2017 August 20
کیا امام حسین(ع) کی عزاداری و غم میں بنی ہاشم کی خواتین کا اپنا اپنا گریبان چاک کرنا صحیح سند کے ساتھ نقل ہوا ہے ؟
مندرجات: ٣٥٠ تاریخ اشاعت: ١٧ October ٢٠١٦ - ١٢:٢٤ مشاہدات: 492
سوال و جواب » امام حسین (ع)
جدید
کیا امام حسین(ع) کی عزاداری و غم میں بنی ہاشم کی خواتین کا اپنا اپنا گریبان چاک کرنا صحیح سند کے ساتھ نقل ہوا ہے ؟

سوال:

کیا امام حسین(ع) کی عزاداری و غم میں بنی ہاشم کی خواتین کا اپنا اپنا گریبان چاک کرنا صحیح سند کے ساتھ نقل ہوا ہے ؟

سوال کی وضاحت:

تمام شیعہ کتب میں آیا ہے کہ بی بی زینب اور بنی ہاشم کی دیگر خواتین نے جب امام حسین(ع) کے بدن کو سر کے بغیر زمین کربلاء پر گرا ہوا دیکھا تو اپنے گریبان کو چاک اور اپنے بالوں کو پریشان کر لیا۔ کیا ان کا یہ کام صحیح تھا اور کیا صحیح                        سندکے ساتھ نقل بھی ہوا ہے ؟

جواب:

اولا: روایات اس بارے میں نقل ہوئی ہیں لیکن ان میں بالوں کو کھولنا اور پریشان ہونا ذکر نہیں ہوا:

پہلی روایت(دربار یزید میں):

   ثم وضع رأس الحسين ع بين يديه و أجلس النساء خلفه لئلا ينظرون إليه فرآه علي بن الحسين ع فلم يأكل الرءوس بعد ذلك أبدا و أما زينب فإنها لما رأته فأهوت إلي جيبها فشقت ، ثم نادت بصوت حزين يفزع القلوب ، يا حسيناه ! يا حبيب رسول الله ! يا بن مكة ومني ! يا بن فاطمة الزهراء سيدة النساء ! يا بن محمد المصطفي . قال : فأبكت والله كل من كان ، ويزيد عليه لعائن الله ساكت ... ثم دعا يزيد عليه اللعنة بقضيب خيزران فجعل ينكت به ثنايا الحسين عليه السلام و جعل يزيد يتمثل بأبيات ابن الزبعري :

ليت أشياخي ببدر شهدوا     جزع الخزرج من وقع الأسل

لأهلوا واستهلوا فرحا           ولقالوا يا يزيد لا تشل

قد قتلنا القوم من ساداتهم    و عدلناه ببدر فاعتدل

لعبت هاشم بالملك فلا        خبر جاء ولا وحي نزل لست من خندف إن لم أنتقم    من بني أحمد ما كان فعل

یزید نے سر امام کو اپنے سامنے رکھا ہوا تھا اور بنی ہاشم کی خواتین کو اپنے پیچھے کھڑا کیا ہوا تھا تا کہ ان کی نگاہ سر امام پر نہ پڑے۔ امام سجاد(ع) کی نگاہ سر امام پر پڑ گئی اس کے بعد امام نے ساری زندگی حلال گوشت جانور کے سر کا گوشت نہیں کھایا۔

جب بی بی زینب(س) نے اپنے بھائی کے سر مبارک کو دیکھا تو شدید غم کی حالت میں اپنے گریبان کو چاک کر دیا اور بہت غمناک آواز میں < يا حسيناه ! يا حبيب رسول الله ! يا بن مکۃ ومنی! يا بن فاطمۃ الزهراء سيدة النساء ! يا بن محمد المصطفي> کہا اس پر ہر سننے والے نے کہ جو یزید کے دربار میں تھا  اس نے اس  آواز کو سن کر گریہ کیا۔ اس وقت یزید خاموشی سے منبر پر بیٹھا ہوا تھا۔

پھر یزید ملعون نے چھڑی اٹھا کر مسلسل امام(ع) کے مبارک دانتوں پر مارنا شروع کی اور ساتھ ساتھ یہ کفر آمیز شعر بھی پڑھ رہا تھا:

" بنی ہاشم نے حکومت اور سلطنت کے لیے یہ سب کچھ کیا ورنہ آسمان سے کوئی وحی اور خبر نازل نہیں ہوئی(اس بات سے اس ملعون کی مراد رسول خدا(ص) کی توہین اور رسالت کا انکار کرنا تھا)

اے کاش میرے آباء و اجداد جو جنگ بدر میں قتل ہوئے تھے آج ادھر ہوتے تو دیکھتے کہ قبیلہ خزرج کہ جو رسول خدا کے مددگار تھے، کیسے ہماری تلواروں سے چیخ و پکار کر رہے ہیں۔

وہ (میرے آباء و اجداد) یہ سب کچھ دیکھ کر بہت خوش ہوتے اور مجھے کہتے کہ اے يزید تم نے بہت ہی اچھا کام کیا ہے۔ ہم نے جنگ احد میں خزرج کے بزرگان کو قتل کیا ہے تو بدلہ ہے اس قتل و غارت کا جو انھوں نے ہماری جنگ بدر میں کی تھی۔ آج میں نے ان سب سے بدلہ لے لیا ہے۔ میں خندف کی نسل سے نہ ہوتا اگر میں احمد(رسول خدا) کی نسل سے جنگ بدر میں قتل ہونے والوں کا بدلہ نہ لیتا۔

  اللهوف ـ سيد بن طاووس ـ ص 178 و 179 و 180

 

اس روایت میں فقط گریبان چاک کرنے کا ذکر آیا ہے۔

 

دوسری روایت:

عن خالد بن سدير أخي حنان بن سدير قال سئلت ابا عبد الله عليه السلام ... ولا شئ في اللطم علي الخدود سوي الاستغفار والتوبة ، وقد شققن الجيوب ولطمن الخدود الفاطميات علي الحسين بن علي عليهما السلام۔

 

خالد بن سدير کہتا ہے کہ: امام صادق(ع) سے میں نے ایسے بندے کے بارے میں پوچھا کہ جو ماں، باپ، بھائی یا کسی نزدیکی رشتے دار کے مرنے پر اپنا گریبان چاک کرتا ہے ؟

امام نے فرمایا کہ: جو اپنے کسی عزیز کے مرنے پر اپنے چہرے پر ہاتھ مارے اس پر کوئی کفارہ نہیں ہے فقط توبہ کرے تو کافی ہے لیکن بنی ہاشم کی خواتین نے امام حسین(ع) کے غم میں اپنے گریبان کو چاک کیا اور اپنے چہرے پر ماتم کیا۔

تهذيب الأحكام ج8 ، ص 325 ، باب الكفارات

دو نکتے گذشتہ دو حدیثوں میں قابل دقت ہیں:

نكتہ اول :

دوسری روایت میں امام(ع) نے گریبان چاک کرنے کی نسبت بنی ہاشم کی عورتوں کی طرف دی ہے لیکن کوئی بھی اعتراض و مذمت نہیں کی پس معلوم ہوتا ہے کہ ان کا یہ عمل بنی ہاشم کی عورتوں کی شان و مرتبے کے خلاف نہیں تھا۔

نكتہ دوّم :

دونوں روایتوں میں سے کسی ایک میں بھی بنی ہاشم کی عورتوں کے بالوں کے پریشان کرنے کے بارے میں کوئی ذکر نہیں آیا۔

سوال کا دوسرا حصہ کہ کیا گریبان چاک کرنا بنی ہاشم کی عورتوں کے مقام، شان و مرتبے کے منافی نہیں ہے ؟

اس بارے میں چند نکتے قابل ذکر ہیں:

شهادت امام حسين (ع) بزرگترين مصيبت:

اولا : توجہ کرنی چاہیے کہ وہ مصیبت جو کربلاء میں واقع ہوئی وہ کوئی عام یا معمولی مصیبت نہیں تھی اور امام حسین(ع) بھی کوئی عام انسان نہیں تھے۔ بنی ہاشم کی عورتوں کا گریہ و عزاداری حجت خدا، خلیفۃ اللہ، امام معصوم اور جنت کے جوانوں کے سردار کی شھادت پر گریہ تھا۔

امام رضا (ع) اس بارے میں فرماتے ہیں کہ:

ان يوم قتل الحسين اقرح جفوننا واسبل دموعنا ، واذل عزيزنا ، أرض كربلا أورثتنا الكرب والبلاء إلي يوم الانقضاء فعلي مثل الحسين فلبيك الباكون ، فان البكاء عليه يحط الذنوب العظام ثم قال(ع): كان أبي " عليه السلام " إذا دخل شهر المحرم لا يري ضاحكا ، وكانت الكئابة تغلب عليه حتي تمضي منه عشرة أيام فإذا كان يوم العاشر كان ذلك اليوم يوم مصيبته وحزنه وبكائه ويقول هو اليوم الذي قتل فيهالحسين (ع)

امام حسین(ع) کی شھادت نے ہماری آنکھوں کی پلکوں کو زخمی کر دیا ہے اور آنکھوں سے اشکوں کے سیلاب کو جاری کر دیا ہے۔ ہمارے عزیزوں کو ظاہری طور پر خوار کیا گیا۔ زمین کربلاء نے قیامت تک ہمارے لیے غم و بلاء کو وراثت میں چھوڑا ہے۔ پس رونے والوں کو شخصیت مانند حسین(ع) پر رونا چاہیے کیونکہ امام حسین(ع) پر گریہ کرنا بڑے بڑے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔

پھر امام رضا(ع) نے فرمایا کہ جب ماہ محرم شروع ہوتا تو کوئی بھی میرے بابا امام کاظم(ع) کو مسکراتا ہوا نہیں دیکھتا تھا یہاں تک کہ ان دس دنوں میں باب پر غم و حزن بہت غلبہ کرتا تھا اور جب محرم کا دسواں دن ہوتا تھا تو اس دن میرے بابا کا گریہ و غم اپنے اوج پر ہوتا تھا اور فرماتے تھے کہ آج وہ دن ہے جس میں حسین(ع) کو شھید کیا گیا تھا۔

الأمالي ـ شيخ صدوق ـ ص 190 و 191 ، باب حديث الرضا عن يوم عاشوراء ، ح 199 / 2

روضة الواعظين ـ فتال نيشابوري ـ ج1، ص210

المأتم الحسينی ـ علامه شرف الدين الموسوی ج4 ، ص 10 و 11.

بنی ہاشم کی عورتوں نے ہی فقط گریبان کو چاک نہیں کیا تھا:

امام حسین(ع) کے غم میں فقط بنی ہاشم کی عورتوں نے ہی گریبان چاک نہیں کیا تھا بلکہ روایات کے مطابق حضرت موسی(ع) نے حضرت ہارون(ع) ،انصار کی عورتوں نے جنگ احد میں رسول خدا(ص) کی شھادت کی خبر سن کر ، امام عسکری(ع) نے اپنے بھائی کی وفات پر اور اپنے والد امام ہادی(ع) کی شھادت کے موقع پر گریبان چاک کیا۔

حضرت موسی(ع) کا حضرت ہارون کی وفات پر گریبان چاک کرنا:

عن الصادق عليه السلام وسأله عن شق الرجل ثوبه علي أبيه و أمه وأخيه أو علي قريب له فقال : لا بأس بشق الجيوب قد شق موسي بن عمران علي أخيه هارون۔

خالد بن سدير کہتا ہے کہ: امام صادق(ع) سے میں نے ایسے بندے کے بارے میں پوچھا کہ جو ماں، باپ، بھائی یا کسی نزدیکی رشتے دار کے مرنے پر اپنا گریبان چاک کرتا ہے ؟ امام نے فرمایا: گریبان چاک کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے کیونکہ موسی بن عمران نے اپنے بھائی کی وفات پر گریبان چاک کیا تھا۔

بحار الأنوار ج 79 ، ص 106 ، باب : في لطم الخدود و شق الجيوب و الثياب و النياحة۔

 

انصار کی عورتوں کا رسول خدا(ص) کے لیے گریبان چاک کرنا:

نساء الأنصار قد خدشن الوجوه ونشرن الشعور وجززن النواصي وخرقن الجيوب وحرمن البطون علي النبي ( صلي الله عليه وآله ) فلما رأينه قال لهن خيرا وأمرهن أن يستترن ويدخلن منازلهن ...

انصار کی عورتوں نے جنگ احد میں رسول خدا(ص) کی شھادت کی افواہ سنی تو اپنے چہروں کو ہاتھ مار مار کر زخمی کر لیا،اپنے بالوں کو پریشان کر لیا، اپنے سر کے سامنے والے بالوں کو نوچ لیا، اپنی گریبانوں کو چاک کر لیا اور کھانا کھانے کو اپنے اوپر حرام کر لیا لیکن جب رسول خدا(ص) کو زندہ دیکھا تو حضرت نے ان کے لیے دعائے خیر کی اور ان کو کہا کہ اب اپنے اپنے  لباس اور بالوں کو صحیح کر کے گھروں کو واپس لوٹ جائیں۔

الكافي ج 8 ، ص 322 ، باب غزوة أحد و قصة المنهزمين ، ح 502

پس دیکھا کہ جب رسول خدا(ص) نے عورتوں کو اس حالت میں دیکھا تو ان کو اس کام سے منع نہیں کیا بلکہ ان کے لیے دعا کی۔

امام حسن عسكری(ع) کا اپنے بھائی محمد بن علی الہادي (ع) کی وفات پر گریبان کو چاک کرنا:

محمد بن يحيي وغيره ، عن سعد بن عبد الله ، عن جماعة من بني هاشم منهم الحسن ابن الحسن الأفطس أنهم حضروا - يوم توفي محمد بن علي بن محمد - باب أبي الحسن يعزونه وقد بسط له في صحن داره والنساء جلوس حوله ، فقالوا : قدرنا أن يكون حوله من آل أبي طالب وبني هاشم وقريش مائة وخمسون رجلا سوي مواليه وسائر الناس إذ نظر إلي الحسن بن علي قد جاء مشقوق الجيب ، حتي قام عن يمينه ونحن لا نعرفه ، فنظر إليه أبو الحسن عليه السلام بعد ساعة فقال : يا بني أحدث لله عز وجل شكرا ، فقد أحدث فيك أمرا ، فبكي الفتي وحمد الله واسترجع ، وقال : الحمد لله رب العالمين وأنا أسأل الله تمام نعمه لنا فيك وإنا لله وإنا إليه راجعون ، فسألنا عنه ، فقيل : هذا الحسن ابنه ، وقدرنا له في ذلك الوقت عشرين سنة أو أرجح ، فيومئذ عرفناه وعلمنا أنه قد أشار إليه بالإمامة وأقامه مقامه۔

حسن بن حسن افطس کہتا ہے کہ جس دن محمد بن علي بن محمد(ع) نے وفات پائی۔ ہم بنی ہاشم کے چند لوگوں کے ساتھ مل کر امام ہادی(ع) کے پاس ان کو تعزیت کہنے کے لیے گئے۔ گھر کے صحن میں امام ہادی(ع) بیٹھے تھے اور گھر کی خواتین ان کے گرد بیٹھی ہوئی تھیں۔ وہ لوگ جو میرے ساتھ تھے انھوں نے کہا کہ ہمارے خیال میں گھر کے خادموں کے علاوہ تقریبا آل ابل طالب و بنی ہاشم اور قریش کے 150 بندے امام ہادی(ع) کے گرد بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس وقت امام ہادي (ع) نے  حسن بن علی عسکری(ع) کو دیکھا کہ اپنے گریبان کو چاک کرنے کی حالت میں آ کر امام(ع) کے پاس کھڑا ہو گیا۔ ہم نے اس جوان کو نہیں پہچانا۔ تھوڑی دیر بعد امام ہادی(ع) نے اس جوان کی طرف دیکھا اور کہا: اے میرے بیٹا خدا کا شکر ادا کرو کہ خدا نے امامت کو تم میں قرار دیا ہے۔ اس جوان(امام عسکری) نے گریہ کیا اور خدا شکر ادا کیا پھر إنا لله وإنا إلیہ راجعون کہا اور فرمایا: پاک ہے وہ خدا کہ ربّ العالمین ہے۔ میں خدا سے چاہتا ہوں کہ خداوند آپ کی مبارک حیات کو طولانی فرمائے۔ ہم سب خدا کے بندے ہیں اور اسی کی طرف پلٹ کر جائیں گے۔

حسن بن حسن افطس کہتا ہے ہم نے پرچھا کہ یہ جوان کون ہے ؟ کہا گیا کہ وہ امام ہادی(ع) کے فرزند محترم ہیں۔ اس وقت امام عسکری(ع) کی عمر 20 سال تھی۔ اسی جگہ پر ہم نے امام حسن عسکری(ع) کو پہچانا اور یہ بھی جانا کہ امام هادی(ع) نے اپنے اس کلام ،(فقد احدث فیک امرا یعنی خداوند نے امر امامت کو تم میں قرار دیا ہے) سے امام عسکری(ع) کی امامت اور ان کی جانشینی کی طرف اشارہ بھی کیا ہے۔

الكافي ج 1 ، ص 326 و 327 ، حضرت 8 ، باب : الإشارة والنص علي أبي محمد عليه السلام ؛

وسائل الشيعة ج 3 ، ص 273 و274 ، حديث 3632 ، أبواب الدفن وما يناسبه ، باب 84 : باب كراهة الصياح علي الميت وشق الثوب علي غير الأب والأخ والقرابة ، وكفارة ذلك ، حديث 3 در اين باب ؛

جامع الأحاديث الشيعة ج 3 ، ص 491 و 492 ، حديث4823 ،أبواب التعزية والتسلية والبكاء علي ميت وصبر المصاب ، باب (8) حكم الصياح والصراخ بالويل والعويل الثبور والدعاء بالذل والثكل والنوح ولطم الوجه والصدر وتصفيق اليد علي اليد وجز الشعر ونشره وإقامة النياحة وشق الثياب ، حديث 39

امام حسن عسكری(ع) کا امام ہادی (ع) کی شھادت پر گریبان چاک کرنا:

  كشف الغمة ( نقلا من كتاب الدلائل ) لعبد الله بن جعفر الحميري ، عن أبي هاشم الجعفري قال خرج أبو محمد عليه السلام في جنازة أبي الحسن عليه السلام وقميصه مشقوق فكتب اليه أبو عون من رأيت أو بلغك من الأئمة شق ثوبه في مثل هذا فكتب اليه أبو محمد عليه السلام يا أحمق ما يدريك ما هذا قد شق موسي علي هارون أخيه۔

ابو ہاشم کہتا ہے کہ: امام ہادی(ع) کے جنازے میں امام عسکری(ع) باہر آئے اس حالت میں آئے کہ ان کا گریبان چاک تھا۔ ابو عون نے ایک خط میں امام عسکری(ع) کو لکھا کہ آپ نے کس کو دیکھا ہے یا کس امام نے آپ نے کو کہا ہے کہ ایسی مصیبت پر اپنا گریبان چاک کرو ؟

امام حسن عسكری (ع) نے اس کو جواب لکھا کہ اے احمق تم کو کیا معلوم کہ یہ کتنی بڑی اور سنگین مصیبت ہے ؟ حضرت موسی(ع) نے بھی اپنے بھائی ہارون کی وفات پر اپنا گریبان چاک کیا تھا۔

وسائل الشيعة ج 3 ، ص 274 ، حديث 3634 ، أبواب الدفن وما يناسبه ، باب 84 : باب كراهة الصياح علي الميت وشق الثوب علي غير الأب والأخ والقرابة ، وكفارة ذلك ، حديث 5 در اين باب ؛

جامع الأحاديث الشيعة ج 3 ، ص 490 ، حديث4820 ،أبواب التعزية والتسلية والبكاء علي ميت وصبر المصاب ، باب ( 8 ) حكم الصياح والصراخ بالويل والعويل الثبور والدعاء بالذل والثكل والنوح ولطم الوجه والصدر وتصفيق اليد علي اليد وجز الشعر ونشره وإقامة النياحة وشق الثياب ، حديث 36 در اين باب .

یزید بن ہبیرہ(آخری حاکم اموی عراق میں) کی وفات پر گریبان کا چاک کرنا:

جب ابن ہبیرہ شھر واسط میں عباسیوں کے ہاتھوں قتل ہوا ابوعطاء سندی نے یہ اشعار اس کے غم میں کہے:

ألا إن عينا لم تجد يوم واسط * عليك بجاري دمعها لجمود

عشية قام النائحات وشققت * جيوب بأيدي مأتم وخدود

وہ آنکھ کہ جو شھر واسط میں تیرے قتل پر نہ روئے اللہ کرے خشک اور اندھی ہو جائے۔ کل رات عورتوں نے تیرے غم میں نوحہ خوانی اور عزاداری کی اور اپنے ہاتھوں سے انھوں نے اپنے گریبانوں کو چاک کر لیا اور اپن چہروں کو زخمی کر لیا۔

الطبري، أبي جعفر محمد بن جرير(متوفي310) ، تاريخ الطبري ج4 ، ص364 ، ناشر : دار الكتب العلمية ـ بيروت ـ ؛

ابن عساكر ، أبي القاسم علي بن الحسن إبن هبة الله بن عبد الله الشافعي (متوفي571) ، تاريخ مدينة دمشق وذكر فضلها وتسمية من حلها من الأماثل ج 65 ، ص 334 ، ترجمه : يزيد بن عمر بن هبيرة ، رقم : 8328 ، تحقيق : محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمري ، ناشر : دار الفكر - بيروت - 1995

 

عالم اہل سنت نووی کے مرنے پر گریبان کا چاک کرنا:

نووی کی وفات پر بہت اشعار کہے گئے ہیں۔ بعض اشعار ہیں:

خطب رفع من شق الجيوب له ... فقد شققت جَنَاني دون قمصان

نووی کا مرتبہ گریبان چاک کرنے سے بھی زیادہ ہے۔ میں نے اس کی موت پر فقط گریبان کو ہی نہیں بلکہ دل کو بھی چاک کر لیا ہے۔

علاء الدين علي بن إبراهيم بن العطار (المتوفي724هـ) ، تحفة الطالبين في ترجمة الإمام النووي ، ج1 ، ص20 .

 

علماء کے فتوے:

بہت سے علماء نے انہی رویات کی وجہ سے باپ اور بھائی کے مرنے پر گریبان کے چاک کرنے کے جائز ہونے کا فتوی دیا ہے۔ چند عبارات ملاحظہ فرمايئں:

شهيد اول (رح) فرماتے ہیں کہ:

واستثني الأصحاب إلا ابن إدريس شق الثوب علي موت الأب والأخ لفعل العسكري علي الهادي ، وفعل الفاطميات علي الحسين ( عليه السلام ) ... عن خالد بن سدير ، عن الصادق ( عليه السلام ) ، وسأله عن شق الرجل ثوبه علي أبيه وأمه وأخيه ، أو علي قريب له ؟ فقال : لا بأس بشق الجيوب ، قد شق موسي بن عمران علي أخيه هارون۔

ابن ادریس کے علاوہ تمام شیعہ علماء نے امام حسن عسکری(ع) کے امام ہادی(ع) کی شھادت پر گریبان چاک کرنے اور بنی ہاشم کی خواتین کا امام حسین(ع)  کی شھادت پر گریبان کرنے کی وجہ سے باپ اور بھائی کی وفات پر گریبان چاک کرنے کے جائز ہونے کا فتوی دیا ہے۔

خالد بن سدير کہتا ہے کہ: امام صادق(ع) سے میں نے ایسے بندے کے بارے میں پوچھا کہ جو ماں، باپ، بھائی یا کسی نزدیکی رشتے دار کے مرنے پر اپنا گریبان چاک کرتا ہے ؟ امام نے فرمایا: گریبان چاک کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے کیونکہ موسی بن عمران نے اپنے بھائی کی وفات پر گریبان چاک کیا تھا۔

ذكري شيعة في احكام الشريعة ـ شهيد اول ـ ج2 ، ص 56 و 57 ، باب البحث الرابع : النياحة۔

 شهيد ثانی (رح) فرماتے ہیں کہ:

 شق الثوب علي غير الأب والأخ من الأقارب وغيرهم لما فيه من إضاعة المال والسخط بقضاء الله وعلي استثناء الأب و الأخ أكثر الأصحاب لان العسكري عليه السلام شق ثوبه علي أبيه الهادي عليه السلام خلف وقدام وفعله الفاطميات علي الحسين عليه السلام وعن الصادق عليه السلام إن موسي عليه السلام شق علي أخيه هارون ...

باپ اور بھائی کی وفات کے علاوہ کسی دوسرے کے مرنے پر گریبان کا چاک کرنا حرام ہے کیونکہ مال کے ضائع ہونے اور خدا کی رضا پر اعتراض کا سبب بنتا ہے۔ اکثر شیعہ علماء نے امام حسن عسکری(ع) کے امام ہادی(ع) کی شھادت پر گریبان چاک کرنے اور بنی ہاشم کی خواتین کا امام حسین(ع)  کی شھادت پر گریبان کرنے کی وجہ سے باپ اور بھائی کی وفات پر گریبان چاک کرنے کے جائز ہونے کا فتوی دیا ہے اور امام صادق(ع) سے بھی نقل ہوا ہے کہ موسی بن عمران نے اپنے بھائی ہارون کی وفات پر گریبان چاک کیا تھا۔

روض الجنان ـ شهيد ثاني ـ ص 320 و 321 ، باب نبش القبر .

وأما الاستثناء ، فدليله ما استفيض في الأخبار من فعل أبي محمد الحسن عليه السلام علي أبيه الهادي عليه السلام ، وفي بعضها تعليل بأن موسي شق ثوبه علي هارون ، ولما نقل من فعل الفاطميات علي الحسين عليه السلام۔

علماء کی باپ اور بھائی کی وفات پر گریبان چاک کرنے کے استثناء کرنے پر دلیل یہ ہے کہ روایات مستفیضہ ہیں کہ امام حسن عسكری (ع) نے امام هادی (ع) کی شھادت پر اور حضرت موسی نے حضرت ہارون (ع) کی وفات پر  اور بنی ہاشم کی خواتین نے امام حسین(ع) کی شھادت پر اپنے اپنے گریبان کو چاک کیا تھا۔

غنائم الأيام ـ ميرزاي قمي ـ ج3 ، ص 556 و 557 ، باب شق الثوب علي الميت۔

سیرت مسلمین میں عزاداری کرنا:

اپنے عزیز اور پیاروں کی وفات پر غمگین ہونا یہ شیعہ اور اہل سنت کی روایات سے قطع نظر کرتے ہوئے، یہ کام ہر دین و مذھب کے لوگ پوری دنیا میں انجام دیتے ہیں بلکہ اس سے بالا تر خوشی کے موقع پر خوش اور غم کے مواقع پر غمگین ہونا یہ ایک فطری و ذاتی چیز ہے جو تمام انسانوں کی فطرت و ذات میں پایا جاتا ہے۔ اسی شیعہ سنی مسلمانوں نے اپنی اپنی کتب میں ان روایات کو ذکر کیا ہے۔

محدثين و مؤرخين نے لکھا ہے کہ ازواج رسول خدا(ص) نے حضرت کی رحلت پر عزاداری کی اور سر و صورت پر ماتم کیا۔

مسلمانوں نے عبد المؤمن، جوینی اور ابن جوزی کی وفات پر دف بجاتے تھے اور بازار کو بند کر دیا گیا اور بعض اوقات تو سال سال تک عزاداری کرتے تھے۔

 جیسے نقل ہوا ہے کہ:

ازواج پیغمبر سب سے پہلے سینہ زنی کرنے والی تھیں:

ابن ہشام نے نقل کیا ہے کہ:

قال ابن اسحاق وحدثني يحيي بن عباد بن عبدالله بن الزبير عن أبيه عباد قال سمعت عائشة تقول . . .قمت ألتدم مع النساء وأضرب وجهی۔

عایشہ کہتی ہے کہ: جب رسول خدا دنیا سے رخصت ہوئے تو میں دوسری ازواج رسول کے ساتھ مل کر سینہ و صورت پر ماتم کرتی تھی۔

عبد الملك بن هشام بن أيوب الحميري المعافري أبو محمد ( متوفي 213 ) ، السيرة النبوية ج6، ص75، ح 26391 ، تحقيق : طه عبد الرءوف سعد ، ناشر : دار الجيل ـ بيروت ـ ، الطبعة : الأولي ، سال چاپ : 1411 ؛

ابن حنبل أبو عبدالله الشيباني ، احمد (متوفي 241) ، مسند ج 6 ، ص 274 ، ناشر : مؤسسة قرطبة - مصر ؛ البلاذري ،

أحمد بن يحيي بن جابر (المتوفي : 279هـ) ، أنساب الأشراف ج1 ص 243 ؛

مسند أبي يعلي ، اسم المؤلف: أبو يعلي الموصلي التميمي ، أحمد بن علي بن المثني ( متوفي 307 ) ، مسند أبي يعلي ج 8 ، ص63 ، تحقيق : حسين سليم أسد ، ناشر : دار المأمون للتراث - دمشق - ، الطبعة : الأولي ، 1404 - 1984 ؛

الطبري ، أبي جعفر محمد بن جرير ، متوفي 310 ، تاريخ الأمم و الملوك ج 2 ، ص 232 ، ناشر : دار الكتب العلمية - بيروت .

ابن منظور « لدم » کا معنی کرتا ہے کہ:

لدم : اللدم ضرب المرأة صدرها . . . و التدام النساء : ضربهن صدورهن ووجوههن في النياحة۔

لدم: بمعنی عورت کا سینے پر ماتم کرنا ہے۔ و التدام یعنی عورتوں کا مصیبت و غم کی حالت میں سینے اور صورت پر ماتم کرنا ہے۔

ابن منظور ، محمد بن مكرم بن منظور الأفريقي المصري (متوفي 711 ) ، لسان العرب ج12، ص 539 ، ناشر : دار صادر - بيروت ، الطبعة : الأولي .

                              صالح            شامی حديث عائشہ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ:

وهذا الحديث تفرد به ابن إسحاق ، وهو حسن الحديث إذا صرع بالتحدث ، وقد صرح به فقال : حدثني يحيي بن عباد بن عبد الله بن الزبير عن أبيه قال : سمعت عائشة إلخ۔

اس حدیث کو فقط ابن اسحاق نے نقل کیا ہے اور جب ابن اسحاق واضح کہے کہ میں نے اس حدیث کو سنا ہے تو وہ حدیث حسن و قابل اعتماد ہو گی۔ وہ اس حدیث کے بارے میں کہتا ہے کہ:میں نے اس حدیث کو یحیی بن عباد بن عبد اللہ بن زبیر سے سنا ہے کہ اس نے اس حدیث کو اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ اس نے عایشہ سے سنا ہے کہ........

الصالحي الشامي (متوفي 942) ، سبل الهدي و الرشاد ج12، ص 267، تحقيق وتعليق : الشيخ عادل أحمد عبد الموجود ، الشيخ علي محمد معوض، ناشر : دار الكتب العلمية - بيروت - لبنان، چاپ : الأولي ، سال چاپ : 1414 - 1993 م .

ابن تيميہ ابن اسحاق کے بارے میں کہتا ہے کہ:

وبن إسحاق اذا قال حدثني فحديثه صحيح عند أهل الحديث۔

جب ابن اسحاق واضح کہے کہ میں نے اس حدیث کو سنا ہے تو حدیث علماء حدیث کے نزدیک صحیح و مورد اعتماد ہے۔

ابن تيمية الحراني ، احمد بن عبد الحليم أبوالعباس، ( الوفاة: 728)  كتب ورسائل وفتاوي ابن تيميه في الفقه ،جزء33 ، ص 86 ، تحقيق : عبد الرحمن بن محمد بن قاسم العاصمي النجدي ، ناشر : مكتبة ابن تيمية ، الطبعة : الثانية ؛

ابن تيمية الحراني ، تقي الدين أحمد عبد الحليم أبو العباس ( متوفي 728 ) ، الفتاوي الكبري ج3 ، ص 23 ، تحقيق : قدم له حسنين محمد مخلوف ، ناشر : دار المعرفة - بيروت .

عبد المؤمن بن خلف کے لیے عزاداری کرنا:

ذهبی اس کے بارے میں لکھتا ہے کہ:

الامام الحافظ القدوة . . . قال جعفر المستغفري : أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي النسفي ، قال : شهدت جنازة الشيخ أبي يعلي بالمصلي ، فغشيتنا أصوات طبول مثل ما يكون من العساكر ، حتي ظن جمعنا أن جيشا قد قدم ، فكنا نقول : ليتنا صلينا علي الشيخ قبل أن يغشانا هذا . فلما اجتمع الناس وقاموا للصلاة [ وأنصتوا ] ، هدأ الصوت كأن لم يكن . . .

میں نے عبد المؤمن کے جنازے میں شرکت کی دف اور طبل بجانے کی آواز اتنی زیادہ تھی کہ لگتا تھا کہ کسی لشکر نے شھر بغداد پر حملہ کر دیا ہے۔ یہ کام لوگوں کے نمازے جنازہ کے لیے تیار ہونے تک جاری رہا۔

سير أعلام النبلاء ج 15 ، ص 480 و 481 و 482 ؛ تاريخ مدينه دمشق، ابن عساكر، ج 10، ص 272 .

 جوينی کے لیے عزاداری کرنا:

ذھبی اس کی وفات کے بارے میں ایسے لکھتا ہے:

الإمام الكبير، شيخ الشافعيّة، إمام الحرمين ـ إلي أن قال: ـ توفي في الخامس والعشرين من ربيع الآخر ، سنة ثمان وسبعين وأربع مئة ، ودفن في داره ، ثم نقل بعد سنين إلي مقبرة الحسين ، فدفن بجنب والده ، وكسروا منبره ، وغلقت الأسواق ، ورثي بقصائد ، وكان له نحو من أربع مائة تلميذ ، كسروا محابرهم وأقلامهم ، وأقاموا حولا ، ووضعت المناديل عن الرؤوس عاما ، بحيث ما اجترأ أحد علي ستر رأسه ، وكانت الطلبة يطوفون في البلد نائحين عليه ، مبالغين في الصياح والجزع۔

پہلے اس کو اسکے گھر دفن کیا پھر اس کی میت کو ایک جگہ بنام مقبرۃ الحسین میں منتقل کیا گیا۔اس کے غم میں اس کے منبر کو توڑ دیا گیا، بزار بند کر ديئے گئے، اس کے غم بہت نوحے پڑھے گئے۔ اس کے چار سو شاگرد تھے جہنوں نے استاد کی وفات کے غم میں اپنے قلم دوات توڑ دئیے اور ایک سال تک عزاداری کرتے رہے اور اس مدت میں انھوں نے اپنے عماموں کو سر نہیں رکھا کہ کسی اور کو بھی جرات نہیں تھی اس مدت میں اپنے سر پر عمامہ رکھنے کی۔ اس ایک سال میں انھوں نے سارے شھر میں نوحہ خوانی کی اور بلند بلند آواز سے روتے بھی تھے۔

سير أعلام النبلاء:ج18 ، ص 468 و 476 ؛ المنتظم، ج 9، ص 20

 

ابن الجوزی کے لیے  پورے ماه رمضان میں عزاداری کرنا:

سبط بن جوزی ماہ رمضان میں فوت ہوا۔ ذھبی نے اس کی وفات کے بارے میں لکھا ہے کہ:

أبو الفرج ابن الجوزي الشيخ الإمام العلاّمة الحافظ المفسر، شيخ الإسلام، مفخر العراق . . . وتوفي ليلة الجمعة بين العشاءين الثالث عشر من رمضان سنة سبع وتسعين وخمس مئة في داره بقطفتا . وحكت لي أمي أنها سمعته يقول قبل موته : أيش أعمل بطواويس ؟ يرددها ، قد جبتم لي هذه الطواويس۔

وحضر غسله شيخنا ابن سكينة وقت السحر ، وغلقت الأسواق ، وجاء الخلق ، وصلي عليه ابنه أبو القاسم علي اتفاقا ، لان الأعيان لم يقدروا من الوصول إليه ، ثم ذهبوا به إلي جامع المنصور ، فصلوا عليه ، وضاق بالناس ، وكان يوما مشهودا ، فلم يصل إلي حفرته بمقبرة أحمد إلي وقت صلاة الجمعة ، وكان في تموز ، وأفطر خلق ، ورموا نفوسهم في الماء . إلي أن قال : وما وصل إلي حفرته من الكفن إلا قليل ، كذا قال ، والعهدة عليه. وأنزل في الحفرة ، والمؤذن يقول الله أكبر ، وحزن عليه الخلق ، وباتوا عند قبره طول شهر رمضان يختمون الختمات ، بالشمع والقناديلو اصبحنا يوم السبت عملنا العزاء و تكلمت فيه و حضر خلق عظيم و عملت فيه المراثی۔

اس کے مرنے پر بازار بند ہو گئے اور اکثر لوگ اس کی وفات میں شریک ہوئے۔ موسم گرم تھا جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں نے اس دن روزہ نہ رکھا۔ بعض نے اپنے آپ کو نہر دجلہ میں گرا دیا۔ لوگ ماہ رمضان کے آخر تک اس کی قبر کے پاس بیٹھے رہے۔ ہر رات کو اسکی قبر پر شمعیں اور چراغ جلاتے تھے اور قرآن بھی پڑھتے تھے۔ مراسم عزاداری میں خطباء اس کی حالات زندگی کے بارے میں بیان کیا کرتے تھے۔ بہت سے لوگ ان مراسم میں شریک ہوتے تھے اور نوحے پڑھتے تھے۔

سير أعلام النبلاء: ج21، ص 365 و 379.

نتیجہ گیری:

پس جیسا کہ بیان ہوا کہ جب علماء شیعہ و سنی عزاداری کو اس حد تک جائز و عملی طور پر انجام دیتے ہیں حتی اپنے علماء کے لیے کس قدر عزاداری کرتے ہیں تو معلوم ہوا کہ اھل بیت اور خاص طور پر امام حسین(ع) کے لیے عزاداری کرنا نہ یہ کہ ان کے بلند مقام سے منافات نہیں رکھتا بلکہ ایک جائز اور شرعی کام ہے۔

 

التماس دعا





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی