2017 November 23
حضرت علی علیہ السلام کو «قسيم النار والجنة» کیوں کہتے ہیں ؟
مندرجات: ٣٨ تاریخ اشاعت: ٢٤ July ٢٠١٦ - ١٣:١٣ مشاہدات: 649
سوال و جواب » امام علی (ع)
حضرت علی علیہ السلام کو «قسيم النار والجنة» کیوں کہتے ہیں ؟

 سوال : ما نی الگودرز

جواب

یہ بات حضرت علی علیہ السلام  کی شان میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کی بہت سی احادیث  میں نقل ہوئی ہے :

منابع شیعہ میں اصل  احادیث

عن عبد الله بن عباس قال : قال رسول الله ( صلي الله عليه وآله ) : ... معاشر الناس ، إن عليا قسيم النار ، لا يدخل النار ولي له ، ولا ينجو منها عدو له ، إنه قسيم الجنة ، لا يدخلها عدو له ، ولا يزحزح عنها ولي له .

امالي شيخ صدوق ص 83 ، به سند ديگر خصال ، شيخ صدوق ، ص 496

عبد اللہ ابن عباس سے نقل ہوا ہے کہ :رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے فرمایا اے لو گو حضرت علی جہنم کے تقسیم کر نے والے ہیں جو شخص  بھی انکا دوست و محب ہو گا وہ جہنم میں داخل نہیں ہو گا اور جو بھی انکا دشمن ہو گا وہ جہنم کی آگ سے نجات نہیں پا سکتا ۔اور اسی طرح سے علی جنت کے تقسیم کر نے والے ہیں جو بھی انکا دشمن ہو گا وہ جنت میں داخل نہیں ہو سکتا اور جو بھی انکا دوست ہو گا وہ جنت  سے محروم نہیں ہو سکتا۔

قال(علي ابن موسي الرضا) قال رسول الله " ص " يا علي انك قسيم الجنة والنار

عيون اخبار الرضا ج 1 ص 30

حضرت علی ابن مو سی الرضا علیہ السلام نے فر ما یا :کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر ما یا :

ای علی یقینا تم جنت و جہنم کے تقسیم کر نے والے ہو ۔

عن سليمان بن خالد ، عن أبي عبد الله جعفر بن محمد الصادق ، عن آبائه عليهم السلام قال : قال رسول الله صلي الله عليه وآله لعلي عليه السلام : ... يا علي أنت قسيم الجنة والنار ، لا يدخل الجنة إلا من عرفك وعرفته ، ولا يدخل النار إلا من أنكرك وأنكرته .

امالي شيخ مفيد ص 213

سلیمان بن خالد نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے اور امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے اجداد سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فر ما یا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے حضرت علی علیہ السلام  سے فر مایا :۔۔ای علی تم جنت اور دوزخ تقسیم کر نے والے ہو اور جنت میں داخل نہیں ہو سکتا مگر وہ شخص کے کہ جو تمہیں اور تم اسے پہچانتے ہو اور اسی طرح سے جہنم میں داخل نہیں ہو سکتا مگر وہ جو تمہارا اور تم اس کے منکر ہو۔

یہ روایت کئی طرح سے قسیم النار و الجنۃ ،قسیم النار،قسیم الجنۃ والنار،السلام علیک یا قسیم النار و الجنۃ ،مندرجہ ذیل منابع میں آئی ہے ۔

الكافي كليني ج 4 ص 570، معاني الاخبار شيخ صدوق ص 206، تهذيب الاحكام شيخ طوسي ج 6 ص 29، روضه الواعظين فتال نيشابوري ص 100و 118، المسترشد طبري شيعي ص 264، امالي شيخ مفيد ص 213، امالي شيخ طوسي ص 305 و 629، احتجاج طبرسي ج 1 ص 209و 341،مناقب ابن شهر آشوب ج 2 ص 8 و ج 3 ص 28، الطرائف سيد بن طاووس ص 76، مدينه المعاجز ج 1 ص 280

روایت اہل سنت کے منابع سے:

یہ روایت اہل سنت کے بہت سے منابع میں نقل ہوئی ہے اگر چہ بہت سے متعصبین نے اس روایت کو ضعیف شمار کرنے کی کو شش کی ہے لیکن جب یہ روایت لغت کی کتابوں میں بھی نقل ہوئی ہے اور متعدد اسناد کے ساتھ اہل سنت کی معتبر کتابوں میں نقل ہوئی ہے لہذا اب اعتراض کرنے کے لئے کوئی بہانہ نہیں رہ جاتا۔ اب آئیے ہم اہل سنت کے منابع سے بعض روایات کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

عن علي رضي الله تعالي عنه أنا قسيم النار

الفايق في غريب الحديث جارالله زمخشري ج 3 ص 97

حضرت علی علیہ السلام  نے فرمایا : میں دوزخ کا تقسیم کر نے والا ہو۔

وروي أيضا عن الأعمش عن موسي بن طريف ، عن عباية ، قال سمعت عليا ( ع ) ، وهو يقول : أنا قسيم النار .

شرح نهج البلاغه ابن ابي الحديد ج 2 ص 260 و ج 19 ص 140

اور اسی طرح سے روایت ہوئی ہے اعمش سے اور اعمش نے روایت کی مو سی بن طریف سے اور مو سی بن طریف نے عبادہ سے روایت کی ہے اور عبادہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی علیہ السلام  سے سنا کہ آپ نے فرمایا :میں دوزخ کا تقسیم کر نے والا ہوں ۔

عن عباية عن علي قال : أنا قسيم النار ، إذا كان يوم القيامة قلت هذا لك وهذا لي .

البدايه و النهايه ج 7 ص 392

عبادہ حضرت علی علیہ السلام  سے نقل کر تے ہیں کہ آپ نے فر ما یا :میں جہنم کا تقسیم کر نے والا ہوں اور جب روز قیامت ہو گا تو اس وقت میں [جہنم کی آگ سے] کہوں گا کہ یہ شخص تیرے لئے اور یہ شخص میرے لئے ۔

 

اسی طرح  غريب الحديث ، ج 1 ، ص 377 ، النهايه في غريب الحديث ، ج 4 ، ص 61 و المناقب ، خوارزمي ، ص 41 و كنزالعمال متقي هندي ج 13 ص 152، تاريخ مدينه دمشق ج 42 ص 298.

اس کی وجہ تسمیہ

 بعض روایتوں میں اس کی وجہ تسمیہ کا ذکر کیا گیا ہے کہ جس میں دو روایتوں پر اکتفا کر تے ہیں :

1 - حدثنا أحمد بن الحسن القطان قال : حدثنا أحمد بن يحيي بن زكريا أبو العباس القطان قال : حدثنا محمد بن إسماعيل البرمكي قال : حدثنا عبد الله بن داهر قال : حدثنا أبي ، عن محمد بن سنان عن المفضل بن عمر قال : قلت لأبي عبد الله جعفر بن محمد الصادق " ع " لم صار أمير المؤمنين علي بن أبي طالب قسيم الجنة والنار ؟ قال : لان حبه إيمان وبغضه كفر ، وإنما خلقت الجنة لأهل الايمان ، وخلقت النار لأهل الكفر ، فهو عليه السلام قسيم الجنة والنار  لهذه العلة، فالجنة لا يدخلها إلا أهل محبته ، والنار لا يدخلها إلا أهل بغضه .

علل الشرايع ج 1 ص 162

فضل بن عمر سے روایت ہے کہ میں نے امام  صادق علیہ السلام سے عرض کیا کہ حضرت علی علیہ السلام کے قسیم النار الجنۃ ہونے کی وجہ تسمیہ کیا ہے ؟حضرت امام صادق علیہ السلام نے فر مایا :کیونکہ انکی دوستی ایمان اور انکی دشمنی کفر ہے ،اور جنت اہل ایمان کے لئے خلق ہوئی ہے اور جہنم اہل کفر کے لئے خلق ہوئی ہے لہذا  اسی بناء پر حضرت علی علیہ السلام قسیم النار والجنۃ ہیں۔ ان کے محب، جنت میں جائیں گے اور ان کے دشمن جہنم میں جائیں گے۔

اسی طرح سے دوسری روایت میں امام رضا علیہ السلام سے آیا ہے کہ:

30 - حدثنا تميم بن عبد الله بن تميم القرشي قال : حدثني أبي عن أحمد بن علي الأنصاري عن أبي الصلت الهروي قال : قال المأمون يوما للرضا عليه السلام يا أبا الحسن أخبرني عن جدك أمير المؤمنين بأي وجه هو قسيم الجنة والنار و بأي معني فقد كثر فكري في ذلك ؟ فقال له الرضا عليه السلام : يا أمير المؤمنين ألم ترو عن أبيك عن آبائه عن عبد الله بن عباس أنه قال : سمعت رسول الله ( ص ) يقول : حب علي إيمان وبغضه كفر ؟ فقال : بلي فقال الرضا عليه السلام : فقسمة الجنة والنار إذا كانت علي حبه وبغضه فهو قسيم الجنة والنار

عيون اخبار الرضا ج 1 ص 92.

ابا صلت ھروی نے نقل کیا ہے کہ ایک دن مامون نے امام رضا علیہ السلام سے کہا: کہ اے ابا الحسن مجھے اپنے جد امیر المومنین علیہ السلام کے بارے میں بتائیے کہ انہیں قسیم النار و الجنۃ کیوں کہا جاتا ہے اور اس کے کیا معنی ہیں۔ کیونکہ میرا ذہن اسی سوچ میں لگا ہوا ہے۔ تو امام رضا علیہ السلام نے  اس سے فر مایا اے مامون کیا تم نے اپنے والد سے اور انہوں نے اپنے اجداد سے اور انہوں نے ابن عباس سے اور ابن عباس نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ سلم نقل نہیں کیا کہ انہوں نے کہا میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فر ما تے ہوئے سنا: حضرت علی علیہ السلام سے محبت ایمان اور علی علیہ السلام سے دشمنی کفر ہے۔ مامون نے جواب دیا جی درست ہے۔ تو حضرت امام رضا علیہ السلام نے فر مایا: لہذا جب جنت و جہنم کا تقسیم ہونا ان کی محبت اور بغض کی بنیاد پر ہوگا تو [لامحالہ] حضرت علی علیہ السلام جنت و جہنم کے تقسیم کر نے وا لے ہوں گے۔


قسیم الجنۃ والنار، شعراء کےاشعار میں

 بہت سے شعراء نے صدیوں تک اس روایت سے اپنے اشعار میں استفادہ کیا کہ جس میں بعض کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے :

قسيم النار ذو خير وخير يخلصنا الغداة من السعير

فكان محمد في الدين شمسا علي بعد كالبدر المنير

خاتمه المستدرك ميرزاي نوري ج 3 ص 80،

حضرت علی علیہ السلام جہنم کے تقسیم کر نے والے صاحب خیر ہیں اور کتنا اچھا ہے کہ ہم کل قیامت میں جہنم سے نجات پائیں گے۔

پس حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سورج کی طرح ہیں اور انکے بعد علی علیہ السلام چودھویں کے چاند کی مانند ہیں ۔

بشنوی نے کہا :

 

فمدينة العلم التي هو بابها أضحي قسيم النار يوم مآبه

فعدوه أشقي البرية في لضي ووليه المحبوب يوم حسابه

پس علم کا شہر کہ جسکا دروازہ علی علیہ السلام ہیں۔ ظاہر ہے کہ روز قیامت وہی جہنم کا تقسیم کر نے والے ہوں گے۔

پس اسکا دشمن، قیامت میں شقی ترین مخلوق ہوگا اور اسکا دوست، قیامت میں دلعزیز ہوگا۔


مناقب ابن شهر آشوب ج 1 ص 314،

عمار بن تغلب نے کہا :

علي حبه جنة قسيم النار والجنة

وصي المصطفي حقا إمام الانس والجنة .

مدينه المعاجز علامه بحراني ج 1 ص 260

حضرت علی علیہ السلام کی محبت زرہ ہے اور وہ جنت و جہنم کے تقسیم کر نے والے ہیں ۔

اور علی علیہ السلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حقیقی وصی اور جا نشین ہیں اور جن و انس کے رہنما و رہبر ہیں۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی