2017 October 20
شیعہ مذہب میں کالے کپڑے پہننا
مندرجات: ٣٤٤ تاریخ اشاعت: ٢٠ September ٢٠١٧ - ١٠:٣٥ مشاہدات: 1270
مضامین و مقالات » پبلک
شیعہ مذہب میں کالے کپڑے پہننا

شیعہ مذہب میں کالے کپڑے پہننا

تحقیق و حل سوال

فصل اول

شیعوں کے عزاداری میں کالے کپڑے پہننے کے علل و اسباب:

رسول خدا(ص) و اصحاب کے غم میں کالا لباس پہننا:

اھل بیت(ع) کی عزا و غم میں کالا لباس پہننا:

فصل دوم

شیعہ فقھاء کے فتو ے:

فصل اول

تقسیم روایات

کالے لباس کے نماز میں مکروہ ہونے والی روایت سے فقھاء کا آخری نتیجہ نکالنا:

فصل سوم

کالے لباس پر دلائل، بیان تعارض دلائل

و بیان موارد استثناء شدہ

پہلا حصہ:

روایت کی سند کے بارے میں بحث:

دوسرا حصہ

بیان تضاد و تعارض در روایات:

دونوں گروہ کی روایات میں تضاد و تعارض:

حل تعارض:

حل اول: عدم وجود شرايط تعارض در ميان روايات:

حل دوم : کالا لباس پہننے میں تقیّہ کرنا:

نتيجہ كلی

 

 

بیان شبھہ

و ھابیوں  کے بہت سے شبھات میں سے ایک شبھہ کالے کپڑے پہننے کے بارے میں ہے۔ وہ دعوی کرتے ہیں کہ کتب شیعہ میں کافی ساری روایات کالے کپڑے پہننے کی مذمت کرتی ہیں کہ کالا لباس  جھنمیوں، فرعونیوں اور عباسیوں(دشمنان اہل بیت) کا لباس ہے، اور بعض روایات کی بنا پر رسول خدا(ص) اور علی(ع) سفید لباس پہنا کرتے تھے اور اپنے پیروکاروں کو بھی سفید لباس پہننے کا حکم دیا کرتے تھے۔

لیکن ہم آج شیعہ مذہب میں دیکھتے ہیں کہ پیغمبر اور اہل بیت کی سیرت و حکم کے خلاف اور خاص پر امام حسین(ع) کی عزاداری کے ایام میں کالا لباس پہنتے ہیں اور یہ کام اب شیعہ مذہب کی علامت اور پہچان بن چکا ہے۔

یہ شبھہ وھابیوں کی بہت سی سایٹ میں وسیع سطح پر ذکر ہوا ہے کہ چند جزئیات قابل ذکر ہیں:

 

1-              شیعوں کی کالے کپڑے پہننے میں آئمہ (ع) کے حکم کی مخالفت کرنا:

شیعیان بر خلاف سيره رسول خدا (ص) کہ سیرت سفید لباس پہننا تھی، مراسم عزاداری ایام محرم میں کالے کپڑے پہنتے ہیں حالانکہ کتب شیعہ میں مذکور  روایات کی روشنی میں ان کو اپنے آئمہ کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے بلکہ ان کے حکم پر عمل کرنا چاہیے۔ وہ ان کالے کپڑے پہننے میں واضح طور پر غلط کام انجام دیتے ہیں۔

 

2-              کالے کپڑوں کا پہننا  حرام ہے :

روایات شیعہ میں کالا لباس  جھنمیوں، فرعونیوں اور عباسیوں(دشمنان اھل بیت) کا لباس ہے اور واضح طور پر حکم ہوا ہے کہ اسے نہ پہنو۔ پس اس نہی پر عمل کرنا اور کالا لباس پہننا حرام ہے۔

 

3-              روایات اور آئمہ کے عمل میں تضاد کا ہونا:

ایک طرف سے آئمہ سے  متعدد روایات ہیں جن میں کالے کپڑے پہننا منع و اس عمل کی مذمت ہوئی ہے لیکن دوسری طرف سے بعض روایات میں ہے کہ خود آئمہ عملی طور پر کالا لباس پہنتے تھے۔ پس روایات اور عمل آئمہ میں تضاد و تعارض پایا جاتا ہے۔ اگر معیار و میزان آئمہ کا عمل ہو تو  روایات کا کیا بنے گا ؟ اور اگر روایات پر عمل کریں تو پھر آئمہ کے عمل کی کیسے تاویل و توجیہ کریں گے ؟

 

تحقیق و حل سوال

اوپر والے شبھات کا چند فصلوں میں جواب دیا جا سکتا ہے:

 

فصل اول 

شیعوں کے عزاداری میں کالے کپڑے پہننے کے علل و اسباب:

اجمالی جواب:
1-              کالا لباس پہننا اھل بیت(ع) سے ہمدردی کا اعلان ہے:

عزاداری میں کالا لباس پہننا یہ ایک طرح کا آئمہ اہل بیت(ع) اور صاحب اصلی عزا و حجت خدا امام زمان(عج) سے  محبت و اطاعت کا اظھار اور اعلان وفاداری ہے۔

 

2-              کالا لباس پہننا یہ سیرت آئمہ اہل بیت(ع) ہے:

لشکر اسلام کے دو سرداروں (حضرت حمزه و جعفر طيار)،  کی شھادت پر عورتوں کا کالا لباس پہننا،باپ کے غم میں حضرت زھرا (س) کا کالا لباس پہننا، امام حسن(ع) کا شھادت حضرت علی(ع) پر کالا لباس پہننا اور امام حسین(ع) کی شھادت پر اھل بیت کی عورتوں کا شام و مدینے کی عورتوں کے ساتھ کالا لباس پہننا یہ تاریخ اسلام میں معروف و مشھور ہے۔

مھم نکتہ ان تمام موارد میں یہ ہے کہ یہ تمام کام رسول خدا (ص) اور آئمہ (ع) کے سامنے انجام ہوئے ہیں اور حتی بعض موارد میں  جیسے  حضرت زهرا(س) نے رسول خدا(ص) کے غم میں،  امام حسن(ع) نے اپنے والد کی شهادت میں اور امام سجاد(ع) نے مدينے میں کالا لباس پہنا ہے اور یہ خود سیرت و  فعل  معصوم ہے جو ہم شیعوں کے لیے حجت و قابل عمل ہے۔

لھذا وہ روایات کہ جو رسول گرامی اسلام سے یا حضرت علی(ع) اور دوسرے آئمہ اطھار سے کالے لباس پہننے کے مکروہ ہونے کے بارے میں ہیں، یہ کراہت خود آئمہ کی سیرت عملی سے زائل ہو جائے گی اور اھل بیت(ع) کے اور امام حسین(ع) کے غم و عزاداری میں کالا لباس پہننا مکروہ نہیں رہے گا۔

لھذا شیعہ مذھب میں کالا لباس پہننا یہ خود آئمہ کی سیرت عملی سے لیا گیا ہے نہ یہ کہ دوسروں سے اور بغیر دلیل کے یہ کام شیعہ انجام دیتے ہیں۔

تفصیلی جواب:

      پہلا اور مهم‌ترين شبهہ وهابيت کی طرف سے یہ ہے کہ خود آئمہ نے اپنی  روایات میں کالا لباس پہننے کو مکروہ قرار دیا ہے اور اس سے منع کیا ہے اور سفید لباس پہننے کا حکم دیا ہے جبکہ شیعہ ایام عزاداری میں کالا لباس پہنتے ہیں تو یہ واضح طور پر اپنے آئمہ کی مخالفت و نافرمانی کرتے ہیں۔

اس شبھے کے چند جواب دیئے جا سکتے ہیں:

1-             اہل بیت(ع) سے اظھار محبت و اعلان ہمدردی و وفا داری:

پہلا جواب یہ ہے کہ وہ روایات جو کالا لباس پہننے سے منع کرتی ہیں وہ بغیر شرط کے اور مطلق نہیں ہیں بلکہ وہ روایات چند شرائط کے ساتھ کراھت کو ثابت کرتی ہیں یعنی کالا لباس خود ذاتی طور پر مکروہ نہیں ہے اس لیے کہ اگر ایسا ہوتا تو بعض مقامات پر کالا لباس پہننے کی اجازت نہ ہوتی!

مثال کے طور پر خود رسول خدا سر پر کالا عمامہ نہ رکھتے یا  امام صادق (ع)  کالا عمامہ ، کالے جوتے اور کالی  عباء پہننے کی اجازت نہ دیتے۔ حتی بعض روایات اھل سنت   کی طرف ہم بعد میں اشارہ کریں گے کہ ان میں ذکر ہوا ہے کہ فتح مکے والے رسول خدا(ص) کے سر پر کالا عمامہ تھا۔

 جو مکروہ ہونا روایات میں ذکر ہوا ہے وہ اس وجہ سے ہے کہ کالا لباس خدا وند کے دشمنوں کا لباس ہے کیونکہ انھوں نے تمام رنگوں میں سے اس رنگ کو انتخاب اور اپنی ایک خاص علامت قرار دیا ہوا تھا لھذا منع اور مکروہ ہونا اس لیے ہے کہ ہم خود کو دشمنان خدا سے مشابہ نہ کریں۔

یعنی حکم ان تمام موارد میں انسان کے قصد پر لگتا ہے، اس طرح کہ کالا لباس پہننے سے اگر انسان کا قصد خود کو خدا کے دشمنوں سے مشابھے کرنا ہو تو ایسا کرنا مکروہ و منع ہو گا لیکن اگر انسان کا قصد امام حسین اور اہل بیت(ع) کے مصائب  و عزاداری ہو تو یہ پہننا مستحب ہو جائے گا کیونکہ اس بارے میں آئمہ کے اقوال و سیرت عملی روایات میں ذکر ہوئی ہے۔

مرحوم علامہ مجلسی نے  بحار الانوار میں ایک باب بعنوان استحباب گريہ بر امام حسين (ع) ذکر کیا ہے جس میں  20 روايات کو ذکر کیا ہے كہ ہم یہاں پر چند روایات کو ‍ ذکر کرتے ہیں:

يَا ابْنَ شَبِيبٍ إِنْ سَرَّكَ أَنْ تَكُونَ مَعَنَا فِي الدَّرَجَاتِ الْعُلَى مِنَ الْجِنَانِ فَاحْزَنْ لِحُزْنِنَا وَافْرَحْ لِفَرَحِنَا وَعَلَيْكَ بِوَلَايَتِنَا فَلَوْ أَنَّ رَجُلًا أَحَبَّ حَجَراً لَحَشَرَهُ اللَّهُ مَعَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

ريّان بن شبيب کہتا ہے کہ ‌  میں ماه محرّم کے پہلے دن امام رضا(ع) کے پاس گیا تو امام نے مجھے فرمایا کہ: اے  شبيب کے بیٹے اگر تم چاہتے ہو کہ جنت کے بلند درجات میں ہمارے ساتھ ہو تو ہمارے غم میں غمناک اور ہماری خوشی میں خوش ہوا کرو۔ ہماری ولایت و محبت تم پر لازم ہے۔ اگر ایک انسان اس دنیا میں پتھر سے بھی محبت کرتا ہو گا تو خداوند کل قیامت والے دن اس انسان کو اسی پتھر کے ساتھ محشور کرے گا۔

المجلسي، محمد باقر (متوفاي 1111هـ)، بحار الأنوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار، ج14 ص 503 ، تحقيق: محمد الباقر البهبودي، ناشر: مؤسسة الوفاء - بيروت - لبنان، الطبعة: الثانية المصححة، 1403 - 1983م.

قَالَ الرِّضَا عليه السلام مَنْ تَذَكَّرَ مُصَابَنَا وَبَكَى لِمَا ارْتُكِبَ مِنَّا كَانَ مَعَنَا فِي دَرَجَتِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ ذُكِّرَ بِمُصَابِنَا فَبَكَى وَأَبْكَى لَمْ تَبْكِ عَيْنُهُ يَوْمَ تَبْكِي الْعُيُونُ وَمَنْ جَلَسَ مَجْلِساً يُحْيَا فِيهِ أَمْرُنَا لَمْ يَمُتْ قَلْبُهُ يَوْمَ تَمُوتُ الْقُلُوبُ.

امام رضا(ع) نے فرمایا کہ جو ہمارے خاندان کے مصائب کو یاد کرے اور ہم پر ہونے والے مظالم و مصائب پر گریہ کرے تو ایسا انسان جنت کے درجات میں ہمارے ساتھ ہو گا اور جو ہمارے مصائب کو یاد کر کے روئے اور دوسروں کرو بھی رلائے تو جس دن آنکھیں گریہ کریں گی، اس کی آنکھیں گریہ نہیں کریں گی اور جو اس مجلس میں بیٹھے کہ جس میں ہماری امامت کا امر و ذکر زندہ ہوتا ہو جس دن دوسروں کے دل مردہ ہو جائیں گے اس انسان کا دل مردہ نہیں ہو گا۔

المجلسي، محمد باقر (متوفاي 1111هـ)، بحار الأنوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار، ج44 ص 279، تحقيق: محمد الباقر البهبودي، ناشر: مؤسسة الوفاء - بيروت - لبنان، الطبعة: الثانية المصححة، 1403 - 1983م

مجالس عزا میں شرکت کرنا دوسروں کو شرکت کی دعوت دینا، آئمہ کے فضائل و مصائب کا ذکر کرنا یہ آئمہ کے امر امامت کو زندہ کرنے کا بہترین مصداق ہے۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الصَّفَّارِ قَالَ حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ تَجْلِسُونَ وَتَتَحَدَّثُونَ قَالَ قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ نَعَمْ قَالَ إِنَّ تِلْكَ الْمَجَالِسَ أُحِبُّهَا فَأَحيُوا أَمْرَنَا إِنَّهُ مَنْ ذَكَرَنَا وَذُكِرْنَا عِنْدَهُ فَخَرَجَ مِنْ عَيْنِهِ مِثْلُ جَنَاحِ الذُّبَابَةِ غَفَرَ اللَّهُ ذُنُوبَهُ وَلَوْ كَانَتْ أَكْثَرَ مِنْ زَبَدِ الْبَحْر.

بكر بن محمد ازدی کہتا ہے کہ امام صادق(ع) نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم لوگ آپس میں بیٹھ کر ہمارے ذکر کو بیان کرتے ہو ؟

میں نے کہا: ہاں، میں آپ پر قربان ہو جاؤں۔

امام نے فرمایا:میں ایسی مجالس کو پسند کرتا ہوں پس ہماری یاد و ذکر کو زندہ رکھو کیونکہ جو ہمیں یاد کرے یا کسی کے سامنے ہمارا ذکر ہو اور مکھی کے پر کے برابر ہمارے لیے اشک بہائے تو خداوند اس کے تمام گناہوں کو معاف کر دے گا اگرچہ اس کے گناہ دریا کی جھاگ کی طرح زیادہ ہی کیوں نہ ہوں۔

الصدوق، ابوجعفر محمد بن علي بن الحسين (متوفاي 381 هـ)‏ ‏ثواب الأعمال و عقاب الأعمال ص187 ناشر: دار الرضى‏،‌ قم،‌ چاپ اول۔

ان مجالس عزاداری  کو برپا کرنا یہ اسی ذاتی رابطے کی وجہ سے ہے کہ جس کو خداوند نے آئمہ اہل بیت  اور شیعیان کے درمیان برقرار کیا ہے۔جیسے اس روایت میں ہے کہ:       

إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى اطَّلَعَ إِلَى الْأَرْضِ فَاخْتَارَنَا وَاخْتَارَ لَنَا شِيعَةً يَنْصُرُونَنَا وَفْرَحُونَ لِفَرَحِنَا وَيَحْزَنُونَ لِحُزْنِنَا وَيَبْذُلُونَ أَمْوَالَهُمْ وَأَنْفُسَهُمْ فِينَا أُولَئِكَ مِنَّا وَاِلَيْنا.

خداوند نے زمین کی طرف نظر کر کے ہمیں انتخاب کیا اور ہمارے لیے شیعوں کو انتخاب کیا کہ وہ ہماری خوشی میں خوش اور ہمارے غم میں غمناک ہوتے ہیں اور ہماری راہ میں اپنے اموال اور اپنی جانوں کو دیتے ہیں۔ وہ ہم سے ہیں اور ہماری طرف پلٹ کر آئیں گے۔

المجلسي، محمد باقر (متوفاي 1111هـ)، بحار الأنوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار، ج10 ص114 ، تحقيق: محمد الباقر البهبودي، ناشر: مؤسسة الوفاء - بيروت - لبنان، الطبعة: الثانية المصححة، 1403 - 1983م

ان مجالس میں ہر شیعہ کا دل غمگین ہوتا ہے اور بدن پر کالا لباس ہوتا ہے اور زبان دل سے اپنے مظلوم امام سے کہہ رہا ہوتا ہے:

يَا لَيْتَنِي كُنْتُ مَعَهُمْ فَأَفُوزَ فَوْزاً عَظِيما۔

اے کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو عظیم کامیابی مجھے بھی مل جاتی۔

الحر العاملي، محمد بن الحسن (متوفاي1104هـ)، تفصيل وسائل الشيعة إلي تحصيل مسائل الشريعة، ج 14 ص418 تحقيق و نشر: مؤسسة آل البيت عليهم السلام لإحياء التراث، الطبعة: الثانية، 1414هـ

 

2-                 عزاداری میں سیرت اہل بیت(ع) کی پیروی کرنا:

شیعہ کالا لباس پہننے میں نہ یہ کہ رسول خدا(ص) اور آئمہ (ع) کے حکم کی مخالفت نہیں کرتے بلکہ اس کام میں ان کی سیرت  عملی کی پیروی کرتے ہیں۔

کالا لباس پہننے کے موضوع کو تاریخ میں دو حساس مقام پر مورد بحث قرار دیا جا سکتا ہے:

 

رسول خدا(ص) و اصحاب کے غم میں کالا لباس پہننا:

واقعہ کربلاء اور شھادت امام حسین(ع) سے پہلے تاریخ اسلام میں رسول خدا(ص) اور اھل بیت(ع) کے لیے تلخ حوادث پیش آئے ہیں۔ تمام مؤرخان کے اقوال کے مطابق ان تمام تلخ حوادث میں رسول خدا کے خاندان نے شھداء اور بزرگان کے غم میں کالا لباس پہنا ہے۔

چند نمونوں کی طرف توجہ فرمائیں:

1-              حضرت حمزہ کی شھادت پر عورتوں کا کالا لباس پہننا:

تاریخ اسلام کی جنگوں میں سے سب سے زیادہ تلخ ترین جنگ،جنگ احد ہے کہ جس میں تقریبا 70 مسلمان لشکر اسلام سے شھید ہوئے۔ ان شھیدوں  میں سے رسول خدا کے چچا حضرت حمزہ بھی ہیں۔ رسول خدا بھی اس جنگ میں زخمی ہونے کے بعد جب واپس مدینے آئے تو مدینے کی عورتیں اپنے شھداء کے لیے گریہ و نوحہ خوانی کرتی تھیں۔ رسول خدا کے حکم کے مطابق مدینے کی عورتوں نے حضرت حمزہ کی شھادت پر کالے لباس پہنے۔

             ازہری معروف  لغت شناس نے ام سلمہ کی بیٹی کے کالے لباس پہننے کو بیان کیا ہے:

وفي الحديث: (أنَّ بنت أبي سَلَمة تَسَلَّبتْ على حمزة ثلاثةَ أيام، فدعاها رسولُ الله صلى الله عليه وسلم وأمَرَها أن تَنصَّى وتَكتَحِل.

زینب ام سلمہ کی بیٹی نے حضرت حمزہ پر تین دن گریہ کیا اور کالا لباس پہنا۔ پھر رسول خدا نے اسے اپنے پاس بلایا اور اسے کہا کہ اب اپنے بالوں میں کنگھی کرے اور آنکھوں میں سرمہ ڈالے۔

الأزهري، أبو منصور محمد بن أحمد، الوفاة: 370هـ، تهذيب اللغة ،  ج 12 ص 171،تحقيق: محمد عوض مرعب،  دار النشر : دار إحياء التراث العربي - بيروت، الطبعة : الأولى- 2001م

معنی «سلاب» اهل سنت کی کتب میں:

اوپر والی روایت میں لفظ تسلّبت کا معنی مخصوص  کالا لباس ہے جو عورتیں غم کے مواقع پر پہنتی ہیں۔

ابن سلام ہروی، صاحب غريب الحديث بھی لکھتا ہے کہ:

سلاب، يريد الثياب السود التي تلبسها النساء في المأتم.

سلاب سے مراد مخصوص  کالا لباس ہے جو عورتیں غم کے مواقع پر پہنتی تھیں۔

الهروي ، أبي عبيد القاسم بن سلام ، متوفاي(224)، غريب الحديث، ج 1 ص 190،‌ تحقيق : محمد عبد المعيد خان،  ناشر: دار الكتاب العربي - بيروت ، چاپخانه : مجلس دائرة المعارف العثمانية- حيدر آباد الدكن الهند، طبع الأولى1384

ابن سيده مرسی، کہتا ہے کہ:

والسِّلابُ والسُّلُبُ ثيابٌ سُودٌ يلْبَسُها النِّساءُ للإِحدادِ۔

سلاب و سلب کالا لباس ہے جو عورتیں غم میں پہنتی ہیں۔

المرسي، ابوالحسن علي بن إسماعيل بن سيده (متوفاي458هـ)، المحكم والمحيط الأعظم،   ج 8  ص 505، تحقيق: عبد الحميد هنداوي، ناشر: دار الكتب العلمية  بيروت، الطبعة: الأولى، 2000م.

زمخشرى ـ اديب و مفسّر مشهور قرن 5 و 6 هجرى- اوپر والی روایت کو تھوڑے فرق کے ساتھ نقل کرتا ہے:

بكت بنت امّ سلمة على حمزة (رضى اللّه عنهما) ثلاثة ايام وتسلّبت، فدعاها رسول اللّه (صلى الله عليه وآله) فأمرها أن تَنَصّى وتكتحل.

اور بعد میں کہتا ہے کہ:

تسلّبت: لبست السِلاب و هو سوادُ المُحِدّ. وقيل: خرقة سوداء كانت تُغَطّى رأسَها بها.

سلاب کالا لباس ہے جو صاحب عزا عورت پہنتی تھی۔ یا ایک قول کے مطابق کالا کپڑا ہے جس سے وہ اپنےسر کو ڈھانپتی تھی۔

الزمخشري الخوارزمي، ابوالقاسم محمود بن عمرو بن أحمد جار الله (متوفاى538هـ)، الفائق فى غريب الحديث، تحقيق: على محمد بجاوى و محمد ابوالفضل ابراهيم ،‌ ناشر:‌ دارالفكر للطباعة و النشر و التوزيع، طبع الثالثه 1399 ـ 1979).

ابن منظور نے لسان العرب  میں«سلاب» کا معنی « کالا لباس» کیا ہے اور پھر اسماء بنت عميس کا جعفر بن أبي‌طالب کی مصيبت میں کالا لباس پہننے  اور ام سلمه کا شهادت حضرت حمزه سيد الشهداء میں کالا لباس پہننے کو نقل کر رہا ہے:

السلاب السلب ثياب سود تلبسها النساء في المأتم واحدتها سلبة سلبت المرأة وهي مسلب إذا كانت محدا تلبس الثياب السود للحداد تسلبت لبست السلاب وهي ثياب المأتم السود.

وفي الحديث عن أسماء بنت عميس أنها قالت لما أصيب جعفر أمرني رسول الله فقال تسلبي ثلاثا ثم اصنعي بعد ما شئت.

 

وفي حديث أم سلمة أنها بكت على حمزة ثلاثة أيام وتسلبت.

 وقال اللحياني المسلب السليب السلوب التي يموت زوجها أو حميمها فتسلب عليه تسلبت المرأة.

سلاب و سلب کالا لباس ہے جو عورتیں غم میں پہنتی تھیں۔

 تسلبت لبست السلاب وہی غم کا کالا لباس ہے۔

روایت میں ہے کہ اسماء‌ بنت عميس کہتی ہے کہ جب جعفر طیار شھید ہوئے تو رسول خدا نے مجھے فرمایا کہ تین دن کالا لباس پہنوں اور اس کے بعد جو دل ہے کروں۔

روایت میں ہے کہ ام سلمہ نے حضرت حمزہ کی شھادت پر تین دن گریہ کیا اور کالا لباس پہنا۔

الأفريقي المصري، محمد بن مكرم بن منظور (متوفاي711هـ)، لسان العرب،ج 1 ص 472 ـ 473، ناشر: دار صادر - بيروت، الطبعة: الأولى.

حضرت جعفر طیار کی شھادت پر رسول خدا کا عورتوں کو کالا لباس پہننے کا حکم دینا:

جعفر طیار رسول خدا کے با وفا ساتھی اور لشکر اسلام کے طاقت ور بازو تھے جو جنگ موتہ میں شھید ہوئے۔ رسول خدا انکی شھادت کے بعد ان کے گھر گئے جا کر ان کے بیوی بچوں کو تسلی دی اور اسماء بنت عمیس کو حکم دیا کہ اس غم میں کالا لباس پہنے۔

یہ روایت بھی دو معنی و مفھوم کے ساتھ  اہل سنت کی مھم کتب میں ذکر ہوئی ہے۔

 

مضمون اول : «البسی ثوب الحداد»

 احمد حنبل اپنی مسند میں لکھتا ہے کہ:

عن أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قالت لَمَّا اصيب جَعْفَرٌ أَتَانَا النبي صلى الله عليه وسلم فقال أمى ‌البسي ثَوْبَ الْحِدَادِ ثَلاَثاً ثُمَّ اصنعي ما شِئْتِ.

اسماء‌ بنت عميس کہتی ہے کہ جب جعفر طیار شھید ہوئے تو رسول خدا نے مجھے فرمایا کہ تین دن کالا لباس پہنوں اور اس کے بعد جو دل ہے کروں۔

 أحمد بن حنبل أبو عبدالله الشيباني، (متوفاي241) ‌مسند، ج 6 ص 438 ح 27508 ، ناشر: مؤسسة قرطبة مصر.

معنی حداد :

ابن منظور اس بارے میں کہتا ہے کہ:

والحِدادُ: ثياب المآتم السُّود. والحادُّ والمُحِدُّ من النساء: التي تترك الزينة و الطيب؛ وقال ابن دريد: هي المرأَة التي تترك الزينة والطيب بعد زوجها للعدة. حَدَّتْ تَحِدُّ وتَحُدُّ حدّاً وحِداداً، وهو تَسَلُّبُها على زوجها.

حداد ماتم کا کالا لباس ہے۔ حاد و محد وہ عورت ہے جو بناؤ سنگھار کو ترک کرتی ہے۔

ابن درید کہتا ہے کہ؛

حاد و محد وہ عورت ہے جو اپنے شوھر کے مرنے پر بناؤ سنگھار کو ترک کرتی ہے۔ حدت، تحد اور حداد کالا لباس ہے جو بیوی شوھر کی موت پر پہنتی ہے۔

ابن منظور الأفريقي المصري، محمد بن مكرم الوفاة: 711 ، لسان العرب ج 3  ص 143، دار النشر: دار صادر- بيروت، الطبعة: الأولى.

عكبری بغدادی اديب و لغت شناس مشهور عرب، اپنے دیوان میں لکھتا ہے کہ:

والحداد ثياب سود تلبس عند الحزن ومنه قوله عليه الصلاة والسلام لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تحد على أحد فوق ثلاث ليال إلا المرأة تحد على زوجها.

حداد ماتم کا کالا لباس ہے جو غم کے موقع پر پہنا جاتا ہے۔ حاد و محد وہ عورت ہے جو بناؤ سنگھار کو ترک کرتی ہے اور کالا لباس پہنتی ہے۔

العكبري البغدادي، أبو البقاء محب الدين عبد الله بن الحسين بن عبد الله (متوفاي616هـ)، ديوان المتنبي، ج 1 ص 353، تحقيق : مصطفى السقا/إبراهيم الأبياري/ عبد الحفيظ شلبي، ناشر: دار المعرفة- بيروت.

اسی دیوان میں ایک دوسری جگہ بھی اسی بات کو نقل کرتا ہے:

العكبري البغدادي، أبو البقاء محب الدين عبد الله بن الحسين بن عبد الله (متوفاي616هـ)، ديوان المتنبي ، ج 4   ص 296، تحقيق : مصطفى السقا/إبراهيم الأبياري/عبد الحفيظ شلبي ، ناشر: دار المعرفة- بيروت.

اور ابن اثير کہتا ہے کہ:

الحداد: ترك الزينة. ومنه‏ الحديث الحداد للمرأة المتوفى عنها زوجها. ومنه حدت المرأة على زوجها تحد حدادا بالكسر، فهي حاد بغير هاء: إذا حزنت عليه ولبست ثياب الحزن وتركت الزينة.

حداد زینت کرنے کو ترک کرنا ہے۔ حدت المرأة على زوجها تحد حدادا بالكسر حاد و محد وہ عورت ہے جو اپنے شوھر کے مرنے پر بناؤ سنگھار کو ترک کرتی ہے۔

الجزري،‌ أبو السعادات المبارك بن محمد (متوفاي: 606 ) النهاية في غريب الحديث والأثر،‌ ج1 ص 352 ، تحقيق: طاهر أحمد الزاوى - محمود محمد الطناحي،‌ ناشر: المكتبة العلمية- بيروت- 1399هـ - 1979م .

فيومى‌ مصباح المنير، میں اسی طرح عبارت کو نقل کرتا ہے:

حدَّتِ: المرْأَةُ عَلَى زَوْجِهَا (تَحِدُّ) و(تَحُدُّ) (حِدَاداً) بِالْكَسْرِ فَهِىَ (حَادٌّ) بغَيْرِ هَاءٍ و(أحَدَّتْ إحْداداً) فَهِىَ (مُحِدٌّ) و(مُحِدَّةٌ) إذا تَرَكَتِ الزِّينَةَ لِمَوْتِهِ.

 الفيومي،‌ أحمد بن محمد بن علي المقري (الوفاة: 770هـ )،‌ المصباح المنير في غريب الشرح الكبير للرافعي، ص: 125(‌ماده حد)،‌ دار النشر: المكتبة العلمية – بيروت.

 

مضمون دوم : «تسلبی ثلاثا ثم أصنعی ما شئت»

ابن جعد عالم اہل سنت اپنی مسند میں لکھتا ہے کہ:

حدثنا محمد بن بكار بن الريان نا محمد بن طلحة عن الحكم بن عتيبة عن عبد الله بن شداد بن الهاد عن أسماء بنت عميس أنها قالت لما أصيب جعفر أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم قال تسلبي ثلاثا ثم أصنعي ما شئت۔

اسماء‌ بنت عميس کہتی ہے کہ جب جعفر طیار شھید ہوئے تو رسول خدا نے مجھے فرمایا کہ تین دن کالا لباس پہنوں اور اس کے بعد جو دل ہے کروں۔

الجوهري البغدادي ،علي بن الجعد بن عبيد أبو الحسن الوفاة: 230،  مسند ابن الجعد ج 1، ص 398 ش 2714 ، تحقيق : عامر أحمد حيدر،‌ ناشر: مؤسسة نادر- بيروت – الطبعة : الأولى،  1410- 1990 ،

یہ روايت اسی مضمون کے ساتھ بہت سی كتب اہل سنت نقل ہوئی ہے:

الأنصاري القرطبي، ابوعبد الله محمد بن أحمد (متوفاي671هـ)، الجامع لأحكام القرآن،‌ ج 3 ص 181 ناشر: دار الشعب،‌ القاهرة.

 ابن كثير الدمشقي، إسماعيل بن عمر ابوالفداء القرشي (متوفاي774هـ)، البداية والنهاية، بيروت.‌ج7 ص 97،‌ ناشر: مكتبة المعارف،

الشوكاني، محمد بن علي بن محمد (متوفاي 1255هـ)، نيل الأوطار من أحاديث سيد الأخيار شرح منتقي الأخبار، ج7 ص 97 ناشر: دار الجيل، بيروت 1973

جیسا کہ بیان ہوا سلاب بمعنی غم کی حالت میں کالا لباس پہننا ہے۔ اسی طرح اس روایت کے آخر میں علماء نے بھی اس معنی پر وضاحت کی ہے۔

ابن منظور اس روایت کو ذکر کرنے کے بعد کہتا ہے:

تسلبي أي البسي ثياب الحداد السود وهي السلاب تسلبت المرأة إذا لبسته وهو ثوب أسود تغطي به المحد رأسها.

تسلب یعنی غم میں کالا لباس پہننا۔ وہی سلاب کہ عورت پہنتی ہے۔ وہی کالا لباس ہے کہ جس سے  عزادار عورت سر ڈھانپتی ہے۔

الأفريقي المصري، محمد بن مكرم بن منظور (متوفاي711هـ)، لسان العرب،ج 1 ص 472 ـ 473، ناشر: دار صادر - بيروت، الطبعة: الأولى.

 

حضرت زھرا(س) کا رسول خدا(ص) کے غم میں کالا لباس پہننا:

درد ناک ترین دن تاریخ اسلام میں، روز رحلت رسول خدا(ص) ہے۔ اس غم کے موقع پر ازواج رسول اور انکی بیٹی حضرت زھرا(س) نے کالا لباس پہنا۔

روایت ہے کہ: فضہ کہتی ہے کہ حضرت زھرا(س) رسول خدا کی رحلت کے آٹھ دن بعد بنی ھاشم کی عورتوں کے ساتھ اپنے بابا کی قبر پر حاضر ہوئیں اور غم کی حالت میں عرض کیا:

 

ثُمَّ نَادَتْ يَا أَبَتَاهْ انْقَطَعَتْ بِكَ الدُّنْيَا بِأَنْوَارِهَا وَزَوَتْ زَهْرَتُهَا وَكَانَتْ بِبَهْجَتِكَ زَاهِرَةً فَقَدِ اسْوَدَّ نَهَارُهَا فَصَارَ يَحْكِي حَنَادِسَهَا رَطْبَهَا وَيَابِسَهَا... وَالثَّكْلُ شَامِلُنَا وَالْبُكَاءُ قَاتِلُنَا وَالْأَسَى لَازِمُنَا .

ثُمَّ زَفَرَتْ زَفْرَةً وَأَنَّتْ أَنَّةً كَادَتْ رُوحُهَا أَنْ تَخْرُج‏ ... .

بابا جان آپ کے جانے سے دنیا نے اپنی روشینیاں اور اپنی نعمتیں ہم سے لے لی ہیں۔ یہ دنیا آپ کی برکت سے روشن تھی لیکن اب تو دن بھی تاریک ہو گئے ہیں...... پھر بی بی نے اتنی زور سے فریاد کی کہ نزدیک تھا کہ روح بدن سے پرواز کر جائے۔

المجلسي، محمد باقر (متوفاي 1111هـ)، بحار الأنوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار، 43/174 ـ 180تحقيق: محمد الباقر البهبودي، ناشر: مؤسسة الوفاء - بيروت - لبنان، الطبعة: الثانية المصححة، 1403 - 1983 م

حضرت زهرا (س) ‌‌‌‌‌‌‌‌ روايت معتبر کے مطابق قبر کی خاک کو اپنی آنکھوں پر لگا کر کہا:

ما ذا على من شمّ تربة احمد     ان لا يشمّ مدى الزّمان غواليا

 صبّت علىّ مصائب لو انّها         صبّت على الأيّام صرن لياليا.

ابن شهر آشوب، ( متوفاي 588هـ) ، مناقب آل أبي طالب ج1 ص208 تحقيق : لجنة من أساتذة النجف الأشرف، ناشر: المكتبة الحيدرية- النجف الأشرف 1376- 1956 م.

حضرت زھرا(س) بابا کی رحلت کے بعد ہمیشہ غم کی حالت میں تھیں:

وَرُوِيَ أَنَّهَا مَا زَالَتْ بَعْدَ أَبِيهَا مُعَصَّبَةَ الرَّأْسِ نَاحِلَةَ الْجِسْمِ مُنْهَدَّةَ الرُّكْنِ بَاكِيَةَ الْعَيْنِ مُحْتَرِقَةَ الْقَلْبِ يُغْشَى عَلَيْهَا سَاعَةً بَعْدَ سَاعَةٍ وَتَقُولُ لِوَلَدَيْهَا أَيْنَ أَبُوكُمَا الَّذِي كَانَ يُكْرِمُكُمَا وَيَحْمِلُكُمَا مَرَّةً بَعْدَ مَرَّةٍ أَيْنَ أَبُوكُمَا الَّذِي كَانَ أَشَدَّ النَّاسِ شَفَقَةً عَلَيْكُمَا فَلَا يَدَعُكُمَا تَمْشِيَانِ عَلَى الْأَرْضِ وَلَا أَرَاهُ يَفْتَحُ هَذَا الْبَابَ أَبَداً وَلَا يَحْمِلُكُمَا عَلَى عَاتِقِهِ كَمَا لَمْ يَزَلْ يَفْعَلُ بِكُمَا ثُمَّ مَرِضَتْ وَمَكَثَتْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً.

بی بی کا بابا کی رحلت کے بعد ہمیشہ سر بندھا رہتا تھا،بدن بیمار، کمر جھکی ہوئی تھی اور بار بار بے ہوش ہوتی تھیں۔۔۔۔۔۔۔

المجلسي، محمد باقر (متوفاي 1111هـ)، بحار الأنوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار ج‏43، ص: 182 تحقيق: محمد الباقر البهبودي، ناشر: مؤسسة الوفاء - بيروت - لبنان، الطبعة: الثانية المصححة، 1403 - 1983 م

اس روایت میں تعبير(مُعَصَّبَةَ الرَّأْسِ)‌ آئی ہے۔ معصبہ، عصب کے مصدر سے بنا ہے۔ اس کے دو معنی ہیں:

ایک: لوگوں کی جماعت گروہ۔

دوسرا: عمامه اور وہ چیز جس سے سر باندھا جاتا ہے۔

یہاں پر یہی دوسرا معنی مراد ہے۔

راغب اصفهانی کہتا ہے:

والعِصَابَةُ: ما يُعْصَبُ به الرأسُ والعمامةُ۔ ‏

   الراغب الإصفهاني، أبو القاسم الحسين بن محمد (متوفاي502هـ) ، المفردات في غريب القرآن، ص569 تحقيق : محمد سيد كيلاني ، ناشر: دار المعرفة - لبنان .

فيومى‌ المصباح المنير میں کہتا ہے:

و(العِصَابَةُ) العِمَامَةُ أَيْضاً و الْجَمَاعَةُ مِنَ النَّاسِ وَالْخَيْلِ والطَّيْرِ و(العِصَابَةُ) مَعْرُوفَةٌ وَالْجَمْعُ (عَصَائِبُ) و(تَعَصّبَ) و(عَصَّبَ) رَأْسَهُ بالْعِصَابَةِ أَىْ شَدَّها.

..... عصابہ بمعنی عمامہ کہ جس سے سر کو باندھا جاتا ہے۔

الفيومي،‌ أحمد بن محمد بن علي المقري (الوفاة: 770هـ )،‌ المصباح المنير في غريب الشرح الكبير للرافعي، ص413 (‌ماده حد)،‌ دار النشر: المكتبة العلمية – بيروت.

اس سے مراد کیا ہے ؟ اب یہ واضح کرنا ہے:پہلے بیان ہوا کہ عرب کی عورتوں میں رسم تھی کہ کسی عزیز کے مرنے پر کالے رنگ کا کپڑا غم کی علامت کے طور پر سر پر باندھتی تھیں۔

تسلبي أي البسي ثياب الحداد السود وهي السلاب تسلبت المرأة إذا لبسته وهو ثوب أسود تغطي به المحد رأسها.

اس کا ترجمہ و معنی اوپر گزر چکا ہے ................

الأفريقي المصري، محمد بن مكرم بن منظور (متوفاي711هـ)، لسان العرب،ج 1 ص 472 ـ 473، ناشر: دار صادر - بيروت، الطبعة: الأولى.

اس روایت کے مطابق حضرت زھرا(س) کے سر پر ہمیشہ کالے رنگ کا کپڑا تھا جو اپنے بابا کے غم کی علامت تھی۔ پس بی بی نے اپنے بابا کے  غم میں کالے کپڑے کا استعال کیا ہے۔

روایت میں ہے کہ:

ثُمَّ أَقْبَلَ [عمر] حَتَّى انْتَهَى إِلَى بَابِ عَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا وَفَاطِمَةُ قَاعِدَةٌ خَلْفَ الْبَابِ قَدْ عَصَبَتْ رَأْسَهَا وَنَحِلَ جِسْمُهَا فِي وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صلي الله عليه وآله.

فَأَقْبَلَ عُمَرُ حَتَّى ضَرَبَ الْبَابَ ثُمَّ نَادَى يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ افْتَحِ الْبَابَ فَقَالَ فَاطِمَةُ يَا عُمَرُ مَا لَنَا وَلَكَ لَا تَدَعُنَا وَمَا نَحْنُ فِيهِ قَالَ افْتَحِي الْبَابَ وَإِلَّا أَحْرَقْنَا عَلَيْكُمْ...

جب عمر بیعت کے لیے حضرت امیر(ع) کے گھر آیا تو بیعت کا مطالبہ ہوا۔ انکار کے بعد جب حضرت  زھرا(س) دروازے کے پیچھے آئیں تو سر پر کالا کپڑا بندھا ہوا تھا اور خود بہت ہی کمزور ہو گئیں تھیں..........

المجلسي، محمد باقر (متوفاي 1111هـ)، بحار الأنوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار، ج‏43، ص: 198تحقيق: محمد الباقر البهبودي، ناشر: مؤسسة الوفاء - بيروت - لبنان، الطبعة: الثانية المصححة، 1403- 1983 م

 

اھل بیت(ع) کی عزا و غم میں کالا لباس پہننا:

کالے لباس پہننے کے چند نمونے پہلے ذکر ہوئے ہیں۔ اب چند مزید نمونے ذکر کرتے ہیں تا کہ واضح ہو کہ غم و عزا کی حالت میں کالا لباس پہننا خاندان رسول خدا(ص) میں ایک سنت و سیرت رہا ہے۔

شھادت حضرت امیر(ع) پر امام حسن(ع) کا کالا لباس پہننا:

امام علی(ع) سن 40 ھجری میں 23 ماہ مبارک رمضان میں شھید ہوئے۔ امام حسن(ع) نے اپنے پدر کے غم میں لوگوں کے لیے خطبہ پڑھا اس حالت میں کہ امام حسن(ع) نے کالا لباس پہنا ہوا تھا۔

 ابن ابى الحديد نے شرح نهج البلاغه میں امام حسن (ع) کے کالے لباس کو ابو الحسن على بن محمّد مدائنى تاريخ نگار مشهور قرن 2 و 3 هجرى، سے نقل کیا ہے:

 قال المدائني ولما توفي علي عليه السلام- خرج عبد الله بن العباس بن عبد المطلب إلى الناس- فقال إن أمير المؤمنين عليه السلام توفي وقد ترك خلفا- فإن أحببتم خرج إليكم- وإن كرهتم فلا أحد على أحد- فبكى الناس وقالوا بل يخرج إلينا- فخرج الحسن عليه السلام فخطبهم- فقال أيها الناس اتقوا الله فإنا أمراؤكم وأولياؤكم- وإنا أهل البيت الذين قال الله تعالى فينا- إِنَّما يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ- وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً- فبايعه الناس- . وكان خرج إليهم وعليه ثياب سود.

جب اميرالمؤمنين(ع) شھید ہوئے تو عبدالله بن عباس نے لوگوں سے کہا کہ علی(ع) شھید ہو گئے ہیں اور اپنا جانشین بھی چھوڑ کر گئے ہیں۔ اگر چاہتے ہو تو آپ کے سامنے باہر آئے ورنہ کسی پر کوئی زور نہیں ہے۔ لوگ یہ سن کر رونے لگے اور کہا کہ ہاں مولا کا جانشین باہر آئے۔ پس امام حسن(ع) لوگوں کے پاس آئے اور ان کے لیے خطبہ پرھا............

امام لوگوں کے پاس باہر آئے اس حال میں کہ آپ نے کالا لباس پہنا ہوا تھا۔

إبن أبي‌الحديد المدائني المعتزلي، ابوحامد عز الدين بن هبة الله بن محمد بن محمد (متوفاي655 هـ)، شرح نهج البلاغة، تحقيق محمد عبد الكريم النمري، ج 16 ، صفحه‏ى 22 ناشر: دار الكتب العلمية،‌ بيروت، لبنان، الطبعة: الأولى، 1418هـ - 1998م.

احمد بن حنبل نے  فضائل الصحابہ میں ابی رزين سے روايت کی ہے  كہ:

حدثنا عبد الله قال حدثني أبي نا وكيع عن شريك عن عاصم عن أبي رزين قال خطبنا الحسن بن علي بعد وفاة علي وعليه عمامة سوداء فقال لقد فارقكم رجل لم يسبقه الأولون بعلم ولا يدركه الآخرون.

امام حسن مجتبى (ع) نے شهادت اميرمومنان(ع) کے بعد لوگوں کے لیے خطبہ پڑھا  در حالی‌ کہ کالا عمامہ‌ امام کے سر پر تھا۔

فضائل الصحابة ، اسم المؤلف:  أحمد بن حنبل أبو عبد الله الشيباني الوفاة: 241، فضائل الصحابة ، ج 2   ص 600،  تحقيق : د وصي الله محمد عباس ، دار النشر : مؤسسة الرسالة – بيروت،  الطبعة: الأولى ،1403- 1983

ذهبی نے اسی  روايت کو دو جگہ پر  ابی رزين  سے روايت کیا ہے اور کہتا ہے کہ:

شريك عن عاصم عن أبي رزين قال خطبنا الحسن بن علي وعليه ثياب سود وعمامة سوداء

امام نے کالا لباس پہنا اور کالا عمامہ سر پر رکھا ہوا تھا۔

سير أعلام النبلاء  ج 3   ص 267 و ص 272 ، اسم المؤلف:  محمد بن أحمد بن عثمان بن قايماز الذهبي أبو عبد الله الوفاة: 748 ، دار النشر : مؤسسة الرسالة - بيروت - 1413 ، الطبعة : التاسعة ، تحقيق : شعيب الأرناؤوط , محمد نعيم العرقسوسي

راوی اور روایت کے مضمون  کا ایک ہی ہونا یہ علامت ہے کہ یہ بات حق و ثابت ہے۔

امام حسن(ع) کی شھادت پر کالا لباس پہننا:

اہل سنت کے دو بڑے عالم (ابن عساكر نے تاريخ دمشق اور حاكم نے مستدرک میں) با سند متصل  عايشہ دختر سعد سے روايت کی ہے کہ زنان بنی هاشم نے  امام حسن  (ع) کی شھادت پر ايک  سال  تک زينت کو ترک کیا  اور کالا لباس پہنا:

حاكم نيشاپوری نے لکھا ہے کہ:

قال بن عمر وحدثتنا عبيدة بنت نائل عن عائشة بنت سعد قالت حد نساء، الحسن بن علي سنة.

عورتوں نے ایک سال تک کالے لباس پہنے۔

الحاكم النيسابوري، محمد بن عبدالله، (متوفاي: 405 هـ)، المستدرك على الصحيحين، ج 3 ص 189، تحقيق: مصطفى عبد القادر عطا، ناشر: دار الكتب العلمية، بيروت الطبعة: الأولى 1411هـ - 1990م 

اسی مضمون کے ساتھ تاريخ مدينہ دمشق میں نقل کرتا ہے:

عن عائشة بنت سعد قالت: حدت نساء بني هاشم على الحسن بن علي سنة.

عورتوں نے ایک سال تک کالے لباس پہنے۔

 الشافعي، أبي القاسم علي بن الحسن إبن هبة الله بن عبد الله، (متوفاي: 571 )، تاريخ مدينة دمشق، ج 13 ص 295، تحقيق: محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العماري،‌ ناشر: دار الفكر، بيروت- 1995

ابن اثير نے بھی اسد الغا                       بہ  ميں لکھا ہے کہ:

ولما مات الحسن أقام نساءُ بني هاشم عليه النواح شهراً، ولبسوا الحداد سنة.

عورتوں نے ایک سال تک کالے لباس پہنے اور ایک ماہ تک عزاداری کی۔

 الجزري ، عز الدين بن الأثير أبي الحسن علي بن محمد الوفاة: 630هـ ، أسد الغابة في معرفة الصحابة ج 2 ،ص 22 ، تحقيق : عادل أحمد الرفاعي ، ناشر: دار إحياء التراث العربي-  بيروت / لبنان  الطبعة : الأولى- 1417 هـ - 1996 م 

ان روایات میں لفظ حدت، حد اور الحداد ذکر ہوا کہ جس کا معنی پہلے تفصیل سے بیان ہوا ہے۔

امام حسین(ع) کی شھادت پر کالا لباس پہننا:

خاندان اھل بیت(ع) میں امام حسین(ع) کی عزاداری پر کالا لباس پہننا یہ تاریخ اسلام میں ایک خاص خصوصیت رکھتا ہے۔ مؤرخان اور سیرت لکھنے والوں نے ان موارد کو ذکر کیا ہے:

امام سجاد(ع) اور عورتوں کا شام میں کالا لباس پہننا:

شام مسجد دمشق میں جب امام سجاد کا تاریخی خطبہ ختم ہوا تو منھال نے عرض کیا اے فرزند رسول خدا آپ کا کیا حال ہے ؟

امام نے فرمایا:

كيف حال من اصبح وقد قتل ابوه وقلّ ناصره وينظر الى حرم من حوله اسارى فقد فقدوا الستر والغطاء وقد اعدموا الكافل والحمى، فما ترانى الاّ اسيراً ذليلا قدعدمت الناصر والكفيل قد كسيت انا واهل بيتى ثياب الأسى وقد حرمت علينا جديد العرى.

اس کا کیا حال پوچھتے ہو جس کے والد کو شھید کر دیا گیا ہو، جس کے مددگار کم ہوں، جس کے اھل و عیال اسیر و بے پردہ ہوں اور بے سرپرست ہوں۔ پس تم مجھے اس اسیری کی حالت میں دیکھ رہے ہو۔ میں نے اور میرے اہل بیت نے لباس عزاپہنا ہوا ہے اور نئے لباس پہننا ہمارا کام نہیں ہے۔

الحائري،‌ جعفر عباس،‌ (معاصر) بلاغة الإمام علي بن الحسين(ع) ص 93 ناشر: دار الحديث للطباعة والنشر،‌ ايران: قم المقدسة،‌ الطبعة الأولى 1425 - 1383ش

 بحار الأنوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار  ج‏4 19  باب 2 النصوص على الخصوص على إمامته و الوصية إليه و أنه دفع إليه الكتب و السلاح و غيرها و فيه بعض الدلائل و النكت .....  ص : 17

لفظ الاسی کا معنی لغت میں ایک چیز پر غم و حزن کرنا ہے۔ لھذا ثیاب الاسی روایت میں بمعنی غم و حزن کا لباس ہو گا۔ جیسا کہ یہ وہی حداد یا کالا لباس ہے جو غم کے مواقع پر پہنا جاتا ہے۔ یہ روایت بتا رہی ہے کہ امام سجاد(ع) اور باقی دوسرے اھل بیت نے شام میں کالا لباس پہنا تھا۔

خليل ابن احمد لغت شناس  لکھتا ہے کہ:

أسي: الأسى، مقصور: الحزن على الشي‏ء ..

الاسیکسی چیز پر حزن و غمگین ہونا ہے۔

الفراهيدي،‌ الخليل بن أحمد (متوفاي: 175هـ )، كتاب العين ج 7 ص 332 ،‌ تحقيق : د مهدي المخزومي/ د إبراهيم السامرائي، ناشر: مكتبة الهلال.

ایک دوسری روایت کے مطابق اہل بيت رسول خدا (ص) نے  شام میں‌ سات دن تک امام حسین(ع) کے لیے عزاداری کی اور کالے لباس پہنے:

فَلَمَّا أَصْبَحَ اسْتَدْعَى بِحَرَمِ رَسُولِ اللَّهِ صلي الله عليه وآله- فَقَالَ لَهُنَّ أَيُّمَا أَحَبُّ إِلَيْكُنَّ- الْمُقَامُ عِنْدِي أَوِ الرُّجُوعُ إِلَى الْمَدِينَةِ- وَلَكُمُ الْجَائِزَةُ السَّنِيَّةُ قَالُوا نُحِبُّ أَوَّلًا- أَنْ نَنُوحَ عَلَى الْحُسَيْنِ قَالَ افْعَلُوا مَا بَدَا لَكُمْ- ثُمَّ أُخْلِيَتْ لَهُنَّ الْحُجَرُ وَالْبُيُوتُ فِي دِمَشْقَ- وَلَمْ تَبْقَ هَاشِمِيَّةٌ وَلَا قُرَشِيَّةٌ- إِلَّا وَلَبِسَتِ السَّوَادَ عَلَى الْحُسَيْنِ- وَنَدَبُوهُ عَلَى مَا نُقِلَ سَبْعَةَ أَيَّام‏.

جب صبح ہوئی تو یزید نے اهل بيت رسول خدا (ص) کو اپنے پاس بلایا اور کہا: کیا آپ ادھر رہنا چاہتے ہیں یا مدینے واپس جانا چاہتے ہیں ؟ میں آپکو قیمتی چیزیں بھی ساتھ دوں گا۔ اھل بیت نے کہا ہم سب سے پہلے امام حسین(ع) پر نوحہ خوانی و عزاداری کرنا چاہتے ہیں۔ یزید نے کہا جو دل ہے کریں۔

پھر دمشق میں چند کمرے خالی کرائے گئے اور انھوں نے عزاداری کرنا شروع کی اور کوئی ہاشمی و قریشی عورت ایسی نہیں تھی جس نے امام حسین(ع) کے غم میں کالا لباس نہ پہنا ہو۔ انھوں نے سات دن تک وہاں عزاداری کی۔

المجلسي، محمد باقر (متوفاي 1111هـ)، بحار الأنوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار،ج 45 ص 196 تحقيق: محمد الباقر البهبودي، ناشر: مؤسسة الوفاء- بيروت - لبنان، الطبعة الثانية المصححة، 1403- 1983 م.

البحراني، الشيخ عبد الله متوفاي1130، العوالم ، الإمام الحسين (ع)، ص 422، تحقيق: مدرسة الإمام المهدي (ع، ناشر: مدرسة الإمام المهدي (عج)، قم، الطبع الأولى المحققة 1407 - 1365 ش

النوري، الميرزا حسين (متوفاي1320) مستدرك الوسائل ،  ج 3 ص 327، تحقيق : مؤسسة آل البيت عليهم السلام لإحياء التراث، ناشر : مؤسسة آل البيت عليهم السلام لإحياء التراث - بيروت – لبنان ،‌الطبعة الثانية: 1408– 1988

 

ہاشمی عورتوں کا مدینے میں کالا لباس پہننا:

جب اہل بيت امام حسين (ع)  كوفہ و شام  سے مدينہ رسول خدا (ص) واپس آئے تو  تمام  بنی هاشم  کی تمام عورتوں نے کالے لباس پہن کر عزاداری کی۔

نیچے والی روایت اسی مطلب کو بیان کر رہی ہے:

عن الحسن بن ظريف بن ناصح، عن أبيه، عن الحسين بن زيد، عن عمر بن علي بن الحسين، قال: لما قتل الحسين بن علي عليهما السلام لبسن نساء بني هاشم السواد والمسوح وكن لا يشتكين من حر ولا برد وكان علي بن الحسين عليهما السلام يعمل لهن الطعام للمأتم.

ابوحفص عمر، فرزند امام سجاد اور برادر امام باقر  کہتا ہے:

جب حسين بن على(عليهما السلام)  شهید ہوئے تو  زنان بنى‌هاشم کی تمام عورتوں نے کالے لباس پہن کر عزاداری کی۔  گرما و سرما کی ان کو کوئی پروا نہیں تھی اور میرے والد على بن الحسين(ع) ان کے لیے غذا تیار کرتے تھے۔

أحمد بن محمد بن خالد البرقي، (متوفاي274) المحاسن، ج2 ص420 ، تحقيق: السيد جلال الدين الحسيني، ناشر: دار الكتب الإسلامية،‌ طهران، الطبعة الأولي1330 ش

مصيبت امام حسين (ع) میں ام سلمہ کا کالا لباس پہننا:

     ام سلمہ از زنان مورد احترام رسول خدا تھی۔ یہ اہل بیت رسول سے محبت کرتی تھی اور خاص طور پر امام حسین(ع) سے زیادہ محبت کرتی تھی اور امام حسین(ع) بھی ان کو ماں کہہ کر پکارتے تھے۔

وأخرج الترمذي أن أم سلمة رأت النبي صلي الله عليه وآله باكيا وبرأسه ولحيته التراب فسألته فقال: (قتل الحسين آنفا)

ام سلمه نے  عصر عاشورا، رسول خدا (ص) کو  خواب  میں دیکھا اس  حال میں  كہ سر و صورت آن حضرت پر از خاک تھی. ام سلمہ نے  رسول خدا کی اس حالت کے بارے پریشان ہو کے  پوچھا تو آپ نے فرمایا:

ابھی ابھی حسين كو شھید کر دیا گیا ہے۔

الهيثمي، أبو العباس أحمد بن محمد بن علي ابن حجر الوفاة: 973هـ ، الصواعق المحرقة على أهل الرفض والضلال والزندقة، ج 2 ص 567 تحقيق: عبد الرحمن بن عبد الله التركي دار النشر: مؤسسة الرسالة - لبنان 1417هـ 1997م ، الطبعة : الأولى

عن ابى نعيم باسناده عن ام سلمه رضوان الله عليها انّها لمّا بلغها مقتل الامام الحسين بن على(عليهما السلام) اضربت قبة سوداء فى مسجد رسول الله(صلى الله عليه وآله) ولبست السواد.

اس مکرمہ بی بی نے شهادت امام حسين (ع) کے بعد مسجد نبوی میں کالا خيمہ لگایا اور خود بھی کالا لباس پہنا۔

 ادريس قرشى،عمادالدين، عيون الاخبار و فنون الآثار، ص 109،(طبع بيروت)

یہ امام حسین(ع) کے غم میں اھل بیت کے کالے کپڑے پہننے کے بارے میں چند نمونے ہیں۔ اس کے بعد بھی تاریخ میں شھادت کے مواقع پر کالا لباس پہننے کے بارے میں نقل ہوا ہے۔ کافی ساری مثالیں آئمہ کی زندگی اور غیبت کے زمانے میں کالا لباس پہننے کی موجود ہیں اور آج تک اھل بیت کے شیعوں اور پیروکاروں میں یہ سنت جاری ہے اور ہمیشہ باقی رہے گی۔

لھذا شیعہ مذھب میں کالا لباس پہننا یہ آئمہ کی سیرت و سنت عملی سے لیا گیا ہے۔

کالے لباس کا عزاداری کے لیے مناسب ہونا:

کالا رنگ کافی سارے خواص و آثار رکھنے کے علاوہ ایام غم و عزاداری کے لیے بھی مناسب ہے کیونکہ  غمگین انسان غم کی حالت میں ہے اور حالت غم و حزن کو کالے لباس میں اظھار کیا جا سکتا ہے۔ اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ پوری دنیا کے انسان غم کی حالت میں اسی رنگ سے استفادہ کرتے ہیں حتی انسان کے نزدیکی رشتے دار و دوست بھی کالے رنگ کا لباس پہن کر صاحب غم انسان سے اظھار غم و ہمدردی کرتے ہیں۔ وجہ یہی ہے کہ کالا رنگ ذاتی طور  پر حزن و غم آور ہے۔

امام صادق (ع) نے حنان بن سدير کے لیے بھی کالے رنگ کے خواص میں سے ایک غم و حزن کو شمار کیا ہے:

عَنْ حَنَانِ بْنِ سَدِيرٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام وَفِي رِجْلِي نَعْلٌ سَوْدَاءُ فَقَالَ يَا حَنَانُ مَا لَكَ وَلِلسَّوْدَاءِ أَ مَا عَلِمْتَ أَنَّ فِيهَا ثَلَاثَ خِصَالٍ تُضْعِفُ الْبَصَرَ وَتُرْخِي الذَّكَرَ وَتُورِثُ الْهَمَّ وَمَعَ ذَلِكَ مِنْ لِبَاسِ الْجَبَّارِينَ قَالَ فَقُلْتُ فَمَا أَلْبَسُ مِنَ النِّعَالِ قَالَ عَلَيْكَ بِالصَّفْرَاءِ فَإِنَّ فِيهَا ثَلَاثَ خِصَالٍ تَجْلُو الْبَصَرَ وَتَشُدُّ الذَّكَرَ وَتَدْرَأُ الْهَمَّ وَهِيَ مَعَ ذَلِكَ مِنْ لِبَاسِ النَّبِيِّينَ.

حنّان بن سدیر کہتا ہے کہ میں امام صادق(ع) کے پاس گیا اس حالت میں کہ میں نے کالے رنگ کے جوتے پہنے ہوئے تھے۔ امام نے فرمایا: اے حنان کیا ہوا ہے کہ تم نے کالے جوتے پہنے ہوئے ہیں ؟ کیا تم نہیں جانتے کہ کالا رنگ آنکھ کی بینائی و شھوت کو کم اور غم و حزن کا سبب بنتا ہے ؟ جبکہ زرد رنگ ان تینوں چیزوں کی تقویت کا سبب بنتا ہے۔

الكليني الرازي، أبي جعفر محمد بن يعقوب بن إسحاق (متوفاي328 هـ)، الأصول من الكافي، ج 6 ص 466 ناشر: اسلاميه‏، تهران‏، الطبعة الثانية،1362 هـ.ش.

امام صادق (ع) سے  روايت ہے کہ آپ نے  زراره سے فرمایا کہ:

قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام يَا زُرَارَةُ إِنَّ السَّمَاءَ بَكَتْ عَلَى الْحُسَيْنِ أَرْبَعِينَ صَبَاحاً بِالدَّمِ وَإِنَّ الْأَرْضَ بَكَتْ أَرْبَعِينَ‏ صَبَاحاً بِالسَّوَادِ وَإِنَّ الشَّمْسَ بَكَتْ أَرْبَعِينَ صَبَاحاً بِالْكُسُوفِ وَالْحُمْرَةِ وَإِنَّ الْجِبَالَ تَقَطَّعَتْ وَانْتَثَرَتْ وَإِنَّ الْبِحَارَ تَفَجَّرَتْ وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ بَكَتْ أَرْبَعِينَ صَبَاحاً عَلَى الْحُسَيْنِ وَمَا اخْتَضَبَتْ مِنَّا امْرَأَةٌ وَلَا ادَّهَنَتْ وَلَا اكْتَحَلَتْ وَلَا رَجَّلَتْ حَتَّى أَتَانَا رَأْسُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ لَعَنَهُ اللَّهُ.

امام صادق (ع) سے  روايت ہے کہ آپ نے  زراره سے فرمایا کہ: زمين و خورشيد نے 40 صبح و شام  سيدالشهداء (ع) پر ماتم و غم منایا اور گریہ کیا ہے۔ اھل بیت کی کسی خاتون نے اس مدت میں اپنے چہرے پر تیل نہیں ملا اور آنکھوں میں سرمہ نہیں لگایا اور بالوں میں کنگھی نہیں کی یہاں تک کہ ابن زیاد ملعون کا سر ہمارے لیے لایا گیا۔

  المجلسي، محمد باقر (متوفاي 1111هـ)، بحار الأنوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار،  ج: 45 ص : 207 تحقيق: محمد الباقر البهبودي، ناشر: مؤسسة الوفاء - بيروت - لبنان، الطبعة: الثانية المصححة، 1403 - 1983 م.

ایک دوسری  روايت امام صادق (ع) سے نقل ہوئی ہے جس میں آپ نے ان عورتوں کو کالا لباس پہننے کا حکم دیا ہے جن کے شوھر مر گئے ہیں اور ان کو  رنگا رنگ لباس پہننے سے منع کیا ہے:

وَعَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام أَنَّهُ قَالَ وَلَا تَلْبَسُ الْحَادُّ ثِيَاباً مُصَبَّغَةً وَلَا تَكْتَحِلُ وَلَا تَطَيَّبُ وَلَا تَتَزَيَّنُ حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا وَلَا بَأْسَ أَنْ تَلْبَسَ ثَوْباً مَصْبُوغاً بِسَوَادٍ.

امام صادق(ع) نے فرمایا کہ: جن عورتوں کے شوھر مر گئے ہیں وہ ایام عدت میں رنگا رنگ لباس نہ پہنیں، سرمہ، خوشبو اور زینت نہ کریں لیکن کالا لباس پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

النوري، الميرزا حسين (متوفاي1320) مستدرك الوسائل ، ج 15، ص 361 تحقيق : مؤسسة آل البيت عليهم السلام لإحياء التراث، ناشر : مؤسسة آل البيت عليهم السلام لإحياء التراث - بيروت – لبنان ،‌الطبعة الثانية: 1408 – 1988

الحادُّ والمُحِدُّ من النساء: التي تترك الزينة و الطيب؛ و قال ابن دريد: هي المرأَة التي تترك الزينة والطيب بعد زوجها للعدة.

لفظ (‌حاد) اس روايت میں  بمعنی  وہ عورت  ہے جس کا شوهر مر گیا ہو اور وہ مدت عدت وفات میں سرمہ، خوشبو اور زینت کو ترک کرے۔

الأفريقي المصري، محمد بن مكرم بن منظور (متوفاي711هـ)، لسان العرب،  ج3 ص 43 ماده (حد) ناشر: دار صادر- بيروت، الطبعة: الأولى.

یہ دو روايت بتا رہی ہیں کہ کالا رنگ علامت غم و حزن ہے۔

ان روايات کے مطابق کالے  رنگ اور عزاداری میں ایک رابطہ طبيعی و ذاتی  موجود ہے۔ اس رابطے منطقی و عاطفی کو نظر میں رکھتے ہوئے علم نفسیات کی رو سے کالا رنگ اگر ایک طرف سے علامت غم و حزن تو دوسری طرف سے مصائب اور غم کو کم اور آرام بخشنے والا بھی ہے۔ یہ رنگ غمگین انسان کو تسلی و آرامش کی دعوت دیتا ہے۔

حجتي ،  محمد امين،‌ معاصر،  اثرات تربيتي رنگ از نظر اسلام و روان شناسي، ص9 و ص58-59

فصل دوم

شیعہ فقھاء کے فتو ے:

ابھی تک ہم نے شیعوں کے ایام عزاداری میں کالا لباس پہننے کے علل و اسباب کو بیان کیا۔ اب بہتر ہو گا کہ ہم اس بارے میں فقھی لحاظ سے بحث کریں اور کالے لباس پہننے کے بارے میں فقھاء کے اقوال کو بھی بیان کریں۔

ان مطالب کو ہم دو فصل میں بیان کریں کے:

فصل اول

کالا لباس پہننے کے مستحب ہونے کے بارے میں شیعہ فقھاء  کے فتوے:

شیعہ فقھاء نے روایات شیعہ کے مطابق ایام عزاداری میں کالا لباس پہننے کو جائز و مستحب قرار دیا ہے۔ اس استحباب کو انھوں نے کبھی فتوے، کبھی اپنے وصیت نامے اور اکثر نے عملی طور پر انجام دے کر بتایا اور دکھایا ہے۔

فتوے بیان کرنے سے پہلے یہ اس بات کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے کہ اس استحباب کو فقھاء نے ان روایات کے بارے میں کہ جو کالا لباس پہننے سے منع کرتی ہیں یا مکروہ قرار دیتی ہیں، تحقیق و دقت کر کے بیان و ذکر کیا ہے۔ اسی وجہ سے فقھاء کے اقوال کو نقل کرتے وقت <من ھذہ الاخبار > کی عبارت ذکر ہوئی ہے۔

اب فقھاء کے اقوال کی طرف توجہ فرمائیں:

1.              مرحوم صاحب حدائق(رح)

اس فقیہ نے کالے لباس کو نماز میں پہننے کے مکروہ ثابت کرنے کے بعد اس طرح کہا ہے کہ:

ثم أقول: لايبعد استثناء لبس السواد في مأتم الحسين (عليه السلام) من هذه الأخبار لما استفاضت به الأخبار من الأمر باظهار شعائر الأحزان.

بعید نہیں ہے کہ کالا لباس امام حسین(ع) کی عزاداری میں پہننا روایات مستفیضہ کی خاطر غم و حزن کے شعار کو ظاہر کرنے کے لیے قائل عدم کراھت ہوں۔یعنی کالا لباس عزاداری کے لیے پہننا مکروہ نہیں ہے۔

البحراني،‌ الشيخ يوسف بن أحمد ابن إبراهيم، متوفاى( 118 هـ)، الحدائق الناضرة في أحكام العترة الطاهرة،‌ج7 ص116،‌ تحقيق: محمد تقي الإيرواني، ناشر: مؤسسة النشر الاسلا مى‌لجماعة المدرسين ، قم.

آخر میں اپنے کلام کے لیے روایات کو سند کے طور پر لاتے ہیں۔ تمام فقھاء نے اپنی فقھی کتب میں مرحوم بحرانی کے کلام کی طرف اشارہ کیا ہے۔

مرحوم آيت الله العظمی ميرزا جواد تبريزی سے مرحوم بحرانی کی نظر عزاداری امام حسين (ع) میں کالا لباس پہننے کے مستحب ہونے کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے بھی مرحوم بحرانی کی نظر کی تایید کی ہے اور امام حسین و اھل بیت(ع) کی عزاداری میں کالے لباس کے پہننے کو علامت غم و حزن قرار دیا ہے اور کالا لباس پہننا روایات کی روشنی میں مستحب ہے:

 سؤال:

 هل ترون ما ذهب إليه صاحب الحدائق من أن لبس السواد في عزاء سيد الشهداء وبقية الأئمة عليهم السلام، راجح شرعا؟

 جواب: ما ذهب إليه صاحب الحدائق قدس سره صحيح، فإن لبس السواد من مظاهر الحزن على ما أصاب سيد الشهداء وأهل بيته وأصحابه، وكذا سائر الأئمة عليهم السلام، وإظهار الحزن في مصائبهم مندوب شرعا، للنصوص الكثيرة وفيها الصحيح، والله العالم۔

سوال: کیا آپ کی نظر میں کالا لباس پہننا امام حسین و دوسرے آئمہ(ع) کی عزاداری میں مستحب ہے ؟ جیسے کہ مرحوم صاحب حدائق کی بھی یہی نظر ہے۔

جواب: مرحوم صاحب حدائق نظر ٹھیک ہے کیونکہ امام حسین و اھل بیت(ع) کی عزاداری میں کالا لباس  پہننا علامت غم و حزن قرار دیتے ہوئے، یہ کام بہت سی روایات کی رو سے کہ ان میں روایت صحیح بھی موجود ہے، شرعی طور پر مستحب ہے۔

العاملي، (معاصر) الانتصار ج 9 ص 247 ناشر: دار السيرة، بيروت، لبنان الطبعه الأولى 1422

2.              علامہ سيد محمد جعفر طباطبائى حائرى (رح)

یہ بزرگوار اپنی نظر بیان کرنے کے بعد کہ امام حسین(ع) کی عزاداری میں کالا لباس پہننا مستحب ہے، اس استحباب پر دو دلیل بھی بیان کر رہے ہیں:

ا.  سكوت و تأييد امام سجاد (ع):

جب ہاشمی خواتین نے امام سجاد کے سامنے امام حسین(ع) کی عزاداری پر نوحہ و ماتم کیا اور کالا لباس پہنا تو امام سجاد(ع) نے اپنے سکوت اور ان کو اس کام سے منع نہ کر کے، ان کے اس کام کی تایید کی ہے اور اگر یہ کام مکروہ یا جائز نہ ہوتا تو لازمی طور پر ان کو اس کام سے منع کرتے تو ان خواتین پر بعنوان امام زمان امام سجاد(ع) ان کی اطاعت و عمل کرنا واجب ہوتا۔

پس سکوت امام معصوم دلیل بر جواز و استحباب ہے کالا لباس پہننے پر۔ خاص طور پر ان بنی ہاشم کی خواتین میں بی بی زینب(س) ہیں کہ جہنوں نے خود کالا لباس پہنا ہوا تھا اور امام معصوم کے بعد مھم ترین فرد تھیں امام حسین(ع) کی عزاداری کرنے والوں میں۔

ب.  عزاداری کا مستحب ہونا:

اس وجہ سے کہ امام حسین(ع) پر عزاداری کرنا شعار دین اور ایسا مستحب ہے کہ جس پر بہت ہی ثواب ملتا ہے،اس عزاداری میں کالا لباس پہننا کہ علامت غم و حزن ہے خود بخود استحباب ہونے کی شکل اختیار کر لے گا جیسا کہ بہت ہی قدیم زمانے سے لے کر آج تک کالا لباس پہننا علامت و شعار غم و حزن ہے۔

وجه الدلالة على الاستحباب هو لبسهن ذلك بمحضره عليه السلام وعدم منعهن عن لبسه وأمرهن بغيره من مراسم العزاء وخصوصاً بعد وجود مثل الصديقة الصغرى زينب الكبرى عليها السلام الذى لا يقصر فعلها عن فعل المعصوم لكونها تالية له في المقامات العالية والدرجات السامية.

 كما يدل له انه شعار الحزن والعزاء على المفقود العزيز الجليل من قديم الزمان وسالف العصر والاوان: وكما هو المرسوم اليوم في جميع نقاط العالم.

 الطباطبائي الحائري،‌ السيد ميرزا جعفر حفيد صاحب الرياض قدهما (المتوفى سنة 1321هـ‍) ارشاد العباد إلى استحباب لبس السواد على سيد الشهداء والأئمة الأمجاد عليهم السلام ص 28،‌ ص،‌ مصحح: السيد محمد رضا الحسيني الأعرجي الفحام.

یہی ایک دوسری جگہ پر اپنے والد محترم(حاج ميرزا علامہ سيد علی نقی طباطبائی) کے عمل کو اس طرح بیان کر رہے ہیں:

میرے والد  حیات کے آخری ایام میں ہمیشہ کالے لباس اور امام حسین(ع) پر گریہ کرنے کی حالت میں فتوے کے علاوہ عملی طور پر بھی نظر آتے تھے۔

وكان والدي العلامة أعلى الله مقامه في أواخر أمره وعمره يرى حسن التلبس بهذا اللباس في أيام مأتم مولانا الحسين (ع) المعودة وندبيته فتوى وعملا إلى أن انتقل إلى رحمة الله.

الطباطبائي الحائري ،‌ السيد ميرزا جعفر حفيد صاحب الرياض قدهما ، (المتوفى سنة 1321ه‍) ارشاد العباد إلى استحباب لبس السواد على سيد الشهداء والأئمة الأمجاد عليهم السلام ص 54،‌ مصحح: السيد محمد رضا الحسيني الأعرجي الفحام.

3. علامہ شيخ محمد حسين كاظمينى (ره) معروف بہ محقق كاظمى

وہ لکھتے ہیں کہ:

وفى استثناء لبسه فى مأتم الحسين (عليه السلام) ونحوه وجهٌ غير بعيد كما فى حدائق لما دلّ على اظهار شعائر الحزن عليه (عليه السلام) ولما روى من لبس نساء بنى هاشم السواد ولم يغيّرنها فى حرّ او برد وكان زين العابدين (عليه السلام) يصنع لهن الطعام فى المأتم ولم ينكره (عليه السلام) عليهن.

امام حسین(ع) کی عزاداری میں کالا لباس پہننا بعید نہیں ہے کہ یہ کراھت سے مستثنی ہو جیسا کہ کتاب حدائق میں بھی استثناء ہوا ہے۔ اس استثناء پر دلیل وہ روایات ہیں کہ جو امام کی عزاداری میں  شعار و علامت غم کے اظھار پر دلالت کرتی ہیں۔

دوسری دلیل بنی ہاشم کی خواتین کے بارے میں ہے کہ انھوں نے غم و حزن کی حالت میں سرما اور گرما میں کالے کپڑوں کو نہیں اتارا تھا اور امام سجاد(ع) نے بھی ان کو اس کام سے منع نہیں کیا بلکہ امام ان کے لیے کھانا پکایا کرتے تھے۔

كاظمينى،‌ محمد حسين،  متوفى 1308هـ ،‌ هداية الأنام فى شرح شرايع الأسلام،‌ ص 454،‌ طبع نجف 1330هـ

3.              ميرزا حسين نوری  صاحب مستدرك الوسائل (رح)

    محدث فقيہ مرحوم ميرزای نوری مستدرك الوسائل میں وہ روایات اور روایت محاسن برقی جو کالے لباس کے مکروہ ہونے پر دلالت کرتی ہیں،نقل کرنے کے بعد اپنی نظر مستحب ہونے کو اس طرح بیان کرتے ہیں:

قلت: وفي هذه الأخبار، والقصص، إشارة أو دلالة على عدم كراهة لبس السواد، أو رجحانه حزنا على أبي عبد الله (عليه السلام)، كما عليه سيرة كثير في أيام حزنه ومأتمه.

ان روایات اور قصوں میں اشارہ یا دلالت ہے کہ امام حسین(ع) کی عزاداری میں کالا لباس پہننا مکروہ نہیں ہے بلکہ مستحب ہے جیسا کہ کافی سارے علماء و فقھاء کی سیرت بھی اسی پر ہے۔

 النوري، الميرزا حسين (متوفاي1320)، مستدرك الوسائل ج3ص 328 تحقيق و الناشر: مؤسسة آل البيت عليهم السلام لإحياء التراث، بيروت، لبنان ،‌الطبعة الثانية: 1408 - 1988 م

5. آيت الله العظمی سيستانی(مد ظله العالی)

كتاب استفتائات آيت الله العظمی سيستانی میں آیا ہے کہ:

السؤال:

ما هو رأيكم في لبس السواد في عزاء خامس أصحاب الكساء؟

الجواب: لبس السواد في عزاء سيد الشهداء [روحي فداه] أمر مطلوب.

سوال:

آپ کی نظر امام حسین(ع) کی عزاداری میں کالا لباس پہننے کا  کیا  حکم ہے ؟

جواب: امام حسین(ع) کی عزاداری میں کالا لباس پہننا اچھا و نیک کام ہے۔

استفتاءات (فتاواى مراجع) السيد السيستاني ص 192

6. آيت الله العظمى‌ميرزا جواد تبريزي (ره)

 سؤال:

يرجى من سماحتكم بيان رأيكم في هذه المسألة التي أخذت منحى خطيرا في الكويت بعد مسألة مظلومية الزهراء عليه السلام والتي لا تخفى عليكم، والمسألة هي: ما هو رأيكم المبارك في لبس السواد، واللطم على الصدور أثناء إحياء مراسيم العزاء لسيد الشهداء عليه السلام في شهر محرم الحرام، ولباقي الأئمة الأطهار عليهم السلام؟

سؤال: آپ کی نظر امام حسین(ع) کی عزاداری میں کالا لباس پہننے، سینہ زنی ایام محرم  اور باقی آئمہ(ع) کے ایام عزا میں کرنے کے بارے میں کیا ہے ؟

 

جواب:

 لا إشكال ولا ريب ولا خلاف بين الشيعة الإمامية في أن اللطم ولبس السواد من شعائر أهل البيت عليهم السلام، ومن المصاديق الجلية للآية: ذلك ومن يعظم شعائر الله فإنها من تقوى القلوب.

 كما أنها من مظاهر الجزع الذي دلت النصوص الكثيرة على رجحانه في مصائب اهل البيت ومآتمهم. ومن يحاول تضعيف هذه الشعائر أو التقليل من أهميتها بين شباب الشيعة، فهو من الآثمين في حق أهل البيت عليهم السلام، ومن المسؤولين يوم القيامة عما اقترفه في تضليل الناس عن مظالم الأئمة عليهم السلام. ثبت الله المؤمنين على الإيمان والولاية. والله الهادي إلى سواء السبيل.

جواب:‌ بے شک شیعہ میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ سينه زنی، کالا لباس پہننا یہ شعائر اہل بیت(ع) میں سے ہے اور قرآن کی آیت بھی ہے کہ: جو بھی شعائر الھی کا احترام و تعظیم کرے یہ علامت ہے دلوں کے متقی ہونے کی۔

جیسا کہ یہ کام مظھر جزع در عزاداری و مصائب اھل بیت(ع) ہے کہ بہت سی روایات اس کے مستحب ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔جو بھی ان مراسم کو معاشرے میں یا جوانوں کے درمیان ضعیف یا کم رنگ کرنے کی کوشش کرے گا تو وہ اھل بیت کے حق میں ظلم کرنے والا شمار ہو گا۔ ایسے شخص سے خداوند قیامت والے دن سوال و حساب کرے گا۔ خداوند مؤمنین کو اہل بیت پر ایمان اور ان کی ولایت میں ثابت قدم رکھے اور خداوند صراط مستقیم کی طرف ھدایت کرنے والا ہے۔

الشيخ الكوراني العاملي، (معاصر) الانتصار ، ج 9 ص 247 ناشر: دار السيرة، بيروت، لبنان الطبعه الأولى 1422  

7. وصيت نامہ آيت الله العظمی مرعشی نجفی(ره)

وہ اپنے وصیت نامے میں اس طرح لکھتے ہیں کہ:

میں وصیت کرتا ہوں اپنے بیٹے کو کہ میرا وہ لباس جو میں رسول خدا(ص) کے اہل بیت کے غم و عزاداری کے موقع پر محرم و صفر کے مہینے میں پہنتا تھا، میرے ساتھ قبر میں دفن کرے۔

رفيعى،‌ على،‌ «علاء مرودشتى» شهاب شريعت; درنگى در زندگى حضرت آية الله العظمى مرعشى نجفى(ره)، ص 366 ، (طبع كتابخانه عمومى حضرت آية الله العظمى مرعشى، قم1373ش)

ان فقھاء کے علاوہ بعض دوسرے فقھاء نے بھی امام حسین(ع) کی عزاداری میں کالا لباس پہننے کو مستحب قرار دیا ہے۔ ان میں سے بعض کے اسماء ذیل میں ذکر ہو رہے ہیں:

مرحوم فاضل دربندی در كتاب اسرار الشهاده ص 60

سيد اسماعيل عقيلی نوری وسيلۃ                    ‌ المعاد في شرح نجاة العباد ج 2 ص 170، 

شيخ زين العابدين مازندرانی ذخيرة المعاد ص 620

علامه سيد حسن صدر كتاب تبيين الرشاد في لبس السواد على الأئمة الأمجاد

 اور شيخ أبو الفضل تهرانی شفاء الصدر ص 324

یہ فتوے تھے اور عملی طور پر بھی  علماء و فقھاء زمان گذشتہ و حال ایام عزاداری میں کالا لباس پہنتے ہیں۔

نتیجہ:

بزرگان فقهاء کے اقوال و فتاوی کی روشنی میں مندرجہ ذیل ‌ امور کا شرعی و مستحب ہونا ایام محرم میں ثابت ہو جاتا ہے:

1.               کالے لباس کے پہننے کا مستحب ہونا۔

2.               مجالس عزاداری کے برپا کرنے کا مستحب ہونا۔

3.               لنگر ، نذر  و نیاز عزاداروں کو دینے کا مستحب ہونا۔

4.               مجالس عزاداری میں خدمت گذاری کا مستحب ہونا۔

 فصل دوم

نماز میں کالے لباس کے پہننے کے مکروہ ہونے کے بارے فقھاء کے فتوے:

کالے لباس کے بارے میں وھابیت کے شبھات میں سے ہے کہ بعض روایات شیعہ میں آیا ہے کہ کالا لباس پہننا منع ہے۔ مرحوم شيخ صدوق (رح) نے باب 56 علل الشرائع میں ان روایات کو ذکر کیا ہے۔

پس ان روایات کے مطابق لباس میں اس رنگ سے استفادہ کرنا شیعہ کی نظر میں حرام ہے۔

اس دعوی کے جواب کے لے ضروری ہے کہ ہم فقھاء کے فتاوی پر غور و تحقیق کریں۔ مذھب شیعہ میں ایک چیز کا واجب، حرام،مکروہ اور مستحب ہونا یہ فقھاء اور مجتھد کہ جو احکام دین میں ماہر اور کامل آشنائی رکھتے ہیں، کے اجتھاد اور استنباط سے وابستہ ہے۔ لھذا اگر ایک فقیہ و مجتھد ادلہ اربعہ کی روشنی میں ایک مسئلہ کا حکم وجوب مثلا استنباط کرتا ہے تو یہ حکم و فتوی اس فقیہ کے مقلدین کے لیے حجت ہو گا۔

اس مطلب پر توجہ کرتے ہوئے مورد بحث روایات میں فقھاء نے زمان قدیم سے لے کر آج تک مکروہ ہونے کو استنباط کیا ہے (نہ حرام ہونے کو) اور وہ بھی فقط نماز میں کالے لباس کے ساتھ(عمامہ و عباء کے علاوہ) مکروہ ہے در حالیکہ اشکال کرنے والے نے لفظ < حرمت > کو استعمال کیا ہے۔

فقھاء کے اقوال کو ذکر کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ ان روایات کو ذکر کیا جائے جن کو اشکال کرنے والے نے ذکر کیا ہے تا کہ اشکال اور اس کا جواب زیادہ واضح ہو جائے۔

تقسیم روایات

نماز میں کالے لباس کے مکروہ ہونے کے بارے میں روایات کے دو گروہ ہیں:

گروہ اول:  وہ روايات جو کالے لباس کو نماز میں مکروہ قرار دیتی ہیں:

1.              وَ رُوِيَ لَا تُصَلِّ فِي ثَوْبٍ أَسْوَدَ فَأَمَّا الْخُفُّ أَوِ الْكِسَاءُ أَوِ الْعِمَامَةُ فَلَا بَأْس.

کالے لباس میں نماز نہ پڑھو لیکن اگر جوتے، عباء (چادر) اور عمامہ کالے ہوں تو کوئی حرج نہیں ہے۔

الكليني الرازي، أبي جعفر محمد بن يعقوب بن إسحاق (متوفاي328 هـ)، الكافي، ج: 3 ص: 403  ناشر: اسلاميه‏، تهران‏، الطبعة الثانية،1362 هـ.ش.

2.              عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ مُحَسِّنِ بْنِ أَحْمَدَ عَمَّنْ ذَكَرَهُ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ قُلْتُ لَهُ أُصَلِّي فِي الْقَلَنْسُوَةِ السَّوْدَاءِ فَقَالَ لَا تُصَلِّ فِيهَا فَإِنَّهَا لِبَاسُ أَهْلِ النَّارِ.

راوی کہتا ہے: امام صادق(ع) سے پوچھا کہ کیا میں کالی ٹوپی میں نماز پڑھ سکتا ہوں ؟ فرمایا: اس میں نماز نہ پڑھو کیونکہ یہ اہل جھنم کا لباس ہے۔

الكليني الرازي، أبي جعفر محمد بن يعقوب بن إسحاق (متوفاي328 هـ)، الكافي، ج: 3 ص: 403  ناشر: اسلاميه‏، تهران‏، الطبعة الثانية،1362 هـ.ش.

الطوسي، الشيخ ابوجعفر، محمد بن الحسن بن علي بن الحسن (متوفاي460هـ)، تهذيب الأحكام، ج : 2 ص : 213،  تحقيق : السيد حسن الموسوي الخرسان ، ناشر : دار الكتب الإسلامية ـ طهران ، الطبعة الرابعة،‌1365 ش .

یہی روايت ایک دوسری  سند کے ساتھ اس طرح بھی نقل ہوئی ہے:

3. أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْعَطَّارُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ عَنْ سَهْلِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ قُلْتُ لَهُ أُصَلِّي فِي قَلَنْسُوَةِ السَّوْدَاءِ قَالَ لَا تُصَلِّ فِيهَا فَإِنَّهَا لِبَاسُ أَهْلِ النَّارِ.

الصدوق، ابوجعفر محمد بن علي بن الحسين (متوفاي381هـ)، علل الشرائع ج‏2 / 348  ناشر: داوري،‌ قم،‌ چاپ اول

یہ روایات کیونکہ سند کے لحاظ سے مرفوع و مرسل ہیں اس لیے قابل استناد نہیں ہیں۔

گروہ دوم :  وہ روايات  جو کلی(نماز و غیر نماز) طور پر کالے لباس کے مکروہ ہونے پر دلالت کرتی ہیں :

1.               عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْيَقْطِينِيِّ عَنِ الْقَاسِمِ‏ بْنِ يَحْيَى عَنْ جَدِّهِ الْحَسَنِ بْنِ رَاشِدٍ عَنْ أَبِي بَصِيرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام قَالَ فِيمَا عَلَّمَ أَصْحَابَهُ لَا تَلْبَسُوا السَّوَادَ فَإِنَّهُ لِبَاسُ فِرْعَوْنَ.‏

امام صادق(ع) سے روایت ہے کہ: وہ چیز کہ جو امیر المؤمنین علی(ع) نے اپنے اصحاب کو تعلیم دی ہے، یہ ہے کہ کالا لباس نہ پہنو کیونکہ یہ فرعون کا لباس ہے۔

الصدوق، ابوجعفر محمد بن علي بن الحسين (متوفاي381هـ)، علل الشرائع ج‏2 / 348   ناشر: داوري،‌ قم،‌ چاپ اول.

یہی روایت بغیر سند کے بھی نقل ہوئی ہے:

وَ قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام فِيمَا عَلَّمَ أَصْحَابَهُ لَا تَلْبَسُوا السَّوَادَ فَإِنَّهُ لِبَاسُ فِرْعَوْنَ .

الشيخ الصدوق ، أبي جعفر محمد بن علي بن الحسين بن بابويه القمي (المتوفى سنه 381 )،  من لا يحضره الفقيه ،ج : 1 ص : 251 ، تصحيح و تعليق: علي أكبر الغفاري ، الناشر: جماعة المدرسين في الحوزة العلمية ـ قم، الطبعة الثانية

2.  مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ عَنْ عِدَّةٍ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ رَفَعَهُ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ يُكْرَهُ السَّوَادُ إِلَّا فِي ثَلَاثَةٍ الْخُفِّ وَ الْعِمَامَةِ وَ الْكِسَاءِ.

امام صادق (ع) نے فرمایا کہ: کالا لباس پہننا مکروہ ہے مگر تین چیزیں مکروہ نہیں ہیں: عمامہ، جوتے اور عباء۔

الطوسي، الشيخ ابوجعفر، محمد بن الحسن بن علي بن الحسن (متوفاي460هـ)، تهذيب الأحكام، ج : 2 ص : 213،  تحقيق : السيد حسن الموسوي الخرسان ، ناشر : دار الكتب الإسلامية ـ طهران ، الطبعة الرابعة،‌1365 ش .

3. عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ رَفَعَهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلي الله عليه وآله يَكْرَهُ السَّوَادَ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ الْخُفِّ وَ الْعِمَامَةِ وَ الْكِسَاء.

الكليني الرازي، أبو جعفر محمد بن يعقوب بن إسحاق (متوفاي328 هـ)، الأصول من الكافي،  ج : 6 ص : 449، ناشر: اسلاميه‏، تهران‏، الطبعة الثانية،1362 هـ.ش.

اس گروہ میں پہلی روایت صحیح ہے اور سند کے لحاظ سے اس میں کوئی اشکال نہیں ہے لیکن دوسری و تیسری روایت مرفوع ہیں۔

 ایک اور روايت معتبر جو سكونی کی ہے اور ظاہری طور پر مطلق ہے:

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الصَّفَّارُ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ مَعْرُوفٍ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ يَزِيدَ النَّوْفَلِيِّ عَنِ السَّكُونِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: أَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى نَبِيٍّ مِنْ أَنْبِيَائِهِ قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ لَا تَلْبَسُوا لِبَاسَ أَعْدَائِي وَلَا تَطْعَمُوا طَعَامَ أَعْدَائِي وَلَا تَسْلُكُوا مَسَالِكَ أَعْدَائِي فَتَكُونُوا أَعْدَائِي كَمَا هُمْ أَعْدَائِي.

محمّد بن الحسن نے محمّد بن الحسن الصفّار سے اور  عبّاس بن معروف نے  حسين بن يزيد نوفلى سے  اور سكونى نے امام صادق(ع)  سے  کیا ہے کہ :

خداوند نے اپنے ایک پیغمبر پر  وحی نازل کی کہ مؤمنین سے کہے کہ: میرے دشمنوں کا لباس نہ پہنیں، میرے دشمنوں کا کھانا نہ کھائیں اور میرے دشمنوں کی راہ پر نہ چلیں۔ اگر ایسا کرو گے تو تم بھی میرے دشمن ہو جاؤ گے جیسا کہ وہ میرے دشمن ہیں۔

الصدوق، ابوجعفر محمد بن علي بن الحسين (متوفاي381هـ)، علل الشرائع ج‏2 ص 348  ناشر: داوري،‌ قم،‌ چاپ اول.

لیکن فقيه         مرحوم آيت الله العظمی ميرزا جواد تبريزی لکھتے ہیں کہ اس روات کا ایک اور معنی ہے:

ونحن نلتزم بمضمون هذه الروايات فنقول: إن اللباس إذا اختص به أعداء الدين فلا يجوز لبسه، مثل القبعة التي يختص بلبسها اليهود. ولكن لباس السواد لم يثبت اختصاص لبسه بأعداء الدين، نعم يمكن ثبوت الإختصاص بخصوص (اللبادة السوداء) فإن لبسها من مختصات علماء اليهود والنصارى، وإذا ثبت ذلك فيها فلبسها حرام .

یہ روایت کہتی ہے کہ وہ لباس جو میرے دشمنوں کا خاص لباس ہے وہ تم نہ پہنو۔ جیسے وہ ٹوپی کہ جو فقط یھودی پہنتے ہیں۔ لیکن یہ ثابت نہیں ہوا کہ کالا لباس خداوند کے دشمنوں کا خاص لباس ہے۔ پس اگر ایک لباس خداوند کے دشمنوں کا خاص لباس شمار ہوتا ہو تو وہ پہننا حرام ہو گا نہ ہر طرح کا لباس۔

العاملي، (معاصر) الانتصار  ج 9 ص 253، ناشر: دار السيرة، بيروت، لبنان الطبعه الأولى 1422

پس اس روایت کو گروہ دوم میں قرار نہیں دیا جا سکتا کہ اس سے کالے لباس کے مکروہ ہونے کو ثابت کیا جا سکے۔ پس اس گروہ میں فقط پہلی روایت بچ جائے گی۔

کالے لباس کے نماز میں مکروہ ہونے والی روایت سے فقھاء کا آخری نتیجہ نکالنا:

بہت سے فقھاء نے اپنی کتب فقھی میں ایک باب بعنوان مکروھات الصلاۃ ذکر کیا ہے اور اوپر مذکورہ روایات کی روشنی میں ان مکروھات میں سے ایک نماز میں کالے لباس کو پہننا بھی شمار کیا ہے۔

1. شيخ طوسی:

مرحوم شيخ طوسی نے كتاب ‌الخلاف‌ مسأله 247 میں روايات کی طرف اشارہ کیے بغیر  دليل كراہت کو  فرقے کا اجماع اور احتياط ذكر كیا ہے:

 تكره الصلاة في الثياب السود. وخالف جميع الفقهاء في ذلك. دليلنا: إجماع الفرقة وطريقة الاحتياط.

نماز میں کالا لباس پہننا مکروہ ہے اور اس مسئلے میں تمام علماء عامہ نے مخالفت کی ہے۔ ہماری دلیل اس کراہت پر اجماع اور راہ احتیاط ہے۔

الطوسي، أبي جعفر محمد بن الحسن متوفاي(460 هـ) الخلاف، ج1/ 506، التحقيق: جماعة من المحققين، ناشر: مؤسسة النشر الإسلا مى‌التابعة لجماعة المدرسين ،قم 1407 هـ‍

2. محقق حلی:

وتكره الصلاة في الثياب السود خلا العمامة، والخف قاله الأصحاب: روي عن النبي صلى الله عليه وآله أنه قال: (البسوا من ثيابكم البياض فإنها من خير ثيابكم) وأمره عليه السلام بهذا اللون يدل على اختصاصه بالمصلحة الراجحة فيكون ما يضاده غير مشارك في المصلحة، وأشد الألوان مضادة للبياض السواد.

 ويؤيد ذلك من طريق الأصحاب، ما رواه أحمد بن محمد بن رفعه عن أبي عبد الله عليه السلام قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلي الله عليه وآله يَكْرَهُ السَّوَادَ إِلَّا فِي ثَلَاثَةٍ الْعِمَامَةِ وَ الْخُفِّ وَ الْكِسَاءِ.

نماز میں کالا لباس پہننا مکروہ ہے مگر عمامہ اور کالے جوتے۔ یہ قول فقھاء امامیہ کا ہے۔ رسول خدا(ص) سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ: سفید لباس پہنا کرو کہ یہ تمہارے لیے بہترین لباس ہے۔ رسول خدا کے سفید لباس پہننے کا حکم بتاتا ہے کہ اس میں ایک مصلحت ہے پس اس رنگ کی ضد یعنی کالا رنگ اس میں یہ والی مصلحت نہیں ہے اور شدید ترین رنگ جو سفید رنگ کے ساتھ ضد رکھتا ہے وہ کالا رنگ ہے۔

اس کراہت والے قول کی تایید ایک روایت کرتی ہے جو احمد بن محمد نے امام صادق(ع) سے نقل کی ہے کہ امام نے فرمایا کہ: رسول خدا(ص) کالے رنگ کو پسند نہیں کرتے تھے مگر تین چیزوں میں: کالا عمامہ، کالے جوتے اور کالی عباء۔

المحقق الحلي ، أبو القاسم نجم الدين جعفر بن الحسن (متوفاي: 676)، المعتبر، ج 2 ص 94،  تحقيق وتصحيح: عدة من الأفاضل / إشراف: ناصر مكارم شيرازي، ناشر: مؤسسة سيد الشهداء (ع)– قم

3. شهيد اول:

الثالثة: تكره الصلاة في الثياب السود، لما رواه الكليني عمن رفعه إلى أبي عبد الله عليه السلام: «يكره السواد الا في ثلاثة: الخف، والعمامة، والكساء». وفي مرفوع آخر إليه عليه السلام في القلنسوة السوداء: لا تصل فيها، فإنها لباس أهل النار.

وروي عن النبي صلى الله عليه وآله: «البسوا من ثيابكم البياض، فإنها من خير ثيابكم» وفيه دلالة على أفضلية البيض للمصلحة، فاالمضاد لا يشاركها في المصلحة.

مسئلہ سوم: نماز کالے لباس میں مکروہ ہے۔ دلیل وہ روایت ہے جس کو مرحوم کلینی نے امام صادق(ع) سے نقل کیا ہے کہ امام نے فرمایا کہ: رسول خدا(ص) کالے رنگ کو پسند نہیں کرتے تھے مگر تین چیزوں میں: کالا عمامہ، کالے جوتے اور کالی عباء۔

 دوسری روايت  ہے کہ امام صادق(ع) نے کالی ٹوپی کو نماز میں پہننے کے بارے میں فرمایا کہ: اس کے ساتھ نماز نہ پڑھو کیونکہ وہ اہل جھنم کا لباس ہے۔

رسول خدا (ص) سے  روايت نقل ہوئی ہے کہ: آپ نے فرمایا کہ سفید لباس پہنا کرو کہ یہ تمہارے لیے بہترین لباس ہے۔ سفید رنگ میں ایک مصلحت ہے کہ جو اس رنگ کی ضد یعنی کالے رنگ  میں یہ والی مصلحت نہیں ہے۔

العاملي الجزيني ،  محمد بن جمال الدين مكي ، معروف به شهيد اول، (متوفاي : 734 - 786 ه‍ ق ) ذكرى الشيعة في أحكام الشريعة،ج 3 ص 55، تحقيق: مؤسسة آل البيت عليهم السلام لإحياء التراث، الطبعة : الأولى، 1419 ه‍

3.              سيد علی طباطبائی:

واضح ترین عبارت مورد بحث روایات میں سید علی طباطبائی کی ہے:

 (وتكره) الصلاة (في الثياب السود ما عدا العمامة والخف) والكساء، لاطلاق المستفيضة بكراهة لبسها، عدا المستثنيات الثلاثة، مع تصريح جملة من النصوص بكراهة الصلاة في خصوص القلنسوة، معللة بأنها لباس أهل النار، والتعليل عام لا يخص المورد كما يستفاد من النصوص. مضافا إلى عموم المرسل: لا تصل في ثوب أسود، فأما الخف والكساء والعمامة فلا بأس.

نماز  کالے لباس میں مکروہ لے مگر تین چیزوں میں: کالا عمامہ، کالے جوتے اور کالی عباء۔ دلیل وہ روایات مستفیضہ ہیں جو مطلق طور پر کالے لباس کے پہننے کے بارے میں ہیں۔ بعض روایات تصریح کرتی ہیں کہ کالی ٹوپی کے ساتھ نماز مکروہ ہے دلیل یہ ہے کہ یہ اہل جھنم کا لباس ہے اور یہ علت اس مورد کے ساتھ خاص نہیں بلکہ عام ہے جو کالے لباس کو بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ دوسری روایات ہیں جو نماز کے بارے میں ہیں کہ: کالے لباس میں نماز نہ پڑھو لیکن کالے عمامے، کالی عباء اور کالے فوجی جوتے کے ساتھ نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

الطباطبائي ، السيد علي، المتوفى سنة 1231 ه‍ ق ، رياض المسائل ،  ج 3 ص 201،  تحقيق ونشر: مؤسسة النشر الإسلامي التابعة لجماعة المدرسين ـ قم، طبع الأولى 1414هـ

5. آقا رضا ہمدانی:

نعم يمكن الاستدلال لكراهة الصلاة في الثياب السود بمفهوم التعليل الوارد في القلنسوة فيما رواه في الكافي عن الحسن بن أحمد عمن ذكره عن أبي عبد الله عليه السلام قال قلت له أصلي في القلنسوة السوداء فقال لا تصل فيها فإنها لباس أهل النار فإنه يدل على كراهة كلما هو من لباس أهل النار ومن جملته الثياب السود.

 كما يشهد له رواية حذيفة بن منصور قال كنت عند أبي عبد الله عليه السلام بالحيرة فاتاه رسول أبي العباس الخليفة يدعوه فدعى بممطر أحد وجهيه اسود والاخر ابيض فلبسه فقال أبو عبد الله عليه السلام اما اني ألبسه وانا اعلم أنه لباس أهل النار إذ الظاهر أن ذلك من حيث السواد لا خصوصية الممطر ..

وكيف كان فلا تأمل في الحكم خصوصا بعد ما حكى عن بعض من دعوى الاجماع عليه.

ممکن ہے کہ نماز میں کالے لباس کے مکروہ ہونے کے لیے امام صادق(ع) کی روایت کے مفھوم سے دلیل لائی جائے کہ امام نے فرمایا کہ: دوسری روايت  ہے کہ امام صادق(ع) نے کالی ٹوپی کے نماز میں پہننے کے بارے میں فرمایا کہ: اس کے ساتھ نماز نہ پڑھو کیونکہ وہ اھل جھنم کا لباس ہے اور یہ علت کراھت عام ہے کہ جو بھی اھل جھنم کا لباس ہو اس میں نماز مکروہ ہے اور ان میں سے ایک کالا لباس ہے۔

اس مطلب پر شاھد روایت حذیفہ ابن منصور ہے کہ جس میں امام صادق(ع) نے بارش والے کوٹ کہ جسکی ایک طرف کالی تھی، کو کالا ہونے کی وجہ سے اہل جھنم کا لباس کہا ہے نہ کسی اور سبب کی وجہ سے۔ بہر حال اس کراہت کے حکم میں کوئی اختلاف نہیں ہے کیونکہ اس مسئلے میں اجماع کا دعوی ہوا ہے۔

 الهمداني ، آقا رضا، ( متوفاي: 1322) مصباح الفقيه ،ج 2 ص 162، ناشر : انتشارات مكتبة النجاح- طهران، توضيحات : طبعة حجرية.

6. صاحب  کتاب جواہر:

صاحب جواهر ابتدا‌ میں محقق حلی کی عبارت کو لاتے ہیں:

(الثامنة‌ تكره الصلاة في ثياب السود ما عدالعمامة‌ والخف)

نماز  کالے لباس میں مکروہ لے مگر تین چیزوں میں: کالا عمامہ، کالے جوتے اور کالی عباء۔

پھر فرماتے ہیں کہ:

بلا خلاف اجده في المستثني منه،‌ بل ربما ظهر من بعضهم الاجماع عليه. بل عن الخلاف ذالك صريحا وهو الحجة. مضافاً ‌الي استفاضة ‌النصوص في النهي عن لبسه الذي ربما قيل باستفادة الكراهة في خصوص الصلاة منه.

إما لدعوى اتحاد الكونين كما سمعته في المغصوب، أولأن إطلاق الكراهة يقتضي شمول خصوص الصلاة، ولا ينافيه شمول غيرها، إذ ليس المراد اختصاص الصلاة بذلك من بين الأفراد، بل المراد الكراهة فيها بالخصوص وإن كان غيرها من الأفراد كذلك، وقد سمعت نظيره في استحباب خصوص بعض الأذكار في الصلاة۔

کالے لباس میں نماز کے مکروہ ہونے میں علماء کے درمیان اختلاف نہیں ہے بلکہ بعض علماء کے کلام سے اس مسئلے پر اجماع سمجھا جاتا ہے۔ یہ کراھت پر اجماع شیخ طوسی کی کتاب <خلاف> میں واضح طور پر آیا ہے اور یہ اجماع حجت ہے۔ اس بارے میں روایات استفاضے کی حد تک موجود ہیں جو نماز کے بارےمیں ہیں۔

کراہت پر اجماع کا ہونا یا دلیل اتحاد کونین(نماز پر حکم کا ہونا اور کالے لباس پر نھی کا ہونا) ہے یا دلیل کراھت والی روایات کا مطلق ہونا ہے جو پھر نماز کو بھی شامل ہوں گی اور یہ اس بات کے منافی نہیں کہ نماز کے علاوہ کو بھی شامل ہوں(جیسے لباس احرام و کفن)۔ پس نماز کو بھی یہ  کراہت شامل ہو گی۔

وہ ان دو دلیل کو  نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ: میں اس زحمت و توجیہ سے بے نیاز ہوں خاص طور پر اس آخری توجیہ سے کیونکہ ممکن ہے روایات کی عبارت:

لا تصل في ثوب أسود، فأما الكساء والخف والعمامة فلا بأس.

 اور روايت: إني أصلي في القلنسوة السوداء قال : لا تصل فيه فإنها لباس أهل النار.

ایک دوسرے کے خلاف ہوں کیونکہ یہ روایات نماز کے بارے میں ہیں اور مطلق نہیں ہیں کہ دوسرے موارد کو بھی شامل ہوں۔ پھر ٹوپی والی روایت کے آخر میں کہتے ہیں کہ:

ولا ريب في ظهور التعليل فيه بكراهة الصلاة في كل ما كان كذلك.

پھر کہتے ہیں کہ: وہ روایات کہ جو مطلق طور پر کالا لباس پہننے سے منع کرتی ہیں ان کی عبارت کے لیے یہ عبارت:

انه لباس فرعون ،انه زي بني العباس و انه لباس اهل النار۔

علت کے طور پر آئی ہے اور واضح ہے کہ یہ نھی خود رنگ کی وجہ سے ہے نہ کسی اور وجہ سے۔

بل من المعلوم كون ذلك من حيث السواد لا خصوصية الممطر، كما أن من المعلوم كون لبسه للتقية، فيتجه حينئذ كراهة الصلاة فيه للتعليل المزبور.

النجفي، الشيخ محمد حسن (متوفاى1266هـ)، جواهر الكلام في شرح شرائع الاسلام، ‌ج8 ص230، تحقيق: الشيخ عباس القوچاني، ناشر: دار الكتب الإسلامية، طهران، الطبعة: الثالثة،‌ 1367ش.

8. . ميرزا جواد تبريزی:

سؤال: ألا يكره للمصلي لبس السواد؟ كيف نجمع بين هذا الحكم الشرعي وبين استحباب لبس السواد عزاءا على الحسين عليه السلام؟

 جواب: لم يثبت كراهية لبس السواد لا في الصلاة ولا في غيرها، نعم ورد في بعض الروايات ما يستفاد منها كراهية لبس السواد، ولكنها ضعيفة السند، ومع الإغماض عن ضعفها، فالكراهة في الصلاة بمعنى أقل ثوابا، ولبس السواد في عزاء الحسين والأئمة عليهم السلام لأجل إظهار الحزن وإقامة شعائر المذهب مستحب نفسي، وثوابه أكثر من نقص الثواب في الصلاة، والله العالم.

سوال :کیا کالا لباس نماز میں مکروہ نہیں ہے ؟ اور اس طرف سے امام حسین(ع) کی عزاداری میں کالا لباس مستحب ہے۔ ان دونوں حکم کے درمیان کیسے جمع کریں ؟

جواب: نماز و غیر نماز  میں کالا لباس مطلقا حرام نہیں ہے ہاں بعض روایات سے یہ کراھت سمجھی جاتی ہے لیکن ان روایات کی سند صعیف ہے۔ سند سے قطع نظر کرتے ہوئے نماز میں کراھت سے مراد ثواب کا کم ہونا ہے لیکن امام حسین(ع) کی عزاداری میں کالا لباس کیونکہ شعار مذھب و علامت غم و حزن ہے اس لیے مستحب ہے۔

العاملي، (معاصر) الانتصار  ج 9 ص 247، ناشر: دار السيرة، بيروت، لبنان الطبعه الأولى 1422

فقھاء کے کلمات سے واضح ہو گیا کہ کالا لباس نماز میں مکروہ ہے۔

 شايد ایک دوسرا شبہ‌ جو اس مقالے کے پڑھنے والے عزیز کے ذھن میں آئے وہ یہ کہ ايام محرم و يا ايام شهادت ائمہ (ع) پر شیعیان کالا لباس پہنتے ہیں اور اسی لباس کے ساتھ نماز بھی پڑھتے ہیں۔ کیا وہ کراہت والا حکم ادھر بھی ہو گا ؟

اس شبھے کا جواب حاج آقا ميرزا جواد تبريزي (‌اعلي الله مقامہ)‌ كے استفتاء سے ذکر کرتے ہیں:

 سؤال: ما حكم اللباس الأسود في الصلاة أيام وفيات الأئمة عليهم السلام، هل هو مكروه ؟

 جواب : إذا كان اللبس بداع إظهار الحزن وتعظيم الشعائر فليس بمكروه، والله العالم.

اگر یہ لباس غم و حزن کے اظھار اور شعائر کی تعظیم شمار ہو تو مکروہ نہیں ہے۔

العاملي، (معاصر) الانتصار  ج 9 ص 247، ناشر: دار السيرة، بيروت، لبنان الطبعه الأولى 1422

نتيجہ:

بزرگان کے کلمات سے مندرجہ  ذیل نتائج حاصل ہوتے ہیں:

1-.نماز میں کالا لباس مکروہ ہونے کی دلیل اجماع ہے اور کبھی گروہ اول کی روایات کو دلیل اور کبھی گروہ دوم کی روایات کے اطلاق کو قید لگا کر دلیل  اور کبھی ان روایات سے کہ جو سفید لباس کے بارے میں ہیں دلیل بر کراہت لائی جاتی ہے۔

2. فقھاء کا فتوی کراھت کے بارے میں ہے نہ حرمت پر کہ اشکال کرنے والے نے حرمت سمجھ کر اشکال کیا ہے۔

3. ان کا فتوی نماز میں مکروہ ہونے کے بارے میں ہے نہ ہر جگہ میں۔ جیسا کہ صاحب جواھر نے بیان کیا ہے:  

ربما قيل باستفادة الكراهة في خصوص الصلاة منه. یہ نظر گروہ اول کی روایات سے واضح ہے کہ جن میں نماز میں کالے لباس سے منع ہوا ہے۔

4. مھم نکتہ ان تمام فتاوی میں یہ ہے کہ یہاں کراہت کا معنی مصلحت کا نہ ہونا نہیں ہے بلکہ کراہت کا معنی یہاں پر ثواب کا کم ہونا ہے۔

واضح عبارت کے ساتھ کہ: یہاں پر نھی ارشادی ہے نہ مولوی یعنی اس بات کی ارشاد و راہنمائی کرنا ہے کہ کالے لباس میں نماز کا ثواب کم ہوتا ہے لیکن نماز مجزی و صحیح ہے نہ یہ کہ نماز کالے لباس میں باطل ہوتی ہے۔

5. نماز میں اس کراہت سے کالی عباء، کالا عمامہ خارج ہیں اور اگر نماز میں یہ ساتھ ہوں تو یہ مکروہ نہیں ہیں۔

ان نکات کی روشنی میں یہ شبھہ باقی نہیں رہے گا کہ کیا ایام عزاداری آئمہ (ع)، محرم اور عاشورا میں کالا لباس پہننا حرام ہے یا مکروہ ؟ کیونکہ فقھاء کی نظر کراہت فقط نماز میں ہے جبکہ ایام عزاداری و محرم میں کالا لباس پہننا مستحب ہے۔

  فصل سوم

کالے لباس پر دلائل، بیان تعارض دلائل

و بیان موارد استثناء شدہ

اس فصل میں کالے لباس کے  عزاداری میں مستحب ہونے کے بارے میں فقھاء کے اقوال اور وہ روایات کہ جو کالے لباس سے نھی کرتی ہیں، کے بارے میں دقت اور تحقیق کو بیان کریں گے۔

پہلا حصہ:

عزاداری میں کالے لباس کے مستحب ہونے پر فقھاء کے فتاوی کے مستندات و دلائل:

جیسا کہ بیان ہوا کہ علماء نےعزاداری میں کالا لباس پہننے کو مطلق کراہت سے استثناء کیا ہے۔ اس پر دلیل وہ روایت ہے جو سند صحیح کے ساتھ آئمہ (ع) سے نقل ہوئی ہے۔ سب سے پہلے اس روایت کو ذکر کرتے ہیں اور پھر روایت کے سلسلہ سند کے بارے میں بحث کریں گے:

الْحَسَنُ بْنُ ظَرِيفٍ بن ناصِح عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ قَالَ لَمَّا قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ لَبِسَ نِسَاءُ بَنِي هَاشِمٍ السَّوَادَ وَالْمُسُوحَ وَكُنَّ لَا يَشْتَكِينَ مِنْ حَرٍّ وَلَا بَرْدٍ وَكَانَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ يَعْمَلُ لَهُنَّ الطَّعَامَ لِلْمَأْتَمِ.

ابو حفص عمر، امام سجاد(ع) کا بیٹا اور امام باقر(ع) کا بھائی کہتا ہے کہ: جب حسین ابن علی(ع) شھید ہو گئے تو بنی ہاشم کی عورتوں نے کالے اور موٹے لباس پہنے اور گرما و سرما کی پرواہ نہیں کرتیں تھیں اور میرے والد امام سجاد(ع) ان عورتوں کے عزاداری میں مصروف ہونے کی وجہ سے ان کے لیے کھانا تیار کیا کرتے تھے۔

أحمد بن محمد بن خالد البرقي، المحاسن ج2 ص420 متوفاي274 التحقيق: السيد جلال الدين الحسيني، ناشر: دار الكتب الإسلامية– طهران، الطبعة الأولي - 1330 ش

روایت کی سند کے بارے میں بحث:

1.              الحسن بن ظريف:

نجاشی اس کے  بارے میں کہتا ہے کہ:

الحسن بن ظريف بن ناصح كوفي يكنى أبا محمد ثقة.

حسن بن ظريف  اهل كوفه  ، اسکی كنيت  ابو محمد تھی اور وہ موثق تھا۔

النجاشي الأسدي الكوفي، ابوالعباس أحمد بن علي بن أحمد بن العباس (متوفاي450هـ)، فهرست أسماء مصنفي الشيعة المشتهر ب‍ رجال النجاشي، ص 61، رقم: 140، تحقيق: السيد موسي الشبيري الزنجاني، ناشر: مؤسسة النشر الاسلا مى‌ـ قم، الطبعة: الخامسة، 1416هـ.

2.              ظريف بن ناصح:

نجاشی اس کے  بارے میں کہتا ہے کہ:

 ظريف بن ناصح أصله كوفي، نشأ ببغداد، وكان ثقة في حديثه، صدوقا. له كتب.

ظريف بن ناصح  اهل كوفه ، بغداد میں بڑا ہوا  اور ادھر ہی زندگی گزارتا تھا وہ روايت  میں موثق ، راستگو اور اسکی کافی  كتابیں تھیں۔

النجاشي الأسدي الكوفي، ابوالعباس أحمد بن علي بن أحمد بن العباس (متوفاي450هـ)، فهرست أسماء مصنفي الشيعة المشتهر ب‍ رجال النجاشي، ص 209، رقم: 553، تحقيق: السيد موسي الشبيري الزنجاني، ناشر: مؤسسة النشر الاسلا مى‌ـ قم، الطبعة: الخامسة، 1416هـ.

3.              حسين بن زيد:

نجاشی نے اس کو اصحاب امام صادق و امام كاظم (ع) میں ذكر کیا ہے:

الحسين بن زيد بن علي بن الحسين عليهما السلام أبو عبد الله يلقب ذا الدمعة. كان أبو عبد الله عليه السلام تبناه ورباه وزوجه ببنت (بنت) الأرقط، روى عن أبي عبد الله وأبي الحسن عليهما السلام.

حسين ابن زيد ابن علی بن الحسين اسکی كنيت  ابو عبد الله اور اس کا  لقب ذا الدمعه ہے. امام صادق(ع) نے اسکو اپنا بیٹا بنایا ہوا تھا اور اسکی تربیت کی تھی اور اپنی بیٹی ارقط سے اسکی شادی کی تھی- اس نے امام صادق و امام كاظم(ع) سے روایت کو نقل کیا ہے۔

النجاشي الأسدي الكوفي، ابوالعباس أحمد بن علي بن أحمد بن العباس (متوفاي450هـ)، فهرست أسماء مصنفي الشيعة المشتهر ب‍رجال النجاشي، ص 52 رقم :‌115 تحقيق: السيد موسي الشبيري الزنجاني، ناشر: مؤسسة النشر الاسلا مى‌ـ قم، الطبعة: الخامسة، 1416هـ.

مرحوم مامقانی نے تنقيح المقال میں اسکو  اعلی الحسان سے کہا ہے:

فهو من اعلي الحسان.

مامقاني،‌ عبدالله،‌ تنقيح المقال في علم الرجال،‌ ج1ص 329رقم 9025 ‌ناشر:‌ المكتبة‌المرتضوية‌،‌ نجف اشرف 1350 هـ

بعض علماء شیعہ جیسے مرحوم سيد بحر العلوم (رح) کی نظر ہے کہ مرحوم شيخ طوسی کی روش فهرست میں اور مرحوم نجاشی کی روش اپنی کتاب رجال میں یہ تھی کہ وہ ان راویوں کو نقل کرتے تھے جو امامی(شیعہ) ہوں اور اگر غیر شیعہ ہوتے تو اس کو ذکر کرتے کہ یہ غیر شیعہ ہے۔ پس جس راوی کو ان دو بزرگواروں نے مطلق ذکر کیا ہے، تو یہ علامت ہے کہ کہ وہ راوی صحیح المذھب ہے اور اسکی مدح ہوئی ہے۔

وہ کتاب فوائد الرجاليہ  ‎‎کے فائده دہم   ميں ‌فرماتے ہیں کہ:

فائدة: الظاهر أن جميع من ذكر الشيخ في (الفهرست) من الشيعة الإمامية إلا من نص فيه على خلاف ذلك من الرجال: الزيدية، والفطحية، والواقفية وغيرهم، كما يدل عليه وضع هذا الكتاب، فإنه في فهرست كتب الأصحاب ومصنفاتهم، دون غيرهم من الفرق .

وكذا (كتاب النجاشي). فكل من ذكر له ترجمة في الكتابين، فهو صحيح المذهب ممدوح بمدح عام يقتضيه الوضع لذكر المصنفين العلماء والاعتناء بشأنهم وشان كتبهم، وذكر الطريق إليهم، وذكر من روى عنهم ومن رووا عنه .

الفوائد الرجالية، السيد بحر العلوم ، ج 4 ، ص111، 116

اس نظر کے مطابق حسن بن زيد مورد اعتماد و ثقہ ہے.

4.              عمربن علی بن الحسن:

عمر بن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب عليه السلام، أبو حفص الأشرف، أخوه عليه السلام .

شيخ طوسی نے اسکی كنيت  ابو حفص اشرف، اسکو  امام باقر (ع) کا بھائی اور تابعی ذكر کیا ہے۔

الطوسي ابوجعفر، محمد بن الحسن بن علي بن الحسن (متوفاي 460 ) رجال الطوسي،‌ ص 139رقم 1467،‌ تحقيق : جواد القيو مى‌الإصفهاني، ناشر: مؤسسة النشر الإسلا مى‌التابعة لجماعة المدرسين بقم، الطبعة‌الأولى 1415

شيخ طوسی نے اس کو ایک دوسری جگہ اہل مدينہ اور  تابعی کہا ہے:

عمر بن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب عليهم السلام، مدني تابعي، روى عن أبي امامه بن سهل بن حنيف، مات وله خمس وستون سنة، وقيل: ابن سبعين سنة.

 الطوسي الشيخ ابوجعفر، محمد بن الحسن بن علي بن الحسن (متوفاي 460 ) رجال الطوسي،‌ ص252 رقم 449،‌ تحقيق : جواد القيو مى‌الإصفهاني، ناشر: مؤسسة النشر الإسلا مى‌التابعة لجماعة المدرسين بقم، الطبعة‌الأولى 1415

شيخ مفيد نے اس کے بارے میں کہا ہے:

وكان عمر بن علي بن الحسين فاضلا جليلا، وولي صدقات النبي صلى الله عليه وآله وصدقات أمير المؤمنين عليه السلام وكان ورعا سخيا. وقد روى داود بن القاسم قال: حدثنا الحسين بن زيد قال: رأيت ‌عمر بن علي بن الحسين يشرط على من ابتاع صدقات علي عليه السلام أن يثلم في الحائط كذا وكذا ثلمة، ولا يمنع من دخله يأكل منه.

عمر بن علی فاضل و گرامی تھا۔ رسول خدا(ص) اور علی(ع) کے صدقات جمع کرنے کا عھدہ اس کے ذمے تھا۔ وہ ایک متقی اور سخی انسان تھا۔

داود بن قاسم کہتا ہے کہ:حسین بن زید نے ہمارے لیے نقل کیا ہے کہ میں نے اپنے چچا عمر بن علی بن الحسین کو دیکھا کہ جو لوگ علی(ع) کے صدقات کو ان سے خریدنا چاہتے تھے، شرط کی کہ باغ کی دیوار میں ایک سوراخ کریں اور جو اس باغ کے پھل کھانا چاہتے ہو انکو منع نہ کریں۔

الشيخ المفيد، محمد بن محمد بن النعمان ابن المعلم أبي عبد الله العكبري، البغدادي (متوفاي413 هـ) الإرشاد في معرفة حجج الله علي العباد، ج2 ص 171 تحقيق: مؤسسة آل البيت عليهم السلام لتحقيق التراث، ناشر: دار المفيد للطباعة والنشر والتوزيع ،بيروت، لبنان، الطبعة: الثانية، 1414هـ - 1993م.

علماء رجال کے اقوال کے مطابق اس روایت کی میں کوئی اشکال نہیں ہے اور دلالت کے لحاظ سے بھی کالا لباس پہننا مستحب ہے کیونکہ بہت بعید ہے کہ خود امام حسین(ع) اور بنی ہاشم کی خواتین سے شریعت کے خلاف کوئی کام انجام پایا ہو۔

دوسرا حصہ

بیان تضاد و تعارض در روایات:

پہلے ہم نے بیان کیا کہ کتب شیعہ میں بعض روایات ہیں کہ جو کالا لباس پہننے سے منع کرتی ہیں جبکہ بعض روایات میں ہے کہ خود آئمہ نے عملی طور پر کالا لباس پہنا ہے۔ اب ہم ان دونوں کی طرح کی روایات کو ذکر، ان میں دقت اور تضاد و تعارض کو حل کریں گے۔

الف: وہ روایات جو کالے لباس سے منع کرتی ہیں:

کتاب علل الشرائع جلد دوم میں مرحوم شيخ صدوق (رح) نے  چند  روايات کو ذکر کیا ہے کہ جن میں آیا ہے کہ نماز میں کالا لباس پہننا جائز نہیں ہے۔ انہی روایات کو اشکال کرنے والوں نے پکڑ لیا ہے اور آج تک اشکال کر رہے ہیں۔ یہ تین روایات ہیں:

1. أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْعَطَّارُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ عَنْ سَهْلِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ قُلْتُ لَهُ أُصَلِّي فِي قَلَنْسُوَةِ السَّوْدَاءِ قَالَ لَا تُصَلِّ فِيهَا فَإِنَّهَا لِبَاسُ أَهْلِ النَّارِ.

ایک بندے نے امام صادق(ع) سے پوچھا کہ کیا میں کالی ٹوپی میں نماز پڑھ سکتا ہوں ؟ امام نے فرمایا کہ اس میں نماز نہ پڑھو کیونکہ کالا لباس اہل جھنم کا لباس ہے۔

الصدوق، ابوجعفر محمد بن علي بن الحسين (متوفاي381هـ)، علل الشرائع ج‏2 / 348   ناشر: داوري،‌ قم،‌ چاپ اول

یہ روايت مرسل ہے کیونکہ اس میں:«‌عن رجل» آیا ہے۔

2. وَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْيَقْطِينِيِّ عَنِ الْقَاسِمِ‏ بْنِ يَحْيَى عَنْ جَدِّهِ الْحَسَنِ بْنِ رَاشِدٍ عَنْ أَبِي بَصِيرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام قَالَ فِيمَا عَلَّمَ أَصْحَابَهُ لَا تَلْبَسُوا السَّوَادَ فَإِنَّهُ لِبَاسُ فِرْعَوْنَ.‏

ابو بصیر سے روایت ہے کہ امام صادق(ع) نے فرمایا کہ:میرے والد نے میرے دادا سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے حضرت علی(ع) سے نقل کیا ہے کہ علی(ع) نے اپنے اصحاب کو تعلیم دی کہ کالا لباس نہ پہنو کیونکہ وہ فرعون کا لباس ہے۔

الصدوق، ابوجعفر محمد بن علي بن الحسين (متوفاي381هـ)، علل الشرائع ج‏2 / 348   ناشر: داوري،‌ قم،‌ چاپ اول.

3 . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الصَّفَّارُ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ مَعْرُوفٍ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ يَزِيدَ النَّوْفَلِيِّ عَنِ السَّكُونِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: أَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى نَبِيٍّ مِنْ أَنْبِيَائِهِ قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ لَا تَلْبَسُوا لِبَاسَ أَعْدَائِي وَلَا تَطْعَمُوا طَعَامَ أَعْدَائِي وَلَا تَسْلُكُوا مَسَالِكَ أَعْدَائِي فَتَكُونُوا أَعْدَائِي كَمَا هُمْ أَعْدَائِي.

محمّد بن الحسن نے محمّد بن الحسن الصفّار سے اور اس نے   عبّاس بن معروف سے اور اس نے   حسين بن يزيد نوفلى سے  اور اس نے سكونى سے اور اس نے  حضرت امام صادق(ع) سے نقل کیا ہے کہ امام نے فرمایا کہ:

خداوند نے اپنے ایک پیغمبر پر وحی نازل کی کہ مؤمنین سے کہے کہ میرے دشمنوں کا لباس نہ پہنیں، میرے دشمنوں کا کھانا نہ کھائیں اور میرے دشمنوں کی راہ پر نہ چلیں۔ اگر ایسا کرو گے تو تم بھی میرے دشمن ہو جاؤ گے جیسا کہ وہ میرے دشمن ہیں۔

 الصدوق، ابوجعفر محمد بن علي بن الحسين (متوفاي381هـ)، علل الشرائع ج‏2 ص 348   ناشر: داوري،‌ قم،‌ چاپ اول.

اس نقل کے مطابق یہ روایت موثق و مسند ہے لیکن عیون الاخبار کی نقل کے مطابق روایت ضعیف ہے کہ اس روایت کو شیخ صدوق نے تھوڑے اضافے کے ساتھ ایک دوسری سند کے ساتھ اس طرح نقل کیا ہے:

حدثنا تَمِيمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ تَمِيمٍ الْقُرَشِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ صَالِحٍ الْهَرَوِيِّ قال سمعت أبا الحسن علي بن موسى الرضا عليه السلام يقول أول من اتخذ له الفقاع في الإسلام بالشام يزيد بن معاوية لعنه الله .... و لقد حدثني أبي عن أبيه عن آبائه عن علي بن أبي طالب عليه السلام قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلي الله عليه وآله لَا تَلْبَسُوا  لِبَاسَ أَعْدَائِي وَلَا تَطْعَمُوا طَعَامَ أَعْدَائِي وَلَا تَسْلُكُوا مَسَالِكَ أَعْدَائِي فَتَكُونُوا أَعْدَائِي كَمَا هُمْ أَعْدَائِي.

  شيخ صدوق، عيون أخبار الرضا (ع)، ج 2 ص 23، انتشارات جهان، 1378 هجرى قمرى.

ب: وہ روایات جو کالے لباس پہننے کو ثابت کرتی ہیں:

علل الشرايع کی روایت کا ایک حصہ کالے لباس کو امام صادق (ع) کے ذریعے ثابت کرتا ہے:

1. وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُسَيْنِ اللُّؤْلُؤِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ مَنْصُورٍ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ بِالْحِيرَةِ فَأَتَاهُ رَسُولُ أَبِي الْعَبَّاسِ الْخَلِيفَةِ يَدْعُوهُ فَدَعَا بِمِمْطَرَةٍ لَهُ أَحَدُ وَجْهَيْهِ أَسْوَدُ وَالْآخَرُ أَبْيَضُ فَلَبِسَهُ ثُمَّ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام: أَمَا إِنِّي أَلْبَسُهُ وَأَنَا أَعْلَمُ أَنَّهُ مِنْ لِبَاسِ أَهْلِ النَّارِ.

حذیفہ بن منصور کہتا ہے کہ حیرہ میں امام صادق(ع) کے پاس تھا کہ ابی العباس کا بیجھا ہوا بندہ امام کے پاس آیا اور امام کو ابی العباس کی طرف سے دعوت دی۔ امام صادق(ع) نے بارش والا کوٹ کہ جس کی ایک طرف کالی اور دوسری طرف سفید تھی پہنا اور فرمایا کہ توجہ کرو کہ میں اس کو پہن رہا ہوں اور جانتا ہوں کہ یہ اہل جھنم کا لباس ہے۔

الصدوق، ابوجعفر محمد بن علي بن الحسين (متوفاي381هـ)، علل الشرائع ج‏2 ص 348   ناشر: داوري،‌ قم،‌ چاپ اول

مرحوم كلينی نے اس روايت کو اے سند کے ساتھ نقل کیا ہے:

2. أَبُو عَلِيٍّ الْأَشْعَرِيُّ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ مَنْصُورٍ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام بِالْحِيرَةِ فَأَتَاهُ رَسُولُ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَلِيفَةِ يَدْعُوهُ فَدَعَا بِمِمْطَرٍ أَحَدُ وَجْهَيْهِ أَسْوَدُ وَ الْآخَرُ أَبْيَضُ فَلَبِسَهُ ثُمَّ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام أَمَا إِنِّي أَلْبَسُهُ وَأَنَا أَعْلَمُ أَنَّهُ لِبَاسُ أَهْلِ النَّار.ِ

الكليني الرازي، أبي جعفر محمد بن يعقوب بن إسحاق (متوفاي328 هـ)، الكافي،ج 6 ص449  ناشر: اسلاميه‏، تهران‏، الطبعة الثانية،1362 هـ.ش.

3. حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْعَطَّارُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْجَعْفَرِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ دَاوُدَ الرَّقِّيِّ قَالَ كَانَتِ الشِّيعَةُ تَسْأَلُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام عَنْ لُبْسِ السَّوَادِ قَالَ فَوَجَدْنَاهُ قَاعِداً عَلَيْهِ جُبَّةٌ سَوْدَاءُ وَقَلَنْسُوَةٌ سَوْدَاءُ وَخُفٌّ أَسْوَدُ مُبَطَّنٌ بِسَوَادٍ قَالَ ثُمَّ فَتَقَ نَاحِيَةً مِنْهُ وَقَالَ أَمَا إِنَّ قُطْنَهُ أَسْوَدُ وَأُخْرِجَ مِنْهُ قُطْنٌ أَسْوَدُ ثُمَّ قَالَ بَيِّضْ قَلْبَكَ وَالْبَسْ مَا شِئْتَ.‏

محمّد بن الحسن نے  محمّد بن يحيى عطّار سے  اور اس نے محمّد بن احمد سے اور اس نے على بن ابراهيم جعفرى سے  اور اس نے محمّد بن فضل سے  اور اس نے داود رقّى سے نقل کیا ہے کہ: شیعیان امام صادق(ع) سے کالے لباس کے پہننے کے بارے میں پوچھتے تھے اور امام کو ہم نے دیکھا کہ کالا لباس کالی ٹوپی سر پر اور کالی جوراب جس میں روئی تھی پہنی ہوئی تھی۔ راوی کہتا ہے کہ امام نے جوراب کو تھوڑا پھاڑ کر اس میں سے کالی روئی نکالی اور فرمایا کہ:  اپنے دل و جان کو ہماری ولایت سے سفید رکھو پھر جو تمہارا دل ہے پہنو۔

 

دونوں گروہ کی روایات میں تضاد و تعارض:

پہلے گروہ میں پہلی روایت کالی ٹوپی کے ساتھ نماز پڑھنے سے نھی کرتی ہے اور دوسری و تیسری روایت میں کالا لباس اور اللہ کے دشمنوں کا لباس پہننے سے نھی ہوئی ہے۔

جبکہ دوسرے گروہ میں امام صادق(ع) نے ایک جگہ بارش کا کالا کوٹ پہنا اور خلیفہ عباسی کے پاس گئے لیکن دوسری جگہ آیا ہے کہ امام نے کالی ٹوپی، کالے لباس اور کالے جوتے سے استفادہ کیا ہے۔

پس ایک طرف سے کالے لباس سے نھی ہوئی ہے تو دوسری طرف امام(ع)  نے عملی طور پر کالے لباس کو پہنا ہے۔ اب کیسے اس تضاد و تعارض کو حل کیا جائے ؟

حل تعارض:

حل اول: عدم وجود شرايط تعارض در ميان روايات:

وہ روایات جو کالا لباس پہننے سے منع کرتی ہیں وہ معتبر نہیں ہیں کیونکہ سند کے لحاظ سے پہلی روایت مرسل ہے اور اس میں "عن رجل" کی تعبیر آئی ہے۔ تیسری روایت شیخ صدوق کی نقل کہ مطابق کتاب عیون الاخبار میں ضعیف ہے کیونکہ عبد اللہ اور اس کا باپ علم رجال کی رو سے مجھول ہیں۔ فقط پہلی روایت بچ جاتی ہے کہ سند کے لحاظ سے ضعیف نہیں ہے۔ لھذا فقھاء نے روایات نھی سے کراہت کے معنی کو سمجھا ہے اور وہ بھی فقط نماز میں۔

گروہ دوم روایات کہ جس میں امام صادق(ع) کے کالا لباس پہننے سے، کالے لباس کے پہننے کو ثابت کیا ہے۔ اس گروہ کی پہلی روایت مرحوم کلینی کی نقل کے مطابق مرفوع ہے جبکہ شیخ صدوق کی نقل کے مطابق معتبر ہے۔

ان مطالب کی روشنی میں دونوں گروہ کی روایات میں تعارض نہیں ہے کیونکہ گروہ اول کا موضوع نماز میں کالے لباس کا مکروہ ہونا ہے جبکہ گروہ دوم کے مطابق امام صادق(ع) نے کالے لباس کو نماز میں نہیں پہنا۔

 تعارض اس صورت میں ہے کہ ایک ہی چیز کے بارے میں مثبت و منفی ہونا آیا ہوا ہو اور یہاں پر تو دو طرح کی روایات دو مختلف چیزوں کے بارے میں ہیں۔

حل دوم : کالا لباس پہننے میں تقیّہ کرنا:

گروہ اول میں آئمہ(ع) کی مراد اللہ کے دشمنوں کے مشابہ ہونے سے نھی کرنا تھی کہ تاریخ میں اللہ کے دشمن کچھ خاص بندے رہے ہیں۔ ایک دور میں اللہ کا دشمن فرعون تھا اور ایک دور میں خلفاء عباسی تھے کہ ان کی علامت ہی کالا لباس پہننا تھا۔ لھذا آئمہ(ع) اپنے شیعوں کو ان کے مشابہ ہونے سے خبردار و منع کرتے تھے۔

لیکن اس دور حاضر میں کالا لباس پہننا ان سب میں سے کسی کے بھی ساتھ مشابہ ہونا نہیں ہے بلکہ اب کالا لباس  پوری دنیا اور تمام انسانوں کے نزدیک علامت غم و حزن ہے۔ پس اب اس دور میں کالا لباس پہننا اللہ کے دشمنوں سے مشابہ ہونا نہیں ہے۔

جبکہ دوسرے گروہ کی روایات کے مطابق امام(ع) کا کالا لباس پہننے کا  عمل  تقیہ کی وجہ سے تھا۔ وقت و حالات کے مطابق تقیہ پر عمل کرنا واجب ہے اور فقہ اسلامی میں اس بات کو شیعہ و سنی سب قبول کرتے ہیں۔

مرحوم شيخ صدوق حديث پنجم کے آخر میں اس بارے میں لکھتے ہیں کہ:

فعل ذلك كله تقية والدليل على ذلك قوله في الحديث الذي قبل هذا أما إني ألبسه و أنا أعلم أنه من لباس أهل النار و أي غرض كان له عليه السلام في أن صبغ القطن بالسواد إلا لأنه كان متهما عند الأعداء أنه لا يرى لبس السواد فأحب أن يتقي بأجهد ما يمكنه لتزول التهمة عن قلوبهم فيأمن شرهم‏.

امام نے کالے لباس کو تقیہ کی وجہ سے پہنا تھا۔ اس بات پر دلیل خود امام(ع) کا فرمان ہے کہ:

" آگاہ رہو کہ میں کالا لباس پہن رہا ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ یہ اہل جھنم کا لباس ہے۔"

ورنہ کیا ضرورت تھی کہ امام(ع) نے جوراب کے اندر والی روئی بھی کالی رکھی ہوئی تھی۔ یہ اس لیے تھا کہ امام(ع) کی خلیفہ کے پاس شکایت ہوئی تھی کہ امام کالا لباس نہیں پہنتے۔بس امام نے اس طریقے سے چاہا کہ دشمنوں کے دلوں سے اس شک کو نکالیں اور ان کے شرّ سے محفوظ رہیں۔

الصدوق، ابوجعفر محمد بن علي بن الحسين (متوفاي381هـ)، علل الشرائع، ج‏2، ص: 348  ناشر: داوري،‌ قم،‌ چاپ اول

کالا لباس علامت و شعار عباسیان:

عباسیوں کا کالا لباس پہننا یہ دو مرحلوں میں تھا:

1. حکومت و قدرت میں پہنچنے سے پہلے.

اس مرحلے میں آل عباس اور ان کے پیرو کاروں کا کالا لباس پہننا یہ بنی امیہ کے مظالم کے خلاف احتجاج و اعتراض کے طور پر تھا اور اھل بیت اور خاص طور پر امام حسین(ع)  پر ہونے مصائب پر اعلان  ہمدردی تھا۔ اسی وجہ سے اھل بیت(ع) کے شھیدوں کے خون کا بدلہ لینے کا نعرہ و بہانہ بنا کر عباسیوں نے اپنے قیام کو شروع کیا تھا۔

2. حکومت ملنے کے بعد۔

اس مرحلے میں آل عباس کی کامیابی اور خاندان بنی امیہ سے انتقام لینے کی وجہ سے ورنہ اب تو کوئی بہانہ نہیں تھا کہ کالے لباس کے پہننے کو جاری رکھتے بلکہ اب تو سرکاری طور پر حاکمان بنی عباس کالے لباس کے پہننے کو ختم کر دیتے لیکن ایسا نہیں ہوا اور انھوں نے کالے لباس کے پہننے کو مختلف شکلوں اور طریقوں سے جاری رکھا۔ جیسے نوک دار ٹوپی،  سادی ٹوپی، بڑے لمبے لمبے کالے لباس کہ جن پر آیات قرآن نقش ہوتی تھی  کی شکل میں کالا لباس پہننا یہ بنی عباس کی عادت اور علامت بن گیا تھا اور حاکموں کے ساتھ اعلان وفا داری کے لیے سب پر کالا لباس پہننا لازم و ضروری ہو گیا تھا۔

سيوطی اس بارے میں لکھتا ہے کہ:

وفي سنة ثلاث وخمسين ألزم المنصور رعيته بلبس القلانس الطوال فكانوا يعلمونها بالقصب والورق ويلبسونها السواد.

سال 53 ھج میں منصور عباسی نے سب پر کالی لمبی ٹوپی پہننا ضروری قرار دے دیا تھا۔ انھوں نے اس کام کو دیہاتوں میں عملی طور پر انجام دلوایا اور ہر جگہ اشتھار لگا کر اس رنگ کو پہننا ضروری اعلان کر دیا تھا۔

السيوطي، عبد الرحمن بن أبي بكر(متوفاي911 ) تاريخ الخلفاء، ج 1 ص 262: تحقيق : محمد محي الدين عبد الحميد، دار النشر: مطبعة السعادة - مصر - 1371هـ - 1952م ، الطبعة : الأولي.

طبری مؤرخ معروف اهل سنت منصور دوانقی کے دور حکومت کو اس طرح بیان کرتا ہے:

أبو الحسن الحذاء قال: أخذ أبو جعفر الناس بالسواد فكنت أراهم يصبغون ثيابهم بالمداد.

 علي بن الجعد قال: رأيت أهل الكوفة أيامئذ أخذوا بلبس الثياب السود حتى البقالين إن أحدهم ليصبغ الثوب بالأنفاس ثم يلبسه.

ابو الحسن حذّاء کہتا ہے کہ: منصور دوانقی نے لوگوں کو کالا لباس پہننے کا حکم دیا ہوا تھا اور میں نے دیکھا کہ لوگ اپنے کپڑوں کو کالا رنگ کرواتے تھے۔

علی بن جعد کہتا ہے کہ: میں نے اھل کوفہ کو ان دنوں میں دیکھا ہے جن دنوں میں وہ کالا لباس پہننے پر مجبور تھے حتی سبزی فروش بھی اپنے کپڑوں کو کالا رنگ کروا کر پہنتے تھے۔

الطبري ، أبي جعفر محمد بن جرير،( متوفاي:310 ) تاريخ الطبري، ج 4 ص 466 ، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت

تاریخ کی گواہی کے مطابق بنی عباس کی حکومت میں اھل بیت(ع) کی عزاداری میں کالا لباس پہننا بالکل ختم ہو گیا تھا۔ اس وقت کالا لباس فقط قدرت کو دکھانے کے لیے اور اپنے مخالفین پر رعب جمانے کے لیے پہنا جاتا تھا۔

پس بنی عباس نے اپنی  حکومت میں اپنی نجس نیت کو اہل بیت(ع) کے ساتھ دشمنی کی صورت میں ظاہر کیا اور آئمہ کو بے رحمی سے شھید کرتے تھے۔ انھوں نے اپنے اس کام سے ثابت کیا کہ وہ دشمن خداوند بھی ہیں۔ اسی وجہ سے امام صادق(ع) نے کھانا کھانے میں اور لباس پہننے میں اللہ کے دشمنوں کے ساتھ مشابھے ہونے سے منع کیا ہے:

 

عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: أَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ إِلَى نَبِيٍّ مِنْ أَنْبِيَائِهِ قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ لَا تَلْبَسُوا لِبَاسَ أَعْدَائِي وَلَا تَطْعَمُوا طَعَامَ أَعْدَائِي وَلَا تَسْلُكُوا مَسَالِكَ أَعْدَائِي فَتَكُونُوا أَعْدَائِي كَمَا هُمْ أَعْدَائِی۔

الصدوق، ابوجعفر محمد بن علي بن الحسين (متوفاي381هـ)، علل الشرائع ج‏2 / 348  ناشر: داوري،‌ قم،‌ چاپ اول

مرحوم شيخ صدوق اس روایت کی  توضيح میں کہتے ہیں کہ:

 لباس الأعداء هو السواد، ومطاعم الأعداء هو النبيذ والمسكر والفقاع والطين والجري من السمك والمارماهي والزمير و الطافي وكل ما لم يكن له فلوس من السمك و لحم الضب والأرنب و الثعلب وما لم يدف من الطير وما استوى طرفاه من البيض والدبى من الجراد وهو الذي لا يستقل بالطيران و الطحال ومسالك الأعداء مواضع التهمة ومجالس شرب الخمر والمجالس التي فيها الملاهي ومجالس الذين لا يقضون بالحق والمجالس التي تعاب فيها الأئمة والمؤمنون ومجالس أهل المعاصي والظلم والفساد۔

دشمنوں کا لباس وہی کالا لباس ہے اور ان کی غذا آب انگور(شراب) و آب جو اور کئی طرح کی مچھلیاں کھاتے ہیں۔ پس تم ان کی مجالس میں حاضر نہ ہوا کرو ایسی مجالس کہ جس میں حق کے مطابق حکم نہ ہوتا ہو۔ جن مجالس میں آئمہ(ع) اور مؤمنین کی توھین ہوتی ہو اور اھل مجلس سب ظالم و معصیت کار و اھل فساد ہیں۔

شيخ صدوق، عيون أخبار الرضا (ع)، ج 2 ص 24، انتشارات جهان، 1378 هجرى قمرى.

تقیہ کے بارے میں یہ بات قابل غور ہے کہ تقیہ پر عمل کرنے کی ایک جگہ حاکم جابر و ظالم سے تقیہ کرنا ہے چاہے وہ حاکم مسلمان ہو یا کافر۔

امام صادق(ع) بنی عباس کے خلفاء کے زمانے میں زندگی گزارتے تھے۔ اتنے خراب حالات تھے اس دور کے کہ آئمہ(ع) اپنے گھر سے باہر نہیں آ سکتے تھے اور اپنے شیعوں سے رابطہ نہیں کر سکتے تھے۔ اس صورت حال میں وہ اپنی اور شیعوں کی جان مال و ناموس کی حفاظت کے لیے تقیہ کرنے مجبور تھے۔

ان حالات میں امام صادق(ع) اس حکم ثانوی(تقیہ) سے استفادہ کرتے ہیں۔

موضوع بحث روایات کے مطابق حکم اولی کالے لباس کا مکروہ ہونا ہے لیکن تقیہ کی صورت میں یہ کراہت ختم ہو جاتی ہے ۔ پس امام (ع) کا عمل روایات کے ساتھ کوئی تعارض نہیں رکھتا۔

کالے لباس سے استثناء شدہ موارد(عزاداری کے علاوہ)

کتب شیعہ و سنی میں بہت سی چیزیں ذکر ہوئی ہیں کہ جو کالی ہونے با وجود مکروہ نہیں ہیں۔ ان میں ایک پیغمبر(ص) و آئمہ(ع) کا عمامہ اور بعض دوسری اشیاء بھی ہیں:

رسول خدا(ص) کا کالا عمامہ:

1. حدثنا علي أخبرني حماد بن سلمة عن أبي الزبير عن جابر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل يوم الفتح مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ.

جابر کہتا ہے کہ رسول خدا(ص) نے فتح مکے والے دن سر پر کالا عمامہ رکھ کر مکے میں داخل ہوئے تھے۔

الجوهري البغدادي ، علي بن الجعد بن عبيد أبو الحسن الوفاة: 230 ، مسند ابن الجعد  ج 1   ص 478 ،  تحقيق : عامر أحمد حيدر،  دار النشر : مؤسسة نادر – بيروت، الطبعة: الأولى- 1410 – 1990.

الشيباني، أحمد بن حنبل أبو عبدالله الوفاة: 241،  مسند الامام أحمد بن حنبل  ج 3 ، ص 363، دار النشر : مؤسسة قرطبة – مصر.

النيسابوري، مسلم بن الحجاج أبو الحسين القشيري الوفاة: 261 ، صحيح مسلم ج 2 ص 990، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت

الترمذي السلمي، محمد بن عيسى أبو عيسى الوفاة: 279 ، سنن الترمذي  ج 4 ، ص 196،تحقيق : أحمد محمد شاكر وآخرون، دار النشر: دار إحياء التراث العربي- بيروت ،

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفاي852 هـ)، فتح الباري شرح صحيح البخاري،ج 4  ص 61، تحقيق: محب الدين الخطيب، ناشر: دار المعرفة - بيروت.

اميرمومنان علی (ع) کا کالا عمامہ:

2. أخبرنا الفضل بن دكين قال أخبرنا شريك عن جابر عن مولى لجعفر فقال له هرمز قال رأيت عليا عليه عمامة سوداء قد أرخاها من بين يديه.

جابر کہتا ہے کہ ھرمز جعفر کے غلام نے کہا کہ علی(ع) کو میں نے دیکھا کہ سر پر کالا رکھا ہے اور اس کا ایک سرا  تحت الحنک بھی کیا ہوا ہے۔

الزهري،  محمد بن سعد بن منيع أبو عبدالله البصري (الوفاة: 230 )،  الطبقات الكبرى  ج 3   ص 29، دار النشر : دار صادر - بيروت

البلاذري، أحمد بن يحيي بن جابر (متوفاي279هـ)، أنساب الأشراف،ج 1 ص196، طبق برنامه الجامع الكبير.

زيد بن عبد الله بن أبي إسحاق يروى عن أبيه عن جده قال رأيت عليا بالبصرة وعليه عمامة سوداء من خز.

ابو حاتم تميمی کی نقل کے مطابق علی(ع) بصرے میں کالا عمامہ پہنتے تھے۔

التميمي البستي، محمد بن حبان بن أحمد ابوحاتم (متوفاي354 هـ)، الثقات،  ج 6 ص 316، تحقيق السيد شرف الدين أحمد، ناشر: دار الفكر، الطبعة: الأولى، 1395هـ – 1975م.

امام حسن مجتبى (ع) کا کالا عمامہ:

احمد حنبل نے نقل کیا ہے کہ:

حدثنا عبد الله قال حدثني أبي نا وكيع عن شريك عن عاصم عن أبي رزين قال خطبنا الحسن بن علي بعد وفاة علي وعليه عمامة سوداء فقال لقد فارقكم رجل لم يسبقه الأولون بعلم ولا يدركه الآخرون.

ابی زرین کہتا ہے کہ امام علی(ع) کی شھادت کے بعد ان کے بیٹے حسن(ع) نے جب ہمارے لیے خطبہ پڑھا تو ان کے سر پر کالا عمامہ تھا ..........

فضائل الصحابة ، اسم المؤلف:  أحمد بن حنبل أبو عبد الله الشيباني الوفاة: 241، فضائل الصحابة ، ج 2   ص 600،  تحقيق : د وصي الله محمد عباس ، دار النشر : مؤسسة الرسالة – بيروت،  الطبعة: الأولى ،1403- 1983

نسائی نے اپنی  دو كتابوں میں اور دولابی نے اس روایت کو ایسے ذکر کیا ہے:

اخبرنا إسحاق بن إبراهيم ابن راهويه قال أخبرنا النضر بن شميل قال حدثنا يونس عن أبي إسحاق عن هبيرة بن يريم قال خرج إلينا الحسن بن علي وعليه عمامة سوداء فقال لقد كان فيكم بالأمس رجل ما سبقه الأولون ولا يدركه الآخرون وإن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لأعطين الراية غدا رجل يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله فقاتل جبريل عن يمينه وميكائيل عن يساره ثم لاترد يعني رايته حتى يفتح الله عليه ما ترك دينارا ولا درهما إلا سبعمائة درهم أخذها من عطائه كان أراد أن يبتاع بها خادما لأهله.

ھبیرہ ابن یریم کہتا ہے کہ: حسن بن علی(ع) سر پر کالا عمامہ رکھے فرما رہے تھے کہ:

کل تمہارے درمیان ایک ایسا انسان تھا کہ گذشتہ لوگوں نے اس پر سبقت حاصل نہیں کی اور اس کے بعد آنے والے بھی اس کے مقام تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ رسول خدا(ص) نے جنگ خیبر والے دن فرمایا کہ: کل علم ایسے مرد کو دوں گا کہ جو خدا و رسول  سے محبت کرتا ہے  اور خدا و رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں پس جبرائیل اسکی دائیں طرف اور میکائیل اس کی بائیں طرف سے جنگ کرتے ہیں اور وہ کامیابی کے ساتھ واپس پلٹا۔ اس نے کوئی درہم و دینار نہیں چھوڑا فقط سات سو درہم کہ وہ انکی  تنخواہ تھی کہ اس سے بھی وہ گھر کے لیے خادم لانا چاہتے تھے۔

النسائي، أحمد بن شعيب أبو عبد الرحمن (الوفاة: 303 )، خصائص أمير المؤمنين علي بن أبي طالب، ج 1 ص 46 ، تحقيق : أحمد ميرين البلوشي، دار النشر: مكتبة المعلا- الكويت - الطبعة : الأولى ، 1406،

النسائي ،أحمد بن شعيب أبو عبد الرحمن الوفاة: 303 ، سنن النسائي الكبرى ج 5   ص 112، تحقيق : د.عبد الغفار سليمان البنداري , سيد كسروي حسن، الناشر : دار الكتب العلمية- بيروت- الطبعة: الأولى 1411 - 1991

الدولابي، الإمام الحافظ أبو بشر محمد بن أحمد بن حماد الوفاة: 310 ،  الذرية الطاهرة النبوية، ج 1 ص 78، تحقيق : سعد المبا رك الحسن، الناشر : الدار السلفية - الكويت- الطبعة: الأولى، 1407 

امام سجاد(ع) کا کالا عمامہ:

مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ نُوحٍ وَأَبُو عَلِيٍّ الْأَشْعَرِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَحْيَى عَنْ حَرِيزٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ حُمْرَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَدَخَلَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ عليه السلام وَلَمْ أُثْبِتْهُ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ قَدْ أَرْسَلَ طَرَفَيْهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ...

عبد اللہ بن سلیمان کہتا ہے کہ: میں اپنے والد کے ساتھ مسجد میں تھا کہ علی بن الحسین(ع) مسجد میں داخل ہوئے۔ میں نے امام کو ابھی تک نہیں دیکھا تھا اور ان کے سر پر اکلا عمامہ تھا جس کی دونوں طرفیں امام نے کندھوں پر گرائی ہوئی تھی۔

الكليني الرازي، أبو جعفر محمد بن يعقوب بن إسحاق (متوفاي328 هـ)، الأصول من الكافي،  ج : 6 ص : 63،‌ ناشر: اسلاميه‏، تهران‏، الطبعة الثانية،1362 هـ.ش

کالے جوتے اور کالی عباء استثناء ہوئی ہیں:

1. وَ رُوِيَ لَا تُصَلِّ فِي ثَوْبٍ أَسْوَدَ فَأَمَّا الْخُفُّ أَوِ الْكِسَاءُ أَوِ الْعِمَامَةُ فَلَا بَأْس‏۔

کالے لباس میں نماز نہ پڑھو لیکن کالے جوتے اور کالی عباء اس حکم سے استثناء ہوئی ہیں۔

الكليني الرازي، أبي جعفر محمد بن يعقوب بن إسحاق (متوفاي328 هـ)، الكافي، ج: 3 ص: 403  ناشر: اسلاميه‏، تهران‏، الطبعة الثانية،1362 هـ.ش.

2. مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ عَنْ عِدَّةٍ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ رَفَعَهُ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ يُكْرَهُ السَّوَادُ إِلَّا فِي ثَلَاثَةٍ الْخُفِّ وَ الْعِمَامَةِ وَ الْكِسَاءِ.

امام صادق(ع) نے فرمایا کہ: کالے لباس میں نماز نہ پڑھو لیکن کالے جوتے ،کالی عباء اور کالا عمامہ اس حکم سے  استثناء ہیں۔

 الطوسي، الشيخ ابوجعفر، محمد بن الحسن بن علي بن الحسن (متوفاي460هـ)، تهذيب الأحكام، ج : 2 ص : 213،  تحقيق : السيد حسن الموسوي الخرسان ، ناشر : دار الكتب الإسلامية ـ طهران ، الطبعة الرابعة،‌1365 ش .

3. عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ رَفَعَهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلي الله عليه وآله يَكْرَهُ السَّوَادَ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ الْخُفِّ وَ الْعِمَامَةِ وَ الْكِسَاء.

الكليني الرازي، أبو جعفر محمد بن يعقوب بن إسحاق (متوفاي328 هـ)، الأصول من الكافي،  ج : 6 ص : 449، ناشر: اسلاميه‏، تهران‏، الطبعة الثانية،1362 هـ.ش.

جیسا کہ پہلے کہا گیا ہے ان استثاء والی روایات کی سند صحیح نہیں ہے۔

نتيجہ كلی

تمام مذکورہ مطالب سے مندرجہ ذیل نتائج حاصل ہوتے ہیں:

1- وہ مصائب جو اہل بیت رسول(ص) پر ہوئے ہیں ان میں خود اہل بیت(ع) نے عزاداری کے علاوہ عملی طور پر کالا لباس بھی پہنا ہے۔ جیسے کہ چند نمونے ذکر ہوئے ہیں۔

یہ عزاداری کے شرعی اور مستحب ہونے پر  بزرگ ترین دلیل ہے۔ وہ روایات جو کالے لباس کی مذمت کرتی ہیں، وہ آئمہ(ع) کے عمل سے معنی شرعی پیدا کر لیتی ہیں۔

یہاں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ:

اولاً: مذھب شیعہ میں کالا لباس پہننا اصل میں اپنے آئمہ اہل بیت کی پیروی کرنا ہے۔

ثانياً: کالا لباس پہننا یہ ایک طرح کی ہمدردی و محبت کو آئمہ کے ساتھ اظھار کرنا ہے۔ خصوصا اس زمانے میں صاحب اصلی عزا امام زمان(ع) کس ساتھ اعلان وفا داری و بیعت ہے۔

ثالثاً: علم نفسیات کے مطابق مصیبت کے موقع پر کالا لباس پہننا غم ، حزن اور اضطراب کو کم کرتا ہے۔

رابعاً: جو روایات کالے لباس پہننے کی مذمت و نھی کرتی ہیں، وہ نہیں کہتی کہ کالا لباس ذاتی طور پر مکروہ ہے بلکہ کراھت کا حکم اس پر  موقوف ہے کہ کالا لباس پہننے سے نیت تاریخ کے ظالموں کے مشابھے ہونا ہو۔ مانند فرعون و خلفاء عباسی۔ لیکن اگر کالے لباس سے نیت اھل بیت کی عزاداری و اظھار شعار غم و حزن ہو تو یہ لباس پہننا مستحب ہو گا۔

2- فقھاء روایات نھی کے مطابق اس رنگ کو فقط نماز میں مکروہ کہتے ہیں اور مسئلہ عزاداری بر امام حسین اور اھل بیت(ع) کو اس کراھت کے حکم سے استثناء کرتے ہیں۔ طبق روایت محاسن برقی کہ سند کے لحاظ سے بھی محکم ہے،کالے لباس کو مستحب کہا ہے کیونکہ اس روایت میں ہے کہ بنی ہاشم کی عورتوں کو امام حسین(ع) کے غم میں کالا لباس پہننے سے امام سجاد(ع) نے منع نہیں کیا بلکہ وہ ان عورتوں کے لیے کھانا تیار کرتے تھے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ نہ فقط کالا لباس پہننا بلکہ مجالس عزا کو برپا کرنا، عزاداروں کو کھانا کھلانا اور ان کی خدمت کرنا سب امر مستحب ہیں۔

3- وہ روایات جو کالے لباس سے منع کرتی ہیں اور وہ روایات جو کالے لباس کو ثابت کرتی ہیں، تضاد و تعارض کی صورت میں دو جواب ہوں گے:

اولا: ان دونوں روایات  کا آپس میں کوئی تضاد و تعارض نہیں ہے کیونکہ شرائط تعارض میں سے ایک وحدت در مکان ہے یعنی دونوں روایات ایک ہی چیز کو ثابت و نفی کرتی ہوں در حالیکہ مورد بحث روایات میں ایک مورد نماز میں کالے لباس سے نھی کر رہا ہے تو دوسری روایات کالے لباس کو نماز کے علاوہ دوسری جگہ میں ثابت کر رہی ہیں۔ لھذا دونوں طرح کی روایات کا موضوع اثبات و نفی الگ الگ ہے۔ پس ان میں کوئی تعارض نہیں ہو گا۔

ثانياً: امام (ع) کا عمل تقیہ کی وجہ سے تھا۔ اسلام میں خطرے والی جگہ پر تقیہ کو واجب قرار دیا ہے۔ امام صادق(ع) کیونکہ  بنی عباس کے خلفاء کے زمانے میں زندگی گزارتے تھے۔ اتنے خراب حالات تھے اس دور کے کہ آئمہ(ع) اپنے گھر سے باہر نہیں آ سکتے تھے اور اپنے شیعوں سے رابطہ نہیں کر سکتے تھے۔ اس صورت حال میں وہ اپنی اور شیعوں کی جان مال و ناموس کی حفاظت کے لیے تقیہ کرنے مجبور تھے۔

رسول خدا(ص)، امام علی(ع) اور امام سجاد(ع) کے کالے عمامے  جو کتب شیعہ و سنی میں ذکر ہوئے ہیں وہ نماز میں موارد استثناء میں سے ہیں اور ان پر کراہت کا حکم جاری نہیں ہو گا۔

التماس دعا

 




Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی