2017 August 20
امام حسین(ع) کی شخصیت اہل سنت کی نظر میں
مندرجات: ٣٦٤ تاریخ اشاعت: ١٨ October ٢٠١٦ - ٠٩:٢٤ مشاہدات: 637
یاداشتیں » پبلک
امام حسین(ع) کی شخصیت اہل سنت کی نظر میں

 

حضرت امام حسین (ع) کی ولادت باسعادت:

رسول اللہ (ص) نے آپ کا نام رکھا:

ولادت کے بعد شہادت کی خبر:

رسول اللہ (ص)سے شباہت:

امام حسین (ع) سے رسول خدا کی محبت:

حضرت امام حسین (ع) سے محبت:

امام حسین (ع) سے جبرئیل کی محبت:

امام حسین (ع) سے رسول اللہ (ص) کی محبت:

امام حسین علیہ السلام کا گریہ:

امام حسین علیہ السلام سب سے بہتر:

امام حسین علیہ السلام کے فضائل ومناقب:

1حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں:

2حسین باب بہشت ہیں:

3 امام حسین علیہ السلام اور آیۃ تطہیر:

امام حسین اور آیۃ مباھلہ:

حسین وارث علم پیغمبر(ص):

گل باغ مصطفی:

سخاوت و تواضع:

سخاوت و شجاعت:

امام حسین(ع) کا حج:

حوالہ جات:

 

 

اس مقالہ میں اہل سنت کی کتب میں  امام حسین علیہ السلام کی شخصیت اور منزلت پر روشنی ڈالی گئی ہے اور اختصار سے آپ کے فضائل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس مضمون کا مطالعہ کرنے والا اس حقیقت سے آشنا ہو جاتا ہے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی الھی شخصیت نہ صرف شیعہ مسلمانوں کے لیے بلکہ اہل سنت بلکہ تمام آزاد ضمیر انسانوں کے لیے مقدس و محبوب اور قابل صد احترام ہے بنا بر این امام حسین علیہ السلام کی ذات والا صفات دشمنان اسلام کی تفرقہ انگیزسازشوں کے باوجود مسلمانوں کے درمیان محور اتحاد تالیف قلوب اور آپسی محبت کا سرچشمہ بن سکتی ہے ۔

حضرت امام حسین (ع) کی ولادت باسعادت:

حضرت امام حسین بن علی علیھما السلام مدینہ منورہ میں ہجرت کے چوتھے سال تیسری شعبان کو منگل یا بدہ کے روزپیدا ہوئے بعض مورخین کے مطابق آپ کی ولادت ہجرت کے تیسرے سال ربیع الاول اور بعض کے مطابق ہجرت کے تیسرے یا چوتھے سال جمادی الاول کی پنجم کو ہوئی ہے بنابریں آپ کی تاریخ پیدائیش کے بارے میں مختلف اقوال ہیں لیکن قول مشہور یہ ہے کہ آپ تیسری شعبان ہجرت کے چوتھے سال میں پیدا ہوئے۔
ولادت کے بعد آپ کوآپ کے جد بزرگوار رسول اکرم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کے پاس لایا گیاآپ کو دیکھ کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسرور
 و شادمان ہو‌ئے آپ کے دائیں کان میں اذان کہی اور بائیں کان میں اقامت،اور ولادت کے ساتویں دن ایک گوسفند کی قربانی کر کے آپ کا عقیقہ کیا اور آپ کی والدہ جناب صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیھا سے فرمایا کہ "بچے کا سرمونڈ کر بالوں کے وزن کے برابر چاندی صدقہ دیدو"
حضرت امام حسین علیہ السلام نے چھ سال چند ماہ کا عرصہ اپنے جد امجد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زیر سایہ گزارا اور انتیس سال و گیارہ ماہ اپنے پدر بزرگوار امیرالمومنین علی علیہ السلام اور دس سال کا عرصہ اپنے برادر بزرگوار امام حسن مجتبی کے ساتھ گزارا، امام حسن علیہ السلام کی شہادت کے بعد آپ کی امامت کی مدت دس برسوں پر مشتمل ہے ۔

رسول اللہ (ص) نے آپ کا نام رکھا:

روایات میں آیا ہےکہ سبطین علیھما السلام کے اسماء مبارکہ کا انتخاب خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے اور یہ نام خدا کے حکم سے رکھے گئے ہیں۔
حضرت علی علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا جب حسن کی ولادت ہوئی تو میں نے اس کا نام اپنے عم محترم حمزہ کے نام پر رکھا اورجب حسین پیدا ہوئے تو اس کا نام اپنے دوسرے چچا جعفر کے نام پر رکھا ایک دن رسول اکرم نے مجھے طلب فرمایا اور کہا مجھےخدا نے حکم دیا ہے کہ ان دونوں بچوں کے نام بدل دوں اور آج سے ان کے نام حسن وحسین ہونگے ۔
ایک اور رویت میں ہے کہ رسول اکرم نے فرمایا میں نے اپنے بچوں حسن و حسین کے نام فرزندان ہارون کے ناموں پر رکھے ہیں اور وہ اپنے بچوں کو شبر و شبیر کہتے تھے اور میں نے اپنے بچوں کا نام اسی معنی میں عربی میں حسن وحسین رکھا ہے۔

ولادت کے بعد شہادت کی خبر:

اسماء بنت عمیس کہتی ہیں کہ جب حضرت امام حسین علیہ السلام کی ولادت ہوئی تو رسول اللہ تشریف لاۓ اور فرمایا اسماء میرے بیٹے کو میرے پاس لاؤ میں نے بچے کو سفید کپڑے میں لپیٹ کر رسول اللہ کی گود میں دیا آپ نے بچے کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی اور ایسے عالم میں جب آپ امام حسین علیہ السلام کو گود میں لیے ہوۓ تھے گریہ بھی فرما رہے تھے۔
میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ کے گریے کا کیا سبب ہے؟
آپ نے فرمایا اس بچے کے لئے گریہ کر رہا ہوں۔
میں نے کہا یہ بچہ تو ابھی پیدا ہوا ہے پس گریہ کیسا؟
آپ نے فرمایا ہاں اسماء ایک سرکش گروہ اس کو قتل کرے گا خدا نہیں میری شفاعت سے محروم کرے ،اس کے بعد آپ نے فرمایا یہ بات فاطمہ سے مت بتانا ابھی اس کے بچے کی ولادت ہوئی ہے ۔
ایک دن ام الفضل رسول اکرم کے چچا عباس کی زوجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہونچیں اور کہا یا رسول اللہ میں نے گذشتہ شب بڑا برا خواب دیکھا ہے میں نے دیکھا ہے کہ آپ کے بدن مبارک کا ایک ٹکڑا جدا ہو کر میرے دامن میں گر گیا ہے ،آپ نے فرمایا خیر ہے فاطمہ کے ہاں ایک بچہ ہوگا جس کی پرورش آپ کریں گی میں رسول اللہ کی خدمت میں پہونچی اور بچے کو آپ کی گود میں دیدیا جب دوبارہ میں آپ کی طرف متوجہ ہوئی تو دیکھتی ہوں کہ آپ کی آنکھوں سے اشک جاری ہیں۔
میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر فداہوں آپ کس وجہ سے گریہ فرما رہے ہیں؟
آپ نے فرمایا ابھی ابھی جبرائیل آے تھے اور مجھے بتایا ہے کہ میری امت اس بچے کو قتل کر دے گی ۔
صفین جاتے ہوئے حضرت امیرالمومنین کا گزر کربلا سے ہوا آپ وہاں کچھ دیر کے لئے رکے اور اس قدر گریہ کیا کہ زمین آپ کے آنسووں سے تر ہو گئی،آپ نے فرمایا ایک دن ہم رسول اللہ کی خدمت میں پہنچے تو دیکھا آپ گریہ فرما رہے ہیں میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ کیوں گریہ فرما رہے ہیں؟رسول اللہ نے فرمایا کہ ابھی ابھی جبرائیل آئے تھے انہوں نے مجھے بتایا کہ میرا بیٹا حسین دریائے فرات کے کنارے کربلاء نامی زمین پر مارا جائے گا اور جبرئیل مجھے سنگھانے کے لیے کربلا کی ایک مٹھی خاک لیکر آئے تھے جسے دیکھ کر میں گریے پر ضبط نہ کر سکا۔
اس کے بعد امیرالمومنین علی علیہ السلام نے فرمایا کہ یہیں ان کا پڑاو ہوگا یہاں ان کا خون بہایا جائے گا اور آل محمد کے بعض لوگ اس صحرا میں قتل کیے جائیں گے جن کے حال پر زمیں و آسماں گریہ کریں گے ۔

رسول اللہ (ص)سے شباہت:

متعدد روایات میں وارد ہوا ہےکہ حضرت امام حسین علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سب سے زیادہ شباہت رکھتے تھے اصحاب رسول اللہ نے اس بات کا ذکر امام حسین علیہ السلام کی صورت و سیرت کے سلسلے میں متعدد مرتبہ کیا ہے خاص طور سے آپ کی قامت رسول اسلام سے بہت زیادہ مشابھت رکھتی تھی اور جو بھی آپ کو دیکھتا اسے رسول خدا یاد آجاتے ۔
عاصم بن کلیب نے اپنے باپ سے نقل کیا ہےکہ ایک دن میں نے رسول اللہ کو خواب میں دیکھا اور اس خواب کی تعبیر ابن عباس سے دریافت کی کہ آیا یہ خواب صحیح ہے یا نہیں ابن عباس نے کہا جب تو نے رسول اللہ کو دیکھا تو کیا تمہیں امام حسین کا خیال نہیں آیا؟ میں نے کہا خدا کی قسم رسول اللہ کے قدم اٹھانے کا انداز اسی طرح تھا جس طرح حسین قدم اٹھاتے ہیں۔ اس وقت ابن عباس نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ حسین کو رسول اللہ سے مشابہ پایا ہے ۔
انس بن مالک کہتے ہیں کہ میں عبیداللہ بن زیاد کے پاس تھا حسین ابن علی کے سر کو ایک طشت میں دربار میں لایا گیا ابن زیاد نے چھڑی سے آپ کی ناک اور صورت کی طرف اشارہ کیا اور کہا میں نے اس سے اچھا چہرہ نہیں دیکھا ہے میں نے کہا اے ابن زیاد کیا تو نہیں جانتا کہ حسین ابن علی رسول اللہ سے سب سے زیادہ شباہت رکھتے تھے ۔

امام حسین (ع) سے رسول خدا کی محبت:

امام حسین علیہ السلام کی ذات مبارک کا ایک خوبصورت ترین اور ممتاز پہلو آپ اور آپ کے برادر بزرگوار امام حسن علیہ السلام سے رسول اللہ کی شدید محبت اور بے انتھا توجہ ہے یہ امر اس قدر واضح اور عیان تھا کہ اہل سنت کی متعدد کتب حدیث و تاریخ میں اس کا ذکر ملتا ہے یہاں پر ہم اختصار سے بعض امور کا ذکر کررہے ہیں۔

حضرت امام حسین (ع) سے محبت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بعض اصحاب کے ساتھ کسی کے گھر دعوت پر تشریف لے جا رہے تھے راستے میں امام حسین علیہ السلام کو دیکھا آپ کھیل میں مشغول تھے رسول اللہ آگے بڑھے اور حسین کو گود میں لینا چاھا لیکن امام حسین علیہ السلام آپ کے ہاتھ نہیں آرہے تھے رسول اللہ بھی ہنستے ہوئے آپ کے پیچھے پیچھے آ رہے تھے یہاں تک کہ آپ کو آغوش میں لے لیا اس کے بعد گردن پر ایک ہاتھ اور ٹھوڑی کے نیچے ایک ہاتھ رکھ کر آپ کے لبوں پر بوسہ دیا اس کے بعد فرمایا "حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں خدا اسے دوست رکھتا ہے جو حسین کو دوست رکھتا ہے ۔
زید بن حارثہ نقل کرتے ہیں کہ میں کسی کام سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچنا چاھتا تھا رات میں بیت الشرف گیا اور دق الباب کیا،رسول اللہ نے دروازہ کھولا میں نے دیکھا آپ کی عبا میں کچھ ہے آپ باہر تشریف لائے میں نے اپنے کام کے بجائے یہ پوچھا کہ اے رسول اللہ آپ کی عبا میں کیا ہے؟
آپ نے اپنی عبا ہٹائی اور حسن و حسین کو جو آپ کی گود میں تھے مجھے دکھایا اور فرمایا یہ میرے بچے اور میری بیٹی کے بچے ہیں اس وقت آسمان کی طرف دیکھا اور فرمایا خدا یا تو جانتا ہے میں انہیں دوست رکھتا ہوں تو بھی انہیں دوست رکھ اور ان سے محبت کرنے والوں کو دوست رکھ ۔
سلمان فارسی نے حسنین علیھما السلام سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کے بارے میں نقل کیا ہےکہ رسول اللہ نے فرمایا 
"من احبهما احببته ومن احببته احبه الله ومن احبه الله ادخله جنات النعیم و من ابغضهمااوبغی علیهما ابغضته ومن ابغضته ابغضه الله ومن ابغضه الله ادخله نارجهنم وله عذاب مقیم "
جو میرے بیٹوں حسن و حسین سے محبت کرے گا میں اسے دوست رکھوں گا اور میں جسے دوست رکھوں خدا اسے دوست رکھے گا اور خدا جسے دوست رکھے اسے نعمتوں سے سرشار بہشت میں داخل کرے گا لیکن جو ان دونوں سے دشمنی رکھے گا اور ان پر ستم کرے گا میں اس سے دشمنی کرونگا اور جس کامیں دشمن ہوں خدا اس کا دشمن ہے اور جس کا خدا دشمن ہے خدا اسے جہنم میں ڈال دے گا اور اس کے لیے ہمیشہ کے لیے  عذاب ہے ۔
اہل بیت اور امام حسین علیھم السلام سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کو رشتہ داری کی بنا پر محض ایک جذباتی لگاؤ نہیں کہا جاسکتا بلکہ اہل سنت کی کتب میں منقول روایات کے مضامین پر توجہ کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ جنہیں اسلامی معاشرہ کے مستقبل کا علم تھا اس طرح حق و باطل میں امتیاز کرنا چاہتے تھے در حقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ان احادیث سے راہ حق کے پیرووں کو مستقبل میں اہل بیت علیھم السلام کے خلاف ہونے والی عداوتوں اور دشمنیوں سے آگاہ کردیا تھا ان روایات کے علاوہ دیگر روایات میں رسول خدا نے اہل بیت سے جنگ کو اپنے خلاف جنگ سے تعبیر فرمایا ہے۔

اہل سنت کے ممتاز علماء نے زید بن ارقم اور ابو ھریرہ سے اور دیگر افراد سے نقل کیا ہے کہ وصال کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی و فاطمہ و حسن و حسین علیھم السلام سے فرمایا کہ

انی حرب لمن حاربکم وسلم لمن سالمکم

میں اس کے خلاف جنگ کرونگا جو تمہارے خلاف جنگ کرے گا اور اس سے دوستی کرونگا جو تم سے دوستی کرے گا ۔
براء بن عازب نے روایت کی ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امام حسین علیہ السلام کے بارے میں فرمایا ہےکہ "یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اور جو چیزیں مجھ پر حرام ہیں حسین پر بھی حرام ہیں ۔

امام حسین (ع) سے جبرئیل کی محبت:

روایات میں آیا ہے کہ ایک دن حسن و حسین علیھماالسلام رسول اللہ کے سامنے کشتی لڑ رہے تھے اور رسول اللہ امام حسن کی حوصلہ افزائی فرما رہے تھے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھما نے کہا بابا آپ حسن کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں جبکہ وہ بڑے ہیں۔ آپ نے فرمایا جبرئیل بھی یہ کھیل دیکھ رہے ہیں اور حسین کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں اور میں حسن کا۔

امام حسین (ع) سے رسول اللہ (ص) کی محبت:

امام حسین اور آپ کے برادر بزرگوار امام حسن علیہماالسلام سے رسول اللہ کی محبت زبانزد خاص و عام ہے جو روایات پیش کی گئی ہیں ان کے علاوہ ایسی بہت سی حکایات ہیں جن سے حسنین علیھماالسلام کے لیے رسول اللہ کی محبت کا اندازہ ہوتا ہے ۔
روایت ہے کہ نماز جماعت کے موقع پر بچپن میں کبھی کبھی حسن و حسین علیھماالسلام اپنے جد بزرگوار کے پاس آتے تھے اور جب آپ سجدہ میں جاتے تھے تو آپ کی پیٹھ پر سوار ہو جاتے بعض اصحاب بچوں کو رسول اللہ کی پیٹھ پر سے ہٹانے کی کوشش کرتے تھے لیکن آپ اشارے سے منع فرماتے اور خود بڑے پیار سے دونوں کے ہاتھ تھام کر انہیں نیچے لاتے اور اپنے زانووں پر بٹھا لیتے ۔
ایک دن رسول اللہ نے معمول کے برخلاف سجدہ کو طول دیا نماز تمام ہونے کے بعد نمازیوں نے آپ سے سوال کیا کہ آج آپ نے سجدہ کو خاصہ طول دیا کیا آپ پر وحی نازل ہوئی تھی اور کوئی نیا حکم آیا ہے؟آپ نے فرمایا ایسی بات نہیں ہے میرا بیٹا حسین میرے کندھے پر بیٹھا ہوا تھا میں نے سجدہ کو طول دیا تاکہ وہ خود اتر آئے اور میں نے خود اسے کندھے پر سے اتارنا نہیں چاہا۔
عمر ابن خطاب سے روایت ہے کہ ایک دن میں نے دیکھا کہ رسول اللہ کے شانوں پر حسن و حسین بیٹھے ہوئے ہیں میں نے ان کی طرف دیکھا اور کہا کتنی اچھی سواری ہے۔ پیغمبر نے فرمایا کتنے اچھے سوار ہیں۔

امام حسین علیہ السلام کا گریہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کے گھر کے قریب سے گزر رہے تھے آپ کو حسین کے رونے کی آواز سنائی دی آپ نے فرمایا بیٹی حسین کو چپ کرو کیا تم نہیں جانتیں کہ اس بچہ کے رونے سے مجھے تکلیف ہوتی ہے ۔

امام حسین علیہ السلام سب سے بہتر:

حذیفہ یمان روایت کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے عالم میں مسجد میں داخل ہوۓ کہ امام حسین علیہ السلام آپ کے شانے پر بیٹھے ہوئے تھے اور آپ امام حسین علیہ السلام کے پیروں کو اپنے سینے پر دبا رہے تھے،آپ نے فرمایا میں جانتاہوں آپ لوگ کس مسئلے کے بارے میں اختلاف کا شکار ہیں (آپ کی مراد آپ کے بعد بہترین افراد سے تھی )یہ حسین ابن علی ہیں جن کی دادی بہترین دادی ہیں ان کے جد محمد رسول اللہ سید المرسلین ہیں ان کی نانی خدیجۃ بنت خویلد وہ پہلی خاتون ہیں جو خدا اور اس کے رسول پر ایمان لائی تھیں،یہ حسین ابن علی ہیں جن کے والدین بہترین والدین ہیں ان کے والد علی ابن ابیطالب ہیں جو رسول خدا کے بھائی وزیر اور چچازاد بھائی ہیں اور وہ پہلے شخص ہیں جو خدا اور اس کے رسول پر ایمان لائے تھے ،اور ان کی والدہ فاطمہ بنت محمد سیدۃ النساء العالمین ہیں۔ یہ حسین ابن علی ہیں جن کے چچا اور پھوپھی بہترین چچا اور پھوپھی ہیں ان کے چچا جعفر ابن ابیطالب ہیں جنہیں خدا نے دو پرعطا کیے ہیں جن سے وہ جنت میں جہاں چاہتے ہیں پرواز کر کے جا سکتے ہیں۔ ان کی پھوپھی ام ھانی بنت ابی طالب ہیں۔ یہ حسین ابن علی ہیں جن کے ماموں اور خالہ بہترین ماموں اور خالہ ہیں۔ ان کے ماموں قاسم ابن رسول اللہ ہیں اور خالہ زینب بنت رسول اللہ ہیں۔ اس کے بعد رسول اللہ نے حسین کو اپنے شانے سے نیچے اتارا اور فرمایا اے لوگو یہ حسین ہے جس کے دادا اور دادی بہشت میں ہیں اس کے ماموں اور خالہ بہشت میں ہیں اور یہ بھی اور اس کا بھائی بھی بہشتی ہیں۔

امام حسین علیہ السلام کے فضائل ومناقب:

امام حسین علیہ السلام کے فضائل اس قدر زیادہ ہیں کہ انہیں ایک یا چند کتابوں میں جمع نہیں کیا جاسکتا لھذا ہم یہاں پر نہایت اختصار سے چند فضائل بیان کرنے پر ہی اکتفا کریں گے۔ یہاں اس بات کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ مندرجہ ذیل ہرفضیلت کے بارے میں برادران اہل سنت نے دسیوں حدیثیں نقل کی ہیں۔

1حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں:

امام علی علیہ السلام نے رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:

 الحسن والحسین سیداشباب اھل الجنۃ۔

۔یعنی حسن و حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔
ابن عباس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی ہےکہ:

 الحسن و الحسین سیدا شباب اھل الجنۃ من احبھما فقد احبنی ومن ابغضھما فقد ابغضنی ۔
حسن و حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں جو ان سے محبت کرے گا اس نے مجھ سے محبت کی اور جو ان سے بغض رکھے گا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔
اسی روایت کو عمرابن خطاب اور ان کے بیٹے عبداللہ بن عمرنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا ہے۔
رسول اللہ کے معروف صحابی حذیفہ بن یمان روایت کرتے ہیں کہ ایک شب میں رسول اللہ کی خدمت میں گیا اور آپ کے پیچھے مغرب کی نماز پڑھی حضرت اٹھے اور نمازمیں مشغول ہوگئے یہاں تک کے عشاء کا وقت ہو گیا نماز عشاء بھی آپ کی امامت میں ادا کی، پھر انتظار کرنے لگا رسول اللہ مسجد سے باہر تشریف لے جانے لگے تا کہ اپنے گھر کی طرف روانہ ہوں میں بھی آپ کے پیچھے چل پڑا میں نے دیکھا آپ کسی سے گفتگو فرما رہے ہیں تاہم یہ نہ سمجھ سکا کہ آپ کیا فرما رہے ہیں آپ نے اچانک پیچھے مڑ کر دیکھا اور فرمایا کون ہو، میں نے کہا حذیفہ ہوں۔
آپ نے فرمایا تم سمجھے میں کس سے بات کر رہا تھا؟
میں نے کہا جی نہیں۔
آپ نے فرمایا جبرئیل امین تھے انہوں نے خدا کا سلام پہنچانے کے بعد مجھے بشارت دی کہ فاطمہ جنت کی عورتوں کی سردار اور حسن و حسین جنت کے جوانوں کے سردارہیں۔
میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے لیے اور میری والدہ کے لیے استغفار فرمائیں۔
آپ نے فرمایا خدا تمہاری اور تمہاری ماں کی مغفرت کرے۔

جابرابن عبداللہ انصاری نے رسول اللہ سے روایت کی ہے کہ ایک دن ہم رسول اللہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں حسین مسجد میں داخل ہوتے ہیں آپ نے ہمیں مخاطب کر کے فرمایا:

 من اراد ان ینظر الی سید شباب اھل الجنۃ فلینظر الی حسین ابن علی ۔
جو جنت کے سردار کو دیکھنا چاہتا ہو وہ حسین ابن علی کو دیکھے ۔

 2حسین باب بہشت ہیں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اے لوگو میرے ذریعے تمہیں دین حق سے آگاہی حاصل ہوئی اور علی کے ذریعے تمہیں صحیح راہ ملی اور تمہاری ھدایت ہوئی۔ حسن کے وسیلہ سے تمہیں نیکیاں عطا ہوئیں لیکن تمہاری سعادت و شقاوت حسین کے ساتھ تمہارے رویے پر منحصر ہے آگاہ ہو جاؤ کے حسین جنت کا ایک دروازہ ہے جو بھی اس سے دشمنی کرے گا خدا اس پر جنت کی خوشبو حرام کر دے گا۔

3 امام حسین علیہ السلام اور آیۃ تطہیر:

رسول اللہ کی زوجہ با وفا ام سلمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے نقل کرتی ہیں کہ ایک دن فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا رسول اللہ کے لۓ غذا لے کر آئیں اس دن رسول اللہ میرے گھر میں تشریف رکھتے تھے رسول اللہ نے اپنی بیٹی کی تعظیم کی اور فرمایا جاؤ میرے چچا زاد بھائی علی اور میرے بچوں حسن و حسین کو بھی بلا لاؤ تا کہ ہم مل کر کھانا کھائیں کچھ دیر بعد علی و فاطمہ حسنین کا ہاتھ تھامے ہوۓ رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اسی وقت جبرئیل آیۃ تطہیر لے کر نازل ہوئے اور کہا: 

انمایریداللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطھرکم تطھیرا۔  (احزاب 33 )۔
اے پیغمبر کے اہل بیت خدا تو بس یہ چاھتا ہے کہ تم کو ہر طرح کی برائی سے دور رکھے اور جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے ویسا پاک و پاکیزہ رکھے۔
ام سلمہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ نے مجھ سے فرمایا کساء خیبری لے آو(یہ ایک بڑی عباتھی)رسول اللہ نے علی کو اپنے داہنے طرف زہرا کو بائیں طرف اور حسن و حسین کو زانووں پر بٹھایا اور یہ عبا سب پر ڈال دی اپنے بائیں ہاتھ سے عبا کو سختی سے تھاما اور سیدھا ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر تین بار فرمایا:

 اللهم هؤلاء اهل بیتی و حامتی اللهم اذهب عنهم الرجس وطهر هم تطهیرا انا حرب لمن حاربتم وسلم لمن سالمتم و عدولمن عاداکم۔ 

خدا یا یہ میرے اہل بیت اور میرا خاندان ہے جیسا کہ تو نے وعدہ کیا ہے ان سے ہر طرح کی برائی کو دور رکھ اور انہیں معصوم و پاک رکھ  میں اس کے ساتھ جنگ کروں گا جو ان کے ساتھ جنگ کرے اور اس سے میری صلح ہے جو ان سے صلح رکھے اور دشمن ہوں اس کا جو ان سے عداوت رکھے ۔
یہ روایت مختلف کتب احادیث میں مختلف طریقوں سے نقل ہوئی ہے اور اس پر شیعہ و اہل سنت کا اتفاق ہے اس اتفاق سے واضح ہوتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام آیت تطہیر کا ایک مصداق ہیں۔ مختلف روایات و قرائن سے ثابت ہوتا ہےکہ آیت تطہیر کے نزول کے وقت صرف یہی پانچ افراد کے علاوہ کوئی اور شامل آیۃ تطہیر نہیں تھا اسی بنا پر ان حضرات کو اصحاب کساء کہا جاتاہے اور امام حسین علیہ السلام کو خامس اصحاب کساءکا لقب دیا گیا ہے۔
اہل سنت کے بزرگ محدثین احمد بن حنبل اور ترمذی نے اپنی کتابوں سنن اور مسند میں نقل کیا ہے کہ آیت تطہیر کے نازل ہونے کے بعد چھے مہینوں تک رسول اللہ ہر روز جب نماز صبح کے ل
ۓ تشریف لے جاتے تھے علی و فاطمہ علیھماالسلام کے دروازے کے پاس رک کر بلند آواز میں فرمایا کرتے تھے کہ:

 الصلواۃ یا اهل بیت محمد انمایرید اللہ لیذهب عنکم الرجس اهل البیت ویطهر کم تطهیرا۔

امام حسین اور آیۃ مباھلہ:

شیعہ اور سنی علما اس بات پر اتفاق نظر رکھتے ہیں کہ نصاری نجران سے سے مباھلہ کے وقت رسول اللہ نے علی و فاطمہ حسن و حسین کو اپنے ساتھ لیا اور انہیں آیۃ شریفہ کے الفاظ ابنائنا ونسائنا و انفسنا کا مصداق قرار دیا یہ امر اس قدر مشہور و مسلم ہے کہ اہل سنت کے بزرگ عالم دین حاکم نیشاربوری نے اپنی کتاب معرفت الحدیث میں اس واقعے کو متوارتر روایات کا مصداق قرار دیا ہے ۔

حسین وارث علم پیغمبر(ص):

ابن عباس کے شاگرد رشید عکرمہ نقل کرتے ہیں کہ ایک دن ابن عباس مسجد میں لوگوں کو حدیثیں سنا رہے تھے کہ نافع بن ازرق اٹھا اور کہنے لگا اے ابن عباس کیا تم کیڑے مکوڑوں کے احکام سے لوگوں کے لیے فتوے صادر کرتے ہو؟ اگر تم صاحب علم ہو تو مجھے اس خدا کے بارے میں بتاؤ جسکی تم پرستش کرتے ہو ابن عباس نے یہ سن کر سر جھکا لیا اور خاموش ہو گئے،امام حسین علیہ السلام مسجد کے ایک گوشہ میں بیٹھے ہوۓ تھے آپ نے رافع سے مخاطب ہو کر فرمایا اے نافع میرے پاس آؤ تا کہ میں تمہارے سوال کا جواب دے سکوں ۔
نافع نے کہا میں نے تو آپ سے سوال نہیں پوچھا تھا۔
ابن عباس نے کہا:

 یابن الازرق انه من اهل البیت النبوة وهم ورثة العلم۔
اے ابن ازرق حسین اھل بیت نبوت میں سے ہیں اور اہل بیت علم کے وارث ہیں۔
نافع امام کے پاس گیا آپ نے اس کا تسلی بخش جواب دیا
نافع نے کہا اے حسین آپ کا کلام پر مغز اور فصیح ہے
امام نے فرمایا میں نے سنا ہے تم میرے والد اور بھائی پر کفر کا الزام لگاتے ہو؟
نافع نے کہا خدا کی قسم میں نے جو آپ کی باتیں سنیں تو مجھے یقین ہو گیا کہ آپ ہی نور اسلام کا سرچشمہ اور احکام کا منبع ہیں۔
امام نے فرمایا میں تجھ سے ایک سوال کرتا ہوں
نافع نے کہا پوچھیے یابن رسول اللہ
آپ نے فرمایا کیا تو نے یہ آیت:

 فامالجدار فکان لغلامین یتیمین فی المدینہ۔

 پڑھی ہے؟ اے نافع کس نے ان دو یتیم بچوں کے لۓ دیوار کے نیچے خزانہ چھپا رکھا تھا تاکہ ان کو وارثت میں مل سکے؟
نافع نے کہا ان کے باپ نے۔
امام نے فرمایا سچ بتاؤ کیا ان کا باپ زیادہ مہربان ہے یا اپنی امت کے ل
ۓ رسول اللہ زیادہ مہربان ہیں؟ کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ نے اپنے بچوں کے لیے علم نہیں چھوڑا ہے اور ہمیں اس سے محروم رکھا ہے؟

گل باغ مصطفی:

جابر ابن عبداللہ انصاری کہتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ کے حضور بیٹھے ہوئے تھے کہ علی علیہ السلام تشریف لاتے ہیں اس وقت رسول اللہ نے حضرت علی کی طرف رخ کر کے فرمایا:

 سلام علیک یا ابالریحانتین اوصیک بریحانتی من الدنیا خیرافعن قلیل ینهدم رکناک والله عزوجل خلیفتی علیک۔
جابر کا کہنا ہے کہ جب رسول اللہ کا وصال ہوا تو حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا یہ ایک رکن تھا جس کے بارے میں رسول اللہ نے فرمایا تھا اور جس وقت جناب فاطمہ نے وفات پائی تو آپ نے فرمایا یہ دوسرا رکن تھا جسکے بارے میں رسول اللہ نے فرمایا تھا۔
اسی سلسلے میں ایک روایت عبداللہ ابن عمرابن خطاب سے نقل ہوئی ہے جو واقعہ عاشورہ کے بعد امام حسین سے متعلق ہے ابن نعیم نقل کرتا ہے کہ ایک دن ہم عبداللہ ابن عمر کے پاس بیٹھے ہوۓ تھے ایک شخص آیا اور اس نے مچھر کے خون کے بارے میں سوال کیا کہ اگر مچھر کا خون نمازی کے لباس پر لگا ہو تو اسکی نماز صحیح ہے یا نہیں؟
عبداللہ نے پوچھا کہاں سے آئے ہو اور کہاں کے رہنے والے ہو؟
سائل نے کہا عراق کا رہنے والا ہوں۔
عبداللہ نے کہا کہ اس شخص کو دیکھو کہ مچھر کے خون کے بارے میں سوال کر رہا ہے جبکہ انہوں نے رسول خدا کے بیٹے کو قتل کیا اور خاموشی بھی اختیارکی میں نے رسول اللہ سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ حسن و حسین اس دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔

سخاوت و تواضع:

ایک دن حضرت امام حسین علیہ السلام نے دیکھا کہ کئی بچے ملکر روٹی کا ایک ٹکڑا مل بانٹ کر کھا رہے ہیں ان بچوں نے امام سے بھی درخواست کی کہ آپ بھی اس روٹی میں سے تناول فرمائیں آپ نے بچوں کی بات مان لی اور ان کی روٹی کے ٹکڑے میں سے تناول فرمایا اس کے بعد ان سب کو اپنے گھر لے کر آئے انہیں کھانا کھلایا اور نئے کپڑے پہنائے اس کے بعد آپ نے فرمایا یہ مجھ سے زیادہ سخی ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے تمام مال کی بخشش کر دی تھی لیکن میں نے اپنے مال میں سے کچھ حصہ انہیں دیا ہے ۔

سخاوت و شجاعت:

زینب بنت ابو رافع نقل کرتی ہیں کہ رسول اللہ کی وفات کے بعد حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا سخت رنجور و متالم تھیں اور ہر وقت گریہ و زاری کیا کرتی تھیں ایک دن آپ نے حسن و حسین کا ہاتھ تھاما اور اپنے بابا کی قبر پر آئیں اور شدید گریہ کیا آپ نے عرض کیا اے بابا ان بچوں کے لیے وارثت میں کیا چھوڑ گئے                        ہیں؟
قبر رسول اللہ سے صدا آئی میں نے حسن کے لیے اپنی ہیئبت اور حسین کے لیے جرات و سخاوت کو چھوڑا ہے ۔ یہ سن کر شہزادی کونین نے کہا بابا میں اس عطا پر راضی اور خوش ہوں۔

امام حسین(ع) کا حج:

امام حسین علیہ السلام نے اپنی حیات طیبہ میں پچیس مرتبہ پیدل حج کیا ہے جب کہ آپ کے ہمراہ عربی نسل کے گھوڑے بغیر سوار کے ہوا کرتے تھے۔
امام حسین علیہ السلام کافی وسائل و ذرایع کے حامل تھے اور ان سے استفادہ بھی کرسکتے تھے لیکن آپ نے بندگی اور خضوع و خشوع کے تقاضوں کے مطابق پیادہ سفر حج کیا۔
بغیر سوار کے گھوڑوں کا اپنے ساتھ رکھنے کے دو اسباب ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ آپ واپسی میں ان سے استفادہ کرتے تھے اور دوسرا یہ کہ نوکروں اور خادموں کی طرح سفر کرنا نہایت بندگی ہے۔
مسجد مدینہ میں امام حسین علیہ السلام کو سجدہ میں خدا سے یہ مناجات کرتے سنا گیا "پروردگار اگر مجھ سے میرے گناہوں پر عذاب کرے گا تو میں تیرے کرم کا دامن تھام لوں گا اور اگر مجھے خطا کاروں کے ساتھ شامل کر دے گا تو ان سے کہوں گا کہ میں تجھ سے محبت کرتا ہوں میرے مولا میری اطاعت تجھے کوئی فائدہ نہیں پہنچاتی اور نہ میری معصیت تجھے کوئی نقصان پہنچا سکتی ہے پس وہ چیز جو تجھے نفع نہیں پہنچا سکتی اگر میں اسے بجانہ لایا ہوں اسے معاف فرما اور وہ چیز جو تجھے نقصان نہیں پہنچا سکتی اگر اس کا مرتکب ہوا ہوں تو درگذر فرما کہ تو ارحم الراحمین ہے ۔

حوالہ جات:

تاریخ دمشق

صحیح بخاری

مقتل خوارزمی

فرائد السمطین

طبقات ابن سعد

تاریخ ابن عساکر

سنن ترمذی

اسدا الغابہ

مستدرک حاکم نیشاپوری

کنز العمال

تفسیر جامع البیان

حلیۃ الاولیاء  ابونعیم اصفہانی





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی