2017 August 20
شیعوں کا امام حسین(ع) کو قتل کرنا۔
مندرجات: ٣٢٨ تاریخ اشاعت: ٠٨ October ٢٠١٦ - ٠٩:٤٦ مشاہدات: 993
مضامین و مقالات » پبلک
شیعوں کا امام حسین(ع) کو قتل کرنا۔

سوال:

وہابی و بعض اہل سنت اپنی کتابوں اور چینلز میں عرصہ قدیم سے کہہ رہے ہیں حتی یہ بات ان کی عوام میں بھی عام ہو گئی ہے کہ خود شیعوں نے امام حسین(ع) کو شھید کیا ہے اور پھر خود ہی ان پر گریہ و عزاداری کرتے ہیں۔

ان الشيعة هم الذين قتلوا الحسين، ذكر محسن الامين:  «ثم بايع الحسين من أهل العراق عشرون ألفا غدروا به وخرجوا عليه وبيعته في أعناقهم وقتلوه». 

شیعہ ہی وہ ہیں جہنوں نے حسین کو قتل کیا ہے۔ محسن امین نے ذکر کیا ہے کہ اہل عراق میں سے 20 ہزار بندوں نے امام حسین کی بیعت کی اور پھر امام کو دھوکہ دیا اور امام پر خروج کر کے امام حسین کو قتل کر دیا۔

احسان الهي ظهير ـ الشيعة وأهل البيت: 282، والنص في اعيان الشيعة:  34.

 

فهؤلاء هم الشيعة وهذه معاملاتهم وأحوالهم مع أهل البيت الذين يدعون انهم يحبونهم وموالون لهم. 

یہ شیعوں کی حالت ہے اور ان کا سلوک ہے اہل بیت کے ساتھ حالانکہ یہ اہل بیت سے محبت کے دعوے کرتے ہیں۔

اس عبارت میں یہ وھابی کہنا چاہتا ہے کہ ایک طرف سے شیعہ اہل بیت سے محبت کا دعوی کرتے ہیں تو دوسری طرف سے اہل بیت کو قتل بھی کرتے ہیں جیسے کہ انھوں نے امام حسین کو قتل کیا ہے۔

احسان الهي ظهير ـ الشيعة واهل البيت :  280 ـ 282.

 

تاریخ و روایات کی روشنی میں کیا ان لوگوں کی شیعوں پر  تہمت صحیح ہے یا نہیں ؟

سؤال کی وضاحت:

تمام تاریخ، روایات اور عبارات واضح ہیں کہ قاتل امام حسین(ع) کون ہے ؟ لیکن اس کے باوجود بعض منافق و وہابی لوگ فقط و فقط عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے دن رات کہتے رہتے ہیں کہ امام حسين (ع) سے كتاب ارشاد شيخ مفيد (رح) میں شیعوں سے خطاب ذکر ہوا ہے جس میں انھوں نے واقعی قاتلوں کو بیان کیا ہے کیا یہ سوال و اشکال صحیح ہے ؟

    يزيد کے ساتھ مخالفت:

محمد الخضری کہتا ہے کہ:

الحسين أخطأ خطأ عظيماً في خروجه هذا الذي جر علي الأمة وبال الفرقة، وزعزع ألفتها إلي يومنا هذا۔

امام حسين(ع) نے قیام کر کے بہت بڑی غلطی کی ہے کیونکہ اس سے امت اسلام میں سے تفرقہ ایجاد ہوا ہے جو آج تک باقی ہے۔

محاضرات في تاريخ الأمم الإسلامية، ج 2، ص 129.

 

محمد أبو اليسر عابدين، شام کا مفتی کہتا ہے کہ:

بيعة يزيد شرعية، ومن خرج عليه كان باغياً.

یزید کی شرعی تھی اور خلیفہ برحق تھا اور جو بھی اس کے خلاف قیام کرہے گا وہ باغی و سر کش ہو گا۔

اغاليط المؤرخين، ص 120.

مفتي اعظم عربستان عبدالعزيز آل الشيخ کہتا ہے کہ:

خلافة يزيد شرعية و خروج الحسين باطل.

یزید کی شرعی تھی اور خلیفہ برحق تھا اور حسین(ع) کا قیام باطل تھا۔

           يزيد مجتهد و امام !!!

ابو الخير شافعي قزويني، يزيد کی اس طرح تعریف کرتا ہے:

«إماماً مجتهداً»      یزید امام و مجتھد تھا۔

تراجم رجال القرنين السادس والسابع، ص 6.

بعض نے دعوی کیا ہے کہ یزید صحابہ، خلفاء راشدین یا انبیاء سے بھی بالا تر تھا۔

منهاج السنة، ابن تيمية، ج 4، ص 549 به بعد.

اس بارے میں غلط اور جعلی روایات بھی لاتے اور بتاتے ہیں کہ :رسول خدا (ص) نے ہر اس بندے کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے جو حاکم کے خلاف قیام کرے اور امت میں فتنہ و تفرقہ ایجاد کرے۔ نقل کرتے ہیں کہ:

«ان يزيد قتل الحسين بسيف جده» کہ حسین کو اس کے جد کی تلوار سے ہی قتل کیا گیا ہے۔

ابن العربی کتاب العواصم من القواصم۔

المناوي، محمد بن عبد اللَّه، فيض القدير شرح الجامع الصغير، تحقيق احمد عبد السلام، ج: 1 ص: 265، دارالكتب العلمية، چاپ اول 1415ق، بيروت.همچنين ر. ك. خلاصة عبقات الانوار، مير سيد حامد حسين النقوي، تلخيص الميلاني، ج: 4 ص 237 و 238، مؤسسة البعثة قم 1406.

یعنی رسول خدا نے ایسا کرنے کا حکم دیا تھا اور ہم نے بھی اس حکم پر عمل کیا ہے۔ یہ بنی امیہ سے وفا داری اور اہل بیت سے بغض و دشمنی کرنے میں مشھور تھا۔ اس نے یہ بات یزید کو امام کے قتل سے بری کرنے کے لیے یہ بات کی ہے۔

ابن العربی کے علاوہ ابن حجر هيثمي و محمد كرد علي و تقي الدين ابن الصلاح و غزالي، و ابن تيميه و غيره کہ علماء اہل سنت ہیں انھوں نے مختلف عبارات کے ساتھ ان شبھات کو بیان کیا ہے۔ ان کتب کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے:

الفتاوي الحديثية، ص193. و نيز مراجعه شود به: رساله ابن تيمية: سؤال در رابطه با يزيد بن معاويه ص 14 و 15 و 17، و كتاب العواصم من القواصم از ابن العربي ص 232 و233 و إحياء علوم الدين از غزالي، ج 3، ص 125 و الاتحاف بحب الأشراف، ص67 و 68 و الصواعق المحرقة، ابن حجر، ص 221 و خطط الشام، ج 1، ص 145 و قيد الشريد، ص 57 و 59.

 

 

یا بعض شیعہ علماء کی کتابوں کا حوالہ دیتے ہیں اور ناقص عقل سے غلط سمجھتے ہیں اور کوفہ کے لوگوں کو شیعہ علی(ع) و امام حسن(ع) کہتے ہیں پھر خود ہی نتیجہ نکالتے ہیں کہ کوفہ کے شیعوں نے امام حسین(ع) کو شھید کیا ہے۔

چند نمونے ملاحظہ فرمایئں:

امام حسين (ع) نے کس کو بد دعا دی تھی ؟

احمد الكاتب اور بعض دوسرے کہتے ہیں کہ: امام حسين عليه السّلام نے شیعوں کو لعنت و بددعا کی ہے:

اللهم إن مَتَّعْتَهم إلي حين فَفَرِّقْهم فِرَقاً، واجعلهم طرائق قِدَداً، ولا تُرْضِ الوُلاةَ عنهم أبداً، فإنهم دَعَوْنا لِينصرونا، ثم عَدَوا علينا فقتلونا.

خدایا اس گروہ کو کم وقت کے لیے دنیا میں رکھنا، ان کا آپس میں اختلاف کرا کہ ان کو گروہ گروہ میں تقسیم کر دے اور کبھی بھی حاکموں کو ان سے راضی قرار نہ دے کیونکہ انھوں نے ہمیں دعوت دی ہے کہ ہماری مدد کریں گئے لیکن انھوں نے ہم سے دشمنی کی اور قتل کیا ہے۔

الإرشاد، شيخ مفيد، ج 2، ص 110. 

 

جواب:

اگرچہ اس سوال کا جواب واضح ہے لیکن موضوع کے مہم ہونے کی وجہ سے اس بارے میں تفصیل سے جواب بیان کیا جا رہا ہے۔ پیروان بنی امیہ نے واقعہ کربلاء کے فوری بعد اور حتی عصر حاضر میں کوشش کی ہے کہ امام حسین(ع) کے قیام کو ایک بغاوت، فتنہ حکومت کے خلاف اور امت اسلامی میں تفرقہ کے عنوان سے لوگوں میں تعارف کروایا جائے۔ اس بنیاد پر وہ یزید کو امام کے قتل سے بری قرار دیتے ہیں۔

الف: زیادہ صحابہ کی گواہی کے مطابق یزید کی خلافت غیر شرعی تھی:

جب امام حسین(ع) اور کافی سارے صحابہ کہ سارے اہل حل و عقد امت تھے نے یزید کی خلافت کو قبول نہ کیا اور کہا کہ یزید ایک فاسق، فاجر ، شراب خوار اور زنا کار ہے ۔ صحابہ کی اس گواہی کے بعد اس کی خلافت کو شرعی و جائز کہنے کا کوئی شرعی جواز باقی نہیں رہ جاتا کہ امام حسین(ع) کے قیام کو حاکم کے خلاف بغاوت و امت میں تفرقہ کہا جائے۔ اس سے ان سب کے فتوے خود بخود باطل ہو جائیں گے کہ جو امام کے قیام کو خروج بر حاکم اور فتنہ و فساد کہتے ہیں۔

وہ صحابہ جو لشکر عمر سعد میں تھے اور امام حسین(ع) کے قتل میں شریک ہوئے:

چند صحابہ کربلاء میں لشکر یزید میں حاضر ہوئے اور فرزند رسول کے قتل میں شریک ہوئے۔

ان میں سے چند کے نام ذکر ہو رہے ہیں:

   1 . كثير بن شهاب الحارثي:

اس کے صحابی ہونے کے بارے میں:

قال أبو نعيم الأصبهاني المتوفی  : 430: 

كثير بن شهاب البجلي رأى النبي(ص).

    کثیر بن شھاب نے نبیّ (ص) کو دیکھا تھا۔

 تاريخ أصبهان  ج 2   ص 136 ،    ، دار النشر : دار الكتب العلمية – بيروت - 1410 هـ-1990م ، الطبعة : الأولى ، تحقيق : سيد كسروي حسن

قال ابن حجر: 

يقال ان له صحبة ... قلت ومما يقوي ان له صحبة ما تقدم انهم ما كانوا يؤمرون الا الصحابة وكتاب عمر اليه بهذا يدل على انه كان أميرا.

اس کے صحابی ہونا کا قوی احتمال ہے اس لیے کہ وہ فقط صحابہ ہی کو جنگ کی سپہ سالاری دیتے تھے۔

الإصابة في تمييز الصحابة  ج 5   ص 571 نشر : دار الجيل – بيروت.

2 . حجار بن أبجر العجلي:

ابن حجر عسقلانی نے اسے صحابی کہا ہے اور بلاذری نے اس کے خط کو جو اس نے امام حسین(ع) کو لکھا ہے، کو نقل کیا ہے:

حجار بن أبجر بن جابر العجلي له إدراك.

اس نے نبی(ع) کے زمانے کو درک کیا ہے۔

الإصابة في تمييز الصحابة  ج 2   ص 167 رقم 1957 ، دار النشر : دار الجيل – بيروت

 

قالوا: وكتب إليه أشراف أهل الكوفة ... وحجار بن أبجر العجلي... .

امام حسین(ع) کو بزرگان کوفہ نے خط لکھے ہیں ان میں سے ایک حجار ابن ابجر ہے۔

أنساب الأشراف  ج 1   ص 411

 

وہ ایک ہزار کے لشکر کی سالاری کرتا ہوا کربلاء پہنچا:

قال أحمد بن يحيى بن جابر البلاذری:

وسرح ابن زياد أيضاً حصين بن تميم في الأربعة الآلاف الذين كانوا معه إلى الحسين بعد شخوص عمر بن سعد بيوم أو يومين، ووجه أيضاً إلى الحسين حجار بن أبجر العجلي في ألف.

وہ کربلاء میں ہزار سپاہیوں کے ہمراہ شریک ہوا۔

أنساب الأشراف  ج 1   ص 416

3. عبد الله بن حصن الأزدی:

اس کے صحابی ہونے کے بارے میں:

 قال ابن حجر أبو الفضل العسقلاني الشافعي  المتوفي:  852: عبد الله بن حصن بن سهل ذكره الطبراني في الصحابة۔

طبرانی نے اسے صحابہ میں ذکر کیا ہے۔

الإصابة في تمييز الصحابة  ج 4   ص 61  رقم 4630،  ، دار النشر : دار الجيل – بيروت

 

کربلاء میں اس کا امام حسین(ع) کی توھین کرنا:

وناداه عبد الله بن حصن الأزدي: يا حسين ألا تنظر إلى الماء كأنه كبد السماء، والله لا تذوق منه قطرة حتى تموت عطشاً.

عبد اللہ ازدی نے کہا: اے حسین کیا تم پانی کی طرف نہیں دیکھ رہے لیکن خدا کی قسم اس میں سے ایک قطرہ بھی تم کو نہیں ملے گا حتی تم پیاسے ہی مرو گے۔

أنساب الأشراف  ج 1   ص 417

4. عبدالرحمن بن أبي سبرة الجعفی:

اس کے صحابی ہونے کے بارے میں:

 قال ابن عبد البر المتوفي 463: عبد الرحمن بن أبى سبرة الجعفى واسم أبى سبرة زيد بن مالك معدود فى الكوفيين وكان اسمه عزيرا فسماه رسول الله صلى الله عليه وسلم عبد الرحمن ...

اس کا نام عزیز تھا پھر رسول خدا(ص) نے اس کا نام عبد الرحمن رکھا۔

الاستيعاب  ج 2   ص 834  رقم 1419، نشر : دار الجيل – بيروت.

 

اس کا قبیلہ اسد کی سربراہی کرنا اور امام حسین(ع) کے قتل میں شریک ہونا:

قال ابن الأثير المتوفي:  630هـ : وجعل عمر بن سعد علي ربع أهل المدينة عبد الله بن زهير الأزدي وعلي ربع ربيعة وكندة قيس بن الأشعث بن قيس وعلي ربع مذحج وأسد عبد الرحمن بن أبي سبرة الجعفي وعلي ربع تميم وهمدان الحر بن يزيد الرياحي فشهد هؤلاء كلهم مقتل الحسين.

وہ قبیلہ مذحج اور اسد کا سالار تھا اور کربلاء میں حاضر ہوا۔

الكامل في التاريخ  ج 3   ص 417 ،  دار النشر : دار الكتب العلمية - بيروت

5. عزرة بن قيس الأحمسی:

اس کے صحابی ہونے کے بارے میں:

 قال ابن حجر أبو الفضل العسقلاني الشافعي  المتوفي:  852:  عزرة بن قيس بن غزية الأحمسي البجلي ... وذكره بن سعد في الطبقة الأولى۔

اس کو ابن سعد نے پہلے طبقے میں ذکر کیا ہے۔( یعنی صحابی تھا)

 

الإصابة في تمييز الصحابة  ج 5   ص 125  رقم 6431، نشر : دار الجيل – بيروت.

اس نے امام حسين (ع) کو خط لکھا تھا:

 

قالوا: وكتب إليه أشراف أهل الكوفة ... وعزرة بن قيس الأحمسی۔

اس نے امام حسین(ع) کو خط لکھا تھا۔

 أنساب الأشراف  ج 1   ص 411

 

گھوڑے سواروں کا سالار:

وجعل عمر بن سعد ... وعلى الخيل عزرة بن قيس الأحمسی۔

أنساب الأشراف  ج 1   ص 419

وہ گھوڑے سوار لشکر کا سالار تھا۔

شھداء کے سر لے کر ابن زیاد کے پاس گیا:

واحتزت رؤوس القتلى فحمل إلى ابن زياد اثنان وسبعون رأساً مع شمر... وعزرة بن قيس الأحمسي من بجيلة، فقدموا بالرؤوس على ابن زياد۔

أنساب الأشراف  ج 1   ص 424

6 - عبـد الرحمن بن أَبْـزى:

له صحبة وقال أبو حاتم أدرك النبي صلى الله عليه وسلم وصلى خلفه۔

وہ صحابی ہے۔ ابو حاتم نے کہا ہے کہ اس نے نبی(ص) کے پیچھے نماز پڑھی ہے۔

 

الإصابة - ابن حجر - ج 4 ص 239

 

قال المزّي: «سكن الكوفة واستُعمل عليها»، وكان ممّن حضر قتال الإمام عليه السلام بكربلاء۔

مزّی کہتا ہے کہ وہ کوفے میں رہتا تھا۔ وہ امام حسین(ع) سے جنگ کرنے کربلاء حاضر ہوا تھا۔

تهذيب الكمال 11 / 90 رقم 3731.

7 - عمرو بن حريث:

يكنى أبا سعيد رأى النبي صلى الله عليه وسلم۔

اس نے نبی(ص) کو دیکھا تھا۔

أسد الغابة - ابن الأثير - ج 4 ص 97

سپہ سالاروں میں سے تھا:

             ومن القادة: «عمرو بن حريث وهو الذي عقد له ابن زياد رايةً في الكوفة وأمّره على الناس.

ابن زیاد نے اسے کوفہ میں علم جنگ دیا اور لوگوں پر امیر بنایا تھا۔

بحار الأنوار 44 / 352.

وبقي على ولائه لبني أُميّة حتّى كان خليفة ابن زياد على الكوفة.

بنی امیّہ کے لیے والی رہا یہاں تک کہ ابن زیاد کوفہ کا خلیفہ تھا۔

 أنساب الأشراف 6 / 376.

8 - أسماء بن خارجة الفزاری:

اس کے صحابی ہونے کے بارے میں:

 وقد ذكروا أباه وعمه الحر في الصحابة وهو على شرط بن عبد البر۔

اس کو صحابہ میں سے شمار کیا گیا ہے۔

 الإصابة في تمييز الصحابة  ج 1   ص 195 ، دار النشر : دار الجيل – بيروت

امام حسين(ع) کے قتل کرنے میں اس کا شریک ہونا:

دعا ابن زياد ... وأسماء بن خارجة الفزاري، ... وقال: طوفوا في الناس فمروهم بالطاعة ... وحثوهم على العسكرة. فخرجوا فعذروا وداروا بالكوفة ثم لحقوا به۔

اسماء بن خارجہ یہ لوگوں کو بنی امیہ کی اطاعت اور امام حسین سے جنگ کا حکم دیتا تھا۔

أنساب الأشراف  ج 1   ص 416.

 

ب: یزید کی طرف سے امام حسين(ع) کو شھید کرنے کا حکم صادر ہونا:

یزید کے قاتل ہونے کے لیے ضروری نہیں کہ خود کربلاء جا کر امام حسین(ع) کو قتل کرے بلکہ جب ایک حاکم کے نیچے کام کرنے والے اس کے وزراء وغیرہ جب ہر کام کے انجام دینے میں حاکم کے تابع ہوتے ہیں تو ان سب کے کام اور سب کی کامیابی اور ناکامی اس حاکم کی طرف منسوب ہوتی ہے۔ یزید کے  امام حسین(ع کے قاتل ہونے میں بھی ایسے ہی ہے۔

ایک دوسری عبارت کے ساتھ کہ: يزيد بن معاوية قاتل امام حسين (ع) ہے لیکن ابن زياد، و شمر و عمر بن سعد. کی تلوار کے ساتھ۔ یعنی تلوار وہ چلا رہے تھےلیکن حکم یزید کا تھا۔

 

ذهبی لکھتا ہے کہ:

 

خرج الحسين إلي الكوفة، فكتب يزيد إلي واليه بالعراق عبيد الله بن زياد: إن حسينا صائر إلي الكوفة، وقد ابتلي به زمانك من بين الأزمان، وبلدك من بين البلدان، وأنت من بين العمال، وعندها تعتق أو تعود عبدا. فقتله ابن زياد وبعث برأسه إليه.

امام حسین(ع) نے جب کوفے کی طرف حرکت کی تو یزید نے عراق کے والی عراق عبيد الله بن زياد کو لکھا کہ حسین کوفے کی طرف جا رہا ہے اس نے دوسرے شہروں کی بجائے آنے کے لیے تمہارے شہر کو انتخاب کیا ہے تم میرے قابل اعتماد ہو پس تم خود فیصلہ کرو کہ تم نے آزاد رہ کر زندگی گزارنی ہے یا غلام بن کر۔ اس پر ابن زیاد نے حسین کو قتل کیا اور اس کے سر کو یزید کے لیے بیجھا۔

 

شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان الذهبي الوفاة: 748هـ ، تاريخ الإسلام  ج 5   ص 10 دار النشر : دار الكتاب العربي - الطبعة : الأولى ، تحقيق : د. عمر عبد السلام تدمرى

محمد بن أحمد بن عثمان بن قايماز الذهبي أبو عبد الله الوفاة: 748 ، سير أعلام النبلاء  ج 3   ص 305 دار النشر : مؤسسة الرسالة - بيروت - التاسعة ، تحقيق : شعيب الأرناؤوط , محمد نعيم العرقسوسي

یہی مطلب ابن عساکر سے بھی نقل ہوا ہے:

تاريخ دمشق، ج 14، ص 213 ـ و در حاشيه بغية الطالب، ج 6، رقم 2614.تاريخ دمشق، ج 14، ص 213 ـ و در حاشيه بغية الطالب، ج 6، رقم 2614.

 

 

 سيوطی نے بھی لکھا ہے کہ:

 

فكتب يزيد إلي واليه بالعراق، عبيد الله بن زياد بقتاله.

يزيد نے  عبيد الله بن زيادکہ جو  والی عراق تھا اس کو امام حسین(ع) کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا۔

تاريخ الخلفاء، ص 193، چاپ دار الفكر سال 1394 هـ. بيروت.

 

ابن زياد نے مسافر بن شريح يشكری کو لکھا کہ:

أما قتلي الحسين، فإنه أشار علي يزيد بقتله أو قتلي، فاخترت قتله.

میں نے حسین کو اس لیے قتل کیا ہے کہ مجھے حسین کے قتل کرنے یا خود مجھے قتل ہونے کے درمیان اختیار کیا گیا تھا اور میں ان دونوں میں سے حسین کو قتل کرنے کو انتخاب کیا۔

الكامل في التاريخ، ج 3، ص 324.

 

ابن زياد نے امام حسين(ع) کو خط لکھا کہ:

قد بلغني نزولك كربلاء، وقد كتب إلي أمير المؤمنين يزيد: أن لا أتوسد الوثير، ولا أشبع من الخمير، أو ألحقك باللطيف الخبير، أو تنزل علي حكمي، وحكم يزيد، والسلام.

مجھے خبر ملی ہے کہ تم کربلاء میں پہنچ گئے ہو اور یزید نے مجھے کہا ہے کہ بستر پر آرام سے نہ سوؤں اور پیٹ بھر کر کھانا نہ کھاؤں مگر یہ کہ یا تم کو خدا کے پاس روانہ کر دوں یا تم کو یزید کی بیعت کرنے پر راضی کروں۔ والسلام۔

بحار الأنوار، علامه مجلسي، ج 44، ص 383 ـ مقتل العوالم، ص 243 ـ الفتوح، ابن أعثم، ج 3 و ج 5، ص 85.

 

يعقوبی کہتا ہے کہ یزید نے ابن زیاد کو خط لکھا کہ:

قد بلغني: أن أهل الكوفة قد كتبوا إلي الحسين في القدوم عليهم، وأنه قد خرج من مكة متوجهاً نحوهم، وقد بلي به بلدك من بين البلدان، وأيامك من بين الأيام، فإن قتلته، وإلا رجعت إلي نسبك وأبيك عبيد، فاحذر أن يفوت.

مجھے خبر ملی ہے کہ کوفہ والوں نے حسین کو خط لکھے ہیں اور اس کو کوفے بلایا ہے اور وہ مکے سے کوفہ جانے کے لیے چل پڑا ہے اس نے دوسرے شہروں کی بجائے آنے کے لیے تمہارے شہر کو انتخاب کیا ہے۔ اگر تم نے حسین کو قتل کیا تو ٹھیک ہے ورنہ باپ کی میرے غلام بننے کے لیے تیار ہو جاؤ۔ پس اس فرصت کو ضائع نہ کرو۔

تاريخ يعقوبي، ج 2، ص 242، چاپ صادر. كتاب الفتوح.

 

 

ایک دوسری جگہ ذکر ہوا ہے کہ:

إن يزيد قد أنفذ عمرو بن سعيد بن العاص في عسكر علي الحاج، وولاه أمر الموسم، وأوصاه بالفتک بالإمام الحسين عليه السلام، أينما وجد.

يزيد نے عمرو بن سعيد بن عاص کو حاجیوں کے ایک لشکر پر سالار بنایا تا کہ وہ حج کے اعمال میں ان کی سرپرستی کرے اور اس کہا کہ جہاں بھی حسین کو دیکھو اس پر حملہ کر کے قتل کر دینا۔

المنتخب، طريحي، ج 3، ص 304، الليلة العاشرة.   

بعض کتب تواریخ میں آیا ہے کہ یزید نے وليد بن عتبة لکھا کہ:

خذ الحسين وعبد الله بن عمر، وعبد الرحمان بن أبي بكر، وعبد الله بن الزبير بالبيعة أخذاً شديداً، ومن أبی فاضرب عنقه، وابعث إلی برأسه.

حسين ، عبد الله بن عمر ، عبد الرحمان بن أبو بكر اور عبد الله بن زبير سے بیعت لینے کے لیے ان پر سختی کرو اور جو بھی انکار کرے اس کے سر کو قلم کر کے مجھے بیھج دو۔

مقتل الحسين خوارزمي، ج 1، ص 178 و 180 ـ مناقب آل أبي طالب، ج 4، ص 88 چاپ مكتبة مصطفوي ـ قم ـ إيران ـ الفتوح، ابن أعثم، ج 5، ص 10.

 

يعقوبی نے لکھا ہے کہ:

إذا أتاك كتابي، فاحضر الحسين بن علي، وعبد الله بن الزبير، فخذهما بالبيعة، فإن امتنعا فاضرب أعناقهما، وابعث إليّ برأسيهما، وخذ الناس بالبيعة، فمن امتنع فانفذ فيه الحكم وفي الحسين بن علي وعبد الله بن الزبير والسلام.

جونہی میرا خط تمہیں ملے حسين بن علي و عبد الله بن زبير کو اپنے پاس بلاؤ اور ان سے بیعت کا مطالبہ کرو اور جو بھی انکار کرے اس کے سر کو قلم کر کے میرے لیے بیھج دو۔ پھر تمام لوگوں سے بھی بیعت لو اور جو جو بھی بیعت سے انکار کرے اسی حکم کو اس اور حسين بن علي و عبد الله بن زبير کے بارے میں عملی کرو ۔ والسلام۔

تاريخ يعقوبي، ج 2، ص 241.

 

یزید نے اپنے والی کو مدینے میں لکھا کہ:

وعجل علي بجوابه، وبين لي في كتابك كل من في طاعتي، أو خرج عنها، وليكن مع الجواب رأس الحسين بنعلي.

خط کا جواب دینے میں جلدی کرو اور مجھے  بتاؤ کہ کون کون میرے حکم کو مانتا ہے اور کون کون حکم کو نہیں مانتا اور خط کے جواب کے ساتھ حسین ابن علی کا سر بھی مجھے بیجھو۔

ألامالي، شيخ صدوق، ص 134 و 135 چاپ سال 1389 نجف أشرف عراق ـ بحار الانوار، ج 44، ص 312.

 

بعض عبارتوں میں آیا ہے کہ ولید بن عتبہ نے یزید کو خبر دی اور بتایا کہ اس،امام حسین(ع) اور ابن زبیر کے درمیان واقع ہوا ہے۔ اس پر یزید نے بہت غصہ کیا اور اس کو لکھا کہ:

 

إذا ورد عليك كتابي هذا، فخذ بالبيعة ثانياً علي أهل المدينة بتوكيد منك عليهم، وذر عبد الله بن الزبير، فإنه لن يفوتنا، ولن ينجو منا أبداً ما دام حياً، وليكن مع جوابك إلي، رأس الحسين بن علي، فإن فعلت ذلك فقد جعلت لك أعنة الخيل، ولك عندي الجائزة والحظ الأوفر الخ.

جب میرا خط تمہیں ملے تو مدینے کے لوگوں سے دوبارہ بیعت لو اور اس دوسری بیعت کو پہلی بیعت کی تاکید قرار دو۔ عبد اللہ بن زبیر کو  چھوڑو اس بیعت لینے کا بہت وقت ہے کیونکہ وہ جب تک زندہ ہے وہ ہمارے ہاتھوں سے فرار نہیں کر سکتا۔ ضروری یہ ہے کہ خط کے جواب کے ساتھ حسین ابن علی کا کٹا ہوا سر بھی میرے لیے بیجھو اگر یہ کام کرو گے تو میں تم کو فوج کا سپہ سالار اور ایک قیمتی انعام بھی دوں گا۔

الفتوح، ابن أعثم، ج 3، جزء 5، ص 18.

 

ان کے علاوہ صد ھا متن اور سند موجود ہیں کہ بہترین دلیل ہیں کہ یزید قاتل امام حسین(ع) ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ امام حسین(ع) سے جنگ کرنے ، ان کو شھید کرنے اور ان کا سر مبارک تن سے جدا کرنے کا حکم یزید کے علاوہ کسی اور سے بھی دیا ہے ؟

اس کے علاوہ اگر یہ فرض کریں کہ امام حسین(ع) کو قتل کرنے کا حکم یزید نے نہیں دیا تو ضروری و واضح تھا کہ جس طرح کہ اس کی طرف سے قتل کرنے کا حکم ذکر ہوا ہے اسی طرح اس بات کی نفی بھی کتابوں میں ذکر ہوتی یعنی ذکر ہوتا کہ نہیں یزید نے امام حسین(ع) کے قتل کا حکم نہیں دیا یا کم از کم اسکی طرف سے کہ جہنوں نے امام کو قتل کیا  تھا جیسے ابن زیاد ، عمر ابن سعد، اور شمر ابن ذی الجوشن وغیرہ کسی کتاب میں کسی قسم کی کوئی سزا اور پوچھ پڑتال وغیرہ ہی ذکر ہوتی۔ اور اگر یزید قاتل نہیں تھا یا اس قتل پر راضی نہیں تھا تو کم از کم وہ خوشی و جشن کہ جو کربلاء کے اسیروں کے آنے پر شام کے لوگ منا رہے تھے ان کو اس کام سے منع کرتا اور جشن اور خوشی کرنے والوں کو سزا یا جیل میں ڈالتا۔

امام حسین(ع) کا بد دعا کرنے والے دعوی کا جواب:

بعض لوگ امام حسین(ع) کی اس بد دعا کو دلیل قرار دیتے ہیں کہ واقعا شیعہ ہی امام کے قاتل ہیں۔ چند مطالب مہم قابل ذکر ہیں:

شیعہ کس کو کہتے ہیں ؟

یہ دعوی کرنا کہ شیعوں نے امام حسین(ع) کو شھید کیا ہے خود اس بات میں تضاد ہے کیونکہ کسی بندے کا شیعہ وہ ہوتا ہے جو اس کا تابع و پیرو کار ہو۔ ایک بندہ جو کسی کا قاتل ہو اس کو اس بندے کا شیعہ اور پیرو کار کہنا یہ دو متضاد باتیں ہیں کیونکہ محبت و دوستی اور نفرت و دشمنی آپس میں جمع نہیں ہو سکتے۔

اگر ان کو جو عمر سعد اور ابن زیاد کے لشکر میں تھے اور امام حسین‏(‏ع) سے جنگ کر رہے تھے ، شیعہ کہیں تو پھر وہ جو خون کے آخری قطرے تک امام کے ساتھ رہے اور اسی راہ شھادت کے مرتبے پر فائز ہوئے، ان کو پھر کیا کہیں ؟

اور اگر فرض کریں کہ امام حسین(ع) کو شیعوں نے شھید کیا ہے تو اب یہ کہنا چاہیے کہ وہ ایسے شیعہ تھے جو اپنے شیعہ مذھب کو چھوڑ کر امام کے دشمنوں کے ساتھ مل گئے تھے۔ اس صورت میں وہ بندہ پھر امام کا شیعہ نہیں بلکہ دشمن کہلاتا ہے۔

 

سيد محسن امين كتاب اعيان الشيعه میں لکھتے ہیں کہ:

حاش لله أن يكون الذين قتلوه هم شيعته، بل الذين قتلوه بعضهم أهل طمع لا يرجع إلي دين، وبعضهم أجلاف أشرار، وبعضهم اتبعوا روءساءهم الذين قادهم حب الدنيا إلي قتاله، ولم يكن فيهم من شيعته ومحبيه أحد، أما شيعته المخلصون فكانوا له أنصاراً، وما برحوا حتي قتلوا دونه، ونصروه بكل ما في جهدهم، إلي آخر ساعة من حياتهم، وكثير منهم لم يتمكن من نصرته، أو لم يكن عالماً بأن الأمر سينتهي إلي ما انتهي إليه، وبعضهم خاطر بنفسه، وخرق الحصار الذي ضربه ابن زياد علي الكوفة، وجاء لنصرته حتي قتل معه، أما ان أحداً من شيعته ومحبيه قاتله فذلك لم يكن، وهل يعتقد أحد إن شيعته الخلص كانت لهم كثرة مفرطة؟ كلا، فما زال أتباع الحق في كل زمان أقل قليل، ويعلم ذلك بالعيان، وبقوله تعالي: «وقليل من عبادي الشكور».

سبحان اللہ کہ امام حسین(ع) کے قاتل شیعہ ہوں بلکہ جہنوں نے ان کو شھید کیا ہے وہ دنیا پرست اور بے دین لوگ تھے۔ ان میں سے بعض مفسد اور بعض اپنے سرداروں کے پیچھے لگ کر امام سے جنگ کے لیے گئے تھے۔ ان میں سے کوئی بھی امام کا شیعہ اور محّب نہیں تھا۔ جو بھی امام کا شیعہ تھا وہ مخلصانہ طور پر امام کے ساتھ امام کے لشکر میں تھا۔

بعض شیعہ راستے بند ہونے،بعض جگہ جگہ پر پہرے ہونے اور بعض جانتے ہی نہیں تھے کہ جنگ اور قتل کرنے اور قتل ہونے کی تک نوبت پہنچ جائے گی، کربلاء نہ آئے۔ لیکن بعض جان پر کھیل کر کوفے میں لگائی گئی ابن زیاد کی پابندیوں سے گزرتے گزرتے امام کی مدد کرنے کے لیے کربلاء آئے ۔

لھذا کوئی بھی شیعہ کربلاء میں موجود نہیں تھا جو لشکر ابن زیاد و عمر سعد میں ہو اور اس نے امام سے جنگ کی ہو۔

أعيان الشيعة، ج 1، ص 585.

 

امام حسین(ع) کے دور میں کوفے کی آبادی:

یہ بات ٹھیک ہے کہ وہ لوگ جو امام حسین(ع) سے جنگ کرنے اور امام کو قتل کرنے کے لیے آئے تھے وہ کوفے سے آئے تھے لیکن اس وقت کوفے میں کوئی قابل ذکر شیعہ بچا ہی نہیں تھا کیونکہ جب معاویہ حاکم بنا تو اس نے زیاد ابن ابیہ کو کوفہ کا حاکم بنایا اور ساتھ حکم بھی دیا کہ کوفے میں تمام شیعوں کو چن چن کر قتل کر دو۔ زیاد ابن ابیہ کیونکہ کوفے کے حالات اور تمام شیعوں کو مکمل طور پر جانتا تھا۔ اس نے معاویہ کے حکم پر مکمل طور پر عمل کیا اور شیعوں کا قتل عام ، ان کے گھروں کو گرانا، اموال کو لوٹنا و غارت کرنا اور بعض کو زندان میں ڈالنا  شروع کر دیا۔ اس حالت کے بعد کوفہ بالکل شیعوں سے خالی ہو گیا۔

کتب تاریخی کے مطابق اس وقت کوفے کی آبادی میں تقریبا 15000 شیعہ رہتے تھے کہ بہت سے ان میں سے معاویہ کے دور میں کوفے سے نکال دئیے گئے یا بعض کو جیلوں میں ڈال دیا گیا اور بہت سے شیعوں کو شھید کر دیا گیا۔ باقی بعض مشکلات کی خاطر موصل، خراسان اور قم کی طرف ہجرت کر کے چلے گئے تھے۔ قبیلہ بنی غاضرہ کے شیعہ امام کی نصرت کے لیے جانا چاہتے تھے لیکن ابن زیاد کے سپاہیوں نے ان کو جانے سے روک دیا۔

ابن أبي الحديد معتزلی اس بارے میں لکھتا ہے کہ:

كتب معاوية نسخة واحدة إلي عُمَّاله بعد عام المجُاعة: (أن برئت الذمّة ممن روي شيئاً من فضل أبي تراب وأهل بيته). فقامت الخطباء في كل كُورة وعلي كل منبر يلعنون عليًّا ويبرأون منه، ويقعون فيه وفي أهل بيته، وكانأشد الناس بلاءاً حينئذ أهل الكوفة لكثرة ما بها من شيعة علي عليه السلام، فاستعمل عليهم زياد بن سُميّة، وضم إليه البصرة، فكان يتتبّع الشيعة وهو بهم عارف، لأنه كان منهم أيام علي عليه السلام، فقتلهم تحت كل حَجَر ومَدَر وأخافهم، وقطع الأيدي والأرجل، وسَمَل العيون وصلبهم علي جذوع النخل، وطردهم وشرّدهم عن العراق، فلم يبق بها معروف منهم.

معاویہ نے خشک سالی اور قحطی والے سال کے بعد اپنے وزیر کو ایک سرکاری حکم نامہ لکھا کہ جو بھی ابو تراب کے اور اس کے خاندان کے فضائل میں سے کوئی چیز نقل کرے اور کی کوئی ذمہ داری تم پر نہیں ہے (یعنی تم جو بھی اس بندے کے ساتھ کرنا چاہتے ہو تم آزاد ہو کوئی تمہیں پوچھنے والا نہیں ہے )۔ اسی وجہ سے سرکاری و درباری ملاؤں نے منبر پر علی(ع) اور ان کے خاندان پر لعنت و سبّ کرنا شروع کر دی۔ ان حالات میں بد بخت ترین لوگ کوفہ کے تھے کیونکہ اس شھر میں شیعہ زیادہ تھے۔ اسی وجہ سے معاویہ نے زیاد بن سمیّہ کو کوفہ کا حاکم بنایا در حالیکہ زیاد اس وقت شھر بصرے کا بھی حاکم تھا۔ زیاد کوفے کے اور شیعوں کے حالات سے واقف تھا۔ اس نے شیعوں کو چن چن کر حتی پتھروں کے نیچے چھپے ہوئے شیعوں کو بھی نکال نکال کر قتل کرنا شروع کیا۔ وہ ان کے ہاتھوں پیروں کو کاٹ دیتا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کر دیتا اور پھر کھجور کے درخت پر لٹکا کر پھانسی دے دیتا یا ان کو عراق سے ہی باہر نکال دیتا۔ یہاں تک کہ کوفے میں کوئی قابل ذکر شعیہ باقی نہیں بچا تھا۔

شرح نهج البلاغة، ج11، ص 44 ـ النصايح الكافية، محمد بن عقيل، ص 72.

 

طبرانی نے  المعجم الكبير میں يونس بن عبيد اور حسن سے نقل کیا ہے کہ:

كان زياد يتتبع شيعة علي رضي الله عنه فيقتلهم، فبلغ ذلك الحسن بن علي رضي الله عنه فقال: اللهم تفرَّد بموته، فإن القتل كفارة.

زیاد شیعوں کے پیچھے لگا رہتا تھا۔ جب بھی کوئی شیعہ نظر آتا اس کو فوری قتل کر دیتا۔ جب یہ خبر حسن بن علي (ع) کو ملی تو امام نے فرمایا کہ خدایا اس کو ایسی موت مار کہ کوئی نہ مرا ہو کیونکہ قتل کا بھی کفارہ ہوتا ہے۔

المعجم الكبير، طبراني، ج 3، ص 68 ـ مجمع الزوائد، هيثمي، ج 6، ص 266.

 

هيثمی اس خبر کے بعد کہتا ہے کہ:

رواه الطبراني ورجاله رجال الصحيح.

اس روایت کو  طبرانی نے  نقل كیا ہے اس کے سارے راوی صحیح ہیں۔

اسی طرح  ذهبی نے سير أعلام النبلاء میں کہا ہے کہ:

قال أبو الشعثاء: كان زياد أفتك من الحجاج لمن يخالف هواه.

أبو الشعثاء کہتا ہے کہ جو بھی زیاد کی بات کے خلاف بات کرتا تھا وہ اس کو حجّاج بن یوسف سے بھی زیادہ برے طریقے سے قتل کر دیتا تھا۔

حسن بصری کہتا ہے کہ:

بلغ الحسن بن علي أن زياداً يتتبَّع شيعة علي بالبصرة فيقتلهم، فدعا عليه. وقيل: إنه جمع أهل الكوفة ليعرضهم علي البراءة من أبي الحسن، فأصابه حينئذ طاعون في سنة ثلاث وخمسين.

امام حسن بن علی(ع) کو خبر دی گئی کہ زیاد کوفے میں شیعوں کا قتل عام کر رہا ہے۔ امام نے اسے بد دعا دی۔ کہا گیا ہے کہ زیاد نے کوفہ کے لوگوں کو جمع کیا اور ان سب سے کہا کہ امام حسن(ع) سے بیزاری کا اعلان کریں کہ زیاد اسی وقت سال 53 ھج میں طاعون کی بیماری میں مبتلا ہو گیا۔

سير أعلام النبلاء، ج 3، ص496.

 

ابن أثير کتاب الكامل میں کہتا ہے کہ:

وكان زياد أول من شدد أمر السلطان، وأكّد الملك لمعاوية، وجرَّد سيفه، وأخذ بالظنة، وعاقب علي الشبهة، وخافه الناس خوفاً شديداً حتي أمن بعضهم بعضاً.

زیاد پہلا وہ بندہ تھا جس نے اپنی حکومت میں سب سے زیادہ سخت گیری و مظالم کئے اور معاوئیے کی حکومت اور سلطنت کو طاقت بخشی۔ اس نے اپنی تلوار کو نیام سے نکالا اور جس پر تھوڑا سا بھی شیعہ ہونے کا گمان ہوتا تھا اس کو گرفتار اور سزا دیتا تھا۔ لوگ اس کے دور میں عجیب خوف اور نا امنی کا شکار تھے۔

الكامل في التاريخ، ابن اثير، ج 3، ص450.

ابن حجر اپنی کتاب لسان المیزان میں کہاتا ہے کہ:

وكان زياد قوي المعرفة، جيد السياسة، وافر العقل، وكان من شيعة علي، وولاَّه إمرة القدس، فلما استلحقه معاوية صار أشد الناس علي آل علي وشيعته، وهو الذي سعي في قتل حجر بن عدي ومن معه.

زیاد ایک ہوشیار و ذہین انسان تھا اور سیاست کو بھی خوب جانتا تھا وہ پہلے شیعیان علی(ع) میں سے تھا لیکن جب وہ معاویہ سے مل گیا تو اس نے سخت ترین اور بد ترین مظالم خاندان اور شیعیان علی(ع) پر ڈھائے۔ زیاد وہی بندہ تھا جس نے حجر ابن عدی اور کے ساتھیوں کے قتل میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

لسان الميزان، ابن حجر، ج 2، ص 495.

مذکورہ مطالب کی روشنی میں واضح ہو گیا کہ واقعہ کربلاء کے وقت کوفہ میں کوئی قابل ذکر شیعہ بچا ہی نہیں تھا کہ جو امام حسین(ع) سے جنگ کرنے کے لیے کربلاء آیا ہو۔ پس کیسے یہ دعوی کیا جا سکتا ہے کہ کوفہ کے شیعوں نے امام حسین(ع) کو شھید کیا ہے ؟

کوئی بھی با انصاف انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ شیعوں نے امام حسین(ع) کو خط لکھے ہیں اور آنےکی دعوت دی ہے کیونکہ معروف ترین بندے جہنوں  نے خط لکھے ہیں وہ شبث بن ربعي و حجار بن أبجر و عمرو بن حجاج و غيره ہیں کہ کسی نے بھی نہیں کہا کہ یہ شیعہ تھے۔

تین خلفاء کے دور میں اہل کوفہ کی حالت:

بہت سی روایات اور کتب تاریخی دلالت کرتی ہیں کہ اس دور میں اہل کوفہ علی(ع) سے پہلے تین خلفاء کے حامی اور طرف دار تھے۔ بہترین دلیل اس مطلب پر یہ واقعہ ہے کہ بہت سے مصنّفین نے اپنی کتابوں اس کو ذکر کیا ہے۔

وہ یہ کہ ہو جب علی(ع) خلیفہ بنے تو انھوں نے جب چاھا کہ عمر کی ایجاد کی ہوئی بدعت(نماز تراویح) کو ختم کریں تو انھوں نے امام حسن(ع) کو حکم دیا کہ مسجد جائے اور لوگوں کو اس کام سے منع کرے۔ جب لوگوں کو اس بات کا علم ہوا تو بس نے کہا «وا عمراه، وا عمراه» عمر کی سنت کو کیا کر رہے ہو عمر کی سنت کو کیا کر رہے ؟ اس پر علی(ع) نے فرمایا کہ «قل لهم صلوا» ان سے کہو کہ جیسے تمہارا دل ہے نماز پڑھو۔

وقد روي : أن عمر خرج في شهر رمضان ليلا فرأي المصابيح في المسجد ، فقال : ما هذا ؟ فقيل له: إن الناس قد اجتمعوا لصلاة التطوع ، فقال : بدعة فنعمت البدعة ! فاعترف كما تري بأنها بدعة، وقد شهد الرسول صلي الله عليه وآله أن كل بدعة ضلالة . وقد روي أن أمير المؤمنين عليه السلام لما اجتمعوا إليه بالكوفة فسألوه أن ينصب لهم إماما يصلي بهم نافلة شهر رمضان ، زجرهم وعرفهم أن ذلك خلاف السنة فتركوه واجتمعوا لأنفسهم وقدموا بعضهم فبعث إليهم ابنه الحسن عليه السلام فدخل عليهم المسجد ومعه الدرة فلما رأوه تبادروا الأبواب وصاحوا وا عمراه !

روایت ہوئی ہے کہ عمر ماہ رمضان میں رات کو گھر سے باہر آیا دیکھا کہ مسجد میں روشنی ہے۔ عمر نے پوچھا کہ اس وقت مسجد میں کیا ہو رہا ہے ؟ کہا گیا کہ لوگ مستحبی نماز پڑھ رہے ہیں( نماز مستحب با جماعت) عمر نے کہا یہ کام بدعت ہے لیکن اچھی بدعت ہے۔ خود عمر اعتراف ار رہا ہے کہ یہ کام بدعت ہے۔

رسول خدا(ص) نے فرمایا ہے کہ ہر بدعت گمراہی ہے۔ جب علی(ع) خلیفہ بنے تو انھوں نے جب چاھا کہ عمر کی ایجاد کی ہوئی بدعت(نماز تراویح) کو ختم کریں تو انھوں نے امام حسن(ع) کو حکم دیا کہ مسجد جائے اور لوگوں کو اس کام سے منع کرے۔ جب لوگوں کو اس بات کا علم ہوا تو بس نے کہا «وا عمراه، وا عمراه» عمر کی سنت کو کیا کر رہے کیا تم عمر کی سنت کو ختم کرنا چاہتے ہو ؟

شرح نهج البلاغة ابن أبي الحديد از علماي اهل سنت، ج 12، ص 283 ـ وسائل الشيعة (الإسلامية) مرحوم حر عاملي از علماي شيعه، ج 5، ص 192، ح 2.

 

یہ واقعہ اس قدر بڑا ہو گیا تھا کہ مولا علی(ع) نے مسجد میں خطبہ پڑھا اور فرمایا:

میں نے اس تراویح کے مسئلے میں فقط کوفے میں حکومت اسلامی اور وحدت امت کے لیے زیادہ سختی سے کام نہیں لیا۔

مولا علی(ع) کا یہ قول واضح کرتا ہے کہ کوفے کے اکثر لوگ تابع و پیرو کار عمر تھے لھذا یہ کہنا کہ کوفے میں فقط شیعہ رہتے تھے غلط بات ہو گی۔

 

علي بن إبراهيم، عن أبيه، عن حماد بن عيسي، عن إبراهيم بن عثمان، عن سليم بن قيس الهلالي قال: خطب أمير المؤمنين عليه السلام فحمد الله وأثني عليه ثم صلي علي النبي صلي الله عليه وآله، ثم قال... قد عملت الولاة قبلي أعمالا خالفوا فيها رسول الله صلي الله عليه وآله متعمدين لخلافه، ناقضين لعهده مغيرين لسنته ولو حملت الناس علي تركها وحولتها إلي مواضعها وإلي ما كانت في عهد رسول الله صلي الله عليه وآله لتفرق عني جندي حتي أبقي وحدي أو قليل من شيعتي الذين عرفوا فضلي وفرض إمامتي من كتاب الله عز وجل وسنة رسول الله صلي الله عليه وآله ... والله لقد أمرت الناس أن لا يجتمعوا في شهر رمضان إلا في فريضة وأعلمتهم أن اجتماعهم في النوافل بدعة فتنادي بعض أهل عسكري ممن يقاتل معي: يا أهل الاسلام غيرت سنة عمر ينهانا عن الصلاة في شهر رمضان تطوعا ولقد خفت أن يثوروا في ناحية جانب عسكري ما لقيت من هذه الأمة من الفرقة وطاعة أئمة الضلالة والدعاة إلي النار.

امیر المؤمنین علی (ع) نے خطبہ پڑھا اور کہا:

مجھ سے پہلے خلفاء نے ایسے کام انجام دئیے ہیں کہ انھوں نے ان کاموں میں سنت رسول خدا(ص) کی مخالفت کی ہے اور انھوں نے یہ مخالفت جان بوجھ کر کی ہے۔ اب اگر میں لوگوں کو کہوں کہ یہ سنت نہیں ہے اور ان کو سیدھا سنت کا راستہ دکھاؤں تو خود میرا لشکر مجھ سے دور ہو جائے گا اور اس کام میں کوئی بھی میری مدد کرنے کو تیار نہیں ہو گا۔

خدا کی قسم میں نے لوگوں کو کہا ہے کہ ماہ رمضان میں مستحب نماز کو جماعت کے ساتھ نہ پڑھو کیونکہ یہ کام بدعت ہے۔ میری اس بات پر لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ اے اہل اسلام عمر کی سنت تبدیل کر دی گئی ہے۔ میں نے فقط امت اسلامی میں تفرقے کے ڈر سے کسی کو کچھ نہیں کہا بس اتنا کہا ہے کہ بدعت کو انجام دینے والا جھنم میں داخل ہو گا۔

الكافي، شيخ كليني، ج 8، ص 58، ح 21

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ علی(ع) اپنے زمانے میں بھی کوفے میں شیعہ کو اقلیت میں مانتے تھے۔

 

شیعوں سے خالی کوفہ:

مہم ترین افراد کہ جہنوں نے امام حسین(ع) سے جنگ کی اور امام کو شھید کیا ان میں عمر بن سعد بن أبي وقاص و شمر بن ذی الجوشن و شبث بن ربعی و حجار بن أبجر و حرملة بن كاهل و سنان وغیرہ کا نام قابل ذکر ہے۔

جتنے بھی افراد کے نام ذکر ہوئے ہیں ان میں سے ایک فرد بھی شیعہ معروف و مشھور نہیں ہے۔

 

کوفہ مرکز حنفيان:( پیروان ابو حنیفہ)

 

کتب اسلامی اور فقھی میں یہ عبارت ذکر ہے کہ « هذا راي كوفي» یعنی یہ نظر و رائے ابو حنیفہ کے پیروکاروں میں سے ایک کی ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ شهادت امام حسين (ع) سے چند سال بعد کوفہ حنفیوں کا مرکز بن گیا تھا اور یہ بات کوفے میں شیعوں کی کثرت سے ہونے کی نفی کرتی ہے۔

امام حسین(ع) کے قاتل شیعہ آل ابی سفیان:

امام حسین(ع) نے روز عاشورا لشکر یزید میں کافی سارے خطبے پڑھے ہیں ۔ان میں سے ایک خطبہ ہے جو امام نے اپنی شھادت سے بالکل تھوڑی دیر پہلے پڑھا ہے اور اس قوم ظالم کو اس طرح خطاب کیا ہے:

 

ويحكم يا شيعة آل أبي سفيان! إن لم يكن لكم دين، وكنتم لا تخافون المعاد، فكونوا أحراراً في دنياكم هذه، وارجعوا إلي أحسابكم إن كنتم عُرُباً كما تزعمون.

افسوس ہے تم پر اے پیروان آل ابی سفیان، اگر تمہارا کوئی دین نہیں ہے اور تمہارا قیامت کے دن پر بھی ایمان نہیں ہے تو کم از کم دنیا میں غیرت سے کام لو اور اپنے حسب نسب کی طرف توجہ کرو کہ تم اپنے آپ کو عرب کہتے ہو۔

مقتل الحسين، خوارزمي، ج 2، ص 38 ـ بحار الأنوار، ج 45، ص 51 ـ اللهوف في قتلي الطفوف، ص 45.

 

امام کے قاتلوں نے کن الفاظ سے امام حسین(ع) کو پکارا ہے:

روز عاشورا جنگ کے دوران لشکر یزید کے سپاہیوں نے جن الفاظ سے امام حسین(ع) کو پکارا ہے وہ بہترین دلیل اور معیار ہے یہ دیکھنے کے لیے کہ جہنوں نے امام سے جنگ کی ہے کیا وہ شیعہ ہیں یا نہیں ؟

بعض امام کو کہتے تھے کہ:

«إنما نقاتلك بغضاً لأبيك» کہ ہم تمہارے باپ سے بغض و کینے کی وجہ سے تم سے جنگ کر رہے ہیں۔

علی(ع) کی نسبت کیا کوئی شیعہ ایسی بات کر اور ایسا عقیدہ رکھ سکتا ہے ؟

ينابيع المودة، قندوزي حنفي، ص 346.

یا بعض نے امام حسین(ع) کو ایسے پکارا ہے:

يا حسين، يا كذّاب ابن الكذّاب.

اے حسین اے جھوٹے اور جھوٹے کے بیٹے!

الكامل، ابن أثير، ج 4، ص 67.

یا ایک دوسری جگہ ہے کہ:

يا حسين أبشر بالنار.

اے حسین ہم تمہیں جھنم میں جانے کی خوش خبری دیتے ہیں۔

الكامل، ابن أثير، ج 4، ص66 ـ البداية والنهاية، ج 8، ص 183.

 

 ایک دوسرے سپاہی کے الفاظ ہیں کہ:

إنها لا تُقْبَل منكم.

یہ نماز جو تم پڑھ رہے ہو اللہ اس نماز کو قبول نہیں کرے گا۔

البداية والنهاية، ابن كثير، ج 8، ص 185.

 

 کیا امام حسین(ع) کے لیے ایسے الفاظ استعمال کرنے والا بندہ شیعہ ہو سکتا ہے ؟؟؟

 

قاتلوں کے مظالم بتاتے ہیں کہ وہ کون تھے ؟

یہ قاتل نہ یہ کہ شیعہ و محّب امام حسین(ع) نہیں تھے بلکہ امام کے بدترین دشمنوں میں سے تھے کیونکہ ان قاتلوں نے نہ صرف امام حسین(ع) اور ان کے اہل بیت و اصحاب کو بلکہ 6 ماہ کے معصوم بچّے کو شدید پیاس کی حالت میں پانی نہیں دیا اور اسی پیاس کی حالت میں شھید کر دیا۔ پھر شھید کرنے کے بعد شھداء کے جسموں کو گھوڑوں کے سمّوں کے نیچے پامال کیا۔ سروں کو بدن سے جدا کیا اور عورتوں و بچّوں کو قیدی بنا لیا۔ اموال کو اور خیموں کو لوٹ کر لے گئے۔

ایسا تو ایک بدترین دشمن بھی انسان کے ساتھ نہیں کرتا تو ایک انسان کے شیعہ اور پیرو کار اس انسان پر اتنے مظالم کیسے کر سکتے ہیں ؟؟؟

ابن أثير اپنی تاریخ میں لکھتا ہے کہ:

ثم نادي عمر بن سعد في أصحابه مَن ينتدب إلي الحسين فيُوطئه فرسه، فانتدب عشرة، منهم إسحاق بن حيوة الحضرمي، وهو الذي سلب قميص الحسين، فبرص بعدُ، فأتوا فداسوا الحسين بخيولهم حتي رضّوا ظهره وصدره.

عمر سعد نے اپنے لشکر میں بلند صدا دی کہ کون اپنے گھوڑے کے ساتھ حسین کے بدن کو پامال کرے گا ؟ لشکر میں سے دس سپاہی کہ ان میں سے ایک اسحاق بن حیوہ حضرمی تھا کہ جس نے امام کے لباس کو لوٹا تھا یہ بعد میں برص و جزّام کے مرض میں مبتلا ہوا تھا،تیار ہوئے یہ کام کرنے پر۔ انھوں نے امام حسین(ع) کے سینے اور کمر کو اتنا پامال کیا کہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔

الكامل، ابن أثير، ج 4، ص80.

یہی دوسری جگہ لکھتا ہے کہ:

وسُلِب الحسين ما كان عليه، فأخذ سراويله بحر بن كعب، وأخذ قيس بن الأشعث قطيفته، وهي من خز، فكان يُسمَّي بعدُ (قيس قطيفة)، وأخذ نعليه الأسود الأودي، وأخذ سيفه رجل من دارم، ومال الناس علي الورس والحلل فانتهبوها، ونهبوا ثقله وما علي النساء، حتي إن كانت المرأة لتنزع الثوب من ظهرها فيؤخذ منها.

امام حسین(ع) کے تمام اموال کو لوٹ کر لے گئے۔ امام کی شلوار کو بحر بن کعب اور امام کی چادر کو قیس بن اشعث نے لوٹا۔ اسی وجہ سے وہ قیس قطیفہ کے نام سے مشھور ہو گیا تھا، امام کے جوتوں کو اسود اودی اور امام کی تلوار کو قبیلہ دارم کے ایک بندے نے لوٹا اور اسی طرح بعض نے سرخ رنگ کا لباس اور بعض دوسری قیمتی اشیاء کو لوٹا۔ اسی طرح جو کچھ عورتوں کے پاس تھا لوٹ کر لے گئے یہاں تک کہ اگر ایک عورت ایک لباس یا چادر کو بدن پر لیتی تو وہ پیچھے سے چھین کر لے جاتے تھے۔

الكامل، ابن أثير، ج 4، ص 79.

 

ابن كثير أبو مخنف سے نقل کرتا ہے کہ:

وأخذ سنان وغيره سلبه، وتقاسم الناس ما كان من أمواله وحواصله، وما في خبائه حتي ما علي النساء من الثياب الطاهرة.

سنان اور بعض دوسروں نے امام حسین(ع) کے کھجور سے بنے بوریا کو لوٹا اور تمام اموال کو جو خیمے میں تھے آپس میں تقسیم کر لیا حتی عورتوں کے لباس بھی لوٹ کر لے گئے۔

 

وجاء عمر بن سعد فقال: ألا لا يدخلن علي هذه النسوة أحد، ولا يقتل هذا الغلام أحد، ومن أخذ من متاعهم شيئاً فليردّه عليهم. قال: فوالله ما ردَّ أحد شيئاً.

عمر سعد نے لشکریوں سے کہا خبر دار کوئی عورتوں کو تنگ نہ کرے یا اس جوان کو کوئی قتل نہ کرے اور جس نے جو چیز بھی لوٹی ہے اسکو واپس کر دے۔ راوی کہتا ہے خدا کی قسم کسی ایک نے بھی کوئی چیز واپس نہ کی۔

البداية والنهاية، ابن كثير، ج 8، ص190.

 ان تمام مظالم و لوٹ مار کو کوئی انسان کا بد ترین دشمن بھی نہیں کرتا تو پھر اک انسان کے پیروکار کہ جو اس کے شیعہ ہیں، کیسے اپنے امام پر اتنے درد ناک مظالم ڈھا سکتے ہیں ؟

 

قاتلوں کے ناموں سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ کون تھے ؟

جو دلائل ابھی تک ذکر ہوئے ہیں اگر کوئی قبول نہ کرے اور پھر بھی اصرار کرے کہ امام حسین(ع) کو شیعوں نے ہی شھید کیا ہے تو کیا جن قاتلوں کے نام ذکر کیے جا رہے ہیں وہ امام حسین(ع) و مولا علی(ع) کے شیعوں اور محبّت کرنے والوں میں سے ہیں ؟

ان قاتلوں میں سے:

يزيد بن معاوية ـ عبيد الله بن زياد ـ عمر بن سعد ـ شمر بن ذی الجوشن ـ قيس بن أشعث بن قيس ـ عمرو بن حجاج زبيدی ـ عبد الله بن زهير أزدی ـ عروة بن قيس أحمسی ـ شبث بن ربعی يربوعی ـ عبد الرحمن بن أبی سبرة جعفی ـ حصين بن نمير ـ حجار بن أبجر.

اور بعض دوسرے کہ جن کے نام اب ذکر کیے جا رہے ہیں اور جو خود واقعہ کوبلاء میں موجود تھے۔ ان میں سے:

 

سنان بن أنس نخعی ـ حرمله كاهلی ـ منقذ بن مره عبدی ـ أبو الحتوف جعفی ـ مالك بن نسر كندی ـ عبد الرحمن جعفی ـ قشعم بن نذير جعفی ـ بحر بن كعب بن تيم الله ـ زرعة بن شريك تميمی ـ صالح بن وهب مری ـ خولی بن يزيد أصبحی ـ حصين بن تميم و غيره...

ان میں سے ایک بندہ بھی امام حسین(ع) کے شیعوں میں سے نہیں ہے۔ اس کے علاوہ قابل غور بات یہ ہے کہ آج اس زمانے میں کون لوگ امام حسین(ع) اور ان کے باوفا اصحاب کے ناموں پر اپنے اور اپنے بچوں کے نام رکھ رہے ہیں اور کون لوگ یزید اور اس کے ساتھیوں کے ناموں پر اپنے اور اپنے بچوں کے نام رکھ رہے ہیں ؟؟؟

 

یزید کی نظر میں قاتل کون ہیں ؟

 

یزید کہ جس کا امام حسین(ع) کے شھید کرنے میں اہم ترین کردار ہے، خود اس نے نہیں کہا کہ یہ شیعہ تھے کہ جہنوں نے امام حسین(ع) کو شھید کیا ہے اگر یہ بات ٹھیک یا مشھور ہوتی تو یزید جیسا بندہ ضروری اس کو بیان کرتا بلکہ وہ امام حسین(ع) کا قاتل کو عبید اللہ ابن زیاد حاکم کوفہ کو کہہ رہا ہے تا کہ یزید اپنے سر سے اس قتل کا ذمہ اتار سکے۔

 

ابن كثير و ذهبی و غیرہ نے لکھا ہے کہ:

لما قتل عبيدُ الله الحسينَ وأهله بعث برؤوسهم إلي يزيد، فسُرَّ بقتلهم أولاً، ثم لم يلبث حتي ندم علي قتلهم، فكان يقول: وما عليَّ لو احتملتُ الأذي، وأنزلتُ الحسين معي، وحكَّمته فيما يريد، وإن كان عليَّ في ذلك وهن، حفظاً لرسول الله صلي الله عليه وسلم ورعاية لحقه، لعن الله ابن مرجانة يعني عبيد الله فإنه أحرجه واضطره، وقد كان سأل أن يخلي سبيله أن يرجع من حيث أقبل، أو يأتيني فيضع يده في يدي، أو يلحق بثغر من الثغور، فأبي ذلك عليه وقتله، فأبغضني بقتله المسلمون، وزرع لي في قلوبهم العداوة.

جب عبید اللہ ابن زیاد نے امام حسین(ع) اور انکے اصحاب کو شھید کیا اور ان کے سروں کو یزید کے لیے بیجھا تو ابتداء میں یزید اس کام اور فتح پر خوش ہوا  لیکن زیادہ وقت نہ گزرا کہ ماجرا کربلاء میں اپنے کیے پر بہت پچھتایا اور کہا کہ اگر مجھے ان کی اس قدر تکلیف کا پتا ہوتا تو میں ہر گز ایسا کرنے کا حکم نہ دیتا۔ حسین کو ادھر اپنے پاس بلاتا اور جو کہتا اس پر عمل کرتا۔ حتی یہ کام کرنے میں اگر میری توھین ہوتی میں رسول خدا(ص) کے احترام کی خاطر وہ کام ضرور انجام دیتا۔ خدا کی لعنت ہو مرجانہ کے بیٹے یعنی عبید اللہ ابن زیاد پر اس نے حسین کو سختی و تکلیف دی ہے اور  اس سے کہا ہے کہ جہاں سے آئے ہو یا واپس چلے جاؤ یا شام جا کر میری(یزید) بیعت کرے یا کسی بھی ملک کی سرحد پر جا زندگی گزارے۔

لیکن حسین نے ان تمام کاموں کے کرنے سے انکار کیا اور اسی پر ابن زیاد نے اسے قتل کر دیا ہے۔ ابن زیاد نے اپنے اس کام سے مسلمانوں کے دل میں میرے لیے بغض و کینہ اور دشمنی ڈالی ہے۔

    سير أعلام النبلاء، ج 3، ص 317 ـ البداية والنهاية، ج 8، ص 35 ـ الكامل في التاريخ، ج 4، ص 87.

 

اس عبارت میں یزید کی کافی ساری باتوں پر تنقید ہو سکتی ہے لیکن اس عبارت میں ہماری توجہ فقط اس مطلب پر ہے کہ یزید نے بھی نہیں کہا کہ امام حسین(ع) کو شیعوں نے قتل کیا ہے۔

جنگ میں صف بندی قاتلوں کی شناخت کے لیے کافی ہے:

اسی زمانے میں اور خاص طور پر میدان جنگ میں جو بندہ بھی امام کے لشکر میں موجود ہوتا وہ امام کا شیعہ کہلاتا اور امام کے مد مقابل ہوتا وہ ہر گز امام کا شیعہ نہیں کہلاتا تھا۔

مثال کے طور پر زھیر بن قین کہ پہلے اس کا مذھب عثمانی اور امام حسین(ع) کا مخالف تھا لیکن جب امام کی صف اور لشکر میں آگیا تو امام کا شیعہ کہلانے لگا۔

 

تاريخ طبری میں زهير کے بارے میں لکھا ہے کہ:

 

فقال له زهير يا عزرة إن الله قد زكاها وهداها فاتق الله يا عزرة فإني لك من الناصحين أنشدك الله يا عزرة أن تكون ممن يعين الضلال علي قتل النفوس الزكية قال يا زهير ما كنت عندنا من شيعة أهل هذا البيت إنما كنت عثمانيا.

زھیر نے عزرہ سے کہا کہ: خداوند نے اسے پاک کیا اور ھدایت کی ہے پس خدا سے ڈرو کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں۔ خبر دار کہ تم گمراہ لوگوں کی پاک لوگوں کو قتل کرنے میں مدد کرو۔ عزرہ نے جواب دیا: اے زھیر ہم تم کو خاندان اہل بیت  کا شیعہ نہیں جانتے تھے (لیکن آج تم حسین کی حمایت کر ہے ہو) حالانکہ اس سے پہلے تم عثمانی تھے۔

تاريخ طبري، ج 4، ص 316.

اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں طرف کے لشکر میں فقط حاضر ہونے سے وہ بندہ یا امام حسین(ع) کا  شیعہ کہلاتا تھا یا امام کا  دشمن۔

کوفہ میں باقی ماندہ کم شیعوں کا امام حسین(ع) کی نصرت کرنے کی کوشش کرنا:

معاویہ کے حکم پر شیعیان کوفہ کے قتل عام ، کوفہ سے فرار ،زندان میں ڈالنے اور جلا وطن کرنے کے بعد باقی جو کم شیعہ کوفہ میں بچ گئے تھے کتب تاریخی کی روشنی میں ان کم شیعوں نے بھی کوشش کی کہ امام حسین(ع) کی نصرت کے لیے کربلاء جائیں لیکن ان کو بھی ابن زیاد کے سپاہیوں نے گرفتار کر لیا۔ بہت ہی کم شیعہ جیسے زھیر اور حبیب ابن مظاھر یہ ابن زیاد کی تمام رکاوٹوں کو تھوڑ کر کربلاء میں پہنچنے میں کامیاب ہوئے اور باقی امام کی شھادت کے بعد کربلاء پہنچے تھے۔

لھذا کوئی شیعہ ہی کوفے میں باقی نہیں رہ گیا تھا کہ جو امام حسین(ع) سے جنگ کرن کے لیے کربلاء جاتا۔

امام حسین(ع) کی بیعت کرنا اور انکو کوفے آنےکی دعوت دینا، یہ شیعہ ہونے کی دلیل نہیں ہے:

بععض لوگ کہتے ہیں کہ کیونکہ اہل کوفہ نے امام حسین(ع) کی بیعت کی تھی اور ان کو کوفہ آنے کی دعوت دی تھی اور شیعہ تھے پس شیعوں نے ہی امام کو شھید کیا ہے۔

حالانکہ بیعت          ہرگز شیعہ ہونے کی علامت نہیں ہے کیونکہ اس بات کا معنی یہ ہے کہ وہ تمام صحابہ اور تابعین کہ جہنوں نے علی(ع) کی بیعت کی تھی وہ سب علی(ع) کے شیعہ ہوں حالانکہ آج تک کسی نے یہ بات نہیں کی۔ حتی بہت سے بیعت کرنے والوں نے خود علی(ع) سے جنگیں کی ہیں۔ لھذا فقط اس بات سے کہ اہل کوفہ نے امام حسین(ع) کو خط لکھے ہیں اور امام کو کوفہ آنے کی دعوت دی ہے، یہ نتیجہ نکالنا کہ اہل کوفہ نے ایک قسم کی امام سے بیعت کی ہے اور اس سے یہ نتیجہ لینا کہ شیعوں نے ہی امام اور ان کے اصحاب کو شھید کیا ہے۔ یہ باکل غلط اور انصاف سے دور بات ہے۔

پس معلوم ہوا کہ کوفہ کے لوگ امام علی(ع) اور امام حسین(ع) کے دور میں دو گروہ تھے:

1-  شیعہ خاص: یعنی جو اہل بیت سے محبت اور ان کے دشمنوں سے نفرت کرتے تھے۔

اس قسم کے شیعہ باکل عمر سعد اور ابن زیاد کے لشکر میں نہیں تھے کیونکہ اس طرح کے خاص شیعہ امام حسین(ع) کے ساتھ اور ان کے لشکر مین تھے اور خون کے آخری قطرے تک امام کی نصرت میں لڑتے رہے اور اسی راہ میں شھید ہوئے۔

2-  شیعہ عام: یعنی یہ اہل بیت سے محبت کرتے تھے لیکن ان کے دشمنوں سے نفرت و دشمنی نہیں کرتے تھے۔ یہ وہی ہیں کہ جو اہل بیت کی امامت کے خدا کی طرف سے ہونے کو قبول نہیں کرتے۔ ممکن ہے لشکر عمر سعد اور ابن زیاد میں ایسے شیعہ موجود ہوں۔

 

لعن الله امة اسست اساس الظلم و الجور عليكم اهل البيت و لعن الله امة دفعتكم عن مقامكم و ازالتكم عن مراتبكم التي رتبكم الله فيها و لعن الله امة قتلتكم و لعن الله الممهدين لهم بالتمكين من قتالكم. برئتُ الي الله واليكم منهم و من اشياعهم و اتباعهم و اوليائهم...و اكرمني بك ان يرزقني طلب ثارك مع امام منصور من اهل بيت محمد صلي الله عليه و آله.

 

                                                    





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی