2017 December 15
کیا یزید پر لعنت کرنا جائز ہے؟
مندرجات: ٣٧٥ تاریخ اشاعت: ٢٠ September ٢٠١٧ - ٠٧:٢٥ مشاہدات: 907
سوال و جواب » امام حسین (ع)
جدید
کیا یزید پر لعنت کرنا جائز ہے؟

 سوال:

کیا یزید پر لعنت کرنا جائز ہے ؟

توضيح سؤال:

دشمنوں کو کس اساس و بنیاد پر لعنت کی جا سکتی ہے؟

کیا یزید نے توبہ کیا ہے یا نہیں ؟ اور اگر توبہ کی ہے تو کیا پھر بھی اس کو لعنت کی جا سکتی ہے ؟

جواب:

1- لعنت ایک قسم کی بددعا ہے کہ جو علامت ہے کہ وہ بندہ حق سے دور ہے۔

قرآن كريم میں 25 آیات سے زیادہ خداوند یا مؤمنین یا فرشتوں نے دشمنوں کو لعنت کی ہے۔

1- إنّ الله لعن الكافرين وأعدّ لهم سعيرا۔

(سورہ احزاب64)

2- فنردها علي أدبارها أو نلعنهم كما لعنّا أصحاب السبت۔

(سورہ نساء38)

3- فبما نقضهم ميثاقهم لعنّاهم۔

(سورہ مائدة13)

4- وغضب الله عليه ولعنه وأعدّ له عذابا عظيما۔

(سورہ نساء93)

5- لعنه الله وقال لأتخذن من عبادك نصيبا مفروضا۔

(سورہ نساء118)

6- من لعنه الله وغضب عليه وجعل منهم القردة والخنازير و عبد الطاغوت۔

(سورہ مائدة60)

7- بل لعنهم الله بكفرهم۔

(سورہ بقرة88)

8- اولئك الذين لعنهم الله ومن يلعن الله فلن تجد له نصيرا۔

(سورہ نساء52)

9- ولكن لعنهم الله بكفرهم

(سورہ نساء 46)

10- وعد الله المنافقين والمنافقات... نار جهنم هي حسبهم ولعنهم الله۔

(سورہ توبة68)

11- إنّ الذين يؤذون الله و رسوله لعنهم الله في الدنيا والآخرة۔

(سورہ احزاب 57)

12- فهل عسيتم ان توليتم ان تفسدوا في الارض و تقطعوا ارحامكم اولئك الذين لعنهم الله فأصمهم وأعمي أبصارهم۔

(سورہ محمد22و23)

13- و يعذب الله المنافقين والمنافقات ... وغضب الله عليهم و لعنهم جهنم وسائت مصيرا۔

(سورہ فتح 6)

14- ملعونين اينما ثقفوا أخذوا وقتّلوا تقتيلا۔

(سورہ احزاب61)

15- إنّ الذين يكتمون ما أنزلنا من البينات والهدي من بعد ما بيّنّاه للناس في الكتاب اولئك يلعنهم الله ويلعنهم اللاعنون۔

(سورہ بقرة159)

16- لعن الذين كفروا من بني اسرائيل علي لسان داود وعيسي بن مريم۔

(سورہ مائدة78)

17- وقالت اليهود يد الله مغلولة علت أيديهم ولعنوا بما قالوا۔

(سورہ مائدة64)

18- إنّ الذين يرمون المحصنات الغافلات المؤمنات لعنوافي الدنيا والآخرة۔

(سورہ نور24)

19- فلما جاءهم ما عرفوا كفروا به فلعنة الله علي الكافرين۔

(سورہ بقرة89)

20- إنّ الذين كفروا وماتوا وهم كفار اولئك عليهم لعنة الله والملائكة والناس اجمعين۔

(سورہ بقرة161)

21- فأذّن مؤذّن بينهم أن لعنة الله علي الظالمين۔

(سورہ اعراف44)

22- ثمّ نبتهل فنجعل لعنة الله علي الكاذبين۔

(سورہ آل عمران 61)

23- اولئك جزائهم أنّ عليهم لعنة الله والملائكة والناس اجمعين۔

(سورہ آل عمران87)

24- ألا لعنة الله علي الظالمين۔

(سورہ هود18)

25- ويفسدون في الارض اولئك لهم اللعنة و لهم سوء الدار۔

(سورہ رعد13)

قرآن  حضرت ابراہيم (ع) کے بارے میں کہتا ہے کہ:

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَآَءُ مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّي تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَحْدَهُ۔

سوره ممتحنه آيه 4

یقینا تہمارے لیے ابراہیم اور جو ان کے ہمراہ ہیں اچھا عملی نمونہ ہیں۔ جب انھوں نے اپنی قوم سے کہا کہ ہم تم سے اور خدا کے علاوہ جن کی تم عبادت کرتے ہو، بیزار ہیں۔ ہم ان کی نسبت کافر ہیں (یعنی ہم ان کی عبادت نہیں کرتے) ہمارے اور درمیان ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دشمنی اور کینہ ہے مگر یہ کہ تم خدا پر ایمان لے آؤ۔

ان آیات میں خداوند ابراہیم اور انکی قوم کی خدا کے دشمنوں سے بیزاری کا اظھار  کرنے کی وجہ سے تعریف کر رہا ہے اور ان کو تمام مؤمنین کے لیے عملی نمونہ قرار دیا ہے۔

 

2- کوئی دلیل بھی یزید کے توبہ کرنے پر موجود نہیں ہے۔ نہ شیعہ کتب میں اور حتی نہ کتب اہل سنت میں اس بارے میں  کوئی ضعیف روایت بھی نہیں ہے بلکہ کتب شیعہ اور کتب اہل سنت میں روایات اس کے بر عکس ہیں۔ حتی اہل سنت میں سے وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ یزید کو لعنت سے بری کیا جائے اور اس پر لعنت نہ کی جائے وہ بھی کہتے ہیں کہ: شاید اس نے زندگی کے آخری ایام میں مرنے سے پہلے توبہ کر لی ہو۔

3- اس پر لعنت کے بارے میں یہ نکتہ ہے کہ: اکثر علماء اہل سنت نے بھی یزید پر لعنت کرنے کو جائز اور حتی بعض نے تو واجب قرار دیا ہے۔

حتی عالم اہل سنت ابن جوزی نے اس بارے میں کتاب لکھی ہے:

٭٭ الرد علي المتعصب العنيد المنكر للعن يزيد ٭٭

یہ کتاب اس شخص کے بارے میں ہے جو یزید پر لعنت کرنے کو قبول نہ کرتا ہو۔

وہ اس کتاب میں اس بارے میں کہتا ہے کہ:

ان انكاره علی من استجاز ذم المذموم ولعن الملعون من جهل صراح، فقد استجازه كبار العلماء، منهم الامام احمد بن حنبل (رضي اللّه) وقد ذكر احمد في حق يزيد ما يزيد علي اللعنه.

یہ کہ ابن تیمیہ اس ناپاک اور ملعون انسان پر لعنت کرنے کو جائز قرار نہیں دیتا، یہ واضح و آشکار گمراہی و جہالت ہے کیونکہ اس عمل کو بزرگ علماء مانند احمد ابن حنبل نے جائز قرار دیا ہے اور احمد ابن حنبل نے یزید کے بارے میں ایک بات کی ہے کہ جو لعنت سے بھی بالا تر ہے۔

الردّ علی المتعصّب العنيد ص 13.

 اس بارے میں ذھبی کا کلام بھی جالب ہے۔ ذھبی یزید پر لعنت کے بارے میں احمد ابن حنبل سے ایک روایت نقل کرتا ہے کہ:

وتوقف جماعة في لعنته يعني يزيد مع أنه عندهم ظالم وقد قال تعالي ألا لعنة الله علي الظالمين وقد سأل منها أحمد بن حنبل عن يزيد فقال هو الذي فعل ما فعل۔

وقال له ولده صالح إن قوما ينسبوننا إلي تولي يزيد فقال يا بني وهل يوالي يزيد أحد يؤمن بالله واليوم الآخر فقال لم لا تلعنه قال وكيف لا ألعن من لعنه الله قال تعالي فهل عسيتم إن توليتم أن تفسدوا في الأرض وتقطعوا أرحامكم أولئك الذين لعنهم الله فأصمهم وأعمي أبصارهم فهل يكون فساد أعظم من نهب المدينة وسبي أهلها وقتل سبعمائة من قريش والأنصار وقتل عشرة آلاف ممن لم يعرف من عبد أو حر حتي وصلت الدماء إلي قبررسول الله صلي الله عليه وسلم وامتلأت الروضة ثم ضرب الكعبة بالمنجنيق وهدمها وأحرقها۔

وقال رسول الله صلي الله عليه وسلم إن قاتل الحسين في تابوت من نار عليه نصف عذاب أهل النار وقد قالصلي الله عليه وسلم إشتد غضب الله وغضبي علي من أراق دم أهلي وآذاني في عترتي۔

فيقال القول في لعنة يزيد كالقول في لعنة أمثاله من الملوك والخلفاء وغيرهم۔

المنتقی من منهاج الاعتدال ذهبی ، ج1، ص289

بعض نے یزید پر لعنت کرنے کے بارے میں توقف کیا ہے حالانکہ وہ یزید کو ظالم بھی کہتے ہیں اور خداوند نے بھی ظالموں کو لعنت کی ہے۔ احمد ابن حنبل سے یزید کے بارے میں سوال ہوا تو اس نے کہا کہ: یزید وہ ہے جو اس نے کیا ہے بس کافی ہے۔(یعنی اس نے جو کیا ہے وہ اس قدر خراب اور برا ہے کہ اس کو ذکر نہیں کیا جا سکتا)۔

احمد ابن حنبل کے بیٹے نے اپنے باپ سے کہا کہ: بعض ہمیں کہتے ہیں کہ ہم یزید کے طرف دار ہیں اور اس سے محبت کرتے ہیں۔ اس نے کہا بیٹا  ایسا  بندہ جو خدا اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو وہ کیسے یزید سے محبت کر سکتا ہے ؟

اس پر اس کے بیٹے نے کہا پس  پھر آپ اس کو لعنت کیوں نہیں کرتے ؟

اس نے جواب دیا: یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جس کو خدا نے قرآن میں لعنت کی ہو اس کو میں لعنت نہ کروں ؟" اے منافقو کیا تم نے سوچا ہے کہ جب لوگوں پر تم کو حکومت گئی تو تم زمین میں فساد کرو گے ؟ اور کیا تم نے اپنی رشتے داری کو آپس میں ختم کر دیا ہے ؟ یہ وہ ہیں کہ جن کو خدا نے لعنت کی ہے اور خدا نے ان کے کانوں کو بہرہ اور آنکھوں کو اندھا کر دیا ہے۔

تو کیا مدینے کو غارت و برباد کرنے، لوگوں کو اسیر کرنے، قریش اور انصار کے سات سو بندوں کو قتل کرنے اور اس کے علاوہ ہزاروں لوگوں کو قتل کرنے کہ جو غلام اور آزاد تھے کرنے سے بھی بڑا کوئی فساد ہو گا؟ اس حد تک کہ خون رسول خدا کی قبر تک پہنچ گیا اور پھر منجنیق سے کعبہ کو نشانہ بنایا اور اسکو مسمار کر کے آگ لگا دی۔ رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: حسین(ع) کا قاتل جھنم میں آگ کے تابوت میں ہے اور اس پر اہل جھنم میں سے آدھا عذاب ہو گا۔ اور یہ بھی فرمایا ہے کہ: خدا اور میرا غضب اس بندے پر زیادہ ہوتا ہے جو میرے اہل بیت میں سے کسی کو اذیت کرے اور اسے قتل کرے۔

پس یزید کو  لعنت کرنا یہ دوسرے خلفاء اور بادشاہوں کی طرح ہے یعنی اگر کوئی حاکم ظالم ہو تو اس کو لعنت کرنا جائز ہے اسی طرح یزید بھی جب ظالم ہے تو اس کو بھی لعنت کرنا جائز ہو گا۔

 

ابن عماد حنبلی نے بھی کہا ہے کہ:

قال التفتازاني في (شرح العقائد النسفيه): (اتفقوا علي جواز اللعن علي من قتل الحسين، او امر به، او اجازه، او رضي به، والحق ان رضا يزيد بقتل الحسين واستبشاره بذلك واهانته اهل بيت رسول اللّه (ص) مما تواتر معناه وان كان تفصيله آحادا، فنحن لا نتوقف في شانه، بل في كفره وايمانه، لعنه اللّه عليه وعلي انصاره واعوانه).

شذرات الذهب ج 1: ص 68 - 69.

تفتازنی نے اپنی کتاب شرح عقائد نسفی میں کہا ہے کہ: سب کی یہ نظر ہے کہ وہ کہ جہنوں نے حسین(ع) کو قتل کیا ہے یا جہنوں نے اس کام کا حکم دیا ہے یا جہنوں نے اس کام کی اجازت دی ہے یا جو اس کام پر راضی ہوئے ہیں، ان سب کو لعنت کی جا سکتی ہے اور ٹھیک یہ بات ہے کہ یزید امام حسین(ع) کے قتل پر راضی تھا۔ یزید کا امام حسین(ع) کے قتل پر راضی و خوش ہونا اور اہل بیت کی اہانت کرنا اور کربلاء میں اپنی کامیابی پر اشعار پڑھنا یہ تاریخ میں تواتر معنوی کے ساتھ ثابت ہے۔ لھذا ہم یزید کے بارے میں سکوت نہیں کریں گے اور اس کے کفر و ایمان کے بارے میں بھی بحث کریں گے۔ خدا کی لعنت ہو یزید پر، اسکی مدد کرنے والوں اور اسکی اتباع و پیروی کرنے والوں پر۔

نتیجہ:

یہ یزید، اس پر لعنت کرنے اور قاتل امام حسین(ع) کی روایت کو اس پر تطبیق کے بارے میں احمد ابن حنبل، ذھبی، ابن عماد حنبلی اور ابن جوزی کا کلام ہے۔ یہ علماء اہل سنت کا کلام اس بات کی علامت ہے کہ یزید توبہ کیے بغیر مرا ہے  کیونکہ اگر اس کی توبہ کرنے کے بارے میں کوئی ضعیف سے ضعیف بھی روایت ہوتی تو علماء اہل سنت اس کو ضرور ذکر کرتے۔ پس وہ امام حسین(ع) اور انکے اہل بیت کا قاتل ہے لھذا روایات شیعہ و سنی کے مطابق اس پرلعنت کرنا جائز ہے۔

التماس دعا

 

 




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی