہ حاجی علی اس داستان سے خود کو مشہور کرنا  چاہتا  ہے۔

محدث نوری کہتا ہے کہ میں نے سید کاظمینی سے کہا کہ میں آپ سے التماس کرتا  ہوں کہ جیسے بھی  ہو ، میرے نجف واپس جانے سے پہلے آپ ضرور حاجی علی بغدادی سے ملاقات کریں  اور اس  حکایت کو اس سے دوبارہ سنیں کیونکہ مجھے اس حکایت کی بہت ضرورت ہے اور میرے پاس وقت بھی بہت کم ہے۔ یہ بات کر کے میں سید کے گھر سے باہر چلا گیا۔ تھوڑی  دیر بعد واپس آیا  تو  سید  نے  مجھے کہا کہ آج عجیب اتفاق ہوا ہے کہ تھوڑی دیر  پہلے ایک بندہ میرے گھر آیا  اور مجھ سے کہا ہے کہ ایک  جنازے کو بغداد سے حرم میں لائیں ہیں اور  اس کو حرم کے صحن میں لا کر رکھا ہے  اور وہ کہہ رہے ہیں کہ آپ اس پر نماز پڑھیں۔ میں جلدی سے حرم گیا اور  اس  جنازے  پر نماز  پڑھ کر فارغ ہوا  تو وہاں میں نے حاجی علی بغدادی کو دیکھا  اور اس  سے اس  حکایت کو  دوبارہ سن کر میں نے  حکایت کو لکھ لیا  ہے۔ 

محدث نوری کہتا ہے کہ میں نے اس حکایت کو کتاب جنۃ  الماوی میں نقل کیا  ہے کہ:

80 تومان سہم امام میرے ذمے تھا، لہذا میں نجف اشرف گیا اور ان میں سے 20 تومان جناب شیخ مرتضی کو دیئے اور 20 تومان جناب شیخ محمد حسن مجتہد كاظمینی کو دیئے اور 20 تومان  جناب شیخ  محمد حسن شروقی کو دیئے۔ اس طرح  اب میرے  ذمے صرف  20  تومان  رہ  گئے  تھے کہ میں نے سوچا کہ جب میں بغداد  واپس  جاؤں  گا  تو  وہ شیخ  محمد حسن  كاظمینی  آل یس کو  دوں گا  اور میرا  یہ ارادہ تھا کہ جونہی بغداد جاؤں  گا  تو فوری اس ذمے کو ادا کروں گا۔ جمعرات کا دن تھا کہ میں نے كاظمین میں حضرت موسی بن جعفر اور حضرت  امام محمدتقی علیہما  السلام کی  زیارت کی اور جناب شیخ محمد حسن كاظمینی آل یس سے ملنے کے لیے  ان  کے پاس چلا گیا اور  ان بیس تومان میں سے کچھ تومان ان کو دیئے  اور  ان  سے وعدہ کیا کہ باقی کم کم کر کے آپ کو  دے  دوں گا۔  اسی  دن  دوپہر کے وقت  میں  نے  بغداد  جانے  کا  ارادہ کیا  تو  جناب شیخ نے کہا کہ ایک دن  اور رک  جاؤں لیکن میں نے کہا کہ کار خانے میں کام کرنے والوں کو تنخواہ بھی دینی ہے۔  یہ کہہ کر میں بغداد کے لیے نکل پڑا۔ ابھی زیادہ  راستہ طے نہیں کیا  تھا کہ میں نے  ایک سید کو  دیکھا کہ جو بغداد  سے میری طرف  آ رہا تھا، جب وہ میرے نزدیک آیا  تو  اس  نے  مجھے سلام کیا  اور مجھ  سے  گلے  ملنے  کے لیے  اس نے  اپنے  ہاتھوں کو آگے بڑھایا  اور  اهلاً  و سهلاً  کہہ کر  مجھے  گلے  لگا  لیا۔  اس  سید  کے سر  پر سبز عمامہ  اور رخسار پر کالا تل تھا۔ اس سید نے  مجھے کہا  حاجی علی کہاں جا  رہے  ہو ؟  میں  نے  کہا میں کاظمین  سے زیارت کرنے کے بعد اب بغداد  واپس جا  رہا  ہوں۔  اس  سید نے کہا  آج  شب جمعہ ہے،  واپس عراق کی طرف پلٹ جاؤ۔ میں نے کہا  اے  سید محترم  میرے  لیے  اب  واپس  پلٹنا ممکن نہیں ہے،  سید نے کہا: ممکن ہے،  سید نے کہا واپس پلٹ جا کہ تا کہ میں گواہی  دوں کہ تم میرے  دادا  امیرالمؤمنین علی (ع) اور ہمارے موالیوں میں سے ہو، اور شیخ نے بھی گواہی دی کیونکہ خداوند  نے فرمایا ہے کہ دو گواہ بنایا کرو  اور یہ بالکل وہی بات تھی کہ جو میرے دل میں تھی کیونکہ جب میں نے  جناب شیخ  کو  دیکھا  تھا  تو  ان سے کہا تھا کہ ایک ایسی بات لکھیں  اور  اس میں گواہی دیں کہ میں  اہل  بیت (ع) کے موالیوں میں سے ہوں اور  اس تحریر کو میں اپنے ساتھ کفن میں رکھنا چاہتا  تھا۔ میں نے کہا آپ کو کیسے پتا  ہے  اور کیسے گواہی  دے  رہے  ہیں ؟! اس  سید  نے کہا  کیسے تم میرے حق کو تو  مجھے  دیتے ہو  اور خود مجھ کو نہیں پہچانتے ؟  میں  نے کہا: کون سا  حق ؟ اس سید نے کہا جو تم نے میرے وکلا کو دیا  ہے، میں نے کہا آپ کے وکلا کون ہیں ؟  سید نے کہا شیخ  محمد حسن،  میں نے کہا وہ آپ کے وکیل ہیں ؟  اس نے کہا ہاں وہ میرا  وکیل ہے۔  یہاں  پر میرے  ذہن میں آیا کہ کیسے اس سید  نے  مجھے  میرے  نام  سے  پکارا  ہے  حالانکہ وہ  مجھے جانتا نہیں ہے ؟!

میں نے خود اپنے آپ کو جواب دیا کہ شاید وہ  مجھے جانتا  ہی ہو اور میں اس کو نہیں جانتا۔ پھر میں نے اپنے آپ سے کہا کہ یہ سید مجھ سے سہم سادات میں سے کچھ حصہ لینا  چاہتا  ہے  اور میرا بھی  دل تھا  کہ میں اس سہم میں سے کچھ حصہ اس سید کو دوں۔ لہذا  میں  نے اس  سے کہا کہ آپ  کے حق کے پیسے میرے پاس تھے کہ میں شیخ محمد حسن کے پاس گیا تھا کیونکہ اس کی اجازت سے دوسروں کو  ان  کا حصہ دیتا،  اس  سید  نے میری طرف دیکھ کر مسکرایا  اور کہا  ہاں تم  نے ہمارے بعض حق کو  ہمارے وکلا کو نجف میں دیا ہے۔ میں نے کہا: جو کچھ میں نے دیا ہے وہ قبول ہے ؟  اس  سید نے کہا: ہاں قبول ہے، میں نے اپنے آپ سے کہا کہ یہ سید کون ہے کہ جو بڑے بڑے علماء  کو  اپنا  وکیل کہتا  ہے  اور میں نے اس پر تعجب بھی کیا ؟  پھر میں نے  اپنے آپ  سے کہا کہ علماء  تو  سادات کا سہم  لینے  میں  وکیل ہوتے ہی ہیں ! پھر اس سید نے مجھے فرمایا کہ واپس پلٹو  اور  میرے  جدّ  کی زیارت کرو،  میں واپس پلٹا  اور میرا  بایاں  ہاتھ  اس  کے دائیں  ہاتھ میں تھا  اور ہم نے  اکٹھے  کاظمین  کی طرف  چلنا  شروع کر دیا۔ جب ہم چل رہے تھے تو میں نے دیکھا کہ ہمارے  دائیں طرف  صاف سفید  پانی کی نہر بہہ رہی ہے اور لیموں،  مالٹے،  انار،  انگور  کے  درخت  ہیں حالانکہ ان پھلوں کا موسم بھی نہیں تھا۔ میں نے کہا یہ نہر  اور پھلوں کے درخت کیا  ہیں ؟  اس  سید  نے فرمایا  جو ہمارے جدّ اور ہماری زیارت کرے  یہ سب اس  کے لیے  ہیں۔ یہاں تک کہ امام نے  مجھے فرمایا کہ کیا  تم  ہمارے جدّ  امام حسین (ع) کی زیارت کرنا چاہتے ہو ؟  میں نے کہا ہاں آج  تو  شب  جمعہ ہے ضرور  زیارت کروں گا۔  امام زمان (عج) نے  میرے لیے زیارت وارث پڑھی۔ اس وقت اذان مغرب ہو چکی تھی۔  امام نے مجھے فرمایا جاؤ جماعت کے ساتھ جا کر نماز پڑھو۔ قبر مقدس کے پیچھے ایک مسجد تھی ہم نے اس میں جا کر با جماعت نماز پڑھی، خود امام مسجد میں امام جماعت کے سیدھی طرف کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے اور میں نے پہلی صف میں کھڑے ہو کر نماز پڑھی۔ جب نماز ختم ہوئی تو میں نے امام کی طرف دیکھا لیکن وہ نہیں تھے، جلدی سے مسجد سے باہر آ کر حرم میں ادھر ادھر دیکھا لیکن وہ بالکل نظر نہ آئے .......

ميرزا حسين النوري الطبرسي، الوفاة : 1320، النجم الثاقب ج2 ص160 تحقيق : السيد ياسين الموسوي چاپ اول، الناشر : أنوار الهدى،

نتیجہ:

امام حسین(ع) کی زیارت کے بارے میں بہت زیادہ روایات اور آئمہ معصومین                  (ع) کا عملی طور پر امام حسین (ع) زیارت کو اہمیت دینے کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ امام حسین (ع) کی زیارت اگر واجب نہ بھی ہو تو یہ ایسا مستحب عمل ہے کہ جس پر شعیہ مذہب میں بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے اور اسی طرح اس بارے میں روایات کی کثرت ہمیں ان روایات کی سند کے بارے میں بحث کرنے سے بھی بے نیاز کرتی ہے۔

التماس دعا۔۔۔۔۔

 

 





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی