2022 May 19
بعض صحابہ کی ناسمجھی،غلط فہمی اور کَج فَہْمی
مندرجات: ٢٢٠٧ تاریخ اشاعت: ٠١ February ٢٠٢٢ - ١٥:١٦ مشاہدات: 408
مضامین و مقالات » پبلک
بعض صحابہ کی ناسمجھی،غلط فہمی اور کَج فَہْمی

بعض صحابہ کی ناسمجھی،غلط فہمی اور کَج فَہْمی

حدیث کو نقل کرنے اور سمجھنے میں صحابہ کی کچ فہمی اور ان کے درمیان اختلاف کے بہت سے نمونے اہل سنت کی معتبر کتابوں میں موجود ہیں۔

   اہل سنت (مکتب صحابہ) پر ہونے والے اعتراضات میں سے ایک ان کے علماﺀ اور فقہاﺀ کے درمیان موجود شدید فکری  اور مذھبی اختلافات اور انحرافات ہیں۔

جیساکہ اس قسم کے اختلافات اور انحرافات کی بنیادی وجہ اصحاب کے درمیان موجود اختلافات اور سنت کے بارے میں بعض اصحاب کی خاص تفسیر ہے ۔  

انہیں اختلافات میں سے ایک عورت کا بلی کو قتل کرنے کی وجہ سے جہنمی  یا نہ ہونا ہے ،جیساکہ بخاری نے ابوهریره اور عبدالله بن عمر سے یوں نقل کیا ہے :

3140 - حدثنا نصر بن علي أخبرنا عبد الأعلى حدثنا عبيد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر رضي الله عنهما : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال: دخلت امرأة النار في هرة ربطتها فلم تطعمها ولم تدعها تأكل من خشاش الأرض. قال وحدثنا عبيد الله عن سعيد المقبري عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله۔۔

عبداللہ بن عمر نے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، ایک عورت کو عذاب، ایک بلی کی وجہ سے ہوا کہ جسے اس نے اتنی دیر تک باندھے رکھا تھا کہ وہ بھوک کی وجہ سے مر گئی۔ اور وہ عورت اسی وجہ سے دوزخ میں داخل ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا تھا اور اللہ تعالیٰ ہی زیادہ جاننے والا ہے کہ جب تو نے اس بلی کو باندھے رکھا اس وقت تک نہ تو نے اسے کھلایا نہ پلایا اور نہ چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے ہی کھا کر اپنا پیٹ بھر لیتی۔

۔۔ ابوہریرہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا۔

بخاري جعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله، الجامع الصحيح المختصر، ج 3، ص 1205، ناشر: دار ابن كثير ، اليمامة - بيروت، چاپ سوم، 1407 – 1987، شش جلدی، به همراه تعليق د. مصطفى ديب البغا

احمد بن حنبل نے معتبر سند کے ساتھ نقل کیا ہے :

 10738 - حدثنا عبد لله حدثني أبي ثنا سليمان بن داود يعني الطيالسي ثنا أبو عامر الخزاز عن سيار عن الشعبي عن علقمة قال: كنا عند عائشة فدخل أبو هريرة فقالت : أنت الذي تحدث ان امرأة عذبت في هرة لها ربطتها فلم تطعمها ولم تسقها فقال: سمعته منه يعني النبي صلى الله عليه و سلم قال عبد الله: كذا قال أبي. فقالت: هل تدري ما كانت المرأة ان المرأة مع ما فعلت كانت كافرة وان المؤمن أكرم على الله عز و جل من أن يعذبه في هرة فإذا حدثت عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فانظر كيف تحدث

تعليق شعيب الأرنؤوط : إسناده حسن.

علقمه کہتا ہے : ہم عائشه کے پاس تھے اتنے ابوهریره داخل ہوا، عائشه نے ان سے کہا: کیا تم نے وہ روایت نقل کی ہے کہ ایک عورت نے ایک بلی کو باندھنے اور اس کو کھانے اور پینے کے لئے کچھ نہ دینے کی وجہ سے عذا ملا؟  ابوهریره نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہصلی الله علیه و آله سے یہی سنی ہے. عبدالله [بن عمر] نے بھی کہا کہ میں نے یہی اپنے والد سے یہ حدیث سنی ہے ۔

عائشه نے جواب دیا : کیا جانتے وہ جس عورت نے یہ کام انجام دیا وہ کس قسم کی عورت تھی ؟ وہ ایک کافرہ عورت تھی ! [لہذا اس کے قتل کی وجہ اس کا کفر تھا ] جان لیں کہ مومن کا مقام اس چیز سے بالا تر ہے کہ ایک بلی کی وجہ سے اللہ کسی مومن کو جہنم میں ڈال دئے،جب روایت نقل کرنی ہو دقت سے روایات نقل کیا کرئے ۔

الشيباني، أحمد بن حنبل أبو عبدالله، مسند أحمد بن حنبل،ج2، ص 519 و ج2، ص507، ناشر: مؤسسة قرطبة، قاهرة، شش جلدي، احاديث به همراه تعليقات دكتر شعيب الأرنؤوط

هيثمي، نور الدين علي بن أبي بكر، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، ج10، ص 311، ناشر: دار الفكر، بيروت - 1412 ق، 10 جلد 

ان دو نقلوں کے بارے میں کچھ نکات :

  1 :  اس نقل کے مطابق عمر، عبدالله بن عمر  اور ابوهریره نے حدیث کو مکمل نقل نہیں کیا «یعنی اس عورت کے ایمان اور کفر کا مسئلہ ان کی روایات میں نقل نہیں ہوا ہے» اور یہ روایت کا یہ حصہ اس روایت کے بارے کچ فہمی اور غلط فہمی کا موجب بنا ۔اسی لئے جناب عائشہ نے مذکورہ افراد کو کچ فہمی، کم دقتی یا حافظه کی کمزوری کے ساتھ متہم کیا ۔

اب کیا ایسے اصحاب کی باتوں پر اعتماد کرنا صحیح ہے ؟ کیا ان کے منقولہ احادیث کے بارے میں یہ امکان نہیں ہے کہ ان لوگوں نے نقل روایت میں کافی دقت نہ کی ہو اور روایات کے مختلف جملات پر توجہ نہ دی ہو ؟

 

 2 :  کیا یہاں پر جناب عائشہ کی اس تنقید کو قبول کرسکتا ہے؟ کیا اس عورت   کے جہنمی ہونے کی وجہ اس کا کفر ہے اور بلی کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے ؟

جبکہ یہاں خود جناب عائشہ یہ اعتراف بھی کرتی ہے کہ بلی کا قتل بھی اس میں دخیل ہے اب اگر عورت کے جہنم میں جانے کی وجہ اس کا کفر ہے تو یہ تو چاہئے بلی کو مارے یا نہ مارے جہنم میں ہی چلی جائے گی ۔لہذا جناب عائشہ کا ان اصحاب پر مذکورہ اعتراض بھی غلط ہے۔لہذا اس جہت سے یہاں جناب عائشہ خود ہی کج فہمی کا شکار ہوئی ہے۔  لہذا کیا ایسے لوگوں سے دین لینا صحیح ہے ؟ 

 3 :  کیا یہ بات صحیح ہے کہ اللہ ایک مومن کو ایک بلی کے قتل کی وجہ سے جہنم لے جائے گا؟ جبکہ صحیح بخاری میں ایسی روایت بھی ہے اگر کوئی زنا ، چوری ،شراب خوری ۔۔۔ کے مرتکب ہوئے بھی ہو پھر بھی ایک «لا اله الا الله» کہنے سے جنت میں چلا جائے گا :

 5489 - حدثنا أبو معمر حدثنا عبد الوارث عن الحسين عن عبد الله بن بريدة عن يحيى بن يعمر حدثه أن أبا الأسود الديلي حدثه أن أبا ذر رضي الله عنه حدثه قال : أتيت النبي صلى الله عليه و سلم وعليه ثوب أبيض وهو نائم ثم أتيته وقد استيقظ فقال: ما من عبد قال لا إله إلا الله ثم مات على ذلك إلا دخل الجنة. قلت وإن زنى وإن سرق ؟ قال: وإن زنى وإن سرق . قلت وإن زنى وإن سرق ؟ قال: وإن زنى وإن سرق . قلت: وإن زنى وإن سرق ؟ قال وإن زنى وإن سرق على رغم أنف أبي ذر۔۔۔۔

ابوذر نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کے جسم مبارک پر سفید کپڑا تھا اور آپ سو رہے تھے پھر دوبارہ حاضر ہوا تو آپ بیدار ہو چکے تھے پھر آپ نے فرمایا کہ جس بندہ نے بھی کلمہ «لا إله إلا الله» اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں کو مان لیا اور پھر اسی پر وہ مرا تو جنت میں جائے گا۔ میں نے عرض کیا چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو، آپ  نے فرمایا کہ چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو، میں نے پھر عرض کیا چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو۔ فرمایا چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو۔ میں نے (حیرت کی وجہ سے پھر) عرض کیا چاہے اس نے زنا کیا ہو یا اس نے چوری کی ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے فرمایا چاہے اس نے زنا کیا ہو چاہے اس نے چوری کی ہو۔ ابوذر کی ناک خاک آلود ہو۔

. صحيح البخاري --- كتاب اللباس --- باب الثياب البيض: رقم الحديث: 5827 

  4  :  دیکھیں اہل سنت کی روایت کے مطابق اللہ ایک بلی کو قتل کرنے کی وجہ سے ایک بندے کو جہنم میں ڈال دیتا ہےلیکن ایک مسلمان ایک دفعہ «لا اله الا الله» کہے تو وہ  جنت میں چلا جائے گا ،یہاں تک کہ اس کا نامہ اعمال سیاہ ہو اور وہ زنا ،چوری ،شراب خوری جیسے گناہ کا مرتکب ہی کیوں نہ ہوا ہو ۔

 کیا زنا ،شراب خوری وغیرہ کا گناہ زیادہ ہے یا ایک بلی کو قتل کرنے کی سزا زیادہ ہے ؟ کیا مذکورہ گناہ کے مرتکب شخص صرف ایک «لا اله الا الله»کہنے سے جنت میں چلا جائے گا اور اس نے جو دوسروں کی عزت اور مال پر ڈھاکہ ڈالا ہے اور دوسروں کے حقوق ضائع کیا ہے ،کیا ان کی ادائگی کے بغیر صرف«لا اله الا الله» کہنے سے جنت میں جانا اللہ کی حکمت اور عدالت کے ساتھ سزا وار ہے ؟

بہت سے سلفی اور وہابی اعمال اور کاموں کو کفر کی حقیقت میں دخیل سمجھتے ہیں ، اب ان کے پاس «لا اله الا الله» والی روایت کے کہنے سے جنت میں جانے کا کیا جواب ہے ؟    

۵  :   شیعہ علماﺀ کی روایات کے مطابق جہنم میں خلود کی اصلی علت کفر ہے وہی ہمیشہ جہنم میں رہے گا جو کفر کے ساتھ دنیا سے گیا ہو  اور اگر اہل ایمان ہو لیکن وہ دنیا میں ایسے کام کا مرتکب ہوا جو جس کی سزا جہنم ہے تو وہ پہلے جہنم میں جائے گا اور اپنے کیے کی سزا پانے کے بعد وہاں سے پاک ہو کر جنت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہے گا ۔





Share
* نام:
* ایمیل:
* رائے کا متن :
* سیکورٹی کوڈ:
  

آخری مندرجات
زیادہ زیر بحث والی
زیادہ مشاہدات والی