2017 December 15
علمائے مکه: وہابی، خوارج اور ملحد ہیں + دستاویز
مندرجات: ٢٥٨ تاریخ اشاعت: ١١ September ٢٠١٦ - ١٠:٠٦ مشاہدات: 921
وھابی فتنہ » پبلک
علمائے مکه: وہابی، خوارج اور ملحد ہیں + دستاویز

اس دستاویز میں علما ئے مکہ نے، شہر مکہ کو وہابیوں سے پاک کرنے کے سلسلے میں محمد علی پاشا کا شکریہ ادا کیا تھا اور محمد علی پاشا کو مخاطب کرکے کہا تھا:

"آپ اللہ کے فضل و کرم سے فاسق خارجیوں، ظالموں، فاسدوں اور ملحدوں [ وہابیوں] پر کامیاب ہوگئے کہ جو جزیرہ العرب میں فساد برپا کرنا چاہ رہے تھے ۔

چچن کے شھر گروزنی میں اھل سنت کے مذھبی رہنماوں کی حالیہ میٹنگ نے ایک بار پھر علمائے اھل سنت کے وہابی فرقہ کے ساتھ بنیادی اور تاریخی اختلافات عیاں کردئے ہیں۔

اھل سنت کے مذھبی رھنماوں کی اس میٹنگ سے کافی خلفشار پیدا ہوگیا ہے یہ میٹنگ مذھب اھل سنت کی اصالت و حقیقت کے بارے میں منعقد ہوئی تھی۔

احمد الطیب کہ جو، مصرکی الازھر یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور اہل سنت کی اہم ترین شخصیتوں میں شمار ہوتے ہیں اس میٹنگ میں شریک تھے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں مذھب اھل سنت کی تعریف کرتے ہوئے، اھل سنت کو اشعری، ماتریدی، اور اھل حدیث میں محدود بتایا۔ ان کی تقریر نے سعودی عرب کی سیاسی اور مذھبی  شخصیتوں کے درمیان خلفشار پیدا کر دیاہے۔

 الازھر کے رابطہ عامہ کے شعبہ نے اس خلفشار کے بعد ایک بیانیہ جاری کیا ہے جس میں علامہ سفارینی سے نقل کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اہل سنت کے تین فرقہ ہیں : ۱۔ اثری { اھل سنت کے چار کلامی مذاھب میں سے ایک مذھب} اس کے امام، احمد بن حنبل ہیں۔ ۲۔ اشعری: اس کےامام، ابوالحسن اشعری ہیں۔ ۳۔ ماتریدی، اس کے امام، ابو منصور الماتریدی ہیں۔
نیزجامعۃ الازھرنے اپنے بیانیہ میں علامہ مرتضی الزبیدی سے نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اہل سنت سے مراد چار فرقے ہیں: اہل اشعری، ماتریدی، صوفی، اور اہل حدیث۔ اوریہ وہی چیز ہے کہ جس کو شیخ الازھر نے اپنی تقریرمیں بیان کیا ہے اور جامعۃ الازھر اس کی تائید کرتا ہے۔
الازھر کے اس بیانیہ سے نہ صرف یہ کہ اس مذھبی ادارہ پر ہونے والے اعتراضات ختم نہیں ہوئے بلکہ سعردی عرب کے مشھور قلمکار محمد آل الشیخ نے اپنے ٹیوٹر صفحہ پر لکھا: شیخ الازھر کا ایسی نشست میں شرکت کرنا کہ جس میں سعودی عرب {وہابی} کو اہل سنت کے زمرہ سے خارج کردیا گیا ہو، ہمیں اس نتیجہ تک پہنچاتا ہے کہ مصرکی بنسبت ہمیں اپنی سیاست میں تبدیلی لانا چاھئے، پھر چاہے مصر اور السیسی { صدر مصر} پر جو بھی حالات گزریں ہمارے لئے اہمیت نہیں رکھتا ہے۔

اس تجزیہ نگار نے الزام لگایا کہ اس میٹنگ کے منعقد کرانے میں ایران، اور روسی اطلاعاتی ادارے سرگرم تھے۔ اس کا کہنا تھا: اس میٹنگ نے علی الاعلان سعودی عرب کو نشانہ بنایا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب کو، اہل سنت والجماعت سے خارج کردیں۔

سعودی عرب کی ھیئت علماء نے بھی اس مسئلہ پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات اسلامی فرقوں میں تفرقہ کا باعث بنیں گے۔ اس ھیئت نے مزید کہا ہے کہ مذھبی علماء و فقھا کے نظریات، مختلف ہیں اور نظریاتی اختلافات کو احترام کی نگاہ دیکھا جانا چاہئے۔

اگرچہ حال حاضرکے سیاسی تناظر میں ظاھرا، سعودی - وہابی حکومت کو دنیا میں اہل سنت کے بہت سے اہم موسسات اور اداروں کی  تائید و حمایت حاصل ہے لیکن ان کے درمیان پوشیدہ اور تاریخی اختلافات ہیں۔ اس سلسلے میں ہاروارڈ یونیورسٹی کے پروفیسر خالد فھمی نے اپنے فیس بک کے صفحہ پر تاریخی دستاویز منتشر کی ہیں: کہ والی مصر محمد علی پاشا کے ذریعہ آل سعود کی پہلی حکومت کے گرائے جانے کے بعد علمائے مکہ نے محمد علی پاشا کا شکریہ ادا کیا تھا۔

اس دستاویز میں علما ئے مکہ نے، شہر مکہ کو وہابیوں سے پاک کرنے کے سلسلے میں محمد علی پاشا کا شکریہ ادا کیا تھا اور محمد علی پاشا کو مخاطب کرکے کہا تھا:

"آپ اللہ کے فضل و کرم سے فاسق خارجیوں، ظالموں، فاسدوں اور ملحدوں [ وہابیوں] پر کامیاب ہوگئے کہ جو جزیرہ العرب میں فساد برپا کرنا چاہ رہے تھے ۔

انھوں [ یعنی وہابیوں] نے اپنے غلط اور کفر آمیز عقائد کے سبب بہت سے مسلمانوں کا خون بہایا تھا اور خانہ خدا کی زیارت میں رکاوٹ بنے تھے۔ لھذا ہم اس نعمت پر اور آپ کے {شجاعت مندانہ } اقدام کی خاطر خدا کا شکر کرتے ہیں اور دعا ہے کہ خداوند عالم دنیا و آخرت میں آپ کو بہترین اجر، عنایت فرمائے۔





 

 


اس وقت جو یہ خلفشار پیدا ہوا ہے اس کا وہابیت کی پیدائش سے گہرا تاریخی بنیادی تعلق ہے۔ اس وہابی فرقہ کے بانی، محمد بن عبد الوہاب کا کہنا تھا کہ اسلامی عقائد ونظریات کی بنیادی اصلاحات ہونا چاہئے مثال کے طور پر قبروں کی زیارت اور اولیاء خدا کو مقدس ماننے کو گناہ اور شرک سمجھتا تھا۔

انہیں [غلط] نظریات وعقائد کے سبب، محمد بن عبد الوہاب کو مدینہ سے نکال دیا گیا تھا جس کے بعد وہ نجد چلا گیا اور وہاں، سعودی خاندان کو اپنے عقائد ونظریات کا مطیع بنا لیا اسی وجہ سے فرقہ وہابیت، سیاسی اعتبار سے سعودی خاندان کا متحد بن گیا۔
محمد بن سعود اور محمد بن عبد الوہاب کے درمیان،سن ۱۱۵۸ھجری میں میثاق الدرعیہ نام کا معاہدہ ہوا جس میں طرفین نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ عوام کے عقائد کی اصلاح کے لئے تحریک قائم کی جائے اور  [وہابی عقائد کی بنیاد پر] جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعہ اپنے مد نظر جس چیز کو کفر و شرک سمجھتے ہیں، اس سے لوگوں کو منع کریں۔

اسی معاہدہ کے پیش نظر محمد بن سعود کے نظریہ کے مطابق، اسلام کے دوسرے تمام فرقوں کے خلاف مقدس جنگ شروع کردی گئی جس کے نتیجہ میں وہابی، نجد پر قابض ہو گئے اور مکہ و مدینہ پر قبضہ جما لیا، عراق میں کربلا پرحملہ کیا اور تقریبآ تمام جزیرہ العرب سوائے یمن کے ان کے قبضہ میں آگئے۔

اس کے بعد مصطفی چہارم سلطان عثمانی سلطنت کی در خواست پر [محمد علی پاشا] نے جو مصر کا والی تھا وہابیوں کی پہلی حکومت کو سن ۱۸۱۸میں ختم کردیا گیا، معاہدہ الدرعیہ نیست و نابود ہوگیا اور سعودی حکام کو پھانسی دیدی گئی۔

لیکن وہابی- سعودی حکومت، فیصل اول کی قیادت میں پھر دوبارہ زندہ ہوگئی اور کسی حد تک آل سعود اپنی حکومت کو بنا نے میں کامیاب ہوگئے اگرچہ اس دفعہ، شمال سعودیہ میں خاندان رشیدیہ کے ذریعہ اقتدار سے بے دخل کردئے گئے۔
بیسویں صدی میں، عبد العزیز بادشاہ کی کوششوں سے وہابی حکومت کے اقتدار کا تیسرا مرحلہ شروع ہوا کہ جہاں ۱۹۰۲میں اس نے ریاض پر قبضہ کیا، اور ۱۹۳۲میں اپنے ہاتھوں سے گئی ہوئی حکومت کے تقریبا سبھی علاقوں کو واپس لے لیا تاکہ سعودی عرب کی شاہی حکومت کی بنیاد ڈال سکے۔ اس کے بعد سے جزیرہ العرب [ سعودی عرب] میں، وہابیت کا سیاسی اور مذھبی قبضہ مضبوط ہوگیا۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات