2017 August 18
قيام عاشورا سے لینے والے درس
مندرجات: ٣٢٩ تاریخ اشاعت: ٠٨ October ٢٠١٦ - ١٠:١٧ مشاہدات: 272
یاداشتیں » پبلک
قيام عاشورا سے لینے والے درس

 عاشورا حسيني حق و باطل کے درميان ٹکراۆ کا مظہر تھا جس ميں ايماني لشکر، کافروں کے لشکر کے روبرو تھا - کربلا ميں پيش آنے والا يہ واقعہ کوئي معمولي واقعہ نہيں جو وقت کے ساتھ کم اہميت ہو جاۓ يا جسے لوگ بھول جائيں  بلکہ يہ ايک قيام الہي تھا کہ جيسے جيسے وقت گزرتا جاۓ يہ اور بھي زيادہ  دنيا ميں بسنے والے انسانوں کے ليۓ روشن  ہوتا جاۓ گا اور يہ قيامت تک زندہ رہے گا -

 حضرت امام حسين عليہ السلام ايک عظيم شخصيت کے مالک تھے - ايک ايسي ہستي جس کي پرورش نبي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے خاندان ميں ہوئي اور جس کي تربيت  حضرت علي عليہ السلام کے  زير سايہ اور دامن صديقہ طاہرہ ( س ) ميں ہوئي - اس عظيم ہستي نے ظلم و جبر کے خلاف کھڑے ہو کر رہتي دنيا  تک کے انسانوں کے ليۓ ايک عظيم سبق چھوڑا ہے جسے ہميشہ ياد رکھا جاۓ گا -

قيام حسيني  کے بارے ميں مخلتف  جہتوں سے بات کي جا سکتي ہے مگر ہم يہاں پر اس واقعہ سے ملنے والے سبق اور پيغام پر مختصر بات کريں گے -

 

1- پيغام آزادگی

يہاں پر آزادگي سے مراد اخلاقي  قيد  و بند سے رہائي نہيں ،حقيقت ميں يہ آزادگي کي وہ قسم ہے جس سے مراد  نفس کي بندگي ہے بلکہ اس کا مقصد يہ ہے کہ انسان ظلم کے دباۆ کا شکار نہ ہو اور ظالموں کے آگے خود کو تسليم خم نہ کرے - انسان کو مکمل سرفرازي اور آزادگي کے ساتھ زندگي گزارنے کا حق حاصل ہے اور اپنے حق کو حاصل کرنے کے ليۓ ہر طرح کے ظلم کے خلاف ڈٹ جانا چاہيے - حضرت امام حسين عليہ السلام نے اپني تمام زندگي عزت اور سرفرازي کے ساتھ گزاري اور وہ جواني سے ہي اپني ان خصوصيات کي وجہ سے مشہور تھے اور انہيں " اياۃ الضيم " ( يعني ايسے افراد جو ظلم کے نيچے نہيں دبتے ) شمار کيا جاتا تھا -

شرح نہج البلاغہ ابن ابي الحديد ج 3 ، ص 249

عزت و آزادگي کے متعلق حضرت امام حسين عليہ السلام کا  ايک قول ہے کہ

 " موت في عز خير من حياۃ في الذل۔

مناقب ابن شھر آشوب ، ج 4 ، ص 68

 ترجمہ : عزت کے ساتھ موت ذليل زندگي سے بہتر ہے -

وہ زندگي کو جس نظر سے ديکھتے تھے اور عزت و وقار کو  برقرار رکھنے کے جس حد تک قائل تھے واقعہ کربلا ان کي ايسي خوبيوں کا جلوہ گر ہے - دشمن حضرت امام حسين عليہ السلام کو کہتا تھا کہ

يا ذلت کے ساتھ بيعت کے ليۓ ہاتھ آگے کرو اور يا مرنے کے ليۓ تيار ہو جاۆ "

 حضرت امام حسين عليہ السلام نے ان کے جواب ميں فرمايا !

لا واللہ اعطيتھم بيدي اعطاء الذليل و لا اقر اقرار العبيد۔

 از کلمات امام حسين (ع) ، ص 44

 خدا کي قسم ! نہ تو ذلت والا ہاتھ ان کو دوں گا اور نہ بردگان کي طرح ان کي حکومت کو قبول کروں گا "

  اس سے بيشتر ذلت کيا ہوتي کہ  حضرت امام  حسين بن علي عليہ السلام  يزيد کے ہاتھ پر بيعت کرتے اور اس کي منکرات کو قبول کر ليتے اور  اس کے عوض چند  روز بيشتر زندہ رہتے -

 

2  -ايثار و از خود گذشتگی

عظيم لوگوں کي ايک بڑي خوبي ايثار اور فداکاري ہوتي ہے - ايسے لوگ دوسروں کو خود پر مقدم جانتے ہيں  اور ہميشہ خود کو دوسرے کي مدد کے ليۓ تيار کيے رکھتے ہيں -  قرآن ايمان دار لوگوں کي مشخص صفات ميں سے ايک صفت " ايثار"  کو شمار کرتا ہے -

و يۆئرون علي انفسھم و لو کان بھم خصاصۃ۔

اور وہ اپنے آپ پر دوسروں کو ترجيح ديتے ہيں اگرچہ وہ خود محتاج ہوں - ( سورہ حشر - آيت 9 )

ايثار کي مختلف حالتيں ہيں - ايثار بعض اوقات جان کا ہے تو بعض اوقات مال کا اور ان دونوں کي خدا کے نزديک بہت قدر و قيمت ہے ليکن آنحضرت کے پاس جو کچھ بھي تھا انہوں نے پورے خلوص کے ساتھ اپني  اور اپنے بچوں و رشتہ داروں کي جانوں کو خدا کي راہ ميں قربان کر ديا -

شاعر اس بارے ميں کيا خوب کہتا ہے کہ

ان کان دين محمد لم يستقم       الا بقتلی ، يا سيوف خذينی

کربلا کے72 شہداء کے اندر قرباني اور ايثار کا جذبہ واضح تھا جنہوں نے شہادت پانے کے ليۓ ايک دوسرے پر سبقت لے جانے کي کوشش کي - اس ايثار اور جذبے نے قيامت تک کے انسانوں کے ليۓ  قرباني کي ايک مثال قائم کر دي ہے جس سے رہنمائي پا کر ہر دور ميں مظلوم ظالم کي آنکھوں  ميں آنکھيں ڈال کر بات کرنے کي جرات پيدا کر رہا ہے -

 

3-خدا پر توکل

حضرت  حسين بن علي عليہ السلام حکومت يزيد کے اصل چہرے کو بےنقاب کرنے کے ليۓ مدينہ منوّرہ سے باہر گۓ اور مکہ ميں رہے  اور اپنے خطابات  کے ذريعے لوگوں کو  اس ظالم حکومت کے کرتوتوں سے آگاہ کيا  ليکن جب ان کي جان لينے کي  کوششيں کي جانے لگي تو اللہ کے گھر کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوۓ حجاز کو ترک کرکے عراق کي طرف روانہ ہو گۓ -  راستے ميں کوفہ والوں کے حيلوں سے آگاہ ہونے کے باوجود انہوں نے اللہ تعالي پر بھروسہ کيا اور  اپنے سفر کو جاري رکھا -

انہوں نے خدا پر توکل کرتے ہوۓ اس عظيم واقعہ ميں  مسلم امہ کو سخت حالات ميں   روانگي اور قيام  کا درس ديا  اور آخرکار اپني منزل کو حاصل کر ليا -

حسيني قافلے کي روانگي کے  بعد بھي متعدد بار  خاندان بني ھاشم اور دوسروں نے اس  ظالم حکومت کے خلاف قيام کيا اور بالاخر بني اميّہ کي حکومت 132 ہجري ميں جاتي رہي -

حضرت امام حسين عليہ السلام نے  اللہ پر بھروسہ کرتے ہوۓ اپنے سفر کا آغاز کيا اور  عاشورا کي صبح جب دشمن نے حملے کا آغاز کيا تو انہوں نے درگاہ الہي کے سامنے حاضري دي اور اپنے خدا کے  ساتھ  کچھ اس طرح سے راز ونياز کيا -

اللھم انت ثقتي في کل کرب و انت رجائي في کل شدّۃ  و انت لي في کل امر نزل بي ثقۃ و عدّۃ۔

ارشاد ، شيخ مفيد ، ج 2 ، ص 96

 اے ميرے خدا ! تمام پيش آنے والے ناگوار واقعات ميں ميرا تکيہ گاہ تو ہے اور ہر مشکل کام ميں ميري اميد تو ہے اور ہر آنے والي کيفيت ميں  مجھے پناہ دينے والا  اور ميرا مددگار تو ہے - "

اور اسي طرح روز عاشورہ کے موقع پر اپنے ايک خطبہ ميں آپ عليہ السلام نےفرمايا !

 انّي توکلت علي اللہ ربي و ربکم۔

بحارالانوار ، ج 45 ، ص 91

ميں نے خدا پر توکل کيا ہے جو ميرا اور  تمہارا پروردگار ہے "

 

 

4  -شجاعت و رشادت

 خاندان رسول صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے اوصاف ميں شجاعت ، استحکام ، ارادہ اور قوّت شامل شامل ہيں - امام سجاد عليہ السلام نے  مسجد شام ميں اپنے ايک خطبے ميں فرمايا !

اوتينا العلم و الحلم و الصلابۃ و الشّجاعۃ۔

 مقتل خوارزمي ، ج 2 ، ص 69

  "ہميں خاندان رسالت کو دانش و بردباري و بخشندگي و شجاعت دي گئي ہے "

عاشورا   کے روز حضرت امام حسين عليہ السلام کي بہادري نے ذہنوں ميں اپنے والد بزرگوار کي بہادري کي ياد تازہ کر دي - واقعہ کربلا کو بيان کرنے والے جناب حميد بن مسلم اس بارے ميں يوں کہتے ہيں کہ

خدا کي قسم ! ميں نے  لوگوں کے اتنے بڑے ہجوم ميں محاصرہ ہوۓ کسي کو نہيں ديکھا کہ جس ميں امام عليہ السلام کے  فرزندان، خاندان اور عزيز و اقارب  شہيد ہوۓ اور حسين بن علي عليہ السلام کي طرح مضبوط دل کا  مالک ، استوار اور بہادر نہيں ديکھا  -  دشمنوں نے ان کا محاصرہ کيا ہوا تھا اور وہ تلوار کے ساتھ دشمن پر حملہ کرتے اور  سب دائيں بائيں بھاگ جاتے "

 واللہ ما رآيت مکسور قد قتل ولدہ و اھل بيتھ و اصحابھ اربط جاشا و لا امضي جنانا منہ(ع)۔

انہوں نے مکہ مکرمہ سے روانگي سے قبل روز ( ترويہ )  ميں خطاب کيا اور ان کي مجلس ميں صحابہ اور تابعداروں کي ايک بڑي تعداد موجود تھي - آپ نے فرمايا !

من کان باذلا فينا مھجتھ  و مو طئا علي لقاء اللہ نفسہ فلير حل معنا۔

لھوف ، سيد بن طاووس : 54 ط ، 1322 ھ ق -

 جو کوئي بھي اپنا خون ہمارے راستے پر نثار کرنا چاہتا ہے اور لقاءاللہ کے ليۓ تيار ہے ، وہ کل ہمارے ساتھ کوچ کرے -"

 

 

5-وفا اور معاھدے کي پاسداری

پيمان اور ميثاق الہي پر عمل پيرا ہونا ايماندار لوگوں کي نشاني ہوتي ہے - قرآن مجيد مومنين کي صفات بيان کرتے ہو ۓ فرماتا ہے کہ

وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ۔

 اور وہ جو اپني امانتوں اور معاہدوں کا پاس رکھنے والے ہيں-  مومنون - 8

نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اور ان کے وصّي  ( اميرالمؤمنان عليہ السلام ) کي زندگي ميں عہد کي پاسداري کے نماياں نمونے موجود ہيں کہ ان پر  عمل کرنا بےحد تلخ کام تھا - نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے صلح  حديبيہ کے موقع پر مشرکين کے ساتھ عہد و پيمان باندھا -  اس معاہدے ميں ايک شرط يہ شامل تھي کہ جو مسلمان بھي مکہ سے فرار ہو کر مسلمانوں کے پاس پہنچ جاۓ اسے نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم  مشرکين کي تحويل ميں دے ديں گے -  اس روز مصلحت اسي ميں تھي کہ  پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم  اس شرط کو قبول کر ليں - شرط قبول کرنے کے بعد اچانک ايک  جوان مکہ سے فرار ہو کر  مدينہ آ گيا اور  نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم  سے اس نے پناہ طلب کي - نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا کہ ہم اپنے عہدو پيمان کي پاسداري کريں گے - تم واپس چلے جاؤ - خدا تمہارے ليۓ  آساني پيدا کرے گا -

جنگ صفين ميں اميرالمؤمنين عليہ السلام  نے اپنے ساتھيوں کے ايک گروہ کے بےحد اصرار پر مخالفين سے  ترک جنگ اور حکميت قرآن  کا معاہدہ کر ليا - اس ماجرے کے بعد انہي ساتھيوں نے اپنے عمل پر پشيماني کا اظہار کرتے ہوۓ اميرالمؤمنين سے درخواست کي کہ وہ معاہدے کو توڑ ديں -

آپ عليہ السلام نے فرمايا :

ابعد الرضا ؟

کيا پيمان پر دستخط کرنے کے بعد پيمان کو توڑ دوں ؟

حسيني قافلے کي کوفہ کي طرف روانگي   پيمان کے ساتھ وفا کو ہر لحاظ سے ظاہر کرتي ہے - انہوں نے کوفہ والوں کي بےوفائي کا ذکر کرتے ہوۓ فرمايا :

تم کوفہ والوں کي طرف سے يہ روش ناشناختہ اور حيران کن نہيں - تم نے ميرے باپ ، ميرے بھائي اور چچا زاد مسلم بن عقيل کے ساتھ نيز يہ سب کچھ کيا۔

موسوعۃ کلمات الامام حسين (ع) ، ص 278

 ليکن انہوں نے اپنے دوستوں کي وفاداري پر فخر کيا اور شب عاشورا کو اپنے ايک خطبے ميں يوں فرمايا !

فاني لا اعلم اصحابا اوفي و لا خيرا من اصحابی۔

ميں باوفاتر اور اپنے صحابہ سے بہتر کسي صحابي کو نہيں جانتا۔

مناقب ابن شھر اشوب ، ج 4 ، ص 45

آنحضرت کي زيارت ميں پڑھتے ہيں :

اشھد انک و فيت بعھداللہ و جاھدت في سبيلہ حتي اتيک اليقين ۔  زيارت اربعين

ميں گواہي ديتا ہوں کہ تو نے  خدا کے ساتھ جو پيمان کيا اس کي وفاداري کي اور يقين حاصل کرنے کے ليۓ ( شہادت )  اس کي راہ ميں جہاد کيا -

 

6- عمل ميں اخلاص

انسان کے برتاۆ پر اس کے عقيدے اور ايمان کا بہت زيادہ اثر ہوتا ہے - مومن لوگوں کے  کاموں کي جزا خدا ديتا ہے اس ليۓ مومن انسان ہميشہ نيک کام کو خدا کي رضا کے ليۓ انجام ديتا ہے - اس کے برعکس بے ايمان قسم کے لوگ جو شہرت کے بھوکے ہوتے ہيں ، کوشش کرتے ہيں کہ نمود و نمائش کے ذريعے  سے دوسروں کي توجہ اور رضايت حاصل کي جاۓ -

عاشورا کا ايک اہم پيغام اپنے عمل  ميں اخلاص لانا ہے - حضرت امام حسين عليہ السلام  ، ان کے بچوں ، احباب اور خاندان کے  شہيد ہونے کا مقصد صرف اور صرف اللہ  تعالي کي رضا حاصل کرنا تھا -

 

7-عمل بہ تکليف

وہ لوگ جو اللہ تعالي کي رضا حاصل کرنے کے  ليۓ عاشق کي طرح عمل کرتے ہيں ، اپنے تمام  کاموں ميں اپني ذمہ داري کا احساس کرتے  ہوۓ اسے نبھانے کي کوشش کرتے ہيں اور انہيں نتيجے کي ہرگز فکر نہيں ہوتي ہے - ايک سپاہي کو جان ہتھيلي پر رکھ کر ميدان ميں اترنا چاہيۓ اور کاميابي و ناکامي کي فکر کيۓ بغير جانفشاني سے لڑنا چاہيۓ يوم عاشورا کا ايک سبق احساس ذمہ داري بھي ہے - حضرت امام حسين عليہ السلام جس مقصد کے ليۓ کھڑے ہوۓ ، وہ کاميابي  يا قدرت کا حصول نہ تھا بلکہ وہ اس ذمہ داري کو نبھانے کے ليۓ کھڑے ہوۓ  تھے جس کے نبھانے کا درس انہيں ان کے اجداد نے ديا تھا -

قرآن ميں ذکر ہے کہ :  مومنين لازمي طور پر کافروں کے مقابلے کہہ دے -

 قُلْ هَلْ تَرَبَّصُونَ بِنَا إِلاَّ إِحْدَى الْحُسْنَيَيْن۔  توبہ 52

 کہہ ديجيے: کيا تم ہمارے بارے ميں دو بھلائيوں (فتح يا شہادت) ميں سے ايک ہي کے منتظر ہو اور ہم تمہارے بارے ميں اس بات کے منتظر ہيں کہ اللہ خود اپنے پاس سے تمہيں عذاب دے يا ہمارے ہاتھوں عذاب دلوائے، پس اب تم بھي انتظار کرو ہم بھي تمہارے ساتھ انتظار کرتے ہيں - "

جس دن حسين بن علي عليہ السلام نے مکہ مکرمہ سے کوچ کيا تو اس دن بعض بزرگوں نے  انہيں اس سفر پر جانے سے منع کيا اور خير خواھي کے لبادھے ميں کوفہ والوں کي  پيمان شکني کا ذکر کرتے -

امام عليہ السلام ان بزرگوں کے جواب ميں فرماتے :

ارجو ان يکون خيرا ما اراد اللہ بنا قتلنا ام ظفرنا ۔

مجھے اميد کرتا ہوں کہ خدا نے ہمارے ليۓ  خير و نيکي کا ارادہ کيا ہو - چاہے مارے  جائيں چاہے کامياب ہوں "

اعيان الشيعہ ، ج 1، ص 597

* التماس دعا *





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی